Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    نہ اضطراب نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے

    انجم عثمان

    اصل نام : انجم
    والد کا نام:احمد علی
    والدہ کا نام:رئیسہ خاتون
    شوہر کا نام:مرزا عثمان علی بیگ
    اولاد:دو بیٹے، دوبیٹیاں
    آبائی وطن:پاکستان
    جائے ولادت:کراچی، پاکستان
    تاریخ پیدائش : 25 مارچ : 1968
    تعلیم:ایم ایس سی (کیمسٹری)
    پیشہ:خاتونِ خانہ
    زبان:اردو
    اصناف:غزل، نظم، حمد، نعت، منقبت
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)العطش(شعری مجموعہ)
    ۔ (2)ناشنیدہ (شعری مجموعہ)
    آغازِ شاعری:1965
    ایوارڈ : بیشمار
    پتا:کلفٹن ، کراچی، پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    زر غبار کو آئینہ بار کر نہ سکے
    نقوش عکس کو تصویر یار کر نہ سکے
    ہے وحشتوں کا تلاطم پسِ نوائے سکوت
    میان موجۂ گل ذکر یار کر نہ سکے
    نہ اضطراب، نہ غوغائے گریہ و ماتم
    شہاب غم بھی مجھے بے قرار کر نہ سکے
    ٹپک نہ چشمِ ہم آہنگ سے اے قطرۂ خوں
    کہ چارہ گر بھی تجھے شرمسار کر نہ سکے
    ستارہ گیر تھا رخشِ ہنر مگر پھر بھی
    طلسم حسن سخن بے کنار کر نہ سکے
    ہزار زاویۂ حرف آشکار کیے
    قبائے سرو غزل زرنگار کر نہ سکے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    جب کسی شعر میں پوشیدہ بھنور کُھلتے ہیں
    تب کہیں جا کے طلسمات کے در کُھلتے ہیں

    نشانِ راہ تھے افلاک راستے میں فقط
    غبارِ جاں تو نجانے کہاں کہاں پہنچا

    آئینۂ عالم کی خبر دیکھ رہے ہیں
    ناپید سے پیدا کا سفر دیکھ رہے ہیں

    یہ دیر و حرم ،گرجا و صومعہ کیوں !
    خرابہ ،خرابات از کار رفتہ

    شیشۂ خوش نظر سے پی بادۂ عشق ،ہاں مگر
    میکدۂ نشاط میں تذکرۂ سبو نہ کر

  • ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    ہلاکو خان ،چنگیز خان کے راستے کا انتخاب غلط۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    اس وقت ملک کی بائیس کروڑ عوام آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کے رحم و کرم پر ہے اسے ہی جمہوریت کے ثمرات کہتے ہیں۔ سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم جماعتوں نے عدلیہ کے کچھ ججوں کیخلاف طبل بھی بجا دیا ہے۔ عام آدمی حکومت کی جارحانہ حکمت عملی سے بے حد پریشان ہے۔ قوم مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہے حیرانگی کی بات ہے جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ آئین کو سیاسی گلیاروں میں گھر کی لونڈی سمجھ لیا ہے۔ سب جانتے ہوئے کہ آئین شکن کی آئین میں کیا سزا ہے ؟زیادہ عرصہ نہیں گزرا سابق چیف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف مرحوم کو انہی سیاستدانوں نے آئین شکنی پر آرٹیکل 6 لگا کر مقدمہ چلایا پھر انہیں اسی مقدمہ میں سزائے موت سنائی گئی۔ آج وہی سیاستدان آئین شکنی پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ انہی سیاسی جماعتوں میں وہ سیاستدان موجود ہیں جنہوں نے جمہوریت کی خاطر آمریت کے دور میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بدترین تشدد کا بھی سامنا کیا سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاستدانوں کی تعداد بہت کم رہ چکی ہے جو آئین اور قانون جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے سیاستدان دعویدار تو جمہوریت کے ہیں مگر غیر جمہوری اعمال میں مصروف ہیں

    حیرانگی عمران خان پر بھی ہے وہ ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تاحیات نااہلی پر بھنگڑے ڈال رہے تھے اور آج اپنے اوپر بنائے سینکڑوں مقدمہ کا رونا رو رہے ہیں ایک دوسرے خلاف جنگ میں مصروف سیاستدانوں نے اس ملک اور عوام کو آج یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ لائنوں میں لگے آٹا لینے کی خاطر وہ مر رہے ہیں کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں عوام ووٹ بھی لائن میں لگ کر دے اور آٹا بھی لائنوں میں لگ کر لے؟ اگر سیاسی جماعتوں نے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو تو بڑا نقصان ہونے کا خطرہ موجود ہے سیاسی جماعتیں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتی سیاسی جماعتیں ملکوں اور قوموں کو ان کی مشکلات سے نکالتی ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے راستے دکھاتی ہیں۔ لوگ مہنگائی کی وجہ سے بلبلا اٹھی ہیں اس وقت ایک راستہ مذاکرات کا راستہ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ اس ملک اور عوام کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہلاکو خان اور چنگیز خان کے راستے کا انتخاب ہرگز ہرگز غلط ہے۔

  • مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی

    مولانا آزادؒ کی سحر طراز سخن سرائی
    حیدرعلی صدّیقی

    امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی جامع اور ہمہ جہت شخصیت سے کون واقف نہیں! جو بیک وقت بلند پایہ مفکر، عظیم دانشور، زبردست صحافی، محقق مصنف، بالغ النظر مفسر، عبقری سیاست دان، آفتاب علم و دانش، مجتہد بالغ نظر، کوہِ عزم و ثبات، سالارِ حریت، خطیب معجز بیان، ادیب سحر طراز، صاحب اسلوب انشاء پرداز، شاعرِ سخن رس کے عملی تصویر تھے۔ متضاد حیثیتوں پر مبنی زندگی کے مالک مولانا آزاد نے جس میدان میں بھی قدم رکھا تو کامیابیوں اور کامرانیوں کو اپنا مقدر پایا۔ آزاد جی بظاہر ایک جسم و جان تھے لیکن شورش کاشمیریؒ کے بقول ابوالکلام آزاد کئی دماغوں کا ایک انساں تھے۔ نثر نگاری اور انشاء پردازی تو جیسے آپکا خاصہ تھا، جس کے متعلق بڑے بڑے ادیب انگشت بدنداں تھے اور یہ اقرار کرکے رہ نہ سکے کہ مولانا آزاد نثر میں شاعری کرتے ہیں۔ آپ کی نثر کے متعلق بلند پایہ غزل گو شاعر جناب حسرت موہانی نے کہا تھا: ؎

    جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
    نظم حسرت میں بھی مزا نہ رہا

    اللہ کریم کے طرف سے ہر انسان کو مختلف تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا جاتا ہے، لیکن انسان حالات، معاشرتی رجحان یا ستم ہائے روزگار کے وجہ سے خود کو ایک کام کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں اور باقی دیگر تخلیقی صلاحیتوں کا ان سے خاطر خواہ اظہار نہیں ہوتا۔ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھی، جو بظاہر تو ایک حق گو صحافی، مفسر اور نثر نگار تھے۔ لیکن اس کے ساتھ وہ ایک سحر طراز قسم کے شاعر اور سخن ور بھی تھے۔ شعر و شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا، اور کیوں نہ ہوتا کہ آپ کے والد گرامی مولانا خیرالدینؒ ایک پیر و مرشد ہونے کے ساتھ ایک بلند پایہ عربی شاعر اور مصنف بھی تھے۔ مولانا آزاد کے بڑے بھائی غلام یاسین ابونصر آہ جنکا جوانی میں انتقال ہوگیا تھا، وہ بھی ایک بے مثل شاعر تھے، اور داغ دہلوی سے شعرگوئی کی اصلاح لے چکے تھے۔ مولانا آزاد کی بہنیں بھی تعلیم یافتہ اور اعلی شعری اور ادبی ذوق کی حامل تھیں۔ مولانا آزاد کی ذوق سخن آرائی میں اس ماحول کا دخل تو تھا ہی، لیکن عملی طور آزادؔ کے شعر گوئی کے متحرک مولوی عبدالواحد خان سہسرامی تھے۔ مولانا آزاد ان سے بے تکلفی اور آزادی کے ساتھ شعر گوئی اور ادب کے موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ مولانا آزاد کی طبیعت بچپن میں زوروں پر تھی لیکن کم عمری میں خود اعتمادی کے فقدان کے وجہ سے وہ اپنے اشعار کسی کو سنا نہ سکے، حتی کہ اپنے شعری ذوق کے متحرک مولوی عبدالواحد خاں کو بھی نہیں سنائے، اور اسی طرح آزاد جی کے سینکڑوں اشعار کا مجموعہ محفوظ نہ رہا۔ مولانا آزاد کی پہلی غزل کی سرگزشت سن 1898ء کی بات ہے، کہ ان دنوں بمبئی سے حکیم عبدالحمید فرخؔ نے ایک گلدستہ ”ارمغان فرخ“ نکالا تھا، اس میں دی گئی طرحوں پر شعرا غزلیں بناتے اور پھر ماہوار مشاعرہ ہوتا تھا۔ اس گلدستے کی ایک طرح ”پوچھی زمیں کی تو کہی آسمان کی“ پر مولوی عبدالواحد خاں نے غزل بنائی اور اس کے چند اشعار مولانا آزاد کو سنائے۔ پھر کیا تھا کہ یہ اشعار مولانا آزاد کے ذوق سخن سرائی کے لیے متحرک بنے۔ مولانا آزاد کی افتاد زوروں پر تھی، چنانچہ آپ نے اس طرح پر تیس اشعار نکالے، جن میں سے سترہ اشعار منتخب کرکے غزل بنائی۔ لیکن طبیعت مطمئن نہیں تھی اور کسی کو سنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، بار بار اصلاح اور کوشش کے بعد آزاد جی نے مولانا عبدالواحد خاں کو مطلع سنائی تو وہ چیخ اٹھے اور خوب تحسین و تعریف کی۔ مولانا آزاد نے اور اشعار سنائے اور وہ ہر ایک شعر پر خوب داد و تحسین سے نوازتے۔ اس کے بعد مولانا آزاد نے اگلے دن ہونے والے مشاعرے میں اس غزل کو سنانے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی ان کی عمر بمشکل دس بارہ برس تھی، خود اعتمادی کا فقدان تھا، مجمع عام میں سنانے کا حوصلہ نہ تھا، اور پھر کچھ خاندانی روایات اور والد محترم کے خوف سے اس مشاعرے میں شرکت مناسب نہیں سمجھا۔ مولانا آزاد نے اس غزل کو مولوی عبدالواحد خاں کو دی کہ وہ مشاعرے میں سنائے، جب انھوں نے یہ غزل مشاعرے میں سنائی تو مجمع عام بھی داد و تحسین سے نوازے نہ رہ سکا۔ مذکورہ غزل کے چند ابیات قارئین کے پیش خدمت ہیں: ؎

    نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
    نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
    گنبد ہے گردباد تو ہے شامیانہ گرد
    شرمندہ میری قبر نہیں سائبان کی
    ہوں نرم دل کہ دوست کے مانند رو دیا
    دشمن نے بھی جو اپنی مصیبت بیان کی
    آزادؔ بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
    پوچھی زمین کی، تو کہی آسمان کی

    جب مولانا عبدالواحد خاں کے ذریعے مولانا آزاد کو مجمع عام کی طرف سے داد و تحسین کا پتہ چلا تو آزاد جی خوشی سے شادماں اور مخمور ہوگئے۔ ایک ماہ بعد یہ غزل ”ارمغان فرخ“ میں بھی شائع ہوئی، اور اسی طرح یہ آزاد جی کی پہلی باقاعدہ غزل ہونے کے ساتھ پہلی مطبوعہ غزل بھی قرار پائی۔ زندگی میں پہلی بار اپنا کلام اور نام کسی رسالے میں چھپا ہوا دیکھ کر مولانا آزاد کو جو خوشی محسوس ہوئی اس کے متعلق وہ خود چھتیس (36) برس بعد مولانا غلام رسول مہر کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں کہ وہ خوشی میں آج بھی اسی طرح محسوس کر رہا ہوں۔

    مولانا آزاد علمی اور تحقیقی، قلم آرائی اور سخن وری ہر ایک میدان میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے، جس طرح وہ نثر نگاری میں ممتاز تھے اسی طرح وہ شعر گوئی اور سخن سرائی میں بھی ممتاز تھے۔ آپکی یہ رباعی تو قارئین سے بارہا داد وصول کرچکی ہے ؎

    تھا جوش و خروش اتفاقی ساقی
    اب زندہ دلی کہاں ہے باقی ساقی
    مے خانے نے رنگ روپ بدلا ایسا
    میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی

    عام طور شعراء حمد یا نعت بہت کم ہی کہتے ہیں، زیادہ تر انکی شاعری محبت، وصال، فراق، احساسات، ارمانوں اور تمناؤں سے عنوان ہوتی ہے، اور اسی طرح وہ حمد یا نعت کو اپنے شاعری کے لیے بطور تمہید کہتے ہیں، خصوصا جب اپنا شعری مجموعہ شائع کرتے ہیں۔ لیکن مولانا آزادؒ اس حوالے سے بھی ممتاز حیثیت کے حامل ہیں، جو شعراء دنیا جہاں کے باتیں اپنی شاعری میں سمو دیتے ہیں، لیکن نعت گوئی کے لیے ان کے پاس الفاظ نہ ہو تو ایسے شاعروں پر آزاد جی طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ؎

    شمہ ثنائے شاہ رسلﷺ کا نہ لکھ سکے
    بیکار شاعروں کی سخن گستری ہوئی

    مولانا آزاد اپنی نعتیہ شاعری کو اپنے لیے ذخیرۂ آخرت، وجہ شہرت اور قیامت میں آرزوئے شفاعت مانتے ہیں۔ آزاد جیؒ کے نزدیک جب وہ کائنات کی عظیم ہستی اور افصح العرب کا ثنا خواں ہے تو اس کی سخن وری اور قلم آرائی میں فصاحت و بلاغت کیونکر نہ ہو؟ فرماتے ہیں: ؎

    میں افصح العرب کا ثنا خواں ہوں دوستو
    کیونکر نہ ہو سخن میں فصاحت بھری ہوئی

    یوں تو مولانا آزاد ؒ نے نثر نگاری سے پہلے شعر گوئی شروع کی تھی، اور اس دور میں مشاعروں کے علاوہ اس دور کے ”مخزن“ جیسے مؤقر رسائل میں آپ کا کلام شائع ہوتا تھا۔ لیکن بعد میں آپ نے شاعری کو یکسر چھوڑ کر خود کو نثر نگاری کے دائرے میں داخل کردیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک سخن وری میں مولانا آزاد کے شعوری عمل کا دخل تھا۔ مولانا آزادؒ نے انتہائی کم سنی میں 1898 کے قریب شاعری کا آغاز کیا تھا، جبکہ ابھی انکی عمر کے بچے کھیل کھود سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔ سن 1902 کا دور آپ کی شاعری کا دورِ عروج ہے۔ اس کے بعد مولانا آزادؒ تراجم، مضمون نویسی اور علمی و ادبی تالیفات کو شعر گوئی پر ترجیح دیتے تھے، یعنی اب مولانا کا رجحان شعر نگاری کے بجائے نثر نگاری کے جانب ہوگیا۔ اور بالآخر انھوں نے 1904 میں شعر گوئی ترک کردی، اور اس کا محرک یہ تھا کہ مولانا آزاد شاعری سے بڑے علمی و مذہبی کاموں کے لیے وقت نکال سکے۔ اور ایک طرح انکی ترک شعرگوئی اچھی ثابت ہوئی، کیونکہ اگر آپ شعرگوئی میں منہمک رہتے تو آج ہم ان کی اس نثر سے محروم ہوجاتے جس نثر سے فصاحت و بلاغت کے چشمے نکلتے ہیں، جس میں علم و تحقیق، ادب و دانش کا دریا جاری ہے۔

    مولانا آزادؒ کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے کلام میں تخیل آفرینی، صفائی زبان، معاملہ بندی، زور بیان، قادر الکلامی، فصاحت و بلاغت، خلوص، صداقت، علمیت اور روانی جیسے خصوصیات پائے جاتے ہیں۔ محبان آزاد کے نام ایک رباعی پیش خدمت ہے: ؎

    آفتِ جاں ہے قصّۂ جوانی میرا
    ظاہر ہے حالِ نوحہ خوانی میرا
    اک جان بچاؤں میں کس طرح آزادؔ
    دل کا دشمن ہے یارِ جانی میرا

    مولانا آزادؒ کی شعر گوئی صرف اردو زبان تک محدود نہیں، آپ نے فارسی زبان میں بھی خوب سخن آرائی کی ہے۔ ایک رباعی قارئین کے ذوق کے لیے پیش خدمت ہے: ؎

    ساقی تو نگاہ کن بریں ابر و بہار
    یک ساغرے دیدہ و بیں لطف خمار
    وقتیست کہ ماہ روئے با ناز و ادا
    یک زیر نظر باشد و یک زیر کنار

    مولانا آزادؒ کی نثرنگاری انتہائی مشکل ہے، جو بہت سعی طلب ہے، جس میں علم و دانش، شعور و ادراک کے علاوہ الفاظ کا ایک خزانہ موجود ہے، تاہم انھوں نے شعر گوئی میں سہل اندازی اور سلاست سے کام لیا ہے اور بہت ہی آسان لفظوں میں اپنے مطلب کو بیان کیا ہے جس سے روانی ابھر کر ظاہر ہورہی ہے جس کے بدولت انکے کلام میں رنگینی اور دلکشی پیدا ہوتی ہے اور قاری پر وجد طاری ہوجاتا ہے۔ مولانا آزادؒ کے شاعری سے اس وجہ سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صرف پندرہ برس سے کم عمر ایک بچے کا کلام ہے، کیونکہ مولانا آزاد کا کلام کسی بھی طور اردو کے متوسط درجے کے شعراء کے کلام سے کم نہیں ہے۔ جس سخن ور کے کلام کو دیکھ کر غزل خواہوں کے امام حسرت موہانی بھی اپنے نظم کو ” بے مزہ“ کہنے لگے تو اس بچے کے کلام کو ناپختہ کہنا سراسر ناانصافی اور دیوالیہ پن ہے۔ مولانا آزاد کے شاعری اس دور کی مقبول عام شاعری تھی اور ”مخزن“ جیسے معیاری ادبی پرچے میں تواتر کے ساتھ ان کے کلام کا شائع ہونا ان کی عظمت کا بین ثبوت ہے۔ اور پھر امیرمینائی، شوق اور شوخی جیسے بڑے اور بلندپایہ شعراء بھی آپ کی شاعری کو قابل اعتناء نہیں سمجھتے تھے، اور ان کے کلام کی اصلاح کرتے تھے اور مولانا آزاد نے ان سے خود بھی اصلاح لی تھی اور بارہا امتحان لینے کے باوجود یہ تینوں مولانا آزاد کی سخن وری سے استعجاب میں تھے۔ اگر چہ ان دنوں داؔغ کی شہرت کا ڈنکا بج رہا تھا لیکن مولانا آزاد کے نزدیک استادی کے لیے معیار شہرت اور ہردلعزیزی نہیں تھا، اس معیار پر داؔغ تو پورے نہ اترے لیکن یہ فضیلت کی دستار اور جبۂ معلمی شوؔق کے قامت زیبا پر موزوں ہوا۔
    مولانا آزاد کی سخن وری علم و ادب کے شہ پاروں سے بھری ہوئی ہے جو علم و ادب کے شائقین، اور تشنگان سخن آرائی کے لیے دعوت عام دے رہی ہے۔ جن لوگوں کو سخن وری کا شوق ہے تو ان کو مولانا آزاد کی علم و ادب سے بھر پور سخن سرائی کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے، اور کیونکر چاہیے کہ آزاد جی خود صلائے عام دے رہے ہیں: ؎

    اے گلشن سخن کے ہوا خواہ شائقو
    آؤ آؤ بہارِ بے خزان کے مزے لوٹو

  • سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب نے پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ دے دیا۔ سیاسی اشرافیہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اس کی بنیادی وجہ ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ اصلاحات سے چند منتخب افراد کے مفادات کو پورا کرنے سے گریز کیا جاتا ہے. اسکے ساتھ ہی جن لوگوں کی مقبولیت کا گراف بلند ہے ان کے احتساب کی حقیقت بھی سامنے ہے، ایسے میں سعودی عرب کی جانب سے سے پاکستان کو بلاسود قرضے فراہم کرنے سے انکار کرنا حیران کن نہیں ہونا چاہئے،

    سعودی وزیر خزانہ نے جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کہا، "ہم بغیر کسی تار کے براہ راست گرانٹ اور ڈپازٹس دیتے تھے اور ہم اسے تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ کہا جا سکے کہ ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستانی سیاست دانوں کو لگتا ہے کہ اس تبدیلی نے پاکستان کو نکال دیا ہے، تو انہیں اب بہتر معلوم ہونا چاہیے

    ایسے میں پاکستان کی حکمت عملی ایسی ہے کہ جیسے وہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ دنیا انکی مقروض ہے، ایک سوچ یہ بھی تھی کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، دنیا پاکستان کو گرنے نہیں دے گی، جو کہ غلط تھی

    سعودی عرب ان دنوں ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف جا رہا ہے، پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت تھی، سعودی ریڈار پر ہم ایک درجہ کم ہو گئے ہیں ، ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی گیم چینجر ہے، سعودی عرب ایران میں سرمایہ کاری بھی شروع کرے گا،علاوہ ازیں ترکی کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا آغاز 2020 میں ہوا تھا ۔ ترکی سمجھ گیا تھا کہ اسے سعودی عرب کے ساتھ ایک بہتراور مضبوط تعلقات بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے تجارت بڑھانے، سعودی عرب سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے اور ان سے براہ راست سرمایہ کاری حاصل کرنے پر توجہ دی

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب خود کئی مواقع اور مقامات پر واشنگٹن سے مدد مانگ رہا ہے، اس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا بھی شامل ہے جو امریکہ کے کچھ احسانات سے مشروط ہے

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    ورلڈ بینک 2020 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نظام شمسی سے توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ ملک کے صرف 0.071 فیصد رقبے کو شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان کی بجلی کی موجودہ طلب پوری ہو جائے گی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہئے اسکی بجائے جو وہ کر رہا ہے،

    بدقسمتی سے، بدعنوانی، ذاتی مفادات کا تحفظ، مقدس گائے سمیت پورے بورڈ میں قانون کے نفاذ میں ناکامی نے پاکستان کو سرمایہ کاروں کے لیے ناخوشگوار بنا دیا ہے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بین الاقوامی میدان میں کوئی دوست نہیں البتہ اتحادی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوست اور دشمن دونوں بدل جاتے ہیں۔

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

  • گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    پیدائش:28 اگست 1749ء
    فرینکفرٹ
    وفات:22 مارچ 1832ء
    وایمار
    وجۂ وفات:دورۂ قلب
    طرز وفات:طبعی موت
    رکن:سائنس کی پروشیائی اکیڈمی
    فری میسن، الومناتی
    سائنس کی روسی اکادمی
    مادر علمی:لائپزش یونیورسٹی
    (1765-1768)
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:سند یافتہ جامعہ
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:تشریح، موسمیات
    کارہائے نمایاں:دیوان الشرقی للمولف الغربی
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    آرڈر آف سینٹ آنا
    فرسٹ کلاس (1808)

    گوئٹے (آلمانی زبان میں Johann Wolfgang von Goethe ) آلمان یعنی جرمنی کا مشہور شاعر اور فلسفی تھا۔ وہ 28 اگست 1749ء کو پیدا ہوا اور 22 مارچ 1832ء کو انتقال کیا۔ شاعری، ڈراما، ادب، فلسفہ، الٰہیات، الغرض بے شمار اصناف میں لکھتا رہا۔ گوئٹے اگرچہ جرمن ادیب تھا لیکن وہ عالمی ادب کے گنے چنے قافلہ سالاروں میں شمار ہوتا ہے- وہ بیک وقت شاعر، ناول نویس، ڈراما نگار اور فلسفی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ متنوع اور ہمہ گیر طبعیت کا مالک تھا اور اس کی دلچسپیاں بھی لامحدود تھیں۔ ادب کے علاوہ اس نے قانون، طب، علم کیمیا اور علم برق کی تعلیم بھی حاصل کی- وہ سیاست دان، تھیٹر ڈائریکڑ، نقاد اور سائنس دان بھی تھا- ان تمام صفات نے مل جل کر اسے عالمی ادب کی دیوقامت شخصیات کی صف میں لاکھڑا کیا- بین الاقوامی شہرت و مقبولیت میں وہ ہومر، شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ نظر آتا ہے۔
    خاندان
    ۔۔۔۔۔۔
    اس کا باپ جوہان کیسپر گوئٹے(کاسپارگوٹے) (1710ء۔1782)ایک وکیل تھا لیکن گوئٹے کی پیدائش کے وقت وہ اپنے چار منزلہ مکان میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی اپنی لائبریری بہت بڑی تھی اور مصوری کے بہت سے نمونے بھی اس کے پاس تھے۔ مزاجاً سخت، مغرور اور سنکی کتابوں کا رسیا گوئٹے کی ماں کیتھرین ایلزبیتھ (کاتارین الیسابیتھ) (1731۔ 1808) فرینکفرٹ (فرانکفورٹ) کے میئر کی بیٹی تھی۔ خوش مزاج، ہنس مکھ، نیک سیرت، شاعری اور تھیٹر کی رسیا۔ اس نے ایک چھوٹا سا تھیٹر بھی اپنے گھر میں بنا رکھا تھا۔ اپنے بچپن کا ذکر گوئٹے نے بہت محبت سے کیا ہے۔ ماں کی خوش مزاج شخصیت نے گوئٹے کی شخصیت کو وہ دلآویزی عطا کی کہ وہ جہاں جاتا پسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم اپنے باپ سے حاصل کی اور بعد میں مختلف اتالیق سے مختلف علوم کی تعلیم حاصل کی۔ گوئٹے لاطینی، یونانی اورانگریزی پڑھ سکتا تھا۔ عبرانی سے بھی شدبد تھی۔ فرانسیسی اور اطالوی روانی سے بول سکتا تھا۔ وائلن بجانا۔ اسکیچ بنانا، مصوری کرنا، گھوڑ سواری، رقص اور تیرا کی اس نے اسی زمانے میں سیکھے۔ 1765میں وہ قانون کی تعلیم کے لیے لیئپ زگ گیا 1768ء میں وہ بیمار پڑ گیا اور فراینکفرٹ(فرانکفورٹ) واپس آگیا۔ چھ بچوں میں سے صرف گوئٹے اور اس کی بہن بچے تھے اس لیے ان کی تعلیم و تربیت پر والدین نے پوری توجہ دی۔ 1771ء میں اسٹراس بورگ میں اس نے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ وہیں اس کی ملاقات ہر ڈر سے ہوئی۔ ہر ڈر گوئٹے سے پانچ سال بڑا تھا۔ یہیں اس کی ملاقات ان نوجوانوں سے بھی ہوئی جو درباروں کی تصنع پسندی، مبلغوں کے کھوکھلے لفظوں اور تاجروں کے استحصال کے خلاف تھے اور اس بات پر افسردہ اور شاکی تھے کہ نوجوانوں کو جرمن معاشرہ میں وہ مقام نہیں مل رہا ہے جس کے وہ اپنی اہلیت وصلاحیت کے لحاظ سے مستحق ہیں۔ احساس محرومی ان پر چھایا ہوا تھا۔ وہ آزادی فکر و اظہار کے حامی اور سارے معاشرے میں ذہنی بیداری پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔ نوجوانوں کی اس تحریک کا نام شٹورم اونڈ ڈرانگ Sturm Und Drang تھا۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر گوئٹے نے غنائیہ نظمیں لکھیں۔ اسی زمانے میں گوئٹے رومو اور اسپنوزا سے بھی متاثر ہوا۔ اسی دور میں اسے جانوروں اور پودوں کے مطالعے کا شوق بھی پیدا ہوا، جو ساری عمر جاری رہا اور اس نے علم حیاتیات اور نباتات کی بھی اہم خدمت انجام دی۔1772ء میں اس نے وکالت شروع کی۔ اس وقت گوئٹے کی عمر صرف 23سال تھی ۔

  • تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    گلوکارہ الکا یاگنک

    یوم پیدائش : 20 مارچ 1966
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف گلوکارہ الکا یاگنک 23 مارچ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی ماں شوبھا یاگنک ایک کلاسیکل گلوکارہ تھی اسی وجہ سے الکا کو بچپن میں ہی گھر میں موسیقی کا ماحول ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 6 سال کی عمر میں ہی آل انڈیا ریڈیو کے آکاشوانی اسٹیشن سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کر دیا ۔ ان کی ماں نے ان کی بھرپور فنی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب گلوکارہ بن گئیں ۔ الکا نے پہلا فلمی گیت 14 سال کی عمر میں 1980 میں فلم پائل کی جھنکار کیلئے گایا جبکہ 1988 میں فلم تیزاب کیلئے انہوں نے ” ایک دو تین ” گانا گایا جس سے ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی جس کیلئے ان کو فیمیل پلے بیک سنگر نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ۔ الکا یاگنک اب تک 7 فلم فیئر ایوارڈز اور دو نیشنل فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔ انہوں نے اب تک ہو چکی ہیں ۔ الکا یاگنک کو 2019 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سشیشما کپور ہے۔ شادی کے بعد 8 سال بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ عرصے کیلئے علیحدگی ہو گئی لیکن بعدازں دونوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق الکا یاگنک 2022 دنیا میں یوٹیوب پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا نے الکا یاگنک کوشہد کی آواز کی گلوکارہ Honey Vioce Singer جبکہ ہندوستان ٹائمز نے انہیں جادوئی آواز کی گلوکارہ Magical Vioced Singer کے خطاب سے نوازا ہے۔ الکا یاگنک مہدی حسن کی بہت بڑی مداح ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بیت بڑے گلوکار تھے میں ان کی غزلیں سن کر بڑی ہوئی ہوں۔

    الکا یاگنک کی آواز میں گائے گئے چند گیتوں کے بول

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    یہ دعا ہے میری رب سے تجھے دوستوں میں سب سے میری دوستی پسندآئے

    تم سے بڑھ کر دنیا میں نہ دیکھا کوئی

  • چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    چینوا آچہ بہ ،نائیجیریائی ناول نگار کا یوم وفات

    پیدائش:16 نومبر 1930ء
    وفات:21 مارچ 2013ء
    بوسٹن
    وجۂ وفات:مرض
    رہائش؛کوگی ریاست
    شہریت:نائجیریا
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    مادر علمی:جامعہ لندن
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی
    ملازمت:براؤن یونیورسٹی
    کارہائے نمایاں:عوام کا نمائندہ
    اعزازات؛
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مین بکر انٹرنیشنل پرائز (2007)
    پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ (2002)
    سینٹ لوئیس ادبی انعام (1999)
    بین الاقوامی نونینو انعام (1994)
    لوٹس انعام برائے ادب (1975)
    نائیجیرین نیشنل آرڈر آف میرٹ ایوارڈ
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز

    چینوا آچہ بہ یا چنوا اچیبے (انگریزی: Chinua Achebe) ایک نائیجیریائی ناول نگار، شاعر، پروفیسر اور ناقد تھے۔اچیبے کا 1958ء میں لکھا گیا پہلا ناول ’تھنگز فال اپارٹ‘ بے حد مشہور ہوا تھا۔ اس ناول میں افریقا میں نوآبادیت کے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب تک اس ناول کی ان گنت جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ وہ 1990ء کے بعد سے امریکا میں مقیم تھے۔ اچیبے نائجیریا سے امریکا منتقل ہوگئے تھے جہاں وہ پڑھاتے تھے۔ 1990ء میں کار کے ایک حادثے میں ان کے بدن کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا تھا۔ اچیبے نے 20 سے زائد کتابیں لکھی ہیں جن میں سے کچھ کتابوں میں نائیجیریا میں قیادت اور سیاست دانوں کی ناکامیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ 21 مارچ 2013ء میں 82 برس کی عمر میں مختصر بیماری کے بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

  • اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی
    نجی ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا پر عدلیہ ، پاک فوج کے سابق جرنیلوں اور موجودہ جرنیلوں کے بارے میں جو زہر اگلا جا رہا ہے اسے کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملکی بقا ،ملکی وقار اور ان اداروں کا وقار پوری دنیا میں مجروح ہو رہا ہے۔ پی ڈی ایم سمیت پی ٹی آئی ملکی سلامتی کے پیش نظر ہوش کے ناخن لے، دنیا کے کسی بھی ملک میں فوج اور اعلیٰ عدلیہ بڑے اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ سلیکٹڈ کے الزام سے لے کر امپورٹڈ کے الزام تک کا ملبہ ان نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے اداروں پر ڈالا۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے ججوں کو عالمی دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے۔ خدا نہ کرے محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے خلاف ایک بھیانک سازش ہو رہی ہے اور اس سازش کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عوام اور اداروں کا ٹکرائو اداروں کو متنازعہ بنائو اور وطن عزیز کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ زندہ تو رہیں مگر بھارت سمیت دیگر پاکستان مخالف قوتوں کو آنکھیں نہ دکھا سکیں۔

    یہ ملک نہ تو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی جاگیر ہے اور نہ پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن کا ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے یہ چند خاندانوں، چند لینڈ مافیا، چند شوگر مافیا ، چند آٹا ملز مالکان کا نہیں۔ کسی زمانے میں قوم بڑی منظم ہوا کرتی تھی آج اس قوم کو غیر منظم کرنے کا کردار کس نے کیا؟ ملک کے تازہ ترین حالات کا عوام جائزہ لے اپنے مسائل کا اور ملکی معیشت کا جائزہ لے اور پھر عوام اپنے ان نام نہاد رہبروں کا جائزہ لے ۔سب اس وقت مشکوک نظر آتے ہیں ملکی دانشور قومی فریضہ ادا کریں قوم کے بنیادی مسائل اور اس ملک کے وقار اور عزت میں اضافے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ناقابل برداشت مہنگائی، دہشت ناک بدامنی، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت سے ڈریں جب عوام انہیں اپنا رہبر ماننے سے ہی انکار کر دیں گے ایک بے ہنگم شور اور ہنگامہ ملک بھر میں برپا ہے کیا ملک کی سیاسی جماعتوں میں جمہوری مزاج سیاستدانوں کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ جن کی قومی ادارے عزت کرتے تھے اور وہ ان اداروں کی بقا کی جنگ لڑتے تھے۔ یاد رکھئے اداروں کو بقا حاصل ہے اور شخصیات کو فنا حاصل ہے۔

  • سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست، ریاست اور عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قرضوں اور معاشی بدحالی میں گرے وطن عزیز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ فکر انگیزہے ، حکمرانوں سمیت اپوزیشن اورپنجاب کی نگران حکومت نے تو حد کراس کرلی ہے ۔ عالمی دنیا وطن عزیز میں جاری ہوس اقتدار اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ وطن عزیز کی سڑکیں اشرافیہ کی آپس کی جنگ میں لہولہان ہیں۔ ریاستی ملازمین اور یاست کی عوام ایک دوسرے پرحملہ آور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام حالات کا ذمہ دار کون ہے۔؟ ہمارے سیاستدانوں فیصلہ ساز اداروں کو علم ہے کہ عام آدمی موجودہ ماحول اورمعاشی بحران میں کیسے زندگی بسر کررہا ہے۔ اسے دو وقت کی روٹی ملتی بھی ہے یا نہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کہاں ہے اور کس صوبے اور کس شہر میں ہے ؟ عوام ان حالات میں زندہ رہیں گے اور اگر رہیں گے تو کب تک ؟ ۔ حیرت ہے اس ملک کے کل کے مڈل کلاس کے سیاستدان آج اربوں پتی کیسے بن گئے ؟ غضب خدا کا کھربوں پتی کیسے اور کس طرح ہو گیا ؟ انہی شخصیات کی بدولت آج ریاست اور عام آدمی کنگال ہو چکا ہے۔ اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ معاشرے کا بڑا حصہ رینگتا سسکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور دوسراایک ایسا جو اربوں کھربوں پتی ہے وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی روزانہ کی بنیاد پر نظر آتا ہے

