Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -2،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -2،تحریر:ملک سلمان

    کون ہے ؟کون ہے؟ پوچھنے والوں کو میں نہیں بتا سکتا کہ تم خود اس حمام میں ننگے اور گندے ہو۔ بہت سارے جعلی ایمانداروں اور نیکوکاروں کو نہیں بتا سکتا کہ تمہاری آڈیو اور ویڈیو خود دیکھی ہیں کہ جس میں تم خاتون کی منتیں کر رہے ہو کہ پہلے آپ پھر میں آن لائن سیلف پریکٹس کرتے ہیں۔ عقل کے اندھو ابھی بھی وقت ہے کسی باہر کی عورت کے قدم چومنے سے بہتر ہے اپنی بیوی کے قدم دبا کر دیکھ لو دنیا جنت بن جائے گی۔

    میرا مقصد صرف اصلاح اور خبردار کرنا ہے کہ جو گند تم لوگوں نے پھیلایا ہے تھیلے سے باہر آگیا تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوگے۔ میں اس چیز پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ کسی کی پرائیویسی خراب نہیں کرنی چاہئے لیکن بطور خیر خوا تمہیں سمجھانے کی آخری کوشش ہے کہ کتے کی رال ٹپکانے سے بہتر ہے تھوڑے میں گزارا لو۔ واحیات افسران جس طرح کی تھڑی ہوئی حرکتیں کرچکے ہیں صرف وہ ہی پبلک ہو جائیں تو بہت سارے خودکشی کرلیں یا احساس ندامت سے پاگل ہوجائیں۔ویسے ایسی امید بھی کم لوگوں سے ہیں کیونکہ جس قدر گھٹیا ذہنیت کا ثبوت دے چکے ہیں لگتا نہیں کہ ان میں رتی برابر بھی شرم باقی ہوگی۔ چلیں شرم غیرت نہ سہی بے حیاؤ اپنا سوشل سٹیٹس ہی بچا لو۔

    جو سنئیر افسران پارلیمنٹیرین، صحافیوں، ساتھی افسران اور دیگر بااثر شخصیات کیلئے بھی اکثر پہنچ سے دور ہوئے ہوتے ہیں وہ آوارہ لونڈوں لپاڑوں کی طرح لانگ ڈرائیو کے نام پر "شوگر بے بیز” کی خاطر روڈ انسپکیٹری کرتے ہوئے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں۔ڈوپ ٹیسٹ کروا لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا جنسی خواہشات کی وحشت میں سوکالڈ کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے ڈرگز کے عادی ہوچکے ہیں۔ڈرگز کی کثرت کی وجہ سے منہ پر لعنتیں اور پھٹکارے سرجری کروانے سے بھی ختم نہیں ہو رہیں۔ چند افسران انباکس میں اخلاقیات کا لیکچر دے رہے تھے، یہ وہی ہیں جن کی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں کہ خاتون کو کہتے ہوئے کہ یہ ساشے تمہارا یہ ساشے میرا اب دیکھنا یہ رات کبھی نہیں بھول پاؤگی۔

    اس ٹاپک کومذید اگلی قسط میں سہی
    اخلاقی کرپشن کا دوسرا پہلو بھی دکھا دوں جس پر لکھنے کیلئے انہی افسران کی بیگمات نے سپیشل ریکوئسٹ کی کہ ان بے غیرت افسران کی اس عادت کی وجہ سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہیں۔گزشتہ سال ایک سنئیر آفیسر کی وائف کی کال آئی کہ سلمان صاحب آپ کبھی۔۔۔اس نامرد کو بھی بندوں کی گیدرنگ میں انوائٹ کرلیا کریں کہ شائد انسان بن جائے۔ میں نے کہا کہ پانچ سات دفعہ بلایا ہے لیکن شائد وہ مصروف ہوتے ہیں۔ مذکورہ خاتون نے پرسرار قہقہے کے ساتھ کہا کہ اس (ک ن ج ر) نے ایک ہی کام میں مصروف ہونا ہوتا ہے۔آپ کی محفل اوپن ہوتی ہے جبکہ اس کو بند کمرے میں مردوں کے ساتھ بیٹھنا پسند ہے۔اس بات کا مطلب مجھے کچھ مہینے بعد سمجھ آیا جب مجھے ایک اور آفیسر کی وائف نے کال کی۔۔۔۔یہ آپکی طرف ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں میری طرف تو آج تک نہیں آیا۔ کہنے لگیں کہ مجھے تو آپ کا انویٹیشن دکھا کر نکلا تھا کہ ڈنر پر جارہا ہوں۔ خاتون آفیسر نے اسرار کیا کہ آپ لوکیشن شئیر کریں میں آپکو پک کرتی ہوں آپنے ایک جگہ چھاپے مارنے میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔یہ وہیں ملے گا۔

    میں نے بہت کہا کہ یہ میرا نہیں آپ کا ذاتی گھریلو معاملہ ہے۔ خیر انکے اسرار پر میں ان کے ساتھ چل نکلا فیز 8 میں گھر کے سامنے جا کر انہوں نے نان سٹاپ ہارن بجانا شروع کردیا۔ چوکیدار باہر نکلا تو اسے کہا کہ۔۔۔۔۔کو کہو کہ عزت سے خود باہر آجائے ورنہ میں نے اندر آکر سب کو گولی مار دینی ہے۔ مذکورہ آفیسر ہاتھ جوڑتا ہوا باہر آیا کہ پلیز گھر جاؤ میں تمہارے پیچھے آیا۔خاتون نے اس آفیسر کو دیکھتے ہی کہا کہ تیری۔۔۔دا کھسم تے اے۔ تم اس شریف بندے کا نام لیکر یہاں مردوں کی گود میں بیٹھ کر منہ کالا کرنے پہنچے ہوئے ہو۔ پہلے واقع میں مینشن کیے گئے آفیسر کی گاڑی بھی وہیں کھڑی دیکھی تو تب سمجھ آئی کہ کس بند کمرے کا ذکر ہو رہا تھا۔

    چند ماہ قبل میں اور سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ لاہور جمخانہ کلب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ زوردار تھپڑ اور خاتون کی گالیوں کی آواز آئی۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو اہم محکمے کے ڈی جی تھپر سے لال منہ کو چھپائے بھاگ رہا تھا کہ جبکہ خاتون گالیاں دے رہی تھی کہ اگر مردوں کے ساتھ ہی منہ کالا کرنا تو اس سے شادی کیوں کی۔

    بیوروکریسی کا یہ ”گے گروپ“ ہر طرح کی سوشل گیدرنگ سے دور اپنی دنیا میں مگن کام ڈالتا رہتا ہے۔ لیکن ان کے اس قوم لوط والے شوق سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہے اس لیے وہ کھلم کھلا ان کے دوستوں کو اس بات کے شکوے کرتی ہیں کہ وہ صرف شو پیس اور سٹیٹس سمبل بن کر ری گئیں ہیں اور ان کے خاوند شادی سے پہلے والے شوق سے باہر نہیں نکل رہے۔

    پارٹی اور "گے گروپ” دونوں کی خاصیت ہے کہ سوشل گیدرنگ اور دوستوں کی محفل سے الگ تھلگ رہتے ہیں کیونکہ ان کو ذہنی ڈر ہوتا ہے کہ اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور صوفے کی بجائے کسی کی گود میں نہ بیٹھ جائیں۔
    ”گے گروپ“ والے دفتر میں چڑچڑے پن کا شکار اور فرعونیت کا روپ دھارے رہتے ہیں۔ ”گے گروپ“والے افسران بامشکل تیس سے چالیس ہوں گے لیکن یہ سارے اس مخصوص گروپ کی وجہ سے "کی پوسٹ” انجوائے کررہے ہیں۔
    جاری ہے۔۔۔

    ملک سلمان

  • بیوروکریسی کے جنسی درندے،تحریر: ملک سلمان

    بیوروکریسی کے جنسی درندے،تحریر: ملک سلمان

    قسط نمبر -1
    اگر بیوروکریٹ کے نیفے میں پسٹل چلنا شروع ہوگئے تو آدھے سے زائد ”رِمل شاہ“ بن جائیں گے۔
    یہ وہ ٹاپک ہے جسے میں بہت عرصے سے لکھ نہیں پارہا تھا جبکہ بہت سارے دوستوں کو چاہ کر بھی ڈائریکٹ سمجھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
    ایک گالی۔۔۔ ۔۔۔سب نے سنی ہوگی اس کا مطب پہلی دفعہ سمجھ آیا۔
    پولیس سروس کے ایک طاقتور اور سنئیر افسر جس کی ابھی دو سال سے زائد سروس باقی ہے وہ سپلائیر ہے۔اس کی ایک سوشل ورکر خاتون کے ساتھ طریقہ واردات کی پوری چیٹ دیکھی کہ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا کوڈ ورڈ ہوگا کہ میں تمہیں بیٹی کہوں گا تم مجھے ڈیڈی۔
    مجھ سے ملو گی تب بھی پیکٹ اگر کسی کے پاس بھیجوں گا تب بھی پیکٹ میری گارنٹی،اگلا تمیں کچھ انعام دے دے تو وہ بھی تمھارا۔میرے دفتر آکر پچاس ہزار ایڈوانس لے کر کسی پارلر سے خود کو اپڈیٹ کروا لو۔جہاں بھیجوں آنکھ اور کان بند کرکے جانا ہے۔
    میں نے پہلے بھی کالم لکھا تھا کہ بہت سارے بیوروکریٹ اچھی پوسٹنگ کیلئے سپلائی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔
    پارٹی،پلائی اور سپلائی یہی انکی کامیابی کا راز ہے۔ پینٹ کوٹ اور ٹائی کے اندر چپھی انکی غلاظت کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔
    پاؤں چاٹ گروپ کی بات کی جائے تو پولیس افسران سر فہرست اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے دوسرے جبکہ پی ایم ایس والے تیسرے نمبر پر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کام میں کوئی سپیشلائیزیشن کی ہوئی ہے یا پھر سب نے لڑکی پھنسانے کے ٹوٹکوں والا ایک ہی میگزین لے رکھا ہے کہ ہر دوسرے افسر کی چیٹ کا آغاز پاؤں چاٹنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔
    ایک ڈی آئی جی کی ویڈیو دیکھی تو وہ سابق چئیرمین نیب کو پیچھے چھوڑ چکے تھے جناب نے عرق گلاب سے ڈانسر کے پاؤں دھوئے اور کئی منٹ تک چاٹتا رہا۔
    یہ جنسی درندے ہر سوشل خاتون پر ٹرائی کرتے ہیں۔ میڈیا گرلز کی بات کی جائے تو یہاں سرکاری افسران کی دال نہیں گلتی ہرلڑکی کی بلاک لسٹ میں پچاس سے زائد بیوروکریٹ ملیں گے۔ بیوروکریسی کے افسران کا آسان ٹارگٹ سماجی تنظیموں سے وابستہ خواتین،جونئیر اور ماتحت خواتین افسران ہوتی ہیں۔
    جنسی درندگی کا آسان طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو سی ایس ایس اور سرکاری نوکری کا خواب دکھا کر یہ سستے مینٹور اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔
    سرکاری جنسی درندوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ سرکاری ہائرنگ فائرنگ کا ریکارڈ دیکھ لیں باس کی بات ماننے سے انکار کرنے والی خوتین کو مہینوں اور دنوں میں نکال دیا جاتا ہے جبکہ باس کی خواہش کی تکمیل کرنے والوں کیلئے ترقی کے تمام در کھل جاتے ہیں۔
    جنسی درندے بنے افسران سنیپ چیٹ کو سیکس چیٹ کیلئے محفوظ تصور کرتے ہیں۔کچھ نے انٹرنیشنل واٹس ایپٹ نمبر رکھے ہوئے تو کچھ ایسے نڈر ہیں کہ اپنے پرسنل نمبر سے once کرکے گندی اور ننگی تصاویر اور آڈیو چیٹ کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے موبائل سے انکی سنیپ چیٹ اور once والی ساری چیٹ ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے۔
    درجنوں افسران ان حسیناؤں سے بلیک میل ہوکر خفیہ نکاح نبھا رہے ہیں۔ان پاؤں چاٹنے والوں کی زندگی آوارہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔بلیک میل ہونے والے افسران کی زندگی شرمندگی بن چکی ہے، ایک کال پر یہ گھر میٹنگ اور دفتر چھوڑ کر دم ہلاتے پہنچ جاتے ہیں۔

    پی ایم ایس کے ایک لڑکے نے واقع سنایا کہ ایک سنئیر آفیسر نے اسے بہت تنگ کیا ہوا تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس بیٹھا تھا کہ وہی افسر ٹیلیفون کال پر اسکی عزت افزائی کررہا تھا،کال ختم ہوئی تو گرل فرینڈ نے پوچھا کہ کون تھا تو میں نے بے خیالی میں بتادیا کہ فلاں سیکرٹری ہے۔ اس نے فوری موبائل نکالا اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کال ملا دی اور دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی بولی اوئے بات سن۔نیکسٹ۔۔۔۔۔اسکو تنگ کرنے کی شکایت نہ ملے۔دوسری طرف سے سے سیکرٹری نے پوچھا ک تمہارا کیا لگتا ہے تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ جس طرح تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے۔ افسر کہ کہنا تھا کہ اس کا کام تو ہوگیا لیکن یہ فقرہ آج تک تکلیف دیتا ہے کہ”جیسے تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے“۔
    یہ باتیں کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں ہر افسر کو پتا ہے کہ دوسرا افسر کہاں اور کس کے ساتھ منہ کالا کرتاہے
    ان بے شرم افسران کو سمجھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان سے اس لیے ہمدردی ہے کہ ان افسران کی اکثریت انتہائی غریب گھروں کے بچے ہیں،خاص طور پر فخر سے اولڈ راوین کہلوانے والے 40ویں کامن سے 46ویں کامن والوں میں سے درجنوں کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ جی سی کی ہاسٹل فیس ادا نہیں کرسکتے تھے اور گاؤں کے دوستوں کی مدد سے کریسنٹ ہاسٹل سول لائنز میں ایک بستر پر دو،دو سوتے تھے، اور دعائیں دیں ہاسٹل مسجد کو جو عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک انکے کیلئے آرام گاہ ہوتی تھی۔ سنئیرز کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں کوئی گاؤں کے چوہدری سے پیسے لیکر شہر آیا تو کسی کی فیس بیرون ملک بیٹھے رشتے دار ادا کرتے تھے۔ یتیم الشانی سے عظیم الشانی کا سفر مبارک ہو، ریکارڈ توڑ کرپشن کے بعد یہ امیر تو ہوگئے لیکن انکی ذہنی پسماندگی اور غربت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔
    ان کو ڈائریکٹ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ بیچارے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔
    میں انکو بچانا چاہتا ہوں اس لیے ان بے غیرتوں کو سمجھا رہا ہوں کہ لعنتیوں سمجھ جاؤ اس سے پہلے کہ تم اشتہار بن جاؤ۔
    50 سے 60 کے درمیان والے سینیئر افسران جنھیں عام پبلک حتی کہ سیاستدان بھی سر سر کرتے ہیں وہیں پر انکی "شوگر بی بیز” نے ان کا نام "ٹھرکی بابا” "دادا ابو” اور "بے غیرت بڈھا” رکھا ہوا ہوتا ہے۔
    میری تحقیق کے مطابق نوجوان بیوروکریٹ میں سے 50 فیصد جبکہ سینیئر افسران میں سے 65 فیصد ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتے سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔
    یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مالی کرپشن کے بغیر اخلاقی کرپشن افورڈ نہیں ہو سکتی۔
    جاری ہے۔۔۔
    ملک سلمان

  • "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    "انا اور عزتِ نفس: فرق کیا ہے؟”تحریر:پارس کیانی

    انسانی شخصیت کے باطن میں کچھ جذبات ایسے ہیں جو بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی سمت، اثر اور انجام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ انا اور عزتِ نفس بھی انہی میں سے ہیں۔ عام گفتگو میں ان دونوں کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انا کو عزتِ نفس کا نام دے کر اس کی توجیہ پیش کی جاتی ہے۔ حالانکہ انا اور عزتِ نفس نہ صرف جدا مفاہیم رکھتے ہیں بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں۔

    عزتِ نفس انسان کی وہ مثبت داخلی قوت ہے جو اسے اپنی قدر پہچاننے، اپنے وجود کا احترام کرنے اور خود کو بے جا ذلت سے محفوظ رکھنے کا شعور دیتی ہے۔ عزتِ نفس کا تعلق خود آگاہی، خود احتسابی اور خود اعتمادی سے ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان نہ خود کو کمتر سمجھتا ہے اور نہ ہی دوسروں سے برتر۔ وہ اپنی حدود کو جانتا ہے، اپنی خامیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنی خوبیوں پر شکر گزار رہتا ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خاموش وقار عطا کرتی ہے، چیخنے چلانے، ثابت کرنے یا دوسروں کو نیچا دکھانے کی حاجت نہیں پڑتی۔

    اس کے برعکس انا ایک منفی، دفاعی اور جارحانہ جذبہ ہے جو عدمِ تحفظ سے جنم لیتا ہے۔ انا دراصل خود کو بچانے کا نہیں بلکہ خود کو ثابت کرنے کا اضطراب ہے۔ انا کا شکار انسان ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں اس کی برتری، حیثیت یا اختیار پر حرف نہ آ جائے۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ اختلاف کو توہین سمجھتا ہے، سوال کو گستاخی اور تنقید کو دشمنی قرار دیتا ہے۔ انا کا مقصد خود کو محفوظ رکھنا نہیں بلکہ دوسروں کو زیر کرنا ہوتا ہے۔
    عزتِ نفس انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے پُرسکون انداز میں کھڑا ہو، جبکہ انا اسے یہ سکھاتی ہے کہ وہ ہر حال میں جیتے، چاہے اس کے لیے کسی کی تذلیل ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ عزتِ نفس خاموش ہوتی ہے، انا شور مچاتی ہے۔ عزتِ نفس دلیل پر یقین رکھتی ہے، انا طاقت پر۔ عزتِ نفس برداشت سکھاتی ہے، انا انتقام پر منتج ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ عزتِ نفس رکھنے والا انسان معذرت کر لینے میں عار محسوس نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ معافی اس کی قدر کم نہیں کرتی۔ جبکہ انا پرست شخص معذرت کو شکست سمجھتا ہے، اس کے نزدیک جھکنا مٹ جانے کے مترادف ہے۔ عزتِ نفس انسان کو خود سے مضبوط تعلق دیتی ہے، انا اسے مسلسل دوسروں سے مقابلے میں الجھائے رکھتی ہے۔

    فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو عزتِ نفس وجودی توازن کی علامت ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات کے مرکز میں رکھتی ہے، جہاں وہ اپنی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے اور اپنی حدود بھی پہچانتا ہے۔ انا اس توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ انا انسان کو اپنے مرکز سے ہٹا کر دوسروں کی نگاہوں، آراء اور ردِعمل کا غلام بنا دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے جھکنے میں اپنی بقا تلاش کرنے لگتا ہے۔

    سماجی سطح پر انا فساد کو جنم دیتی ہے، جبکہ عزتِ نفس ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ انا رشتوں کو توڑتی ہے، کیونکہ اس میں جیت صرف ایک کی ہوتی ہے۔ عزتِ نفس رشتوں کو نبھاتی ہے، کیونکہ اس میں احترام باہمی ہوتا ہے۔ انا اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتی ہے، عزتِ نفس اختلاف کے باوجود وقار برقرار رکھتی ہے۔
    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عزتِ نفس انسان کو بلند کرتی ہے اور انا اسے تنہا کر دیتی ہے۔ تاریخ، ادب اور عمرانی تجربہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ انا پرست افراد بظاہر طاقتور دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے اور بے چین ہوتے ہیں۔ جبکہ عزتِ نفس رکھنے والے افراد خاموشی سے اپنا مقام بنا لیتے ہیں، بغیر کسی کو کچلے، بغیر کسی کو ذلیل کیے۔

    اصل امتحان یہ نہیں کہ انسان خود کو کب بچاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو بچاتے ہوئے دوسروں کو کتنا محفوظ رکھتا ہے۔ عزتِ نفس یہی توازن سکھاتی ہے، جبکہ انا اس توازن کو پامال کر دیتی ہے۔ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عزتِ نفس خودی کی حفاظت ہے اور انا خودی کی بیماری۔ عزتِ نفس انسان کو انسان بناتی ہے، انا اسے اپنی ہی ذات کا قیدی۔ جو شخص عزتِ نفس کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کو جینے دیتا ہے، اور جو انا کے ساتھ جیتا ہے وہ دوسروں کے وقار پر زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی دونوں کے درمیان اصل اور فیصلہ کن فرق ہے۔

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • فتنہ الخوارج ،فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلیے قومی یکجہتی کی ضرورت،تحریر:جان محمد رمضان

    فتنہ الخوارج ،فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلیے قومی یکجہتی کی ضرورت،تحریر:جان محمد رمضان

    وطنِ عزیز اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی و خارجی سازشوں کی گرد آلود ہوائیں ہمارے عزم و استقلال کو آزمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں سر اٹھانے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے عناصر محض چند گمراہ گروہوں کا نام نہیں بلکہ ایک منظم سوچ اور بیرونی سرپرستی کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ ایسے میں وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم ذاتی، سیاسی اور لسانی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پرچم تلے مجتمع ہو جائے۔

    یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی فورسز، پاک فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے۔ جب تک قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرے گا، تب تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جو معصوم جانوں کو نگلتا اور ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی سازش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے صرف بندوق نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور عزم کی بھی ضرورت ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور غیر متزلزل عمل درآمد سے مشروط ہے۔ یہ منصوبہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا جامع لائحۂ عمل ہے، جس پر مؤثر عمل ہی ملک کو پائیدار امن کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی یہی حکمتِ عملی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور اس ضمن میں حالیہ اجلاسوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کو افغانستان میں دہشت گردانہ تربیت فراہم کی گئی۔ یہ عناصر دراصل خطے میں بدامنی پھیلا کر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کو بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ عناصر احساسِ محرومی کے نعرے کی آڑ میں خونریزی کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں، مگر بلوچستان کی باشعور عوام اب ان کے چہروں کو پہچان چکی ہے۔تین برس قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ایک کھلا راز تھی، جس سے حاصل ہونے والی خطیر رقوم دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتی تھیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی دھندے کا خاتمہ دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنے کے مترادف ہے، جو ریاستی رٹ کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

    دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گڈ گورننس کو واحد اور مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ شفافیت، انصاف، میرٹ اور عوامی خدمت کا نظام ہی وہ بنیاد ہے جس پر امن کا مضبوط قلعہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہماری کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے، کیونکہ ہمارا بیانیہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔ کوئی بھی منفی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ سیکیورٹی ذرائع نے اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان کو افسوسناک اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیاست اور فوج دو جدا دائرے ہیں؛ بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے جبکہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ قانونی اور عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق عدالتیں ہی کریں گی۔جس طرح قوم نے معرکۂ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی، اسی طرح آج بھی اتحاد و اتفاق سے دہشت گردی کے فتنے کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک نصب العین پر جمع ہو جائیں تو کوئی سازش ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات، سیاسی کشمکش اور گروہی تعصبات سے بلند ہو کر ریاست اور آئین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ فتنہ الخوارج ہو یا فتنہ الہندوستان، ان کا خاتمہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ قومی شعور، یکجہتی اور گڈ گورننس سے ممکن ہے۔پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی اسی میں مضمر ہے کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں ،نہ تقسیم ہوں گے، نہ جھکیں گے، اور نہ ہی دہشت گردی کے آگے سر تسلیم خم کریں گے

  • "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق

    بسنت جیسے خونی تہوار کی اجازت اقتدار میں بیٹھی ہوئی عورت نے دے کر فضا میں موت کے پروانے آزاد کر دیے۔ چھتوں پر اڑتی پتنگیں ،،سڑکوں پر چلنے والوں کی موت کا سامان ھیں میڈیا پر بسنت کے جشن اور اس خونی تہوار کے نام پر کاروباری سطح پراربوں کے منافع اور دیگر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں مگر تمام چینلز اور میڈیا پتنگ بازی کے باعث کئی زخمی اور مرنے والے بے زبان معصوم پرندوں ، چھت سے گر کر ، کرنٹ لگنے سے اور گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے انسانوں کے متعلق بات کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا اربوں روپے کسی مرنے والے ایک بھی شخص کو واپس لا سکتے ہیں؟

    کیا پتنگ بازی کا شوق انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟ڈور کی صورت فضا میں موت کا رقص کوئی تہوار یا جشن کہلا سکتا ہے؟ انسانی جانیں گنوا کر پیسہ کمانا منافع کہلا سکتا ہے؟ اقتدار میں بیٹھا ٹولہ ان متاثرین کے درد کا مداوا کر سکتا ہے؟ افسوس ہے ایسی بے حسی پر اور ایسی غافل غلام عوام پر جو اپنے حقوق کے بارے میں سوال نہیں اٹھا سکتے وہ ایسے تماشوں پر تین روز تک ناچتے رہے۔ یاد رکھیں ڈور سے مرنے والوں کے قاتلوں میں اپ سبھی شامل ہیں۔

  • اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اخلاق حیدرآبادی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس ،رکن مرکزی مجلس عاملہ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ (ادارہ مصنفین پاکستان)

    اردو اس خطے کی تہذیبی روح اور عوامی اظہار کی سب سے توانا علامت رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ ریاستی نظام میں رائج لسانی ترجیحات نے عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ جب حکمرانی اور فیصلے عوام کی فہم سے باہر زبان میں کیے جائیں تو محرومی اور بیگانگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ لسانی ناانصافی صرف زبان کا مسئلہ نہیں بل کہ سماجی مساوات اور شہری حقوق سے جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ زیر نظر تجزیہ اسی المیے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ زبان اور اقتدار کے اس نابرابر رشتے کو سمجھا جا سکے۔

    آئینی حیثیت کے باوجود اردو کی نظراندازی: قومی زبان اور عملی تضاد
    (آئینِ پاکستان، عدالتی فیصلے اور سرکاری وعدے بمقابلہ عملی صورتِ حال)
    آئینِ پاکستان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی امور، سرکاری مراسلت اور عدالتی کارروائیاں اسی زبان میں انجام پائیں مگر عملی سطح پر یہ آئینی شق محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلوں کی زبان، قوانین کے مسودے، احکامات اور نوٹیفکیشنز ایسی زبان میں مرتب کیے جاتے ہیں جو عام شہری کی فہم سے بالاتر ہے۔ اس صورتِ حال میں قومی زبان کا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود اس سے مسلسل انحراف ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام جنھوں نے ریاست کو وجود بخشا، وہی اپنے ہی ملک میں سرکاری زبان کے ذریعے اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ آئین کا مقصد یہ تھا کہ زبان کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان قربت پیدا ہو مگر موجودہ طرزِ عمل نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ اردو کی نظراندازی صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بل کہ یہ شہری حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون، فیصلہ اور ہدایت عوام کی زبان میں نہ ہوں تو وہ ان کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ آئینی وعدے محض رسمی ہیں اور ان پر عمل درآمد ریاست کی ترجیح نہیں۔ قومی زبان کو نظر انداز کرنا دراصل قومی شناخت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر آئین کی بنیادی شقوں پر ہی عمل نہ ہو تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیتا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بل کہ عملی رہنما سمجھا جائے اور قومی زبان کو واقعی اس کا جائز مقام دیا جائے۔

    انگریزی بطور طاقت کی زبان: طبقاتی تفریق اور عوامی بیگانگی
    (زبان کا استعمال بطور اقتدار، اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلہ)
    یہ موضوع محض لسانی بحث نہیں بل کہ طاقت، اختیار اور سماجی درجہ بندی کا گہرا مسئلہ ہے۔ انگریزی بطور طاقت کی زبان دراصل ایک ایسے نظام کی علامت بن چکی ہے جس میں علم، مواقع اور اختیار چند مخصوص طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں جب کہ عوام کی اکثریت خود کو اس دائرے سے باہر محسوس کرتی ہے۔ یہ زبان رفتہ رفتہ علمی برتری، ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ قرار دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی زبانوں سے وابستہ افراد کمتر، غیر متعلق اور پس ماندہ سمجھے جانے لگتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفتری نظام اور ریاستی بیانیے میں اسی زبان کی بالادستی طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرتی ہے کیوں کہ جسے اس زبان پر عبور حاصل نہیں وہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور سماجی ترقی کے عمل سے عملاً خارج ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بل کہ ایک ایسا ہتھیار بن جاتی ہے جو عوام کو ان کی اپنی ثقافت، فکری روایت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو زبان کے ذریعے طاقت سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسی زبان کے باعث خود کو اجنبی، خاموش اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر زبان کو علم اور شعور کی ترسیل کے بجائے سماجی امتیاز کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف عوامی بیگانگی کو جنم دیتا ہے بل کہ فکری انصاف اور ثقافتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی: فہم کی رکاوٹ یا انصاف کی نفی؟
    (انگریزی عدالتی اصطلاحات، عام سائل کی مجبوری اور انصاف میں تاخیر)
    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی کا مسئلہ دراصل عام شہری اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے کی علامت ہے، جہاں پیچیدہ، اجنبی اور غیر مانوس زبان فہم کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب عدالتوں میں ایسی زبان رائج ہو جو عوام کی اکثریت کی روزمرہ بول چال اور فکری سطح سے ہم آہنگ نہ ہو تو انصاف محض ایک نظری تصور بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ جسے بات ہی سمجھ نہ آئے وہ اپنے حق کا مطالبہ کیسے کرے۔ عدالتی اصطلاحات، طویل جملے اور مبہم اسلوب عام فرد کو خوف، الجھن اور بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ وکیلوں، کاتبوں اور دلالوں پر غیر معمولی انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انصاف کا عمل سادہ حق کے بجائے ایک مہنگی اور پیچیدہ رسم بن جاتا ہے جو صرف باخبر اور صاحبِ وسائل طبقے کے لیے قابلِ حصول رہتی ہے۔ یوں زبان انصاف کی وضاحت کا ذریعہ ہونے کے بجائے اس کی نفی کا سبب بننے لگتی ہے کیوں کہ فہم کے بغیر انصاف محض فیصلے کا اعلان ہے، شراکت اور اطمینان کا ذریعہ نہیں۔ اگر عدالتی زبان عوام کی ذہنی سطح اور لسانی روایت سے قریب نہ ہو تو یہ نظام خود اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور انصاف ایک زندہ حقیقت کے بجائے دور، سرد اور غیر متعلق تصور میں ڈھل جاتا ہے۔

    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن: فائل، فارم اور فرد کی بے بسی
    (درخواستیں، نوٹیفکیشنز، دفتری کارروائی اور عوامی مشکلات)
    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے جہاں کاغذی کارروائی، درخواست نامے اور دفتری تحریریں ایک ایسی زبان میں ہوتی ہیں جو عوام کی فہم اور تجربے سے میل نہیں کھاتیں۔ جب ایک سادہ انسان کسی کام کے لیے دفتر کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی خوف اور تذبذب کا شکار ہوتا ہے، مگر اجنبی اصطلاحات، پیچیدہ جملے اور غیر مانوس اسلوب اس کی بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ دفتری تحریر کا مقصد رہنمائی اور سہولت ہونا چاہیے لیکن جب زبان رکاوٹ بن جائے تو شہری اپنی ہی درخواست کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ اہلکاروں کی مرضی، ترجمانوں کے سہارے اور غیر ضروری سفارشات کا محتاج بن جاتا ہے، جس سے عزتِ نفس مجروح اور اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یوں زبان خدمت کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار کی علامت بن جاتی ہے جہاں عام فرد خود کو نظام کے سامنے بے زبان اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر سرکاری دفاتر میں زبان عوام کے مزاج اور فہم کے مطابق نہ ہو تو یہ لسانی الجھن شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتی ہے، اور انتظامی عمل سہولت کے بجائے مستقل اذیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اردو رسم الخط کی بگڑتی صورت اور تعلیمی و ثقافتی بحران
    (غلط املا، رومن اردو، نصابی کمزوری اور تہذیبی شناخت کا زوال)
    اردو رسم الخط کی بگڑتی ہوئی صورت دراصل ہمارے تعلیمی اور ثقافتی بحران کی گہری علامت ہے جہاں سہولت اور جلد بازی کے نام پر زبان کی اصل ہیئت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں درست املا اور خوش خطی کی تربیت بتدریج نظر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل حروف کی ساخت، صوتی آہنگ اور لفظی تہذیب سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ تحریر میں بے احتیاطی نے رسم الخط کو ایک غیر واضح اور منتشر شکل دے دی ہے جس سے نہ صرف فہم میں دشواری پیدا ہوتی ہے بل کہ تہذیبی تسلسل بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ رسم الخط محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بل کہ صدیوں کی فکری روایت، شعری ذوق اور علمی وراثت کا امین ہوتا ہے اور جب اسی کو بگاڑ دیا جائے تو ادب، تاریخ اور ثقافت سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں طلبہ زبان سے رغبت کے بجائے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور یوں اردو آہستہ آہستہ تعلیمی دائرے سے سکڑ کر رسمی یا جذباتی اظہار تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ ادراک نہ کیا گیا تو اردو رسم الخط کے ساتھ جڑا ہوا پورا تہذیبی شعور کمزور پڑ. جائے گا اور ہم اپنی شناخت کے ایک بنیادی ستون سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔

  • پاکستان نے SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی کر دی ، جدید اسٹرائیک سسٹمز اور علاقائی تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان نے SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی کر دی ، جدید اسٹرائیک سسٹمز اور علاقائی تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تحریر: میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدت کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    فروری 2026 میں پاکستان کی صفِ اول دفاعی برآمدی کمپنی گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے موقع پر دو نئے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل سسٹمز کی نمائش کی،
    SMASH ہائپرسانک میزائل اور YALGHAR-200 لوئٹرنگ میونیشن۔
    یہ ہتھیار نہ صرف پاکستان کے دفاعی برآمدی پورٹ فولیو کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ بھارت۔پاکستان سیکیورٹی تناظر میں اہم تزویراتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔
    SMASH — ہائپرسانک اینٹی شپ اور لینڈ اٹیک میزائل ،SMASH (Supersonic Missile Anti-Ship) پاکستان کا جدید ترین ہائپرسانک میزائل ہے جو بحری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    نمایاں خصوصیات
    دوہرا کردار:
    یہ میزائل بحری جہازوں اور زمینی اہداف دونوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے آپریشنل لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔
    رفتار اور درستگی:
    ایچ ڈی-جی این ایس ایس معاون انرشیل نیویگیشن سسٹم اور ایکٹو ریڈار سیکر سے لیس، جو پیچیدہ اور متنازعہ ماحول میں بھی انتہائی درست حملے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
    رینج اور وارہیڈ:
    اینٹی شپ ورژن کی رینج 290 کلومیٹر ہے اور یہ 384 کلوگرام وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔
    لینڈ اٹیک ورژن میں 444 کلوگرام تک وارہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے۔
    برآمدی ورژن
    بین الاقوامی خریداروں کے لیے کم رینج والے ورژن تیار کیے گئے ہیں تاکہ MTCR رہنما اصولوں کی پاسداری کی جا سکے۔

    بھارت کے تناظر میں تزویراتی (Strategic) اہمیت
    بھارتی بحریہ تیزی سے اپنے سطحی بیڑے، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں کو جدید بنا رہی ہے۔SMASH پاکستان کو بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند میں بھارتی بحری اثاثوں کے خلاف ایک کم لاگت اور مقامی جوابی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔اس کی ہائپرسانک رفتار بھارتی بحری فضائی دفاعی نظام کے ردِعمل کے وقت کو کم کر دیتی ہے، جس سے حساس سمندری گزرگاہوں میں ڈیٹرنس کو تقویت ملتی ہے۔دوہری لینڈ اٹیک صلاحیت کے ساتھ SMASH پاکستان کے میزائل میٹرکس میں ایک قلیل فاصلے کی درست اسٹرائیک تہہ کا اضافہ کرتا ہے، جو نصر ٹیکٹیکل اور شاہین اسٹریٹجک سسٹمز کی تکمیل کرتے ہوئے بھارت کے خلاف روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتا ہے۔

    YALGHAR-200 — طویل دورانیے کی لوئٹرنگ میونیشن
    YALGHAR-200 ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والی لوئٹرنگ میونیشن ہے جو نگرانی اور حملہ دونوں صلاحیتوں کو یکجا کرتی ہے۔
    صلاحیتیں
    آپریشنل رینج:
    200 کلومیٹر — جو دشمن کی پچھلی صفوں میں گہرائی تک حملے ممکن بناتی ہے۔
    دورانیہ:
    90 سے 120 منٹ تک فضا میں موجود رہنے کی صلاحیت، جو حقیقی وقت میں ہدف کی نشاندہی کے لیے موزوں ہے۔
    وارہیڈ کی لچک:
    10 سے 20 کلوگرام وارہیڈ، جو بکتر بند گاڑیوں، مضبوط دفاعی مورچوں یا اہم تنصیبات کے خلاف مؤثر ہے۔
    لانچ کے اختیارات:
    زمینی بوسٹر کے ذریعے یا طیارے سے فضا میں چھوڑ کر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے حربی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔
    بھارت کے تناظر میں تزویراتی اہمیت
    YALGHAR-200 سرحدی اور ساحلی علاقوں میں بھارتی پیش قدمی کے خلاف پاکستان کی غیر متناسب جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے۔یہ ایک مستقل نگرانی اور حملہ آور پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو کم سے کم نمائش کے ساتھ متحرک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔توپخانے، یو اے ویز اور کروز میزائل سسٹمز کے ساتھ مل کر YALGHAR تہہ دار درست اسٹرائیک صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو جوہری حدوں کو عبور کیے بغیر روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتا ہے۔

    برآمدی امکانات اور علاقائی اثرات
    GIDS ان سسٹمز کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ برآمدی ورژن عالمی ضوابط کے مطابق کم رینج کے حامل ہوں گے۔SMASH اور YALGHAR پاکستان کو اُن چند ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جو مقامی طور پر تیار کردہ ہائپرسانک اور لوئٹرنگ سسٹمز مسابقتی قیمتوں پر پیش کر رہے ہیں۔تزویراتی طور پر ان سسٹمز کی نمائش بھارت اور دیگر علاقائی طاقتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کی مقامی درست اسٹرائیک اور غیر متناسب صلاحیتیں مسلسل ترقی کر رہی ہیں۔

    خلاصہ
    SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، جو تکنیکی مہارت اور تزویراتی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔
    بھارت۔پاکستان تناظر میں یہ سسٹمز:بھارت کے خلاف بحری اور ساحلی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتے ہیں۔روایتی بھارتی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر متناسب ذرائع فراہم کرتے ہیں۔
    پاکستان کو مقامی دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے ملک کے طور پر مضبوط بناتے ہیں، جس سے معاشی اور تزویراتی اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔ان صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان علاقائی سلامتی کے حوالے سے متوازن حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس میں ڈیٹرنس، درست اسٹرائیک اور برآمدی امکانات کو یکجا رکھتے ہوئے کشیدگی کی حدوں پر کنٹرول برقرار رکھا گیا ہے۔

  • امن، قانون کی حکمرانی اور معاشی استحکام، پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد،تحریر:شہزادقریشی

    امن، قانون کی حکمرانی اور معاشی استحکام، پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد،تحریر:شہزادقریشی

    پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی سلامتی، علاقائی استحکام اور معاشی بحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات، سرحدی چیلنجز اور غیر قانونی نقل و حرکت جیسے مسائل نہ صرف ریاستی رٹ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کے تشخص اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ قومی پالیسیوں پر سنجیدگی، تسلسل اور خلوص نیت کے ساتھ عمل کیا جائے۔

    سب سے پہلے، نیشنل ایکشن پلان کو محض ایک دستاویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا جامع فریم ورک سمجھا جانا چاہیے۔ یہ منصوبہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں اس پر عمل درآمد کی رفتار یکساں نہیں رہی۔ اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ مطلوب ہے تو تمام صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کی فعالیت، کالعدم تنظیموں کی نگرانی، نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور مدارس و دیگر اداروں کی مؤثر رجسٹریشن جیسے اقدامات پر مکمل عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    دوسرا اہم مسئلہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کا ہے۔ دنیا کے ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرحدوں اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اگر کوئی شخص قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ عمل بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور باوقار واپسی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اجتماعی سزا یا نسلی تعصب کے تاثر سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قانون پر عمل درآمد۔

    تیسرا پہلو سرحدی نگرانی کا ہے۔ اگر یہ اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ کچھ افراد واپسی کے بعد دوبارہ غیر قانونی طور پر داخل ہو جاتے ہیں، تو یہ سرحدی مینجمنٹ کے نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاک-افغان سرحد ایک طویل اور حساس سرحد ہے جس پر مؤثر نگرانی، بائیومیٹرک نظام، جدید ٹیکنالوجی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ محض وقتی آپریشنز کے بجائے ایک مستقل، ٹیکنالوجی پر مبنی بارڈر مینجمنٹ سسٹم ہی دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے۔

    امن و امان کی صورتحال براہ راست معاشی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ عالمی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری سے پہلے وہاں کی سکیورٹی، پالیسیوں کے تسلسل اور قانونی نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کو اگر عالمی معیشت میں مسابقتی کردار ادا کرنا ہے تو اسے داخلی استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ چین، خلیجی ممالک، یورپ یا دیگر خطوں سے سرمایہ کاری اسی وقت آئے گی جب سرمایہ کار خود کو محفوظ اور پالیسی ماحول کو پیشگوئی کے قابل محسوس کریں گے۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی آپریشنز سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے سماجی ہم آہنگی، تعلیم، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کی مثبت سمت میں رہنمائی بھی ناگزیر ہے۔ ایک مضبوط، منصفانہ اور جوابدہ ریاستی ڈھانچہ ہی شدت پسندی کے بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے۔

    آج پاکستان کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ، مربوط اور قانون پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، سرحدی نظم و نسق کی مضبوطی، قانون کی بلاامتیاز عمل داری اور انسانی حقوق کا احترام ، یہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔اگر ریاست اپنے فیصلوں میں تسلسل، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے تو نہ صرف دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کا وقار بھی مستحکم ہو گا، اور یہی مضبوط امن و استحکام مستقبل کی معاشی ترقی کا ضامن بنے گا۔

  • علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    علی ڈار کی تعیناتی اہلیت، رشتے داری اور اقربا پروری پر اٹھتے سوالات،تحریر :کامران اشرف

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سینیٹر اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کو پنجاب حکومت میں مشیر برائے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور خصوصی منصوبہ جات مقرر کیے جانے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس تعیناتی کو جہاں بعض حلقے ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کے فروغ کی جانب قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر اقربا پروری کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    علی ڈار کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار کے بیٹے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ یہی رشتے داری اس تقرری پر سب سے زیادہ تنقید کی وجہ بنی، اور ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ تعیناتی میرٹ کی بنیاد پر ہوئی یا خاندانی قربت نے کردار ادا کیا۔تاہم اگر تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو علی ڈار کی تعلیمی قابلیت قابلِ توجہ سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جبکہ برطانیہ کے اداروں سے بھی وابستگی رہی ہے۔ وہ نجی شعبے میں کاروباری تجربہ رکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل انوویشن سے متعلق منصوبوں میں کام کر چکے ہیں۔

    پنجاب حکومت کے مطابق علی ڈار کو دیا گیا پورٹ فولیو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جس میں ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد کو آگے لانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس تقرری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں بار بار ایک ہی خاندان کے افراد کو اہم عہدے دینا عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اہلیت اپنی جگہ، لیکن شفافیت کے لیے ایسے عہدوں پر تعیناتی کے معیار کو واضح کیا جانا چاہیے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان اب علی ڈار کی کارکردگی ہو گی۔ اگر وہ اپنے پورٹ فولیو کے تحت ٹھوس نتائج دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو تنقید خود بخود دم توڑ سکتی ہے، بصورتِ دیگر اقربا پروری کا بیانیہ مزید مضبوط ہونے کا خدشہ ہے۔علی ڈار کی مشیر کے طور پر تعیناتی ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں اہلیت اور رشتے داری دونوں پہلو موجود ہیں۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ تقرری پنجاب میں واقعی ٹیکنالوجی اور اصلاحات کا ذریعہ بنتی ہے یا محض سیاسی تنازع کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے