Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیدائش:08 مئی 1940ء
    نیویارک شہر
    وفات:11 فروری 2006ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    وجۂ وفات:پھیپھڑوں کا مرض
    شہریت:ریاستہائے متحدہ امریکا
    مادر علمی:ہارورڈ یونیورسٹی
    زبان:انگریزی

    انگریزی کے مشہور ناول نگار جن کے ناول پر ہالی ووڈ کی مشہور فلم ”جاز“ بنائی گئی۔ نیویارک میں پرورش پائی اور ہارورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے کے لیے صدر لنڈن بی جانسن کی تقریریں لکھنے کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

    ناول ’جاز‘ کی 1974ء میں پہلی اشاعت سے قبل انھوں نے صحافی کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ پیٹر بنچلے کو بچپن سے ہی شارکوں سے دلچسپی تھی اور ان کا بچپن جزیرہ نما نیٹاکیکٹ میں بھی گزرا۔ ان کا ناول ’جاز‘ ایک ایسی بہت بڑی سفید شارک کے بارے میں ہے جس نے ایک شہر کو ہراساں کر رکھا ہے۔ اس ناول کی اب تک دو کروڑ جلدیں فروخت ہو ئیں۔

    ان کے اس ناول پر فلم مشہور ڈائریکٹر اسٹیون سپلبرگ نے بنائی اور انھوں نے اس فلم میں خود بھی ایک رپورٹر کا کردار ادا کیا۔ انھیں سمندر اور سمندری حیاتیات سے گہری دلچسپی تھی اور ان کے دوسرے دو ناول ’دی ڈیپ‘ اور ’دی آئی لینڈ‘ بھی سمندر سے متعلق ہیں۔

  • مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی (پیدائش: 11 فروری 1967) ایک ہندوستانی لوک گلوکارہ ہے۔ وہ ہندی اور متعلقہ زبانوں جیسے اودھی، بندیل کھنڈی اور بھوجپوری میں گاتی ہیں۔ وہ ٹھمری اور کجری میں بھی پیش کرتی ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 2016 میں پدم شری کے شہری اعزاز سے نوازا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Malini Awasthi (born 11 February 1967) is an Indian folk singer.
    She sings in Hindi and related languages such as Awadhi, Bundelkhandi and Bhojpuri.
    She also presents in Thumri and Kajri.
    The Government of India awarded her the civilian

  • سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    سیدہ فرحت

    یوم وفات: 11؍فروری 2003

    اصل نام کرامت فاطمہ اور تخلص سیدہ فرحت تھا۔
    یکم؍اپریل 1938ء کو بھوپال مدھ پردیش میں پیدا ہوئیں۔ آٹھویں کلاس تک بھوپال میی سلطانیہ اسکول میں تعلیم پائی جہاں ان کے والد محکمہ پولیس کی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر عابد حسین کے پاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آگئیں اور ان کی نگرانی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر سے شاعری شروع کی، جعفر علی خاں اثر سے کلام پر کچھ عرصے تک اصلاح لی۔ ان کا کلام ماہنامہ ’’شاہراہ‘‘، ’’نئ روشنی‘‘، ’’آجکل‘‘ آور دیگر رسائل میں شائع یوتا رہا۔
    جب جامعہ ملیہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم ہوئ تو اس کی ممبر بنیں۔ شادی کے بعد علی گڑھ منتقل ہوگئیں۔ وہاں 1962ء میں خواتین کی ادبی انمجمن ’’بزم ادب‘‘ قائم کی جو آج بھی فعال ہے۔ فلاحی کاموں میں بھی سرگرم رہیں۔
    11؍فروری 2003ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئیں۔
    ان کے دو شعری مجموعے ’’بزم خیال‘‘ اور’’سازحیات‘‘ ہیں اور بچوں کے لئے نظموں کی کتاب ’’بچوں کی مسکان‘‘ہے۔ ان کی بیٹی نے سن 2016ء میں’’کلیات سیدہ فرحت‘‘ شائع کی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    سیدہ فرحتؔ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
    خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

    کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
    خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
    وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

    ساز دل جو کبھی نغمات طرب گاتا تھا
    اب ہے محروم ترنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    علم کے گوہر نایاب جو دیتا تھا کبھی
    اب ہے خوناب وہ قلزم کبھی ایسا تو نہ تھا

