Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈی جی کینال اور رابطہ نہروں کو سالانہ کیا جائے

    ڈی جی کینال اور رابطہ نہروں کو سالانہ کیا جائے

    ڈی جی کینال اور رابطہ نہروں کو سالانہ کیا جائے
    تحریر : ملک خلیل الرحمٰن واسنی
    پنجاب کا آخری اور پسماندہ ترین ضلع, ضلع راجن پور اسکی تینوں تحصیلیں روجھان،راجن پور ،جام پور ،قبائلی علاقہ /ٹرائیبل ایریا، علاقہ پچادھ جو کہ ہر دور میں میگا پراجیکٹس سے محروم رہا ہے بدقسمتی کہیں یا ستم ظریفی ہر دور میں استحصال و پسماندگی کا بھی شکار رہا ہے یہاں کا زیر زمین پانی کڑوا اور مضر صحت ہے پینے کے پانی اور فصلات کی سیرابی کا واحد ذریعہ تونسہ بیراج سے نکلنے والی ڈی جی کینال،اسکی لنک کینالز ، داجل کینال،لنک تھری کینال اور قادرہ کینال اور مزید درجنوں چھوٹی چھوٹی نہریں ندی نالے جوکہ سینکڑوں کلومیٹرز پر محیط ہیں اور صوبہ سندھ کی سرحد تک ٹیل کے لاکھوں انسانوں ، جانداروں کو پینے کے پانی کی فراہمی کیساتھ ساتھ ہزاروں ایکڑ رقبہ پر فصلات کی سیرابی کا ذریعہ ہیں جوکہ کاغذی کاروائی اور فائلوں کی حد تک تو ششماہی ہیں مگر پانی سہ ماہی بنیادوں پر بھی میسر نہیں؟ گندم،کپاس گنا و دیگر اجناس کی بہترین کاشت کے بہترین رقبے ہیں مگر پانی کی عدم فراہمی کے باعث غریب و مجبور و بے بس و لا چار متوسط طبقے کا عام کسان ، کاشتکار، چھوٹا زمیندار شدید مشکلات و پریشانیوں کا شکار ہے متعلقہ حکام و افسران اس اہم ترین مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے سے قاصر ہیں اور ہر دور طفل تسلیوں ، جھوٹے وعدوں دعووں اور فنڈز کی عدم کی دستیابی کا کہہ ٹال دیتے ہیں اور اپنے فرائض سے عہدہ برآں ہوجاتے ہیں جسکے سبب ہر تین ماہ بعد یہاں کا کسان احتجاج دھرنوں اور محکمہ انہار کے دفاتر کے گھیراؤ پر مجبور ہوتا ہے اور سینکڑوں کسانوں پر جھوٹے اور من گھڑت پرچے ایف آئی آرز بھی درج ہوئیں جہاں انہوں نےتھانوں ، جیلوں، کچہریوں کی صعوبتیں بھی برداشت کیں جس کے بعد نہروں میں پانی میسر آتا ہے جبکہ اس کے برعکس ہر سال مون سون بارشوں کیصورت میں کاہا۔،چھاچھڑ ،سوری ،پتوخ و دیگر دروں اور سیلابی نالوں و ریلوں سے غریب کسان ڈوب رہا ہوتا ہے اور اپنی قیمتی جانیں ،املاک، جانور، فصلیں سیلاب کی نذر کر بیٹھتا ہے یاپھر 6سے 9 ماہ خشک سالی کا شکار رہتا ہے جبکہ سابق صدر فاروق احمد لغاری کے دور 1980 کی دہائی سے مڑنج /مرنج ڈیم کی تعمیر کا سنتے آئے ہیں جس کی فیزیبلیٹی رپورٹس اور نیسپاک سے معاہدوں کیصورت میں کروڑوں روپے خرچ کردیئے گئے طیب ڈرین پراجیکٹ اور ڈی جی کینال و داجل کینال کے توسیعی منصوبوں پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہوچکے مگر ان سب کے باوجود ضلع راجن پور کے انڈس ہائی وے کے مغربی طرف سے سیلابی ریلے تباہی مچاتے ہیں اور مشرقی جانب سے دریائی کٹاؤ بربادی کا مؤجب ہے پنجاب اسمبلی میں بھی مخصوص نشت پر خاتون ممبر پنجاب اسمبلی محترمہ شازیہ عابد ایڈووکیٹ صاحبہ بارہا آبدیدہ ہوکر اس ایوان کو توجہ دلاچکیں مگر افسوس آج تک صورتحال ابتر سے ابتر ہے اور مزید ابتر ہوتی جارہی ہے۔
    ان کینالز کی سالانہ بھل صفائی، پشتوں کی مضبوطی ان کینالز کے اطراف لگے درختوں کا کٹاؤ و خاتمہ ایک الگ بحث ہے؟
    کہنے کو تو دنیا کا بہترین نہری نظام ہمارے ملک میں ہے مگر سیلاب کے خطرہ کے پیش نظر سیلابی ریلوں کی قدرتی گذرگاہوں کی صفائی تک یقینی نہیں بنائی جاتی اور 2022 کے سیلاب سے متاثرہ نہروں ، ندی نالوں کے پشتوں کی مضبوطی اور لگے کٹس تاحال پر نہیں کیئے گئے جو کہ متعلقہ محکموں و اداروں کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں اور یہاں کے کسان کاشتکار کو پسماندہ رکھنے و پسماندہ کرنے کی شاید ایک سوچی سمجھی سازش ہے؟ جو کہ بہت بڑا المیہ ہے اور اور سب سے بڑھ کر بدقسمتی سابقہ ادوار میں صوبائی وزیر آبپاشی بھی اس ضلع سے رہے ہیں جو یہاں کے غریب عوام کو یہ بنیادی سہولت فراہم کرنے میں ہر دور میں ناکام رہے ہیں
    اس لیئے متعلقہ حکام سے دست بستہ گزارش،اپیل التجاء اور پر زور و بھر پور مطالبہ ہے کہ ڈی جی کینال، داجل کینال، لنک تھری کینال، قادرہ کینال میں سالانہ بنیادوں پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ غریب کسان کاشتکار کا معاشی استحصال اور معاشی قتل عام ختم ہوسکے
    پر امید ہیں کہ اپنی اولین فرصت میں اور ترجیحی بنیادوں پر اس اہم حل طلب معاملے کے مستقل حل کے لیئے آپکے قلم کی ایک جنبش بدقسمت ضلع راجن پور اور اسکے لاکھوں علاقہ مکینوں کی معاشی ترقی میں بہتری اور استحکام کے لیئے عظیم تر کار خیر کا باعث ہوگی

  • ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں

    سیما غزل

    پیدائش:17فروری 1964ء
    لاہور، پاکستان

    پیدائش لاہور میں جمیل الدین عالی(چچا) کے گھر ہوئی لیکن کراچی میں پروان چڑھی۔ وہیں تعلیم حاصل کی۔ ادبی گھرانے سے تعلق ہے۔ والد شاعر اور ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے۔ ریڈیو سے ”آئو بچو کہانی سنو“ لکھنے سے شروعات کی۔ پھر 1989 میں پاکستان کے مشہور رسالہ ”دوشیزہ“ کی ایڈیٹر رہیں اور ساڑھے 12 سال ذمےداری نبھائی۔ پھر ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھنے لگیں۔ کئی ڈرامے بے پناہ مشہور ہوئے جن میں مہندی، چاندنی راتیں، انا، ہم سے جدا نہ ہونا کو لگاتار ہر سال لکس ایوارڈ ملے۔ اب تک تقریبا” 400 سے زیادہ ٹی وی ڈرامے لکھ چکی ہیں جس میں سے 375 سے زیادہ آن ائر آچکے ہیں اب بھی 4 سے زیادہ ڈرامے آن ائر ہیں جن میں اے آر وائی پہ ”دل نہیں مانتا“، ہم ٹی وی پہ ”دے اجازت جو تو“ ہم 2 پہ ”شدت“۔ زی زندگی انڈین چینل پہ ”میرا سایہ“، پی ٹی وی پہ دو سیریئلز ”نا آشنا“ اور ”چاہت“ ہے۔ ایک شعری مجموعہ ”میں سائے خود بناتی ہوں“ 2013 میں چھپا ہے اور اس کو 2013 کا پروین شاکر ”خوشبو“ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 7 ناولز لکھے جو مارکیٹ اور نیٹ پر موجود ہیں جن میں ”چاند کے قیدی“، ”کمند“، ”زرد پتوں کا بھنور“ ۔ ”کوری آنکھیں کال بیل“ ، ”اندھی رات کا بیٹا“ اور ”آدھا وجود“ ہیں. نظموں کی کتاب چھپنے کے مراحل میں ہے۔ کراچی میں ایک ادبی تنظیم ” سائبان“ کی چئرپرسن ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں
    عشق طوفاں میں ناؤ آنکھیں تھیں
    راستہ دل تلک تو جاتا تھا
    اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں
    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں
    جن کو اس نے چراغ سمجھا تھا
    اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں
    دل میں اترا وہ دیر سے لیکن
    میرا پہلا لگاؤ آنکھیں تھیں
    قطرہ قطرہ جو بہہ گئیں کل شب
    آؤ تم دیکھ جاؤ آنکھیں تھیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس
    جاگی تو میرے سامنے صحرا تھا اور بس
    آیا ہی تھا خیال کہ پھر دھوپ ڈھل گئی
    بادل تمہاری یاد کا برسا تھا اور بس
    ایسا بھی انتظار نہیں تھا کہ مر گئے
    ہاں اک دیا دریچے میں رکھا تھا اور بس
    تم تھے نہ کوئی اور تھا آہٹ نہ کوئی چاپ
    میں تھی اداس دھوپ تھی رستہ تھا اور بس
    یوں تو پڑے رہے مرے پیروں میں ماہ و سال
    مٹھی میں میری ایک ہی لمحہ تھا اور بس

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سانس کی مہلت کیا کر لے گی
    اب یہ سہولت کیا کر لے گی
    بے بس کر کے رکھ دے گی نا
    اور محبت کیا کر لے گی
    کیا کر لے گا چارہ گر بھی
    درد کی شدت کیا کر لے گی
    ایک جہنم کاٹ لیا ہے
    اب یہ قیامت کیا کر لے گی
    میں ہی اپنے ساتھ نہیں جب
    اس کی رفاقت کیا کر لے گی
    میرا آنگن صحرا جیسا
    دشت کی وحشت کیا کر لے گی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    آواز میں نے سنی تھی ابھی کون بولا تھا یہ تو خبر ہی نہیں
    یہ تعلق ضروری ہے کس نے کہا وہ بھی خاموش تھا میں بھی خاموش تھی

    خود اپنے آپ سے ملنے کی خاطر
    ابھی کوسوں مجھے چلنا پڑے گا

    میں نے کہا تھا مجھ کو اندھیرے کا خوف ہے
    اس نے یہ سن کے آج مرا گھر جلا دیا

    مجھ کو اس کے نہیں خود میرے حوالے کرتے
    کم سے کم یہ تو مرے چاہنے والے کرتے

    ایسے کچھ حادثے بھی گزرے ہیں
    جن پہ میں آج تک نہیں روئی

    میں ایک روز اسے ڈھونڈ کر تو لے آؤں
    وہ اپنی ذات سے باہر کہیں ملے تو سہی

    سرد ہوتے ہوئے وجود میں بس
    کچھ نہیں تھا الاؤ آنکھیں تھیں

    بے قراری سے مرے پاس وہ آیا لیکن
    اس نے پوچھا بھی تو بس یہ کہ فلاں کیسا ہے

    جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے
    دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی ہے

  • معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    کلیم عاجز

    پیدائش: 11اکتوبر 1924ء
    وفات: 14 فروری 2015ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کلاسیکی لب و لہجے کے لئے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…نام کلیم احمد اور تخلص عاجزؔ ہے۔ ١١ اکتوبر ۱۹۲٠ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالات کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نویں جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلسِ ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
    تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

    اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
    دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

    ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
    دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    مے کدے کی طرف چلا زاہد
    صبح کا بھولا شام گھر آیا

    اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں
    کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
    زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
    جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
    وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

    ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
    پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    غم دل ہی کے ماروں کو غمِ ایام بھی دے دو
    غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

    امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
    عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

    حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
    تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
    تجھے ہم کیا سے کیا اے زُلفِ جانانہ بنا دیں گے

    شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
    مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

  • پی ایس ایل کی تمام ٹیمیں اچھی ہیں جو اچھا کھیلے گا وہ آگے جائے گا،بابر اعظم

    پی ایس ایل کی تمام ٹیمیں اچھی ہیں جو اچھا کھیلے گا وہ آگے جائے گا،بابر اعظم

    کراچی:قومی کرکٹ ٹیم اور پی ایس ایل فرنچائز پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کی تمام ٹیمیں اچھی ہیں جو اچھا کھیلے گا وہ آگے جاٸے گا۔کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بابر اعظم نے کہا کہ کراچی کنگز اور اسلام آباد یوناٸٹڈ نے بہت پیار دیا ، اب پشاور زلمی کے ساتھ ہوں تو ایک نیا سفر ہے۔

    بابر اعظم نے کہا کہ پی ایس ایل میں سب ٹیموں سے مقابلہ ہوتا ہے، کسی ٹیم کےخلاف میچ کا پریشر نہیں، تمام ٹیمیں اچھی ہیں جو اچھا کھیلے گا وہ آگے جاٸے گا۔پشاور زلمی کے کپتان نے کہا کہ پی ایس ایل کی تمام ٹیموں کےپاس معیاری بولرز ہیں، اچھے بولرز کے سامنے ایک پلان سےکھیلتا ہوں۔

    بابر اعظم نے کہا کہ کچھ نٸی چیزیں کرنےکی کوشش کررہا ہوں، جب چیزیں پرفیکٹ ہوں گی تو میچ میں استعمال کروں گا۔قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل سے ہمیں ہر سال بولرز اور بیٹرز ملتے ہیں، نوجوان کھلاڑیوں کے پاس پی ایس ایل میں کارکردگی دکھانے کا موقع ہے۔

    ادھرپاکستان سپرلیگ کا آٹھواں سیزن آج سے شروع ہورہا ہے، حکومت کی جانب سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر اور ایونٹ کے پرامن طریقے سے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے فل پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی کابینہ نے پی ایس ایل کی سیکیورٹی کیلئے فوج اور رینجرز تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سمری کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری دی۔

    پنجاب، سندھ حکومتوں اور اسلام آباد انتظامیہ نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کیلئے درخواست کی تھی، جب کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کی سیکیورٹی کیلئے وزیر داخلہ کو خط بھی لکھا تھا۔حکام کے مطابق پی ایس ایل سیزن 8 کے میچز 13فروری سے 19 مارچ تک شیڈول ہیں، اور یہ میچز لاہور، ملتان، کراچی اور راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔

  • تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی تکرار ان کے اپنے ہی جن عہدوں پر فائز رہے ہیں بے توقیری کا سبب بن رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کو ملکی سالمیت اور قومی وقار کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ الزام تراشیوں میں مگن موجودہ حکمرانوں اور سابق حکمرانوں کو بھی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیئے۔

    وقت آ پہنچا ہے کہ تمام اپنے گناہوں سے تائب ہر کر تعمیر وطن اور خدمت خلق کے جذبے سے کام کریں۔ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس وطن عزیز کے وقار میں اضافہ قرضوں سے چھٹکارا ۔ ایک مستحکم پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیاست جس حد تک کھوکھلی اور عوام کی نظر میں بے نقاب ہو چکی ہے یا ہو رہی ہے اس کے اثرات ملک و قوم کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر بھی پڑرہے ہیں۔ ملک میں جس طرح ایک جمہوری حکومت میں آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے جو کبھی آمریت کے دور میں ہوتا تھا آج جمہوری دور میں آئین سے کھلواڑ سمجھ سے بالاتر ہے ۔

    نواز شریف اور مریم نواز جو بیانیہ پیش کررہے ہیں وہ ووٹ کو عزت ، انصاف اور عدل کی شفافیت انسانی حقوق کا بیانیہ ہے ۔ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز جو بیانیہ عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں اُن کی اپنی ہی جماعت میں ایسے اشخاص موجود ہیں جو اس بیانیے سے کوسوں دور ہیں جو مفاہمتی راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔

    بھٹو کو نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پورے پاکستان میں مقبولیت ملی تھی انہوں نے ووٹ کو عزت یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس کو تاریخی المیہ ہی کہا جائے کہ بعد میں یعنی آج بھٹو کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر بیوپاری اس جماعت پر بُراجمان ہیں۔ بھٹو کی پیپلزپارٹی کا جو آج حال ہے وہ پاکستان تو کیا صرف صوبہ سندھ تک محدود ہو کررہی گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کے راستوں پر نواز شریف کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر چل نکلی ہے ۔

    مریم نواز اپنے والد کی جماعت کی ساکھ بحال کرنے تو نکلی ہیں مگر آج (ن) لیگ میں بھی بیوپاری بُراجمان ہیں اس لئے آج عمران خان کی جماعت کا پنجاب میں طوطی بولتا ہے اگر عمران خان کی جماعت مقبول ہے تو اس کے ذمہ دار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں نظریات توپہلے ہی دفن ہو چکے ہیں جس کا خمیازہ سیاسی جماعتیں خود بھگت رہی ہیں۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں

    پیر نصیر الدین نصیر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی
    دیگر نام:چراغ گولڑہ
    پیر صاحب گولڑہ شریف
    حضور نصیر ملت
    نصیرالدین اولیا
    پیدائش:14 نومبر 1949
    گولڑہ شریف،پاکستان
    وفات:13 فروری 2009ء
    گولڑہ شریف، اسلام آباد،پاکستان
    مذہب:سلام
    سلسلہ چشتیہ اور قادریہ قمیصیہ
    پیشرو:غلام معین الدین گیلانی
    جانشین:پیر سید نظام الدین جامی گیلانی
    پیر سید نجم الدین گیلانی
    پیر سید شمس الدین شمس گیلانی

    پیر نصیر الدین نصیر چشتی قادری قمیصی ایک شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی باصفا و پیر سلسلہ چشتيہ تھے۔ آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے۔ اسی وجہ سے انہیں ”شاعر ہفت زبان“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ پیر غلام معین الدین (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند ارجمند اور پير مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کی ولادت 14 نومبر 1949ء میں گولڑو شریف میں ہوئی۔ آپ گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔ پیر صاحب کا انتقال 13 فروری 2009ء کو ہوا آپ کا مزار گولڑو شریف میں مرجع خلائق ہے۔
    تصانیف و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ ؒ کی 36 (چھتیس) سے زائد تصانیف ہیں جن میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)
    ۔ (2)پیمانِ شب (غزلیات اردو)
    ۔ (3)دیں ہمہ اوست (عربی، فارسی، اردو، پنجابی نعوت )
    ۔ (4)امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)
    ۔ (5)نام و نسب(در بار سیادت پیران پیر )
    ۔ (6)فیضِ نسبت (عربی، فارسی، اردو، پنجابی مناقب)
    ۔ (7)رنگِ نظام ( رباعیات اردو )
    ۔ (8)عرشِ ناز (کلام در زبان فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی )
    ۔ (9)دستِ نظر ( غزلیات اردو)
    ۔ (10)راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)
    ۔ (11)تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی
    ۔ (12)قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت
    ۔ (13)لفظ اللہ کی تحقیق
    ۔ (14)اسلام میں شاعری کی حیثیت
    ۔ (15)مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب
    ۔ (16)پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، اسباب اور تجاویز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (17)فتوی نویسی کے آداب
    ۔ (18)موازنہ علم و کرامت
    ۔ (19)کیا ابلیس عالم تھا؟
    نمونہ اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    نمونہ اشعار فارسی
    ۔۔۔۔۔۔
    اے صاحبِ اسمِ پاک!مَن یـَنصُرُنِی
    دل ریشم و سینہ چاک،مَن یـَنصُرُنِی
    دستم اگر از فضل نہ گیری ربی
    مَن یـَنصُرُنِی سَوَاک!مَن یـَنصُرُنِی

    نمونہ اشعار اردو
    ۔۔۔۔۔۔
    دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

    ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
    مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

    بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
    مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

    غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
    محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

    یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
    آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں

    عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
    جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

    میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
    سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

    نمونہ اشعار پنجابی
    ۔۔۔۔۔۔
    بے قدراں کج قدر نہ جانی کیتی خوب تسلی ھو
    دُنیا دار پجاری زر دے جیویں کُتیاں دے گل ٹلی ھو
    بُک بُک اتھرو روسن اکھیاں ویکھ حویلی کلی ھو
    کوچ نصیر اساں جد کیتا پے جاسی تھر تھلی ھو

    نمونہ اشعار عربی
    ۔۔۔۔۔۔
    یا مدرک احوالي
    قد تعلم واللہ ،ما يخطر في بالي

    الفخر له جازا
    من جاء علٰي بابك، قد نال و قد فازا

    نمونہ اشعار پوربی
    ۔۔۔۔۔۔ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں
    جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں

    دُور بھیے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں
    پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں

    یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر
    ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں

    درشن کی پیاسی ہے نجریا ترسِن اکھیاں دیکھن کا
    ہم سے رُوٹھے منھ کو چُھپائے بیٹھے ہو کیوں چلمن ماں

    اے تہاری آس پہ ساجن سگرے بندھن توڑے ہیں
    اپنا کرکے راکھیو موہے آن پڑی ہوں چرنن ماں

    چَھٹ جائیں یہ غم کے اندھیرے گھٹ جائیں یہ درد گھنے
    چاند سا مکھڑا لے کر تم جو آنکلو مورے آنگن ماں

    جیون آگ بگولا ہِردے آس نہ اپنے پاس کوئی
    تیرے پریت کی مایا ہے کچھ اور نہیں مجھ نِردھن ماں

    ڈال گلے میں پیت کی مالا خود ہے نصیر اب متوالا
    چتون میں جادو کاجتن ہے رس کے بھرے تورے نینن ماں

  • بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    پارسائوں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

    عطا شاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :محمد اسحاق
    قلمی نام:عطا شاد
    تاریخ پیدائش :01 نومبر 1939ء
    تاریخ وفات:13 فروری 1997ء
    کوئٹہ، بلوچستان

    اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 1 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔
    عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔
    ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
    13 فروری 1997ء کو عطا شاد کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو
    بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
    یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو
    جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
    جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو
    میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
    مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو
    ہزار امتحان یہاں ہزار آزمائشیں
    ہزار دکھ ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
    رلا سکو تو ساتھ دو ہنسا سکو تو ساتھ دو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا
    درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
    شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا
    رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
    آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا
    کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح
    کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا
    تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں
    کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا
    ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر
    وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا
    سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ
    جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
    بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا
    مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب
    مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا
    کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس
    ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا
    وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
    میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا
    تمام شب تھا ترا ہجر تیرا آئینہ گر
    تمام شب مرے پہلو میں آفتاب سجا
    نہ تو ہے اور نہ میں ہوں نہ وصل ہے نہ فراق
    سجا شراب سجا جا بجا شراب سجا
    عطاؔ یہ آنکھ دھنک منزلوں کی چاہ میں تھی
    چھٹا جو ابر گھنی تیرگی کا باب سجا

  • حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    پیدائش:14 اکتوبر 1906ء
    قاہرہ
    وفات:12 فروری 1949ء
    قاہرہ
    وجۂ وفات:قتلِ ارادی
    طرز وفات:قتل
    شہریت:مصر
    مذہب:اسلام
    جماعت:اخوان المسلمون
    مادر علمی:جامعہ الازہر
    تلمیذ خاص:یوسف قرضاوی
    پیشہ:سیاست داں، الٰہیات داں، مصنف
    زبان:عربی
    مؤثر:جمال الدین افغانی
    بانی تحریک اخوان المسلمون
    مدت منصب
    1928 – 1949
    صدر:تحریک اخوان المسلمون

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي (14 اکتوبر 1906 – 12 فروری 1949) (1324ھ – 1368ھ) مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔ 1923 میں تصوف کے شاذلی طریقہ سے منسوب ہوئے اور شيخ عبد الوہاب حصافی کی خدمت میں تکمیل کی، اسی لیے حسن البنا کی شخصیت سازی میں شيخ عبد الوہاب حصافی کا بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1927 میں دار العلوم (مصر) سے فارغ ہوئے اور شہر اسماعیلیہ میں مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1928 میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں حسن البنا ایک بھرپور تحریکی زندگی گذارنے کے بعد 43 سال کی عمر میں قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کر لیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دار العلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔
    اخوان المسلمون کا قیام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علما اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہو گئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔
    تحریکی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کر دیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین” کے نام سے علاحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
    مطالبہ نفاذِ قوانین اسلامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جا رہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا اور بتایا کہ مصر ہی کے ایک عالم امام بدر الدین عینی شارح بخاری ایک سال جہاد کرتے تھے اور ایک سال تعلیم و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور ایک سال حج کرتے تھے۔
    اخوان اور ذرائع ابلاغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار” کی ادارت سنبھال۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
    اخوان اور دور ابتلا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    شہادت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تین ہفتے بعد وزیر اعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کر دیا۔ حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    المراۃ المسلمۃ
    تحديد النسل
    مباحث في علوم الحديث
    السلام في الإسلام
    قضيتنا
    الرسائل
    رسالۃ المتھج
    رسالۃ الانتخابات
    مقاصد القرآن الکريم

  • ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    پیدائش:06 مئی 1904
    جامشوگ، سویڈن
    وفات:11 فروری 1978ء
    اسٹاک ہوم، سویڈن
    اہم اعزازات:نوبل ادب انعام
    ۔ 1974ء
    ۔ (shared with آیونڈ جوہنسن)
    شریک حیات:Moa Martinson
    ۔ (1929-1940)
    ۔ Ingrid Lindcrantz

    ہیری مارٹنسن(1904 تا 1978 )سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں اورہم وطن آیونڈ جوہنسن کو 1974ء میں نوبل ادب انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔

  • اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”  حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار” حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”

    حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    11فروری 1965 کو افروایشیائی سیمینار کے مندوبین کیلئے لاہور میں سرکاری طور پرایک ثقافتی شو کا اہتمام کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ نےنیلو کو شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے رقص کرنے کیلئے کہا۔ اس نے انکار کیا تو گالیاں دیں اورڈرایا دھمکایا ۔ اس بے عزتی پر نیلو نے بڑی مقدار میں خواب آور گولیاں کھالیں۔ بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹر کئی دن کی کوششوں سے نیلو کی جان بچانے میں کامیاب رہے ۔
    فلمی صنعت نے اس واقعہ پر احتجاجاََ ایک دن کی ہڑتال کی۔ حبیب جالب نے نظم ’’نیلو‘‘ لکھی۔ جس کا پہلا بند یہ تھا ۔۔۔

    توکہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
    رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
    تجھہ کو انکار کی جرأت ہوئی تو کیونکر
    سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے؟

    مشہور رائٹر، ڈائریکٹر اور فلم ساز ریاض شاہد نے نیلو کی جرأت اور عزتِ نفس کو کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ اسے شادی کی پیشکش کر دی، اور وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

    ریاض شاہد نے 1969 میں فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی پر اپنی مشہور فلم ’’زرقا‘‘ بنائی۔ زرقا کا مرکزی کردار نیلو نے ادا کیا۔

    فلم کو فلسطینیوں کی تنظیم ’’الفتح‘‘ نے بہت سراہا۔ 21 اکتوبر 1969 کو کراچی میں ایک تقریب ہوئی، جس میں ’’الفتح‘‘ کے نمائیندےخالد الشیخ نے ریاض شاہد کو یہ فلم بنانے پرمبارکباد دی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
    ریاض شاہد نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیلئےفلم کی نمائش کے حقوق الفتح کو دے دئیے اور کہا کہ اس کی آمدنی جدوجہدِ آزادی میں صرف کی جائے۔

    اس موقع پر نیلو نےفلمی زندگی سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرقا ان کی زندگی کا عظیم ترین کردار تھا، اس کے بعد وہ عام فلمی کردار ادا کرنا پسند نہیں کریں گی۔
    لیک ریاض شاہد کی موت کے بعد معاشی ضرورتوں نے انہیں اس عہد پر قائم نہ رہنے دیا،اور انہیں پھر کچھہ عرصے کیلئے فلموں میں آنا پڑا