Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول  نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرحین چوہدری صاحبہ ایک دبنگ قسم کی ممتاز پاکستانی ادیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس ، اسکرپٹ رائٹر ، سفر نامہ نگار اور شاعرہ ہیں جن کی شہرت بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ 19 دسمبر 1960 کو ، کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کےوالد انور مبشر صاحب ایک بینک آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ان کی مادری زبان ہندکو ہے مگر وہ اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی زبانیں روانی سے بولتی ہیں-

    فرحین چوہدری کا اصل نام شہابہ انور ہے شادی کے بعد شہابہ گیلانی بنیں لیکن پی ٹی وی کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر قاسم جلالی نے ان کا نام شہابہ انور سے تبدیل کر کے فرحین چوہدری رکھ دیا حالانکہ فرحین چوہدری بننے سے قبل ان کا بہت بڑا مواد شہابہ انور اور شہابہ گیلانی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ فرحین چوہدری نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کر رکھا ہے۔

    انہوں نے دوران تعلیم 7 سال کی عمر سے ہی اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا۔ وہ بچپن سے اب تک ادب تخلیق کر رہی ہیں ۔افسانہ ، شاعری ، خاکے ، کالم نگاری اور سکرپٹ میں انہوں نے سخت محنت کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ لٹریری آرٹ اور کلچرل سنںڈیکیٹ کی بانی چئرپرسن کے طور پر بھی گزشتہ 12 سال سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں ۔

    وہ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسی دیوقامت ادبی اور روحانی شخصیات کے بہت قریب رہی ہیں اور ان کی تنظیم” رابطہ” کی پہلی کم عمر ترین رکن اور بعد میں خاتون سیکریٹی رہیں۔ وہ” حلقہ ارباب ذوق” کی دوسری خاتون سیکریٹری بھی منتخب ہوئیں۔ فرحین چوہدری نے سارک ممالک میں کئی سال تک ادبی و ثقافتی طائفوں کی سربراہی کرنے صوفی کانفرنسز کے سیشن کی صدارت کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے 2013 میں سنگارپور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پہلی خاتون پاکستانی لکھاری کی حیثیت سے شرکت کی اور ” جنوبی ایشیا میں خواتین لکھاری اور ان کے موضوعات” کے عنوان سے انگریزی میں مقالہ پڑھا ۔

    لوک ورثہ میں پروگرام ایگزیکٹو ، مین ہیٹن انٹرنیشنل میں ڈائرکٹر پروڈکشن، ایورنیو کانسیپٹ میں ڈائرکٹر پروڈکشن اور ہنجاب اور سٹار ایشیا ٹی وی چینل کی سٹیشن ہیڈ اسلام آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ۔ پی ٹی وی کے لئے کئی مشہور سیریل سیریز اور ٹیلی فلمز لکھیں ۔ جن میں دام رسائی ، ماٹی کی گڑیا ، اشتہار لگانا منع ہے ، چاند میرا بھی تو ہے ، خوشبو ، خواب جو د یکھے آنکھوں نے وغیرہ شامل ہیں ۔

    "پانی پہ نام” سیریل لکس سٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا تھا۔ آئی ایس پی آر اور آئی او ایم کے لئے ڈاکومنٹریز کے علاوہ بھی کئی ڈاکومنٹریز اور ٹی وی پروگرامز بطور ڈائرکٹر بنائے ۔ چار افسانوی مجموعے ، سچے جھوٹ آدھا سچ میٹھا سچ ، شوگر کوٹڈ شعری مجموعہ، سورج پہ دستک اور یاداشتوں کی کتاب ، "مفتی جی اور میں ” چھپ چکی ہیں ۔

    2013 میں سارک لٹریری اور کلچرل ایوارڈ 2019 ممتاز مفتی گولڈ میڈل برائے ادب 2022 گولڈ میڈل منجانب امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 23 ایوارڈ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دیے گئے ان کی 4 نئی تصانیف جلد منظر عام پر آنے والی ہیں۔ فرحین صاحبہ گزشتہ طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں۔ ان کے بڑے فرزند مسقط اومان میں مقیم ہیں جبکہ ان کے چھوٹے فرزند ان کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں مقیم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نمونہ کلام

    ہم سادہ دل تھے لوگ سکھی
    ہمیں دھوکہ دے گئے لوگ سکھی

    ہم ہنس کر بازی ہار گئے
    کیوں جیت بناتے روگ سکھی

    جو راہ ہمارا حصہ تھی
    اس راہ میں پڑگئے لوگ سکھی

    یہ جیون کھیل تماشا ہے
    ہمیں لینے پڑ گئے جوگ سکھی

    خود اپنے آپ کو مار دیا
    پھر ہم نے منایا سوگ سکھی

    اب کیا پرواہ کس حال میں ہیں
    اب کیا کہتے ہیں لوگ سکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا یے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    مجھ میں پھیلے ہوئے صحرائوں کی وسعت ہے عجب
    ایک درویش کی مٹھی میں سما جاتے ہیں

    وہاں کاغذوں کے گھر تھے
    جہاں آگ جل رہی تھی

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی

  • سماعت کا ٹیسٹ پیدائش کے فوراً بعد لازمی کروائیں!!! —- خطیب احمد

    سماعت کا ٹیسٹ پیدائش کے فوراً بعد لازمی کروائیں!!! —- خطیب احمد

    بچے کی پیدائش والے دن ہی یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی عمر میں سو فیصد بچوں کی سماعت کا automated otoacoustic emission (AOAE) test ٹیسٹ کروائیں۔ یہ بات آپکو کوئی گائناکالوجسٹ پورے نو ماہ اسکے پاس ریگولر چکر لگانے پر بھی نہیں بتاتی۔ نہ پیدائش کے بعد کسی بھی ہسپتال میں یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ شاید ڈاکٹروں کو بھی اسکا شعور نہیں ہے۔ یا شعور ہے تو معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں۔

