Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قطر میں ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلے میں استعمال ہونے والی فٹبال گیند "الرحالہ” جو عربی زبان کا لفظ ہے اسکے معنی ہیں سفر کے۔

    اس فٹبال کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ پاکستان میں بنی ہے لیکن دراصل یہ مصر میں بنائی گئی ہے۔ البتہ اسے بنانے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور مشینری پاکستان سے منگوائی گئی۔ یہ دعویٰ کہ یہ فٹبال سو فیصد مصر میں بنائی گئی مصر کی کابینہ اور مصری وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفیٰ مدبولی کی طرف سے کیا گیا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ پاکستان پچھلے کئی عالمی مقابلوں کے لئے آفیشل فٹبال تیار کرتا رہا ہے۔

    مصر کی حکومت کی جانب سے یہ بات سامنے آئی کہ فٹبال کھیلوں کی مصنوعات بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ایڈیڈاس کی تیار کردہ ہے جس نے اسے مصری "فارورڈ مصر” کمپنی کی فیکٹری کو گیند بنانے کی منظوری دی اور اس کمپنی کو عالمی مقابلے کے لیے 1500 فٹ بال گیندیں تیار کرنے کا معاہدہ دیا گیا۔

    مگر اس گیند میں کیا خاص بات ہے؟ یہ گیند جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی ہے جسکا مقصد ہوا میں گیند کی اُڑان کو بہتر بنانا اور ساتھ ہی ساتھ گیند میں ایک سنسر کا استعمال ہے۔ یہ سنسر ایک انرشئیل موشن سنسر ہے جو گیند پر لگنے والی بیرونی قوت کو ماپتا ہے اسکے علاوہ یہ پورے کھیل کے دوران گیند کی رفتار، اسکی پوزیشن کو بھی ریکارڈ کرتا ہے۔ اس طرح کے سنسر نیوگیشن سسٹم یا بڑے بحری جہازوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں جو اُڑان جا سفر کے دوران اِنکی جگہ، سمت اور ان پر پڑنے والی قوت سے آگاہ کرتے ہیں۔ ایک بڑا بحری جہاز کیسے یہ جان پاتا ہے کہ وہ اپنے ماس کے مرکز پر پانی میں تیر رہا ہے یا کیا وہ جھکا ہوا ہے، ٹیڑھا یے یا سیدھا ہے وغیرہ وغیرہ، اسی پرح کے انرشیل سنسرز کی بدولت۔

    اسی سنسر کی بدولت پچھکے ہفتے پرتگال اور یوراگوئے کے درمیان میں میچ کے ایک گول کا فیصلہ ہوا۔ بظاہر فٹبال پرتگال اور دنیائے فٹ بال نے صفِ اول کے کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کے سر سے ٹکرا کر گول پوسٹ میں گئی مگر فیدا آفیشلز نے فٹبال میں لگے سینسر کی بدولت یہ جانا کہ گیند رونالڈو کے سر سے نہیں ٹکرائی۔ اسی وجہ سے ورلڈکپ کا یہ گول رونالڈو کے حصے میں نہ آ سکا۔

  • سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کا سورج کے گرد مدار گول نہیں بلکہ بیضوی ہے۔ یعنی سال میں زمین کا سورج کے گرد فاصلہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کبھی کم تو کبھی زیادہ۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمین جب سورج کے قریب ہوتی ہے تو گرمیاں آتی ہیں۔ مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔ 3 جنوری کو زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے مگر آپ رضائی میں ٹھنڈ سے دبکے مونگ پھلیاں اور دیگر خشک میوہ جات رگڑ رہے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا کیوں؟ کہ جنوری میں زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے جسے عرفِ عام میں ایک مشکل سا نام دیا جاتا ہے Perihelion اور آپ رضائی میں سر گھسائے سردی کو کوس رہے ہوتے ہیں جبکہ 4 جولائی کو جب زمین سورج سے باقی سال کی نسبت سب سے دور ہوتی ہے جسے Apehlion کہتے ہیں تو آپ اے سی کے سامنے بیٹھے ٹھنڈا پانی پی رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

    پہلی بات یہ جان لیں کہ زمین کے دو کرے ہیں۔ شمالی کرہ اور جنوبی کرہ۔ ان دو کروں کو زمین کے درمیان سے گزرتی ایک فرضی لکیر سے تقسیم کیا جاتا ہے جسے خطِ استوا یا ایکوئیٹر کہتے ہیں۔ مملکتِ خداداد یعنی پاک لوگوں کا ملک پاکستان اتفاق سے زمین کے شمالی کُرے پر واقع ہے۔ جب زمین کے شمالی کُرے پر جون میں سخت گرمیاں پڑ رہی ہوتی ہیں تو زمین کے جنوبی کُرے پر واقع ممالک جیسے کہ آسٹریلیا ، برازیل، چِلی وغیرہ میں سردیاں اور برف باری ہو رہی ہوتی ہے اور جب پاکستان اور شمالی کرے پر موجود دیگر ممالک میں لوگ دسمبر میں سردی سے کانپ رہے ہوتے ہیں تو جنوبی کُرے پر واقع ممالک یعنی آسٹریلیا ، برازیل, جنوبی افریقہ وغیرہ میں لوگ ساحلِ سمندر پر فحاشی اور عریانی کی مثالیں بنے ٹی شرٹ یا چڈیوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض تو محض سلیمانی لباس میں۔

    گویا زمین پر موسم ہر جگہ، ہر وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ شمالی کُرے پر گرمیاں ہونگی تو جنوبی کُرے پر سردیاں ۔ البتہ خط ِ استوا پر واقع ممالک میں سارا سال موسم تقریباً ایک سا رہتا ہے جیسے کہ ایکواڈور ، کینیا وغیرہ۔

    دراصل زمین پر سردیوں، گرمیوں، بہار، خزاں جیسے موسموں کا تعلق زمین کا سورج سے فاصلے پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ زمین کے کس حصے پر سورج کی روشنی کتنی زیادہ پڑتی ہے۔ زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری تک جھکی ہوئی ہے۔ جسکی وجہ سے زمین کے شمالی کرے پر جنوری سے مارچ تک جھکاؤ کم ہوتا ہے جسکے باعث ان مہینوں میں یہاں سورج کی روشنی کم مدت تک پڑتی ہے تبھی سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں جبکہ اسکے بعد متواتر زمین کا جھکاؤ سورج کی طرف بڑھتا جاتا ہے اور موسم مئی جون تک گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔

    چونکہ زمین کروی ہے تو اسکا ایک کُرہ جب سورج کی طرف زیادہ جھکا ہوتا ہے تو دوسرا کرہ کم۔ لہذا شمالی اور جنوبی کروں پر موسموں کی ترتیب اُلٹ ہوتی ہے۔ زمین پر درجہ حرارت دراصل زمین کی فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں کی سورج کی روشنی کو جذب کرنے پر منحصر ہے نہ کہ زمین سے سورج کے فاصلے پر۔ جس قدر زیادہ وقت سورج زمین کے کسی حصے تک روشنی ڈالے گا یعنی جس قدر زیادہ زمین کے کسی حصے کا جھکاؤ سورج کی طرف ہو گا اس قدر زیادہ وقت فضا میں موجود گیسیں سورج کی روشنی کو جذب کریں گی اور زمین کو گرم رکھیں گی۔

    پاکستان میں آ جکل سردیاں چل رہی ہیں جبکہ سورج میاں اس وقت زمین کے سب سے قریب ہیں۔ ویسے سردیوں سے یاد آیا فی زمانہ سچے دوست کی نشانی یہ ہے کہ جب آپ سردیوں میں اُسکے گھر جائیں تو وہ آپکی تواضع چلغوزوں سے بھری ٹرے سے کرے۔

  • بہارستان — عمر یوسف

    بہارستان — عمر یوسف

    خاندان کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ انسان معاشرتی حیوان ہے اور لوگوں کے بغیر اس کا کامیاب زندگی بسر کرنا ناممکن ہے ۔ اگر وہ بہت کچھ حاصل کر بھی لے تو روحانی اطمینان اس سے کوسوں دور رہتا ہے ۔ فیملی کے اندر انسان احساس تحفظ سے لبریز زندگی گزارتا ہے ۔ بچے اکثر اداسی محسوس کرتے ہیں انہیں عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے جو ان کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتا ہے ۔

    لیکن جو بچہ ایسی فیملی میں زندگی بسر کرتا ہے جہاں ماں باپ ، دادا دادی ، چچاوں کا پیار نصیب ہو وہاں وہ شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ زندگی میں انسان کو بعض دفعہ حقیقی مسائل سے سامنا پڑتا ہے کبھی وہ خیالی مسائل ہی ذہن میں جنم دے لیتا ہے ۔