    کسی زمانے میں سیاست نظریاتی لوگوں میں ہوا کرتی تھی ۔ نظریات کے فروغ کے لئے سیاست کرتے تھے اب سیاست میں تشدد اور انتقام کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ایک دوسرے کو دہشت گرد اور غدار کہا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں وہی پرانی ہیں مگر اب ان میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں منہ پھٹ اور سیاسی بدتمیز ہیں۔ سیاسی بدتمیزی کا مظاہرہ پی ٹی آئی ، مسلم لیگ(ن) اوردیگر سیاسی جماعتوں میں روزانہ نظر آتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے مایوس سیاستدان اس سیاست کو خراب کردیں بلکہ خراب کردیا ہے۔ دشمنوں سے گرا ملک آج کے سیاستدانوں سے شدید پریشان ہے۔گزشتہ روز سینٹ میں رضا ربانی کے سوال پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں جواب دیا جو موضوع بحث رہا۔ سیاسی جماعتوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وطن عزیز ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلامی نظریاتی ملک کے اس اثاثے کی حفاظت پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے اس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ہماری پاک فوج اور جملہ ریاستی عسکری ادارے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنا چکے ہیں ۔ بلاشبہ وطن عزیز کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کرنے والے نظریاتی سیاستدانوں کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا

  • سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ہے

    سیف الدین سیف

    پیدائش:20مارچ 1922ء
    امرتسر، ہندستان
    وفات:12 جولائی1993ء
    لاہور، پاکستان

    سیف الدین نام اور سیف تخلص تھا۔ 20 مارچ 1922ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔بعض سیاسی ومذہبی مسائل پر ارباب کالج سے الجھ پڑنے کی وجہ سے امتحان سے روک دیا گیا۔ مجبوراً سیف نے تعلیم سے منہ موڑلیا اور تلاش معاش میں سرگرداں ہو گئے ۔ ۱۹۴۶ء میں فلمی لائن اختیار کی۔ فلمی نغمہ نگاری او رمکالمے لکھنا ان کا ذریعہ معاش بن گیا۔ انھوں نے مستقل طور پر لاہور میں اقامت اختیار کرلی۔ سیف کو کم سنی ہی سی شعروسخن سے دل چسپی تھی۔ انھوں نے غزل ، رباعی ، طویل ومختصر نظمیں اور گیت سبھی کچھ لکھا ہے۔ مگر غزل سے فطری لگاؤ تھا۔ 12جولائی 1993ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔’’خم کا کل‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوگیاہے ۔ ’’کف گل فروش‘‘ ان کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:129

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا قیامت ہے ہجر کے دن بھی
    زندگی میں شمار ہوتے ہیں

    دل ویراں کو دیکھتے کیا ہو
    یہ وہی آرزو کی بستی ہے

    سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

    تمہارے بعد خدا جانے کیا ہوا دل کو
    کسی سے ربط بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا

    آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد
    آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

    تم کو بیگانے بھی اپناتے ہیں میں جانتا ہوں
    میرے اپنے بھی پرائے ہیں تمہیں کیا معلوم

    کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے
    کل کی امید پہ ہر آج بسر ہوتا ہے

    مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے
    مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

    بولے وہ کچھ ایسی بے رخی سے
    دل ہی میں رہا سوال اپنا

    زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ
    رات کٹتی نظر نہیں آتی

    شور دن کو نہیں سونے دیتا
    شب کو سناٹا جگا دیتا ہے

    غم گسارو بہت اداس ہوں میں
    آج بہلا سکو تو آ جاؤ

    جس دن سے بھلا دیا ہے تو نے
    آتا ہی نہیں خیال اپنا

    شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں
    وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے

    کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں
    کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا

    حسن جلوہ دکھا گیا اپنا
    عشق بیٹھا رہا اداس کہیں

    کبھی جگر پہ کبھی دل پہ چوٹ پڑتی ہے
    تری نظر کے نشانے بدلتے رہتے ہیں

    پاس آئے تو اور ہو گئے دور
    یہ کتنے عجیب فاصلے ہیں

    کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت
    میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

    چلو میکدے میں بسیرا ہی کر لو
    نہ آنا پڑے گا نہ جانا پڑے گا

    تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو
    لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں

    ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے
    ہمارے پاس بھی سامان ایک رات کا ہے

    میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے
    میری ہستی بھی کوئی ہستی ہے

    جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
    ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا

    اپنی وسعت میں کھو چکا ہوں میں
    راہ دکھلا سکو تو آ جاؤ

    دل ناداں تری حالت کیا ہے
    تو نہ اپنوں میں نہ بیگانوں میں

    ایسے لمحے بھی گزارے ہیں تری فرقت میں
    جب تری یاد بھی اس دل پہ گراں گزری ہے

    آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظام عالم
    آپ گزرے ہیں تو اک موج رواں گزری ہے

    یہ آلام ہستی یہ دور زمانہ
    تو کیا اب تمہیں بھول جانا پڑے گا

    سیفؔ پی کر بھی تشنگی نہ گئی
    اب کے برسات اور ہی کچھ تھی

    تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے
    بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

    کیوں اجڑ جاتی ہے دل کی محفل
    یہ دیا کون بجھا دیتا ہے

    دل نے پایا قرار پہلو میں
    گردش کائنات ختم ہوئی

    دشمن گئے تو کشمکش دوستی گئی
    دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے

    کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
    اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا

    رات گزرے نہ درد دل ٹھہرے
    کچھ تو بڑھ جائے کچھ تو گھٹ جائے

    قریب نزع بھی کیوں چین لے سکے کوئی
    نقاب رخ سے اٹھا لو تمہیں کسی سے کیا

    اس مسافر کی نقاہت کا ٹھکانہ کیا ہے
    سنگ منزل جسے دیوار نظر آنے لگے

    پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں
    مدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں