Baaghi TV

Category: بلاگ

  • روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میری دو دن قبل والی تحریر پڑھ کرکل ایک دوست نے اپنی سٹوری سنائی۔ اسے دوسرے ذرائع سے کنفرم کر کے لکھ رہا ہوں۔

    وہ بتانے لگے کہ میرے والدین دوسرے شہر میں ہیں۔ مجھے جاب کے سلسلے میں فیصل آباد رہنا ہے تومیں نے شادی بھی یہیں کرنے کا سوچا۔ مختلف رشتہ داروں، جان پہچان والوں اور رشتہ سنٹرز کو رشتے کے لیے کہا۔ چونکہ میری جاب بہت اچھی ہے، تنخواہ لاکھوں میں ہونے کی وجہ سے رشتہ ڈھونڈھنا کچھ خاص مشکل نہیں تھا۔ میں نے سب رشتہ کرانے والوں کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ مجھے جاب والی لڑکی نہیں چاہیے۔ مجھے گھریلو لڑکی چاہیے ، چاہے اس کی تعلیم کم ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے باہر کے کھانے نہیں پسند تو اسے کھانا بنانا بھی آنا چاہیے، جہیز مجھے بالکل ہی نہیں چاہیے بس میری طرح شریف ہوں، اخلاق اچھا ہو۔

    ایک جگہ بات تھوڑی آگے بڑھی تو والدین کے ساتھ دیکھنے گئے۔ وہاں کھانا بھی بہترین پیش کیا گیا۔ ہر چیز پر کہا گیا کہ میری ہونے والی بیوی نے ہی بنایا ہے۔ باقی سب کچھ بھی والدین کو اور مجھے پسند آیا تو یہ رشتہ طے ہو گیا۔

    شادی کے بعدجب اسے فیصل آباد اپنے ساتھ لایا تو اس نے بتایا کہ مجھے تو کچھ بھی بنانا نہیں آتا۔ میں نے پوچھا کہ پھر شادی سے قبل آپ کے گھر والوں نے کیوں کہا تھا کہ سب آپ نے بنایا ہے۔

    وہ بتانے لگی کہ رشتہ کروانے والوں نے کہا تھا کہ کھانے کا اچھا انتظام کر لینا اور کہہ دینا کہ لڑکی نے بنایا ہے سب۔ رشتہ ہو جائے گا تو پھر کون ان باتوں کو دیکھتا ہے۔ لاکھوں میں تنخواہ ہے لڑکے کی۔ وہ نوکرانی کا انتظام بھی کر ہی لے گا۔ تو امی اور خالہ نے مل کر بنایا اور کہا کہ میں نے بنایا ہے۔

    وہ دوست کہنے لگے کہ مجھے اس جھوٹ پر غصہ تو آیا مگر اب شادی ہو چکی تھی۔ اس لیے اپنی بیوی سے کہا کہ چلیں اب سیکھ لیں۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ کچھ یو ٹیوب سے مدد لیں، کچھ امی ہے۔ کچھ کام والی بتا دے گی اور مدد بھی کروائے گی۔ لیکن آپ سیکھ لیں۔ مجھے نہ باہر کے کھانے پسند ہیں اور نہ ہی کام والی یہ اچھے سے کرتی ہے۔ لیکن میری بیوی نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ پہلے میں پیار سے سمجھاتا رہا، پھر تھوڑا غصہ کیا مگر اسے تو گویا کچن میں جانے سے ہی چڑ تھی۔

    چھ ماہ تک گزارا کیا مگر جب اس نے اس معاملے میں بالکل ہی کوئی بات ماننے سے انکار کر دیا تو مجبوراً اسے میکے بھجوا دیا کہ شاید کچھ حالات بہتر ہوں۔ چار پانچ ماہ وہاں رہی لیکن اس کے والدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم نے بیٹی کی شادی کی ہے، نوکرانی بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ کے لیے کھانے بنائے۔

    بیچ میں بزرگوں کو ڈالا تاکہ معاملہ سلجھ سکے ۔ مزید تین چاہ ماہ کے لیے اسے لے آیا۔ یوں ایک سال گزر گیا لیکن وہ اس پر بالکل بھی راضی نہ ہوئی۔

    وہ دوست افسردہ لہجے میں کہنے لگے کہ جب بالکل ہی کوئی صورت نہ رہی تو میں نے ایک طلاق دے کر گھر بھیج دیا کہ شاید اس سے ہی کوئی فرق پڑے اور وہ کچھ لچک دکھائے۔ عدت تک انتظار کیا لیکن ان کی طرف سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

    اس کے بعد میں نے دوسری شادی کی سوچا۔دوسری شادی تھی تو اچھی نوکری اور تنخواہ کے باوجود اب کی بار رشتہ ڈھونڈھنے میں بہت زیادہ مشکل پیش آئی۔ اب کی بار جہاں بھی رشتے کی بات چلی تو میں نے ہر جگہ یہ بھی شرط رکھی کہ ہونے والی بیوی سے گھر والوں کی موجودگی میں خود بھی یہ بات کروں گا۔جہاں بھی بات چلی تو پہلی شادی کی ناکامی کی وجہ ضرور بتائی تاکہ دوسری ناکام نہ ہو۔

    دوسرا یہ کہ پہلے منگنی کی، کچھ عرصہ منگنی رہی۔ پھر گھر والوں کو بہنوں کو کہا کہ ان کے گھر اس دوران جائیں اور دیکھیں کہ وہ کچھ بناتی بھی ہے یا پھر سے ویسا ہی نہ ہو ۔ پھر جا کر دل مطمئن ہوا اور اب اللہ کا شکر ہے کہ دوسری شادی کے بعد میرا گھر پرسکون چل رہا ہے۔ میں اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہوں اور وہ میرا۔

    وہ دوست بتانے لگے کہ آج کل جاب والی لڑکی کا رشتہ تو بآسانی مل جاتا ہے، والدین لاکھوں کا جہیز بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں لیکن گھر سنبھالنے کی بات کریں تو ایسے گھورتے ہیں جیسے پتہ نہیں کتنی غلط بات کر دی ہے۔ حالانکہ یہ کتنا خوبصورت نظام ہے کہ میاں بیوی زندگی اچھے سے گزارنے کے لیے مل کر رہیں، مرد باہر کے کام بہت احسن طریقے سے کر سکتا ہے تو وہ کمانے کی ذمہ داری نبھائے، باہر کے سارے کام کرے اور عورت گھر کے اندر کے سارے معاملات کو دیکھے۔

    ہمارے والدین کی زندگیوں میں اسی وجہ سے سکون تھا اور کم پیسے میں بھی سب بہترین چلتا رہا۔ اب پیسے کی دوڑ میں دونوں کمانے کے چکروں میں اپنا سکون ہی برباد کر بیٹھے ہیں۔ نہ بچوں کو توجہ، پیار ملتا ہے نہ شوہر کا خیال رکھ پاتی ہے۔لیکن عورت جاب بھی کرتی ہو تب بھی گھر کے کاموں کا اضافی بوجھ بھی اسی پر ہوتا ہے۔ کاش کہ ہم پیسے کے لالچ کی بجائے اپنی روایات کی طرف لوٹ آئیں اور پرسکون زندگی گزاریں۔

  • پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ بے نمازیوں کو نماز کی طرف راغب کیسے کر سکتے ہیں؟

    برصغیر کے علاوہ آپ کہیں بھی چلے جائیں ایک واضح فرق یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہاں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی مساجد بھری ہوئی ملتی ہیں۔ جبکہ یہاں پاکستان میں حال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پر کسی بھی مسجد میں جگہ نہیں ملتی جب کہ کسی بھی دوسری نماز پر ایک بھی صف پوری نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات اور ان کے حل پر لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ لوگوں کو نماز کی طرف راغب کر سکیں۔

    اس کی وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہیں ان میں یہ تین بہت اہم ہیں۔

    1۔ نماز کی قدرو منزلت واہمیت۔۔۔ نہ پڑھنے کی وعید

    کسی بھی کام کے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندے کو اس کی قدرو منزلت واہمیت کا ادراک ہو۔ وہ کام دین سے متعلق ہو تو اس کے کرنے کی صورت میں اجروثواب اور نہ کرنے کا گناہ وعذاب کے بارے معلوم ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بہت کم لوگ دین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں کے دین سیکھنے کا واحد ذریعہ یا تو عصری کتب میں موجود چند ایک اسلامی مضامین ہیں یا جمعہ کہ خطبات۔ عصری تعلیم میں چند ایک واجبی سی باتوں کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو دین کی صحیح تعلیم دے سکے۔ جمعہ کے خطبات میں مولویوں کو مسلکی لڑائیوں سے ہی فرصت ہی نہیں ہے۔ قرآن مجید ہی کوئی نہیں کھولتا تو احادیث کی کتب کا مطالعہ کون کرے گا۔

    کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ قرآن پاک اور سنت میں سب سے زیادہ تاکید اور حکم نماز کے بارے ہی ہے اور اس کو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ یہاں تک کہ بیمار ، معذور، لاغر حتیٰ کہ موت کے منہ میں پہنچے ہوئے کو بھی نماز معاف نہیں ہے۔ سب سے پہلے اسی کے بارے ہی سوال ہونا ہے۔ خدانخواستہ ہم پہلے ہی سوال میں فیل ہو گئے تو پھر کیسے کامیابی ملے گی؟

    2۔ فرض نماز کتنی ہے؟فرض نماز پر کتنا وقت لگتا ہے؟ کوئی سنت نماز نہ پڑھے تو گناہ ہو گا؟

    دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو فرض، سنت ، نفل کا فرق معلوم نہیں ہے اور اکثریت کے نزدیک عشاء کی سترہ اور ظہر کی بارہ رکعت پڑھنی لازم ہیں۔ فرانس میں عربیوں کا دیکھتا تھا کہ سخت سردی میں بھی جماعت کے لیے لازمی مسجد آتے تھے لیکن فرض پڑھتے ہی نکل کر کام میں لگ جاتے تھے۔ تب بڑا غصہ آتا تھا کہ سنت پڑھتے ہی نہیں۔ شروع میں مساجد سے آئمہ کرام سے اس بابت پوچھا تو جواب ملا کہ سنت چھوڑنے پر گناہ ہو گا۔ جب خود مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ سنت نماز دراصل نوافل ہیں ، کچھ وہ (سنت مؤکدہ )جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لازمی پڑھتے تھے اور کچھ وہ جو کبھی پڑھ لیتے تھے کبھی نہیں۔ ان سب کی تاکید تو کی ہے اور بہت زیادہ ثواب بھی بتایا ہے لیکن حکم نہیں ہے۔ یعنی پڑھیں تو بہت ہی زیادہ اجروثواب ہے لیکن کوئی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہے۔ بعد میں علماء کرام سے پوچھا تو دیوبندی اور اہل حدیث علماء کرام نے اس کی تصدیق کی کہ کوئی سنت مؤکدہ بغیر کسی وجہ کے بھی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہوگا۔ اور نوافل تو پتہ نہیں کس نے شامل کر دیے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اکثر دیکھتا ہوں کہ یہ فرق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ جلدی جلدی پڑھنے لگے ہوتے ہیں حالانکہ وقت کی کمی ہے تو صرف فرض پڑھ لیں لیکن سکون سے پڑھیں۔ گھر میں اکثر خواتین کو خشوع وخضوع کی بجائے بس جلدی جلدی ختم کرتے دیکھتا ہوں۔

    بے نمازیوں کو اگر یہ بتا دیا جائے کہ صرف پانچوں فرض نمازوں کی سترہ فرض کی رکعتیں ہیں جن کی باز پرس ہونی ہے اور وہ لازمی پڑھنی ہیں اور باقی پڑھو یا نہ پڑھو تو ان کی اکثریت جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کر لے گی۔ سنت ونوافل کی اہمیت بہت ہے اور اس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ جو کمی کوتاہی ہماری نماز میں رہ گئی ہو اس کے لیے ہمارے سنت ونوافل کام آجائیں لیکن کبھی وقت کی کمی ہو یا جلدی ہو تو صرف فرض پڑھ لیں۔

    اور بے نمازی لوگ پہلے صرف فرضوں کا اہتمام کر لیں پھر جب نماز کی عادت پختہ ہو جائے تو سنت ونوافل کے اہتمام کی کوشش کر لیں۔ یاد رہے کہ فرض نماز کا جہاں بھی قرآن وسنت میں تذکرہ ملے گا تو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پڑھنے پر کیا اجروثواب ہے اور نہ پڑھنے پر کیا عذاب و وعید۔ لیکن سنت ونوافل کی بات جہاں بھی کی گئی ہے صرف اور صرف اجروثواب کا ذکرہے، کہیں بھی اشارے کنایوں میں بھی گناہ یا وعید کا تذکرہ بھی نہیں ہے۔

    3۔شفاعت کا غلط تصور

    برصغیر کے لوگوں کا اپنا من پسند اسلام ہے۔اکثریت کی سوچ یہ ہے کہ ہم کچھ بھی کرتے رہیں، چاہے دین کے کسی بھی حکم پر عمل نہ کریں پھر بھی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو جائے گی اور ہمیں تو جنت سب سے پہلے ملنی ہے۔ پھر اس پر مستہزاد یہ کہ پیروں فقیروں سے امیدیں کہ وہ بخشش کروا دیں گے۔ اس کے لیے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس رب کی وہ دن میں پانچ بار نافرمانی کررہے ہیں اور حکم عدولی کر رہے ہیں اس رب کے سامنے کوئی ان کی شفاعت کیونکر کر سکے گا؟

    شفاعت اس کی تو ہو سکتی ہے جس سےجانے انجانے یا بشری کمزوریوں کی وجہ سےگناہ ہو گئے ہوں لیکن ایک عادی نافرمان اور جانتے بوجھنے حکم عدولی کرنے والا خود کو اس کا مستحق کیسے سمجھ سکتا ہے۔

    اگر خدانخواستہ آپ نماز کی پابندی نہیں کرتے تو آج سے ہی اس کا اہتمام کیجیے۔ ابھی صرف فرض اور وترنماز پڑھنا شروع کردیں۔ پھر سنتوں کا اہتمام کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ضرور دے گا انشاءاللہ۔

  • صفی لکھنوی کا یوم پیدائش

    صفی لکھنوی کا یوم پیدائش

    جنازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
    گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو

    صفی کا نام سید علی نقی زیدی (پیدائش 03جنوری 1862ء،وفات:25 جون 1950ء) تھا، صفی تخلص کرتے تھے والد کا نام سید فضل حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرنے کے بعد نجم الدین کاکوروی سے فارسی اور مولوی احمد علی سے عربی زبان سیکھی۔ کیننگ کالج میں انٹرنس کی تعلیم حاصل کی اور کیننگ کالج سے متعلقہ اسکول میں انگریزی زبان کے استاد کی حیثیت سے معلمی کے فرائض انجام دیئے۔ 1883 میں سرکاری ملازمت اختیار کی اور محکمہ دیوانی میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

    صفی نے لکھنؤ کے عام شعری مزاج سے الگ ہٹ کر شاعری کی ، ان کا یہی انفراد ان کی شناخت بنا۔ مولانا حسرت موہانی انھیں ’ مصلح طرز لکھنؤ ‘ کہا کرتے تھے۔ صفی نے غزل کی عام روایت سے ہٹ کر نظم کی صنف میں خاص دلچسپی لی۔ انھوں نے سلسلہ وار قومی نظمیں بھی کہیں جو خاص طور سے ان کے عہد کے سماجی ، سیاسی اور تہذیبی مسائل کی عکاس ہیں۔ اس کے علاوہ قصیدہ، رباعی اور مثنوی جیسی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی۔ صفی کی نظمیں اور غزلیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شعوری یا غیرشعوری طور پر لکھنو کی خاص روایتی طرز کو بدلنے کی طرف مائل تھے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
    ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

    مری نعش کے سرہانے وہ کھڑے یہ کہہ رہے ہیں
    اسے نیند یوں نہ آتی اگر انتظار ہوتا

    کل ہم آئینے میں رخ کی جھریاں دیکھا کیے
    کاروان عمر رفتہ کا نشاں دیکھا کیے

    جنازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
    گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو

    بناوٹ ہو تو ایسی ہو کہ جس سے سادگی ٹپکے
    زیادہ ہو تو اصلی حسن چھپ جاتا ہے زیور سے

    دیکھے بغیر حال یہ ہے اضطراب کا
    کیا جانے کیا ہو پردہ جو اٹھے نقاب کا

    پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
    مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے

    دیں بھی جواب خط کہ نہ دیں کیا خبر مجھے
    کیوں اپنے ساتھ لے نہ گیا نامہ بر مجھے

    ختم ہو جاتے جو حسن و عشق کے ناز و ادا
    شاعری بھی ختم ہو جاتی نبوت کی طرح

  • مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    اختلافات مٹائیے مُلک بچائیے
    No Consensus – No Country
    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے
    قومیں اور مُلک یکجا ہو کر ترقی کرتے ہیں یا پھر اختلافات میں گِھر کر بِکھر جاتے ہیں۔ سوویت یونین، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستانی جب بھی متحد ہوئے،تو نا صرف مُشکلات پر قابو پایا بلکہ سُرخرو بھی ہوئے۔

    قیام ِ پاکستان ہو یا 1965کی جنگ،2005 کا زلزلہٰ ہو یا 2010 کا سیلاب،1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں دہشت گردی کے خلاف جنگ یا2019 میں بھارتی جارحیت، کووڈ 19ہو یا حالیہ غیر معمولی سیلاب،قوم نے متحد ہو کران چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ قران میں ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔

    قرآن میں مشاورت کا خصوصی ذِکر کیا گیا ہے کہ اپنے معاملات مشاورت سے حل کرو۔پاکستان میں ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام بھی موجود ہے۔ کوئی ایک شخص یا پارٹی پُورے پاکستان، علاقوں یا قومیت کی نمائیندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے حالیہ معاشی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں، تحریر: امان الرحمان

    ہیلتھ لیوی
    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:
    ہیلتھ لیوی اک اضافی ٹیکس ہے جسے مختلف ممالک جیسے بھارت ،آسٹریلیا اور میکسیکو وغیرہ میں مضر صحت اشیإ پر عاٸد کیا گیا ہے۔ اس اضافی ٹیکس کا مقصد ان اشیإ کی قیمت خرید کو بڑھاوا دے کر عام لوگوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہوتا ہے۔ ان اشیإ میں خاص طور پر کاربونیٹڈ اور شوگری مشروبات، تمباکو پر مشتمل اشیإ جیسے سگریٹ اور شوگری فلیورڈ جوسز شامل ہیں۔ یہ تمام اشیإ مختلف بیماریوں کی بنیاد ہیں۔ ذیابیطس کا مرض دنیا میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ ہر پانچ افراد میں سے ایک شخص اس مرض میں ضرور مبتلا ہوتا ہے ۔ مزید براں دل کے امراض ، فالج، کینسر اور دماغ کی شریان پھٹنے جیسے مہلک امراض کی وجہ بھی یہی مضر صحت مشروبات اور تمباکو نوشی ہی ہیں ۔ ان کی وجہ سے سالانہ کروڑوں لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور لاکھوں لقمہ اجل بنتے ہیں۔ اس لیے بیشتر ممالک ان بیماریوں کے پھیلاٶ کو روکنے کیلیے ان بیماریوں کی وجوہ بننے والے محرکات کا تدارک کررہے ہیں۔ جن میں ایک اہم قدم ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہے۔ لیوی ٹیکس چونکہ عدالت وغیرہ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس لیے یہ زیادہ مٸوثر ثابت ہوتا ہے۔ شوگری مشروبات اور سگریٹ جیسی اشیإ پر ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے ممالک سہہ رخی فواٸد حاصل کر رہے ہیں۔ اک تو ان اشیإ کی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے جو خزانے پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کرتا ہے دوسرا حکومتوں کو ہیلتھ سیکٹر پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے کیونکہ مضر صحت اشیإ کا استعمال کم ہونے سے بیماریوں کی شرح بھی کم ہوجاتی ہے ۔ اور تیسرا اہم فاٸدہ عوام کی عمومی صحت میں بہتری ہے ۔ جن ممالک میں بیماریوں کی شرح کم ہوتی ہے وہاں پیداواری شرح زیادہ دیکھی گٸ ہے کیونکہ صحت مند افراد بیمار افراد کی نسبت ہر شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہیلتھ لیوی کے اطلاق سے کٸ ممالک یہ سب فواٸد حاصل کررہے ہیں ۔

    پاکستان میں ہیلتھ لیوی کا عدم نفاذ اور اس کے اثرات۔
    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لاکھوں افراد پان چھالیہ اور گٹکے کے بکثرت استعمال کی وجہ سے منہ ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوچکے ہیں مگر پھر بھی ان کا بے تحاشا استعمال جاری ہے۔ کیونکہ یہ تمام اشیٕا بشمول سگریٹ نہایت ارزاں قیمتوں پر جابجا دستیاب ہیں جس کی وجہ سے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس سلو پواٸزن کے عادی ہوۓ چلے جارہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 615 بلین روپے سالانہ صرف تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے امراض کے علاج میں حکومت خرچ کرتی ہے۔ اور روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی کرتے پاۓ جاتے ہیں ۔ پاکستان کے کسی بھی شہر حتی کہ دور دراز دیہات کا بھی سفر کریں تو آپ کو سگریٹ پان اور گھٹیا شوگری کاربونٹیڈ مشروبات بکثرت اور عام ملیں گے ان کی قیمتیں بھی انتہاٸ کم ہوتیں ہیں جن کی وجہ سے بچے اور بڑے سبھی ان کا بے دریغ استعمال کرتے دکھاٸ دیتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان شوگر کے مرض میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ ایک ایسا جان لیوا مرض ہے جو کٸ دوسرے امراض کو جم دیتا ہے جن میں فالج ، لقوہ، دل کے امراض ، شریان پھٹنا اور گردوں کافیل ہونا بھی شامل ہے ۔ ان امراض کا علاج بھی کافی پچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک ہے جہاں عوام کی صحت سے متعلق ناں تو حکومتی سطح پر مناسب آگاہی کا انتظام کیا جاتا ہے ناں مضر صحت اشیإ کے پھیلاٶ کے تدارک کیلیے عملی اقدامات اٹھاۓ جاتے ہیں۔

    2019 میں پاکستان میں پہلی دفعہ مختلف سماجی تنظیموں کے مطالبے پر تمباکو پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کا بل پاس کیا گیا۔ مگر FBR کی وجہ سے یہ بل سینیٹ ، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کے درمیان چکراتا رہ گیا اور اس پر عمل کی نوبت ناں آسکی۔ جبکہ اگر اس بل کا بروقت عملی اطلاق ہوجاتا تو پاکستان کو سالانہ 55 ارب روپے اضافی ٹیکس میسر آتا۔
    چند روز قبل کرومیٹک کے زیر اہتمام سوشل میڈیا انفلوٸینسرز اور ماہرین پر مشتمل ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں کرومیٹک کے سی ای او ملک عمران نے حاضرین کو اگاہ کیا کہ پاکستان ہیلتھ لیوی کے فوری نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو جمع کرسکتا ہے جو کٸ وباٸ امراض کے روک تھام پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ جو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے پھیلتے چلے جارہے ہیں اور کٸ قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سیمینار کے تمام مقررین نے بھی حکومت وقت سے مضر صحت شوگری مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ہیلتھ لیوی نافذکرنے کا یک زبان مطالبہ کیا۔ اور ہیلتھ لیوی کا فوری نفاذ اس وقت پاکستان کی اہم ضرورت ہے کیونکہ شوگری کاربونیٹڈ مشروبات اور تمباکو نوشی کے باعث پاکستان میں کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر ہسپتالوں کے چکر لگارہے ہیں جن کے علاج معالجے کے مد میں اربوں روپے سرکاری خزانے سے خرچ ہوتے جبکہ ان اشیإ کے استعمال جو کم کرکے یہ روپے بچاۓ جاسکتے ہیں اور انہیں کہیں اور مثبت مقاصد کیلیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت پاکستانی معیشت شدید زبوں حالی کا شکار ہے سگریٹ پر ٹیکس نافذ کرکے حکومت فوری طور پر اربوں روپے جمع کرسکتی ہے۔ ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان میں سگریٹ ، پان، چھالیہ ، شوگری اور کاربونیٹڈ مشربات کے بکثرت استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے اور انہیں بچوں کی دسترس سے بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر تمام مضر صحت اشیإ پر بلاتخصیص بھاری ہیلتھ لیوی نافذ کرے اور معاشرے کو صحیح معنوں میں مثبت راہ پر لائے۔ اب نہیں تو کب؟
    تحریر۔۔ امان الرحمن

  • اینڈرائیڈ صارفین مصروفیات شیڈول کرنے والی خطرناک ایپ ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘  کو فورا ڈیلیٹ کردیں

    اینڈرائیڈ صارفین مصروفیات شیڈول کرنے والی خطرناک ایپ ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘ کو فورا ڈیلیٹ کردیں

    اینڈرائیڈ صارفین مصروفیات شیڈول کرنے والی خطرناک ایپ ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘ کو فورا ڈیلیٹ کردیں
    وائرس اور ہیکنگ کے خطرے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین نے ایک ایسی ایپلی کیشن کا پتا لگایا ہے جو فون میں آتے ہی ایسی صورت حال بنا دیتی ہے کہ گویا آپ نے اپنا موبائل کسی اور کو پکڑا دیا اور وہ بھی پِن کوڈز، فنگر، چہرے کی شناخت وغیرہ کی تصدیق کے ساتھ، اس لیے محتاط رہیے۔ امریکی ٹی وی فاکس نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کے فینش میگزین ’’سیدتی‘‘ میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ٹی ماہرین نے سمارٹ فون رکھنے والے ایسے صارفین جو اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھلا اسی میں ہے کہ اس کو فوری طور ڈیلیٹ کر دیا جائے۔


    پورٹ کے مطابق اس ایپ کا نام ’ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘ ہے۔ خیال رہے کہ یہ ایپ بنیادی طور پر مالکان کو دن بھر کی مصروفیات کا شیڈول بنانے اور ملاقاتوں کی یاددہانی میں مدد دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ نہ صرف آپ کے فون پر آنے والے تحریری پیغامات تک رسائی رکھتی ہے بلکہ اصل خطرے کی بات یہ ہے کہ یہ آپ کی بینکنگ کی حساس معلومات بھی کاپی کر سکتی ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو لاگ ان ہونے کے لیے تصدیق کے دو مراحل رکھتے ہیں یہ ایپ ان کے کوڈز کو روک سکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آپ اس ایپ کو انسٹال کرتے ہیں تو یہ آپ سے فون کے کچھ ڈیٹا تک رسائی کی درخواست کرتی ہے اور اگر آپ نے اس کو ایگری کیا تو پھر اس کو ڈیلیٹ کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ایگری کرتے ہی وہ فون میں ڈیوائس ایڈمنسٹریٹر کے طور پر شامل ہو جاتی ہے جس کے بعد صارف کے لیے اس کو غیرفعال کرنا زیادہ آسان نہیں رہتا اور اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے فون کو فیکٹری ری سیٹ کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا،یوم پیدائش، ثاقب لکھنوی

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا،یوم پیدائش، ثاقب لکھنوی

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
    ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

    ثاقب لکھنوی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوم پیدائش : 2 جنوری 1869
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے ایک اہم ترین شاعر ثاقب لکھنوی جن کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش ہے وہ 2 جنوری 1869ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 24 نومبر 1949 میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کر چکے ہیں ۔

    کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
    جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے

    نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی
    ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
    ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے

    کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
    زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے

    مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقب
    کنارے پہ آہی گئی بہتے بہتے
    …..
    باغ باں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
    جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے
    ……
    مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
    زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے
    ……
    کہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی،
    مگر خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا

    دل کے قصے کہاں نہیں ہوتے ہاں،
    وہ سب سے بیاں نہیں ہوتے

  • چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر،یوم وفات خادم رزمی

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    مگر اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    خادم رزمی

    اصل نام:خادم حسین

    تاریخ ولادت:2 فروری 1932ء
    کبیر والا خانیوال، پاکستان
    تاریخ وفات:2 جنوری 2006ء
    خانیوال، پاکستان
    مذہب:اسلام

    خادم رزمی ضلع خانیوال کی تحصیل کبیر والا جنوبی پنجاب کے ایک مشہور شاعر ہیں۔ خادم رزمی کا اصل نام خادم حسین ہے۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی کبیر والا کے ایک چھوٹے سے گاؤں محمود والا میں 02 فروری 1932ء کو پیدا ہوئے۔
    معلم
    ۔۔۔۔۔
    خادم رزمی ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر کبیروالا کے مختلف قصبات میں تعینات رہے۔ سروس ریکارڈکے مطابق خادم رزمی 63 سال 8 ماہ ملازمت کرنے کے بعد 1991ء میں گورنمنٹ ماڈل مڈل اسکول دار العلوم کبیروالا میں ریٹائر ہوئے ۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    مولوی فضل دین اور لالہ رام لعل سرگباشی جیسے اساتذہ کی رہنمائی سے خادم رزمی کا شعری ذوق پروان چڑھا۔ ملازمت کا زیادہ تر عرصہ تاریخی شہر تلمبہ میں گزرا۔ جہاں کی اساطیری فضا نے ان کے شعری ذوق کو پروان چڑھانے اور قدیم تہذیبوں سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تلمبہ جیسے قدیم تاریخی حیثیت والے شہر میں بزمِ ادب تلمبہ کے زیرِاہتمام ایک ماہانہ مشاعرہ ہوتا تھا ،جس میں خادم رزمی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ غنضنفر روہتکی، صادق سرحدی ،جعفر علی خان، اسلام صابر دہلوی ،دلگیر جالندھری ،ڈاکٹر مہر عبدالحق، کیفی جامپوری ،وفا حجازی ،اسماعیل نور، بیدل حیدری، ساغر مشہدی، عاصی کرنالی ،جعفر طاہر، شیر افضل جعفری ،اور ضیغم شمیروی جیسے شعرا کی صحبت میسر آئی جنھوں نے ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی ۔
    مجموعہ کلام

    ان کا اردو شعری مجموعہ ”زرِخواب“ یکم فروری 1991ء اور پنجابی شاعری مجموعہ ”من ورتی“1994ء میں شائع ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ایک اور پنجابی شاعری مجموعہ ” اساں آپے اُڈن ہارے ہو“ کے نام سے چھپا۔ ان کا کافی غیر مطبوعہ کلام ہے جس میں آشوبِ سفر اور جزائے نعت شامل ہیں۔ طباعت کے مراحل میں ہے خادم رزمی کا زیادہ تر کلام اوراق، فنون ،سیپ، الکلام اور ادب لطیف میں شائع ہوتا رہا ہے۔ انہیں اکادمی ادبیات کی طرف سے پنجابی شعری مجموعہ ”من ورتی“ پر ”وارث شاہ ہجرہ ایوارڈ 1994ء “اور خواجہ فرید ایوارڈ 1998ء بھی مل چکا ہے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے 2008ء میں ڈاکٹر ممتاز کلیانی کی زیرِ نگرانی امتیاز احمد نے ”خادم رزمی۔ بحیثیت شاعر“” ایم۔ اے کے لیے مقالہ لکھا ۔2006ء میں قلندر عباس نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈاکٹر روبینہ ترین کی زیرِنگرانی ”خادم رزمی۔ شخصیت و فن“ کے نام سے ایم۔ فل کے لیے مقالہ لکھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    خادم رزمی 02 جنوری 2006ء کو وفات پا گئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آن پہنچے ہیں یہ کہاں ہم لوگ
    اب زمیں ہیں نہ آسماں ہم لوگ

    کل یقیں بانٹتے تھے اوروں میں
    اب ہیں خود سے بھی بد گماں ہم لوگ

    کن ہواؤں کی زد میں آئے ہیں
    ہو گئے ہیں دھواں دھواں ہم لوگ

    چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر
    اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ

    کب میسر کوئی کنارہ ہو
    کب سمیٹیں گے بادباں ہم لوگ

    بن گئے راکھ اب نجانے کیوں
    تھے کبھی شعلۂ تپاں ہم لوگ

    ہم کو جانا تھا کس طرف رزمیؔ!
    اور کس سمت ہیں رواں ہم لوگ

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہاتھ کٹتے ہیں جہاں سینہ و سر کھلتے ہیں
    ایسے ماحول میں ہم اہل ہنر کھلتے ہیں

    دن نکلتا ہو جہاں خوف کا نیزہ بن کر
    ایسی بستی میں کہاں رات کو در کھلتے ہیں

    کیسے آسیب کا سایہ ہے مرے رستے پر
    گرد چھٹتی ہے نہ اسرار سفر کھلتے ہیں

    ہم نے اک عمر گزاری ہے انہی خوابوں میں
    اب قفس ٹوٹتا ہے اور ابھی پر کھلتے ہیں

    رخ پہ گلشن کے کھلیں جس کے دریچے اکثر
    سوئے صحرا بھی اسی شہر کے در کھلتے ہیں

    جن زمینوں پہ کھرے لوگ بسا لیں خود کو
    راستے سیل بلا کے بھی ادھر کھلتے ہیں

    اہل ساحل سے کہو کشف کی صورت رزمیؔ
    موج کھلتی ہے کبھی ہم پہ بھنور کھلتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    تمباکو نوشی اور اس سے متعلقہ دیگر مصنوعات پر یکسر پابندی کا مطالبہ کرنا ایک بات ہے جبکہ ان کی خرید و فروخت اور ترغیبات پر قدغن لگانا یا محدود کرنا ایک بات ہے, اور ان میں آخر الذکر بات حقیقت کے زیادہ قریب ترین ہے کیونکہ تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یا اس کو صفحہ ہستی سے مٹانا وغیرہ آج کی دنیا میں ممکن نہیں کہ ادھر سماجی و سیاسی کارکنان کی محنت سے کوئی حکومت ایسا قدم اٹھانے لگے گی تو کسی کونے کھدرے سے کوئی نا کوئی انسانیت اور انسانی حقوق کا چورن منجن بیچنے والا گروہ, ادارہ یا شخصیت ٹپک پڑے گی اور نجانے کہاں سے اور کیسے تمباکو نوشی جیسی مضر صحت, مضر ماحول, مضر اخلاقیات اور مضر معیشت گھٹیا عادت اور زہریلی شہ بابت قوانین اور اصول و ضوابط لے آئیں گے کہ یہ بنیادی انسانی حق ہے بلا بلا بلا اور جو اس کا خاتمہ یا محدودیت چاہتے ہیں وہ ظالم اور انسان دشمن لوگ ہیں۔

    جبکہ ایک محتاط اندازے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تمباکو کی سستی قیمتوں کی وجہ سے 10.7 فیصد پاکستانی نوجوان جن میں 6.6 فیصد لڑکیاں اور 13.3 فیصد لڑکے شامل ہیں، تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔

    مزید یہ کہ تقریباً 1200 پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ کیا ایک معاشرے کے طور پر، ہمیں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کو لاگو کرکے اپنے بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟

    اور آپ کو آگاہی بہم دیتے چلیں کہ ہماری آبادی کا تقریباً نصف، مطلب 45% فیصد حصہ 18 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ کہ پاکستان میں بھی پاکستانی بچوں کے بنیادی حقوق کو مانا اور محفوظ کیا جاتا ہے بلخصوص پاکستان کی جانب سے عالمی برداری کو دلائی یقین دہانیوں اور عہد و پیمان کے تناظر میں کیونکہ تمباکو نوشی دراصل اور درحقیقت ایک وبائی بیماری ہے جو بچوں کی زندگی، بقاء اور ترقی، صحت، تعلیم اور صاف اور سرسبز عوامی مقامات تک رسائی کے حق کی براہ راست خلاف ورزی کرتی ہے۔

    فرسٹ ہینڈ سموکنگ تو بہرحال بچوں اور نوجوانوں کی زندگی تباہ و برباد کرتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جو سب سے زیادہ نقصان نان سموکر بچوں اور نوجوانوں کا ہوتا ہے اسکی بنیادی وجہ سکینڈ ہینڈ سموکنگ اور تھرڈ ہینڈ سموکنگ ہے جو کہ دراصل بلاواسطہ اثرات سے مزین ہے جو ایک تمباکو نوش کے مقابلے دگنے اور خطرناک ہیں۔

    پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری دراصل تمباکو خریدنے اور استعمال کرنے کے مختلف حربوں سے بچوں اور نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بچوں کو تمباکو نوشی اور اس کے مضر صحت اثرات سے بچانے کے لیے، 2019 میں، وفاقی کابینہ نے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) لگانے کے بل کی منظوری دی تھی تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب پاکستانی روپے کما کر خزانے کو فائدہ پہچایا جاسکے اور بعد میں یہی روپیہ صحت کے مسائل حل کرنے پر خرچ کیا جاسکے۔ تاہم پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے اندر تک موجود اثر و رسوخ کی بدولت بہت سے پالیسی سازوں نے اس بل کو مسلسل بلاک کر رکھا ہے جس وجہ سے پاکستان میں تمباکو نوشی کی اقتصادی لاگت 615.07 بلین روپے تک پہنچ گئی ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے لیکن تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف 20 فیصد ہے۔ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری نے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگا کر بلکہ بچوں کی صحت کی قیمت پر اب تک اربوں کھربوں کمائے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری اسے شرافت سے واپس کرے وگرنہ آج چند آوازیں اٹھ رہی ہیں تو کل یہ شور میں بدل جائیں گی اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کو جان بچا کر بھاگنا مشکل ہوجائے گا۔

    خیال رہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے ہاتھوں تباہ ہونے دینا ایک ایسے معاشرے کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی جو پہلے ہی اپنے عہد و پیمانوں کو اپنے بچوں تک پہنچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے اور ابھی تک عشر عشیر بھی کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ایسے میں تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کے نفاذ میں تاخیر صرف بچوں کے حقوق کے حوالے سے ہمارے معاشرے کے غیر معمولی رویے کو اجاگر کرے گی اور ہماری بے حسی و خود غرضی کا نقاب اتارنے کا باعث بنے گی۔

    تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کا نفاذ ہمارے بچوں اور ہماری قوم کے مفاد میں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت پاکستان نے بچوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے پرو چائلڈ اقدامات کو نافذ کرنے کا عہد کیا ہے۔ جبکہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہمیں بچوں سے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن ایف بی آر اور حکومت وقت میں بیٹھی کچھ کالی بھیڑیں اور سماج دشمن انسان مل کر اس بل کو روکے ہوئے ہیں اور ان کی درپردہ کوششیں جاری ہیں کہ اس بل کو کسی طرح کالعدم قرار دلوادیں اور پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری سے اپنی خاطر خواہ قیمت وصول لیں اور اپنی وفاداریوں پر مہر ثبت کرلیں۔

    واضح کردوں کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان سے بارہا کہا ہے کہ سگریٹ کی قیمت کم از کم 30 روپے فی پیکٹ تک بڑھا دی جائے تاکہ سگریٹ کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور صحت کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے اس پائیدار حل سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور بیشک یہ ہی وہ ٹیکس ہے جس کے لیے 2019 میں ٹوبیکو ہیلتھ لیوی بل منظور کروایا گیا تھا لیکن وہ تاحال سردخانے میں پڑا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق پاکستان ٹوبیکو انڈسٹری کے جی ایم صاحب کے بھائی آج کل ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کے قرب و جوار میں پائے جاتے ہیں اور ایک اعلی سرکاری عہدہ جس کا براہ راست تعلق وزیراعظم سے ہے پر براجمان ہیں تو یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس بل یا دیگر کسی ایسے سخت قدم پر اثر انداز نہیں ہوئے, ہورہے یا ہوں گے جو پاکستان میں موجود طاقتور ٹوبیکو انڈسٹری کے خلاف ہو یا ہے۔

    قصہ مختصر کہ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 80 ارب سیگریٹ پھونکے جاتے ہیں جس میں عمر کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں, جبکہ میرے خیال میں 80 ارب سیگریٹ تو وہ ہوئے جو رجسٹرڈ کمپنیوں کی جانب سے تیار اور فروخت ہوئے ہونگے جبکہ لگھ بگھ 20 ارب کے قریب وہ سیگریٹ بھی ہیں جو مارکیٹ میں کسی نہ کسی نام رنگ اور ہجم میں بکتے ہیں لیکن ان کا کوئی کھاتہ درج نہیں تو اس طرح پاکستان میں 100 ارب سیگریٹ سالانہ پھونک کر قوم کا پیسہ اور صحت ساتھ پھونکی جارہی ہے جس پر ہمیں سر پھروں کی طرح سوچنا اور سخت ترین اقدامات کرنے ہونگے اور ہیلتھ لیوی بل کی منظوری اور اب اس کا بے رحم نفاذ دراصل اس حوالے سے شروعات ہوگی, ہمیں صحت مند معاشرہ اور پھلتی پھولتی معیشت و معاشرت چاہیے تو ملکر اس مدعے پر جاندار اور شاندار آواز اٹھانی ہوگی وگرنہ یہ یاد رکھیں کہ آپکی آبادی کے 45% فیصد اور 65% فیصد حصے پر مشتمل بچے اور نوجوان روزانہ کی بنیاد پر تمباکو نوشی کا شکار ہورہےہیں اور یہ تعداد 1200 سے فی دن کے حساب سے جاری و ساری ہے, اب آپ سوچ لیں کہ یہ تعداد کم کرنی اور ختم کروانی ہے یا اس میں روز بروز اصافہ ہو؟

    بچےآپ کے, صحت آپ کی سو فیصلہ بھی آپ ہی کریں کہ تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی بل کا نفاذ ہونا چاہیے کہ نہیں اور اگر ہونا چاہیے تو اس میں تاخیر پر آپ شور مچانے میں پیش پیش رہیں۔

  • نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کووِڈ کے دوران ایک سینئیر پروفیشنل انجنئیر خلیجی ملک سے اپنی نوکری سے فارغ ہوگئے اور کئی ماہ بے روزگار رہنے کے بعد بالآخر ہماری فرم میں ایک منیجمنٹ پوزیشن کے لئے منتخب ہوگئے۔ پراجیکٹ سائٹ ان کے گھر ملتان سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک ضلعی ہیڈ کوارٹر سطح کے شہر میں تھی جہاں انہوں نے ہر وقت موجود رہ کر اپنی ٹیم سے کام کروانا تھا سوائے ہفتہ وار چھٹی کے جو کہ تعمیراتی منصوبوں میں جمعہ والے دن ہوتی ہے۔

    شروع میں چند دن انہوں نے ٹھیک ٹھاک کام کیا لیکن پھر روزانہ پراجیکٹ کی گاڑی پر ملتان سے آنا جانا شروع کردیا۔ مجھ تک بات پہنچی تو ان سے رابطہ کرکے کہا کہ آپ کو ہر وقت سائٹ پر ہونا چاہئے جہاں کمپنی نے آپ کو رہائش ، کھانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے والدین کی خراب صحت کا بتایا اور وعدہ کیا کہ یہ چند دن کی بات ہے اور والدین کی صحت بہتر ہوتے ہی وہ دوبارہ سائٹ پر شفٹ ہو جائیں گے۔

    تاہم وہ دن نہ آیا اور اب انہوں نے روزانہ دس گیارہ بجے سائٹ پر پہنچنا اور تین بجے ملتان واپسی کرنا شروع کردی۔ پھر ہر ہفتے ایک آدھ دن ناغہ مارنا شروع کردیا ۔ ہمارے بار بار رابطہ کرنے پر وہ بتاتے کہ وہ سائٹ پر مکمل رابطے میں ہیں اور کلائنٹ کو بھی سنبھالا ہوا ہے جس کا دفتر ملتان میں تھا۔ تاہم ہم نے انہیں فوراً سائٹ پر شفٹ ہونے کا کہا لیکن ان کی روٹین تبدیل نہ ہوئی ۔ ان کے بقول وہ بیمار والدین کو کسی کے حوالے نہیں کر سکتے جس پر ہم نے انہیں ایک دو ماہ چھٹی لینے یا پھر جاب تبدیل کرنے کی آفر کی مگر انہوں نے سابقہ روٹین برقرار رکھی۔

    ہم نے پراجیکٹ کی بگڑتی صورت حال کے پیشِ نظر ایک اور قابل بندے کو سیلیکٹ کرکے ان کی جگہ بھیج دیا کہ چارج ان کے حوالے کردیں۔ وہ فرم کے صدر دفتر حاضر ہوئے معافی تلافی کی اور آئندہ سے نظم و ضبط کی پابندی کے وعدے کے ساتھ پھر سے سائٹ پر شفٹ ہو گئے۔ ایک آدھ مہینہ صحیح نکالنے کے بعد وہ دوبارہ پرانی روٹین پر آگئے اور کلائنٹ کے لوگوں کے ساتھ گروپ بنا کر ہفتے میں دو تین دن غائب رہنے لگے۔

    ہم نے انہیں ایک مہینہ کا ایڈوانس نوٹس دے کر نیا انجنئیر سائٹ پر بھیج دیا اور ان کو گھر بھیج دیا۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے مختلف ذرائع سے دباؤ ڈلوا کر واپس آنے کی کوشش کی لیکن الحمدللّٰہ ناکام رہے اور اس عرصے میں نئے بندے نے کام سنبھال لیا اور پراجیکٹ سیدھا ہونے لگا۔کبھی کبھار پرانے بندے کو فارغ کرنے پر افسوس بھی ہوتا لیکن ان کی وجہ سے کام بھی کافی متاثر ہورہا تھا۔

    کچھ دن پہلے ان کا دوبارہ میسیج آیا ہے کہ آپ نے تو مجھے فارغ کردیا تھا لیکن میں پھر خلیج آگیا ہوں، اس سے کئی گنا بہتر جاب پر۔ سوچ رہا ہوں اس کے بیمار والدین کس حال میں ہوں گے؟ اس پراجیکٹ پر تو وہ ہفتے میں ایک دو دن انہیں ملنے جا سکتا تھا لیکن خلیج سے تو شائد ایک دو سال بعد ہی واپس آنا نصیب ہو۔ ہم کیوں نہیں اپنی موجود نعمتوں کی قدر کرتے؟