Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    ھماری قومی زبان اردو مختلف عالمی زبانوں جیسا کہ عربی، فارسی اور ترکی وغیرہ کا ایک شائستہ امتزاج ھے۔ اردو برصغیر کی تمام اقوام کے رابطے اور اظہار کی زبان ہے۔

    اس زبان کو ترتیب دینے کا سبب اگر مختلف اقوام کا میل جول بنا۔ اسکی ترقی میں مغلیہ درباروں، ادباء، شعراء اور تخلیق کاروں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا تو اسکو پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار علماء اور مدارس کا ہے۔ انکی بدولت ہی اردو زبان درباروں، ایوانوں اور کلیات سے نکل کر مجالس تک پہنچی، جہاں اسے تقویت ملی اور اسکے ارتقاء کا سفر جاری ہوا۔جو آج تک عمدگی سے جاری ہے۔
    اس وقت بدقسمتی سے ھمارے ملک میں تعلیمی زبان انگریزی بن چکی ہے جسکا اپنا مستقبل پائیدار نہیں۔ کیونکہ (جدید روابط کی زبان سے ایک نئی زبان گلوبش تشکیل پا رہی ہے) انگریزی زبان، ھر شخص کی نفسیات کو ٹھوس اور جامد طریقے سے منفی طور پر متأثر کر رہی ہے۔اس زبان کے سبب معاشرہ سماجی تفاوت کا شکار ہو رہا ہے۔
    اردو زبان کی ترویج میں انگریز نے سن 1803 میں فورٹ ویلیئم کالج کلکتہ کی بنیاد رکھی جہاں برطانوی افسران کو اردو زبان مخصوص اردو میں سکھائی جاتی مثلاً یہ ایک کتاب ہے۔ Yeh ek kitab hae. جیسا کہ اب ھم موبائیل پہ پیغام یا گفتگو کرتے ہیں۔
    چونکہ اس سے بہت پہلے اردو عوامی زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔
    اردو زبان، مادری اور علاقائی زبانوں کے فروغ میں علماء اور مدارس کا کردار ھمیشہ مرکزی رہا ہے۔ نصاب، خطاب اور مکالمے کی زبان اردو ہی مقدم رہی۔ مدارس کا نصاب، تعلم اور دورے (کورسز)عربی، فارسی اور اردو زبان کا مرکب تھے بھی اور ھیں بھی جہاں سے فارغ التحصیل افراد نہ صرف طلباء بلکہ عوام کے درمیان رہ کر کتاب اور خطاب سے اردو اور علاقائی زبانوں میں مختلف علمی و سماجی موضوعات پر عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ آج بھی ان علماء کی ابلاغ کی زبان نوے فیصد

    اردو جوکہ عربی اور فارسی کا پس منظر رکھتی ہے ھوتی ہے جس میں نو سے دس فیصد علاقائی بولی ھوتی ہے۔ پورے خطاب میں انگریزی کے چند الفاظ ماحول کی مناسبت سے محض بات سمجھانے کی خاطرھوسکتے ہیں۔
    علماء و مدارس کا اردو زبان کے ارتقاء میں تاریخی، سماجی اور دائمی کردار ھے۔ یہ کردار اور قابلِ قدر حصہ تہزیبی، مسالک اور نظریات کی تفریق سے بالاتر ھے۔قومی اور علاقائی زبانوں کا فروغ مزھب، ملک و قوم کی ایک عمدہ ترین خدمت ہے۔

  • تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام مقابلہ کے نتائج،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام مقابلہ کے نتائج،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    مقابلۂ مضمون نویسی (سیرتُ النبی ﷺ) کے نتائج کا اعلان
    عمارہ کنول چودھری
    (بانی و سرپرست: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس)
    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے مقابلۂ مضمون نویسی برائے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس مقابلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے اہلِ قلم نے شرکت کی اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو ادبی اور فکری انداز میں اجاگر کیا۔اس مقابلے کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ مضمون نویسی میں مختلف ادبی و تعلیمی اداروں کی سربراہان اور معلمات نے بھی بھرپور شرکت کی۔

    نتائج کے مطابق درجہ اوّل محمد یوسف طاہر (بانی، عکسِ ادب، خوشاب) نے حاصل کیا، درجہ دوم بِسمعہ مجید (وہاڑی) کے حصے میں آیا، جبکہ درجہ سوم حمرہ اکرام (بونیر، خیبر پختونخوا) نے حاصل کیا۔

    مقابلۂ مضمون نویسی کے نتائج ایک غیر جانبدار اور معتبر شخصیت محترم فضل کریم ورک نے مرتب کیے۔
    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے تمام فاتحین اور منصف کو سیرتِ طیبہ ﷺ سے متعلق کتب اور اعزازی اسناد سے نوازا جائے گا۔اس مقابلے کا مقصد سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو قومی زبان کے ذریعے عام کرنا اور نئی نسل میں فکری و ادبی شعور بیدار کرنا ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس آئندہ بھی اردو زبان، اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت کے فروغ کے لیے ایسی ادبی و فکری سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھے گی۔

    مقابلہ مضمون نویسی کے انعقاد سے لے کر نتائج تک مختلف ادبی شخصیات کا تعاون شاملِ حال رہا جن میں محترم مفیظ عباسی رکن شعبہ حضرات تحریک، محترمہ پارس کیانی صدر (مرکزی) شعبہ خواتین،محترم فضل کریم ورک( رکن انجمن ترویج زبان و ادب) اور اقصیٰ گل، عائشہ یسین شامل ہیں۔تحریک دفاع قومی زبان و لباس کی انتظامیہ ، مذکورہ ادبی شخصیات کے اخلاقی تعاون اور ادب دوست کردار پر ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    راستوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث سے روشنی میں واضع احکامات ہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا صدقہ ہے۔یعنی حضور ؑ نے اپنی اُمت کے مسلمانوں کو راستوں میں رکاٹیں ڈالنے سے منع فرمایاہے۔مسلمانوں کی سب سے محبوب عبادت نماز ہے جن مقامات پر نماز نہیں ہوتی اُن میں سے ایک راستے بھی ہیں۔اگر راستوں پرفرض عبادت میں شمار نماز ادا کرناجائز نہیں تو رزق کمانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ وزیراعلیٰ حکومت پنجاب محترمہ مریم نواز نے جہاں ریڈھی بازاروں کے قیام سے جائز روزی کمانے والوں کے لیے باوقاروسیع اہتما م کو پھیلاؤ پر گامزن کیا ہوا ہے وہاں راستوں سے ناجائز تجاوازات اور ریڈھیوں کو ہٹانے کے لیے پیرا فورس کا قیام شرعی اور اخلاقی طور پر سو فیصددرست کیا ہے۔حکومت پنجاب کی طرح میں بھی کسی غریب پاکستانی کے حلال رزق کا مخالفت نہیں ہوں مگر آپ کونظریہ مریم نواز صاحبہ کاپس منظر ضرور دیکھاتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں۔جولوگ کہتے ہیں حکومت پنجاب اور پیرا فورس غریب عوام پر ظلم کر رہے ہیں ان کے شعورکی درستی ہو جائے گئی۔

    (الکاسب حبیب اللہ)خدا کہتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اس کا دوست ہے تو اس دوست کی نشانی یہ ہے کہ وہ شرعی اور اخلاقی تقاضوں پر مزدوری کمانے والا ہوگا۔ فرمان رسول اللہ ؑ ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔مگر کتنے مزدور آپ نے ایسے دیکھے ہیں جو اس طرح مزدوری کرتے ہیں کہ پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں؟عوامی گزرگاہوں پر ریڈھیوں سے راستے بند کرنے والے کتنے لوگ ہیں جو دُکان کرایہ بجلی بل نہ ادا کرنے کی وجہ سے اپنا سودا مہنگے کرایے اور بل ادا کرنے والے دوکانداروں سے کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں؟خراب پھل پر اسٹیکر لگا کر ناقص سودا مہنگے داموں بیچنے والوں سے عام عوام کو کیا فائدہ ہے؟ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پراسلامی و اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ان ریڈھی والوں کے ہر طرح کے ظلم کو نظرانداز کیوں کر دیتے ہیں؟

    ریڈھی بانوں کی اکثریت مہنگے موبائل اچھی خوراک اچھا گھر اور پرائیویٹ سکول میں بچے پڑھانے والوں کی ہے پچیس فیصد کمزور حالات کے مالک ہوتے ہیں جن کے لیے حکومت پنجاب نے وسائل فراہم کرتے منصوبوں کا آغاز کیا ہوا ہے۔عوام کے زہنوں میں ایک تاثر گردش کرتا ہے کہ ریڈھی لگانے والا بڑا ہی تنگ دست برے حالات میں جینے والا انسان ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کسی کے چھوٹے کام کی وجہ سے اس انسان کو تنگ دست سمجھنے لگتے ہیں۔ایک ریڈھی والا ایک دوکان دار سے زیادہ پرکشش منافع کماتا ہے اسی لیے وہ دُکان کرایہ اور بجلی بل جیسے اخراجات سے بچنے کے لیے جان بوجھ کرعوامی راستوں پر مشکلات پیدا کرتے ہیں ورنہ انہیں ریڈھی سے دکان کی ترقی پر جانے سے کون روکتا ہے؟ اسی طرح بھیک کا پیشہ اختیار کرنے والے بھی اس عقل مندی میں قید ہوتے ہیں کہ اس روزگارمیں دُکان کرایہ بجلی بل کے علاوہ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔

    میری تحریر کا موضوع عوامی راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات پر آگاہی و نشاندہی فراہم کرنا ہے لہذا ہم اسی جانب چلتے ہوئے ایک ذاتی اور اہل محلہ کی شکایت بھی احکام بالا تک پہنچاتے چلیں تاکہ اس مسلے کا بھی مداوا ہو سکے۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ رائیونڈ تبلیغی مرکز کے بازار سے مستقل بنیادوں پر ناجائز تجاوازات اور ریڈھیاں ہٹانے میں ماضی و حال میں تمام ادارے ناکامی سے دوچار رہے ہیں جس کی وجوہات میں پہلی یہ کہ روڑ سے منسلک دُکان مالکان پیسے لیکر سڑک کرائے پر دیتے ہیں اور دوسری وجہ جو ریڈھی والے دوران کاروائی پکڑے جاتے ہیں وہ پیسے دیکر چھوٹ جاتے ہیں اورپھر سے روڑ پر قابض ہو جاتے ہیں۔مقامی رہائشی افراد کو اس سے کوئی سروکار نہیں مگرسوال یہ ہے کہ سٹرک کی رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے شریف شہریوں کی گلیوں میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں؟کیا یہ لوگ ٹیکس پیڈ پاکستانی نہیں ہیں؟

    ناجائز تجاوزات اور ریڈھی بانوں کی تکلیفوں سے برسوں کی شکار رائیونڈ تبلیغی مرکز گیٹ نمبر۹والے بازار سے وابستہ رہائشی گلیو ں کی معززمذہبی عوام وزیراعلیٰ حکومت پنجاب مریم نواز صاحبہ اسسٹنٹ کمشنرو پیرا فورس انچارج تحصیل رائیونڈ سے مطالبہ کرتی ہے کہ جب سٹرک پر لگی ریڑھیاں ہٹانے کے لیے کاروائیاں کی جاتی ہیں تو یہ ریڑھیوں والے مقامی رہائشی گلیوں میں پناہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے گلیوں کی بندش تکلیفوں سے دوچار کرتی ہے جس طرح مین سٹرک سے عام حالات میں ایمبولینس نہیں گزر سکتی اسی طرح جب ریڈھیوں والے گلیاں بند کرتے ہیں تو بوڑھے بچے مردعورتیں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں جنہوں نے کئی بارشریفانہ انداز میں ریڈھی والوں سے منت سماج بھی کئی مگر وہ قوم پرستی کے منافقانہ اتحاد کی وجہ سے بدمعاشی کرتے ہوئے زبردستی گلیوں میں قابض رہتے ہیں۔برسوں سے مالکانہ حقوق رکھتے شریف حق پرست مقامی افراد نے اس زلت آمیز صورتحال سے جان چھڑوانے کے لیے مورخہ 22-10-2025کو پیرا فورس آفس اوراسسٹنٹ کمشنر تحصیل رائیونڈ آفس درخواست دائر کروائی جس کا ڈائری نمبر 1185ہے تین ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مستقل بنیادوں پر اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ کی طرف سے اس کا حل نہ نکال کر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی اداروں کے زریعے عوامی خدمت کے بیانے کو ابہام میں مبتلا کر دیا ہے۔اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو شکایت درج کروائی گئی جس کا نمبر 1555754جو 26جنوری 2026کو رجسٹر ہوئی۔اس پر بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی ہونی ہے۔اس لیے اشتہار بازی اور بیان بازی پر کان نہ دھریں عملی طور پر عوام کے مسائل رشوت شفارش سے ہی حل ہو رہے ہیں جواس سے محروم ہیں وہ مسائل کی زد میں ہیں۔غفلت سستی نظر اندازی تنقید کو جنم دیتی ہے اور اعلیٰ ظرفی اصلاح کا نتیجہ۔ پنجاب حکومت اور سرکاری اداروں کے افسران کی قابلیت پر یقین رکھتے ہوئے پھر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانیت و انسانیت کے جذبے سے متاثرہ عوام کی دادرسی کرکے سرخرو ہوں۔

  • ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    بچپن ہمیشہ عجیب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ہنس کر وہ سچ دکھا دیتا ہے جسے بڑے ہو کر بھی ہم نہیں سمجھ پاتے۔ مجھے آج بھی اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہمارے ایک چچا ہر محفل میں ایک عجیب شدت کے ساتھ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ وہ علامہ اقبال رح کے شیدائی تھے، اور ان کے ایک مصرع نے تو جیسے ان پر جادو کر دیا تھا۔ جب بھی کہیں بیٹھتے، گفتگو ذرا سی رکتی تو وہ بڑے یقین سے کہتے:

    "پھول کی پتی ہیرے کا جگر کاٹ سکتی ہے… علامہ صاحب نے فرمایا ہے!”

    محفل میں لوگ چونک جاتے۔ کوئی ہنستا، کوئی بحث چھیڑ دیتا، مگر چچا جان اپنی جگہ اٹل رہتے۔
    "بھئی، اقبال نے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہوگا۔”
    اور بس، بات وہیں ٹھہر جاتی۔
    ایک دن کسی نے ہمت کر کے ان کو دوسرا مصرع سنا دیا:
    "مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر”

    مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ چچا جان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی اُتری، جیسے پوری زندگی ایک لمحے میں الٹ گئی ہو۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ وہ برسوں سے جس بات پر بضد تھے، وہ پوری تھی ہی نہیں۔ وہ صرف آدھا شعر تھا، اور آدھا سچ لے کر چلتے رہے ۔کبھی دوسرے مصرع کو غور سے پڑھنے کی اور سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔
    اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی چچا جان کی طرح ہی ہیں، ادھوری بات سنتے ہیں، ادھوری سمجھتے ہیں، ادھورا علم لے کر پوری زندگی چل پڑتے ہیں۔
    ہمارے گرد موجود اکثر گمراہیاں پوری غلط فہمی نہیں ہوتیں، صرف ادھی معلومات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
    ہم لفظوں کے پہلے حصے سے فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے پہلے جھٹکے سے رشتے توڑ دیتے ہیں، ایک سن کر دس کہہ دیتے ہیں، کوئی افواہ پوری سنی نہیں ہوتی اور ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اکثر ماں باپ بچوں سے ادھی بات کرتے ہیں، استاد ادھی وضاحت پر اکتفا کرتے ہیں، بچے اسکول سے ادھی حقیقت اٹھا لاتے ہیں، اور ہم ساری زندگی ادھورے خیالات کے بوجھ تلے چلتے رہتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ ہم ادھی بات لے کر چلتے ہیں،
    سوال یہ ہے کہ ہم پوری بات سننے میں ناکام کیوں ہیں؟
    سماجیات کہتی ہے کہ انسان جلد نتیجہ نکالنے کی جبلّت رکھتا ہے۔
    نفسیات بتاتی ہے کہ ذہن آدھی بات کو مکمل کہانی بنا لیتا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی غلطیاں، بڑی جنگیں، بڑے فتنہ و فساد… اکثر ایک ادھوری بات سے پھوٹے۔

    اور روزمرّہ کی زندگی میں؟
    ہم اپنے غلط مفروضے سنبھال کر رکھتے ہیں، انہیں عقیدے کی طرح برتتے ہیں، اور پھر کبھی پلٹ کر یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا تھی۔ علم کی دنیا میں تو یہ بات اور بھی خطرناک ہے۔ آدھی کتاب، آدھا حوالہ، آدھا فہم، یہ سب انسان کو یقین کا ہتھیار دیتے ہیں، مگر حقیقت کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔
    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ادھوری بات سن کر چل پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ادھوری بات آگے بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی جملے، ایسے ہی غلط مفروضے اور ایسے ہی ادھورے حوالوں کو نسل در نسل پہنچاتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ جو ہمارے سامنے غلط بول رہا ہے، کسی بات کو آدھا سن کر پورا سمجھ بیٹھا ہے، وہ خود بھی کسی ایسے ہی شخص کا شکار ہو جس نے اسے ادھوری بات کا تحفہ دیا تھا۔
    یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی کو کوئی علم دیں، کوئی حوالہ بتائیں، کوئی بات سمجھائیں، تو یہ یقین کر لیں کہ بات پوری پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ علم چراغ کی طرح ہے؛ اگر ہم اسے آدھا ہی تھما دیں تو وہ روشنی نہیں دیتا، صرف دھند پیدا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سننے والا بات کو کتنا سمجھ پایا ہے، کہاں خلا رہ گیا ہے، اور کہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔
    دنیا کو ادھورے فہم نہیں، مکمل اور سچّی باتوں کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سے شروع ہوتی ہے کہ ہم جو منتقل کریں، وہ پورا ہو، درست ہو، روشن ہو، اور آنے والے ذہنوں کو بھٹکائے نہیں بلکہ سمت دے۔
    جب بھی ہم علم یا کوئی سوچ منتقل کریں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر جو ہمارے سامنے بات کر رہا ہے، اس کے پاس بھی علم ادھورا ہو سکتا ہے، کسی نے اسے بھی ادھوری بات ہی دی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بات پوری کریں بلکہ سننے والے کی سمجھ بھی پرکھیں۔ پلٹ کر دیکھیں، جانچیں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ علم صحیح اور مکمل پہنچا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ادھورے فہم کو ختم کرتا ہے اور زندگی کو روشن کرتا ہے۔

  • اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    آٹھ فروری کو پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ایک ایک باوقار نشست منعقد کی گئی جس کا اہتمام یاسر پبلیکیشنز کی بانی اور اونر با صلاحیت فاطمہ شیروانی نے کیا یہ تقریب، ، فریم سے باہر ،، کی مصنفہ دعا عظیمی کو رائٹر گلڈ انعام ملنے کی خوشی میں اور یاسر پبلیکیشنز سے شائع ہونے والی معروف ادیب سلمان باسط صاحب کی کتب کی تقریب پذیرائی کے سلسلے میں تھی جو بہت مقبول ہوئیں، تقریب کی صدارت سلمہ اعوان صاحبہ نے کی مہمانان خصوصی میں سلمان باسط صاحب ، غلام حسین ساجد صاحب اور سعید اختر ملک صاحب تھے ان سب نے کتابوں پر بہت اچھی گفتگو کی خاص طور پر تقریب میں شامل سینر ادیب حسین مجروح صاحب نے بہت سیر حاصل تبصرہ کیا اور بہت موثر اور مدلل گفتگو کی انہوں نے سلمان باسط صاحب کی کتاب، ، خاکی خاکے،، دعا عظیمی کی کتاب ،، فریم سے باہر، ، اور سعید اختر ملک صاحب کی کتاب، ، سوچ دلاان ،، پر بہت عمدہ اور باریک بینی سے اظہار خیال کیا ،

    سلمان باسط صاحب نے اپنی کتاب ،، خاکی خاکے ،، سے ایک خاکہ پڑھ کر سنایا جس سے محفل زعفران زار بن گئی ، تقریب کے شرکاء کو بھی گفتگو کا موقع دیا گیا اور آخر میں سلمہ اعوان صاحبہ نے صدارتی خطبہ دیا یہ تقریب بہت شاندار رہی فاطمہ شیروانی نے بہت عمدہ ڈنر کا انتظام کیا تھا بہت لذیذ کھانا تھا آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء کو کتب کا تحفہ بھی دیا گیا، موسم بہت خوشگوار تھا یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب کا جگمگاتا خوبصورت ہال ، خوبصورت پینٹنگز اور فرنیچر سے مزین کوریڈور ، اور پھر لش گرین لان رات کی خنکی اور فسوں سے بہت اچھا لگ رہا تھا شرکاء میں حسین مجروح
    اشفاق احمد ورک
    غلام حسین ساجد
    سلمان باسط
    محمود ظفر ہاشمی
    قرة العین شعیب
    روزینہ زرش بٹ
    مریم چویدری
    ڈاکٹر عظمی
    ثروت جہاں
    زرقا فاطمہ
    عطرت بتول
    دعا عظیمی
    سلمی اعوان
    فاطمہ شیروانی اور
    رقیہ اکبر چوہدری شامل تھیں

    دعا عظیمی اور فاطمہ شیروانی کو مبارکباد، اللہ تعالٰی لکھنے والوں کے قلم کو ہمیشہ رواں رکھے ، فاطمہ شیروانی ہمارے ملک کی مایہ ناز پبلشر کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین
    lahore

  • ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

    یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
    یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
    چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

    اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
    یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
    کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
    یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
    شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

  • ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ریاست کے ستونوں کو سنبھالنا ہو گا۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ریاستیں نعروں، خواہشات یا محض سیاسی بیانیوں سے نہیں چلتیں، بلکہ مضبوط اداروں، واضح نظم اور قومی اتفاقِ رائے سے قائم رہتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور، متنازع یا عوامی تضحیک کا نشانہ بنایا، وہ بالآخر انتشار، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی، نظریاتی اور سلامتی کے اعتبار سے غیر معمولی دباؤ میں رہا ہے۔ دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور اندرونی عدم استحکام کے باوجود ریاست کا برقرار رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں قومی سلامتی کے ادارے نہ صرف موجود ہیں بلکہ فعال بھی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسے ادارے ریاستی ستون سمجھے جاتے ہیں، جن پر تنقید ضرور ہوتی ہے، مگر ایک متعین آئینی اور قومی دائرے میں۔

    تاہم پاکستان میں ایک خطرناک رجحان مسلسل جڑ پکڑ رہا ہے—جہاں بعض سیاستدان، خود ساختہ دانشور اور سوشل میڈیا کے متحرک کردار قومی سلامتی کے اداروں کو براہِ راست عوامی نفرت اور شکوک کی علامت بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ جمہوری روایت سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سیاسی دانش سے۔

    لیبیا، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں ادارہ جاتی کمزوری کو ’’عوامی آزادی‘‘ کا نام دے کر ریاستی ڈھانچے کو منہدم کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ جمہوریت بچی، نہ خودمختاری، اور نہ ہی عوام کا تحفظ۔ عالمی تھنک ٹینکس اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ ریاستی اداروں کا ٹوٹنا براہِ راست انسانی بحران کو جنم دیتا ہے۔
    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اصلاحی تنقید کسی بھی جمہوریت کا حسن ہوتی ہے۔ سوال اٹھانا، احتساب کا مطالبہ کرنا اور پالیسی پر اختلاف رکھنا ایک صحت مند عمل ہے۔ لیکن جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے تضحیک، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا عوامی ذہن کو گمراہ کرنا بن جائے، تو یہ عمل ریاست کے لیے نقصان دہ ہو جاتا ہے۔

    پاکستان جیسے حساس خطے میں واقع ملک کے لیے سیاسی قیادت، میڈیا اور رائے ساز طبقوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ الفاظ محض آواز نہیں ہوتے، یہ بیانیہ بناتے ہیں—اور بیانیے قوموں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں۔

    عالمی تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مضبوط قومی سلامتی کے ادارے جمہوریت کے مخالف نہیں ہوتے، بلکہ اس کے محافظ ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ادارے طاقتور ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم انہیں قومی مفاد کے دائرے میں مضبوط رکھ پا رہے ہیں؟
    ریاستیں اختلافِ رائے سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ بے احتیاط زبان، غیر ذمہ دار سیاست اور ادارہ جاتی تصادم سے کمزور ہوتی ہیں۔

    اگر پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل دینا ہے تو ہمیں تنقید اور تخریب کے فرق کو سمجھنا ہوگا، اور ریاست کے ستونوں کو گرانے کے بجائے انہیں سنبھالنا ہوگا۔

  • اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد کے اندر پیش آنے والا حالیہ دہشت گردی کا واقعہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور تشویش کا باعث ہے۔ دارالحکومت، جو ریاستی رِٹ، سکیورٹی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے دشمن اب کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کر رہے۔

    حکومتی ذرائع اور سکیورٹی اداروں کی ابتدائی معلومات کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے جا ملتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جاری پراکسی وار کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک میں خوف، عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہے۔

    یہ حقیقت اب عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے دہشت گرد عناصر کے استعمال میں رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایک بار پھر ان سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان خود دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا ہے، مگر افسوس کہ اس کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل رہے ہیں۔

    اسی طرح بھارت کا کردار بھی مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ اسلام آباد میں مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن قوتیں مذہبی جذبات کو بھی استعمال کر کے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔

    یہ واقعہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر دہشت گردی واقعی ایک عالمی مسئلہ ہے تو پھر اس کے خلاف ردعمل بھی عالمی سطح پر یکساں اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان کو واضح طور پر پابند کریں کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، اور بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں معصوم شہری، نمازی، علما اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب مزید صبر کا مظاہرہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والا یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر دشمن عناصر کو بروقت اور مؤثر انداز میں لگام نہ دی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنے شہریوں کے خون پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

  • میں صحافی نہیں ہوں

    میں صحافی نہیں ہوں

    میں صحافی نہیں ہوں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    میں صحافی نہیں ہوں۔یہ جملہ میں نے کسی جذباتی لمحے میں نہیں کہا، بلکہ 2026 میں اُس دن خود سے دہرایا جب ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ نے ہفتہ کے روز پریس کلب کی ووٹر لسٹ جاری کی اور وہ فہرست میرے سامنے آئی۔ میں نے نام تلاش کیا، کئی بار دیکھا، مگر میرا نام اس فہرست میں موجود نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں پر محیط میرا صحافتی سفر، میری شناخت اور میرا وجود ایک سرکاری کاغذ کے ایک فیصلے سے بے معنی بنا دیا گیا ہو۔ یہ محض ایک فہرست نہیں تھی، بلکہ میرے لیے یہ اعلان تھا کہ میں اب سرکار کی نظر میں صحافی نہیں رہا۔

    یہ کوئی تکنیکی غلطی نہیں تھی، نہ ہی کسی لاپرواہی کا نتیجہ۔ یہ ایک دانستہ اقدام تھا، جس کے پیچھے وہی سرکاری چمچے، نام نہاد لیڈر اور وہ عناصر کارفرما تھے جنہوں نے پریس کلب کی سیاست کو اصولوں کے بجائے مفادات کا کھیل بنا رکھا ہے۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ میرا نام نکالا گیا، حیرت اس بات پر ہے کہ 23 برس سے جاری صحافتی سفر، ذمہ داریاں، عہدے اور خدمات سب کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔

    میرا صحافتی سفر 2003 میں روزنامہ سنگ میل ملتان سے شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ میں نے نمائندہ خصوصی، کرائم رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر، بیورو چیف اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں، حتیٰ کہ گروپ ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا۔ آج بھی میں مبشر لقمان جیسے سینئر صحافی کے ادارے باغی ٹی وی میں بطور انچارج نمائندگان خدمات انجام دے رہا ہوں، جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں ڈیرہ غازی خان کا بیورو چیف ہوں۔ قومی اور بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر مسلسل کالم لکھ رہا ہوں۔ پریس کلب کی سیاست میں بھی میرا کردار محض تماشائی کا نہیں رہا؛ مختلف ادوار میں باڈی کا حصہ رہا اور الیکشن شیڈول جاری ہونے تک بطور سینئر نائب صدر (الیکٹرانک میڈیا) ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ اس سب کے باوجود، سرکاری فہرست میں میرا نام نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
    اس کا جواب بہت سادہ مگر بہت تلخ ہے۔
    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں برائی کے اڈے نہیں چلاتا، نہ ان کی سرپرستی کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں جو خبر کے نام پر راتوں کو شراب اور گناہ کی محفلیں سجاتے ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں مانا کہ صحافت کے لیے کردار کی قربانی دینا لازم ہے، اسی لیے میں سرکار کی فہرست میں قابلِ قبول نہیں۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نے کبھی جوئے کے اڈے نہیں چلائے، نہ شراب و شباب کی محفلوں کا حصہ بنا اور نہ کسی قبیح فعل کو “ذاتی معاملہ” کہہ کر نظرانداز کیا۔ میں نے برائی کو برائی کہا، چاہے وہ کسی دوست کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ شاید یہی سب سے بڑا جرم ہے۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں تاجر نہیں ہوں جو تجارت کی آڑ میں دو نمبر سامان بیچتا پھرے۔ میرے پاس نہ چمکتی دمکتی گاڑی ہے، نہ کسی چیمبر آف کامرس کی چھتری، اور نہ ہی اشتہار کے بدلے خبر بیچنے کا ہنر۔ میں نے ہمیشہ قلم کو روزی نہیں، ذمہ داری سمجھا۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نہ سمگلر ہوں اور نہ سمگلروں کا سہولت کار۔ نہ کسی افسر کا کارِ خاص ہوں جو پردے کے پیچھے سودے طے کراتا پھرے۔ میں نے خبر کو کبھی “مفاد” کے ترازو میں تول کر ہلکا یا بھاری نہیں بنایا۔

    میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میرے پاس وہ گاڑی نہیں جس میں محکمہ تعلقاتِ عامہ کے افسران کو گھمایا جائے، ان کے لیے محفلیں سجائی جائیں یا انہیں مہمانِ خصوصی بنا کر خوش رکھا جائے۔ میں نے صحافت کو ٹیکسی سروس یا تعلقات کا ذریعہ نہیں بنایا۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کے دفاتر میں حاضری دینے کا عادی نہیں۔ میں نے کبھی ان کے دروازوں پر کھڑے ہو کر سلامی نہیں بھری، نہ کسی کا سفارشی بنا اور نہ ہی کسی سفارش کا سہارا لیا۔ میرے نزدیک خبر طاقت کے ایوانوں میں نہیں، عوام کے دلوں اور گلیوں سے جنم لیتی ہے۔

    اور میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں کسی سرکاری دفتر سے منتھلی کا خواہشمند نہیں رہا ہوں۔ نہ چوکیدار ہوں، نہ چپڑاسی، نہ وہ دیوس جو افسران کی راتیں رنگین کرنے کا کام کرے۔ میں اپنی حق حلال کی کمائی پر جیتا ہوں اور اسی پر فخر کرتا ہوں۔

    یہ تمام باتیں دراصل میری نااہلی کی فہرست ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر مجھے بتایا گیا کہ میں اب صحافی نہیں رہا۔ مگر میں پورے شعور کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اگر صحافی ہونے کی شرط یہی سب کچھ ہے تو پھر مجھے یہ اعزاز قبول نہیں۔

    میں صحافی نہیں ہوں، مگر میں سچ لکھنے والا انسان ہوں۔میں وہ شخص ہوں جس کی جیب خالی ہو سکتی ہے، مگر ضمیر نہیں۔میں وہ شخص ہوں جسے پریس کلب کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، مگر صحافت سے عشق ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں،ایشیا ہو یا یورپ، امریکہ ہو یا افریقہ..کہیں بھی حکومتیں صحافیوں کی "ووٹر لسٹیں” مرتب نہیں کرتیں۔ کہیں کسی ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ یا کسی نوکر شاہی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ میز پر بیٹھ کر یہ طے کرے کہ "کون صحافی ہے اور کون نہیں”۔ صحافی کی پہچان اس کا قلم، اس کا کام اور اس کی عوامی ساکھ ہوتی ہے، نہ کہ کسی سرکاری دفتر سے جاری ہونے والی کوئی فہرست۔ مگر حیرت ہے کہ مملکتِ خداداد میں "ڈیرہ غازی خان” وہ واحد بدقسمت ضلع بن چکا ہے جہاں ضلعی حکومت صحافیوں کے شجرے اور فہرستیں مرتب کرنے میں مصروف ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا اب پورے پاکستان میں صحافیوں کی سندِ صداقت بانٹنے کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو سونپ دیا گیا ہے؟ یا پھر ڈیرہ غازی خان میں صحافت پر پہرے بٹھانے کا کوئی ایسا انوکھا اور خطرناک تجربہ کیا جا رہا ہے جسے ‘گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ’ میں درج کروانا مقصود ہے؟ اربابِ اختیار جواب دیں کہ کیا اب ضلعی افسر یہ طے کریں گے کہ سچ بولنے کا مجاز کون ہے؟ اگر آج صحافی کی پہچان سرکار کی مرضی سے ہوگی، تو کل خبر کا متن بھی سرکار لکھ کر دے گی، اور پرسوں سچ لکھنا ریاست کے خلاف بغاوت قرار پائے گا۔

    میں برملا کہتا ہوں کہ میں "سرکاری صحافی” نہیں ہوں،اگر صحافت کی قیمت اپنی آزادی، ضمیر اور قلم کو کسی سرکاری فہرست کی زنجیر پہنانا ہے، تو مجھے ایسی صحافت سے توبہ ہے۔ یاد رکھیے! ووٹر لسٹ سے میرا نام تو کاٹا جا سکتا ہے، مگر تاریخ کے اوراق سے میری آواز مٹانا کسی سرکاری قلم کے بس میں نہیں۔ میں صحافی نہیں ہوں… اور شاید اسی لیے آج بھی آزاد ہوں۔

    آخر میں صرف چھوٹا سا سوال "کیا ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازی خان کی تمام عوامی محرومیاں ختم کر دی ہیں کہ اب ان کے پاس صرف صحافیوں کی لسٹیں بنانےکا کام باقی رہ گیا ہے؟”

  • لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    لاہور میں بسنت: تہوار، تضاد اور تلخ سوالات،تحریر:شہزاد قریشی

    پچیس برس بعد لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ایک شہر میں بسنت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ بسنت نہ کوئی اسلامی تہوار ہے اور نہ ہی کوئی قومی روایت،یہ محض ایک کھیل تماشہ ہے، جسے دنیاوی تفریح کہا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ بسنت کھیل ہے یا تہوار؛ اصل سوال وہ تضاد ہے جو اس فیصلے نے بے نقاب کر دیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک غریب ملک ہے۔ یہی بیانیہ عالمی مالیاتی اداروں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور خود ہمارے سیاسی و میڈیا حلقوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ لیکن جب صرف لاہور جیسے ایک شہر میں کروڑوں روپے پتنگ بازی پر اڑا دیے جائیں، تو ایک فطری سوال جنم لیتا ہے اگر یہاں پیسہ ہے، تو پھر غربت کہاں ہے؟ اور اگر غربت ہے، تو یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟یہ تضاد پاکستان کے اس سرکاری بیانیے کو کمزور کرتا ہے جس کی بنیاد پر ہم عالمی اداروں کے سامنے مالی مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ شاید مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔

    دوسری طرف، بسنت کے آغاز کے ساتھ ہی ایک قیمتی جان ضائع ہو چکی ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ بسنت کے ساتھ کیمیائی ڈور، چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ہنگامہ آرائی جڑی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک دن کی تفریح کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ ایک لاش؟ چند زخمی؟ اور ایک بار پھر وہی پرانا المیہ؟ریاست کی ذمہ داری صرف اجازت دینا نہیں، بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ہے۔ اگر کسی سرگرمی کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوں، تو پھر اس سرگرمی کے جواز پر سنجیدگی سے غور لازم ہو جاتا ہے۔

    بسنت سے نہ معیشت کو دیرپا فائدہ پہنچتا ہے، نہ غربت کم ہوتی ہے، نہ ہی قومی وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ اس سے یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ ہم بطور قوم ترجیحات طے کرنے میں ناکام ہیں،جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے بجائے وقتی تماشوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جشن منانے اور قومی ذمہ داری میں فرق سیکھیں۔ خوشی منانا جرم نہیں، مگر خوشی کی قیمت اگر انسانی جان ہو اور قومی بیانیہ کمزور پڑ جائے، تو یہ خوشی نہیں، غفلت بن جاتی ہے۔