Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ماما پھلا دھوپ میں بیٹھا مالٹوں پر حملہ کرنے میں مصروف تھا کہ آواز آئی۔ "کوٹ لے لو، بنیان لے لو، جرابیں لو”۔ پنچابی زبان والا”ماما”، ضروری نہیں کہ آپ کی اماں کا بھائی ہو۔ گاؤں میں ہر وہ شخص آپکا ماما ہے کہ جس کے ساتھ آپ گھنٹوں گپیں ہانک سکیں۔
    دروازے سے ہی ماما جی نے پھیری والے خان کو رکنے کا کہا۔ "یہ کوٹ کتنے کا ہے خان صاب”، مامے پھلے نے کوٹ پہنتے ہوئے خان سے پوچھا۔ "ساڑھے تین ہزار کا صرف تمہاری خاطر”۔

    خان نے کلائی میں بڑی عمدہ گھڑی پہن رکھی تھی۔ جسکا سنہری رنگ اسے بار بار دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔مامے پھلے نے خان کی کلائی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا، ” خان فار سیل ہے”۔

    قہقہ لگاتے ہوئے خان بولا۔

    "ہم قادر خان ہے، عمران خان نہیں”۔ خیر پندرہ سو میں کوٹ لے کر میں اور ماما پھلا گھر کی طرف چل پڑے۔ماما جی کیا خان نے واقعی گھڑی بیچی ہوگئی؟ ماما پھلا بولا "پتہ نہیں۔۔۔۔۔(چند منٹ کی گہری خاموشی کے بعد قدرے غصے میں)مان لیا بیچی بھی ہے تو کیا باقی صادق و امین ہیں سارے؟۔۔۔۔۔۔۔ خیر مامے پھلے نے اور کیا کہا اسے چھوڑیے "خان فار سیل ہے” سے منصور آفاق صاحب کے کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔ وہ دیکھیے

    گرہ میں مال ہے جس کے، خرید سکتا ہے

    کہیں عمامہ کہیں ہے ردا برائے فروحت

    وفا کی، ان سے توقع کریں تو کیسے کریں

    جنہوں نے اپنی جبیں پر لکھا برائے فروخت

    یہ لوگ کیا ہیں ؟حمیت کامول مانگتے ہیں

    یہ ننگ ِ ملک، یہ اہل ِ قبا برائے فروخت

    دعائیں دے ہمیں ، تجھ کوخرید لائے تھے

    کسی زمانے میں تُو بھی تو تھا برائے فروخت

    یہ خوش خطوں کا ہنر ہے یہ دلبروں کا طریق

    جفا برائے محبت، وفا برائے فروخت

    رُکے تھے کنج گلستاں میں ہم بھی کل منصورؔ

    کہیں تھے گل کہیں بادصبا برائے فروخت

    چند دن پہلے خان کی گھڑی سے متعلق ایک آڈیو لیک سامنے آئی۔ جس میں زلفی بخاری کو بشریٰ بی بی سے سلام کرنے کے بعد ان کی خیریت دریافت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔اس کے بعد بشریٰ بی بی زلفی بخاری سے یہ کہتی ہیں کہ "خان صاحب کی کچھ گھڑیاں ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو بھیج دوں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زلفی بخاری نے بشریٰ بی بی کی یہ بات سننے کے بعد جواب میں کہا کہ”ضرور مرشد میں کردوں گا، میں کر دوں گا جی”۔

    اس آڈیو لیک بعد یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ قصور مرشد کا ہے، مرید کو ہم ویسے ہی قصوروار ٹھہرا رہے تھے۔

  • ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ  رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی
    پاک فوج ملکی سلامتی کے ادارے پولیس ، اس وطن عزیز اوربسنے والے کروڑوں عوام کی خاطر شہید ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اورقومی سلامتی کے ادارے کئی محاذوں اورآزمائشوں سے گزر رہے ہیں ۔ دشمن کی بھاری تخریب کاری کا مقابلہ جاری ہے ۔ سیاستدانوں کا کام عوام کے مسائل کو حل کرنا تھا مگروہ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں آج وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے سیاستدانوں نے ہی اس حال تک پہنچایا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان سے باز پرس کون کرے گا؟ جو ان سے باز پُرس کرنے والے ہیں وہ ڈھول کی تھاپ پر ان کے آگے بھنگڑے ڈالتے ہیں اوروقت آنے پر ووٹ بھی انہی کو دیتے ہیں ۔عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم بھی ہوتے ہیں اور غربت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے تخریب کاری بھی جاری ہے اوراقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے والوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔

    قوم بے فکر رہے تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے موجودہ فوجی جرنیل اور ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں بھارت کی حکمت عملی کو خاک میں ملا دیں گے۔ قوم کو بلوچستان اور پاک افغان سرحد پر ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں ،پولیس کے شہداء اور غازیوں جو مادر وطن کے لیے اپنا خون بہا چکے ہیں اور انہی کے راستے پر چلتے ہوئے ان کے سینکڑوں ہزاروں ساتھی ملکی بقا اور سلامتی کے لیے نبرد آزما ہیں ۔ ہماری افواج کے افسر اور جوان وطن عزیز اور کروڑوں عوام کے لئے بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں ۔

    ہمارے شہداء اور غازی اس بات کے حقدار ہیں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے ۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں ۔ اپنی انائوں کی سولیاں اکھاڑ لیں جن پر مصلوب کرتے ہیں اور کبھی قوم کے مفادات کو قومیں کبھی دو عملی اوردو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتیں ۔ فوجیں کبھی قوم کی پشت پناہی کے بغیر فتح یاب نہیں ہوا کرتی۔ خود پسندی ، انا پرستی اور منافقت کو خیر باد کہہ کر قومی یکجہتی کے دھارے میں شامل ہونے کا لمحہ ہے ۔ ایک طرف معاشی بحران دوسری طرف تخریب کاری۔ملکی سالمیت اور بقاء کے لئے قوم کے مسائل کے حل کے لیے نفرتوں کو دفن کریں۔

  • میسی — ریاض علی خٹک

    میسی — ریاض علی خٹک

    میسی بھی حسب معمول ایک غریب والدین کا بچہ تھا. ارجنٹائن روزاریو کا یہ بچہ صرف گیارہ سال کا تھا جب اسے گروتھ ہارمون ڈس آرڈر کی بیماری تشخیص ہوئی. اس کا علاج بہت مہنگا تھا. اس کے والدین اسے لے کر سپین آگئے جہاں بارکا کلب نے اس کی فٹ بال صلاحیت پر اس کے علاج کا فیصلہ کیا.

    اور لیو میسی فٹ بال کی دنیا میں چھا گیا. اس سے کسی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ میرا ڈونا سے اپنا موازنہ کریں گے.؟ میسی نے کہا نہیں میں اپنا موازنہ کسی سے نہیں کرتا. میں اپنی الگ تاریخ بنانا چاہتا ہوں. تو دوستو میسی کی تاریخ ارجنٹائن اور سپین کا کلب بارکا ہے.

    آج قسم قسم کے لوگ آپ کو بتائیں گے میسی شیخ آرائیں جاٹ تو کوئی اسے میمن راجپوت بتائے گا. آپ نے بلکل نہیں ماننا کیونکہ یہ ہمارے برصغیر کا قومی مزاج ہے. ہم اپنی تاریخ خود نہیں بناتے بلکہ کسی اور کو پکڑ کر اپنی تاریخ میں لے آتے ہیں. اور اگر اپنی تاریخ بنانے کا کسی کو موقع مل بھی جائے تو وہ ذہین انسان تاریخ چھوڑ کر اپنی زندگی بنانے کیلئے یورپ امریکہ چلا جاتا ہے.

    اس مانگے تانگے کی تاریخ سے ہم سب ایڈجسٹ نہیں کر پارہے تو میسی کیا ایڈجسٹ کر پائے گا. میسی یا تو ارجنٹائن کا ہے یا بارکا سپین کا.

  • دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دراصل دوسری شادی عورت کی ضرورت ہے مرد کی نہیں، یہی بات عورتیں نہیں سمجھتیں تبھی اقبال نے کہا تھا

    تو ان کو سکھا خار شگافی کے طریقے
    مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا

    اس درد کو سمجھنے کے لیے عورت کا کم عمری میں بیوہ ہونا یا ان کا طلاق ہونا ضروری ہے تب انہیں سمجھ آتا ہے کہ کوئی مجھے اپنی دوسری بیوی بنا لیتا اور عزت سے رکھتا میں کسی کی محتاج نہ رہتی نہ ماں باپ کی نہ بھائی بہن کی، ایک بیوہ کی پوری زندگی داؤ پر لگی رہتی ہے اور وہ شہر کی زندگی میں تو بہر حال محفوظ نہیں ہے اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے اللہ نے قرآن میں مردوں کے لیے نکاح کے احکامات میں دو سے شروعات کی اور مرد پر ایک سے زائد نکاح کا بوجھ ڈالا گیا تاکہ اس کے مال سے دوسری عورت اور اس کے بچے عزت کی زندگی گزار سکیں یہ احکام عورتوں کی بھلائی کے لیے ہی دیا گیا تھا رسول اللہ ص اور ان کے صحابہ رض نے عملاً کر کے دکھایا ورنہ ان کے اتنا بڑا زاہد و عابد اور کون تھا؟ وہ اکثر اوقات ساری رات نمازوں میں گزار دیتے تھے یہاں تک کہ عورتیں رسول اللہ کے پاس شکایت لے کر آنے لگیں کہ میرے شوہر میرے بستر پر قدم کم ہی رکھتے ہیں۔

    کہتے ہیں اکثریت اقلیت کو کھا جاتی ہے آزادی کے پہلے ایک صاحب استطاعت مرد دو نکاح آرام سے کر لیتا تھا اگر کسی کی بیٹی و بہن بیوہ ہو جاتی تھی تو مرد حضرات ان کی توجہ ادھر مبذول کراتے تھے کہ اللہ نے تمہیں دو مکان اور دولت سے نوازا ہے فلاں کی بیوہ کو اپنے نکاح میں لے لو اور ان کے گھر والے بھی بیوہ و مطلقہ کا نکاح فورآ کر دیتے تھے حالات انگریزی دور حکومت میں بھی بہت اچھے نہیں تھے لیکن جب سے آزادی ملی تب سے جدید طرز تعلیم نے کفر کی آمیزش کر کے ایک خاص مزاج بنایا اور نئی نسل کو بالکل بگاڑ دیا اور اسلامی فکر سے دور کر دیا بلکہ سچ کہیں تو نماز و روزہ اور حج کے علاؤہ کچھ
    باقی نہ رہا اقبال نے اسی لیے کہا تھا ”

    تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو،
    ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر”

    سو بڑی محنت و یکسوئی سے اس کام کو کیا اور پوری طرح پھیر چکے، انہوں نے نئی تعلیم وضع کی اور اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں عورت اپنے شوہر کے ناجائز رشتے برداشت کرنے کو تیار ہے لیکن ایک عدد شریف سوکن قابل قبول نہیں ہے۔ یہ اللہ و رسول کے احکامات سے کھلی سرتابی اور بغاوت ہے اور اس کا جو انجام ہونا چاہیے وہ آپ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

    اس فکر کو عام کرنے کے لیے بچوں کو بچپن سے ہی اسلامی لٹریچر پڑھانا چاہیے اور انہیں مردوں اور عورتوں کے حقوق بتانے چاہیں۔ ہم سب نے اسلام کبھی حلق کے نیچے اتارا ہی نہیں، عائلی قوانین تو حلق کے نیچے مرد و زن میں سے کسی کے کبھی نہ اتر سکا، لڑکے جہیز لیتے رہے کیا نمازی کیا پرہیزگار حالانکہ یہ انتہائی رذالت و ذلت کا کام ہے کہ تم کسی کی بیٹی بھی لو اور اس کے باپ سے پیسہ بھی لو؟

    لڑکیاں دوسرے نکاح کی مخالفت کرتی رہیں کیوں کے انہوں نے کبھی قرآن ترجمہ سے پڑھا ہی نہیں اس کے معنی و مطالب تفسیر پر غور و فکر بھی نہیں کیا.

    نتیجہ معاشرے میں کنواری عمر دراز عورتوں کی بھرمار اور بیوہ و مطلقہ کی بہتات ہے اور عورت کسی صورت مرد کے دوسرے نکاح کو راضی نہیں ہے چاہے عالمہ فاضلہ ہی کیوں نہ ہو؟ بس زنا کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور عام اور آسان ہیں روز اس راستے کو ہموار کرنے کی فکر لیے ہوئے تہذیب کے آزر کام میں لگے ہوئے ہیں کیوں کہ ہم سب نے مل کر جائز راستے بند کر رکھے ہیں اور محمد رسول اللہ کے دین کا تماشہ بنا رکھا ہے۔

  • سرچ انجن میں رینکنگ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ — مجاہد خٹک

    سرچ انجن میں رینکنگ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ — مجاہد خٹک

    جنگ ہو، شطرنج کی بازی ہو، کرکٹ کا کھیل ہو یا انسان کی مکمل زندگی۔۔ ان تمام میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دو قسم کی اپروچ چلتی ہیں۔ ایک میں جزئیات پر فوکس ہوتا ہے جبکہ دوسری میں جزئیات کی گھمن گھیری سے اوپر اٹھ کر ایک بلند نکتہ نظر سے معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس بات کو تھوڑی دیر کے لیے یہیں پر روک دیتے ہیں۔

    سرچ انجن آپٹمائزیشن (ایس ای او) سے ویب سائیٹس یا یوٹیوب چینل چلانے والے افراد آگاہ ہیں۔ جس ویب سائیٹ یا چینل کو سرچ میں اوپر جگہ مل گئی وہ بیٹھے بٹھائے کامیاب ہو گیا۔ یہ کامیابی کی اور اس کے نتیجے میں پیسہ کمانے کی کلید ہے۔

    ہر ویب سائیٹ یا یوٹیوب چینل اس وقت سرچ انجن میں اپنی رینکنگ بڑھانے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ ان کی تعداد دیکھی جائے تو اربوں میں چلی جاتی ہے۔ گوگل دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن اور یوٹیوب دوسرے نمبر پر بڑا سرچ انجن ہے۔ ٹریفک کا سب سے بڑا سورس بھی یہی دو سرچ انجن ہیں، اسی لیے فوکس بھی انہی پر رکھا جاتا ہے۔

    اب واپس آتے ہیں اپنی پہلی بات پر۔ زندگی کے دیگر میدانوں کی طرح سرچ انجن میں بلند رینک حاصل کرنے کے لیے بھی دو نکتہ نظر موجود ہیں۔ ایک میں آپ ایس ای او کی ٹیکنیکس پڑھتے ہیں اور انہیں آزما کر سرچ میں اوپر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    گوگل نے خود بتایا ہے کہ وہ کسی بھی ویب سائیٹ کو رینک کرنے کے لیے دو سو سے زائد پیرامیٹرز استعمال کرتا ہے۔ ان تمام کو استعمال کرنا ناممکن ہے لیکن بیس پچیس پیرامیٹرز ایسی ہیں جن پر عمل کرنے سے کامیاب ایس ای او کیا جا سکتا ہے۔

    لیکن ان بیس پچیس ٹیکنیکس کو بھی استعمال کرنا ایک بہت مشکل، طویل اور مشقت طلب کام ہے۔ یہ دراصل جزئیات پر فوکس کر کے کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے جس میں آپ سرچ کنسول جیسے ٹولز کو سمجھتے ہیں، گوگل انالیٹکس کے سمندر میں غواصی کرتے ہیں، بیک لنکس بنانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، کی ورڈ کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ہیں، ان میں شارٹ کی ورڈز اور لانگ کی ورڈز کی کھوج میں لگے رہتے ہیں، اپنے میدان میں کامیاب ویب سائیٹس یا چینلز کا مطالعہ کرتے ہیں، ڈومین اتھارٹی بڑھانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی طویل راستہ ہے جس پر چلتے چلتے زیادہ تر لوگ تھک جاتے ہیں۔

    دوسری حکمت عملی وہ ہے جسے holistic اپروچ کہا جاتا ہے جس میں آپ جزئیات کو ایک طرف رکھ کر وسیع سطح پر پلان ترتیب دیتے ہیں اور اس پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔

    میں نے زندگی میں جتنی بھی ویب سائیٹس بنائی ہیں، ان تمام کو چند ماہ میں گوگل سرچ میں اوپر لے آیا ہوں۔ درجنوں ویب سائیٹس کو کامیاب کیا ہے اور کبھی بھی جزئیات میں نہیں گیا۔ حتیٰ کہ سرچ کنسول بھی بہت کم دیکھا ہے، گوگل انالیٹکس کو ذاتی ویب سائیٹس کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا، کی ورڈز پر زیادہ غور نہیں کیا، اس کے باوجود ہر ویب سائیٹ کامیاب رہی ہے۔ اس کامیابی کی وجہ گوگل کا مزاج شناس ہونا ہے۔

    سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب آپ ویب سائیٹ پر کام کریں تو ذہن سے قاری کو نکال دیں اور گوگل کو فوکس میں رکھ کر فیصلے کریں۔ اگر یوٹیوب چینل ہے تو اس میں صرف تھمب نیل بناتے وقت ویور کو ذہن میں رکھیں، باقی تمام پہلوؤں پر کام کرتے ہوئے یوٹیوب کے مزاج پر فوکس رکھیں۔

    یہاں سے میں صرف گوگل کی بات کروں گا لیکن یہ تمام اصول یوٹیوب پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ گوگل سرچ انجن بنیادی طور پر یہ تلاش کرتا ہے کہ کون سی ویب سائیٹ کسی بھی موضوع پر مہارت رکھتی ہے۔ یہ ایک بات تمام ایس ای او ٹیکنیکس پر بھاری ہے۔ اگر یہ بات آپ کو سمجھ آ گئی تو آپ کی ہر ویب سائیٹ کامیاب ہو جائے گی۔ آئیے اس بات کو سمجھتے ہیں۔

    فرض کریں کوئی شخص شہد کا آن لائن کاروبار کرتا ہے اور اپنی ویب سائیٹ کی سرچ رینکنگ بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیئے کہ گوگل کے سامنے خود کو اس موضوع پر ماہر ثابت کرے۔ اس کا سادہ سا طریقہ ہے کہ شہد کے مختلف ذائقوں، اس کی تیاری، اس کے فوائد، اس پر ہونے والی ریسرچ، اس کی اقسام، غرضیکہ ہر پہلو پر اپنی ویب سائیٹ پر معیاری آرٹیکلز شامل کرتا جائے۔ تین چار ماہ میں ہی گوگل اس ویب سائیٹ کو شہد کے شعبے میں ماہر سمجھنے لگے گا اور اس کی رینکنگ ایک دم سے بلند کر دے گا۔

    لیکن یہاں چند باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ ایک الٹے درخت کی صورت میں پلان تیار کریں۔ سب سے اوپر وہ آرٹیکلز ہوں جو بنیادی امور کے متعلق ہوں۔ جیسے شہد کی اقسام کے متعلق ایک آرٹیکل ہو، دوسرا اس کے فوائد کے متعلق، تیسرا اس کی تیاری کے متعلق۔۔ یہ اپنے موضوع کا جامع احاطہ کریں۔

    اس کے بعد ہر آرٹیکل کے ذیلی مضامین لکھے جائیں۔ شہد کی ہر قسم پر تفصیلی مضمون ہو، اس کے ایک ایک فائدے پر الگ سے آرٹیکلز لکھے جائیں، اس کی تیاری کے مختلف طریقوں پر مزید آرٹیکلز لکھے جائیں۔ جو مین آرٹیکل ہو، اس میں ان ذیلی آرٹیکلز کے لنکس دیے جائیں تاکہ جو بھی آپ کی ویب سائیٹ پر آئے وہ زیادہ سے زیادہ پیجز پر جائے۔

    یہ ویب سائیٹ کی دو سطحیں ہو گئیں، تیسری سطح میں ذیلی آرٹیکلز میں سے ایسے پہلو منتخب کریں جن پر مزید ذیلی لکھا جا سکتا ہو۔ یہ ایک درخت کی طرح ہو جس کی جڑ سے تنا نکلے، اس پر شاخیں پھوٹیں، ان شاخوں پر پتے نمودار ہوں۔

    لیکن پہلے گوگل پر تفصیلی ریسرچ کریں، کامیاب ویب سائیٹس کا مطالعہ کریں، ایک پلان ترتیب دیں، تینوں سطحوں پر جو بھی کام کرنا ہے اس کا پیپر ورک مکمل کریں، مختلف کی ورڈز استعمال کر کے گوگل کے نتائج دیکھیں اور ان کی ورڈز کو جمع کرتے جائیں جنہیں ہر آرٹیکل میں شامل کریں۔

    یہ کامیابی کا سب سے شارٹ کٹ نسخہ ہے، بے ترتیب ویب سائیٹس سے گوگل بہت خار کھاتا ہے، ایسی ویب سائیٹس جس میں ہر قسم کا مواد جمع کر دیا گیا ہو، ان کا رینکنگ میں آنا بہت مشکل کام ہے۔

    یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جو بھی مواد آپ ویب سائیٹ پر ڈالیں وہ آپ کا اوریجنل ہو، کسی اور جگہ سے چرایا نا گیا ہو، الفاظ آپ کے اپنے ہوں، خوبصورت انداز میں ترتیب دیا گیا ہو، اس میں انٹرنل لنکس ڈالے جائیں، جس بھی پہلو پر بات کریں اسے تشنہ نا رہنے دیں بلکہ ہر پہلو سے اسے کور کریں۔

    دوسری بات یہ ہے کہ جس موضوع پر بھی ویب سائیٹ بنائیں، اس کی گوگل میں سرچ لازمی ہو۔ اگر آپ کسی ایسے موضوع پر ویب سائیٹ بناتے ہیں جس کی ماہانہ سرچ ہی چند ہزار ہو تو پھر کامیابی نہیں مل سکے گی۔

    ایک اور اہم پہلو یہاں بتانا ضروری ہے تاکہ آپ گوگل کے مزاج شناس ہو سکیں۔

    وقت کے ساتھ ساتھ سرچ انجن کا طریق کار تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ آج سے دس پندرہ سال پہلے جب ہم ویب سائیٹ بناتے تھے تو اس کے آخر میں کی ورڈز ڈال دیا کرتے تھے جس سے تیزی سے رینکنگ بہتر ہوتی جاتی تھی۔ اب یہ طریق کار الٹا نقصان دیتا ہے۔

    اب گوگل کسی بھی موضوع پر سرچ کرنے والے افراد کے رویوں کو دیکھ کر رینکنگ کا فیصلہ کرتا ہے۔ فرض کریں کسی نے سرچ میں آپ کی ویب سائیٹ کا لنک دیکھ کر اس پر کلک کیا اور چند سیکنڈ بعد وہ واپس آیا اور دوسرے کسی لنک پر کلک کیا تو گوگل سمجھ جائے گا کہ آپ کی ویب سائیٹ میں اسے مطلوبہ معلومات نہیں ملیں۔ اگر ڈھیروں لوگ یہی کام کریں گے تو آپ کی ویب سائیٹ کو گوگل بہت پیچھے دھکیل دے گا جہاں سے واپس آنا بہت دشوار کام بن جائے گا۔

    اس لیے اپنا مواد دلچسپ رکھیں، اس میں تصاویر شامل کریں، ممکن ہو تو ویڈیوز بھی ڈالیں کیونکہ اس وقت ٹیکسٹ سے زیادہ ویڈیوز کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی ہی ویب سائیٹ کے دیگر لنکس بھی اس میں شامل کریں تاکہ وزٹر آپ کی ہی ویب سائیٹ میں گھومتا پھرتا رہے، اسے واپس گوگل میں جا کر کسی اور لنک پر کلک کرنے کی ضرورت پیش نا آئے۔

    اگر اس طریق کار پر عمل کریں تو ویب سائیٹ تین ماہ سے چھ ماہ کے درمیان سو فیصد کامیاب ہو جائے گی۔ یہ ذاتی تجربہ ہے جو ہر بار کامیاب ہوا ہے۔

  • رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    کچھ کھیل بہت مہنگے ہوتے ہیں. جیسے گرم ہوا کے غباروں کی ریس ہو یا بادبانی کشتی کی دوڑ. بے شک ہیں تو یہ کھیل ہی لیکن ان کو کھیلنے کیلئے آپ کو پہلے لاکھوں روپے خرچ کر کے غبارہ یا کشتی خریدنی ہوگی. کچھ کھیل بہت سستے ہیں جیسے کُشتی یعنی ریسلنگ ہو یا رسہ کشی. ایک میں کوئی مخالف چاہئے تو دوسرے میں مخالف کے ساتھ ایک رسی بھی درکار ہوگی.

    اکثریت مہنگا کھیل ایفورڈ نہیں کر سکتی تو سستے کھیل عام ہیں. رسہ کشی عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے بھی مصر کی تہذیب میں کھیلی جاتی تھی. ان کی دیواروں پر اس کے نقش آج بھی موجود ہیں. کشتی کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہوگی. یہ اتنے عام کھیل ہیں کہ ہمارے دماغ کو بھی کوئی مخالف نہ ملے تو یہ ہم سے ہی کھیلنا شروع کردیتا ہے.

    تب دماغ میں ایک رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے. عقل شعور اور وقت کے تقاضے آپ کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں جبکہ دماغ کہتا ہے پہلے مجھ سے جیت کر دکھاو اور دماغ میں ایک میدان سج جاتا ہے. ہم خود سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں. اچھا ہر کھیل میں فریقین کی الگ پہچان بھی ہوتی ہے. اس رسہ کشی میں بھی ایک طرف دلیل ہوتی ہے تو دوسری طرف خوف اندیشے وہم ہوتے ہیں.

    ہر کھیل کی ایک تکنیک اور داو پیچ بھی ہوتے ہیں . جیسے دماغ اس خوف سے ڈراتا ہے جو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں ہوتا. آپ کے ان اندیشوں ڈر و خوف پر آپ کو کوئی دلیل بھی مطمئن نہیں کر پاتی. کیونکہ مستقبل پر ہم کبھی ختمی دلیل یا پیشن گوئی کر نہیں پاتے. لیکن آپ ایک کام کر سکتے ہیں. آپ رسی چھوڑ سکتے ہیں.

    رسہ کشی جب خوب گرم ہو اور کوئی ایک فریق رسی چھوڑ دے تو دوسرا اپنے ہی زور میں پیچھے گر جاتا ہے. چھوڑنے والے بھی آپ ہوں گے گرنے والے بھی آپ ہی لیکن انسانی نفسیات بہت پیچیدہ ہے. جیسے گرم پانی کا غسل آپ کو وہی کیفیت دیتا ہے جیسے کسی محبت والے رشتے سے بغل گیر ہوگئے ہوں. انگریزی میں اسے کہتے ہیں let it go.. یعنی ہو جانے دو. آپ بھی رسی چھوڑ دیا کریں. بولو نہیں کھیلنا. یہ کوئی لاکھوں ڈالر کا گرم غبارہ یا سپیڈ بوٹ نہیں جو آپ ہارنے کی فکر کریں.

    کچھ رشتوں کچھ تعلقات اور کچھ خواہشات میں بھی اپنے ہاتھ لہولہان کرانے سے بہتر یہ رسہ چھوڑ دینا ہوتا ہے.

  • ناکام دشمن کے ناکام وار، ازقلم :غنی محمود قصوری

    ناکام دشمن کے ناکام وار، ازقلم :غنی محمود قصوری

    ناکام دشمن کے ناکام وار

    حضرت انسان کی آمد زمین کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک دوسرے سے دشمنی شروع ہو گئی تھی جس کی وجہ بغض،حسد و تکبر ہے اور اسی باعث ہمارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کے مابین جھگڑا اور پھر کرہ ارض پہ پہلا قتل ہوا-

    یہ حسد مخالفین کے لئے بہت کچھ کرواتا ہے مگر کامیابی تب ہی مانی جاتی ہے جب آپ کسی کو مات دیں اور اگلا دب جائے اور دوبارہ ابھر نا پائے بصورت دیگر آپ ناکام ہیں بس اگلا آزمائش سے گزرا ہےاگر حقیقت جائے تو بغض و حسد میں وار کرنے والا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ناکام و ذلیل ہوتا ہے-

    جس طرح انسانوں میں آپسی بغض و حسد ہوتا ہے ایسے ہی ملکوں و ریاستوں میں بھی بغض و حسد کی بنیاد پہ دشمنیاں ہوتی ہیں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو بھی ہم سے بڑا بغض اور حسد ہے اور اسی بغض میں اس نے اپنا پیسہ و توانائی خرچ کرکے پاکستان کو کئی بار مات دینے کی کوشش کی مگر بفضل ربی پاکستان نا دبا،جھکا،نا ڈرا،نا ٹوٹا بلکہ پہلے سے مذید طاقتور ہو کر ابھرا-

    ہندوستان کی پاکستان مخالف بغض اور عملی وار پہ اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کئی جامع کتابیں لکھی جا سکتی ہیں سو اس سب کو چھوڑ کر میں اس کے ایک وار پہ لکھتا ہوں-

    ہندوستان کا پاکستان کے خلاف ایک وار تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی شکل میں بھی ہے اس ٹولے میں بظاہر تو لمبی داڑھیوں اونچی شلواروں والے باعمل لوگ ہیں مگر درحقیقت دین محمدی سے ناواقف ظاہری مسلمان ہیں کہ جن کو معلوم ہی نہیں کہ اللہ کے فرمان کے مطابق ایک مومن مسلمان کی شان بیت اللہ سے زیادہ ہے اور اس کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ نا کہ جہاد –

    2009 آپریشن راہ نجات میں اس بات کی تصدیق ہو گئی تھی کہ یہ ٹی ٹی پی نامی ٹولہ ہندوستانی پے رول پہ کام کر رہا ہے جن سے دوران آپریشن پکڑے جانے پہ امریکی و ہندوستانی اسلحہ و کرنسی برآمد ہوئی اور ان کے روابط بھی کنفرم ہوئے-

    نائن الیون کے بعد امریکی بدمعاشی سے پاکستان متاثر ہوا تو پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے بھارت نے قوم پرست لوگوں کو ڈھونڈا اور ریاست پاکستان کے خلاف فتوے جاری کروائے 2004 میں جاری ہونے والے پاکستان مخالف ان فتوؤں میں کلیدی کردار مفتی نظام الدین شامزئی کے فتویٰ نے کیا اور 30 سے زائد مسلح ریاست مخالف جتھوں نے یک جان ہو کر تحریک طالبان پاکستان کے نام سے بیت اللہ محسود کی قیادت میں اعلان جنگ کیا اور پاکستانی فوج اور عوام پاکستان پہ حملے شروع کئے-

    اس سے قبل یہ مختلف گروہوں میں افواج پاکستان سے لڑ رہے تھے مگر اب بھارت نے ان کو یکجان کیا اور اسے گولہ بارود مہیا کیا تاکہ یہ لوگ جہاد کے نام پہ فساد مچا کر ایک طرف جہاد کو بدنام کریں تو دوسری طرف خودکش حملے کرکے افواج و عوام پاکستان کو خوفزدہ کرکے مایوسی پھیلا کر اپنے عزائم پورے کریں-

    حتی کہ بھارت نے اس تنظیم کو کرائے کے مفتی بھی فراہم کئے کہ جنہوں نے میر جعفر و صادق کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی فوج اور عوام پاکستان کے قتل کے فتوے جاری کئے اور اسے عین شرعی قرار دیا-

    2004 سے اس کالعدم تنظیم نے بہت نقصان پہنچایا مگر اس کا ایک نقصان نا قابل تلافی اور نا قابل بھول نقصان آرمی پبلک سکول پہ حملہ ہے-

    16 دسمبر 2014 کو جب قوم 16 دسمبر 1971 کا سقوط ڈھاکہ کا غم دل میں محسوس کئے بھارت سے نفرت میں اضافہ کر رہی تھی تب اس خارجی دہشت گرد تنظیم نے آرمی پبلک سکول پشاور میں سکول میں داخل ہو کر 140 سے زائد افراد بمعہ معصوم نہتے بچوں کو شہید کر دیا اورفخرسےاس حملے کی ذمہ داری قبول کی یہ دن جب بھی آتا ہےقوم کے دوزخم تازہ ہوجاتے ہیں جو بھارت نے پہنچائے ہیں اول سقوط ڈھاکہ ،دوم سانحہ اے پی ایس پشاور-

    دشمن نے ان دونوں سانحات پہ گمان کر لیا تھا کہ اب پاکستان ٹوٹ جائے گا اور یہ قوم بکھر جائے گی مگر ناکام دشمن نے یہ دن دیکھا کہ پاکستانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہوئی اور اس کے عزائم کے آگے آہنی دیوار بن گئی اور ان شاءاللہ قیامت تک ہمارے اس ازلی دشمن کو ناکامی ہی ہو گی کیونکہ الحمدللہ اتنے بڑے سانحے کے بعد آج بھی معصوم بچے آرمی پبلک سکول میں بغیر کسی خوف و خطر کے جاتے ہیں اور بلند آواز میں دشمن کو للکارتے ہیں-

    مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

    دشمن کے بچوں کو یہ پڑھانا ہے کہ جتنا مرضی حسد و بغض کر لو اپنی قوت خرچ کر لو اپنا پیسہ خرچ کر لو یہ پاکستانی قوم مغلوب نہیں ہو گی کیونکہ ایک اللہ کو ماننے والے صرف ایک اللہ کے سامنے ہی جھکتے ہیں تمہاری طرح ہر چوکھٹ پہ نہیں کیونکہ تم ہندو دنیا کے نجس ترین لوگ ہو جن کے تین ارب سے زائد خدا ہیں اور اسی لئے تمہیں ہر چوکھٹ پہ جھکنے کی عادت ہے –

    پاک فوج کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کئے گئے اپریشن رد الفساد،راہ نجات،ضرب عضب اور دیگر آپریشنز کے بعد یہ خارجی ٹولہ بڑی حد تک ٹوٹ گیا مگر اب گزشتہ ماہ سے ایک بار پھر یہ ٹولہ یک جان ہو رہا ہے اور اب اس کی افرادی قوت 40 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ نئی شامل ہونے والے دہشت گرد گروپوں سے اب 40 کے قریب گروپ تحریک طالبان پاکستان کا حصہ بن گئے ہیں مگر ان شاءاللہ ماضی کی طرح اب ایک بار پھر ناکامی ان کا مقدر بنے گی کیونکہ اللہ کے فضل سے افواج پاکستان اور عوام پاکستان ان کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہیں اب کی بار ان کا مکمل خاتمہ یقینی ہے ان شاءاللہ

  • سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ:  شہزاد قریشی

    سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ اور یورپ سے لے کر سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت اپنی قوم اور اپنے ممالک کے لئےمستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلی کے میدان میں اتر چکے ہیں سعودی عرب کا انحصار مستقبل میں صرف پٹرول اور ڈیزل پر نہیں ہوگا جبکہ روس اور یوکرائن کی جنگ کو لے کر یورپ مستقبل میں گیس اور پٹرول ڈیزل پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ممالک کے شاندار مستقبل کے لئے بجلی پر انحصار کر کے گا۔

    اس سلسلے میں گھروں میں گیس کی جگہ الیکٹرانک سسٹم جبکہ گاڑیاں بھی الیکٹرانک سسٹم پر سڑکوں پر لانے کے لئے عملی طور پر کام شروع کردیا گیا ہے سعودی عرب کا وژن 2030 اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ سعودی عرب اپنے مستقبل کے لئے چین سمیت اٹلی اور دیگر یورپی ممالک سے صرف سیاسی رابطوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، تجارت اور دیگر شعبوں میں مذاکرات کر رہا ہے۔

    سعودی عرب جس کی ستر فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ نتیجہ خیز تعاون کے ذریعے استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے سعودی عرب کے مستقبل کے لئے ترقی کے خواب کا بلاشبہ سہرا پرنس محمد بن سلیمان کو جاتا ہے۔ کاش ہمارے ریاستی ذمہ داران اور سیاستدان وطن عزیز کی ترقی اور پڑھے لکھے جوانوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔

    سیاستدان ایک دوسرے کی آڈیو، ویڈیو پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں ایک دوسرے کو غدار، کرپٹ، سیکورٹی رسک ثابت کرنے، حد یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معاشرے کے نوجوان بچوں اور بچیوں کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ایک دوسرے کی عورتوں کی آڈیو ، ویڈیو سوشل میڈیا پر دکھائی جا رہی ہے کیا یہ وطن عزیز اور عوام کا مقدر سنوار رہے ہیں؟ انتظامی افسران کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ ہر آنے والی حکومت کی غلامی اختیار کر لیتے ہیں یہی حال بیورو کریسی کا ہے۔

    یہی حال اعلیٰ پولیس افسران کا ہے۔ اقتدار اور ہوس اقتدار میں وطن عزیز اور نوجوان نسل کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں۔ دنیا اپنے اپنے مستقبل کے لئے اپنی عوام کے لئے منصوبے بنا رہی ہے ہم ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔

    حکمرانوں، تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں کو بھی چاہئے کہ آپس کی سیاسی کھینچا تانی اور رسہ کشی کو ترک کر کے وطن عزیز میں سیاسی ہم آہنگی، کفایت شعاری، گڈگورننس پر توجہ دیں اور قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ختم کیا جائے۔ لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی جائیں جس سے عوام کو رہنمائی اور وطن عزیز کو استحکام کی امید لگے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • کھلاڑیوں کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین پی سی بی

    کھلاڑیوں کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین پی سی بی

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہا کہ پوری دنیا کے کرکٹرز انجری کا شکار ہوتے ہیں.

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہا ہے کہ انگلیںنڈ کے آنے سے ہم نے بھی مثبت کرکٹ کھیلنا شروع کردی ہے، ہم اپنی صلاحیت کے مطابق کھیل رہے ہیں، قومی کرکٹ ٹیم آخری لمحے تک مقابلہ کرنا جانتی ہے۔ میڈیا منفی سوچ والی ہیڈلائنز بند کرے۔رمیز راجا نے کھلاڑیوں کی انجریز پر میڈیا کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہا کہ پوری دنیا کے کرکٹرز انجری کا شکار ہوتے ہیں، ہم کھلاڑیوں کو ٹی20 سے ٹیسٹ کرکٹ میں لے کر جارہے ہیں جبکہ ٹیسٹ کرکٹ سے کھلاڑی ٹی20 میں آتے ہیں انہوں نےمزید کہا کہ فاسٹ بولرز کو پانچ روزہ کرکٹ کی فٹنس برقرار رکھنے کا کہا ہے، قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول شاندار ہے البتہ کھلاڑیوں کو ابھی بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی
    12 سالہ بچی کو تین سال تک زیادتی کا نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار
    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی
    اسلام آباد سیشن عدالت ؛عمران خان کی عبوری ضمانت میں نو جنوری تک توسیع
    ریحان احمد انگلینڈ کی جانب سے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے
    چیئرمین پی سی بی رمیز راجانے شکوہ کیا کہ ملتان ٹیسٹ میں سعود شکیل کا متنازع آؤٹ نہ دیا جاتا تو ہم جیت جاتے اور اظہر علی کو ریٹائرمنٹ لینے کیلیے کسی قسم کاکوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا ہے.

  • آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے پی ٹی آئی کے اراکین ناراض، بغاوت کا خدشہ

    آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے پی ٹی آئی کے اراکین ناراض، بغاوت کا خدشہ

    مظفر آباد: پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے خلاف بغاوت کے خدشے کے پیش نظر پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔

    توشہ خانہ کیس ؛عمران خان کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کا نام بھی سامنے…

    مظفرآباد سے ذرائع کے مطابق عمران خان نے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی پارلیمانی کا اجلاس کل زمان پارک لاہورمیں طلب کر لیا، جس میں وزیراعظم آزادکشمیرسردار تنویر الیاس کے خلاف پی ٹی آئی اراکین کی بغاوت کاخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایس ای سی پی کی انتظامیہ کی ملاقات

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ناراض اراکین اجلاس میں عمران خان کو وزیراعظم کی ناقص کارکردگی سے آگاہ کریں گے اور انہیں عہدے سے ہٹا کر کسی دوسرے شخص کو وزیراعظم نامزد کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوئٹریس سےملاقات

    ذرائع کے مطابق ناراض اراکین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویز الیاس کی گزشتہ 7 ماہ کی کارکردگی سے انتہائی مایوس ہیں اور وہ مختلف معاملات پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