Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    ناجانے اس بوڑھی عورت کا اصل نام کیا تھا۔ مگر پورا گاؤں اسے "نانی سلطی” کے نام سے پکارتا تھا۔ نانی سلطی ہمارے گاؤں میں جس چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی، گاؤں کے لوگ اس کمرے کو نانی کی کوٹھی کہا کرتے تھے۔ نانی کی کوٹھی کے باہر بندھے چند چھوٹے چھوٹے کتے اور مرغیاں "نانی سلطی” کی شاید بہترین ساتھی تھے۔ ایک چارپائی، چھوٹا سا کمرہ ، باہر بندھے کتے اور چند ضرورت کے برتن "نانی سلطی” کی کل کائنات تھے۔ نانی سلطی دماغی طور پر سوچنے کی صلاحیت سے محروم تھی۔ میرے خیال میں تو یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پورا گاؤں اس کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ اور اسی وجہ سے گاؤں کے بگڑے لڑکے نانی سلطی کو تنگ کرتے تھکتے نہ تھے۔ صرف بگڑے لڑکے ہی نہیں بلکہ گاؤں کے زیادہ تر لوگوں بشمول پنج (پانچ) وقتی نمازوں کے لیے نانی سلطی انٹرنینمنٹ کا واحد ذریعہ تھی۔ لوگوں کے گھروں سے کھانا لے کر گزرا کرنے والی نانی سلطی اب گزر گئی ہے۔ لوگ اس کو پاگل سمجھتے تھے۔مگر وہ اللہ کے اس قدر قریب تھی۔کہ دین کا علم نہ تھا۔مگر پھر بھی نانی سلطی ہمیشہ روزہ رکھتی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب گاؤں میں، میں نے پہلی بار روزہ رکھا تو نانی سلطی اس دن بھی سہری کے وقت ہمارے گھر سہری کےلیے آئی تھی۔ اماں کے بتانے پر کہ اس کا آج پہلا روزہ ہے، نانی نے میرے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔

    "نانی سلطی” پانی سے بہت گھبراتی تھی۔ گاؤں کے لڑکے جب نانی پر پانی پھینکتے تو روتے روتے پانی پھینکنے والوں کو دو چار گالیوں سے نوازتے ہوئے اپنے مکان کی طرف چل پڑتی تھی۔سوائے اس کے وہ بیچاری اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ میں نے اکثر” نانی سلطی” کو اپنے چھوٹے سے مکان کے باہر آنے والی مرغیوں کو دانہ ڈالتے دیکھا تھا۔ مگر کل شب خواب میں مجھے” نانی سلطی” جنت کے پرندوں کو دانہ کھلاتے دیکھائی دی۔

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    پرویز الہی کی مبینہ آڈیو لیک جس میں وہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کو گندی گالیاں دے رہے ہیں

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    ‏عمران خان دی بندہ کی عزت کرسکدا اے….فواد چودھری کی آڈیو لیک

  • سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    بچپن تو سب کا ہی اچھا گزرتا ہے اور جوانی کے بعد عموما لوگ اپنے بچپن کو خصوصی یاد کرتے ہوئے جلتے دل کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ ماضی بھی سب کو ہی خوب بھاتا ہے اور یاد ماضی بھی اکسیر کا کام دیتے ہوئے ذہن انسانی کو تسکین بخشتی ہے ۔ ہم نے بھی بچپن سے ہی جن رسالوں اور کتابوں کو پڑھا ان میں بھی ماضی بڑا خوشگوار کرکے پیش کیا گیا ۔ گویا ہمیں شروع سے ہی یہ سکھایا گیا کہ گزرا وقت اچھا ہوتا ہے ۔ رہی سہی کسر بڑے بوڑھوں نے نکال دی جنہوں نے حال کی خوب خبر لی اور ماضی کی تعریفات میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ عموما یہ لوگ یوں کہتے نظر آتے ہیں کہ "ہون تے زمانہ ٹھیک ای نئی ریا ساڈے ویلیاں وچ تے بہاراں سی”
    ابھی وقت اچھا نہیں رہا ہمارے وقتوں میں تو خوب بہاریں ہوتی تھیں ۔
    پھر ہم نے نفسیات پڑھی جس میں یہ بتایا گیا کہ یاد ماضی کی خوسنمائی دراصل انسان کے نفسیاتی واہمے ہیں اور وقت سارے ہی خوب صورت ہوتے ہیں ۔ انسان دراصل آرام پسند ہے اور اس کا ماضی اور بچپن بے فکری میں گزرتا ہے اسی نسبت سے جب حال کی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ خوشحال ماضی کو یاد کرکے روتا ہے ۔
    اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ہم اس قابل ہوگئے کہ سبھی وقتوں کو اچھا کہنے لگے اور ساتھ ساتھ ماضی کی یاد کو ایک فضول چیز سمجھنے لگے ۔

    زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ پھر نفسیات نے انکشاف کیا کہ ماضی کو یاد کرنا انسان کی ڈپریشن کو کم کرتا ہے ۔ ایک بار پھر نئے مخمصے اور عجیب صورت حال تھی ۔ اور پھر سائنس نے رہی سہی کسر نکال دی ۔ اور انسان کے تمام جذبات کو کیمیکل ری ایکشن کا نام دیا ۔ اگر کیمیکل ری ایکشن ہی ساری مصیبتوں کی جڑ ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ حقیقت کچھ نہیں ہے ۔ اور ان ری ایکشنز کو میڈیسن کے ذریعے سے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ ادبی، نفسیاتی اور سائنسی انکشافات کے بعد صورت حال یہ ہے کہ ادب کی بنیاد پر ہم ماضی کو یاد کرتے ہیں تو خیال آتا ہے نفسیات کی رو سے ماضی کو یاد کرنا فضول بات ہے اور پھر نفسیات ہی نفسیات کا رد کرتی ہے کہ ماضی کو یاد کرلینا بھی اچھی بات ہے اور اگلے ہی لمحے ہمیں خیال آتا ہے کہ سائنسی رو سے تو ہمارے وجود اقدس میں کیمیکل ری ایکشن ہورہے ہیں جس کی بنیاد پر ہمیں اداسی محسوس ہورہی اور جذبات کا حقائق سے نہیں بلکہ جسم سے تعلق ہے ۔ ایک کے بعد ایک سوال اور خیال کے بعد خیال ہمیں مزید چکرانے والے ہی ہوتے ہیں کہ ہم ان سوالوں اور خیالوں کو چکر دے کر کوئی کتاب کھول کر نئے خیالات کی جستجو میں لگ جاتے ہیں ۔
    ماضی بھی اچھا ہے لیکن ماضی کی حسین یادوں کو سوچا نہیں جاسکتا ۔ حال بھی ڈستا ہے لیکن حال کے زہریلے پن سے بھاگا نہیں جاسکتا۔ ایک شعر کے مصداق حالت کچھ یوں ہے کہ ؛
    نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہم
    نہ خدا ملا نہ وصال صنم

  • شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکر علی
    عظیم تجریدی مصور
    یوم وفات : 27 جنوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون ہیں۔

  • ثانیہ مرزا کا کیریئر اختتام پذیر؛ آخری میچ میں جزباتی ہوگئیں

    ثانیہ مرزا کا کیریئر اختتام پذیر؛ آخری میچ میں جزباتی ہوگئیں

    ثانیہ مرزا کا کیریئر اختتام پذیر؛ آخری میچ میں جزباتی ہوگئیں

    آخری میچ میں شکست کیساتھ بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کا کیریئر اختتام کو پہنچ گیا۔ آج آسٹریلین اوپن 2023ء کے مسکڈ ڈبلز فائنل میں ثانیہ اور روہن بھوپنا کو برازیل کی جوڑی نے شکست دی، برازیلین جوڑی نے 6-7 اور 6-2 سے فائنل جیت کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ ثانیہ مرزا اپنے کیریئر کے آخری گرینڈ سلم میں شکست پر آبدیدہ ہوگئیں۔ ثانیہ جب رنر اپ ٹرافی لینے پہنچی تو کورٹ میں موجود سب لوگ ان کے اعزاز میں کھڑے ہوگئے۔ ثانیہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔


    ثانیہ مرزا نے اپنے سفر کو بھاری دل سے یاد کیا اور بتایا کہ میرا کیریئر 2005 میں میلبورن سے شروع ہوا تھا۔ تب میں 18 سال کی تھی اور سرینا ولیمز کے خلاف کھیلی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنے بیٹے کے سامنے گرینڈ سلم کھیلوں گی۔ ثانیہ مرزا نے کیرئیر میں تین ویمنز ڈبلز اور تین مسکڈ ڈبلز گرینڈ سلم جیتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    دوسری جانب ویمن سنگلز میں بیلاروس اور قازقستان کی پلیئرز سبالنکا اور ایلینا فائنل میں پہنچ گئیں۔ ویمنز سنگلز سیمی فائنل میں بیلا روس کی سبالنکا نے پولینڈ کی Magda Linette کو اسٹریٹ سیٹ میں ہرادیا، سبالِنکا نے سات چھ اور چھ دو سے کامیابی سمیٹ کر فائنل میں جگہ بنائی۔ دوسرے سیمی فائنل میں قازقستان کی Elena Rybakina نے بیلا روس کی وکٹوریہ اذارینکا کو ہرادیا، ویمنز سنگلز کا فائنل ایلینا اور سبالنکا کے درمیان ہفتے کو کھیلا جائے گا۔

  • بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار

    بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار

    بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار

    بلوچستان میں کرکٹ کے میدان سجنے کو تیار۔ سپر لیگ کے آغاز سے قبل کوئٹہ میں سپر مقابلے کیلئے تیاریاں مکمل. سپر لیگ کے آغاز سے قبل کوئٹہ میں سپر مقابلے کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں. بگٹی اسٹیڈیم میں 5 فروری کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کا جوڑ پڑیگا بابر اعظم پشاور زلمی، سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت کرینگے سابق کپتان جاوید میانداد، شاہد آفریدی، محمد یوسف، انضمام الحق بھی ایکشن میں دکھائی دینگے معین خان، وہاب ریاض، کامران اکمل، عمر اکمل، واحد بنگلزئی، بسم اللہ خان، حسیب اللہ ایکشن میں ہونگے.

    بلوچستان کے فینز کیلئے ٹکٹوں کی فروخت 30 جنوری سے شروع ہوگی میچ کے ٹکٹ المحمود مارٹ ائرپورٹ، گلزاری ٹریولز مری آباد، جان مال، ڈسکہ سپورٹس سٹور بگٹی سٹیڈیم اور بولان کرکٹ سٹیڈیم میں دستیاب ہونگے زلمی بمقابلہ کوئٹہ معرکہ پی ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائیگا چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سمیت اعلیٰ شخصیات بھی میچ دیکھیں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    معروف کھیلاڑی جاوید میانداد نے اس بارے ایک بیان میں کہا کہ میں بھی یہ میچ دیکھنے آرہا ہوں جبکہ انہوں نے اس پر بلوچستان حکومت کو سراہاتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے کہ یہاں کی کرکٹ اوپر جائے اور بچے اس سے انسپائیر ہوں اور وہ بھی اسی طرح کرکٹ میں آئیں اور ملک کی نمائندگی کریں. ان کا کہنا تھا کہ آپ سب کو آنا چاہئے.

  • آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    حمیدہ شاہین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    26 جنوری 1963 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی ایک بہتر پاکستانی شاعرہ پروفیسر حمیدہ شاہین صاحبہ 26 جنوری 1963 کو سرگودھا پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1988 میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں لیکچرر تعینات ہوئیں اور ٹھیک 32 برس بعد اپنی سالگرہ کے دن 26 جنوری 2020 میں ترقی کرتے ہوئے 20 گریڈ میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ جبکہ آج اپنی سالگرہ کے دن 60 سال کی عمر کو پہنچ کر گورنمٹ ملازمت سے سبکدوش ہو گٙئی ہیں۔ حمیدہ شاہین صاحبہ کے اب تک 3 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، دستک، دشت وجود اور”زندہ ہوں” شامل ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نمونہ کلام

    کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
    آدھے لوگ نِری مٹی تھے ، آدھے چاند ستارے لوگ

    اُس ترتیب میں کوئی جانی بوُجھی بے ترتیبی تھی
    آدھے ایک کنارے پر تھے ، آدھے ایک کنارے لوگ

    اُس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
    آدھے اس نے ساتھ ملائے ، آدھے اس نے مارے لوگ

    آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
    اُس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے
    آدھے پھیکے بے رس ہو گئے ، آدھے زہر تمہارے لوگ

    آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دیے
    آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

    آدھوں آدھ کٹی یک جائی ، پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
    آدھے پاؤں کے نیچے رکھے ، آدھے سر سے وارے لوگ

    ایسا بندو بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
    ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اُتارے لوگ

    کچھ لوگوں پر شیشے کے اُس جانب ہونا واجب تھا
    دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

    حمیدہ شاہین

  • انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔

    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔

    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • یوم پیدائش،  انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    یوم پیدائش، انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔
    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔
    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔
    انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی

    فاطمہ حسن

    اصل نام: سیدہ انیس فاطمہ زیدی
    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:کراچی
    زبان:اردو
    اصناف:تحقیق، تنقید،شاعری
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بلوچستان کاادب اور خواتین-2006
    ۔ (2)فیمینزم اور ہم-2005
    ۔ (3)خاموشی کی آواز-2004
    ۔ (4)یادیں بھی اب خواب ہوئیں-2004
    ۔ (5)کہانیاں گم ہوجاتی ہیں-2000
    ۔ (6)دستک سے در کافاصلہ-1993
    ۔ (7)بہتے ہوئے پھول-1977
    مستقل پتا:ڈی41 بلاک7، گلشن اقبال ،کراچی

    نام سیدہ انیس فاطمہ،ڈاکٹر اور تخلص فاطمہ ہے۔ 25 جنوری 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کے آباء و اجداد کا وطن غازی پور(بھارت) تھا۔ سات برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ ڈھاکا چلی گئیں اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1971ء میں ڈھاکا یونیورسٹی میں آنرز کی طالبہ تھیں کہ سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آیا۔ 1973ء میں بھارت اور نیپال سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچیں۔ یہاں آکر جامعہ کراچی سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1977ء میں محکمۂ اطلاعات سندھ گورنمنٹ کے شعبۂ اشاعت سے وابستہ ہوئیں۔ پھرسوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں ڈپٹی ڈائرکٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ ترقی کرکے اس ادارے میں ڈائرکٹر ،تعلقات عامہ ترتیب وتحقیق کے عہدے پر فائز رہیں۔ فاطمہ حسن شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔ ماہ نامہ’’اظہار ‘‘کی نائب مدیرہ رہ چکی ہیں۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بہتے ہوئے پھول‘‘، ’’دستک سے درکا فاصلہ‘‘(شعری مجموعے)،’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں‘‘(افسانے)، ’’یادیں بھی اب خواب ہوئیں‘‘(شعری مجموعہ)، ان تینوں شعری مجموعوں کو ملا کر ایک مجموعہ ’’یاد کی بارشیں‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ہے۔ ’زاہدہ خاتون شیروانیہ‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:415

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
    وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
    جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
    وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا
    وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
    خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا
    بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
    وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا
    کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
    میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں
    خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں
    سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
    لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں
    رہبری اب شرط منزل کب رہی
    آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں
    یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے
    راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں
    مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح
    وہ مگر اب چاہتے کچھ اور ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی
    وہ ہم سفر تھا کشتی پہ مانجھی بھی تھا وہی
    دریا وہی ہے میں بھی ہوں کشتی نہیں رہی
    بدلا جو اس کا لہجہ تو سب کچھ بدل گیا
    چاہت میں ڈھل کے جیسی تھی ویسی نہیں رہی
    پیڑوں میں چھاؤں پھول میں خوشبو ہے اپنا رنگ
    ویرانی بڑھ گئی ہے کہ بستی نہیں رہی
    کچے مکان جیسے گھروندے سے کھیلتی
    پختہ ہوا جو صحن تو مٹی نہیں رہی
    اک اعتراف عشق تھا جو کر نہیں سکی
    خاموش اس لیے ہوں کہ سچی نہیں رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں
    اپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں
    کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور
    اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں
    جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیں
    لہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں
    روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گے
    آنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں
    جس منظر سے گزری تھی میں اس کے ساتھ
    آج اسی منظر میں آ کر تنہا ہوں
    پانی کی لہروں پر بہتی آنکھوں میں
    کتنے بھولے خواب جگا کر تنہا ہوں
    میرا پیارا ساتھی کب یہ جانے گا
    دریا کی آغوش تک آ کر تنہا ہوں
    اپنا آپ بھی کھو دینے کی خواہش میں
    اس کا بھی اک نام بھلا کر تنہا ہوں

  • پاکستان کی معاشی مشکلات، تحریر:خادم حسین

    پاکستان کی معاشی مشکلات، تحریر:خادم حسین

    پاکستان کی معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتاچلا جارہا ہے درآمدات اور ترسیلات زر میں مسلسل کمی آتی جارہی ہی جبکہ درآمدات میں خاطر خواہ کمی نہیں آرہی ہے معیشت ایک ایسے بحران کا شکار ہے جس سے نکلنا دن بدن مشکل ہوتا چلا جارہا ہے مہنگائی کا آفریت دن بدن بڑھ رہا ہے اور عوام کی زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے لیکن ملک کی سیاسی صورتحال اس تمام صورتحال کو مزد گھمبیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے آج ملک تقریباَ معاشی اشاریوں پر ناکافی سکور کر رہا ہے۔وطن عزیز اس وقت جن گمبھیر مسائل و مشکلات کا شکار ہے ان میں سیاسی عدم استحکام،معاشی ابتری اور دہشت گردی سرفہرست ہے۔پھر ان کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل ہیں جن میں مہنگائی،بے روزگاری،کاروباری بدحالی، کرپشن، روپے کی ناقدری،ترسیلات زر میں کمی، توانائی کی طلب کے مقابلے میں رسد کا فقدان، بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضے، تجارتی عدم توازن،محصولات کی کم ہوتی ہوئی وصولی،زرعی عدم توازن، محصولات کی گھٹتی ہوئی وصولی، زرعی و صنعتی پیداوار میں تنزلی،امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز، ریاستی اداروں کی بے توقیری اور عوام میں عدم تحفظ کا خوف بھی شامل ہے۔یہ ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے تمام اداروں اور تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم میں یکجا ہونا ہوگا۔

    مضبوط معیشت کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔درآمدات میں توازن، کرنسی کی بیرون ملک غیر قانونی منتقلی کو روکا جائے۔ کسی ملک کو اپنی سرزمین دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پراستعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے،قومی سلامتی کا تصور معاشی تحفظ کے گرد گھومتا ہے، معاشی خودانحصاری کے بغیر قومی خود مختاری پر دباؤ آتا ہے عام آدمی خصوصاً مڈل کلاس کو چیلنجز کا سامنا ہے۔یہ بات قابل اطمینان ہے اب اعلیٰ سطح پر پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے سوچا جا رہا ہے۔اس ملک کے مسائل کے حل کیے لئے اجتماعی فیصلے کرنا ضروری ہیں اسمیں ملک کے لیے بہتری کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔ پاکستا ن اس وقت معاشی ناکامی کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسی صوربحال ہم برداشت نہیں کرسکتے ہمیں پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادار کرسکتی ہے اس سلسلے میں تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں اقتصادی ترقی اور پائیدار امن و امان دونوں میں ملک نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔لہذا یہ حیران کن ہے کہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری اس قدر غیر موثر کیوں ہے خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کے پڑوسیوں نے اس کی اتنی تندہی سے حمایت کی اور اسے قبول کیا۔آج ہندوستان دنیاکی تیزی سے ترقی کرنے والے معیشتوں میں سے ایک ہے اور اس نے اس اقتصادی طاقت کو اپنے تمام تجارتی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی فائدہ کے طور پر استعمال کیا ہے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات قابل ذکر ہیں ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بڑھتے اور گہرے ہوتے جارہے ہیں اور عرب دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔یہ ایک متوازن عمل ہے جس کی ہم تقلید کرسکتے ہیں بلکہ یہ ہمارے لیے ضروری ہے۔یہاں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات بھی قابل ذکر ہیں۔گزشتہ 70سالوں سے تمام تر مالی امداد اور دوطرفہ دوستی کے باوجود پاکستان باہمی تجارت پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے میں ناکام ہورہا ہے اگرچہ امریکہ پاکستان کے اہم برآمدی شرات داروں میں سے ایک ہے لیکن وہ چین یا بھارت کے برعکس اس طرح کے تعلقات کے ذریعے پیش کیے گئے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے کسی بھی بڑی کمپنی کا نام لیں اور ان کے سی ای او کا ہندوستانی نثراد ہونا تقریباً یقینی ہے گوگل اور مائیکروسافٹ طویل فہرست میں صرف چند مثالیں ہیں۔دوسری طرف چین نے نئے سٹارٹ اپس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہےCNBCاور بلومبرگ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق چین اپنے مفادات کو وسیع کرنے اور ان نئے آغاز کے ذریعے پیش کردہ اہم فوجی ٹیکنالوجی (ملٹری روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، راکٹ انجن وغیرہ) سے فائد ہ اٹھانے کے لیے تیزی سے ترقی کرنے والے اٹیک اسٹار اپس میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سفارتکاری کی سب سے مشہور مثال ون بیلٹ ون روڈ اقدام ہے۔پہلے سے زیادہ آپ پاکستان کو معاشی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور اقتصادی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت اور رابطوں کے اقدامات پر کام کیا جانا چاہیے۔

    خادم حسین
    ایگزیکٹو ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس و انڈسٹریز
    ڈائریکٹرز پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی
    سینئر نائب صدر فیروز پور بورڈلاہور

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