Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تھانہ بی ڈویژن قصور کی کاروائی،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    تھانہ بی ڈویژن قصور کی کاروائی،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    قصور
    تھانہ بی ڈویژن قصور پولیس کی کاروائی،ڈکیت اسلحہ سمیت گرفتار،ناجائز اسلحہ و نقدی برآمد

    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں
    تھانہ بی ڈویژن قصور کے ایس آئی محمد اسلم و محرر رفیق الدین غوری کو مخبر خاص نے اطلاع دی کہ موضع بلندے والا کھوہ میں دو کس ملزمان بمعہ اسلحہ بآرادہ ڈکیتی موجود ہیں
    نیز اس علاقے میں وارداتیں ہو رہی ہیں جس پہ اہلیان علاقہ سخت پریشان ہیں
    اطلاع پہ فوری کاروائی کرتے ہوئے پولیس پارٹی نے ایس آئی محمد انور کی قیادت میں ریڈ کیا تو کھیتوں میں چھپے ملزمان پولیس پارٹی کو دیکھ کر بھاگ اٹھے جن کا پیچھا کرکے قابو کیا گیا
    گرفتار ملزمان کی شناخت بشارت عرف بشارتی عرف ٹنڈا ولد صادق قوم شیخ موضع پیال کلاں اور ابوسفیان عرف شانی ولد بشیر قوم جٹ موضع کنگن پور کے نام سے ہوئی ہے جن کے قبضہ سے دو عدد ناجائز پسٹل 30 بور تین عدد اینڈرائڈ موبائل فون اور ہزاروں روپیہ نقدی برآمد کی گئی ہے
    ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے
    شہریوں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر بروقت کاروائی کرکے ملزمان کو پکڑنے پر تھانہ بی ڈویژن قصور پولیس کا شکریہ ادا کیا ہے

  • تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں

    لالہ لال چند فلک

    تاریخ ولادت:13 جنوری 1887ء
    تاریخ وفات:26 مارچ 1967ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک 13 جنوری1887ء کو اپنے آبائی وطن یعنی ضلع گوجرانوالہ پنجاب پاکستان) کے مشہور قصبے حافظ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کی لاہور میں غلّے اور اناج کی دکان تھی ۔ چنانچہ ان کا بچپن اور تعلیمی زمانہ یہیں گزرا۔ 1904ء میں دسویں درجے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد کسبِ معاش کے لیے ملازمت اختیار کی اور چیف انجینیر کے دفتر میں جگہ مل گئی ۔ یہ دہ زمانہ ہے جب انگریز افسر اپنے دلیسی ماتحتوں سے بہت درشتی اور فرعونیت کا برتاؤ کرتے تھے۔ انھوں نے آئے دن اس طرح کے ناخوشگوار حالات دیکھے تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا ۔ اس پر وہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور پھر ساری عمر سرکاری نوکری کے نزدیک نہیں گئے ۔
    کانگریس کی سیاسی تحریک اب روز بروز تیزتر ہو رہی تھی۔ لال چند فلک بھی اس میں شامل ہو گئے ۔ پُرجوش تقریریں اور نظمیں پڑھنے لگے۔ نوبت قید و بند تک پہنچی۔ جون ۱۹۱۷ ء میں بجرم بغاوت ۲۰ سال کے لیے کالے پانی (جزیرہ انڈیمان) کی سزا ہوئی جو بعد کو ۴ اسال کی قید میں تبدیل کر دی گئی ۔ لیکن جب 1920ء میں دستوری اصلاحات کا نفاذ ہوا تو تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے، اسی میں انھیں بھی رہائی ملی لیکن ان کا نشہ ایسا نہیں تھا کہ تعزیر و تعذیب کی ترشی اُسے اتار دیتی۔ ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
    شعر پر اصلاح منشی دوار کا پر شاد افق لکھنوی سے لی۔ اسی زمانے میں ان کی قومی نظموں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے تھے جام فلک ، پیام فلک کلام فلک۔ مہا بھارت بھی بطر زِ ناول نثر میں لکھی تھی ۔ ان کا یہ مصرع ضرب المثل بن چکا ہے .
    تو کبھی بدل، فلک کہ زما نہ بدل گیا
    اس بزرگ قوم پرست شاعر کا 26 مارچ 1967ء کو دلی میں انتقال ہوا۔ ۸۰ سال کی عمر پائی۔
    افسوس، کوشش کے باوجود ان کے کلام کا کوئی مجموعۂ دستیاب نہیں ہوا۔ مندر جہ ذیل چند اشعار بڑی کوشش سے مہیا کر سکا ہوں ۔ ان کا کلام آپ بیتی اوردلی جذبات کا آمیز ہے۔
    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں
    سِل پر گھس دینے سے بھی جاتی نہیں چندن کی بو
    پھول کی، مٹی میں مل کر بھی ، مہک جاتی نہیں
    رنج میں آتا نہیں نیکوں کی پیشانی پر بل
    دھوپ کی تیزی میں سبزے کی لہک جاتی نہیں
    جا نہیں سکتی کٹہروں میں بھی شیروں کی دھاڑ
    دست گلچیں میں بھی غنچوں کی چٹک جاتی نہیں
    صاحبِ ہمت نہیں دبتا مخالف سے کبھی
    زو ر سے آندھی کے آتش کی بھڑک جاتی نہیں
    نعرہ زن رہتا ہے آفات و حوادث میں دلیر
    بادلوں میں گھر کے بجلی کی کڑک جاتی نہیں
    ملک کی الفت کا جذبہ دل سے مٹ سکتا نہیں
    قوم کی خدمت کی خواہش اے فلک جاتی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
    میں اٹھالوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر
    خاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گی
    زندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلک!
    خلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی پھانس جس دل میں گڑی ہے
    خوشی سے وہ اٹھا تا ہر کڑی ہے
    محن کا ابر ہے رحمت کا بادل
    گھٹا آفت کی ، ساون کی جھڑی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از تذکرۂ معاصرین، مصنف:مالک رام

  • سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    پیدائش:13 جنوری 1892ء
    اصفہان
    وفات:08 نومبر 1997ء
    جنیوا
    شہریت:ایران
    پیشہ:ماہرِ لسانیات، مصنف، مؤرخ
    ناول نگار، مترجم، شاعر
    زبان:فارسی

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سید محمد علی جمال زادہ اصفہانی، 13 جنوری 1892ء کو اصفہان پیدا ہوئے۔ پھر آپ کا گھرانہ تہران منتقل ہوگیا۔ آپ نے تہران اور بیروت میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر فرانس میں قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جمال زادہ کے مقالات فارسی اور جرمنی زبان میں بے شمار ہیں۔ آپ روز نامہ ”کاوہ“ کے مدیر بھی رہے۔ بعد میں برلن کے ایرانی سفارت خانے میں ملازم ہوگئے۔ پھر سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور انجمن بین المللی کے دفتر میں جو جینیوا ہے، اس میں تقریباً 27 سال کام کیا۔ ان کی شہرت کا آغاز اس زمانہ میں ہوا جب 1921ء میں انھوں نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”یکے بود ویکے نبود“ شائع کیا۔ جو چھ افسانوں پر مشتمل تھا، اس کے بعد آپ کے مزید افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ آپ نے تاریخ و ادب اور سیاسی اور سماجی کتب بھی تحریر کیں۔
    سید محمد علی جمال زادہ فارسی افسانہ نویسی میں ایک ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ انھوں نے ہی سب سے پہلے فنِ افسانہ نویسی کو ایران میں شروع کیا۔ محمد علی جمال زادہ نے افسانوں میں قصوں اور لوک کہانیوں کے انداز کو چھوڑ کر حقیقت نگاری کا نیا انداز اختیار کیا ہے۔ فارسی زبان پر انھیں پوری دسترس حاصل تھی۔ اپنے افسانوں میں انھوں نے نہ صرف عام اور روز مرہ کی زبان اور محاورے استعمال کیے گئے بلکہ سیاسی اورسماجی موضوعات کے ساتھ طنزیہ پیرایہ بھی استعمال کیا گیا۔ جمال زادہ کی کہانیوں میں پلاٹ کو مرکزیت حاصل رہتی ہے اور وہ اپنی کہانیوں کا اختتام موپاساں اور او ہینری کی طرح ڈرامائی اور چونکانے والے انداز میں کرتے ہیں لیکن انھوں نے زبان کا جو انداز اختیار کیا، اس نے فارسی میں افسانے کے لیے جس زبان کی بنیاد رکھی، وہ اب تک برقرار ہے۔ محمد علی جمال زادہ 8 نومبر 1997ء کو جینیوا سوئزرلینڈ میں انتقال کر گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    تاریخ و ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج شایان ( 1335 ہجری)
    ۔ (شایان کا خزانہ)
    ۔ (2)تاریخ روابط روس با ایران
    ۔ ( 1372ہجری) (ایران روس تعلقات)
    ۔ (3)پندنامۂ سعدی یا گلستان نیکبختی
    ۔ (1317ہجری) (پندنامۂ سعدی)
    ۔ (4)قصہ قصہ ہا
    ۔ (از روی قصص المعمای تنکابنی
    ۔ 1321ہجری) (کہانیوں کی کہانی)
    ۔ (5)بانگ نای
    ۔ (داستان ہای مثنوی معنوی
    ۔ 1337ہجری) (پائپ کی آواز)
    ۔ (6)فرہنگ لغات عوامانہ
    ۔ (1341ہجری) (عوامی لغت)
    ۔ (7)طریقۂ نویسندگی و داستان سرایی
    ۔ (1345ہجری) (کہانی نویسی
    ۔ اور داستان سرائی کے طریقے)
    ۔ (8)سرگزشت حاجی بابای اصفہانی
    ۔ (1348ہجری) (سرگزشت حاجی بابا اصفہانی)
    ۔ (9)اندک آشنایی با حافظ
    ۔ (1366ہجری)
    ۔ (حافظ کے ساتھ تھوڑی سی آشنائی)
    کہانیاں افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یکی بود، یکی نبود
    ۔ (1300ہجری)
    ۔ (ایک دفعہ کا ذکر)
    ۔ (2)عمو حسینعلی (جلد اول شاہکار)
    ۔ (1320ہجری) (حیاتِ چچا حسین علی )
    ۔ (3)سر و تہ یہ کرباس (1323ہجری)
    ۔ (1944) (کینوس کے اوپر و نیچے)
    ۔ (4)دارالمجانین (1321ہجری)
    ۔ (1942) (پاگل خانہ)
    ۔ (5)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (6)صندوقچہ اسرار (1342ہجری)
    ۔ (1963) (صندوقچۂ اسرار)
    ۔ (7)تلخ و شیریں (1334ہجری)
    ۔ (1955) (تلخ و شیرین )
    ۔ (8)شاہکار (دوجلدیں) (1337ہجری)
    ۔ (شاہکار )
    ۔ (9)فارسی شکر است(فارسی میٹھی ہے)
    ۔ (10)راہ آب نامہ(راہ آب نامہ)
    ۔ (11)قصہ ہای کوتاہ برای
    ۔ بچہ ہای ریش دار (1352ہجری)
    ۔ 1973) (داڑھی * والے بچوں کے لیے
    ۔ مختصر کہانیاں )
    ۔ (12)قصۂ ما بہ سر رسید
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (1978)
    ۔ (ختم ہو گئی ہماری کہانی)
    ۔ (13)قلتشن دیوان (1325ہجری)
    ۔ (1946)
    ۔ (دیوانِ قلتشن)
    ۔ (14)صحرای محشر
    ۔ (عذاب کا صحرا)
    ۔ (15)ہزار پیشہ (1326ہجری)
    ۔ (1947)
    ۔ (ہزار پیشے والا فرد)
    ۔ (16)معصومہ شیرازی
    ۔ (1333ہجری)
    ۔ (1954)
    ۔ معصومہ شیرازی )
    ۔ (17)ہفت کشور(سات ممالک)
    ۔ (18)قصہ ہای کوتاہ قنبرعلی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (1959)
    ۔ (قنبر علی مختصر کہانیاں )
    ۔ (19)کہنہ و نو
    ۔ (نئی اور پرانی )
    ۔ (20)یاد و یاد بود
    ۔ (نصیحت اور یادگار)
    ۔ (21)قیصر و ایلچی
    ۔ کالیگولا امپراتور روم
    ۔ (رومن شہنشاہ کالیگولا
    ۔ قیصر اور ایلچی)
    ۔ (21)غیر از خدا ہیچکس نبود
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (1961)
    ۔ (خدا کے سوا کوئی نہیں )
    ۔ (22)شورآباد
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (1962)
    ۔ (شورآباد )
    ۔ (23)خاک و آدم
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (24)آسمان و ریسمان
    ۔ (1343ہجری)
    ۔ (1964)
    ۔ (آسمان اور ڈور)
    ۔ (25)مرکب محو
    ۔ (1344ہجری)
    ۔ (1965)
    ۔ (غائب سیاہی )
    سیاست ومعاشرت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آزادی وحیثیت انسانی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (آزادی و انسانی وقار)
    ۔ (2)خاک وآدم
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (3)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (4)خلقیات ما ایرانیان
    ۔ (1345ہجری)
    ۔ (ایران کی ہماری اقدار)
    ۔ (5)تصویر زن
    ۔ در فرہنگ ایران
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (ایران میں خواتین کی تصویر)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قہوہ خانہ سورات
    ۔ یا جنگ ہفتاد ودو ملت
    ۔ (برنارڈن دی سینٹ پیرے)
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (سورت کافی ہاؤس
    ۔ Le Café du Surat by
    ۔ Bernardin de Saint-Pierre)
    ۔ (2)ویلہلم تل (فیڈرک شیللر)
    ۔ (1334ہجری)
    ۔ (ویلہم ٹیل
    ۔ Wilhelm Tell by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (3)داستان بشر (ہنڈرک وان لون)
    ۔ (1335ہجری)
    ۔ (داستانِ بشر
    ۔ The Story of Mankind
    ۔ by Hendrik Willem
    ۔ van Loon)
    ۔ (4)دون کارلوس (فیڈرک شیلر)
    ۔ (ڈون کارلوس
    ۔ Don Carlos by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (5)خسیس (مولیر)
    ۔ (کنجوس L’Avare by Molière)
    ۔ (6)داستان ہای برگزیدہ
    ۔ (اہم داستان)
    ۔ (7)دشمن ملت (ہینرک ایبسن)
    ۔ (قوم کا دشمن
    ۔ En Folkerfiende
    ۔ by Henrik Ibsen)
    ۔ (8)داستانہای ہفت کشور
    ۔ (مجموعہ)
    ۔ (سات ملکوں کی کہانیاں )
    ۔ (9)بلای ترکمن در ایران قاجاریہ
    ۔ (بلوک ویل)
    ۔ (10)قنبرعلی جوانمرد شیراز
    ۔ (آرتور کنت دوگوپینو)
    ۔ (11)سیر وسیاحت در ترکستان وایران
    ۔ (ہانری موزر)
    ۔ (12)جنگ ترکمن (کونٹ دی گبینو)
    ۔ (جنگِ ترکمان
    ۔ Turkmen War by
    ۔ Conte de Gobineau)
    ۔ (13)کباب غاز
    دیگر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کشکول جمالی
    ۔ (2)صندوقچۂ اسرار

  • پاکستان ایک زرعی ملک!!! — آصف گوہر

    پاکستان ایک زرعی ملک!!! — آصف گوہر

    ہم بچن سے مطالعہ پاکستان میں یہ پڑھتے ائے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی 75 فیصد آبادی پیشہ زراعت سے وابستہ ہے
    اگر اس دعوے کو سچ مان لیا جائے تو پھر ہر 3 ماہ بعد ملک میں چینی آٹے اور پیاز ٹماٹر کے بحران کا کیوں سامنا کرنا پڑتا ہے.

    کہیں تو ابہام اور غلطی ہے جس کا خمیازہ ہم بھگتے رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا.

    میری سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ زمینداروں نے لالچ بری بلا کی کہانی کے مصداق روز ایک سونے کا انڈا لینے کی بجائے مرغی ہی کو ذبح کر دیا اور اپنے زرعی مربعے مرلہ کے حساب سے ہاؤسنگ سوسائٹیز مافیا کو فروخت کئے ،اگر لاہور شہر کی بات کی جائے تو ایک وقت تھا فیروز پور روڈ چونگی امرسدھو، جی ٹی روڈ شالیمار باغ، شاہدرہ ، ملتان روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ بھیکے وال موڑ اور غازی روڈ سے سے آگے کھیت کھلیان شروع ہوجاتے تھے جو لاہور کی سبزیوں کی ضرورت کے لئے کافی تھے ، آہستہ آہستہ پراپرٹی کے کام نے زور پکڑا اور ہاؤسنگ سیکٹر مافیا سر گرم ہوا اور لاہور کے مضافات میں واقع دیہاتوں کی زرعی زمین دیکھتے ہی دیکھتے ہڑپ کر .

    ڈی ایچ اے لاہور کو ہی دیکھ لیں یہ گاؤں امرسدھو، کماہاں، جامن ،لیل گوونڈی مانوالہ اور ان گنت دیہاتوں کی زمین پر پاک بھارت بارڈر تک کی زرعی زمین نگل چکا ہے، اس کے علاوہ چھوٹے بڑے کئ ہاؤسنگ ڈویلپرز نے لاہور کے زرعی رقبہ پر بےشمار ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا دی ہیں، یہی حال ملک کے دیگر اضلاع کا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    نقل مکانی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس جن کو بوتل میں بند کرنا ممکن نہیں، اب انفرادی طور پر ہم اپنے روزمرہ کی ضرورت کچن گارڈنینگ سے پوری کر سکتے، بنگالیوں نے اپنے گھروں میں خالی جگہوں پر عقب میں سبزیاں وغیرہ لگا رکھی ہوتی ہیں راقم نے سعودی عرب قیام کے دوران یہ مشاہدہ کیا کہ وہاں پر بنگالی لیبرز نے اپنے کنٹینرز نما کمروں کے پیچھے لہسن، سبز مرچیں، پالک وغیرہ لگا رکھی تھی وہ بازار سے مچھلی لاتے اور اپنے کچن گارڈن سے ضرورت کی سبزی توڑ لیتے.

    ہم بھی اپنے گھروں پر کچن گارڈنینگ کرسکتے ہیں ہماری تھوڑی سی توجہ سے ہم اپنے آپ کو مصروف بھی رکھ سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کی سبزی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    لاہور میں ہمارے ایک دوست رانا نعیم نے اپنے گھر کی ناکار چیزوں کو استعمال کرکے گھر کی چھت پر باقاعدہ کچن گارڈن بنا رکھا ہے اور اس میں ٹماٹر، بند گوبھی بروکلی بینگن کدو لہسن اور سبز مرچیں لگا رکھی ہیں جہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق روز کچھ نہ کچھ توڑ کر آرگینک سبزیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ رانا نعیم نے Rooftop gardening with rana کے نام سے یوٹیوب چینل بنا رکھے ہیں جہاں وہ چھوٹے گھروں کے مکینوں کو چھت پر کچن گارڈنینگ ٹاور گارڈنینگ لگانے کی مفید معلومات اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    آپ اگر اپنے گھر کے لان اور چھت پر کچن گارڈنینگ کا سیٹ اپ لگانا چاہتے ہیں تو ان سے رابطہ کرسکتے ہیں.

  • ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو کسی کی شخصیت کا بیانیہ بن جاتی ہیں. جیسے دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہو جانا. یہ دروازہ اگر آپ کھول سکتے ہیں تو دوسرا بھی کھول سکتا ہے. لیکن کسی کا یہ دروازہ آپ کیلئے کھول کر کھڑا ہونا آپ کو وہ عزت دیتا ہے جو بتا رہا ہوتا کہ آپ اہم ہیں آپ کا وقت اور توانائی اہم ہے.

    چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو آپ کو اپنی سمجھ دیتی ہیں. جیسے ڈور وے ایفیکٹ ہو. آپ کچھ لینے دوسرے کمرے میں گئے لیکن جاکر بھول گئے لینے کیا آیا تھا. کیونکہ ہمارے دماغ کی ڈیزائینگ ایسی ہے کہ جب یہ کوئی دروازہ پار کرتا ہے منظر اور ماحول بدل جاتا ہے تو اس کو اپنی یادداشت ری ایڈجسٹ کرنی ہوتی ہے. ایسے میں وہ یہ بھول جاتا ہے میں یہاں آیا کیوں تھا.

    ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے چھوٹے چھوٹے حل ہوتے ہیں. جیسے کاپی میں کچھ لکھنا ہے لیکن قلم دوسرے کمرے میں ہے تو کاپی ہاتھ میں لے کر جائیں آپ کبھی قلم نہیں بھولیں گے. البتہ یہی چھوٹی باتیں زندگی کی بڑی بڑی باتیں سمجھاتی ہیں. مثلاً مایوسی کسی ایک مقام کسی ایک منظر کی ہوتی ہے. اسے ہی زندگی سمجھ کر زندگی سے مایوس ہوجانے کی بجائے کوئی دوسرا دروازہ کھول لیں. ماحول اور منظر جب بدل جائے گا تو زندگی پر آپ کی سوچ بھی بدل جائے گی.

    زندگی سے مایوس لوگ کسی ایک ماحول اور منظر کے گرفتار لوگ ہوتے ہیں. ایسے میں دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہونے والے لوگ بہت عظیم ہوتے ہیں. ان کا یہ چھوٹا سا کام دوسروں کو اپنی ذات میں معتبر بنا دیتا ہے.

  • کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    فرانس کی مختلف یونیورسٹیوں میں گزرے نو سال کے دوران ایک چیز بہت عام دیکھی کی وہاں کی کولیگ پروفیسر اور سائنسدان عورتوں کی شادیاں اکثر کسی پلمبر، الیکٹریشن، ٹرک ڈرائیور، دکاندار، ہیئر ڈریسر وغیرہ سے ہوئی ہوتی تھیں جو اکثر ان سے بہت ہی کم تعلیم یافتہ ہوتے تھے اور اکثر کی تنخواہیں بھی ان سے کم ہوتی تھیں۔ وہاں کسی عورت میں یہ کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے اشاروں کنایوں میں بھی ایسی کوئی بات کی ہو یا اس پر شرمندگی محسوس کی ہو کہ اس کا شوہر یا بوائے فرینڈ حیثیت یا تعلیم میں اس سے کم ہے۔

    پاکستان میں زیادہ تر مرد اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والی یا بالکل ہی بے روز گار عورت سے شادی کرنے میں ہچکچاہٹ کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے ہیں لیکن عورتیں اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والے یا بے روز گار شخص سے شادی نہیں کرتی ہیں۔

    اگر کسی وجہ سے ہو جائے تو ساری عمر اسے اس بات کے طعنے مارتی رہتی ہیں اور کہیں بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔

    جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس میں پڑھی لکھی لڑکیوں کے مشکل سے رشتہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ وہ جس مقام پر پہنچ چکی ہوتی ہیں ان کے ہم پلہ مرد اکثر اپنے سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ انھیں آسانی سے مل بھی جاتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکیوں اور ان کے والدین کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ لڑکیوں کا دن بدن تعلیم کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم مہنگی ہونے اور اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی جاب کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں کم ہو جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔

  • سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    حج کا دوسرا دن تھا اور ہم منیٰ کی مرکزی شاہراہ پر کھڑے اس ادھیڑ عمر پاکستانی جوڑے کو پریشانی اور خوف کے عالم میں آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہمت کرکے ان سے پوچھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ پہلے تو وہ ہم سے کچھ گھبرائے لیکن ہمارے اصرار پر خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ کل رات سے راستہ بھولے ہوئے ہیں اور انہیں اپنا خیمہ نہیں مل رہا۔ اگر ہم ان کو ان کے خیمے تک پہنچانے میں کچھ مدد کر دیں تو وہ ہمارے شکر گزار ہوں گے۔

    اس وقت تک گوگل میپ نہیں آیا تھا اور سمارٹ فون بھی اتنا سمارٹ نہیں ہوا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں ایک جیسے خیموں میں اپنا خیمہ تلاش کرنا بعض لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی مصیبت تھا۔بہت بڑی تعداد میں پاکستانی حجاج خصوصاْ اپنے گروپ سے بچھڑ جانے والے لوگ اپنے خیمے تک مشکل سے واپس پہنچ پاتے۔

    ہم نے پہلے دن ہی پاکستانی حج مشن کے منیٰ میں کیمپ سے منٰی کے خیموں کا لے آوٹ میپ لے کیا تھا اور اپنی سول انجنئیرنگ کی سمجھ بوجھ کا کام میں لاتے نہ صرف خود اپنے خیمے تک با آسانی پہنچ جاتے بلکہ دوسرے حجاج کی بھی مدد کرتے ۔ ہم اپنے آفس سے تین سال انجنئیر دوست اکٹھے ہی حج کے لئے آئے ہوئے تھے اور منیٰ کے قیام کے دوران فارغ وقت میں راستہ بھولے حجاج کی نقشے کی مدد سے ان کے خیموں تک راہنمائی کرتے رہتے ۔

    بہرحال اس جوڑے کا خیمہ مین روڈ کے پاس ہی تھا اور ہم انہیں دو تین منٹ میں ہی منزلِ مقصود پر لے گئے۔ اپنی رہائش پر پہنچتے ہی رات بھر منیٰ میں بھٹکنے والی خاتون شوہر پر پھٹ پڑی

    “لخ دی لعنت تیری سول انجُئیرنگ تے۔ ساری رات ہم خیمے کے سامنے گزرتے رہے اور خوار ہو گئے مگر اس نالائق انجنئیر کو خیمہ نہ مل سکا جب کہ ان عام سے لڑکوں نے دو منٹ میں تلاش کر لیا ۔میں تو سات پشتوں تک وصیت کر جاؤں گی کہ اپنے بچوں کو سول انجنئیر نہ بنانا۔۔۔۔ پینجاپی سے ترجمہ”

    پتہ چلا کہ حاجی صاحب سول انجنئیر ہیں اور ایل ڈے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ہم تینوں دوست اب تک اس تبصرے سے محظوظ ہوتے ہیں۔

  • کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    جس طرح آپ کی گاڑی فیول جیسے پیٹرول یا ڈیزل پر چلتی ہے۔ ویسے ہی آپ کا یہ جسم بھی دو طرح کے فیول سے چلتا ہے۔
    ۔
    پہلا ہے شوگر یعنی چینی
    دوسرا ہے فیٹ یعنی چربی
    ۔
    ہمارا جسم صدیوں پر محیط جدید تمدنی ارتقاء سے عادی ہوگیا ہے کہ وہ اپنی توانائی یعنی انرجی انسولین کے ذریعے چینی (شوگر) سے حاصل کرے۔ ہم جو بھی میٹھا کھاتے ہیں وہ تو شوگر بنتا ہی ہے مگر ہمارے بدن میں داخل ہونے والے کاربوہائیڈریٹس جیسے روٹی، چاول وغیرہ بھی شوگر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
    ۔
    اگر ہم اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹس اور مٹھاس کو لینا چھوڑ دیں یا بہت کم کردیں تو پھر کیا ہوگا ؟ اب بھی جسم کو چلنے کیلئے فیول تو چاہیئے مگر اب اس کے پاس شوگر یعنی چینی کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں جنہیں وہ توانائی یعنی فیول میں ڈھال سکے۔ مجبوراً اب اسے فیول کیلئے دوسری سورس یعنی ذریعے پر انحصار کرنا ہوگا جو کہ ہے فیٹ یعنی چربی۔ نتیجہ یہ کہ آپ کا جسم اگر بھوکا رہا تو اپنے اندر موجود چربی کے ذخیرے کو کھانا شروع کردے گا۔ یوں آپ کے جسم سے چربی کم ہونے لگے گی۔ گویا آپ کا جسم اپنے آپ میں خود ایک Fat Burning Machine کا روپ دھار لے گا۔ اس حالت کو Ketosis کی اصطلاح سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں Ketone bodies پیدا ہوتی ہیں جو آپ کی چربی کو جلا کر آپ کے جسم کیلئے توانائی پیدا کرتی ہیں۔ آج کی مقبول Keto Diet مختصراً یہی ہے۔
    ۔
    سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہم خوراک میں کاربوہائیڈریٹس بشمول روٹی یا چاول استعمال نہیں کررہے تو پھر کھائیں گے کیا ؟ اس کیلئے آپ پروٹین جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے وغیرہ کھاتے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف سبزیاں اور چنیدہ فیٹ جیسے پنیر وغیرہ کھائے جاتے ہیں۔ ان میں کیا کھایا جاسکتا ہے اور کیا نہیں؟ اس سب کی تفصیل انٹرنیٹ پر جابجا موجود ہے۔ یاد رکھیں کہ پروٹین کو muscles building block کہا جاتا ہے۔ یعنی وزن کم کرتے ہوئے آپ کے مسلز کو باقی رکھنے کیلئے پروٹین ہی تعمیر سازی کرتے ہیں۔ کیٹو میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ صرف اسی وقت آپ کھائیں جب آپ فی الواقع بھوکے ہوں۔ صرف شوقیہ چگتے رہنا یا معمول میں بندھ کر دن میں تین بار لازمی کھانا درست نہیں۔
    ۔
    ہر آنے والی تحقیق کی طرح Keto Diet کے متعلق بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک اس کے نقصانات ہیں مگر نوے فیصد سے بھی زیادہ ماہرین اسے ایک بہترین طریق مان رہے ہیں جو بطور لائف اسٹائل اپنایا جاسکتا ہے۔ باقی اسکی اثرانگیزی کے تو سب حامیان و مخالفین قائل ہیں۔ اسے مزید زود اثر بنانے کیلئے intermittent fasting یعنی جزوی روزے اور جسمانی کسرت بشمول weight training اختیار کیئے جاتے ہیں۔

  • اگاتھا کرسٹی (  جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    اگاتھا کرسٹی ( جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    اگاتھا کرسٹی ( جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    12 جنوری 1976 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادب سے انتخاب : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی مشہور ترین ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
    سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
    میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔
    وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔

    آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔
    اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔
    اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘
    شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔
    السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

    السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔
    وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
    اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔
    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔
    اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔

    ’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘
    جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘
    کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔
    انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔
    ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔
    انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘

  • واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا۔

    دنیا بھر میں موبائل فون استعمال کرنے والے تقریباً تمام افراد ہی واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 3 ارب کے قریب ہے اور یہ لوگ اپنے اسمارٹ فونز بدلتے رہتے ہیں۔ اسمارٹ موبائل فونز بار بار بدلنے کے باعث صارفین کو ایک موبائل سے دوسرے موبائل پر ڈیٹا منتقل کرنے کا مسئلہ رہتا ہے تاہم اب یہ مسئلہ واٹس ایپ نے حل کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے ایک سے دوسرے اینڈرائیڈ فون میں وائی فائی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرنے کا نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے لیے صارفین کو گوگل ڈرائیو کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہ کام صرف کیو آر کوڈ کے ذریعے ہی ممکن ہو جائے گا۔ یہ نیا فیچر واٹس ایپ کے بیٹا ورژن 2.23.1.26 اور 2.23.1.27 میں چند صارفین کو ہی دستیاب ہے، اس کا استعمال بہت آسان ہے جب بھی آپ کسی نئی اینڈرائیڈ ڈیوائس میں واٹس ایپ انسٹال کریں تو امپورٹ چیٹس کے آپشن کا انتخاب کریں۔ ایسا کرنے سے ڈیوائس کا کیمرا کیو آر کوڈ اسکین کرنے کے لیے اوپن ہوجائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
    پرانی ڈیوائس میں واٹس ایپ سیٹنگز میں جا کر ایکسپورٹ ڈیٹا کے آپشن کو منتخب کریں جس سے کیو آر کوڈ سامنے آئے گا، پھر نئی ڈیوائس سے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے سے ڈیٹا منتقل ہوجائے گا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب ہو گا۔