    بچہ ایک یا دونوں کانوں سے سماعت مکمل یا جزوی محروم ہے۔ یا آواز سننے میں اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ تو زندگی کے پہلے مہینے سے ہی اسے ارلی انٹروینشن فراہم کی جائے گی۔ Early Intervention جتنی جلدی شروع ہوگی۔ بچے کے نارمل ہونے کے چانسز اتنے زیادہ ہوتے ہیں۔

    انٹروینشن میں کیا ہوتا ہے؟

    والدین کی کاونسلنگ اور ٹریننگ سب سے پہلے ہے۔ کہ وہ اس صورت حال کو سمجھیں۔ اور بچے کو حکیموں دم درود والے پیروں کے پاس لیجانے کے جذباتی ری ایکشن کی بجائے بچے کی ان معنوں میں مدد کریں۔ جس سے بہتری ممکن ہے۔

    نوے فیصد والدین کو جس بھی عمر میں بچے کی کسی معذوری کا پتا چلتا ہے۔ وہ رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ گھر میں ماتم شروع ہوجاتا ہے۔ اور معذوری کو قبول کرنے کی بجائے اسکا انکار کر دیتے ہیں۔ یوں وہ اس بچے کو ٹھیک کرنے کی روایتی علاجوں سے کوشش کرتے ہیں۔ کہ بچہ کسی طرح بلکل نارمل دوسرے بچوں کی طرح ہو جائےجو اسنے نہیں ہونا ہوتا۔

    ہو بھی سکتا ہے البتہ جب ہمارے ہاں یہ بات مکمل طور پر معلوم ہوتی ہے کہ بچہ ڈیف ہے۔ تب تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

    بچے کو فوراً سننے میں مددگار اگر ڈیوائس کی ضرورت ہے تو کسی مستند آڈیالوجسٹ سے مشورہ کر کے آلہ سماعت لگوائیں۔ یاد رہے اپنے آپ یا جگہ جگہ بیٹھے آلہ سماعت بیچنے والے ٹھگوں کے پاس نہیں جانا۔ جس کو نہیں بھی ضرورت ہوتی وہ اسے بھی لگا دیتے۔ یا اسکی سیٹنگ کا انہیں سطحی علم ہوتا ہے۔ جو کافی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کی فیس بچانے کے لیے بچے کی زندگی نہ برباد کریں۔

    اگر ڈیوائس کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر بتاتا ہے کہ محض عام آواز سے ابھی تھوڑا سا اونچا بولنا ہے۔ تو ہدایات پر عمل کریں۔

    نیوٹریشن پلان بنوائیں۔

    ایک سال کی عمر میں سپیچ تھراپی شروع کروائیں۔

    سماعت سے محرومی اگر دونوں کانوں میں Profound لیول کی ہو یعنی 95 ڈیسی بل کی آواز سنی جا سکتی ہو۔ تو زندگی کے پہلے سال میں ہی کاکلئیر امپلانٹ کروائیں۔ آرٹی فیشل کاکلیا کان کے اندرونی حصے کا آپریشن کرکے لگایا جاتا ہے۔ جس سے بچہ نارمل سننا شروع کر دیتا۔

    کاکلیئر امپلانٹ کے بعد فوراً ریگولر ایک سال تک بچے کو کسی ماہر سپیچ تھراپسٹ سے سپیچ تھراپی کروائیں۔ خود استاد بننے کی کوشش نہ کریں۔ نہ یہ سمجھیں کاکلیا لگ گیا ہے تو بچہ بولنے لگ جائے گا۔

    کاکلئیر امپلانٹ زندگی کی ابتدائی 5 سالوں تک ہو سکتا ہے۔ جتنا تاخیر سے ہوگا۔ بچے کو بولنا سیکھنے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگے گا۔ اسکے بعد بھی ہو سکتا ہے۔ مگر جتنی جلدی ممکن ہو کروا لیں۔

    ایسا کرنے سے امید کی جا سکتی ہے کہ بچہ انشاء اللہ نارمل لوگوں کی طرح آلہ سماعت کی مدد سے یا کاکلئیر امپلانٹ سے سننے کے قابل ہو جائے گا۔ جب سنے گا تو ظاہر ہے سپیچ تھراپی سے انشاء اللہ بولے گا بھی۔

    غلطی یہاں ہوتی ہے کہ کسی بھی مددگار ڈیوائس کے بغیر لوگ بچے کو نارمل سنانا چاہتے ہیں اسے بلوانا چاہتے ہیں۔ جو کسی طرح بھی ممکن ہی نہیں ہوتا۔ اور سماعت سے محروم لوگوں کی تعداد دن بدن خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ سپیشل ایجوکیشن کے سکول مشہور ہی ان بچوں کے نام سے ہیں کہ گونگے بہرے بچوں کا سکول ہے۔ باقی سپیشل بچوں کی بھی تعلیم ہوتی ہے۔ یہ ہمیں بتانا پڑتا ہے۔ سکول میں سب سے زیادہ تعداد سماعت سے محروم بچوں کی ہی ہوتی ہے۔۔میرے اپنے سکول میں 85 ہیں۔

    ہر 600 میں سے ایک بچہ کسی نہ لیول کے سماعتی نقص کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کسی بھی ملک کی 5 فیصد آبادی (تمام عمر کے افراد) کسی نہ کسی سطح پر سماعت سے محرومی کا شکار ہیں۔ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ بھی مانیں تو ایک کروڑ سماعت سے محروم لوگ ہمارے ملک میں موجود ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ پیدا ہوتے ہیں سماعت کا ٹیسٹ ہر صورت کروائیں۔ بچہ رسپانس نہیں کرتا ایک ماہ کی عمر میں دو ماہ کی عمر میں پھر کروا لیں۔۔ یہ باتیں اپنے سرکل میں عام کریں۔ انکو ڈسکشن کا حصہ بنائیں۔ تاکہ آنے والی نسل کو اس معذوری سے بچایا جا سکے۔

    سماعت سے محرومی کی وجوہات، روک تھام، شادی، تعلیم، اور موزوں کام پر تفصیلی مضمون پھر کسی دن شئیر کروں گا۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ پیغام ہر فرد تک پہنچے۔

  • پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ہفتے والے دن صبح کے وقت گیس سے چلنے والی ککنگ رینج میں کوئی مسئلہ ہوا اور گیس لیک ہونے لگی۔ گیس والے کچھ مکینکس کو کال کی۔ ایک نے کہا کہ رات ساڑھے نو کے بعد آ سکتا ہوں اور کم سے کم تیرہ سو لونگا۔ دوسرے نے کہا کہ ایک ہزار صرف آنے کا لونگااور دیکھ کر بتاؤں گا کہ مسئلہ کیا ہے اور مزید کتنا خرچ آئےگا۔ دو نے کہا کہ آج وقت ہی نہیں ہے، کل ہو سکتا ہے۔

    اس کے بعد گاڑی لے کر نکلاکہ گیس والی دکانوں پر گیا کہ کوئی مکینک ڈھونڈھ لاؤں۔ جہاں بھی گیا تو پتہ چلا کہ مکینک تو کہیں نہ کہیں کام پر گیا ہوا ہے ، سب نے فون نمبر دیا کہ بات کر کے پتہ کر لیں کب تک آ سکتا ہے۔ مزید تقریباً سب نے یہ کہا کہ اگر ادھر دکان سے ٹھیک کروانا ہے تو پھر دے جائیں اور کل مل جائے گا۔ بالآخر ایک ہماری کالونی میں ہی کسی کے گھر کام کر رہا تھا، وہ تھوڑی دیر تک آیا۔ مسئلہ دیکھا اور کہا کہ دو ہزار روپے لگیں گے، اگر کہتے ہیں تو ٹھیک کردوں ورنہ میں چلا جاؤں۔ پندرہ سو کروانے کی کوشش کی لیکن وہ بیگ اٹھا کر باہر آگیا۔ دو ہزار پر ہی اوکے کرنا پڑا کہ باقی چھ سات سے تو پہلے ہی بات ہوچکی تھی۔ اس کے بعد اس نے ککنگ رینج کھولی، صفائی کی، ایک وال لیک تھا، اسے ٹھیک کیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ کام کیا، دو ہزار پکڑے اور چلا گیا۔ اس دوران اسے مسلسل مختلف لوگوں کے فون آرہے تھے اور وہ مختلف ٹائم دے رہا تھا۔

    ایسا ہی کچھ پلمبر، الیکٹریشن، اے سی کی سروس کرنے والے، فریج واشنگ مشین ٹھیک کرنے والے،گاڑیوں کے مکینک، کھڑکیاں دروازے لگانے والے، ویلڈنگ کرنے والے، وغیرہ کے ساتھ بھی دیکھ چکا ہوں۔

    ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاری سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ آٹھ آٹھ سال مدارس میں لگانے والے سات سے پندرہ ہزار تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ کیا یہ ہنر سیکھنا اتنا مشکل ہے؟کیا اس کے لیے کئی سال درکار ہیں؟ کیا یہ سیکھنے کے لیے بہت زیادہ پیسہ چاہیے؟

    مشکل بھی نہیں، پیسہ بھی زیادہ نہیں چاہیے، وقت بھی اتنا نہیں چاہیے تو پھر سیکھتے کیوں نہیں؟ جتنا ایک امام صاحب پورے مہینے میں کماتے ہیں اس سے کہیں زیادہ یہ ایک دن میں کما لیتے ہیں۔ اور ایم فل کرنے کے بعد بھی ایک شخص جتنی تنخواہ لیتا ہے اتنی یہ ایک ہفتے میں کما لیتے ہیں۔

    یہاں شاید کوئی یہ کہے کہ اس میں عزت کم ہے اور جاب میں زیادہ ہے تو اس نے شاید جاب کرکے دیکھی نہیں ہے۔ اور امام صاحب کو مسجد کمیٹی اور بعض دفعہ تو نمازیوں کی طرف سے بھی بہت کچھ سننا پڑتا ہے۔

    ایک دفعہ اپنے خول سے باہر نکلیے ، انا کو سائیڈ پر رکھیے، چند دن کسی بھی ہنر مند شخص کے ساتھ لگائیے اور پھر چاہے اپنی دکان پر بیٹھ کر کام کریں، چاہے گھروں میں جا کر، باعزت روٹی کمانے والے ہو جائیے۔

  • بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں!!! — علی منور

    بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں!!! — علی منور

    دو بچے جن کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔

    1 وہ جو میٹرک میں ٹاپ کرتے ہیں، پھر کالج میں بڑے ارمانوں کے ساتھ ایف ایس سی پری میڈیکل کے سبجیکٹس رکھتے ہیں اور سکالر شپ پر پڑھتے ہیں۔ پورا خاندان ان پر فخر کرتا ہے اور والدین سینہ تان کر چلتے ہیں۔ پھر تین چیزیں ہوتی ہیں۔

    ایک یہ کہ بچہ محنت جاری رکھتا ہے اور انٹر کے سخت امتحان کے بعد میڈیکل کا اینٹرنس ایگزام بھی سر کر لیتا ہے اور ڈاکٹر بننے کے سفر پر چل پڑھتا ہے۔

    دوسرا یہ کہ اپنی قابلیت کے زعم میں بہت سی چیزیں انڈر ایسٹیمیٹ کر لیتا ہے اور خود کو خراب کر بیٹھتا ہے، پھر مطلوبہ نتائج نہ آنے پر سسٹم کو، میرٹ کو اور پہنچ والوں کو کوسنے دینے شروع کرتا ہے کہ ذمے دار اس کے اپنے علاوہ باقی سب ہیں جبکہ ایسے کیسز میں قصور وار والدین بھی ہوتے ہیں مگر ان کا سارا زور بھی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دینے پر ہوتا ہے۔

    تیسرے نمبر پر وہ بچے ہوتے ہیں جو میٹرک کے بعد انٹر میں بھی سخت محنت کرتے ہیں اور پھر میڈیکل کا اینٹرنس ایگزام بھی خوش اسلوبی سے دیتے ہیں مگر کسی بھی وجہ سے میرٹ سے ایک دو پوائنٹس کے فرق سے رہ جاتے ہیں۔ یہ بچے ہر لحاظ سے قابلیت کے اعلی معیار پر پورے اترتے ہیں مگر جب اپنے ہی سامنے اپنے ساتھ والوں کو سرکاری کالجز میں یا اپنے سے کمتر بچوں کو پیسے کے بل پر پرائیویٹ کالجز میں داخلہ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ڈپریشن کے سخت فیز میں چلے جاتے ہیں کیونکہ سرکاری داخلے کے اہل بچوں کے برابر تو محنت انہوں نے کی ہوتی ہے اور رزلٹس میں بس پوائنٹس کے فرق سے بات رہی ہوتی ہے جبکہ پرائیوٹ کالج کی فیس بھرنے کے قابل والدین نہیں ہوتے تو وہ کسی چھوٹی ڈگری کو ذہنی طور پر تسلیم نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً معاشرے کو ایک سخت رو استاد میسر آتا ہے جس کی صحیح وقت میں درست راہنمائی نہ ہونے کی صورت میں اگلی نسل کے لیے مایوسیوں کے کئی در کھلتے ہیں اور سینکڑوں پھول کھلنے سے پہلے ہی مایوسی کی زندہ مثال دیکھ کر مرجھا جاتے ہیں۔

    تباہ ہونے والے دوسری قسم کے بچے وہ ہوتے ہیں جن کے والدین ان پر پڑھائی کے لیے شیڈول سخت رکھتے ہیں۔ ان کے کھیلنے اور پڑھنے کے اوقات کار فکس ہوتے ہیں۔ دور کے رشتہ داروں کی شادیوں میں، مووی دیکھنے، یا کسی فضول فنکشن میں ان کو جانے کی اجازت نہیں ملتی کہ مبادا پڑھائی کا ہرج ہو۔ ان کے ماموں، پھوپھو، خالہ یا چاچو کے بچے جو ہمہ وقت کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں اور ہر چھوٹی بات پر سکول سے چھٹی کرتے ہیں اور والدین ان کزنز کے بارے میں ہمیشہ کہتے ہیں کہ بیٹا پڑھ لکھ کر افسر بن جاؤ ورنہ دیکھ لینا پڑھائی نہ کرنے کی وجہ سے تمہارے یہ کزن مزدوریاں کریں گے۔

    پھر ایک دن آتا ہے جب بچے اپنی مارکس شیٹیں ہاتھ میں تھامے کبھی داخلے کے لیے اور کبھی کسی اور مقصد کے لیے دفاتر میں ایڑیاں گھسا رہے ہوتے ہیں تبھی ان کے وہ نکمے کزن ٹک ٹاک پر ناچتے ہوئے وائرل ہو جاتے ہیں اور پیسوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ تب ان کو سمجھ نہیں آتا کہ انہوں نے بچپن کی ساری خوشیاں ہنگامے اور موج مستیاں کس پڑھائی کے لیے وار دیں جب ان کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت کھیل کود میں مشغول رہنے والے سوسائٹی کی آنکھ کا تارا بھی بنے اور پیسے میں بھی کھیلے۔ حد تو تب ہوتی ہے جب دوران تعلیم ان بچوں کو منہ بھی نہ لگانے والے اساتذہ کرام ناچ کر وائرل ہونے والوں کے ساتھ سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور فخریہ بتاتے ہیں یہ فلاں ہمارا سٹوڈنٹ تھا یا تھی۔

    سمجھ نہیں آتا کہ وہ کونسی ترجیحات ہیں جس سے معاشرے میں ترقی کی راہ اپنائی جا سکتی ہے اور بچوں کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ پڑھنا لکھنا اور باشعور و بامقصد رہنا ہی ان کے اپنے لیے اور ان کے ملک و ملت کے لیے سود مند ہے۔ ناچ گانا، ٹک ٹاک اور گیمز صرف وقتی چیزیں ہیں جن کا جز وقتی اور سستی شہرت کے سوا کچھ حاصل نہیں۔

  • عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں نے عورتوں کو وراثت میں حصہ دینے سے متعلق پوسٹ کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے علمبردار لبرل ہوں یا اسلام پر عمل کرنے کے دعویدار مذہبی لوگ، عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے معاملے پر دونوں ہی ڈنڈی مارتے ہیں۔

    اس پر ایک عورت نے رابطہ کیا اور کہا کہ عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہ دینے والے معاملے میں عورتیں بھی قصووار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے والد صاحب وراثت میں بہت سی زمین جائیداد چھوڑ کر گئے۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والدہ صاحبہ بھی حیات ہیں۔ والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد تک اس زمین جائیداد کی ساری آمدن اکیلے بھائی ہی کھاتے رہے اور بہنوں کو کسی نے کچھ نہ دیا۔ میرے علاوہ کسی بہن نے کبھی اس بارے کوئی بات نہیں کی۔ والدہ صاحبہ ایک عورت ہونے کے باوجود اس بات کی قائل ہیں کہ جائیداد پر صرف بیٹوں کا حق ہے۔ میں نے جب بھی بات کی مجھے ہمیشہ لالچی اور پیسے کی حریص ہونے کا طعنہ ملا حالانکہ میں صرف اپنے جائز حق کی بات کرتی تھی۔ آخر والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد بھائیوں کو جائیداد اپنے نام لگوانے کی سوجھی۔ وراثت میں ہمارا بھی حصہ تھا تو ہماری دستخط کے بنا تو ان کے نام نہیں لگ سکتی تھی۔ رسمی کاروائی کے لیے ہمیں بھی بلایا گیا اور رسماً کہا گیا کہ آپ تینوں بہنوں نے بھی حصہ لینا ہے تو دے دیتے ہیں۔ یا پھر ہمارے نام لگوانے کے لیے بیان دے دیں اور دستخط کر دیں۔ اس موقع پر والدہ صاحبہ کا بھی یہی موقف تھا کہ آپ لوگوں یعنی بیٹیوں کو زمین دی تو وہ غیروں میں چلی جائے گی۔

    میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ زمین ہو یا جائیداد ، ہمیشہ کسی ایک کی نہیں رہتی بلکہ کبھی ایک کے پاس تو کبھی دوسرے کےپاس ہوتی ہیں۔ یہ زمینیں ہزاروں لاکھوں سال سے یہی ہیں اور یہی رہیں گی۔ ہر صدی میں کئی بار ان کے مالکان بدل جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کسی صورت درست نہیں کہ غیروں کے پاس چلی جائے گی۔ پھر بھی اس کا یہ حل بھی ہے کہ یہ مہنگی گاڑیاں بیچ کر ہمیں جائیداد کی بجائے اس کی قیمت ادا کر دیں یا ابھی ہمارے نام لگوا دیں اور جیسے جیسے اس قابل ہوتے جائیں ہم سے خریدتے جائیں۔

    اس ساری بحث میں میری بہنیں گونگی بہری بنی رہیں۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ البتہ میری ماں کی کوشش تھی مجھے چپ کروا دیں۔

    میری بہنیں اگلے دن عدالت جا کر ساری جائیداد بھائیوں کے نام کروانے پر تیار تھیں لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔ مجھے یہ کہا گیا کہ یہ بھی تو ہمارے نام لگوا رہی ہیں، صرف آپ ہی لالچی ہو۔ میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ صرف اور صرف معاشرے میں رائج اس رسم ورواج کی وجہ سے خاموش ہیں۔ ان میں اپنے حق کے لیے اس سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں ہے۔ میرا ایک چیلنج قبول کریں آپ لوگ۔ کل ان کا حصہ ان کے نام لگوائیں یا اس کی قیمت انھیں ادا کریں، پھر انھیں گھر جانے دیں اور اس سے اگلے دن آپ انھیں کہیں کہ اب وہ حصہ آپ کو واپس کر دیں کیونکہ پہلے بھی تو ہمارے نام لگوانے پر راضی تھیں۔ اگر تب پورا کیا آدھا حصہ بھی یہ آپ کو دینے پر راضی ہو جائیں تو میرا سارا حصہ آپ لے لیجیے گا۔ یہ میں آپ کو لکھ کر دینے کو تیار ہوں۔

    ساری رات اس بحث و مباحثہ کے بعد بالآخر اسی پر بات طے ہوگئی۔ اگلے دن ہمارا حصہ ہمارے نام کروا دیا گیا۔ اس میں بھی ڈنڈی ماری گئی کہ جو اچھی زمین تھی وہ خود رکھ لی ۔ لیکن یہ بھی غنیمت تھی کہ ہمیں حصہ مل گیا۔

    سب کے نام لگنے کے کچھ دن بعد بھائیوں نے بہنوں سے کافی کہا، تحائف بھی دیے، میٹھے بنے، اچھے سے پیش آئے لیکن کوئی بھی اب اپنا حصہ کسی بھائی کے نام لگوانے پر راضی نہیں تھی۔

    مجھے اس کا نقصان یہ ہوا کہ میرے ساتھ میرے بھائیوں اور والدہ صاحبہ نے ہر تعلق توڑ لیا اور آج تک ٹوٹا ہوا ہے۔ میں نے کوشش کی لیکن مجھے اپنے گھر میں بھی داخل نہیں ہونے دیتے۔ میری بہنوں نے بھی اپنا حصہ لے لیا لیکن وہ خاموش رہی تھیں تو ان سے تعلقات ہیں۔

    کاش کہ ہمارے معاشرے کی خواتین اپنے اس حق کے لیے بولنا سیکھ جائیں۔ یہ کوئی خیرات نہیں، حق ہے جو اللہ نے خود ہمیں دیا ہے۔ صرف اس لیے نہ چھوڑیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس لیے بھی اس کی کوشش کریں کہ آپ کا یہ لڑنا کئی دوسری خواتین کے لیے بھی مشعل راہ ہوگا اور ان کے لیے ایک راستہ کھولے گا کہ وہ اپنا حق لے سکیں۔

  • مرغی یا انڈہ؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مرغی یا انڈہ؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ سوال سائنسی بھی ہے اور فلسفیانہ بھی۔ سائنسی اس اعتبار سے کہ اس سے ہمیں ارتقاء کے عمل کا پتہ چلتا ہے اور فلسفیانہ ایسے کہ اسے بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے تب جب دو آپس میں جڑے واقعات میں یہ فیصلہ نہ ہو پائے کہ علت کیا ہے اور معلول کیا۔ یعنی کاز اور ایفکٹ۔

    تو موجودہ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

    مشہور امریکی سائنسدان اور سائنس کو عوامی کرنے کے ماہر Neil degrasse Tyson اسکا جواب کچھ یوں دیتے ہیں:

    "کون پہلے آیا مرغی یا انڈہ؟ انڈہ جو اس پرندے نے دیا جو کہ مرغی نہیں تھا”۔

    نظریہ ارتقاء کےتحت ہم یہ جانتے ہیں کہ مختلف جاندار ارتقاء پذیر ہو کر مختلف نسل کے جانداروں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے موجودہ دور کی مرغیاں بھی کسی اور جاندار سے ارتقاء کے عمل کے تحت وجود میں آئیں ہیں۔

    جانداروں میں ایسا انڈہ جسکے گرد حفاظتی جھلی ہو، اسے amniote egg کہا جاتا ہے۔ اس خصوصیت کے باعث اس طرح کے انڈے سمندروں کے علاوہ خشکی پر بھی جاندار دے سکتے ہیں۔ اگر فوسلز کے شواہد دیکھے جائیں تو خشکی پر دیا جانے والا انڈہ (مرغی کا نہیں) کسی ریپٹائل جانور کا آج سے 30 کروڑ سال پہلے کا ملتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرغی سے پہلے انڈہ آیا مگر کسی اور جاندار کا۔

    مگر مرغی کے انڈے کے بارے میں کیا؟

    موجودہ دور کی مرغی جسکا سائنسی نام Gallus domesticus ہے، انسانوں نے قریب چار ہزار سال پہلے پالنا شروع کیں۔ یہ مرغیاں جس پرندے سے ارتقاء پذیر ہوئیں وہ مرغیوں سے ملتا جلتا پرندہ Red Junglefowl ہے جو جنوب مشرقی ایشیاء میں پایا جانے والا ایک جنگلی پرندہ ہے۔

    قدیم دور میں مرغوں کی لڑائی مختلف تہذیبوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ اسی بنا پر انسانوں نے مرغیوں کے ان اجداد کو پالنا شروع کیا اور ان میں مصنوعی چناؤ کے ذریعے انہیں موجودہ مرغی کی شکل میں لائے۔

    اسی مصنوعی چناؤ کے دوران ایک ایسا پرندہ ارتقاء پذیر ہوا ہوگا جو مرغی نہیں ہو گا بلکہ مرغی سے ملتا جلتا ہو گا اسے ہم "پروٹو چکن” کہہ سکتے ہیں۔ اس پروٹو چکن کے انڈے میں جینیاتی تبدیلی یا میوٹیشن کے باعث جدید مرغی کا جنم ہوا ہو گا۔

    ارتقاء کا عمل ایک مسلسل عمل ہے اور اس میں ہم ایک لکیر نہیں کھینچھ سکتے کہ اب ایک مکمل مختلف نسل کسی پرانی نسل سے جدا ہو چکی ہے۔
    لہذا موجودہ مرغی سے پہلے وہ انڈہ آیا ہو گا جو تھا تو مرغی جیسے پرندے کا مگر اس میں تبدیلی کے باعث موجودہ مرغی وجود میں آ ئی۔

    سو اس سوال کا جواب کہ مرغی پہلے آئی کہ انڈہ یہ ہے کہ یقینا انڈہ۔

    ویسے اگر آپ دونوں آن لائن منگائیں تو کون پہلے آئے گا؟

  • مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آج سے کم و بیش دس سے گیارہ ہزار سال پہلے انسانوں نے کھیتی باڑی کرنا شروع کی۔ اس سے پہلے انسان شکار کئے جانور یا جنگلی پھل وغیرہ کھا کر اپنی بھوک مٹاتے۔ اس وجہ سے انسانی آبادی کم تھی۔ خوراک کے ذرائع محدود تھے۔ آج سے بارہ ہزار سال پہلے جب آئس ایج کا دور ختم ہوا تو گندم اور دیگر اناج کے پودے شدید موسم سے بچ کر زیادہ بہتر طور پر اُگنے کے قابل ہوئے۔ انسانوں نے کھیتی باڑی کر کے مستقل آبادیاں بنائیں۔ اب کھانے کے لیے شکار کی ضرورت کم ہو گئی مگر گوشت کھانا انسان نے نہ چھوڑا۔ جانوروں کو پالنا شروع کیا گیا۔ بکریاں، گائے، سور ان سب کو گوشت، دودھ, اُون وغیرہ کے لئے رکھا گیا۔ خوراک کے بہتر ذرائع سے انسان کی نشو و نما بہتر ہونے لگی۔ آبادی بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسانی آبادی چند ہزار سالوں میں لاکھوں سے اربوں میں چلی گئی۔

    آج جانوروں کا گوشت وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانوں نے مصنوعی چناؤ سے جانوروں کی ایسی نسلیں تیار کی ہیں جو کم وقت میں زیادہ گوشت اور زیادہ دودھ دیتی ہیں۔ مگر گوشت کی اس انڈسٹری سے ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا یے۔ سائنسی جریدے نیچر کے مطابق محض جانوروں سے حاصل کردہ ایک کلوگرام بیف کے لئے اوسطاً 15 ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح گوشت کی انڈسٹری عالمی خوراک کی سالانہ کی پیداوار سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں میں 60 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔

    ماحولیاتی اثرات کے اس تناظر میں اور گوشت کی بڑھتی ہوئی کھپت کے پیشِ نظر اب جدید طریقوں سے گوشت بنانے کا سوچا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت لیبارٹری میں تیار کردا گوشت کے حوالے سے ہے۔
    اسے عرف عام میں Lab Grown Meat یا مصنوعی گوشت بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جسے گوشت کہتے ہیں وہ دراصل جانور کے پٹھے ہوتے ہیں۔ اس میں مسل ٹشوز اور چربی ہوتی ہے۔ مصنوعی گوشت کی تیاری کے عمل میں جانور کو مارے بغیر اسکے کچھ خلیے پٹری ڈش میں نکال کر اُنہیں خاص حالات اور خوراک مہیا کی جاتی ہے جس سے وہ بڑھتے ہیں اور کچھ وقت میں گوشت کا ٹکڑا بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے مصنوعی گوشت کا تصور 21 ویں صدی کے اوائل میں پیش کیا گیا۔ اس طرح سے لیبارٹری میں گوشت بنانے کے اور اسکے ذائقے کا موازنہ جانور سے حاصل کئے گئے گوشت سے کیا گیا۔ پہلے تجربوں میں اسے بنانا بے حد مشکل اور مہنگا تھا۔ لیب میں بنایا گیا ایک پاؤنڈ گوشت 3 لاکھ اور 30 ہزار ڈالر کا۔۔مگر وقت کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں بہتری کے باعث اسے بنانا سستا ہوتا گیا ۔ آج اسکی قیمت تقریباً 7 سے 8 ڈالر فی پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے۔ بہت سی نئی کمپنیاں آج اس طرح سے بنے مصنوعی گوشت کو سستا سے سستا اور کھانے کے لیے محفوظ بنا کر مارکیٹوں میں لانے کی کوشش میں ہیں۔ سنگاپور پہلا ملک ہے جہاں ایک امریکی کمپنی "جسٹ ایٹ”. کا تیار کردہ مصنوعی چکن مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ دیگر ممالک بھی عنقریب اس روش کو اپنائیں گے۔

    مصنوعی گوشت کی پیداوار سے ماحول پر برے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے کہ یہ طریقہ کار موثر ہے اور اس میں وسائل کا استعمال روایتی گوشت حاصل کرنے کے طریقے سے کم ہے۔ اسکے علاوہ بہت سے لوگ مستقبل میں یہ گوشت کھانا بھی چاہیں گے کیونکہ بقول اُنکے اس میں کسی جانور کی ہلاکت یا اس پر ظلم شامل نہیں۔

  • ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    اوپن مارکیٹ ڈالر ڈھائی سو میں بھی نہیں ملتا. اور ذہین حکومت سرکاری نرخ دوسو پچیس پر باندھ کر مطمئن ہے. باہر کے ملکوں سے پاکستان رقم بھیجنے والوں کو بینک سے ہزار ڈالر کے عوض سوا دولاکھ ملیں اور دیگر ذرائع سے بھیجیں تو ڈھائی لاکھ ملیں تو کم ہی محب وطن ایسے ہوں گے جو اتنا نقصان کرکے بھی بینک سے بھیجیں.. یہی وجہ ہے کہ ترسیلات زر پچھلے سال کے مقابلے میں بہت کم رہ رہی ہیں. یہ عمل تجارتی خسارے میں اضافے کا باعث ہے.

    صورت حال یہ ہے کہ سرکار کے پاس زرمبادلہ کی قلت کے باعث صنعت کے لیے ناگزیر سامان کی درآمد پر بھی کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ پابندی لگائی جاچکی ہے.ٹریکٹر ساز اور کاریں بنانے والے ادارے اور ان پر منحصر ساری صنعت شدید مالی بحران سے دوچار ہے. لاکھوں لوگوں بے روزگار ہونے جارہے ہیں. اور اس بحران کی مدت کتنی ہے اور حل کیا ہے کسی کونہیں معلوم. مستقبل کے حالات کا سوچ کر بھی خوف آرہا ہے.

    ایسے میں ہمارے ذہن میں ایک حل آرہا تھا سوچا آپ کے ساتھ سانجھ کرلیں شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آئے. بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں چند میدانوں میں جیسے، ہاؤسنگ، فوڈ ویلیو ایڈیشن ،اور انجینئرنگ وغیرہ کی صنعت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے. ان کے لیے خصوصی سرمایہ کاری اکاؤنٹ کھولیں جاسکتے ہیں . جن میں سرمایہ بھیجنے پر انہوں مارکیٹ ریٹ سے پچیس تیس روپے فی ڈالر زیادہ رقم دی جائے.مگر شرط یہی ہوگی کہ یہ رقوم یہاں جائدادیں بنانے کے لیے نہیں بلکہ صنعتیں لگانے پر صرف ہوگی.

    دس ارب ڈالرز کے بدلے ڈھائی، تین سو ارب روپے فالتو دینا پڑیں گے جس سے شاید انفلیشن تو تھوڑا سا بڑھے گا مگر دس ارب ڈالر ایک دم آنے سے جو ملکی صورتحال میں یک دم بہتری آئے گی، غیر یقینی صورتحال کے خاتمہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے وہ اس سے کہیں زیادہ فائدہ کا باعث ہوں گے.

    لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک وقتی حل ہے. مستقل بنیادوں پرمعاشی استحکام کے لئے ہمیں سب سے پہلے غیر یقینی صورتحال کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا پڑے گا. کسی طور ساری بڑی جماعتیں کسی طاقتور گارنٹر کی موجودگی میں ایک چارٹر آو اکانومی پر متفق ہوجائیں تاکہ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو نہ چھیڑا جاسکے. اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر منیر نیازی کا شعر دریا کی جگہ بحران لگا کر پڑھیں.

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
    دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

  • امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    اگر آپ نے امیر بننا ہے تو لاس اینجلس امریکہ کا ڈان پینیا آپ سے بیس ہزار ڈالر لیتا ہے. پھر اگلے ایک گھنٹہ وہ آپ کو خوب ذلیل کرے گا. وہ آپ کو امیر لوگوں کے نام لے لے کر بتائے گا شرم کرو اگر یہ امیر بن سکتے ہیں تو تم کیوں نہیں.؟ وہ آپ کی غیرت جگائے گا.

    پاکستان کا کوئی ڈبل شاہ آپ کو امیر بننے سے پہلے ہی یقین دلا دے گا کہ آپ تو بہت امیر ہیں. آپ اتنے امیر ہیں کہ آپ کو کسی قسم کے کام کی ضرورت ہی نہیں. آپ پیسے مجھے دیں امیر لوگوں کی طرح گھر بیٹھ جائیں. ہم نوکر ہیں نہ آپ کو امیر سے امیر ترین بنانے کیلئے. آپ بس ہر مہینے کا منافع گنتی کریں.

    ڈان پینیا نے کسی کو امیر بنایا یا نہیں یہ تو میں نہیں جانتا لیکن ڈان ہو یا پاکستان کا ڈبل شاہ یہ سب خود امیر ضرور بن گئے ہیں. آپ کو امیر بنانے کے موٹیویشنل سپیکرز بہت مل جائیں گے. آپ فری میں یوٹیوب پر فری کی ویڈیوز دیکھ کر امیر بن جائیں. یا آپ کو زیادہ جلدی ہے تو آپ امیر بننے کیلئے نقد انویسٹمنٹ کرلیں. یہاں ہر طرف آپ کو ایک ڈان پینیا یا کوئی ڈبل شاہ مل جائے گا.

    لیکن ہم کوئی موٹیویشنل سپیکر نہیں ہیں. ہم امیر بننے کے طریقے بھی نہیں جانتے البتہ بطور ایک انسان صرف انسانیت سکھانے کی کوشش کرتے ہیں. تاریخ بتاتی ہے انسان جب بھی انسانیت سے دور ہوا معاشرہ وہ جنگل بن جاتا ہے جہاں کمزوری جرم ٹھرتی ہے. یہ کمزوری نفسیاتی بھی ہوتی ہے عادات کی بھی تو علم و عمل بھی کمزور ہو سکتے ہیں.

    اپنی کمزوری کا اعتراف صرف بہادر کر سکتے ہیں. ایک طاقتور شعور ہی شعوری طاقت کا قدردان ہوتا ہے. یہ ایک دوسرے سے سیکھنے اور سکھانے کا رشتہ ہے. کوئی کسی بند دروازے کے سامنے یہ سوچ کر کھڑا نہ ہوجائے جیسے یہی زندگی کا اکلوتا دروازہ ہو. تب یہ انسانیت کا رشتہ ہی ہے جو اپنے اپنے دروازے کھول کر بتاتے ہیں نہیں زندگی کے بہت سے دروازے ہیں. مایوسی تمہیں ادھر ادھر بس دیکھنے نہیں دے رہی.

  • کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی. جیسے اکثر موٹیویشنل سپیکرز ہاتھی کے اس بچے کی کہانی سناتے ہیں جس کے پاوں میں ایک پتلی زنجیر ڈال دی جاتی ہے. وہ اس زنجیر کو توڑ نہیں پاتا. وقت کے ساتھ ہاتھی تو بھاری بھرکم جسامت کے ساتھ بڑا ہو جاتا ہے لیکن زنجیر وہی رہتی ہے. اب ہاتھی اسے توڑنے کی کوشش ہی نہیں کرتا. سپیکرز بتاتے ہیں کہ وہ مان چکا ہوتا ہے کہ وہ یہ زنجیر نہیں توڑ سکتا تو کیا آپ بھی اپنی زنجیروں پر یہ تسلیم کر چکے.؟

    ہاتھی کی کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے. لیکن کیا ہاتھی کیلئے یہ کہانی ختم ہوئی.؟ انسانوں کے علاوہ ہاتھی ہی ہیں جو ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے نکل نہیں پاتے. اس نفسیاتی بیماری کو PTSD کہتے ہیں. ہم انسان بھی اسکا شکار ہوتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ہاتھی چڑیا گھر میں کم از کم اس بیماری سے چھٹکارا نہیں پا سکتا. اسے واپس جنگل جانا ہوگا جہاں وہ اپنے کل کا فیصلہ خود کر سکے.

    ہمارے بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں. ماں باپ بھائی بہن دوست عزیز و رشتہ دار لیکن کوئی آپ سے آپ کا درد نہیں لے سکتا. آپ کی تکلیف کا بھلے ان کو جتنا بھی احساس ہو وہ یہ تکلیف محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن وہ یہ آپ سے لے نہیں سکتے. آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنے سر درد سے تھک گیا ہوں کچھ دیر اسے اپنے سر پر لے لو.

    ہمیں واپس اپنے پاس جانا ہوتا ہے. ہمیں اپنے کل کے پاس جانا ہوتا ہے. کل کیلئے ہمارے پاس کوئی خواب ہوں کوئی منزل ہو تب آنے والا کل ہمیں گزرے کل سے کھینچ لیتا ہے. لیکن اگر ہمارے پاس کوئی خواب اور مقصد یا منزل نہ رہے تب ہم گزرے کل میں زندگی کے چڑیاگھر کا ایک کردار بن جاتے ہیں. ہماری کہانی پر وقت گزر رہا ہوتا ہے لیکن کہانی آگے نہیں بڑتی.