Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    مولانا ظفر علی خان

    19؍جنوری 1873 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان 19؍جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Departmentt) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو” جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔

    1908ء میں لاہور گئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام” کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔ظفر علی خان نے 8؍جولائی 1935ء کو شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔

    مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

    معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت، جنگ روس و جاپان۔
    مولانا ظفر علی خان نے 27؍نومبر 1956ء کو وزیرآباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ محمد عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔

    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
    ——-
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
    ——-
    سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
    نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی
    ——-
    قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
    تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن
    ——-
    کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
    تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا
    ——-
    نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
    فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا
    ——-
    آپ کہتے ہیں پرایوں نے کیا ہم کو تباہ
    بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو
    ——-
    نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
    جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
    ——-
    پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
    کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا
    ——-
    سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
    ——-
    دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
    ——-
    اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
    صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
    ——-
    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں
    ——-
    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

    ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند
    ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

    سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام
    میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

    زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
    مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا

  • منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں

    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں

    منو بھائی

    19 جنوری یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ممتاز ترقی پسند و مزدور دوست ادیب، شاعر ، صحافی اور کالم نگار منو بھائی 6 فروری 1933 کو وزیر آباد پنجاب میں محکمہ ریلوے کے ملازم محمد عظیم قریشی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی اردو، پنجابی اور فارسی جبکہ ان کے ماموں شریف کنجاہی پنجابی کے معروف شاعر تھے۔ منو بھائی جن کا اصل نام منیر احمد اور قریشی قبیلے سے تعلق تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم وزیر آباد جبکہ گورنمنٹ کالج اٹک سے انٹر میڈییٹ تک تعلیم حاصل کی لیکن دوران تعلیم سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی وجہ سے انہیں کالج سے فارغ کر دیا گیا جس کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے ۔ والد محمد عظیم قریشی کی سفارش پر انہیں محکمہ ریلوے میں ملازمت مل گئی مگر منیر احمد کو سرکار کی پابندی گوارا نہیں تھی اس لیے سرکار کی نوکری چھوڑ کر راولپنڈی چلے گئے جہاں انہوں نے روزنامہ ” تعمیر” سے اپنی صحافتی زندگی کے کیریئر کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں وہ روزنامہ امروز میں چلے گئے وہاں سے پھر پی پی پی کے بانی چیئرمین اور صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو انہیں روزنامہ ” مساوات” میں لے گئے۔ منیر احمد نے روزنامہ تعمیر میں ” اوٹ پٹانگ ” کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی مگر احمد ندیم قاسمی نے انہیں ” منو بھائی ” کا نام دے دیا جس کے بعد ان کی پہچان منو بھائی کے نام سے ہو گئی اور وہ شاعری و کالم نگاری منو بھائی کے نام سے ہی کرتے رہے ۔ وہ اپنا کالم ” گریبان” کے عنوان سے لکھتے رہے ۔ روزنامہ تعمیر، امروز اور مساوات کے بعد وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے ۔ منو بھائی ایک ترقی پسند اور مزدور و غریب دوست شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ اپنی تحریروں ، ڈراموں اور شاعری میں گلی، کوچوں اور محلوں کی حقیقی زندگی کی منظر نگاری کرتے تھے۔

    منو بھائی کے پی ٹی وی پر پیش کیے گئے ڈرامے بہت زیادہ مشہور و مقبول ہوئے جن میں ” سونا چاندی ” سب سے زیادہ مشہور ہوا مگر اس کے علاوہ ان کے دیگر ڈرامہ سیریلز بھی بہت پسند کیے گئے جن میں ” جھوک سیال، خوب صورت، گمشدہ ، کی جانے میں کون؟، عجائب اور دشت شامل تھے ۔ دشت میں انہوں نے بلوچستان کی صحرائی زندگی اور ثقافت کی منظر کشی کی ۔ منو بھائی کی تصانیف میں ، جنگل اداس ہے ، فلسطین فلسطین ، محبت کی ایک سو ایک نظمیں ، انسانی منظر نامہ (ترجمہ) اور ان کا پنجابی شعری مجموعہ ” اجے قیامت نئیں آئی” شامل ہیں ۔ منو بھائی طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد 19 جنوری 2018 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ 2014 میں انہوں نے ایک لاکھ 45 ہزار کتب پر مشتمل اپنی ذاتی لائبریری گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا وہ خون عطیہ کرنے والے ادارے ” سندس فائونڈیشن” کے تاحیات چیئرمین رہے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نواز گیا۔

    نمونہ کلام

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں
    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
    روندے روندے سوں رہندے ساں ایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
    بھک لگدی اے منگ نیں سکدے ملدا اے تے کھا نیں سکدے
    نیں ملدا تے رو نیں سکدے نہ رویے تے سوں نہیں سکدے

  • عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان کا وقاراگر دائو پر لگ جائے تو اس کے پاس باقی کچھ نہیں رہتا۔ سیاستدانوں سے التجا ہے کہ اپنی روش پر نظرثانی فرمائیں۔ نظریات تو پہلے ہی سیاسی جماعتوں میں دفن ہو چکے۔ جمہوریت کے ساتھ بھی تاریخی ظلم کیا گیا کسی بھی سیاسی جماعت میں جمہوریت باقی نہیں بچی۔ اب سیاست بھی دائو پر لگ چکی ہے۔ اکثریت پارٹی سربراہوں کو چاپلوسوں، ضمیر فروشوں، حاشیہ برداروں کی ضرورت کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟ شاید اس لئے کہ ان نام نہاد رہنمائوں نے جمہوریت کی آڑ میں جمہور کو نظرانداز کیا۔ ریاست اور جمہور کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال کر ہوس اقتدار اور ہوس زر کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا۔ جس کا خمیازہ یہ خود اور ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ کیا ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی موجود ہے؟ کیا پارلیمنٹ کی بالادستی موجود ہے؟ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو کیا پی ڈی ایم والو ں نے دودھ اور شہد کی نہریں چلوا دیں ہرگز نہیں عوام کا حال تو یہ ہےکہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ اس صبح کی کرنوں سے کون سا خورشید طلوع ہوا ہے۔ کس کے گھر میں چولہا جلنے کی خوشخبری، کہاں بجلی اور گیس کا بحران حل ہوا کس شہر میں غنڈہ گردی کم ہوئی۔ چوریاں اور ڈکیتیاں کہاں کم ہوئیں۔ کیا وطن عزیز خود غرض سیاستدانوں، لینڈ مافیاز، غنڈوں اور لٹیروں کی آماجگاہ بن چکا ہے؟

    خلاصہ یہ ہے کہ ریاست کے مسائل اور عوام کے مسائل کو دیکھا جائے تو ملک میں لیڈر شپ کا فقدان ہے ملک و قوم کبھی دوعملی اور دوغلی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتی۔ آج ہر سیاسی جماعت میں دوغلی پالیسی کا راج ہے ملکی سیاسی گلیاروں میں ایک معجزہ ظہور پذیر ہوا ہے کراچی میں جماعت اسلامی نے کامیابی حاصل کی ہے جن لوگوں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کراچی میں اور کراچی تک ہی اور بلدیاتی انتخابات تک محدود رہے گی کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کے اثرات پورے ملک آمدہ قومی انتخابات پر بھی پڑیں گے عوام کی اکثریت کا کراچی میں جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔ جماعت اسلامی افراد کی نہیں نظریات کی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے حیدر آباد سندھ کے دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی اور کراچی میں جماعت اسلامی کا راج ایم کیو ایم کی دوغلی پالیسی اور قیادت کا فقدان قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    17 جنوری۔۔یومِ پیدائش۔
    ہاجرہ مسرور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور ادبی خانوادہ کی رکن، برانٹی سسٹر کے نام سے شہرت پانے والی معروف ادیبہ ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ہاجرہ مسرور کے بچپن میں ہی، ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اُن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے انداز میں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اُردو کی معروف ادیب تھیں۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جب کہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد ہاجرہ مسرور اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اور لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔ اُس زمانے میں لاہور پاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطور کہانی و افسانہ نگار اپنا عہد شروع کر چکی تھیں ۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ‘نقوش’ شائع کرنا شروع کیا۔ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی ۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے۔
    ہاجرہ مسرور کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میں ‘چاند کے دوسری طرف’، ‘تیسری منزل’، ‘اندھیرے اُجالے’، ‘چوری چھپے’، ‘ ہائے اللہ’، ‘چرکے’ اور ڈراموں کا مجموعہ ‘وہ لوگ’ شامل ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں لاہور کے ایک ناشر نے ‘ سب افسانے میرے’ کے عنوان سے شائع کیا۔ افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اُن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کیں۔ انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 1995ء میں تمغہ حُسنِ کارکردگی’ دیا۔ 2005ء میں انہیں ‘عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا۔

    ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ‘نگار ایوارڈ’ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ‘آخری اسٹیشن’ کی کہانی بھی لکھی۔ یہ فلم سرور بارہ بنکوی نے بنائی۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔

  • یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوںیوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

    گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ پیدائش 20 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔

    گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

  • بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    تمباکو نوشی صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، اور یہ وہ مسئلہ ہے جو عام طور پر جوانی میں شروع ہوتا ہے۔ 10 میں سے تقریباً 9 سگریٹ نوشی 18 سال کے ہونے سے پہلے شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنا بہت ضروری ہے۔
    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے بہت سے کام کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں تمباکو پر ٹیکس بڑھانا، عوامی تعلیمی مہم چلانا، اور نابالغوں کے لیے تمباکو کی مصنوعات خریدنا مزید مشکل بنانا شامل ہیں۔
    تمباکو کا استعمال ایک قابل روک صحت کا مسئلہ ہے، اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

    1. تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابل روک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ دنیا بھر میں قابل روک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہے اور کینسر، دل کی بیماری، اور دائمی سانس کی بیماری سمیت متعدد غیر متعدی بیماریوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔ انسانی صحت پر ہونے والے نقصانات کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔

    تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے متعدد موثر حکمت عملییں ہیں، جن میں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان حکمت عملیوں کو نافذ کرنے سے، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں اور موت کے بوجھ کو کم کرنا اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنانا ممکن ہے۔

    2. ہر سال تقریباً 6 ملین اموات سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    ہاں، تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور دنیا بھر میں بڑی تعداد میں اموات کا ذمہ دار ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس میں تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ہونے والی براہ راست اموات، جیسے کینسر اور قلبی بیماری، اور دوسرے ہاتھ کے دھوئیں سے ہونے والی بالواسطہ اموات دونوں شامل ہیں۔

    انسانی نقصان کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    3. تمباکو نوشی 20 گنا سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے جتنی تمام غیر قانونی منشیات کو ملا کر

    ہاں، تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور غیر قانونی ادویات کے مقابلے میں بڑی تعداد میں اموات کا ذمہ دار ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی موت کا ذمہ دار ہے، جب کہ غیر قانونی ادویات کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر، ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ منشیات کا غیر قانونی استعمال ہر سال تقریباً 187,000 افراد کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمباکو نوشی 20 گنا سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے جتنی تمام غیر قانونی منشیات کو ملا کر۔

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ انسانی نقصان کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    4. تمباکو کے استعمال سے عالمی معیشت کو سالانہ $1 ٹریلین سے زیادہ کا نقصان ہوتا ہے۔

    ہاں، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کے استعمال کی عالمی اقتصادی لاگت $1 ٹریلین سالانہ سے زیادہ ہے۔ اس میں براہ راست اخراجات شامل ہیں، جیسے تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت، اور بالواسطہ اخراجات، جیسے قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔

    5. دنیا کے 1.1 بلین تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں

    ہاں، یہ سچ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی ایک غیر متناسب تعداد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، دنیا کے 1.1 بلین تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ ان ممالک میں تمباکو کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہ اس حقیقت کی وجہ سے بھی ہے کہ تمباکو پر قابو پانے کے اقدامات، جیسے کہ تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین اور ضوابط، ان میں اکثر کمزور ہوتے ہیں۔ ممالک

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ یہ بیماری کے عالمی بوجھ میں ایک بڑا معاون ہے اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود پر اس کے اہم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    6. پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں تمباکو نوشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    ہاں، یہ سچ ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ تمباکو نوشی کی شرحوں میں سے ایک ہے۔ 2017 میں، ڈبلیو ایچ او نے اندازہ لگایا کہ پاکستان میں تقریباً 25 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں تمباکو نوشی اور دھوئیں کے بغیر تمباکو دونوں شامل ہیں۔

    7. تقریباً 60% پاکستانی مرد اور 10% پاکستانی خواتین سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق پاکستان میں تمباکو کا استعمال عام ہے، تقریباً 60 فیصد پاکستانی مرد اور 10 فیصد پاکستانی خواتین کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتی ہیں۔ اس میں تمباکو نوشی اور دھوئیں کے بغیر تمباکو دونوں شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 25 فیصد بالغ آبادی تمباکو کا استعمال کرتی ہے، جو کہ دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ یہ بیماری کے عالمی بوجھ میں ایک بڑا معاون ہے اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود پر اس کے اہم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور پاکستان میں افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنانا۔

    8. پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح

    پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اس موضوع پر محدود ڈیٹا دستیاب ہے۔ تاہم، یہ امکان ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح بالغوں کے مقابلے میں کم ہے، کیونکہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کا امکان کم ہے اور وہ سگریٹ نوشی مخالف پیغامات کو زیادہ قبول کرتے ہیں۔

    9- نتیجہ

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ تعلیم ایک اہم روک تھام کی حکمت عملی ہے۔ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے سے انہیں سگریٹ نوشی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسکولوں اور کام کی جگہوں پر تمباکو نوشی کی پالیسیاں بنانا نوجوانوں کی تمباکو نوشی سے حوصلہ شکنی میں بھی مدد کر سکتا ہے۔

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقوں کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات یہ ہیں:

    1- نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے سب سے مؤثر حکمت عملی کیا ہیں؟

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے کچھ موثر ترین حکمت عملیوں میں شامل ہیں:

    1. تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں تعلیم فراہم کرنا

    2.ایسے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ جو نوجوانوں تک تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرتے ہیں۔

    3. تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ کرنا تاکہ وہ نوجوانوں کے لیے کم سستی ہوں۔

    4. اسکول اور کمیونٹی پر مبنی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مدد اور وسائل فراہم کرنا

    5. والدین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوانوں کے لیے ایک اچھی مثال قائم کرنا

    2- والدین اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    والدین اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں ایک اچھی مثال قائم کر کے، سگریٹ نوشی کے خطرات کے بارے میں اپنے بچوں کے ساتھ کھلی اور دیانتدارانہ گفتگو کر کے، اور اپنے بچوں کو جو چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں مدد فراہم کر کے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو تمباکو نوشی یا ایسے ماحول میں جانے سے بچنے کے لیے بھی اقدامات کر سکتے ہیں جہاں تمباکو نوشی عام ہے۔

    3- اسکول اور کمیونٹیز نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    اسکول اور کمیونٹیز نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں تعلیم اور وسائل فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ اس میں تمباکو سے پاک پالیسیوں کا نفاذ، تمباکو نوشی چھوڑنے کے خواہشمند طلباء کو مدد فراہم کرنا، اور نوجوانوں کو وسائل اور مدد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

    4- میڈیا مہمات اور عوامی خدمت کے اعلانات نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    میڈیا مہمات اور عوامی خدمت کے اعلانات تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک رہنے کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کر سکتے ہیں۔ ان مہمات کو مخصوص گروہوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جیسے کہ نوجوان یا افراد جو تمباکو نوشی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں اور تمباکو نوشی سے متعلق رویوں اور طرز عمل کو تبدیل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک اور انسٹاگرام، کو بھی معلومات کا اشتراک کرنے اور نوجوانوں کے ساتھ سگریٹ نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں مشغول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  • منافقت کا دوسرا نام ، تحریر: آصف گوہر

    منافقت کا دوسرا نام ، تحریر: آصف گوہر

    منافقت کا دوسرا نام Flexibility…..
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور واقعہ ہے کہ مشرکین مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا قریش کے سردار ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے اپنے بھتیجے سے کہیں کہ اپنے موقف میں تھوڑی Flexibility پیدا کریں اور ہمارے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں ہم انکو دولت سے نواز دیں گے جس خاتون سے کہیں گے اس سے ان کا نکاح کروا دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر تاریخی الفاظ کہے کہ” اللہ کی قسم ! وہ میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لا کر رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اللہ کا حکم اس کی مخلوق کو نہ پہنچاؤں، میں ہر گز اس کے لئے آمادہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ اللہ کا سچا دین لوگوں میں پھیل جائے یا کم از کم میں اس جدوجہد میں اپنی جاں دے دوں‘‘
    اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا اور سخت ترین حالات میں بھی استقامت اختیار کرنا بڑے لیڈر رہنما کے اوصاف میں سے ہے
    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو بارہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رول ماڈل ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے لیڈر تھے ،
    لازمی بات ہے کہ ایسے شخص کا موقف واضح ہوگا اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹ جائے گا،
    چند روز پہلے ایک موٹیویشنل اسپکیر نے عمران خان سے ملاقات کی جس کا سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر بڑا چرچا ہوا اس نے اگلے ہی روز یہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملے ان ملاقاتوں کا احوال جاننے کے لئے نیوز اینکر نے موصوف سے سوال کیا تو گویا ہوئے کہ فلاں میں Flexibility ہے اور فلاں rigged ہے قیامت کے روز ہونے والے فیصلے کئے بیٹھے ہیں،
    اندازہ لگا لیں کہ جس شخص کو یہ بھی علم نہیں کہ
    غلط کو غلط کہنا اور اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لیے استقامت اختیار کرنا ہی حق ہے نہ کہ اپنے موقف میں وقتی فائدے کے لیے لچک پیدا کرلینا ،اب یہ کسی طرح کی motivations اپنے سننے والوں کو فراہم کرتے ہونگے اپ خود فیصلہ کر لیں۔
    عظیم مقصد کے حصول کے لئے ڈٹ جانا ہی حق ہے اور وقتی فائدے کے لیے موقف میں Flexibility اختیار کرنا
    دو رخی اور منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
    کالم نگار ،آصف گوہر

  • روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    پیدائش:05 مارچ 1871ء
    زاموسک
    وفات:15 جنوری 1919ء
    برلن
    وجۂ وفات:شوٹ
    طرز وفات:قتل
    شہریت:جرمنی
    سلطنت روس
    مادر علمی:جامعہ زیورخ
    زبان:جرمن

    روزا لکسمبرگ، جن کا مکمل نام روزالہ لکسمبرگ تھا، 5 مارچ 1871ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ مارکس کے نظریہ سے متاثر تھیں اور ایک فلسفی، ماہر معاشیات اور پولینڈ کی یہودی تحریکوں کی کارکن تھیں، جو بعد میں ایک جرمن شہری بھی رہیں۔ روزا لکسمبرگ پولینڈ اور لیتھویانا کی سماجی جمہوریت، جرمن سماجی و جمہوری پارٹی، جرمنی کی سماج و جمہور پارٹی اور جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی کی کارکن رہیں۔

    1915ء میں جب جمہور پارٹی نے جرمنی کی جنگ عظیم دوم میں شرکت کی حمایت کی تو روزا لکسمبرگ نے جنگ کے خلاف ایک اتحاد سپارتیس لیگ کے نام سے تشکیل دیا۔ یکم جنوری 1919ء کو یہ لیگ جرمنی کے کمیونسٹ پارٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ نومبر 1918ء میں جب جرمنی میں انقلاب برپا ہوا تو روزا لکسمبرگ نے سرخ جھنڈا کے نام سے ایک تحریک شروع کی جو سارتیس لیگ کی جدوجہد کا ہی حصہ تھی۔
    15 جنوری 1919ء کو ان کی وفات ہوئی۔

  • مارٹن لوتھر کنگ: یکساں  شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ: یکساں شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ

    15 جنوری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امریکی پادری مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کالے امریکیوں کیلئے یکساں شہری حقوق کی تحریک کے اہم رہنما تھے۔ وہ اٹلانٹا، جارجیا میں 15 جنوری 1929ء کو پیدا ہوئے اور دوسرے سیاہ فاموں کی طرح تعصب کا نشانہ بنتے رہے۔

    انہوں نے 1955ء کے منٹگمری بس بائیکاٹ کی قیادت کی ۔۔۔ بس بائیکاٹ کی یہ تحریک یکم دسمبر 1955ء کو منٹگمری، الاباما میں روزا پارکس کے بس ڈرائیور کے اس حکم کو ماننے سے انکار پر چلائی گئی تھی کہ وہ سیاہ فاموں کے لیے مختص بس کے حصے میں اپنی سیٹ سفید فام مسافر کیلئے چھوڑ دیں۔امریکی کانگریس نے بعد میں روزا پارکس کو ” شہری حقوق کی خاتون اول” اور ” تحریک آزادی کی ماں” قرار دیا تھا۔
    کنگ کی کوششوں کے نتیجے میں 1963ء میں واشنگٹن کی جانب مارچ کیا گیا، جہاں کنگ نے اپنی شہرۂ آفاق تقریر "میرا ایک خواب ہے” کی اور امریکا کی تاریخ کے عظیم ترین مقررین میں سے ایک کہلائے۔۔ ملاحظہ ہو اقتباس :
    I have a dream that one day this nation will rise up and live out the true meaning of its creed “We hold these truths to be self-evident, that all men are created equal.”

    I have a dream that one day on the red hills of Georgia , the sons of former slaves and the sons of former slave owners will be able to sit down together at the table of brotherhood.

    I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.

    I have a dream that one day right there in Alabama little black boys and black girls will be able to join hands with little white boys and white girls as sisters and brothers.

    شہری حقوق کی مہم کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے اور 1964 میں نسلی تفریق اور امتیاز کےخلاف شہری نافرمانی کی تحریک چلانے اور پرامن انداز احتجاج اپنانے پر لوتھر کنگ کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ 1968ء میں اپنے قتل سے پہلے غربت کے خاتمے اور جنگ ویت نام کی مخالفت کے لیے کوششیں کیں۔ 4 اپریل 1968ء کو میمفس، ٹینیسی میں لوتھر کنگ کو قتل کردیا گیا۔
    ان کے کچھہ اقوال:

    ۔۔ ستارے صرف تاریکی میں نظر آتے ہیں۔

    ۔۔۔ میں نے محبت کا ساتھہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نفرت کا بوجھہ اتنا زیادہ ہے کہ نہیں اٹھا سکتا۔

    ۔۔۔ جو فرد کسی مقصد کے لیے مر نہیں سکتا وہ زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں۔

    ۔۔۔ ہماری زندگی اس دن ختم ہونا شروع ہوتی ہے جب ہم ، اہم معاملات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

    ۔۔۔ معاف کرنا وقتی عمل نہیں، ایک مستقل رویہ ہے۔

    ۔۔۔ ہم تاریخ بناتے ہیں، مگر تاریخ بھی ہمیں بناتی ہے۔

    ۔۔۔ محبت ہی وہ طاقت ہے جو دشمنی کو دوستی میں بدل سکتی ہے۔

    ۔۔۔ جو معاف کرنے کے قابل نہیں وہ محبت کرنے کے بھی قابل نہیں۔

  • ڈاکٹر اسماء بلوچ:بلوچستان کی بیٹی:پاکستان کا اعزاز

    ڈاکٹر اسماء بلوچ:بلوچستان کی بیٹی:پاکستان کا اعزاز

    بلوچستان کی بیٹی

    ڈاکٹر اسماء بلوچ

    پاکستان بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے سر گرم بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا پہلا نیشنل ایوارڈ ڈاکٹر اسماء منظور بلوچ نے اپنے نام کر کے نہ صرف مستونگ بلکہ بلوچستان کا نام روشن کر دیااور یہ ثابت کیا کہ بلوچ بچیاں اور خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں ۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 11 جنوری 2023 کو وزیراعظم ہاؤس اسلام اباد میں ڈاکٹر اسماء منظور بلوچ کو بلوچستان سے بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا ایوارڈ پیش کیا ۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں نہ صرف کمیونیکیشن آفیسر کے طور پر کام کیا بلکہ ایک رضاکار کے طور پر سیلاب متاثرین کی دوسرے ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر خدمت کی

    بہترین کمیونیکیشن اور لوگوں کے گھر گھر جا کر رابطہ کاری کرنا اور اپنے لوگوں کی مدد کرنے کی وجہ سے بہترین کمیونیکیشن آفیسر کا ایوارڈ اپنے نام کردیا

    ڈاکٹر اسماء بلوچ نے اپنی اس کامیابی کو اپنے شہید والد چئیرمین منظور بلوچ اور اپنے سپروائزر ڈی ایچ سی ایس او مستونگ سید افتخار شاہ کے نام کردیا انھوں نے کہا کہ میرے والد شہید نے ہمیشہ مجھے ہمت دی اور حالات سے لڑنا سکھایا اور ہمیشہ اپنی سرزمین کے عوام کی خدمت کرنے کی تلقین کی انہوں نے اپنے سپر وائزر سید افتخار شاہ ڈی ایچ سی ایس او مستونگ کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیلڈ میں وہ ہمیشہ ان کی مدد اور رہنمائی کرتے رہے۔