Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    پیدائش: 26 ستمبر 1888ء
    وفات : 04 جنوری 1965ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انگریزی زبان کا مشہور شاعر اور نقاد سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں انگریزی شاعری کا پروفیسر مقرر ہوا۔ 1915ء میں برطانیہ چلا گیا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ 1922ء میں ایک ادبی رسالہ Criterionجاری کیا۔ جو 1929ء میں بند ہو گیا۔ 1948ء میں ادب کا نوبل پرائز ملا۔ بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں شاعری کا پروفیسر ہوا اور او۔ ایم کا اعلی برطانوی خطاب پایا۔ متعدد منظوم ڈراموں کا مصنف ہے۔ آخری دنوں میں فیر اینڈ فیر پبلشر کا اڈیٹر رہا۔ تنقیدی نظریات بھی بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ رومانیت کے سخت خلاف تھا۔ اور اس کے خلاف شخصیت سے گریز اور معروضی تلازمے کے نظریات پیش کیے۔ اس کا نظریہ روایت اردو ادب پر بھی اثر انداز ہوا اور کئی اردو نقاد مثلاً محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر سید عبد اللہ اور ڈاکٹر عابد علی عابد ان سے متاثر نظر آتے ہیں۔

    ایلیٹ ادب اور زندگی‘ دونوں میں معیارات کے نفوذ اور غیر شخصی و غیرذاتی‘ میلانات و رجحانات کا قائل ہے۔ اسی لیے وہ‘ احساس رفتہ اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔اس کی نظر میں‘ تمام ادبی فن پارے ایک سلسلہ میں‘ تنظیم و ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے خیال میں‘ روایت کے یہ معنی نہیں ہیں‘ کہ ادب کو محض چند تعصبات سے پاک رکھا جائے۔ تعصبات روایت کے تشکیلی عمل کے دوران‘ وجود پکڑتے ہیں۔
    ایلیٹ کے روایت سے متعلق خیالات کا‘ لب لباب کچھ یوں ٹھہرے گا:
    1- روایت لکیر کےفقیر ہونے کا نام نہیں۔
    2- روایت کے حصول کے لیے‘ محنت و کاوش سے‘ کام لینا پڑتا ہے۔
    3- تاریخی شعور کا مطلب یہ ہے‘ کہ شاعر کو احساس ہو‘ کہ ماضی صرف ماضی ہی نہیں‘ بلکہ اس کے اعلی اور آفاقی عناصر‘ ایک زندہ شے کی طرح‘ نشوونما پاتے ہوئے‘ حال میں پہنچ گیے ہوتے ہیں۔
    4- شاعری کی ادبی حیثیت کا اندازہ‘ کسی شاعر کی‘ دیگر شعرا کے کلام ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی مجرد طور پر‘ قدروقیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘ کیوں کہ وہ پورے ادبی نظام کا‘ حصہ ہوتا ہے۔
    5- ہر نیا فن پارہ‘ اپنے نئے پن سے تمام فن پاروں کی قدروقیمت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی روشنی میں گزشتہ کے فن پاروں کا‘ پھر سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔
    6- ایمان دارانہ تنقید‘ شاعر پر نہیں‘ شاعری پر ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے‘ کہ کسی ایک نظم کا تعلق‘ دوسری نظموں سے ہوتا ہے۔
    7- نظم صرف ایک مفہوم ہی نہیں‘ اپنا زندہ وجود رکھتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں سے‘ جو ترکیب بنتی ہے‘ وہ واضح حالات کی فہرست سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ احساس یا جذبہ یا عرفان جو نظم سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ شاعر کے ذہن میں ہوتا ہے۔
    اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا ہے

    مغرب کے تنقیدی اصول پروفیسر سجاد باقر رضوی مطبع عالیہ 1966
    ارسطو سے ایلیٹ تک ڈاکٹر جمیل جالبی نیشنل فاؤنڈیشن 1975ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اوکاڑہ کی سیاست ماضی اور حال

    اوکاڑہ کی سیاست ماضی اور حال

    تحریر۔ ملک ظفر اقبال
    یوں تو اوکاڑہ شہر کئی دہائیوں سے اپنی سیاسی شہرت کا ثانی نہیں رکھتا ۔کئی دہائیوں تک اوکاڑہ کے سیاستدانوں کی گونج اسلام آباد اور لاہور کی سیاست میں اپنا لوہا منواتی رہی۔
    اوکاڑہ کا سیاسی قد ماضی میں کسی بھی بڑے شہر کے سیاستدانوں سے کم نہیں رہا جسکی مثال ماضی کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جن میں کچھ حیات ہیں اور کچھ اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔مگر ان کی یادیں ان کی تعمیری سوچوں کا محور ہے۔
    اوکاڑہ کی ترقی میں نمایاں مقام رکھنے والے سیاستدانوں میں ایک خوبصورت نام راؤ سکندر اقبال مرحوم کا ہے جو اپنے دور حکومت میں اوکاڑہ کے لیے وہ کام کرگئے شاید آنے والے سیاستدان ان کی تعمیر وترقی اور مثبت انداز فکر کا مقابلہ نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے آج بھی اہل اوکاڑہ ان کے تعمیری کاموں اور اچھی سیاست کی وجہ سے لوگ قدر دان ہیں ،ان کے دورِ حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین بھی ان تعمیر وترقی اور مثبت سوچ کی وجہ سے تعریف کرتے تھے۔
    اوکاڑہ کی موجودہ سیاست میں چوہدری ریاض الحق جج ایم این اے کا سیاسی قد سب سے بڑا ہے ان کی سوچ بھی مثبت اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اوکاڑہ میں چوہدری ریاض الحق جج اپنی مثبت سوچ اور اوکاڑہ کی تعمیر وترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی وجہ سے اوکاڑہ کے سیاسی پلیٹ فارم پر اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
    چوہدری ریاض الحق جج کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ان کے مخلص اور ایماندار ورکر ہیں جو اپنا اپنا کردار اپنے ہردلعزیز رہنما چوہدری ریاض الحق جج کے لیے دن رات عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور یہی وجہ کہ چوہدری ریاض الحق جج نے کئی موقعوں پر اپنی کامیابی کا سہرا اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے بعد اپنے مخلص کارکنوں کے نام کیاہے ۔اگر مخلص کارکنوں کی بات کی جائے تو یقیناً ایک نام اپنے حلقہ کے لوکوں میں سے ملک خالد یعقوب کا آتا ہے جو اپنے لیڈر کے لیے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور حلقہ کے عوام کے ان کی آواز بن چکے ہیں۔

  • پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے مجموعی طور پر افراد اور معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگائی جائے۔ ہیلتھ لیوی تمباکو کی مصنوعات پر وہ ٹیکس ہے جو ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

    سب سے پہلے، یہ تمباکو کی مصنوعات کو مزید مہنگا بنا کر ان کی مانگ کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تمباکو ایک نشہ آور مادہ ہے، اور بہت سے لوگ جو اسے استعمال کرتے ہیں وہ ایسا کرنا جاری رکھ سکتے ہیں چاہے یہ مہنگا ہو یا تکلیف دہ ہو۔ تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے، صحت سے متعلق محصول لوگوں کو تمباکو کا استعمال شروع کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے یا ان لوگوں کی تمباکو چھوڑنے پر حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کر سکتا ہے جو پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسرا، تمباکو کی مصنوعات پر صحت پر عائد ٹیکس حکومت پاکستان کے لیے اضافی آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ اس آمدنی کا استعمال صحت عامہ کے اقدامات، جیسے تمباکو کنٹرول پروگرام، صحت و تدرستی کی تعلیمی مہمات، اور بنیادی حفظان صحت کی سہولتوں سے محروم کمیونٹیز کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی سے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تمباکو کا استعمال مختلف قسم کی سنگین صحت کی حالتوں کے لیے ایک بڑا خطرناک عنصر ہے، بشمول کینسر، دل کی بیماری، اور سانس کی بیماری۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے سے، ہیلتھ لیوی ان لوگوں کی تعداد کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے جو ان حالات کو پیدا کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ اخراجات کو کم کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول میں ممکنہ خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگ یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ دوسرے لوگ یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ہیلتھ لیوی غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے افراد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں اور اضافی لاگت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ان تحفظات کے پیش نظر، حکومت پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر عائد صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا بغور جائزہ لے۔ اگر حکومت صحت سے متعلق محصول عائد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو درج ذیل سفارشات میں سے کچھ پر غور کرنا مفید ہو سکتا ہے:

    1. لیوی کو اس سطح پر متعین کریں جو تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہو۔

    2. ہیلتھ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باصابطہ طور پر عوامی صحت کے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے استعمال کریں جو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور آبادی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    3. تمباکو کے استعمال اور صحت کے نتائج پر ہیلتھ لیوی کے اثرات کی نگرانی کریں، اور ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کریں۔

    4. اسٹیک ہولڈرز، بشمول صحت عامہ کے وکلاء، تمباکو کی صنعت کے نمائندوں، اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقوں کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں تمام آوازیں سنی جائیں اور ان پر غور کیا جائے۔

    5. صحت سے متعلق محصول کی وجوہات اور محصول کو کس طرح استعمال کیا جائے گا کے بارے میں عوام سے واضح طور پر بات کریں۔

    ان سفارشات پر عمل کر کے، حکومت پاکستان تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتی ہے اور اسے آبادی کی صحت کو بہتر بنانے اور تمباکو کے استعمال کے منفی نتائج کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

    لیکن پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی وکالت کرنے کے لیے آپ بھی چند اقدامات اٹھا سکتے ہیں:

    اپنے آپ کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ رکھیں: اس کی وکالت کرنے سے پہلے تمباکو کی مصنوعات پر صحت سے متعلق محصول کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے میں اس طرح کے اقدامات کی تاثیر پر شواہد کی تحقیق کریں۔

    اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں: آپ اپنے مقامی، صوبائی، یا قومی نمائندوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ تمباکو کی مصنوعات پر عائد ہیلتھ لیوی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی وضاحت کریں کہ آپ اسے کیوں اہم سمجھتے ہیں اور یہ پاکستان میں صحت عامہ کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔

    انسداد تمباکو پر بنے سماجی گروپوں میں شامل ہوں: پاکستان میں ایسی تنظیمیں ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں جیسے کہ کرومیٹک اور باغی ٹی وی۔ ان گروپوں میں شامل ہونے اور ان کی تمباکو کے خلاف مہم میں حمایت کرنے سے ان کی آواز کو بڑھانے اور مہم کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انسداد تمباکو پیغامات کو پھیلائیں: اپنے دوستوں، خاندان اور سوشل میڈیا کے فالوورز کے ساتھ اس اعم مسئلے کے بارے میں معلومات کا اشتراک کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ کریں اور تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی حمایت کریں۔

    اس مسئلے کو باعزت اور باخبر انداز میں اٹھانا اور یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دونوں طرف سے درست دلائل ہو سکتے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔ تاہم، تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی وکالت کرکے، آپ صحت عامہ کو فروغ دینے اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے مضر صحت اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

  • ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    لاکھوں میں ایک فرد آپ کو ایسا نظر آئے گا جس کا ایک پاؤں ٹانگ ہاتھ یا بازو دوسرے کی نسبت بہت موٹا ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بیماری ایک مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتی ہے؟ جی ہاں ایک ایسا مچھر جس کے اندر filarial parasites کے لاروا ہوتے ہیں۔ ان کو (roundworms) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لاروا انفیکٹڈ مچھر کے کاٹنے سے مچھر سے انسانی جسم داخل ہوتے اور وہاں اپنا اگلا لائف سائیکل پورا کرکے بڑے ہوجاتے۔

