Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    پیدائش:16 دسمبر 1775ء
    وفات:18 جولا‎ئی 1817ء
    ونچیسٹر
    مدفن:ونچیسٹر کیتھیڈرل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:مملکت برطانیہ عظمی
    مادری زبان:انگریزی
    کارہائے نمایاں:تکبر اور تعصب، شعور و احساس

    جین آسٹن(16دسمبر 1775ء – 18جولائی 1817ء) انگریزی کے عظیم ناول نگاروں میں سے ایک، موجودہ دور کے بعض نقادوں کے نزدیک اس کے ناول ”پرائڈ اینڈ پریجوڈس“ کا شمار دنیا کے دس عظیم ناولوں میں کیا جا سکتا ہے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جین ایک پادری کی لڑکی تھی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی 25 سال اس نے ہیمپ شائر میں اپنے باپ کے ساتھ گرجا میں گزارے۔ یہیں اس نے اپنے تین مشہور ناول تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)، شعور و احساس (Sense and Sensibility) اور نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey) لکھے جو بہت بعد میں شائع ہوئے۔ باپ کے انتقال کے بعد پورا خاندان ہمپ شائر میں چاٹن کاٹیج منتقل ہو گیا۔ آخر عمر تک جین یہیں رہی۔ ایک پادری کی لڑکی کے قلم سے ایسی ناول نگاری اس دور کے سماج کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے یہ ناول لکھنے کے کافی عرصہ بعد چھپے اور وہ بھی فرضی نام سے البتہ قریبی دوست احباب کو اس کا علم تھا۔ اس کا ناول نارتھینجر ایبے مسز ریڈ کلف کے اسکول کے رومانوں پر ایک نہایت پر لطف اور طنزیہ ناول ہے جس کا مسودہ 1803ء میں صرف دس پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔ جین نے ان ناولوں پر خاص طور سے ان کی زبان پر کافی محنت کی تھی لیکن اس کی زندگی میں اسے کوئی شہرت نہ ملی۔ اس کے سارے ناول صوبائی سماج میں رہنے والے شرفا کے اطراف گھومتے ہیں۔ اکثر قصوں میں شادی کے قابل لڑکیوں کے لیے شوہر کی تلاش اصل موضوع ہے۔ جین اپنی اعلیٰ نثر کے لیے مشہور ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں کرداروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح بڑی چابک دستی کے ساتھ گھماتی ہے۔ اخلاقی قدریں بڑی گہری ہیں۔ پلاٹ میں ہلکا طنز ومزاح ہے۔ وہ بیوقوف، بر خود غلط سیدھے سادے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتی ہے۔ اس کا شمار انگریزی زبان کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات الگ الگ مجموعے کی شکل میں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ اس کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے۔
    ایک نیلامی میں جین آسٹن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات 993250 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)
    شعور و احساس (Sense and Sensibility)
    مینزفیلڈ پارک (Mansfield Park)
    ایما (Emma)
    نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey)
    ترغیب (Persuasion)

  • اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

    اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

     قومی کرکٹ ٹیم کے سینیر بلےباز اور سابق کپتان اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق کپتان اظہر علی نے کہا کہ انگلیںڈ کے خلاف کل ہونے والا کراچی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ ہوگا، میں اپنے سینئرز اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چار پانچ سال انجری کا شکار رہا، میری فیملی نے میرے کیرئیر کے لیے بہت قربانیاں دیں، امید ہے اب انہیں کافی ٹائم دے سکوں گا۔ میرے لیے اعلیٰ سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا بہت بڑا اعزاز اور اعزاز ہے، ایسا فیصلہ کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، لیکن گہرائی سے سوچنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ میرے لیے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا صحیح وقت ہے۔

    اظہر علی نے کہا کہ مجھے کچھ بہترین کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جن کے ساتھ میرا مضبوط رشتہ ہے، مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ میں نے کچھ شاندار کوچز کے تحت کھیلا جن کا میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا، بہت سے کرکٹرز اپنے ممالک کی قیادت نہیں کرپاتے لیکن میں پاکستان کی کپتانی کرنے میں کامیاب ہوا، میرے لیے بہت فخر کی بات ہے۔ ٹیسٹ بیٹنگ لائن اپ میں اہم مقام بننے تک میرے پاس اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات تھے جنہیں میں ہمیشہ یاد رکھوں گا،انہوں نے کہا کہ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں،یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کرکیا، مستقبل کے حوالے سے ابھی سوچا نہیں، البتہ اپنی کمٹمنٹس پوری کروں گا۔

    پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے اظہر علی کی پاکستان کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا حوصلہ اور عزم بہت سے نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک تحریک رہا ہے اور وہ آنے والے اور آنے والے کرکٹرز کے لیے ایک رول ماڈل ہیں،اگرچہ یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کے پاس ڈریسنگ روم میں اپنے تجربے کا کوئی کھلاڑی نہیں ہوگا لیکن یہ صرف زندگی کے دائرے کی عکاسی کرتا ہے۔ امید ہے کہ اظہر علی پاکستان کرکٹ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اور ابھرتے ہوئے کرکٹرز کے ساتھ اپنے وسیع علم اور تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے دیکھیں گے۔

    اظہر علی کا کیرئیر؛

    سابق کپتان اور مڈل آرڈر بلےباز اظہر علی پاکستان کے کامیاب ترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں، انہوں نے 96 میچوں میں 42.49 کی اوسط سے 7 ہزار 97 رنز بنائے، وہ ملک کے پانچویں سب سے زیادہ ٹیسٹ زنر اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ اس سے قبل یونس خان (10,099)، جاوید میانداد (8,832)، انضمام الحق (8,829) اور محمد یوسف (7,530) کے ساتھ پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن پر قابض ہیں۔ اظہر علی نے سال 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف انگلینڈ میں اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور اپنے دوسرے ہی میچ میں اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری بنائی، انہوں نے کیرئیر میں 35 نصف سینچریاں جبکہ 19 مواقع پر 100 رنز کا ہندسہ عبور کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ 19 دسمبر تک موخر
    حکومت ملک بھر میں نوجوانوں کو 50 ارب روپے کے قرض دے گی مگر کیسے؟
    16 دسمبر دہشت گردی کے خلاف پورے پاکستان کے ایک آواز ہونے کا دن ہے. وزیراعظم
    ایلون مسک نے سی این این، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کے اکاونٹس معطل کردئیے
    سابق کپتان گلابی گیند کے ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں، یہ کارنامہ انہوں نے سال 2016 میں دبئی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف حاصل کیا تھا۔ اپنے 12 سالہ کیریئر کے دوران اظہر نے دو ڈبل سنچریاں بھی بنائیں، ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف 226 (مئی 2015) اور میلبرن (دسمبر 2016) میں آسٹریلیا کے خلاف 205 ناٹ آؤٹ رہے۔

  • مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    انسان کو طبعی طور پر ایسی مشغولیت بھی درکار ہوتی ہے جس سے اس کو فرحت کا احساس ہو اور وہ ذہنی تھکن اور نفسانی بوجھل پن سے چھٹکارا حاصل کرسکے ۔ قدیم زمانے میں جب انسان ابھی تمدن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس وقت بھی انسان اپنے معاصرین کے ساتھ زیادہ وقت بات چیت اور گپ شپ میں گزارتا تھا ۔ آج کا انسان بھی گپ شپ کو کام پر ترجیح دیتا ہے ۔ اسی لیے سائنس انسان کے اس رویے کی وضاحت اسی انداز میں کرتی ہے کہ گپ شپ اور طنز و مزاح پسندی کا رویہ انسان کے آبا و اجداد سے genetically منتقل ہوا ہے ۔ خیر بات دوسری طرف چلی گئی اور اصل بات بیچ میں رہ گئی ۔ یعنی طنز و مزاح کرنا انسان کی فطرت ہے ۔ لیکن اسلامی نکتہ نظر سے مزاح کی حدود و قیود ہیں ۔ اسلام مزاح کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ نبی علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ مزاح پر مبنی گفتگو فرمایا کرتے تھے ۔ لیکن موجودہ مزاح کی طرح نہ تو اس میں جھوٹ شامل ہوتا نہ ہی مقابل کی تحقیر ہوتی تھی ۔

    نبی علیہ السلام نے جو مزاح فرمایا اس کی ایک مثال ذیل میں ہے ۔کہ آپ علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے کھجوریں تناول فرما رہے تھے کہ کھجوروں کی گٹھلیاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ دیکھا دیکھی صحابہ نے بھی تمام گٹھلیاں حضرت علی رض کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ جب گٹھلیوں کا ڈھیر حضرت علی کے سامنے لگ گیا تو آپ علیہ السلام نے ہنستے ہوئے ہوچھا علی ساری کھجوریں تم ہی کھاگئے ہو ؟

    یہ بات علی رض نے سنی تو فورا جواب دیا یا رسول اللہ میں تو صرف کھجوریں کھاتا رہا ہوں باقی تو گٹھلیوں سمیت ہی کھا گئے ۔ یہ بات سنی تو رسول اللہ ص کھلکھلا کر ہنسنے لگے ۔

    اس طرح کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں ۔ جس میں خوش طبعی پر مبنی مزاق بھی ہے اور دوسروں کی تحقیر بھی نہیں ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں جو مزاق کی صورتیں ہیں ان میں یا تو جھوٹ ہے یا فحاشی و عریانی پرمبنی باتیں ہیں اور یا دوسروں کی تحقیر کی جاتی ہے ۔

    اور نبی علیہ السلام نے تو یہ واضح فرمادیا کہ جس نے لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولا اس کے لیے ہلاکت ہے ۔

    اسی طرح دوسروں کی تحقیر کے حوالے سے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ تحقیر پر مبنی کلمہ سمندر میں ڈال دیا جائے تو سمندر کا پانی کڑوا ہوجائے ۔

    بحثیت مسلمان سوشل میڈیا کے توسط سے آج کا انسان بہت سارا مواد دیکھتا اور شیئر کرتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دیکھے کہ وہ جو کررہا ہے وہ اس کے شایان شان بھی ہے یا نہیں ۔

  • خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات پرانے یا نئے نہیں ہوتے، درست یا غلط ہوتے ہیں۔ ہر نئی چیز اچھی نہیں اور ہر پرانی چیز بری نہیں ہوتی۔ سخاوت ایک پرانا خیال سہی، مگر کردار کی عظمت کا نشان آج بھی بنتی ہے۔ بہادری کا لفظ پرانا ضرور، مگر دنیا آج بھی بہادروں کی عزت کرتی ہے۔

    چالاکی ہوشیاری مکاری جھوٹ فریب دغا، گو جدید دور میں نئے ناموں کے ساتھ لانچ کر دئیے گئے مگر آج بھی برے کے برے ہیں، دنیا نئے سیاروں پر چلی جائے، چاند پہ بسیرے کر لے، سورج پہ چھاوں تلاش کر لے، انہیں جھوٹ سے نفرت کرنا ہی پڑے گی۔ فریب پوری تاریخ بدل جانے کے باوجود فریب ہی رہے گا، گھٹیا اور بودا ہی رہے گا۔ قابل احترام لفظ نہیں بن سکتا۔ قتل نفس مظلوم جرم تھا جرم رہے گا۔

    گویا کچھ تعلق نہیں نئے پرانے کی بحث کا اچھائی برائی کے ساتھ۔

    مسئلہ توحید ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک تروتازہ ہے، اہل توحید آج بھی اجنبی اور دشمنان توحید آج بھی خود کی عقل پہ نازاں۔ قوم نوح نے پانچ بت بنائے، کئی اقوام نے معبد خانے بھر دئیے، کئی شاہوں نے اپنی خدائی کا اعلان کیا اور مشرکین مکہ کے بت ہزاروں تک پہنچ گئے، کئی تہذیبوں نے ہر جاندار چیز کو خدا مانا اور کئیوں نے خود طاقت ور ہر مخلوق کے سامنے سر جھکایا، انکار خدا پر ان کے دلائل یہی ہوا کرتے کہ وہ سامنے کیوں نہیں آتا، غریبوں کو نبی بنا کر بھیج دیا، اس کے ساتھی غریب ہی کیوں ہیں،۔ہمارے اسٹیٹس کو پرابلم ہوجاتی ہے وغیرہ !

    دور جدید میں اسی توحید کے دشمنوں نے خدا کی وحدانیت کا عقیدہ چھوڑ کر انسان کو ہی خدا باور کرویا، گویا خدا کو سمجھانا پڑا کہ قبلہ آپ خدا ہیں۔ہے نا عجیب !

    پھر ایک خدا کو چھوڑ کر لاکھوں غیر مرئی طاقتوں پر ایمان لے آئے۔ پہلے مشرکین سے کہا جاتا کہ تمہارے بت کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں تو وہ جواب دیتے، تمہارا خدا بھی تو نظر نہیں آتا۔ آج کا جدید مشرک جب جواب دیتا تو بعینہ یہی سوال اٹھاتا ہے کہ خدا نظر کیوں نہیں آتا، بلیک ہول کے بعد تو دنیا ختم، وہاں تو خدا نہیں ہے۔ ان سے پوچھیں قوانین قدرت بھی تو نظر نہیں اتے، تس پہ جواب دیتا ہے کہ ان کے آثار تو بکھرے پڑے ہیں، جواب ہمارا بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود تمہارے جسم کے اندر کے نظام سے سمجھ آتا ہے، اگر تم سمجھنے کی کوشش کرو، اگر کوشش ہی نا کرو تو بے شک پہاڑ الٹا دئیے جائیں، ہدائت تب ہی ملنی جب حکم خداوند قدوس کا آجانا ہے۔

  • اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    کھانا ہر انسان کی مادی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں تو فون کی بیٹری، وائی فائی سگنلز کے بعد انسان کو سب سے زیادہ فکر دو وقت کی روٹی کی ہی ہوتی ہے، البتہ جو قومیں روٹی نہیں کھاتیں ، ان کے ہاں پتہ نہیں دو وقت کی ‘کیا’ کی فکر ہوتی ہوگی ۔ شاید چینی ایسا کہتے ہوں ‘بھئی اپنی تودو وقت کی نوڈلز بمشکل پوری ہوتی ہیں’ ۔ انگریز ماں شاید ایسے اپنے بچے کو دعا دیتی ہوگی ‘وے پیٹر… گاڈ کرے تجھے دو وقت کا برگر آسانی سے ملنا شروع ہو جائے ‘

    ہمارے محلہ کے عظیم ماہرِ معیشت و پکوائی ،بشیر تندور والے کا کہنا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کی اسی فیصد تگ ودو روٹی کمانے کے لئے ہوتی ہے جبکہ ان کا نوے فیصد بجٹ ‘سالن’ کھا جاتا ہے۔ قریب یہی نسبت سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں ہے ۔ ادھر روٹی کا بھی عجیب معاملہ ہے، اکثر لوگوں کو کہتے سنا ‘بھئی آج سالن بہت لذیذ تھا میں تین روٹیاں کھا گیا’ حیرت ہوتی ہے ۔بھئی اگر سالن لذیذ تھا تو سالن زیادہ کھائیں نا روٹی بیچاری کا کیا قصور ہے ۔

    کھانے میں، کمزور کا حق اور سرکار کے مال کے بعد شہد ، دہی اور ماں کی گالیاں سب سے زود ہضم غذائیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جینے کے لیے کھاتے ہیں اور باقی کھانے کے لیے جیتے ہیں ۔ اسی لیے شاید کچھ لوگ بہت سلیقہ سے اور منتخب کھانا کھاتے ہیں ان کو عرفِ عام میں مہذب یا غیرملکی کہتے ہیں ۔اور دیگر کھانے پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں گویا کھانا کھا نہیں رہے فتح کر رہے ہوں۔ زیادہ کھانے والوں میں بھینسیں، بٹ، اہلیانِ گوجرانوالہ مولوی اور سیاستدان مشہور ہیں، جبکہ کم کھانے والوں میں، ماڈلز، چڑیاں ، ستر سی سی موٹر سائیکل اورموٹروے پولیس شہرت رکھتے ہیں۔

    کھانے کے معاملہ میں ہرایک کا انتخاب مختلف ہے ۔ کچھ قومیں صرف گوشت نہیں کھاتیں، جبکہ کچھ صرف گوشت کھانا چاہتی ہیں چاہے کسی بھی جانور ۔ خود ہمارے حلقہ احباب میں کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں گوشت ہو چاہے لگڑ بگڑ کا ہی ہو۔ ایسے لوگوں کی خواہش اور فرمائش پر ہی شاید مہربانوں نے گدھے کے گوشت کو رواج دیا۔ گو اطباء اس بات پر بضد ہیں کہ غذائی اعتبار سے گدھے کے گوشت میں کوئی کمی نہیں ، البتہ دانشورانِ ملت کا خیال ہے کہ اس کے مسلسل استعمال سے دانائی جاتی رہتی ہے ۔ قابل خرگوشوی اس انکشاف پر چنداں پریشان نہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے دانائی کا کرنا بھی کیا ہے، ہمیں کونسا لیپ ٹاپ اور ہوائی جہاز بنانا ہیں، آجا کے ہم نے فرقے ہی بنانے ہیں، اور وہ دانائی کے بغیر عمدہ اور کثرت سے بنتے ہیں ۔

    خود قابل خرگوشوی سے اگر پوچھا جائے کہ انہیں کھانے میں کیا پسند ہے تو کہیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ پکا کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر انڈے آلوپکے ہیں تو انہیں انڈے پسند ہیں، اور اگر آلو بینگن پکے ہیں تو آلو، اور اگر بینگن اروی پکی ہو تو انہیں اچار پسند ہے ۔ چاول کے متعلق ان کی رائے ہے کہ یہ اگانے اور برآمد کرنے کی شے ہے پکانے کی نہیں ۔

    دنیا کا سب سے آسان کام کھانا ہے اور سب سے مشکل پکانا، اور اس سے بھی مشکل یہ فیصلہ کرنا کہ ‘اج کیہہ پکائیے ‘ ۔گمانِ فاضل ہے کہ خواتین میں ‘کہاں سے لیا’، اور ‘کتنے کا ہے’ کہ بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ‘اج کیہہ پکائیے ‘ہی ہے۔ بلکہ ہمارے خیال میں تو خواتین کی تعلیم میں امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ ایک مضمون ‘اج کیہہ پکائیے’ بھی ہونا چاہئے ۔ بلکہ ہم اہل علم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حوالہ سے موبائل اپلیکیشن اور ویب سائٹس کا اجرا کریں جو اس دیرینہ مسئلہ پر موسم اور ماحول کے تناظر میں ان کی درست راہنمائی کرسکیں ۔

    کھانے کی ضد اور وجہ ہے بھوک ساحر لدھیانوی کہتے ہیں

    بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

    بات صرف آداب تک ہی نہیں رکتی صاحب بھوک چوریاں کروا سکتی ہے، ڈاکے پڑوا سکتی ہے، غیرت و حمیت کا سودا کروا سکتی ہے یہاں تک کہ عزتیں نیلام کروا سکتی ہے، گویا بھوک انسانوں سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔ قرآن پاک میں بھوکے کو کھانے کھلانے کی اتنی بار تاکید کی گئی ہے کہ ہمیں حیرت سے اسکی بابت استادِ محترم سے پوچھنا پڑا کہ ایسا کیوں ہے۔ فرمایا اس لیے کہ بھوک دن کئی بار لگتی ہے ۔ اگر قران پاک کو بغور دیکھیں تو جہاں متعدد بار کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی وہیں پر اس بات کا حکم بھی ہے کہ اوروں کو اس جانب ترغیب دلائی جائے ۔ بلکہ سورۃ الحاقہ میں اللہ کریم جہنمیوں کے جرائم گنواتے ہوئے کہتے ہیں

    وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡن ۔

    کہ یہ شخص لوگوں کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا ۔ اسی طرح سورۃ فجر میں اللہ کریم باغیوں اورسرکشوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾

    اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتے .

    اور سورۃ الماعون میں تو حد ہی کردی ۔ کہ وہ شخص روزِ قیامت کا ہی منکر ہے جو نمازوں میں غفلت برتتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ سو برادرانِ اسلام یاد رہے کہ صرف غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہی فرض ادا نہیں ہوتا اس کی ہمہ وقت ترغیب بھی ضروری ہے ۔اور میں نے آپ کو ترغیب دے دی ۔

  • انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    آج جہاں پاکستان ہے وہاں 50 ملین سال پہلے ایک سمندر تھا جس میں ڈولفنز بھی رہا کرتی تھی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ سمندر سوکھ گیا اور چھوٹے بہاؤ کے راستے یا پھر دریا بچ گئے۔

    وہ ڈولفنز جو کہ کھلے سمندروں کی باسی تھی اور صاف پانیوں کی دلدادہ تھی وہ ایک گہرے گدلے پانی میں پھنس کر رہ گئی۔ اس سروائیول کے دوران ان ڈولفنز نے خود میں ارتقائی تبدیلیاں کروائی اور ان کی آنکھوں کے جینز سائلنٹ ہوگئے۔

    اور یوں یہ ہمیشہ کے لئے اندھی ہو کر رہ گئی۔

    وقت کی اس دوڑ میں فطرت سے یہ ڈولفنز جیت گئی مگر پھر انسانوں سے ہار گئی۔

    آٹھویں کلاس میں کہیں پڑھا تھا کہ انڈس ڈولفن ناپید ہو رہی ہے۔ بہت تجسس ہوا، سرچ کیا پتا چلا کہ انسانی آلودگی ان کے لئے نقصاندہ ہے مگر اس آلودگی کیساتھ ساتھ انسانی ذہنی آلودگی بھی ان کے ناپید ہونے کی طرف جانے کی وجہ ہے۔

    یہ جاننا میرے لئے ڈسٹربنگ تھا کہ،

    سندھی کلچر میں یہ سالوں پرانی روایت ہے کہ اگر آپ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کریں گے تو آپ کی مردانہ طاقت میں اضافہ ہوگا۔ اب جبکہ مردانہ طاقت ہمارے معاشرے میں موجود واحد طاقت ہے جس کی کمی ہر مرد کو ہے اس لئے انہوں نے کئی سالوں سے ان معصوم مچھلیوں کیساتھ جنسی زیادتی کرنے کا ایک کلچر بنا لیا اور یہ ایک اچیومنٹ بن گئی کہ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کیا ہے۔

    اب اس بات کو آزادانہ سورسز تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مگر ایک معاشرے کے فرد کو ان چیزوں کے نا ہونے پہ حیرت بالکل نہیں ہوتی کیونکہ یہاں پر گدھیوں، بکریوں اور ہرن تک کو جنسی زیادتی سے کوئی نہیں بچا سکتا بلکہ یہ بہت سے لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے اور اس پر باقاعدہ لطیفے بھی بنائے جاتے ہیں۔

    خیر،

    اب چونکہ یہ آبی مخلوق تھی گدھیوں کی طرح یہ انسانی زیادتی اور انسانی آب و ہوا دونوں برداشت نہیں کر پاتی تھی اس لئے مرنا انکی قسمت ہوا کرتی تھی۔

    اب ماحولیاتی آلودگی اور انسانی آلودگی کی وجہ سے ان مچھلیوں کی تعداد کم ہو کر ہزار سے پندرہ سو رہ گئی ہے اور اگر IUCN درمیان میں نا آتا تو شائد اب تک ان ہزار باقی ماندہ کا بھی جنسی شکار کر لیا جاتا مگر اب یہ مشکل ہو چکا ہے۔

    لیکن ابھی بھی بہت سے دوسرے جانور انسانی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں اور چونکہ انکی زبان نہیں ہے اس لئے کوئی یہ نہیں جان سکتا۔ مگر یہ سچ ہے اور دیہات میں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں۔

    یاد رہے،

    اس ضمن میں یہ چیز فقط پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ موجود ہے یورپ میں سور اس بات سے نہیں بچ پاتے اور اس کراہت آمیز روایت/کلچر یا پھر شوق کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ابھی تعلیم اور شعور کے بعد یہ ٹرینڈ کم ہو چکا ہے لیکن یہ کراہت آمیز عمل انسانی معاشرے میں بخوبی موجود ہے۔

    انڈس ڈولفنز ارتقاء کی بہت اچھی مثال تھی مگر ہم انہیں تقریبا مکمل طور پر کھو دینے والے ہیں اور یہ انتہائی دکھ دینے والی بات ہے۔

  • کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    ویرانے میں بنے کسی گھر میں کچھ دیر قیام کرنے والے مسافروں کے تاثرات الگ الگ ہوں گے. ایک چور سوچے گا یہ جگہ چوری کے بعد کچھ دن چھپنے کیلئے بہترین ہے. ایک شاعر سوچے گا کچھ عرصہ بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت میں رہنے اور اسکے حسن کو بیان کرنے کیلئے کتنی بہترین جگہ ہے. ایک طالب علم اسے الگ نظر سے سوچے گا تو کوئی شکی مزاج اُس پہلے آدمی پر شک کرے گا کہ آخر اس ویرانے میں یہ چھت اس نے بنائی کیوں..؟

    ہم ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے ہم ہوتے ہیں، ویسے ہی سوچتے ہیں جیسی ہماری شخصیت ہوتی ہے. وہی نتائج نکالتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ ہوتے ہیں. ایک منفی شخصیت کو اپنے آس پاس سب کچھ غلط نظر آرہا ہوتا ہے. وہ دن رات آس پاس وہ برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے جنکا وہ خود شکار ہوتا ہے. وہ مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے جن کا وہ خود شکار ہوتا ہے. پھر پریشان بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے.

    اسے ہر وقت کا ایک شکوہ ہوتا ہے ” لوگ نہیں بدل رہے” . وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ذات ہے جسے وہ بدل سکتا ہے. وہ یہ "خود” ہے. باقی لوگوں کو بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں صرف اچھائی یا برائی کی طرف دعوت ہی وہ دے سکتا ہے. جو طاقتور لوگ ہوتے ہیں وہ خود کو بدلتے ہیں. جو کمزور شخصیت ہوتی ہے وہ دوسروں میں پھر اپنی کمزوری کے جواز ڈھونڈتی ہے. یہی ان کی کمزوری کا پردہ ہوتا ہے.

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

  • تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    جناب عمران خان صاحب! جس گھڑی کو آپ ذاتی بتاتے پھر رہے ہیں وہ آپ کی ذاتی نہیں تھی کیونکہ ہیروں والی گھڑی سمیت 1.2 کروڑ ڈالر کی لگ بھگ مالیت کا ’’گراف‘‘ کا سیٹ سعودی ولیٔ عہد نے آپ کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو گفٹ کیا تھا۔نہ صرف آپ نے امانت میں خیانت کی اوراخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا بلکہ قانون کی درج ذیل خلاف ورزیاں کیں:

    1۔ قانون کے مطابق سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ ملتے ہی وہاں تعینات پاکستانی سفیر کو ان تحائف کی بابت توشہ خانہ کے انچارج کو تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہئے تھامگر آپ نے سفیر کو ٹرانسفر کی دھمکی دے کر رپورٹ بھجوانے سے منع کر دیا۔

    2۔قانون کا تقاضا تھا کہ سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف آپ کابینہ ڈویژن یا پی ایم آفس کے Designated افسر کے سپرد کرتے جو پاکستان پہنچ کر مذکورہ تحائف (قواعد کے مطابق) توشہ خانہ میں جمع کراتامگر آپ اسے اپنے ذاتی luggage کے ساتھ سیدھے بنی گالا اپنے گھر لے گئے اور توشہ خانہ کے اسٹاف کو ان تحائف کی شکل تک دیکھنے نہیں دی ۔

    3۔ رولز کے مطابق ہونا یہ چاہئے تھا کہ 2019 میں سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف پہلے توشہ خانہ میں جمع ہوتے اور پھر آپ بطور Recipient مذکورہ تحائف کو Retain کرنے کی تحریری درخواست مع بیان حلفی انچارج توشہ خانہ کو بھجواتےمگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔

    4۔تحائف Retain کرنے کیلئےآپ کی درخواست موصول ہونے کے بعد انچارج توشہ خانہ 15روز میں (رولز کے مطابق خط بھجواکر) ایف بی آر سے اور مارکیٹ سے اپریزر بلاتا جو مذکورہ تحائف کا ایگزامینیشن اور پرائس ایویلیوایشن کرکے مارکیٹ نرخوں کے مطابق قیمت کاتعین کرتے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ مذکورہ تحائف توشہ خانہ میں لائے ہی نہیں گئے اور آپ کی ہدایت پر بغیر اپریزل کے مذکورہ تحائف کی Retaining کی رسمی کارروائی پوری کی گئی۔

    5۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ رولز کے مطابق توشہ خانہ کی پرائس ایویلیوایشن کمیٹی بنائی جاتی جو ایف بی آر اپریزر اور پرائیویٹ اپریزر کی تعین کردہ قیمتوں کا جائزہ لے کر سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف کی حتمی قیمت کی منظوری دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    6۔ آپ کی حکومت نے دسمبر 2018 میں توشہ خانہ رولز آف پروسیجر آفس میمورنڈم میں ترمیم کرکے تحائف کی Retaining Fee مارکیٹ پرائس کے 20 فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کردی تھی مگر 2019میں سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘ کے ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaing کے معاملے میں انچارج توشہ خانہ نے جعلی اپریزل کے ذریعے انڈر پرائسنگ کرکے جو قیمت متعین کی وہ 10کروڑ روپے تھی اس کے برعکس آپ کی طرف سے Retaining Fee محض دو کروڑ روپے ادا کی گئی۔ اس طرح آپ نے 20 فیصد ادائیگی کرکے اپنے ہی بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی کی۔

    7۔ آپ نے سعودی ولی عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘کے (1.2 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ مالیت کے) ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaning کیلئے جو 2 کروڑ روپے کی معمولی رقم ادا کی وہ آپ کےذاتی اکاؤنٹ یا آپ کے نام سے پے آرڈر کے ذریعے قومی خزانے میں جمع نہیں ہوئی بلکہ ان تحائف کو بیرون ملک بیچنے کا انتظام کرنے والے معاون خصوصی کی طرف سے مذکورہ رقم جمع کروائی گئی۔

    8۔ آپ نے دوست ملک سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘ کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ (جس میں ایک گھڑی، ایک انگوٹھی ،دو کف لنکس اور ایک قلم شامل تھا) اور غیرملکی دوروں میں ملنے والے دیگر تحائف اندرون وبیرون ملک کی مارکیٹوں میں بیدردی سے فروخت کردئیے۔ حالانکہ یہ تحائف آپ نے نیلامی میں نہیں خریدے تھے بلکہ توشہ خانہ سے Retain کئے تھے اور Retaining کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے قانون میں غیرملکی دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی Retaining کی اجازت Recipient کو اس لئے ملتی ہے کیونکہ وہ اپنی درخواست میں لکھتا ہے کہ ’’یہ تحفہ مجھے فلاں اہم شخصیت نے پیش کیا تھا جو میرے لئے یادگار ہے اور میں اسے بطور یادگار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں،‘‘ اسی لئے ہر Recipient کو Retaining کیلئے ایک بیان حلفی بھی اپنی درخواست کے ساتھ لف کرنا پڑتا ہے۔

    9۔ آپ نے سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ دبئی فروخت کرنے کیلئے ایکسپورٹ NOC کے بغیر نجی جہاز پر بیرون ملک اسمگل کروایاجس کا شعبہ کسٹم کے ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں۔

    10۔عمران خان کی اس حرکت کی پاداش میں پاکستان کو 3ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ کی واپسی اور موخر ادائیگی پر تین ارب ڈالر تیل فراہمی کے معاہدے کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔

    کیا ان حقائق اور قانون کی خلاف ورزیوں کے بعد آپ کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ میری گھڑی، میری مرضی؟

    خیراندیش…رانا ابرار خالد

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    غریبِ شہر تو فاقے سے مرگیا عارفؔ
    امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کرلی

    عارف شفیق 31 اکتوبر 1956 کو کراچی میں پیدا ہوئے. عملی زندگی میں صحافت سے وابستہ رہے ان کی شاعری کے یہ مجموعے شائع ہوئے: آدھی سوچیں گونگے لفظ (1977) سیپ کے دیپ (1979) سر پھری ہوا (1985) جب زمین پر کوئی دیوار نہ تھی (1987) احتجاج (1988) یقین (1989) میں ہواؤں کا رخ بدل دوں گا (1991) مرا شہر جل رہا ہے(1997)

    ان کا کچھ کلام

    اس شخص پر بھی شہر کے کتے جھپٹ پڑے
    روٹی اٹھا رہا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے

    عارف شفیق کوئی نہ آگے نکل سکا
    میں نے ہر آنیوالے کو خود راستہ دیا

    جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
    مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کرلی

    زندگی خوف کا سفر کیوں ہے
    کاش کیوں اگر مگر کیوں ہے

    مجھے خدا نے وہ بخشا ہے شاعری کا ہنر
    جو خواب دیکھتا ہوں وہ دکھا بھی سکتا ہوں

    ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار ہوں جہاں عارفؔ
    مجھے قلم سے وہاں انقلاب لانا ہے

    اور کچھ نہ دے سکا میں اگر ورثے میں
    اپنی اولاد کو سچائی تو دے جاؤں گا

    عارف شفیق ورثے میں اولاد کے لئے
    میں جا رھا ھوں جرآت اظہار چھوڑ کر

    اک فتویٰ پھر آیا ہے یہ غاروں سے
    کافر کہہ کر مجھ کو مارا جاسکتا ہے

    ساری دنیا ہے آشنا مجھ سے
    اجنبی اپنے خاندان میں ہوں

    آنسو پونچھے، دکھ بانٹے انسانوں کے
    میں نے بھی تو ساری عمر عبادت کی

    آنکھوں میں جاگ اٹھے ہیں تنہا شجر کے دکھ
    گلدان میں جو پھول سجے دیکھتا ہوں میں

    موم کی صورت خود ہی پگھل جائے گا اک دن
    لفظ محبت لکھ دے تو دل کے پتھر پر

    کسی کی آنکھ سے آنسو بھی پونچھ لیتا کبھی
    غرور کرتا ہے جو شخص اپنے سجدوں پر

    وہی ہیں لفظ پرانے جو لکھ رہے ہیں سب
    معانی ان میں مری شاعری اتارتی ہے

    اکثر سب کو رستہ دینے والے لوگ
    میری طرح سے خود پیچھے رہ جاتے ہیں

    شہر سارا ہی ہوگیا روپوش
    کوئی ملتا نہیں ٹھکانے پر

    یقیں اب ہوگیا میں سچ ہوں عارف
    جبھی دنیا مجھے جھٹلا رہی ہے

    سولی پہ چڑھا کر مرے چاند اور مرے سورج
    اب شہر میں مٹی کے دیے بانٹ رہا ہے

    ایسا نہ ہو وہ خود کو سمجھنے لگے خدا
    اتنا بھی جھکنا ٹھیک نہیں التماس میں

    وہاں ہر چیز تھی اک جنس وفا تھی نایاب
    خاک ڈال آیا ترے شہر کے بازاروں پر

    جب کوئی اہم فیصلہ کرنا
    اپنے بچوں سے مشورہ کرنا

    میں نے سیکھا ہے اپنے بچوں سے
    سچ کا اظہار برملا کرنا

    وقت کرتا ہے خود فیصلہ ایک دن
    اب ہمیں وقت کا فیصلہ چاہیے

    چند سکے نہ دے ہم کو خیرات میں
    اپنی محنت کا پورا صلہ چاہیے

    عارف وہ فیصلے کی گھڑی بھی عجیب تھی
    دل کو سنبھالنا پڑا میزان کی طرح

    پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے کیوں میرا نام و نسب
    سوچ لیں پیغمبروں سے سلسلہ مل جائے گا

    تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر
    ترے بغیر بسر میں نے زندگی کرلی

    اپنے دروازے پہ خود ہی دستکیں دیتا ہے وہ
    اجنبی لہجے میں پھر وہ پوچھتا ہے کون ہے

    کوئی لشکر یہاں سے گزرا ہے
    اتنی اُجڑی یہ رہگزر کیوں ہے

    خوب ہے تیری عاجزی لیکن
    اونچا مسجد سے تیرا گھر کیوں ہے

    کیا کبھی تُو نے سچ نہیں بولا
    تیرے شانوں پر پھر یہ سر کیوں ہے

    نظمیں

    .. رابطہ..

    اپنی ذات
    اپنے گھر
    اپنے مذہب
    اپنی تہزیب
    اور اپنے قبیلے کی
    دیواریں اتنی بھی اونچی نہ کرو
    کہ ساری دنیا سے
    تمہارا رابطہ کٹ جائے

    .. زمینی کتاب..

    اب تک آسمانوں سے
    زمین پر کتابیں اتری ہیں
    میں اس زمین کا شاعر ہوں
    میری خواہش ہے کہ
    ایک کتاب زمین سے
    آسمانوں پر بھی اترے
    کیونکہ
    آسمان والے جان سکیں
    کہ
    قیامت سے پہلے
    زمین پر کتنی قیامتیں
    گزر چکی ہیں

    .. محرومی..

    میں ماں باپ کے ہوتے ہوئے
    یتیموں کی طرح
    زندگی گزار رہا ہوں
    تنہا کھڑا
    اس کتیا کو دیکھ رہا ہوں
    جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے
    پیار سے ان کو چاٹ رہی ہے
    اور
    میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
    کاش میں پلا ہی ہوتا