Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم وفات،داؤد کمال

    یوم وفات،داؤد کمال

    پیدائش:04 جنوری 1935ء
    پشاور
    وفات:05 دسمبر 1987 ء
    مدفن:جامعۂ پشاور
    مادر علمی:جامعہ کیمبرج
    اسلامیہ کالج یونیورسٹی
    جامعۂ پشاور
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعۂ پشاور
    اعزازات:تمغائے حسن کارکردگی

    پروفیسر داؤد کمال پاکستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی زبان کے مشہور شاعر اور ماہر تعلیم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    داؤد کمال 04 جنوری، 1935ء میں ایبٹ آباد، شمال مغربی سرحدی صوبہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے برن ہال کیمبرج اسکول سری نگر، اسلامیہ کالج پشاور، پشاور یونیورسٹی اور جامعہ کیمبرج سے تعلیمی مراحل مکمل کیے۔ انہوں نے 1976ء، 1977ء اور 1980ء میں انگریزی شاعری کے عالمی مقابلے میں حصہ لیا اور ہر مرتبہ سونے کا تمغا جیتا۔ ان تصانیف میں Ghalib: Reverberations, Compass of Love and Other Poems, Faiz in English, Remote Beginning اور Unicorn and the Dancing Girl The کے نام شامل ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Compass of Love
    ۔ and Other Poems
    ۔ (2)Ghalib:Reverberations
    ۔ (3)The Unicorn and
    ۔ the Dancing Girl
    ۔ (4)Faiz in English
    ۔ (5)Remote Beginning
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    داؤد کمال 05 دسمبر، 1987ء کو نیویارک، ریاستہائے متحدہ امریکا میں وفات پاگئے۔ وہ پشاور یونیورسٹی کے نوگزا قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • یوم پیدائش،بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    یوم پیدائش،بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
    زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    5 دسمبر 1973 یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کا شمار پاکستان کی مقبول ترین خواتین شاعرات میں ہوتا ہے ان کی شہرت ملک سے باہر ہندوستان، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت کئی دیگر ممالک تک پھیل چکی ہے ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر عطا شاد نے کہا تھا کہ

    ہم غریبوں کو یوں حسرت سے نہ تکیو
    ہم بڑے کرب سے گزرے ہیں کرامات سے پہلے

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کے بارے میں بھی نہ صرف یہی شعر کہا جا سکتا ہے بلکہ اس شعر میں یہ ترمیم بھی کی جا سکتی ہے کہ
    ” بڑے کرب سے گزر رہے ہیں ”

    اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو شعر و ادب کی دنیا میں جو بلند مقام ملا ہے وہ ایسے ہی نہیں شعر و ادب کی دنیا میں قدم رکھنے پر انہیں جن مشکلات و مسائل اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ تاحال جاری ہے لیکن آفرین ہے ڈاکٹر صاحبہ کے والد صاحب اور خاوند محترم کا جو کہ ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ اپنے خاندان اور برادری میں نہ صرف پہلی خاتون شاعرہ ہیں بلکہ پہلی ڈاکٹر بھی ہیں یہاں تک کہ ان کے خاندان اور برادری میں ابھی تک کوئی مرد شاعر بھی پیدا نہیں ہوا ہے ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کی خوب صورت شاعری کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ ان کو یہ قابل فخر اعزاز حاصل ہے کہ مصر کی بین الاقوامی اہمیت کی حامل الازہر یونیورسٹی قاہرہ میں ان کے ایک شعری مجموعے کا عربی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے اور ان کی شاعری اور شخصیت پر تھیسز بھی ہو رہے ہیں ۔ پاکستان اور ہندوستان کے کئی معروف گلوکاروں اور گلوکاراؤں نے ان کی شاعری کو بڑے شوق اور خوبصورتی سے گایا ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ کو اس بات کا شدید دکھ اور شکوہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین شاعرات کو زیادہ تر شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ شاید ان کی شاعری اپنی نہیں ہے وہ کسی مرد کی شاعری کو اپنے نام کر رہی ہیں اور پھر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے منفی تاثر پیدا کرنے میں خود ان کی صنف کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ۔

    ڈاکٹر صاحبہ اپنی شاعری کی کتاب چھپوانا نہیں چاہتی تھیں ان کے علاقہ ایک بزرگ سرائیکی شاعر چاچا رمضان طالب نے ان کی اجازت سے ان کی پہلی کتاب ” پھول سے بچھڑی خوشبو ” شائع کروائی تھی ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین صاحبہ ” ڈائری سے شاعری ” تک پہنچی ہیں ۔ وہ طالب علمی کے دوران اپنی ڈائری لکھا کرتی تھیں ڈائری میں خوب صورت الفاظ کے استعمال سے ان کو شاعری کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے 12 دسمبر 1996 کو اپنی زندگی کی پہلی نظم ” ملاقات آخری ” لکھی جس کے بعد شاعری ان کی زندگی کا لازمی جز بن گئی ۔ ان کی زندگی میں ڈاکٹری اور شاعری کو انتہائی اہمیت حاصل ہے وہ ڈاکٹری کو اپنا عشق اور شاعری کو تحلیل نفسی اور زندگی کی علامت قرار دیتی ہیں ان کے خیال ڈاکٹری اور شاعری کے بغیر ان کے ہاں زندگی کا تصور ہی نہیں ہے ۔ شاعری کے لیے وہ محبت کو لازمی قرار دیتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ محبت کے بغیر شاعری ، شاعری نہیں بلکہ لفظوں کی ہیرا پھیری ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ شاعری کو اپنی ذات کا اظہار اور شکست و ریخت کا شکار معاشرے کا نوحہ قرار دیتی ہیں ۔ وہ شاعری کو سانس کی طرح لازمی قرار دیتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جس طرح زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے ٹھیک اسی طرح میری زندگی کے لیے شاعری ضروری ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ 5 دسمبر 1973 کو ڈیرہ غازی خان کے ایک نواحی گاؤں ” جندلانی والا ” میں پیدا ہوئیں ۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں 2 بھائی اور 2 بہن شامل ہیں ان کے والد صاحب کا نام جان محمد ہے جو کہ بلوچ قوم کے کھوسہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جان محمد صاحب پیشے کے لحاظ سے زمیندار اور کاروباری شخصیت ہیں ۔ جنہوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی اور اعلی تعلیم دلوائی جس کے باعث ان کے بیٹے اور بیٹیاں اہم عہدوں پر فائز ہیں ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین صاحبہ کی شادی ان کے والدین کی مرضی پر ان کے کزن سے ہوئی ہے جس سے ان کو بیٹے محمد عمر اور محمد حمزہ پیدا ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے والد صاحب کے نام سے منسوب ” جان سرجیکل ہسپتال ” قائم کیا ہے جس کا شمار ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے ۔ جبکہ ڈاکٹر صاحبہ محکمہ صحت پنجاب میں ڈیرہ غازی خان کے ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں ۔اس کے علاوہ وہ بہت سی ادبی تنظیموں اور علمی و طبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں اور سماجی خدمات میں بھی پیش پیش ہیں ۔ان کی شاعری کے اب تک 5 مجموعے شائع ہو چکے ہیں انہیں کئی اعزازات اور ایوارڈز بھی مل چکے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا مختصر علمی اور ادبی تعارف درج ذیل ہے ۔

    تاریخ پیدائش۔۔5 دسمبر 1973
    ایف ایس سی۔گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان
    ایم بی۔بی۔ایس۔۔نشتر میڈیکل کالج ملتان
    1۔ایڈ منسٹر یٹر اینڈ گائناکالوجسٹ آف۔۔جان سرجیکل ہسپتال ۔ بلاک 48 کنگن روڈ ڈیرہ غازی خان پنجاب۔۔
    2،،۔۔نائب صدر۔۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان….
    3۔۔صدر ادبی تنظیم ۔۔آنچل
    4۔چئیر پرسن جنوبی پنجاب خواتین ونگ۔۔بین الاقوامی و بین المذاہب ذہنی ہم آہنگی تنظیم
    5۔۔ممبر سکروٹنی کمیٹی اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد
    6۔۔ممبر آرگنائیزر کمیٹی اکیڈیمی آف لیٹر ملتان
    7۔۔ممبر نارکوٹکس کمیٹی ڈیرہ غازی خان
    8.ممبر بورڈ آف منیجمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان
    9.ایگزیکٹو ممبر آف المنظور آئی ٹرسٹ ڈیرہ غازی خان
    10.ممبر آف کامرس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ڈیرہ غازی خان
    11.شخصیت اور شاعری پر ایم فل کا تھیسسز فیڈرل یونیورسٹی اسلام آباد سے ہو چکا ہے

    12.اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے
    کا تھیسسز ہو چکا ہے
    13.زکریا یونیورسٹی ملتان
    نواز شریف یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے
    غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان
    فیصل آباد یونیورسٹی
    سے ایم فل اور ایم اے کے تھیسز ہو رہے ہیں..
    14 .مصر میں الازہریونیورسٹی میں تیسرے شعری مجموعہ” اور شام ٹھہر گئی” کا مکمل ترجمہ کیا گیا ہے
    15.مصر میں چوتھے شعری مجموعہ "پھول خوشبو اور تارہ” پر ایم فل کا تھیسسز جاری ہے

    16 ..ان کے کلام پر دو میوزک البم بھی بن چکے ہیں.. جن میں سے ایک علی میوزک پروڈکشن والوں نے پاکستان
    اور
    ہائی ٹیک کمپنی یو کے نے لندن میں ریلیز کی ہے.
    جس میں نامور گلوکاروں انور رفیع، حنا نصراللہ ،صائمہ جہاں اور شانی انور نے پرفارم کیا..
    اس کے علاوہ نامور گلوکاروں نے پاکستان اور انڈیا میں ان کے کلام کو گایا جن میں ساجد حسن، شمیم خالق، نے پرفارم کیا

    5 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
    1۔۔۔ 2007ء میں پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا۔۔
    2۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ ۔
    3۔تیسرا شعر ی مجموعہ۔۔اور شام ٹھہر گٰئی‘‘ 2013
    4۔۔چوتھا شعری مجموعہ۔ ’’پھول،خوشبو اور تارہ‘‘ 2016 میں شائع ہوا
    ۔۔5.۔ میرا صاحب،سائیں عشق یےتو۔۔شاعری

    غیر مطبوعہ تصنیفات
    ۔۔1۔۔گرد سفر۔۔۔۔ ناول
    2۔ میں اور یہ جہاں ۔۔مضامین
    3..یہ جہاں اور میں… مضامین
    4..یہ جہان، رنگ وبو…. مختلف انٹرویوز
    ایوارڈز۔۔
    1۔خوشبو رائٹرزایوارڈ
    2۔بے نظیر بھٹو ایوارڈ
    3۔ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی. 4..جنوبی پنجاب لٹریری ایوارد

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
    زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے

    افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں
    جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

    ہجر میں بھی یہ میری سانس اگر باقی ہے
    اس کا مطلب ہے محبت میں اثر باقی ہے

    وہ آواز وہ لہجہ اس کے خال و خد
    کس کی یاد میں من مہکائے ہوئی ہوں

    بات جو نہیں سنتا اس سے بات کرتی ہوں
    اس پہ ہے یقیں مجھ کو جو گمان جیسا ہے

    دن تو اپنے غم دوراں گزر جاتے ہیں
    شام ہوتے ہی ترے غم میں بکھر جاتے ہیں

    ہر اک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے
    وہ ایک شخص جو دل کے مکاں میں رہتا ہے

    رکھا ہوا ہے حفاظت کے ساتھ اسے دل میں
    میں بے امان ہوں وہ تو اماں میں رہتا ہے

    گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی
    میں چاہتوں کی ریاضتوں میں تمہیں ملوں گی

    اک خواب کے تاوان میں آنکھوں کو گنوایا
    بے روح ہوئی ہوں یہاں بے جان کھڑی ہوں

  • یوم ولادت، اسریٰ رضوی

    یوم ولادت، اسریٰ رضوی

    چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ
    بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام :شمیم فاطمہ اسریٰ
    قلمی نام:اسریٰ رضوی
    تاریخ ولادت:05 دسمبر 1993ء
    آبائی وطن:علی نگر، بھیک پور، سیوان، بہار
    تعلیم:ایم اے (اردو)، لکھنؤ یونیورسٹی
    تصنیفات:اجتبیٰ حسین رضوی:شخصیت اور جہات
    رہائش:بڑا باغ، مفتی گنج، لکھنؤ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ شمیم فاطمہ اسریٰ کی 5 دسمبر 1993 میں سیوان ضلع کے گاؤں علی نگر بھیک پور میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر میں اور پاس کے سرکاری مڈل اسکول میں ہوئی اور پھر قریبی ایس ٹی ڈی کالج سے انٹر کے بعد 2010 میں لکھنوں میں سکونت اختیار کی اور لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم کیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا مگر ایم کے دوسرے سمسٹر میں شدت اختیار کر گیا اور نانی کے انتقال پر پہلی غزل 2013 کے اواخر میں لکھی۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اداس آنکھیں غزال آنکھیں
    جواب آنکھیں سوال آنکھیں
    ہزار راتوں کا بوجھ اٹھئے
    وہ بھیگی پلکیں وہ لال آنکھیں
    وہ صبح کا وقت نیند کچی
    خمار سے بے مثال آنکھیں
    بس اک جھلک کو تڑپ رہی ہیں
    رہین شوق وصال آنکھیں
    جھکی جھکی سی مندی مندی سی
    امین ناز جمال آنکھیں
    وہ ہجر کے موسموں سے الجھی
    تھکی تھکی سی نڈھال آنکھیں
    نہ جانے کیوں کھوئی کھوئی سی ہیں
    بجھی بجھی پر خیال آنکھیں
    ہیں شوخیوں سے چھلکنے والی
    محبتوں سے نہال آنکھیں
    اگر نگاہوں سے مل گئیں تو
    کریں گی جینا محال آنکھیں
    چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ
    بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے
    بجھ جائے جو اک بار جلائے نہ جلے ہے
    ٹوٹا جو بھرم رشتوں میں احساس و وفا کا
    سو طرح نبھاؤ تو نبھائے نہ نبھے ہے
    خوابوں کا محل یوں ہی بنایا نہ کرو تم
    تعمیر جو ہو جائے گرائے نہ گرے ہے
    دہلیز پہ دل کی جو قدم رکھے ہے کوئی
    ٹک جائے ہے ایسے کے ہلائے نہ ہلے ہے
    ہے باغ محبت میں وفا کا جو حسیں گل
    مرجھا جو گیا پھر تو کھلائے نہ کھلے ہے
    دل چیز ہے ایسی کہ اجڑ جائے جو ایک بار
    پھر لاکھ بساؤ تو بسائے نہ بسے ہے
    کیوں نقش لیے چشم تصور میں پھرو ہو
    ہو جائے یہ گہرا تو مٹائے نہ مٹے ہے
    کوشش تو بہت کی ہے کہ دھل جائے ہر اک عکس
    اک شکل ہے ایسی کہ بہائے نہ بہے ہے
    دیکھ آئی ہیں شاید کہیں محبوب کو اپنے
    آنکھوں کی چمک آج چھپائے نہ چھپے ہے
    باتوں من جو کر جائے ہے اقرار محبت
    پھر بات کوئی اس سے بنائے نہ بنے ہے
    ہر گام قدم اپنا سنبھالے رکھو اسریٰؔ
    دامن پہ لگا داغ چھڑائے نہ چھٹے ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن
    اس کے پیغام کا سمجھو تو اشارا محسن
    بیٹھ جانا کہیں تھک ہار کے زیبا ہے کیا
    تو زمانے کا زمانہ ہے تمہارا محسن
    پچھلی شب اس کی محبت نے کہا دھیرے سے
    تجھ سے دوری نہیں اک پل بھی گوارا محسن
    با خدا الفت سرور کی کرامت ہے یہ
    جون کہہ کر جو زمانے نے پکارا محسن
    اس کی الفت میں تم ہستی کو مٹا کر دیکھو
    ایک دن ہوگا خدا خود ہی تمہارا محسن
    کشتیاں پار لگانا ہے بھنور سے تم کو
    ڈوبتے لوگوں کو دینا ہے سہارا محسن
    اونچی اٹھتی ہوئی لہروں میں صدا دو اس کو
    ابھی مل جائے گا کشتی کو کنارا محسن
    صبح اس شوخ کے چہرے سے اٹھاتی ہے نقاب
    گیسوئے حسن کو راتوں نے سنوارا محسن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : . آغا نیاز مگسی

  • ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    شوہر کا موڈ صبح صبح بہت خوشگوار تھا. اس نے اپنی بیگم سے کہا چلو واک کرنے باہر چلتے ہیں. بیگم نے غور سے اپنے شوہر کو دیکھا اور کہا یعنی تم سمجھتے ہو میں موٹی ہوں.؟ شوہر نے ہنس کر کہا نہیں یار میں نے ایسا کب کہا یہ تو تم نے نتیجہ نکال لیا.

    بیگم نے کہا اسکا مطلب تم سمجھتے ہو میں موٹی بھی ہوں اور جھوٹی بھی ہوں. شوہر نے کہا یہ کیا بے وقوفی ہے. میں نے ایسا کب کہا.؟ بیگم نے کہا مطلب تم یہ کہہ رہے ہو میں موٹی بھی ہوں جھوٹی بھی اور بے وقوف بھی.؟ شوہر نے کہا بیگم بس تم گھر بیٹھو میں خود واک کر کے آجاتا ہوں.

    بیگم نے کہا ہاں ہاں جائیں. آپ کو تو اکیلے واک پر جانے کا بہانہ چاہئے. مجھے کہاں لے کر جائیں گے. پتہ نہیں کس سے ملنا ہے کسے دیکھنا ہے اور شوہر خاموشی سے بیٹھ گیا. کیونکہ کچھ جگہوں پر بحث میں آپ جیت ہی نہیں سکتے. بھلے آپ کتنے ہی کلئیر کیوں نہ ہوں.

    بنجامن فرینکلن ایک دن جارج واشنگٹن سے ایک ضروری مشورہ کرنے گیا. واشنگٹن نے اسے کہا ایمانداری بہترین میدان ہے. تم ایمانداری سے اپنے مقام پر کھڑے رہو. بنجامن فرینکلن نے کہا نہیں جارج یہ پالیسی ہر جگہ نہیں چلتی. جیسے بیگم پوچھ لے کیا اس لباس میں، میں موٹی تو نہیں لگ رہی.؟ اب آپ ایمانداری سے یہ نہیں بتا سکتے کہ مسئلہ لباس کا نہیں ہے. تم موٹی ہی ہو.

  • لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    امریکی ریاست اوہائیو کے ایک شراب خانے میں ایک آدمی ٹام مئیر مارا گیا اور تھامس نامی شخص کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا. تھامس نے کلیمنٹ نامی ایک وکیل کیا اور اسے کہا میں تمہیں سچ بتاوں میں نہیں جانتا ٹام کیسے مرا کس نے مارا لیکن یہ حقیقت ہے میں نے نہیں مارا.

    کلیمنٹ نے اس کیس پر کافی ریسرچ کی. مقتول ٹام کے اپنے پستول پر تحقیق کرتے اسے سمجھ آیا کہ مقتول اپنا پستول نکالتے ہوئے خود اپنی گولی سے مرا. یہ سال 1871 کی بات ہے جب گولی کی فرانزک نہیں ہوتی تھی. بھری عدالت میں وکیل نے جج کو قائل کرنے کیلئے جب اسی انداز میں وہی پستول نکالا تو گولی پھر چل گئی. وکیل کلیمنٹ کو اسی مقام پر گولی لگی جہاں ٹام مئیر کو لگی تھی اور وکیل بھی جان کی بازی ہار گیا.

    تھامس کیس جیت گیا اور رہا ہوگیا. لیکن وکیل کلیمنٹ ایک چیز بتا گیا. دوسروں کو قائل کرنا اور وکالت آسان کام بلکل نہیں ہے. روزانہ کا نیا سورج آپ کی زندگی میں آپ کیلئے ایک نیا دن بن کر آتا ہے. اسے دوسروں کی ان عدالتوں میں تاریخیں بھگتے نہ گزاریں جہاں یقین دلانے کیلئے مرنا لازم ہو جائے. آپ روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے مر جائیں گے.

    جولیس سیزر جیسا بادشاہ ہو یا دنیا کے مشہور فلسفی اور ادیب یہ سب ایک قول بتا کر گئے ہیں” لوگ ہمیشہ وہی مانتے ہیں جو وہ ماننا چاہیں” اس لئے منوانے کی چاہت ہی نہ رکھیں کیونکہ اس کیلئے آپ کو وکیل بننا ہوگا. بنجامن فرینکلن نے انسانی نفسیات کا تجزیہ کرتے کہا تھا کہ جب ہمیں بتایا جائے تو ہم بھول جاتے ہیں. جب ہمیں پڑھایا جائے تو یاد رہتا ہے اور جب ہم کرنے میں شامل ہوں تو سیکھ لیتے ہیں.

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں. ان کو اپنی زندگی جینے دیں. ہم بھی تو صرف آپ کو پڑھا رہے ہیں شائد کہ آپ کو یاد رہے. آپ کر کے سیکھ لیں.

  • لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، اس بارے میں سوچنا ہی بے معنی ہے، کیونکہ اس وقت نہ ٹائم کا کوئی وجود تھا اور نہ سپیس کا۔۔۔۔ اس پر ملحد واہ واہ کرتے ہیں۔

    یہی بات ہم جب خدا کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ عقل میں نہیں سما سکتا کیونکہ وہ ٹائم اور سپیس سے ماوراء ہے، بلکہ ان کا خالق ہے، تو ملحد مذاق اڑاتے ہیں۔

    ویسے ہاکنگ کی بات تو محض بہانہ ہے اس سوال سے جان چھڑانے کا کہ وہ سنگیولیرٹی، جس سے بگ بینگ ہوا، وہ کہاں سے آئی تھی؟
    اور کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرے سے پوری کائنات وجود میں آ جائے؟ اور وہ بھی اتنے مربوط نظام کے ساتھ۔ اور پین روز نے تو اسکو بولٹز مین کے لاء آف اینٹروپی سے اخذ کر کے میتھمیٹکلی ثابت بھی کر دیا ہے کہ ایسے "اتفاق” کا امکان محض صفر ہے۔۔۔

    اللہ قرآن میں سورۃ فصلت میں فرماتا ہے کہ ہم انہیں آفاق اور انکے اپنے انفس میں ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ یہ انکار نہیں کر پائیں گے۔ اور واقعتاً یہ اپنے دلوں میں ضرور خدا پر ایمان رکھتے ہوں گے لیکن محض تکبر کی وجہ سے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔۔۔۔
    (دلچسپ بات یہ ہے کہ "یلحدون” کا لفظ بھی اسی سورۃ کی آیت 40 میں موجود ہے)

    ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کے مطابق اب یہ متفقہ نظریہ ہے کہ صرف فوٹان، یعنی روشنی ہی نہیں ہے جو بیک وقت ذرے اور ویو کی خصوصیات رکھتی ہو، بلکہ ہر سب اٹامک ذرہ دہری خصوصیات رکھتا ہے، یعنی کبھی ذرے کے طور پر "بی ہیو” کرتا ہے، اور کبھی ویو کے طور پر ۔۔۔ یعنی مادی اور غیر مادی دونوں قسم کی خصوصیات رکھتا ہے۔ تو پھر روح کو ماننا کیا مشکل ہے؟

    لیکن خدا کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسکا منطقی تقاضہ ہے کہ پھر خدا کو واحد و یکتا مانا جائے اور اسکے دئیے گئے احکامات یعنی مذہب و شریعت کو بھی مانا جائے۔ اور خالص توحید پر مبنی واحد مذہب جو آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے، وہ صرف اسلام ہے۔۔۔ لیکن مادر پدر آزادی اور ہوس پرستی پر جو پابندیاں اسلام لگاتا ہے، وہ کسی نفس پرست متکبر کو کیونکر قبول ہو سکتی ہیں؟!!!

  • طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    وہ پرائمری جماعت کا طالب علم بچہ ہے، اس کی عمر اور جسمانی قوت کے لحاظ سے اس کا بستہ بہت بھاری ہے جو اس کے نازک کندھوں پر نشان ڈال دیتا ہے اور کمر توڑنے والا ہوتا ہے۔ وہ اسے ہانپتے کانپتے اٹھاکر اسکول پہنچتا ہے اور اسی حالت میں اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ یہ بھاری بستہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تکلیف دہ ہے۔ اس کی عمر کا اگر کوئی بچہ مزدوری کرتا ہوا نظر آئے تو سب کو بڑا ترس آتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی جاگ اٹھتی ہیں۔ اخباروں میں خبریں بھی لگ جاتی ہیں، عالمی سطح پر اس کے حقوق کی بابت کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی ہیں، بچوں کے عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے پوری دنیا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے مگر کسی کو اس کا بستہ چھوٹا اور آسان کرنے کی فکر نہیں ہے۔

    یہ بھی آخر گوشت پوست کا انسان ہے اس کے سینے میں بھی بڑوں کی طرح ایک دھڑکتا دل ہے۔ آخر کب تک اس کے اس مسئلے پر صرف نظر کیا جاتا رہے گا؟ جب کہ طبی ماہرین نے بھی اس کے بھاری بستے کو اس کی عمر سے بڑا وزنی اور اس کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ہسپانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزنی اسکول بیگ بچوں میں کمر درد کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل وزنی بیگ اٹھانے کا عمل ان کی کمر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اس سے بچنے کے لیے اپنے وزن کے 10 فیصد سے کم وزنی بیگ اٹھانے سے کئی مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔

    اسپین کے طبی ماہرین نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو اپنے وزن سے 10 فیصد کم اسکول بیگ اٹھانے چاہئیں۔ وہ بچے جو اپنے ذاتی وزن سے 10 فیصد زائد کا اسکول بیگ اٹھاتے ہیں انھیں کمر درد کی تکلیف ہوسکتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ماہرین نے 1403 طلباء پر تحقیق کی جن میں سے 12 سال سے 17 سال کی عمر کے 11 اسکولوں کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے اسکول بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد تھا ان میںسے 66 فیصد بچے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کمر درد کی زیادہ شکایت تھی۔ پھر بھی کوئی نہیں سنتا۔ تعلیمی میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے اگر اس کے بستے کو چھوٹا اور آسان نہیں بناسکتے تو پھر اس کے پاس کیا دلیل ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے گا؟

    یہ جلی کٹی باتیں نہیں ہیں، پرائمری اسکول کا یہ معصوم بچہ تعلیمی پالیسی کا ستایا ہوا ہے۔ روزانہ ذہنی اذیت کا شکار یہ چھوٹا طالب علم روزانہ ان دانشوروں کی جان کو روتا ہے جو اس کی مشکل کو مانتے ہیں مگر حل نہیں کرتے۔ اپنے بستے کے بوجھ تلے دبے ہوئے بچے کی چیخیں واقعی کان دھرنے کے لائق نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس معصوم طالب علم کا بستہ بڑا ہونے میں اس کے لیے نصاب سازی کرنے والوں کی سطحی سوچ اور ذہنی مرعوبیت کا بڑا دخل ہے۔

    دنیا میں بڑے بڑے مسائل کی بابت لوگ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہیں اور ان کے حل نکال لیتے ہیں مگر معصوم طالب علم کا بستہ چھوٹا کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی حل نہیں نظر آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی کاروں، کوٹھیوں اور بنگلوں کو بڑی سرعت کے ساتھ بڑا کرنے والے بستے کو بھی اسی رو میں بہتے ہوئے بڑا کرنے میں مگن ہیں۔ معصوم طالب علم کا بستہ اب تک کتابوں کی غذا کھاکھا کر موٹا ہوتا جارہا ہے غالباً یہ موٹے دماغوں والے کی کارستانی ہے۔

    کسی زمانے میں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی اور چھٹی جماعت کا بچہ قدرے بڑا ہوتا ہے اور بستے کا جسمانی اور ذہنی بوجھ کس قدر آسانی سے اٹھاسکتا ہے۔ پہلے کم ازکم ایک انگریزی کی کتاب اور اس کے ساتھ چار کاپیوں کا بوجھ تھا۔ اب اس معصوم بچے کے بستے میں ایک انگریزی کی کتاب،ایک الفاظ معانی کی کاپی، ایک سبق کے آخر میں موجود مشقوں کے لیے اور ایک انگریزی خوشخطی کے لیے ہے جو کتابوں کے وزن اٹھانے کی بات ہے۔ ایک دفعہ اسکول جاتے ہوئے اور ایک دفعہ واپس آتے ہوئے انھیں اٹھانا پڑتا ہے۔

    اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ پرائمری کے اس معصوم طالب علم کو جتنی محنت اور جتنی توانائی دوسرے تمام مضامین پر خرچ کرنی پڑتی ہے اتنی ہی توانائی انگریزی کے مضمون پر خرچ ہوتی ہے۔ پھر بھی اسے انگریزی نہیں آتی ہے۔ رٹے کی چکی میں پس پس کر اس کا دماغ تھک جاتا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ اس کی سائنس کو بھی اتنا پیچیدہ اور غیر فطری بنادیا گیا ہے کہ معصوم طالب علم اسکول سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بستہ ساز اسے پڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ اخبارات میں کروڑوں روپے خرچ کرکے مہم چلائی جاتی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروائیں، مگر اسکول میں ایک غیر ملکی زبان اور غیر فطری سائنسی نصاب کا بوجھ ڈال کر معصوم طالب علم کی تمام دلچسپیوں کو ختم کررہے ہیں ان حالات میں ایک معصوم طالب علم کا اسکول میں کیسے دل لگ سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ بستہ سازوں اور نصاب سازوں نے معصوم طالب علموں سے خاموش جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ملک کے کروڑوں بچوں کو بطور بیگار اس جنگ میں سپاہی کے فرائض انجام دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    خدارا! معصوم طالب علموں کے ماتھے پر پریشانیوں کی شکنوں میں چھپے ان کے دل کے درد کو محسوس کیا جائے، کیا یہ جبری مشقت نہیں جو ہر روز ان سے لی جاتی ہے؟ کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان کا بستہ ان کی عمر، جسمانی صحت اور ذہنی سطح کے مطابق ہو؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یہ وہ جواب طلب معصوم طالب علموں کےسوالات ہیں جن کے جواب تعلیم سازوں کو دینے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کا کیاخیال ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ معصوم طالب علم بچوں کی صدا ارباب اختیارات تک بھرپور انداز میں پہنچ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کار نیک کی جزا دینے والا ہے۔

  • بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    اپنی بیٹیوں کو درج ذیل چند باتیں لازمی سکھائیے.

    1_سیڑھی پر اس وقت مت چڑھیں جب آپ کے پیچھے کوئی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زینے پر رک جائیں اور اس کے بعد چڑھیں۔

    2_لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھیں اس کے نکلنے کا انتظار کریں اور بعد میں چڑھیں۔

    3_اپنے چچا، ماموں، خالہ، پھپھو وغیرہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کریں۔

    4_اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیں۔

    5_ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔

    6_سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیں۔

    7_جب کوئی ملنے آئے تو اسے توجہ دیں، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیں۔

    8_گلی محلہ کے سبھی مرد باپ/بھائی کے سوا اجنبی ہوتے ہیں اس لیے اُن سے بِلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ آپ کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

    9_جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکیں۔کوشش کریں بیٹھ کر چیز دیکھیں پھر کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب/نمایاں نہ ہو۔

    10_ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے کہ بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کریں۔

    11_گھر کا دروازہ ہمیشہ پوچھ کر اور گھر کے افراد یا جاننے والوں کی آواز پہچان کر کھولیں۔

    مجھ سمیت سبھی بیٹوں، لڑکوں، مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب ضرور کرنے والے ہیں۔

  • انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جانتے ہیں کہ یورینیم تک تمام عناصر جو پیریاڈیک ٹیبل میں ہیں یہ سب ستاروں میں بنے ہیں اور یہ زمین پر قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں مگر کیا انسان ان سے آگے کے بھاری عناصر بنا سکتے ہیں؟

    اسکا جواب ہے جی۔ سائنسدانوں نے پچھلی ایک صدی میں یورینیم کے بعد 24 مزید ایسے عناصر لیبارٹریوں میں بنائے ہیں جو زمین پر نہیں پائے جاتے۔

    یہ عناصر نیوکلیئر ری ایکٹرز، پارٹیکل ایکسلیریٹر یا ایٹمی دھماکوں کے دوران بنے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا عنصر 1944 میں بنایا گیا جبکہ آخری 2010 میں۔ ان مصنوعی عناصر کی ہاف لائف یعنی وہ مدت جس میں ایک خاص مقدار میں موجود انکے ایٹم ڈیکے ہو کر آدھے رہ جائیں ملی سیکنڈز سے لیکر کروڑوں سالوں تک ہے۔ یہ عناصر موجودہ قدرتی عناصر میں مزید پروٹانز ڈال کر بنائے جاتے ہیں۔

    ان میں سے پہلا مصنوعی عنصر کیورئیم تھا جسکا ایٹامک نمبر 96 ہے یعنی اسکے مرکزے میں 96 پروٹانز ہیں۔ یہ 1944 میں پلوٹونیم کے ایٹموں میں ایلفا پارٹیکلز کے ٹکرانے سے بنائے گئے۔ ایلفا پارٹیکلز الیکٹرانز کے بغیر ہیلئیم کا مرکزہ ہوتے ہیں جس میں دو پروٹان اور دو نیوٹران آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ اس عنصر کے 19 آئسوٹوپس(ریڈیوسٹوپس) ہیں
    ۔
    آئسوٹوپ کسی عنصر کے ایٹم میں پروٹان کی تعداد برابر مگر نیوٹران کی اضافی تعداد کے باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن کے تین آئسوٹوپ ہیں۔ پہلا ہائیڈروجن کا نارمل ایٹم جسکے مرکزے میں ایک پروٹان ہے جبکہ باقی دو آئسوٹوپس میں بالترتیب ایک پروٹان اور ایک نیوٹران اور ایک پروٹان اور دو نیوٹران پائے جاتے ہیں۔

    کیوریم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ(وہ آئسوٹوب جو تابکار ہوں) کی ہاف لائف ہے تقریباً 1.5 کروڑ سال۔ کیوریم کا استعمال پلوٹونیم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ میں کیا جاتا ہے جو دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے والے آلے یعنی پیس میکر کو ماضی میں توانائی فراہم کرنے میں استعمال ہوتا رہا ہے مگر اب یہ متروک ہے۔۔اسکے علاوہ خلا کی تسخیر کے لیے بھیجے جانے والے کئی مشنز میں بھی توانائی کے حصول کے لیے پلوٹونیم کا استعمال تھرمو نیوکلئیر جنریوٹٹرز میں ہوتا رہا ہے۔

    2010 میں امریکہ اور روس کے سائنسدانوں نے ملکر ایک نیا عنصر لیبارٹری میں بنایا اسکا ایٹامک نمبر تھا 117 یعنی اسکے مرکزے میں 117 پروٹانز تھے اور اسے نام دیا گیا Tennessine۔ مگر یہ کوئی سٹیبل عنصر نہںں اور اسکے سب سے سٹیبل ریڈیوسٹوپ کی ہاف لائف تھی محض 51 ملی سیکنڈ۔

    اسی طرح اب تک کا سب سے بھاری عنصر جسے لیب میں تیار کیا چکا ہے اسکا نام ہے Oganesson اور یہ 2002 میں بنایا گیا۔ یہ پیرایاڈک ٹیبل کا سب سے آخری عنصر ہے اور اسکی ہاف لائف محض 0.69 ملی سیکنڈ ہے۔

    اب تک کا سب سے مہنگا مصنوعی عنصر ہے کیلوفورنیم۔ اسکا ایٹامک نمبر ہے 98 اور اسکے 100 گرام کی قیمت ہے تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ قدرتی طور پر پایا جانا والا سب سے مہنگا عنصر جسے آپ خرید سکتے ہیں وہ ہے لوٹیٹیم اِسکا ایٹامک نمبر یے 71 اور اسکے سو گرام کی قیمت ہے دس ہزار ڈالر۔ انسانوں نے قدرتی عناصر سے ہٹ کر مصنوعی عناصر تیار کر لیے ہیں اور یہ دوڑ ابھی جاری ہے۔

  • باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں لوگ باقاعدہ موٹیویشن کا مذاق اڑاتے ہیں. وہ سمجھتے ہیں یہ سب کتابی باتیں ہیں. اس سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. انہوں نے موٹیویشن کو سمجھا ہی نہیں ہے.

    عرصہ ہوا میں نے ایک بار بیگم سے کہا یہ طارق روڈ یہ برانڈز کی دکانیں یہ شاپنگ پلازہ میں بڑے بڑے کرائے پر مہنگی دکانیں لے کر اشیاء بیچنے والے معیاری چیز نہیں دیں گے تو اور کیا دے سکتے ہیں.؟ لیکن اس میں کوئی فن نہیں ہے. چیز دیکھی رنگ پسند کیا اور اٹھالی بھلا اس میں شاپنگ کیا ہوئی.؟ آن لائن چند تصاویر دیکھ کر چیز خرید لینے میں فن کہاں ہے.؟

    بیگم نے کہا پھر کہاں ہے.؟ میں نے کہا اتوار بازار میں جمعہ بازار میں بدھ بازار میں. جہاں دکاندار کے ڈھیر میں اچھی معیاری چیز بھی ہوتی ہے اور سستی غیر معیاری بھی. وہ بھی فنکار ہوتا ہے سستی چیز مہنگی کے ساتھ ملا کر اس صفائی سے بیچتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا. جیسے اچھے سیبوں میں دو دانے داغ والے ملا دیتا ہے.

    اس بازار سے معیاری چیز نکال کر لانا آرٹ ہے کمال ہے. میری موٹیویشن کام کر گئی. اب وہ ہر بازار میں جاتی ایک ایک چیز پر مول تول کرتی. دیکھتی پرکھتی ہیں. اپنے فن کو اس بلندی پر لے گئیں ہیں کہ لنڈے کے ڈھیر میں سے بھی وہ پیس نکال لیتی ہیں کہ بندہ واقعی ششدر رے جائے. میرے نماز والا صافہ انہوں نے صرف تیس روپے میں خریدا اور پچھلے دو سال سے ان کے فن کے اعتراف میں ہم یہی استعمال کر رہے ہیں.

    یہ موٹیویشن ہی ہے جو اب عرصہ گزرا ہم کسی شاپنگ پلازہ یا برانڈ کی دکان میں گھسے ہی نہیں اور بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں موٹیویشن کام نہیں کرتی. البتہ یہ سچ ہے کہ موٹیویشنل سپیکر کمائی بھلے نہ کریں بچت خوب ہو جاتی ہے.