Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا. یہ اربوں کھربوں پتی دنیا کے دولت مند ترین انسان کسی ایسے غریب کو مکمل نظر آتے ہوں گے جو ان جیسا بننے کے خواب دیکھ رہا ہو لیکن وہ دولت مند ہندسوں کے ایک ایسے جال میں ہوتا ہے جو ایک کہ بعد ایک کروڑ ارب سے اپنی تکمیل چاہتا ہے. نہ کوئی مشہور شہرت یافتہ اداکار کھلاڑی اپنی شہرت کو مکمل سمجھتا ہے. وہ بھی اور مشہور ہونا چاہتا ہے.

    انسان فطری طور پر ریس پسند کرتا ہے. اس لئے آپ دیکھیں تو کونسی دوڑ نہیں جو انسان کھیلتے ہیں؟ . خود بھی ریس لگاتے ہیں اور کار، موٹر-سائیکل، گھوڑے کتے جو چیز ان کو دوڑ کے قابل لگتی ہے اسے بھی دوڑا دیتے ہیں. جیتنے کی جبلت ہماری فطرت کا حصہ ہے. یہی جبلت ہماری بے چینی محرومی حسد بغض ناکامی مایوسی جیسے ان گنت جذبات کی بنیاد بنتی ہے.

    لیکن اسی جبلت میں سکون کا ایک راز بھی چھپا ہے. مثال کے طور پر آپ ریس میں کھڑے ہیں. لیکن آپ آس پاس دوسرے کھلاڑیوں سے ریس کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کریں کے میں نے صرف منزل ٹارگٹ تک پہنچنا ہے. مجھے کسی پوزیشن کی خواہش ہی نہیں تو آپ کا دماغ دوسروں کے ساتھ آگے پیچھے کا حساب چھوڑ کر منزل پر فوکس کر لے گا.

    زندگی چلنے اور چلتے جانے کا نام ہے. دوڑ پھر بھی آپ رہے ہوں گے لیکن آس پاس کون آگے کون پیچھے کا حساب نہیں رہے گا. آپ پھر منزل ہی نہیں اس سفر سے بھی لطف لیں گے. زندگی اس سفر کا نام ہے موت جس کی منزل ہے. اس دنیا کی منزلیں تو اس سفر میں پھیلے بہت سے چیک پوائنٹس ہیں جن سے ہو کر آپ نے گزرنا ہے.

    اصل جیت وہی ہوتی ہے جو ہم خود سے جیت جائیں.

  • اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اللہ مسبب الاسباب ہے!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    یہ تقریباً سولہ سال پہلے کا واقعہ ہے جب زرعی یونیورسٹی میں بی ایس سی میں پڑھتا تھا۔ مہینے میں ایک بار فیصل آباد سےاپنے گاؤں فتح پور لیہ جانا ہوتا تھا۔فیصل آباد سے فتح پور تب ایک ہی اے سی ٹائم جاتا تھا خواجہ ٹریولز سے ڈیڑھ بجے۔ اگر کبھی یہ مس ہو جاتا تھا تو بہت خوار ہو کر جانا پڑتا تھا۔ تب عید کا یا محرم کا موقع تھا۔ ایسے مواقع پر ہوسٹلز بند ہو جاتے تھے اس لیے لازمی جانا ہوتا تھا سب کو۔

    میں نے فون پر ہی سیٹ بک کروا لی تھی۔ کلاس لے کر آیا تو جلدی جلدی کھانا کھایا اور بیگ اٹھا کر زیرو پوائنٹ تک پہنچتے پہنچتے ایک بج چکا تھا۔ عام طور پر زیرو پوائنٹ سے یا تو رکشہ مل جاتا تھا یا پھر موٹرسائیکل پر مین گیٹ یا جی پی گیٹ تک لفٹ مل جاتی تھی اور وہاں سے رکشہ لے لیتے تھے۔ لیکن اس دن نہ کوئی رکشہ خالی ملا نہ ہی کوئی لفٹ۔ سوا ایک ہوا تو اب مجھے پریشانی ہونے لگی۔ مزید ایک دو منٹ گزرے تو اب مجھے لگا کہ اگر فوراً سے رکشہ نہ ملا تو نہیں پہنچ پاؤں گا۔

    یہ گاڑی مس ہو جاتی تو پھر کوئی اور نان اے سی بھی نہیں ملنی تھی کیوں کہ سب فل ہو نی تھیں۔ اس لیے صدقِ دل سے دعا کی کہ یا اللہ کوئی سبب بنا دے اور مجھے گاڑی تک پہنچا دے۔ اس قدر خشوع وخضوع سے شاید ہی میں نے کبھی دعا کی ہو۔ ابھی دعا کی ہی تھی کہ ایک گاڑی آئی ، میں نے لفٹ مانگی۔ وہ رک گئی۔میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں دو لوگ سوار تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ مجھ سے انھوں نے کچھ نہیں پوچھا کہ کہاں تک جانا۔ میں نے یہی سوچا کہ اگر تو نڑوالا روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا، اگر کسی اور طرف مڑے تو اتر جاؤں گا۔ مین گیٹ سے وہ نڑوالا کی طرف ہی مڑ گئے۔ آگے میں نے یہی سوچا کہ کوتوالی روڈ کی طرف مڑے تو بیٹھا رہوں گا ورنہ کہوں گا کہ اتار دیں۔ وہ عید گاہ روڈ سے ہوتے ہوئے کوتوالی روڈ پر آئے۔ اب مجھے یہی تھا کہ چناب چوک کے پاس اتر جاؤں گا۔ چناب چوک سے پہلے ایک چھوٹا سا روڈ خواجہ ٹریولز کی طرف جاتا ہے وہاں سے تو مڑے اور خواجہ ٹریولز کے سامنے رکے۔

    میری گاڑی بس تیار کھڑی تھی۔ میں جلدی سے کار سے نکلا اور گاڑی کی طرف بھاگا۔ کنڈیکٹر مجھے دیکھتے ہی بولا کہ فلاں سیٹ آپ نے بک کروائی تھی، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے مجھے گاڑی میں چڑھنے کو کہا اور میرے بس میں داخل ہوتے ہی ڈرائیور نے بس چلا دی۔

    تب مجھے خیال آیا کہ یار کاروالوں کا تو شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ میں نے باہر دیکھا مگر وہ کار جا چکی تھی۔ بڑا افسوس ہوا کہ شکریہ ادا نہیں کر سکا۔مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ اس ساتھ والے کو اڈے پر چھوڑنے آئے تھے یا پھر کسی کو لینے آئے تھے۔ نہ انھوں نے مجھ سے کوئی بات کی نہ میں نے ان کی باتوں میں کوئی مداخلت کی۔ بس اللہ نے میری دعا کے نتیجے میں ایسا سبب بنایا کہ مجھے پورے وقت پر اڈے پر پہنچا دیا۔

    کیا آپ کےساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ صدقِ دل سے کوئی دعا مانگی ہو اور وہ یوں پوری ہوئی ہو۔ اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کیسے اس نے میری دعا قبول کی تھی۔

    اس وقت میری پریشانی وہی تھی، چھوٹی تھی یا بڑی مگر یوں اس کا سبب بنے گا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یقیناً اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اگر کوئی بھی پریشانی، دکھ ہے تو اللہ سے سچے دل سے مانگیں۔ وہ ایسے پوری کرے گا کہ جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا۔

  • رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    کوئی انسانی تعمیر پرفیکٹ نہیں ہوتی. خوابوں کا نیا گھر بھی جب آباد ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کچھ یہاں کچھ وہاں غلطی کمی بیشی رے گئی ہے. مکین بس عادی ہو جاتے ہیں. ہمارے ایک آفس میں ایک دروازہ کچھ نیچے تھا. اوپر بلڈنگ کا کراس بیم تھا. ہم آفس والے عادی تھے کہ یہاں سر جھکانا ہے. نئے آنے والے کو کوئی نہ کوئی آواز دے دیتا کہ سر بچا کر. پھر بھی کسی نہ کسی کا سر لگ ہی جاتا.

    مسئلہ یہ تھا کہ اس دروازے کیلئے اب ساری عمارت کا سٹرکچر بدلا نہیں جا سکتا تھا. آفس کا کام اچھا چل رہا تھا تو کسی نے اس انجینئرنگ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی. لیکن کچھ لوگ کام چھوڑ کر مستری بن جاتے ہیں. ہمیں بھی کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا ہوتا جیسے کچھ بیم تراش لو یا فرش چند انچ نیچے کردو اور ہم سمجھاتے اس سے چھت کمزور ہوگی یا سٹرکچر وغیرہ.

    شادی کا رشتہ بھی انسانی تعمیر ہے. یہ نیا خاندان ایک نیا گھر اور بہت سے نئے رشتوں کی بنیاد ہوتا ہے. یہ تعمیر بھی کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتی. ہر رشتے میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے. وقت کے ساتھ اس رشتے کی عادت ہو جاتی ہے اور گزارا چل رہا ہوتا ہے. لیکن اس رشتے میں کوئی ایک مستری بن جائے یا دوسروں کے مشوروں پر اپنے بسے بسائے گھر کا نقشہ اپنی خواہش و پسند پر کرنے لگے تو بنیادیں اور چھت ہلنا شروع ہو جاتی ہیں.

    رشتے عادت پر سمجھ آتے ہیں. اپنی یا دوسروں کی عادات پر ضرور کوشش کریں. عادت وقت کے ساتھ بنتی یا ختم ہوتی ہیں. البتہ اپنے رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں، چاہے وہ آپ کے نفس کا مستری ہو یا رشتہ دار دوست مہمان مستری ہوں. گھر آباد رہے گا.

  • پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    کیا آپ نے کبھی ایسے جانور دیکھے جنکی ٹانگوں کی بجائے پہیے لگے ہوں؟ غالباً نہیں اور شاید دیکھ بھی نہ پائیں کیونکہ ایسے جانور فطرت میں نہیں پائے جاتے۔ اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ سوچیں
    خیر!!

    لاکھوں برس سے زمین پر موجود انسان فطرت میں پہیہ نہ دیکھ کر اسے ایجاد نہ کر سکا۔ آج ہم جو کہتے کہ پیہہ انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے تو یہ اس لئے کہ انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول میں پیہہ نہ دیکھ کر اپنی تخیلاتی صلاحیتوں سے ایک مصنوعی شے بنائی جس نے انسانوں کی زندگی بدل دی۔

    پہیہ آج سے تقریبا 4 سے 5 ہزار سال پہلے ایجاد ہوا۔جس سے آمد و رفت میں بہتری آئی۔ تہذیبوں میں روابط بڑھے۔ فاصلے کم ہوئے۔ خیالات کا تبادلہ بہتر ہوا اور اس تبادلے سے علم بڑھا۔ انسان نے ترقی کی۔

    آج ہم اکسیویں صدی میں موجود ہیں۔ پیہے
    سے ہم نے زمین پر فاصلے کم کیے اور اب راکٹ سے خلاؤں میں فاصلے کم کر رہے ہیں۔خلاؤں میں جدید دوربینوں کے ذریعے تسخیر کائنات میں مصروف ہیں۔اسی تسسل میں پچھلے سال تاریخ ِ انساں کی جدید ترین ٹیلسکوپ جیمز ویب بھیجی گئی۔اور آج یہ ہمیں کائنات کے ایسے ایسے کونے دکھا رہی ہے جو پہلے ہم کبھی نہ دیکھ پائے۔

    اسی ماہ کے اوائل میں جیمز ویب نے ہمیں ایک تصویر بھیجی۔پہیہ نما کہکشاں کی۔ جسے کارٹ ویل گیلکسی کا نام دیا جاتا ہے۔اب ایسا نہیں کہ ہمیں اس کہکشاں کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔
    یہ کام جیمز ویب کی سوکن ہبل پہلے کر چکی تھی اور اس سے پہلے ماہرین فلکیات کے ہر دل عزیز جناب Fritz Zwicky اسے 1941 میں دریافت کر چکے تھے ۔ مگر اس تفصیل اور صفائی سے ہم نے اس کہکشاں کو پہلی بار جیمز ویب دوربین سے ہی دیکھا۔

    کہکشاں کیا تھی؟
    کائنات کے کھیل کا ایک مظہر۔۔
    غالب کا ایک شعر تھا:
    بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا یے شب و روز تماشہ میرے آگے

    تو یہ کہکشاں بھی ہزار ہا سالوں سے کائنات میں میلہ لگائے بیٹھی تھی۔
    دراصل یہ پہیے کی شکل کی کہکشاں ہم سے 50 لاکھ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
    اسکی شکل ایسی کیوں یے؟ اس بارے میں مانا جاتا ہے کہ ماضی میں دراصل ایک سپائرل کہکشاں جیسے کہ ہماری ملکی وے جیسی تھی مگر پھر اس سے ایک چھوٹی کہکشاں ٹکرائی اور یوں کائنات کے اس کونے میں پیہہ نما کہشاں تشکیل پائی۔

    اس کہکشاں کا ایک روشن مرکزہ ہےاور اسکے گرد دو ہالے ہیں۔ کہکشاں کے روشن مرکزے میں بہت بڑا بلیک ہول ہے جسکے گِرد گرم خلائی گرد ہے۔

    مرکزی روشن ہالے میں پرانےاور نئے ستارے موجود ہیں جبکہ باہر کا رنگین ہالہ جو لاکھوں نوری سالوں پر محیط ہے، میں کئی ستارے ختم ہو کر سپرنووا بن رہے ہیں اور کئی نئے ستارے پرانے ستاروں کی گرد اور گیس سے پھر سے بن رہے ہیں۔

    دراصل جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ دو کہکشاؤں کا ٹکراؤ کے بعد کا منظر ہے جو ماضی میں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور اب ایک بنتی جا رہی ہیں۔

    بالکل ایسے ہی آج سے 4 ارب سال بعد ہماری ملکی وے اور ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومڈا بھی ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
    نئے ستارے، نئے سورج جنم لیں گے اور ممکن ہے ان نئے سورجوں کے گرد زمین جیسی دنیائیں بنیں جن پر ہم جیسی کوئی مخلوق وجود میں آئے۔

    اور شاید وہ یہ کبھی نہ جان سکیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی تھا جو پیہے کی ایجاد سے پیہہ نما کہکشاں کی حقیقت تک پہنچا۔

    کائنات میں ہماری حقیقت بس اتنی ہے!!

  • راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    استعفوں سے متعلق آئین ۔ قانون کے دائرے میں رہ کر جو گفتگو آج راجہ پرویزاشرف اسپیکر قومی اسمبلی نے کی وہ ثابت کرتی ہے کہ استعفوں کو لے کر وہ کوئی غیر آئینی غیر قانونی اقدام کرنے کو ہرگز تیار نہیں آئین اور قانون میں جو لکھا ہے اُس پر من وعن عمل ہو گا۔ آئین اور ضابطوں کے حوالے سے جمہوریت کے پاسبان کے طور پر راجہ پرویز اشرف کا موقف ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔

    آئین اور قانون کی بات کرکے انہوں نے جعل سازی اور دوغلے پن کوجہاں بے نقاب کیا ہے وہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پی ڈیم ایم کے سپیکر نہیں وہ پارلیمنٹ ہائوس کے اسپیکر ہیں یا وہ جیالے نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے آپ کو آئین کے تابع رکھ کر جو گفتگو کی کاش سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی آئین کے مطابق گفتگو کرتے ۔ یوں تو پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر گئے لیکن بہت عرصے بعد وطن عزیز میں اور سیاسی گلیاروں میں آئین ۔ قانون ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے والے راجہ پرویز اشرف کی ایک عمدہ سیاسی گفتگو جو آئین اور ضابطوں کے حوالے سے انہوں نے کی لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    راجہ پرویز اشرف کی سیاسی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کی ثابت ہوا انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا ثبوت انہوں نے استعفوں سے متعلق گفتگوکرکے دیا ۔ ان کا یہ طرزعمل جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے آئین اور ضابطوں کی بات کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے تربیت یافتہ کارکن اوراپنے قائدین کے فلسفے کو جلا بخشی۔بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی قوم کو اُمید دلائی کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے اورجمہوریت سے ہی ملک کا وقارجمہوری دنیا میں ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں چند نام نہاد راہنمائوں کو اپنی اپنی سیاسی تربیت اور جمہوری روایات سے آشنائی اور آگاہی حاصل پر توجہ دینی چاہیئے اور جمہوری رویوں اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیئے ۔ میرا استعفی ۔ میرے بندوں کا استعفیٰ،میں نہ مانوں ۔ میں نہیں تو کون والے رویے اور دھمکیاں کسی بھی سیاسی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔ اس سے جمہوریت اور ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔

  •  ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

     ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں
    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں. ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے.

    یہ سب جانتے ہوئے بھی ہر دوسرا بندہ تمباکو کا استعمال کر رہا ہے ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے حتیٰ کہ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسزمیں اضافہ جبکہ تمباکو نوشی پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے
    پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ تمباکو پر ٹیکس میں کم از کم 30 فیصد تک اضافہ کرے، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کیلئے آسان ہدف ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سالانہ تقریبا 166،000 افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جو روزانہ چار سو اسی افراد بنتے ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے تمباکو انڈسٹری نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہے۔ پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ آئندہ مالی سال میں تمباکو پر ٹیکس کم از کم 30 فیصد اضافہ کرے۔ ٹیکسز میں اضافے سے حکومت کو اضافی ریونیو حاصل ہو گا جو صحت کے بجٹ کو بڑھانے کے کام آ سکتا ہے۔

    حکومت اشیائے ضروریہ پر ٹیکسز میں بے تحاشا اضافہ کرتی ہے تاہم تمباکو جیسی غیر ضروری چیزوں پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے، پاکستان میں سالانہ تین ارب روپے سگریٹ کے دھویں میں اڑا دیئے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کیلئے ٦٦۵ ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تاہم دیرپا فوائد کو حاصل کرنے لیے زائدہ متاثر گروپوں جیسا کہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد پر ٹیکسوں کے بڑھے ہوئے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو پاکستان کی 64٪ آبادی پر مشتمل ہے اور کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کے لئے آسان ہدف ہے۔

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

  • ہیلتھ لیوی، تحریر، ارم شہزادی

    "ہیلتھ لیوی”
    بچے ہمارا مستقبل ہوتے ہیں۔ سادہ دور میں بچوں کی تربیت والدین مل کر کیا کرتے تھے، ماں کی گود پہلی درسگاہ تھی،
    ماں کی زمہ داری اولاد کو اچھے برے کی تمیز سکھانا بینادی اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا تھا، بیٹوں کو باپ مساجد میں لے جاتے پانچ وقت کا نمازی بناتے قران پاک کی تعلیم دیتے تھے، سیکھے علوم کو اپنی زندگی میں شامل کرتے اور زندگی اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے جس میں کافی حد تک کامیاب رہتے۔ پھر وقت بدلا ضروریات بدلیں اور اور باپ کو کمانے کے لیے شہر سے دوردرزا کما کر لانا پڑتا جسکی وجہ سے وہ اتنا وقت نہیں دے پاتا بچوں کو، اور یوں ساری زمہ داری ماں پر آگئی، گوکہ ماں نے بھرپور توجہ دی لیکن وہ باپ کی زمہ داری اس لحاظ سے پوری نا کرپائی کہ بچے گھر سے باہر کس طرح کی صحبت اختیار کرتے ہیں یا صحبت میں رہتے ہیں۔ یوں کچھ بچے تو احساس زمہ داری کے ساتھ رہے لیکن کچھ بچوں کے رویوں میں تبدیلی آئی اور وہ گھر کے ماحول کو گھٹن زدہ سمجھنے لگ گئے کچھ باغی ہوئے تو کچھ بری صحبت میں پڑ گئے پھر دنیوی تعلیم کی جدت نے بجائے انکے رویوں کو نرم کرنے کے بلکہ سخت کردیے

    آزادی ملی گھر سے باہر دور نکلنے کی اور "آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل” والی بات ہوگئی لیکن معاملات پھر بھی کسی حد تک قابو میں رہے، معاشرے کے بدلتی روایات اور تغیر نے انسانوں کو ایک مشین کی مانند بنا دیا، وہ انسان جو انسانیت کے جذبے سے بھرپور تھا اس میں تلخی مادیت اور دنیا پرستی آگئی، وقت کچھ اور بدلا تو باپ کے ساتھ ماں بھی گھر سے باہر کام کرنے لگی اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے عورت پر پابندیاں تھیں یا باہر نکلتی نہیں تھی بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تعلیم کے نام پر فیشن کے نام پر آزادی کے نام پر سٹیٹس اپگریڈ رکھنے کے نام پر جب کمانے نکلی تو بچے اس دور میں نا ماں کی ترجیحات میں شامل رہے اور نا باپ کی ترجیحات میں۔ باپ پیسے کمانے کے چکر میں یوں پڑا کہ بھول ہی گیا بچے کو پیسے کے علاوہ توجہ محبت اور ساتھ چاہیئے وقت چاہیئے جبکہ ماں بھی کچھ ایسا ہی مصروف ہوئی اور بچے متاثر ہونے لگے۔ بچے ملازمین کے ہاتھوں پلنے لگے، جو اچھی بری باتوں کو والدین نے بتانا تھا وہ معاشرے سے پتہ لگنے لگیں، اور جب تربیت کی زمہ داری والدین چھوڑ دیں معاشرہ لے لے تو بچے ہر اس بری عادت میں بھی پڑنا شروع کردیتے ہیں جہاں والدین نہیں چاہتے ہرگز نہیں چاہتے۔ترقی کے نام پر جس طرح معاشرے میں نئی نئی دریافتوں نے در کھولے وہیں انسان زہنی طور پر پرسکون نا رہا اور اس سکون کو تلاش کرنے کے لیے وہ در، بدر پھرا اور کچھ ایسی عادات میں پڑ گیا جس سے حال اور مستقبل دونوں تباہ ہوئے، ایک وقت تھا جب زہنی سکون کے لیےلوگ نماز پڑھتے تھے اور اب ادویات کھاتے ہیں سگرہٹ پیتے ہیں نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جس سے صحت تباہ ہوتی ہے معاشرے میں ناانصافی پھیلتی ہیں ان اعادات کی وجہ سے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر جہاں لاکھوں خرچ ہوتے ہیں وہیں معاشرے میں عزت بھی جاتی رہتی ہے۔۔ ان اشیاء میں سگریٹ، پان، چرس، آئس، اور کچھ میٹھے مشروبات ہیں،ان چیزوں کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ یہ تیرہ چودہ سال کے بچوں کی بھی پہنچ میں ہیں یہ چیزیں سکول، کالجز میں عام مل رہی ہیں پھر فیشن کے نام پر لڑکے تو ایک طرف لڑکیاں بھی اس، میں عادی ہوگئیں، ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کیے جائیں گے تب تک نا صرف ان سے چھٹکارہ مشکل ہے بلکہ مستقبل میں یہ زیادہ گھمبیر صورتحال اختیار کرجائیں گے۔ان چیزوں مکمل طور پر اگر بین نہیں بھی کیا جاسکتا تو کم از، ان پر ٹیکس اتنا ضرور ہو کہ یہ بچوں کی پہنچ سے دور رہیں۔ اس ضمن میں 2021 مئی میں ایک سمری وزارت خزانہ کو بھیجی گئی جس میں سگریٹ، اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نام سے ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی کیونکہ ہیلتھ لیوی سے دو فائدے ہونگے ایک تو یہ بچوں کی پہنچ سے دور ہونگے دوسرا یہ ریونیو اربوں میں دے سکتی ہے جو کہ یقیناً فائدہ مند ہوگا۔ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے کابینہ سے اور وزارت خزانہ نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا کسی قسم کا۔ لیکن نفاز تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ یہاں بھی ایک مافیا بیٹھا ہے جسے بچوں اور انکے مستقبل سے زیادہ اپنا پیسہ اور کاروبار سے مطلب ہے۔ ہیلتھ لیوی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے سالانہ تقریبا 38ارب کا نقصان ہورہا ہے۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود تقریباً دو سال سے تاخیر ہورہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سیگریٹ کی فروخت کا شئر 90فیصد ہے، جس کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کے لیے کابینہ سے بل منظور کروایا گیا لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ایف بی ار نے اربوں روپے کے اس ریونیو کے بارے میں کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد چونکہ صحت صوبائی معاملہ ہے اس لیے وفاقی کابینہ کا منظور شدہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ وزارت صحت یہ کہتی ہے کہ ہیلتھ لیوی ایک جنرل ٹیکس ہے اسکا صوبائی محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلے اسکا نام بھی کافی سخت یعنی "گناہ ٹیکس” تھا لیکن بعد میں بحث ومباحثہ کے بعد اسکا نام بدل کر ہیلتھ لیوی رکھ دیا۔ہیلتھ لیوی کے نفاز میں تمباکو، صنعت اور سیگریٹ تیار کرنیوالی کمپنیوں کی جانب سے دباؤ اور اثر رسوخ کی وجہ سے ہیلتھ لیوی بل پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو رہی ہے اور وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔ وزارت صحت کی تجویز کے مطابق ہیلتھ لیوی بل میں سیگریٹ کی 20سٹک کے حامل فی پیکٹ پر دس روپے اور میٹھے مشروبات کی 250ملی لیٹر بوتل پر ایک روپے ہیلتھ لیوی ہونا چاہیئے۔ اس سے سالانہ تقریباً 38ارب روپے سے زیادہ ریونیو حاصل ہوگاجسے دوسرے صحت کے معاملات پر خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ دوسال کے التواء سے تقریباً اربوں کا نقصان ہوچکا ہے۔ پاکستان میں صحت پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً 600ارب روپے سے زائد ہےہیلتھ لیوی کے نفاز سے صحت کے شعبے کو سہولیات فراہم کرن کتنا آسان ہوجائے گا۔صرف پاکستان میں یہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ کئی اور ممالک میں ہیلتھ لیوی کے طرز کے ٹیکسز عائد ہیں۔ جن ممالک میں ہیں یہ ٹیکس ان میں تھائی لینڈ، برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای، میکسیکو، فرانس، فلپائن شامل ہیں۔ ان ممالک میں ان ٹیکسز یا لیوی کے وجہ سیگریٹ نوشی میں کمی ہوئی ہے، ماہرین صحت اور عام عوام کا بھی یہی خیال ور مطالبہ ہے کہ اس تاخءر کا نوٹس لیا جائے اور اور نفاذ کی راہ ہموار کی جائے تاکہ یہ ناسور ہمارے بچوں سے دور رہے۔
    تحریر و تحقیق
    ارم شہزادی
    @irumrae

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

  • اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول
    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا) لاہور میں نہایت کامیاب اور عظیم الشان ادبی تقریبات اور ورکشاپس منعقد کرواتی رہی ہے سال 2022کی آخری تقریب کے لیے اپووا نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کا انتخاب کیا ،سرگودھا ادب کا گہوارہ ہے اور ادب کے بہت سے درخشندہ ستارے اپووا کو وہاں لے جانے کا سبب بنے ۔بہت سے قدآور علمی ادبی اور خوبصورت شخصیات اور چمکتے ناموںکو ایک چھت تلے اکٹھا کرنے کا بیڑہ اپووا نے اٹھایا اور بلاشبہ اسے پار بھی لگایا۔تقریب کے انتظامات کو مکمل کرنے کے لیے راقم اور تنظیم کے بانی و صدر ایم ایم علی ایک دن پہلے سرگودھا پہنچے ۔ چونکہ یہ تقریب سول ڈیفنس ہال میں ہونا تھی اس لئے سرگودھا پہنچتے ہی پہلی میٹنگ چیف وارڈن سول ڈیفنس محترمہ سائرہ خان سے ہوئی ۔ انہوں نے انتظامی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروای ۔ اور اپنےعملے کو طلب کرکے ہمارے ساتھ مل کرانتظامات مکمل کروانے کی ہدائت کی ۔کالمنگار اور سماجی کارکن طیب نوید نے بھی ہمیں جوائن کیا اورانتظامات کوحتمی شکل دینے میں ہماری مدد کی ۔ہال میں انتظامات سےفارغ ہو کر طیب نوید نے ہمارے اعزاز میں ڈنرکا اہتمام کیا۔ایڈوکیٹ سعدیہ ہما شیخ جو کہ تنظیم کی لیگل ایڈوائزر بھی ہیں اور اس تقریب کی میزبان بھی تھیں سعدیہ آپی نے میزبانی نبھای اور خوب نبھائی۔ ہمیں بہت اپنائیت کا احساس دلایا،ہمارے لیے سرگودھا میں قیام وطعام کی تمام ذمہ داری بہت اچھے طریقے سے نبھائی۔24دسمبر کی صبح 9بجے سول ڈیفنس ہال میں ادبی کانفرنس کی تمام تیاریاں مکمل تھیں ۔معزز مہمانوں کی آمد شروع ہوچکا تھا ۔لاہور سے اپووا کے دو کارواں بھی پہنچ چکے تھے ۔ ایک کارواں کی قیادت تنظیم کے سنئیر نائب صدر حافظ محمد زاہد کر رہے تھے ان کے ساتھ لیجنڈ اداکار راشد محمود ، معروف ڈرامہ نگار شگفتہ بھٹی ،ینگ ڈرامہ نگار زید بلوچ،نائب صدر اسلم سیال سیکرٹری انفارمیشن سفیان فاروقی،ہارر رائٹر فلک زاہد،ڈبیٹر حفصہ خالد شامل تھیں ۔جبکہ دوسرے کارواں کی قیادت خواتین ونگ کی نائب صدر ریحانہ عثمانی کررہیں تھیں ،ان کے ساتھ ہر دلعزیز شاہین اشرف آپا،دلشاد نسیم ،ثمینہ سید،علیمہ جبیں،نرگس نوراور مریم راشد شامل تھیں۔نمرہ ملک خصوصی طور پر تلہ گنگ سے جبکہ شانیہ چوہدری سیالکوٹ سے تشریف لائیں۔ اس بار سحرش خان ،ثمینہ طاہر بٹ زرش بٹ اور عبداللہ لیاقت کی کمی شدت سے محسوس ہوئی اپووا کے یہ متحرک ممبران اپنی اپنی مصروفیات کی وجہ سے ادبی کانفرنس میں شرکت نہ کر سکے۔

    ہال کے اندر تمام تر چیزوں کو مینج کرنے کی ذمہ داری انچارج سوشل میڈیا ساجدہ چوہدری کے ذمہ تھی۔ جبکہ تقریب کی نقابت کی ذمہ داری راقم نے نبھائی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری عمر دراز خان کی دلسوز تلاوت سے ہوا ۔ جبکہ نعت رسول مقبول اقراء افضل پیش کی ۔ دیگر مہمان گرامی میں ، وفاقی وزیر مملکت تسنیم قریشی ،لیجنڈ اداکار راشد محمود،معروف بزنس مین اور مصنف زبیر انصاری ،اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی،معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ، چیف وارڈن (اسلام آباد) مہر شاہد اقبال، چیف وارڈن (سرگودھا) سائرہ خان، معروف دانشور ہارون رشید،معروف شاعر حیات بھٹی،لیکچرار و شاعرمرتضی حسن شیرازی،پرنسپل لاکالج ظفر اقبال،شاعر ممتاز عارف، معروف ڈرمہ نگار جہانزیب قمر اور شگفتہ بھٹی، ثمینہ گل،منزہ گوئیندی،منزہ احتشام ،نجمہ منصور،جاوید آغا،معروف ڈائجسٹ رائٹر اور مصنفہ نایاب جیلانی اور لیکچرار وشاعرہ ثمینہ سید تھے ۔علمی وادبی شخصیات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ادب کو زندہ رکھنے کی یہ کاوش موجودہ حالات میں بہت اہمیت کی حامل ہے ۔لکھاری کو چاہیے کہ وہ حق اور سچ لکھے۔ ایک لکھاری ہی کسی بھی معاشرے کی اچھائی اور برائی دونوں موضوعات پر روشنی ڈال سکتا ہے ۔اور معاشرے کی مثبت تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں اس نوعیت کی یہ پہلی ادبی کانفرنس ہے۔مقررین کی طرف سے اپووا کے سرپرست اعلی اور بانی و صدر کی فروغِ ادب کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا گیا ۔ دوران تقریب مہمانوں میں ،ایوارڈز،میڈل اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر معروف پنجابی شاعر حیات بھٹی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے آخر میں اپووا کے سنئیرنائب صدر حافظ محمد زاہد نے تقریب میںتشریف لانے پر معزز مہمانوں کاشکریہ ادا کیا ۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیئے کھانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔یوں اپووا ادبی کانفرنس بہت ساری خوبصورت یادوں کے ساتھ ہمارے دلوں میں انمٹ نقوش چھوڑ کر اختتام پذیر ہوگئی ۔

  • جانوروں میں نمک کا استعمال اور محکمہ لائیو سٹاک کا کردار

    جانوروں میں نمک کا استعمال اور محکمہ لائیو سٹاک کا کردار

    جانوروں میں نمک کا استعمال اور محکمہ لائیو سٹاک کا کردار

    تحریر:ملک ظفراقبال اوکاڑہ
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کا شعبہ ہو یا لائیو سٹاک پاکستان اس شعبہ میں نمایاں کردار ادا نہیں کر سکا ۔
    چینی گندم کھاد سویا بین اور دوسری اہم فصلیں ہمیشہ سے سیاستدانوں کی پارلیمنٹ میں تقریروں کا موضوع سخن رہا ہے مگر لاحاصل ۔
    اج ہم جانوروں کے حوالہ سے نمک کی اہمیت پر بات کریں گے اور آپ کو اس کی افادیت کے بارے میں آگاہ کریں گے۔
    ہماری ہاں کسانوں کی اکثریت غریب اور کم وسائل کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے اور ہر حکومت کسانوں کو خوش کرنے کے لیے بلندو بالا نعروں اور اشتہارات کا سہارا لیکر خوش کرتے رہیں ہیں مگر چھوٹا کسان آج بھی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے میں ناکام ہے۔
    اسی طرح لائیو سٹاک کا شعبہ اور اس کی بنیادی معلومات ان کسانوں تک نہیں پہنچ پاتی اور کسان اس شعبہ میں میں زیادہ خرچ کر کے کم فائدے حاصل کر رہے ہیں وجہ بنیادی معلومات کی فراہمی کا ان تک نہ پہنچا ہے۔
    آئیں آج جانوروں کے لیے نمک کی اہمیت کی بارے میں آگاہ حاصل کرتے ہیں
    جانوروں کیلیے نمک کی اہمیت
    نمک انسانوں، پودوں اور جانوروں کی صحت کیلیے خوراک کا ایک لازمی جز ہے۔ نمک سوڈیم اور کلورائیڈ سے بھرپور ایک ایسا ٹانک ہے جس میں جانوروں کیلیے بہت زیادہ فائدے موجود ہیں۔ اس کے ساتھ جانور کی صحت کیلیے کچھ اور لازمی منرلز جیسے کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس،سیلینیم،آئرن اور زنک کی بھی نمک میں موجودگی اسکی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔دودھ دینے والے جانوروں کو روزانہ دودھ بنانے کیلیے نمک کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ دودھ میں موجود سوڈیم اور کلورائیڈ جانور کے جسم میں دودھ بنانے کے عمل کے دوران نمک کی ضرورت کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ دینے والے جانوروں اور کٹڑوں بچھڑوں میں نمک سے حاصل ہونے والی کیلشیم کی ایک خاص اہمیت ہے جو کہ مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کی بہتر نشونما کیلیے انتہائی ضروری ہونے کے علاوہ ہارٹ بیٹ کو نارمل رکھنے، خون کو جمنے سے بچانے، مسلز کی حرکت اور جانور کے اعصابی اور دماغی نظام کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔مگر ہمارا کسان ان کو سمجھنے سے اس لیے قاصر ہیں کہ ان تک معلومات صرف کاغذی حد تک اپنے افسروں کو خوش کرنے کے لیے دی جاتی ہی جبکہ حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ سوڈیم جانور کے وجود کی تیزابیت یا اساسیت کو کنٹرول کرتا ہے اور کلورائیڈ نظام انہظام کو کنٹرول کرنے کے ساتھ خون میں موجود تیزابیت کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے۔
    نمک کی کمی کے نقصانات کیا ہیں ؟
    بظاہر عام اور سستی سی لگنے والی اس نعمت کو اگر اہمیت نہ دی جائے اور جانور کی خوراک کا لازمی حصہ نہ بنایا جائے تو اس سے بہت سے نقصانات اور مسائل جنم لیتے ہیں۔
    1۔ دودھ کی پیداور میں نمایاں کمی۔
    2۔ بھوک کا کم ہوجانا۔
    3۔ وزن کا نہ بڑھنا۔
    4۔ کیلشیم کی کمی کی وجہ سے مِلک فیور کا خطرہ پیدا ہونا۔
    5۔ چھوٹے کٹڑوں اور بچھڑوں کا ہڈیوں کی کمزوری کی وجہ سے نشونما نہ پانا اور پولیو کا شکار ہوجانا۔
    6۔ نمک کی کمی، جسم میں شدید پانی کی کمی کا بھی باعث بن جاتی ہے جس وجہ سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
    7۔ جانور کاغیر ضروری چیزوں جیسے مٹی، کپڑوں رسی وغیرہ کا کھا کر کمزور ہوجانا۔ اس کے علاوہ بار بار پشاب کرنا بھی نمک کی کمی کی ایک نشانی ہے۔
    8۔ جانور کا اپنا پیشاب پینا بھی جانور میں نمک کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
    9۔ بعض اوقات جانور فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو جاتا ہے جسکی وجہ جسم میں میگنیشیم کی کمی کا ہونا ہے نمک کی موجودگی اس مسئلے کی روک تھام اور بچائو میں اہمیت کی حامل ہے۔
    نمک کے فوائد کیا کیا ہیں؟
    1۔ دودھ کی پیداور میں قابل قدر اضافہ۔
    2۔ اپھارے سے محفوظ رہنا۔
    3۔ جانور کے کھروں اور سینگوں کا مظبوط ہونا۔
    4۔ جانور کی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونا۔
    5۔ جانور کا مناسب وقت پر ہیٹ میں آنا جس سے جانور میں وقت پر بچہ جننے کی صلاحیت کا پیدا ہونا۔
    6۔ خوراک کا اچھی طرح ہضم ہو کر جسم کا حصہ بننا۔ وغیرہ
    پاکستان کے ہر علاقے سے ملنے والے نمک کے پتھر کی، ہر وقت کھرلی یا جانوروں کے سامنے موجودگی نہ صرف کسانوں کو بہت ساری پریشانیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ مویشی پال بھائیوں کو دوائیوں اور علاج پر اٹھنے والے اخراجات سے بھی بچا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بغیر کسی اضافی اخراجات کے دودھ میں قابل قدر اضافہ، آمدن میں اضافے کا بھی سبب بن سکتا۔
    زرعی پیداوار اور لائیو سٹاک پر اگر توجہ نہ دی گئی تو کسانوں کا مستقبل خطرے سے دوچار رہے گا اور زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم چینی اور اجناس دوسرے ملکوں سے مہنگے داموں منگوا کر ہم یہ ثابت کررہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک نہیں

  • ہیلتھ لیوی ،پاکستانی معیشت کیلئے ضروری، تحریر ؟ اکمل خان قادری

    ہیلتھ لیوی ،پاکستانی معیشت کیلئے ضروری، تحریر ؟ اکمل خان قادری

    تحریر ؟ اکمل خان قادری

    پاکستان میں تقریباً 12سو بچے روزانہ سموکنگ لعنت میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ اسی کی وجہ سے ہر سال 1لاکھ66 ہزارلوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بات پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو نے کہی ہے۔مگر افسوس کہ ان کی روک تھام کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں جس سے صورتحال سنگین سے سنگین تر ہو رہی ہے ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں سموکرز کی کل تعداد 31 میلن تک پہنچ چکی ہے جو خطرے کی بڑی علامت ہے۔ اور اس میں مزید بڑھنے کے امکانات اس لیے موجود ہیں کہ حکومت کا دھیان ہی نہیں جاتا اس طرف۔
    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے نہ صرف صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ پاکستان کی اقتصاد کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے تمباکو سے متعلقہ بیماریوں پر تقریباً615ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں جو پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کے 1.6کے برابر کا حصہ ہے جبکہ تمباکو صنعت سے اس کی صرف اور صرف 20فیصد ریونیو آ رہی ہے جو کل 1ارب اور 23کروڑ روپے بنتے ہیں باقی اس کا 80 فیصد جو 4 ارب اور 92 کروڑ روپے بنتے ہیں قومی خزانہ پر بوجھ ہے جس سے اقتصادی اور مالی اشاریوں میں منفی اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔سپارک کے ہیڈ ملک عمران نے کہا ہے کہ پاکستان تمباکو مصنوعات کی وجہ سے مالی خسارہ کا شکا ر ہو رہا ہے اس خسارے کی تلافی کرنے کے لیے انڈسٹری کو پابند کیا جائے تاکہ مالی اور اقتصادی مشکل حالات سے دوچار نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ تمباکو سے پیداہونے والی بیمایوں پر سالانہ تقریباً615 بلین روپے خرچ ہو رہے ہیں جو ایک خطیر رقم ہے اس لیے تمباکو پیداوار پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے جو اغراض و مقاصد پورا اورحاصل کیاجاسکے۔

    2019میں وفاقی کابینہ نے تمباکوکے مصنوعات پر ٹیکس لاگو کرنے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ تمباکو کے استعمال میں کمی لائی جاسکے جس سے سالانہ 60ارب ریونیو لائی جا سکتی تھی مگر بد قسمتی سے مافیا نے حکومت پر دباو ڈال کر وہ بل پارلیمنٹ سے پاس نہیں ہونے دیا۔جن کی وجہ سے اقتصادی اور حفظان صحت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو کا پرائمری ہدف کم امدنی والے لوگ اور بچے ہیں کیونکہ اس میں دو باتیں ہیں ایک تو یہ بہت سستا ملتا ہے اور دوسری بات یہ کہ بہت اسانی سے ملتا ہے یعنی ہر کسی کی پہنچ میں ہے اور یہی خطرناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے تناسب سے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ یہ دونوں مسئلے حل ہو جائے بچوں اور کم امدنی والے لوگوں کی پہنچ سے دور کرنا یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے وہ بل پاس کرے جو تاحال پینڈ نگ پڑا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تمباکو صنعت پر بھی کڑی نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قوانین پر من و عن سے عمل در امد ہو۔

    کرومیٹک کے چیف ایگزیکٹیو افیسر شارق محمود نے کہا ہے کہ تمباکو پر دنیا میں سب سے کم ٹیکس پاکستان میں لاگو ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کرے تاکہ پبلک ہیلتھ سروسز کے لیے زیا دہ سے زیادہ ریونیو جمع کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق ہیلتھ لیوی لاگو کرنے سے نہ صرف پاکستان کی اقتصادکو بہتر بنایاجا سکتا ہے بلکہ اس کے زریعے بچوں کی بنیادی حقوق کی حفاظت بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ Vulnerable بچے ہیں۔ بچوں کو اس لعنت سے نکالنے اور پاک کرنے کا یہی واحد راستہ ہے کہ پینڈ نگ بل پاس کیا جائے اور تمباکو صنعت پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لاگو کیاجائے۔

    سپارک کے ممبر بورڈ اف ڈائریکٹر خالد احمد نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 45 فیصد حصہ 18سال سے کم بچوں پر مشتمل ہے اور ان کی بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس کے علاوہ پاکستان نے مختلف بین الا اقوامی فورمز جیسے UNHCR،SDGsاور دیگر فورمز پر باقاعدہ معاہدے کیے ہیں کہ بچوں کی بنیادی حقوق کی حفاظت کر ینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو ایک Pandemicہے جس سے براہ راست بچوں کے بنیادی حقوق جیسے صحت، تعلیم، ترقی،زندگی، صاف جگوں تک رسائی اور سرسبز پبلک مقامات تک رسائی متاثر ہو تے ہیں۔اس کے علاوہ صحت کے عالمی ادارہ (WHO) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سگریٹ کی قیمتوں میں پر پیکٹ پر 30فیصد اضافہ کرے تاکہ ان کا استعمال کم کیاجاسکے کیونکہ سستا اور آسانی مل جانے کی وجہ سے روز بروز اس کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہاں ایک امر قابل زکر ہے کہ صحت کے عالمی ادارہ پاکستان کے عوام کو اس لعنت سے بچنے کے لیے اتنا سنجیدہ ہے مگر مجال ہے کہ پاکستان کی حکومت ٹس سے مس ہو جائے۔حکومت تمام اعدادو شماریات پر مبنی حقائق کو جان بوجھ کر نظر انداز کر کے اپنی نااہلی کا ثبوت دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی شہریوں کے ساتھ بڑی ناانصافی ہے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں حکومت اپنی استعداد کار دکھانے میں مکمل طورپر ناکا م ہو چکی ہے۔بات صرف اقتصادیات اور صحت کی نہیں ہے بلکہ صاف ستھرا ماحول بھی اس لعنت کی وجہ سے گندا ہو رہا ہے جس سے دوسرے وہ لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں جو تمباکو نوشی کے عادی نہیں ہیں۔ترقی کے پائیدار اہداف (SDGs)میں پاکستان اہم سگ نیٹری ہے جن کا مقصد انے والی نسل کو اس زمین کو صاف ستھرا ماحول کی صورت میں دینی ہے۔مالی طورپر بد حال اور بیمار معاشرہ ایک اسودہ حال اور صحت مند معاشرے کی داغ بیل نہیں ڈال سکتا۔

    اس لعنت کو کم کرنے اور باقی ماندہ بچوں اور لوگوں کو بچانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔حکومت کے تمام ادارے، ملک میں تمام سرگرم فلاحی اور سماجی تنظیمیں اور دیگر ارگنائزیشن متفقہ طورپر میدان میں نکلے یہ کسی ایک ادارے یا تنظیم کی ذمی داری نہیں بنتی کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور اج کے بچے ہمارے اس ملک کے کل کے معماران ہیں انہی معماران قوم کو تیار کرنے میں ہم سب کا اخلاقی،دینی سماجی اور آئینی فریضہ ہے کہ ان کو تیار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیاجائے بلکہ اس کا ر خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ڈاکٹر فرہاد نے بتایا کہ تمباکو کے استعمال سے مختلف امراض کی مختلف ریشو ہے جن میں پھیپھڑوں اور منہ کی کینسر کے ساتھ ساتھ دل کے امراض اور بلڈ پریشر بھی انہی کی مرہون منت لاحق ہو تی ہیں۔ حکومت پاکستان کودفاتروں میں اور سرکاری ملازمین پر سخت پابندی عائد کرنا چاہیے کیونکہ اگر ایک بچہ ایک ڈاکٹر،ایک استاد، یا ایک آفیسر کو دیکھے اور وہ سگرٹ نوشی کر رہے ہوتو ضرور بچے رنگ پکڑلیں گے۔کیونکہ اس سے انہیں ڈھٹائی ملتی ہے۔

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے