Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم وفات مضطر خیر آبادی

    یوم وفات مضطر خیر آبادی

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مضطر خیر آبادی کا اصل نام سید محمد افتخار حسین جبکہ مضطر تخلص تھا – ’اعتبار الملک‘ ، ’اقتدار جنگ بہادر‘ خطاب ملے، 1865ء میں خیرآباد(یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی کے نواسے اور شمس العلماء عبدالحق خیرآبادی کے بھانجے تھے۔

    محمد حسین ، بسمل(بڑے بھائی) اور امیر مینائی سے تلمذ حاصل تھا۔ مضطر ریاست ٹونک کے درباری شاعر تھے۔ ان کا دیوان چھپا نہیں۔ جاں نثاراختران کے فرزند رشید تھے20 مارچ1927ء کوگوالیارمیں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:241

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
    اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

    مصیبت اور لمبی زندگانی
    بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت
    کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

    علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
    تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

    بوسے اپنے عارض گلفام کے
    لا مجھے دے دے ترے کس کام کے

    برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں
    بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

    لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو
    ہم اپنا منہ ادھر کر لیں تم اپنا منہ ادھر کر لو

    اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
    کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

    وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں
    آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

    اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا
    اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

    اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھے
    خفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے

    ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے
    یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے

    مرے دل نے جھٹکے اٹھائے ہیں کتنے یہ تم اپنی زلفوں کے بالوں سے پوچھو
    کلیجے کی چوٹوں کو میں کیا بتاؤں یہ چھاتی پہ لہرانے والوں سے پوچھو

    ان کا اک پتلا سا خنجر ان کا اک نازک سا ہاتھ
    وہ تو یہ کہیے مری گردن خوشی میں کٹ گئی

    آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر
    چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

    ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا
    بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

    یاد کرنا ہی ہم کو یاد رہا
    بھول جانا بھی تم نہیں بھولے

    مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں
    گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

    ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو
    اپنا قصہ تمام کرنا تھا

    دم خواب راحت بلایا انہوں نے تو درد نہاں کی کہانی کہوں گا
    مرا حال لکھنے کے قابل نہیں ہے اگر مل گئے تو زبانی کہوں گا

    اے عشق کہیں لے چل یہ دیر و حرم چھوٹیں
    ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے

    آئنہ دیکھ کر غرور فضول
    بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

    جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
    تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

    محبت میں کسی نے سر پٹکنے کا سبب پوچھا
    تو کہہ دوں گا کہ اپنی مشکلیں آسان کرتا ہوں

    وقت آرام کا نہیں ملتا
    کام بھی کام کا نہیں ملتا

    صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں
    دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

    ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں
    ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

    وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں
    ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے

    زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے
    اس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

    اے بتو رنج کے ساتھی ہو نہ آرام کے تم
    کام ہی جب نہیں آتے ہو تو کس کام کے تم

    بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا
    آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا

    عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
    تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

    اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا
    وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

    جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے
    یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

    حال دل اغیار سے کہنا پڑا
    گل کا قصہ خار سے کہنا پڑا

    میرے اشکوں کی روانی کو روانی تو کہو
    خیر تم خون نہ سمجھو اسے پانی تو کہو

    اپنی محفل میں رقیبوں کو بلایا اس نے
    ان میں بھی خاص انہیں جن کی ضرورت دیکھی

    عمر سب ذوق تماشا میں گزاری لیکن
    آج تک یہ نہ کھلا کس کے طلب گار ہیں ہم

    حال اس نے ہمارا پوچھا ہے
    پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

    میں مسیحا اسے سمجھتا ہوں
    جو مرے درد کی دوا نہ کرے

    تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوں
    ستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے

    انھوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
    ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

    تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول
    میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

    اٹھے اٹھ کر چلے چل کر تھمے تھم کر کہا ہوگا
    میں کیوں جاؤں بہت ہیں ان کی حالت دیکھنے والے

    آؤ تو میرے آئنۂ دل کے سامنے
    ایسا حسیں دکھاؤں کہ ایسا نہ ہو کہیں

    ہم سے اچھا نہیں ملنے کا اگر تم چاہو
    تم سے اچھے ابھی ملتے ہیں اگر ہم چاہیں

    ان بتوں کی ہی محبت سے خدا ملتا ہے
    کافروں کو جو نہ چاہے وہ مسلمان نہیں

    جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ
    مکمل وفا کی سند ہو گئی

    حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے
    دل کے اندر قیام ہے تیرا

    دل کو میں اپنے پاس کیوں رکھوں
    تو ہی لے جا اگر یہ تیرا ہے

    بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا
    اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو

    پردے والے بھی کہیں آتے ہیں گھر سے باہر
    اب جو آ بیٹھے ہو تم دل میں تو بیٹھے رہنا

    اک صدمۂ محبت اک صدمۂ جدائی
    گنتی کے دو ہیں لیکن لاکھوں کی جان پر ہیں

    تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی
    یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تو نے

    اے حنا رنگ محبت تو ہے مجھ میں بھی نہاں
    تیرے دھوکے میں کوئی پیس نہ ڈالے مجھ کو

    زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا
    کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے

    میرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
    جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

    فنا کے بعد اس دنیا میں کچھ باقی نہیں رہتا
    فقط اک نام اچھا یا برا مشہور رہتا ہے

    جب میں نے کہا دل مرا پامال کیا کیوں
    کس ناز سے بولے کہ محبت کی سزا تھی

    دل کیا کرے جو راز محبت کا کھل گیا
    میں کیا کروں کہ عشق ہی اک نامور سے ہے

    عشق کا کانٹا ہمارے دل میں یہ کہہ کر چبھا
    اب نکلواؤ تو تم ان سے نکلوانا مجھے

    آپ سے مجھ کو محبت جو نہیں ہے نہ سہی
    اور بقول آپ کے ہونے کو اگر ہے بھی تو کیا

    ساقی نے لگی دل کی اس طرح بجھا دی تھی
    اک بوند چھڑک دی تھی اک بوند چکھا دی تھی

    خط پھاڑ کے پھینکا ہے تو لکھا بھی مٹا دو
    کاغذ پہ اترتا ہے بہت تاؤ تمہارا

    احباب و اقارب کے برتاؤ کوئی دیکھے
    اول تو مجھے گاڑھا اوپر سے دباتے ہیں

    کچھ تمہیں تو ایک دنیا میں نہیں
    اور بھی ہیں سیکڑوں اس نام کے

    تیری رحمت کا نام سن سن کر
    مبتلا ہو گیا گناہوں میں

    اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
    کہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے

    باقی کی محبت میں دل صاف ہوا اتنا
    جب سر کو جھکاتا ہوں شیشہ نظر آتا ہے

    کوئی لے لے تو دل دینے کو میں تیار بیٹھا ہوں
    کوئی مانگے تو اپنی جان تک قربان کرتا ہوں

    ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ
    قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

    سنو گے حال جو میرا تو داد کیا دو گے
    یہی کہو گے کہ جھوٹا ہے تو زمانے کا

    جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل
    میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

    چوکی نظر جو زاہد خانہ خراب کی
    توبہ اڑا کے لے گئی بوتل شراب کی

    کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے
    یوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں

    جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والے
    کبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے

    دل کام کا نہیں تو نہ لو جان نذر ہے
    اتنی ذرا سی بات پہ جھگڑا نہ چاہئے

    میری ارمان بھری آنکھ کی تاثیر ہے یہ
    جس کو میں پیار سے دیکھوں گا وہی تو ہوگا

    نہیں منظور جب ملنا تو وعدے کی ضرورت کیا
    یہ تم کو جھوٹی موٹی عادت اقرار کیسی ہے

    دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو
    تم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں

    اس کا بھی ایک وقت ہے آنے دو موت کو
    مضطرؔ خدا کی یاد ابھی کیوں کرے کوئی

    پہلے ہم میں تھے اور اب ہم سے جدا رہتے ہیں
    آپ کاہے کو غریبوں سے خفا رہتے ہیں

    محبت قدرداں ہوتی تو پھر کاہے کا رونا تھا
    ہمیں بھی تم سمجھتے تم کو جیسا ہم سمجھتے ہیں

    وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو
    مری جاں مزا تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے

    حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں
    کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے

    اپنے دل کو تری آنکھوں پہ فدا کرتا ہوں
    آج بیمار پہ بیمار کی قربانی ہے

    طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا
    اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا

    خواہش دید پہ انکار سے آتے ہیں مزے
    ایسے موقعے پہ تو پردہ بھی مزا دیتا ہے

    خوب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالے
    خوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا

    تو نہ آئے گا تو ہو جائیں گی خوشیاں سب خاک
    عید کا چاند بھی خالی کا مہینہ ہوگا

    میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
    میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

    تیری الجھی ہوئی باتوں سے مرا دل الجھا
    تیرے بکھرے ہوئے بالوں نے پریشان کیا

    کہہ دو ساقی سے کہ پیاسا نہ نکالے مجھ کو
    عمر بھر روئیں گے مٹی کے پیالے مجھ کو

    دیکھ کر کعبے کو خالی میں یہ کہہ کر آ گیا
    ایسے گھر کو کیا کروں گا جس کے اندر تو نہیں

    تمنا اک طرح کی جان ہے جو مرتے دم نکلے
    جدائی اک طرح کی موت ہے جو جیتے جی آئے

    چاہت کی تمنا سے کوئی آنچ نہ آئی
    یہ آگ مرے دل میں بڑے ڈھب سے لگی ہے

    کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو
    اس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں

    کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
    اس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا

    وہاں جا کر کیے ہیں میں نے سجدے اپنی ہستی کو
    جہاں بندہ پہنچ کر خود خدا معلوم ہوتا ہے

    نہیں ہوں میں تو تری بندگی کے کیا معنی
    نہیں ہے تو تو خدا کون ہے زمانے کا

    کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے
    خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے

    لطف قربت ہے مے پرستی میں
    میں خدا دیکھتا ہوں مستی میں

    دم دے دیا ہے کس رخ روشن کی یاد میں
    مرنے کے بعد بھی مرے چہرے پہ نور تھا

    ایمان ساتھ جائے گا کیوں کر خدا کے گھر
    کعبے کا راستہ تو کلیسا سے مل گیا

    بت خانے میں کیا یاد الٰہی نہیں ممکن
    ناقوس سے کیا کار اذاں ہو نہیں سکتا

    کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد
    گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے

    ہستئ غیر کا سجدہ ہے محبت میں گناہ
    آپ ہی اپنی پرستش کے سزا وار ہیں ہم

    کسی نے نہ دیکھا ترے حسن کو
    مری صورت حال دیکھی گئی

    قبر پر کیا ہوا جو میلا ہے
    مرنے والا نرا اکیلا ہے

    عیسیٰ سے دوائے مرض عشق نہ ہوگی
    ہاں ان کو کوئی ڈھونڈ کے لے آئے کہیں سے

    اٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسو
    آ کے جوگی بسے پہاڑوں میں

    عیسیٰ کبھی نہ جاتے لیکن تمہارے غم میں
    وہ بھی تو مر رہے ہیں جو آسمان پر ہیں

    یہی صورت وہاں تھی بے ضرورت بت کدہ چھوڑا
    خدا کے گھر میں رکھا کیا ہے ناحق اتنی دور آئے

    گئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئے
    کہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے

    اے خدا دنیا پہ اب قبضہ بتوں کا چاہیے
    ایک گھر تیرے لیے ان سب نے خالی کر دیا

    مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا
    خدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

    اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی
    اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے

    کیا اثر خاک تھا مجنوں کے پھٹے کپڑوں میں
    ایک ٹکڑا بھی تو لیلیٰ کا گریباں نہ ہوا

    نہ رو اتنا پرائے واسطے اے دیدۂ گریاں
    کسی کا کچھ نہیں جاتا تری بینائی جاتی ہے

    ہمارے میکدے میں خیر سے ہر چیز رہتی ہے
    مگر اک تیس دن کے واسطے روزے نہیں رہتے

    یہ تو ممکن نہیں محبت میں
    آپ جو کچھ کہیں وہ ہم نہ کریں

    نظر کے سامنے کعبہ بھی ہے کلیسا بھی
    یہی تو وقت ہے تقدیر آزمانے کا

    یہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہے
    مصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے

    ٹھہرنا دل میں کچھ بہتر نہ جانا
    بھرے گھر کو انہوں نے گھر نہ جانا

    اب کون پھرے کوئے بت دشمن دیں سے
    اللہ کے گھر کیوں نہ چلے جائیں یہیں سے

    جب ان کی پتیاں بکھریں تو سمجھے مصلحت اس کی
    یہ گل پہلے سمجھتے تھے ہوا بے کار چلتی ہے

    دل ان کو مفت دینے میں دشمن کو رشک کیوں
    ہم اپنا مال دیتے ہیں اس میں کسی کا کیا

    جتنے بت ہیں میں سب پہ مرتا ہوں
    میرا ایمان ایک ہو تو کہوں

    اسی کو پی کے ہوتی ہے شفا بیمار الفت کو
    دوا قاتل ترے تلوار کے پانی کو کہتے ہیں

    بتوں میں نور ذات کبریا معلوم ہوتا ہے
    مجھے کچھ دن سے ہر پتھر خدا معلوم ہوتا ہے

    خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

    عاشقوں کی روح کو تعلیم وحدت کے لیے
    جس جگہ اللہ رہتا ہے وہاں رہنا پڑا

    محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے
    خدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری

    نہ اس کے دامن سے میں ہی الجھا نہ میرے دامن سے یہ ہی اٹکی
    ہوا سے میرا بگاڑ کیا ہے جو شمع تربت بجھا رہی ہے

    یہ تو سمجھا میں خدا کو کہ خدا ہے لیکن
    یہ نہ سمجھا کہ سمجھ میں مری کیوں کر آیا

    زاہد تو بخشے جائیں گنہ گار منہ تکیں
    اے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئے

    کچھ نہ پوچھو کہ کیوں گیا کعبے
    ان بتوں کو سلام کرنا تھا

    ساقی مرا کھنچا تھا تو میں نے منا لیا
    یہ کس طرح منے جو دھری ہے کھنچی ہوئی

    کعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھا
    جب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی

    تم کیوں شب جدائی پردے میں چھپ گئے ہو
    قسمت کے اور تارے سب آسمان پر ہیں

    آہ رسا خدا کے لیے دیکھ بھال کے
    ان کا بھی گھر ملا ہوا دشمن کے گھر سے ہے

    وہ پہلی سب وفائیں کیا ہوئیں اب یہ جفا کیسی
    وہ پہلی سب ادائیں کیا ہوئیں اب یہ ادا کیوں ہے

    حال زاہد جو مئے ناب کا پوچھے تو کہوں
    ہے یہ وہ چیز جو کافر کو مسلمان کرے

    کسی کے تیر کو چھاتی سے ہم لگائے رہے
    تمام عمر کلیجے کے پار ہی رکھا

    صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے
    دیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے

    پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔ
    کوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا

    خال و عارض کا تصور ہے ہمارے دل میں
    ایک ہندو بھی ہے کعبے میں مسلمان کے ساتھ

    وہ کریں گے وصل کا وعدہ وفا
    رنگ گہرے ہیں ہماری شام کے

    اس سے پہلے میں کبھی آباد گھر بستی میں تھا
    آج مضطرؔ ایک اجڑا جھونپڑا جنگل میں ہوں

    ساقی تری نظر تو قیامت سی ڈھا گئی
    ٹھوکر لگی تو شیشۂ توبہ بھی چور تھا

    خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی
    فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے

    دھوکے سے بلا کر جو ملا تھا تو وہ مجھ سے
    جب ملتے ہیں کہتے ہیں دغاباز کہیں کا

    میری ہستی سے تو اچھی ہیں ہوائیں یا رب
    کہ جو آزاد پھرا کرتی ہیں میدانوں میں

    قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد
    یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو

    خدمت گشت بگولوں کو تو دی صحرا میں
    میں بھی برباد ہوں مجھ کو بھی کوئی کام بتا

    نگاہوں میں پھرتی ہے آٹھوں پہر
    قیامت بھی ظالم کا قد ہو گئی

    جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد
    ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں

    پھونکے دیتا ہے کسی کا سوز پنہانی مجھے
    اب تو میری آنکھ بھی دیتی نہیں پانی مجھے

    وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی
    نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

    بت کدہ میں تو تجھے دیکھ لیا کرتا تھا
    خاص کعبے میں تو صورت بھی دکھائی نہ گئی

    محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو
    وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے

    مرا رونا ہنسی ٹھٹھا نہیں ہے
    ذرا روکے رہو اپنی ہنسی تم

    جو پوچھا دل ہمارا کیوں لیا تو ناز سے بولے
    کہ تھوڑی بے قراری اس دل مضطرؔ سے لینا ہے

    میرے غبار کی یہ تعلی تو دیکھیے
    اتنا بڑھا کہ عرش معلی سے مل گیا

    یہ نقشہ ہے کہ منہ تکنے لگا ہے مدعا میرا
    یہ حالت ہے کہ صورت دیکھتا ہے مدعی میری

    رنج غربت میں دیکھ کر مجھ کو
    دل صحرا بھی باغ باغ ہوا

    تمہاری جلوہ گاہ ناز میں اندھیر ہی کب تھا
    یہ موسیٰ دوڑ کر کس کو دکھانے شمع طور آئے

    وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند
    نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے

    جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا
    دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

    وہ کہتے ہیں کہ کیوں جی جس کو تم چاہو وہ کیوں اچھا
    وہ اچھا کیوں ہے اور ہم جس کو چاہیں وہ برا کیوں ہے

    یہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھی
    وہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری

    میں تری راہ طلب میں بہ تمنائے وصال
    محو ایسا ہوں کہ مٹنے کا بھی کچھ دھیان نہیں

    نمک پاش زخم جگر اب تو آ جا
    مرا دل بہت بے مزہ ہو رہا ہے

    پڑ گئے زلفوں کے پھندے اور بھی
    اب تو یہ الجھن ہے چندے اور بھی

    زلف کا حال تک کبھی نہ سنا
    کیوں پریشاں مرا دماغ ہوا

    قیس نے پردۂ محمل کو جو دیکھا تو کہا
    یہ بھی اللہ کرے میرا گریباں ہو جائے

    مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ
    کہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

    تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں
    ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

    خضر بھی آپ پر عاشق ہوئے ہیں
    قضا آئی حیات جاوداں کی

    روح دیتی رہی ترغیب تعلی برسوں
    ہم مگر تیری گلی چھوڑ کے اوپر نہ گئے

    قاصد نے خبر آمد دلبر کی اڑا دی
    آیا بھی تو کم بخت نے بے پر کی اڑا دی

    جلوۂ رخسار ساقی ساغر و مینا میں ہے
    چاند اوپر ہے مگر ڈوبا ہوا دریا میں ہے

    ساقی وہ خاص طور کی تعلیم دے مجھے
    اس میکدے میں جاؤں تو پیر مغاں رہوں

    اڑا کر خاک ہم کعبے جو پہنچے
    حقیقت کھل گئی کوئے بتاں کی

    میرا دل مضطرؔ بت کافر سے لگا ہے
    اور آنکھ مری سوئے خدا دیکھ رہی ہے

  • کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    بس ایک بار وہ آیا اور اس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    الطاف گوہر

    یوم پیدائش: 17 مارچ 1923
    ۔………………………………………..
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے ممتاز ادیب، شاعر، مصنف، صحافی، دانشور اور بیوروکریٹ الطاف گوہر 17 مارچ 1923 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجہ الطاف حسین اور پنجابی کے جنجوعہ قبیلے سے تعلق تھا۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی مگر اردو اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور تھا۔ ابتدا میں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے لیکن بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سرکاری آفیسر بن گئے۔ وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے انگریزی اخبار ڈان کے مدیر رہے جبکہ حکومت پاکستان کے سیکریٹری اطلاعات جیسے اہم منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ جنرل ایوب خان کے بہت قریب رہے یہی وجہ ہے کہ بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے نفاذ کو ان کا ذہنی اختراع کہا جاتا ہے۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور شاعری بھی کی مولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن کا انہوں نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے سوانح نگاری بھی کی۔ 14 نومبر 2000 کو الطاف گوہر کی 77 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔ ان کے نمایاں قلمی کام درج ذیل ہیں ۔

    گوہر گزشت (آپ بیتی)

    لکھتے رہے جنوں کی حکایت

    ایوب خان:فوجی راج کے پہلے دس سال

    تفہیم القرآن کا انگریزی میں ترجمہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ صحرا کبھی تو ٹوٹے گا یہ خبط کبھی تو پھوٹے گا
    یہ سناٹا یہ خاموشی مجبور فغاں ہو جائے گی

    ہم تو یونہی کبھی کبھی کہتے ہیں چھیڑ سے غزل
    پیشہ وروں پے کیا بنی اہل زباں کو کیا ہوا

    بس ایک بار وہ آیا اوراس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    پھر رہے ہیں سر بازار تماشا بن کر
    بد گمانی تری ظالم ابھی باقی ہے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دھوپ کے سائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    شام دلہن کی طرح
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہے
    گوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کر
    بہتے غازے میں نہیں جذب ہوئی
    ابھی کھوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میں
    مسکراتی ہوئی سیندور کی مانگ
    گھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہے
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    شب کی تاریکیاں ہر سمت بکھر جائیں تو آرام ملے
    یہ چمکتے ہوئے ذرے نہ رہیں
    ذوق تماشا نہ رہے
    کوئی تمنا نہ رہے
    اک کرن چھوڑ کے جاتی ہی نہیں
    چشم گیں کرتی ہوئی کھیل رہی ہے اب تک
    زرد رو گھاس کے سینے پہ تھرکتی ہوئی بڑھ جاتی ہے
    سنگریزوں کی نگاہوں میں چمکتی ہوئی لوٹ آتی ہے
    کوئی سمجھائے اسے جاؤ چلی جاؤ یہاں اب کیا ہے
    دھوپ کے کانپتے سایوں کو ذرا بڑھنے دو
    شب کی تاریکیاں چھا جانے دو
    میں نے سو بار کہا ایک نہ مانی اس نے
    مسکراتی ہوئی شاخوں پہ لرزتی ہی رہی
    یوں بھی تڑپانے میں اک لطف تو ہے سوز تو ہے
    رنگ گھلتے ہیں گھلیں گے آخر
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی
    شام دلہن کی طرح بیٹھی رہی بیٹھی رہی

  • یوم ولادت، یاسمین حمید

    یوم ولادت، یاسمین حمید

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    یاسمین حمید

    تاریخ پیدائش:18 مارچ 1951ء
    جائے پیدائش:لاہور
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے
    ۔ 2018
    ۔ (2)دوسری زندگی-2007
    ۔ (3)فنا بھی ایک سراب-2001
    ۔ (4)پس آئینہ-1998
    ۔ (5)آدھا دن اور آدھی رات
    ۔ 1996
    ۔ (6)حصار بے در و دیوار-1991
    ایوارڈز:ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ
    مستقل پتا:ڈی۔2؍124، فیزI
    ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی لاہور

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاسمین حمید تعلیم، ادب اور آرٹ کے شعبوں سے پچیس برس سے زیادہ عرصے سے منسلک ہیں۔ 2007 سے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائینسز (لَمز) میں اردو ادب پڑھاتی آئی ہیں۔ لَمز میں وہ زبان و ادب کے گُرمانی سیَنٹر کی سربراہ بھی ہیں۔ یاسمین حمید اردو میں شاعری کی پانچ کتابیں تصنیف کر چکی ہیں: ’پسِ آئینہ‘ (۱1988)، ’حصارِ بے در و دیوار‘ (1991)، ’آدھا دن اور آدھی رات‘ (1996)، ’فنا بھی ایک سراب‘ (2001) اور ’بے ثمر پیروں کی خواہش (2012)۔ پہلی چار کتابیں 2007 میں سات سوَ صفحوں پر مشتمل مجموعے کے طور پر ’دوسری زندگی‘ کے عنوان سے شائع ہوئیں۔ اُن کی کتاب ’پاکستانی اردو وَرس‘ 2010 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی اور 2012 میں اسے یوُ بی ایَل اور جنگ نے ادبی تحسین کے اعزاز سے نوازا۔ 2013 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اُن کی تالیف کی ہوئی کتاب ’ڈے بریَک: رائیٹنگز آن فیض‘ شائع کی۔ اُن کی تالیف کی ہوئی ایک اور کتاب ’نیا اردو افسانہ‘ سنگِ میل نے 2014 میں شائع کی۔ 2008 میں حکومتِ پاکستان نے انھیں ادبی خدمات کے لیے تمغۂ امتیاز سے نوازا۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے
    اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

    ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں
    سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

    پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
    ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی

    جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں
    جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

    ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے
    آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

    اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے
    مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو

    سمندر ہو تو اس میں ڈوب جانا بھی روا ہے
    مگر دریاؤں کو تو پار کرنا چاہیئے تھا

    اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی
    تو پھر سائے سے اپنے پیار کرنا چاہیئے تھا

    اپنی نگاہ پر بھی کروں اعتبار کیا
    کس مان پر کہوں وہ مرا انتخاب تھا

    مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی
    چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

    جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں
    اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

    اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی
    اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے

    میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں
    جو میری بات کا حاصل رہا ہے

    اس کے شکستہ وار کا بھی رکھ لیا بھرم
    یہ قرض ہم نے زخم کی صورت ادا کیا

    مری ہر بات پس منظر سے کیوں منسوب ہوتی ہے
    مجھے آواز سی آتی ہے کیوں اجڑے دیاروں سے

    کیوں ڈھونڈنے نکلے ہیں نئے غم کا خزینہ
    جب دل بھی وہی درد کی دولت بھی وہی ہے

    رستے سے مری جنگ بھی جاری ہے ابھی تک
    اور پاؤں تلے زخم کی وحشت بھی وہی ہے

    کسی کے نرم لہجے کا قرینہ
    مری آواز میں شامل رہا ہے

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

  • آئی ایم ایف کی شرائط میں مسلسل تبدیلی، ڈار کی ناکامی؟

    آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کے لئے شرائط کی تبدیلی،اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو ترک کرنے کی بات اسحاق ڈار کی ناکامی ہے،

    سینئر صحافی مبشر بخاری نے کل مجھے فون کیا اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط میں تاخیر کے حوالہ سے بات کی، اس دوران انہوں نے ایک دلچسپ بات کی اور کہا کہ جب سوالیہ پرچہ حل کرنے لگتے ہیں تو نصاب بدل دیا جاتا ہے، ہمیں اس نقطہ نظر پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف جس نے پاکستان کو قرض دینا ہے نے کم از کم چار بار اپنا ارادہ بدلا،شرائط بدلیں، آئی ایم ایف نے قرض کے لئے حتمی معاہدے سے قبل پاکستان سے کئے گئے چار اقدامات کی تشریح بدل دی ہے ،اور نظر ثانی شدہ اقدامات کے حوالہ سے بات کی ،آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے چار شرائط رکھی

    1] پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ جس سے یقینی طور پر پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی،

    2] دوست ممالک سے بیرونی مالیاتی فرق کے لئے تحریری یقین دہانی

    3] بجلی کی قیمتوں میں تین روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے، سرچارج چار ماہ کے بجائے مستقل بنیادوں پر کرنے کا کہا گیا ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے چار ماہ کی مدت کو آئی ایم ایف نے مسترد کیا گیا

    4] آخری افغانستان سے نمٹنے کے لیے شرح مبادلہ کا اخراج

    یہ بات کی جا رہی تھی کہ پالیسی کم آمدنی والے افراد کے لئے بہتر اور دوستانہ ہو گی لیکن ایسا نہیں ہے، جی ایس ٹی میں اضافہ سے یہ واضح ہو گیا ہے،رواں برس 16 مارچ کو پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ہر بارآئی ایم ایف کا جائزہ پروگرام ایک نیا پروگرام بن رہا ہے، یہ بہت غیر معمولی ہے،

    آئی ایم ایف کی جانب سے بار بار نئی شرائط کی وجہ سے پاکستان جس کی معاشی صورتحال دگردوں ہو چکی ہے، کو قرض فراہمی تاخیر کا شکار ہو رہی ہے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کہا کہ کسی کو یہ بتانے کا حق نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس کتنے میزائل ہیں یا نہیں۔ اس نے کسی کا نام نہیں لیا۔ لیکن ظاہر ہے کسی نے کیا۔ کون تھا؟

    11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت کی جانب سے زیر زمین پانچ ایٹمی تجربات کیے گئے۔ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو 5 اور 30 مئی کو ایک اور ٹیسٹ کے ساتھ جوابی تجربات کامیابی کے ساتھ کئے۔ بعض حلقوں میں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ 1998 میں جب پاکستان نے یہ ٹیسٹ کیے تھے تو اس کے بعد سے ہی پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کچھ کوششیں کی گئی تھیں۔ پاکستان کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے بعض طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے کوششیں کر سکتی ہیں ،

    پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال سب کے سامنے ہے، اس طرح کے تبصرے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    غیر یقینی صورتحال میں پالیسی سازوں کے سامنے خطرات بھی ہوتے ہیں، کیونکہ انکے پاس ماضی کی کوئی مثال نہیں ہوتی اور نہ ہی عدم فیصلہ کی آسائش

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ملکی سیاست، جمہوریت اور جمہور کا مستقبل؟ تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ملکی سیاست، جمہوریت اور جمہور کا مستقبل؟ تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ملک کے وہ سیاستدان جنہوں نے جمہوریت، آئین قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جیلیں کاٹیں۔

    کوڑے کھائے۔ بدترین تشدد کا سامنا کیا ۔ جن کی تعدادسیاسی جماعتوں میں بہت کم رہ گئی ہے وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید سمیت چند ایک دوسرے سیاستدان اور اسی طرح پیپلزپارٹی کے سینیٹررضا ربانی سمیت چند ایک جمہوریت،آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے سیاستدان بتائیں کیا اس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی ملک میں موجود ہے؟اگر نہیں تو اس کے ذمہ دار کون ہیں ؟

    ملک کا آئین اتنا بے بس اور لاورث کیوں ہے ؟ اس آئین کو بے بس اور لاوارث بنانے میں کس کا کردار ہے؟ ملکی آئین آزادی سے سانس کیوں نہیں لے پاتا؟ آمروں نے اس آئین کو بوٹوں کے نیچے روندا اور اشرافیہ نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا؟ اگر پاکستان کے مسائل کا حل 1973 ء کے آئین میں موجود ہے تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا ؟

    ملک میں جاگیردارنہ نظام کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا ملک آمریت اورجمہوریت کے درمیان کیوں جھولتا رہا؟ ملک کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، سابق سینیٹر مصطفی کھوکھر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ آئین ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے ۔ کیا ملک میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے اگر پارلیمانی نظام ناکام ہوچکا ہے تو کون سا نیا نظام قائم ہوگا جس سے ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، جمہور کے مسائل کا حل ہوگا؟ ایک وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    اُس کی بیٹی کو سڑک پر شہید کردیا گیا۔ نواز شریف کو تاحات نااہل کردیا گیا ۔اب عمران خان اپنی زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہے ۔عمران خان کے مطابق اُسے قتل کردیا جائے گا۔ کیا یہ اس ملک اور 22 کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کہ اُن کی لیڈر شپ کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے۔ بقول عمران خان اُن کے قتل کی سازش موجودہ وزیراعظم اور دیگر ہیں تو پھر بھٹو کے عدالتی قتل میں کون شامل تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے تاحیات نااہلی میں کون شامل تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملکی وزرائے اعظم کے قتل اور تاحیات نااہلی میں ایک دوسر ے پر الزامات ہیں تو پھر ملکی سیاست ،جمہوریت اور جمہور کا مستقبل کیا ہوگا؟

  • ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    تاریخ پیدائش:28 جون 1927ء
    تاریخ وفات:17 مارچ 2002ء
    شہریت:مصر
    پیشہ:مصنف

    ثروت اباظہ کا پورا نام ثروت دسوقی اباظہ ہے۔ وہ مصر کے جانے مانے صحافی اور ناول نگار تھے۔ وہ محافظہ الشرقیہ کی بڑی شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے عربی زبان و ادب کی بہت خدمت کی ہے۔ ان کا تعلق اباظہ خاندان سے ہے جو مصر کا علمی و ادبی خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے والد دسوقی اباظہ ادیب تھے اور چچا عزیز اباظہ شاعر ہیں۔ ان کے ایک اور چچا فکری اباظہ بھی ادیب اور کاتب تھے۔ ان کا شہرہ آفاق ناول” ارب من الأيام” ہے جو 1960ء کی دہائی میں ٹی وی پر بھی نشر ہوا تھا۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ثروت اباظہ نے جامعہ فواد اول سے 1950ء میں قانون میں گریجویشن کیا اور بطور وکیل اپنے کیرئر کی شروعات کی۔ وہ محض 16 برس کے تھے کہ ادب میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی افسانہ لکھنا شروع کردیا تھا اور ان کی کہانی اور افسانے ریڈیو پر نشر ہونے لگے۔ اس کے بعد انھوں نے ناول کی جانب رخ کیا۔ انھوں نے ایک تاریخی قصہ” ابن عمار” لکھا اور اس کے بعد ایک ڈراما” الحیاۃ لنا” (ہماری زندگی) لکھا۔

    وہ 1974ء میں مجلہ "الاذاعہ والتلفزيون” کے رئیس التحریر بنے اور 1975ء تا 1988ء مجلہ” اہرام” کے ادبی شعبہ کے صدر رہے۔ وہ مجلس شوریٰ کے معتمد بھی رہے۔ انھوں نے متعدد ناول، قصے، فلمی کہانی، ڈراما لکھے۔ ان کے کئی ناول بعد میں فلمائے بھی گئے اور متعدد ریڈیو پر نشر ہوئے۔
    17 مارچ 2002ء کو بعمر 74 انتقال کرگئے۔

  • ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛  پاکستان کیلئے مفید

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    سنی شیعہ دشمنی نے ہمیشہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کو جنم دیا ہے جبکہ سعودی عرب اور ایران نے اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو بڑھانے کے لیے مذہبی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ہمیشہ پاکستانی میدان کو استعمال کیا ہے

    "ایران اور سعودیہ کے درمیان حالیہ دنوں ہونے والے معاہدے کیلئے چین کا شکریہ کیونکہ معاہدے کے بعد پاکستان کے دو بڑے فرقوں کے درمیان دشمنی کو ختم کرنے میں یہ بات اب کافی کارگر ثابت ہوگی اور ایک خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان کے اندر ایران کے بعد شیعہ برادری کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے لہذا امید ہے کہ یہ دونوں کے درمیان بہتر مذہبی رواداری کا باعث بنے گا۔”اس سے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان زیادہ متوازن تعلقات برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جیسے کہ موجودہ حالات ہیں سعودی عرب پاکستان کے لیے مالی طور پر بہت مددگار رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایران ایک علاقائی تجارتی پارٹنر ہے۔

    "سعودی عرب پاکستان کا مضبوط ترین حامی رہا ہے اور سعودی عرب پاکستان کو تسلیم کرنے والے اقوام متحدہ کے پہلے رکن ممالک میں شامل ہے۔ لہذا سفارتی اور مالی دونوں لحاظ سے سعودیہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ جو تعاون فراہم کیا اس پر کئی باب لکھے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ سعودی عرب میں اس وقت لاکھوں پاکستانی مختلف حصوں میں کام کر رہے اور برسر روزگار ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی فوجی 1960 کی دہائی سے وہاںانکی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔

    "سرکاری ذرائع کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کا حجم تقریبا 392.08 ملین امریکی ڈالر ہے جس میں پاکستان کی ایران کو برآمد کی جانے والی 22.86 ملین ڈالر کی اشیا بھی شامل ہے علاوہ ازیں اس میں سبزیاں، کیمیکل، پھل، گوشت، چاول شامل ہیں۔ جبکہ ادھر ایران پاکستان کو کیمیائی مصنوعات، کھالیں، خام لوہا برآمد کرتا ہے۔”
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بی آر آئی جیسے منصوبے کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ تاہم اسرائیل اس معاہدے کو امریکہ کی جانب سے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اسپیس دینے کے طور پر محسوس سکتا ہے کیونکہ اس معاہدے سے ایران کو عالمی تنہائی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن اسرائیل یا اسرائیل نواز عناصر آنے والے وقتوں کو نازک بناتے ہوئے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

  • زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، اسلام آباد پولیس گرفتاری کے لئے آئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ 20 گھنٹے تک آنکھ مچولی کی اور عمران خان کو گرفتار نہیں ہونے دیا، اس دوران تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان نہ صرف جھوٹ بولتے رہے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لیتے رہے، اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولے گئے کہ انکو سن سن کو شاید سچ لگنے لگ جائے،

    عمران خان کے پاس کسی قسم کی حفاظتی ضمانت نہیں ہے۔ عمران خان کے گرفتاری وارنٹ 6 مارچ کیلئے جاری کیے گئے، پھر 9 مارچ کیلئے جاری کیے گئے اور پھر 13 مارچ تک کیلئے موخر کیے گئے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب تک کسی عدالت نے عمران خان کے گرفتاری وارنٹ نہ کینسل کیے ہیں اور نہ ہی انہیں حفاظتی ضمانت دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کا کہنا کہ وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں اس بات کی گواہی ہے کہ وہ قانون کو اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں۔گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ایک قانونی عمل ہے جس کے خلاف ہٹ دھرمی دکھانا صریحا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔

    عمران خان اس بات پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان پر 80 کیس ہو چکے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں صرف 30 ایف آئی آریں درج ہوئی ہیں (27 اسلام آباد میں، 2 پنجاب میں اور 1 بلوچستان میں)۔یہ ایف آئی آریں حکومت نے نہیں بلکہ شہریوں کی درخواستوں پر عمران خان کے جرائم کی وجہ سے درج ہوئی ہیں۔ لہذا اس پر بھی عمران خان کو گمراہی پھیلانا بند کرنی ہوگی۔ پولیس اور رینجرز کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ عمران خان کو آنسو گیس کے آلے اور بندوق میں فرق واضح طور پر سمجھنا چاہیئے۔ عمران خان نے پٹرول بموں، پتھراؤ اور خندقوں کے ذریعے اپنے گھر کو جنگجوؤں کا ایک مورچہ بنا لیا ہے۔ پارٹی کی قیادت بھی مان رہی ہے کہ کارکنوں نے پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ یاسمین راشد کی بھی آڈیو لیک ہوئی جس میں پٹرول بم کے استعمال کا کہا گیا ہے،

    عمران خان کے گھر میں کالعدم تنظیم کے ایک کارندے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان غیر قانونی حرکات میں حدوں کو چھو رہے ہیں۔ عمران خان کے حامی اس بات کو خود مان رہے ہیں کہ تربیت یافتہ مجاہدین زمان پارک پہنچ چکے ہیں۔ عمران خان نے مشتعل مظاہرین پر فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیلوں کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ سب ان کے گھر پر پھینکے گئے۔ یہ عالمی میڈیا کو بیوقوف بنانے کا صرف ایک حربہ ہے۔ مشتعل مظاہرین نے عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے گرین بیلٹس، بجلی کے انفراسٹرچر اور گاڑیوں کی شدید ترین توڑ پھوڑ کی اور سرکاری اہلکاروں کو بھی زخمی کیا عمران خان خود کو مظلوم دکھانا چاہ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حکومت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ظفر لشاری (لاشاری)  سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    یوم وفات : 16 مارچ 2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر محمود لشاری (لاشاری) 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ/ڈیرہ نواب صاحب کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن ٹی بی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ۔ کافی عرصہ سینی ٹوریم میں زیر علاج رہے. صحت یاب ہونے پر چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا۔ پرائیویٹ ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا۔ ہیڈ ماسٹر بھی بنے۔ 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    سرائیکی زبان میں پہلا ناول "نازو” انہوں نے ہی لکھا۔ یہ 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور نے شائع کیا۔ دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ نے شائع کیا۔ افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی دوسری کتابیں "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” ،”خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” اور”سرائیکی لوک سہرے” ہیں۔ 16 مارچ 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    پیدائش:16 مارچ 1907ء
    تبریز
    وفات:05 اپریل 1941ء
    تہران
    شہریت:ایران
    زبان:فارسی
    شعبۂ عمل:شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ: ویکی پیڈیا انگلش کے مطابق تاریخ ولادت 17 مارچ 1907ء درج ہے ۔

    پروین اعتصامی بروز ہفتہ یکم صفر المظفر 1325ھ مطابق 16 مارچ 1907ء کو شہر تبریز میں پیدا ہوئیں۔ ماہر لسانیات علی اکبر دہخدا کے مطابق پروین اعتصامی کا اصل نام ” رخشندہ“ تھا۔
    والدین و حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروین کے والد اعتصام الملک مرزا یوسف اعتصامی تھے۔ پروین کے داد مرزا ابراہیم خان مصطفوی اعتصام الملک تھے جو شہر آشتیان صوبہ مرکزی سے ہجرت کرکے تبریز آ گئے تھے۔ بعد ازاں شہنشاہ نصیر الدین شاہ قاچار کے حکم پر اُنہیں وزارت خزانہ در صوبہ آذربائیجان میں مقرر کیا گیا۔ پروین کے چار بھائی تھے۔ پروین کی والدہ کا 1973ء میں اِنتقال ہوا۔
    تعلیم کا حصول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بعد میں یہ خاندان تبریز سے تہران چلا آیا اور یہاں پروین نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پروین نے امریکن گرلز کالج میں تحصیل علم کیا۔ 1924ء میں اِیران بیتھل اسکول سے گریجویشن کیا۔
    1926ء سے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1941ء تک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کے حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1926ء میں پروین کو اِیران کے شاہی دربار سے مستقبل کی ملکہ کی اتالیق کے عہدے کی پیشکش کی گئی مگر پروین نے اِنکار کر دیا۔ 1934ء میں پروین کی شادی ہوئی اور وہ کرمان شاہ منتقل ہوگئیں۔ مگر یہ شادی صرف دس ہفتوں تک رہ سکی اور وہ واپس تہران آگئیں۔ 1938ء- 1939ء میں وہ کافی مہینے ایک لائبریری ”دانش گاہِ سرائے عالی“ میں ملازمت کرتی رہیں جو اَب تہران کی تربیت معلم یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ 1938ء میں پروین کے والد مرزا یوسف اعتصامی آشتیانی کا اِنتقال ہوا جب پروین کی عمر 31 سال تھی۔
    پروین اعتصامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بحیثیت شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پروین سات یا آٹھ سال کی تھیں جب اُن کا شاعری میں ذوق نمایاں ہونے لگا تھا۔ اُن کے والد نے اُن کا یہ ذوق دیکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ 1921ء-1922ء میں اُن کی پہلی ایک شعری نظم ایک رسالہ بہار میں چھپی۔ 1935ء میں پروین کا شعری مجموعوں پر مبنی دِیوان شائع ہوا جس میں 156 نظمیں تھیں۔ اِس دیوان کے لیے ایک تقریظ مشہور فارسی شاعر محمد تقی بہار نے بھی لکھی۔
    1941ء میں پروین کے اِس دِیوان کا دوسرا ایڈیشن اُن کے بھائی مرزا ابو الفتح اعتصامی نے پروین کی وفات کے بعد شائع کیا۔ یہ ایڈیشن سابقہ کے مقابلے میں ضخیم تھا، اِس میں 209 مختلف شعری مرکبات جن میں قصیدہ، غزل، قطع اور رباعیاں شامل تھیں اور کل اشعار کی تعداد 5606 تھی۔
    اپنی مختصر سی حیات میں پروین بڑے شعرا کے مدِ مقابل آ گئی تھیں۔ اُن کی شاعری میں فارسی کے کلاسیکی دور کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اُن کے شعری مجموعوں میں 42 قصیدے اور قطع ایسے ہیں جن کا کوئی عنوان منتخب نہیں کیا گیا۔ یہ قدیم فارسی شعرا سنائی اور ناصر خسرو کی مطابقت رکھتے ہیں۔ بعض دوسرے قصیدے فطرت، حالات زندگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ پروین کے دِیوان میں کچھ غزلیں عشیقہ زندگی کے متعلق بھی ہیں جو اُن کے رومان پسند ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
    پروین کے دِیوان میں مناظرے کی شاعری زیادہ مفصل انداز میں پائی جاتی ہے۔ مناظرے کے انداز میں کل 65 نظمیں موجود ہیں۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    پروین اعتصامی کا اِنتقال 34 سال کی عمر میں بروز ہفتہ 8 ربیع الاول 1360ھ مطابق 05 اپریل 1941ء کو شہر قم، ایران میں ہوا۔ پروین کو قم میں اُن کے والد کے قریب دفن کیا گیا۔