Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    17 جنوری۔۔یومِ پیدائش۔
    ہاجرہ مسرور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور ادبی خانوادہ کی رکن، برانٹی سسٹر کے نام سے شہرت پانے والی معروف ادیبہ ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ہاجرہ مسرور کے بچپن میں ہی، ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اُن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے انداز میں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اُردو کی معروف ادیب تھیں۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جب کہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد ہاجرہ مسرور اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اور لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔ اُس زمانے میں لاہور پاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطور کہانی و افسانہ نگار اپنا عہد شروع کر چکی تھیں ۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ‘نقوش’ شائع کرنا شروع کیا۔ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی ۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے۔
    ہاجرہ مسرور کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میں ‘چاند کے دوسری طرف’، ‘تیسری منزل’، ‘اندھیرے اُجالے’، ‘چوری چھپے’، ‘ ہائے اللہ’، ‘چرکے’ اور ڈراموں کا مجموعہ ‘وہ لوگ’ شامل ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں لاہور کے ایک ناشر نے ‘ سب افسانے میرے’ کے عنوان سے شائع کیا۔ افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اُن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کیں۔ انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 1995ء میں تمغہ حُسنِ کارکردگی’ دیا۔ 2005ء میں انہیں ‘عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا۔

    ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ‘نگار ایوارڈ’ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ‘آخری اسٹیشن’ کی کہانی بھی لکھی۔ یہ فلم سرور بارہ بنکوی نے بنائی۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔

  • یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوںیوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

    گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ پیدائش 20 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔

    گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

  • بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    تمباکو نوشی صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، اور یہ وہ مسئلہ ہے جو عام طور پر جوانی میں شروع ہوتا ہے۔ 10 میں سے تقریباً 9 سگریٹ نوشی 18 سال کے ہونے سے پہلے شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنا بہت ضروری ہے۔
    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے بہت سے کام کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں تمباکو پر ٹیکس بڑھانا، عوامی تعلیمی مہم چلانا، اور نابالغوں کے لیے تمباکو کی مصنوعات خریدنا مزید مشکل بنانا شامل ہیں۔
    تمباکو کا استعمال ایک قابل روک صحت کا مسئلہ ہے، اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

    1. تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابل روک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ دنیا بھر میں قابل روک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہے اور کینسر، دل کی بیماری، اور دائمی سانس کی بیماری سمیت متعدد غیر متعدی بیماریوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔ انسانی صحت پر ہونے والے نقصانات کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔

    تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے متعدد موثر حکمت عملییں ہیں، جن میں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان حکمت عملیوں کو نافذ کرنے سے، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں اور موت کے بوجھ کو کم کرنا اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنانا ممکن ہے۔

    2. ہر سال تقریباً 6 ملین اموات سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    ہاں، تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور دنیا بھر میں بڑی تعداد میں اموات کا ذمہ دار ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس میں تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ہونے والی براہ راست اموات، جیسے کینسر اور قلبی بیماری، اور دوسرے ہاتھ کے دھوئیں سے ہونے والی بالواسطہ اموات دونوں شامل ہیں۔

    انسانی نقصان کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    3. تمباکو نوشی 20 گنا سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے جتنی تمام غیر قانونی منشیات کو ملا کر

    ہاں، تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور غیر قانونی ادویات کے مقابلے میں بڑی تعداد میں اموات کا ذمہ دار ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی موت کا ذمہ دار ہے، جب کہ غیر قانونی ادویات کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر، ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ منشیات کا غیر قانونی استعمال ہر سال تقریباً 187,000 افراد کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمباکو نوشی 20 گنا سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے جتنی تمام غیر قانونی منشیات کو ملا کر۔

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ انسانی نقصان کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    4. تمباکو کے استعمال سے عالمی معیشت کو سالانہ $1 ٹریلین سے زیادہ کا نقصان ہوتا ہے۔

    ہاں، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کے استعمال کی عالمی اقتصادی لاگت $1 ٹریلین سالانہ سے زیادہ ہے۔ اس میں براہ راست اخراجات شامل ہیں، جیسے تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت، اور بالواسطہ اخراجات، جیسے قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔

    5. دنیا کے 1.1 بلین تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں

    ہاں، یہ سچ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی ایک غیر متناسب تعداد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، دنیا کے 1.1 بلین تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ ان ممالک میں تمباکو کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہ اس حقیقت کی وجہ سے بھی ہے کہ تمباکو پر قابو پانے کے اقدامات، جیسے کہ تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین اور ضوابط، ان میں اکثر کمزور ہوتے ہیں۔ ممالک

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ یہ بیماری کے عالمی بوجھ میں ایک بڑا معاون ہے اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود پر اس کے اہم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    6. پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں تمباکو نوشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    ہاں، یہ سچ ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ تمباکو نوشی کی شرحوں میں سے ایک ہے۔ 2017 میں، ڈبلیو ایچ او نے اندازہ لگایا کہ پاکستان میں تقریباً 25 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں تمباکو نوشی اور دھوئیں کے بغیر تمباکو دونوں شامل ہیں۔

    7. تقریباً 60% پاکستانی مرد اور 10% پاکستانی خواتین سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق پاکستان میں تمباکو کا استعمال عام ہے، تقریباً 60 فیصد پاکستانی مرد اور 10 فیصد پاکستانی خواتین کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتی ہیں۔ اس میں تمباکو نوشی اور دھوئیں کے بغیر تمباکو دونوں شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 25 فیصد بالغ آبادی تمباکو کا استعمال کرتی ہے، جو کہ دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ یہ بیماری کے عالمی بوجھ میں ایک بڑا معاون ہے اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود پر اس کے اہم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور پاکستان میں افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنانا۔

    8. پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح

    پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اس موضوع پر محدود ڈیٹا دستیاب ہے۔ تاہم، یہ امکان ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح بالغوں کے مقابلے میں کم ہے، کیونکہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کا امکان کم ہے اور وہ سگریٹ نوشی مخالف پیغامات کو زیادہ قبول کرتے ہیں۔

    9- نتیجہ

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ تعلیم ایک اہم روک تھام کی حکمت عملی ہے۔ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے سے انہیں سگریٹ نوشی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسکولوں اور کام کی جگہوں پر تمباکو نوشی کی پالیسیاں بنانا نوجوانوں کی تمباکو نوشی سے حوصلہ شکنی میں بھی مدد کر سکتا ہے۔

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقوں کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات یہ ہیں:

    1- نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے سب سے مؤثر حکمت عملی کیا ہیں؟

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے کچھ موثر ترین حکمت عملیوں میں شامل ہیں:

    1. تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں تعلیم فراہم کرنا

    2.ایسے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ جو نوجوانوں تک تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرتے ہیں۔

    3. تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ کرنا تاکہ وہ نوجوانوں کے لیے کم سستی ہوں۔

    4. اسکول اور کمیونٹی پر مبنی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مدد اور وسائل فراہم کرنا

    5. والدین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوانوں کے لیے ایک اچھی مثال قائم کرنا

    2- والدین اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    والدین اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں ایک اچھی مثال قائم کر کے، سگریٹ نوشی کے خطرات کے بارے میں اپنے بچوں کے ساتھ کھلی اور دیانتدارانہ گفتگو کر کے، اور اپنے بچوں کو جو چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں مدد فراہم کر کے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو تمباکو نوشی یا ایسے ماحول میں جانے سے بچنے کے لیے بھی اقدامات کر سکتے ہیں جہاں تمباکو نوشی عام ہے۔

    3- اسکول اور کمیونٹیز نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    اسکول اور کمیونٹیز نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں تعلیم اور وسائل فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ اس میں تمباکو سے پاک پالیسیوں کا نفاذ، تمباکو نوشی چھوڑنے کے خواہشمند طلباء کو مدد فراہم کرنا، اور نوجوانوں کو وسائل اور مدد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

    4- میڈیا مہمات اور عوامی خدمت کے اعلانات نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    میڈیا مہمات اور عوامی خدمت کے اعلانات تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک رہنے کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کر سکتے ہیں۔ ان مہمات کو مخصوص گروہوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جیسے کہ نوجوان یا افراد جو تمباکو نوشی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں اور تمباکو نوشی سے متعلق رویوں اور طرز عمل کو تبدیل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک اور انسٹاگرام، کو بھی معلومات کا اشتراک کرنے اور نوجوانوں کے ساتھ سگریٹ نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں مشغول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  • منافقت کا دوسرا نام ، تحریر: آصف گوہر

    منافقت کا دوسرا نام ، تحریر: آصف گوہر

    منافقت کا دوسرا نام Flexibility…..
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور واقعہ ہے کہ مشرکین مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا قریش کے سردار ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے اپنے بھتیجے سے کہیں کہ اپنے موقف میں تھوڑی Flexibility پیدا کریں اور ہمارے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں ہم انکو دولت سے نواز دیں گے جس خاتون سے کہیں گے اس سے ان کا نکاح کروا دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر تاریخی الفاظ کہے کہ” اللہ کی قسم ! وہ میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لا کر رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اللہ کا حکم اس کی مخلوق کو نہ پہنچاؤں، میں ہر گز اس کے لئے آمادہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ اللہ کا سچا دین لوگوں میں پھیل جائے یا کم از کم میں اس جدوجہد میں اپنی جاں دے دوں‘‘
    اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا اور سخت ترین حالات میں بھی استقامت اختیار کرنا بڑے لیڈر رہنما کے اوصاف میں سے ہے
    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو بارہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رول ماڈل ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے لیڈر تھے ،
    لازمی بات ہے کہ ایسے شخص کا موقف واضح ہوگا اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹ جائے گا،
    چند روز پہلے ایک موٹیویشنل اسپکیر نے عمران خان سے ملاقات کی جس کا سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر بڑا چرچا ہوا اس نے اگلے ہی روز یہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملے ان ملاقاتوں کا احوال جاننے کے لئے نیوز اینکر نے موصوف سے سوال کیا تو گویا ہوئے کہ فلاں میں Flexibility ہے اور فلاں rigged ہے قیامت کے روز ہونے والے فیصلے کئے بیٹھے ہیں،
    اندازہ لگا لیں کہ جس شخص کو یہ بھی علم نہیں کہ
    غلط کو غلط کہنا اور اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لیے استقامت اختیار کرنا ہی حق ہے نہ کہ اپنے موقف میں وقتی فائدے کے لیے لچک پیدا کرلینا ،اب یہ کسی طرح کی motivations اپنے سننے والوں کو فراہم کرتے ہونگے اپ خود فیصلہ کر لیں۔
    عظیم مقصد کے حصول کے لئے ڈٹ جانا ہی حق ہے اور وقتی فائدے کے لیے موقف میں Flexibility اختیار کرنا
    دو رخی اور منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
    کالم نگار ،آصف گوہر

  • روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    پیدائش:05 مارچ 1871ء
    زاموسک
    وفات:15 جنوری 1919ء
    برلن
    وجۂ وفات:شوٹ
    طرز وفات:قتل
    شہریت:جرمنی
    سلطنت روس
    مادر علمی:جامعہ زیورخ
    زبان:جرمن

    روزا لکسمبرگ، جن کا مکمل نام روزالہ لکسمبرگ تھا، 5 مارچ 1871ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ مارکس کے نظریہ سے متاثر تھیں اور ایک فلسفی، ماہر معاشیات اور پولینڈ کی یہودی تحریکوں کی کارکن تھیں، جو بعد میں ایک جرمن شہری بھی رہیں۔ روزا لکسمبرگ پولینڈ اور لیتھویانا کی سماجی جمہوریت، جرمن سماجی و جمہوری پارٹی، جرمنی کی سماج و جمہور پارٹی اور جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی کی کارکن رہیں۔

    1915ء میں جب جمہور پارٹی نے جرمنی کی جنگ عظیم دوم میں شرکت کی حمایت کی تو روزا لکسمبرگ نے جنگ کے خلاف ایک اتحاد سپارتیس لیگ کے نام سے تشکیل دیا۔ یکم جنوری 1919ء کو یہ لیگ جرمنی کے کمیونسٹ پارٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ نومبر 1918ء میں جب جرمنی میں انقلاب برپا ہوا تو روزا لکسمبرگ نے سرخ جھنڈا کے نام سے ایک تحریک شروع کی جو سارتیس لیگ کی جدوجہد کا ہی حصہ تھی۔
    15 جنوری 1919ء کو ان کی وفات ہوئی۔

  • مارٹن لوتھر کنگ: یکساں  شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ: یکساں شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ

    15 جنوری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امریکی پادری مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کالے امریکیوں کیلئے یکساں شہری حقوق کی تحریک کے اہم رہنما تھے۔ وہ اٹلانٹا، جارجیا میں 15 جنوری 1929ء کو پیدا ہوئے اور دوسرے سیاہ فاموں کی طرح تعصب کا نشانہ بنتے رہے۔

    انہوں نے 1955ء کے منٹگمری بس بائیکاٹ کی قیادت کی ۔۔۔ بس بائیکاٹ کی یہ تحریک یکم دسمبر 1955ء کو منٹگمری، الاباما میں روزا پارکس کے بس ڈرائیور کے اس حکم کو ماننے سے انکار پر چلائی گئی تھی کہ وہ سیاہ فاموں کے لیے مختص بس کے حصے میں اپنی سیٹ سفید فام مسافر کیلئے چھوڑ دیں۔امریکی کانگریس نے بعد میں روزا پارکس کو ” شہری حقوق کی خاتون اول” اور ” تحریک آزادی کی ماں” قرار دیا تھا۔
    کنگ کی کوششوں کے نتیجے میں 1963ء میں واشنگٹن کی جانب مارچ کیا گیا، جہاں کنگ نے اپنی شہرۂ آفاق تقریر "میرا ایک خواب ہے” کی اور امریکا کی تاریخ کے عظیم ترین مقررین میں سے ایک کہلائے۔۔ ملاحظہ ہو اقتباس :
    I have a dream that one day this nation will rise up and live out the true meaning of its creed “We hold these truths to be self-evident, that all men are created equal.”

    I have a dream that one day on the red hills of Georgia , the sons of former slaves and the sons of former slave owners will be able to sit down together at the table of brotherhood.

    I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.

    I have a dream that one day right there in Alabama little black boys and black girls will be able to join hands with little white boys and white girls as sisters and brothers.

    شہری حقوق کی مہم کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے اور 1964 میں نسلی تفریق اور امتیاز کےخلاف شہری نافرمانی کی تحریک چلانے اور پرامن انداز احتجاج اپنانے پر لوتھر کنگ کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ 1968ء میں اپنے قتل سے پہلے غربت کے خاتمے اور جنگ ویت نام کی مخالفت کے لیے کوششیں کیں۔ 4 اپریل 1968ء کو میمفس، ٹینیسی میں لوتھر کنگ کو قتل کردیا گیا۔
    ان کے کچھہ اقوال:

    ۔۔ ستارے صرف تاریکی میں نظر آتے ہیں۔

    ۔۔۔ میں نے محبت کا ساتھہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نفرت کا بوجھہ اتنا زیادہ ہے کہ نہیں اٹھا سکتا۔

    ۔۔۔ جو فرد کسی مقصد کے لیے مر نہیں سکتا وہ زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں۔

    ۔۔۔ ہماری زندگی اس دن ختم ہونا شروع ہوتی ہے جب ہم ، اہم معاملات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

    ۔۔۔ معاف کرنا وقتی عمل نہیں، ایک مستقل رویہ ہے۔

    ۔۔۔ ہم تاریخ بناتے ہیں، مگر تاریخ بھی ہمیں بناتی ہے۔

    ۔۔۔ محبت ہی وہ طاقت ہے جو دشمنی کو دوستی میں بدل سکتی ہے۔

    ۔۔۔ جو معاف کرنے کے قابل نہیں وہ محبت کرنے کے بھی قابل نہیں۔

  • ڈاکٹر اسماء بلوچ:بلوچستان کی بیٹی:پاکستان کا اعزاز

    ڈاکٹر اسماء بلوچ:بلوچستان کی بیٹی:پاکستان کا اعزاز

    بلوچستان کی بیٹی

    ڈاکٹر اسماء بلوچ

    پاکستان بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے سر گرم بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا پہلا نیشنل ایوارڈ ڈاکٹر اسماء منظور بلوچ نے اپنے نام کر کے نہ صرف مستونگ بلکہ بلوچستان کا نام روشن کر دیااور یہ ثابت کیا کہ بلوچ بچیاں اور خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں ۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 11 جنوری 2023 کو وزیراعظم ہاؤس اسلام اباد میں ڈاکٹر اسماء منظور بلوچ کو بلوچستان سے بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا ایوارڈ پیش کیا ۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں نہ صرف کمیونیکیشن آفیسر کے طور پر کام کیا بلکہ ایک رضاکار کے طور پر سیلاب متاثرین کی دوسرے ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر خدمت کی

    بہترین کمیونیکیشن اور لوگوں کے گھر گھر جا کر رابطہ کاری کرنا اور اپنے لوگوں کی مدد کرنے کی وجہ سے بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا ایوارڈ اپنے نام کردیا

    ڈاکٹر اسماء بلوچ نے اپنی اس کامیابی کو اپنے شہید والد چئیرمین منظور بلوچ اور اپنے سپروائزر ڈی ایچ سی ایس او مستونگ سید افتخار شاہ کے نام کردیا انھوں نے کہا کہ میرے والد شہید نے ہمیشہ مجھے ہمت دی اور حالات سے لڑنا سکھایا اور ہمیشہ اپنی سرزمین کے عوام کی خدمت کرنے کی تلقین کی انہوں نے اپنے سپر وائزر سید افتخار شاہ ڈی ایچ سی ایس او مستونگ کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیلڈ میں وہ ہمیشہ ان کی مدد اور رہنمائی کرتے رہے۔

  • علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    نصیر ہنزائی

    روحانی سائنسدان، صوفی شاعر ، ماہر لسانیات
    "بروشسکی” زبان کے پہلے صاحب دیوان شاعر

    پیدائش:15 مئی 1917ء
    وفات:15 جنوری 2017ء
    آسٹن، ٹیکساس
    شہریت:پاکستان
    برطانوی ہند

    علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی روحانی سائنس کے میدان میں عالمی شہرت کے حامل ایک معروف دینی اسکالر، صوفی شاعر اور ماہرِ لسانیات تھے۔ اسماعیلیوں کی دانشگاہ خانہ حکمت گروپ کے سربراہ نصیر الدین نصیر ہنزائی 1335ھ/15 مئی 1917ء میں ریاست ہنزہ کے گاؤں حیدرآباد میں پیدا ہوئے، نصیر الدین نصیر ہنزائی کسی اسکول سے باضابطہ تعلیم حاصل کیے بغیر علم و حکمت کے بارے میں 100 سے بھی زیادہ ایسی نادر کتابیں اپنی زبان بروشسکی اور اردو زبان میں تحریر کیں جن کا مرکزی موضوع قرآن کے باطنی علوم اور روحانی سائنس رہا، بعد ازاں ان کتابوں میں سے کئی کتابوں کو ہنزہ کے معروف اسکالر ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور رشیدہ ہنزائی نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جبکہ دیگر اسکالروں نے ان میں سے متعدد کا عربی، فارسی، فرانسیسی، سویڈنی، اطالوی اور ترکی میں بھی ترجمہ کیا ہے۔ روحانی سائنس کے موضوع پر یہ کتابیں اوکسفرڈ سمیت مغرب کی یونورسٹیوں تک پہنچ گئیں تو محققین نے ان تخلیقات کو روحانیت اور تصوف کی دنیا میں عجیب انکشافات سے تعبیر کیا اور ان کتابوں پر ریسرچ شروع کی ہے۔” کلیات نصیری ” ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں روحانیت، تصوف، تطہیرِ نفس اور عشقِ حقیقی کی تجلّیات ہیں جو ہر تہذیب و ثقافت کے لوگوں کے لیے ایک انمول خزانہ ہے۔ یہ شاعری اردو، فارسی، ترکی اور بروشسکی چار زبانوں پر مشتمل ہے۔ علامہ نصیر الدین کی منفرد کتابوں میں وحدتِ اسلامی، وحدتِ انسانی، محبت، امن و آشتی اور اسلام کے ہر مکتبِ فکر کے لیے محبت اور خیر خواہی کی تعلیمات ملتی ہیں۔ ان کا خاص موضوع اسماعیلیت سے متعلق تھا۔ ان میں اسماعیلیوں کے لیے اسماعیلی امام شناسی کی کتاب بھی بہت منفرد ہے۔ اس کے علاوہ بھی خاصی مذہبی معلومات ان کی کتابوں سے ملتے ہیں

    علاقائی زبان کے لیے خدمت
    نصیر الدین ہنزائی نے پہلی بار 1940ء میں دنیا کی قدیم ترین زندہ زبانوں میں سے ایک ”بروشسکی” کے حروفِ تہجی ترتیب دیے۔ وہ اس زبان کے پہلے صاحبِ دیوان صوفی شاعر ہیں۔ یہ ان کا بروشسکی زبان اور بروشو قوم پر احسان ہے کہ اس قدیم خطرہ زدہ زبان کی پہلی لغت تشکیل دی، جس میں تقریباََ چالیس ہزار الفاظ محفوظ ہیں۔ کراچی یونورسٹی نے بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کے تعاون سے اس لغت کو تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔ نصیر ہنزائی نے پہلی بروشسکی جرمن لغت کے لیے حقیقی الفاط مہیّا کیے اور جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے شائع شدہ لغت کے شریک مصنف قرار پائے۔ نیز وہ ہنزہ پرورب کتاب کے بھی شریک مصنف ہیں جسے کینیڈا کے اسکالر پروفیسر ٹیفو نے شائع کیا ہے۔ رموز روحانی ان کی تصنیف ہے.

    اعزازات
    نصیر الدین الدین نصیر ہنزائی کو بروشسکی زبان کی بہترین خدمت کی وجہ سے گلگت بلتستان کی حکومت نے 1993ء میں حکیم القلم اور سماجی اداروں نے لسان القوم اور بابائے بروشسکی کے اعزازات سے نوازا۔علاوہ ازیں ہنزائی کی حکمتِ قرآن کے میدان میں چشم کشا تحقیقات اور علم کی لازوال خدمت کے اعتراف میں 2001ء میں صدر مملکت پرویز مشرف کے زمانے میں وفاقی حکومت نے انہیں ستارہ امتیاز کے اعزاز سے بھی نوازا۔

    بیرونی ممالک کا سفر
    ََََََََََنصیر الدین نصیر ہنزائی نے پہلی بار 1943ء میں ہندوستان کا سفر کیا تھا۔ جس کا مقصد اسماعیلی امام سلطان محمد شاہ سے ملاقات تھی جو 1946ء میں ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو اپنی روحانیت کی چابی یعنی کلید بابِ روحانیت کی عطائی قرار دیا ہے۔ پھر 1949ء کے اوائل میں علامہ نصیر کو چین جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کئی روحانی معجزے ان کے ساتھ ہوئے اور علامہ نے ایک دفعہ انٹرویو میں یوں بھی کہا تھا کہ جب وہ چین گئے تو ان کے پاس نورانی مظہر عجائب بھی آ گیا تھا۔ اور یہ روحانیت میں زمان خصر علیہ السلام کی صورت میں ممکن بھی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مغرب کے تین بڑے ملکوں کینیڈا، انگلستان اور امریکا کا سفر کیا۔ ایک دفعہ وہ روس کے جہاز میں لندن جا رہے تھے کہ جہاز معمول کے مطابق ماسکو میں اتر گیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک مسافروں کو بس پر سیر کرائی گئی۔
    وفات
    نصیر الدین نصیر ہنزائی نے 15 جنوری 2017ء کو امریکا کے شہر آسٹن میں ایک سو سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کے جسد خاکی کو ان کی خواہش اور وصیت کے مطابق آبائی علاقہ ہنزہ میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی

  • چارلز لٹویج ڈوجسن:پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب

    چارلز لٹویج ڈوجسن:پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب

    پیدائش:27 جنوری 1832ء
    دریسبوری
    وفات:14 جنوری 1898ء
    گیلڈفورڈ
    وجۂ وفات:نمونیا
    مدفن:سرے
    طرز وفات:طبعی موت
    رہائش:انگلستان
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ، مملکت متحدہ
    عارضہ:مرگی
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب اطفال، روزنامچہ نگار، ناول نگار، مصنف، آپ بیتی نگار، فلسفی
    زبان:انگریزی
    شعبۂ عمل:مصنف
    ملازمت:جامعہ اوکس فورڈ
    کارہائے نمایاں:ایلس ان ونڈر لینڈ

    چارلز لٹویج ڈوجسن (انگریزی: Charles Lutwidge Dodgson) زیادہ تر اپنے قلمی نام اور تخلص لوئس کیرل (انگریزی: Lewis Carroll) سے پہچانے جاتے ہیں۔ ڈوجسن ایک انگریزی مصنف، ریاضی دان، منطق دان، انگریزی کلیسیا کے پادری اور عکاس تھے۔ اِن کی مشہور ترین تحریروں میں ایلس ان ونڈرلینڈ اور اس کا تسلسل، تھرو دی لوکنگ-گلاس شامل ہیں؛ ان کے علاوہ ان کی لکھی کئی نظمیں جیسے کہ دی ہنٹنگ آف دی سنارک اور جیبرواکی بھی کافی مقبول ہوئیں۔ برطانیہ، جاپان، امریکا اور نیوزی لینڈ میں دیگر ایسی سوسائٹیاں ہیں جو ڈوجسن کی تحریروں اور اِن کے کرداروں سے لطف اندوز ہوتی ہیں، اِن کا پرچار کرتی ہیں اور اِن کی زندگی کے ہر پہلو کا تحقیقی مطالعہ کرتی ہیں۔