Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ بھی دوسری امریکی "لذیذ” نعمتوں کی طرح امریکی ملٹی میڈیا انسٹنٹ میسجنگ ایپ اور سروس ہے۔ جس کو اصل میں سنیپ چیٹ انکارپوریٹڈ نے "جلا بخشی” ہے۔

    اصل میں سنیپ چیٹ کی بنیادی ہنوز غیر محفوظ خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ "صاف و شفاف” تصاویر اور "ملائم” پیغامات عام طور پر صرف مختصر وقت کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے وصول کرنے والوں کے لئے ناقابل رسائی (Inaccessible) ہوجائیں۔

    ایپ اصل میں فرد سے فرد اور بقول مرزا "مرد سے خاتون تک” فوٹو شیئرنگ پر توجہ مرکوز کرنے سے تیار ہوئی ہے، جس میں فی الحال صارفین کی 24 گھنٹوں کے تاریخی مواد کی "پریم کہانیاں” شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ "ڈسکوور” آپشن بھی شامل ہے، جس سے برانڈز کو اشتہار کی حمایت یافتہ مختصر شکل کا مواد دکھانے کی اجازت ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اس ایپ کو فوٹو جرنلسٹ بھی ایک دوسرے کو چوری چھپے حالات حاضرہ کی "عکسی کہانیاں” بھیجتے ہیں۔

    یہ صارفین کو پاس ورڈ سے محفوظ علاقے یا (ممنوعہ علاقے) میں تصاویر کو اسٹور کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے، جسے "محض چشمانِ من” کہا جاتا ہے۔ اس نے (ٹھیک صحافتی عینک کے اعتبار سے) #مبینہ_طور پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے محدود استعمال کو بھی شامل کیا ہے، جس میں آنے والے طوفانی زمانے میں اس کے استعمال کو وسیع کرنے کے منصوبے ہیں۔

    سنیپ چیٹ کو سٹینفورڈ یونیورسٹی کے من چلے نوجوان طلبہ اِیوان سپیگل، بوبی مرفی، اور ریگی براؤن نے تیار کیا تھا۔ کن "ارفع” مقاصد کے لیے بنایا تھا، ان کا اندازہ ہمارے قارئین خود لگا سکتے ہیں۔

    سنیپ چیٹ سوشل میڈیا کے لئے ایک نئی، اولین موبائل سمت کی نمائندگی کرنے کے لئے خوب جانا جاتا ہے، اور مجازی اسٹیکرز اور بڑھتی ہوئی حقیقت کی آشنائی کے ساتھ بات چیت کرنے والے صارفین پر نمایاں زور دیتا ہے۔

    جولائی 2021 تک، "خدا جھوٹ نہ بھلائے” سنیپ چیٹ کے 293 ملین والی طویل ترین روزانہ فعال صارفین کی تعداد تھی، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک سال کے دوران صارفین کی لانبی قطار میں 23 فیصد اضافہ ہے۔

    اوسطا” ہر دن 4 ارب سے زیادہ سنیپ کبوتر ایپ کے ممبران کے پاس سنیپ لے کر آتے جاتے ہیں۔ سنیپ چیٹ نئی رومان پرور نوجوان نسلوں میں بے حد مقبول ہے۔ خاص طور پر 16 سال سے کم عمر کے شریف زادوں کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے لئے رازداری و پردہ داری کی بہت ساری تحفظات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔

  • جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے لم یزل نے یہ اصول متعین کردیے ۔ جو بدلے گا نہیں ہلاکت اس کا مقدر بنے گی ۔ جو جینے کی جنگ نہیں لڑے گا وہ موت کے شکنجے میں آجائے گا ۔ جو حالات کو اپنے ڈھب پر نہیں لائے گا وہ حالات کی بھینٹ چڑھ جائے گا ۔ اسی حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے اپنی آخری کتاب کے ذریعے قانون بنادیا ۔

    وان لیس للانسان الا ما سعی ۔

    انسان کے لیے تو وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ جد و جہد کرے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو پہاڑوں کا سینہ چیر دیتا ہے ۔ پہاڑوں میں راستوں کا انقلاب اس مقدر بنتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو پہاڑوں راستوں کی رکاوٹ بنے موت کا پیغام دیتا ہے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو سمندر کے پانی کو قابو میں لے آتا ہے ۔ جو پانی موت کا ضامن ہے وہ زندگی کا محافظ بن جاتا ہے ۔ لیکن اگر زندگی میں یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو یہی سمندر ہلاکت کا پیغام لیے سب کچھ تہہ تیغ کردیتے ہیں ۔

    جب وہ انقلاب کی جستجو لیے کوشش کرتا ہے تو ہوائیں تسخیر ہونے کے لیے قدم چومتی ہیں اور انسان دنوں کا سفر گھنٹوں میں کرنے کا انقلاب بپا کرتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی لگن نہ ہو تو یہی ہوائیں مغلوب ہونے کی بجائے غالب آجاتی ہیں ۔۔۔۔۔

    زمین کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کرہ ارض پر لاکھوں جاندار آج ناپید ہوچکے ہیں جو کبھی اس کرہ ارض کا حصہ تھے ۔ ان کے وجود کا فنا ہونا ان کا مقدر بن گیا ۔ انہوں نے بقاء کی جنگ نہ لڑی ، حالات کا مقابلہ نہ کیا ، مشکلات کا سامنا نہ کیا ۔

    آج اس کرہ ارض پر موجود مخلوقات وہی ہیں جو انقلاب کے لیے میدان میں آئیں تو کاسے پلٹ گئے ۔

    جو آگ انسان کو جلا کر راکھ کرتی تھی ۔ زندگی میں انقلاب کے باعث انسان نے اسی آگ کو قابو کیا اور ہزاروں ضروریات کو پورا کیا ۔
    جو حیوانات انسان کو کچل دیتے تھے وہ انسانی انقلاب کے باعث انسان کے خادم بن گئے ۔
    انقلاب نے زندگی اور جمود نے موت کے گھاٹ اتارا ۔

    قوموں کی تاریخ بتاتی ہے جب قومیں انقلاب کی سعی چھوڑ دیتی ہیں تو لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔

    غلامی ان کا مقدر بنتی ہے ۔ محکومی سر کا تاج اور ذلت جھومر بن جاتی ہے ۔

    خدا بھی انہیں کا ساتھ دیتا ہے جو انقلاب کے لیے میدان میں آتے ہیں ۔

    جو حالات سے لڑ نہیں سکتے خدا سے لا تعلق ہوجاتے ہیں ۔

    خدا کے اس ابدی قانون کو دستور حیات قرآن واضح کرتا ہے ۔

    ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (الرعد : 11)
    اللہ تب تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک وہ قوم خود تبدیلی اور انقلاب کے لیے کوشاں نہیں ہوتی ۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں۔۔۔۔۔۔۔
    بدلی نہ ہو خیال جسے اپنی حالت بدلنے کا ۔۔۔۔۔۔۔
    جب انقلاب کی تڑپ لیے 313 میدان میں اترے تو ایک ہزار پر بھاری پڑ گئے ۔
    فتح کی صورت انقلاب آیا اور غزوہ بدر تاریخ میں امر ہوگیا ۔
    جب حالات کا مقابلہ کرنے خندق کا میدا سجا تو چشم زدن میں میدان کے گرد خندق کھود لی جاتی ہے اور دشمن کو ناکون چنے چبوائے جاتے ہیں ۔
    جب انقلاب کا علم لیے طارق بن زیاد اندلس اترتے ہیں تو بیڑے جلا دیتے ہیں ۔
    پھر حاکمیت کی صورت انقلاب آتا ہے ۔
    جب مظلوم عورت کی پکار پر محمد بن قاسم سندھ میں قدم رنجہ فرما ہوتے ہیں تو سندھ باب الاسلام بن جاتا ہے ۔

    انسانی تاریخ ہو یا قوموں کی تاریخ وقت نے یہ ثابت کردیا ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی
    روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب!

    مسلمانوں کی تاریخ میں سانحہ بغداد ہو یا سقوط سلطنت عثمانیہ ، مغلوں کا زوال ہو یا سقوط ڈھاکہ ، تاریخ کی آواز یہی صدا بلند کررہی ہے ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    تمام علوم و فنون میں یونانی فلسفے پر عبور حاصل کرنے والے اور جدید علوم وضع کرنے والے آج اگر جہالت و پسماندگی میں گھرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی تو ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    دنیا کے سارے براعظموں پر حکومت کرنے والے آج اگر تخت و تاراج ہیں تو اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    وسائل کی دولت سے مالامال وطن عزیز پاکستان اگر ملکوں ملکوں کشکول لیے پھرے تو اس کی وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    ساری دنیا میں اکثریتی مذہب ہونے کے باجود اگر مسلم امہ فلسطین ، برما ، اور کشمیر کے حوالے سے بے بس ہو تو اس کہ وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    انقلاب دستور حیات ہے ، انقلاب قانون فطرت ہے ، انقلاب خدائی سنت ہے ، انقلاب بہادروں کا شیوہ ہے ، انقلاب زندہ لوگوں کا خاصہ ہے ۔ انقلاب زندگی کا ترانہ ہے ۔

    اگر انقلاب نہیں تو حیات جیل خانہ ہے ، اگر انقلاب نہیں تو ذلت ، اگر انقلاب نہیں غلامی ہے ،اگر انقلاب نہیں خواری ہے، اگر انقلاب نہیں تو خدا کی طرف سے تعرض و اعراض ہے ۔

  • نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما آپکے فیملی پیٹرنز میں مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس میں کچھ عادات، پیٹرن اور خصائص آپ میں آپکے والدین سے منتقل ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ فرض کریں،

    آپ کے دادا دادی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جنہوں نے ساری عمر غربت کو ہی دیکھا تھا ڈومیسٹک وائلنس عام چیز تھی۔

    اب وہ بائیس سال کی عمر میں ایک دوسرے کیساتھ ملتے ہیں، شادی ہوتی ہے اور 25 تک بچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر دونوں گرینڈ پیرنٹ ابھی تک اپنے چائلڈ ٹراما کو پراسس ہی نہیں کر پائے ہیں۔

    ان کے تین بچے ہوتے ہیں،

    اب غربت میں ان تینوں کو پالنا خاصہ جوکھم والا کام ہے اور یہ ان کو مزید سٹریس دے رہا ہے اور ان کے بچپن کے برے تجربات ان کو ڈپریشن اور انزائٹی میں دھکیل رہے ہیں۔

    اب چونکہ بچپن برا تھا تو اس کی وجہ سے ماں نہایت سٹریس میں رہنے کی وجہ سے گرم طبیعت رکھتی ہے اس کو چھوٹی چھوٹی بات بری لگتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے پاس رہ کر بھی ان سے منقطع رہتی ہے وہ جسمانی طور پر تو وہاں موجود ہوتی ہے مگر ذہنی طور پر نہیں ۔

    وہیں پر باپ ہر وقت کام پہ مصروف رہتا ہے اپنے بیوی بچوں کو بہت کم یا پھر صفر ایموشنل سپورٹ دیتا ہے اور کام میں ہی کہیں افئیر چلا لیتا ہے اور چونکہ ٹاکسک ماحول کی سب سے بری عادت راز رکھنا ہوتی ہے سو وہ بخوبی چھپانا جانتا ہے۔

    ان حالات میں ماں شوہر کی ہر بات کو جان رہی ہوتی ہے مگر وہ بند آنکھوں کا ڈرامہ رچا کر کچھ بھی نا دیکھنے کی اداکاری کرنا شروع ہو جاتی ہے اور اس سب سے فرار کی خاطر اپنے بچوں کیساتھ ‘کو ڈپینڈنٹ’ تعلق بنا لیتی ہے جس میں ایک شرط ماں پوری کرتی ہے تو بچے دوسری، یہ تعلق خصوصا بڑے بیٹے کیساتھ ہوتا ہے جس کو وہ اپنا ‘پارٹنر’ سمجھنے لگ جاتی ہے۔

    اب اس بڑے بچے کو دونوں یہ سکھاتے ہیں کہ گھر کا سربراہ صرف وہی ہے اور کوئی نہیں، اور ماں کی ایموشنز کا خیال صرف اسی نے رکھنا ہے۔

    اب بچے چونکہ باپ کا سایہ کبھی دیکھ ہی نہیں پائے ہیں اور نا ہی ان سے کبھی اس موضوع پر بات ہوئی ہے کہ ان کا باپ کیسا ہے تو وہ اس اگنور کرنے کو تسلیم کرکے اپنے احساسات چھپا کر جینا سیکھ جاتے ہیں۔

    اسی دوران یہ بچے اپنی ماں کیساتھ ایک مصنوعی تعلق نبھانا شروع ہو جاتے ہیں اور خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ جیسے کبھی نہیں بنیں گے اور ویسی حرکت کبھی نہیں کریں گے۔

    یہاں اگر انکی فیملی کو اوپر سے دیکھا جائے تو ‘خوش نظر’ آنیوالی فیملی ہے مگر اس میں کچھ بھی خوشی والا نہیں ہوتا ہے۔

    جوان ہونے تک یہ بچے سیکھ جاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے ایک ماسک کے نیچے اپنے احساسات کو چھپانا ہے اور کیسے بغیر کسی کو بتائے جینا ہے۔ اسی دوران سب سے بڑا بیٹا نشے یا آوارہ گردی کی طرف چلا جاتا ہے درمیانی بیٹی خود سے بڑی عمر کے شخص سے دوستی کرکے شادی کرنے کی طرف چلی جاتی ہے کیونکہ وہ باپ جیسے پیار کی تلاش میں ہوتی ہے جو کہ اسے کبھی نہیں ملا ہوتا۔

    اور

    سب سے چھوٹی بچی ہر کسی کی بات کو درست مان کر اس کے پیچھے چلنے والی بن جاتی ہے اس کو انزائٹی اور اٹیچمنٹ ایشوز بھی ہوتے ہیں۔

    ان میں سے کوئی بھی اپنے مسائل والدین سے ڈسکس نہیں کرتا کیونکہ ایسا ماحول ہی نہیں مل رہا ہوتا، ایسے خاندان کا واحد ماٹو یہی ہوتا ہے کہ اپنے ٹراما سے تم نے خود ہی لڑنا ہے۔

    جنریشنل ٹراما کے کچھ بنیادی عناصر یہ ہو سکتے ہیں؛

    نشے کی لت یا جوئے کی لت
    خاندان میں ایک سے زائد لوگ ذہنی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں
    راز رکھنا اور بات تسلیم نا کرنے کو کامیابی سمجھنا
    ایک دوسرے پہ حد سے زیادہ انحصار
    باؤنڈریز نا رکھنا
    خود شناسی کی کمی
    ایموشنلی امیچور ہونا
    کسی بھی طرح کے سٹریس کا سامنا نا کر پانا
    خود کو کمتر سمجھنا
    دوسروں پہ اعتماد نا کرنا
    وغیرہ

    لیکن خوش قسمتی سے ان سائیکلز کو توڑا بھی جا سکتا ہے سائیکل بریکر وہ شخص ہوتا ہے جو اس لائف سٹائل سے فرار ڈھونڈ کر خود شناسی سے ان ٹراماز پہ قابو پانا سیکھ جاتا ہے۔ اور یہ چیز آپ کو خود ہی سیکھنا ہوتی ہے۔

  • میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    ہم سب بچپن سے ایک نام سنتے بڑے ہوئے ہیں

    برمودا ٹرائی اینگل اور اس سے منسوب واقعات

    بہت سی باتیں سننے کو ملیں کہ وہاں چیزیں گم جاتی ہیں ، یہ بھی سننے میں آیا کہ وہاں دجال ہے بلکہ اس وقت بھی پاکستان میں برمودا ٹرائی اینگل اور دجال نام سے ایک کتاب بڑی پاپولر ہے ۔

    لیکن کیا واقعی ؟

    برمودا کے متعلق یہ سبھی پراسرار باتیں بڑی دلچسپ ہیں لیکن ایک بات کہوں ؟

    سچ … کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

    آج پانچ دسمبر ہے ، اور پانچ دسمبر ہی کو دراصل برمودا سے منسلک ایک واقعہ ہوا تھا ، لیکن آج سے 77 سال پہلے ، اور وہ واقعہ یہ تھا کہ برمودا کے ایریا میں پانچ جہاز ایک ساتھ گم ہوئے تھے ، مشہور فلائٹ 19 ۔

    کیا وہ خراب موسم کا شکار ہو گئے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر اس دن موسم خراب ہوتا ، مگر ایسا نہیں تھا ۔

    کیا وہ راستہ بھٹک گئے تھے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر رات کا وقت ہوتا مگر … ایسا نہیں تھا ، دن صاف تھا اور سورج چمک رہا تھا اور فلائٹ کمانڈر ایک تجربہ کار شخص تھا جس کے پاس ڈھائی ہزار گھنٹے کا فلائٹ ایکسپیرئینس تھا ۔

    ایسی بات نہیں ہے کہ اس واقعے کا ہر پہلو ہی پراسرار ہے ، کچھ سوالوں کے جواب تو موجود ہیں جو اس واقعے کے متعلق 500 صفحوں کی ایک رپورٹ میں ہیں مثلاً …

    کمپاس یعنی قطب نما … کسی حد تک کام کر رہے تھے ، ریڈیوز بھی کام کر رہے تھے ، بلکہ جہازوں کے ساتھ پانچ گھنٹے تک کمیونیکیشن ہوتی رہی تھی اور آخری کمیونیکیشن میں فلائٹ کمانڈر کے الفاظ یہ تھے کہ ہم پانی کی طرف جا رہے ہیں ۔

    ان ساری باتوں سے تو ذہن میں یہی جواب آتا ہے کہ وہ لوگ کھلے سمندروں میں بھٹک کر کریش کر گئے ہوں گے ۔

    لیکن سچ … اکثر اتنا بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتا ، آپ کو بہت غور سے دیکھنا پڑتا ہے ۔

    اگر کمپاس کام کر رہے تھے تو انہیں مغرب کی طرف جانا چاہیئے تھا کیوں کہ زمین مغرب کی طرف تھی جبکہ وہ لوگ مشرق کی طرف جا رہے تھے جس کا ایک ہی مطلب ہے … کمپاس کام تو کر رہے تھے لیکن وہ مشرق کو مغرب اور مغرب کو مشرق دکھا رہے تھے ۔

    ریڈیو کام کر تو رہا تھا لیکن کمیونیکیشن میں بہت delay آ رہا تھا ، انفیکٹ کنٹرول ٹاور نے انہیں فریکوئنسی چینج کرنے کا بھی کہا لیکن فریکوئنسی بدل نہیں رہی تھی ۔

    فلائٹ میں نقشہ بھی موجود تھا لیکن نقشے کے حساب سے نیچے سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں تھے … ان لوگوں کو ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے تھے ۔

    اور شاید سب سے اہم بات کہ ایک ریڈیو میسج میں کسی نے کہا تھا کہ اگر ہم مغرب کی طرف جائیں تو ہم زمین پر پہنچ جائیں گے …

    اور اپنی طرف سے انہوں نے وہی کیا … اپنی طرف سے وہ لوگ مغرب کی طرف اڑتے رہے جہاں سورج غروب ہو رہا تھا لیکن حقیقت میں … وہ لوگ مشرق کی طرف اڑتے چلے جا رہے تھے ۔

    something was going on

    کچھ نہ کچھ تو ہوا تھا … اور یہ بات سب جانتے ہیں کیوں کہ فلائٹ 19 کی رپورٹ پر اس کی گمشدگی کی وجہ بعد میں ’’حادثے‘‘ سے بدل کر … "unknown” لکھ دی گئی تھی ۔

    کمپاس مشرق کو مغرب دکھا رہا ہے ؟

    وہ لوگ مغرب کی طرف جاتے سورج کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، اس کی طرف اڑ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مشرق کی طرف جا رہے ہیں ؟

    سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے ہیں ؟

    ریڈیو کام کر رہا ہے لیکن فریکوئنسی نہیں بدل رہی ؟

    یہاں تک بالآخر پانچوں جہاز گمشدہ ہو گئے ۔

    ان سب عجیب و غریب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی چلیں میں مان لیتا کہ وہ بدنصیب لوگ ایک حادثے کا شکار ہو گئے لیکن پھر شاید سب سے عجیب بات ہوئی ۔

    ان جہازوں کی تلاش میں ایک سرچ آپریشن ہوا تھا … سرچ آپریشن کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی بھیجی جاتی ہے جو خراب موسم اور مختلف آفات کے لیے تیار ہوتی ہے ، ان کے پاس بہتر ایکوئپمنٹس ہوتے ہیں ۔

    لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ان لوگوں کی تلاش کے لیے جو جہاز well equiped اور اچھی طرح سے تیار ہو کر گیا تھا …

    وہ بھی گمشدہ ہو گیا ۔

    ایک کے بعد ایک کئی ہوائی اور بحری جہاز غائب ہو گئے … آخر ان گمشدگیوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

    کچھ ہفتے پہلے مجھے ایک لیڈ ملی تھی ۔

    اسی سال سمندر کے دوسرے حصے میں گم ہوئے ایک japenese پائلٹ کی آخری کمیونی کیشن اور اس کمیونیکیشن کے اندر گم ہونے سے پہلے پائلٹ نے ایک بہت اہم بات بتائی تھی ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا اور 1561ء میں لکھی ایک جرمن کتاب تک پہنچا جس میں سمندر نہیں بلکہ زمین کے اوپر ایک ایسے ہی واقعے کے متعلق لکھا ہوا ہے ۔

    نہ صرف لکھا ہوا ہے بلکہ انہوں نے اس واقعے کی آنکھوں دیکھی ایک تصویر بھی بنائی تھی جو آج بھی موجود ہے ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا … اور 1566ء میں دوبارہ ویسا ہی ایک واقعہ سوئیٹزرلینڈ کے ریکارڈ میں دیکھنے کو ملا ۔

    اور پھر لیڈ پر لیڈ ..

    آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے ایک مصری پاپائرس میں لکھا ایک واقعہ ۔

    سوا دو ہزار سال پہلے ایک رومن شہر livy میں دیکھا گیا ایسا ہی ایک واقعہ ۔

    دو ہزار سال پہلے دو آرمیز کے درمیان لڑائی کے دوران دیکھا گیا ایک عجیب و غریب واقعہ جسے انفیکٹ ، دونوں آرمیز نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور رپورٹ کیا تھا ۔

    سنہ 1668ء میں فرانس کے پورے ایک گاؤں کا قریب کے پہاڑوں پر ایک بہت ہی عجیب و غریب واقعہ ہوتا دیکھنے کی رپورٹ ، جس میں وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے گھبرا کر اس طرف پتھر بھی برسانے شروع کر دیئے ۔

    مجھ لگ رہا ہے کہ … میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں ۔

    فرقان قریشی

  • انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    انقلاب کہاں کامیاب ہوتے ہیں؟ — ضیغم قدیر

    تیسری دنیا کے ممالک میں آپ پچھلے پچاس سالوں کے تمام انقلاب دیکھ لیں وہ انقلاب نہیں بلکہ امریکی سازش کے نتیجے میں پھیلنے والی انارکی تھے۔

    عراق جیسا ہنستا بستا ملک کوئی نہیں تھا۔ دہشتگردی کا دنیا بھر میں وجود نہیں تھا مگر صدام حسین پسند نہیں تھا میر جعفروں کیساتھ مل کر اس کو ہٹایا گیا، نکلا کچھ بھی نہیں مگر وہ عراق جو پہلے پر امن تھا اب ایک عفریت کی جگہ بن گیا۔

    سوویت کی چڑھائی کے دوران افغانیوں کی مدد کی گئی یہ جیت گئے مگر بعد میں جب یہ پر سکون حکمرانی کر رہے تھے تو افغانستان آپریشن شروع کر دیا گیا۔ نتیجہ کھنڈر افغانستان کی صورت میں سامنے ہے۔

    عراق میں جو سنہ 2000 کے آغاز میں بیج بویا گیا اس نے پروان پکڑا اور یمن کی طرف ہجرت شروع کر دی، ایران اور عراق کی اس پراکسی وار میں یمن میں وہاں کے شعیوں کو بتایا گیا کہ وہ خطرے میں ہیں وہیں پر دوسری طرف امریکی مدد سے سعودیوں نے حوثی مخالف گروہوں کو سپورٹ کیا یہ چھوٹی موٹی لڑائیاں جاری تھی کہ عرب اسپرنگ نامی ایک جرثومے نے اس کو تقویت دی۔

    اس عرب سپرنگ نے زور پکڑا اور پھر حوثیوں اور دوسرے گروہوں کی ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ آج شام، یمن اور لیبیا تباہ ہو چکے ہیں۔ مصر اور اردن سیکیورٹی رسک پر ہیں اور لبنان پہلے ہی ریڈیکلائزڈ ہے۔ اس وقت شام اور یمن دو ممالک کا نام نہیں بلکہ مختلف باغی تحریکوں کی آماجگاہ ہیں جہاں پر ایک ملک کا وجود صرف باہر موجود شخص کو پتا ہے اندر سے یہ ملک تین سے چار گروہوں کے مجارٹی علاقوں میں منقسم ہیں۔

    لیبیا کی جی ڈی پی معمر قذافی کی حکومت میں بہترین سے اوپر تھی۔صحت سمیت سب کچھ فری تھا حکومت شادی کرنے تک کے پیسے خود دیتی تھی مگر بتایا گیا کہ قذافی ٹھیک نہیں ہے انارکی ہوئی، آج لیبیا انارکی میں جی رہا ہے۔

    انقلاب ایران تو سب کو یاد ہوگا۔ مگر اس انقلاب سے پہلے ایرانی کتنی پرسکون زندگی گزار رہے تھے یہ سب کو معلوم ہے لیکن اس بات کو تسلیم کرنا سب کے بس کی بات نہیں ہے۔ خیر 70 کی دہائی میں آئے ‘انقلاب’ نے بہت کچھ بدلا، ملک شدت پسند ہوا مگر ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایران کے اندر کسی اور ملک کی پراکسی وار نا چل سکی۔

    کل سے پاکستانی سوشل میڈیا پہ اس بات کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ ایران میں مورالٹی پولیس کا خاتمہ انقلاب ایران دوئم کی طرف اٹھا قدم ہے۔

    یہ خبر ان کے لئے بہت خوش آئند ہوگی۔ مگر ہمیں نتائج معلوم ہیں۔ آج اگر خامنائی کا کنٹرول ایران سے ختم ہوا تو یہ ٹیکسٹ بک میں لکھی بات ہے کہ کل کو ایران بھی اگلا شام، یمن یا عراق ہوگا۔

    یاد رکھیں.

    انقلاب وہاں ہی کامیاب ہوتے ہیں جہاں ہمسائیے امیر اور ترقی یافتہ ہوں ورنہ سانپوں کے بیچ میں اپنی حفاظتی شیلڈ اتار کر انقلاب کی تمنا کرنے والوں کو سانپ ہی ڈستے ہیں۔

    وہیں پر ہمارے تکفیری کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کے لئے یہ کمائی کا سیزن ہے کہ وہ یا تو انقلاب ایران کی ترویج کرکے پیسہ کمائیں یا اس کے مخالف گروہ یعنی ایرانی حکومت کی تائید کرکے، وہیں عام عوام جنہوں نے اس ممکنہ انارکی سے مرنا ہے وہ ان دانشوروں کی قلمی ماسٹربیشن سے تب تک نا آشناء رہتی ہے جب تک پاکستان کی طرح مہنگائی 50% تک اور بینکوں کی اے ٹی ایمز میں سے پیسے ملنے تک سب رک نہیں جاتے تب تک وہ ان قلمکاروں اور انقلاب فروشوں کے نعروں کو خریدتے رہتے ہیں۔

    عرب اسپرنگ سے لیکر پاکستان تک ہر جگہ ان تجزیہ کار لفافوں کی قلمی ماسٹربیشن بہت کچھ بگاڑ چکی ہے۔ اور سدھرنے والا کچھ نہیں ہے یہ گھر اجاڑنے والے لفافے ایسے ہی گھروں کو اجاڑتے رہیں گے۔

  • یوم وفات،  میر گل خان نصیر

    یوم وفات، میر گل خان نصیر

    من شبیہہ این جوان ہائے شجاعی ہستم
    کہ در کمین گاہ دشمنان گرفتار شدہ اند
    میر گل خان نصیر

    پیدائش:14 مئی 1914ء
    کراچی
    وفات:06 دسمبر 1983ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان

    نسل:بلوچ
    مذہب:Sunni Muslim
    زبان: براہوی / بلوچی

    ۔۔۔ 1st Education Minister
    ۔۔۔ of Balochistan
    ۔۔۔ 1972 – 1973

    میر گل خان نصیر بلوچستان کی ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ آپ کو ملک الشعرا کا خطا ب دیا گیا تھا۔ آپ1914ء کو نوشکی، بلوچستان میں پیداہوئے۔ آپ ایک مقبول سیاستداں، ایک قوم پرست شاعر، ایک تاریخ داں اور صحافی کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ نے فارسی،اردو اور بلوچی زبانوں میں شاعری کی۔ 06 دسمبر1983ء کو یہ مڈ ایسٹ ہسپتال کراچی میں کینسر کے موذی مرض کے ہاتھوں چل بسے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر گل خان نصیر 14 مئی 1914ء کو بلوچستان کے شہر نوشکی میں مینگل قبیلے کی ایک شاخ پائیند خیل کے میر حبیب خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ درجہ چہارم تک اپنے گاؤں میں تعلیم حاصل کی پھر گورنمنٹ سنڈیمن ہائی اسکول کوئٹہ چلے گئے میٹرک کے بعدآپ نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا، بارہویں جماعت میں انگیٹھی سے ایک کوئلہ کا ذرہ آپ کی آنکھ میں چلا گیا جس کے باعث آپ واپس گھر آ گئے۔ اسلامیہ کالج لاہور ادبی و سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا اس دور میں بلوچستان مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا ایک حصہ چیف کمشنر کے ماتحت تھا ،باقی صوبہ ریاستوں میں تقسیم تھا جنہیں انگریز مقامی قبائلی رہنماؤں کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے۔

    سیاسی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور سے واپس آکر آپ نے ”انجمن اتحاد بلوچستان“ کی تنظیم میں شرکت اختیار کی یہ تنظیم1921ءمیں قائم ہوئی تھی 1936ء میں یہ تنظیم جب غیر فعال ہو گئی تو بلوچستان کے نوجوانوں نے ”انجمن اسلامیہ ریاست قلات ” کے نام سے تنظیم بنائی۔ میر گل خان نصیر صدر اور عبد الرحیم خواجہ خیل اس کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے مشرقی پاکستان کے سانحہ کے بعد میر عطا اللہ مینگل کی وزارت عظمیٰ کے دوران آپ صوبائی وزیر تعلیم، صحت اور انفارمیشن کے صوبائی وزیر تھے آپ کے دور میں بولان میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس دوران بلوچستان حکومت کے اکبر بگٹی سے اختلافات بہت بڑھ گئے۔ پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹونیشنل عوامی پارٹی ( عدالتی حکم پر غدار قرار دئے جانے کے بعد موجودہ عوامی نیشنل پارٹی) سے جان چھڑانا چاہتے تھے انھوں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خیبر پختونخوا(اس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا ) اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت ختم کر دی اور ان کے رہنماؤں کو جیل میں ڈا ل دیا اور دونوں صوبوں میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں ملٹر ی آپریشن شروع کر دیا۔ جب پاک آرمی میر گل خان نصیر کے 72 سالہ بھائی میر لونگ خان کو گرفتار کرنے دشت گوران میں داخل ہوئی تو میر لونگ خان نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا پاک آرمی کے ساتھ مقابلہ ہوا پاک آرمی جدید ترین اسلحہ سے لیس تھی جبکہ میر لونگ خان کے ساتھ مینگل بیرل بندوقوں سے مسلح چند افراد تھے اس لڑائی میں میر لونگ خان جان بحق ہوئے جبکہ پاک آرمی کے 29 جوان اللہ کو پیارے ہوئے۔ میر گل خان نصیر، ان کے چھوٹے بھائی کرنل (ر) سلطان محمود خان، غوث بخش بزنجو اورخیر بخش مری کو گرفتار کر لیا گیا۔ میر گل خان نصیر نے ایام اسیری میں بہت کلام لکھا۔ یہ سب کچھ اکبر بگٹی مرحوم کے دور حکومت میں ہوا عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں خان عبدالولی خان، سردار عطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، سید قصور گردیزی، حبیب جالب، غوث بخش بزنجو پر ٹریبونل کے سامنے غدار ی کا مقدمہ چلا ضیا الحق کے دور حکومت میں ان رہنماؤں کو رہائی ملی جس کے بعد غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، گل خان نصیر، نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان میں پناہ لی جبکہ خیر بخش مری اور شیرو مری مستقل طور پر افغانستان منتقل ہوگئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)تاریخ بلوچستان
    ۔ (2)کوچ و بلوچ
    ۔ (3)گرند (شاعری)
    ۔ (4)بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار (ترجمہ)
    ۔ (5)گل بانگ(1951/بلوچی شاعری)
    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    من شبیہہ این جوان ہائے شجاعی ہستم
    کہ در کمین گاہ دشمنان گرفتار شدہ اند

  • یوم ولادت، سعود عثمانی

    یوم ولادت، سعود عثمانی

    رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
    جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نام:سعود عثمانی
    اصل نام:سعود اشرف عثمانی
    تاریخ پیدائش:06دسمبر 1958ء
    جائے پیدائش:لاہور
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری، تحقیق
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارش-2007
    ۔ (2)قوس-1997
    ۔ (3)جل پری
    مستقل پتا:14۔دیناناتھ مینشن مال روڈ،لاہور

    ۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعود عثمانی کا تعلق ایک ایسے ادبی و علمی گھرانے سے ہے جس میں بہت عمدہ شاعر جناب ذکی کیفی (والد) اور مولانا جسٹس (ریٹائرڈ) تقی عثمانی (چچا) جیسے بڑے بڑے نام شامل ہیں۔
    سعود عثمانی، 6 دسمبر 1961ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ہی مستقل سکونت ہے۔ بی ایس سی (فزکس) اسلامیہ کالج سول لائینز اور ایم بی اے (پنجاب یونیورسٹی) سے مکمل کیے اور اس وقت سے پبلشنگ اینڈ ایکسپورٹ کو سنبھال رہے ہیں ۔
    سعود عثمانی کی شاعری کی 2 کتب بالترتیب ”قوس“ 1997 میں اور ”بارش“ 2007 میں منظر عام پر آئیں اور اپنی فکری جہتوں، اسلوب، جدید لہجے اور عمدہ پیرایۂ اظہار کے باعث ہر خاص و عام میں مقبول ہوئیں۔
    سعود عثمانی کی ان کتب کے اعلی و عمدہ معیار کی وجہ سے ”قوس“ کو ”وزیر اعظم ادبی ایوارڈ“ اور ”بارش“ کو ”احمد ندیم قاسمی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    ان 2 کتب کے علاوہ سعود عثمانی نے کچھ کتابوں کے تراجم بھی کیے، جس پر انہیں "میاں محمد بخش ایوارڈ” اور "حسن قلم ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    سعود عثمانی پاکستان اور بیرون ملک میں متعدد اقوامی و بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    سفر سے پہلے پرکھ لینا ہم سفر کا خلوص
    پھر آگے اپنا مقدر ہے، جو مقدر ہو

    یہ زہر خون کے ہمراہ رقص کرتا ہے
    بہت چکھا ہے محبت کا ذائقہ میں نے

    اے عشق ِ سینہ سوز مرے دل سے دل ملا
    اور یوں کہ بس کلام ہو اور گفتگو نہ ہو

    رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
    جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

    حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
    کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

    میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا
    مرے لیے تو کوئی اور راستہ بھی نہیں

    یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
    دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی

    یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں
    خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے

    تیری شکست اصل میں میری شکست ہے
    تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا

    ہر اک افق پہ مسلسل طلوع ہوتا ہوا
    میں آفتاب کے مانند رہ گزار میں تھا

    وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
    سو اس کا جشن بصدِ اہتمام میں نے کیا

    مزاجِ درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے
    کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

    نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے
    کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی

    اتنی سیاہ رات میں اتنی سی روشنی
    یہ چاند وہ نہیں مرا مہتاب اور ہے

    تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے
    تمام عمر مرا کون انتظار کرے گا

    بچھڑ کے جاتے ہوئے عشق ! فی امان اللہ
    تو میرے ساتھ رہے گا ‘مگر خدا حافظ

    عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی
    اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

    حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

    کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

    ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا
    تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا

    نمو پذیر ہے اک دشت بے نمو مجھ میں
    ظہور کرنے کو ہے شہرِ آرزو مجھ میں

    نظروں کی طرح لوگ نظارے کی طرح ہم
    بھیگی ہوئی پلکوں کے کنارے کی طرح ہم

    عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
    کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا

  • 1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر :  ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    بلاشبہ موجودہ دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے اس کی جغرافیائی حیثیث قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ آج 4 دسمبر کا وہ تاریخی دن ہے جب پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے پی۔این۔ ایس "غازی” کے شہداء کی یاد میں وطن سے ہر قیمت پر وفاداری کے عہد کو ایک بار پھر دہرا رہے ہیں۔ یہ وہی ‘غازی’ ہے جو 1971 کی جنگ میں دشمن کی نظروں سے اوجھل اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے بدقسمتی سے اپنی ہی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 85افسران جام شہادت نوش کر گئے تھے جن کی جرات و بہادری کو ہر سال خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ گو کہ پی این ایس غازی بہت کم عرصہ تک پاکستانی فلیٹ کا حصہ رہی لیکن اس کی دھاک اور دہشت سے آج بھی دشمن کانپ جاتا ہے۔ اگر ہم 1971 کی جنگ کا مختصر جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ جنگ بھارت کی غیر قانونی و انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی تھی۔ عالمی قوانین کے مطابق کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر بھارت کی جانب سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں شورش پھیلائی گئی۔ بعد ازاں بھارت کی جانب سے باقاعدہ جنگ چھیڑے جانے کے بعد پاکستان کے پاس صرف بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا آپشن باقی تھا۔ پاک بحریہ کے پاس پی این ایس غازی کی صورت میں ڈیزل الیکٹرک سب میرین موجود تھی جو بھارت کے’وکرانت’ نامی ائیر کرافٹ کئیریر کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ لہذا بھارتی افسران کی جانب سے وکرانت کو ‘محفوظ مقام’ پر منتقل کیا گیااور ‘غازی’ کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج بنگال میں دو جنگی بحری جہاز روانہ کیے گئے۔ ان سب کی نظروں سے اوجھل پی این ایس غازی بھارتی کیمپ کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب رہی۔ 4 دسمبر کی رات بھارتی بحریہ کے پڑاو میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جس وقت زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔ بھارتی بحریہ کے سابق کموڈور جیکب کے مطابق دھماکے کے آوازیں اس قدر شدید تھیں کہ انہیں گمان ہوا کھ شایدپی این ایس غازی کی جانب سے شدید حملہ ہو گیا ہے۔ بعد ازاں 5 دن کی مسلسل غوطہ خوری کے نتیجے کے مطابق حقیقت معلوم ہوئی کہ پی این ایس غازی اپنی ہی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ کے پھٹنے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔

    بھارت کی جانب سے اس کو اپنی کامیابی گردانا گیا اور اس وقوعہ کے 5 دن بعد 9 دسمبر کو اس کو بھارتی بحریہ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ یاد رہے 9 دسمبر کا دن بھی وہ تاریخی نوعیت کا دن ہے جب پی این ایس ‘ہنگور ‘ نے بھارتی بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھنے جانے والے آئی این ایس’ ککری’ کو شکست دی تھی۔ مبصرین کے مطابق ککری کی شکست سے تو جہ ہٹانے کی خاطر بدقسمت غازی کو اپنی کامیابی بتایا گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار بھارتی بحریہ کی جانب سے 5 دن تک اپنی خود ساختہ کامیابی کا اعلان کیوں نہ کیا گیا ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2010 میں بھارتی سرکار کی جانب سے غازی سے متعلق تمام ریکارڈ کو ضائع کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام سوالات اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی طرح اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ حال ہی میں فروری 2017 کے قیدی بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ایوارڈ سے نواز کر بھارت دنیا کی توجہ پاکستان کی جنگی کامیابیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پاک بحریہ کی ساتویں کثیرالقومی بحری مشق امن 2021 کا آغاز

    پاک بحریہ کے زیر اہتمام گوادر میں مقامی بچوں کے لیے سیلنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا

    جنگ کے طور طریقے بدل گئے ہیں اور اب غیر روایتی انداز میں دشمن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت بالی ووڈ کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ بھارت کا غازی سے لیکر ابھی نندن تک کے تمام جھوٹ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔دنیا یہ جانتی ہے کہ بحری جنگ زمینی اور فضائی جنگ سے قدرے مختلف ہے اور اس میں جنگی حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیت سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے بہت مشکل ہوتا ہے۔ پی این ایس غازی کا دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو کر بھارتی کیمپ کے نز دیک پہنچ جانا اور بعد ازاں پی این ایس ہنگور کی جانب سے آئی این ایس ککری کو شکست دینا اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاک بحریہ جنگی حکمت عملی بنانے اور آپریشنل لیول پر اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بھارتی بحریہ سے بہت بہتر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی سفید وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ پاکستان کی بحری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر کا اضافہ اورمسلسل سات ‘ امن مشقوں ‘ کا انعقاد اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاک بحریہ نہ صرف تمام دوست ممالک سے امن اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاک بحریہ نے ماضی میں بھی قومی دفاع اور سلامتی کی خاطر جانیں قربان کی ہیں اور آج کے تاریخی دن قوم سے ایک بار پھر وعدہ ہے کہ دشمن چاہے کتنا ہی طاقت ور اور تعداد میں بڑا کیوں نہ ہو، پاکستان کی بحری افواج اپنے ملک و قوم کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

  • بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    میں نے دیکھا ۔۔۔ کہ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے کچھ بونس پوائنٹس یا coins وغیرہ کی آفر ملتی ہے۔ اُنہیں پاکٹ کر لینے سے آپ کی قوت و طاقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اِس اضافی قوت کے استعمال سے آپ کوئی بڑی گھاٹی، بڑی رکاوٹ زیادہ بڑا جمپ لے کر عبور کر جاتے ہیں۔

    پرسوں رات کیا ہوا؟ ۔۔۔ میرے بڑے بھائی لاہور سے اسلام آباد سفر کے دوران ایک جان لیوا حادثے میں بال بال بچ گئے۔

    یہاں پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی کے آس پاس والے علاقے میں ایک جگہ سڑک زیرِ تعمیر ہے۔ ایک جگہ road divider کا کچھ حصہ ایسی ایبنارمل حالت میں پڑا ہے کہ وہاں ہر روز ایک نیا حادثہ جنم لیتا ہے۔

    اندھیرے میں میرے بھائی کی گاڑی کا ٹائر بھی ذرا سا سلِپ ہو کر اوپر چڑھا تو گاڑی بے قابو ہو کر ڈِیوائیڈر پر چڑھ دوڑی۔ اب قریب تھا کہ گاڑی وَن وے سڑک کے دوسری جانب اتر کر فاسٹ ٹریک پر چڑھ جاتی اور بیسیوں تیز رفتار گاڑیاں اُس کا کچومر بنا دیتیں، گاڑی یکلخت رُک گئی۔ رکتے ہی، حیرت انگیز طور، کوئی پانچ درجن افراد نے گاڑی کو گھیر لیا۔ یعنی مدد اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے۔

    بھائی کہتے ہیں، پہلے تو میں یہ دیکھ کر حیران کہ رات گئے اتنے لوگ ! ۔۔۔ وہ بھی ایکدم سے!! ۔۔۔ اور دردمندی کا ایسا اظہار، اور پھر گاڑی نکال لے جانے میں مدد۔۔!! ۔۔۔ بتایا گیا، "آپ سے پہلے ہم دو ڈَیڈ باڈیز اٹھا چکے ہیں۔ اُن دونوں حضرات کی گاڑیاں بھی مکمل تباہ ہو گئی تھیں۔ حیرت ہے آپ کو خراش تک نہیں آئی، اور آپکی گاڑی بھی صحیح سلامت۔ ورنہ اِس صورتحال میں بچت کا امکان تقریباً صفر برابر ہے۔”

    میں نے بھائی سے پوچھا آپ یہاں اسلام آباد وارد ہونے سے قبل لاہور کیا لینے گئے تھے، کس کام سے؟

    جواب ملا، ماموں کے جس بیمار بیٹے کا لاہور سے علاج کروایا تھا، لاہور میں ہی اس کی جاب کروا دی تھی۔ اب مہینہ بھر گذر چکا تو اُسے گھر والوں سے ملوانے خود لاہور سے لا کر گاؤں میں ڈراپ کیا تھا۔ ساتھ میں اُن کے گھر تیس چالیس ہزار روپے کا راشن بھی ڈال آیا کہ مہنگائی بہت ہے ۔۔۔

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی۔

    کتابِ تقدیر میں درج شیڈول کے مطابق قضا نے اپنا پنجہ مار کر بھائی کو اُچک لینا چاہا تھا۔ مگر "ویڈیو گیم پلیئر” نے راستے میں میسر آئے کچھ بیش قیمت coins پاکٹ کر رکھے تھے۔ چنانچہ گیم پلئیر اپنی اضافی قوت سے تقدیر کی بچھائی اِس موت کی گھاٹی کو بڑا جمپ لے کر عبور کر گیا تھا۔

    ایک بار پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کی زبان سے سنا کہ تقدیر کوئی اتنی بھی اٹل شے نہیں ہے۔ شطرنج کی بساط کی طرح اِدھر سے اُدھر ہو جانے والے راستے موجود ہیں۔ اِن کے واضح اشارات قرآن و حدیث میں ہمیں مل جاتے ہیں۔ جیسے ایک حدیثِ رسولؐ کے مطابق اگر کسی شخص کی رخصتی کا وقت قریب آن پہنچا ہے مگر اُس کی زندگی کے حق میں ڈھیر سارے لوگ مل کر دُعا کر دیں تو ایسی دُعا کو honour کیا جاتا ہے۔ اُس شخص کے حق میں ایکسٹینشن دے دی جاتی ہے ۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بنی اسرائیل کی اُس فاحشہ عورت نے کنویں کنارے پیاس سے ہانپتے کتے کو پانی پلایا تھا۔ اپنے جوتے کو ڈول بنا کر کنویں میں اتارا، پانی بھر کر باہر لائی، پانی پلایا ۔۔۔ اس کے عوض اُسے بہشت والی گاڑی کا ٹکٹ تھما کر بہشتی گاڑی میں بٹھا دیا گیا ۔۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بس نظر رکھیں، ایسے coins ہمارے گردوپیش میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہ کبھی ہمارے دروازے پر براہ راست دستک دیتے ہیں، تو کبھی راستے میں پڑے ملیں گے ۔۔۔ گاہے فون پر کوئی اطلاع ملنے کی صورت ۔۔۔ کمفرٹ زون سے قدرے باہر آ کر اِنہیں اُچک لینا ضروری ہے۔

  • ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شکر ہے کہ ہمارے وقت میں سوشل میڈیا کا وجود نہ تھا وگرنہ جس طرح کل سے 29 میڈل لینے والے ڈاکٹر ولید کی مسلسل تحقیر کی جارہی ہے ، میں تو خودکشی کر لیتا۔

    چونکہ میرا تعلیمی کیرئیر ڈاکٹر ولید سے مماثل ہے اور انجنئیرنگ یونیورسٹی میں اسی طرح ہم نے بھی گردن بھر میڈل لئے تھے تو میں کسی قدر جان سکتا ہوں کہ بے چارے ولید اور اس کے والدین اگر سوشل میڈیا ئی طوفانی پوسٹیں دیکھ رہے ہیں تو وہ بہت دُکھی ہوں گے۔ کیوں کہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے پردے کے پیچھے کی عزم وۂمت کی داستان وہی جانتے ہیں۔

    فرسٹریشن کے مارے کسی ڈاکٹر توصیف آفریدی نے بظاہراً نظام کے نوحے کے نام پر ایک پوسٹ لکھ ماری جس میں اس کا تقابل ایک ڈانسر لڑکی سے کیا گیا کہ جسے ندا یاسر تو اپنے شو میں بلاتی ہے یاسر شامی پیچھا کرتا ہے مگر اس لڑکے کو کوئی گھاس نہیں ڈالے گا۔ ڈاکٹر ولید کو ایک بے کار انشان کہا گیا کہ اس کی شکل دیکھ لو یہ آپ کو دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔

    زنگر برگروں نے ذہنی چسکے کے لئے اس پوسٹ کو خوب اٹھایا۔ کہا گیا کہ اس نے پریکٹیکل لائف میں آکر دھکے کھانے ہیں، نوکری نہیں ملنی، رشوت سفارش سے کوئی نوکری مل بھی گئی تو اسے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔ اور اگر وہ ملک چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے تو اس کا اپنی اگلی نسلوں پر احسان ہوگا۔اسے میڈل بیچ دینے تک کا کہا گیا۔

    قسم لے لیں جو کسی ایک زنگر برگر نے بھی اس کی محنت اور جذبے کو سراہا ہو، اس کو کامیابی پر مبارک باد دی ہو یا ا س کے بہتر مستقبل کی دعا کی ہو ۔ ہماری ذہنی حالت اس سے زیادہ اور بانجھ اور اپاہج کیا ہوسکتی ہے۔

    ٹیلنٹ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ ڈاکٹر ولید کو جھوٹی سچی ہمدردی کے نام پر اپنی تحقیر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انشااللہ وہ ہمارا ایک بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوگا۔

    میرے گلے میں جب وزیراعلی پنجاب جناب شہباز شریف صاحب بار بار لگاتار میڈل ڈال رہے تھے تو میں اس وقت چھ ماہ سے جاری مسلسل بے کاری کی حالت میں تھا۔ اور الحمدللّٰہ ٹھیک بیس سال بعد میں ایک فرم اونر کے طور پر انکے شروع کردہ فارم ٹو مارکیٹ روڈ پراجیکٹ کی کنسل ٹینسی کا کانٹریکٹ لینے کے بعد ان سے کِک سٹارٹ میٹنگ کر رہا تھا۔

    ہمارے نظام کی خرابیوں کو ہم لوگوں نے ہی ٹھیک کرنا ہے نہ کہ اپنے بہترین دماغوں کا ٹھٹہ اڑا کر انہیں بے عزت کرنا ہے، اپنے پڑھنے والے بچوں کا دماغ خراب کرنا ہے اور ان کے والدین کا مایوس کرنا ہے۔

    ڈاکٹر ہو یا انجنئیر، ہمیشہ اسےاپنی پروفیشنل لائف سکریچ سے شروع کر نا پڑتی ہے اور اپنے فن سے اپنے فیلڈ میں نام بنانا پڑتا ہے۔

    مانا کہ زندگی کے زمینی حقائق بہت تلخ ہیں، بہت دشواریاں، رکاوٹیں اور پریشانیاں ہیں لیکن ایک دن کے لئے ۔۔ صرف ایک دن کے لئے۔۔۔کیا ان سب مسائل کو اپنے ذہن سے جھٹک کر ہم کسی کی محنت اور کامیابی کو سیلی بریٹ نہیں کرسکتے؟

    کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گو معاشرے میں بہت دشواریاں ہیں لیکن آپ کی بے مثل کامیابی کی وجہ سے آپ یقیناً لاکھوں میں ایک ہیں۔ آپ انشااللہ بہت ترقی کریں گے۔