Baaghi TV

Category: بلاگ

  • علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    علامہ نصیرالدین نصیرہنزائی روحانی سائنس کےمعروف دینی اسکالر،صوفی شاعر

    نصیر ہنزائی

    روحانی سائنسدان، صوفی شاعر ، ماہر لسانیات
    "بروشسکی” زبان کے پہلے صاحب دیوان شاعر

    پیدائش:15 مئی 1917ء
    وفات:15 جنوری 2017ء
    آسٹن، ٹیکساس
    شہریت:پاکستان
    برطانوی ہند

    علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی روحانی سائنس کے میدان میں عالمی شہرت کے حامل ایک معروف دینی اسکالر، صوفی شاعر اور ماہرِ لسانیات تھے۔ اسماعیلیوں کی دانشگاہ خانہ حکمت گروپ کے سربراہ نصیر الدین نصیر ہنزائی 1335ھ/15 مئی 1917ء میں ریاست ہنزہ کے گاؤں حیدرآباد میں پیدا ہوئے، نصیر الدین نصیر ہنزائی کسی اسکول سے باضابطہ تعلیم حاصل کیے بغیر علم و حکمت کے بارے میں 100 سے بھی زیادہ ایسی نادر کتابیں اپنی زبان بروشسکی اور اردو زبان میں تحریر کیں جن کا مرکزی موضوع قرآن کے باطنی علوم اور روحانی سائنس رہا، بعد ازاں ان کتابوں میں سے کئی کتابوں کو ہنزہ کے معروف اسکالر ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور رشیدہ ہنزائی نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جبکہ دیگر اسکالروں نے ان میں سے متعدد کا عربی، فارسی، فرانسیسی، سویڈنی، اطالوی اور ترکی میں بھی ترجمہ کیا ہے۔ روحانی سائنس کے موضوع پر یہ کتابیں اوکسفرڈ سمیت مغرب کی یونورسٹیوں تک پہنچ گئیں تو محققین نے ان تخلیقات کو روحانیت اور تصوف کی دنیا میں عجیب انکشافات سے تعبیر کیا اور ان کتابوں پر ریسرچ شروع کی ہے۔” کلیات نصیری ” ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں روحانیت، تصوف، تطہیرِ نفس اور عشقِ حقیقی کی تجلّیات ہیں جو ہر تہذیب و ثقافت کے لوگوں کے لیے ایک انمول خزانہ ہے۔ یہ شاعری اردو، فارسی، ترکی اور بروشسکی چار زبانوں پر مشتمل ہے۔ علامہ نصیر الدین کی منفرد کتابوں میں وحدتِ اسلامی، وحدتِ انسانی، محبت، امن و آشتی اور اسلام کے ہر مکتبِ فکر کے لیے محبت اور خیر خواہی کی تعلیمات ملتی ہیں۔ ان کا خاص موضوع اسماعیلیت سے متعلق تھا۔ ان میں اسماعیلیوں کے لیے اسماعیلی امام شناسی کی کتاب بھی بہت منفرد ہے۔ اس کے علاوہ بھی خاصی مذہبی معلومات ان کی کتابوں سے ملتے ہیں

    علاقائی زبان کے لیے خدمت
    نصیر الدین ہنزائی نے پہلی بار 1940ء میں دنیا کی قدیم ترین زندہ زبانوں میں سے ایک ”بروشسکی” کے حروفِ تہجی ترتیب دیے۔ وہ اس زبان کے پہلے صاحبِ دیوان صوفی شاعر ہیں۔ یہ ان کا بروشسکی زبان اور بروشو قوم پر احسان ہے کہ اس قدیم خطرہ زدہ زبان کی پہلی لغت تشکیل دی، جس میں تقریباََ چالیس ہزار الفاظ محفوظ ہیں۔ کراچی یونورسٹی نے بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کے تعاون سے اس لغت کو تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔ نصیر ہنزائی نے پہلی بروشسکی جرمن لغت کے لیے حقیقی الفاط مہیّا کیے اور جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے شائع شدہ لغت کے شریک مصنف قرار پائے۔ نیز وہ ہنزہ پرورب کتاب کے بھی شریک مصنف ہیں جسے کینیڈا کے اسکالر پروفیسر ٹیفو نے شائع کیا ہے۔ رموز روحانی ان کی تصنیف ہے.

    اعزازات
    نصیر الدین الدین نصیر ہنزائی کو بروشسکی زبان کی بہترین خدمت کی وجہ سے گلگت بلتستان کی حکومت نے 1993ء میں حکیم القلم اور سماجی اداروں نے لسان القوم اور بابائے بروشسکی کے اعزازات سے نوازا۔علاوہ ازیں ہنزائی کی حکمتِ قرآن کے میدان میں چشم کشا تحقیقات اور علم کی لازوال خدمت کے اعتراف میں 2001ء میں صدر مملکت پرویز مشرف کے زمانے میں وفاقی حکومت نے انہیں ستارہ امتیاز کے اعزاز سے بھی نوازا۔

    بیرونی ممالک کا سفر
    ََََََََََنصیر الدین نصیر ہنزائی نے پہلی بار 1943ء میں ہندوستان کا سفر کیا تھا۔ جس کا مقصد اسماعیلی امام سلطان محمد شاہ سے ملاقات تھی جو 1946ء میں ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو اپنی روحانیت کی چابی یعنی کلید بابِ روحانیت کی عطائی قرار دیا ہے۔ پھر 1949ء کے اوائل میں علامہ نصیر کو چین جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کئی روحانی معجزے ان کے ساتھ ہوئے اور علامہ نے ایک دفعہ انٹرویو میں یوں بھی کہا تھا کہ جب وہ چین گئے تو ان کے پاس نورانی مظہر عجائب بھی آ گیا تھا۔ اور یہ روحانیت میں زمان خصر علیہ السلام کی صورت میں ممکن بھی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مغرب کے تین بڑے ملکوں کینیڈا، انگلستان اور امریکا کا سفر کیا۔ ایک دفعہ وہ روس کے جہاز میں لندن جا رہے تھے کہ جہاز معمول کے مطابق ماسکو میں اتر گیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک مسافروں کو بس پر سیر کرائی گئی۔
    وفات
    نصیر الدین نصیر ہنزائی نے 15 جنوری 2017ء کو امریکا کے شہر آسٹن میں ایک سو سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کے جسد خاکی کو ان کی خواہش اور وصیت کے مطابق آبائی علاقہ ہنزہ میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی

  • چارلز لٹویج ڈوجسن:پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب

    چارلز لٹویج ڈوجسن:پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب

    پیدائش:27 جنوری 1832ء
    دریسبوری
    وفات:14 جنوری 1898ء
    گیلڈفورڈ
    وجۂ وفات:نمونیا
    مدفن:سرے
    طرز وفات:طبعی موت
    رہائش:انگلستان
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ، مملکت متحدہ
    عارضہ:مرگی
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    پیشہ ریاضی داں، فوٹوگرافر، شاعر، شماس، ادیب اطفال، روزنامچہ نگار، ناول نگار، مصنف، آپ بیتی نگار، فلسفی
    زبان:انگریزی
    شعبۂ عمل:مصنف
    ملازمت:جامعہ اوکس فورڈ
    کارہائے نمایاں:ایلس ان ونڈر لینڈ

    چارلز لٹویج ڈوجسن (انگریزی: Charles Lutwidge Dodgson) زیادہ تر اپنے قلمی نام اور تخلص لوئس کیرل (انگریزی: Lewis Carroll) سے پہچانے جاتے ہیں۔ ڈوجسن ایک انگریزی مصنف، ریاضی دان، منطق دان، انگریزی کلیسیا کے پادری اور عکاس تھے۔ اِن کی مشہور ترین تحریروں میں ایلس ان ونڈرلینڈ اور اس کا تسلسل، تھرو دی لوکنگ-گلاس شامل ہیں؛ ان کے علاوہ ان کی لکھی کئی نظمیں جیسے کہ دی ہنٹنگ آف دی سنارک اور جیبرواکی بھی کافی مقبول ہوئیں۔ برطانیہ، جاپان، امریکا اور نیوزی لینڈ میں دیگر ایسی سوسائٹیاں ہیں جو ڈوجسن کی تحریروں اور اِن کے کرداروں سے لطف اندوز ہوتی ہیں، اِن کا پرچار کرتی ہیں اور اِن کی زندگی کے ہر پہلو کا تحقیقی مطالعہ کرتی ہیں۔

  • تھانہ بی ڈویژن قصور کی کاروائی،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    تھانہ بی ڈویژن قصور کی کاروائی،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    قصور
    تھانہ بی ڈویژن قصور پولیس کی کاروائی،ڈکیت اسلحہ سمیت گرفتار،ناجائز اسلحہ و نقدی برآمد

    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں
    تھانہ بی ڈویژن قصور کے ایس آئی محمد اسلم و محرر رفیق الدین غوری کو مخبر خاص نے اطلاع دی کہ موضع بلندے والا کھوہ میں دو کس ملزمان بمعہ اسلحہ بآرادہ ڈکیتی موجود ہیں
    نیز اس علاقے میں وارداتیں ہو رہی ہیں جس پہ اہلیان علاقہ سخت پریشان ہیں
    اطلاع پہ فوری کاروائی کرتے ہوئے پولیس پارٹی نے ایس آئی محمد انور کی قیادت میں ریڈ کیا تو کھیتوں میں چھپے ملزمان پولیس پارٹی کو دیکھ کر بھاگ اٹھے جن کا پیچھا کرکے قابو کیا گیا
    گرفتار ملزمان کی شناخت بشارت عرف بشارتی عرف ٹنڈا ولد صادق قوم شیخ موضع پیال کلاں اور ابوسفیان عرف شانی ولد بشیر قوم جٹ موضع کنگن پور کے نام سے ہوئی ہے جن کے قبضہ سے دو عدد ناجائز پسٹل 30 بور تین عدد اینڈرائڈ موبائل فون اور ہزاروں روپیہ نقدی برآمد کی گئی ہے
    ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے
    شہریوں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر بروقت کاروائی کرکے ملزمان کو پکڑنے پر تھانہ بی ڈویژن قصور پولیس کا شکریہ ادا کیا ہے

  • تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں

    لالہ لال چند فلک

    تاریخ ولادت:13 جنوری 1887ء
    تاریخ وفات:26 مارچ 1967ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک 13 جنوری1887ء کو اپنے آبائی وطن یعنی ضلع گوجرانوالہ پنجاب پاکستان) کے مشہور قصبے حافظ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کی لاہور میں غلّے اور اناج کی دکان تھی ۔ چنانچہ ان کا بچپن اور تعلیمی زمانہ یہیں گزرا۔ 1904ء میں دسویں درجے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد کسبِ معاش کے لیے ملازمت اختیار کی اور چیف انجینیر کے دفتر میں جگہ مل گئی ۔ یہ دہ زمانہ ہے جب انگریز افسر اپنے دلیسی ماتحتوں سے بہت درشتی اور فرعونیت کا برتاؤ کرتے تھے۔ انھوں نے آئے دن اس طرح کے ناخوشگوار حالات دیکھے تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا ۔ اس پر وہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور پھر ساری عمر سرکاری نوکری کے نزدیک نہیں گئے ۔
    کانگریس کی سیاسی تحریک اب روز بروز تیزتر ہو رہی تھی۔ لال چند فلک بھی اس میں شامل ہو گئے ۔ پُرجوش تقریریں اور نظمیں پڑھنے لگے۔ نوبت قید و بند تک پہنچی۔ جون ۱۹۱۷ ء میں بجرم بغاوت ۲۰ سال کے لیے کالے پانی (جزیرہ انڈیمان) کی سزا ہوئی جو بعد کو ۴ اسال کی قید میں تبدیل کر دی گئی ۔ لیکن جب 1920ء میں دستوری اصلاحات کا نفاذ ہوا تو تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے، اسی میں انھیں بھی رہائی ملی لیکن ان کا نشہ ایسا نہیں تھا کہ تعزیر و تعذیب کی ترشی اُسے اتار دیتی۔ ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
    شعر پر اصلاح منشی دوار کا پر شاد افق لکھنوی سے لی۔ اسی زمانے میں ان کی قومی نظموں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے تھے جام فلک ، پیام فلک کلام فلک۔ مہا بھارت بھی بطر زِ ناول نثر میں لکھی تھی ۔ ان کا یہ مصرع ضرب المثل بن چکا ہے .
    تو کبھی بدل، فلک کہ زما نہ بدل گیا
    اس بزرگ قوم پرست شاعر کا 26 مارچ 1967ء کو دلی میں انتقال ہوا۔ ۸۰ سال کی عمر پائی۔
    افسوس، کوشش کے باوجود ان کے کلام کا کوئی مجموعۂ دستیاب نہیں ہوا۔ مندر جہ ذیل چند اشعار بڑی کوشش سے مہیا کر سکا ہوں ۔ ان کا کلام آپ بیتی اوردلی جذبات کا آمیز ہے۔
    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں
    سِل پر گھس دینے سے بھی جاتی نہیں چندن کی بو
    پھول کی، مٹی میں مل کر بھی ، مہک جاتی نہیں
    رنج میں آتا نہیں نیکوں کی پیشانی پر بل
    دھوپ کی تیزی میں سبزے کی لہک جاتی نہیں
    جا نہیں سکتی کٹہروں میں بھی شیروں کی دھاڑ
    دست گلچیں میں بھی غنچوں کی چٹک جاتی نہیں
    صاحبِ ہمت نہیں دبتا مخالف سے کبھی
    زو ر سے آندھی کے آتش کی بھڑک جاتی نہیں
    نعرہ زن رہتا ہے آفات و حوادث میں دلیر
    بادلوں میں گھر کے بجلی کی کڑک جاتی نہیں
    ملک کی الفت کا جذبہ دل سے مٹ سکتا نہیں
    قوم کی خدمت کی خواہش اے فلک جاتی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
    میں اٹھالوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر
    خاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گی
    زندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلک!
    خلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی پھانس جس دل میں گڑی ہے
    خوشی سے وہ اٹھا تا ہر کڑی ہے
    محن کا ابر ہے رحمت کا بادل
    گھٹا آفت کی ، ساون کی جھڑی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از تذکرۂ معاصرین، مصنف:مالک رام

  • سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    پیدائش:13 جنوری 1892ء
    اصفہان
    وفات:08 نومبر 1997ء
    جنیوا
    شہریت:ایران
    پیشہ:ماہرِ لسانیات، مصنف، مؤرخ
    ناول نگار، مترجم، شاعر
    زبان:فارسی

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سید محمد علی جمال زادہ اصفہانی، 13 جنوری 1892ء کو اصفہان پیدا ہوئے۔ پھر آپ کا گھرانہ تہران منتقل ہوگیا۔ آپ نے تہران اور بیروت میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر فرانس میں قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جمال زادہ کے مقالات فارسی اور جرمنی زبان میں بے شمار ہیں۔ آپ روز نامہ ”کاوہ“ کے مدیر بھی رہے۔ بعد میں برلن کے ایرانی سفارت خانے میں ملازم ہوگئے۔ پھر سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور انجمن بین المللی کے دفتر میں جو جینیوا ہے، اس میں تقریباً 27 سال کام کیا۔ ان کی شہرت کا آغاز اس زمانہ میں ہوا جب 1921ء میں انھوں نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”یکے بود ویکے نبود“ شائع کیا۔ جو چھ افسانوں پر مشتمل تھا، اس کے بعد آپ کے مزید افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ آپ نے تاریخ و ادب اور سیاسی اور سماجی کتب بھی تحریر کیں۔
    سید محمد علی جمال زادہ فارسی افسانہ نویسی میں ایک ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ انھوں نے ہی سب سے پہلے فنِ افسانہ نویسی کو ایران میں شروع کیا۔ محمد علی جمال زادہ نے افسانوں میں قصوں اور لوک کہانیوں کے انداز کو چھوڑ کر حقیقت نگاری کا نیا انداز اختیار کیا ہے۔ فارسی زبان پر انھیں پوری دسترس حاصل تھی۔ اپنے افسانوں میں انھوں نے نہ صرف عام اور روز مرہ کی زبان اور محاورے استعمال کیے گئے بلکہ سیاسی اورسماجی موضوعات کے ساتھ طنزیہ پیرایہ بھی استعمال کیا گیا۔ جمال زادہ کی کہانیوں میں پلاٹ کو مرکزیت حاصل رہتی ہے اور وہ اپنی کہانیوں کا اختتام موپاساں اور او ہینری کی طرح ڈرامائی اور چونکانے والے انداز میں کرتے ہیں لیکن انھوں نے زبان کا جو انداز اختیار کیا، اس نے فارسی میں افسانے کے لیے جس زبان کی بنیاد رکھی، وہ اب تک برقرار ہے۔ محمد علی جمال زادہ 8 نومبر 1997ء کو جینیوا سوئزرلینڈ میں انتقال کر گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    تاریخ و ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج شایان ( 1335 ہجری)
    ۔ (شایان کا خزانہ)
    ۔ (2)تاریخ روابط روس با ایران
    ۔ ( 1372ہجری) (ایران روس تعلقات)
    ۔ (3)پندنامۂ سعدی یا گلستان نیکبختی
    ۔ (1317ہجری) (پندنامۂ سعدی)
    ۔ (4)قصہ قصہ ہا
    ۔ (از روی قصص المعمای تنکابنی
    ۔ 1321ہجری) (کہانیوں کی کہانی)
    ۔ (5)بانگ نای
    ۔ (داستان ہای مثنوی معنوی
    ۔ 1337ہجری) (پائپ کی آواز)
    ۔ (6)فرہنگ لغات عوامانہ
    ۔ (1341ہجری) (عوامی لغت)
    ۔ (7)طریقۂ نویسندگی و داستان سرایی
    ۔ (1345ہجری) (کہانی نویسی
    ۔ اور داستان سرائی کے طریقے)
    ۔ (8)سرگزشت حاجی بابای اصفہانی
    ۔ (1348ہجری) (سرگزشت حاجی بابا اصفہانی)
    ۔ (9)اندک آشنایی با حافظ
    ۔ (1366ہجری)
    ۔ (حافظ کے ساتھ تھوڑی سی آشنائی)
    کہانیاں افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یکی بود، یکی نبود
    ۔ (1300ہجری)
    ۔ (ایک دفعہ کا ذکر)
    ۔ (2)عمو حسینعلی (جلد اول شاہکار)
    ۔ (1320ہجری) (حیاتِ چچا حسین علی )
    ۔ (3)سر و تہ یہ کرباس (1323ہجری)
    ۔ (1944) (کینوس کے اوپر و نیچے)
    ۔ (4)دارالمجانین (1321ہجری)
    ۔ (1942) (پاگل خانہ)
    ۔ (5)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (6)صندوقچہ اسرار (1342ہجری)
    ۔ (1963) (صندوقچۂ اسرار)
    ۔ (7)تلخ و شیریں (1334ہجری)
    ۔ (1955) (تلخ و شیرین )
    ۔ (8)شاہکار (دوجلدیں) (1337ہجری)
    ۔ (شاہکار )
    ۔ (9)فارسی شکر است(فارسی میٹھی ہے)
    ۔ (10)راہ آب نامہ(راہ آب نامہ)
    ۔ (11)قصہ ہای کوتاہ برای
    ۔ بچہ ہای ریش دار (1352ہجری)
    ۔ 1973) (داڑھی * والے بچوں کے لیے
    ۔ مختصر کہانیاں )
    ۔ (12)قصۂ ما بہ سر رسید
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (1978)
    ۔ (ختم ہو گئی ہماری کہانی)
    ۔ (13)قلتشن دیوان (1325ہجری)
    ۔ (1946)
    ۔ (دیوانِ قلتشن)
    ۔ (14)صحرای محشر
    ۔ (عذاب کا صحرا)
    ۔ (15)ہزار پیشہ (1326ہجری)
    ۔ (1947)
    ۔ (ہزار پیشے والا فرد)
    ۔ (16)معصومہ شیرازی
    ۔ (1333ہجری)
    ۔ (1954)
    ۔ معصومہ شیرازی )
    ۔ (17)ہفت کشور(سات ممالک)
    ۔ (18)قصہ ہای کوتاہ قنبرعلی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (1959)
    ۔ (قنبر علی مختصر کہانیاں )
    ۔ (19)کہنہ و نو
    ۔ (نئی اور پرانی )
    ۔ (20)یاد و یاد بود
    ۔ (نصیحت اور یادگار)
    ۔ (21)قیصر و ایلچی
    ۔ کالیگولا امپراتور روم
    ۔ (رومن شہنشاہ کالیگولا
    ۔ قیصر اور ایلچی)
    ۔ (21)غیر از خدا ہیچکس نبود
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (1961)
    ۔ (خدا کے سوا کوئی نہیں )
    ۔ (22)شورآباد
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (1962)
    ۔ (شورآباد )
    ۔ (23)خاک و آدم
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (24)آسمان و ریسمان
    ۔ (1343ہجری)
    ۔ (1964)
    ۔ (آسمان اور ڈور)
    ۔ (25)مرکب محو
    ۔ (1344ہجری)
    ۔ (1965)
    ۔ (غائب سیاہی )
    سیاست ومعاشرت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آزادی وحیثیت انسانی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (آزادی و انسانی وقار)
    ۔ (2)خاک وآدم
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (3)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (4)خلقیات ما ایرانیان
    ۔ (1345ہجری)
    ۔ (ایران کی ہماری اقدار)
    ۔ (5)تصویر زن
    ۔ در فرہنگ ایران
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (ایران میں خواتین کی تصویر)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قہوہ خانہ سورات
    ۔ یا جنگ ہفتاد ودو ملت
    ۔ (برنارڈن دی سینٹ پیرے)
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (سورت کافی ہاؤس
    ۔ Le Café du Surat by
    ۔ Bernardin de Saint-Pierre)
    ۔ (2)ویلہلم تل (فیڈرک شیللر)
    ۔ (1334ہجری)
    ۔ (ویلہم ٹیل
    ۔ Wilhelm Tell by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (3)داستان بشر (ہنڈرک وان لون)
    ۔ (1335ہجری)
    ۔ (داستانِ بشر
    ۔ The Story of Mankind
    ۔ by Hendrik Willem
    ۔ van Loon)
    ۔ (4)دون کارلوس (فیڈرک شیلر)
    ۔ (ڈون کارلوس
    ۔ Don Carlos by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (5)خسیس (مولیر)
    ۔ (کنجوس L’Avare by Molière)
    ۔ (6)داستان ہای برگزیدہ
    ۔ (اہم داستان)
    ۔ (7)دشمن ملت (ہینرک ایبسن)
    ۔ (قوم کا دشمن
    ۔ En Folkerfiende
    ۔ by Henrik Ibsen)
    ۔ (8)داستانہای ہفت کشور
    ۔ (مجموعہ)
    ۔ (سات ملکوں کی کہانیاں )
    ۔ (9)بلای ترکمن در ایران قاجاریہ
    ۔ (بلوک ویل)
    ۔ (10)قنبرعلی جوانمرد شیراز
    ۔ (آرتور کنت دوگوپینو)
    ۔ (11)سیر وسیاحت در ترکستان وایران
    ۔ (ہانری موزر)
    ۔ (12)جنگ ترکمن (کونٹ دی گبینو)
    ۔ (جنگِ ترکمان
    ۔ Turkmen War by
    ۔ Conte de Gobineau)
    ۔ (13)کباب غاز
    دیگر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کشکول جمالی
    ۔ (2)صندوقچۂ اسرار

  • پاکستان ایک زرعی ملک!!! — آصف گوہر

    پاکستان ایک زرعی ملک!!! — آصف گوہر

    ہم بچن سے مطالعہ پاکستان میں یہ پڑھتے ائے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی 75 فیصد آبادی پیشہ زراعت سے وابستہ ہے
    اگر اس دعوے کو سچ مان لیا جائے تو پھر ہر 3 ماہ بعد ملک میں چینی آٹے اور پیاز ٹماٹر کے بحران کا کیوں سامنا کرنا پڑتا ہے.

    کہیں تو ابہام اور غلطی ہے جس کا خمیازہ ہم بھگتے رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا.

    میری سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ زمینداروں نے لالچ بری بلا کی کہانی کے مصداق روز ایک سونے کا انڈا لینے کی بجائے مرغی ہی کو ذبح کر دیا اور اپنے زرعی مربعے مرلہ کے حساب سے ہاؤسنگ سوسائٹیز مافیا کو فروخت کئے ،اگر لاہور شہر کی بات کی جائے تو ایک وقت تھا فیروز پور روڈ چونگی امرسدھو، جی ٹی روڈ شالیمار باغ، شاہدرہ ، ملتان روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ بھیکے وال موڑ اور غازی روڈ سے سے آگے کھیت کھلیان شروع ہوجاتے تھے جو لاہور کی سبزیوں کی ضرورت کے لئے کافی تھے ، آہستہ آہستہ پراپرٹی کے کام نے زور پکڑا اور ہاؤسنگ سیکٹر مافیا سر گرم ہوا اور لاہور کے مضافات میں واقع دیہاتوں کی زرعی زمین دیکھتے ہی دیکھتے ہڑپ کر .

    ڈی ایچ اے لاہور کو ہی دیکھ لیں یہ گاؤں امرسدھو، کماہاں، جامن ،لیل گوونڈی مانوالہ اور ان گنت دیہاتوں کی زمین پر پاک بھارت بارڈر تک کی زرعی زمین نگل چکا ہے، اس کے علاوہ چھوٹے بڑے کئ ہاؤسنگ ڈویلپرز نے لاہور کے زرعی رقبہ پر بےشمار ہاؤسنگ سوسائٹیز بنا دی ہیں، یہی حال ملک کے دیگر اضلاع کا ہے.

    اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟

    نقل مکانی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس جن کو بوتل میں بند کرنا ممکن نہیں، اب انفرادی طور پر ہم اپنے روزمرہ کی ضرورت کچن گارڈنینگ سے پوری کر سکتے، بنگالیوں نے اپنے گھروں میں خالی جگہوں پر عقب میں سبزیاں وغیرہ لگا رکھی ہوتی ہیں راقم نے سعودی عرب قیام کے دوران یہ مشاہدہ کیا کہ وہاں پر بنگالی لیبرز نے اپنے کنٹینرز نما کمروں کے پیچھے لہسن، سبز مرچیں، پالک وغیرہ لگا رکھی تھی وہ بازار سے مچھلی لاتے اور اپنے کچن گارڈن سے ضرورت کی سبزی توڑ لیتے.

    ہم بھی اپنے گھروں پر کچن گارڈنینگ کرسکتے ہیں ہماری تھوڑی سی توجہ سے ہم اپنے آپ کو مصروف بھی رکھ سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کی سبزی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    لاہور میں ہمارے ایک دوست رانا نعیم نے اپنے گھر کی ناکار چیزوں کو استعمال کرکے گھر کی چھت پر باقاعدہ کچن گارڈن بنا رکھا ہے اور اس میں ٹماٹر، بند گوبھی بروکلی بینگن کدو لہسن اور سبز مرچیں لگا رکھی ہیں جہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق روز کچھ نہ کچھ توڑ کر آرگینک سبزیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ رانا نعیم نے Rooftop gardening with rana کے نام سے یوٹیوب چینل بنا رکھے ہیں جہاں وہ چھوٹے گھروں کے مکینوں کو چھت پر کچن گارڈنینگ ٹاور گارڈنینگ لگانے کی مفید معلومات اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    آپ اگر اپنے گھر کے لان اور چھت پر کچن گارڈنینگ کا سیٹ اپ لگانا چاہتے ہیں تو ان سے رابطہ کرسکتے ہیں.

  • ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو کسی کی شخصیت کا بیانیہ بن جاتی ہیں. جیسے دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہو جانا. یہ دروازہ اگر آپ کھول سکتے ہیں تو دوسرا بھی کھول سکتا ہے. لیکن کسی کا یہ دروازہ آپ کیلئے کھول کر کھڑا ہونا آپ کو وہ عزت دیتا ہے جو بتا رہا ہوتا کہ آپ اہم ہیں آپ کا وقت اور توانائی اہم ہے.

    چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو آپ کو اپنی سمجھ دیتی ہیں. جیسے ڈور وے ایفیکٹ ہو. آپ کچھ لینے دوسرے کمرے میں گئے لیکن جاکر بھول گئے لینے کیا آیا تھا. کیونکہ ہمارے دماغ کی ڈیزائینگ ایسی ہے کہ جب یہ کوئی دروازہ پار کرتا ہے منظر اور ماحول بدل جاتا ہے تو اس کو اپنی یادداشت ری ایڈجسٹ کرنی ہوتی ہے. ایسے میں وہ یہ بھول جاتا ہے میں یہاں آیا کیوں تھا.

    ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے چھوٹے چھوٹے حل ہوتے ہیں. جیسے کاپی میں کچھ لکھنا ہے لیکن قلم دوسرے کمرے میں ہے تو کاپی ہاتھ میں لے کر جائیں آپ کبھی قلم نہیں بھولیں گے. البتہ یہی چھوٹی باتیں زندگی کی بڑی بڑی باتیں سمجھاتی ہیں. مثلاً مایوسی کسی ایک مقام کسی ایک منظر کی ہوتی ہے. اسے ہی زندگی سمجھ کر زندگی سے مایوس ہوجانے کی بجائے کوئی دوسرا دروازہ کھول لیں. ماحول اور منظر جب بدل جائے گا تو زندگی پر آپ کی سوچ بھی بدل جائے گی.

    زندگی سے مایوس لوگ کسی ایک ماحول اور منظر کے گرفتار لوگ ہوتے ہیں. ایسے میں دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہونے والے لوگ بہت عظیم ہوتے ہیں. ان کا یہ چھوٹا سا کام دوسروں کو اپنی ذات میں معتبر بنا دیتا ہے.

  • کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    فرانس کی مختلف یونیورسٹیوں میں گزرے نو سال کے دوران ایک چیز بہت عام دیکھی کی وہاں کی کولیگ پروفیسر اور سائنسدان عورتوں کی شادیاں اکثر کسی پلمبر، الیکٹریشن، ٹرک ڈرائیور، دکاندار، ہیئر ڈریسر وغیرہ سے ہوئی ہوتی تھیں جو اکثر ان سے بہت ہی کم تعلیم یافتہ ہوتے تھے اور اکثر کی تنخواہیں بھی ان سے کم ہوتی تھیں۔ وہاں کسی عورت میں یہ کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے اشاروں کنایوں میں بھی ایسی کوئی بات کی ہو یا اس پر شرمندگی محسوس کی ہو کہ اس کا شوہر یا بوائے فرینڈ حیثیت یا تعلیم میں اس سے کم ہے۔

    پاکستان میں زیادہ تر مرد اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والی یا بالکل ہی بے روز گار عورت سے شادی کرنے میں ہچکچاہٹ کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے ہیں لیکن عورتیں اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والے یا بے روز گار شخص سے شادی نہیں کرتی ہیں۔

    اگر کسی وجہ سے ہو جائے تو ساری عمر اسے اس بات کے طعنے مارتی رہتی ہیں اور کہیں بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔

    جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس میں پڑھی لکھی لڑکیوں کے مشکل سے رشتہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ وہ جس مقام پر پہنچ چکی ہوتی ہیں ان کے ہم پلہ مرد اکثر اپنے سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ انھیں آسانی سے مل بھی جاتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکیوں اور ان کے والدین کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ لڑکیوں کا دن بدن تعلیم کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم مہنگی ہونے اور اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی جاب کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں کم ہو جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔

  • سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    حج کا دوسرا دن تھا اور ہم منیٰ کی مرکزی شاہراہ پر کھڑے اس ادھیڑ عمر پاکستانی جوڑے کو پریشانی اور خوف کے عالم میں آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہمت کرکے ان سے پوچھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ پہلے تو وہ ہم سے کچھ گھبرائے لیکن ہمارے اصرار پر خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ کل رات سے راستہ بھولے ہوئے ہیں اور انہیں اپنا خیمہ نہیں مل رہا۔ اگر ہم ان کو ان کے خیمے تک پہنچانے میں کچھ مدد کر دیں تو وہ ہمارے شکر گزار ہوں گے۔

    اس وقت تک گوگل میپ نہیں آیا تھا اور سمارٹ فون بھی اتنا سمارٹ نہیں ہوا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں ایک جیسے خیموں میں اپنا خیمہ تلاش کرنا بعض لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی مصیبت تھا۔بہت بڑی تعداد میں پاکستانی حجاج خصوصاْ اپنے گروپ سے بچھڑ جانے والے لوگ اپنے خیمے تک مشکل سے واپس پہنچ پاتے۔

    ہم نے پہلے دن ہی پاکستانی حج مشن کے منیٰ میں کیمپ سے منٰی کے خیموں کا لے آوٹ میپ لے کیا تھا اور اپنی سول انجنئیرنگ کی سمجھ بوجھ کا کام میں لاتے نہ صرف خود اپنے خیمے تک با آسانی پہنچ جاتے بلکہ دوسرے حجاج کی بھی مدد کرتے ۔ ہم اپنے آفس سے تین سال انجنئیر دوست اکٹھے ہی حج کے لئے آئے ہوئے تھے اور منیٰ کے قیام کے دوران فارغ وقت میں راستہ بھولے حجاج کی نقشے کی مدد سے ان کے خیموں تک راہنمائی کرتے رہتے ۔

    بہرحال اس جوڑے کا خیمہ مین روڈ کے پاس ہی تھا اور ہم انہیں دو تین منٹ میں ہی منزلِ مقصود پر لے گئے۔ اپنی رہائش پر پہنچتے ہی رات بھر منیٰ میں بھٹکنے والی خاتون شوہر پر پھٹ پڑی

    “لخ دی لعنت تیری سول انجُئیرنگ تے۔ ساری رات ہم خیمے کے سامنے گزرتے رہے اور خوار ہو گئے مگر اس نالائق انجنئیر کو خیمہ نہ مل سکا جب کہ ان عام سے لڑکوں نے دو منٹ میں تلاش کر لیا ۔میں تو سات پشتوں تک وصیت کر جاؤں گی کہ اپنے بچوں کو سول انجنئیر نہ بنانا۔۔۔۔ پینجاپی سے ترجمہ”

    پتہ چلا کہ حاجی صاحب سول انجنئیر ہیں اور ایل ڈے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ہم تینوں دوست اب تک اس تبصرے سے محظوظ ہوتے ہیں۔