Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    پیدائش:20 مئی 1900
    ۔۔۔ Kausani، North-Western
    ۔۔۔ Provinces
    ۔۔۔ برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:28 دسمبر 1977ء
    الٰہ آباد، اتر پردیش، بھارت
    قومیت:Indian
    تعلیم:Hindi Literature
    موضوع:Sanskrit
    اہم اعزازات:پدم بھوشن (1961)
    گیان پیٹھ انعام (1968)

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر تھے۔ وہ 20ویں صدی کے ہندی زبان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور پسند کیے جانے والے شعرا میں سے ہیں۔ وہ رومانی شاعر تھے جنہوں نے فطرت، عوام اور ان کی خوبصورتی کو اپنا موضوع سخن بنایا۔
    پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔
    پنت کی ولادت اتراکھنڈ کے الموڑا ضلع کے کوسانی گاؤں میں ہوئی۔ وہ درمیانی درجہ کے براہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ولادت کے چند گھنٹوں بعد ہی والدہ چل بسیں۔ انھیں پھر کسی سے کبھی لگاؤ نہیں ہوا۔ انھوں نے والد، دادی/نانی یا بھائی سے والہانہ تعلق قائم نہیں کیا اور یہ ان کی تحریروں میں صاف جھلکتا ہے۔ گویاکہ یہی سوچ ان کے شاعر ہونے کا محرک ثابت ہوئی۔ ان کے والد چائے کے ایک باغ میں کام کرتے تھے۔ وہ وہاں منیجر تھے اور زمین میں بھی ان کی شراکت داری تھی۔ پنت گاؤں میں ہی پلے بڑھے اور وہیں سے انھیں فطرت میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور یہی دلچسپی ان کی شاعری کا موضوع بنی۔
    انہوں نے 1918ء میں کوینس کالج بنارس میں داخلہ لیا اور سروجنی نائڈو اور رابندر ناتھ ٹیگور کا مطالعہ شروع کیا۔ ان دو شخصیات نے پنت کو خوب متاثر کیا۔ انھوں کچھ انگریزی رومانی شاعروں کو بھی پڑھا۔ 1919ء میں وہ الہ آباد چلے گئے۔ 1926ء میں ان کا پہلا دیوان پلو شائع ہوا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ برج بھاشا اور گزرے زمانے کی بات ہوگئی۔ اگر شہرت حاصل کرنی ہے تو نئی زبان (ہندی) میں لکھنا ہوگا۔
    ادبی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پنت نے گرچہ ہندی میں لکھنا شروع کیا تھا مگر وہ سنسکرت سے متاثر ہندی لکھتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری اور ڈراما میں کل 28 کتابیں شائع کیں۔ وہ شاعری کے کئی مناہج سے متاثر تھے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    1968ء میں انہیں گیان پیٹھ انعام دیا گیا۔ “کالا اور بوڑھا چاند“ کے لیے انہیں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ انہیں 1961ء میں حکومت ہند نے پدم بھوشن سے نوازا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    28 دسمبر 1977ء کو الہ آباد میں ان کی وفات ہوگئی۔

  • عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    پرندے پالنے والا ایک شخص اپنے پنجرے کا دروازہ کھول دیتا. پرندے ہوا میں اڑنے لگتے وہ انکا بڑا سا پنجرا صاف کرتا پانی اور دانہ ڈالتا اور پرندے سارے واپس پنجرے میں آجاتے. یہ دروازہ بند کر لیتا. میں نے ایک بار پوچھا ان کو یہ عادت کیسے دی.؟ اُس نے بتایا پنجرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے انکا پیٹ نہیں بھرا جاتا. یہ خالی پیٹ جب اڑتے ہیں تو بھوک ان کو یاد دلاتی ہے کہ پیٹ بھرنے کا سامان پنجرے میں ہے. یہ واپس آجاتے ہیں.

    یہی حال ہماری عادتوں کا بھی ہوتا ہے. قرآن شریف میں ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ-سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ(۳۷) یعنی” آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو” جلد بازی کا عنصر ہماری فطرت کا عنصر ہے. ہم اپنے فیصلے فوری نتائج فوری تسکین اور فوری تسلی اطمینان کیلئے کرتے ہیں. اور یہ پھر ہماری عادت بن جاتی ہے.

    عادتوں کے اس حصار کو آپ پنجرا کہہ لیں اسے کمفرٹ زون کہہ لیں یا اپنی شخصیت ہم جب اس کے قابو میں آتے ہیں تو یہ ہم سے صبر اور اپنے نفس کے خلاف مزاحمت چھین لیتی ہے. ہم ان خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں جو وقتی تسکین تو بن سکتی ہیں لیکن دوررس کامیابی نہیں. ہم خود بھی اسے مانتے ہیں لیکن خود سے جیت نہیں سکتے.

    پرندے بھی تیار دانہ چھوڑ کر تلاش کی ہمت چھوڑ دیتے ہیں اسی لئے اس پنجرے کو اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. ہم بھی عادات کی فوری تسکین چھوڑ کر نئی تلاش اور اس کی ہمت و مشقت سے گھبرا کر واپس اپنے حول میں بند ہو کر اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. عادت کے قیدی کے پاس نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہوتا ہے یہ صبر و ہمت کا راستہ ہے.

  • کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ آیت 143 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”اُمّتِ وَسَط “بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رُسول تم پر گواہ ہو۔

    ”اُمتِ وَسَط“ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دُوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہواور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔

    کسی شخص یا گروہ کا اس دُنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔

    اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسُول صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمّت کے لیے خدا ترسی ، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اِس اُمّت کو بھی تمام دُنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور عمل اور برتا ؤ ، ہر چیز کو دیکھ کر دُنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔

    پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، اُسی طرح دُنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت ، جو تیرے رسُول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی ، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بُری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔

    ہماری امامت کے دَور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دُنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، اُن سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطینِ انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔

    ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دُنیا میں معصیت ، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں تھے۔
    (تفہیم القرآن)

  • پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    ایک انسانی پاؤں میں 26 ہڈیاں، 30 جوڑ اور 100 پٹھے، Tendons اور ligaments ہوتے ہیں۔ پٹھے یعنی مسلز تو آپ نے قربانی کرتے ہوئے جانوروں میں دیکھے ہوں گے۔ یہ ایک طرف ہماری ہڈیوں اور دوسری طرف اسکن کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ پٹھے کا رنگ عموماً سرخ ہوتا ہے اور ہڈی کے ساتھ جو چیز اسے جوڑتی اسے ٹینڈن tendon کہتے ہیں۔ یہ سفید رنگ کا چھوٹا سا حصہ ہوتا جو مسل اور ہڈی کا مضبوط کنکشن بناتا ہے۔ Ligaments کو آپ ایلاسٹک کہہ سکتے ہیں۔ جن کی وجہ سے ہمارے جوڑ حرکت کرتے ہیں۔ اور مطلوبہ حرکت کے بعد واپس اپنی جگہ پر آجاتے ہیں۔ جوڑوں کی حرکت میں لچک ان کی ہی وجہ سے ہے۔

    پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ بچوں کے پاؤں میں ہڈیاں پوری 26 ہی ہوتی ہیں۔ مسلز بھی پورے ہوتے ہیں۔۔ بس Achilles tendon کا سائز کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاؤں کی پوزیشن نارمل نہیں رہتی۔ اور پاؤں اندر یا نیچے (in and under) مڑ جاتا ہے۔ اسے ہم کلب فٹ کہتے پیں۔ یہ سو فیصد ایک قابل علاج کنڈیشن ہے۔ اگر بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ بچہ بلکل ٹھیک ہو سکتا ہے۔

    ہر سال پاکستان میں تقریباً 6 ہزار بچے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ 1 ہزار میں سے 1 بچہ اس کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ہر تین متاثرہ بچوں میں سے دو لڑکے اور 1 لڑکی ہوتی ہے۔ یعنی لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کی نسبت ڈبل ہے۔ متاثرہ 100 بچوں میں سے 50 کا ایک پاؤں ٹیڑھا ہوگا اور باقی پچاس کے دونوں پاؤں۔ یہ ٹیڑھا پن تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے یا تو اندر کی طرف ہوتا ہے یا پاؤں نیچے مڑا ہوتا ہے ایڑھی زمین پر نہیں لگتی۔ کچھ کیسز میں پاؤں کی ہتھیلی پیچھے کو بھی مڑی ہو سکتی ہے۔

    ان بچوں کی متاثرہ پاؤں والی ٹانگ بھی دوسری سے معمولی سے چھوٹی ہو سکتی ہے۔ جو چلتے ہوئے محسوس ہوسکتی ہے نہیں بھی محسوس ہو سکتی۔ اور متاثرہ پاؤں دوسرے پاؤں سے 1 یا آدھا انچ چھوٹا رہ سکتا ہے۔ یعنی بڑے ہوکر بھی ایک پاؤں میں جوتا 40 نمبر اور دوسرے میں 39 آئے گا۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    اس کی سب سے بڑی قسم Idiopathic Clubfoot ہے۔ اس میں پیدائشی طور پر بچے کا ایک یا دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے ایک بچہ اسی قسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی کوئی مستند معلوم وجہ نہیں ہے۔ دوران حمل والدہ کا سگریٹ یا شراب پینا، بچہ دانی میں حمل کے شروع سے ہی امنیاٹک فلیوڈ Amniotic fluid کی مقدار بہت کم ہونا، والد یا والدہ کو یہ مسئلہ ہونا یا انکے خاندان میں کوئی ہسٹری ہونا اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ چاند گرہن کسی عورت کے سائے، اٹھرا وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری قسم میں Neurogenic Clubfoot آتا ہے۔ اگر بچہ سپائنا بیفیڈا یا سیری برل پالسی کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو امکان ہیں بچے کو کچھ عرصہ بعد کلب فٹ بھی ہو جائے گا۔ سپائنا بیفیڈا میں جب آپریشن ہوتا ہے تو بہت سی نسیں دب یا کٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے پوری ٹانگ بشمول پاؤں کے مسلز و نسیں کھچ جاتی ہیں اور پاؤں مڑ جاتے ہیں۔

    تیسری قسم میں Syndromic Clubfoot ہوتا ہے۔ بونے بچوں میں بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔ جن سنڈرومز کے ساتھ کلب فٹ ہو سکتا وہ یہ ہیں
    arthrogryposis, constriction band syndrome, tibial hemimelia and diastrophic dwarfism.

    علاج کیا ہے؟

    اس کی روک تھام تو ابھی تک پوری دنیا میں نہیں ہے۔ مگر اسکا علاج انتہائی سستا اور آسان ہے۔ بروقت علاج سے سو فیصد بچے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاج میں دو سٹیجز ہیں۔ پہلی میں متاثرہ بچوں کو پیدائش کے دوسرے ہفتے میں ہی پاؤں کی پوزیشن کو سیدھا کرکے اوپر پلستر لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی آپریشن نہیں ہوتا۔ چھوٹے بچوں کے مسلز اور ٹینڈن اتنے لچکدار ہوتے ہیں کہ ان کو جیسے مرضی موڑ لیں بچے کو کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہوتی۔ اسے پروفیشنل Ponseti Serial Casting کہتے ہیں۔ یہ پلستر ہر 7 سے 10 دن بعد بدل دیا جاتا ہے۔ عموماً چھٹے پلستر میں اگر Achilles tendon بقدر ضرورت لمبے نہ ہوئے ہوں تو پاؤں میں ایک چھوٹے سے بلیڈ سے کٹ لگا کر ایک دوائی لگا کر آخری پلستر کر دیا جاتا ہے جو دو سے تین ہفتے تک رہتا ہے۔ اور پاؤں بلکل سیدھا ہو جاتا ہے۔

    دوسرے مرحلے میں اس سیدھے پن کو قائم رکھنے کے لیے Bracing کی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے والدین لاپرواہی کر جاتے ہیں۔ اور پاؤں پھر سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے جس کا آپریشن سے بھی کئی بار علاج ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ایسا جوتا پلستر والا کام ختم ہونے کے اگلے دن سے ہی بچے کو پہنایا جاتا ہے۔ جس میں پاؤں کی پوزیشن چلتے پھرتے ایک جیسی رہے۔ یہ جوتا شروع میں 2 ماہ تک چوبیس میں سے 23 گھنٹے پہننا ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد مزید دو سال رات کو وہی جوتا پہنا کر بچے کو سلانا ہوتا ہے۔ دن میں چلتے پھرتے تو پاؤں ٹھیک رہتا ہے۔۔ رات کو وہ بریس نہ پہنی ہو تو پاؤں اپنی خراب حالت کی طرف واپس مڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں بھی لاپرواہ قسم کے والدین معاملہ اللہ کی سپرد کرکے رات کو بریس نہ پہنا کر سارے کیے کترے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

    یوں سمجھیے کہ تین سے چار سال کی محنت جس میں کوئی زیادہ پیسے نہیں لگ رہے۔ آپ کے بچے یا بچی کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے۔

    میں دیکھتا ہوں بے شمار نوجوان لڑکے لڑکیاں ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ ہیں۔کئی آپریشن کروا چکے ہیں۔ جو فرق پیدا ہونے کے فوراً بعد علاج سے پڑنا تھا وہ اب نہیں پڑ سکتا جو مرضی کر لیں۔ جتنی تاخیر سے علاج شروع ہوگا اتنے ہی کم چانسز ہیں کہ پاؤں سیدھا ہوجائے گا۔ آپ صرف دو چار ماہ تاخیر کردیں تو پاؤں سو فیصد ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ سالوں کی تاخیر تو کبھی بھی ریکور نہیں ہو سکتی۔

    ایسے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے رشتے کرنے میں بھی والدین کو بہت مشکل پیش آتی ہے۔ ان افراد کو ساری عمر امتیازی و ناروا سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ایک ٹیڑھے پاؤں والی لڑکی میرے سرکل میں باٹنی کی لکچرر تھی۔ نین نقش عقل شکل کد کاٹھ حسب نسب سب کچھ اچھا تھا۔ مگر کلب فٹ کی وجہ سے بلکل گئے گزرے لوگ اسے قبول کرتے تھے۔ کوئی بھی مناسب سا رشتہ نہیں مل رہا تھا۔ ان پڑھ و لالچی قسم کے لوگوں کے رشتے آتے تھے جن کی بظاہر نظر لڑکی کمائی پر ہوتی تھی۔ کوئی پڑھا لکھا شخص اسے قبول نہ کرتا تھا۔

    اسکی شادی شدہ بہن کی اکٹوپک حمل کی وجہ سے وفات ہوگئی اور اسی جگہ اسکا نکاح ہوگیا۔ اپنے ایک بیٹی کے ساتھ بہن کے بھی دو بچوں کو پال رہی ہے۔ میں جانتا ہوں اس نے 6 سال اپنے رشتے کی وجہ سے جس ناقابل برداشت رجیکشن کا سامنا کیا اس کی وجہ سے اسکی شخصیت کس قدر تباہ ہوگئی تھی۔ اب بھی وہ کسی سے بلکل رابطے میں نہیں ہے۔ وہ وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی بہت روتی تھی کہ مجھے وہ بندہ نہیں پسند مجھ سے پندرہ سال بڑا ہے۔ مگر گھر والوں نے زبردستی کر دی کہ اور تو کوئی ڈھنگ کا رشتہ مل نہیں رہا۔

