Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    ’’نامکمل زندگی‘‘ نگارشِ قلم ہے ایک "معذور” بچی کی۔ لیکن میں اس ننھی پری کو ’’معذور‘‘ نہیں کہہ سکتا۔ حقیقت میں معذور اور ڈس ایبل تو وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کے دماغ مائوف، ذہن بانجھ اور قلب پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ ’’نامکمل زندگی‘‘ کے ابتدائی چند اوراق پڑھ کر ہی مجھے عربی کا یہ مقولہ یاد آگیا کہ ’’عدیم البصارۃ لکن مملو بالبصیرۃ‘‘ یہ عرب لوگ ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں، جو آنکھوں کی بصارت سے محروم ہونے کے باوجود بصیرت کے نور سے منور ہو۔ قرآن کریم نے بھی یہی فرمایا گیا ہے: ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحج) حنا سرور بھی ایسی ہی ایک بیٹی ہے، جسے جسمانی معذوری کے باوجود قلب سلیم کی دولت سے نوازا گیا ہے۔

    اس نے نہایت دل نشین انداز میں جسمانی عوارض لے کر دنیا میں آنے والے افراد کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ اپنی تحریر میں قرآنی آیات، احادیث اور واقعات صحابہ کرامؓ کے ساتھ اشعار کا برمحل استعمال کیا ہے۔ حق تعالیٰ اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو بھی جسمانی عوارض والے افراد کو حقیقی معنوں میں ’’اسپیشل افراد‘‘ سمجھ کر ان کے ساتھ ایسے ہی برتائو کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جس کے یہ لوگ مستحق ہیں۔مصنفہ اس کتاب کی اشاعت پر بجا طور مبارکباد کی مستحق ہے۔

  • جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    پانچ چیزیں جب آپ اپنے جسم میں محسوس کریں تو آپ کو ترازو پر کھڑا ہو جانا چاہئے.

    آپ کی کمر چالیس انچ سے نکل گئی.

    آپ کو بتایا جاتا ہے آپ رات میں خراٹے لیتے ہیں اور صبح آپ تازہ دم نہیں ہوتے.

    اکثر آپ کا دل جلتا ہے. جوڑ درد کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام بھی آپ کو تھکا دیتے ہیں. آپ ترازو پر کھڑے ہو جائیں آپ کا وزن بڑھ چکا ہے.

    اگر آپ نا اُمید مایوس چڑچڑے رہتے ہیں. دل میں ایک بے چینی اور بے زاری ہے تو بھلے اوپر درج کوئی علامت بھی آپ خود میں نہ پائیں پھر بھی آپ کا وزن بڑھ چکا ہے. بس اوپر کی علامات جسمانی وزن کی ہیں اور نیچے ذہنی اور نفسیاتی بوجھ ہے. دونوں سے چھٹکارے کا راستہ بھی تقریباً یکساں ہے. آپ کو اپنا لائف سٹائل بدلنا ہوگا.

    آل یہود ارض قدس میں ایک دیوار کے سامنے روتے ہیں. اسے دیوار گریہ کہتے ہیں. آپ کبھی اسے قریب سے دیکھیں تو اس کی ہر درز ہر دراڑ میں بہت سی پرچیاں کاغذ ٹھونسے ہوئے ہیں. یہ اُن لوگوں کی ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات و ارمان لکھ کر دیوار کے حوالے کیں اور خود ایک یقین کے ساتھ ان کو پانے کیلئے نکل گئے. لیکن جو دیوار کے سامنے رونے کو ہی حل سمجھتے ہیں وہ پھر روتے ہی رہتے ہیں.

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ دونوں آپ کی زندگی مشکل بناتے ہیں. جسمانی وزن میں آپ کی سانس ہانپ جاتی ہے جبکہ ذہنی بوجھ میں آپ سے وابستہ رشتوں تک کا دم گھٹنے لگتا ہے. اوور ویٹ لوگوں کا اکثریتی مسئلہ ہے کہ یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ اپنی سرحدیں پار کر چکے ہیں. جسمانی وزن چند ماہ کی مشقت ہے تو ذہنی بوجھ کیلئے تو روتے ہوئے کچھ سجدے ہی بہت ہوتے ہیں.

  • تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    اٹک میں موجود ختم نبوت ہوٹل اکثر ہماری چائے کی بیٹھک کی جگہ ہوتی ہے کہ یہاں کی چائے بہت معیاری ہوتی ہے اور دوسرا یہاں کا کھلا ماحول آپ کی طبیعیت کی بیزاری کو دور کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

    آج بھی ہم نے چائے پینے کا ارادہ بنایا تو ختم نبوت ہوٹل کو ہی چل دیئے چائے ابھی پہنچی نہیں تھی ہم گپ شپ میں مصروف تھے کہ میرے بائیں بیٹھے بھائی نے مجھے متوجہ کر کے کہا کہ یہ ساتھ تیسرے ٹیبل پر بزرگ بیٹھے ہیں ان کے پاس کھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں ویٹر کو کہہ رہے تھے کہ میرے پاس 40 روپے میں مجھے روٹی کھلا دو تو ویٹر نے کہا کہ بابا جی 40 روپے میں تو چائے نہیں آتی کھانا کیسے آپ کو کھلاؤں؟؟؟ یہ سب گفتگو میرے ساتھ بیٹھے بھائی نے سنی تو مجھے کہا کہ جا کر کاؤنٹر پر بتا دو کہ ان بابا جی کو کھانا کھلا دیں رقم کی ادائیگی ہم کریں گے۔ ان شاءاللہ

