Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنجاب میں 30 دن کیلئے پتنگ بازی پر پابندی عائد

    پنجاب میں 30 دن کیلئے پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے تحت صوبے بھر میں30 دن کے لیے پتنگ بازی پر پابندی عائدکردی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ بازی کے علاوہ، پتنگوں کی تیاری سے متعلق مٹیریل،پتنگوں اور ڈور کی تیاری اور خریدوفروخت پر بھی مکمل پابندی کر دی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں یہ پابندی30 دن تک نافذالعمل رہےگی، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھرلاہور میں جشن بہاراں منانے کےلیے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں‌،اس سلسلے میں لاہور میں جشن بہاراں پر میراتھن ریس کا انعقاد بھی کرایا جائے گا،، نگران وزیراعلی پنجاب کہتے ہیں ہارس اینڈ کیٹل شو کے ذریعے شہریوں کو بہترین تفریح فراہم کی جائے گی۔۔۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت جشن بہاراں کے انتظامات کاجائزہ لینے سے متعلق اجلاس ہوا، نگران وزیراعلیٰ نے لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں

    جشن بہاراں کیلئے بہترین انتظامات کی ہدایت کی اور کہا کہ لاہور میں طویل عرصے کے بعد میراتھن ریس کا انعقاد کرایا جا رہا ہےہارس اینڈ کیٹل شو کے ذریعے شہریوں کو بہترین تفریح فراہم کی جائے گی، جشن بہاراں کے دوران داتا دربار پر سات روز محفل سماع کا انعقاد کرایا جائے گا نہر اورشہر کی اہم شاہراہوں کو خوب صورتی سے سجایا جائے گا اورلائٹنگ کی جائے گی، گریٹر اقبال پارک میں بھی جشن بہاراں کی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    25 فروری 1968

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے مشہور اور ہر دل عزیز شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے۔
    ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    1968ء میں شجاع آباد کے علاقے چاہ ٹبے والا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تخلص شاکر اور ذات سیال ہے۔ خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں۔
    شاکر شجاع آبادی کی پیدائش 25 فروری 1968ء کو شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام میں ہوئی جو ملتان سے ستر 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن
    اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞ
    ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍﻝﺩﯾﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ
    ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ..
    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ
    ﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ
    ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍ
    ﮨﻮﺍ … ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ
    ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ
    ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ
    ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ
    ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ …
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯ
    ﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ
    ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے ۔۔ وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں ۔۔
    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔
    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔۔
    انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،
    بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہے ۔۔۔۔
    بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہے ۔۔۔ لیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی ۔۔۔

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں ۔
    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن

  • پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    برطانوی حکومت نے بھٹو خاندان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ کیوں عطاء کیا۔
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کو درپیش موجودہ سیاسی ، اقتصادی اور مالیاتی حالات بلکہ مشکلات کا معروضی تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ان کا حقیقی سبب جاگیرداری کا وہ نظام ہے جس نے پاک سرزمین اور اس کے عوام کو کسی عفریت کی طرح اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں مجھے اس موضوع اور عنوان بارے جائزہ اور محاکمہ کا موقع میسر آیا تو حقیقی معنوں میں چشم کشا حقائق کا علم ہوا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھٹو خاندان جو بلاشبہ وطن عزیز کا سب سے با اثر، مقبول اور قابل ذکر سیاسی خاندان ہے ، اس کے بزرگوں نے برطانوی راج کے دوران غیر ملکی اور غاصب آقاؤں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ جب 1843ء میں چارلس نیپئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو انہوں نے یہاں پر اپنا یہ قبضہ برقرار اور مضبوط رکھنے کے لیے علاقہ میں ٹیکس کی وصولی اور غریب عوام کے استحصال کے لیے ایک خاص طبقہ تشکیل دیا جس کے ذمہ ان غریب عوام سے لگان اور ٹیکس کی وصولی تھا۔اس طبقہ میں بھٹو خاندان بھی شامل ہوا۔ شاہنواز بھٹو لاڑکانہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے واحد سیاستدان تھے جو حکومت بمبئی کے مشیر اور مسلم ریاست جونا گڑھ کے دیوان بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزوں کی بمبئی پریذیڈنسی کے وزیر بھی تھے۔ شاہنواز بھٹو کی تعاون کی مذکورہ پالیسی کے نتیجہ میں ان کو برطانوی حکومت نے سر(Sir) اورسی آئی ای (CIE) کے خطابات دیئے۔ برطانوی حکومت نے ان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ بھی الاٹ کیا جس کے نتیجہ میں وہ سندھ بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے جاگیر دار بن گئے۔ آج بھی یہ خاندان سکھر اور جیکب آباد کے علاقہ میں وسیع اراضی کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔

    یہ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ماضی کی طرح آج بھی وطن عزیز کے ایک مقبول اور عوامی سیاستدان تسلیم کیے جاتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے نہ صرف ان کی بلکہ ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو ، صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو اور صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی سیاسی خدمات تاریخی اعتبار سے نہایت معتبر ہیں لیکن اس افسوسناک حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو خاندان نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود موروثی سیاست کو ہی فروغ اور استحکام دیا۔ اس حوالہ سے یہ مثال ہی کافی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدہ پر براجمان ہوئے اور اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزارت خارجہ کا وہ قلمدان سنبھال رکھا ہے جو کم و بیش 6عشرہ قبل موصوف کے نانا ، ذوالفقار علی بھٹو کے پاس رہا۔ برطانوی راج میں جاگیریں اور انعامات و اعزازات حاصل کرنے والے خاندان آج بھی ایک آزاد اور خود مختار قوم کی گردن پر سوار مشاہدہ کیے جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے جنوبی پنجاب کے قریشی خاندان کے احوال آئندہ قسط میں بیان کیے جائیں گے۔

  • اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    عوام کی اکثریت کو مہنگائی، غربت، بیروزگاری کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا سامنا رہا اور موجود ہے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام، سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں تھا اور موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن میں کردار ادا کیا وہ ضیا الحق کا دور حکومت ہو یا پرویز مشرف کا دور حکومت جس کے اثرات آج تک پاکستان بطور ریاست اور قوم بھگت رہے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں، سول سوسائٹی، پولیس نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربانیاں دیں۔ جس کا عالمی دنیا اور امریکہ اعتراف کرتا ہے۔ آج ملک میں معاشی عدم استحکام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ضرب عضب اور رد الفساد کے ذریعے ملک سے دہشت گردوں اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا آج ایک بار پھر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ معاشی عدم استحکام سیاسی عدم استحکام محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور پھر میاں محمد نوازشریف کادور حکومت کا خاتمہ ہوا ہے ملک میں عدم استحکام ہی رہا ہے۔ نوازشریف کو پانامہ کیس میں سزا کے بجائے اقامہ پر سزا دی گئی وہ اپنے بیٹوں اور بیٹی کو ساتھ لے کر جے آئی ٹی سے لے کر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔

    نوازشریف کے بعد عمران خان کے دور حکومت کا آغاز ہوا انہوں نے بھی اس ملک کو معاشی مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کا خمیازہ تادم تحریر پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہی ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں میں پرلطف زندگی گزارنے والے سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ دینے کی عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کا سہارا لیا اور وقتی راحت پر توجہ دی جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے قرض در قرض لے کر ترقی کرنا ممکن ہی ہیں اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے۔ آج سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور نے مشکلات میں گھرے عوام کے کان مائوف کر دیئے ہیں۔ کہیں آئینی بحران کی صدائیں کہیں قانون کی حکمرانی کی صدائیں۔ کہیں الیکشن کی صدائیں ۔ سیاست ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے پورے ملک اور اس کی عوام کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ان حالات میں اور یہاں تک پاکستان کو پہنچانے میں کس کا اور کن کرداروں کا ہاتھ ہے فیصلہ عوام خود کریں۔

  • نام کتاب : خلفائے راشدین ( بچوں کے لئے )،مصنف:اشفاق احمد خاں

    نام کتاب : خلفائے راشدین ( بچوں کے لئے )،مصنف:اشفاق احمد خاں

    نام کتاب : خلفائے راشدین ( بچوں کے لئے ) ،مصنف : اشفاق احمد خاں
    صفحات : 192
    ناشر : دارالسلام ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور 042-37324034
    زیر نظر کتاب ”خلفائے راشدین “ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام کی شائع کردہ ایک خوبصورت پیشکش ہے جو کہ بالترتیب چار حصوں پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب مشہور ماہر تعلیم، ادیب اور محقق اشفاق احمد خاں کی تصنیف ہے ۔ اشفاق احمد خاں کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری محمد یونس حسرت مرحوم کے فررزند ارجمند ہیں ۔محمد یونس حسرت مرحوم نے بچوں کےلئے بیشمار تربیتی اور اصلاحی کتب لکھیں جو کہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں میں بھی بہت زیادہ دلچسپی کے ساتھ پڑھی اور پسند کی جاتی تھیں ۔ اشفاق احمد خاں کی تحریر میں وہی اپنے والد مرحوم والی پختگی، شگفتگی، سلاست اور روانی پائی جاتی ہے جو کہ زیر نظر کتاب ” خلفائے راشدین “ میں بھی نمایاں ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو بڑاانسان بنانا چاہتے ہیں تو انھیں بڑے لوگوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کروائیں۔مسلمانوں کے نزدیک انبیا ءعلیھم السلام کے بعد سب سے زیادہ عظمت اور شان والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم ہیں ۔ جبکہ صحابہ کرام میں سے عظمت والے خلفائے راشدین ہیں ۔خلفائے راشدین وہ عظیم ہستیاں ہیں جنھوں نے اسلام کی آبیاری کےلئے اپنا تن من دھن ، وطن ، اولاد ، ماں باپ سب کچھ قربان کردیا ۔ خلفائے راشدین میں سے ہر صحابی کااپنا ایک مقام ہے ۔

    سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنھم خلفائے راشدین ہیں اور ان کا عہد ۔۔۔۔ خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ خلافت راشدہ کے عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے۔ تیس سال کوئی بہت لمبا عرصہ نہیں صرف تین عشرے ہیں ان تین عشروں میں خلفائے راشدین نے اسلام کے پھیلاﺅ ، تبلیغ و اشاعت اور اسلامی ریاست کی توسیع و استحکام کےلئے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو صدیوں میں بھی ممکن نہیں ہوتے ہیں ۔ خلفائے راشدین میں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اولین خلیفہ ہیںجبکہ خلافت راشدہ کے زریں عہد کی آخری لڑی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔
    خلافت راشدہ ۔۔۔۔کا دورہر لحاظ سے تاریخ کا ایک سنہرا دور ہے جو ہمارے آج کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ اس دور میں تمام رعایا کو بنیادی حقوق حاصل تھے۔ ان کی شخصی و سیاسی آزادی کی حفاظت کی جاتی تھی۔ مسلمان اور غیر مسلم کے حقوق یکساں تھے ۔ کوئی شخص کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کسی پر زیادتی کی جرات کرسکتا تھا۔ غیر مسلموں کو مذہبی آزادی حاصل تھی اس کے ساتھ ان کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت بھی کی جاتی تھی۔ عدل کا ترازو سب کے لیے برابر تھا۔ نہ کوئی امیر، نہ غریب، نہ بادشاہ ، نہ عامی، نہ گورا ، نہ کالا اور نہ ہی رنگ و نسل کا امتیاز تھا۔ سب برابر تھے۔ مجرم مجرم ہی تھا خواہ کوئی بھی ہو۔خلافت راشدہ میں فتوحات کا سلسلہ بھی جاری ہوا اور سلطنت وسیع ہوئی۔ اندرونی فتنوں کو بھی دبایا گیا اور بیرونی خطرات کا مقابلہ بھی ہوا لیکن ان تمام کاموں میں ایک چیز مشترک تھی وہ یہ کہ ان کا مقصد عوام کی فلاح، ان کی خوشحالی و آسودہ حالی، ان کو امن و سکون اور اسلامی ریاست و اسلام کا تحفظ تھا۔آج امت مسلمہ خستہ حالی کا شکار ہے اور اس کا جسد تارتار ہے تاہم نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے اللہ اسی امت میں سے ایسے جوان پیدا فرمائے گاجو امت کے درد کا درماں کریں گے شرط ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی بنیادوں پر کریں انھیں اسلامی ، اخلاقی اور اصلاحی کتب پڑھنے کےلئے دیں ۔اور یہ بات سمجھیں کہ خلفائے راشدین کا بچپن ، جوانی اور بڑھاپا ۔۔۔۔ہمارے آج کے بچوں ، بچیوں ، جوانوں اور بزرگوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔
    یہ بات یقینی ہے کہ یہ فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے ، اس دور میں موبائل ، فیس بک ، پب جی گیم ، واٹس ایپ اور دیگر ایسے بہت سے ذارئع موجود ہیں جو بچوں اور بچیوں کے اخلاق وکردار پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔۔۔۔ان حالات میں یہ بات بے حد ضروری ہے بلکہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں بچیوں کے لئے ایسی کتابوں کاانتخاب کریں جو ان کے اخلاق وکردار کو سنواریں اور ان کے دلوں میں اپنے نبی علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین کی محبت پیدا کریں ۔” خلفائے راشدین “ بچوں کے مطالعہ لئے بہترین انتخاب ہے۔چار حصوں پر مشتمل اس خوبصورت اور لاجواب کتاب میں بطریق احسن خلفائے راشدین کے حالات زندگی بیان کئے گئے ہیں ۔ کتابوں کاانداز بیاں بہت دلچسپ ، سادہ، آسان اور شستہ ہے جو کہ ان شاءاللہ بچوں کی شخصیت پر گہرے نقوش مرتب کرے گا ، ان کے دلوں میں اسلام ، نبی علیہ السلام اور خلفائے راشدین کی محبت پیدا کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتاب دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہے باطنی طور پر اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے ۔ یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    نہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چند روز قبل سوشل میڈیا میں کوہلو بلوچستان کی ایک خاتون گراں بی بی مری کی ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ قرآن مجید ہاتھوں میں اٹھائے بلوچی زبان میں فریاد کر رپی تھی کہ میں اور میرے بچے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان خان کھیتران کی نجی جیل میں قید ہیں یہاں مجھ سمیت میری بیٹیوں سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور تشدد بھی کیا جاتا ہے ہمیں اس سردار کے مظالم اور قید سے نجات دلائی جائے لیکن افسوس صد افسوس کہ اس مظلوم خاتون کی فریاد پر متعلقہ اداروں نے کوئی توجہ نہیں دی اور آج ان کی اور ان کے دو بیٹوں کی ایک کنویں سے تشددزدہ نعشیں برآمد ہوئی ہیں ۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد شہید گراں بی بی کے خاوند جوکہ سردار عبدالرحمن کے خوف سے روپوش ہے اس کی ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں اس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سردار کی مبینہ نجی جیل میں قید میرے خاندان کے دیگر افراد کو بھی قتل کیا جائے گا جبکہ سردار عبدالرحمن نے اس واقعے کے حوالے سے خود پہ لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

  • مریم نواز کا پرجوش سیاسی بیانیہ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    مریم نواز کا پرجوش سیاسی بیانیہ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ :شہزاد قریشی
    قومی سیاسی احوال کا اجمالی جائزہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز اپنے پرجوش سیاسی بیانیے کے اظہار اور تشریح کے باب میں انتہائی متحرک ہوچکی ہیں۔ راولپنڈی کے جلسہ میں اور ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو کے دوران اپنے مذکورہ سیاسی بیانئے کے کئی اہم پہلو نہایت حقیقت پسندی اور اعتماد کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کئے۔ ان میں سب سے فکر انگیز اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ مریم نے نظام عدل سے یہ تقاضا یا مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اور مختلف مراحل پر نواز شریف کے خلاف جو فیصلے ہوئے وہ انصاف پر مبنی نہیں تھے۔ مریم نواز نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ اہم اور فکر طلب ہیں۔ ایسے ہی خیالات کا اظہار ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی کیا جاتا رہا یعنی یہ اصرار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سیاسی مدبر بھٹو کو عدالت کی طرف دی گئی سزائے موت ایک عدالتی قتل تھا۔ کچھ ایسا ہی موقف (ن) لیگ کی طرف سے کیا جارہا ہے لیکن ایسے میں یہ بنیادی حقیقت کسی حد تک نظر انداز کی جارہی ہے کہ بھٹو کو دی گئی سزائے موت کا سبب ان کی سیاسی سوچ یا کردار نہیں تھا بلکہ ان پر انسانی قتل کے جرم میں ملوث ہونے کے باعث مذکورہ سزا سنائی گئی تاہم بعد میں اسے عدالتی قتل قرار دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں نواز شریف کا جرم قانونی یا اخلاقی نہیں تھا بلکہ اگر ایسا تھا تو اس کی نوعیت اور پس منظر سیاسی تھا اور ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ نواز شریف 2019 میں جب وطن عزیز سے علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوئے تو انہوں نے اس سفر کی قانونی اجازت حاصل کی تھی اس باب میں انہوں نے عدلیہ سمیت کسی ریاستی ادارے کے احکامات اور ہدایات کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ مذکورہ اجازت کا اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو بخوبی علم تھا۔ مریم نواز کے سیاسی بیانیے کو اپنی معنویت اور اہمیت کے اعتبار سے بجا طور پر جرات مندانہ بیانیہ قرار دیا جارہا ہے۔ سیاسی پنڈت یہ محسوس کررہے ہیں آنے والے دنوں میں یہ بیانیہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ کہنے اور سمجھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس بیانیہ سے نواز شریف کی وطن واپسی کا راستہ ہموار ہونے اور کرنے میں بھی معاونت میسر آئے گی۔

  • یوم پیدائش اور  یوم وفات   مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات

    مریم جناح سابقہ رتی جناح۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    20 فروری 1900

    20 فروری 1929 یوم وفات

    20 فروری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی مریم جناح المعروف رتی جناح کی سالگرہ بھی اور برسی کا بھی دن ہے۔

    قائداعظم سے شادی کے وقت مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔

    مریم جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔ مریم جناح 20 فروری 1900ء میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے پردادا سوات سے 1785ء میں بمبئی آئے تھے اور پھر وہیں بزنس کرنے لگے۔ اُنکے بیٹے ڈنشا مانک جی نے بمبئی میں برصغیر کی پہلی کاٹن مل کی بنیاد رکھی۔ 1900ء صدی کے اختتام تک مانک جی کا خاندان بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں جانا جانے لگا۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شا پٹیٹ کی اکلوتی خوبصورت اور خوب سیرت بچی جو بڑے ناز و نعم میں پل رہی تھی، اُس کا نام رتن بائی تھا۔ یہ بچی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت ذہین اور صاحب ذوق تھی۔ رتن، جنہیں گھر کے لوگ پیار سے "رتی” کہہ کر پکارتے تھے، شاعرانہ مزاج رکھتی تھی۔ رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا۔ 14-13 سال کی عمر میں وہ ٹینی سن کیٹس اور شیلے جیسا شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں اور سمجھ چکی تھیں۔ رتی ایک خوش لباس خاتون تھیں، بمبئی میں امتیازی خصوصیت رکھتی تھیں۔ گورنروں، وائسراؤں اور اُمراء کی بیگمات اسکی ملبوسات اور زیورات کو بہت پسند کرتی تھیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خواتین رشک کرتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں سے تھے۔ سر ڈنشا پیٹٹ محمد علی جناح صاحب کی ذہانت، نفاست اور قابلیت کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ جناح صاحب (قائداعظم) اکثر ان کے گھر جاتے جہاں خوب بحثیں ہوتیں۔ سترہ سالہ رتن، لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹڈ بوٹڈ جناح کی پر مغز بحثوں کو غور سے سُنتی، آہستہ آہستہ وہ جناح صاحب کو پسند کرنے لگیں۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔ ان کی شخصیت نے رتن عرف رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی دوستی قربت اور پھر قربت محبت میں بدل گئی۔ اور پھر ایک دن یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔ جب رتی نے جناح صاحب سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔

    1917ء کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہونی چاہئیں۔ عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی۔ ڈنشا نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ محمد علی جناح ان کی بیٹی سے عمر میں بہت بڑے ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں کے مذہب الگ ہیں، رتی کا خاندان بمبئی کا مقبول ترین پارسی خاندان تھا۔ جناح صاحب نے رتی کو سمجھایا کہ ہماری شادی تمہاری 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ ڈن شا نے رتی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگ لگا دی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس سے ملاقات پر پابندی لگا دی، لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہو گی۔ جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ انتظار کیا، اس دوران جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے۔ اس عرصہ میں رتی نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان ہو کر قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے شادی کریں گی۔

    20 فروری 1918ء کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرا دی۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا۔

    18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن 19 اپریل 1918 کو وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آ گئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔ بمبئی میں ہوئی نکاح کی اس چھوٹی سی تقریب میں صرف قریبی احباب مدعو تھے۔ رتی جو اب مریم جناح بن گئی تھی، کو قائداعظم ؒ کی جانب سے شادی کی جو انگوٹھی ملی تھی وہ راجہ صاحب محمود آباد نے قائداعظم ؒ کو تحفے میں دی تھی۔ 19 اپریل 1918ء کے روزنامہ ” اسٹیٹ مین ” میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی۔

    شادی کے بعد جب مریم جناح نے گھریلو زندگی کا آغاز کیا تو وہاں بھی اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنے گھر کو انتہائی ذوق و شوق اور سلیقہ سے آراستہ کیا۔ مریم جناح نے گھر کی تزئین و آرائش سے فارغ ہو کر اپنے شوہر کے دفتر کی جانب بھی توجہ دینا شروع کی اور اسے بھی اعلیٰ ذوق کے مطابق ایک خوبصورت رنگ دے دیا۔ دونوں کی محبت ایک مثالی محبت تھی۔

    رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپیئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔

    آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سیاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ آہستہ آہستہ قائداعظم کی مصروفیات میں اضافہ ہونے لگا۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ لڑکی نے اسے شاید جناح کی بے التفاتی تصور کیا۔ شادی کے دس سال بعد تو مریم نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کر کے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی۔ رتی کی ماں ان کا علاج یورپ میں کرانے کے لئے مریم جناح کو لے کر پیرس چلی گئیں۔

    1928ء میں قائداعظم کو مریم جناح کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر پیرس پہنچ گئے اور انکی تیمار داری کرتے رہے۔ انکی محبت کا یہ عالم تھا کہ مریم جناح کیلئے جو پرہیزی کھانا بنتا وہ بھی وہی کھانا اپنی پیاری بیوی کے ساتھ کھاتے۔ کچھ عرصے بعد مریم جناح صحت یاب ہو کر بمبئی آ گئیں۔ مگر افسوس جنوری 1929ء میں پھر بیماری ہوئیں۔

    مریم جناح کا جناح کے نام آخری خط ایک یادگاراور امر بن گیا:

    ’’پیارے ! تم نے (میرے لئے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّئے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے ۔۔۔ پیارے ! ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کر کے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔ ’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لئے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیئے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے تم سے پیار ہے ۔۔۔ اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی …جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہو گا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔ ’’پیارے ! شب بخیر اور خدا حافظ۔” ۔۔

    اور 20 فروری 1929ء کو اپنی 29ویں سالگرہ کی روز مریم جناح وفات پا گئیں۔ ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی۔ قائداعظم نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے دکھ کو چھپا کر انکی تدفین اپنے ہاتھ سے کی۔ قائداعظم اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد 18 سال بمبئی میں رہتے ہوئے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ ہر جمعرات بعض روایات کے مطابق ہر شام اپنی اہلیہ کی قبر پر حاضری دیتے۔

    فولادی اعصاب کے مالک قائد اعظم کو زندگی میں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا سوائے دو مقامات پر ۔۔۔ اور دونو مریم سے ہی جڑے ہیں۔ ایک تو مریم کو دفناتے وقت جونہی ان کو قبر میں اتارنے کے بعد جناح کر قبر پر مٹی ڈالنے کو کہا گیا، تو ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ آنسوؤں سے زار و قطار رونے لگے۔ دوسرے جب اگست 1947ء کو پاکستان آنے لگے تو آخری بار وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے کافی دیر بیٹھے رہے اور آنسو بہاتے رہے۔

    قائداعظم نے مریم جناح کے بعد کوئی شادی نہیں کی وہ ٹوٹ چکے تھے، مگر ایسے وقت میں انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کو سنبھالا۔ اگر مادر ملت، بھائی کا خیال اس طرح نہ رکھتیں تو شاید قائداعظم کیلئے سیاست میں اتنا بڑا کردار ادا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ اس لیے اگر یہ کہیں کہ مادر ملت پاکستانی قوم کی محسنہ تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سہارا دیا اور انہوں (قائداعظم) نے ہمیں پاکستان دیا تو غلط نہ ہو گا

    محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی دینا جناح تھی ۔ یہ 14 اگست 1919 کی شام تھی جب قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اہلیہ رتن بائی کے ساتھ تھیٹر گئے ہوئے تھے کہ ڈرامہ کے دوران رتن بائی نے قائد کو مطلع کیا کہ وہ درد زہ محسوس کررہی ہیں اور انھیں فوراً میٹرنٹی ہوم پہنچایا جائے۔ قائد نے ایسا ہی کیا اور اسی رات 15 اگست 1919 کو ان کے گھر ایک خوب صورت بچی نے جنم لیا جس کا نام دینا رکھا گیا۔دینا جناح ابھی ساڑھے نو برس کی ہوئی تھیں کہ ماں کے سائے سے محروم ہوگئیں۔

    رتن بائی اپنی بیٹی کو اڈیار (مدراس) میں تھیوسیوفیکل اسکول میں داخل کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مکمل معلومات بھی حاصل کرلی تھیں مگر قائداعظم کی مداخلت کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔

    دینا جناح نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے ایک کانوینٹ اسکول میں حاصل کی۔ دینا اگرچہ بیشتر اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں اس کے باوجود محمد علی جناح نے دینا کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک گورنس کو ملازم رکھا تھا جس کا نام اسٹیلا تھا۔ وہ بمبئی کی رہنے والی کیتھولک تھی۔ محمد علی جناح کی پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر ان کو دینا کے ساتھ رہنے کے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دینا اپنے والدین سے شدید محبت کرتی تھیں اور ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے والدین کے پاس ہی رہیں۔ وہ ہر سال گرمیوں میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کشمیر جاتی تھیں جبکہ دو مرتبہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لندن بھی گئیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیاکے ساتھ شادی کر لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

    دینا واڈیا 15 اگست 1919 کو پیدا ہوئیں اور 2 نومبر 2017 کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلیٰ خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔

    1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔دینا واڈیا 2 نومبر 2017ء کو 98 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کرگئیں

  • نکوس کزنتزاکس بیسویں صدی کاادیب و فلسفی

    نکوس کزنتزاکس بیسویں صدی کاادیب و فلسفی

    پیدائش:18 فروری 1883ء
    ایراکلیون
    وفات:26 اکتوبر 1957ء
    فری برگ
    وجۂ وفات:ابیضاض
    مدفن:ایراکلیون
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:یونان
    مادر علمی:جامعہ ایتھنز
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:ڈاکٹریٹ
    پیشہ:منظر نویس، صحافی، شاعر، مترجم، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار، مصنف، سیاست داں
    مادری زبان:یونانی زبان
    شعبۂ عمل:سفر نامہ، ناول

    نکوس کزنتزاکس کو بیسویں صدی میں سب سے زیادہ ترجمہ کیے جانے والا ادیب و فلسفی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ تاہم انھیں حقیقی شہرت اپنے ناول زوربا پر 1964 میں مائکل کے کویانس کی فلم بننے کے بعد حاصل ہوئی۔

  • ہم لوگ تیرے شہر میں  خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے  ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    تسنیم کوثر

    پاکستان کی نامور ادیبہ اور شاعرہ

    18 فروری 1957 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ ،شاعرہ ،مصنفہ،افسانہ نگار، خواتین اور بچوں سمیت انسانی حقوق کی جدوجہد کی اہم رہنما محترمہ تسنیم کوثر صاحبہ 18 فروری 1957 میں ساہیوال پنجاب( پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام قاضی نسیم الدین اور والدہ محترمہ کا نام منور جہاں بیگم ہے ۔ وہ اپنے 8 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔ ان کے خاندان کے بڑے دہلی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تسنیم کوثر نے پرائمری سے انٹر تک اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی جبکہ ایم فل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ تسنیم صاحبہ اپنے خاندان میں پہلی اور واحد ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔ شعر و ادب کا شوق انہیں زمانہ طالب علمی سے ہی پیدا ہوا اور اسکول و کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا میں انہوں نے اپنے کلام محشر زیدی صاحب کو دکھائے۔ ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک شعری مجموعہ "سرگوشی” اور 4 نثری کتابیں ہیں۔ تسنیم کوثر صاحبہ ایک ترقی پسند خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کی جانے والی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے 30سال تک پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی علمبردار عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے ساتھ مل کر کام کیا وہ اس دوران عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کی میڈیا کو آرڈینیٹر رہیں۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی اور خواتین پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ کیسز کیے اس کے علاوہ برن دکٹمز پر بھی فیکٹ فائنڈنگ کی اور اس موضوع پر آرٹیکلز بھی لکھے۔ جلسوں،جلوس، ورکشاپس اور سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کی ممبر کی حیثیت سے امن وفد کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا اس کے علاوہ ملائیشیا، مصر اور سعودی عرب کے بھی دورے کیے۔ تسنیم صاحبہ اس وقت روٹری انٹر نیشنل کے ساتھ منسلک ہیں اور روٹری کلب شادمان لاہور کی صدر ہیں ۔ وہ وہ تعبیر ادبی فورم کی چیئرپرسن ہیں جس کے زیر اہتمام متعدد پروگراموں کا انعقاد کرا چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک اور بیرون ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ اہل زبان ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے جبکہ پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ تسنیم صاحبہ کی 1980 میں اپنے خالہ زاد آصف صدیقی صاحب سے شادی ہوئی جن سے انہیں ماشاء اللہ 3 بچے پیدا ہوئے جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ تسنیم صاحبہ کو ہر اچھا شعر پسند ہوتا ہے خواہ وہ کسی نوآموز شاعر یا شاعرہ کا ہی کیوں نہ ہو تاہم وہ میر تقی میر کی مداح ہیں۔
    تسنیم کوثر صاحبہ اب تک کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور متعدد اداروں سے وابستگی ہے اور ان کی اب تک شائع شدہ تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تعلیم:ایم فل اردو
    ممبر:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
    ملازمت: اے جی ایچ ایس لیگل
    ۔ ایڈ سیل کوآرڈینیٹر
    ۔ پیرا لیگلز ،وائیلنس
    ۔ اگینسٹ وومن،چائلڈ ابیوز
    ۔ پریزیڈنٹ روٹری کلب آف
    ۔ لاہور شادمان لاہور
    ۔ 2021۔2022
    ۔ ورکنگ پولیو مانیٹرنگ ٹیم
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ
    ۔ (2)ساحر لدھیانوی ایوارڈ
    ۔ (3)قتیل شفائی ایوارڈ
    ۔ (4)روشن اسکول ایوارڈ
    ۔ (5)مادل ٹاؤن لیڈیز کلب ایوارڈ
    ۔ (6)حسان بن ثابت ایوارڈ
    زبان:اردو،پنجابی
    اصناف: سفرنامہ، شاعری، افسانے
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کہانی ان دنوں کی
    ۔ (سفرنامہ انڈیا)
    ۔ (2)سرگوشی
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (3)چبھن
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (4)جہاں رحمت برستی ہے
    ۔ (سفر نامۂ حجاز)
    ۔ (5)مجھے اس دیس جانا ہے
    ۔ (سفر نامۂ ملائیشیا)
    ۔ (6)چابی سے بندھی عورت
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (7)محبت کا دوسرا کنارہ
    ۔ (شعری مجموعہ)

    غزل

    معیار اپنا ہم نے گرایا نہیں کبھی
    جو گر گیا نظر سے وہ بھایا نہیں کبھی

    ہم آشنا تھے موجوں کے برہم مزاج سے
    پانی پہ کوئی نقش بنایا نہیں کبھی

    حرص و ہوس کو ہم نے بنایا نہیں شعار
    اور اپنا اعتبار گنوایا نہیں کبھی

    اک بار اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی بے رخی
    پھر اس کے بعد یاد وہ آیا نہیں کبھی

    تنہائیوں کا راج ہے دل میں تمھارے بعد
    ہم نے کسی کو اس میں بسایا نہیں کبھی

    تسنیم جی رہے ہیں بڑے حوصلے کے ساتھ
    ناکامیوں پہ شور مچایا نہیں کبھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھروعدہ نہیں کرنا
    یہ وعدے ہم نےدیکھا ہے کہ اکثرٹوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر ضِد بھی نہیں کرنا
    اِسی ضِد سے یہ دیکھا ہے کہ ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر تحفہ نہیں دینا
    یہ تحفے ہم نے دیکھا ہے بہت مجبور کرتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر شکوہ نہیں کرنا
    کہ شکوے ہم نے دیکھا ہے دِلوں کو دورکرتے ہیں
    محبت کے حسیں لمحوں میں دل رنجور کرتے ہیں

    قطعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھولوں کا چاندنی کا نگر یاد ہے ہمیں
    خوشیوں بھری تھی جس کی ڈگر یاد ہے ہمیں
    چاہت سے جس پہ لکھا تھا اِک دوسرے کا نام
    پیپل کا وہ گھنیرا شجر یاد ہے ہمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے کیسے گمان میں گزری
    زندگی امتحان میں گزری
    بند تھے جس کے سارے دروازے
    عمر ایسے مکان میں گزری

    تسنیم کوثر