Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیاں:مقبول جہانگیرکی داستان حقیقت

    ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیاں:مقبول جہانگیرکی داستان حقیقت

    مقبول جہانگیر
    24 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان میں ڈائجسٹوں کے ابتدائی دور میں اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ کا نام خاصہ نمایاں رہا ۔ اس زمانے میں مقبول جہانگیر اپنی ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیوں کی وجہ سے قارئین کا ایک وسیع حلقے بنانے میں کامیاب رہے ۔ شکاریات اور مہم جوئی پر مبنی ان کی کہانیاں کافی مقبول رہیں ۔ مقبول جہانگیر 24 جنوری 1937 میں پیدا یوئے اور 24 اکتوبر 1985 میں ان کا انتقال ہوا معروف ادیبہ و شاعرہ امینہ عنبرین ان کی اہلیہ اور عافیہ جہانگیر ان کی بیٹی ہیں۔ مقبول جہانگیر ایک عرصہ تک سیارہ ڈائجسٹ کے مدیر بھی رہے۔ مقبول جہانگیر کا اصل نام مقبول الاہی ہے۔ ” موت کے خطوط” ہیبتناک افسانے ، خوفناک کہانیاں ، افریقہ کے جنگلوں میں ، فرار ہونے تک ، سمیت ان کی کئی یادگار کتابیں ہیں ۔

  • عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے

    غالب عرفان

    21؍جنوری 2021 یوم وفات

    نام #محمدغالبشریف اور تخلص #عرفانؔ تھا۔
    05؍مارچ 1938ء کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔تعلیم و تربیت صوبہ بہار کے شہر جمشیدپور میں ہوئی۔ وہیں سے بے اے پاس کیا۔ اردو ان کی مادری زبان ہے۔ انگریزی پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ ہندی بھی جانتے تھے۔ 1946ء میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے وہ جمشیدپور سے سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے شہر چاٹگام ہجرت کر گئے۔ بنگال میں قیام کے دوران انھوں نے بنگالی بھی سیکھی۔ ابھی ان کے قدم چاٹگام میں اچھی طرح جمنے بھی نہ پائے تھے کہ مشرقی پاکستان آگ اور خون کی لپیٹ میں آگیا۔ چنانچہ جنوری 1974ء میں اپنے بچوں سمیت کراچی چلے گئے۔ ان کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے ادبی اور نیم ادبی جریدوں کے علاوہ اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ”آگہی سزا ہوئی“، ”روشنی جلتی ہوئی،“ ”م” (نعتیہ کلام)
    غالب عرفانؔ 21؍جنوری 2021ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:329

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

    جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا
    حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

    فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر
    اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے

    مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں
    خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے

    خواب کو حقیقت کا روپ کوئی کیا دیتا
    منعکس تصور کا انعکاس ہم ہی تھے

    🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

    الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں
    دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئنے میں

    کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں
    کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئنے میں

    ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں
    ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئنے میں

    تہذیب کا تسلط ہے آئنے سے باہر
    تاریخ کے سفر کا وجدان آئنے میں

    رنگوں کی بارشوں سے دھندلا گیا ہے منظر
    آیا ہوا ہے کوئی طوفان آئنے میں

    زندہ حقیقتوں کی ہوتی ہے پردہ پوشی
    پلتی ہے جب رعونت نادان آئنے میں

    ہو روشنی کہ ظلمت صحرا ہو یا سمندر
    ہوتا ہے زندگی کا عرفانؔ آئنے میں

  • اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی،یوم پیدائش عرش صدیقی

    اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی،یوم پیدائش عرش صدیقی

    اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
    اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

    عرش صدیقی

    پیدائش:21جنوری 1927ء
    گرداس پور، ہندستان
    وفات:08اپریل 1997ء

    نام ارشاد الرحمن اور تخلص عرش تھا۔ 21؍جنوری 1927ء کو گورداس پور(مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ایم اے (انگریزی) گورنمنٹ کالج، لاہور سے کیا۔ پی ایچ ڈی ورلڈ یونیورسٹی اری زونا(امریکا) سے کیا۔ پروفیسر شعبہ انگریزی گورنمنٹ کالج ملتان، چیرمین پروفیسر شعبہ انگریزی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور رجسٹرار بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے عہدوں پر فائز رہے۔ 08اپریل 1997ء کو ملتان میں انتقال کرگئے۔ شاعری کے علاوہ افسانہ اور تنقید بھی لکھتے تھے۔ ان کی تصانیف کے چند نام یہ ہیں: ’دیدۂ یعقوب‘، ’محبت لفظ تھا میرا‘، ’ہرموج ہوا تیز‘(شعری مجموعے)، ’باہر کفن سے پاؤں‘(افسانے) پر آدم جی ایوارڈ ملا۔’تکوین‘، ’محاکمات‘، ’شعور‘، ’سائنسی شعور اور ہم‘( تنقید)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:200

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ
    ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

    اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
    اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

    ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے
    لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

    وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے
    اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا

    دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر
    گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا

    میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا
    اک راستہ ان سب سے جدا چاہئے مجھ کو

    ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر
    عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے

    بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر
    جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں

    زمانے بھر نے کہا عرشؔ جو، خوشی سے سہا
    پر ایک لفظ جو اس نے کہا سہا نہ گیا

    اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
    اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

    ہم نے چاہا تھا تیری چال چلیں
    ہائے ہم اپنی چال سے بھی گئے

  • ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    15اگست 1947 کو ریڈیو پاکستان لاہور سے خبروں کا جو پہلا بلیٹن نشر ہوا، وہ ممتاز صحافی غنی اعرابی نے تحریر کیا تھا اور انہی کی آواز میں نشر ہوا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز کے عہدے تک پہنچے۔ حکومت پاکستان کے پرنسپل انفرمیشن آفیسر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے پریس کونسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 21 جنوری 1998 کو اسلام آباد میں ان کی وفات ہوئی۔

  • نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    آج 75 سالوں میں وطن عزیز جہاں کھڑا ہے اور جس حال میں کھڑا ہے یہاں تک پہنچانے میں آمریت اورجمہوریت کے علم برداروں دونوں کا ہاتھہ ہے۔ا س ملک اور عوام کے ساتھ بہت کھلواڑ ہو چکااس ملک کو پالیسی سازوں ،قانو ن سازوں ، معیشت دانوں کی ضرورت ہے۔ مسخرے سیاستدانوں نے اس ملک کو ہر سطح پر لاغر بنا دیا کیونکہ یہ خود بھی لاغر ہیں ان کی سوچ بھی لاغر ہو چکی ہے-

    کسی بھی ملک کا سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری سے تنگ آکر جرائم کی دنیا میں جا رہے ہیں کچھ پڑھے لکھے نوجوان مجبوری سے سرکاری اور غیر سرکاری دفاتروں میں قاصد اور نائب قاصد کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک کا بہترین سرمایہ اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت پڑھے لکھے نوجوان ہیں آج کے نوجوان کل کے نہایت ہی ذمہ دار افراد کہلائیں گے ملک کے فیصلہ ساز اداروں سیاسی رہنمائوں کو ملک کے اس مستقبل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    لاکھڑاتی ٹانگوں والوں، لاغر جسم والوں کے لئے اقتدار میں لانے کے لیے سیاستدان ایک دوسرے کے لئے کوشش کر سکتے ہیں تو ملک کے مستقبل ان پڑھے لکھے نوجوان طبقہ کی فکر کون کرئے گا؟ملک میں نوجوانوں میں ایک عزم وحوصلہ موجود ہے لیکن انہیں تربیت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ماضی کی حریف سیاسی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم ابھی تک تو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں آگے چل کر کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے ۔

    ماضی میں پنجاب نواز لیگ کا گڑھ تھا لیکن اس قلعے میں نقب عمران خان نے لگائی ہے اسی طرح کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے نقب لگائی ہے پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے کے لئے نواز شریف نے اختیارات کے ساتھ مریم نواز کو پنجاب فتح کرنے کے لئے لندن سے روانگی کا حکم دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز لیگ کی مستقبل کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا تاہم یہ بات طے ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت عمران خان کی سیاست کا مقابلہ کر سکتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ عمران خان نے بھی اعلان کیا ہےکہ اُن کے پاس ابھی بہت کارڈ ہیں جو کھیلیں گے۔ کیا مریم نواز ووٹ کو عزت دو کا کارڈ کھیلے گی یا پھر کوئی اور کارڈ کھیلیں گی۔

  • معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    سندھ سےتعلق رکھنےوالی معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ 20 جنوری 1968 کوخیرپورسندھ میں پیدا ہوئیں ۔وہ سندھ کےسابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں ۔انہوں نےابتدائی تعلیم کراچی سےحاصل کی اوراس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے”غیرت کےنام پرقتل”کےموضوع پرپی ایچ ڈی کی

    وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں ۔اس سےقبل وہ دومرتبہ ایم این اے رہ چکی ہیں وہ اس سےقبل خیرپورکی ضلعی ناظمہ اور National Commission For Human Development(NCHD) کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں ۔

    نفیسہ شاہ کےوالد سیدقائم علی شاہ3 بارسندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکےہیں ۔نفیسہ شاہ کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ وہ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں Honour Unmasked, Gendar ViolenceاورLaw and Power in Pakistan ودیگر شامل ہیں ۔

  • جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    پیدائش:08 فروری 1819ء
    لندن
    وفات:20 جنوری 1900ء
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    کنگز کالج، لندن
    مادری زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ آکسفورڈ
    تحریک:آزاد خیال

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب آرٹ کا نقاد اور مصلح تھا۔ لندن میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ 1860ء میں اپنی ساری موروثی جائداد مزدوروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کی۔ ایک نمونے کا گاؤں بنایا جس میں کسان امدادِ باہمی کے اصولوں پر کام کرتے تھے۔ 1870ء میں آکسفورڈ میں فنونِ لطیفہ کا پروفیسر مقرر ہوا۔ وفات کے بعد آکسفورڈ کا ایک کالج اس کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی اہم تصنیف ’’ماڈرن پینٹرز‘‘ (پانچ جلدیں) ہے۔ دوسری تصانیف میں دی سیون لیمپس آف آرکی ٹیکچر اور دی اسٹونز آف وینس قابل ذکر ہیں۔

  • فضائی سفر اور قومی  فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    فضائی سفر اور قومی فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    کچھ دن کیلئے پاکستان جانے کا پروگرام بنا ، اس بار ارادہ تھا کہ صرف ایک ہفتہ پاکستان میں گزار کر واپس آجانا ہے ، سستی ٹکٹ کی خریداری ے لیے دوڑ دھوپ شروع کی مگر اپنی چھٹی کے حساب سے کوئی نہیں مل رہی تھی تو سوچا اس بار اپنی قومی ائر لائن دیکھی جائے ، الحمد للہ ائر بلیو سے جانے آنے کاارادہ کیا اور ڈائیرکٹ فلائٹ جدہ سے ملتان اور واپسی بھی ڈائیرکٹ فلائٹ پر بکنگ بنا لی جب خریداری کا مر حلہ آیا تو ان کی ویب سائٹ پر صرف ایچ بی ایل اور یو بی ایل کے کریڈٹ کارڈ کا آپشن آرہا تھا مالکان اور تکنیکی عملہ سے گزارش ہے کہ ٹکٹ کی خریداری کو آسان بنایا جائے تاکہ ہر فرد کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی آپ کی ائر لائن کی ٹکٹ کسی بھی کریڈٹ کارڈ سے خرید سکے ، ہم بھی پاکستانی ہیں اور پاکستانی فارمولا لگا کر کوشش کی کہ ٹکٹ لے لی جائے مگر تین بار کی کوششوں کے بعد بینک نے کریڈٹ کارڈ کو ارضی طور پر کچھ گھنٹو ں کیلئے بند کر دیا ،اگلے دن صبح نماز فجر کے بعد دوبارہ کوشش کی تو الحمد للہ بخیر و خوبی ای ٹکٹ بن گئی ، پھر مرحلہ درپیش تھا کہ یہ ائر لائن آپریٹ کس ٹرمینل سے ہو رہی ہے ، چونکہ آجکل عمرہ پر آنے والوں کو بہت رش ہے اس وجہ سے جدہ میں تین ٹرمینل آپریشنل ہیں ایک تو ٹرمینل 1 ہے جس پر سعودی ائر لائن اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہو رہی ہیں دوسرا حج ٹرمینل ہے جہاں سے پی آ ئی اے اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہوتی ہیں اور ایک پرانا جدہ ائر پورٹ نارتھ ٹرمینل ہے ائر بلیو کی پرواز وہاں سے آپریٹ ہوتی ہے

    تھوڑی کوششوں کے بعد ہمیں پتا چلا کہ نارتھ ٹرمینل پر جانا ہوگا ، فلائٹ الحمد اللہ بروقت تھی ، سات افراد پر مشتمل عملہ نہایت اچھا اور اچھے اخلاق سے پیش آرہے تھے ائر بس اے 320 اچھی حالت کا طیارہ اور 180 سواریوں کی گنجائش تھی اور پوری طرح سیٹ بائی سیٹ ، فلا یٹ کپتان بھ انتہائی تجربہ کار اور ماہر ہواز باز تھا برسوں سے ہوائی سفر کر رہا ہوں سموتھ لینڈنگ میں ائر بلیو کا جواب نہیں کھانا بے شک کم مگر معیاری تھا اور سورس کا معیار بہت اچھا بر وقت ملتان ائر پورٹ پر لینڈنگ ہوئی اور پاکستانی عوام ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کوشاں نظر آئے جہاز رکتے ہی اٹھ کر کھڑے ہوجانا اس قوم کا شعار ہے دھکم پیل میں خوشی محسوس کر تے ہیں اترکر امیگریشن سے چند قدم دور ایک سپاہی کو شلوار قمیض میں ملبوس پردیسی سے الجھتے اور کورونا کے ٹیکوں کا سوال کرنے پر بڑی مشکل سے ہنسی روکی اور مداخلت کرتے کرتے رہ گیا کہ شاید اس بھائی نے سرکاری اہلکار کی شا ن میں کوئی گستاخی کی ہوگی جو زیر عطاب ہے اور آپ شکایت کریں بھی تو کس سے سب ہی افسر ہیں پاکستان میں دو کاونٹر امیگریشن پر چل رہے تھے جلد ہی میری باری آ گئی اور الحمد للہ زندگی میں پہلی بار سامان پہلے پہنچ گیا اس پر بھی زمینی عملہ داد کا مستحق ہے

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    ملتان سے اتر کر اپنے آبائی علاقہ کوٹ ادو میں ایک ہفتہ قیام رہا سردی الحمد للہ ٹھیک ٹھاک تھی اور بجلی نے بھی ہماری توقعات سے بڑھ کر ہماری خدمت کی مسلسل دو دن صبح 08.30 سے شام 04.30 تک کوئی کام نہیں کرنے دیا ، بہت سے احباب نے مختلف شہروں میں آنے کی دعوت دی سب سے آئندہ چھٹی پر ملاقات کا وعدہ کیا ہے امید ہے آیندہ کچھ زیادہ دنوں کیلئے جائیں گے تو سب کے شکوے دور کریں گے اب مہم واپسی کی تھی ادھر ادھر سے نمبر مانگ کر ملتان آفس بار بار کوشش کی اور ایک اچھا کام ائر لائن کی طرف سے یہ کیا گیا کہ بروقت ای میل کر دی کہ فلائٹ لیٹ ہے اور اب صبح تین بجے کی بجائے سات بجے روانہ ہوگی اور پھر ای میل میں اپ ڈیٹ کیا گیا کہ اب وقت تبدیل کرکے سوا نو کر دیا گیا ، الحمد للہ ہم نے ہمیشہ کی طرح بروقت ملتان پہنچ کر اچھے مسافر ہونے کا ثبوت دیا ہمارے پاس کوئی سامان تو تھا نہیں مگر سیکیورٹی والے حضرات نے سوال و جواب کا سیشن کیا اور پوچھا پیسے کتنے ہیں چند پاکستانی روپے اور چند ریال ہی تھے اس بھائی نے جلد جلدی پاسپورٹ نمبر اور بتائی ہوئی تفصیل نوٹ کی چیک ان کیا کاونٹر پر موجود عملہ مستعد اور بہت اچھے انداز میں پیش آیا امیگریشن کی باری آئی اور سارے مراحل طے کر کے ڈیپارچر لاونج میں انتظار کرنے لگے الحمد للہ فلائٹ اون ٹائم تھی اور فل لوڈ اور سواریاں بھی پوری 180 تھیں واپسی پر ٹیک آف اور لینڈنگ انتہائی شاندار رہی جو کہ ایک ماہر ہواباز کی نشانی ہے ائر بلیو اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ ماہر ہوا باز دستیاب ہیں ، ملتان سے روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد کپتان مسافروں سے مخاطب ہوئے تاخیر پر معذرت کی اور خوشخبری دی کہ فلائٹ پر سامان اور سواریاں فل ہونی کی وجہ سے ہم ایندھن زیادہ نہیں بھرواسکے اس لئے اب ہم کراچی اتریں گے ہمارا کراچی رکنے کا دورانیہ پینتیس منٹ ہوگا یہ سنتے ہیں ہمارا بھی منہ لٹک گیا کہ بھائی ہم نے تو پیسے ڈائریکٹ فلائٹ کے بھرے تھے اور اب آپ ہمیں کراچی لے جا رہے ہیں اور جہاز میں ہی بٹھائے رکھنا ہے دوران ایندھن بھرائی ، بہر حال اس بات سے ہم ائر بلیو سے خفا ہیں کہ بھائی رحم کیا کریں عوام پر ، اس بار چونکہ عمرہ زائرین کا رش ہے تو زیادہ تعداد عمرہ ادا کرنے والوں کی تھی او ر ان میں سے بھی اکثر پہلی بار سفر کر رہے ہوتے ہیں فضائی عملہ کی برداشت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ بہت تعاون کرتے ہیں خاص طور پر نئے لوگوں کو پہلی بار فضائی سفر سے پہلے کچھ نہ کچھ ٹریول ایجنٹس آگاہ کردیں تو ائر لائنز کیلئے آسانی ہو جائے ، خاص طور پر واش روم کے استعمال اور کھانا کھاکر خالی برتن واپس کرنے پر کم و بیش افراد سے بحث ہوئی ان کی اس بار کی یہ روداد رہی امید ہے احباب کو سفر نامہ پسند آیا ہوگا اس پر اپنی آراہ سے آگاہ فرمائیں
    والسلام
    محمد آصف شفیق
    @mmasief

  • سنگین جرائم کی روک تھام،DNA ڈیٹااہم ضرورت

    سنگین جرائم کی روک تھام،DNA ڈیٹااہم ضرورت

    سنگین جرائم کی روک تھام،DNA ڈیٹا اہم ضرورت
    تحریر. میاں عدیل اشرف
    تحصیل چونیاں ضلع قصور
    ہمارے پیارے ملک پاکستان میں رہنے والےلوگوں میں کبھی بہت پیار,محبت,ہمدردی احساس ہوا کرتا تھا لوگ مل جل کر کام کرتے، بڑے چھوٹوں کا اور چھوٹے بڑوں کا,مرد خواتین کا اور خواتین مردوں کا بہت احترام کرتی تھیں دوسروں کی ماں,بیٹی,بہوں کی عزت کو اپنی عزت سمجھا جاتا تھا . زنا ، کم عمر بچوں سے زیادتی کا نام و نشان تک نہیں تھا، چوریوں ڈکیتیوں کی وارداتیں لوگوں کا قتل بہت کم تھا – پولیس کا لوگوں پر رعب تھا جرائم کم تھے لیکن جیسے جیسے حالات بدلتے گئے لوگوں کے احساسات بدلتے گئے فحاشی عام ہوتی گئی، بے ہودہ ڈرامے, فلمیں دیکھنے کا رواج بڑھتا گیا لوگوں کی سوچ بدلتی گئی ، ملک میں زنا کاری اور فحاشی عام ہو گئی،کم عمر بچوں سے زیادتی جیسے واقعات بڑھ گئے آئے روز کبھی کسی شہر میں کبھی کسی اور شہر میں لڑکیوں، لڑکوں سے زیادتی کے واقعات سامنے آ رہے، لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہیں چوریوں، ڈکیتیوں کی وارداتیں تو عام سی بات ہے، ہر طرح کے جرائم میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا اور اس سب کو کنٹرول کرنا مشکل ترین ہو چکا اگر کہیں کوئی جرم ہوتا ہے تو اصل مجرم تک پہنچنے کیلئے کئی دن,مہینے,سال گزر جاتے ہیں – 100 میں سے80 فیصد بے گناہوں کو سزائیں ملتی ہیں لیکن اصل مجرم سرعام جرائم کرتے پھرتے ہیں ان کو پکڑنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہاہے، کسی مجرم کو سیاسی پناہ حاصل ہے تو کوئی قانون کو پیسے سے خرید لیتا ہے، آخر ہمارے ملک پاکستان میں ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟ ظالم کب تک مظلوموں پر ظلم کرتے رہیں گے؟ کم سن بچوں سے زیادتی جیسے واقعات کب تک ہوتے رہیں گے؟ ضلع قصور میں سنگین نوعیت کے دو ایسے واقعات دیکھنے آئے ہیں جن میں چونیاں سے تعلق رکھنے والے چار بچوں سے زیادتی کا معاملہ اور قصور میں ننھی زینب کا معاملہ دونوں ملتے جلتے کیس تھے جس میں پولیس اور حساس اداروں نے دن رات کی محنت سے اور عام لوگوں کے تعاون سے اصل مجرم تک پہنچے ان دونوں کیسسز میں مجرمان کو پکڑنے کے لیے جو طریقہ کار مشترکہ طور پر اپنایا گیا وہ تھا DNA کا عمل جس کے ذریعے تقریباً ہزاروں افراد کےDNA سیمپل لیے گئے اور آخر کار اصل مجرمان کے سیمپل میچ ہونے سے مجرمان کی شناخت ہوئی اس عمل کو کرنے پر حکومت کے کروڑوں روپے کے اخراجات ہوئے جو کہ کرنا ضروری تھے DNAک ے بغیر مجرمان تک پہنچنا ناممکن تھا اور آخر کار مجرم پکڑے گئے اس طرح کے کئی واقعات ہو رہے اور کئی دوسرے جرائم ایسے ہیں جن میں DNA سیمپلز لینے کی ضرورت پڑتی ورنہ مجرم کوپکڑنا مشکل ترین ہوتا اس لیے ایک تجویز ہے کہ جس طرح دوسرے چند ترقی یافتہ ممالک میں ہر فرد کا DNAٹ یسٹ کا نمونہ گورنمنٹ کے پاس ریکارڈ میں ہوتا جس کے ذریعے جرائم میں ملوث افراد تک چند دنوں کی بجائے چند گھنٹوں میں پہنچنا ممکن ہوتا اور شاید ان ممالک میں جرائم میں نمایاں کمی لانے کی ایک وجہ DNA بھی ہو سکتا ہے تو کیا ہمارے ملک پاکستان میں ایسا ممکن کیوں نہیں ہو سکتا؟ پاکستان میں بھی اگر اس طرح کا مربوط نظام بنا دیا جائے جس کے زریعے ہر پاکستانی شہری کا DNA سیمپل گورنمنٹ آف پاکستان کے ریکارڈ کا حصہ بن سکے اس نظام کو بنانے کا آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی فرد کا شناختی کارڈ بنایا جاتاہے اس وقت نادرا ڈیپارٹمنٹ کے اشتراق سے نادرا آفس میں ایک کاؤنٹر ڈی این اے سیمپل کولیکشن بنایا جائے جو نئے شناختی کارڈ بنوانے کے حصول کے لیے آنے والے افراد کے فنگرز پرنٹ لینے کے ساتھ ساتھ اس افراد کا DNA سیمپل لے کر اس کو گورنمنٹ ڈیٹا بیس کا حصہ بنائے اس طرح آہستہ آہستہ پورے پاکستان کے افراد کی ڈیٹا بیس بن سکتی اور اس عمل کے ذریعےجب بھی کسی حادثے یا کسی بھی جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کاپتہ لگانا ہو گا تو اس ڈیٹا بیس کی مدد سے جلد سے جلد پتہ چل سکے گا اصل مجرم کون ،کیونکہ DNA ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو ہرانسان کے اندر دوسرے سے مختلف ہوتے یا پھر اس افراد کی اولاد کے ساتھ میچ ہوتے دوسرے کسی انسان سے میچ نہیں ہو سکتےاگر پاکستان میں ایسا ڈیٹا بیس بنانے کا نظام بنتا ہے تو اس سے پولیس کو ریپ جیسے سنگین کیس نبٹانے میں بہت زیادہ آسانی ہو گی دوسری وجہ سننے میں آتا ہے کہ فلاں بے گناہ کو پولیس نے پکڑ لیا اس طرح جو بے گناہ لوگوں کو پولیس سنگین جرائم میں ملوث کرتی ہے اگر وہاں ملنے والے شواہد سے ڈی این اے میچ کیا جائے تو ان کی شرح میں بھی کمی واقع ہو گی اور کسی ایمرجنسی حادثات کی صورت میں جہاں آگ میں جلنے سےیالاش کا پانی میں زیادہ دیر رہنے سے لاش کی شناخت کرنا انتہائی مشکل ترین ہو جاتا DNA کی مدد سےشناخت کرنےمیں بھی آسانی ہو گی، جو پیسے گورنمنٹ افسوس ناک واقعات کے رونما ہونے کے بعد اخراجات کے طور پر استعمال کرتی انہی پیسوں کو پہلے ہی ایسا نظام بنانے پر خرچ کیا جائے تو مستقبل میں بہت سے اخراجات بچ سکتے ہیں ایسا نظام بنانے کے لیے سٹاف کی بہت ضرورت ہو گی اگر گونمنٹ آف پاکستان ایسا مربوط نظام بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو جرائم کی شرح میں بے پناہ کمی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے نوجوان جو بے روزگار ہیں ان کو نوکریاں بھی ملیں گی جو کہ نوجوانوں کی ایک اہم ضرورت بھی ہے.اللہ ہمارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھےاور ملک دشمن عناصر سے حفاظت فرمائے.آمین۔پاکستان زندہ باد

  • میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    وہ دن آخری ہو میری زندگی کا

    مہناز

    معروف گلوکارہ مہناز بیگم کا اصل نام سیدہ مطاہرہ کنیز رضا اور والد کا نام سید اختر علی تھا۔ وہ مشہور مغنیہ کجن بیگم کے ہاں 1953ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے استاد امراؤ بندو خان کے بھتیجے نذیر نے انہیں مہناز کا نام دیا۔ مہناز نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن خان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی۔ امیر امام نے انہیں پاکستان ٹیلیوژن کے پروگرام” نغمہ زار ” کے ذریعے عوام سے متعارف کروایا جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم ‘حقیقت’ مہناز کی بطور پلے بیک سنگر ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جس کے بعد جلد ہی مہناز فلمی دنیا کی مقبول ترین آواز بن گئیں اور فلمی صنعت کے ہر موسیقار نے مہناز کی آواز کو اپنی فلم میں شامل کرنا اپنا اعزاز جانا۔ مہناز نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے۔ اس کے علاوہ مہناز نے لاتعداد گیت اور غزلیں بھی گائیں جو آج بھی بیحد مقبول ہیں۔

    حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ انہیں ان کی گائیکی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں دس نگار ایوارڈ، دو نیشنل ایوارڈ، سات گریجویٹ ایوارڈ اور ایک پی ٹی وی ایوارڈ شامل ہیں۔ مہناز نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل سات سال تک نگار ایوارڈ حاصل کیا جو ایک منفرد اعزاز ہے۔

    مہناز طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھیں۔ 19 جنوری 2013ء کو وہ اپنے علاج کیلئے پاکستان سے امریکا جا رہی تھیں کہ اچانک راستے میں انکی طبیعت خراب ہو گئی۔ جہاز کو ہنگامی طور پر بحرین کے شہر مانامہ میں اتارا گیا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکیں اوراپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ وہ کراچی کی وادی حسین قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔ مہناز کی آواز میں چند مشہور نغموں کے بول

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    او میرے سانوریا او بانسری بجائے جا
    تیرے میرے پیار کا ایسا ناتا ہے
    مجھے دل سے نہ بھلانا
    تیرےسنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا