Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ یا پاکستان میں نمازی خواتین گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں ہے؟
    اگر یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں تو پھر خواتین کے لیے نماز کی جگہ کیوں نہیں بنائی جاتی؟

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر شاید ہی کسی نے بات کی ہو لیکن ہر روز لاکھوں خواتین کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موٹروے کے علاوہ آپ پاکستان کی کسی بھی سڑک پر کسی بھی علاقے میں سفر کر لیں یا پاکستان کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں، یا کسی پارک یا ٹورسٹک پوائنٹ پر چلے جائیں، ہر جگہ آپ کو مردوں کے لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں لیکن ان میں شاید ہی کوئی ایسی مسجد ملے جس میں خواتین کے لیے بھی مخصوص جگہ ہو جہاں وہ نماز پڑھ سکیں۔ ہاں جو غیر ملکیوں نے بنائی ہو گی جیسے موٹروے، کوئی ملٹی نیشنل پلازہ یا شاپنگ مال، یا غیر ملکی بڑا پٹرول پمپ، وہاں ایسی مساجد بھی مل جائیں گی۔

    حالانکہ نماز کے لیے جتنی فرضیت مسلمان مردوں پر ہے اتنی ہی خواتین پر ہے۔ خواتین کے لیے گھر میں پڑھنا افضل ہے لیکن یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ خواتین جہاں بھی ہوں ، نماز کا وقت ہوتے ہی فوراً سے گھر پہنچیں اور پھر نماز ادا کریں؟

    اگر کسی مسجد میں کچھ حصہ پردے وغیرہ لگا کر خواتین کے لیے مختص کر دیا جائے جیسا یورپ میں عام طور پر ہوتا ہے یا پھر مسجد کا ایک مکمل الگ حصہ بنا دیا جائے جیسا کہ موٹروے پر آپ دیکھ سکتے ہیں تو اس سے لاکھوں خواتین کی نماز قضاء ہونے سے رہ جائے گی۔ اور اکثر دیکھتا ہوں کہ جب اس طرح خواتین کی کچھ نمازیں قضاء ہونا شروع ہوتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ سستی کی وجہ سے وہ نمازیں بھی ترک کرنا شروع کر دیتی ہیں جو وہ پڑھ سکتی ہیں کیونکہ وہ جو نماز چھوڑنے پر گناہ کا اور ندامت کا احساس ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نمازیں ان کی نہیں بلکہ معاشرے کی غلطی کی وجہ سے قضاء ہو رہی ہوتی ہیں۔

    نمازی خواتین کی جو اس طرح نمازیں قضاء ہوتی ہیں اس پر انھیں تو شاید اللہ تعالیٰ معاف کر دے گالیکن ہم سب اس میں قصوروار ضرور ہونگے اور اس میں ہمارا دینی طبقہ اور علماء کرام خاص طور پر پکڑے جائیں گے جو ہر گلی میں ہر مسلک کی الگ الگ مسجد تو بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں کرتے کہ ان میں سے کسی مسجد کا تھوڑا سا حصہ خواتین کے لیے مختص کر دیں۔

    احباب سے گزارش کروں گا کہ اس پر آواز بھی اٹھائیں، اور جب بھی کسی مسجد کو چندہ دیں تو وہاں بھی یہ بات ضرور کریں۔ یہ خواتین کا دینی حق ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر بآسانی نماز پڑھ سکیں۔ خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے اس پر کبھی بات نہیں کریں گے، ہمیں ہی اس پر بات کرنی ہے۔

  • کب تک؟ — خطیب احمد

    کب تک؟ — خطیب احمد

    ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب کے دیہاتوں شہروں، گلی محلوں میں موجود چھوٹے بڑے پرائیویٹ سکولز کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔

    کسی بھی نوعیت کی معمولی معذوری کے حامل صرف 2 بچوں کو اگر ایک پرائیویٹ سکول داخلہ دے تو اس نئے سال میں 1 لاکھ آوٹ آف سکول سپیشل بچے تعلیمی دھارے میں آسکتے ہیں۔ ایسا ہی اگر پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں ہو تو لاکھوں بچے سکول جا سکتے ہیں۔

    محکمہ سپیشل ایجوکیشن پنجاب کے زیر انتظام چلنے والے 300 اداروں میں اس وقت لگ بھگ 35 ہزار سپیشل بچے زیر تعلیم ہیں۔ ہمارے سکول پنجاب کے ہر ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور چند بڑے قصبات میں موجود ہیں۔ آپ کسی بچے کے داخلے کے لیے اپنے قریبی سپیشل ایجوکیشن سنٹر کے متعلق مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔

    آپ کا کوئی پرائیویٹ سکول ہے تو آپ نیکی کا ارادہ کیجئے۔ سکول کے بچوں سے ہی پوچھیے کہ انکا کوئی بہن بھائی یا گلی محلے میں کوئی سپیشل بچہ ہے تو آپ کو بتائیں۔ میں اس پر آج کل ہی میں ان شاءاللہ تفصیلی مضمون لکھتا ہوں کہ کن بچوں کو آپ آسانی سے انرول کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بس دل میں خود سے یہ بات آنے کی دیر ہے۔

    آپ سپیشل بچوں کے والدین ہیں تو آپ سے میری گزارش ہے۔ بچے کے علاج کے ساتھ اسکا تعلیمی سفر بھی شروع کیجیے۔ اسے ایک وہیل چیئر لے کر دیجئے اور قریبی کسی سکول اسے پڑھنے بھیجئے۔ سکول انتظامیہ کے خدشات ہم انکو گائیڈ کرکے دور کردیں گے ان شاءاللہ۔ وہ یہی اعتراض کرتے کہ وہ بچہ دوسرے بچوں کو تنگ کرے گا اور دیگر بچوں کے والدین کمپلین کریں گے۔

    پاکستان میں ہوئی بے شمار تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نارمل بچوں کے والدین اپنے بچوں کو سپیشل بچوں کے ساتھ ایک کلاس یا سکول میں نہیں پڑھانا چاہتے۔ تو پی ٹی ایم پر والدین کو اچھے طریقے سے گائیڈ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کا محض ایک وہم ہے۔ نہ تو کسی کی معذوری ساتھ پڑھنے سے کسی کو لگ سکتی ہے۔ نہ ہی آپکے بچے کی تعلیم کا ان شاءاللہ کوئی حرج ہوگا۔

    کب تک اپنے سپیشل بچے کو چارپائی پر پڑا یا وہیل چیئر پر بیٹھا دیکھ کر روتے رہیں گے؟ کب تک اسے شہر شہر ایک سے دوسرے تیسرے چوتھے ہسپتالوں میں لیجاتے رہیں گے؟ اسے پلیز اب سکول کا رستہ دکھائیے۔ اسے اسکی زندگی اسکے مخصوص مدار میں ہم سے مختلف رہ کر جینے دیجئے۔

    چند ایسی معذوریاں ہوتی ہیں جن میں ایک استاد کے ساتھ ایک ہی بچہ پڑھنے پڑھانے یا سیکھنے سکھانے کے کام میں موجود ہوتے ہیں۔ جیسے آٹزم ، ADHD شدید دانشورانہ پسماندگی، یا سماعت و بصارت سے ایک ساتھ محروم ہونا جیسے ہیلن کیلر تھی۔

    اس کے علاوہ Rare سنڈروم یا معذوریاں ہوتی ہیں جو لاکھوں کی آبادی میں ایک دو ہی کیس ہوتے۔ یا ایک ساتھ دو یا دو سے زائد معذوریاں ہونا۔ جیسے سی پی کے ساتھ ہی اس بچے میں سماعت کا کم ہونا یا نہ ہونا۔ سی پی کے ساتھ انٹلیکچوئل ڈس ابیلٹی ہونا وغیرہ۔

    ان کے علاوہ تقریباً تقریباً تمام ہی اقسام کے سپیشل بچوں کو کسی بھی گلی محلے کے سکول میں بھیجا جا سکتا ہے۔ ہاں اس سکول کے ساتھ قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول یا کوئی سپیشل ایجوکیشن کی تعلیمی بیک گراؤنڈ رکھنے والا ٹیچر مسلسل رابطے میں ہو یا معذوری کی نوعیت دیکھتے ہوئے وہاں مستقل ڈپیوٹ کیا جائے۔

    اشاروں کی زبان یا بریل سیکھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ چند ماہ میں ہی ایک ٹیچر یہ چیزیں سیکھ جاتا ہے۔ اور سکول میں آکر کتابیں پڑھنا ہی پڑھائی نہیں ہوتی۔ ٹائم مینجمنٹ ، سیلف کئیر ، اخلاقیات، سوشلائزیشن، فرینڈ شپس، گیمز میں حصہ، اسمبلی میں جانا، صفائی ستھرائی سیکھنا، تنہائی کی قید سے باہر نکلنا کیا تعلیم کا حصہ نہیں ہے؟

    کیوں کاپی کتاب اور کلاسز پاس کرنے کو ہی تعلیم سمجھ لیا گیا ہوا ہے؟ ایک سپیشل بچہ اپنی ذہنی اور جسمانی استعداد کے مطابق لکھنا پڑھنا سیکھ کر پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ اور کئی سالوں کی محنت کے بعد صرف لکھنا پڑھنا ہی سیکھ پاتے۔ بنیادی حساب اور خدا رسول یا مذہب کو جان پاتے، یا دیگر کچھ معلومات عامہ انکی یاداشت کا حصہ بن جاتیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ سپیشل بچوں کے والدین کا ایک گروپ تو بچوں کو کسی قابل ہی نہیں سمجھتا کہ یہ کیا کر سکتے ہیں۔۔اور دوسرے ان کو انکی قابلیت سے بہت آگے سمجھ لیتے اور سکول پر سکول بدل رہے ہوتے کہ ہمارے بچے کے ساتھ ٹھیک سے کام ہی نہیں ہورہا۔ تیسرا گروپ ان والدین کا ہوتا جو تھوڑا نہیں ٹھیک ٹھاک پڑھے ہوتے ہیں انکا مطالعہ بڑا وسیع ہوتا اور اپنے بچے کی ڈس ابیلٹی کو ٹھیک سے جان کر قبول کر چکے ہوتے۔ اور بچے کو اپنی کپیسٹی اور مخصوص سپیڈ میں آگے بڑھنے کا موقع دیتے۔

    بات کو آسان کرکے کہوں تو تمام سپیشل بچوں کو کسی نہ کسی طرح سکول بھیجنے کا انتظام کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ بچے میں کتنی مثبت تبدیلیاں چند ماہ میں ہی نظر آنا شروع ہونگی۔ اچھا ایک اور غلط فہمی کہ ہمارا سپیشل بچہ سپیشل بچوں کے یا دوسرے بچوں کے سکول جائے گا تو اسے دوسرے بچے ماریں گے یا اسکا برا نام رکھیں گے تو ہم بھیجتے ہی نہیں ہیں۔ یہ بلکل غلط سوچ ہے۔ اس سوچ کو بھی بدلیے اور باقاعدہ فالو اپ رکھئیے۔

  • مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    کل ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں سودا سلف اکھٹا کرتے کافی وقت لگ گیا. ان بڑے سٹورز میں سب کچھ ملتا ہے. سبزی کراکری کپڑے جوتے الیکٹرانکس سے لے کر امور خانہ داری کا سب کچھ دستیاب ہوتا ہے. لیکن تھکاوٹ کم کرنے کیلئے بیٹھنے کا کوئی سٹول بینچ آپ کو نہیں ملے گا.

    اسی تھکن میں دھیان اُن سیلز گرلز اور سیلز بوائز پر گیا جو اپنے اپنے حصے کے شیلف کے ساتھ کھڑے گاہک کو سہولت دیتے ہیں. میں نے سوچا ہم جو کچھ وقت میں یہاں تھک کر سٹول بینچ ڈھونڈ رہے ہیں ان کا صبح سے شام تک کیا حال ہوگا.؟

    اللہ رب العزت نے انسانی جسم کچھ اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ نہ یہ لگاتار بیٹھنا برداشت کر سکتا ہے نہ کھڑا رہنا. میڈیکل سائنس کہتی ہے اگر آپ کا کام کرسی پر بیٹھنے کا ہے تو درمیان میں بار بار کھڑے ہوا کریں اور اگر کھڑے ہونے کا ہے تو بیٹھ جایا کریں. کیونکہ لگاتار بیٹھنے پر دل بیمار ہوتا ہے اور لگاتار گھنٹوں کھڑے رہنے سے رگوں میں سوزش ہوتی ہے اور جوڑوں کا درد ساتھی بن جائے گا.

    کرسیوں والے تو کسی بہانے کھڑے ہو ہی جائیں گے لیکن یہ کھڑے مزدور جن کو ٹائٹ کپڑے پہنا کر شیلف کے سامنے ایک ڈیکوریشن پیس بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان کے پاس تو بیٹھنے کا آپشن ہی دستیاب نہیں ہوتا. مزدور کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں. کاش ان بڑے بڑے سٹورز کی انتظامیہ اپنے ورکنگ انوائر مینٹ میں گاہک کیلئے نہ سہی لیکن اپنے مزدور کیلئے ہی ایک سٹول رکھ دیں.

  • کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    (کسی کو آنکھیں عطیہ کرنا)

    انسانی آنکھوں کو دنیا کی ہر زبان کے ادب میں موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ کوئی محبوب کی آنکھوں کو سمندر سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی ان آنکھوں کی سیاہی میں اپنی زندگی کی روشنی تلاش کرتا ہے۔ بقول عدیم ہاشمی

    کیا خبر تھی تری آنکھوں میں بھی دل ڈوبے گا
    میں تو سمجھا تھا کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میں

    آنکھیں جہاں خوبصورتی کا ایک پیمانہ ہیں تو وہیں آنکھوں سے جڑے امراض بھی پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 10 لاکھ افراد بینائی سے مکمل یا جزوی محروم ہیں۔ دنیا بھر میں 4 کروڑ افراد بینائی سے مکمل محروم ہیں اور اڑھائی ارب جزوی طور پر کسی نہ کسی درجے میں محروم بصارت ہیں۔ اس موضوع پر تو کئی کتب لکھی جا سکتی ہیں۔ آج ہم بات کریں گے کارنیا کے ٹرانسپلانٹ پر۔ اسے ڈاکٹرز keratoplasty ھی کہتے ہیں۔

    کارنیا ہماری آنکھ کے نظر آنے والے گہرے گول سے حصے کے اوپر ایک صاف شفاف شیشہ سا ہے۔ جو آنکھ کے اندرونی حصے میں جراثیم، دھول، مٹی، انفیکشن جانے سے روکتا ہے۔ کورنیا روشنی کو اندر جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اور روشنی کی شعاعوں کو اس طرح موڑتا ہے کہ فوکس پر آ جائیں۔ یعنی ہماری آنکھ کا فوکس کارنیا بناتا ہے۔ کارنیا میں پیدائشی یا بعد میں کسی خرابی ہو یا کسی بیماری و حادثے کی صورت میں کارنیا ڈیمج یا خراب ہوجائے تو دنیا بھر میں خراب کارنیا نکال کر نیا کارنیا لگا دیا جاتا ہے۔

    کارنیا کا مکمل خراب ہونا بینائی سے ممکل محرومی کا سبب بن جاتا ہے۔ امریکہ میں ہر سال 50 ہزار لوگوں کا کارنیل ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں سالانہ کارنیل ٹرانسپلانٹ کی تعداد 2000 کے آس پاس رہتی ہے۔ جن میں سے 800 ٹرانسپلانٹ سالانہ تو الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں ہوتے ہیں۔ ہر پیدائشی نابینا فرد کو ضروری نہیں کارنیا ڈال کر بصارت لوٹائی جا سکے مگر چیک ضرور کروا لینا چاہیے کہ کارنیا تو خراب نہیں۔ اگر وہ ہے تو کوشش کرکے ٹرانسپلانٹ کروا لیں۔

    پاکستان میں کارنیا عموماً امریکہ اور سری لنکا سے آتے ہیں۔ وہاں لوگ مرنے سے پہلے وصیت کر جاتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد آنکھیں عطیہ کر دی جائیں۔ جیسے ہی فرد فوت ہوتا ہے 6 گھنٹوں کے اندر اس کی دونوں آنکھوں کی اوپری ٹرانس پیرنٹ جھلی یعنی کارنیا 8 یا 9 ملی میٹر گولائی میں کاٹ لی جاتی ہے۔ اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور جلد ہی کسی انسانی آنکھ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں اب تو آرٹیفشل کارنیا بھی موجود ہیں مگر وہ پائیدار اور قابل اعتماد نہیں ہیں۔ کسی جانور کا کارنیا انسان کو نہیں لگایا جا سکتا۔

    ہم پاکستان میں بھی کارنیا ٹرانسپلانٹ سنٹرز جیسے الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں جاکر وصیت لکھ سکتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کو اس بارے میں بتا سکتے ہیں۔ کہ ہماری موت کے بعد ہماری آنکھوں سے کارنیا لیکر کسی نابینا فرد کو ڈال دیا جائے۔ کچھ علماء اسے حرام کہتے ہیں اور کچھ حلال۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارا جسم ہمارے مال کی طرح اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک عطیہ ہے۔ جیسے ہم مال اسکی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں ویسے ہی ہماری آنکھ کی ایک معمولی سی جھلی کسی کی تاریک دنیا کو روشن کر سکتی ہے تو یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔ میں انشاء اللہ اپنی آنکھوں کے عطیہ کی وصیت بہت جلد کردونگا۔۔کہ میری وفات کے بعد کارنیا لے کر کسی نابینا فرد کو لگا دیے جائیں۔ زندگی میں ایسا کرنا کسی کو ایک یا دو کارنیا دینا مناسب نہیں۔ ایک گردہ یا جگر کا ایک حصہ دے سکتے ہیں۔ مگر ان سب کی کوئی قیمت نہ وصول کی جائے۔

    اعضا کے ہم مالک نہیں ہیں۔ اور کسی کو زندگی یا موت کے بعد دے نہیں سکتے۔ میرا اس بیانیے سے اتفاق نہیں ہے۔ بے شمار جید علماء اکرام بھی اسے درست نہیں مانتے۔ مولانا اسرار احمد مرحوم کا بھی یہی موقف تھا جو میرا ہے۔ تقریباً تمام عالمی سطح کے اسکالرز کا یہی موقف ہے۔ اور یہ کام پاکستان میں ہو بھی رہا ہے۔

    آئیے اس پیغام کو عام کریں۔ اپنے آس پاس نابینا بچوں و افراد کے والدین کو گائیڈ کریں کہ وہ انکی آنکھوں کا چیک اپ کروائیں۔ اگر کارنیا ٹرانسپلانٹ سے بینائی لوٹ سکتی تو ان کے لیے کارنیا ارینج کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک لمحے کے لیے تصور تو کریں آپ نابینا ہو جائیں تو کیا ہو؟ اگر کسی نابینا کو بینائی مل جائے تو اسکی زندگی کیسی خوبصورت ہوجائے گی؟

  • جاوید چوہدری  صحافی او کالم نگار

    جاوید چوہدری صحافی او کالم نگار

    جاوید چوہدری
    صحافی و کالم نگار
    یوم پیدائش : یکم جنوری 1968
    ۔……………………………………
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاوید چوہدری کا شمار پاکستان کی صف اول کے مقبول ترین صحافی اور کالم نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریروں کے قارئین اور ان کے ٹی وی پروگرامز کے ناظرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جاوید چوہدری یکم جنوری 1968 کو لالہ موسیٰ ضلع گجرات پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے لیکن وہ اردو میں لکھنے اور پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لالہ موسیٰ سے انٹر گجرات سے اور اعلیٰ تعلیم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے حاصل کی ۔

    جاوید چوہدری نے صحافت کا آغاز 1990 کی دہائی سے کیا۔ تاریخ ، تحقیق اور سیاحت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کالم نگاری کا آغاز روزنامہ جنگ سے کیا ۔ وہ زیرو پوائنٹ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں ۔ وہ 2008 سے روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھ رہے ہیں اور ” کل تک” کے نام سے ایکسپریس نیوز ٹی وی پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں ۔ وہ اب تک 50 سے زائد ممالک کا سفر کر چکے ہیں اور بہت سے انتہائی اہمیت کے حامل تاریخی اور مذہبی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں ۔ جاوید چوہدری کالموں پر مشتمل کتاب ” زیرو پوائنٹ ” کی 6 جلدیں شائع ہو چکی ہیں ۔ مختلف شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل ایک کتاب ” گئے دنوں کے سورج” اور سیاسی تبصروں پر مشتمل کتاب ” آج کل” بھی شائع ہو چکی ہے ۔

  • محمودہ غازیہ پاکستان کی  ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    محمودہ غازیہ

    تاریخ پیدائش: 01 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:راولپنڈی
    سکونت : اسلام آباد
    زبان:اردو، پنجابی
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خیابان
    ۔ (2)اعتبار کیوں نہیں کرتے
    ۔ (3)ورق ورق غزل
    ۔ (4)اکائی کی موت
    ۔ (5)اندھے شیشے
    مستقل پتا:بلاک ڈی، مکان نمبر653 ،سٹیلائٹ ٹائون، راولپنڈی

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ پاکستان آرٹس کونسل کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں اور فاطمہ جناح کالج برائے خواتین میں پڑھاتی تھیں۔ ان کے چار شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں:’’اکائی کی موت‘‘، ’’ورق ورق غزل‘‘ ، ’’اعتبار کیوں نہیں کرتے‘‘، ’’نیندکی ڈور ٹوٹ گئی‘‘ اور ’’بے سر کا گوتم‘‘ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تم اس سے دوری بھی مت خواہ مخواہ میں رکھنا
    بس احتیاط سی اک رسم و راہ میں رکھنا

    تم اپنے رنگ نہاؤ تم اپنی موج اڑاو
    مگر ہماری وفا بھی نگاہ میں رکھنا

    قبول گر نہ کرے وہ تو کیا ہمیں سر شام
    گلاب محفل ظل الہٰ میں رکھنا

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    بڑا عذاب ہے محمودہ غازیہؔ ہجرت
    مرے خدا مجھے اپنی پناہ میں رکھنا

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    بے طلب
    ۔۔۔۔۔۔
    میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی
    جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں
    یہ کافی ہے اور میرے لیے سب
    میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو
    یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو
    یہ بھی کافی ہے اور میرے لیے بہت ہے
    میں اس کی خواہش سے کچھ کم ہوں یا ذرا زیادہ
    ظاہر ہے گرد مجھے چھپا لیتی ہے
    میری روح میرے ہونٹوں پر ہے
    اڑنے کے لیے بے تاب
    کیا اس کے ہونٹ مجھے امن کا سبق دیں گے؟
    اور یہ بھی میرے لیے بہت ہے

  • نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نئی عیسوی سال 2023ء کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اہل مغرب خاص طور پر اس موقع پر دو کام کرتے ہیں ایک دوسرے کو مبارکباد اور نئے سال کے لئے عزائم، عرب ممالک میں بھی تبدیلی شروع ہو چکی بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب مشرقی اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے سے جڑا ہوا مرکز بن چکا ہے دوسری طرف قطر نے یورپی دنیا میں عربوں کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ چین کے صدر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلیمان کی پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ امن اور استحکام کا مرکز بن چکا ہے۔ ہم نے نئے سال کا جشن تو منایا مگر تادم تحریر ہمارے سیاسی رہنمائوں نے ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو، کرپٹ، نااہل، بدکار، ثابت کرنے میں وقت ضائع کر دیا۔ ملک و قوم دونوں کو لاغر کر دیا۔ ملک و قوم کو بے بس، لاچار، بے چارہ دوسروں کے رحم و کرم پر پہنچا دیا۔ خون خرابہ، دہشت گردی، تمام صوبوں میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ پاک فوج اور پولیس اپنے شہید ہونیوالے جوانوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں حکمران اور اپوزیشن والے بتائیں اب نئے سال کے کیا عزائم ہیں؟ کس سیاستدان کس جماعت کو عبرت کا نشان بنانا ہے؟ امریکہ سمیت کس مغربی ممالک کو گالیاں دے کر اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ کس کو بھارتی ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ قرار دینا ہے۔ کارکردگی کا عالم تو یہ ہے ملک میں نہ گیس ہے نہ بجلی۔ دنیا ترقی کے منازل طے کر رہی ہے ایک دوسرے پر ایک دوسرے پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا الزام لگانے والے سیاستدانوں کو اور فیصلہ ساز اداروں کو یاد نہیں کہ جس سیاستدان نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنے ایک دور حکومت میں جس میں موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے پالیسی بنائی تھی اس کو غدار، کرپٹ ترین، مودی کا یار، ملک دشمن قرار نہیں دیا؟ ایک دور میں نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صوابدیدی فنڈ سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا تھا؟ کیا حکومتی برآمدات بڑھانے ، درآمدات جو کہ غیر ضروری ہیں ان کو کنٹرول کرے؟ ملک اپنے وسائل پرانحصار کرے۔ اگر 1990ء کے دور حکومت میں نوازشریف کی معاشی اصلاحات پر کام جاری رہتا تو آج ہم کب کا کشکول توڑ چکے ہوتے۔ بدقسمتی سے ہماری کسی حکومت کو مدت پوری کرنے نہیں دی گئی جس کا خمیازہ ملک اور قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ پاکستان کو معاشی اصلاحات دینے والا نوازشریف آج بھی اپنے ایک بھائی اور مسلم لیگی ورکر شہبازشریف کے دورحکومت میں جلاوطن ہی ہے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    جو وقت تمھارے ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جو لمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    ڈاکٹر شاہدہ سردار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :شاہدہ شاہین خٹک
    تاریخ پیدائش:01 جنوری 1971ء
    جائے پیدائش:پشاور
    زبان:پشتو، اردو
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مہکتی دھرتی سلگتی سانسیں (وطن سے محبت کے حوالے سے نظموں پر مشتمل)

    ۔ (2)حقیقی زندگی (خواتین کے سماجی مسائل پر مبنی)

    ۔ (3)ہوا کی سرگوشی (غزلیات پر مشتمل شععی مجموعہ)
    (4) کرب زیست (افسانوی مجموعہ)
    (5) چراغ آگہی ( شعری مجموعہ
    (6) دیوار کے اس پار ( ہندوستان کا سفرنامہ)

    مستقل سکونت: چارسدہ روڈ پشاور
    خیبر پختون خواہ کے علاقہ کرک سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، ڈاکٹر اور سماجی کارکن ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ یکم جنوری 1978 میں پشاور میں ڈاکٹر زر بادشاہ خٹک کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم پشاور شہر میں حاصل کی اور میڈیکل کے شعبے میں ایم بی بی ایس کا کورس مکمل کرنے کے بعد اسپیشل کورس کر کے ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر بن گئیں ۔

    وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود شعر و ادب اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ سماجی خدمات کی غرض سے 2011 سے MAPC کے نام سے ایک این جی او بھی چلا رہی ہیں جبکہ وہ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے وطن میں ادبی تقریبات و مشاعروں میں بھرپور شرکت کے ساتھ بیرونی ممالک کا سفر بھی کرتی رہتی ہیں انہوں نے ہندوستان اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات میں بھی شرکت کی ہے ۔ ہندوستان کے سفر کے حوالے سے انہوں نے ” دیوار کے اس پار ” کے نام سے ایک سفرنامہ بھی لکھا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہیں کہ تم کو سہارے فریب دے کے گئے
    ہمیں بھی دوست ہمارے فریب دے کے گئے

    پھر اس کے بعد سرابوں کا ایک صحرا تھا
    چمکتی رات کے تارے فریب دے کے گئے

    جو وقت ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جولمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    کوئی ستارا نہ ابھرا وفا کے ساحل پر
    سمندروں کے نظارے فریب دے کے گئے

    وہیں پہ راکھ تھے پھر خواب میری پلکوں کے
    کبھی جو اپنے سہارے فریب دے کے گئے

    نگہہ نے شوق سے دیکھا صبا کی آمد کو
    ہوا کے سارے اشارے فریب دے کے گئے

    پڑی نظر جو کتابوں میں خشک پھولوں پر
    وہیں پہ ضبط ہمارے فریب دے کے گئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے حسین سرسبز موسم میں
    تمھاری یاد اشکوں میں روانی چھوڑ جاتی ہے
    اترتی ہے تری تصویر آنکھوں کے دریچے پر
    تو دل میں پھر سے اک وحشت پرانی چھوڑ جاتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان پہ موسم کی ادائوں کا اثر کیسے ہو
    جن کی آنکھوں کا کوئی رنگ سہانا ہی نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صرف یہ سوچ کے آئینے کو پھر جوڑ دیا
    وقت جتنا ہو محبت کے لیے تھوڑا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرا وطن کبھی آلودہ غبار نہ ہو
    خدایا اس پہ کبھی مشکلوں کا بار نہ ہو

  • "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم ستاروں کی خاک ہیں گویا!!
    خود میں ہی کائنات ہیں گویا!!

    یہ شعر ویسے تو جون ایلیا صاحب کا نہیں بلکہ ناچیز کا ہے مگر کیا فرق پڑتا ہے ۔ جون ایلیا بھی کمال لکھتے تھے مگر وہ غمِ حیات میں اُلجھے رہتے اور ہم غمِ کائنات میں۔

    ایک کہاوت تھی:
    "کائنات کو سمجھنے کے اُتنے راستے ہیں جس قدر اس میں ذی روح ہیں’

    مگر یہ ایک فلسفیانہ بات ہے۔ یہ بات گو کہ درست کہ کائنات کو سمجھنا آسان نہیں۔ انسان کی عقل محدود ہے۔۔انسان اسی کائنات میں رہ کر کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے مگر کیا یہ بات کم ہے کہ سوچتا ہے!!
    وہ جو سوچتے ہی نہیں، وہ جو فکر ہی نہیں کرتے کیا وہ اس امیبیا سے زیادہ اہم ہیں جو اُنکی طرح زندگی گزار کر مر جاتا ہے ۔۔خوراک حاصل کر کے بس جی رہا ہے اور نسل در نسل اپنے جینز منتقل کر رہا ہے۔

    فنا یعنی مر جانا انسان کے شعور کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسا مسئلہ کہ یہ اسے کسی طور چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ آج ہم جو ایجادات، سائنسی ترقی، جدید معیشت، طب میں جدت، بیماریوں کا علاج، خلاؤں میں جانا وغیرہ وغیرہ یہ سب دیکھتے ہیں تو یہ سب کیا اور کیوں ہے؟ یہ سب انسان کی لاشعور میں چھپی موت سے جنگ ہے۔ یہ بقا کی جنگ ہے۔ ہم ہر لمحہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہماری عقل ہو گی۔ کیونکہ ہماری عقل نے ہی ہمیں موت سے آگاہ کیا ہے۔ ایک جانور یہ نہیں جانتا کہ اُس نے کم و بیش کتنے سال زندہ رہنا ہے۔ مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اوسطاً اس زمین پر کتنے سال زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم نے ان سالوں کو مختلف کاموں اور مقاصد کے حصول میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تعلیم مکمل کرنا، شادی کرنا، بچے پیدا کرنا، بہتر روزگار رکھنا، گھر، گاڑی، بچوں کی تعلیم ، ریٹائرمنٹ وغیرہ وغیرہ ۔
    اس سب میں تگ و دو تو ہے مگر جستجو کہاں ہے؟ نئے علم کی تلاش کہاں ہے؟ انسانی عقل کی معراج کہاں ہے؟

    اقبال نے کہا تھا:
    عروج ِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
    کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہہِ کامل نہ بن جائے

    اقبال نے یہ ہمارے جسیوں کے لیے ہرگز نہیں کہا تھا۔ ہم نے دنیا کو دیا ہی کیا ہے؟ یہ بات اقبال نے اُنکے لیے کہی ہے جو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جنہیں علم کی اس قدر پیاس ہے کہ خلاؤں میں جا کر بھی نہیں بجھ رہی۔ کیا علم حاصل کرنا اور نئےعلوم کی راہیں استوار کرنا مذاق ہے؟

    کائنات کو سمجھنے کے کئی راستے ہونگے مگر وہ جڑتے ایک ہی راستے سے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھیں۔ کائنات محض اُنکو نوازتی ہے جو اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب بھی اور آئندہ بھی۔

    ہم جتنا سیاست میں اُلجھتے ہیں اتنا سائنس میں اُلجھیں تو کئی مسائل اپنی عقل سے حل کر لیں مگر وہ جو ہم پہ مسلط ہیں اُنکے بقا کی ضمانت ہماری جہالت کا قائم رہنا ہے۔غربت مجبوری ہے مگر جہالت پرسنل چوائس ہے۔ باقی آپ خود سمجھیں۔ دنیا میں "ٹیم پاس” کرنا ہے یا صحیح معنوں میں کچھ بامقصد کرنا ہے۔

  • اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    انڈیز پہاڑوں میں بسے پیرو کے شامان اپنے علاج کیلئے بہت مشہور تھے. مسئلہ یہ تھا کہ وہ شامان کہتے علاج کیلئے تمہیں اوپر پہاڑوں پر آنا ہوگا. مریض کو خچروں پر یا کندھوں پر اٹھا کر اوپر پہاڑوں پر جب لے جایا جاتا تو وہ کہتے اسے اب چھوڑ جاو. وہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے اسکا علاج کرتے. اکثریت کو شفا ملتی اور ان شا مانوں کا دور دور تک شہرہ تھا. آج بھی ان کی نسل دستیاب ہے.

    آج جب تحقیق ہوتی ہے تو کئی باتیں سمجھ آتی ہیں. مریض کا ماحول بدل جاتا قدرتی پرفضا ماحول میں فطرت کے ساتھ رہتا فطرتی چیزیں استعمال کرتا اپنے شامان کی تسلی سنتا یہ مریض اصل میں اپنی ایک زندگی سے کٹ کر ایک نئی زندگی میں داخل ہوجاتا تھا. مایوسی کی جگہ اُمید دنیا کی بھاگ دوڑ کی بجائے فطرت کا سکون اس کے آس پاس ہوتا. اور زندگی پھر انگڑائی لے کر جینے کیلئے بیدار ہو جاتی.

    ہمارے ہاں یہ شامان نہیں ہوتے. لیکن مریض بہت ہیں. ان کے دل و دماغ پر اندیشے خوف مایوسیاں بے بسی اور بے اعتمادی کے اندھیرے وہ پہاڑ بن چکے ہیں جن کے نیچے اکثریت پس چکی ہے. یہ دوسروں سے ڈرتے ہیں. کیونکہ ہماری اکثریت بہت ججمنٹل ہوگئی ہے. یہاں ظالم سے زیادہ مظلوم کو الزام دیا جاتا ہے. اس ڈر سے کوئی مظلوم بولتا بھی نہیں کہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا مجرم کون بننا چاہے گا.؟

    ایک ایسا انسان جو دوسرے کو صرف سن سکتا ہو. بنا کوئی فیصلہ سنائے بنا کوئی عدالت سجائے یہ سننے والا آج کا وہی شامان بن سکتا ہے جو دوسروں کی شفا کا سبب بن جاتے تھے. کیونکہ ایک مریض کو اچھا سامع مل جائے تو اُمید اسے خود ہی اس اندھیرے سے کھینچ کر روشنی کے پہاڑوں کی طرف لے آتی ہے.