Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں عدالت نے وارنٹ جاری کیے تو عمران خان پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیش ہونے کا حکم دیا اسکے باوجود عمران خان عدالت نہ گئے ،عمران خان کے وارنٹ دوبارہ بحال ہوئے تو اگلے روز اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی، منگل کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے پولیس زمان پارک پہنچی، بکتر بند گاڑی، واٹر کینن، بھاری نفری لیکن تقریبا 20 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے باوجود عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی، کیونکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان زمان پارک موجود رہتے ہیں، ممکنہ گرفتاری کی خبر پھیلنے کے بعد کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، پولیس نے رات کو بھی کوشش کی لیکن گرفتاری نہ ہو سکی، صبح بھی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کو آگے نہ بڑھنے دیا، اس دوران دونوں طرف سے آنکھ مچولی ہوتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن کا استعمال کیا، 50 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنکو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنان بھی زخمی ہیں لیکن انکی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، فرح حبیب تو یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ کارکنوں کی موت بھی ہوئی لیکن ابھی تک کوئی لاش سامنے نہیں لائی جا سکی،

    پولیس جب زمان پارک پہنچی تو سب سے پہلے عمران خان کے قریبی افراد نے جھوٹ بولا کہ عمران خان زمان پارک نہیں ہیں، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا عمران خان زمان پارک میں ہی موجود ہیں، عمران خان نے 20 گھنٹے تقریبا کارکنان کو ڈھال بنائے رکھا اور گرفتاری نہین دی، شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاری نہ دینے کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، عمران خان کی گرفتاری اگر حکومت نے کرنی ہوتی تو ایک رپورٹ کے مطابق دس منٹ میں عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا، اب ان 20 گھنٹوں میں تحریک انصاف نے لاقانونیت کی انتہا کی ہے، ایک طرف عمران خان کے وارنٹ،اور اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں،پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی املاک کو آگ لگائی گئی، پولیس سے جھوٹ بولا گیا، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، پولیس پر پٹرول بم برسائے گئے، اور اس ساری منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی شریک تھی، کیونکہ آج ہی یاسمین راشد اور صدر مملکت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں یہ ساری باتیں کی گئی ہین کہ زمان پارک میں کیا ہو رہا ہے،پٹرول بم چلانے کا بھی اعتراف اس آڈیو میں ہے، صحافی محسن بلال نے بھی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔

    صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔

    پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری تھا تو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح فیک ویڈیوز اور فیک خبریں وائرل کرنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم سوشل میڈیا پر انکا مسلسل کاؤنٹر کیا جاتا رہا، اسلام آباد پولیس سے لے کر پنجاب حکومت تک سب نے فوری فیک خبروں کو کاؤنٹر کیا اورتحریک انصاف کے پروپگنڈے کو بے نقاب کیا،ان حالات میں جو تحریک انصاف نے ان 20 گھنٹوں میں کیا ایسے میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رہا، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیتی ہے بلکہ سیاسی رہنما تو قانون پر عمل کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں، ایسے میں قانون پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف پر سے سیاسی جماعت کا لیبل ختم ہونا چاہئے اور اسے کالعدم قرار دینا چاہئے، پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردی سے نکلا ایسے میں پاکستان کو کسی بھی مشکل میں مزید نہیں دھکیلا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ قانون کا ہاتھ قانون کے مطابق ہی رکھا جائے کسی قسم کی مزید رعایت تحریک انصاف کو مزید شدت پسندی کی طرف راغب کرے گی،

    لاہور سے صحافی نجم ولی خان کہتے ہیں کہ عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔

    نجم ولی خان مزید کہتے ہیں کہ جو عمران خان نیازی اور اس کا گروہ کر رہا ہے وہ اگر گرفتاری کی کوشش پر نوازشریف، اصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، الطاف حسین، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاو، سراج الحق، سعد رضوی، محمود خان اچکزئی میں سے کوئی کرتا تو ۔۔۔؟ تو کیا ہوتا؟

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران نیازی اندھے پیروکاروں کے زور پہ پاکستان کا ہٹلر، پی ٹی آئی نازی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ہٹلر کی گرم تقریروں نے جرمن قوم کو فریب میں مبتلا کیا، جج، صحافی،دانشور اور عوام اس کے جھانسے میں آئے اسے ووٹ دئیے اور اقتدار میں آ کے اسنے جرمن قوم اور دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

    ایک ٹویٹر صارف کرن نازنے لکھا کہ خان صاحب جو کرتوت خود کرتے ہیں،وہی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔کیاآپکے احکامات پر فورسز نےلبیک والوں کی گھروں کی دیواریں نہیں پھلانگی تھیں؟کیا آپ نے پولیس اور فورسز سےTLP پر سٹریٹ فائر نہیں کروائے تھے؟آپ اتنے بھولے کیوں ہیں؟فورسز کو عوام کے سامنے آپ نے کھڑا نہیں کیا؟

    https://twitter.com/kiran_Naaz12/status/1635951799822606340

    ایک صارف لکھتے ہیں کہ عمران خان معلوم انسانی تاریخ کے وہ پہلے سرخیل ہیں جنہوں نے محاذ آرائی و جنگ کی صف بندی کی ترتیب ہی الٹ کر رکھ دی ہے،پہلے جنگ میں رہنما سب آگے ہوتا تھا اس کے دائیں بائیں وزراء ہوتے تھے،پھر پیچھے گھڑ سوار سپاہی،یہاں منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ پہلی صف سے معذور و بوڑھے لیڈ کر رہے دوسری صف سے خواتین و بچے واویلا کر رہے،تیسری صف میں ہجیڑے کھڑے بدعائیں دے رہے،اور آخری صفوں سے پیچھے اوٹ میں چھپے لیڈر سے احکامات لے کر آگے پہنچاتے وزرا و مشران دکھائی دے رہے.

  • وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ان دنوں قومی سیاست کے میدان میں ہنگامہ آرائی ، افراتفری اور تشدد پسندی کا رجحان مشاہدہ کیا جا رہا ہے اس کا ایک نہایت قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے ایک اہم ریاستی ادارے یعنی پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان خونریز تصادم شروع ہو گیا ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ روز عمران خان کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ واقع زمان پارک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں پنجاب و اسلام آباد پولیس اور مذکورہ کارکنوں کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کے حوالہ سے مذکورہ علاقہ کو میدان جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کو قومی میڈیا میں تو ایک الگ انداز میں پیش اور نشر کیا گیا لیکن غیر ملکی میڈیا نے اس ضمن میں اس بات کو اہمیت اور فوقیت دی کہ حکومت کے اقدامات جمہوری روایت اور مزاج کے برعکس ہیں۔

    ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو اپنی اقتصادی اور معاشی حیثیت کو مستحکم بلکہ برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کی مالیاتی اعانت کی اشد ضرورت ہے ، امن و امان کی صورت حال کا تیزی کے ساتھ ابتراوربے قابو ہونا کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے وفاقی دارالحکومت ، اسلام آباد کی پولیس اور پنجاب پولیس نے مشترکہ طور پر جو کارروائی کی، وہ نہایت افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ دراصل مذکورہ غیرملکی میڈیا وطن عزیز کی سیاسی حرکیات اورریاستی اقدامات کو اپنے احوال اور معیارات کے مطابق دیکھتا ہے اور ایسے میں اس کی مایوسی نہایت درست محسوس ہوتی ہے۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مغربی میڈیا سے مغربی پالیسی سازادارے اورشخصیات کسی حد تک ضرور متاثر ہوتے ہیں چنانچہ وطن عزیز کے دلخراش واقعات اس تناظر میں بھی نہایت غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت کا اہم ترین تقاضا اب یہی ہے کہ سیاست دان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ اگر مستقبل کی سیاست کو جمہوریت کے اندازاوررنگ میں محفوظ کرنا ہے تو اس کے لیے باہمی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ایک عامی بھی اس بات کا اقرار اور احساس کرتا ہے کہ اس وقت اصل مسئلہ داخلی سیاسی حالات اور امن و امان کا ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر تعمیر و ترقی کے سلسلہ کا انحصار ہے۔ خود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اس بات کا دو ٹوک الفاظ میں اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کو اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران جس سوال اور استفسار کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ان کا تعلق داخلی حالات سے ہے۔ یہ بات بھی نہایت فکر انگیز اور قابل توجہ ہے کہ اب اصل معاملہ جماعتی اور سیاسی امور کا نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی امور کا ہے ۔

  • پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    ہے جس کا تخت سجدہ گاہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا

    سعادت سعید

    پیدائش:15 مارچ 1949ء
    لاہور
    شہریت: پاکستان
    مادر علمی:جامعہ پنجاب

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے معروف نقاد، شاعر اور محقق ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان دنوں بطور پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں، آپ انقرہ یونیورسٹی، ترکی میں اردو و پاکستان اسٹڈیز چئیر سے بھی منسلک رہے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید 15 مارچ، 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاکٹر اللہ دتہ (الف د) نسیم بھی اردو زبان و ادب کے استاد تھے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے ابتدائی تعلیم منٹگمری یعنی ساہیوال سے حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج، ساہیوال سے بی اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔ 1969ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور بہترین کارگردگی پر انھیں طلائی تمغے اور بابائے اردو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ 1988ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ہی اردو زبان و ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
    تدریسی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج راوی روڈ سے کیا۔ اسی سال وہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لائلپور سے وابستہ ہوئے۔ تین برس بعد وہ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور آ گئے، جہاں انھوں نے 1986ء تک خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، وہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور چلے گئے۔ 1995ء میں ان کا بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر انتخاب ہوا اور چار برس بعد وہ اردو و پاکستان اسٹڈیز چیئر، انقرہ یونیورسٹی کے لیے منتخب ہو کر ترکی چلے گئے۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے بطور پروفیسر منسلک ہو گئے، جہاں انھوں نے صدر شعبۂ اردو کے طور پر بھی کام کیا۔ 2009ء سے تا حال وہ مذکورہ یونیورسٹی سے بطور سینئر وزٹنگ پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    (1) کجلی بن (نظموں کا مجموعہ)
    سنگ میل ،لاہور، 1988ء
    (2)اقبال اور مجلہ ساہیوال
    بزم اقبال، لاہور، 1989ء
    (3) تہذیب، جدیدیت اور ہم
    اقبال۔ شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1991ء
    (4) مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوام شرق
    (اردو نثری ترجمہ)، اقبال۔
    شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1992ء
    (5) جہت نمائی،
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1995ء
    (7) فن اور خالق،چند جدید نظم گو
    شعرا کے مطالعے
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (8) ادب اور نفی ادب ،ادبی نظریہ سازی
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (9) اقبال ایک ثقافتی تناظر
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (10) چاند وقت، ترکی شاعری
    از سرپل کلفل، (ترجمہ)
    مکتبہ الفاروق، لاہور، 1998ء
    (11) فنون آشوب (طویل نظم)
    مکتبہ ابلاغ، لاہور، 2002ء
    (12) بانسری چپ ہے (شعری مجموعہ)
    دستاویز مطبوعات، لاہور، 2002ء
    (13) شناخت (شعری مجموعہ)
    مکتبہ نسیم، لاہور، 2007ء

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہا
    غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا
    کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں
    آخر مرا دماغ بھی اول نہیں رہا
    لاؤ تو سرّ دہر کے مفہوم کی خبر
    عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا
    شاید نہ پا سکوں میں سراغ دیار شوق
    قبلہ درست کرنے کا کس بل نہیں رہا
    دشت فنا میں دیکھا مساوات کا عروج
    اشرف نہیں رہا کوئی اسفل نہیں رہا
    ہے جس کا تخت سجدہ گہہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا
    جس دم جہاں سے ڈولتی ڈولی ہی اٹھ گئی
    طبل و علم تو کیا کوئی منڈل نہیں رہا

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    مرنے کا خوف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہے
    گرفتار ہونے کا موسم
    سر قریۂ آبرو
    آفتاب ہلاکت کی صورت چمکنے لگا ہے
    شعاعوں کے نوکیلے پنجوں نے جسموں کو زخمی کیا ہے
    بھنور در بھنور روشنی کے سمندر
    طوفان قیدی ہوئے
    یہ بستی گناہوں سے معمور آفت رسیدوں کی بستی ہے
    نوزائدہ آرزو انتہاؤں کے امکاں سمیٹے
    ضمیروں میں لتھڑی جرائم زدہ خواہشوں کو
    مٹائے تو کیسے
    رگوں کے دریچوں سے لپٹی فصیلوں کو ریزوں کی صورت
    ہوا میں اچھالے تو کیسے
    کہ اس کا نوشتہ فقط از سر نو گرفتار ہونا
    نے دائروں کے تسلط میں جینا
    سیاہی کے باطن میں موجود غاروں میں رہنا
    ہلاکت کی سرچشمہ گاہوں سے
    آزاد رہنے کی عظمت سے واقف ہواؤ
    ہماری فصیلوں کی جانب بھی آؤ
    ہمیں یہ بتاؤ
    گرفتار ہونا ہمارا نوشتہ نہیں تھا
    ارادوں میں موجود طوق و سلاسل
    ہوس ناک دہشت
    تمنا کی مٹی میں فولاد ہوتے رہے ہیں
    خود اپنی توانا حقیقت
    گرفتار کرنے سے قاصر رہے میں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    اپنی محرومی کا دکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اے
    سر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کا
    منظروں کے لہو میں گھلتی غلیظ مٹی کی باتوں کا
    مرے وجود سیہ بختی میں اجڑے اشکوں کے گرد سائے قفس بنے میں
    میں دائروں کے مہین تاروں کی
    ناتمامی میں
    ریشہ ریشہ سمٹ گیا ہوں
    کہانیوں کے دبیز پردوں کی تہ میں عریاں
    تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ عذاب بن کر
    مرے سفر کی ہر ایک منزل میں آ چھپی ہے
    میں نوحہ لکھتا ہوں
    زرد سوچوں کا
    کالی سانسوں کا
    اپنے ہونٹوں کے شمسی لفظوں کا ذائقوں کا
    تمہارے سینے پہ کنڈلی مارے جو سانپ بیٹھا ہے
    اس کی خونی زباں کا نوحہ
    خود اپنے باطن کے خشک صحرا میں
    اجلے تاروں کی تابناکی کا
    خواہشوں سے بھری ہواؤں کی کائناتوں کا نوحہ لکھتا ہوں نوحہ خواں ہوں

  • بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    پیدائش:15 مارچ 1894ء
    تیجن
    وفات:03 مارچ 1974ء
    اشک آباد
    شہریت:سلطنت روس
    سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    رکن:اکیڈمی آف سائنس سویت یونین
    زبان:ترکمن زبان
    اعزازات:
    آرڈر آف لینن
    اعزاز اکتوبر انقلاب

    بردی مرادووچ قربابائیف ترکمانستان کے عوامی ادیب، ترکمانی ادب کے بانی، شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی اور ترکمانی ادب کے مسلم الثبوت استاد ہیں۔
    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف 03 مارچ 1894ء میں ترکمانستان میں تیجین کے پاس ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    ان کی زندگی کا راستہ بھی وہی تھا جو ان کی قوم کے لاکھوں ہنرمند سپوتوں کا تھا جنھوں عظیم اکتوبر نے زندگی کی چوٹی پر پہنچایا۔ خانہ جنگی کے برسوں میں وہ ماورائے کیسپین محاذ پر فوجی اور سیاسی کارکن تھے اور اس کے بعد انھوں نے ترکمانیہ میں سوویت اقتدار کی تعمیر کی۔
    بردی قربابائیف نے لینن گراد اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ شرقیات میں تعلیم حاصل کی۔ 1924ء میں بردی قربابائیف پیشہ ور ادیب بن گئے۔ ان کا رزمیہ ناول فیصلہ کن قدم، ناول اور طویل افسانے نیبت داغ، سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان، پھٹ پڑنے والا بند، پانی کی بوند-سونے کا ریزہ، شمالی بعید کی روشنی” وغیرہ عظیم اکتوبر کے اور عوام کی جدوجہد کے فنکارانہ وقائع ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں میں آئیلار کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ نظم حب الوطنی کی جنگ عظیم کے برسوں میں عوام کے لازوال کارناموں کے بارے میں ہے۔ انہیں بجا طور پر جدید ترکمانی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تخلیقات روس کی ساری قوموں اور بہت سے بیرونی مملک کے لوگوں کی دسترس میں ہیں اور وہ انہیں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔[5]آپ نے گوگول، لیرمونتوف، پشکن اور ٹالسٹائی کے تراجم ترکمانی زبان میں کیے۔ 1944ء – 1950ء تک وہ نے ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کے صدر رہے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول اور افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    فیصلہ کن قدم
    نیبت داغ
    سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان
    پھٹ پڑنے والا بند
    پانی کی بوند-سونے کا ریزہ
    شمالی بعید کی روشنی
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔
    جرات میندوں کا گیت
    آئیلار
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔
    صدر ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن
    (1944ء -1950ء)
    رکن ترکمانی سائنس اکادمی
    نائب سپریم سوویت برائے ترکمانستان
    رکن مرکزی کمیٹی برائے 21، 22 اور
    23 ویں کانگریس برائے کمیونسٹ پارٹی بیلاروس
    رکن کمیٹی برائے اسٹالن انعام
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف کو 1948ء میں سوویت ریاستی اسٹالن انعام 1951ء میں سوویت یونین کا ریاستی انعام، سوویت یونین کا لینن انعام اور سوشلست محنت کے ہیرو کا انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکمانی ادب کے سلسلے میں آپ کی گرانقدر خدمات کے صلہ میں 1970ء میں مختوم قلی انعام بھی دیا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف اشک آباد، ترکمانستان میں 80 سال کی عمر میں 03 مارچ 1974ء کو انتقال کر گئے۔

  • نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ

    نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ

    نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ
    صفحات : 623
    ناشر : دارالسلام لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    ہدیہ : 1750روپے
    اس وقت دنیا میں بہت سی الہامی کتابیں موجود ہیں جیسا کہ توارات انجیل ، زبوراور بائبل وغیرہ ۔ یہ ساری کتابیں تحریف شدہ ہیں اس کے باوجود ان کتابوں کے پیروکار دنیا کی تقریباََ ہر زبان میں ان کے تراجم شائع کرکے ہر خطے میں پہنچا رہے ہیں ۔ جبکہ قرآن مجید اللہ کی سچی کتاب ہے ، اپنی اصل شکل وحالت میں موجود ہے ۔ یہ تمام بنی نوع انسان کیلئے کتاب ہدایت ہے۔یہ دنیا کی واحد مقدس کتاب ہے جس میں قیامت اور اس کے بعد بھی پیش آمدہ حالات ومعاملات کے بارے میں رہنمائی کی گئی ہے ۔ جس قوم نے بھی قرآن مجید کو پڑھا سمجھا اور اس پر عمل کیا وہ دنیا میں بھی کامیاب وکامران ٹھہری اور آخرت میں بھی کامیابی ان کا مقدر بنی ہے۔ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہوا ہے مگر اللہ نے ہم مسلمانوں کی بھی یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ ہم قرآن مجید پڑھیں ، سمجھیں یاد کریں ، اس کی تبلیغ کریں، دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع کرکے ہر خطے میں پہنچائیں تاکہ اللہ کا پیغام عام ہو اور قرآن مجید کی تعلیمات کو فروغ ملے ۔ اس میں شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں ہزاروں زبانیں لکھی اور بولی جارہی ہیں جبکہ اربوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں لیکن یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اب تک قرآن مجید کے تراجم تقریباََ110زبانوں میں ہی ہوئے ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں قرآن مجید کے تراجم شائع کیے جائیں اور دنیا کے ہر خطے میں پہنچائے جائیں۔ کنگ فہد ہولی قرآن کمپلیکس ( سعودی عرب ) کے بعد سب سے زیادہ تراجم شائع کرنے کااعزاز دارالسلام کو حاصل ہے ۔ پنجابی بھی ایک بڑی زبان ہے ۔پاکستان میں ساٹھ فیصد لوگ پنجابی زبان سمجھتے اور بولتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پنجابی پوری اسلامی دنیا میں تیسری ، برصغیر کے مسلمانوں میں دوسری اور دنیا میں نویں بڑی زبان کا درجہ رکھتی ہے ۔ اب اللہ نے دارالسلام کو پنجابی زبان میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنے کااعزاز بخشا ہے ۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ دارالسلام نے پنجابی زبان میں پہلا پنجابی ترجمہ ہے بلاشبہ اس سے قبل بھی پنجابی زبان میں قرآن مجید کے بہت سے تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔

    تاہم تحقیق ،معیار اور عمدہ طباعت دارالسلام کا طرہ امتیاز ہے اسلئے بہر حال یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دارالسلام نے پنجابی زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت میں تحقیق ،معیار اور عمدہ طباعت کو قائم رکھا ہے ۔زیر نظر قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ پروفیسر روشن خان کاکڑ نے کیا ہے ۔ روشن خان کیمسٹری کے پروفیسر رہے ہیں ۔ وہ انگلش ، اردو کے علاوہ پنجابی ادب میں بھی اچھی مہارت رکھتے ہیں ۔ سونے پر سوہاگہ یہ ہے کہ وہ عربی میں بھی کافی حد سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ان کی ایک کتاب پنجابی کے اقوال زریں پر ’’ سوہتھہ رسہ سرے تے گنڈھ ‘‘ کے نام شائع ہوکر پنجابی دان طبقہ سے داد تحسین پاچکی ہے ۔دارالسلام نے آج تک جتنے بھی قرآن مجید کے تراجم شائع کیے ہیں ہر ترجمے میں اس بات کا بہت اہتمام کیا گیا ہے کہ مترجم اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی زبان میں بھی مہارت رکھتا ہو اس لئے کہ اس کے بغیر قرآن مجید کے ترجمے کاحق ادا نہیں کیا جاسکتا ۔پروفیسر روشن خان کاکڑ ان دونوں خوبیوں سے متصف ہیں ۔ پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ان کا دیرینہ شوق تھا انھوں نے اس پر طویل عرصہ تک کام کیاہے ۔اس ترجمہ پر نظر ثانی قاری طارق جاوید عارفی نے کی ہے جو کہ د ارالسلام کے سینئر ریسرچ سکالر ہیں ۔ پروف ریڈنگ دارالسلام سنٹر کے سکالر مختار احمد ضیا نے کی ہے ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد دارالسلام نے نہایت ہی عمدہ پیپر اور مضبوط جلدبندی کے ساتھ اسے شائع کیا ہے ۔ دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنا ہمارے لئے اعزاز ہے ۔ یہ قرآن مجید پنجابی دان طبقہ کیلئے ایک ہدیہ ہے ۔ ہماری عرصہ دراز سے پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنے کی خواہش تھی جوکہ الحمدللہ پوری ہوچکی ہے پنجابی زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت کے بعد دارالسلام کو30زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع کرنے کااعزاز حاصل ہوچکا ہے جس پر ہم اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں ۔ پنجابی بولنے اور سمجھنے والوں کے لئے قرآن کا پنجابی ترجمہ یقینا فروغ پائے گا اور پنجابی سے لگائو رکھنے والے اس سے مستفید ہوں گے ۔قرآن مجید دے پنجابی ترجمہ دا ہدیہ 1750روپے ہے ۔ یہ قرآن مجید دارالسلام لوئرمال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور دستیاب ہے یا قرآن مجید براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل فون نمبر1042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    افسوس صد افسوس وطن عزیز کے وقار کے قدر دان دوست ممالک نے کیا خوب خوب تحفے ہمارے غریب و عجیب حکمرانوں کے ہاتھوں بھیجے تھے۔ جن کو ہمارے ہی وطن ہماری عوام نے مسند اقتدار کی زینت بنایا تھا تاکہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت کریں گے لیکن توشہ خانہ کو جس بے دردی سے ہمارے نام نہاد رہبروں اوررہنمائوں نے لوٹا عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اپنی جائیدادوں ، میلوں رقبوں کی وسعتوں پر نازاں امراء اتنے ہوس پرست اور بھوکے پن کے پیکر تھے کہ کروڑوں کا مال ہزاروں میں ہضم کرتے رہے اور لوٹ لوٹ کراپنے آپ کو عوام کو آئندہ ا لیکشن پر بے وقوف بناتے رہے ۔ اب وقت آچکا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور مقتدر حلقے ایک ایسا کمیشن قائم کریں جو روز اول سے توشہ خانہ سے حاصل کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور اُن سے تمام تحفوں کی موجودہ قیمت وصول کی جائے اور 2 سے ضرب د ے کر تمام رقوم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور ایسا قانون بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو قومی مفاد ،قومی املاک اور قوم کے اعتماد سے کھیلنے کی جسارت نہ ہو سکے ۔

    بیورو کریسی سمیت تمام اُن لوگوں کو کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس لوٹ مار میں حصہ لیا ۔ دوسری طرف سیاستدان مل کر سیاست ،جمہوریت ، آئین اور قانون کی جو قبر کھود رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں دفن ہونے کی انتہا کردی ہے۔ جمہوریت کی وہ کشتی جس پر سب سفر کررہے ہیںیہ اُسی کشتی میں سوراخ بھی کر رہے ہیں۔ توشہ خانہ کو چوری کا مال سمجھ کر بے دردی سے لوٹ مار کرنے والے کسی طور پرمعافی کے حقدار نہیں خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے آج اگر غریب پر زندگی حرام ہو رہی ہے مہنگائی کا جن سرکاری پالیسی کی بوتل سے باہر نکلا ہوا ہے اور لوگ اپنے بچے تک فروخت کرنے اور خود کشی پر مائل اور قائل ہو چکے ہیں تو اس کا سبب یہی شخصیات ہیں جن کو سادہ لوح اورمحب وطن عوام نے نجا ت دہندہ سمجھ کر ان کو اپنی نمائندگی کا حق عطا کیا۔ توشہ خانہ کی جاری کردہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ توشہ خانہ کے حمام میں یہ سب ننگے ہیں۔ ثابت ہو چکا یہ شخصیات ذہنی اوراخلاقی سطح پر کس قدر مفلس، کنگال اور لالچی ہیں۔ ان سے بہتر وہ مزدور ، محنت کش اور غریب شخص ہے جو دیانتداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرکے گھر چلاتا ہے۔

  • پی ایس ایل؛ اسلام آباد یونائیٹڈ ہدف کے تعاقب میں 166 رنز بناتے ہوئے ہار گئی

    پی ایس ایل؛ اسلام آباد یونائیٹڈ ہدف کے تعاقب میں 166 رنز بناتے ہوئے ہار گئی

    اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 166 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی

    پاکستان سپر لیگ کےآٹھویں ایڈیشن کے 29 ویں میچ میں پشاورزلمی نےاسلام آباد یونائٹیڈ کو13 رنز شکست دے دی۔ راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم پشاور زلمی کے 180 رنز کے تعاقب میں 166 رنز پر ڈھیر ہوگئی، اسلام آباد یونائیٹڈ کی طرف سے آٹھویں نمبر پر آنے والے فہیم اشرف نے 13 گیندوں پر 38 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ رحمان اللہ گرباز 33 رنز کیساتھ نمایاں رہے۔

    پشاورزلمی کے خرم شہزاد اور سفیان مقیم نے 3،3 کھلاڑیوں کو واپسی کی راہ دکھائی جبکہ عامر جمال اور جیمز نیشم نے دو، دو کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ قبل ازیں پشاور زلمی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 179 رنزبنائے،پشاور زلمی کی جانب سے پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد محمد حارث اور بھانوکا راجاپکسا نے شاندار 115 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم لنکن بلےباز 41 رنز بناکر وکٹ گنوا بیٹھے۔

    محمد حارث نے 39 گیندوں پر 79 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 7 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے، دیگر کھلاڑیوں میں کوئی بھی خاطر خواہ کارکردگی دیکھانے میں ناکام رہا، کپتان ٹام کوہلر کیڈمور 12، حسیب اللہ خان 10، عامر جمال 9، مجیب الرحمن 2 جبکہ جمی نیشم ایک رن بناسکے،اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے حسن علی نے 3، شاداب خان 2 جبکہ فہیم اشرف، فضل الحق فاروقی ایک ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت
    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت
    دریں اثنا اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی میچ جیت پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کریں، اس موقع پر پشاور زلمی کے کپتان ٹام کوہلر کیڈمور نے کہا کہ میچ میں کامیابی کیساتھ پلے آف مرحلے میں رسائی چاہتے ہیں تاکہ اعتماد بحال ہوسکے۔ واضح رہے کہ لیگ راؤنڈ کا آخری میچ آج لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان شام 7 بجے شروع ہوگا،کراچی کنگز کی ٹیم پہلے ہی ایونٹ کے پلے آف مرحلے سے باہر ہوچکی ہے، انہوں نے اپنے 9 میچز کھیل کر محض 2 مقابلے جیتے جبکہ پوائنٹس ٹیبل پر انکی آخری پوزیشن ہے۔

  • طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)
    پیدائش : نومبر 1944
    وفات: 11 مارچ 2012
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماضی کی خوب صورت پاکستانی اداکارہ اور مصنفہ طاہرہ واسطی نومبر 1944 میں خوشاب /سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم خوشاب اور سرگودھا میں حاصل کی جس کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا۔ طاہرہ واسطی نے 1968 میں بطور اداکارہ اپنے فنی کیریئر کا آغاز سعادت حسن منٹو کے ایک ناول پر بنانے گئے ڈرامہ ” جیب کترا ” سے کیا لیکن پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ” آخری چٹان ” میں ملکہ ازابیل کے کردار میں انہیں لازوال شہرت ملی جس سے وہ پاکستان کی صف اول کی اداکارائوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں ۔ 1980 میں انہوں نے معروف اداکار اور انگریزی کے نیوز کاسٹر رضوان واسطی سے شادی کی جس سے انہیں دو بچے پیدا ہوئے۔

    ان کے دونوں بچوں بیٹا عدنان واسطی اور بیٹی لیلیٰ واسطی اور ان کی بھانجی ماریہ واسطی نے بھی فن اداکاری کو اپنا لیا ۔ طاہرہ واسطی نے بطور مصنفہ کئی ڈرامے تحریر کیے جن میں ان کا لکھا ہوا مشہور ڈرامہ ” کالی دیمک ” بھی شامل ہے جو کہ انہوں نے ایڈز کے موضوع پر لکھا تھا ۔ 1980 سے 1990 تک طاہرہ واسطی پاکستان کی سب سے زیادہ مشہور و مقبول اور مصروف اداکارہ رہیں ۔ وہ 1990 میں لاہور سے کراچی منتقل ہو گئیں ۔ طاہرہ واسطی کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ، کشکول، جانگلوس، آخری چٹان ، جیب کترا، اس کی بیوی، ٹیپو سلطان ، دل دریا دہلیز وغیرہ ہیں ۔ وہ فالج کا شکار ہو کر مختصر علالت کے بعد 11 مارچ 2012 میں کراچی میں انتقال کر گئیں ۔

  • ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں

    ہستی مل ہستی

    تاریخ ولادت:11 مارچ 1946ء
    جائے ولادت:ضلع راجسمند، راجستھان

    ہستی مل ہستی ہندی غزل میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ 11 مارچ 1946 کو راجستھان کے ضلع راجسمند میں پیدا ہوئے۔ 5 دہائیوں سے زائد عرصے سے ادبی خدمات میں مصروف ہیں۔ ان کی غزلوں کو جگجیت سنگھ، پنکج ادھاس، منوہر ادھاس وغیرہ جیسے مشہور غزل گائیکوں نے گایا ہے۔ جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی یہ غزل ‘”پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے“ بہت مشہور ہوئی۔ کس سے کیا کہیں، کچھ اور طرح سے بھی، پیار کا پہلا خط وغیرہ ان کے اہم مجموعے ہیں۔ انھیں مختلف ادبی اداروں نے ایوارڈ سے نوازا جن میں مہاراشٹر ہندی ساہتیہ اکادمی سرفہرست ہے۔ یہ گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے ”یوگن کاویہ“ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ نکالتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
    نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے
    جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا
    لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
    گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
    لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے
    ہم نے علاج زخم دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
    گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ بھی چپ چاپ ہے اس بار یہ قصہ کیا ہے
    تم بھی خاموش ہو سرکار یہ قصہ کیا ہے
    صرف نفرت ہی تھی میرے لیے جن کے دل میں
    ہو گئے وہ بھی طرف دار یہ قصہ کیا ہے
    سامنے کوئی بھنور ہے نہ تلاطم پھر بھی
    چھوٹتی جائے ہے پتوار یہ قصہ کیا ہے
    بیٹھتے جب ہیں کھلونے وہ بنانے کے لیے
    ان سے بن جاتے ہیں ہتھیار یہ قصہ کیا ہے
    وہ جو قصے میں تھا شامل وہی کہتا ہے مجھے
    مجھ کو معلوم نہیں یار یہ قصہ کیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
    ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں
    ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں
    ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں
    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
    کہیں خلوص کہیں دوستی کہیں پہ وفا
    بڑے قرینے سے گھر کو سجا کے رکھتے ہیں
    انا پسند ہیں ہستیؔ جی سچ سہی لیکن
    نظر کو اپنی ہمیشہ جھکا کے رکھتے ہیں

  • یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات ممتاز شیریں

    تاریخ ولادت:12 ستمبر 1924ء
    تاریخ : وفات:11 مارچ 1973ء

    ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کوہندو پور، آندھرا پردیش ، ہندستان میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز شیریں کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں۔ ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ (13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941ء میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944ء میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے “نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952ء میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔

    ممتاز شیریں نے 1942ء میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944ء میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔ جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے۔ مشہور افسانہ انگڑائی ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے اپنی نگریا میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
    اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “یا خدا” اور محمود ہاشمی کی تصنیف “کشمیر اداس ہے” کا پیرایۂ آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے۔ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا، سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاؤ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ءاظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔
    ممتاز شیریں کو انگریزی ، اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں اور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں۔ تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں، نئے امکانات، نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔

    1954ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔
    اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔
    افسانوی مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    اپنی نگریا
    حدیث دیگراں
    میگھ ملہار
    ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی
    تنقید
    ۔۔۔۔۔۔
    معیار
    منٹو، نوری نہ ناری
    مدیر
    ۔۔۔۔۔۔
    نیا دور (ادبی جریدہ)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔۔
    درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)
    پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ)
    ممتاز شیریں پر کتب
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں، ناقد، کہانی کار ، ابو بکر عباد، مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، 2006ء
    ممتاز شیریں: شخصیت و فن، ڈاکٹر تنظیم الفردوس، اکادمی ادبیات پاکستان
    ملازمت
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں کو 1972ء میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11 مارچ 1973ء کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔ تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا۔