Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملے کے دو سال

    یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملے کے دو سال

    امریکی کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے اور آج دو سال مکمل ہو گئے لیکن ٹرمپ پر لگا یہ داغ بدستور قائم ہے.

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    یو ایس کانگریس پر حملہ، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

    تحریر:بلال شوکت آزاد

  • ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ:

    ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی تاجر اور سیاست دان ہیں جنہوں نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی صدارت سے قبل، ٹرمپ ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور میڈیا پرسن کے طور پر جانے جاتے تھے، اور ایک ٹی وی ریئلیٹی شو "دی اپرنٹس” کی میزبانی کے لیے مشہور تھے۔ اپنی صدارت کے دوران، ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں کو نافذ کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور تقسیم نے داغ دار کیا تھا، اور ان کا عہدہ صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز جانا جاتا ہے۔

    سیاسی وابستگی:

    ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے رکن تھے، اور انہوں نے 2016 اور 2020 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر صدر کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ تاہم، ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو ٹرمپ اور ان کے ایجنڈے کی وفادار ہو گی, اس مقصد کے لیے کئی گروپس بنائے گئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان گروپوں میں سے کوئی ایک قابل عمل تھرڈ پارٹی قائم کرنے میں کامیاب ہوگا یا ریپبلکن پارٹی کی سمت کو نمایاں طور پر متاثر کرنے میں کردار ادا کرسکے گا؟

    ٹرمپ کا دور:

    "ٹرمپ دور” کی اصطلاح سے مراد عام طور پر وہ دور ہے جس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران ٹرمپ نے متعدد پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازع بیانات اور ایسے فیصلے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے اور دنیا ووامریکہ آج تک ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی صدارت کے دوران کی پالیسیاں:

    صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے دوران کئی اہم پالیسیاں نافذ کیں جن کے مختلف مسائل پر اہم اثرات مرتب ہوئے, ان کی کچھ اہم پالیسیوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    ٹیکس میں کٹوتیاں: ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے کارپوریشنوں اور بہت سے افراد کے لیے ٹیکس میں نمایاں کمی کی۔

    صحت کی دیکھ بھال: ٹرمپ نے سستی نگہداشت کے ایکٹ کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جسے اوباما کیئر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور متعدد پالیسیاں نافذ کیں جن کا مقصد اس قانون کو ختم کرنا تھا۔

    امیگریشن: ٹرمپ نے متعدد متنازعہ امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر، متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ، اور ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ آرائیول (DACA) پروگرام کو ختم کرنا شامل ہے۔

    تجارت: ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی کی پیروی کی، کئی تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر محصولات عائد کیے۔

    ماحولیاتی ضوابط: ٹرمپ نے متعدد ماحولیاتی ضوابط کو واپس لے لیا اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    خارجہ پالیسی: ٹرمپ نے خارجہ پالیسی کے کئی متنازع فیصلوں پر عمل کیا، جن میں ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری، اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا، اور کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات میں ملوث ہونا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے دور کی اچھی اور بری چیزیں:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں بہت سے اہم تنازعات اور درحقیقت تقسیم کا شکار رہی۔ ٹرمپ کے دور میں پیش آنے والی کچھ بڑی "اچھی” اور "بری” چیزیں یہ ہیں۔

    "اچھی چیزیں:

    ٹرمپ کی زیادہ تر صدارت کے دوران امریکی معیشت نے ترقی کی اور عوام کو کم بے روزگاری کا سامنا ہوا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی۔

    ٹرمپ نے وفاقی عدالتوں میں قدامت پسند ججوں کو مقرر کیا، جن میں سپریم کورٹ کے دو جج بھی شامل ہیں, اور یہ بظاہر امریکہ کے لیے اچھے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔

    "بری چیزیں:

    ٹرمپ نے متعدد متنازعہ اور پابندیوں والی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ شامل ہے۔

    ٹرمپ نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو باہر نکال لیا اور متعدد ماحولیاتی ضوابط کو پس پشت کردیا جو کہ نہایت برا فعل مانا گیا۔

    ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی پر عمل کیا جس کی وجہ سے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات پیدا ہوئے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑا, بلخصوص امریکہ کی چائنہ سے تجارتی جنگ شروع ہوگئی جوکہ امریکی ملٹائی نیشن کمپنیز کے لیے اچھی ثابت نہیں ہورہی۔

    ٹرمپ کو 2019 میں ایوان نمائندگان کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور 2021 میں دوبارہ امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دار کیا اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا جو موقع بنا وہ الگ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا سال بہ سال مختصراً:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ہر سال کے اہم واقعات اور پیشرفت کا خلاصہ یہ ہے:

    سال 2017:

    ٹرمپ نے 20 جنوری کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جو بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کا باعث بنا۔

    ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ تجارتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے نکل جائے گا۔

    ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے سفری پابندی جاری کی جسے بعد میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    سال 2018:

    ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کیے جو کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرتا تھا۔

    ٹرمپ نے بریٹ کیوانا کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کیا، لیکن جنسی زیادتی کے الزامات کی وجہ سے کیوانوف کی تصدیق میں تاخیر ہوئی۔ آخر کار سینیٹ سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

    ٹرمپ نے روس کے ساتھ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

    ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان سنگاپور میں تاریخی سربراہی ملاقات ہوئی، لیکن دونوں فریق جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    سال 2019:

    ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، لیکن سینیٹ نے مقدمے کی سماعت میں انہیں بری کر دیا۔

    ٹرمپ نے ایک ایسے بل پر دستخط کیے ہیں جو ایک دہائی میں دفاعی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ فراہم کرتا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ, میکسیکو کو ایک "محفوظ تیسرے ملک” کے طور پر نامزد کرے گا، جو پناہ کے متلاشیوں کی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنے کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے محدود کر دے گا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ شام سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

    سال 2020:

    ٹرمپ کو ایوان نمائندگان نے دوسری بار مواخذہ کیا، اس بار امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔

    ٹرمپ نے کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے جن میں ایک ایسا بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی مواد کو سنسر کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

    ٹرمپ کو 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن نے شکست دی تھی۔

    سال 2021:

    ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری کو ختم ہوئی، جبکہ جو بائیڈن ریاستہائے متحدہ کے 46 ویں صدر کے طور پر منتخب ہوگئے۔

    ٹرمپ کو 6 جنوری 2021 کوکیپیٹل پر یو ایس کانگریس بلڈنگ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سینیٹ میں مواخذے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کے حامیوں کا امریکی کانگریس پر حملہ:

    6 جنوری 2021 کو، اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے، ٹرمپ کے اس جھوٹے دعوے سے حوصلہ افزائی حاصل کی کہ 2020 کے صدارتی انتخابات ان سے چوری کیے گئے تھے، اس لیے الیکٹورل کالج کے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں حامیوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کیپیٹل پر دھاوا بول دیا۔ کیپیٹل پر حملےکے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں جماعتوں کے سیاست دانوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ایوانِ نمائندگان کی طرف سے ٹرمپ کو مواخذے کا شکار بنے۔ کیپیٹل پر حملہ امریکہ میں کسی سرکاری عمارت کی سب سے اہم خلاف ورزیوں میں سے ایک تھا۔ امریکی تاریخ میں اس حملے کو جمہوریت کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    امریکی کانگریس کے حملے کی وجہ اور اس کا پس منظر:

    کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے۔

    6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کے حملے کی ٹائم لائن:

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل:

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر امریکی حکام کا ردعمل:

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    امریکی کانگریس پر حملے کے بعد ٹرمپ کا مستقبل:

    یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا مستقبل کیا ہو گا۔ 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پرحملے کے بعد ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری 2021 کو ختم ہوئی، جب منتخب صدر جو بائیڈن نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 46 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ ٹرمپ کو کیپیٹل میں تشدد کو بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔

    مواخذے کی کارروائی کے علاوہ، ٹرمپ کو کیپیٹل پر حملے سے متعلق اپنے اقدامات کے قانونی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی اور مقامی حکام نے ہنگامہ آرائی میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کر دی، اور تحقیقات کا حصہ بنایا۔ یہ ممکن ہے کہ ٹرمپ کو اس حملے کے سلسلے میں مجرمانہ الزامات کی بدولت آئندہ عوام میں شدید ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ابھی اس پر کچھ واضح نہیں ہے۔

    قصہ مختصر:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    امریکی دارلحکومت پر حملہ 6 جنوری 2021 کو ہوا، جس میں ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں کیپیٹل پر دھاوا بول دیا، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ اس حملے پر، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

  • عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    انہوں نے اپنا ” عورت پن ” خود ختم کیا اور برابر کے حقوق کا نعرہ لگایا بلکہ فیمنزم کے نام پر اس برابری کے حصول کے لیے تحریک بپا کی ۔

    اس کے بعد یہ خواتین کس برتے پر خود کے لیے الگ سے عزت و احترام کا تقاضا کرتی ہیں ؟

    ان کا یہ مطالبہ بذات خود ان کے ایجنڈے کی نفی ہے ، لیکن کند ذہنی کے سبب سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ آٹھ مارچ کو عورت مارچ کے نام پر اکٹھ کر کے اور مطالبوں کے نام پر بےہودگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ” اضافی ” عزت و احترام کا انہیں کوئی حق نہیں ہے ۔

    ” لیڈیز فرسٹ ” اس کے بعد کہنا سیدھی سیدھی ” دھاندلی ” ہے ۔

    اگلا سوال ، کہ کیا اضافی عزت و احترام کا تقاضا کسی کا بنتا بھی ہے یا نہیں تو عرض ہے بلکہ ان کا بنتا ہے کہ جو واقعتاً معزز خواتین ہیں ، مذہب اور معاشرے کی درست تقسیم کو دل و جان سے قبول کرتی ہیں جوابی طور پر انہیں بسا اوقات مردوں سے بھی زیادہ عزت سے نوازا جائے گا ۔۔۔۔کہ ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مرگ پر ان کے بارے میں فرمان تھا کہ ان کا خیال کرنا ۔

    سو !

    سو ہم جب کبھی بازار میں نکلیں گے تو بارش دھوپ میں واحد چھتری ان کے سر پر تانیں گے اور خود دھوپ بارش سہیں گے ، ہم دن بھر جون جولائی کی گرمیوں میں محنت کر کے ان معزز خواتین کے لیے ٹھنڈی چھت ، ائیر کنڈیشنر ، پنکھے ، ائیر کولر فراہم کریں گے کہ یہ معزز خواتین ہیں ، ہم دن میں بازاروں کا غیر معیاری کھانا ، کھا کر انہیں گھر میں بہترین خوراک فراہم کریں گے ، ہم اپنے کپڑے سستے سستے سے بنائیں گے اور انہیں ہزاروں روپے کے برانڈڈ کپڑے اور وہ بھی الماری بھر بھر کر بنوا کر دیں گے ۔۔۔

    ہم ویگنوں سے لٹک کر سفر کر لیں گے اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے لاکھ لاکھ بلکہ کئی کئی ملین روپے کی بالیاں بندے کانوں میں بنوا کر دیں کہ یہ بقول رسول ہاشمی نازک آبگینے ہیں سو ان کا دل بھی تو خوش کرنا ہے ۔۔۔۔ یہ معزز خواتین ہیں ۔

    لیکن !

    جنہوں نے خود اپنا عورت پن ختم کیا وہ کیونکر ایسا اضافی اور خصوصی سلوک مانگتی ہیں ؟

    وہ ویگنوں سے لٹکیں پھر بات کریں ۔۔۔۔۔۔

    خصوصی سلوک و حقوق و حیثیت کی حق دار تو وہ معزز خواتین ہیں کہ جو خاص رہیں ، جو عام ہو گئیں وہ کیونکر طلب گار ہیں ۔۔۔۔۔

  • زندگی کی تلاش کیوں؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زندگی کی تلاش کیوں؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جانتے ہیں کہ زندگی کے لئے پانی کس قدر ضروری ہے۔ زمین پر زندگی کی ابتدا سمندروں میں ہوئی۔ آج سے 3.8 ارب سال قبل، زمین پر پہلے خلیے بنے جو خود کو تقسیم کر سکتے تھے۔ انہی سے آگے چل کر زندگی پھیلی اور ارتقاء سے مختلف انواع کے جاندار نمودار ہوئے جن میں ایک حضرتِ انساں تھا۔
    وہ زندگی جسے ہم جانتے ہیں اسکے لئے تین بنیادی شرائط ہونا ضروری ہیں۔

    1. پانی
    2. زندگی کے ضروری اجزا (کاربن، نائیٹروجن ، ہائیڈروجن، آکسیجن وغیرہ)
    3. توانائی

    زمین پر یہ تینوں موجود ہیں۔ سورج کی روشنی کم و بیش تمام زندگی کو توانائی مہیا کرتی ہے۔ سمندر پانی سے بھرے ہیں اور ہوا اور مٹی میں تمام اجزائے زندگی موجود ہیں۔ مگر کیا زندگی محض زمین پر ہے اور کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟

    آج ہم دوسرے سیاروں پر زندگی کی تلاش میں ہیں۔ اعتراض کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ اگر دوسرے سیاروں پر زندگی مل بھی گئی تو کیا فرق پڑے گا؟

    تو فرق یہ پڑے گا کہ ہم جان جائیں گے کہ کائنات میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔زندگی یہاں عام ہے اور ہم زیادہ بہتر طور پر کائنات میں عقل رکھنے والی دیگر مخلوقات کو ڈھونڈ اور اُن سے رابطہ کر سکیں گے۔ ہم جان سکیں گے کہ ہم زمین کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتے ہیں اور نسلِ انسان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹنے سے بچا سکیں گے۔ سائنس کیا ہماری پوری زندگی لاشعوری طور پر موت کے خلاف مزاحمت کا نام نہیں ہے؟ بقا کی کوشش انسان کی سرشت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج اتنی ترقی کر رہے ہیں۔

    مگر دوسرے سیاروں پر زندگی کیسی ہو گی؟

    آج ہم جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی کے کسی سیارے یا چاند پر کوئی مخلوق ایسی نہیں بستی جو انسانوں جیسی ہو مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ان سیاروں پر کوئی بنیادی زندگی کی صورتیں جیسے کہ مائکروبس یا بیکٹیریا یا وائرس موجود ہیں؟

    مریخ اور مشتری کا چاند یوروپا زندگی کی تلاش کے لیے موضوع جگہ ہیں۔ مریخ اس لیے کہ اسکے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے اربوں سال پہلے یہاں سمندر تھے۔ یہاں کی فضا کثیف تھی، اسکے گرد مقناطیسی حصار تھا اور ممکن ہے یہاں زندگی پنپتی ہو ۔ اگر ایسا ہے تو یہ ممکنات میں سے ہے کہ مریخ پر مائیکروب کی صورت زندگی اب بھی موجود ہو۔

    اسی طرح مشتری کا چاند یوروپا جہاں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سطح پر پانی کی برف اور اسکے نیچے بہت بڑے سمندر ہیں۔ یہاں بھی زندگی ممکن ہے اور اسکے لئے ناسا 2024 میں Clipper نامی سپیس کرافٹ بھیجے گا جو کئی دفعہ اسکے قریب سے گزر کر اسکی فضا اور سطح پر مختلف سائنسی آلات می مدد سے زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔

    انسان کو خلا میں گئے ایک صدی سے بھی کم عرصہ ہوا ہے اور کائنات بے حد وسیع ہے۔ اس میں اتنے کم عرصے میں محدود زمینی وسائل کے ساتھ زندگی کو ڈھونڈنا ایک مشکل عمل ہے۔ اور اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ شاید ہمیں زمین کے علاوہ زندگی ڈھونڈنے میں کئی سال یا صدیاں لگیں۔ مگر یہ امکان ہر صورت موجود ہے کہ کائنات اور ہماری کہکشاں ملکی وے میں کہیں نہ کہیں زندگی کسی صورت ضرور موجود ہو گی۔۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

  • باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    چاول کے پودے سے نکلے ریشے سے بنے تتامی غالیچے جاپانی تہذیب کی نشانی ہیں. اسے یہ گھر میں بچھاتے ہیں اسی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اسی پر لیٹ کر سو جاتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ یہ تتامی غالیچہ کافی نازک ہوتا ہے. یہ گیلا ہو جائے تو بھی مسئلہ، گرد آلود ہوا تو فنگس لگ جاتی ہے. جاپانیوں نے اسکا حل صفائی میں نکالا. جاپانی گھر بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں. گھر کا ہر فرد اندر داخل ہونے سے پہلے جوتے نکال لیتا ہے. بھاری بھرکم کپڑے دروازے پر ہی اتار لیتا ہے اور ان کے برتن گہرے بڑے ہوتے ہیں. تاکہ کچھ گرنے کا چانس ہی کم ہو.

    یورپ اور دوسرے ٹھنڈے ممالک میں بھی گھر کے دروازوں پر ایک ہینگر سٹینڈ ہوتا ہے. آپ اپنے اوور کوٹ اور لمبے بھاری جوتے دروازے پر اتار کر داخل ہوتے ہیں. ہمارے ہاں ایسے رواجوں کی طرف کم ہی کسی کا دھیان جاتا ہے. ہم سب کچھ پہنے گھر میں داخل ہوتے ہیں. باہر کے استعمال کے جوتے ہی کیا باہر کی زندگی بھی اپنے ساتھ کھینچ کر اندر لے آتے ہیں.

    کوئی بھی کاروبار ہو آفس ہو نوکری ہو یا روزگار اس میں اونچ نیچ کام کا حصہ ہے. بلکل ویسے ہی جیسے روز آتے جاتے سڑک کی ٹریفک پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا ایسے ہی کام کی ایک اپنی ٹریفک ہوتی ہے. کبھی کھلی سڑک ملتی ہے کبھی ٹریفک جام تو کبھی سگنلز بند تو کبھی یہاں ٹکر وہاں ٹکر. لیکن یہ عملی زندگی کے میدان کا کھیل ہی تو ہے.

    مسئلہ تب بنتا ہے جب ہم یہ سب کچھ سر پر سوار کر لیں. اور بڑے مسائل تب بنتے ہیں جب یہ سواریاں ہم اپنے ساتھ گھر پر بھی لے آئیں. گھر میں سارا دن انتظار کرتے بچے خواتین تتامی کے غالیچے کی طرح نازک اور کمزور ہوتے ہیں. وہ یہ پریشر برداشت نہیں کر سکتے. اور ماحول بگڑنے لگتا ہے. ہمیں بھی اپنے دروازوں پر ہینگر لگانے چاہئے. جہاں گھر کا رواج بنا دیا جائے کہ باہر کی آلودگی یہاں ٹانگ کر اندر آنا ہے.

    ایک پرسکون گھر سے سکون حاصل کر کے نکلا فرد پھر دن بھر کا یہ کھیل سکون سے کھیل سکتا ہے.

  • پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پرانے زمانے میں پاکستان ٹپلیوژن پر موسم کی خبروں میں اور کچھ ہوتا نہ ہوتا یہ خبر ضرور ہوتی کہ ” پورے ملک میں اس وقت موسم خشک ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں ہلکی ہلکی بوندا باندی کے آثار ہیں”. خدا خبر مالاکنڈ کی عوام ہر روز یہ خبر سن کر کیا سوچتی ہو گی؟

    مگر آج پورے ملک میں بوندا باندی نہیں بلکہ زارو قطار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ اس وقت دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے گزر رہی ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے دنیا کی معیشت پر کس قدر منفی اٹرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کہیں سیلاب آ رہے ہیں تو کہیں طوفان، کہیں قحط سالی ہے تو کہیں پانی اور خوراک کی قلت۔

    دنیا میں اس وقت ماحولیاتی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ جرمنی میں حالیہ الیکشن کے نتیجے میں حکومت بنانے والی پارٹیوں میں ماحول دوست گرین پارٹی کی کئی سیٹیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے یورپی ممالک جیسا کہ آسٹریا، بیلجیئم ، فن لینڈ، آئرلینڈ اور سویڈن میں بھی ایسی ماحول دوست پارٹیاں اُنکی حکومتوں کا حصہ ہیں۔

    پاکستان میں البتہ اس طرف یا اس منشور پر عوامی سطح پر کوئی خاطر خواہ تحریک نظر نہیں آتی حالانکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔

    ماحولیاتی تحریکیں یا گرین مومنٹس کی ابتدا ترقی یافتہ مملک میں کافی عرصے سے زور پکڑ رہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت تب دیکھنےمیں آئی جب 2018 میں تن تنہا سویڈن کی ایک پندرہ سالہ لڑکی گریٹا تُھنبرگ جمعہ کے روز سکول جانے کی بجائے سویڈن میں پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ جاتیں۔ اُنکے دھرنے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے فیصلہ سازوں اور پالیسی سازوں کو باور کرانا تھا اور ان سے بچاؤ کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرنے پر زور دینا تھا۔

    اُنکی کوشش کامیاب رہی اور جلد ہی اُنہیں مقامی اور بین القوامی فورمز پر ان تبدیلیوں کے حوالے سے بات کرنے کے لئے بلایا جانے لگا۔ اسی تحریک کے باعث 2019 میں یورپ میں کئی یورپی گرین پارٹیوں نے اپنے اپنے ملکوں اور یورپین یونین کے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔

    آج دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ کاربن ایمیشن کو کم کر کے ہی زمین کو مستقبل کے انسانوں کے لئے بچایا جا سکتا ہے۔ گو اس حوالے سے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر جس تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اُنکے مقابلے میں یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

    2016 کے پیرس معاہدے میں شریک 196 ممالک نے اس عزم کا ایادہ کیا کہ زمین پر 2050 تک کاربن ایمیشن کو صفر تک لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ آج دنیا کی کل کاربن ایمیشن 35 ارب ٹن سالانہ کے قریب ہے۔

    پیرس معاہدے میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پچھلے دورِ حکومت میں ماحولیات کے حوالے سے اقدامات اُٹھائے گئے جن میں شجرکاری کا منصوبہ اہم تھا۔ مگر اسکے علاوہ بھی پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع کا حصول یقینی بنانا ضروری ہے۔

    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کو قدرت نے بھرپور نوازا ہے۔ یہاں تقریبآ سارا سال کی سورج کی روشنی پڑتی ہے۔اسکے علاوہ سمندر سے آنے والی ہوائیں بھی ملک کے بیشتر جنوبی علاقوں خاص کر سندھ اور بلوچستان میں چلتی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان توانائی کے ماحول دوست متبادل جن میں شمسی توانائی اور ہوا شامل ہے سے نہ صرف بھرپور بجلی بنا سکتا ہے بلکہ اسے درآمد کر کے کثیر زرِ مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔

    2020 میں شمسی توانائی کے حوالے سے ورلڈ بینک کے تعاون سے تیار کردہ رپورٹ یہ بتاتی ہے اگر پاکستان اپنے کل رقبے پر سولر پارکس بنائے تو اس سے اسکی قبے کا
    محض 0.07 فیصد کی تمام ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
    یہ رقبہ کتنا بنتا ہے؟
    لاہور سے بھی آدھا!!

    اس رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان 2030 تک متبادل شمسی اور ہوا کے ذرائع سے 24 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر لےتو اس سے اگلے بیس سال میں پیٹرول کی مد میں 5 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہو سکتی ہے۔ اسکے ساتھ وقت پاکستان متبادل ذرائع سے تقریباً 1500 میگاواٹ بنا رہا ہے جو کل بجلی کی پیداوار کا محض 2 فیصد ہے۔

    اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو ہر ماہ متبادل ذرائع سے 150 سے 200 میگاواث بجلی بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گیاور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

    حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور متبادل توانائی کے شعبے میں ہنرمند پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے۔

  • "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    شیر شاہ کراچی میں کار کی پسنجر سیٹ پر انتظار کرتے شیشے سے دیکھا ایک لمبا تڑنگا مجہول سا سادہ آدمی مجھے غور سے دیکھ رہا ہے. آنکھیں چار ہوئیں تو وہ میری طرف بڑھا. سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دماغ نے کئی تجزیے کر ڈالے. یہ خطرناک علاقہ ہے لوٹنے والا نہ ہو.؟ یہ ضرور اب کچھ مانگے گا.؟ سیل فون بٹوہ کہاں ہے؟ کیا اوپری جیب میں کچھ کھلے پیسے ہیں؟

    وہ آدمی جب پہنچا تو اس نے پوچھا باو جی خیریت تو ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں. میں نے کہا نہیں بھائی سب ٹھیک ہے دوست کا انتظار کر رہا ہوں. اس نے بند مٹھی میں مکئی کے دانے پکڑے تھے جو وہ کھا رہا تھا. اس نے کچھ شرمندگی سے کہا باو جی کھاو گے.؟ میں نے کچھ دانے لئے اور کہا کیوں نہیں بس بھائی دعا کرنا میری نظر کچھ کمزور ہے.

    سچی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی ہی نظر کمزور ہیں. ہم فوری دوسروں پر دیکھ کر ایک رائے بناتے ہیں اور اپنی سوچ و رائے کو ختمی سمجھ لیتے ہیں. یہی حال اسپیشل لوگوں پر معاشرتی سوچ کا ہے. ہم ان کو معذور سمجھ کر زندگی کا بوجھ سمجھ لیتے ہیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ اللہ جس نے ہمیں اگر مکمل بنایا تو اپنے ایک دوسرے بندے کو نامکمل کیوں بنایا.؟

    اللہ رب العزت انسانیت کی تصویر مکمل کرنے کیلئے ہمیں خالی جگہیں دیتا ہے. ان خالی جگہوں پر ان اسپیشل لوگوں کو مکمل سمجھ کر جب ہم جگہ دیتے ہیں تو تصویر مکمل ہوتی ہے. معاشرے کی سوچ جب معذور ہو جائے تب یہ خالی جگہیں نامکمل رہتی ہیں اور معاشرہ ٹھوکر پر ٹھوکریں کھاتا چلا جا رہا ہوتا ہے.

    ہماری بہن حنا سرور کی کتاب نامکمل زندگی بھی ایک شاندار اسپیشل شخصیت کی یہی سمجھاتی کوشش ہے. اسے مکمل پذیرائی دے کر اپنی بینائی کا ثبوت دیں. زندگی آپ کو بڑے بڑے عالم اور لکھاری فلسفی نہیں سمجھا سکتے. زندگی ہمیشہ عام لوگوں کی عام باتوں پر سمجھ آتی ہے بس اگر آپ کی نظر ٹھیک ہو.

  • محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    کونو میگریگا آئرش باکسر ہے. ایک بار اپنی بیوی پر ہوئے ایک سوال پر اُس نے کہا جب مجھے کوئی نہیں جانتا تھا تب بھی میں ایک باکسر بننا چاہتا تھا. مجھے اپنا یہ خواب پورا کرنے کیلئے وقت تربیت اور ایک اتھلیٹ کی خوراک چاہئے تھے. آئرلینڈ میں ڈبلن سے تیس کلومیٹر دور کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں تب میرے ساتھ ایک ہی ہستی تھی. وہ میری بیوی تھی.

    اسے یقین تھا کہ میں باکسر بن جاوں گا. اسی نے وہ تکلیف اٹھائی وہ دور میرے ساتھ برداشت کیا جب ہمارے پاس کچھ نہ تھا لیکن خواب بہت بڑے تھے. آج میرے پاس سب کچھ ہے میں اس کیلئے کوئی بھی گھر گاڑی خرید سکتا ہوں. لیکن وہ کل بھی مجھے خوش دیکھنا چاہتی تھی اور آج بھی وہ میرے لئے ہی خوش ہے.

    محبت اور وفا کی کہانیاں کبھی ایک منظر دیکھ کر سمجھ نہیں آتیں. رتن ٹاٹا نے کیوں شادی نہیں کی.؟ وفا کی یہ داستان آج ایک کامیاب مشہور و دولتمند شخص کو دیکھ کر سمجھ نہیں آئے گی جب تک تاریخ کے ورق پلٹ کر آپ لاس اینجلس امریکہ کی اُس لڑکی تک نہ چلے جائیں جس سے رتن نے شادی کا وعدہ کیا تھا.

    محبت اور وفا کی کہانیاں بہت انمول ہوتی ہیں. جب کوئی وفا کی اپنی کہانی میں ثابت قدم رہتا ہے وقت پھر اس کہانی اور اس کے کرداروں کو کامیاب بناتا ہے. اتنا کامیاب جسے اکثریت جان لے. وفا کی یہ کہانی پھر مثال بنتی ہے کچھ نئی کہانیوں کی ابتداء ہوتی ہے.

  • آلو کی بھجیا — عین حیدر

    آلو کی بھجیا — عین حیدر

    بچے کو ٹیوشن پر چھوڑ کر واپس گھر جا رہے تھے تو بیگم نے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر رکنے کو کہا۔۔ میرے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ جیب کی غربت بھی ہچکولے لینے لگی۔۔ وجہ پوچھنے پر بیگم نے بتایا کہ آلو خریدنے ہیں۔۔۔

    میں نے شکوک و شبہات کے بیچوں بیچ بائیک پارکنگ میں کھڑی کی اور بیگم کو لے کر سٹور میں داخل ہو گیا۔۔۔

    بیگم سیدھی کاسمیٹک اور جیولری والی سائیڈ کی طرف لپکی۔۔ کافی دیر تک جیولری اور دوسری اشیاء دیکھتی رہی۔۔۔ وہاں سے کراکری والے پورشن میں چل دی۔۔۔ میں بھی لیلے کی طرح پیچھے ہو لیا۔۔۔ کچھ دیر شیشے اور پلاسٹک کی کراکری اٹھا اٹھا کر دیکھتی رہی۔۔۔

    بیگم کی حسرت بھری نگاہوں اور والہانہ انداز سے مجھے لگا کہ آج لمبا خرچہ ہونے والا ہے۔۔۔میں نے دل ہی دل میں پارکنگ میں کھڑی اپنی پرانی بائیک کی قیمت لگائی تو بیس بائیس ہزار سے زیادہ ملتے نظر نہ آئے۔۔۔ رکشے کا کرایہ جیب میں رکھ کر بھی خریداری کرنے پر وہ سب کچھ نہیں ملنے والا تھا جو بیگم دیکھ رہی تھی۔۔۔

    میرے اندر درد کی ایک لہر ابھری اور سوچ آئی کہ لوئر مڈل کلاس کی خواتین کتنی حسرتیں دل میں دبا کر زندگی جھیلتی ہیں۔۔ لیکن غریب اور مجبور خاوند تو صرف دعائیں ہی کر سکتا ہے، چنانچہ میں نے اب دعاؤں پر زور دیا۔۔ اور بیگم کے دل کے نرم ہونے کی دعائیں کرنے لگا۔۔ شاید قبولیت کی گھڑی تھی، بیگم وہاں سے واپس پلٹی اور سبزی والے علاقے کی طرف چل دی، جاتے جاتے ہینڈ بیگز، پرفیومز اور دیگر چیزوں کے قریب رک رک کر دیکھتی رہی۔۔۔

    میں بدستور لیلے کی طرح پیچھے پیچھے ہی پھرتا رہا ۔۔۔ آخر کار اس نے ایک کلو آلو خرید ہی لئے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ میں نے کاؤنٹر پر پیسے ادا کئے اور ہم باہر آ گئے ۔۔۔

    بائیک پر بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا۔۔۔ "بیگم، لینے تو تم نے صرف ایک کلو آلو تھے، اور دیکھ پورا سٹور آئی ہو”…

    اگرچہ میرا سوال کئی قسم کے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔۔لیکن بیگم نے کمال سادگی سے جواب دیا ۔۔۔۔ کہنے لگی "راشد علی، بات یہ ہے کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    بات تو بیگم کی سچ ہی تھی لیکن میں بھی کیا کر سکتا تھا، چنانچہ خود کو آلو آلو سا سمجھتے ہوئے بائیک کو کک لگائی اور گھر کو چل دیئے۔۔۔

    راستے میں ایک بڑا شادی ہال پڑتا ہے۔۔وہاں پہنچے تو سڑک پر کافی رش تھا، شاید ابھی ابھی بارات پہنچی تھی اور گاڑیوں میں سے گویا سجی سنوری پریاں نکل نکل کر شادی ہال کے اندر جا رہی تھیں۔۔۔

    میں نے بائیک ایک طرف روک دی۔۔اور اللہ کی بنائی ہوئی حسین جمیل مخلوق کو انہماک سے دیکھنے لگا۔۔۔

    بیگم نے کچھ دیر تو صبر کیا، پھر بولی ۔۔ "اب چلیں گے بھی یا دلہن کو وداع کر کے ہی جانے کا ارادہ ہے”…

    میں نے جواب دیا۔۔۔”بیگم، اصل میں تمہاری بات یاد آ گئی تھی۔۔۔تم نے بالکل ٹھیک کہا تھا”۔۔۔

    کہنے لگی۔۔۔ "کون سی بات یاد آ گئی اب”..؟

    میں نے جواب دیا۔۔۔”وہی، جو تم نے کہا کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    میری بات سنتے ہی بیگم کا ضبط جواب دے گیا اور گھر پہنچنے تک آلو کی بھجیا تقریباً تیار ہو چکی تھی۔۔۔

  • گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    دو سال قبل گھر میں چوری ہوئی تھی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ جلد ہی چور بھی پکڑ لیے اور سامان بھی برآمد کر لیا۔ اس دوران چوروں سےپوچھ گچھ کے دوران، پولیس والوں سے اور دوسرے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا۔ جن کی بنیاد پر کچھ پوسٹس تیار کی ہیں کہ چوری سے کیسے بچا جا سکتا ہے، اگر خدانخواستہ گھر میں چوری ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔

    1) کہیں جائیں تو باہر والے دروازے کو باہر سے تالا ہرگز نہ لگائیں۔ سب سے زیادہ اسی بات سے چوروں کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ اگر گھر کے ایک سے زیادہ دروازے ہیں تو کسی ایک دروازے کو باہر سے ہمیشہ تالا لگا کر رکھیں تاکہ کہیں جانا پڑے تو وہی تالاباہر سے لگا کر چلے جائیں۔ اس طرح معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپ گھر پر نہیں ہیں کیونکہ وہ تالا تو ہمیشہ ہی باہر سے لگا رہتا ہو گا چاہے آپ گھر پر ہوں یا نہ ہوں۔

    2) آج کل ایسی لائیٹس مل جاتی ہیں جو کہ اندھیرا ہونے پر خود جل پڑتی ہیں۔ تھوڑی بجلی کھانے والی ایسی دو تین لائٹس گھر میں ضرور لگائیں۔ لیکن اگر یہ نہ ہوں تو پھر کوئی لائٹ آن چھوڑ کر نہ جائیں کہ جو لائٹ دن رات چلتی رہے اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔

    3) اگر زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تو کسی نہ کسی جاننے والے کو باہر والے دروازے کی چابی دے کر جائیں کہ وہ روزانہ ایک بار گھر میں ضرور چکر لگا لیا کرے۔

    4) چائنہ والا کوئی بھی تالا نہ لگائیں۔ ان کو کھولنا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔ اس کی بجائے دیسی تالے لگائیں جن کی چابی بڑی مشکل سے بنتی ہے۔

    5) بیرونی دروازے لکڑی کے ہرگز نہ لگوائیں۔ بیرونی دروازے لوہے کے ہونے چاہیے، ایک تو انھیں توڑنا مشکل ہوتا ہے دوسرا توڑنے کی کوشش کی جائے تو آواز بہت آتی ہے جس کی وجہ سے کوئی چور انھیں ہاتھ نہیں ڈالتا۔

    6) اگر تین چار گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے گھر سے باہر جا رہے ہوں تو جتنے بھی دروازے ہوں سب کو تالے لگا کر جائیں۔ ان کمروں کو بھی جن میں کچھ بھی خاص نہ پڑا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ خدانخواستہ کوئی چور آ بھی جائے تو زیادہ وقت اس کا تالے توڑنے میں ہی گزر جائے۔ چور کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد چیزیں سمیٹ کر چلتا بنے۔ پھر جس کمرے کو جتنا بڑا تالا ہو چور سمجھتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی قیمتی چیز ہو گی۔

    7) سونے چاندی اور کیش کو کم سے کم مقدار میں گھر پر رکھیں۔ اگر کبھی مجبوری کی وجہ سے گھر پر ہو تو جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی جاننے والے کے پاس رکھوا جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو یا کم وقت کے لیے کہیں جا رہے ہوں تو پھر کسی ایسی جگہ رکھ کر جائیں جہاں چوروں کا خیال بھی نہ جائے جیسے واشنگ مشین میں، دھونے والے کپڑوں میں، کسی برتن میں وغیرہ وغیرہ

    8) گھر میں کام کرنے والی عورتوں یا مردوں، دودھ والے یا کسی بھی دوسرے شخص کو یہ نہ بتائیں کہ واپسی کب ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ کل نہیں آنا، جب آپ کو بلانا ہوا کال کر دیں گے۔ ایک دن کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں، زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں۔

    9) گھر میں سیکیورٹی کیمرے ضرور لگوائیں۔ خاص طور پر ایسے کہ جن کی ویڈیو موبائل پر دیکھی جا سکے اور جن میں Motion Detection کا فیچر لازمی ہے۔ آج کل یہ بیس تیس ہزار میں لگوائے جا سکتے ہیں۔ اگر کیمرے لگوانا ممکن نہ ہو تو پھر بازار سے ڈمی کیمرے ملتے ہیں وہ لگوا لیں دو چار سو روپے میں۔ کیمرے کے ڈر کی وجہ سے ہی بہت سے چور گھر میں نہیں گھستے۔

    10) اگر گھر میں کام کرنے والی رکھنا ناگزیر ہوتو پھر اس کا لازمی طور پر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر فری میں اندراج کروائیں،اس کے شناختی کارڈ کی کاپی لازمی رکھیں، اس کا گھر بھی دیکھ لیں اور یہ بھی معلوم کر لیں کہ گھر اپنا ہے یا کرائے کا۔ ان کو ترجیح دیں جن کا گھر اپنا ہو۔

    اگر خدانخواستہ چوری ہو جائے تو پھر کیا کرنا چاہیے کہ چور پکڑے جائیں۔

    1) آپ کہیں باہر سے آئیں اور معلوم ہو کہ خدانخواستہ گھر میں چوری ہو گئی ہے تو سب سے پہلے 15 پر کال کریں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ فرینزک والی ٹیم کو لازمی بھیجیے گا جو فنگر پرنٹس لے سکے۔ یاد رکھیں کہ مقامی تھانے میں ہرگز کال نہ کریں نہ ہی وہاں جائیں۔ وہاں جانے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہونا۔ 15 پر کی گئی کال ریکارڈ ہوتی ہے اور اس پر لازمی ایکشن لیا جاتا ہے۔ 15 پر کی گئی کال کی وجہ سے پولیس فوراً آپ کے گھر آئے گی۔

    2) جس گھر میں چوری ہوئی ہو یا گھر کے جس حصے میں چوری ہوئی ہو اس میں کسی کو بھی نہ جانے دیں، خود بھی نہ جائیں جب تک کہ فرینزک والے فنگر پرنٹس نہ لے لیں۔

    3) فنگر پرنٹس لیتے وقت پولیس کے ساتھ رہیں اور اگر کوئی چیز ایسی نظر آئے جس پر کوئی نشانات ہوں تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔ فنگر پرنٹس شیشے اور صاف پلاسٹک والی چیزوں پر بہت اچھے آتے ہیں۔ اگر کسی چیز پر پینٹ ہوا ہو تو اس پر بھی۔ بعد میں پولیس سے پوچھتے بھی رہیں کہ کیا فنگر پرنٹس نادرا بھجوا دیے ہیں یا نہیں۔ اور اگر بھجوا دیے ہوں تو ان کا کیا بنا۔ اگر میچ نہ ہوں تو جن پر شک ہو ان کے فنگر پرنٹس لے کر بھجوائیں۔ آج کل فنگر پرنٹس سے بہت سے چور پکڑے جا رہے ہیں۔

    4) ایک دفعہ پولیس اپنی کاروائی پوری کر لے تو پھر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر اپنی شکایت درج کروائیں اور اس کا حوالہ نمبر حاصل کریں۔ یاد رکھیں کہ یہ ایف آئی آر نہیں ہے۔

    5) اگلے دن آفس کی ٹائمنگ میں جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کریں۔ یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوگی مگر جتنے بھی ممکن تعلقات ہوں سب کو بروئے کار لا کر ہر حال میں ایف آئی آر درج کروائیں۔ تعلقات سے بھی نہ درج ہو تو 8787 پر کال کر کے بتائیں کہ یہ مسئلہ ہے اور ایف آئی آر درج نہیں کر رہے۔

    6) ایف آئی آر میں کم سے کم دو گواہوں کے نام ضرور لکھوائیں اور اگر کوئی موبائل وغیرہ بھی چوری ہوئے ہوں تو ان کے IMEI نمبر ضرور لکھوائیں۔ اور ان کو لازمی طور پر ٹریکنگ پر لگوائیں اور ان کا پتہ بھی کرتے رہیں سی ڈی یو برانچ سے۔

    7) ایک دفعہ ایف آئی آر درج ہو جائے تو پھر خود سے بھی کوشش کرتے رہیں اور پولیس پر بھی مختلف طریقے سے دباؤ ڈلواتے رہیں کہ وہ چوروں کو گرفتا ر کرے۔ پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ چوری کس نے کی ہے۔ آپ کوئی تگڑی سفارش لے آئیں تو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔

    8) یاد رکھیں کہ چوری والے معاملے میں کبھی بھی کسی بھی حال میں پولیس والوں کو پیسے نہ دیں ورنہ اتنے کی چوری نہیں ہو گی جتنے آپ پیسے لگا بیٹھیں گے اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آنا۔ کچھ دن بعد آپ نے تنگ آ کر خود ہی جانا چھوڑ دینا ہے۔ اگر پیسے نہیں دیں گے تو آپ کئی بار چکر لگا سکتے ہیں پولیس سٹیشن کے۔

    9) اگر آپ خوش قسمت ہوں اور چور پکڑے جائیں تو پھر لازمی طور پر لسٹ بناتے جائیں کہ کس چور سے کیا برآمد ہوا ہے اور پولیس کو کہیں کہ جس سے جو بھی برآمد ہوا ہے وہ اس پر ڈالیں۔ پولیس اکثر چوروں پر نہیں ڈالتی جس سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں۔

    10) یاد رکھیں کہ مجرموں سے سامان پولیس نے ہی برآمد کروا کر دینا ہے عدالت نے نہیں۔ اس لیے پولیس کو کہیں کہ ریمانڈ لے اور چالان نہ کرے مجرموں کا۔ ایک دفعہ جیل چلے گئے تو آپ کو کچھ نہیں ملنا۔

    11) اگر مجرموں کی طرف سے کوئی آپ سے مذاکرات کرنا چاہے تو اس سے بات چیت لازمی کریں تاکہ آپ کو آپ کا سامان مل سکے۔ اور اگر کوئی مجرم پکڑا جائے تو اسے ہرگز تھانے سے باہر نہ آنے دیں جب تک کہ آپ کو سامان نہ مل جائے۔

    12) اس کے بعد کوئی وکیل کر کے مجرموں کو سزا دلوانے کی بھی پوری کوشش کریں۔