    ایسے ہی جوڑ اس کنڈیشن والے لڑکوں کی شادی کے وقت بنتے ہیں۔ساری عمر بظاہر مکمل ہو کر بھی ایک ادھورے پن میں گزرتی ہے۔

    اسکا علاج ملک بھر میں کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ آرتھوپیڈک سرجن سے کروایا جا سکتا ہے۔ مگر پیدائش کے فوراً بعد بغیر کسی بھی تاخیر کے۔

  • بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ اور مشتری کے بعد سائز میں دوسرے نمبر پر۔ قدیم زمانوں سے انسان اس سیارے کو دیکھتے آئے جو اسمانوں میں چمکتا اور سال بھر اپنی جگہ بدلتا۔

    مگر جب سترویں صدی کے آغاز پر دوربین ایجاد ہوئی اور اسے دیکھا گیا تو اس سیارے کے ساتھ بڑے علاقے تک پھیلے روشن رِنگز تھے۔ زحل دراصل گیس جائینٹ ہے۔ اسکی کوئی ٹھوس سطح نہیں ہے۔ یعنی یہ گیسوں سے بنا ہے۔ ویسے ہی جیسے مشتری ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے بنا ہے۔

    ہماری زمین کا محض ایک چاند ہے جبکہ زحل کے چاند ہیں 83۔ ان میں سب سے بڑا چاند کے ٹائٹن۔ یہ زمین کے چاند سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔ گو زحل پر زندگی ہونا ناممکن ہے مگر اسکے مختلف چاندوں پر پانی اور نامیاتی مالیکولز ملے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

    زحل کے رنگز دراصل مختلف سائز کی خلائی چٹانیں ہیں جنکا سائز زمین پر کسی اوسط پہاڑ کے سائز سے لیکر چند سینٹی میٹر تک ہے۔ یہ رنگز زحل سے 2 لاکھ 82 ہزار کلومیٹر اوپر تک کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ زحل کے رنگز کائناتی عمر کے اعتبار سے ابھی ابھی بنے ہیں۔ یعنی محض چند کروڑ سال قبل۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ کمپیوٹر ماڈلز اور ان چٹانوں کی ساخت کو جان کر۔

    زحل اپنے مدار میں ایک چکر 10.7 گھنٹوں میں مکمل کرتا ہے گویا اس پر ایک دن زمین کے آدھے دن سے بھی کم ہے۔ جبکہ سورج کے گرد یہ ایک چکر 29.4 زمینی سالوں میں مکمل کرتا ہے۔ زحل کی کثافت پانی سے کم ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر زحل کو زحل سے سائز میں بڑے کسی سمندر میں پھنیکا جائے تو یہ تیرنے لگے گا۔

    2004 تک ناسا کے تین سپیس کرافٹ زحل کے قریب سے گزرے اور اسکی تصاویر زمین تک بھیجیں۔ مگر 2004 میں ناسا کا کاسینی سپیس کرافٹ زحل کے مدار میں داخل ہوا جسکے بعد سائنسدانوں کو زحل کا بہتر تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔ اس سپیس کرافٹ کے ساتھ ایک سپیس پراب ہیوگن بھی تھا جو 2005 میں زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن ہر اُترا۔ اس پر کئی سائنسی الات نصب تھے اور یہ انسانوں کا کسی دوسرے سیارے کے چاند پر پہلا کامیاب مشن تھا۔ یہ پراب محض 72 منٹ تک ٹائٹن کی سطح پر کام کرتا رہا۔ البتہ کاسینی سپیس کرافٹ 13 سال تک زحل کے گرد مدار میں رہا اور اسکی فضا کا تفصیلی جائزہ لیتا رہا۔ ستمبر 2017 میں یہ اپنے مدار سے نکلا اور زحل کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔ اب 2026 میں ناسا زحل کے اس چاند ٹائیٹن تک ایک اور سپیس کرافٹ بھیجے گا جسکا نام ڈریگن فلائی ہو گا اور یہ 2034 میں اسکی سطح پر اُترے گا اور یہاں زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔

  • پاکستانی اداکارہ کا  ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    پاکستانی اداکارہ کا ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    ( کسی بھی اداکارہ سے خوبصورتی کا راز پوچھیں تو وہ ہمیشہ ,, اندر کی خوبصورتی اور ڈھیرا سارا پانی بتاتی ہیں ، مجال ہے جو حقیقت بتا دیں ۔ ایک ایسی ہی سلیبرٹی کا انٹرویو پڑھیے )

    *آخر میں اپنے دیکھنے والوں کو اس خوبصورتی کا راز بتانا چاہیں گی ؟
    کوئی راز نہیں ڈئیر

    *نہیں! آپ کے پرستار جاننا چاہتے ہیں ۔

    کوئی خاص راز نہیں، Its peace of mind actually

    *تو کیا باقی لڑکیاں مینٹل ڈس آرڈر کا شکار ہیں یا انھیں مرگی کے دورے پڑتے ہیں؟

    اوہ نو ۔۔۔ ایسا تو نہیں ، ایکچویلی دن میں پندرہ سے بیس گلاس پانی بس۔۔۔

    * یہ پانی جاتا کہاں ہے؟ مطلب بیس گلاس پانی پی کر آپ ہل جل کیسے لیتی ہیں ؟ شوٹنگ کب کرتی ہیں اور لیٹرین کتنی بار جاتی ہیں
    یہ تو مینج کرنے پہ ہے نااا سویٹ ہارٹ

    * کیسے مینج ہوتا ہے، ہماری خواتین آدھا گلاس پانی پی لیں تو تین بار بس رکواتی ہیں ۔ آپ کا پانی بخارات بن کے اڑ جاتا ہے کیا؟

    نو ، نو ایکچوئیلی میں کھانے میں صرف سبزیاں اور دالیں لیتی ہوں بس ۔۔۔۔ اس لیے سکن گلو کرتی ہے۔

    *ادھر شلجم ، گوبھی اور ثابت مسور منہ کو آ جاتی ہیں مگر مجال ہے جو منہ پر رونق آئے ۔ کیا آپ سبزیاں ” Tony & Guy” سے لیتی ہیں؟

    او مائی گاڈ۔۔۔ یہ سب نیچرل بیوٹی ہے ، بالکل قدرتی

    *آپ کی نیچرل ہے تو کیا باقی لڑکیاں پلاسٹک کی بنی ہیں ؟ بتا کیوں نہیں دیتی آپ

    کیا بتاوں ۔۔۔ رئیلی کچھ بھی نہیں لگاتی ، یہ سب انر بیوٹی ہے ڈارلنگ !

    مان لیتی ہوں میم ۔۔۔

    اوکے میری شوٹنگ کا وقت ہوگیا ، چلتی ہوں ۔ بااائے

    *ارے ، ارے ۔۔۔ سنیے ! آپ کا بیگ میرے دوپٹے سے الجھ کر الٹ گیا ہے ، رکیے

    اوہ سوری ۔۔ یہ تو سب چیزیں بکھر گئیں مائی گاڈ

    *کوئی بات نہیں میڈم ، میں اٹھا دیتی ہوں ۔۔۔

    یہ رہا آپ کا مسکارا ، یہ بلش آن ، اور یہ فاونڈیشن، کنسیلر ، فیس پاوڈر ۔۔۔ یہ میز کے نیچے فیس پرائمر ، آئی پرائمر ، لپ گلوس ، آئی شیڈوز’ ہائی لائٹر ، برونزر بھی پڑے ہیں ، یہ لیجیے ۔۔۔ یہ واقعی ” Inner beauty ” ہی ہے کیونکہ پرس سے نکلی ہے ۔

    غازے کی تہہ نے ڈھانپ لیں چہرے کی سلوٹیں،

    تازہ پلاسٹر میں ۔۔۔۔۔۔ عمارت قدیم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

  • انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    میڈیا چاروں اطراف ہمیں محاصرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ ہمارے فون، ہمارے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر ہمارا ناکہ لگائے ہوئے ہے۔ یہ ٹیلی ویژن پر، پبلک ٹرانسپورٹ پر، شاپنگ سینٹرز پر، غرض ہر جگہ گھات میں ہے۔ چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، ہم باقاعدگی سے میڈیا کو با دل نخواستہ فیس کرتے رہتے ہیں اور لامحالہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ، کسی کو یہ تسلیم کرنے کے لیے ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لاشعوری طور پر، میڈیا وہ طریقہ بنا رہا ہے جس میں لوگ اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھتے ہیں۔ باڈی لینگویج، میڈیا کے تناظر میں، خاص طور پر میڈیا سے گہرا تعلق رکھتی ہے کیونکہ حسین اور خوبرو لوگ اکثر اشتہاری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ گلوٹین فری سیریل سے لے کر کار رینٹل سروس تک، اشتہارات اکثر خوبصورت خواتین یا مرد ماڈلز یا مشہور شخصیات کی ری ٹچ تصاویر دکھاتے ہیں جو مسلسل اپنی ظاہری شکل پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح کے اشتہارات کو دیکھ کر، کسی کی ظاہری شکل، چاہے وہ جسم، جلد، یا بالوں کے بارے میں ہو، خود آگاہ نہ ہونا مشکل ہے۔ لہذا، میڈیا کا اثر، اس کی شکل اور منتقلی کے طریقہ کار سے قطع نظر، لوگوں کے باڈی لینگویج کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے میں نقصان دہ ہے

    محققین نے میڈیا کی مختلف شکلوں کے ساتھ لوگوں کی فعال مصروفیت اور ان کے جسم کے بارے میں ان کے تاثرات کے درمیان رابطوں کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا ہے۔ ہوگ اینڈ ملز کی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر پرکشش ساتھیوں کے ساتھ مشغولیت نے جسم کی شبیہ کے بارے میں منفی تاثرات کو بڑھایا۔ تحقیق میں یارک یونیورسٹی کی 143 نوجوان خواتین کو شامل کیا گیا تھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر "بہتر” ظاہری شکل والے افراد کے ساتھ لوگوں کا موازنہ خواتین کی جسمانی تصویر کے خدشات کو کم کر سکتا ہے۔ اس طرح کے نتائج پچھلی سفارش کے ساتھ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ جب لوگ سماجی معیار کے مطابق پرکشش سمجھی جانے والی خواتین کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ان کی شخصی اہمیت کو گہن لگ جاتا ہے۔یہ رجحان میڈیا کے استعمال کے منفی اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے باڈی امیج میڈیا لٹریسی پروگرامز قائم کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں، ذرائع ابلاغ کی خواندگی سے مراد کسی شخص کی معلومات کی ضرورت کے وقت سمجھنے کی صلاحیت ہے، ساتھ ہی یہ پہچاننا ہے کہ اس کا اندازہ کیسے لگایا جائے، اسے کیسے تلاش کیا جائے اور استعمال کیا جائے۔
    یہ چیز میڈیا کے ساتھ صحت مند تعلقات کے بارے میں عوام کو تعلیم دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ اسے کیسے منظم کیا جا سکتا ہے۔

    چونکہ ساری دنیا میڈیا پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، حالانکہ یہ بات الگ ہے کہ میڈیا پر کم ہی اعتبار کرتی ہے، اس لیے عام لوگوں پر کامیاب لوگوں کی تصویروں سے بمباری کی جاتی ہے جنہوں نے برسوں اور حتیٰ کہ دہائیوں تک اپنی تصاویر پر کام کیا ہے۔ یہاں پر بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مشہور لوگوں نے اپنے آپ میں وقت، محنت اور پیسہ لگایا ہے، بلکہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ خوبصورتی کا جو معیار مقرر کیا جا رہا ہے وہ عام لوگ اس کے لیے دلوں میں حسرتیں ہی پال سکتے ہیں۔ میڈیا کی بہت سی شخصیات جس انداز میں نظر آتی ہیں وہ نہ صرف بھاری میک اپ یا برسوں کی مشقوں کی وجہ سے حقیقت پسندانہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تصاویر کی بہت زیادہ ری ٹچنگ کی وجہ سے ہی ایسا ہوتا ہے۔ ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جن میں کمپنیاں اپنے اشتہارات کو ری ٹچ کرتے ہوئے پکڑی گئی ہیں، حالانکہ بظاہر ان کا مقصد حقیقت پسندانہ تصاویر دکھانا مطلوب تھا۔ مثال کے طور پر، ایک سکن کیئر برانڈ نے اپنے اشتہارات کو دوبارہ چھونے کا اعتراف کیا، جس کا پیغام ”حقیقی خوبصورتی” تھا۔ انہیں اس وقت کافی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ پتہ چلا کہ تصاویر کو فوٹو شاپ کیا گیا تھا تاکہ انہیں ناظرین کے لیے زیادہ پرکشش بنایا جا سکے۔ اب یہ جلی کٹی خبر بھی زوروں پر ہے کہ حقیقی خوبصورتی کو میڈیا پر تبدیل کیا جا رہا ہے، لوگوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کارپوریشنز پر یقین کریں گے، جس کے نتیجے میں، ان کے ذاتی خود خیالی کو نقصان پہنچتا ہے۔

    اگرچہ یہ توقع رکھنا کہ ٹی وی، اشتہارات اور سوشل میڈیا پر پوسٹس 100% سچائی پر مبنی ہوں گی، غیر حقیقی توقعات ہیں، لیکن ان کے اثرات کے بارے میں خدشات کو آواز دینا ضروری ہے۔ ماڈلز یا اداکاروں کی ایئر برش کی گئی تصاویر کمزور لوگوں میں خاص طور پر کم عمر لوگوں میں غیر صحت بخش عادات کا باعث بنتی ہیں۔ میڈیا کے منفی اثرات کے بارے میں کچھ اہم خدشات کھانے کی خرابی سے منسلک ہیں جو کسی کے جسم کے بارے میں غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اینوریکسیا نروسا ایک ہاضمے کی خرابی ہے جس کی خصوصیت ایک ادراک کے مسئلے سے ہوتی ہے جسے باڈی ڈیسمورفیا کہتے ہیں۔ اس سے مراد کسی شخص کے دیکھنے کے انداز اور اس کے سوچنے کے انداز کے درمیان غلط فہمی ہے۔ کافی پتلا ہونے کے باوجود، اینوریکسیا کے شکار افراد محسوس کرتے ہیں کہ ان کا وزن زیادہ ہے اور وہ کھانے سے انکار کر کے یا زیادہ ورزش کر کے خیالی زیادہ وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلیمیا نرووسا ایک ایسا عارضہ ہے جس کے دوران افراد روزہ رکھنے یا صاف کرنے کے ذریعے اپنے وزن کو کنٹرول کرتے ہیں، حالانکہ انوریکسیا کے مقابلے میں اس حالت کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ لہذا، عام جذباتی پریشانی کے علاوہ، میڈیا پر غیر حقیقی تصاویر نفسیاتی حالت کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیں کہ ایک سنگین دخل در معقولات کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    میڈیا یہاں رہنے کے لیے ہے۔ لوگ غیر حقیقی تصاویر کے سامنے آتے رہیں گے کیونکہ بعد میں اشتہارات اور پیسہ کمانے کے لیے وہ محرک قوت ہیں۔ تاہم، عام خام کو، خاص طور پر نوجوان لوگوں کو تعلیم دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کہ ان سے یہ توقع نہیں کی جاتی ہے کہ وہ ری ٹجنگ اور ایئر برش کرنے والی مشہور شخصیات کی طرح نظر آئیں گے۔ نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میڈیا معاشرے کا صرف ایک حصہ ضرور ہے اور لیکن تمام انسانی خصوصیات کی کبھی بھی بھرپور نمائندگی نہیں کرے گا۔ تاہم، اہم مقاصد میں سے ایک قبولیت کے ماحول کو فروغ دینا ہے جو ظاہری شکل، فکر، کیرئیر کے انتخاب اور نقطہ نظر کے تنوع کا جشن مناتا ہے۔ حالیہ عالمی انتشار کے تناظر میں، ہم سب کو اپنی طاقت کو منفی پر توجہ دینے کے بجائے مثبت چیزیں پیدا کرنے پر لگانا چاہیے۔

    یں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

  • چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    دور سے اگر آپ زرافہ کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ جانور عجیب ہی لگے گا. چھ فٹ لمبی اگلی ٹانگوں کے پیچھے دونوں ٹانگیں چھوٹی ہیں. اوپر سے گردن مینار پاکستان بنی ہوتی ہے. لیکن اتنی لمبی گردن نہیں کہ زمین کو چھو لے. اس لئے جب زرافہ پانی پیتا ہے تو بے ہنگم انداز میں دونوں ٹانگیں باہر کی طرف پھیلا کر گردن پہلے نیچے لاتا ہے.

    آپ سوچیں گے یہ صبح صبح لالہ کو زرافہ کیوں یاد آگیا.؟ تو وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ بھی زرافہ کی طرح ہی ہوتے ہیں. یہ دوسروں کو جب دیکھتے ہیں تو خود پہاڑ پر بیٹھ جاتے ہوں. کیونکہ دوسروں کو ان کے مسائل کے حل پھر ایسے بتا رہے ہوں گے جیسے پہاڑ پر بیٹھا شخص نیچے والے کو ہدایات دے رہا ہو.

    لیکن یہی شخص اپنے مسائل کو پھر ایسا دیکھتا ہے جیسے وہ مسائل نہ ہوں بلکہ کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ ہو جسے پار کرنا ہے. یہ آپ کو اور خود کو یہ یقین دلائیں گے کہ انکا قد چھوٹا نہیں بلکہ ان کے چیلنج ہی اتنے عظیم ہیں جو یہ ان کو حل نہیں کر پائے.

    آپ کو یقین نہیں تو کسی بھی محفل میں اپنے کچھ مسائل بیان کر کے دیکھیں. سب آپ کو ایسے حل بتائیں گے کہ جیسے ایک چھٹکی بھر مسئلہ ہی تو ہے. ایسے عظیم لوگوں سے بھرا یہ ملک یہ معاشرہ پھر اتنے مسائل کا شکار کیوں ہے.؟ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم سب زرافے ہیں. ہمیں دور کی چیزیں تو نظر آتی ہیں لیکن اپنے قدموں کی گھاس نہیں چر سکتے. ہم سارا دن اپنے ملک ہی کیا دنیا بھر کے بڑے بڑے مسائل کا حل بتاتے ہیں لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل حل نہیں کرسکتے.

    زرافہ کی گردن اگر نیچے نہیں آسکتی تو اسے قدرت نے ایسا بنایا ہے. لیکن ہمارے چراغ تلے جو اندھیرا ہے یہ ہم نے خود تخلیق کیا ہوا ہوتا ہے. دکھاوے کے پہاڑوں سے نیچے اتر کر اگر اپنی زندگی اپنے مسائل کیلئے ہم وقت نکالیں. ان پر بات کریں انکا سامنا کریں یہ پھر پہاڑ جیسے نہیں لگتے.

  • تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    پہلی ٹوٹی

    یہ ٹونٹی لاہور میں میری سوسائٹی کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اس کا شائد پیٹ کھل گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ناب پوری طرح بند نہیں ہوتی لہذا اس سے پانی کی باریک دھار ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ اس ٹونٹی کا بڑا دل کرتا ہے کہ کوئی مسیحا آکر اس کے لوز موشن بند کرے۔

    پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ ایک حاجی صاحب بڑے خشوع وخضوع سے اس ٹونٹی پر وضو کررہے تھے کہ ان کا موبائل بجنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کھلی ٹونٹی کے نیچے پیر رکھتے ہوئے ہی جیب سے موبائل نکال کر سکون سے بات کی تاکہ دوسرا عضو دھونے تک پہلا عضو خشک نہ ہو۔

    مجھ سے ٹونٹی کی بے بسی اور پانی کی بے قدرے برداشت نہ ہوئی اور حاجی صاحب سے نرم لہجے میں شکایت کی تو وہ برا منا گئے۔ کہنے لگے کیا ہم مسجد کا چندہ دوسروں سے کم دیتے ہیں۔ان لوگوں کو کیوں نہیں کچھ کہتے جو استنجا خانے میں جاکر پہلے دوتین لوٹے پانی بہاتے ہیں اور پھر اپنا کام شروع کرتے ہیں۔

    اگر ہماری یہی اجتماعی سوچ رہی تو صرف چار پانچ سال بعداس مسجد میں دوسری اور تیسری قسم کی ٹونٹیاں لگی ہوں گی جن کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

    دوسری ٹونٹی

    اس ٹونٹی سے میری ملاقات پچھلے ماہ پشاور رنگ روڈ کی ایک مسجد میں ہوئی۔ اس کی ناب اس مکینیکل طریقے سے فٹ کی گئی تھی کہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اوپر کرنا پڑتا تھا تاکہ پانی کی قلیل فراہمی شروع ہو سکےاور دوسرے ہاتھ سے وضو کی کوشش کی جاتی۔ یہ پانی بچانے کا ایک نہایت اچھا طریقہ تھا۔ مجھ جیسے پانی ضائع کرنے والے میدانی علاقے والے کو یہ ٹونٹی ایک نری مصیبت ہی لگی کیونکہ میرے وضو کی تکمیل شک میں پڑ گئی۔ یہ شرارتی ٹونٹی مجھے پورے وضو میں چھیڑتی رہی۔لیکن اس ٹیکنیک سے یہاں پر ہر کوئی بڑے کم وقت اور کم پانی سے اپنا وضو مکمل کرکے نماز ادا کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ وقت پہلے شائد یہاں “پہلی قسم “ کی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں گی۔

    اس مسجد کے باتھ روم بھی اس کفایت شعاری سے بنائے گئے تھے کہ آپ کوئی ایسی بڑی کاروائی نہیں ڈال سکتے تھے جس کی وجہ سے بعد میں دو دوتین لوٹے بہانے پڑیں۔ ہمیں تو یہاں چھوٹی موٹی کاروائی کی بھی ہمت نہ ہوئی کیونکہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے پبلک میں رسوا ہونے کا امکان تھا۔ باتھ روموں کے اس ڈیزائن کی وجہ سے اور کچھ ہو نہ ہو پانی کی بہت بچت ہورہی تھی۔

    واٹر مینیجمنٹ کے یہ زبردستی طریقے پشاور کے علاقے میں پانی کی فراہمی کی صورت حال میں تناو کو صاف ظاہر کر رہے تھے۔

    تیسری ٹونٹی

    یہ ٹونٹی کوئٹہ میں میرے محلے ارباب کرم خان روڈ کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اسے میں ایک دھائی سے بند ہی دیکھ رہا ہوں۔ اسے شائد عبرت کے لئے لگایا گیا ہے ورنہ ہم نے پچھلے دس سال میں اس سے پانی بہتا کبھی نہیں دیکھا۔ وضو کے لئے ایک چھوٹے سے ٹینک کا نل گیڑھ کر پلاسٹک کے چھوٹے سے لوٹے میں پانی لانا پڑتا ہے جس سے اکثر دو لوگ بھی وضو کر لیتے ہیں۔ اکثریت گھر سے وضو کرکے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ اردگرد کی دکانوں والے تو ایک وضو سے دوتین نمازیں ادا کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

    اس ٹونٹی سے بہتے پانی کو دیکھنا میرا ایک خواب ہے۔ یہ غم زدہ ٹونٹی بھی شائد اپنے بننے کا اصل مقصد بھول چکی ہے یا شائد پانی کے وچھوڑے کے غم سے پیرا لائز ہو چکی ہے۔ پرانے نمازی بتاتے ہیں کہ کبھی یہ بھی “پہلی قسم “ کی ٹونٹی تھی جس سے بے دریغ پانی بہتا تھا جب کوئٹہ کازیر زمین پانی ہزار فٹ سے نیچے نہیں گیا تھا اور پانی کے ٹینکر کا ریٹ ہزاروں روپے نہیں ہوا تھا۔ اب تو یہ ٹونٹی بھی بانجھ ہوگئی۔اس مسجد کے باتھ روم کو تالا لگا ہوا ہے۔

    جنتی ٹونٹی

    جنتی ٹونٹی ہم سب کے ذہن میں لگی ہے اس کی ناب ہماری سوچ کے دھارے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ٹونٹی ہم سارا دن اپنے گھر، دفتر، اسکول ، پبلک پلیس یا کاروبار کی جگہ پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے استعمال میں آنے والی ہر ٹونٹی کا پانی استعمال کرتے ہوئے اسے اپنی پانی بچانے والی سوچ کی ناب سے کنٹرول کریں گے تو کئی ٹونٹیوں کو بانجھ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو تازہ پانی کا تحفہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    یا پھر
    ” سائنس کی تھیوری فیکٹ نہیں ہوتی۔ ”

    بچپن میں ٹی وی پر ڈاکٹر نائیک سائنس کو غلط طریقے سے پیش کرتے اور ہم سائنس کا محدود علم رکھتے ہوئے واہ واہ کرتے ۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے پتہ چلنا شروع ہوا کہ سائنس میں تھیوری کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور جب ہم کسی شے کو سائنسی تھیوری کہتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس میں یہ سب سے اونچے درجے پر ہے۔ ایسی غلط فہمیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں کہ اصل سائنس سکھانے والے پیچھے ہوتے ہیں، انہیں مجمع لگانا نہیں آتا اور وہ جنکو سائنس کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی وہ مجمع لگا کر اپنے مطلب کی سائنسی تشریحات کے کبوتر نکال نکال کر عوام کو مزید جاہل رکھتے ہیں۔ تو کیا سائنس میں تھیوری لا سے کمتر یا فیکٹ سے نیچے ہے؟ آئیں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں۔

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔
    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔
    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔
    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔
    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔
    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔
    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