Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 8 ارب آبادی میں سے 15 فیصد یعنی 1 ارب لوگ کسی نہ کسی سپیشل کنڈیشن یا معذوری کا شکار ہیں۔ ان میں 20 کروڑ یعنی پاکستان کی کل آبادی جتنے افراد شدید قسم کی ناقابل علاج ڈس ایبیلٹیز کے ساتھ ہیں۔ ایک ارب میں سے دنیا بھر میں 49 کروڑ سماعت سے محروم و متاثرہ سماعت ہیں۔ 2018 میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب سے زیادہ ہوگی۔ جس میں 1.5 ارب سماعت سے متاثرہ و محروم افراد ہونگے جس کی وجہ لاؤڈ اسپیکرز، ہینڈز فری، بلیو ٹوتھ، ائیر پاڈز ایم پی تھری ڈیوائسز وغیرہ کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ باقی معذوریوں کی ریشو آپ خود نکال سکتے ہیں۔

    جہاں دنیا بھر میں 1 ارب لوگ سپیشل ہیں۔ وہیں ان میں سے سپر پاورز کے حامل سپیشل افراد اور دیگر انسان اپنی اگلی پیڑھی کو معذوریوں سے بچاؤ کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ کسی طرح معذوری کو ہونے سے پہلے ہی روکا جائے۔۔کیونکہ بے شمار بیماریاں اور معذوریاں آج بھی ناقابل علاج ہیں۔

    اس روک تھام میں کلیدی کردار انسانی جینیاتی علوم کا ہے۔ جینیاتی ماہرین جنیٹک ٹیسٹنگ کی فیلڈ میں نت نئے تجربات و مشاہدات کرکے انسانی جسم کو وائرسز، دائمی امراض، انفیکشنز، جان لیوا بیماریوں، معذوریوں سے بائی ڈیفالٹ ہی محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔سائنس فکشن فلموں میں ہم اپنے بچپن سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ جو اب کسی حد تک حقیقت میں بھی ہونے لگا ہے۔ گو اب بھی اس میں کئی افسانے ہیں مگر میں کوئی افسانہ نہیں سنانے والا۔ کچھ عملی باتیں ڈسکس کروں گا۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ پر جانے سے پہلے کچھ بنیادی باتیں سمجھ لیں۔ ماں کے تخم اور والد کے نطفے سے حمل ٹھہرنے پر بننے والا زائگوٹ یک خلوی جاندار ہوتا ہے۔ جسے بنیادی خلیہ یا سٹیم سیل کہتے ہیں۔

    اس سیل میں ایک نیوکلئیس ہوتا ہے۔ نیوکلئیس کو خوردوبین سے دیکھیں تو اس میں ننھی منھی سی چھوٹی چھوٹی دھاگے نما چیزیں حرکت کرتی نظر آتی ہیں۔ جنہیں ہم کروموسوم کہتے ہیں۔ یہ 23 جوڑے یعنی ایک انسانی سیل میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ مختلف جانداروں جانوروں و پودوں میں ان کروموسومز کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً بلی میں 38 اور کتے میں 78 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک کیکر کے درخت میں 12 اور ایک کبوتر میں 80 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھی میں 56 کروموسوم ہوتے ہیں۔

    جب کروموسوم کو خوردوبین میں بڑا کرکے دیکھیں تو اس میں گول گول گھومتی ہوئی سیڑھی نما چیزیں دکھائی دیں گی۔ جنکو ہم DNA 🧬 کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک ڈی این کے چھوٹے سے ٹکڑے کو ہم جین Gene کہتے ہیں۔

    انسانی جینوم یعنی انسانی کوڈ میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 20 ہزار جین ہوتے ہیں۔۔اور ایک انسانی جینوم میں 3 ارب معلومات کے مقام ہوتے ہیں۔

    کروموسوم جین جینوم ڈی این اے یہ سب مل کر انسانی حصوصیات وراثتی معلومات کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

    جینوم ایک ریسپی بک اور جین ایک ریسپی کی ترکیب ہوتی ہے۔ جنیوم طے کرتا ہے کہ ہمارا سارا سٹرکچر کیسا ہوگا۔ اور جین جسم کے ہر حصے کو بنانے کے لیے ڈی این اے میں محفوظ معلومات پر عمل درآمد کرواتا ہے۔ ہمارے دانت آنکھیں رنگ وزن قد کیسا ہوگا یہ سب جینز کا کام ہے۔ جینز پروٹین پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں اور پروٹین انسانی جسم بناتی ہیں۔ کونسے جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر آیا ہے۔ یہ طے کرتا کہ جسم کا کونسا حصہ ٹھیک نہیں بن سکا۔

    ہزاروں جینز کے نام ہیں۔ مثلا OCA2 نامی جین میں تغیر آجائے تو جسم میں میلانن پروٹین نہیں بن سکے گی یا کم بنے گی۔ میلانن ہمارے جسم میں کالے رنگ کی مقدار طے کرتی ہے۔ اس جین کی خرابی والے افراد Albinism یعنی سورج مکھی کا شکار ہوتے ہیں۔ میلانن پگمنٹ ہی طے کرتا ہے ہماری اسکن آنکھوں اور بالوں کا رنگ کیا ہوگا۔ وہ ہوگا ہی نہیں تو آنکھیں لائٹ کلر کی بال اور جسم بلکل سفید ہوگا۔ اسکن عام دھوپ سے جل سکتی ہے۔

    خیر جنیٹکٹس کی بنیادی معلومات سمجھ آگئی ہیں ناں؟ کہ ہم ایک انسان بنتے کیسے ہیں۔

    اب آتے ہیں جنیٹک ٹیسٹنگ کی طرف۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں ہمارے خون تھوک پسینے یا ایک سیل کا سامپل لیکر ڈی این اے کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ ہمارا جسم کیسے فنکشن کر رہا ہے۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ اس ٹیسٹنگ میں معلوم کیا جاتا ہے کہ کونسے جینز میں میوٹیشن ہوئی ہے۔ آیا ہمارے پاس کوئی سویا ہوا کینسر ہیموفیلیا تھیلیسیمیا سسٹک فائبروسس کا جین تو نہیں۔ جو ہمارے بچوں میں جا کر جاگ سکتا ہے۔ ہم ٹھیک ہیں ہمارے بچے ان بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اور اس سے ہمارے اپنے جسم میں کیا تبدیلی آسکتی ہے۔ یعنی کوئی بیماری یا کسی معذوری کا پیشگی اندازہ لگانا۔ یا اگلی پیڑھی کو یہ جین منتقل کرنے کی روک تھام پر ماہرین سے جنیٹک کاونسلنگ لینا۔

    بے شک جنیٹک ٹیسٹنگ کسی بھی مسئلے کا سراغ لگا کر اس سے بچاؤ اور علاج میں مددگار ہے۔ مگر ہم اسے سو فیصد درست نہیں کہہ سکتے۔ ڈی این اے اور جینز کے اندر اربوں کھربوں گھتیاں ہیں۔ جو انسانی عقل ابھی لاکھوں سال بعد سلجھا پائے گی۔

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ انسانی جین دیگر جانوروں اور پودوں میں بھی پائے جاتے ہیں؟ اسکا مطلب ہے کہ زندگی کا آغاز کھربوں سال قبل ایک سیل سے ہوا تھا اور اسی سے ساری کائنات وجود میں لائی گئی۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں پروٹین ان کوڈنگ encoding کے پارٹس جنکو ہم Exome کہتے ہیں۔ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ کہاں کوئی تنوع ہے۔ جو ہماری صحت یا ہمارے بچوں کو کسی طرح متاثر کر سکتا ہے۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ کی سات بڑی اقسام ہیں۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ دنیا بھر میں جینیاتی بیماریوں کی مختلف لیولز پر کھوج لگانے میں مدد گار ہوتی ہے۔ اگر کسی جینیاتی نقص کا علم ہوجائے تو اسکا علاج یا روک تھام کیسے کرنی ہے اس پر کام کیا جاتا ہے۔

    میں نے اسی مضمون کے پہلے حصے میں لکھا کہ جینیاتی ٹیسٹوں کو ہم سات بڑی اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جینیاتی بیماریاں کیا اور کیسی ہوتی ہیں تفصیل سے پچھلی پوسٹ میں لکھا گیا ہے۔۔ اسکا لنک اسی پوسٹ کے اختتام میں موجود ہے۔

    سات طریقہ ہائے ٹیسٹ یہ ہیں۔

    1.تشخیصی ٹیسٹ (Diagnostic Testing)

    اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے اندر کسی بھی ایسی بیماری یا معذوری یا Disease کی علامات ہیں جو کہ جینیاتی ہیں۔ ان کو ہم عام زبان میں جینیاتی تغیر یعنی mutated genes کہتے ہیں۔ جنیٹک ٹیسٹنگ ایسے کیسز میں تصدیق کرتی ہے کہ آپ میں واقعی کوئی جینیاتی مرض ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ہم سسٹک فائبروسس Cystic fibrosis یا Huntington’s disease کا پتا ڈائیگناسٹک ٹیسٹنگ سے لگا سکتے ہیں۔

    2. علامات ظاہر ہونے سے پہلے جنیٹک ٹیسٹنگ کروانا
    Presymptomatic and predictive testing

    اگر خاندان میں کوئی جینیاتی بیماری موجود ہے۔ اور آپ میں اس کے کوئی آثار یا علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ ایسے میں یہ ٹیسٹنگ کی جاتی ہے کہ آپ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے رسک پر تو نہیں ہیں۔ عموماً اس میں کولو ریکٹل کیسنر colorectal cancer شامل ہے۔ اس کینسر کو ہم bowel cancer, colon cancer, or rectal cancer بھی کہتے ہیں۔ ہماری بڑی انتڑی کے حصے کولن اور ریکٹم میں کیسنر ہوجاتا ہے۔ اس کینسر کے 10 میں سے 8 مریض تشخیص کے بعد ایک سال بعد ہی وفات پاجاتے ہیں۔

    3. کیرئیر ٹیسٹنگ (Carrier testing)

    اگر آپ کے خاندان میں کوئی جینیاتی امراض کی فرد یا ہسٹری موجود ہے۔ جیسے سکل سیل انیمیا Sickle cell Anemia یا ہیموفیلیا یا سسٹک فائبروسس، سپائنل مسکولر اٹرافی وغیرہ۔ یا آپ کسی ایسے ایتھنک گروپ سے ہیں جہاں کوئی مخصوص بیماری یا معذوری بہت عام ہے۔ مثلاً ملتان کے ایک محلے میں 70 افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ اور کرک کے ایک گاؤں میں 50 سے زائد بونے لڑکے لڑکیاں موجود ہیں اور ان دونوں مخصوص ایریاز میں ان دونوں جینیاتی امراض کی ریشو بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

    آپ کے بچوں میں یہ مرض نہ جائے اس کے لیے ہم کیرئیر ٹیسٹنگ کرواتے ہیں کہ آیا ہم میوٹڈ جین کیری کیے ہوئے ہیں یا نہیں۔

    میں یہاں بتاتا چلوں کہ اگر ماں اور باپ دونوں ایک ہی جینیاتی مرض کے صرف کیرئیر ہیں۔

    "ان میں وہ مرض ہے نہیں”

    تو 25 فیصد چانسز ہیں وہ بچہ اس مرض کے ساتھ پیدا ہوگا۔

    اور 50 فیصد چانسز ہیں کہ بچہ اگر اس کے ساتھ پیدا نہیں ہوا تو کیرئیر ضرور ہوگا۔

    اگر صرف ماں کیرئیر ہے تو بھی بچے کے جینوم میں 50 فیصد وہ جین منتقل ہونے کے جانسز ہیں۔

    4. فارماکو جینیٹکس (Pharmacogenetics)

    اگر آپ کسی مخصوص و دائمی صحت کی خرابی کے مرض یا ڈی زیز میں مبتلا ہیں۔ اور ڈاکٹروں سے سمجھ سے باہر ہے دوائی کیا دیں؟ تو جنیٹک ٹیسٹنگ کی یہ قسم اپلائی کی جاتی ہے۔ تاکہ پراسرار یا ناقابل فہم بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے دوائی کا سالٹ اور ڈوزیج معلوم کی جا سکے۔

    مشہور گولی پیناڈول کا سالٹ پیراسیٹا مول ہے اور پیناڈول ایکسٹرا کے سالٹ میں پیراسیٹا مول کے ساتھ کیفین Caffeine بھی شامل ہوتی ہے۔ پہلے ایک گولی میں ایک سالٹ ہوتا تھا اب دو سے تین سالٹ تک ایک گولی میں ڈالے جا رہے ہیں۔ مطلب جہاں آپ دو یا تین گولیاں کھاتے تھے اب ایک ہی کھائیں گے۔

    5. دوران حمل ٹیسٹنگ (Pre natal testing)

    اگر آپ حاملہ ماں ہیں۔ کچھ ٹیسٹ بتا سکتے ہیں کہ آپکے پیدا ہونے والے بچے میں کوئی ابنارمل جین تو نہیں ہے۔ ڈاؤن سنڈروم اور ٹرائی سومی 18 Edwards syndrome یا ٹرائی سومی 18 یعنی Patau syndrome اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ سب پری نیٹل جنیٹک ٹیسٹنگ میں ماں کے پیٹ سے سیری برو سپائنل فلیوڈ یا پلاسینٹا سے بلڈ سیل لیکر حمل کے پہلے تین ماہ میں روح پھونکے جانے سے پہلے ہی معلوم ہو سکتے ہیں۔ اب تک 2 ہزار سے زیادہ سنڈروم دریافت ہو چکے ہیں۔ 5 کے قریب تو میں پڑھ چکا ہوں۔ موسٹ کامن 20 کے قریب ہیں وہ سب میری زیر تصنیف کتاب میں شامل ہیں۔

    اسی سال ایک جدید ٹیسٹ دریافت ہوا ہے جسے سیل فری ڈی این اے ٹیسٹ cell-free DNA testing کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی اس میں ہمیں یوٹرس سے پانی یا بچے کا خون لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی سے ماں کے خون سے ہی پیٹ میں موجود بچے کا ڈی این اے نکال کر اسکا ٹیسٹ ہوجائے گا۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ چارپائی ایک ڈی این اے ہے اور اسکی ایک چھوٹی سی رسی ایک جین۔

    6. نومولود بچوں کی سکریننگ (Newborn screening)

    دنیا بھر میں یہ سکریننگ عام ہے۔ مگر پاکستان کے بڑے سے بڑے مہنگے ترین ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کو اسکا شعور نہیں ہے۔ میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کر رہا ہوں کہ نومولود بچوں کا 1 سے 2 فیصد ہسپتالوں کو چھوڑ کر کسی بھی جگہ سماعت و بصارت کا ابتدائی ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ جو کہ دنیا بھر میں یونیورسل ٹیسٹ بن چکا ہے۔ اسکے علاوہ رئیر جنیٹک اور ہارمونل تغیرات کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کچھ میٹابولک خرابیوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو بچے کی جان تک لے سکتے ہیں۔ کیوں پیدائش کے بعد پہلے سال ہی لاکھوں بچے فوراً بیمار ہو کر ایک سے دو دن میں فوت ہوجاتے؟ وجہ یہی ہے کہ ابتدائی ٹیسٹ نہیں ہوپاتے۔ اگر ہوجائیں فوری اسکا علاج ہو تو بچے فوت ہونے سے بچ سکیں۔

    7۔ پری امپلانٹیشن ٹیسٹنگ (Preimplantation testing)

    جب ہم مصنوعی طریقہ حمل ان ورٹو فرٹی لائزیشن IVF کے ذریعے حمل کی طرف جاتے ہیں۔ تو بلاسٹو سسٹ یا ایمبیریو میں سے لیزر کے ذریعے ایک دو سیل لے کر انکی جنیٹک ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ ایمبیریو میں موجود میوٹڈ جین کو نکال دیا جاتا ہے۔۔اور صحت مند بلکل ٹھیک ایمبریو کو بچہ دانی میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس سے چند ممکنہ جینیاتی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔

    ان میں سے پانچ قسم کی ٹیسٹنگ میری معلومات کے مطابق پاکستان میں ہو رہی ہے۔ آغا خان اور شوکت خانم لیبارٹری جینیٹک ٹیسٹنگ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ کچھ اور بھی کر رہے ہونگے معتبر اور قابل اعتماد یہ دونوں نام ہیں۔ یہ ٹیسٹنگ کافی مہنگی ہے۔ مگر ایک اسکی قیمت آپکے یا آپکے بچوں میں عمر بھر کے روگ سے تو کسی صورت بھی زیادہ نہیں ؟

  • کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    ہم نے اکثر و بیشتر ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کامیاب لوگوں سے خوامخواہ چڑتے ہیں۔ امیر اور دولت مند لوگوں سے خار کھاتے ہیں۔
    اگر کسی دولت مند اور غریب کی لڑائی ہو جائے تو از خود ہمیشہ امیر بندے کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ گاڑی یا بائیک ٹکرا جائے تو صرف گاڑی والے کو ہی برا بھلا سناتے ہیں۔ ریڑھی یا رکشہ والا قیمتی گاڑی میں رکشہ ٹھوک دے ہمیشہ ریڑھی اور رکشے والے کو ہی مظلوم ثابت کرتے ہیں اور گاڑی والے کو مغرور اور بد تمیز گردانتے ہیں۔

    ہم نے از خود فرض کر لیا ہے کہ دولت مند ہی ہمیشہ غلط ہے۔ اور تمام تر سمجھوتے اور درگزر اور خوف خدا بھی صرف اور صرف دولت مند کو ہی کرنے چاہیے اور سب کے سب اصولوں کی پاسداری بھی صرف دولت مند یا کھاتے پیتے لوگ کریں باقی غریبوں کو ہر بات کی ریلیکسیشن ہے۔

    ہم سمجھتے ہیں کیونکہ ہم غریب ہیں اس لیے بد دیانتی جائز ہے جب کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم غریب اسی لیے ہیں کہ ہم بد دیانت ہیں۔

    ہم اپنے ورکرز اور ملازمین میں دیکھیں یہ جہاں دل کرئے گا وہاں کام میں آنا کانی کریں گے جب دل کرئے گا خاندان کے ہر دور و نذدیک کی فوتگیوں شادیوں میں جائیں گے ہر زرا سی بات پہ چھٹیاں کریں گے جب دل چاہے گا کام بیچ میں چھوڑ کے بھاگ جائیں گے مگر امیر لوگوں پہ یہ فرض ہے کہ وہ ان کی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود ان کو تنخواہ پوری دے کیونکہ یہ غریب آدمی ہے۔

    مجھے حیرت ہوتی ہے کیا غریب آدمی کو خود احساس نہیں ہے کہ وہ غریب ھے اس کو بد نیتی نہیں دیکھانی چاہیے؟ اس کو چھٹیاں نہیں کرنی چاہیں؟ اس کو بہانے نہیں بنانے چاہیے؟ اس کو کام میں ڈنڈیاں نہیں مارنی چاہیں؟
    اس سے اس کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔

    یہاں رکشہ سواروں کو دیکھیں سڑکوں پہ رکشہ ایسے چلاتے ہیں جیسے موت کے کنوئیں میں چلا رہے ہوں بعض مرتبہ اچانک سامنے آ کے کسی بھی نئی شاندار گاڑی میں لا کے رکشہ ٹھوک دیں گے خود کپڑے جھاڑ کے ہنستے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے دوسرے کی شاندار گاڑی کی ہزاروں روپے کی لائٹس توڑیں ڈینٹ ڈالا نقصان کیا اس کا کوئی ہمدرد نہیں سارا مجمع اکھٹا ہو کہ گاڑی والے کو کہے گا جانے دو غریب آدمی ہے. کیا غریب آدمی کے لیے چھوٹ ہے کہ وہ اندھا دھن رکشہ چلائے یا بائیک چلائے ؟ کیا اس پہ کسی کے نقصان کی کوئی زمہ داری نہیں ھے؟ اور کیوں نہیں ھے؟

    اگر کوئی دوست وقت کے ساتھ ترقی کر گیا کامیاب ھو گیا تو پرانے دوست لازم ہے کہ اس پہ طنز کریں گے۔ وقت بے وقت فون کریں گے۔ فون نا اٹھانے پہ اس کے بخیے ادھیڑیں گے۔ اسے پرانا وقت یاد دلائیں گے۔ اس کو مغرور گردانیں گے۔ صرف اس کیے کہ اب وہ چوک پہ آپ کے ساتھ بیٹھ کے گپیں نہیں لگاتا یا وقت بے وقت فون نہیں اٹھاتا؟

    کبھی آپ نے سوچا ھے کہ وہ مصروف ہو سکتا ھے یا وہ سارا دن کام کے بعد آرام کر رہا ہو سکتا ھے یا اس کا فیملی ٹائم ہو سکتا ھے۔

    اگر آپ نے یہ نہیں سوچا تو اب یہ ضرور سوچیں کہ وہ اسی لیے آپ سے آگے نکلا ہے کیونکہ اس نے وقت کے ساتھ وقت کی قدر کو پہچانا ھے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ اس نے گپوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے انتھک محنت کی ھے۔

    اکثر لوگوں کو کہتے سنا جب سے فلاں کے پاس گاڑی آئی ہے فلاں بہت مغرور ہو گیا ھے فلاں تو ہمیں اپنی گاڑی میں بیٹھاتا ہی نہیں کبھی آپ نے سوچا ھے کہ کیا آپ نے کسی کہ ذاتی سواری میں اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اس کی پرائیویسی کا خیال رکھا ہے سفر کے دوران اس کی ٹیلیفون کالز پہ کی گئی ڈیلز یا کوئی بھی ذاتی بات کا پاس رکھا ہے۔

    اکثر لوگوں کو شکوہ ہوتا ہے فلاں اپنے گھر نہیں بلاتا فلاں ہمارے گھر نہیں آتا۔ فلاں فلاں جگہ نہیں جاتا۔

    ٹھیک ہے خوشی غمی میں شامل ہونا اچھی بات ہے مگر کیا آپ نے کبھی کسی کامیاب دولت مند امیر آدمی کے جوتوں میں پاوں ڈالے ہیں کبھی اس کے پاوں کے آبلے دیکھے ہیں کبھی آپ کو احساس ہو گا اس انتھک محنت کا جس کو نا موسموں کی پروا تھی نا اس کے پاس کسی تفریح کی گنجائش۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا ھے کہ ایک کامیاب آدمی نے کتنی شادیوں، اور تفریحات کی قربانی دی ہے۔

    کبھی کامیاب لوگوں کی روٹین دیکھی ہے وہ کتنے کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کی نیند کا ٹائم کتنا ہے۔ ان کی کھانے پینے کی روٹین کیا ہے اور یہ اپنے خاندان
    کو کتنا وقت دے پاتے ہیں اس میں بھی ہم کہتے ہیں ہمارا فون نہیں اٹھایا جبکہ فون پہ کرنی آپ نے صرف ادھر ادھر کی ھے۔

    اگر کسی کی دولت کا احسان کسی دوسرے پہ نہیں ہے تو کسی کی غربت کی ذمہ داری بھی کسی دوسرے کی نہیں ہے۔
    بعض مرتبہ یہ خدا کی تقسیم ہے اور بے شمار مرتبہ ہر انسان کی ذاتی محنت، ہمت، استقامت۔
    اور صحیح وقت پہ ترجیحات کا تعین۔

    آخر میں دل تو چاہتا ھے یہی جملہ لکھوں کہ

    محنت کر حسد نا کر۔

    مگر اس کے ساتھ یہ ضرور کہوں گی کہ کامیاب لوگوں کو سٹڈی کریں ان کے وہ اوصاف ڈھونڈیں جنہوں نے انہیں کامیابی دلائی اور خود میں وہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

  • سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بناڈالی

    سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بناڈالی

    سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بناڈالی

    سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بنائی ہے جو ہوا سے پانی اخذ کر کے شفاف توانائی بنا سکتی ہے۔ ٹرانسپیرنٹ پورس کنڈکٹیو سبسٹریٹ ایک دبے ہوئے گلاس فائبر کا چھوٹا دائرہ ہے جس پر ایک باریک تہہ چڑھی ہوئی ہے جو روشنی جذب کرتی ہے۔ جب یہ ڈیوائس سورج کی روشنی میں ہوتی ہے تو یہ ہوا سے پانی اخذ کر کے ہائیڈروجن گیس بناتی ہے جس کو ممکنہ طور پر ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے فیڈرل اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لوزین(ای پی ایف ایل) میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے بتایا کہ اس طریقے سے ہائیڈروجن حاصل کی جاسکتی ہے اور بڑی فیسیلیٹیز میں ذخیرہ اکٹھا کی جاسکتی ہے اور بعد ازاں گاڑیوں کے ایندھن یا گھروں کو گرم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ تحقیق کے مصنف پروفیسر کیون سِوُلا کا کہنا تھا کہ پائیدار معاشرے کے لیے ہمیں قابلِ تجدید توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت ہے جس کو ایندھن اور فیڈ اسٹاک کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
    اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
    فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
    اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
    انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی قابلِ تجدید توانائی کی وہ قسم ہے جو وافر مقدار حاصل کی جاسکتی ہےاور سائنس دان شمسی توانائی بنانے کے لیے کم لاگت والے بہترین طریقے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس آلے کو بنانے والی ٹیم ’پتے کے فوٹو سنتھسز‘ عمل سے متاثر تھی۔ یہ ایسا عمل ہوتا ہے جس میں پودے سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کرتے ہوئے آکسیجن بناتے ہیں اور شکر کی صورت میں توانائی بنتی ہے۔ اس سے قبل سائنس دان سورج کی روشنی اور پانی کا فوٹو الیکٹرو کیمیکل سیل نامی ڈیوائس کا استعمال کرتے ہوئے ہائیڈروجن بنا کر مصنوعی فوٹو سنتھسز کا عمل کرچکے ہیں۔

  • 6 جنوری مولانا عبدالماجد دریا بادی کا  یوم وفات

    6 جنوری مولانا عبدالماجد دریا بادی کا یوم وفات

    آج چھ جنوری مولانا عبدالماجد دریا بادی کا یوم وفات

    آغا ںیاز مگسی

    جعفر بلوچ ایک ذہین ، بذلہ سنج اور پُرگو شاعر تھے۔ تحسین فراقی نے پی ایچ ڈی کیلئے مولانا عبدالماجد دریا بادی کا موضوع لیا تو جعفر بلوچ نے کہا؛
    جب سے اے تحسین فراقی، تیرے سپرد ہوا
    عبدالماجد دریا بادی ، دریا بُرد ہوا

    یہ تو دو دوستوں کا آپس میں مذاق تھا ورنہ فراقی صاحب محنتی آدمی ہیں، بہت عمدہ مقالہ لکھ کر ڈاکٹر بنے (ورنہ ایسے مقالوں پر بھی ڈگریاں ملیں جنہیں ڈاکٹر صاحبان باقی عمر چھپاتے رہے )

    عبد الماجد دریا بادی 16 مارچ 1892 کو دریا باد،ضلع بارہ بنکی، بھارت میں ایک قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں کالا پانی (جزائر انڈیمان ) بھیج دیا گیاتھا۔ عبد الماجد دریا بادی بہت سی تنظیموں سے منسلک رہے۔ اِن میں تحریک خلافت، رائل ایشیاٹک سوسائٹی،لندن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ندوۃ العلماء لکھنؤ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ شامل تھیں۔

    عبدالماجد دریاآبادی نے انگریزی کے ساتھہ ساتھہ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پرعیسائیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی اور اعتراضات رد کرتے ہوئے بائبل اور مغربی مستشرقین کی کتابوں سے دلائل دئیے ۔ انہوں نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ انہوں نے تفسیر ماجدی میں سورۃ یوسف کے آخر میں لکھا کہ اٹھاونویں پشت پر جا کر ان کا شجرہ نسب لاوی بن یعقوب سے جا ملتا ہے۔

    مولانا عبدالماجد دریا بادی کی کتابیں :
    فلسفہ اجتماع یعنی جماعت کی دماغی زندگی کی تمثیل و تشریح
    فلسفہ جذبات
    فیہ ما فیہ ملفوظات محمد جلال الدین رومی و تبصرہ
    مردوں کی سیمائی
    مضامین عبدالماجد دریابادی
    محمد علی کی ذاتی ڈائری
    تفسیر قرآن، تفسیر ماجدی، جلد 1، 2، 3 (چوتھی جلد بھی آچکی ہے، لیکن مولانا کے قلم سے نہیں ہے۔)
    وفیات ماجدی یا ناشری مرثیائی
    تفسیر القرآن، انگریزی
    بشریت انبیاء علیہ السلام
    حکیم الامت
    آپ بیتی

  • روڈولف کرسٹوف ائیوکن  جرمن زبان کے آدرشی فلسفی

    روڈولف کرسٹوف ائیوکن جرمن زبان کے آدرشی فلسفی

    روڈولف کرسٹوف ائیوکن جرمن زبان کے آدرشی فلسفی

     


    پیدائش:05 جنوری 1846ء
    اوریش
    وفات:15 ستمبر 1926ء
    یئنا
    شہریت:جرمنی, جرمن سلطنت
    رکن:رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز
    اولاد:والٹر ائیوکن
    مادر علمی:جامعہ گوٹنجن
    جامعہ ہومبولت
    زبان:جرمن
    ملازمت:جامعہ جینا
    ہارورڈ یونیورسٹی
    جامعہ بازیل
    اعزازات:
    نوبل انعام برائے ادب
    (1908)

    روڈولف کرسٹوف ائیوکن 1846ء تا 1926ء ) ایک جرمن زبان کے آدرشی فلسفی تھا جس کو 1908ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔ ائیوکن نے اپنے آدرشیت کی تقلیب کی اور اسے روحانی تلاش میں بدل دیا۔ ائیوکن کی شہرت مختصر عرصے کی تھی اور آج اس کی تحریریں کم و بیش فراموش کی جا چکی ہیں۔ فلسفیانہ مطالعات کے علاوہ اس نے مذہب پر بھی کتابیں لکھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ائیوکن کو ملنے والا انعام دراصل الفریڈ نوبل کی جزوا نامکمل وصیت کی مطابقعت میں تھا جس کی رو سے ادب کا انعام آدرشی رجحان کے حاصل کام میں کمال کے اعتراف میں بھی دیا جا سکتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادبی شخصیات کا تعارفی سلسلہ
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی، امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل

    امریکی حکام کا پاکستان کا دہشتگردی کیخلاف اقدام کی حمایت کا اعلان

    پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش حملہ، بنوں میں سی ٹی ڈی کی جیل پر حملہ اور اسکے بعد بلوچستان میں فورسز پر حملے، پنجاب کے شہر خانیوال میں حساس ادارے کے اہلکاروں پر حملہ انتہائی الارمنگ صورتحال بن چکی ہے، امن کے قیام کے لئے پاکستان کی مسلح افواج ،عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہزاروں افراد کی شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی، پاکستان جو کلمہ کے نام پر بنا وہ امن کا گہوارہ بنے گا ،اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ سب تبھی ہو گا جب قیام امن کے لئے سب ملکر کوشش کریں گے اور ملک میں لسانیت، فرقہ واریت ،سیاسی شدت پسندی کو ترک کریں گے اور سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر جمع ہوں گے،

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد کئی ممالک نے ان واقعات کی مذمت کی ہے ، ایسے میں امریکہ جسے پاکستان میں کئی حلقے پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں لیکن امریکہ سے امداد و تعاون کے بغیر بھی نہیں رہ سکتے ، ایسے میں امریکہ نے بھی پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے پاکستانی عوام نے دہشتگرد حملوں کے باعث شدید نقصان اٹھایا طالبان کو کہیں گے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں اور افغان سرزمین کو عالمی دہشتگرد حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طورپر استعمال نہ ہونے دیں طالبان کے کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ ان کا جواب دیا جائے گا

    افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر مسلسل حملے، قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی چند روز قبل ہوا جس میں یہ عزم مصمم کر لیا گیا کہ اب کسی سے کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے، ملکی اداروں، ریاست پر حملہ کرنیوالوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، پاکستان کا یہ اپنا فیصلہ ہے، اس میں امریکہ یا کسی اور ملک کی تائید و مدد کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کی افواج دہشت گردی کیخلاف ایک طویل ترین اور کامیاب ترین جنگ لڑ چکی ہیں، جانیں قربان کر دینے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے، افواج پاکستان اور عوام پاکستان کی قربانیاں رنگ لائیں گی،اور وطن عزیز پاکستان ، ایٹمی پاکستان، امن کا گہوارہ دکھے گا، ان شاء اللہ

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • البرٹ کامو یا البیغ کامو:ایک فرانسیسی فلسفی

    البرٹ کامو یا البیغ کامو:ایک فرانسیسی فلسفی

    پیدائش:07 نومبر1913ء
    الذرعان
    وفات:04 جنوری 1960ء
    ولیبلوین
    وجۂ وفات:کار حادثہ
    مدفن:لورمارین
    رہائش:فرانس
    شہریت:فرانس
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    زوجہ:فرانسائن فیئر
    مادر علمی:جامعہ الجزائر (1935-مئی 1936)
    تخصص تعلیم:فلسفہ
    تعلیمی اسناد:ماسٹر آف آرٹس
    دائرۂ عمل: مصنف، فلسفی، ناول نگار
    صحافی، مضمون نگار، ڈراما نگار
    منظر نویس، شاعر
    مادری زبان:فرانسیسی
    زبان:فرانسیسی
    کارہائے نمایاں:موت کی خوشی
    مؤثر:نطشے
    عسکری خدمات
    لڑائیاں اور جنگیں:دوسری جنگ عظیم
    اعزازات:
    نوبل انعام برائے ادب (1957)

    البرٹ کامو یا البیغ کامو (فرانسیسی: Albert Camus) ایک فرانسیسی فلسفی تھے جنھوں نے بے شمار مشہور کتب لکھیں۔ ان کوادب پر 1957 میں نوبل پرائز دیا گیا تھا۔ آپ الجزائر میں 1913 میں پیدا ہوئے جس وقت فرانسیسوں کی سربراہی تھی۔
    موجودیت
    ۔۔۔۔۔۔
    البیغ کامو کی کتابوں کو موجودیت کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔
    مذہبی خیالات
    ۔۔۔۔۔۔
    البرٹ خدا و مذہب پر یقین نہیں رکھتا تھا مگر پھر بھی یہ سمجھتا تھا کہ وہ ملحد نہیں ہے۔ خدا کو جھٹلانے کا انسانی زندگی کے لیے کیا منطقی نتیجہ نکلتا ہے، کیمس نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا: You will never live if you are looking for the meaning of life یعنی اگر تم زندگی کے معنی جاننے کی کوشش کرو گے تو زندہ نہ رہ سکو گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادبی شخصیات کا تعارفی سلسلہ
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    پیدائش: 26 ستمبر 1888ء
    وفات : 04 جنوری 1965ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انگریزی زبان کا مشہور شاعر اور نقاد سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں انگریزی شاعری کا پروفیسر مقرر ہوا۔ 1915ء میں برطانیہ چلا گیا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ 1922ء میں ایک ادبی رسالہ Criterionجاری کیا۔ جو 1929ء میں بند ہو گیا۔ 1948ء میں ادب کا نوبل پرائز ملا۔ بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں شاعری کا پروفیسر ہوا اور او۔ ایم کا اعلی برطانوی خطاب پایا۔ متعدد منظوم ڈراموں کا مصنف ہے۔ آخری دنوں میں فیر اینڈ فیر پبلشر کا اڈیٹر رہا۔ تنقیدی نظریات بھی بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ رومانیت کے سخت خلاف تھا۔ اور اس کے خلاف شخصیت سے گریز اور معروضی تلازمے کے نظریات پیش کیے۔ اس کا نظریہ روایت اردو ادب پر بھی اثر انداز ہوا اور کئی اردو نقاد مثلاً محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر سید عبد اللہ اور ڈاکٹر عابد علی عابد ان سے متاثر نظر آتے ہیں۔

    ایلیٹ ادب اور زندگی‘ دونوں میں معیارات کے نفوذ اور غیر شخصی و غیرذاتی‘ میلانات و رجحانات کا قائل ہے۔ اسی لیے وہ‘ احساس رفتہ اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔اس کی نظر میں‘ تمام ادبی فن پارے ایک سلسلہ میں‘ تنظیم و ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے خیال میں‘ روایت کے یہ معنی نہیں ہیں‘ کہ ادب کو محض چند تعصبات سے پاک رکھا جائے۔ تعصبات روایت کے تشکیلی عمل کے دوران‘ وجود پکڑتے ہیں۔
    ایلیٹ کے روایت سے متعلق خیالات کا‘ لب لباب کچھ یوں ٹھہرے گا:
    1- روایت لکیر کےفقیر ہونے کا نام نہیں۔
    2- روایت کے حصول کے لیے‘ محنت و کاوش سے‘ کام لینا پڑتا ہے۔
    3- تاریخی شعور کا مطلب یہ ہے‘ کہ شاعر کو احساس ہو‘ کہ ماضی صرف ماضی ہی نہیں‘ بلکہ اس کے اعلی اور آفاقی عناصر‘ ایک زندہ شے کی طرح‘ نشوونما پاتے ہوئے‘ حال میں پہنچ گیے ہوتے ہیں۔
    4- شاعری کی ادبی حیثیت کا اندازہ‘ کسی شاعر کی‘ دیگر شعرا کے کلام ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی مجرد طور پر‘ قدروقیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘ کیوں کہ وہ پورے ادبی نظام کا‘ حصہ ہوتا ہے۔
    5- ہر نیا فن پارہ‘ اپنے نئے پن سے تمام فن پاروں کی قدروقیمت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی روشنی میں گزشتہ کے فن پاروں کا‘ پھر سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔
    6- ایمان دارانہ تنقید‘ شاعر پر نہیں‘ شاعری پر ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے‘ کہ کسی ایک نظم کا تعلق‘ دوسری نظموں سے ہوتا ہے۔
    7- نظم صرف ایک مفہوم ہی نہیں‘ اپنا زندہ وجود رکھتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں سے‘ جو ترکیب بنتی ہے‘ وہ واضح حالات کی فہرست سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ احساس یا جذبہ یا عرفان جو نظم سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ شاعر کے ذہن میں ہوتا ہے۔
    اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا ہے

    مغرب کے تنقیدی اصول پروفیسر سجاد باقر رضوی مطبع عالیہ 1966
    ارسطو سے ایلیٹ تک ڈاکٹر جمیل جالبی نیشنل فاؤنڈیشن 1975ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اوکاڑہ کی سیاست ماضی اور حال