    جس طرح کسی عمارت میں پانی کی نکل و حرکت کے لیے ایک سیورج سسٹم ہوتا ہے بلکل اسی طرح انسان جسم میں بھی خون کی نالیوں سے خودکار نظام کے تحت نکلنے والی رطوبتوں کو ٹھکانے لگانے کے Lymphatic system کام کرتا ہے۔ اب فلیرئل لاروے بڑے ہو کر لمف نارڈ lymph nodes کو بند کر دیتے۔ اور وہ رطوبتیں اپنی مطلوبہ جگہ جانے کی بجائے وہیں ٹانگ کے نچلے حصے یا بازو میں کہنی کے نچلے حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتیں۔ ایک طرف تو وہ پانی جمع ہو رہا ہوتا دوسری طرف جسم میں موجود پیراسائٹ تیزی سے اپنا سائز اور اپنی تعداد بڑھا رہے ہوتے۔

    نتیجتاً پاوں ٹانگ ہاتھ یا بازو کا سائز ایسے ہوجاتا جیسے ہاتھی کا پاؤں ہے۔ ایک طرف تکلیف تو دوسری طرف سوشل سٹگما الگ سے جان لے رہا ہوتا۔ لوگ ڈرنا شروع کر دیتے کہ اس متاثرہ فرد کو کاٹنے والا مچھر ہمیں بھی کاٹ کر انفیکٹڈ نہ کر دے۔ اور انکا یہ ڈر کسی نہ کسی حد تک درست ہوتا ہے۔ مگر ایسا ہر قسم کے مچھر کے کاٹنے سے بلکل نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثریت کیسز میں مچھر کی ایک خاص قسم Culex کے کاٹنے سے منتقل ہوتی ہے۔ اور نہ ہی خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے اس فرد کو کاٹنے والا مچھر جسے کاٹے گا وہ بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔

    ڈاکٹرز کی طرف سے اس مرض سے متاثرہ مریض کو ہدایت کی جاتی کہ وہ ہر ممکن حد تک خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھے۔ جن لوگوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوتا ان کو انفیکٹڈ مچھر کاٹنے کے بعد بھی عموماً لاروا اپنا لائف سائیکل مکمل نہیں کر پاتا اور ہمیشہ لاروا سٹیج میں ہی رہتا ہے۔ جسکی وجہ سے انکو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

    ہاتھ پاؤں ٹانگ یا بازو موٹا ہونے سے پہلے ہی عموماً گردن کے دائیں سائیڈ پر خون کی نالیاں بڑی نمایاں ہو کر اسکن سے باہر ابھری ہوئی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس اسٹیج پر مرض کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے اور کیمو تھراپی سے اسے کافی حد تک بڑھنے اور نقصان کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ایک عام ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ڈرما ٹالوجسٹ Dermatologist اس مرض کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔ علاج میں ابھی تک کوئی ایسا نہیں ہے جو اس چیز کو سو فیصد ختم کر سکے۔ ڈاکٹرز پوری دنیا میں Diethylcarbamazine (DEC) نامی دوائی ان مریضوں کو دیتے ہیں۔ اس دوا کا بنیادی مقصد جسم میں موجود adult worm کو مارنا ہوتا ہے۔ پانی کو خشک کرنے یا نکالنے پر کام کیا جاتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اندر گوشت بڑھ گیا ہوا ہے اور آپریشن کرکے ایک ہی بار ٹانگ یا بازو کو نارمل کر دیا جائے۔ احتیاط اور علاج لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔

    ایسے افراد سے ڈرنے کی بجائے ان سے محبت کی جائے۔ اور انکو تنہائی سے نکال کر ہر قسم کے فیملی و سوشل ایونٹس میں ضرور شریک کیا جائے۔ اور ایسے افراد خود بھی کوئی ایسی سافٹ ہا ہارڈ اسکل سیکھ کر خود کو مصروف رکھیں جس میں کہیں آنے جانے کی ضرورت کم سے کم ہو۔

  • افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

    افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ استعمال آج بھی بدستور جاری و ساری ہے، کچھ گروہ جیسا کہ ٹی ٹی پی حملوں کی منصوبہ بندی اور تعاون کے لیے ملک کے پہاڑی اور زیادہ تر غیر حکومتی علاقوں کو استعمال کرتے ہیں جن کو کسی نا کسی افغان طالبان گروہ کی پشت پناہی حاصل رہتی ہی ہے۔ یہ مسئلہ اب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے، اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر امارت اسلامیہ افغانستان چاہے تو بات چیت سے مسئلہ سلجھ سکتا ہے۔

    اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بعض عسکریت پسند گروپوں نے پاکستان پر حملوں کے لیے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے اور آج بھی یہ ان کا بیس کیمپ ہے۔ مثال کے طور پر، افغان طالبان کا ایک ناراض دھڑا جو خود کو تحریک طالبان پاکستان عرف ٹی ٹی پی کہتے ہیں، جو افغانستان میں بھی کئی سالوں سے سرگرم ہے، اور یہی گروہ پاکستان میں حملے کرنے کا میں سر فہرست ہے۔ یہ گروپ خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں سرگرم رہتا ہے، جہاں وہ سرحد کی غیر محفوظ نوعیت اور افغان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی محدود موجودگی کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہتا ہے۔

    افغانستان میں ان گروپوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ سے تشویش کا باعث رہی ہے، کیونکہ افغانستان نے انہیں نسبتاً آسانی کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، ان گروہوں نے افغانستان میں جو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان نے انھیں جنگجوؤں کو بھرتی کرنے، تربیت دینے اور مسلح کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، جس نے خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو مزید ہوا دی ہے۔

    افغانستان میں جاری سالوں کے تنازعے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب تر ہوئی ہے، جس نے عسکریت پسند گروپوں کو افزائش نسل فراہم کی ہے اور افغان حکومت کے لیے ملک کی سرزمین پر اپنا کنٹرول رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس نے تحریک طالبان پاکستان جیسے گروپوں کو نسبتاً استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مؤثر طریقے سے تعاون کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

    دن بہ دن دونوں ممالک کی سرحدوں پر کشیدگی کی خبریں بڑھ رہی ہیں جو کہ کسی محدود پیمانے کی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتیں ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے قیام پاکستان سے لیکرآج تک افغانستان کے ساتھ دوستانہ بلکہ برادرنہ تعلقات کی کوشش کی ہے لیکن افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو سوائے فتنوں اور نقصانات کے اور کچھ نہیں ملا۔

    یہ بات اظہر الشمس واضح ہوچکی ہے کہ افغانستان پر خواہ اسلامسٹ نظریات کے حامل حکمران مسلط ہوں یا لبرل نظریات کے حکمران, دونوں صورتوں میں پاکستان کو افغانستان سے فقط تعصب, نفرت اور جانی و مالی نقصانات کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

    پاکستان میں تب تک امن نہیں ممکن جب تک افغانستان سے متصل سرحدیں بند نہ ہوں اور اکثر یہ سوال دانشور طبقے میں زور پکڑتا جارہا ہے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر اور ممالک کی سرحدیں بھی افغانستان کو لگتی ہیں لیکن اس ملک سے حملے فقط پاکستان پر ہی ہوتےہیں, کیوں؟ اس کیوں کا جواب ہم تو جانتے ہیں لیکن دنیا کو منوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

    مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔

  • برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت

    عطیہ فیضی (ولادت: 1 اگست 1877ء، وفات: 4 جنوری 1967)

    عطیہ فیضی کون تھی؟

    یہ تین بہنیں تھیں۔ سب سے بڑی نازی بیگم، ان سے چھوٹی زہرا بیگم اور آخری عطیہ بیگم۔ صرف عطیہ نے اپنا نام اپنے خاندانی لقب فیضی کی نسبت سے عطیہ فیضی رکھا۔ ان کے والد علی حسن آفندی کا تعلق ایک عرب نژاد خاندان سے تھا جو اپنے ایک بزرگ فیض حیدر کے نام کی نسبت سے فیضی کہلاتا تھا۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے اور تجارتی کاموں کے سلسلے میں بمبئی سے لے کر کاٹھیاواڑ تک پھیل گئے تھے۔ عرب، ترکی اور عراق کے عمائد اور عوام سے بھی تعلقات تھے۔ اس خاندان میں علم وادب کا چرچا تھا۔ عطیہ کبھی کبھی دعویٰ کیا کرتی تھیں کہ ان کا خاندان ترکی النسل ہے لیکن عام طور پر انھیں عرب نژاد ہی خیال کیا جاتا تھا۔

    نازی بیگم: علی حسن آفندی کی سب سے بڑی بیٹی عطیہ فیضی سے نو سال بڑی تھیں۔ یہ بھی استنبول میں ۱۸۷۲ء کو پیدا ہوئیں۔ نازی بیگم نے ترکی کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں تعلیم حاصل کی۔ ان کو ترکی، انگریزی، عربی اور فارسی میں اچھی دستگاہ حاصل تھی۔ بعد میں انھوں نے گجراتی اور اُردو زبان میں بھی مہارت پیدا کر لی۔ ابھی ۱۳ برس کی تھیں کہ ان کی شادی بمبئی کے قریب واقع ایک چھوٹی سی ریاست جنجیرہ کے نواب سرسیدی احمد خاں سے کر دی گئی۔

    سرسیدی احمد خاں کے اجداد حبشہ (ایتھیوپیا) کے ساحل پر آباد تھے۔ وہاں سے نقل مکانی کر کے یہ بمبئی آئے اور جنجیرہ کے جزیرے میں آباد ہو گئے۔ بعد میں وہ اس جزیرے کے حکمران بن گئے۔ یہ تحقیق نہیں ہو سکی کہ یہ خاندان جنجیرہ میں کب آباد ہوا اور کب وہاں ان کی حکمرانی قائم ہوئی۔ سسرال میں نازی بیگم کو رفیعہ سلطان کا لقب دیا گیا اور وہ ہر ہائی نس نازی رفیعہ سلطان آف جنجیرہ کہلائیں۔

    اپنے حسنِ عمل کی بدولت یہ جزیرے میں کافی ہر دل عزیز تھیں۔ ان کو علم و ادب سے گہرا لگائو تھا اور وہ اربابِ علم کی بے حد قدر دان تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف سیرت النبیﷺ کی تیاری میں ان کی تحریک اور اعانت بھی شامل تھی۔ مولانا نے اس کا کافی حصہ جنجیرہ کی پر سکون فضا میں رہ کر مکمل کیا۔

    سفرِ یورپ کے دوران نازی بیگم کو علامہ اقبال اور کئی دوسرے مشاہیر سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ علامہ اقبال ان کی علمی وجاہت سے بہت متاثر ہوئے اور یہ شعر ان کی نذر کیے:
    اے کہ تیرے آستانے پر جبیں گستر قمر
    اور فیضِ آستاں بوسی سے گل برسر قمر
    روشنی لے کر تیری موجِ غبارِ راہ سے
    دیتا ہے ایلائے شب کو نور کی چادر قمر

    نازی بیگم نے شبلی نعمانی کی میزبانی کے علاوہ کئی بار علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، قائد اعظم محمد علی جناح، مسز سروجنی نائیڈو اور ملک کے متعدد دوسرے نامور اربابِ علم اور اہل سیاست کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ بقول نازی بیگم قائد اعظم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جنجیرہ آ کر بہت آرام اور سکون ملتا ہے۔ وہ جنجیرہ میں اپنا بیشتر وقت محل سے ملحق باغ میں گزارا کرتے تھے۔

    عطیہ فیضی نے بھی اپنی بہنوں کی طرح استنبول میں اعلیٰ تعلیم پائی اور ترکی، عربی، فارسی، انگریزی، اُردو اور گجراتی میں اچھی استعداد بہم پہنچائی۔ ان کی بڑی بہن نازی بیگم کی شادی ۱۸۸۵ء میں نواب جنجیرہ (بمبئی) سے ہوئی تو یہ بھی ان کے ساتھ جنجیرہ میں رہنے لگیں۔ عطیہ اپنے والدین کی بہت لاڈلی تھیں اور سب بہنوں میں زیادہ شوخ وچنچل بھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بڑی ذہین و فطین اور علم و ادب کی شیدائی بھی تھیں۔ جنجیرہ ایک پُر فضا جزیرہ تھا۔

    نازی بیگم کی دعوت پر ملک کے بڑے بڑے اہلِ سیاست اور اربابِ علم کی یہاں آمد آمد ہوئی ان میں مولاناشبلی نعمانی بھی شامل تھے۔ ان کو عطیہ کی ذہانت، علم وادب سے شغف اور دوسرے اوصاف نے بے حد متاثرکیا اور وہ ان کے مداح بن گئے۔ عطیہ بھی شبلی نعمانی کی بہت قدر دان تھیں۔ ان کے درمیان خط وکتابت بھی ہوتی رہتی تھی۔ جس میں بے تکلفی کا ایک مخصوص رنگ پایا جاتا تھا۔ بالخصوص مولانا شبلی کے خطوں میں، بعض اصحاب نے اس بے تکلفی کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بے تکلفی ہمیشہ ایک حد کے اندر رہی اور عطیہ ہمیشہ انھیں (شبلی کو) عزت کا ایک مقام دیتی رہیں۔

    ۱۹۰۳ء میں عطیہ کی شادی ایک عالمی شہرت یافتہ مصور رحیمن (رحمین) سے ہوئی۔ وہ یہودی نژاد تھے لیکن مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ ڈاکٹر فیضی رحیمن کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں کی زینت رہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن تعلیم و تربیت یورپ میں ہوئی۔ وہیں مصوری، افسانہ نگاری اور مضمون نویسی میں شہرت حاصل کی۔ وہاں سے اچانک ہندوستان آ گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

    قیام پاکستان کے بعد نازی بیگم اور عطیہ فیضی کے ساتھ یہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل اقامت اختیار کی۔ کراچی میں ان کی زندگی کے آخری چند سال بڑی پریشانیوں میں گزرے اس کی کچھ تفصیل آگے آئے گی۔ بعض لوگوں نے اس شادی پر اعتراض کیا، شبلی نعمانی کو خبر ہوئی تو انھوںنے یہ شعر کہے:

    عطیہ کی شادی پہ کسی نے نکتہ چینی کی
    کہا میں نے جاہل ہے یا احمق ہے یا ناداں ہے
    بتانِ ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کو
    عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے

    مولانا شبلی نے ایک مرتبہ قیامِ جنجیرہ کے دوران عطیہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:

    کسی کو یاں خدا کی جستجو ہو گی تو کیوں ہو گی
    خیالِ روزہ و فکرِ وضو ہو گی تو کیوں ہو گی
    ہوائے روح پرور بھی یہاں کی نشہ آور ہے
    یہاں فکرِ مے وجام و سبو ہو گی تو کیوں ہو گی
    کہاں یہ لطف، یہ سبزہ یہ منظر یہ بہارستان
    عطیہ تم کو یادِ لکھنو ہو گی تو کیوں ہو گی

    اور جب ان کو لکھنو میں جنجیرہ کی یاد ستاتی تو کہتے:

    یاد میں صحبت ہائے رنگیں جو جزیرے میں ہیں
    وہ جزیرے کی زمین تھی یا کوئی مے خانہ تھا

    ۷،۱۹۰۶ء میں نازی بیگم اپنے شوہر اور دوسرے اہل خاندان کے ساتھ یورپ گئیں تو عطیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انگلستان میںان کی علامہ اقبال سے خوب ملاقاتیں رہیں اور ابنِ عربی کے فلسفۂ تصوف پر طویل مباحث ہوتے (علامہ اس وقت بسلسلۂ تعلیم انگلستان میںتھے) علامہ اقبال عطیہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کو راز دار بنا لیا۔ اپنے ذاتی حالات اور ذہنی کیفیات تک سے ان کو آگاہ کرتے تھے اور اپنا کلام بھی انھیں بھیجتے تھے۔ اقبال کے خطوط عطیہ بیگم کے نام طبع ہو چکے ہیں۔

    ان کو دیکھ کر دونوں کے باہمی روابط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ عطیہ فیضی بڑی خوبیوں کی مالک تھیں لیکن فی الحقیقت ان کو ملک گیر شہرت مولانا شبلی کی شاعری اور علامہ اقبال کے قلم نے عطا کی اور وہ برصغیر کی نامور خواتین میں شمار ہوئیں۔ ماہر القادری نے عطیہ سے بعض ذاتی ملاقاتوں اور ان مجالس کا کچھ احوال بھی لکھا ہے جو عطیہ کے خصوصی ذوق اور خود ان کے رونقِ محفل ہونے کی وجہ سے منعقد ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے آخری ایام کی دھندلی سی ایک تصویر ہمیں دکھاتے ہیںجس سے پتا چلتا ہے کہ دھوپ چھائوں کا کھیل بھی کیا کھیل ہے۔ لکھتے ہیں:

    ’’یہ قصہ نشاطیہ تو ہے ہی مگر کسی حد تک المیہ (ٹریجڈی) بھی ہے۔ شبلی نعمانی کے تذکرے میں عطیہ فیضی کا نام آتا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی سے مجھے بے انتہا محبت بھی ہے اور عقیدت بھی۔ اسی نسبت اور تعلق کے سبب عطیہ فیضی کے نام سے میں بہت دنوں سے واقف تھا۔ فنون لطیفہ سے عطیہ کو جو خاص شغف تھا اس کے تذکرے بھی لوگوں کی زبانی سنے تھے۔

    ماہرالقادری

  • منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور
    ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    یوم پیدائش : 3 جنوری 1836

    منشی نول صاحب کی پیدائش 03؍جنوری 1836ء کو متھرا اتر پردیش ہندوستان میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز مکتب میں فارسی اور اردو پڑھ کر کیا تھا۔ منشی نول کشور ایک کتاب پبلشر تھے۔ انہیں بھارت کا کیکسٹون کہا جاتا ہے۔ 1858ء میں، 22 سال کی عمر میں، انہوں نے ‘نول کشور پریس اور کتاب ڈپو’ لکھنؤ میں قائم کیا تھا۔ آج یہ ادارہ ایشیا میں سب سے پرانی پرنٹنگ اور اشاعت کا مرکز ہے۔ مرزا غالب منشی نول کشور کے وفادار دوست تھے۔ منشی نول کشور کے والد کا نام پنڈت جمونا پرساد بھگاوکا تھا، آپ کے والد علی گڑھ کے زمیندار تھے 1970ء میں ہندوستان کی حکومت نے ان پر اعزاز میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

    منشی نول کشورکی نوجوانی کے زمانے میں لاہور سے اخبار ‘کوہِ نور’ نکلتا تھا جس میں آپ کے مضامین شائع ہونے لگے، جو اس قدر مقبول ہوئے کہ اس کے مدیر منشی ہرسُکھ رائے نے انھیں لاہور آ کر اخبار میں کام کرنے کی دعوت دی جو نول کشور نے قبول کر لی۔1857ء کے ملک گیر فسادات شروع ہو چکے تھے، جن میں دوران میں امرا و روسا کے صدیوں پرانے کتب خانوں میں موجود ہزاروں نادر مخطوطے تلف ہو گئے۔ 21 سالہ نول کشور نے تمام صورتِ حال کا گہری نظر سے جائزہ لیا اور انھیں ہم وطنوں کی حالت سدھارنے کا ایک کارگر طریقہ سوجھ گیا۔ آپ نے چند مذہبی رسائل اور بچوں کے قاعدے چھاپے اور انھیں خود ہی بیچنا شروع کیا۔ وہ خود اپنے کندھوں پر طبع شدہ مواد کے گٹھڑ اٹھا کر بازار اور دفاتر تک لے جاتے تھے۔ انگریزوں کو ان کی لگن پسند آئی اور انھیں دفتری سٹیشنری کے ٹھیکے ملنے لگے۔ 26 نومبر 1858ء میں انھوں نے ’اودھ اخبار‘ کا اجرا کیا جو بڑے سائز کے چار صفحات پر مبنی ہوتا تھا۔

    #داستانامیرحمزہ

    اس سلسلے میں غالباً ان کے پریس کا سب سے بڑا کارنامہ داستانِ امیر حمزہ کی 46 جلدوں کی اشاعت ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی داستان کہا جاتا ہے۔

    دیگر کتب کی اشاعت
    ہندو ہونے کے باوجود منشی نول کشور نے کئی اہم اسلامی کتابیں، قرآن کی تفاسیر، احادیث کے مجموعے اور فقہ کی کتابیں شائع کیں۔ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے 1858ء سے 1950ء تک 6000 سے زیادہ کتابیں شائع ہوئی۔ 1950ء میں منشی نول کشور کا پریس خاندانی جھگروں کی بنا پر بند ہو گیا۔

    نول کشور پریس کی طبع شدہ کتابوں کے چند نام ۔

    فتاویٰ عالمگیری
    سنن ابی داؤد
    سنن ابن ماجہ
    مثنوی مولانا روم
    قصائدِ عرفی
    تاریخِ طبری
    تاریخِ فرشتہ
    دیوانِ امیر خسرو
    مراثی انیس
    فسانۂ آزاد
    داستانِ امیر حمزہ
    دیوانِ غالب
    کلیاتِ غالب فارسی
    الف لیلہ
    آثار الصنادید (سر سید احمد خان)
    قاطعِ ب رہان (غالب)،
    آرائشِ محفل
    دیوانِ بیدل
    گیتا کا اردو ترجمہ
    رامائن کا اردو ترجمہ
    بوستان
    اور دیگر کئی صد کتابیں ہیں۔

    غالب سے دوستی
    منشی صاحب کے ساتھ جن لوگوں نے اس اخبار میں کام کیا ان میں رتن ناتھ سرشار، عبد الحلیم شرر، قدر بلگرامی، منشی امیر اللہ تسلیم اور دوسرے مشاہیرِ اردو شامل ہیں۔ اس اخبار میں جن لوگوں کے مضامین چھپتے تھے ان میں مرزا غالب اور سر سید احمد خان بھی شامل ہیں۔ سرشار کا شاہکار ’فسانۂ آزاد‘ اسی اخبار میں دسمبر 1878ء سے دسمبر 1879ی تک قسط وار چھپتا رہا۔ غالب منشی صاحب کے ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔ وہ نول کشور پریس کے بارے میں ایک خط میں لکھتے ہیں: ‘اس چھاپہ خانے نے جس کا بھی دیوان چھاپا، اس کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا۔’ غالب منشی صاحب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے سے دریغ نہیں کرتے، چنانچہ ایک اور خط میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘خالق نے اسے زہرہ کی صورت اور مشتری کی سیرت عطا کی ہے۔’ غالب کے دوست قدر بلگرامی جب مالی مشکلات کا شکار ہوئے تو غالب نے انھیں خط میں لکھا کہ جا کر لکھنؤ میں میرے دوست سے ملو، تمھارا کام ہو جائے گا۔
    منشی نول کشور 19؍فروری 1895ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

  • نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال پھر چپکے سے آ دھمکا ہے۔ اب وہی فارمل باتیں ہوں گی۔ دیکھا جائے تو وہ ہورہی ہیں، اور بڑے طمطراق سے ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے تو کان پک گئے ہیں۔ کیا کریں جنوری کے اینڈ جنٹل تک یہی ہوگا۔ کوئی بن بلائے مہمان کی طرح ملے ہتھوڑا اور برسائے: ”نیا سال مبارک ہو”۔جواب میں ہم زچ ہوکر کہیں: ”شکریہ، آپ کو بھی نیا سال مبارک ہو۔”

    جمعہ جمعہ آٹھ دن گزریں گے تو مبارک بادیں کچھ اس انداز کی ہوں گی: ”معاف کریں موقع نہیں ملا” یا ”بھئی کئی بار فون کیا مگر بات ہی نہیں ہو سکی ” یا پھر”معاف کرنا میں گاؤں کیا تھا لہٰذا مبارک باد تاخیر سے دے رہا ہوں…بہر حال آپ کو نئے سال کی ڈھیر ساری مبارکبادیں ہوں۔” مطلب آپ کو نئے سال کی مبارک باد کہے بنا کوئی نہیں چھوڑے گا۔

    اس کے بعد گردش ایام پھر وہی ہوں گے، جو گذشتہ سال تھے، جو اس سے پچھلے سال تھے۔ یا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ کتنے نئے سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی میٹاڈاروں کے دھکّے، کھڑکیوں پر قطاریں، بیگم کی جھڑکیاں، کرم فرماؤں کی بھڑکیاں، ٹی وی کی جلی کٹی "خبریاں”، باس کی یک چشم گل نظر، دفاتر میں سیاست، دوستوں کے سبزی خور جوک جنہیں وہ نان ویج انداز میں سنا کر طبیعت کو اور بھی مکدّر و پُرخشم کر دیتے ہیں۔

    جب ایک شناسا نے مجھے نئے سال کی مبارک باد ماری تو میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا نیا سال کسی پابند سلاسل وقت کا محتاج نہیں۔ وہ تو بغیر اجازت آتا رہتا ہے۔ سال کے معنی ہیں سورج کے گرد زمین کا ایک چکّر۔ اور یہ چکّر چلتے رہتے ہیں۔ زمین جہاں اس وقت ہے وہاں وہ اب سے ٹھیک ایک سال پہلے تھی۔ اور اب ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ پھر اس جگہ آئے گی۔ لہٰذا ہر گزرتا پل ایک نیا سال ہے۔ وہ صاحب اردو کے سات کے ہندسے کی طرح منھ کھولے میری باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد آنکھیں جھپکاتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولے، ”چلئے ، آپ کو ہر نئے پل نیا سال مبارک ہو”۔ اور میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔

    جنوری کی پہلی صبح کے کُہر کے قہر میں میں نے ایک کانپتے آٹو ڈرائیور پر افلاطونیت کا نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: ”برخوردار جانتے ہو یہ دنیا اس وقت اپنے محور پر اس قدر سست رفتار سے گھوم رہی ہے کہ اس کا ایک چکّر ایک کھرب ایک ارب ایک کروڑ ایک سو چھیاسی کے ہندسے کو اتنے ہی بڑے ہندسے سے 11 بار ضرب دے کر جو حاصلِ ضرب آئے گا اتنے سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور پوری کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس قدر آہستہ گھومنے کے باوجود اس کے سب سے باہری سرے پر گھومنے کی رفتار ایک لاکھ کھرب میل فی سیکنڈ ہے۔ اور تم ہو کہ بڈشاہ چوک سے مہاراج گنج تک دو کلومیٹرکے دو سو روپے مانگ رہے ہو اور وہ بھی برائے نام سیٹ کے۔”

    یہ سن کر ڈرائیور بار بار آنکھیں جھپکانے لگا اور اپنے دوست سے، جو اس کے ساتھ ہی اس کی آدھی سیٹ پر براجمان تھا، کہا "صاحب سے کرایہ نہیں لیتے ہیں، لگتا ہے یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہیں، لہٰذا انہیں حفاظت سے مہاراج گنج میں اتاریں گے”۔ کائنات کے اس چکّر نے مجھے پھر چکّرایا۔

    ایک "پکے” مسلمان کے طور پر میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے۔ خلائی سائنس کی تو بات ہی نہیں کیونکہ وہ تو انکل سام کی "سازشی تھیوری” ہے۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر ٹہری ہوئی نہیں ہے۔بلکہ سوائے کتابوں کے ہر چیز کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔ چاند زمین کے چکر میں دیوانہ ہے۔ زمین سورج کے عشق میں اس کے چکّرکاٹ رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے۔ کہکشاں، کسی اور کہکشاں کے پیار میں فریفتہ ہے۔ اور وہ والی کہکشاں لگتا ہے کسی اور کہکشاں کے چکّر میں جھکڑ سہ رہی ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے تو خود کائنات کے چال و چلن پر بھی شک ہے۔ یہ نیک بخت بھی یقیناً کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔

    ایک دن ایک خلائی "سائنس کار” نے میں مجھے نئی خلائی تحقیقات کی نوید نہیں بلکہ وعید سنائی۔ ہوا یوں کہ وہ یک لخت زور زور سے کمرے چکّر کاٹنے لگے اور چکّروں کے اس عمل میں خود چکّر کھا کر گر پڑے۔ میں نے گھبرا کر ان کی پُرشکن جبین پر ہاتھ رکھا۔ وہ ایک دم اٹھے، سیدھے کھڑے ہو کر ٹائی درست کی اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے بولے:” ڈونٹ وری، آئ ایم اوکے، بس ذرا چکّر سا آگیا تھا۔”

    میں نے اس نئے چکّر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ”کوئی خاص معاملہ نہیں۔ بس مجھے اچانک یہ سوجھی کہ اس وقت جو میں تمہارے ڈرائنگ روم میں سکون سے بیٹھا ہوا ہوں توحقیقت میں سب کچھ ایک دم ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ سب گردش میں ہے، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے کہکشاں، حالات، خبریں، کردار، اطوار، دن مہینے اور سال۔ بس یہ سوچتے سوچتے چکّر سا آگیا…باقی آئی ایم اوکے۔”

    یہ سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے چکر سے لگے کیوں کہ خلائی علوم میں وہ ناسا کی بھٹکی ہوئی آتما ہے۔ خلائی سائنس تو کیا سائنس کی ابجد کے لحاظ سے میں پہنچا ہوا ناواقف ہوں۔

    بہر حال نئے سال کی مبارک بادیں بغیر مٹھائی، بریانی اور ہریسہ کے آپ وصول کرتے رہیں۔ وہ اس لیے کہ سیاسی لیڈران، مختلف شعبوں کے ہیڈز، دفتروں کے باسز، یونینوں کے رہنما اور دوست، عزیز و اقارب، گرل اور بوائے فرینڈ اور تو اور سوشل میڈیا کے نیٹی زن دوست آپ کو نئے سال کی مبارک بادیں پیش کرنے میں کڑھائی میں زندہ مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

  • منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شادی سے دودن پہلے دُولہے کے دوست دُولہا کے ہمراہ محلے کے ہر گھر سے جا کر ایک ایک منجا اکٹھا کرتے۔ منجے کے پاوے پر اس گھر کے سربراہ کا نام لکھا جاتا۔ منجے کی صحت سے گھر کی معاشی حالت کا اندازہ ہوجاتا۔ کچھ بہتر حالات والے گھر سے منجے کے ساتھ ایک عدد سرہانہ یا چادر بھی مانگ لی جاتی ۔ ملک صاحب کے گھر سے سرخ پایوں والا منجا اور نئے سرہانے ملتے۔

    منجے شادی والے گھر کے مردان خانے کی چار دیواری کے اندر یا پھر کُھلے میں ایک ترتیب سے لگا دئے جاتے جہاں اگلے دودن شادی کی تقریبات جیسے سہرا بندی اور بارات کی روانگی وغیرہ کے لئے لوگ ان پر بیٹھتے۔ دور سے آئے ہوئے مہمان دو چار دن پہلے ہی چکے ہوتے اور وہ ان منجوں پر دن رات بیٹھک جماتے۔ کبھی کبھی کسی منجی کا شیرو ، بانہہ یا پاوا مہمانوں کے بوجھ ٹوٹ جاتا۔ ایک کڑاک کی آواز آتی اور مہمان چاروں شانےچِت۔اس زخمی منجی کو ایک طرف کھڑا کر دیا جاتا تاکہ شادی کا رولا ختم ہونے کے بعد اسے ٹھیک کروا کر مالک کے گھر بھیج دیا جائے۔ اکثر لوگ اپنی زخمی منجی اٹھا کر کے جاتے اور مرمت کروا لیتے۔

    یہ نہیں کہ اکٹھے کئے گئے سارے منجے مرد ہی استعمال کرتے، کوئی پانچ دس منجیاں زنان خانے میں بھی بجھوا دی جاتیں جن پر مہمان خواتین شادی والے دنوں میں اپنے چھوٹے بچے سلاتیں۔ ہ منجیاں ان کی ڈائننگ ٹیبل، صوفہ اور بچوں کا باتھ روم ہوتیں۔ صاف منجی دیتے ہوئے گھر والے کہتے “پتر اس نوں زنانے میں نہ دینا”

    موسم کی مناسبت سے ان منجوں کو لوگ سائے یا دھوپ میں خود ہی گھسیٹ لیتے اور وقت کی مناسبت سے ان پر لمے ہو جاتے یا بیٹھ جاتے۔فنکشن کے وقت ایک ایک منجے پر چھ سے دس دس لوگ بیٹھ جاتے۔

    وقت بدلا ، ٹینٹ سروس آئی، منجوں کی جگہ اسٹیل کی کرسیاں آئیں، پھر دریاں اور قالین بچھائے جانے لگے اور اب حالت یہ ہے کہ میرے چھوٹے سے قصبے کُندیاں میں دلہا دلہن تیار ہو کر پارلر سے سیدھے مارکی آتے ہیں۔ شادیوں میں منجوں پر بیٹھ کر لگنے والے مارکے (اکٹھ)ختم ہو چکے۔ تین گھنٹے میں ٹِک ٹاک شادی ختم۔

  • ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فون ہاتھ میں ہوتا ہے ہمیں نمبر ڈائل کرنا ہوتا ہے. ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ نمبر میرے پاس سیو ہے. ہمیں یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ فون کیوں کرنا ہے کیا کہنا ہے لیکن اسکا نام یاد نہیں رہتا جسے فون کرنا ہو. جن لوگوں کے فون نمبرز کی ڈائریکٹری بڑی ہوتی ہے جن کے کام کی نوعیت پھیلی ہوئی ہو ان کو اکثر یہ مسئلہ درپیش ہو جاتا ہے.

    لیکن ہمیں اچانک وہ نام بھول کیوں جاتا ہے.؟ اسکا جواب اس تعلق میں ہے جو ڈائریکٹری میں نام ہوتے بھی یاد نہیں آتا. جو روزانہ کے تعلقات ہوں گے وہ آپ نہیں بھولیں گے. جو کبھی کبھار کا تعلق ہوگا وہ سیو کرتے ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ نہیں بھولیں گے لیکن بھول جاتے ہیں.

    بلکل ایسے ہی زندگی کے بہت سے چیلنج ہوتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں ہم کر سکتے ہیں ہم کرنا چاہتے ہیں. لیکن پھر جب ہم کرنے جاتے ہیں تو کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا. ہم کلیو لیس ہو جاتے ہیں. ایک جھنجھلاہٹ ایک شرمندگی خود سے ہوتی ہے. یار ہم سے اتنا بھی نہیں ہو پایا.؟ اسکا حل بھی روزانہ کے رابطے میں ہے. اسے پریکٹس کہتے ہیں تربیت کہتے ہیں مشق کہتے ہیں.

    ہم وہی کر سکتے ہیں جس کی ہمیں پریکٹس ہو. پریکٹس وہ روزانہ کی کوشش ہے جو آپ کو کل کیلئے تیار کرتی ہے. جیسے دوڑ ہو آپ بیشک دوڑ سکتے ہیں لیکن پریکٹس نہ ہو تو تھوڑا سا دوڑ کر ہی ہانپ رہے ہوں گے سانس لینا دوبھر ہو جائے گا. اور آپ خود سے شرمندہ ہو جائیں گے.