    کاؤنٹر پر جا کر میں انہیں کہہ کر آیا کہ بابا جی کو کھانا دیا جائے، ساتھ ہی چائے پلانے کا بھی کہہ دیا واپس آکر کہا کہ بابا جی یہ چالیس روپے جیب میں ڈالیں روٹی آپ کو دے دیتے ہیں بابا جی منہ سے کلمہ شکر نکلا اور برکت کی دعا دی لیکن آنکھوں سے یاسیت کی کیفیت نہ گئی اور کہنے لگے میں تو کھا لونگا لیکن میرے بچے جو کل سے بھوکے ہیں وہ کیا کریں گیں؟ ایڈریس کی بابت پوچھا تو کہنے لگے کہ حاجی شاہ رہتا ہوں کل کسی سیاسی شخصیت کا نام لیکر کہتے ان کے پاس گیا کہ کچھ کھانے کیلئے دے دو تو مجھے کہا گیا کہ صاحب موجود نہیں بعد میں آنا کا کہہ کر ٹال دیا گیا۔

    ساتھ موجود دوسرے بھائی نے 300 روپے بابا جی کو کرایہ کی مد میں پیسے دیئے اور کہا کہ آپ رکشہ میں بیٹھ کر مرکز مصعب بن عمیر پیپلز کالونی پہنچیں ہم آپ کے بچوں کیلئے راشن کا بندو بست کرتے ہیں۔ مقامی بھائی نے مدرسہ میں فون کر کے ایک راشن پیک تیار کرنے کو کہا جو کہ مدرسہ کے بچوں کے راشن سے ہی بننا تھا۔ میں نے بابا جی کو مرکز کا ایڈریس سمجھایا اور اپنا نمبر انہیں دیا کہ وہاں پہنچ کر مجھے فون کریں۔

    ہمارے چائے پینے کے بعد مرکز پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی مجھے ایک غیر مانوس نمبر سے کال آئی میں نے السلام علیکم کہا تو وہی مانوس سی نحیف آواز سنائی دی
    "پتر میں اوہ بابا بول رہیا آں جسان تساں روٹی کھوائی اے میں ماشاءاللہ سی این جی ت بیٹھا آں”
    میں نے بابا جی کو کہا کہ بابا جی آپ وہیں بیٹھیں میں آیا میں نے راشن اٹھایا اور ایک بھائی کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ماشاءاللہ CNG پر پہنچا ان باباجی کو سامان دیا اور ان کو دعاؤں میں یاد رکھنے کا کہا تو بابا جی نے فقط نم آنکھوں کو چھلکنے سے روکا ورنہ وہ چھلکنے کو بے تاب تھیں۔ کہنے لگے مستریوں کے ساتھ کام کرتا ہوں بازو کمزور ہوگئے کہ اب مزدوری نہیں کر سکتا تین بچیاں اور ایک چھوٹا بچہ ہے۔

    ہم نے بابا جی کو نماز پڑھنے اور رب سے دعا کرنے اور محتاجی دور کرنے کی دعا مانگنے کی تلقین کی اور سب کیلئے دعا کی تلقین کی اور کہا کہ بابا جی پوری کوشش ہوگی کہ آپ کو ماہانہ معقول راشن پہنچایا جا سکے، اور جلدی موٹرسائیکل کو واپس موڑا کہ کہیں بابا جی کی آنکھیں چھلک نہ پڑیں۔ اور واپسی پر سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کیسے کیسے مجبور لوگ ہیں اور سفید پوش لوگ ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور ان کا حق پیشہ ور مانگنے والے دست سوال دراز کر کے کھا جاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی رب تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا کہ اس نے دینے والا اور تقسیم کرنے والا بنایا کہ اس نے اپنے علاؤہ کسی کا محتاج نہیں بننے دیا۔

  • عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    فیمن ازم سے دانستہ یا نادانستگی میں متاثرہ خواتین کو ان احادیث پر شدید اعتراض ہے:

    "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ”. رواه البخاري (بدء الخلق/2998) .

    ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :”إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ”. رواه البخاري.(النكاح/4795)

    ترجمہ: جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا”. رواه مسلم. (النكاح/1736)

    ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔

    "وعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ”. رواه الترمذي”. ( الرضاع/ 1080)

    ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگر چہ تنور پر روٹی بنارہی ہو ( تب بھی چلی آئے)

    اوپر سے مغربی فیمنسٹس نے میریٹل ریپ کی جو اصطلاح نکالی ہے، وہ جلتی پر تیل ہے۔ اگر بیوی کی رضامندی نہ ہو اور شوہر تشدد کے بغیر بھی ہمبستری کر لے ( مثلاً کوئی نشہ آور دوا دے کر) تو یہ بھی ریپ ہے اور بہت سے ممالک میں قابل سزا جرم ہے۔۔۔

    اسکے برعکس یہ دیکھیں کہ بیشمار تحقیقات کے مطابق خواتین میں سب سے زیادہ پائی جانے والی "فینٹسیز” میں سے ایک ریپ ہے۔۔۔۔!!! جی ہاں، بہت سی خواتین اپنے ساتھ زبردستی سیکس کے منظر کو تصور میں لا کر خود لذتی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ کئی سیکشوؤلوجسٹس کا کہنا ہے کہ عورت کی جنسی تسکین کا اصل محرک اسکا مرد سے تعلق یا محبت نہیں بلکہ اسکا راست تناسب مرد کے اندر اپنی خاطر "ہوس” کی مقدار کے ساتھ ہے۔ جی ہاں، اسے دوبارہ پڑھیں اور اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی گہری بات ہے۔

    البتہ یہ حقیقت فیمنسٹس کیلیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ نیو یارک میں ایک فیمنسٹ، یونیورسٹی پروفیسر، مارٹا مینا، کہتی ہیں کہ مجھے افسوس اور مایوسی کے ساتھ اس بات کا اقرار کرنا پڑ رہا ہے کہ جتنا لٹریچر عورت کی جنسیت کو اسکے جذبات اور محبت سے جوڑتا ہے، اسکے بالکل برعکس عورت کی جنسی تسکین کا (مرد کیلئے) اسکی محبت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اسکی زنانہ "نرگسیت” کا ایک مظہر ہے۔ "چاہے جانا” ہی اسکا کلائمیکس ہے۔ "خود سے محبت” کے اپنے جذبے کی مرد کے ذریعے تصدیق اور مرد کے اندر اپنی خاطر جذبات کی آگ کو بھڑکتے دیکھنا ہی اسکی جنسیت کا نکتہ عروج ہے، خواہ اسکے دل میں اس مرد کی خاطر کوئی محبت ہو اور نہ اس سے کوئی تعلق ۔۔۔۔!!!

    ان سب باتوں کا مقصد کسی صورت میں بھی کسی غیر خاتون کے ساتھ جبری جنسی تعلق یا ریپ کو جسٹیفائی کرنا ہرگز ہرگز نہیں ہے۔

    البتہ کوئی شوہر اگر اپنی تسکین کیلئے بیوی کو زبردستی مجبور کرتا ہے، اور کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچاتا تو مذہبی حکم سے قطع نظر، اسے تو اپنی فینٹسی پوری ہونے پر خوش ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ اور اگر اللہ کی رضا کی خاطر وہ موڈ نہ ہونا، سردی میں نہانا، کسی ناراضگی کی وجہ سے شوہر کو سزا دینا، جیسے بہانوں کی قربانی دے دے تو یہ تو گویا سونے پر سہاگہ ہے۔۔۔

    پر برا ہو اس موئے فیمن ازم کا جو نہ عورت کو زندگی کا لطف لینے دیتا ہے اور نہ اسکے شوہر کو۔۔۔۔

    (انتہائی اہم) نوٹ: اس تحریر میں وہ "مظلوم” شوہر مراد ہیں جو اپنی بیویوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے ہیں لیکن انکی کچھ عادات یا دوسرے (مالی/خاندانی) مسائل کی وجہ سے بیویاں ان سے نالاں رہتی ہیں اور قریب نہ پھٹکنے دے کر انتقام کا نشانہ بناتی ہیں اور ظاہر ہے دوسری شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ "بیچارہ” اپنی ضرورت وہاں سے پوری کر لے۔۔۔

    رہے وہ شوہر جو حقوق بھی پورے نہیں کرتے اور بات بہ بات ہتک اور تشدد پر اتر آتے ہیں، وہ میری طرف سے جائیں بھاڑ میں۔۔۔

  • مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    افریقی ملک آئیوری کوسٹ کے غریب کان کنوں کو سونے کی تلاش میں ایک کنویں میں کام کرتے اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کا پہلا ردعمل ہوگا کیا یہ پاگل ہیں.؟ یہ نہ صرف انتہائی محنت و مشقت کا کام ہے بلکہ یہ موت کے ساتھ کھیلنا ہے. سونا دریا کے نشیبی علاقوں میں دستیاب ہے جہاں تھوڑی کھدائی کرتے ہی اطراف سے پانی رسنے لگتا ہے. نیچے کیچڑ بنتی ہے اور کنوئیں کی دیواروں سے مٹی گرتی ہے. اسے لکڑیاں لگا کر یہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں.

    نیچے بہت سا کیچڑ نکال کر وہ چٹانی ٹکڑے ملتے ہیں جن کے ساتھ تھوڑا بہت سونا چپکا ہوتا ہے. سونا اتنا ہی ملتا ہے جو بمشکل دیہاڑی پوری کر پاتا ہے. پھر یہ پاگل پن کیوں؟ تو اس کیوں کا بہت سادہ جواب ہے کہ پھر یہ کریں تو کیا کریں؟ یہی مزدور سیزن میں کوکوا کے فارمز پر جاتے ہیں اور سخت گرمی میں دنیا کے چاکلیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کوکوا چنتے ہیں. یا پھر ان کنوؤں میں اترتے ہیں.

    یہ کنویں اس لئے آباد ہیں کہ ان کے ساتھ امیدیں اور خواب جوڑ بنا لیتے ہیں. کسی دن کوئی ایک بڑا سونے کا ڈلا اگر مل گیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے. ان ہی خوابوں کی تعبیر کیلئے مزدور کسی بھی وقت زندہ دفن ہونے کیلئے ان میں اتر جاتے ہیں. آئیوری کوسٹ کے کنویں میں اترنے والوں کی وجہ پھر سمجھ آجاتی ہے.

    لیکن مایوسی کے کنویں میں اترنے والے کی سمجھ نہیں آتی. آئیوری کوسٹ کے مزدور تو ایک ٹیم بنا کر یہ کام کرتے ہیں اور مایوسی کے کنویں میں اترنے والا تنہا ہوتا ہے. ایک کے پاس سونے کے کسی بڑے ڈلے کی اُمید اور خوبصورت زندگی کے خواب ہوتے ہیں. جبکہ دوسرا اپنی امید اور خواب باہر چھوڑ کر اندر اتر جاتا ہے.

    یہ مایوس موت کی منتظر قبریں پھر سمجھ نہیں آتیں. اپنی مایوسیوں کو کلمہ پڑھا لیں. کیونکہ مسلمان مایوس نہیں ہوتا.

  • آٹزم اور شادی — خطیب احمد

    آٹزم اور شادی — خطیب احمد

    تحقیقات بتاتی ہیں کہ ACTL6B نامی جین کی میوٹیشن آٹزم، مرگی اور تقریباً تمام اقسام کی دانشورانہ پسماندگی Intellectual disability کی وجہ بنتی ہے۔ جنیٹک انجینرنگ نے ابھی اتنی ترقی دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں کی کہ اس معلوم شدہ جینیاتی مرض کو درست کرکے والدین سے اگلی نسل میں منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔

    اب ایشیاء میں غلطی یہاں ہوتی کہ جب اوپر بیان کردہ تینوں کنڈیشنر معلوم بھی ہو چکی ہیں تو مانا ہی نہیں جاتا۔ پڑھے لکھے والدین ایسے بچوں کو قبول کرتے ہیں ان پڑھ کہتے ہیں ہمارے بچے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ اپنی من مرضی سے اسے بھوت پریت یا کسی اور وجہ سے جوڑ کر ساری عمر علاج کے نام پر دم درود تعویز گنڈے کرانے کو در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے۔ اور پھر ایسے افراد کی معذوری چھپا کر یا کم بتا کر شادیاں کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اور وہ کوشش کامیاب بھی ہو جاتی۔

    ان تینوں اقسام میں والدین کے پاس تو متاثرہ جین ہوتا ہے۔ جس کے اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونے کے چانس 50 فیصد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ یعنی دو میں سے ایک بچہ اسی کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوگا۔ اور جہاں بھی شادیاں ہوئی ہیں بلکل ایسا ہی ہوا بھی ہے۔ آپ بے شمار مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔

    جنکا ایک ہی بیٹا ہوتا وہ یہ کہہ کر اسکی شادی کرتے کہ ہماری نسل نہ ختم ہو جائے۔ اور کچھ ایسے مرد جنکی غربت یا کسی اور وجہ سے شادی نہ ہو رہی ہو۔ وہ ان تینوں کنڈیشنز سے کم درجے کی متاثرہ لڑکی سے شادی کر لیتے ہیں۔ کہ اولاد ہوجائے گی۔ اور اگلی نسل میں معذوری ٹرانسفر ہو جاتی۔ ہاں مرگی سے متاثرہ لڑکی کے ماں بننے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں اگر وہ ریگولر دوا کھا رہی ہے۔ ظاہر ہے دوا چھوڑے گی تو پھر دورے پڑیں گے۔

    شادی ہو اور اولاد پیدا نہ کی جائے تو ان میں سے کم درجے یعنی معمولی معذوری کے حامل افراد کی شادی کرنے میں حرج نہیں ہے۔ مگر یہاں تو شادی کرنے کا پہلا مقصد کی اولاد ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی وجہ ان افراد کی شادی کے لیے نہیں ہوتی۔ تو شادیاں کرنا ان افراد کو اور خود کو مزید مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ شادیوں سے پرہیز ہی کریں۔ ان افراد کو اپنی کئیر کرنا اور خود کو سنبھالنا یا اگر ممکن ہو تو مالی طور پر خود مختار کرنا سکھایا جائے۔ تاکہ اپنی زندگی بغیر کسی سہارے کے گزار سکیں۔

  • چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    پچھلے دنوں ہماری ایک کولیگ کی ترقی ہوئی تو انھیں مبارک باد دینے ان کے آفس گیا۔ مبارک باد دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اتنی کم عمر میں اس عہدے پر پہنچ گئی ہیں۔ کہنے لگیں کہ میں نے بہت سخت وقت دیکھا ہے لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ مسلسل محنت اور ہمت نہ ہارنے سے ہی سب کچھ ملا ہے۔ میں بی ایس سی میں تھی کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ والد صاحب نے دوسری شادی کر لی۔ چند ہفتے سب ٹھیک چلا مگر پھر سوتیلی ماں نے اپنا سوتیلا پن دکھانا شروع کیا۔ ہم صرف دو بہن بھائی تھے۔ بھائی مجھ سے بڑا تھا جسے والد صاحب نے پاکستان سے باہر پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔

    سوتیلی ماں گھر کے سارے کام مجھ سے کرواتی تھی، والد صاحب کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی تھی کہ اسے گھرداری سکھا رہی ہوں، ورنہ اگلے گھر جا کر یہی گلہ آئے گا کہ سوتیلی تھی اس لیے کچھ نہیں سکھایا۔ صبح جلدی اٹھ کر سب کے لیے ناشتہ بناتی تھی،اور گھر کی صفائی کر کے یونیورسٹی جاتی تھی۔ پھر یونیورسٹی سے واپس آتے ہی سب کے لیے کھانا بنانا ، برتن دھونا ، کپڑے دھونا وغیرہ سب کچھ کرتے رات کے دس گیارہ بج جاتے تھے۔ یہ روز کا معمول تھا۔

    ہمارے والد صاحب کا اچھا بزنس تھا مگر سوتیلی ماں کے کہنے پر اب مجھے جیب خرچ بھی بہت کم ملتا تھا ، اتنا کم کے میں نے والد صاحب سے کہنا ہی چھوڑ دیا۔ محلے کےبچوں کو شام کو ٹیوشن پڑھانا شروع کی تاکہ اپنا جیب خرچ بنا سکوں جس سے گھر کے کام مزید رات کو دیر سے ختم ہوتے تھے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ یونیورسٹی کی سمسٹر کی فیس کی باری آئی تو سوتیلی ماں نے والد صاحب کو کہہ دیا کہ اب یہ خود اتنا کماتی ہے، اپنی فیس خود دے سکتی ہے۔ جس کے بعد مجھے مزید زیادہ محنت کرنی پڑی تاکہ اپنی فیس بھی خود جمع کر سکوں۔زیادہ پیسوں کے لیے ایک جگہ ہوم ٹیوشن پڑھانا شروع کی تو ان بچوں کے والد نے تنگ کرنا شروع کردیا مجبوراً چھوڑنا پڑی۔

    بہنوں کو بھائی کا بڑا سہارا ہوتا ہے لیکن بھائی اپنی عیاشیوں میں مصروف تھا۔ میں جتنی بھی کوشش کرتی تھی مگر وہ میری بات اول تو سنتا ہی نہیں تھا، کبھی سن بھی لیتا تھا تو ایک ہی بات ہوتی تھی کہ تم عورتوں کی لڑائیاں کبھی ختم نہیں ہونگی۔

    والد صاحب کا سہارا تھا تو وہ سوتیلی ماں نے چھین لیا تھا۔ میری ڈگری ہوتے ہی سوتیلی ماں نے اپنے کسی رشتہ دار کے ساتھ میرے رشتے کے لیے والد صاحب کے کان بھرنے شروع کیے۔ وہ نشئی سا تھا، واجبی سی تعلیم، محلے میں ہی کوئی دکان چلاتا تھا۔ عمر میں بھی مجھ سے کافی بڑا تھا۔ میں نے انکار کیا تو سوتیلی ماں نے کہنا شروع کیاکہ یونیورسٹی میں ہی اس کا کسی سے چکر ہوگا اس لیے نہیں مان رہی۔ اب تو میرے دل میں آتا تھا کہ اچھا تھا کہ کوئی ہوتا جس سے شادی کر کے اس جہنم سے نکل سکتی۔ بڑی مشکل سے ایم فل کی اجازت ملی۔ اپنے اخراجات تو میں پہلے ہی خود پورے کر رہی تھی لیکن ایم فل کی فیس زیادہ تھی۔ اس لیے والد صاحب سے بہرحال کچھ نہ کچھ سپورٹ ضروری تھی۔ ان کی اچھی مالی حیثیت کی وجہ سے مجھے کوئی سکالرشپ بھی نہیں مل سکتا ہے۔ مشکل سے ایم فل میں داخلے کی اجازت مل ہی گئی۔ ایم فل کے پورا ہونے کے قریب ایک کلاس فیلو نے پروپوز کیا، میں کسی سہارے کی تلاش میں تھی اس لیے اسے فوراً کہا کہ رشتہ بھیجو۔ اس رشتہ کے آنے پر سوتیلی ماں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ وہ وہ الزام لگائے کہ خدا کی پناہ۔ لیکن میں ڈٹی رہی۔ کلاس میں وہ لڑکا کافی اچھا تھا ۔ شکل و صورت اور اخلاق بھی مناسب تھا۔ والد صاحب نے لڑکے کا گھر بار نہ دیکھا بس ایسے ہی ناراض ہو کر ہاں کر دی اور کہہ دیا کہ شادی کر کے جاؤ اور واپس کبھی اس گھر میں نہ آنا۔

    شادی بغیر کسی جہیز کے سادگی سے ہوئی۔ جہیز نہ لانے کی وجہ سے لڑکے کی ماں اور بہنوں نے چند دنوں میں ہی طعنے دینے شروع کر دیے۔ میں ایک جہنم سے نکل سے کردوسرے میں آگئی تھی۔ شادی سے قبل اس نے کوئی وعدے تو نہیں کیے تھے مگر مجھے اتنا تھا کہ وہ مجھے پیار اور عزت دے گا۔ وہ بھی نہ ملے۔ کچھ دنوں بعد بات طعنوں سے جسمانی ازیت تک پہنچ گئی۔ میں نے جاب کی بات کی تو فوراً سے مان گئے۔ اچھی جاب مل جانے سے گھر میں کچھ دن سب اچھا رہا لیکن کچھ مہینوں بعد پھر سے وہی حالات۔ شاید انھیں اس بات نے شیر بنا دیا تھا کہ اس کا آگے پیچھے تو کوئی ہے نہیں ۔ باپ سوتیلی ماں کا ہو چکا تھا اور گھر آنے سے منع کر چکا تھا۔ بھائی نے باہر ہی کسی میم سے شادی کر لی تھی اور اسے بہن کا کچھ یاد ہی نہیں تھا۔ جن لڑکیوں کا میکہ نہ ہو وہ کٹی پتنگ کی مانند ہوتی ہیں۔ مجھے تنخواہ ملتے ہی شوہر ساری لے لیتا تھا۔ گھر میں ساس کی مرضی چلتی تھی۔

    مجھے جاب سے واپس کر گھر کے سارے کام بھی کرنے ہوتے تھے۔ اس کے باوجود بھی طعنے اور مارکٹائی ہاتھ آتی تھی۔ ہر ماہ اتنا کما کے دیتی تھی پھر بھی جہیز نہ لانے والے طعنے ختم نہیں ہوتے تھے۔ باپ اور بھائی سے تحفظ نہ ملنے کے بعد مجھے شوہر سے یہ توقع تھی مگر اب وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔ شوہر سے کئی بار بات کی، اسے سب بتایا مگر اسے صرف یہ تھا کہ میرا میکہ تو ہے نہیں تو کہاں جاؤں گی۔ جب سب کچھ برداشت سے باہر ہو گیا تو میں نے خلع کے لیے کیس دائر کر دیا۔ جب تک خلع کا کیس چلتا رہا، شوہر کے گھر ہی رہی، اسے کہتی رہی کہ آپ ابھی حالات کو بہتر کر لو تو میں خلع کا کیس واپس لے لوں مگر اسے تھا کہ میں خلع نہیں لونگی بلکہ صرف اسے بلیک میل کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔ مجبوراً خلع لے لی۔

    خلع لے کر والد صاحب کے پاس پہنچی تو سوتیلی ماں نے گھر میں ہی داخل نہ ہونے دیا۔ والد صاحب کو کال کرتی رہی مگر وہ اٹینڈ نہیں کر رہے تھے۔ وہیں دروازے پر ان کا انتظار کیا مگر جب وہ آئے تو میری بات سنے بغیر ہی اندر چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ بھائی سے بھی بات کی انھیں سب بتایا مگر انکا کہنا تھا کہ اپنے مسئلے خود حل کرو۔

    وہاں سے ایک گرلز ہاسٹل میں آگئی ۔ جاب کی وجہ سے پیسے کا مسئلہ نہیں تھا اس لیے ایک دو سال میں ہاسٹل میں ہی رہی۔ مرد ذات سے نفرت سی ہو گئی تھی۔

    میرے ایک کولیگ کو کسی طرح میرے حالات کا پتہ چلا جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی، اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ اس نے ایک بزرگ کی مدد سے مجھ سے رشتے کی بات کی۔ اس کی کافی کوشش کے بعد میں نکاح پر راضی ہو گئی۔ اب مجھے قدرت نے وہیں لا کھڑا کیا تھا جہاں کچھ عرصہ قبل میں اور میری سوتیلی ماں تھی۔ دونوں بچے سہمے ہوئے تھے۔ لڑکا بڑا تھا اور لڑکی چھوٹی۔

    میں نے انھیں حقیقی ماں جیسا پیار دینے کا سوچا۔میرے جو بچے کبھی کبھی آپ کے بچوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں کھیلتے ہیں وہ میرے شوہر کی پہلی بیوی سے ہیں۔ بچوں کو ایسا پیار دیا ہے کہ شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ میرے سگے بچے ہیں یا سوتیلے۔ میرا شوہر نہیں چاہتا کہ ابھی میری اولاد ہو، شاید اسے خوف ہے کہ میری اپنی اولاد ہو گئی تو میں ان بچوں کو پہلے جیسا پیار نہیں دونگی ۔ اس لیے میں نے اس پر کبھی زور نہیں دیا۔ والد صاحب بوڑھے ہونے کے بعد کاروبار کے قابل نہیں رہے، بھائی ملک سے باہر ہے۔

    میرے اس شوہر کی تنخواہ اچھی ہے اس لیے اس نے میری تنخواہ کے بارے کبھی نہیں پوچھا۔ اپنی تنخواہ میں سے ایک بڑا حصہ اپنے باپ اور سوتیلی ماں کے اخراجات کے لیے بھجوا دیتی ہوں۔ باپ پیسے تو لے لیتا ہے مگر ابھی بھی ناراض ہے، بات نہیں کرتا مجھ سے نہ ملتا ہے ورنہ اس کی مزید خدمت بھی کرتی۔

    شوہر سے پیار ملا ہے۔ ان دو بچوں کی صورت اللہ نے اولاد بھی دے دی ہے۔ اب یہ ترقی بھی مل گئی ہے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ اتنے مشکل حالات کے باوجود میں نے کبھی بھی خودکشی کا نہیں سوچا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میرے ساتھ جو بھی ظلم ہوئے ان کا بدلہ میں کسی سے بھی لوں۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ میری زندگی میں سکون ہے۔

    میں نے نم آنکھوں کے ساتھ رخصت ہونے سے پہلے ان سے اجازت چاہی کہ ان کی سٹوری اپنی وال پر لکھ لوں۔ انھوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ضرور لکھیں تاکہ نوجوان نسل کو معلوم ہو سکے کہ کسی بھی کامیاب شخص کو اس سیٹ تک پہنچنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شاید اس سے کسی کو اپنی پریشانیاں چھوٹی لگنے لگیں۔ اس لیے اس میں شناخت چھپانے کے لیے تھوڑا سی تبدیلیاں کی ہیں لیکن مرکزی مضمون وہی رہنے دیا ہے۔ انھیں دکھانے کے بعد ان کی اجازت سے ہی یہ سٹوری پوسٹ کی جار ہی ہے۔

  • معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے،عبدالغنی صراف کنڈے کے ہاں 20 دسمبر 1949ء کو قصبہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے انہوں نے اے لیول اردو، کامرس ، اکائونٹنگ، بیچلرزساوئتھ ایشن سٹڈیز اینڈ اردولندن، ماسٹر آف ہومیوپیتھی لندن (M.Hom) سے تعلیم حاصل کی اور پیشے کے طور پرہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے-

    ان کی پسندیدہ ادبی شخصیت:خواجہ الطاف حسین حالیؔ جن کی مسدس کی سحر انگیزی سے متاثر ہوکر میرا قیاس ہے شاعرِ مشرق کا قلم شکوہ جواب شکوہ لکھنے پر متحرک ہوا پسندیدہ غیر ادبی شخصیت ہومیوپیتھک طریقِ علاج کے بانی ڈاکٹر ہنی مین جن کی تحقیق و پیشکش کی بدولت دنیا کے کروڑوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔

    مرزا غالب نے بیدل کو اپنا معنوی استاد تسلیم کیا تھا۔ غالبؔ میر تقی میر کو اپنا پیش رو مانتے تھے۔ غالب کے یہاں ردّ ومقبول کے واقعات موجود ہیں۔ غالب کسی کی شخصیت کو قبول کر لیتے ہیں کسی کی شخصیت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے غالب کی نفسیات کار فرما ہے جسے احساسِ برتری اور احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے آپ کو سب سے بڑا شاعر بھی مانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے مثلاً

    ہیں یوں تو زمانے میں سخن ور بہت اچھّے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

    ہمارے عہد کے اہلِ قلم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا شاعر تسلیم کریں۔ یہ کوئی عیب نہیں، نہ ہی اسے تعلّی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ کی اہمیت کو تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کے بعض اشعار میں یہ احساس موجود ہے۔ وہ جب تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو انھیں خیال گزرتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے الگ سے ضرور ہیں۔ وہ ذرا دور سے، پردوں کے اس طرف سے۔ اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں۔

    جس کو ہوں دل میں چھپائے رات دن
    بس وہی موتی منورؔ اصل ہے

    اس کا مطلب ہے۔ دنیا کے سارے جواہر نقلی ہیں، سارے موتی پھیکے ہیں جو خزانہ میری تحویل میں اللہ تعالیٰ نے دے دیاہے ، اور جومیرے تصرف میں ہے وہی اصلی ہے، آب دار ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے موتی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی خیال شاعر کو اپنی قیمت بڑھانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ شاعر کو اپنے مقابلے میں دنیا کی ہر کرنسی کم قیمت لگتی ہے :

    جہاں بھر کی کرنسی سے بالاتر ہوں میں
    فروخت کرنا ہو خود کو پانچ دس میں نہیں

    یہاں نفی اور اثبات کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی اپنی ذات کا اثبات کرتا ہے تو خود بہ خود بہت سی چیزوں کی نفیہو جاتی ہے۔ یہ احساس اردو غزل کو غالب نے دیا ہے۔ غالب نے ہمیشہ اپنے آپ کو نایاب سمجھا۔ غالب آسانی سے کبھی کسی کو دستیاب نہیں ہوئے۔ منور احمد کے بعض اشعار میں ہمیں یہ احساس ملتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:

    طے کرے فاصلہ وہ بھی تو کچھ
    ہم سے ملنا ہے تو اِس پار آئے

    اُس پار سے اِس پار آنا جواں مردی کا کام ہے۔ سمندر کو پار کرنا ۔ لہروں سے نبرد آزمائی، طوفانوں سے دو دو ہاتھ۔ ان خطروں سے بچ گئے تو ہم سے مل پاؤگے۔ ورنہ ممکن نہیں۔ ہم وہ گوہرِ نایاب ہیں جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
    غالب نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کئی طرح کے اشعار کہے ہیں۔ ایک شعر اس طرح بھی کہا ہے :

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    تمنا کے دوسرے قدم کے متلاشی غالب کی نظر میں دنیا کبھی کبھی بہت حقیر ہو جاتی ہے۔ بچوں کا کھلونا، کھیلو اور توڑ دو۔ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ منور احمد نے بھی اس طرح کی راہ سے گزرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے زمانے اور مزاج کے لحاظ سے ذرا سا بدلا ہوا مزاج ہے ان کا :

    میرے ماضی کے کھلونے ہیں منورؔ یہ تو سب
    تم نے بس قصّہ سنا ہے خنجر و شمشیر کا

    عالم انسانیت کی ایک مکمل تاریخ سمٹ آئی ہے اس شعر میں۔ یہ خنجر، یہ شمشیر، یہ تیر وتفنگ ایسے کھلونوں کی مانند ہیں جن سے میں ماضی میں کھیل چکا ہوں۔ یہاں موضوعات میں یکسانیت ضرور ہے۔ لیکن اظہار کا طریقہ بدل چکا ہے۔ماضی کے اللہ والوں کی جوانمردیاں شاعر کے احساسات کو گھیرے ہوئے ہیں ، منورؔ ابوابِ تاریخ کے بحور میں ڈوب چکا ہے، الفاظ بدل چکے ہیں۔ اسلوب نگارش میں تبدیلی آ چکی ہے۔ غالب کا زمانہ اور تھا اور منور کا زمانہ اور ہے۔ غالب کی زبان دوسری تھی منور کی زبان دوسری ہے۔ لیکن دنیا کی حقیقت جو دوسو سال پہلیغالب کی نظروں میں تھی آج دو سو سال بعد بھی دنیا کی حقیقت منورؔ احمد کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔دلّی کے اسد اللہ خان غالب ؔنے کہا تھا ؎
    ہوتا ہے شب و روز ہمیشہ مرے آگے

    پیرمحل کے پیرِ سخنوراں منورؔ احمد کنڈے کہتے ہیں تم جو آج خنجر وشمشیر کی باتیں کرتے ہو۔ میرے بازو کل ان کھلونوں سے کھیل چکے ہیں۔

    مرزا غالب اور منور احمد کے درمیان یہاں موازنے کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ دو صدیاں بیت چکی ہیں۔۔۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانوں کی عکاسی کی ہے۔ دردمندی اور تفکر کا احساس ہر زمانے میں ہر آدمی کو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ برتری کا جذبہ جب اذہان سے پھوٹ کر زبانوں پر آتا ہے تو ذرے بھی خود کو سورج کے پیکر میں ڈھال لیتے ہیں۔ انسان تو ان ذرّوں سے بالاتر ہے۔ منورؔ احمد کنڈے ایک شاعر کا نام ہے ، اورشاعر عام انسان سے بالاتر ہوتاہے۔ یہ حسن و عظمت خالقِ کائنات کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔

    نمونہ تحریر:
    ۔۔۔۔۔
    (نظم)
    ۔۔۔۔۔
    بُلبلے
    ۔۔۔۔۔
    تھا کنارہ وہ کسی تالاب کا
    محو تھا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
    آ رہا تھا صاف پانی میں نظر
    بادلوں نے آسماں گھیرا ہوا
    پھر گھٹا سے اِک چمک پیدا ہوئی
    اور منور ہو گئی ساری زمیں
    ابر سے آئی گرج کی اِک صدا
    اور بارش کا سماں پیدا ہوا
    سطحِ پانی پر ابھرتے جا بجا
    بلبلے لگتے تھے کتنے خوشنما
    ایک لمحہ رُک کے مِٹ جاتے تھے وہ
    اِک پتے کی بات کہہ جاتے تھے وہ
    زندگی کی ہے حقیقت اس قدر
    کیوں نہیں آتا بشر کو یہ نظر
    موت کیا ہے اور کیا ہے زندگی
    ہم سے پاؤ اے منورؔ آگہی
    ہے ہماری اور تمھاری بات ایک
    اور قضا کے سامنے اوقات ایک
    بلبلے نے اک سبق سکھلا دیا
    رہ گیا میں سوچ میں ڈوبا ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آسماں سے زمین پر اُترا
    لفظ روحِ حسین پر اُترا
    دورِ قدما سے اِرتقا پا کر
    ذہنِ انساں مشین پر اُترا
    ہم ہیں شاہد کہ دورِ حاضِر میں
    رنگِ حِرفت ہے چین پر اُترا
    مارِ قاتِل ہے جس کا شیدائی
    وہ سپیرے کی بین پر اُترا
    ہم تو محکوم لاالہ کے رہے
    اُن کا ایماں ہے تین پر اُترا
    ایک سجدہ دعا کا مسکن تھا
    مہ جبیں کی جبین پر اُترا
    جس نے پائی قلم کی سُلطانی
    وہ ہی دل کے یقین پر اُترا
    راز ہر صدق کا منورؔ جی
    ہے محمدؐ کے دین پر اُترا

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1) پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ ’باغاں دے وچکار‘ ۲۰۰۳ء
    ۔ (2) اردو شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ 2005ء ’بیداردل‘
    ۔ (3)طاقِ دل
    ۔ (اردو شاعری کا مجموعۂ دوم)
    ۔ (4)پنجابی شاعری کا مجموعۂ دوم
    ۔ ’پینگ ہُلارے‘
    ۔ (5)ابرِ قبلہ (مذہبی منظومات
    ۔ 2010ء)
    ۔ (6)حرفِ منورؔ منظومات
    ۔ 400 صفحات 2010ء
    ۔ (7)لختِ دل
    ۔ اردو وپنجابی کلام
    ۔ 2011ء
    ۔ (8)بحرِ خاموش
    ۔ اردو کلام غزلیات ومنظومات
    ۔ 2012ء
    ۔ (9)اوراقِ شفاء ہومیوپیتھی
    ۔ 2012ء
    ۔ (10)رودِ وفا
    ۔ شعری مجموعہ (اردو)
    ۔ 2012ء
    ۔ (11)برگِ شفاء
    ۔ ہربل ہومیوپیتھی 2012ء
    ۔ انگریزی زبان میںہربلزم
    ۔ او رہومیوپیتھی پرعلی الترتیب
    ۔ چار اور پانچ جلدوں پر
    ۔ مشتمل کار سپانڈس کورس)
    ۔ (12)بامِ دل
    ۔ (اردو شاعری)
    ۔ (13) دُرِ منور
    ۔ (مذہبی مثنوی منظومات)
    ۔ (14)شبیہِ دل
    ۔ (زیرِ ترتیب)

    ایوارڈ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیلو آف دی چارٹرڈ سوسائٹی آف ہومیوپیتھی اینڈ نیچرل تھیراپیوٹکس لندن۔۔۔
    ۔ (2)پولنگ پرنسپیلیٹی سے متعدد اعزازات (نوبل بردہڈ ممبر شپ۔۔۔ نائٹ ہڈ۔
    ۔ (3)ڈاکٹر آنریز کوسا۔۔۔۔ اور مزید نوبیلیٹی ٹائٹلز

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ  فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین مرحوم مشتاق انور اور امینہ خاتون کے ہاں کولکاتا میں 19 دسمبر 1999 پیدا ہوئیں، انہوں نے
    ایم-اے (اردو، بی-ایڈ اور ڈی-ایل-ایڈ تک تعلیم حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں انہوں نے 2017 میں باقاعدی شاعری کا آغاز کیا-

    ان کے پسندیدہ شاعر میر تقی میر، مرزا غالب، احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکراور احمد کمال حشمی، خورشید طلب ہیں ان کا مشغلہ شعری و نثری کتب کا مطالعہ کرنا، سیر و تفریح کرنا، کلاسیکی شعرا کی غزلیں اور پرانے گانے سننا ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہوا
    دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا
    خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم
    پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا
    ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر
    گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا
    مجھ کو نہیں قبول تمہارا کوئی جواز
    اب روز روز کا یہ بہانہ بہت ہوا
    اوروں کے درد و غم کا پتا چل گیا ہے نا
    اب تو ہنسو کہ رونا رلانا بہت ہوا
    تعبیر چاہیے مجھے، تدبیر کیجئے
    آنکھوں کو خواب واب دکھانا بہت ہوا
    فرزاؔنہ کوئی بات غزل میں نئی کہو
    ذکرِ وصال و ہجر پرانا بہت ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
    گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
    میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
    میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
    پگھل نہ جاؤں ترے جذبوں کی تپش سے میں
    نگاہیں اپنی مرے چہرے سے ہٹا تو سہی
    لحاظ پچھلے تعلق کا اس نے کچھ تو کیا
    مری صدا پہ وہ پل بھر کو ہی رکا تو سہی
    میں اپنے شعروں کے پیکر میں ان کو ڈھالوں گی
    تو اپنا حالِ غمِ دل کبھی سنا تو سہی
    طلب نہیں نئے قول و قرار کی مجھ کو
    کیا تھا مجھ سے جو وعدہ کبھی، نبھا تو سہی
    میں کیسے کہہ دوں کہ الفت میں کچھ نہیں پایا
    ملا نہ وہ، نہ سہی، اس کا غم ملا تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے
    اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے”
    تم یاد تو آتے ہو مگر آتے نہیں ہو
    یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے
    ہے دور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی
    اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے
    گہرائی کا اندازہ نہیں سطح سے ممکن
    جذبات کو جو ناپے وہ پیمانہ نہیں ہے
    اے شمع دوانے ترے ہیں کتنے پتنگے
    ہو جائے جو قربان وہ پروانہ نہیں ہے
    اندازِ سخاوت مرا شاہانہ ہے لیکن
    اندازِ طلب اُس کا فقیرانہ نہیں ہے
    دریافت کیا میں نے کہ ہے کیوں یہ اداسی
    لوگوں نے کہا بزم میں فرزاؔنہ نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
    اذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دھواں بھی ہر سو
    اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
    سارے زخموں کو ہرے کرتا ہے اک تیرا خیال
    یاد تیری مرے زخموں کی نگہبان ہے کیا
    زخم اب کوئی نیا دیتا نہیں ہے مجھ کو
    بے وفا اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہے کیا
    آشنائی کی جھلک اس کی نگاہوں میں نہیں
    آنے والے کسی خطرے کا یہ امکان ہے کیا
    ایک اک پل یہ جدائی کا ہے صدیوں پہ محیط
    اور اس طرح سے جینا کوئی آسان ہے کیا
    درد اتنا ترے لہجے میں کہاں سے آیا
    تیرے کمرے میں کہیں میر کا دیوان ہے کیا
    آندھی سی اٹھتی ہے فرزاؔنہ کے دل میں ہر پل
    اس کے سینے میں بھی برپا کوئی طوفان ہے کیا

  • رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    آخری شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے مجاہد آزادی اورانقلابی 11 جون 1897ء کو اتر پردیش کےگاؤں شاہ جہان پور میں پیدا ہوئے رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔

    وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔

    بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

    11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

    بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔

    بسمل ان کا تخلص تھا بسمل کے علاوہ رام اور نامعلوم کے نام سے مضمون وغیرہ لکھتے تھےرام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔

    كاكوری سانحہ کا مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا تھا۔ پنڈت جگت نارائن ملا سرکاری وکیل کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ملزمان کے لئے ” ملازم ” لفظ بول دیا۔ پھر کیا تھا، پنڈت رام پرساد بسمل نے جھٹ سے ان پر یہ چٹیلی پھبتی کسی:

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے
    عدالت کے ادب سے ہم یہاں تشریف لائے ہیں
    پلٹ دیتے ہیں ہم موج حوادث اپنی جرات سے
    کہ ہم نے آندھیوں میں بھی چراغ اکثر جلائے ہیں

    جب بسمل کو شاہی كونسل سے اپیل مسترد ہو جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی ایک غزل لکھ کر گورکھپور جیل سے باہر بھجوائی

    مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا !
    دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا !

    مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال ،
    اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا !

    اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں ،
    پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا !

    کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے ،
    یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا !

    آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ ،
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا !