Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں!

    اچھی زندگی گزارنے والے
    اچھی زندگی گزارنے والوں سے جلنے والے

    حماد صافی نامی پبلک فگر پر اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ وہ مغرب کیخلاف بات کرکے وہیں جوانی کو انجوائے کرنے چلا گیا ہے۔ مگر وہ بچہ بالکل درست کر رہا ہے۔ اس کے پیرنٹس کو پتا ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں مغرب دشمنی کا چورن بیچ کر وہ پیسہ تو کما سکتے ہیں مگر لائف انجوائے نہیں کر سکتے، اس لئے انہوں نے اپنے بچے کو باہر بھیجنا مناسب سمجھا۔ اب میرے یا آپکے جلنے سے نا اسکی زندگی کا مزہ کم ہوگا نا ہی سکون، ہاں مگر کچھ دن تک حماد صافی پہ ہر جگہ ہوتی تنقید سے یہی نظر آ رہا ہے کہ بہت سے لوگ بس اس کنویں سے فرار چاہتے ہیں اور ان کو مسئلہ کسی کے فرار سے نہیں اپنے پیچھے رہ جانے سے ہے کہ وہ آگے کیوں نہیں بڑھ پا رہے۔

    وہ بچہ سچ بول کر گیا ہو یا جھوٹ بول کر، ایٹ لیسٹ وہ اپنی ٹین ایج سے لیکر تھرٹیز تک ایک بہترین زندگی جئیے گا۔ یہی ہر خود غرض انسان کا مقصد ہوتا ہے دوسرے کو کنویں میں دھکا دیکر اس کے کندھوں پہ پاؤں رکھ کر خود کو اس کنویں سے نکالو اور پھر کنارے پر کھڑے ہو کر کنویں کے کیچڑ میں جینے کی فضیلت بیان کرو۔

    اگر نہیں یقین تو ٹاپ لیڈرشپ کو دیکھ لیں 99% بیسویں سکیل کے افسر سے لیکر تمام سابق آرمی چیفس، وزرائے اعظم اور صدور تک سب کی اولاد پاکستان سے باہر ہے۔ خود یہ بھی چھ سات مہینے باہر گزارتے ہیں۔

    وہیں

    عام شخص کو بس بتایا جاتا ہے کہ کنویں میں جینا بہترین ہے اور اس کو بدلنا ناممکن ہے۔

    وہ دو بکریوں والی کہانی سنی ہوگی، جس میں سے ایک بکری دوسری کو کنویں میں بلاتی ہے کہ بہت مزے کی زندگی ہے اور وہ پھر اسی بھولی بکری کے کندھوں پہ چڑھ کر باہر نکلتی ہے۔

    بس وہی کہانی یہاں چل رہی ہے۔

    ضیغم قدیر

  • ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ

    "اداکارہ میرا انگریزوں کی زبان کے ساتھ وہی کر رہی ہیں جو انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں برِصغیر کے غریب باشندوں کے ساتھ کیا”

    مگر صاحب میرا پر کیا منحصر…خود ہم اکثر انگریزی کی

    Mother Sister together

    مطلب ماں بہن ایک کرتے رہتے ہیں .

    خود ہمیں شاہِ برطانیہ نے کئی بار اپنے سفارت کار کے ذریعے خفیہ پیغام بھیجا کہ

    "اگر تم انگیزی بولنا چھوڑ دو تو میں تمہارا سالانہ ١٠٠ پونڈ کے حساب سے وظیفہ مقرر کر دیتا ہوں“

    مگر ہم نے بھی اپنے آباٶ اجداد کے نام پر آنچ نہیں آنے دی۔ 100 پونڈز پر لات ماری اور کہا

    ” اے طاٸر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی …جس رزق سے آتی ہے پرواز میں کوتاہی” وغیرہ وغیرہ ..

    ہاں البتہ ہم نے سفارت کار کے کان میں کہا کہ شاہ سے کہو 100 پونڈز کم ہیں.

    بچپن میں ہمارے ایک استاد نے ہم سے کہا کہ انگریزی کی زیادہ سے زیادہ پریکٹس کے لئے آپ اپنے کسی دوست سے تہہ کر لیجئے کہ جب بھی آپ ملیں گے..صرف انگریزی میں بات کریں گے.

    ہمیں یہ آئیڈیا پسند آیا۔ ہم نے اپنے جان سے پیارے دوست مولوی سے یہ وعدہ لیا کہ اب ہم دونوں جب بھی ملیں گے انگریزی میں بات کریں گے یا پھر خاموش رہیں گے.

    اس "شملہ معاہدے” کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم دونوں غیبت جیسے بڑے گناه سے بچ گئے…

    ہم اکثر گھنٹوں ساتھ ہوتے ….

    مگر خاموش ……

    آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کی کمپنی سے بور ہونے لگے.

    اور پھر ملنا جلنا چھوڑ دیا…

    کئی ہفتے کے گیپ کے بعد ایک روز مولوی صبح صبح وارد ہوئے اور آتے ہی انگریزوں کو پنجابی زبان میں تین چار ناقابلِ اشاعت گالیاں دیں…

    پھر کہنے لگے یہ بھی کوئی زبان بناٸی ہے بالکل تھرڈ کلاس…

    بتاؤ …جب "بی یو ٹی” بَٹ(but) ہوتا ہے اور "سی یو ٹی” کَٹ (cut) …تو پھر "پی یو ٹی” پَٹ (زبر کے ساتھ) کیوں نہیں ہوتا…پُٹ (پیش کے ساتھ) کیوں ہوتا ہے…

    کسی نائی نے یہ زبان بنائی ہے…

    بتاؤ… جب ایک لفظ کو پڑھنا ہی نہیں تو اس کو لکھنے کی کیا ضرورت ….

    جاہل لوگ کنولیج کو بھی نولیج پڑھتے ہیں”

    ہمیں مولوی کی بات میں وزن نظر آیا…

    ہم نے بھی مولوی کے ساتھ مل کر اس وقت انگریزی کی اور انگریزوں کی خوب برائی کی…

    ولیم شیکسپئیر کے "چار باپ” (Forefathers) کو خوب برا بھلا کہا….

    اور انگریزی بولنے سے توبہ کرلی.

  • دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار پاکستانی معیشت کے دیوالیہ پن میں اہم ہے مگر بہت سے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پیسہ بنانے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں ہے۔ باہر کے ممالک میں بر آمدات سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی سے نئی پراڈکٹس سے کی جاتی ہیں۔سویڈن جیسے چھوٹے ملک کے معیشت پاکستان سے دوگنی ہے جبکہ وہاں کی آبادی 1.5 کروڑ سے بھی کم ہے۔ پیسہ بنانے کا عمل کاروباری ماحول اور صنعتی ترقی سے ممکن ہے۔ گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا کے مصادق۔ پاکستان کی برآمدات کی نسبت درآمدات زیادہ ہیں۔ یہاں روایتی طریقوں سے گندم، گنا اور کپاس اُگائی جاتی ہے۔ ہر سال سیلاب اور قدرتی آفات زراعت کے بڑے حصے کو نقصان پہچاتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہے اور جہاں 40 فیصد روزگار زراعت کے شعبے سے منسلک ہے وہاں سب سے زیادہ نظر انداز یہی شعبہ رہا ہے۔

    دوسرے ممالک کی کمپنیاں پاکستان میں کیونکر پیسہ لگائیں گی جہاں نہ کاروباری سہولیات میسر ہیں، نہ ہی سرخ فیتے کی رکاوٹیں دور کی گئی ہیں، اقربا پروری الگ، ریاست کے اندر بندوقوں والے ایک نمبر کے بدمعاش پراپرٹی ڈیلرز الگ۔ اس پر سیکورٹی، دہشتگردی، امن و امان کا نقص الگ۔اور سب سے بڑھ کر بغیر سکلز یا کم سکلز کے لوگ الگ۔ اب ایسے میں کون باہر سے آ کر یہاں فیکٹریاں لگائے گا، یہاں اپنا پیسہ جھونکے گا؟ کیا لاہور میں بیٹھے پاکستان ہی کی کاروباری شخصیات وزیرستان میں جا کر کاروبار کریں گے؟ ماسوائے اّنکے جنہیں شاید وہاں چلغوزے کے درخت نظر آتے ہوں۔

    ہماری معیشت نے دیوالیہ نہیں ہونا تھا تو اور کیا ہونا تھا؟ کیا پلاٹوں پر پلاٹ لیکر اور سوسائٹیوں پر سوسائٹیاں بنا کر ملک میں پیسہ آئے گا؟ نہ ہم نے انسانوں پر خرچ کیا نہ انسانوں کے دماغوں پر۔ پچھلی نسل کے نوجوانوں پر ریاستی تجربات کر کے انہیں جنونی بنا دیا گیا۔ یہی نظریات لیکر وہ اگلی نسلوں کو یہ وائرس منتقل کر چکے۔ جہالت ملک کے طول و عرض میں بک رہی ہے اور مزے کی بات یہ کہ وہ جو اس جہالت کے پیشِ نظر زندگی سے تنگ ہیں، وہی اسکی حفاظت پر مامور ہیں۔ اختر لاوا سے لیکر دھوکے بازی سے ہوٹلوں میں روٹی کھانے والی مزاحیہ ویڈیوز ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ عقل کی بات کیجائے تو کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ علم سے ڈر لگتا ہے۔ ہر چیز سازش لگتی ہے۔ ذہنوں پر قفل پڑے ہیں۔ اصل سوچ کا فقدان یے۔ باہر کے ممالک انسانوں پر ، انکے دماغوں پر خرچ کر کے انہیں معاشرے اور دنیا کے لیے کارآمد انسان بناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں دولو شاہ کے چوہوں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ اشرافیہ سے لیکر عوام تک، اونچے اونچے عہدوں پر بیٹھے افسران سے لیکر نیچے کلرک بابوں تک سب کے سب جدید دور کے تقاضوں، بدلتی دنیا کے رجحانات وغیرہ سے لا علم زندہ زومبیاں ہیں۔

    سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کیا جائے، مگر پچھتر سال میں جب انسانوں پر کچھ خرچ نہیں ہوا تو اب ملک محض قرضوں پر تو چل نہیں سکتا۔ سو یہ کمپنی بھی نہیں چلے گی۔ اور کیجئے تجربات ، اور دور رکھیے عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقعوں سے۔ اور دیجیے اّنہیں کھوکھلے نعرے، روایتی جملے اور گھسے پٹے نظریات۔ کشتی جب ڈوبتی ہے تو مکمل ڈوبتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ پچھلا حصہ ڈوبا اور اگلا بچ گیا۔ بچنا کسی نے نہیں۔ باقی بابوں کی خیر ہو، اُنہوں نے ہمیں سائیں بنا کر اس حالت میں خوش ہی رکھنا ہے۔ سائنس گئی تیل لینے۔

    منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

  • ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    ماہ و سال اور ہمارے اعمال!!! —- بلال شوکت آزاد

    اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (سورہ توبہ)

    اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں ۔

    ہر سیکنڈ, ہر منٹ, ہر گھنٹہ, ہر دن, ہر ہفتہ, ہر مہینہ, ہر سال اور ہر صدی فقط اللہ کی ہے, اللہ کی جانب سے اور فقط اللہ کے لیے ہی ہے لہذا اے زمانے کو کوسنے والو۔ ۔ ۔ ماہ و سال کے گزرنے پر ان کی اچھی یا بری تخصیص اور تفریق کرنے والوں خدارا اللہ سے ڈر جاؤ اور توبہ و استغفار کی کثرت کرو کیونکہ کوئی سیکنڈ, کوئی منٹ, کوئی گھنٹہ, کوئی دن, کوئی ہفتہ, کوئی مہینہ, کوئی سال اور کوئی صدی اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ ہمارے اعمال اور اقوال کے نتائج ہیں جو ہماری اچھی یا بری تقدیر کے ذمہ دار ہیں نا کہ وقت یا کوئی مخصوص زمانہ۔

    اللہ نے وقت کی قسم لی ہے مطلب وقت خود اللہ کی ایک صفت ہے اور ایسے میں ہم وقت کے مخصوص حصے کو اپنے اعمال و اقوال سے تباہ کی ہوئی تقدیر کا ذمہ دار ٹھہرائیں تو ہم سے بڑا ظالم اور مفسد کون ہوگا؟

    اللہ کی قسم دو ہزار بیس، اکیس اور بائیس میں جو بھی مشکلات اور مصائب جھیلے اور جن بھی آزمائشوں کا شکار ہوئے وہ سب بھی منجانب اللہ اور ہمارے اعمال و اقوال کا نتیجہ تھے لہذا ان پر صبر و شکر اور استغفار کے علاوہ اور کوئی عمل یا ردعمل قطعی اللہ والوں کا شیوہ اور سنت محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم نہیں۔

    بیشک ہر شہ پر اللہ قادر ہے اور بیشک اللہ ہی رازق اور شافی ہے لہذا سال بھر ہوئی رزق کی تنگدستی اور طاری ہوئی بیماریوں کے باوجود اللہ کا شکر اور صبر ہم پر واجب ہے کہ ہم جو ان کے باوجود زندہ اور صحت مند ہیں تو اللہ کا ہم پر خاص کرم رہا اور دامے درمے سخنے ہی صحیح پر ہم اللہ کی طرف سے آئی مشکلات و مصائب کو جھیل کر نئے سال میں داخل ہورہے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام عالم اسلام اور تمام انسانیت پر رحم کرے, اس سال ہوئی ہماری کمی کوتاہیوں اور گناہوں کو درگزر کرکے نئے سال کو امن و آشتی کا گہوارہ اور تمام انسانیت کے لیے خوشحالی اور برکت کا سال بنا دے۔

    اللہ ہمارے انفرادی و اجتماعی گناہوں کو درگزر فرمائے اور ہمارے لیے زمانے میں خیر و برکت شامل فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اللہ کے فرمانبردار اور برگذیدہ بندے بن جائیں۔ آمین۔

  • اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میرے ایک جاننے والے ہیں جن کی بیٹیاں ہماری یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب والی ایک مسجد میں نماز پر پچھلے دو تین دن سے ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھ لیا کہ آپ کا گھر تو مسلم ٹاؤن کی طرف ہے تو یہاں خیریت سے روز آتے ہیں۔ کہنے لگے کہ میری بیگم کا ایک بیماری کی وجہ سے آپریشن کروانا پڑا ہے۔ گھر میں کھانا وغیرہ وہی بناتی تھیں تو اب جب سے وہ بستر پر پڑی ہیں تو یہاں سے شام کو اپنی بہن کو لے کر جاتا ہوں وہ کھانا وغیرہ بنا آتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی تو ماشاءاللہ تین بیٹیاں جوان ہیں اور تینوں گھر ہیں تو پھر بھی کھانے پکانے کے بہن کو لیجانے کی ضرورت پڑتی ہے؟

    کہنے لگے کہ ماں نے بیٹیوں کو کھانا پکانا سکھایا ہی نہیں۔ بس پڑھائی میں مصروف رہیں اس لیے کسی کو بھی نہیں آتا۔

    میں نے کہا کہ بھائی اگر پہلے نہیں سیکھا تو اب سکھا دیں تاکہ یہ محتاجی ختم ہو۔

    وہ مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے میں نے پتہ نہیں کیا بات کر دی ہو۔

    میرے لیے یہ انتہائی حیرت کی بات تھی۔ لیکن ایسی ہی باتیں اکثر مختلف لوگوں کے رشتے کی بات کہیں چلے تو اکثر سننے کو ملتی ہے کہ بیٹی کو کھانا پکانا تو ہم نے سکھایا ہی نہیں۔ ہماری بیٹی تو نازوں میں پلی ہے۔

    ایسے لوگ جو بیٹیوں کو کھانا بنانا نہیں سکھاتے وہ ان میں سے کونسی بات سوچ کر ایسا کرتے ہیں

    1۔پہلی آپشن یہ ہے کہ اس کا شوہر ہی کھانا پکا کر اسے کھلائے گا۔ اب اس میں یہ صورتیں ممکن ہیں:

    یا تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی جاب کر کے کما کر لائے اور ان کا داماد گھر سنبھالے، کھانا وغیرہ پکائے۔ خود بتائیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کوئی بھی پسند کرتا ہے؟ یہاں تک کہ نہ کوئی بھی شوہر یہ پسند کرے گا اور نہ ہی کوئی بھی بیوی یہ پسند کرتی ہے۔
    اسی میں دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ کما کر بھی شوہر لائے اور پھر کھانا وغیرہ بھی وہی بنائے۔
    اگر کوئی بھی یہ سوچتا ہے تو پھر یہ بھی بتا دیں کہ کوئی بھی مرد کسی عورت کو بیاہ کر ہی کیوں لائے گا جبکہ گھر اور باہر خود اس نے ہی سنبھالنے ہیں تو پھر مزید ایک شخص کی ذمہ داریاں وہ کیوں اپنے سر لے؟

    2۔دوسری آپشن یہ ہو سکتی ہے کہ شوہر کمائے اور بیوی کوئی بھی کام نہ کرے یا پھر وہ بھی جاب کرے اور کھانا بنا نا سب نوکروں کے ذمہ ہو۔ بظاہر یہ ممکن لگتا ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو ایسے گھروں کا حلیہ دیکھنے لائق ہوتا ہے جس میں گھر سنبھالنا نوکروں کے ذمہ ہو۔ نوکرانی شاید ہی کوئی ایسی ملے جو دل سے اچھا کھانا بناتی ہو ۔ پھر صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتی ہیں۔ کوئی بہت ہی امیر کبیر گھرانہ ہو جس نے کئی باورچی رکھے ہوں اور وہ کل وقتی ملازم ہوں تو صرف وہاں یہ چل سکتا ہے لیکن ایسا عام گھرانوں میں ممکن نہیں۔

    3۔تیسری آپشن یہ ہے کہ سارا کھانا باہر ہی کھایا جائے یا پھر باہر سے منگوایا جائے۔ یہ کبھی کبھار تو ممکن ہے لیکن ہر وقت نہیں کیوں کہ ایک تو باہر والے ریٹ ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہر وقت منگوانا افورڈ ہی مشکل ہو پائے گا اور پھر اس سے صحت کا جو کباڑہ ہو گا اس کا سب کو معلوم ہے۔

    دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، چاہے عورت گھر رہتی ہو یا کام کرتی ہو، کھانا بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور وہی اس کو احسن طریقے سے کر سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ بہت سے ایسے دوسرے کام ہیں جو ہمارے معاشرے میں صرف مرد ہی کرتا ہے اور عورت کر سکتی ہو تب بھی نہیں کرتی۔ تھوڑا سا بھی غور کریں تو بہت سے ایسے کام مل جائیں گے۔ فرانس میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ زیادہ تر گھروں میں کھانا عورت ہی بناتی تھی ۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ وہاں اس پر مزیدکمانے کی بھی پوری ذمہ داری ہوتی ہے۔

    یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ پڑھائی کسی بھی کلاس کی ہو اتنی مشکل نہیں ہوتی کہ اس میں تھوڑا سا وقت بھی گھریلو کاموں کےلیے نکالا نہ جا سکے۔ میٹرک اور ایف ایسی سی کو تھوڑا سا ایسا بنا دیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد والی تعلیم میں ایسا کچھ نہیں کہ بیٹیوں کو گھر داری سکھانے کا بھی وقت نہ ہو۔ اس میں سب سے زیادہ نااہلی ماؤں کی ہے۔

    کسی بھی ماں کے لیے کہوں گا کہ اگر آپ کو گھر کے کام کرنے میں عار محسوس نہیں ہوتی تو یہ آپ کی بیٹی کے لیے بھی باعث عار نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا بنا کر خوشی محسوس کرتی ہیں تو یہی خوشی اپنی بیٹی کو بھی محسوس کرنے دیجیے ۔ اگر آپ یہ پسند نہیں کرتیں کہ آپ کا شوہر، آپ کا باپ یا آپ کی ماں، آپ کا بیٹا یا بیٹی گھر آئے اور اسے کہوں کہ خود بنا لیں یا باہر سے کھا لیں تو پھر اپنے بیٹی کے لیے بھی یہ پسند نہ کریں کہ وہ اپنے سے جڑے رشتوں کے لیے ایسا سوچیں۔

    گھر میاں بیوی دونوں مل کر بناتے ہیں۔ اس میں دونوں پر کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسلام نے مرد کو قوام بنا کر کمانے کی اور حفاظت کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے۔ عورت کو معاشی معاملات اور باہر کے معاملات سے بالکل آزاد کر کے صرف گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا تو گھر کا سکون برباد ہو جائے گا۔

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں۔ اگر گھر میں یہ کام کر کے راضی نہیں ہونگی تو یاد رہے کہ کمانے کی ذمہ داری مرد لینا چھوڑ دے گا اور پھر بہت سی عورتوں کو یہی کام گھر سے باہر سارے مردوں کے لیے کرنے پڑیں گے۔ نہیں یقین تو ذرا غیر مسلم ممالک کا ایک چکر لگا کر دیکھ لیجیے۔

  • جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    پیدائش:30 دسمبر 1865ء
    ممبئی
    وفات:18 جنوری 1936ء
    لندن
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    شہریت: مملکت متحدہ ( انگلستان)
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    والد:جان لاکووڈ کپلنگ
    زبان:انگریزی
    ملازمت:یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    نوبل انعام برائے ادب (1907)
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریز مختصر کہانی نویس، شاعر اور ناول نگار تھا۔ وہ بنیادی طور پر بھارت میں برطانوی فوجیوں کی کہانیوں اور نظموں اور بچوں کے لیے کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ وہ بمبئی میں برطانوی راج کے دوران پیدا ہوا۔ وہ پانچ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان چلا گیا۔ کپلنگ بہترین افسانوں میں دی جنگل بک (The Jungle Book)، جسٹ سو سٹوریز(Just So Stories)، کم (Kim)، دی مین ہو وڈ بی کنگ (The Man Who Would Be King) مشہور ہیں۔ لاہور میں1883ء تا 1889ء سول اینڈ ملٹری گزٹ کے لیے کام کرتے رہے۔

  • ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    سب سے پہلے انسانیت ہے انسانیت کا خیال رکھنا ہمارا اولین فرض ہے
    ایسی چیزوں کی روک تھام نہایت ضروری ہے جس سے انسانیت کو نقصان پہنچے
    سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ایک بدترین خصلت ہے جسکو چھوٹے بڑے فیشن سمجھ کر استعمال کرنے لگ گئے ہیں ۔کچھ اسکو ٹینشن سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔کچھ اسکو فیشن کے طور پہ اپناتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں یہ انکی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔تمباکو نوشی پہ ٹیکس لگانے سے اسکا استعمال کم کیا جا سکتا ہے لہذا اس حوالے سے 2019 میں کابینہ نے بل پاس کیا ” ہیلتھ لیوی” لیکن اسکا نفاذ ابھی تک نہ ہو سکا۔ آخر اتنی تاخیر کیوں؟؟اس بل کے پاس سے ہم نوجوان نسل کو کافی حد تک اسکا استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں ۔ اگر اسکا استعمال آسان بنا دیا گیا تو ہر بچہ باآسانی اسکو استعمال کرلےگا اور اپنی زندگی تباہ کرلےگاجتنا جلدی ہوسکے اسکا نفاذ کیا جائے ۔انتہائ ضروری اقدام فوری طور پہ کرنے ہونگے ۔اس پہ ٹیکس سے ملک کے بیشتر کام کیے جا سکتے ہیں ۔ اس میں فائدہ تو ہے نقصان نہیں ۔ اس بل کے مطابق ٹیکس کی جو ادائیگی ہوگی اس سے ملک کو بہت فائدہ ہے حکومت اس سے سیلاب زدگان کی بھی امداد کر سکتی ہے ۔
    ایک بچہ گھر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے اسکے ہاتھ میں اگر سگریٹ تھما دیا جائے وہ اسکا استعمال کر کے نا صرف اپنا مستقبل تباہ کرئے گا بلکہ اپنے اردگرد کی زندگیوں کو بھی متاثر کرئے گا اس میں کسی ایک کا نقصان نہیں ہونا اس معاشر ے میں موجود ہر فرد کا نقصان ہے اسلیے اسکا نفاذ فوری طور پہ کرنا اس ملک کے ہر بچے کو بچانا ہے ہر بچے کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں یہ قدم جلد از جلد اٹھانا ہوگا ۔کیا ہم اپنی نوجوان نسل کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے ۔ جس سے ہماری نوجوان نسل کو فائدہ ہو ہم انکو بچانے کے اقدام کریں

    تمباکو نوشی سے بہت سی ایسی بیماریاں جنم لیتی ہیں کہ جو جسم کے اندر گھر بنا لیتی ہیں اور جان لیوا ثابت ہوتی ہیں ۔
    یہ ایک ایسی دلدل ہے جدھر سے نکلنا آسان نہیں ۔ایک بار یہ لت لگ جائے جان نہیں چھوڑتی ۔احتیاط ہی بہترین حل ہے ۔ہمارا فرض ہے ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل کا حصہ نا بننے دیں ۔ مفاد پرستی سے نکلے اور دوسروں کی جانوں کی فکر کریں ہمارا پہلا فرض ہے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں سب سے پہلے انسانیت ہے اگر ہمارے دل میں انسانیت نہیں تو ہمارا ہونا نا ہونا بے معنی ہے ۔ اپنی زندگیوں کو اس طرح سنوارے کہ جو دوسروں کے کام آجائیں اور آخرت بھی سنور جائے
    بظاہر سگریٹ ایک چھوٹا سا ہے مگر پانچ چھ فٹ کے انسان کو قبر تک پہنچا دیتا ہے سگریٹ میں موجود کیمیائی مادے سانس کی نالیوں اور پھپڑوں سے ایسے چِپک جاتے ہیں کہ مختلف بیماریوں کی وجہ بن کر انسان کو اندر ہی اندر ختم کرنے لگتے ہیں نوجوان نسل کے لیے سگریٹ ایک معمولی شئے ہوگا کاش وہ یہ سمجھ پائیں یہ وبالِ جان ہے ۔ جان لیوا مرض خود کو نہ لگائے نا دوسروں کو لگائیں خود کو بھی بچائے اور دوسروں کو بھی ۔

    بچوں کی موجودگی میں آپکی سگریٹ نوشی اُنکی صحت بھی متاثر کر سکتی ہے آج کل لڑکیاں بھی سگریٹ نوشی کر کے اخلاقیات سے گِر گئ ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ یا مذہب اس چیز کی اجازت دیتا ہے ؟بہت سے گھرانے سگریٹ نوشی کی وجہ سے سکون کھو چکے ہیں ۔ کیونکہ جو افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں انکی اسکی اتنی عادت لگ چُکی ہوتی ہے انکو یہ نشہ ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے اور گھر میں جھگڑے بھی معمول بن جاتے ہیں ۔جس سے گھر کا ماحول خراب تو ہوتا ہی ہے ساتھ ہی بچوں کا ذہنی سکون بھی تباہ ہوجاتا ہے اور وہ پڑھائ بھی نہیں کر پاتے اور ایک روشن مستقبل سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ہمیں آواز اٹھانی ہوگی اس جہالت کے خلاف ، اپنی نسلوں کے روشن مستقبل ، اور اچھی صحت ، اچھے ماحول کی فراہمی کے لیے۔

    ہیلتھ لیوی کی اہمیت اور افادیت اگر سب جان لیں اسکے نفاذ میں تاخیر نا ہو ۔ اسکے نفاذ سے 60 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے بہت سے بچے تمباکو نوشی سے متا ثر ہو کے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں نا جانے اور کتنے اپنی زندگی برباد کریں گے ۔ تقر یباً 31 ملین افراد سگریٹ نوشی کا شکار ہو چکے ہیں اب اس تعداد میں کمی لانی ہوگی اس بل کے نفاذ سے ہی یہ سب ممکن ہے سگریٹ نوشی ترک کرنے سےآپ بہت سے جسمانی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۔ بہت زیادہ سگریٹ نوشی سے آپ کو سانس اور دل کی بیماریاں،شوگر کی بیماری اورنہ صرف پھیپھرے بلکہ بہت سی دوسری اقسام کی بیماریاں ھونے کے ذیادہ امکانات ھوں گے۔ہیلتھ لیوی بل پاس تو ہوگیا ہے پر اسکا نفاذ جب تک نہیں ہوگا تب تک ہم اس کے لیے حکومت سے اسکے نفاذ کی اپیل کرتے رہیں گے کیونکہ اس کے نفاذ سے ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں ۔ اس کے بہت فائدے ہیں مجھے امید ہے حکومت جلد از جلد اس پہ فوری ضروری اقدام کرئے گی ۔ اسکے علاوہ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
    آپنے بچوں پہ نظر رکھیں انکے دوست کون ہیں وہ کس سے میل جول رکھتے ہیں اور ایسی سرگرمیوں میں شامل تو نہیں ۔
    اور ایسی جان لیوا اشیاء کا استعمال تو نہیں کرتے ہمیں باخبر رہنا ہوگا امید کرتی ہوں میں جو پیغام اپنی تحریر سے پہنچانا چاہ رہی ہوں اس پہ ہم سب اور حکومت لازمی اور فوری طور پہ عمل پیرا ہو گی ۔

  • حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    موسیٰ نہیں جو تاب نظارہ نہ لاسکوں
    کچھ دیر اور رہنے دو پردہ اٹھا ہوا

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کے معروف ادیب و شاعر تحریک ختم نبوت اور تحریک آزادی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم کارکن حافظ محمد یوسف آزاد 1907 کو سکندرہ راو ضلع علیگڑھ ہندوستان ایک زمیندار گھرانے میں اہل قریش کے شیخ ظفر الدین کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ وہ فقط شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ پہلوان، موسیقار، تحریک خلافت، تحریک ختم نبوت، تحریک آزادی پاکستان کے فعال اور سرگرم رکن اور نعت خواں بھی تھے۔ انہوں نے عربی ، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی اور فارسی تعلیم میں الحاج سید محمد ابراہیم ان کے استاذ تھے اور ان ہی سے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 21 برس کی عمر میں انہوں نے شاعری شروع کی استاد شاعر ” اللہ راضی رہبر” سے اصلاح اور رہنمائی لی جن کا سلسلہ حضرت امیر مینائی سے ملتا ہے ۔ حافظ محمد یوسف صاحب نے ابتدا میں یوسف تخلص استعمال کیا لیکن ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد انہوں نے آزاد تخلص اختیار کیا۔ انہوں حمد، نعت ، منقبت، غزل اور نظم سمیت اردو شاعری کی تمام اصناف میں بھرپور طبع آزمائی کی جبکہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے پسمنظر میں انہوں نے کافی جنگی ترانے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے ۔ ۔ یوسف آزاد شہنشاہ تغزل حضرت جگر مراد آبادی، علامہ سیماب اکبر آبادی، استاد قمر جلالوی، زیبا ناروی اور احسن مارہروی کے ہم عصر شعراء میں سے تھے بلکہ انہوں نے اپنا پہلا مشاعرہ جگر مراد آبادی کے اصرار پر ان کے ساتھ سرگودھا میں پڑھا۔ سرگودھا میں انہوں نے ” بزم حریم ادب” قائم کی اور اس کے علاوہ دیگر دو ادبی تنظیموں کے بھی بانی اور سرگرم عہدیدار رہے ۔ انہیں ہندی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ چناں چہ اس ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے دو ہندی سوانگ (منظوم ڈرامے) ” جوگن کی عصمت” اور ” مہا رانی تارا” تصنیف کیے جنہیں بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ اردو زبان میں ان کی تصانیف ” مدح صحابہ کرام رضہ” ” بڑھیا نامہ” اور ” فضیلت ماہ رمضان” بہت مقبول ہوئیں۔ محمد یوسف آزاد صاحب 1950 میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جن میں ان کی اہلیہ محترمہ ایک بیٹی اور تین بیٹے محمد یونس ارشاد ، محمد یاسین اور محمد یامین شامل تھے ہندوستان سے ہجرت کر کے سرگودھا پاکستان میں آباد ہو گئے ان کے یہ تینوں فرزند بھی والد کی طرح شاعر بن گئے جبکہ پاکستان میں آنے کے بعد ان کے ہاں مزید ایک بیٹی اور 3 بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے دو بیٹے بچپن میں ہی فوت ہو گئے ایک بیٹا خالد محمود یوسفی ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور یہ بھی ایک بہت اچھے شاعر ہیں۔ یوسف آزاد صاحب کی 30 دسمبر 1979 میں سرگودھا میں وفات ہوئی اور یہیں پہ آسودہ خاک ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند خالد یوسفی نے آزاد صاحب کا ایک خوب صورت شعری مجموعہ” آئینہ آزاد” کے نام سے شایع کروا دیا ہے ۔یوسف آزاد صاحب ہندوستان اور پاکستان میں موجود شاگر شعراء کی تعداد دو درجن کے قریب ہیں جن میں علاوالدین بیکل(انڈیا) عزیز انبالوی، صوفی فقیر محمد، اقبال منظر ، کریم بخش مضطر، رب بخش کلیار، حسن عباس زیدی ، مقصود احمد راہی، شفق بجنوری، محمد عمر عاصم جلیسری، کرنل فریدی، الحاج شیخ محمد یاسین، محمد یامین، محمد یونس ارشاد، خالد محمود یوسفی و دیگر شعراء شامل ہیں۔

    حافظ محمد یوسف آزاد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "آزاد ” شب تنہائی میں ایسے بھی گزرتے ہیں لمحے
    دل درد سے بے کل ہوتا ہے اور درد چھپانا پڑتا ہے

    سبنھلنا یہاں شیخ جی میکدہ ہے
    بہک جاتے ہیں ہوشیار آتے آتے

    پھول غیروں کی وہ تربت پہ چڑھاکے آئے
    میری تربت پہ جب آئے تو چڑھائے کانٹے

    دیر و کعبہ میں نہ گلشن نہ بیاباں کے قریب
    میرے محبوب کا مسکن ہے رگ جاں کے قریب
    زندگی گزری ہے پرستش میں بتوں کی ” آزاد”
    شرم اب آتی ہے جاتے ہوئے یزداں کے قریب

    طور نے جل کے کہا غش میں پڑے ہو موسیٰ
    ہوش میں آئو تو پوچھیں کوئی دیدار کی بات

    ہر کوئی بسمل نظر آتا ہے بسمل کے قریب
    جتنے بھی بیٹھے ہوئے ہیں میرے قاتل کے قریب

    آزاد جو کٹ مرتے ہیں ناموس وطن پر
    پیچھے نہیں ہٹتے ہیں وہ انسان ہمی ہیں

    وہ تھامے ہوئے قلب و جگر آئے ہیں آزاد
    میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں

    میں وہ مے نوش ہوں ساقی تیرے مے خانے میں
    گھول کر توبہ کو پی لیتا ہوں پیمانے میں

  • ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ہمارا بچپن تو بہت سادہ تھا. جب ہمیں ایک ایسی گھڑی ملی تھی جس میں روزانہ تاریخ بدلتی تھی تب ہم یہ سمجھتے تھے اس میں ضرور کوئی چھوٹا سا آدمی ہوگا جو روزانہ رات کو تاریخ بدل دیتا ہے. لیکن آج کل کے بچے بہت عقلمند ہیں. کیونکہ یہ کمپیوٹر موبائل فون کا دور ہے. بچہ بچہ انٹرنیٹ کو جانتا ہے.

    یہ کمپیوٹر موبائل بنانے والوں نے سائنس انجینئرنگ سے ایک شاہکار مشین تخلیق کر دی. یہ ایسی مشین ہے جس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا ہے. لیکن اس مشین کے خالق اس کے اندر نہیں بیٹھے. ہم سب مانتے ہیں یہ انٹرنیٹ کے ذریعے گلوبل کنیکشن بناتے ہیں. ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مشین کا اچھا برا استعمال ہم نے خود ہی سیکھنا ہے. کیونکہ یہ مشین بیک وقت آپ کو اچھائی سے بھی جوڑ سکتی ہے اور برائی سے بھی.

    ہمیں پتہ ہے اس مشین کہ کوئی اپنے جذبات نہیں. محبت نفرت غصہ کینہ اچھائی برائی نفع نقصان سب اس کو استعمال کرنے والے آپریٹر کے ہوتے ہیں. مشین تو تابعدار بس حکم کی تعمیل کرتی ہے. ایسے ہی اس دُنیا میں انسانیت کا بھی ایک نیٹ ورک ہے. اللہ رب العزت اس کا خالق ہے. ہم میں سے ہر ایک کو جسم کی ایک مشین ملی ہے.

    دنیا کے انٹرنیٹ کا نظر آنے والا حصہ بہت کم اور نظر نہ آنے والا یعنی ڈارک ویب بہت بڑا ہے جس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے. یہی انسانوں کا مزاج ہے. لوگوں کو ہمارے نظر آنے والے اعمال اور پوشیدہ زندگی کا بھی یہی تناسب ہے. کل یوم حشر لیکن جو ہمارا حساب ہوگا اس میں سب کچھ سامنے ہوگا . اسی مشین کا پرزہ پرزہ ہم پر گواہ ہوگا.

    قرآن سورۃ التوبة میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے. اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰٮهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‌ ۞”کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اس کو غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے ؟ ” دوستو جیسے کمپیوٹر میں ہم توبہ کرتے ہیں ہسٹری صاف کرتے ہیں سب کچھ برا ڈیلیٹ کر دیتے ہیں. ایسا سسٹم اللہ رب العزت نے صرف ایک دیا ہے. اسے توبہ استغفار کہتے ہیں. کل کیلئے اچھے استعمال کی ہسٹری اور برے استعمال پر توبہ کریں. معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں. ہمیں کوئی پتہ نہیں کب کون ہمیشہ کیلئے لاگ آف ہو اور پھر سامنا اس میدان حشر میں ہو جہاں توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہو.

  • نجم سیٹھی اور رمیز راجہ — ضیغم قدیر

    نجم سیٹھی اور رمیز راجہ — ضیغم قدیر

    نجم سیٹھی سے میرا بطور کرکٹ فین بس ایک مسئلہ ہے کہ یہ الاؤنس کھانے کے لئے ٹی سی کرکے آنیوالوں میں سے ایک ہے۔ جبکہ رمیز نے کوئی الاؤنس نہیں لئے، وہیں پر پرفارمنس بھی واضح ہے۔

    آپ پی سی بی کی انکم اور دوسری ہسٹری دیکھ لیں۔

    پی سی بی کی 2018-19 کی انکم 700 ملین روپے تھی۔ تب منافع کم جبکہ خرچ زیادہ تھے کیونکہ چئیرمین صاحب کو کروڑ کروڑ اپنا ٹریول الاؤنس لینا تھا بی او جی کی میٹنگز کے بل لینے تھے۔

    جبکہ

    رمیز کے انڈر یہی پی سی بی کی انکم بڑھ کر 3.4 بلین روپے ہوگئی تھی۔

    زمیز کی اچیومنٹس اس کے علاوہ پی ایس ایل کا پاکستان انعقاد، پاکستان کرکٹ ٹیم کا تاریخ میں پہلی بار لگاتار تین فائنل کھیلنا، آسٹریلیا کو 25 سال بعد ون ڈے سیریز ہرانا، بنگلہ دیش، سری لنکا کو تاریخی ریکارڈز کیساتھ ہوم سیریز ہرانا رہی ہیں۔

    وہیں پر،

    سیٹھی کے دور میں پی سی بی کی ایسی کوئی تاریخی اچیومنٹس نہیں تھی ماسوائے چیمئنز ٹرافی کے، ہماری ٹیم 2018 سے پہلے تک ون ڈے سیریز تک مشکل سے جیت پاتی تھی۔

    لے دے کر نجم سیٹھی کا واحد اچھا کام پی ایس ایل کا انعقاد تھا لیکن اپنے گرو صاحبان کی طرح اس کے اس نے فی ٹورنامنٹ ایک کروڑ سے زیادہ پیسے لئے۔

    وہیں پر

    رمیز نے پی ایس ایل سے اربوں کی کمائی کے بعد بھی چوانی کا حصہ نہیں لیا۔

    یہاں مسئلہ بس مائنڈ سیٹ کا ہے،

    مجھے نجم سیٹھی سے بھی بطور پی سی بی چئیرمین مسئلہ نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کسی کی ٹی سی کرکے فقط الاؤنس کھانے کے لئے نا آئیں۔

    رمیز راجہ پر اگر کوئی الزام لگائے کہ وہ عمران خان کی پسند سے آیا تھا تو وہ فوائد گنوا دے جو رمیز نے چئیرمین بن کر اٹھائے۔

    جبکہ رپورٹس کے مطابق چڑیا نے ٹریول الاؤنس میں کروڑوں کھائے، پی ایس ایل انعقاد میں کروڑوں کھائے حتی کہ میٹنگز کروانے کے الاؤنس کھائے۔

    اور یہی مسئلہ پوری پڈم کا ہے کہ یہ پاور فل شخص کے خوب اٹھاتے ہیں اور پھر اٹھانے کے بعد اپنا کمیشن کھاتے ہیں اور یہ کمیشن بیرونی دوروں، الاؤنسز اور ذاتی کمپنیوں کے ٹھیکوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔

    جبکہ رمیز نے پی سی بی سے چوانی کا کمیشن بھی نہیں کھایا وہ ایک دیانت دار اور محنتی شخص تھا اس کا سیٹھی جیسے ٹی سی ایکسپرٹ سے موازنہ ہی غلط ہے۔