    قتل انسان تو اب روز کا معمول ہوا
    دل سے مفقود ترحم کبھی ایسا تو نہ تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ فرش خاک پہ ٹھہریں گے نقش پا کی طرح
    رواں دواں ہیں فضاؤں میں ہم ہوا کی طرح

    پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
    سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    خدا کرے تجھے احساس درد و غم نہ رہے
    دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

    نہ ہو سخن میں جو شان پیمبری ممکن
    خموش رہ کے بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

    جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج
    ہجوم یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں
    جو تھا مسجود ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

    فرش گیتی سے سر عرش پہنچنے والے
    کوچۂ دل سے تری راہ گزر ہے کہ نہیں

    گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
    جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
    اہل دانش میں وہ انداز نظر ہے کہ نہیں

  • پاکستان لٹریچرفیسٹیول کا آغاز10 فروری کو لاہورمیں ہو گا

    پاکستان لٹریچرفیسٹیول کا آغاز10 فروری کو لاہورمیں ہو گا

    لاہور: پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا آغاز 10 فروری کو لاہورمیں ہوگا جس کا افتتاح نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علیٰ شاہ کریں گے۔ فیسٹیول کے 50 سے زائد سیشن ہوں گے جس میں تفریح، مزاح، موسیقی، ڈانس کے علاوہ ادب،تعلیم، معیشت، کتابوں کی تقریب رونمائی،ملک کے معروف دانشوروں اور فن کاروں کے ساتھ گفتگو شامل ہوگی۔

    عمران خان سے صدرمملکت عارف الرحمن علوی کی اہم ملاقات، انتخابات کی تاریخ نہ دینے…

    افتتاحی تقریب میں پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر اور سندھ کے وزیر ثقافت اور تعلیم سید سردار شاہ بھی شرکت کریں گے۔

    الحمراءآرٹس کونسل میں، انور مقصود، صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر، سیکرٹری اطلاعات و نشریات علی نواز ملک اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا ذوالفقار ذلفی کے ہمراہ صدر آرٹس کونسل پاکستان کراچی احمد شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے کراچی آرٹس کونسل اردو کانفرنس منعقد کر رہی ہے، اب ہم ایک نیا برانڈ متعارف کرا رہے ہیں، پاکستان میں یکجہتی کی بہت ضرورت ہے، کلچر اور ادب کے ذریعے ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔

    ننکانہ : میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو تنخواہیں نہ مل سکیں،سینیٹری ورکرز کا شدید…

    انہوں نے کہا کہ لاہور ادبی و تہذیبی مرکز رہا ہے، دلی اور چندی گڑھ سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے، ہم نوجوان نسل کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، لاہور کے بعد گوادر،مظفر آباد،گلگت،پشاور، اسلام آباد اور کراچی میں اس فیسٹیول کا انعقاد ہو گا۔احمد شاہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم امریکہ کے مختلف شہروں ہیوسٹن، نیویارک، شکاگو، ڈیلس اور ٹورنٹو میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔

    انور مقصود نے کہا کہ اگر لاہور نہ ہوتا تو پاکستان میں اردو نہ ہوتی، ہر آدمی کا حق ہے کہ اس کا آنے والا دن اچھا ہو، حالات برے ہیں لیکن ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے، نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، ملک میں تعلیم کو پنپنے نہیں دیا گیا کیونکہ اس ملک کے بچے پڑھ گئے تو الیکشن میں ووٹ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان بہت ذہین ہیں، عقل اور سمجھ کے ساتھ ہماری نوجوان نسل سچی ہے، احمد شاہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں وہ کامیاب ہوتا ہے، اس فیسٹیول کے انعقاد میں زلفی کی بہت محنت ہے۔

    صوبائی وزیر ثقافت و اطلاعات عامر میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمد احمد شاہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول ایونٹ کے روح رواں ہیں، انور مقصود ہمارے ملک کے لیجنڈ ہیں، اس فیسٹیول کی بنیاد اور محنت احمد شاہ کی ہے، پاکستان کے معاشرے میں جو شدت پسندی بڑھ گئی ہے اس سے نکلنے کے لیے ایسے ایونٹس بہت ضروری ہیں۔ذوالفقار زلفی نے کہا کہ ہم احمد شاہ کو خوش آمدید کہتے ہیں، اس فیسٹیول کے لیے احمد شاہ دن رات محنت کر رہے ہیں، الحمرا ہر قدم میں ان کے ساتھ ہے ، عامر میر کی قیادت میں ہم بھرپور ساتھ دیں گے۔

  • امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ
    (Elizabeth Bishop)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش: 8 فروری 1911
    وفات: 6 اکتوبر 1979

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ امریکہ کی ریاست میسا چیوسیس کے چھوٹے سے شہر ورکرسٹر Worcester میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک کنٹریکٹر تھے جب ان کی عمر آٹھ سال تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی والدہ صدمے سے ذہنی مریضہ بن گئی۔

    ان کی شاعری پر میریں مور Marianne Moore کے لبرل خیالات کا گہرا اثر رہا۔ انھوں نے نیویارک کے وارسر کالج سے 1934 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بشپ کی نظمیں” ایک ادبی جریدے ٹرائیل بیلنس” میں شائع ہو چکی ہیں۔

    1949-1950 کے دوران وہ واشنگٹن میں شعبہ شاعری کی مشیر رھی۔

    ان کی شاعری کا اسلوب منفرد نوعیت کا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے آپ کو” تسخیر”کرنا چاہتی ہیں۔ اور الزبتھ بشپ ” آبلہ فریبی” سے فاصلہ رکھے ہوئی ہیں۔

    ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ” لزبن "ہم جنس نسواں” تھی۔ یہ غلط تاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ عورتوں کی شاعری کرتی ہیں۔ بقول ان کے "عورتوں کی زیادہ تر شاعری فطرتا نیلے رنگ کے گیت ہوتے ہیں جس میں آہ و زاری کی جاتی ہے اور درد کا شکار ہوکر سادیت کے گیت لکھتی ہے۔

    1956 میں انھیں پولینٹرز انعام مل چکا ہے۔ ان کی زندگی پر بابرا ھوکر نے ایک فلم This House on Elizabeth Bishop کے نام سے بنائی۔

    بشپ کی تحریروں کی عمدہ اور شاندار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صدیوں پرانے شعری رویوں سے آگہی اور اس کی کلیوں کو وہ سمتیں ہیں جن کو بڑی ہی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودینے کی تخلیقی ہنر مندی ان کو آتی ہے۔ وہ اپنے جذباتی شعری اظہار کو اعتدال کے ساتھ کنٹرول کر لیتی ہیں۔ وہ اپنے جذباتی اور حساس کو بڑی مہارت سے شعری پیکر اور اس کو جمالیاتی طور پر تشکیل دے لیتی ہیں۔ جب قاری ان کے جذبوں سے آگاہ ہوتا ہے تو وہ "بلبلاتا ” بھی ہے۔ دراصل ان کے شعری فن میں یہ بات تو ہے کہ وہ اپنے ” زخموں” کو کمال ہوشیاری سے چھپا بھی لیتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ذاتی واردات اور زخموں کو بے نقاب کرنے کے لیے اساطیری فکریات اور ڈھانچے سے اسلوبیاتی اور اپنا شعری بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بشپ کی شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ اسرار اور پر اسرار کے ساتھ کرنا ہے۔ جس طرح ان کی شاعری صرف شاعرہ کو کشف، الہام اور وحی کے بغیر طاقتور، مباحثہ احساسات سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔ بشپ نے اس وقت جمالیاتی صوابدید کا ایک راستہ اپنایا جب اس کے بہت سے ہم عصر شعرا ان کی شعری فطانت کا کا تعاقب کررہے تھے. اور ان کی شاعری کے بہت سے ٹکڑوں کو رد و بدل کرنے بعد شائع کرنے والے شعرا کی بھی کمی نہ تھی۔ جس میں بشپ کی شعری فضا اور خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ یہ دھوکہ دہی اور پریشانی کا سبسب بھی بنی۔ جس میں جمالیات اور تخلیقی مرکبیات، عمل کیمیائی کے بعد مراقبے کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو ان کا حفاظتی حصار تھا۔ وہ التباس کا شکار رہی۔ مگر ان کی یہ تشکیک اور تشویش تو ہے مگر یہ مراقبہ نہیں ہے۔ یہ اصل میں شاعرہ کے نئے شعری اظہار کی تلاش اور جستجو ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” بلی کی لوری”

    ” میاوں”۔۔۔۔ نیند خواب ہوجاتے ہیں
    اپنی بڑی آنکھوں کو بند کرلو
    ایک مسرت آمیز حیرانگی کے ساتھ
    پیاری ” میاوں” ۔۔۔ اپنی چڑھتی ہوئی تیوری کو گرا دو
    بس تعاون کرو
    ایک بلی کا بچہ نہ ڈوب جائے
    مارکسی حالت میں
    خوشی اور محبت دونوں تمہارے ہوجائیں گے
    ” میاں” ۔۔۔ اداس نہ ہو
    خوشی کے دن جلد آرہے ہیں
    نیند —– اور انھیں آنے دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الزبتھ بشپ کی تصانیف

    North & South (Houghton Mifflin, 1946)
    Poems: North & South. A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1955) —winner of the Pulitzer Prize[1]
    A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1956)
    Questions of Travel (Farrar, Straus, and Giroux, 1965)
    The Complete Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 1969) —winner of the National Book Award[2]
    Geography III (Farrar, Straus, and Giroux, 1976)
    The Complete Poems: 1927–1979 (Farrar, Straus, and Giroux, 1983)
    Edgar Allan Poe & The Juke-Box: Uncollected Poems, Drafts, and Fragments by Elizabeth Bishop ed. Alice Quinn (Farrar, Straus, and Giroux, 2006)
    Poems, Prose and Letters by Elizabeth Bishop, ed. Robert Giroux (Library of America, 2008) ISBN 9781598530179
    Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 2011)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سورن لتا سے  سعیدہ بانو تک کا سفر

    سورن لتا سے سعیدہ بانو تک کا سفر

    اداکارہ سورن لتا

    یوم وفات : 8 فروری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم "_سچائی” بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” پھیرے” ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔” پھیرے” کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم” لارے” اور اردو فلم "انوکھی داستان” ریلیز ہوئیں۔

    1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم ” بھیگی پلکیں” تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں ، شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیر ، ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام، شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس بعد فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
    8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    پیدائش:25 ستمبر 1711ء
    بیجنگ
    وفات:07 فروری 1799ء
    بیجنگ
    مدفن:مشرقی چنگ مقابر
    شہریت:چنگ سلطنت
    اولاد:نسل
    مناصب
    شہنشاہ چین
    برسر عہدہ
    08 اکتوبر 1735- 9 فروری 1796ء

    چی این لونگ ایک شہنشاہ ہوتے ہوئے فاضل، ادیب، عالم اور نامور جرنیل تھا۔ اس کے عہد میں چین آزاد اور اقتدار کا ممتاز مظہر تھا۔ اس کا دور امن و امان کا حامل تھا۔ اس کی موت کے بعد شاہی کو ایسا زوال آیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور جمہوریت نے جنم لے لیا۔
    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ یونگ چینگ کا ولی عہد تھا جو حرم کے ایک خواص کی بطن سے پیدا ہوا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی مطالعہ اور تحقیقات میں گزری۔ اس کو امور سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حکومت کے نظم و نسق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اس کے علمی شوق اور افضیلت نے اسے دور دور تک مشہور کر رکھا تھا۔ وہ تصنیف، تالیف یا تحقیق میں اس قدر محو تھا کہ اسے عوام حالات تک معلوم نہیں تھے۔
    تخت نشینی
    ۔۔۔۔۔۔
    جب چی این لونگ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس کی عمر پچیس سال تھی۔ امرائے حکومت نے اسے مجبور کیا کہ وہ امور سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ اس نے جواب میں کہا کہ کسی ملک کی حکمرانی بڑی ذمہ داریوں کا کام ہے۔ جو اعلیٰ روایات ہمارے اسلاف نے قائم کی انہیں ایک آن کے ساتھ لیکر آگے بڑھنا تا کہ ملک ترقی کر سکے۔ عوام کے حقوق کی حفاظت اور بیرونی اقوام کے حملوں سے مادر وطن کا تحفظ ایسی ذمہ داریاں ہیں جسے شاید میں اچھی طرح سے انجام نہ دے سکوں۔ چی این لونگ کا یہ جواب وزرائے سلطنت کو اس قدر پسند آیا کہ وہ اس کی تخت نشینی پر زور دینے لگے۔ وزراء نے چی این لونگ کو آخر مجبور کر دیا کہ وہ تخت و تاج کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ چنانچہ لنگ 1735ء میں تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے چار اتالیق مقرر کیے جو اسے امور سیاست سے واقف کراتے تھے۔
    یورپی مبلغین
    ۔۔۔۔۔۔
    علحدگی پسند چینی یہ نہ چاہتے تھے کہ مسیح اور دوسرے مذاہب کے داعی چین میں آ کر اپنے مذہب کا پرچار کریں جس وجہ سے چینی مذہب اور اس کی انفرادیت کو ٹھیس پہنچے۔ یہ نفرت انگیز اور کشیدہ جذبات چی این لونگ کے دادا کے زمانے سے پرورش پا رہے تھے۔ اس طویل عرصے میں یورپ کے مشزیز اپنے اثرات کو وسیع اور ہمہ گیر بنا رہے تھے۔ چی این لونگ نے امتناعی احکامات نافذ کر دیے کہ غیر مذاہب کی تبلیغ کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ مبلغین جو تبلیغ کے علاوہ ایک سیاسی مقصد بھی رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ان پابندیوں کی پروا نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھا۔ جب چی این لونگ کو قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع ملی تو اس نے ان مبلغین کو سخت ترین سزائیں دلوایں جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ یہ کشمکش اس وقت شدید ترین ہو گئی جب جزائر فلپائن کے چینی باشندوں کو ہسپانوی باشندوں نے مسیحیت قبول نہ کرنے پر سخت سزائیں دیں گئی۔ اس کی خبر جب چین پہنچی تو چی این لونگ نے حکم دیا کہ ہسپانوی تبلیغ گھر جو چین میں تعمیر ہے سب کو مسمار کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ ہسپانوی مبلغین کو قتل کرنے کا حکم بھی دیا جس کی وجہ سے ہسپانوی مبلغین کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
    یورپی تاجر
    ۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ مسیحیت اور مغربی اقوام کا سخت دشمن تھا اس نے تبلیغ مسیحیت کو حددود چین میں ممنوع قرار دیا تھا۔ بیرونی تاجروں پر کڑی نگرانی کا انتظام کر رکھا تھا۔ بندرگاہوں پر ایک خاص عہدہ دار جو ہوپو کے نام سے بھی مشہور ہے کا تقرر کیا گیا جو درآمدات اور برآمدات پر نگرانی کرتا۔ تاجروں پر سختیاں اور پابندیوں کو دیکھ کر جارج سوم شہنشاہ انگلستان نے چی این لونگ کے دربار میں اپنے قاصد میکارٹنی کو بھیجا۔ مگر چی این لونگ نے میکارٹنی کو بے نیل و مراد لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان ناکامیوں کا حل مغربی اقوام نے عجیب و غریب نکالا۔ ان لوگوں نے کثیر مقدار میں افیون کی درآمد شروع کر دی۔ چینیوں میں افیون کے اس شدید استعمال نے اخلاقی و مالی نقصانات پیدا کر دیے۔ مانچو حکمرانوں نے افیون کی تجارت ختم کرنے کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی تھی۔ جس کی انتہا یہ ہوئی کہ افیون کی تجارت کی وجہ سے بیرونی اقوام اور چین میں 1841ء میں جنگ بھی ہوئی جس میں چین کو شکست ہوئی۔
    وسط ایشیا کے جنگجو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرادر چین کی آزادی اور امن کے لیے مستقل خطرہ تھے۔ چین کی سیاست میں جب کبھی انحاط دیکھتے چین پر حملہ کر دیتے۔ چی این لونگ نے اس خطرے کو پوری طرح محسوس کیا اور یہ طے کیا کہ چین کے مستقل اس خطرے کے ارتفاع سے امن کی ایک ضمانت دلائی جائے۔ چنانچہ چی این لونگ نے کثیر ترفیت یافتہ فوج تیار کی اور مناسب موقع کا انتظار کیا۔ وقت کا انتظار اس لیے کیا جا رہا تھا کہ وسط ایشیا بے امنی، قتل اور غارت گری کا ایک خونی مرکز تھا۔ چی این لونگ سے بیشتر شاہان چین کی یہ جرات نہ ہو سکی تھی کہ وہ اس بارود خانے میں چنگاری پھینکیں۔ چی این لونگ نے موافق موسم میں مناسب حالات کے ساتھ ایک کثیر فوج لے کر وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں پر حملہ کر دیا۔ اس خون ریز لڑائی میں چی این لونگ کو فتح نصیب ہوئی اور تمام سرداروں کو اس نے زیر نگین کر لیا۔ اس مہم میں خاشگر، یارقند، خوقند اور سارا وسط ایشیا تسخیر کر لیا گیا۔
    سلطنت میں وسعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں کو زیر نگین کرنے کے بعد چی این لونگ نے 1768ء میں برما پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں چینی فوجیں برما کے دار الحکومت تک تو نہیں پہنچ پائی لیکن چین کی سیادت کو حکومت برما نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے بعد 1792ء میں چینی افواج نے نیپال پر حملہ کیا تھا۔ اس لڑائی میں چین کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ شہنشاہ چی این لونگ کی سلطنت کی حدود افغانستان اور ہندوستان کے قریب قریب تک پھیلی ہوئی تھی۔
    دستبرداری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کو 1795ء میں دستبردار ہونا پڑا کیونکہ چینی قانونی کے لحاظ سے کوئی بھی بادشاہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ حکومت نہیں کر سکتا تھا۔دستبرداری کے بعد بھی چی این لونگ امور سلطنت کی نگرانی کرتا رہا۔
    دور حکومت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کا دور فتوحات سے قطع نظر اندرونی طور پر امن و امان کا حامل تھا۔ غریبوں اور کسانوں کی فلاح کے لیے کئی قوانین بنائے۔ چی این لونگ چین کا وہ عالم، مدبر، فن کار اور جنگجو فرمانروا ہے جس نے اپنی قابلیت سے چین کی علمی اور سیاسی زندگی میں بیش بہا اور گرانقد اضافے کیے۔ چی این لونگ چین کا آخری فرمانروا ہے جو چین کی عظمت و جلال کا ایک ممتاز مظہر تھا۔

  • چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    پیدائشی نام:Charles John Huffam Dickens
    پیدائش:07 فروری 1812ء
    وفات:09 جون 1870ء
    وجۂ وفات:دماغی جریان خون
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    مادری زبان:انگریزی

    چارلس ڈکنز یا چارلز ڈکنز (انگریزی: Charles Dickens) انگلستان کا مشہور ناول نویس تھا۔ چارلس ڈکنز 07فروری 1812ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ بچپن میں نامساعد حالات سے گزرا۔ جس کی جھلک اس کے ناول اولیور ٹوسٹ اور ڈیوڈ کاپر فیلڈ میں ملتی ہے۔ عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے منشی کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں شارٹ ہینڈ سیکھ لی اور ایک اخبار کا رپورٹر ہو گیا۔ ان دونوں ملازمتوں میں ڈکنز کو وہ سب مواد دستیاب ہوا جو بعد میں اس نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ 1836ء میں ادبی زندگی کا آغاز کیا ماہنامے میں قسط وار داستان Pickwick Papeers لکھ کر کیا جو بہت مقبول ہوئی۔ 1842ء میں امریکا کا دورہ کیا۔
    ہندستان میں 1857ء کی جنگ آزادی (جسے برطانوی غدر کہتے ہیں) میں مقامی آبادی کو شکست کے بعد انگریزی تادیبی کارروائیوں پر ڈکنز کا بیان:
    I wish I were commander-in-chief in India … I should proclaim to them that I considered my holding that appointment by the leave of God, to mean that I should do my utmost to exterminate the race.
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    09 جون 1870ء کو اُس کا کینٹ برطانیہ میں انتقال ہو گیا۔

  • وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا،بشری رحمان بلبل پاکستان

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا،بشری رحمان بلبل پاکستان

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو جی چاہتا ہے

    بشری رحمان بلبل پاکستان

    7 فروری 2022 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ،ادیبہ،مصنفہ، شاعرہ ، ناول نگار ،افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،کالم نگار اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن 29 اگست 1944میں بہاولپور پنجاب میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاولپور سے اور ایم اے صحافت کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی ۔ 1960 میں لاہور کے ایک معروف صنعتکار میاں عبدالرحمن سے شادی ہوئی ۔ بشریٰ رحمن کی اب تک 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ناول،افسانے، شاعری، ڈرامے اور کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے لکھے ڈرامہ سیریل سے شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ ایک اخبار میں "چادر چار دیواری اور چاندنی” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتی تھیں سائرہ ہاشمی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” بزم ہم نفساں ” کا قیام عمل میں لایا جس کے زیر اہتمام وہ ہر ماہ اپنی رہائش گاہ پر ماہانہ مشاعرے کا انعقاد کرتی تھیں جس میں لاہور کے نامور شعراء اور شاعرات شریک ہو کر اپنا کلام پیش کرتے تھے بشری صاحبہ نے ایک ادبی ماہنامہ ” وطن دوست ” کا بھی اجراء کیا تھا ۔ انہوں نے ادب و سیاست اور صحافت کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ وہ دو بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور دو بار قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں ۔ اسمبلی میں ان کی خوش گفتاری اور بہترین فقروں اور الفاظ کے استعمال کی بنا پر انہیں ” بلبل پاکستان” کے خطاب سے نوازا گیا تھا ۔ 7 فروری 2022 کو 78 برس کی عمر میں کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی نے ان کی وفات پر بڑے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا” خوب صورت شخصیت، دلفریب مسکراہٹ، غزالی آنکھوں اور رس بھرے لہجے کی مالک” ۔ بشری صاحبہ کی شائع ہونے والی کتابوں میں ،بت شکن، چپ، پشیمان ، پیاسی،چارہ گری ،خوب صورت ، عشق عشق، قلم کہانیاں ، مولانا ابوالکلام آزاد،ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو، بہشت،لازوال،دانا رسوائی ، صندل میں سانسیں چلتی ہیں ،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، الله میاں جی اور ، تیرے سنگ در کی تلاش شامل ہیں ان کی آخری تصنیف "سیرت طیبہ صلی الله علیہ وسلم” ہے ۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے سیرت طیبہ کی کتاب مکمل کر کے وفات پائی ہے امید ہے کہ یہ تصنیف ان کی عاقبت سنوارنے کا باعث بنے گی جبکہ انہوں نے آخری افسانہ "_گیسو” دسمبر 2021 میں لکھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مرد کو باغی بنانے میں عورت کا کردار زیادہ ہے شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کو بلا جواز شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ان کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں جس کی وحہ سے شوہر تنگ آ کر اپنے گھر سے باہر غیر محرم خواتین سے رابطہ استوار کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ بشریٰ رحمن صاحبہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2007 صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    چند منتخب اشعار

    تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
    آتش شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے

    ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
    دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
    نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

    مرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
    معطر باوضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

  • تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس،سیلاب متاثرین کی بحالی بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس،سیلاب متاثرین کی بحالی بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس،سیلاب متاثرین کی بحالی بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے

    سال 2022 میں آنے والے سیلاب نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ سرکاری اعداوشمار کے مطابق دس لاکھ گھر پانی کی نذر ہوگئے اور تاحال لاکھوں افرادبحالی کے لئے حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں مگر ان سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کے حکومت پاکستان کے بس سے باہر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کے لئے کئی سو ارب درکار ہیں اور اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جنیوا میں ڈونرز کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک طرف جہاں ملکی سطح پر وسائل کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے وہیں بیشمار ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بعض بہت ہی سادہ مگر اہم معاملات کو زیر التو ڈال کر قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جاتا ہے مثال کے طور پر اگر صرف تمباکو پر ہی ہیلتھ لیوی ٹیکس لگا دیا جائے تو قومی خزانے میں ہر سال 40 سے 50 ارب روپے جمع کیے جا سکتے ہیں اور اس آمدن کو نہ صرف صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے بلکہ تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر سیلاب متاثرین کی بحالی جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لئے بھی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث صحت پر اخراجات کی لاگت تقریبا 615 ارب روپے ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے جبکہ تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کل لاگت کا صرف 20 فیصد ہے۔صحت عامہ کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو تمباکو نوشی سے انسانی صحت اور معاشرے پر جو مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں اس حوالے سے حاصل ہونے والے تجربات و تحقیقات کے نتیجے میں دنیا کے بیشترممالک کئی سال پہلے ہی اس ناسور سے پیچھا چھڑانے پر کمر بستہ ہوچکے تھے اور تمباکو نوشی کے تدارک کے لئے موثر قانون سازی اور پالیسیاں بنا کر ان پرسختی سے عملدرآمد یقینی بنایا گیا تاہم ہمارے ہاں صورتحال قدرے مختلف ہے اور یہاں کسی بھی عمر کے خواتین و حضرات نہ صرف سگریٹ باآسانی خرید سکتے ہیں بلکہ قانون پر موثر عملداری نہ ہونے کے باعث پبلک مقامات سمیت کہیں بھی سگریٹ نوشی کرتے نظر آتے ہیں۔ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں تمباکو مصنوعات سستی اور آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔پاکستان میں روزانہ 1200 سے زائد بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور ہر سال 1لاکھ 70ہزار سے زائد افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان اعداو شمار میں ہر سال اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تمباکو نوشی کی بنیادی شکل یعنی (سگریٹ) کے متبادل طریقے جیسے شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز جیسی مصنوعات نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ثابت ہورہی ہیں، کینسر کا باعث بننے والے کیمیکل سے بنی یہ مصنوعات نکوٹین پائوچز، اور چیونگم کے طور پر پاکستان کی مارکیٹ میں کھلے عام دستیاب ہیں۔تمباکوانڈسٹری سے وابستہ کاروباری کمپنیوں کے دعووں کے برعکس، جدید مصنوعات نقصان دہ ہیں کیونکہ ان میں نکوٹین ہوتی ہے جو کہ نشہ آور اشیا کے استعمال کی بہت سی دوسری اقسام کے لیے پہلی سیڑھی کا کام کرتی ہے اور نوجوانوں میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ان پراڈکٹس کو سگریٹ نوشی ختم کرنے میں مدد دینے والی مصنوعات ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ نشے کی نئی اقسام ہیں۔ بعض تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مصنوعات سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہیں مگر ماہرین صحت نے ان مصنوعات کے نقصانات کے بارے میں تفصیلی طور پر خبردار کیا ہے۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    تمباکو کے انسانی صحت پر پڑنے والے اثرات تو ایک طرف سنگین نوعیت کے ہیں ہی دوسری طرف تمباکو مصنوعات کا بے دریغ استعمال ملکی معیشت پر ہرسال کروڑوں روپے کا اضافی نقصان پہنچا رہا ہے اس مد میں تمباکو انڈسٹری سے حاصل یونے والے سالانہ ٹیکسز آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ پاکستان میں تمباکو مصنوعات سستی اور آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے روزانہ 1200 سے زائد بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور ہر سال 1لاکھ 70ہزار سے زائد افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اس ناقابل تلافی نقصان کو روکنے، کمزور معیشت کو سہارا دینے اور تمباکو نوشی جیسے ناسور سے چھٹکارا پانے کے لئے ماہرین صحت اور تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کی کوششوں سے سال 2019 میں وفاقی کابینہ نے تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگانے کے بل کی منظوری دی تاکہ تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کو کم کرنے کے ساتھ قومی خزانے میں سالانہ 40 سے 50 ارب روپے آمدن کا اضافہ کیا جاسکے تاہم تمباکو کی صنعت کے دباؤ کی وجہ سے یہ بل پارلیمینٹ میں منظوری کیلئے پیش نہیں کیا جا سکا تاہم موجودہ ملکی معاشی صورتحال اور سیلاب متاثرین کی بحالی جیسے مشکل چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے ضروری یے کہ حکومت جہاں غیرملکی امداد کی منتظر ہے وہیں تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکسز لگاکر سالانہ بنیادوں پر آمدن بڑھائے کیونکہ دنیا بھر میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کئی ممالک نے تمباکو پر بھاری ٹیکسز کے ذریعے نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنایا بلکہ تمباکو جیسی لعنت سے اپنے معاشروں کو پاک بھی کیا۔

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا