Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کیلئے کراچی پہنچ گئی۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کیلئے کراچی پہنچ گئی۔

    دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز کیلئے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کیلئے کراچی پہنچ گئی ہے.

    نیوزی لینڈ ٹیم کا کراچی پہنچنے پر آفیشلز کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا گیا، پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور گلدستے پیش کیے گئے، کیوی ٹیم کو صدراتی پروٹوکول حاصل ہے۔ جس کے باعث ائیرپورٹ اور اطراف میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مہمان ٹیم ٹیم آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ کے 2 ٹیسٹ میچز کھیلے گی جس کے بعد ون ڈے سیریز شیڈول ہے۔

    سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 26 دسمبر سے کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 3 جنوری کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔ ون ڈے سیریز کی میزبانی بھی کراچی کے سپرد کی گئی ہے، تینوں میچز بالترتیب 10، 12 اور 14 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے.وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری
    پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات
    لندن میں مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ نے ٹی وی چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔
    سینما کی تاریخ کا مشکل ترین، ممکنہ طور پر جان لیوا اور مہنگا اسٹنٹ ٹام کروز پر فلمبند
    سینجنٹا کا فصلوں کے بیمہ پروگرام کا کامیابی سے آغاز
    بازو میں شدید درد کی شکایت، وجہ لبلبے کا سرطان قرار
    اسلام آباد سے شارجہ جانیوالے مسافر کے پیٹ سے ہیروئن بھرے کیپسول برآمد
    کیوی ٹیم دوسرے مرحلہ میں 13 اپریل سے 7 مئی تک دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گی، اس دوران دونوں ممالک کے درمیان 5 ٹی20 انٹرنیشنل اور اتنے ہی ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جائیں گے۔

  • بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    "کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں”

    ,وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    "اور”انوکھا لاڈلا”

    جیسے بے شمار مقبول گیت گانے والی گلوکارہ بلقیس خانم کراچی میں انتقال کرگئیں۔بلقیس خانم نے ریڈیو، ٹی وی کے ساتھ فلموں کے لئے بھی یاد گار گیت گائے۔ میوزک انڈسٹری نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے
    وہ معروف ستار نواز استاد رئیس خاں کی بیوہ تھیں۔

  • بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    پیدائش:21 دسمبر 1804ء
    لندن
    وفات:19 اپریل 1881ء
    مے فیئر
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مذہب:کلیسائے انگلستان
    (اپنی زیادہ تر زندگی میں)
    یہودی (13ویں سال تک)
    جماعت:کنزرویٹو پارٹی
    رکن:رائل سوسائٹی
    پیشہ:سیاست داں، ناول نگار
    مصنف، سوانح نگار
    زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ گلاسگو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)رائل سوسائٹی فیلو
    ۔ (2)آرڈر آف گارٹر
    وزیر اعظم مملکت متحدہ
    مدت منصب
    ۔ 20 فروری 1874 – 21 اپریل 1880
    حکمراں، ملکہ وکٹوریہ
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1868 – 1 دسمبر 1868
    قائد حزب اختلاف
    مدت منصب
    ۔ 01 دسمبر 1868 – – 17 فروری 1874
    چانسلر
    مدت منصب
    ۔ 06 جولائی 1866 – 29 فروری 1868
    مدت منصب
    ۔ 26 فروری 1858 – 11 جون 1859
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1852 – 17 دسمبر 1852

    بنجمن ڈزریلی (پیدائش: 1804ء، انتقال: 1881ء) یہودی نژاد برطانوی وزیر اعظم۔ ابتدا میں ناول لکھتے تھ۔ 1837میں پارلیمنٹ کا رکن بنے۔ 1852ء میں وزیر خزانہ اور 1837ء میں وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی ہار گئی لیکن نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر 1874ء سے 1880ء تک پھر وزیر اعظم رہے۔ ان کے عہدِ وزارت میں مزدوروں کی بہبود کے لیے کارخانوں میں نئی اصلاحات کی گئیں۔ نہر سویز کے حصص خریدے گئے اور ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی ملکہ بنی۔

  • نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں ” جوگن” نظر آئے

    : نینا جوگن

    تاریخ ولادت:21 دسمبر 1964ء
    تعلیم:بی اے (آنرز) فرسٹ کلاس فرسٹ
    بی ایڈ، مولوی، عالم، فاضل
    تصنیف:تمھارے نام (شعری مجموعہ)
    فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی
    لکھنؤ کے تعاون سے شائع
    مصروفیات:پڑھنا، لکھنا اور کھانا پکانا
    ادارت:معاون مدیر، سہہ ماہی ”کوہسار“ جرنل
    پتا:کوہسار، بیکھن پور-3، بھاگل پور-

    نیناجوگن:کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فرضی نام ہے، حقیقت جو بھی ہو لیکن اس نام سے بہت سی کہانیاں شائع ہوئی ہیں، 1974ء کے بعد ہندوستان کے بیشتر رسائل میں ان کے افسانے شائع ہورہے ہیں، ان کے افسانوں میں زندگی کے حقائق اور اندرونی کیفیات کی سچی اور تیکھی ترجمانی ملتی ہے۔
    (’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم 1996ء‘‘)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کوئی رند ، نہ ساقی ، نہ چھلکتی پیالی
    کہیں ٹوٹا ہوا شیشہ کہیں ساغر خالی
    آگیا روپ جو سبزے پہ تو کلیاں چٹکیں
    غنچہ و گل میں تلی خیر سے ڈالی ڈالی
    پھر چھماچھم کی بہاروں سے کھِلے دل کے کنول
    صحنِ گلشن میں ہوا آگئی اُتّر والی
    ہائے کیا وقت ہے کیا فصل ہے کیا موسم ہے
    کیف سے جس کے ہر اک آنکھ ہوئی متوالی
    یہ ہوائیں یہ نظارے یہ بہاریں یہ سماں
    دیکھتی ہے وہی پتلی جو ہے قسمت والی
    کوئی سنتا ہی نہیں نیناؔ کہانی آکر
    جی میں آیا تو خود اپنے ہی لئے دُہرالی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جذبِ محبت تری تاثیر سے شاید
    کچھ راہ پہ آئے کہ سرِ رہ گزر آئے
    اے دل کبھی آنا نہ لگاوٹ میں کسی کی
    ظاہر میں وہ اپنے ہیں پہ باطن میں پرائے
    ہرجائی کہا میں نے تو وہ غصہ میں آکر
    آنکھوں میں ابھی تھے ابھی دل میں اُتر آئے
    اڑتا ہے جبیں سائی سے سنگِ درِ جاناں
    یہ میری کرامت ہے کہ پتھر کے پتر آئے
    ملتے ہیں سرِ راہ تو کرتے ہیں شکایت
    جاتی ہوں تو کہتے ہیں کہ کہئے کدھر آئے
    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں جوگنؔ نظر آئے

  • صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    21 دسمبر…… آج صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش ہے۔
    صابرہ سلطانہ (اصل نام رابعہ) منگل 21 دسمبر 1945 کو بمبئی، بھارت میں ایک انتہائی قدامت پسند گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کی اباو اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔
    اس کے دوستوں کو یاد ہے کہ فلم ڈائریکٹر اے ایچ صدیقی نے صابرہ میں اداکاری کی زبردست صلاحیت کو پہچانا اور ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں اسے فلم ‘انصاف’ (صابرہ کی پہلی فلم) کے لیے سائن کیا تھا۔ ‘انصاف’ میں نیلو اور کمال نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ کراچی میں بنائی گئی تھی۔ اگلا، شباب کرنوی، جو اس وقت کے ایک مستحکم ہدایت کار تھے، نے انہیں اپنی دو فلموں، ‘جمیلہ’ اور ‘شکریہ’ کے لیے لیا۔ ان دونوں فلموں میں صابرہ نے مرکزی کردار ادا کیا، بعد ازاں وہ معروف ہدایت کار حسن طارق کی فلم ‘کنیز’ میں نظر آئیں۔ صابرہ نے ایک بوڑھی عورت کے اپنے سب سے زیادہ چیلنجنگ کردار کے ساتھ پورا انصاف کیا، جسے اس کی اپنی کوئی غلطی نہ ہونے کے ناانصافی کا نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے ‘کنیز’ میں اپنے جاندار کردار کے لیے بے پناہ تعریفیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ ‘کنیز’ نے آخر کار انھیں ایک اعلیٰ ترین اداکارہ کے طور پر قائم کیا، جس کی وجہ ان کے شاندار فلمی کیرئیر میں اہم کردار ادا کرنے والی بہت سی چیزوں میں سے ایک وجہ صابرہ کی تھی۔ چہرے، پر سکون، مسکراہٹ، جس نے پرجوش عوام میں اس کا نام روشن کیا۔ مزید یہ کہ اس کی بے مثال طبیعت میں کچھ ایسا تھا جس نے فلم بینوں کو اپنی فلموں کے لیے لائن لگانے پر مجبور کیا۔ سلور اسکرین کی خوبصورتی صابرہ نے ایک خوبصورت لڑکی کا کردار ادا کیا۔ فلم ‘مجاہد’ میں جو ان کی حقیقی زندگی کے بہت قریب تھی، اس لحاظ سے کہ وہ ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی تھی۔ اس کا ملکہ کا کردار تھا، جس نے فلم میں ان کی موجودگی کو چار چاند لگا دیا۔

    فلم’عادلیںں صابرہ نے اپنی تمام فلموں میں اپنا کام قابل تعریف انداز میں کیا۔ سخت مقابلے کے زمانے میں، انہوں نے ‘اعلان جیسی فلم میں اپنے بے شمار مداحوں کی داد حاصل کی۔ اس نے فلم ‘برما روڈ’ میں شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ سحرا، جس کے گانے آج تک مقبول ہیں۔ صابرہ نے فلم ’بہادر‘ میں اپنے کردار سے لاکھوں لوگوں کو مسحور کیا تھا۔ کوئی پرانی یادوں کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ‘شام سویرا’ اور احمد سرتاج کی فلم ‘ضدی’ جیسی بلاک بسٹر میں صابرہ کی جذباتی اداکاری کو یاد کرتا ہے، جس نے ساٹھ کی دہائی کو متاثر کیا تھا۔ مزید برآں، سپر ہٹ فلموں کے وسیع سلسلے میں، ان کے مخلص پرستار صابرہ کی فلموں ‘لگان’ اور ‘بزدل’ میں اداکاری کو کبھی نہیں بھولیں گے، جس میں ان کے ناقابل بیان جذبے اور احساس کو شامل کیا گیا تھا۔

    صابرہ کی فلمیں ‘چودہ سال’، ‘شریک حیات’، اور ‘معجزہ’ میں اپنے شدید محسوس اور پرکشش کرداروں کے لیے بہت قدر کی جاتی ہیں، جس نے ان کی شہرت کو بلندیوں تک پہنچایا۔اپنے فلمی کیرئیر کے دوسرے مرحلے میں انہوں نے متعدد فلموں میں کریکٹر رول ادا کیا۔

    جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، چونکہ صابرہ کا تعلیمی پس منظر مضبوط تھا، اس لیے وہ لاہور میں اپنے ہی لڑکیوں کے اسکول میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

    ان کی فلموں کی فہرست یہ ہیں: انصاف، تم نہ مانو، یہودی کی لڑکی، شکریہ، جمیلہ، ماں کا پیار، چھوٹی بہن ، بہو بیگم، عید مبارک، مجاہد، کنیز، معجزہ ، میرا سلام، عادل، انسان، نغمہ صہرا ، اعلان ، برما روڈ، شام سویرا، 14 سال، شریک حیات، سونے کی چڑیا ، صایقہ ، تاج محل، بزدل، دل دیکے دیکھو ، تخت اور تاج، آنسو بن گئے موتی، نورین، چاند سورج، غرناطہ ، چراغ کہاں روشنی کہاں، عجب خان آفریدی، بدلے گی دنیا ساتھی، دل ایک آئینہ ، سہاگ ، فرض، سرحد کی گود میں، نیا راستہ، زخمی، رنگیلا اور منور ظریف، جنگ اور امن ، انتظار، وطن مینا، مستانی محبوبہ، مسال، ہیرو، مرد جینے نہیں دیتے، قسمت، بالی جٹی، جگ ماہی، شرنگ دا بنگرو، تیرے پیار میں، جانور ، اور چلو عشق لڑائیں شامل ہیں ۔

  • حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    دنیا میں ایک سے ایک حسین و خوبصورت پھل موجود ہیں . کینیڈا سے لیکر جنوبی اشیاء تک نارنجی بیر اگر آپ ان بیر کے درختوں پر دیکھیں گے تو دل فوری کھانے کو مچلے گا. سردی کے موسم میں شوخ سرخ رنگ کے بیر یورپی جنگلات میں دکھائی دیتے ہیں. بندہ دیکھتا ہی رے جائے.

    لیکن یہ آپ کھا نہیں سکتے. اگر غلطی سے کھا بھی لیا تو پچھتاتے رے جائیں گے. ہمارے بیر بظاہر اتنے خوبصورت نہیں لیکن آپ بے فکر کھا سکتے ہیں. بظاہر بدشکل مٹیالا چیکو بھی اندر سے مٹھاس کا خزانہ ہے. سمندر کا نیلگوں پانی بے تحاشا ہے. لیکن کسی پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا. صحرا میں بارش کا پانی سنبھالے تالاب بھلے گدلا ہو لیکن انسان اور مویشی اسے پی سکتے ہیں.

    حسن پر ہم کچھ دیر آنکھ جھپکنا ضرور بھول جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری آنکھوں کو پندرہ سے انیس ہزار بار روز جھپکی لینی ہی ہوتی ہے. ہمیں نیند لازم چاہئے اور یہ آنکھیں سب کچھ بھول کر بند ہو جاتی ہیں. لیکن دل ہمارا چوبیس گھنٹے دھڑکتا ہے. اچھے اخلاق اور اچھے لوگوں کا دل خوبصورت ہوتا ہے. ایسے لوگ دل کو اچھے لگتے ہیں.

    حسن و خوبصورتی کا تعلق آنکھوں سے جوڑ بناتا ہے اس لئے ہر حسن کو زوال ہے. جبکہ اچھائی اور دل کی خوبصورتی نسل سے جوڑ بناتی ہے اس لئے وقت کے ساتھ اسکا حسن دوبالا ہوتا چلا جاتا ہے. یہ حسن اللہ کی نعمت اور ایسے حسین لوگ زندگی میں ہوں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے.

  • صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    مٹی ملے گدلے پانی کو کسی برتن میں رکھ دیں اسے کچھ وقت دیں تو اس کی مٹی آہستہ آہستہ تہہ پر بیٹھ جاتی ہے. آپ زندگی کی سائنس اگر جانتے ہوں تو یہی کام پھٹکری یعنی ایلم زیادہ جلدی کر لیتا ہے. کیونکہ ایلم پانی کی اساسیت سے مل کر ایک جیلیٹن ایفیکٹ بناتا ہے جو پانی میں موجود ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر تہہ پر بیٹھ جاتا ہے.

    یہی صبر اور شُکر ہے. زمین پر موجود ہر مسافر انسان کے اس سفر کا زاد راہ ہے. صبر ہمارے پر اُمید انتظار کا نام ہے اور شُکر بندگی کی سائنس ہے. صبر ہمیں وقت سکھا دیتا ہے لیکن شُکر ہمیں خود سیکھنا ہوتا ہے. ہماری اکثریت شُکر پر بلکل ویسے ہی کنفیوز ہوتی ہے جیسے یہ سائنس پر ہو جاتی ہے. شکر کوئی قرض نہیں ایک احسان ہے.

    قرض ایک حساب ہے. جبکہ احسان ایک احساس ہوتا ہے. قرض بھلے کوئی مال ہو اسباب ہو خدمت ہو اسکا حساب ممکن ہے. اور لوٹایا بھی جا سکتا ہے. احسان جب کے بس ایک احساس ہوتا ہے جو ہم تسلیم کر لیتے ہیں. جیسے ماں باپ کی اپنی اولاد سے محبت ایک احسان ہے. آپ زندگی بھر یہ احسان اتار ہی نہیں سکتے.

    ہمارا یہ تسلیم کرنا شکر ہے. جب ہم اللہ رب العزت کے خود پر احسانات شمار کرنے شروع کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہ بے حساب ہیں. یہی احساس ہماری ذات کی پوشیدہ بنیادوں میں وہ کیفیت تخلیق کرتی ہے جو سوچ و شخصیت کے آلودہ ذرات کو صاف کر کے ہماری سوچ کو شفاف بنا دیتی ہے. یہی شفافیت وہ فوکس یا ارتکاز دیتی ہے جو روح کو سیراب و مطمئن رکھتی ہے.

    قرآن سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 147
    مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيۡمًا ۞

    اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا ؟ اللہ بڑا قدردان ہے (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔

  • دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب دینی مدارس ہیں جس میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یتیم، مسکین اور غریب طلباء ہیں جو مدارس میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں یعنی ان کے چوبیس گھنٹے مدرسے میں ہی گزرتے ہیں۔ کئی کئی سالوں کی تعلیم کے بعد جب طالب علم باہر نکلتے ہیں تو بڑی مشکل سے انھیں کوئی نوکری ملتی ہے۔

    مل بھی جائے تو زیادہ تر کیسز میں کسی مسجد کے خادم، مؤذن، امام مسجد یا پھر کسی مدرس میں قاری ، عالم وغیرہ کے طور پر ہوتی ہے۔ اس میں تنخواہ بہت ہی تھوڑی ہوتی ہے جو کے سات سے پندرہ ہزار تک ہوتی ہے۔ یعنی اتنے سال مدرسے میں لگانے کے باوجود جیسے غریب مسکین پہلے ہوتے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں۔

    دینی تعلیم کوئی اتنی مشکل بھی نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی دوسری تعلیم یا ہنر کے لیے کچھ وقت نہ نکالا جا سکے۔

    مدارس اگر دن میں صرف ایک یا دو گھنٹے کسی ہنر کے سکھانے کے لیے مختص کر دیں یا پھر ہفتے میں کوئی ایک دن اس کام کے لیے مختص کر دیں تو یہی طالب علم کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزی بھی کما سکیں گے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان میں سے اکثریت امامت وغیرہ کے فرائض مفت میں ہی انجام دینے کو راضی ہوجائے گی۔

    پھر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ابھی انھیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بات مسجد کمیٹی کو بری نہ لگ جائے اس لیے بہت سے موضوعات پر بالکل ہی خاموش رہتے ہیں جس پر جمعہ کے خطبے میں بات کرنی چاہیے، جب یہ مسجد کے تنخواہ دار نہیں ہونگے تو بلاجھجھک حق بات کہہ سکیں گے۔

    کورسزاور سکلز میں آنلائن سکلز بھی ہوسکتی ہیں جس میں بنیادی انگریزی تعلیم کے ساتھ آنلائن قرآن کی تعلیم تاکہ باہر سے زرمبادلہ پاکستان لا سکیں۔ اس طرح صرف آدھا گھنٹہ باہر کے کسی ملک میں پڑھا کر امام مسجد کی تنخواہ سے بھی زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔
    ایسے ہی باقی بھی بہت سی آنلائن سکلز جیسے گرافک ڈیزائننگ، ٹائپنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، وغیرہ جیسی کئی ہیں۔

    آنلائن کے علاوہ کئی آف لائن کام بھی سکھائے جاسکتے ہیں جیسے درزی، پلمبر، الیکٹریشن، اے سی سروس، واشنگ مشین سروس، گیس کا کام، فریجوں کا کام، گاڑیوں کا میکنک ، یو پی ایس ٹھیک کرنے والے، وغیرہ وغیرہ جیسی بڑی لمبی لسٹ ہے۔

    امام مسجد کے لیے فجر کی نماز سے ظہر کی نماز تک کم سے کم بھی چھ سے سات گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ باقی وقت نہ بھی دے ، صرف اسی میں کام کر لے تو اچھی خاص کمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر باہر پڑھانا ہے تو اس وقت سو لیا جائے اور رات کو عشاء سے فجر کے درمیان بھی کئی گھنٹوں کا وقت ہوتا ہے۔

    کوئی رول ماڈل مدرسہ اس طرز پر شروع ہونا چاہیے تاکہ وہاں سے صرف عالم دین نہ نکلیں بلکہ اچھے ٹیکنیشن بھی ہوں ۔ یہ لوگ اپنے بہترین طرز عمل سے اسلام کے بہترین داعی بھی ہو سکتے ہیں۔ روزی روٹی کے ساتھ مختلف لوگوں کو دینی مسائل کے بارے بتانا اور دین کی تبلیغ بھی زیادہ لوگوں کو ہو سکتی ہے۔

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا بلکہ دنیا میں رہ کر دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے تو دنیا والے آپ کی دین سے متعلق بات بھی غور سے سنتے ہیں۔

    اگر کوئی ایسا مدرسہ آپ کی نظر میں ہے تو اس کا بتائیں تاکہ لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجیں اور اگر کوئی نہیں ہے تو کوئی ایسا دوست ہے جو اس کی بنیاد رکھ سکے؟

  • جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) —  خطیب احمد

    جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) — خطیب احمد

    بوہ لیگز Bow legs بچوں میں ایک ایسی حالت ہے۔ جس میں ان کی ٹانگیں تیر کمان کی طرح گھٹنوں سے باہر کی طرف ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ یہ عموماً تب دیکھا جاتا ہے جب بچہ چلنا شروع ہوتا ہے۔ میڈیکل یا ہڈی جوڑ کی فیلڈ سے وابستہ افراد جلد ہی یہ چیز دیکھ لیتے ہیں۔ چلتے ہوئے اگر پاؤں ساتھ جڑتے ہیں۔ گھٹنے ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ٹانگوں کا نچلا حصہ گھٹنوں والی جگہ سے ایک دوسرے سے دور ہے تو آپکے بچے کو "جینو ویرم” ہے۔

    یہ مسئلہ ایک ٹانگ میں اور دونوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ اکثریت میں دونوں ٹانگیں ہی باہر کو مڑی ہوتی ہیں۔

    ماں کی کوکھ میں کچھ بچوں کی پوزیشن نارمل پوزیشن سے الٹ ہوجاتی ہے۔ عام طور پر کوکھ میں بچے کا سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوتے ہیں مگر کچھ بچوں کا سر اوپر اور پاؤں نیچے بھی ہو سکتے ہیں۔ آخری دو تین ماہ یہ پوزیشن رہے بچہ تھوڑا صحت مند ہو (وزن 3 کلو سے زیادہ) تو بچے کی ٹانگیں ٹیرھی ہو سکتی ہیں۔ اکثریت میں پیدائش کے بعد 18 ماہ کی عمر تک یہ مسئلہ خود سے ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    ویسے بھی 18 ماہ کی عمر تک ٹانگوں کا ٹیڑھا پن نارمل ہے۔ اگر تین سال کی عمر کے بعد بھی ٹانگیں ٹیڑھی ہی رہتی ہیں تو ہڈیوں کے ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت ہے۔

    جنیو ویرم کی وجوہات کیا ہیں؟

    1. اسکی پہلی وجہ Blount’s disease ہے۔ ہماری پنڈلی میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں۔ بڑی مین ہڈی کو Tibia اور اسکی مددگار ہڈی کو fibula کہتے ہیں۔ ٹیبیا یعنی بڑی ہڈی کسی بھی ڈیویلپمنٹل ابنارملیٹی کی وجہ سے وہ باہر کو مڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور نتیجتاً "بوہ لیگز” بنا دیتی ہے۔

    2. دوسری بڑی وجہ Rickets ہے۔ بچوں میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی وجہ سے ہڈیاں کمزور رہ جاتی ہیں۔ اور جب ٹانگوں پر وزن پڑتا تو ٹانگیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں۔

    3. آپ نے دیکھا ہوگا بونوں یا لٹل پیپلز کی ٹانگیں عموماً ایسی ہی ہوتی ہیں؟ باہر کو مڑی ہوئی۔ کہنیوں سے بازو بھی باہر کو مڑے ہوتے۔ Dwarfism بھی بوہ لیگز کی وجہ بنتا ہے۔ بونا پن ایک جنیٹک ڈس آرڈر یے جس میں cartilage سے ہڈیاں بننے میں کوئی خرابی ہوجاتی یے اور پورے جسم کی ہڈیوں کی گروتھ خراب ہوجاتی ہے۔

    4. بچوں کا چھوٹی عمر میں جنک فوڈ کولڈ ڈرنکس آرٹیفیشل جوسز یا چینی کے شربت کھانے کی وجہ سے بہت موٹا ہوجانا بھی ان کی ٹانگوں کو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں تمیز اور بیلنس بچوں کو بچپن میں سکھائیں کہ بھوک رکھ کر سب کچھ کھانا ہے ورنہ بڑے ہو کر بھی جانوروں کی طرح ہر جگہ کچھ نہیں چھوڑیں گے۔ جو بچے بچپن میں ہی گھر باہر ہر جگہ ہر کھانے والے شے کا اجاڑا کر دیتے ہیں وہ بڑے ہو کر بھی اسی تربیت کا مظاہرہ ساری عمر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    5. اگر بچپن میں ٹانگ کے نچلے حصے میں کوئی شدید چوٹ لگ جاتی ہے۔ اور ہڈی ٹوٹ کر ٹھیک سے جڑ نہیں پاتی۔ تو اسکی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل ہو کر باہر کو بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ عطائی ہڈی جوڑ والوں کے بجائے کوشش کریں کسی ماہر آرتھوپیڈک سرجن سے ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑوائیں۔

    6. جو پانی ہم پیتے ہیں اس کوالٹی کی ہے؟ اس میں فلورائیڈ Flouride اور لیڈ lead کی مقدار کتنی ہے؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پانی میں لیڈ یعنی تیزابیت زنگ وغیرہ کی نارمل مقدار µg/L۔ 15 ہے۔ اس سے زیادہ نہ ہو۔ گندہ پانی حاملہ ماں پئیے یا نومولود بچہ ٹانگوں کے ٹیڑھا پن باعث بن سکتا ہے۔ اپنا پانی پہلی فرصت میں لیبارٹری ٹیسٹ ضرور کروائیں کہ اس کا ٹی ڈی ایس 1 ہزار سے زیادہ نہ ہو۔ فلورائیڈ اور لیڈ کی آمیزش نارمل کے آس پاس ہو۔ فلورائیڈ کی پانی میں نارمل مقدار ہے ppm۔ 1 – 0.5

    چھوٹے بچوں میں جینو ویرم کی تشخیص کے طریقے

    1. ایک سال کے چھوٹے بچے کی ٹانگیں بلکل سیدھی کریں اگر گھنٹوں میں وقفہ نارمل سے زیادہ لگے بوہ لیگز ہونگی۔

    2. 18 ماہ کی عمر میں ٹانگوں کے نچلے حصے کے ڈیجیٹل ایکسرے کی مدد سے اس مرض کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ کہ ہڈیوں کی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل تو نہیں۔

    3. خون کے ٹیسٹ میں ہم وٹامن ڈی کی مقدار دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیرم alkaline phosphatase کا لیول اور فلورائیڈ و لیڈ کی مقدار بھی خون سے دیکھ کر اس مرض کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

    ماہرین عموماً بچے کی پاجامی اتار کر تھوڑا دور پر چل کر آنے کا کہتے ہیں۔ فرنٹ اور بیک پر کھڑے ہو کر دیکھتے اور اپنے تجربے کی بنا کر فزیکلی بھی دیکھ لیتے کہ مسئلہ کس حد تک ہے۔

    اس کا علاج کیا ہے؟

    عموماً تین سال کی عمر تک یہ مسئلہ خود ہی حل ہوجاتا ہے۔ اگر نہ ہو اور بڑھتا ہی جائے تو ہم مرض کی شدت اور اسکی وجہ کو دیکھتے ہوئے اسکے علاج کی طرف جاتے ہیں۔

    1۔ فزیکل تھراپی سے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو کہ عموماً ٹھیک ہو بھی جاتا ہے۔

    2. مسئلہ فزیکل تھراپی سے ٹھیک نہ ہو تو ٹانگوں پر بریس لگا دی جاتی ہے۔ جو ٹانگوں کو سیدھا رکھتی ہے۔ یہ ایک دو سال تک لگانی ہوتی۔ کئی کیسز میں کئی سال تک لگائے رکھنا ہوتی۔

    3. وٹامن ڈی اور کیلشیم بطور فوڈ سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں۔ صبح سورج نکلنے کے بعد 8 بجے اور شام سے کچھ دیر قبل سورج کی دھوپ میں چھوٹے بچوں کو پلیز کھیلنے دیا کریں۔ یہ دھوپ وٹامن ڈی ان بچوں کے جسم میں داخل کرنے کا قدرتی سب سے بڑا سورس ہے۔ یورپ میں آپ دیکھتے کہ بھائی اور آپیاں ساحل سمندر پر چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر لیٹے ہوئے سورج کی دھوپ لے رہے ہوتے۔ وہ اصل میں جسم میں وٹامن ڈی کی نارمل مقدار کو نیچرلی پورا کررہے ہوتے۔

    سورج کی دھوپ میں موجود ultraviolet B (UVB) ہمارے جسم میں موجود کولیسٹرول کو نیچرلی پراسس کرکے وٹامن ڈی میں بدل دیتی ہے۔ بچوں کو بھی اور خود بھی صبح اور شام کی کچھ دھوپ ضرور دیا کریں۔

    4. سرجری سب سے آخر میں آتی ہے۔ اگر کوئی طریقہ بھی کارگر نہ ہو رہا ہو تو ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم آپریشن کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس سرجری کو ہم osteotomy کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ bone grafting اور کئی بچوں کی ٹانگوں میں سٹیل کا راڈ بھی ڈالا جاتا ہے۔

    سرجری آخری آپشن ہو تو چار سال کی عمر تک کروا لینے سے ہم بہتر طریقے سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

    عموماً سرجری کے بعد بھی کوئی بریس کا میٹل کا فریم کچھ ماہ کے لیے ٹانگوں کے ساتھ لگایا جاتا کہ ٹانگیں وزن پڑنے پر پھر سے ٹیڑھی نہ ہو جائیں۔

    اس مسئلے کی روک تھام کیا ہے؟

    1. بچہ جب چلنے لگے تو گھر میں موجود نوک دار جگہوں ہر فوم لگا دیں۔ بچے کی کسی طرح کوئی ہڈی نہ ٹوٹنے پائے۔ بیڈ کے بیک کے علاوہ ہر طرف نیچے فوم بچھا کر اوپر کارپٹ ڈال دیں۔

    2. پانی میں فلورائیڈ اور لیڈ کی مقدار نارمل رکھیں۔ اپنا پانی فوراً چیک کروائیں۔

    3۔ بچوں کو وٹامن ڈی اور کیلشیم والی نیچرل غذائیں دیں۔ دھوپ میں کھیلنے دیں۔ ماں ممکن ہو تو ضرور اپنا دودھ بچے کو پورے دو سال پلائے۔ یہ خدا کا حکم بھی یے۔ پاوڈر دودھ کی بجائے بکری یا گائے کا دودھ بچوں کو پلائیں۔

    اگر اس مسئلے کو حل کیے بنا چھوڑ دیں تو بچپن میں ہی بچوں کو ایک دائمی مرض Arthritis لگ جاتی ہے۔ گھنٹوں اور پاؤں میں سوجن اور شدید درد جو کبھی جان نہیں چھوڑتا۔

    اپنے آس پاس اس طرح کا کوئی بچہ دیکھیں تو اس کے والدین کو یہ آرٹیکل ضرور پڑھائیں۔ اور مستقبل میں والدین بننے والے لوگ ان سب باتوں کا خاص خیال رکھیں۔

  • ماں — نعیم گلزار

    ماں — نعیم گلزار

    بائیس تئیس برس قبل کی بات ہے۔ ماں جی سے لڑائی کے نتیجے میں گھر سے بھاگا اور لاہور جا نکلا۔ وہاں کچھ عرصہ انڈر ورلڈ کے لوگوں کے ہتھے چڑھا رہا۔ پھر کچھ اس ماحول سے اکتاہٹ، کچھ لاہور شہر کی نفسا نفسی اور پھر ماں جی کی یاد۔۔ ان تمام عوامل نے مجبور کیا تو واپس گھر بھاگ آیا۔

    واپس آکر دوبارہ نئے سکول میں داخلہ لیا تو میرا تعارف وکی سے ہوا۔ وکی کا گاؤں میرے گاؤں سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ تھا۔ وکی خبطی سا تھا۔ جلدباز طبعیت، ہر وقت کھپتے رہنا، باتیں زیادہ اور پڑھائی کم کرنا، اسکے مزاج کا حصہ تھا۔ البتہ اسکو پیسہ کمانے کا بڑا شوق تھا۔ مجھے جتنی اس سے چڑ ہوتی تھی۔ وہ اتنا ہی میرے قریب ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ مالی حالات بھی اسکے مخدوش سے تھے۔ جسکی وجہ سے وہ کالج نہ جا سکا۔ جبکہ ہم آگے ایف ایس سی میں چلے گئے۔ بعد میں ہنگامہ زیست میں کبھی اسکی خبر ہی نہ لگی کہ وہ کن حالات میں ہے۔ بیس سال بعد اک شادی پہ ملاقات ہوئی تو ایک عدد کار کے ساتھ وہ اب سر ملک وقاص بن چکا تھا۔ شاید کہیں اس نے مقولہ پڑھ لیا تھا۔

    ” علم بڑی دولت ہے۔”

    پھر اسی مقولے کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے کوئی پرائیویٹ سکول بنایا اور بعد میں بناتا ہی چلا گیا۔ استفسار پہ پتہ چلا چھ کے قریب پرائیویٹ سکول اس وقت چلا رہا ہے۔ پیسے کی طلب اب بھی اسکی گفتگو میں واضح جھلک رہی تھی۔ اور بیس سال کے بعد بھی اسکی جلدباز طبعیت میں کوئی ٹھہراؤ نہیں آیا تھا۔ رہائش بھی بیوی بچوں سمیت اس نے شہر میں رکھ لی تھی۔ البتہ اسکی ماں اب بھی گاؤں میں ہی رہ رہی تھی۔

    آج میں اپنے گاؤں سے متصل قصبہ کے مین اڈے پہ کھڑا کچھ خرید و فروخت کر رہا تھا۔ کہ یکایک اک کار میرے پاس آ کر رکی۔ ٹو پیس سوٹ کے ساتھ ملک وقاص صاحب اندر سے برآمد ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی جپھی ڈالی اور کہنے لگا:

    نیمے یار۔۔ اچھا ہوا تو مل گیا۔ مجھے بہت جلدی ہے۔ ماں جی ساتھ گاڑی میں بیٹھی ہیں۔ انکو گاؤں پہنچانے کے لیے کوئی رکشہ کروا دو۔ کچھ دفتری امور نپٹانے ہیں، میں واپس جا رہا ہوں۔ تین سو روپیہ کرایہ میں نے ماں جی کو دے دیا ہے۔

    یہ سن کر میری آنکھیں تو ساکت رہیں البتہ میں نے کار میں جھانکا تو ماں جی کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔۔!!!!