Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ہمارے لوگ عام طور پہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ امریکہ نے اپنی کرنسی کا نام ڈالر رکھا تو امریکہ کی مقبولیت اور طاقت کی وجہ سے یہ نام پھیلا۔

    جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ ڈالر نام کی کرنسی کا امریکہ سے کوئی تعلق نہ تھا اور یہ امریکہ کی دریافت سے قبل ہی مقبول عالمی کرنسی بن چکی تھی۔

    اس کا آغاز قرون وسطی کے اواخر میں یورپ میں موجود ہولی رومن ایمپائر کی ریاست بوہیمیا سے ہوا تھا۔ اس وقت سونے چاندی تانبے کے سکے ہوا کرتے تھے اور انکی قیمت انکے وزن کے حساب سے ہوتی تھی۔ اس دور میں بوہیمیا کی ریاست نے چاندی کا یہ سکہ جاری کیا جس کا نام ٹالر Thaler تھا جو بگڑ کر ڈچ اور انگلش میں ڈالر ہوا اور فرنچ سپینش اٹالین میں دالر( جو اصل مخرج کے قریب ترین تھا)؟

    اس سکے کی کامیابی کی وجہ اس کا وزن اور قیمت تھی جس کی وجہ سے یہ بین الیورپی تجارت کا کامیاب ترین سکہ بن گیا۔ ڈالر بطور سکہ کامیاب کیوں ہوا ؟ اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ تب بڑی ریاستوں ، سپین، انگلستان فرانس اور سویڈن کے سکے بڑے تو تھے لیکن ریاستی کنٹرول تھا اور ان ریاستوں کی زیادہ تجارت ملک کے اندر ہی ہوتی تھی جبکہ ہولی رومن ایمپائر ایک ڈھیلا ڈھالا نیم وفاق تھا جس میں بے شمار ریاستیں اندرونی طور پہ آزاد تھیں اٹلی کا بھی یہی معاملہ تھا بے شمار ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اور آج کا ہالینڈ تب لو لینڈز یا فلانڈرز تھا ان ریاستوں بشمول لکسمبرگ کی زیادہ تجارت ریاست سے باہر بین ال یورپی تھی تو یہ سکہ ان سب میں بہت کامیاب ہوا۔

    دریں اثنا امریکہ دریافت ہوا تو امریکہ کی یورپ سے تجارت بہت بڑھ گئی اور یہ تجارت بھی ڈالر میں ہونا شروع ہوگئی تو امریکہ کی سپینش کالونیز کے گورنرز نے بھی سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کے سائز کا سکہ ڈھالنا شروع کیا جو سپینش ڈالر کہلایا۔ تب ارجنٹائن میں چاندی کی پیداوار اتنی زیادہ تھی کہ ملک کا نام ہی ارجنٹینا رکھ دیا گیا جس کا مطلب چاندی تھا۔ یوں چاندی کا ڈالر عالمی کرنسی بن گیا اور امریکہ کی برطانوی نوآبادیوں نے بھی برٹش پاؤنڈ کی بجائے ڈالر کی کرنسی اختیار کی کیونکہ تجارت اسی کرنسی میں ہو رہی تھی۔

    تب ہر ملک کا ڈالر اگرچہ الگ تھا لیکن وزن ایک ہی تھا۔

    یہ اٹھارویں صدی تھی اگرچہ سپین اور برطانیہ کی سلطنت بہت پھیل چکی تھی لیکن دنیا بھر میں پھیلی انکی نوآبادیات برطانوی پاؤنڈ یا سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کو ہی بطور کرنسی اختیار کرنے پہ مجبور تھیں کیونکہ یہی عالمی تجارت کی کرنسی تھی دریں اثنا یورپ میں ہولی رومن ایمپائر دم توڑ گئی اور اس کی جگہ آسٹرو ہنگیرین ایمپائر نے لی جس کی کرنسی فلورین تھی۔ یوں ڈالر کا اس کی جنم بھومی میں تو خاتمہ ہوگیا لیکن یہ دنیا بھر میں پھیلی مختلف نوآبادیوں کی کرنسی تھی جس میں آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، ہانگ کانگ ، سنگاپور کے علاوہ افریقہ اور امریکہ کی نوآبادیات شامل تھین۔

    ۱۷۷۴ میں برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ نے بھی ڈالر کو اپنی قومی کرنسی بنایا۔

    اس طرح دنیا انیسویں صدی میں داخل ہوئی جس میں عالمی تجارت میں اہم تبدیلیاں ہوئیں۔ اور دنیا کا محور برطانیہ بنتا چلا گیا۔ نپولین کی شکست کے بعد برطانیہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی وہ پورے انڈیا کا مالک بنا بلکہ ایشیا و افریقہ میں اس کی نوآبادیات کا جال بچھ چکا تھا اب عالمی تجارت کا مرکز لندن بن گیا۔

    دوسرے برطانیہ میں صنعتی انقلاب آیا تو برطانیہ ہی سارئ دنیا کی ورکشاپ بن گیا ساری دنیا برطانیہ سے تجارت پہ مجبور تھی۔ تب برطانوی پاؤنڈ سٹرلنگ عالمی تجارت کا سکہ بن گیا۔ ڈالر کو مزید دھچکا تب لگا جب بینک آف انگلینڈ نے دھاتی سکہ کی بجائے بینک نوٹ شائع کرنا شروع کردیا تو یہ تجارت کا آسان طریقہ تھا۔ یوں ڈالر کی بجائے پاؤنڈ کو اہمیت ملنا شروع ہوگئی۔ اسی دوران جب پیپر کرنسی ہر جگہ رائج ہوئی تو ہر ملک کے ڈالر کی قیمت الگ الگ ہوتی گئی۔ اس طرح ڈالر کی قیمتیں بھی مختلف ہوتی گئیں اور عالمی تجارت کی ترجیحی کرنسی بھی نہ رہا۔

    ڈالر کو دوبارہ عروج دوسری جنگ عظیم کے بعد ملا جب برطانوی ایمپائر بھی ختم ہوگئی اور سونے چاندی کا ذخیرہ بھی لندن سے نیویارک منتقل ہوگیا تو بریٹن وڈ معائدہ کے بعد پاؤنڈ سٹرلنگ کی بجائے امریکی ڈالر پھر سے عالمی تجارت کی کرنسی بن گیا جو اب تک ہے۔

  • اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    زیادہ عمر کے لڑکے شادی کے لیے خود سے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے۔ اور دوسری طرف زیادہ عمر کی لڑکیاں کم عمر لڑکوں کے رشتے خود ٹھکرا دیتی ہیں کہ انہیں لگتا خاوند عمر میں بڑا ہی ہونا چاہیے۔

    اور اسی چیز کا رواج بھی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی جگہوں پر دیکھا لڑکے والے ترلے کر رہے ہوتے مگر لڑکی اسی بات پر اڑ جاتی کہ عمر میں چھوٹے لڑکے سے شادی کسی صورت نہیں کروں گی۔

    دونوں پارٹیاں عمر کو میچ کرنے میں کئی قیمتی سال گنوا لیتی ہیں۔ جبکہ عمر میں چار پانچ سال کی اونچ نیچ دونوں طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں دونوں پارٹیاں میچور ہوں۔

    اسی طرح ایک ڈس ابیلٹی اپنی ہی ڈس ابیلٹی کو شادی کے لیے سوٹ ایبل گردانتی ہیں۔ جیسے ڈیف کی شادی ڈیف سے بلائنڈ کی شادی بلائنڈ سے اور وہیل چیئر یوزر کی دوسرے وہیل چیئر یوزر سے پولیو افیکٹڈ کے لیے پولیو افیکٹڈ یا کلب فٹ رشتہ تلاش کیا جاتا۔ اسی طرح بونوں کی شادیاں بونوں میں ہی ہوتی ہیں اور یہ پریکٹس بھی بدلنے کا نام تک نہیں لے رہی۔ کہ جو جیسے ہو رہا ہے ہم اسکو اسی روٹین میں کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور ایک دائرے کے باہر کچھ بھی دیکھنے یا سوچنے کی صلاحیت جیسے کھو چکے ہیں۔

    ایک طلاق شدہ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں کے لیے سیکنڈ آپشن طلاق شدہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کو تو کنواری لڑکیاں اکثر مل جاتی ہیں۔ مگر کسی طلاق شدہ یا بیوہ لڑکی کو کنوارہ لڑکا ملنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ میں نے کئی طلاق شدہ لڑکیوں کو کنوارے لڑکے کی بیوی بنتے دیکھا ہے بس انہوں نے اس معاملے کو زرا سمارٹلی ہینڈل کیا ہوتا۔

    جو ہوتا آرہا ہے ہم بھی ویسا ہی کریں گے۔ ایسا ضروری نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا کام جو کرنا ہوتا وہ خود کو ویلیو دینا ہوتی ہے۔ اور پھر آپکو ویلیو دینے والے بھی مل جاتے ہیں۔

    خود کو ویلیو یا اپنی کئیر بس شادی تک ہی نہیں کرنی ہوتی؟ بلکہ شادی کے بیس سال بعد تک تو ہر صورت کرنی ہوتی ہے۔ اور میرا مخاطب لڑکے ہیں۔ آپ جو شادی کے بعد پیٹ بلٹ سے باہر لٹکا کا جھارا پہلوان بن جاتے یہ کیا ہے؟ وزن بڑھنا تو ایک پہلو ہے ہم لڑکے کئی پہلوؤں سے اپنی کئیر کرنا اور آگے بڑھنا شادی کے بعد ختم کر دیتے ہیں۔ دوستیاں ختم ہو جاتیں ٹوور ختم ہو جاتے کئیریر وہیں کا وہیں جام ہو جاتا اور وہی ہوتا جو ہمارے ابا جی کے ساتھ ہوا تھا۔ اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟

  • آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں گزشتہ ہفتے برپا ہونے والا انقلابِ عظیم!!! — عزیزخان بڑیچ

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں گزشتہ ہفتے برپا ہونے والا انقلابِ عظیم!!! — عزیزخان بڑیچ

    مصنوعی ذھانت کا دیو جاگ چکاھے۔ انسان نے اپنی مادی اور ذھنی ترقی کے تاریخ کے اگلے مرحلے میں داخل ھوجانےکی تیاری اب مکمل کرلی ھے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی تاریخ کی بساط لپیٹ کر اس صدی کو انسان کا بطور انسان آخری صدی ثابت کرنے کیلئے بڑی شدت کے ساتھ اکھاڑے میں داخل ھورھی ھے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی ذھنی صلاحیتوں کا اعلیٰ نشان اور ناقابل تردید ثبوت ھے۔ انسان اپنی محنت کی تخلیق اور ماحصل ھے اور یہ انسانی محنت یا دوسرے لفظوں میں انسانی جسم و ذھن کی فعلیت ھے کہ جو آج انسان کو اپنی ارتقاء کی تاریخ کے اس اگلے مرحلے سے ھم آغوش ھوجانے کی طاقت سے سرفراز کررھی ھے کہ جسکا ایک صدی پہلے تصور کرنا ہی محال تھا۔

    جہاں ایک طرف انسان کوانٹم فزکس کی دنیا میں جھانک کر اپنے ہی اصولوں پر استوار کائینات کی تخلیق کے نغمے گنگنارھاھے وھاں جینیٹکس اور مصنوعی ذھانت کے شعبے میں بھی حضرت انسان دنیا کے ایک ایسے مستقبل کا پیش لفظ لکھنے میں مصروف ھے کہ جسکی قد و کاٹ اور چمک دمک کا خیالی خاکہ ہی ذھن کے پردے پر اتارنا محال ھے۔

    ایسی ناقابل تصور دنیا کی طرف انسان کس شان و شوکت سے قدم بڑھا چکاھے؟ اسکی مثال حال ہی میں عام پبلک کیلئے لانچ کی گئی مصنوعی ذھانت کا علمبردار انجن یعنی chat GPT ویب سائیٹ ھے۔

    ایک ایسی ایپ یا چیٹ ویب کہ جو آپکے ساتھ ھمہ وقت ایک متاثرکن مکالمے کیلئے تیار رھے۔ انسانی زندگی، دنیا اور سماج سے متعلق آپکے پوچھے گئے کسی بھی سوال کو گہرائی سے سمجھنے اور پھر اسکا وسیع تناظر میں جواب آپکے گوش و گزار کردینے والی ویب چیٹ۔۔۔۔۔

    چیٹ جی۔پی۔ٹی کو انسان ھاتھوں ھاتھ لینےلگاھے۔ یعنی اسکے لانچ ھوجانے کے پانچ چھ ہی دنوں میں اس چیٹ ویب کو استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کرگئی۔

    چیٹ جی۔پی۔ٹی آپکے نہ صرف یہ کہ پوچھے گئے ھر قسم کے سوالوں کا جواب دیتی ھے بلکہ آپکی فرمائش پر یہ آپکے لئیے آپکی ڈیمانڈ کے مطابق آرٹیکلز، کتابیں، درخواستیں بھی فورآ لکھ مارتی ھے۔ یہ آپکو آپکی کاروبار کے حوالے سے مفید مشورے فراھم کرتی ھے۔ یہ آپکی فرمائش پر آپکے لئیے انتہائی عمدہ اور گہرے تخلیقی نظمیں بناتی ہیں جسے اب تک اس چیٹ ویب کے علاؤہ کسی انسان نے نہیں کہےھونگے۔ یہ آپکی فرمائش اور خواھش کے پیش نظر ایسی تصاویر یا پینٹنگز بنانے کی اھلیت رکھتی ہیں جسکو پہلے کسی تخلیق کار یا آرٹسٹ نے نہیں بنائےھونگے۔ یہ آپکی فرمائش اور دی گئی کمانڈ کو سامنے رکھ کر آپکے لئیے ڈرامے اور فلمیں لکھنے اور اسے کارٹون وغیرہ کی شکل میں ویڈیوز میں تبدیل کردینے کا کمال رکھتی ھے۔ اگر آپ سائینس کے طالب علم ھے تو یہ آپکی ڈارک انرجی سے لیکر ھگز بوزون تک بڑے موثر انداز میں راھنمائی کرنے کے گر گہرائی سے جانتی ھے، اگر آپ آرٹ کے طابعلم ھے تو یہ ایک نہ تھکنے والے معزز استاد کی طرح سے قدم قدم پر آپکے ساتھ چلتی ھے اور اگر آپ فلسفے کے طالب علم ھے تو یہ مادیت سے لیکر عینیت تک کے وسیع و عریض خطوں تک بہت ہی موثر طریقوں کو بروئے کار لاکر آپکا ساتھ دیتی ھے۔

    آپکی فرمائش پر یہ آپکے کسی بھی پسندیدہ سائینسدانوں کے بیچ علمی مکالمہ تخلیق کرلیتی ھے، مثلا آج میں نے اسے نیوٹن اور آئن اسٹائن کے بیچ مکالمہ تخلیق کرنے کی فرمائش کی تو جو مکالمہ اس نے صرف چند سیکنڈ میں تخلیق کرکے پیش کیا وہ علمی اور سائینسی لحاظ سے حیران کن اور خوش کردینے والا مکالمہ تھا۔ پھر میں نے اسے ایک مکالمہ کانٹ اور ھیگل، ایک ارسطو اور افلاطون کے بیچ اور ایک مکالمہ ھیگل اور مارکس کے بیچ تخلیق کردینے کا کہا تو جو مکالمات اس نے فورآ لکھ مارے وہ فلسفیانہ حوالے سے نہایت عمدہ اور گہرے تھے۔

    میں نے اسے غم و خوشی، انسانی درد۔ اور یہاں تک کارل مارکس، ھیگل، شیکسپیئر اور آئن اسٹائن وغیرہ پر نظمیں بنانے کیلئے کہا تو اس نے فورآ بڑی اچھی، گہری اور ان انسانی کیفیات اور شخصیات کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ھوئے تحریر کرڈالی۔

    یعنی آج کے بعد آپکے سامنے پیش کیے جانے والے تقریبا ھر ایک موضوع پر تگڑے اور علمی مضامین، مکالمات، ڈرامے اور تقاریر وغیرہ میں شاید آپکے لئیے یہ جج کرنا مشکل

  • امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    بنی اسرائیل کی روایات میں آتا ہے نوجوان داود علیہ السلام نے جب جالوت کے مظالم اور خوف کے بارے میں سنا تو اپنے بھائی سے پوچھا تم لوگ اس کے خلاف کھڑے کیوں نہیں ہوتے.؟ ان کے بھائی نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے وہ کتنا بڑا دیو ہے. کتنا لمبا چوڑا ہے. کیا اس کو مارا جا سکتا ہے.؟ داود نے کہا ہاں میں دیکھ رہا ہوں اسے جس طرف سے بھی نشانہ لگاو یہ بچ ہی نہیں سکتا.

    اور انہوں نے اسے اپنی غلیل سے مار دیا تھا. بڑی چیزوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے. کوئی نشانہ خطا ہی نہیں ہوتا. جیسے بڑے بڑے پہاڑ ہوں. ایک چیلنج کی طرح ناقابل عبور لگتے ہیں. لیکن ان کے چھوٹے چھوٹے درے ان کی بلندی کے راستے بن جاتے ہیں. ایک چھوٹی سی سرنگ لمحوں میں اسے پار کرا دیتی ہے اور پہاڑ دیکھتا رے جاتا ہے.

    بڑی بڑی چوٹیاں جیسے کے ٹو ماونٹ ایورسٹ ہم نے چار پانچ پڑاو میں تقسیم کر کے نہ صرف سر کر لیں بلکہ سر کرتے چلے جا رہے ہیں. ہم دوسروں میں شیشے کی طرح خود کو دیکھتے ہیں. دوسرے بھی ہم میں خود کو شیشے میں دیکھتے ہیں. لیکن جب آپ اپنی ذات کے سچ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ شیشے ختم ہو جاتے ہیں.

    داود کے بھائی کو جالوت میں ڈرا سہما ہوا اپنا آپ نظر آرہا تھا. جالوت کو دوسروں میں اپنا دیو قامت قد اور رعب و دبدبہ نظر آرہا تھا. لیکن داود علیہ السلام کو ایک ایسا دیو ہیکل جسم جسے جس طرف سے بھی مارو نشانہ خطا ہو ہی نہیں سکتا. اس لئے بڑے خواب بڑے چیلنج دیکھنے والے بھلے ان چوٹیوں کو سر نہ بھی کریں وہ کسی نہ کسی پڑاو پر سر کرنے کی امید اور یقین ضرور رکھتے ہیں.

  • اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پھول کا حُسن اُس کلی کے صبر میں ہے جس نے اس حسن کو سمیٹ کر رکھا ہوتا ہے. دنیا کی نظروں سے دور یہ کلی پرت در پرت اپنے پتے ترتیب سے بنا رہی ہوتی ہے. ایک لاروا اپنے حول میں بند تتلی کے وہ پر بہت صبر سے بنا رہی ہوتی ہے جو اس بظاہر بدشکل کیڑے کو خوبصورت رنگ دے کر قوت پرواز دے گا.

    ہم لوگ اس صبر پر گواہ نہیں ہوتے. ہم تو کھلے ہوئے پھول اور اس پر لپکتی خوبصورت پروں کی تتلیاں دیکھ کر سمجھتے ہیں شائد یہ پیدا ہی ایسے ہوئے. ہم انسان جو دیکھتے ہیں اسے ہی مان لیتے ہیں. اس لئے ایک سادہ سا سوال بھی ہمیں کنفیوز کر دیتا ہے جیسے کوئی پوچھ لے کیا آپ خود کو پسند کرتے ہیں.؟

    ہماری اکثریت خود کو ہی نہیں جانتی. کیونکہ خود کی پسندیدگی کا مطلب اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا ہے. ایسے لوگ خود پر دوسروں کی رائے سے متاثر نہیں ہوتے. ان کو خوش رہنے کیلئے باہر کے اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی. یہ خود کے ساتھ خوش رے سکتے ہیں اور منفی لوگوں کیلئے ان کی ذات پر صبر کے ویسے ہی پردے ہوتے ہیں جیسے کلی یا لاروے نے اپنے رنگ بچائے ہوتے ہیں.

    اس لئے ہم خود کو پسند کرنے کا دعویٰ کرتے ہچکچاتے ہیں. ہم دوسروں کے رنگ دیکھ کر ان کو خوش قسمت اور خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں. اسی بدقسمتی میں ہم اپنی زندگی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں. شائد کچھ رنگ ہم بھی جمع کر لیں؟ اور زندگی ایک دوڑ بن جاتی ہے. ہم تھک جاتے ہیں. خود سے راضی شخص جبکہ ایک صحرا میں بھی ایسے ہی خوش ہوگا جیسے یہ کوئی گلستان ہو. خود سے راضی اپنے بنانے والے سے راضی ہوتا ہے. اور مالک اس سے راضی ہوکر اسے وہ رنگ دیتا ہے جسے دیکھ کر دوسرے اسے خوش قسمت سمجھتے ہیں.

  • اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

    خواجہ میر درد

    یوم وفات : 7جنوری 1785
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے عظیم شعراء کی فہرست میں شامل سیدخواجہ میر درد، میر تقی میر کے ہمعصر 1721ء میں دلی میں پیدا ہوئے خواجہ میر دردؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ یقیناً دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ابتدائی تذکرہ نویسوں نے ان کی شاعری کو اس طرح محدود نہیں کیا تھا، صوفی شاعر ہونے کا ٹھپہ ان پر بعد میں لگایا گیا۔

    میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔ محمد حسین آزاد نے کہا کہ دردؔ تلواروں کی آبداری اپنے نشتروں میں بھر دیتے ہیں، مرزا لطف علی صاحب، "گلشن سخن” کے مطابق دردؔ کا کلام "سراپا درد و اثر "ہے۔

    میر حسن نے انھیں، آسمان، سخن کا خورشید قرار دیا، پھر امداد اثر نے کہا کہ معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو میں کوئی شاعر نہیں گزرا اور عبد السلام ندوی نے کہا کہ خواجہ میر دردؔ نے اس زبان (اردو) کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔ ان حضرات نے بھی دردؔ کو تصوف کا ایک بڑا شاعر ہی مانا ہے ان کے کلام کی دوسری صفات سے انکار نہیں کیا ہے۔ شاعری کی پرکھ، یوں بھی "کیا کہا ہے” سے زیادہ ” کیسے کہا ہے” پر مبنی ہوتی ہے دردؔ کی شاعری کے لئے بھی یہی اصول اپنانا ہو گا۔

    دردؔ ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ ان کے بعض سادہ اشعار پر میرؔ کے اسلوب کا دھوکہ ضرور ہوتا ہے لیکن توجہ سے دیکھا جائے تو دونوں کا اسلوب یکسر جداگانہ ہے۔ درد کی شاعری میں غور و فکر کا عنصر نمایاں ہے جبکہ میرؔ فکر کو احساس کا تابع رکھتے ہیں البتہ عشق میں سپردگی اور گداز دونوں کے یہاں مشترک ہے اور دونوں آہستہ آہستہ سلگتے ہیں۔ دردؔ کے یہاں مجازی عشق بھی کم نہیں۔ جیتے جاگتے محبوب کی جھلکیاں جابجا ان کے کلام میں مل جاتی ہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے۔

    کہا جب میں ترا بوسہ تو جیسے قند ہے پیارے
    لگا تب کہنے پر قند مکرر ہو نہیں سکتا

    دردؔ کی شاعری بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے ان کا عشق مجازی بھی ہے، حقیقی بھی اور ایسا بھی جہاں عشق و مجاز کی سرحدیں باقی نہیں رہتیں۔ لیکن ان تینوں طرح کے اشعار میں احساس کی صداقت واضح طور پر نظر آتی ہے، اسی لئے ان کے کلام میں تاثیر ہے جو صناعی کے شوقین شعراء کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

    دردؔ نے خود کہا ہے "فقیر نے کبھی شعر آورد سے موزوں نہیں کیا اور نہ کبھی اس میں مستغرق ہوا۔کبھی کسی کی مدح نہیں کی نہ ہجو لکھی اور فرمائش سے شعر نہیں کہا” درد ؔکے عشق میں بیچینی نہیں بلکہ ایک طرح کی طمانیت قلب، سکون اور پاکیزگی ہے جعفر علی خاں اثر کے بقول دردؔ کے پاکیزہ کلام کے لئے پاکیزہ نگاہ درکار ہے۔

    دردؔ کے کلام میں عشق و عقل، جبر و اختیار، خلوت اور انجمن، سفر در سفر، بے ثباتی و بے اعتباری، بقا اور فنا، مکان و لامکاں، وحدت و کثرت، جزو و کل توکل اور فقر کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ فی زمانہ، تصوف کا وہ برانڈ، جس کے دردؔ تاجر تھے، اب فیشن سے باہر ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ سنجیدہ طبقہ میں سرمد اور رومی کا برانڈ اور عوام میں بلھے شاہ، سلطان باہو اور "دمادم مست قلندر” والا برانڈ زیادہ مقبول ہے۔

    غزل کی شاعری برملا کم اور اشاروں میں زیادہ بات کرتی ہے اس لئے اس میں معانی کی حسب منشاء جہات تلاش کر لینا کوئی مشکل کام نہیں یہ غزل کی ایسی طاقت ہے کہ وقت کے تند جھونکے بھی اس چراغ کو نہیں بجھا سکے ایسے میں اگر مجنوںؔ گوکھپوری نے دردؔ کے کلام میں "کہیں دبی ہوئی اورکہیں اعلانیہ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانہ کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں” تلاش کیں تو بہرحال ان کا ماخذ دردؔ کا کلام ہی تھامجنوں کہتے ہیں درردؔ اپنے زمانہ کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

    دردؔ کے کلام کو ان کے زمانہ کے معاشرتی اور فکری ماحول اور ان کی نجی شخصیت کے حوالہ سے پڑھنا چاہئے۔ جہاں تک پیرایۂ بیان کا تعلق ہے اپنی بات کو دبے لفظوں میں تشنۂ وضاحت چھوڑ جانا دردؔ کو تمام دوسرے شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ اس طرح کے اشعار میں ان کہی بات، وضاحت کے مقابلہ میں زیادہ اثردار ہوتی ہے۔ حیرت و حسرت کا یہ دھندھلا سا اظہار ان کے اشعار کا خاص جوہر ہے۔ اس سلسلہ میں رشید حسن خاں نے پتے کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں "دردؔ کے جن اشعار میں خالص تصوف کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں یا جن میں مجازیات کو صاف صاف پیش کیا گیا ہے وہ نہ دردؔ کے نمائندہ اشعار ہیں نہ ہی اردو غزل کے۔

    یہ بات ہم کو مان لینی چاہئے کہ اردو میں فارسی کی صوفیانہ شاعری کی طرح بلند پایہ متصوفاننہ شاعری کا فقدان ہے۔ ہاں، اس کے بجائے اردو میں حسرت، تشنگی اور یاس کا جو طاقتور آہنگ کارفرما ہے، فارسی غزل اس سے بڑی حد تک خالی ہے-

    مجموعی طور پر دردؔ کی شاعری دل اور روح کو متاثر کرتی ہے۔ جذباتیت اور شاعرانہ "استادی” کا اظہار ان کا شعار نہیں، دردؔ موسیقی کے ماہر تھے، ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے۔ دردؔ تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان کی زبان سے کہلوا لے۔ اسی لئے ان کا دیوان بہت مختصر ہے۔

    خواجہ میر دردؔ 07؍جنوری 1785ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

    ریختہ ڈاٹ کام سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خواجہ میر درد کی شاعری سے انتخاب
    . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
    زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
    ——–
    زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
    ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
    ——–
    اذیت مصیبت ملامت بلائیں
    ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
    ——–
    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
    ——–
    نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
    گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
    ——–
    جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
    تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
    ——–
    میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے
    مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
    ——–
    کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا
    محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے
    ——–
    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
    میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
    ——–
    جان سے ہو گئے بدن خالی
    جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
    ——–
    ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
    تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
    ——–
    ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
    ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
    ——–
    دشمنی نے سنا نہ ہووے گا
    جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
    ——–
    حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے
    جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
    ——–
    ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن
    اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو
    ——–
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
    ——–
    تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
    تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
    ——–
    مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
    کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
    ——–
    کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں
    کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
    ——–
    آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں
    تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں
    ——–
    کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری
    جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
    ——–
    دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا
    آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
    ——–
    قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
    اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
    ——–
    ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
    لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
    ——–
    ایک ایمان ہے بساط اپنی
    نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے
    ——–
    ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
    دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

  • صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    مسرور انور
    6 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی صف اول کے فلمی نغمہ نگار و شاعر مسرو انور 6 جنوری 1944 میں ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام انور علی تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور پاکستان ہجرت کر گئے۔ انہیں شاعری کا شوق بچپن سے تھا اور فلم و موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اسی شوق اور دلچسپی کے سبب فلم ہدایت کار پرویز ملک اور فلمی موسیقار سہیل رعنا سے ان کی دوستی ہو گئی۔ اس دوستی اور میل جول کے باعث انہیں فلموں کے لیے گیت لکھنے کی پیش کش کی گئی جو کہ انہوں نے قبول کر لی اور 1962 میں انہوں نے فلم ” بنجارن” کے لیے گیت لکھ کر اپنے کیریئر کا شاندار آغاز کر دیا دوسری فلم ” ارمان” تھی تیسری فلم ” ہیرا اور پتھر” تھی اس فلم کے گیتوں نے بھی دھوم مچادی تھی۔ جس کے بعد ان کے مشہور اور سپر ہٹ گیتوں اور گانوں کی طویل فہرست ہے۔ انہوں نے نگار ایوارڈ سمیت کئی دیگر اہم اعزازات بھی حاصل کیے۔ مسرو انور نے فلمی نغمہ گاری کے علاوہ غزل اور ملی نغمے بھی لکھے۔ گلوکار غلام علی کی آواز میں ان کی گائی ہوئی غزل
    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    نے پاکستان اور ہندوستان میں مقبولیت اور پذیرائی کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ ان کا ملی نغمہ

    سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے

    نے بھی ملک بھر میں دھوم مچا دی ۔ وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور معصومیت مستقل طور پر قائم رہتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے Baby Face کے خطاب سے نوازا گیا۔ یکم اپریل 1996 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔

    منتخب کلام

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
    دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
    نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

    نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
    ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

    کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
    کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

    اپنی جاں نذر کروں ،اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دل میں پیدا کیا اک جذبۂ تازہ تُو نے
    میرے گیتوں کو نیا حوصلہ بخشا تُو نے
    کیوں نا تجھ کو انہی گیتوں کی نوا پیش کروں
    اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

    اکیلے نہ جانا ھمیں چھوڑ کر تم
    تمھارے بنا ھم بھلا کیا جئیں گے

    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    جس کو تم نہ سمجھ سکے میں ایسا اک سوال ہوں
    تم نے مجھے بھلا دیا نظروں سے یوں گرا دیا
    جیسے کبھی ملے نہ تھے ایک راہ پر چلے نہ تھے
    تھم جاؤ میرے آنسوؤں ان سے نہ کچھ گلہ کرو
    وہ حسن کی مثال ہیں میں عشق کا زوال ہوں
    جس کو وہ نہ سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں
    کرنا ہی تھا اگر ستم دینا تھا عمر بھر کا غم
    عہد وفا کیا تھا کیوں چاہت سے دل دیا تھا کیوں
    تم نے نگاہ پھیر لی اب میں ہوں میری بےبسی
    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    ——
    مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
    مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
    نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
    میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے
    مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
    کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
    تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
    شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
    بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے
    کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
    تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
    نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
    کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
    بتانا بھی چاہو بتا نہ سکو گے

    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    چپ رہ کے بھی نظر میں ھیں پیار کے اشارے
    یہ شان بے نیازی یہ بے رخی کا عالم
    بے باک ھو گیا ھے ان کا مزاج بر ھم
    اک پل میں نےھم نے دیکھے کیا کیا حسین نظارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    فربان جائیں اے دل ھم ان کی اس ادا کے
    خود بھی سلگ رھے میں ھم کو جلا جلا کے
    ھیں کتنے خوبصورت اس آگ کے شرارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے

    یوں اسنے پیار سے میری بانہوں کو چھو لیا
    منزل نے جیسے شاخ کے راہوں کو چھو لیا
    اک پل میں دل پہ کیسے قیامت گزر گئی
    رگ رگ میں اسکے حسن کی خوشبو بکھر گئی
    زلفوں کو میرے شانے پہ لہرا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اس دل تباہ کی حالت نا پوچھیے
    بے نام آرزو کی لذت نا پوچھیے
    اک اجنبی تھا روح کا ارمان بن گیا
    اک حادثہ تھا پیار کا عنوان بن گیا
    منزل کا راسته مجھے دکھلا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

    اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے
    وہ سامنے بیٹھے ہیں کافی یہ عنایت ہے

    الہٰی آنسو بھری زندگی کسی کو نہ دے
    خوشی کے ساتھ غم بے کسی کسی کو نہ دے

    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو
    کہتی ہیں یہ بہاریں ہنسنا ہمیں سیکھا دو

    سُونی پڑی رہیں گی یہ پربتوں کی راہیں
    یونہی کُھلی رہیں گی ان وادیوں کی بانہیں
    جب تک جُھکی یہ نظریں ہنس کہ نہ تم اُٹھا دو
    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو

    دل دھڑکے میں تم سے کیسے کہوں
    کہتی ہے میری نظر شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
    کہ تم آ گئے اچانک بڑی عمر ہے تمہاری

    ابھی کچھ ہی دیر پہلے بڑا زکر تھا تمہارا
    کئی بار ڈھرکنوں نےتمہیں پیار سے پکارا

    مٹا انتظار دل کا ہوئ ختم بےقراری
    ہمیں پیار کی خوشی سے کیا آشنا تم ہی نے
    تمہیں پیار ہم وہ دیں گے جو دیا نہ ہو کسی نے
    کہ تمہاری زندگی ہے ہمیں جان سے بھی پیاری
    وہ نظر کے سامنے ہے جسے ہم نے دیں صداٗئیں
    جو قرار بن کے آیا اُسے کیوں نہ دیں دُعائیں
    کیئے آرزو نے سجدے دل نے نظر اُتاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    کیسے یہ کہیں تم سے ہمیں پیار ہے کتنا
    آنکھوں کی طلب بڑھتی ہے دیکھیں تمہیں جتنا

    اس دنیا میں کم ایسے پرستار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    دل کی جگہ سینے میں محبت ہے تمھاری
    اب میری ہر اک سانس امانت ہے تمھاری

    ہم بن کے تمہیں پیار کی مہکار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

  • ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔  آمنہ امان

    ہیلتھ لیوی ، ٹیکس اوراس کی قانونی حیثیت :تحریر۔ آمنہ امان

    حکومت کسی کاروبار ,پراڈکٹ ,کمپنی یا جاٸیداد پر مخصوص ٹیکس لگاۓ اور ٹیکس لگانے کا مقصد بھی واضح بیان کیا جاۓ تو اسے لیوی کہتے ہیں ۔ لیوی کی منظوری دونوں ایوانوں سے لی جاتی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاتا کیونکہ اسے باقاعدہ مقصد کے تحت عوامی نماٸندوں سے منظوری کے بعد نافذ کیا جاتا ہے۔ لیوی ٹیکسز لگاتے وقت حکومت باقاعدہ طور پر مقصد بتاتی ہے کہ یہ کن وجوہات کی بنإ پر نافذ کیا جارہا ہے اور بعض صورتوں میں اس کی مدت کا تعین بھی کیا جاتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد یہ غیرمٸوثر ہوجاتا ہے۔ لیوی ٹیکس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی حکومت کی کلی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :
    میکسیکو، انڈیا ، آسٹریلیا ، برطانیہ سمیت دنیا کے کٸ ممالک میں شوگر یعنی چینی پر مشتمل مشروبات پر اضافی ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے جہاں ان ممالک میں ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوا ہے وہیں ذیابیطس ، ہارٹ اٹیک ،فالج اور کٸ دیگر امراض پر قابو پانے میں بھی کافی مدد ملی ہے۔ موٹاپا بھی اس وقت دنیا کے کٸ ممالک میں اہم مسٸلہ بنا ہوا ہے جو بذات خود کٸ قسم کے امراض کو دعوت دیتا ہے جس کا انجام دردناک موت ہوتا ہے۔ موٹاپے کی اہم وجہ بھی شوگری اور کاربونیٹڈ مشروبات اور جنک فوڈ ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تمباکو اور دیگر ڈرگز پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے ان کے پھیلاٶ پر قابو پایا گیا ہے۔ نشہ آور اشیإ کے استعمال میں روک تھام اور نٸ نسل کو اس کے مضمرات سے محفوظ رکھنے میں بھاری ہیلتھ لیوی کانفاذ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تمباکو نوشی کینسر ،ٹی بی، اور دمہ کا سبب تو بنتی ہی ہے مگر اس کے عادی افراد بہت سی معاشرتی خرابیوں کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ اس کا استعمال افراد کو اعصابی طور پر کمزور بنا دیتا ہے وہ چڑچڑے اور غصہ ور ہوجاتے ہیں ان کی قوت فیصلہ بھی کم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جسے پورا کرنے کے لیےعادی افراد چوری چکاری جیسے جراٸم بھی کرسکتا ہے۔ گویا مضر صحت اشیإ جیسے نام نہاد انرجی ڈرنکس، کاربونیٹڈ مشروبات ، فلیورڈ جوسز ، سگریٹ ، پان اور چھالیہ وغیرہ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے ملک کو دوہرا فاٸدہ ہوتا ہے۔ اک طرف ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا دوسری طرف بیماریوں کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی بچت ہے۔ اور لوگوں کی عمومی صحت میں بہتری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا کے کٸ ممالک مضر صحت اشیإ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے اپنے ملک کے خزانے کو فاٸدہ پہنچا رہے ہیں ۔ اور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ان ممالک میں مذکورہ بالا بیماریوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوٸ ہے۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا نفاذ:
    2019 میں اک سماجی تنظیم سپارک نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے نقصانات کے متعلق آگاہ کرتے ہوۓ بتایا کہ پاکستان میں تقریبا روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں اور ہر سال 170000 لوگ تمباکو نوشی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں۔ جن میں سرفہرست کینسر، ٹی بی اور دمہ ہیں۔
    اور اس کے علاوہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے 615 بلین روپے کا سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے جو ملکی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔پاکستان ذیابیطس کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے سالانہ تقریباً 70000 لوگ اسی مرض کی پچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار یقیناً نہایت تشویش کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپے کا مرض بھی پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس سے افراد کے کام کرنے کی صلاحیت ہر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور دل کی بیماریوں فالج اور برین ہیمبرج جیسے امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ شوگری مشروبات کے باقاعدہ استعمال سے بڑوں میں 27 فیصد جبکہ بچوں میں 55فیصد وزن بڑھ جاتا ہے ۔ جو بعد میں کٸ امراض کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

    ان تمام امراض اور ان کے باعث ہونے والی جانی ومالی نقصان سے بچنے کے لیے نقصان دہ مشروبات ، پان وچھالیہ اور سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنا لازمی امر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس پہلو پر توجہ نہیں دی گٸ اور خاص طور پر تمباکو سگریٹ گٹکے اور انرجی ڈرنکس کے ملک میں بکثرت استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے مٸوثر قانون سازی نہیں کی گٸ۔ حالانکہ گٹکا نسوار اور پان کی لت پاکستان میں مردوں کے علاوہ خواتین میں بھی پاٸ جاتی ہے اور سالانہ لاکھوں شہری ان کی وجہ سے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وجہ ان چیزوں کا انتہای سستے ریٹس پر بکثرت دستیاب ہونا ہے ۔ جس سے پاکستان میں کینسر ذیابیطس اور دل کے امراض میں بہت اضافہ ہوچکا ہے ۔ٹی بی اور ہیپاٹاٸٹس کے امراض بھی ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان سب کی اہم وجہ حکومت کی طرف سے اس معاملے میں کوتاہی ہے ۔ تاہم اب حکومتی سطح پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ اور اس کے یقینی حصول کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گٸ ہے۔ جو کہ نہایت خوش اٸند ہےاس سے امید پیدا ہوٸ ہے کہ مستقبل میں بھاری ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے مضرصحت اشیإ کی خریدوفرخت میں واضح کمی لاٸ جاسکے گی۔

    اگر حکومت دنیا کے دیگر ممالک کے اعداد وشمار اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان کے اندرونی حالات کو مدنظر رکھ کر مضر صحت اشیإ پر زیادہ سے زیادہ ہیلتھ لیوی نافذ کرے تواس کے ناصرف خزانے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عوامی صحت میں بھی نمایاں بہتری اۓ گی۔ ہیلتھ سیکٹر پر اٹھنے والےاخراجات میں بھی کمی لاٸ جاسکے گی۔ صرف سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرکے حکومت سالانہ 40 ارب روپے جمع کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات پر بھی بھاری ہیلتھ لیوی کا اطلاق کافی ریونیو جمع کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ان اشیإ کے بے تحاشا استعمال کو قابو کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ من پسند کمپنیز اور لوگوں کو چھوٹ ناں دی جاۓ بلکہ بلاتخصیص تمام مضر صحت پراڈکٹس پر ہیلتھ لیوی نافذ کی جاۓ اور اس کی شرح بھی حتی الامکان بلند رکھی جاۓ۔ اس پروگرام کو کرپشن کی نذر ہونے سے بھی بچایا جائے تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں فاٸدہ ہوسکے اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات نظر آٸیں۔

  • تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر: نصیب شاہ شینواری، لنڈیکوتل
    چھوٹے بچوں کو بازاروں اور گاوں میں سیگریٹ یا نسوارلانے کے لئے کسی دوکان کو نہیں بھیجنا چاہئے اس لئے کہ سیگریٹ لانے سے یہ بچے خود بھی سیگریٹ اور دوسرے خطرناک قسم کی منشیات استعمال کرنے کے عادی بن سکتے ہیں ، یہ بات عام مشاہدے کی بھی ہے کہ یہی بچے پھر بڑے ہوکر بھی بڑی شوق سے سیگریٹ اور نسوار کا استعمال کرتے ہیں ۔ یہ مفید اورکارآمد باتیں ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل کے ایک سماجی کارکن اختر علی شینواری کی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ آج کل سیگریٹ اور دوسرے منشیات کا استعمال عام ہورہا ہے اور معاشرے میں ہرکسی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اور جتنا ہوسکے اپنے قریبی دوستوں،رشتہ داروں کو سیگریٹ پینے و دیگر منشیات سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لعنت سے بچایں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر غریب مزدورکار اورتنخوادار طبقہ کے ہزاروں افراد بھی سیگریٹ نوشی کی لعنت میں مبتلا ہے اور کمزور مالی حالت کی وجہ سے ان کے اپنے بچوں کی کفالت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کے 1973 آئین کے تحت ہرشہری کو بنیاد صحت کی سہولیات دینا ان کا قانونی حق ہے اور یہ ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے کہ پاکستان کے ہرشہری کو سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاکستان کی حکومت نے سال 2019 میں ہیلتھ لیوی بل پاس کیا لیکن اس بل کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا جاسکا۔ اس بل کے مطابق تمباکو پری لیوی ٹیکس لاگو ہوگی جس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا ور سیگریٹ نوشی کو کم کیا جائے گا،اگر حکومت پاکستان یہ ٹیکس واقعی تمباکو نوشی،سگریٹ پر لاگو کریں تو اسے سے ہمارے معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہوگاِ، سیگریٹ پر ٹیکس زیادہ کرنے سے لوگ سگریٹ کو کم خریدیں گے اور اس طرح یہ غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہوجائے گی اوراس سے ان لوگوں کو ایک قسم کا مالی فایدہ بھی ہوگا۔ اخترعلی شینواری کا کہنا ہے کہ تمباکو اور سگریٹ پرحکومت کو زیادہ ٹیکس لگانا چاہئے ِ، ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملکی معیشت اور عام لوگوں کی مالی حالت بہتر ہوگی، کم از کم غریب لوگ سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پائیں اور یہی پیسے جو یہ لوگ سگریٹ خریدنے کے لئے خرچ کرتے ہیں،انہی پیسوں سے بچوں کے لئے کوئی کارآمد چیز خرید سکیں گے۔ ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی سے خطرناک عادت ہے اور یہ انسان کی صحت پر بہت ہی برا اثر کرتے ہیں، موصوف کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے اور یہ انسانی دماغ کو بری طرح متاثر کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی مسلسل استعمال سے ان کا دماغ متاثر ہوتا ہے، پھر دماغ میں طرح طرح کے دیگر برے خیالات جنم لیتے ہیں اور انسان کسی دوسرے نشہ کا بھی استعمال شروع کرتا ہے۔انسان پر سگریٹ نوشی کا برا اثر یہ ہے کہ یہ برا عمل انسان کو خودکشی پر مجبور کرتا ہے اور یہی سگریٹ نوشی بہت سے افراد کی خودکشیوں کی سبب بھی بنی ۔ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمباکو نوشی کنٹرول ادارے کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بارہ سو افراد سیگریٹ نوشی کا استعمال شرو ع کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خطرناک ہے اعداد و شمار ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگ سیگریٹ کے عادی بن رہے ہیں۔

    سیگریٹ کن خطرناک بیماروں کا سبب ہے؟
    جب ڈاکٹر سے پوچھا گیا کہ سیگریٹ نوشی سے کن کن بیماریاں انسان کو لاحق ہوسکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کئی خطرناک قسم کی بیماریاں سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوسکتی ہے۔ منہ کینسر، حلق کینسر ِ، خوراک کی نالی کینسر، معدے کا کینسر ، پھیپھڑوں کا کینسر، بڑی انت کینسر، معدے کی کینسر، مثانہ کینسر، جنسی کمزوری ِ، عارضہ قلب جان لیوا بیماریاں ہیں جو سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لگ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی ممالک جیسے انگلستان میں عام جگہوں میں کوئی سیگریٹ نہیں پی سکتا اور سیگریٹ نوشی کے لئے مخصوص جگہیں ہیں جہاں انسان سیگریٹ نوشی کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا اور مطالبہ تھا کہ حکومت پاکستان کو بھی سیگریٹ اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگا نا چاہے تاکہ عام لوگ سیگریٹ کو خرید نہ سکیں اور اس طرح یہ دوسرے لوگوں کو بھی بیماریوں سے بچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا سیگریٹ نوشی سے کیی خطرناک بیماریاں لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت لوگوں کی صحت پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرتی ہے، اگر سیگریٹ پر ٹیکس لگائی جایں تو اس سے معیشت مضبوط ہوگی، لو گ اسے کم خریدیں گے اور لوگ کم بیمار ہوجائیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انسان اپنی پختہ عز م ہی کی وجہ سے سیگریٹ نوشی کو ترک کرسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ورزش اور ایک انسان کی مضبوط قوت ارادی ہیں ایسے کام ہیں جن کی وجہ سے انسان سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ لنڈیکوتل کے ایک صحافی فرہاد شینواری کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عام جگہوں میں سیگریٹ نوشی پر پابندی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فرد ایسی جگہ پر سیگریٹ نوشی کریں جہاں پر پابندی ہو تو حکومت انہیں 250 ڈالرز جرمانہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ نوشی نے لئے امریکا میں مخصوصی جگہیں ہیں جہاں اپ سیگریٹ پی سکتے ہیں۔

    بحثیت مسلمان بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سیگریٹ نوشی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور معاشرے میں اس لعنت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو اس لئے کہ قرآن اور سنت رسول ﷺ نے ہر نشہ اور چیز کو حرام کردیا ہے، کچھ بدقسمت اور کم علم لوگ کہتے ہیں کہ سیگریٹ نشہ اور نہیں ہے تو ان کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ مصر کے ایک مشہور عالم دین نے سال 2000 میں ایک فتوی جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انسانی صحت پر برے اثرات کی وجہ سے دین اسلام میں سیگریٹ نوشی حرام ہے۔

    مختلف مکاتب فکر کے لوگوں اور سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہان کا بھی بہت عرصہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ سیگریٹ نوشی کی حوصہ شکنی کے لئے ہیلتھ ٹیکس لانا اور لاگوں کرنا چاہئے تاکہ سیگریٹ مزید مہنگی ہوسکیں اور یہ عام لوگوں کی دسترس سے دور ہو۔حال ہی میں سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ نے مری میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں میڈیا انفلوینسرز اور ماہرین صحت نے شرکت کی۔
    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے مذکورہ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو شارق محمود نے کہ پاکستان میں سیگریٹ نوشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آے روز بچے اور نوجوان سیگریٹ کے عادی بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہیلتھ لیوی کو لاگو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ پر ہیلتھ لیوی کی شکل میں ٹیکس کے نفاذ سے ملکی خزانے کو 60 ساٹھ ارب روپے کا فایدہ ہوگا۔

    ریونیو ڈویژن حکومت پاکستان کے سرکاری ویب سایٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر(فیڈرل بورڈ آف ریوینیو) نے تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کے بارے میں 21 جنوری کو پریس کے کچھ حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر پر وضاحت جاری کی ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا موقف ہے کہ صحت ایک صوبائی موضوع ہے اور وفاق تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ ٹیکس نہیں لگا سکتا۔ اس کے نتیجے میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے سگریٹ پر تین درجے والے ٹیکس کے ڈھانچے کو ختم کر دیا اور FED کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا۔

    بجٹ تقریر 2019-20 میں، اس وقت کے وزیر ریونیو نے واضح کیا کہ تمباکو کے شعبے سے حاصل ہونے والی فیڈرل ایکسائز اینڈ ڈیوٹی کا وفاقی حصہ ترجیحی طور پر وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کو دیا جائے گا جس کے نتیجے میں ہیلتھ لیوی کا مسئلہ حل ہو جایں گا۔ سابق صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ نے روزنامہ ڈان میں شائع ایک تحریر میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (1948) نے صحت کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا آئین بھی ”ہر انسان کے بنیادی حق کے طور پر صحت کے اعلیٰ ترین قابل حصول معیار” کا تصور کرتا ہے۔ وہ اپنی تحریر میں مزید لکھتا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے ہدف 3 کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج (UHC) کے لیے بھی پرعزم ہے۔

  • ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) کی جانب سے 16 نومبر 2022 بروز بدھ کو منعقدہ مباحثے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مقررین نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے بچانے کے لئے لیوی عائد کرے۔پارلیمانی سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز نے تشویشناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ 1200 بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور ہر سال ایک لاکھ 70 ہزار افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ وزارت صحت تمباکو نوشی کرنے والے تمام بچوں کے حق میں اقدامات کی حمایت کرنے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد ، جو پہلے ہی 31 ملین ہے ، میں مزید اضافہ نہ ہو۔ اور ہماری نوجوان نسل اس بڑہتے ہوئے معاشرتی فتنے سے دور رہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی کے نتائج خطرناک حد تک بڑہتے چلے جا رہے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ نقصانات رونما ہو رہے ہیں۔ طلباٰء، بچے اور نوجوان نسل تمباکو نوشی کا شکار ہیں۔ بژے بڑے مافیاز اس کی اسمگلنگ کر کے، اور نوجوان نسل میں پھیلا کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔سال 2019 میں وفاقی کابینہ نے تمباکو کی کھپت میں کمی اور سالانہ 60 ارب روپے کمانے کے لیے ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) عائد کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ تاہم بہت سے پالیسی سازوں نے بل کو مسلسل روک دیا ہے اور اس وجہ سے فی کس آمدنی میں اضافے کی وجہ سے تمباکو کی مصنوعات زیادہ سستی ہوگئی ہیں۔ کم عمر بچے اور کم آمدنی والے افراد تمباکو کی صنعت کا بنیادی ہدف ہیں۔ تاہم پارلیمنٹ کو فوری طور پر ہیلتھ لیوی بل پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ایک ایکٹ بن سکے اور اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکے۔ اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

    سگریٹ اورنکوٹین پائوچز جیسی مصنوعات نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ہیں، دنیا بھر میں تمباکو کی صنعت سے وابستہ بزنس مین ہمارے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔اس لیے تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ افراط زر اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہو۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے تمباکو کی صنعت کی سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔تمباکو ٹیکس کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے سب سے نچلے درجے کے ممالک میں سے ایک ہے اور چونکہ تمباکو کی مصنوعات مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں اس لیے صنعت کو اس عدم توازن کی قیمت ادا کرنی چاہیے جو اس نے پیدا کیں ہیں۔

    ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ اور اس ناسور کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور اس کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہیلتھ لیوی بل کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ یہ ایکٹ بن کر پورے ملک میں نافذ ہو سکے اور ہماری نوجوان نسل اس فتنہ سے پاک ہو کر پاکستان کی ترقی کے لیے کوششیں کرے۔