    اوکاڑہ کی سیاست ماضی اور حال

    تحریر۔ ملک ظفر اقبال
    یوں تو اوکاڑہ شہر کئی دہائیوں سے اپنی سیاسی شہرت کا ثانی نہیں رکھتا ۔کئی دہائیوں تک اوکاڑہ کے سیاستدانوں کی گونج اسلام آباد اور لاہور کی سیاست میں اپنا لوہا منواتی رہی۔
    اوکاڑہ کا سیاسی قد ماضی میں کسی بھی بڑے شہر کے سیاستدانوں سے کم نہیں رہا جسکی مثال ماضی کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جن میں کچھ حیات ہیں اور کچھ اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔مگر ان کی یادیں ان کی تعمیری سوچوں کا محور ہے۔
    اوکاڑہ کی ترقی میں نمایاں مقام رکھنے والے سیاستدانوں میں ایک خوبصورت نام راؤ سکندر اقبال مرحوم کا ہے جو اپنے دور حکومت میں اوکاڑہ کے لیے وہ کام کرگئے شاید آنے والے سیاستدان ان کی تعمیر وترقی اور مثبت انداز فکر کا مقابلہ نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے آج بھی اہل اوکاڑہ ان کے تعمیری کاموں اور اچھی سیاست کی وجہ سے لوگ قدر دان ہیں ،ان کے دورِ حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین بھی ان تعمیر وترقی اور مثبت سوچ کی وجہ سے تعریف کرتے تھے۔
    اوکاڑہ کی موجودہ سیاست میں چوہدری ریاض الحق جج ایم این اے کا سیاسی قد سب سے بڑا ہے ان کی سوچ بھی مثبت اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اوکاڑہ میں چوہدری ریاض الحق جج اپنی مثبت سوچ اور اوکاڑہ کی تعمیر وترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی وجہ سے اوکاڑہ کے سیاسی پلیٹ فارم پر اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
    چوہدری ریاض الحق جج کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ان کے مخلص اور ایماندار ورکر ہیں جو اپنا اپنا کردار اپنے ہردلعزیز رہنما چوہدری ریاض الحق جج کے لیے دن رات عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور یہی وجہ کہ چوہدری ریاض الحق جج نے کئی موقعوں پر اپنی کامیابی کا سہرا اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے بعد اپنے مخلص کارکنوں کے نام کیاہے ۔اگر مخلص کارکنوں کی بات کی جائے تو یقیناً ایک نام اپنے حلقہ کے لوکوں میں سے ملک خالد یعقوب کا آتا ہے جو اپنے لیڈر کے لیے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور حلقہ کے عوام کے ان کی آواز بن چکے ہیں۔

  • پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے مجموعی طور پر افراد اور معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگائی جائے۔ ہیلتھ لیوی تمباکو کی مصنوعات پر وہ ٹیکس ہے جو ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    سب سے پہلے، یہ تمباکو کی مصنوعات کو مزید مہنگا بنا کر ان کی مانگ کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تمباکو ایک نشہ آور مادہ ہے، اور بہت سے لوگ جو اسے استعمال کرتے ہیں وہ ایسا کرنا جاری رکھ سکتے ہیں چاہے یہ مہنگا ہو یا تکلیف دہ ہو۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، صحت سے متعلق محصول لوگوں کو تمباکو کا استعمال شروع کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے یا ان لوگوں کی تمباکو چھوڑنے پر حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کر سکتا ہے جو پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسرا، تمباکو کی مصنوعات پر صحت پر عائد ٹیکس حکومت پاکستان کے لیے اضافی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ اس آمدنی کا استعمال صحت عامہ کے اقدامات، جیسے تمباکو کنٹرول پروگرام، صحت و تدرستی کی تعلیمی مہمات، اور بنیادی حفظان صحت کی سہولتوں سے محروم کمیونٹیز کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی سے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تمباکو کا استعمال مختلف قسم کی سنگین صحت کی حالتوں کے لیے ایک بڑا خطرناک عنصر ہے، بشمول کینسر، دل کی بیماری، اور سانس کی بیماری۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے سے، ہیلتھ لیوی ان لوگوں کی تعداد کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے جو ان حالات کو پیدا کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ اخراجات کو کم کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول میں ممکنہ خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگ یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ دوسرے لوگ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ہیلتھ لیوی غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں اور اضافی لاگت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ان تحفظات کے پیش نظر، حکومت پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے۔ اگر حکومت صحت سے متعلق محصول عائد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو درج ذیل سفارشات میں سے کچھ پر غور کرنا مفید ہو سکتا ہے:

    1. لیوی کو اس سطح پر متعین کریں جو تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہو۔

    2. ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باصابطہ طور پر عوامی صحت کے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے استعمال کریں جو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور آبادی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    3. تمباکو کے استعمال اور صحت کے نتائج پر ہیلتھ لیوی کے اثرات کی نگرانی کریں، اور ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کریں۔

    4. اسٹیک ہولڈرز، بشمول صحت عامہ کے وکلاء، تمباکو کی صنعت کے نمائندوں، اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقوں کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں تمام آوازیں سنی جائیں اور ان پر غور کیا جائے۔

    5. صحت سے متعلق محصول کی وجوہات اور محصول کو کس طرح استعمال کیا جائے گا کے بارے میں عوام سے واضح طور پر بات کریں۔

    ان سفارشات پر عمل کر کے، حکومت پاکستان تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتی ہے اور اسے آبادی کی صحت کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال کے منفی نتائج کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

    لیکن پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی وکالت کرنے کے لیے آپ بھی چند اقدامات اٹھا سکتے ہیں:

    اپنے آپ کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ رکھیں: اس کی وکالت کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے میں اس طرح کے اقدامات کی تاثیر پر شواہد کی تحقیق کریں۔

    اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں: آپ اپنے مقامی، صوبائی، یا قومی نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ تمباکو کی مصنوعات پر عائد ہیلتھ لیوی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی وضاحت کریں کہ آپ اسے کیوں اہم سمجھتے ہیں اور یہ پاکستان میں صحت عامہ کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔

    انسداد تمباکو پر بنے سماجی گروپوں میں شامل ہوں: پاکستان میں ایسی تنظیمیں ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں جیسے کہ کرومیٹک اور باغی ٹی وی۔ ان گروپوں میں شامل ہونے اور ان کی تمباکو کے خلاف مہم میں حمایت کرنے سے ان کی آواز کو بڑھانے اور مہم کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انسداد تمباکو پیغامات کو پھیلائیں: اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا کے فالوورز کے ساتھ اس اعم مسئلے کے بارے میں معلومات کا اشتراک کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی حمایت کریں۔

    اس مسئلے کو باعزت اور باخبر انداز میں اٹھانا اور یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دونوں طرف سے درست دلائل ہو سکتے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ تاہم، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی وکالت کرکے، آپ صحت عامہ کو فروغ دینے اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے مضر صحت اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