    دونوں صورتوں میں ایک خاندان کے اندر زندگی بسر کرنے والا شدید ذہنی پریشانی سے محفوظ رہتا ہے ۔ اگر اس کو حقیقی مسائل ہوں تو خاندان کے افراد اس کو سہارا دیتے ہیں لیکن اگر نفسانی واہمے پریشان کریں تو وہ خود کو تسلی دے لیتا ہے کہ میں خاندان میں زندگی بسر کرتا ہوں میرا سہارا بننے والے موجود ہیں ۔

    یہی وجہ ہے کہ اگر حقیقی خوشیوں بھری زندگی جینا ہے تو خاندان ازحد ضروری ہے وگرنہ تو انسان زندگی کو مجبورا گزار کر ہی عدم کا راہی بن جاتا ہے ۔

    خاندان کے بغیر زندگی کو اجاڑ زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جبکہ خاندان کے ساتھ زندگی کو بہارستان کے ساتھ تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔

  • پرشوتم ناگیش اوک (ہندی زبان کا مصنف جس نے تاریخ میں ترمیم کی)

    پرشوتم ناگیش اوک (ہندی زبان کا مصنف جس نے تاریخ میں ترمیم کی)

    پیدائش:02 مارچ 1917ء
    اندور
    وفات:04 دسمبر 2007ء
    پونے
    قومیت:بھارتی
    زبان:مراٹھی، ہندی
    وجہ شہرت:تاریخ میں ترمیم

    پرشوتم ناگیش اوک جو پی۔ این۔ اوک کے نام سے معروف ہے، ایک ہندستانی مصنف ہے جو اپنے ہندو مرکزائی نشانات کی تاریخی ترمیم پسندی کے لیے مشہور ہے۔ اوک نے 1980ء کی دہائی میں ”ادارہ برائے نظرثانی تاریخ بھارت“ سے سہ ماہی جریدہ ”اتہاس پترکا“ جاری کیا۔ اوک نے کئی دعوے کیے، مثلاً اسلام اور مسیحیت دونوں ہندو مت سے ماخوذ ہیں نیز ویٹیکن سٹی، خانہ کعبہ، ویسٹ منسٹر ایبے اور تاج محل سب شیو کے مندر تھے۔

    ترمیم شدہ نظریات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اوک نے اپنے دعوؤں سے متعلق لکھا کہ میں سمجھ سکتا ہوں اگر آپ اس کتاب کو پڑھنے کے موڈ میں نہیں ہیں لیکن یہ اور اسی قسم کی کہانیاں ہیں جو ہندوستان میں مذہبی احیا کا سبب بن رہی ہیں جو مودی کا سا نقطہ نظررکھنے والے ان پڑھ اور بھولے بھالے عوام کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔
    کعبہ کی تعمیر – ویدی اصل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی کتاب (Some Blunders of Indian Historical Research) میں اوک نے دعویٰ کیا کہ: کسی زمانے میں ہندو مہاراجا بکرما جیت کی سلطنت جزیرہ نمائے عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ مہاراجا نے 58 ق۔م میں شہر مکہ میں رام کا مندر تعمیر کیا جسے بعد میں مسلمانوں کے پیغمبر نے خانہ کعبہ میں تبدیل کر دیا۔ ہندوئوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ مکہ ان کا شہر ہے جس میں ان کے دیوتا کا مندر تھا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہندو اس مندر کو دوبارہ واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
    لکھنؤ کا امام بارگاہ – ہندو محل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوک نے اپنی کتاب لکھنؤ کی امام بارگاہیں ہندووں کے محلات تھے میں لکھنؤ کی امام بارگاہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ ایک قدیم ہندو محل تھا۔
    کرسچینیٹی – کرشن-نیتی نظریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوک نے مسیحیت یعنی کرسچینیٹی سے متعلق دعویٰ کیا کہ کرسچینیٹی دراصل ہندو، سنسکرت کی اصطلاح کرسن نیتی سے ماخوذ ہے یعنی وہ طرز زندگی جس کا پرچار ہندو اوتار لارڈ کرسن نے کیا اور اس کا نمونہ بن کر دکھایا تھا۔ انہیں کرشن، کرسن، کریسن، کرسنا اور کرشنا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔

  • اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا:عمرخیام کی زندگی کےروشن پہلو

    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا:عمرخیام کی زندگی کےروشن پہلو

    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
    یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا

    عمر خیام

    4 دسمبر 1131 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عظیم مسلمان سائنسدان’ فلسفی اور شاعر عمر خیام
    10؍مئی 1048ء مطابق ٤٣٩ ہجری میں صوبے خراسان رضوی کے شہر نیشاپور، حکومت آل بویہ، فارس، خلافت عباسیہ، موجودہ خراسان، ایران میں پیدا ہوئے۔عمرخیام، طب، ریاضی، فلکیات اور فلسفہ میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ان علوم کے علاوہ شعرو سخن میں بھی ان کا پایا بہت بلند ہے ان کےعلم وفضل کا اعتراف اہل ایران سےبڑھ کراہل یورپ نے کیا۔ سب سے پہلے روسی پروفیسر ولنتین ژوکو فسکی نے رباعیات عمر خیام کا ترجمہ کیا۔ پھر فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی بعض رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اور بعض اہم مضمون رباعیات کا مفہوم پیش کر کے کچھ ایسے انداز میں اہل یورپ کو عمر خیام سے روشناس کرایا کہ انہیں زندہ جاوید بنادیا۔

    عمر خیام جب نجوم، ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ مسائل سے فارغ ہوتے تو شعر کی طرف مائل ہوتے۔ مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ ان کی فارسی رباعیات ہیں۔ رباعیوں کی زبان بڑی سادہ، سہل اور رواں ہے۔ لیکن ان میں فلسفیانہ رموز ہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے 8 سال کی عمر میں ریاضی اور فلسفہ کا مطالعہ کرنا شروع کیا. 12 سال کی عمر میں وہ نیشابور کی درسگاہ کے ایک طالب علم بن گئے۔ بعد میں انہوں نے بلخ، سمرقند اور بخارا کے درسگاہوں میں اپنی تعلیم مکمل کی.
    ان کی قابل قدر تصانیف میں سے ‘میزان الحکمہ، لوازم الامکنہ، رسالہ فی براہین علی مسائل الجبر و المقابلہ، القول علی اجناس التی بالاربعا، رسالہ کون و تکلیف، رسالہ ای در بیان زیج ماکشاہی، رسالہ فی شرح ما اشکل من مصادرات کتاب اقلیدس’ اور رباعیات’ کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں جن کی رباعیات 200 اشعار پر مشتمل ہے۔ 04؍دسمبر 1131ء مطابق ٥٢٦ ہجری کو نیشاپور، خراسان، ایران میں انتقال کر گئے۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    (عمر خیام کی فارسی رباعی کا اردو میں ترجمہ)

    پہلے غمِ ہجر گرمیِ محفل تھا
    چندے برکابِ شوقِ ہم منزل تھا
    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
    یہ مشتِ غبار کچھ دنوں میں دل تھا

    افسوس کہ غم میں یہ جوانی گزری
    یک دم نہ کبھی یہ شادمانی گزری
    اب پیری میں ہو گی کیا عبادت ہم سے
    بے یادِ خدا کے زندگانی گزری

    ہے جام سے وابستہ جوانی میری
    یہ مے ہے کلیدِ کامرانی میری
    تم تلخ بتاتے ہو تو کچھ عیب نہیں
    تلخ تو ہے عین زندگانی میری

    پلا تو دے میرے ساقی نئی بہار کے ساتھ
    عبث الجھتا ہے اس زہد کے سہار کے ساتھ
    اجل ہے گھات میں دن زیست کے گزرتے ہیں
    شرابِ ناب ہے موجوں میں بزمِ یار کے ساتھ

    ہے مدتِ عمر بس دو روزہ گویا
    ندی کا سا پانی ہے کہ صحرا کی ہوا
    دو دن کا کبھی غم نہیں ہوتا ہے مجھے
    اک دن جو نہیں آیا ہے، اک دن جو گیا

    وہ جام جو تازہ جوانی دے دے
    اس جام کو بھر کے یارِ جانی دے دے
    لا جلد کہ ہے شعبدہ دنیا ساری
    ہو جائے گی ختم یہ کہانی، دے دے

    خورشید نے کمند سی پھینکی ہے سوئےبام
    فرماں روائے روز نے مے سے بھرا ہے جام
    مے پی کہ اٹھنے والوں نے ہنگامِ صبح کے
    بھیدوں کو تیرے کھول دیا سب پہ لا کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید کا یوم پیدائش

    نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید 04 دسمبر 1928ء کو ضلع سرگودھاکے دور افتادہ قصبہ مہانی میں پید اہوئےابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے عام اسکولوں میں حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا مزید تعلیم کےلیےاسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے ان کا اصلی نام محمد انوارالدین تھا-

    ان کا رجحان ادب کی طرف تھا لیکن والدین سائنس کی تعلیم دلا کر انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ اس دور میں اسلامیہ کالج لاہور میں تحریک پاکستان کی سرگرمیاں زور پکڑ چکی تھیں، انور سدید بھی ان میں شرکت کرنے لگے اور ایف ایس سی کا امتحان نہ دیا۔ اس وقت ان کے افسانے رسالہ بیسوی صدی، نیرنگ خیال اور ہمایوں میں چھپنے لگے تھے۔ عملی زندگی کی ابتدا محکمہ آبپاشی میں لوئر گریڈ کلرک سے کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ سکول رسول(منڈی بہائو الدین) میں داخل ہو گئے۔

    اگست1948ء میں اول آنے اور طلائی تمغہ پانے کے بعد اری گیشن ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر کی ملازمت پر فائز ہو گئے۔ یہاں انھوں نے ناآسودگی محسوس کی تو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے دئیے۔ ایم سے فرسٹ کلاس حاصل کی اور خارجہ طلبہ میں ریکارڈ قائم کیا۔

    انور سدیدنے’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے نگراں راہ نما وزیر آغا تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹر سید عبداللہ اور ڈاکٹر شمس الحسن صدیقی کو ان کا ممتحن مقرر کیا۔ دونوں نے ان کے مقالے کو نظیر قرار دیا جو آئندہ طلبہ کو راہنمائی فراہم کر سکتا تھا۔ ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کےاب تک نو اڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دوران انور سدید نے انجینئرنگ کا امتحان اے ایم آئی، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئر ڈھاکا سے پاس کیا۔

    محکمہ آبپاشی پنجاب سے ایگز یکٹو انجینئر کے عہدے سے 60 برس کی عمر پوری ہونے پر دسمبر 1988ء میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ ‘‘ہفت روزہ’’زندگی‘‘ روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور میں چند سال کام کرنے کے بعد وہ ملک کے نظریاتی اخبار’’نوائے وقت‘‘ کے ادارے میں شامل ہوگئے۔

    اس ادارے سے انھوں نے’’دوسری ریٹائرمنٹ‘‘جولائی2003ء میں حاصل کی لیکن مجید نظامی چیف ایڈیٹر’’نوائے وقت ‘‘ نے انھیں ریٹائر کرنے کی بجائے گھر پر کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ سلسلہ آخر دم تک قائم رہا۔ تنقید، انشائیہ نگاری، شاعری اور کالم نگاری ان کے اظہار کی چند اہم اصناف ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید نے اپنے بچپن میں ہی ادب کو زندگی کی ایک بامعنی سرگرمی کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ ابتدا بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھنے سے کی، افسانے کی طرف آئے تو اس دور کے ممتاز ادبی رسالہ’’ہمایوں‘‘ میں چھپنے لگے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے’’اوراق‘‘ جاری کیا تو انھیں تنقید لکھنے کی ترغیب دی اور اپنے مطالعے کو کام میں لانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے رسالہ’’اردو زبان‘‘ سرگودھا کے پس پردہ مدیر کی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ’’اوراق‘‘ کے معاون مدیر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔

    روزنامہ ’’جسارت‘‘، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’حریت‘‘، ’’امروز‘‘، ’’ زندگی‘‘، ’’قومی زبان‘‘اور ’’خبریں ‘‘ میں ان کے کالم متعدد ناموں اور عنوانات سے چھپتے رہے۔ ’’دی اسٹیٹسمن‘‘اور ’’دی پاکستان ٹائمز‘‘میں انگریزی میں ادبی کالم لکھے۔ انھیں تعلیمی زندگی میں تین طلائی تمغے عطا کیے گئے۔ ادبی کتابوں میں سے ’’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘‘، ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘اور ’’اردو میں حج ناموں کی روایت‘‘پر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے انھیں بہترین کالم نگار کا اے پی این ایس ایوارڈ عطا کیا۔ 2009 میں ادبی خدمات پر صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا-

    جناب انور سدید نے 88 کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں، چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
    ۔ (1)فکرو خیال
    ۔ (2)اختلافات
    ۔ (3)کھردرے مضامین
    ۔ (4)اردو افسانے کی کروٹیں
    ۔ (5)موضوعات
    ۔ (6)بر سبیل تنقید
    ۔ (7)شمع اردو کا سفر
    ۔ (8)نئے ادبی جائزے
    ۔ (9)میر انیس کی اقلم سخن
    ۔ (10)محترم چہرے
    ۔ (11)اردو ادب کی تحریکیں
    ۔ (12)اردو ادب کی مختصر تاریخ
    ۔ (13)پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ
    ۔ (14)اردو ادب میں سفر نامہ
    ۔ (15)اردو ادب میں انشائیہ
    ۔ (16)اقبال کے کلاسیکی نقوش
    ۔ (17)اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش
    ۔ (18)؟
    ۔ (19)غالب کے نئے خطوط
    ۔ (20)دلاور فگاریاں
    ۔ (21)قلم کے لوگ
    ۔ (22)ادیبان رفتہ
    ۔ (23)آسمان میں پتنگیں
    ۔ (24)دلی دور نہیں
    ۔ (25)ادب کہانی 1996ء
    ۔ (26)ادب کہانی 1997ء
    ۔ (27)اردو افسانہ: عہد بہ عہد
    ۔ (28)میر انیس کی قلمرو
    ۔ (29)وزیر آغا ایک مطالعہ
    ۔ (30)مولانا صلاح الدین احمد، فن اور شخصیت
    ۔ (31)حکیم عنایت اللہ سہروردی، حالات و آثار
    ۔ (32)جدید اردو نظم کے ارباب اربعہ
    ۔ (33)کچھ وقت کتابوں کے ساتھ
    ۔ (34)مزید ادبی جائزے
    ڈاکٹر انور سدید کی چند کتابوں مثلاً ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘، ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش‘‘،’’ اردو ادب میں سفر نامہ‘‘،’’ پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘، ’’اردو ادب میں انشائیہ‘‘ کو موضوع کے اعتبار سے اولین تصنیف ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    انور سدید ان دنوں ’’نوائے وقت‘‘ سنڈے میگزین میں کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے رہے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے ایک سال میں 225کتابوں پر تبصرے لکھ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    انور سدید کے فن اور شخصیت پر پروفیسر سید سجاد نقوی نے ایک کتاب’’گرم دم جستجو‘‘ شائع کی ہے۔ رسالہ ’’اوراق‘‘، ’’تخلیق‘‘، ’’ارتکاز‘‘، ’’جدید ادب‘‘، ’’کوہسارجرنل‘‘، ’’ چہارسو‘‘ اور ’’روشنائی‘‘ میں ان پر گوشے چھپ چکے ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید کی بیشتر کتابیں کالج اور یونیورسٹی طلبا کے علاوہ اعلیٰ ملازمین کے مقابلے کے امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی معاونت کرتی ہیں اور کئی یونیورسٹیوں کے اردو نصاب میں شامل ہیں۔

    وہ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کو اپنا محسن تصور کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دونوں نے انہیں ہمیشہ متحرک رکھا ہے۔

    چند منتخب اشعار

    شکوہ کیا زمانے کا تو اس نے یہ کہا
    جس حال میں ہو زندہ رہو اور خوش رہو

    بس ایک ہی ریلے میں ڈوبے تھے مکاں سارے
    انور کا وہیں گھر تھا بہتا تھا جہاں پانی

    کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
    ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

    دم وصال تری آنچ اس طرح آئی
    کہ جیسے آگ سلگنے گلابوں میں

  • سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہے۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ خطے کی تازہ ترین صورت حال کو بھی مدنظر رکھیں بالخصوص افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے اثرات اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ عمران خان بھی اقتدار میں ہے اور پی ڈی ایم بھی اقتدار میں ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں کوسوں دور ہیں ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایسے ایسے ناٹک اور عوام کو ایسے ایسے موضوعات میں الجھا رکھا ہے کہ خدا کی پناہ، مثلاً پہلے آرمی چیف کی تعیناتی کو لے کر قوم کو بحث پر لگا دیا یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید انسانی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک میں آرمی چیف کا تقرر ہونے جا رہا ہے۔ اب کہیں سے تحریک عدم اعتماد کہیں سے گورنر راج۔ کہیں سے اسمبلی توڑنے کی باتیں کہیں سے قومی انتخابات کی باتیں کی جا رہی ہیں تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بالخصوص افغانستان اور ملک و قوم کے مفاد میں سیاسی انتشار جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا اس وقت جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرے اور سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی ایک بڑی اور مقتدر پارٹی ہے جس کی شرافت اور اصول و ضوابط کے قائل ان کے بدترین دشمن بھی رہے ہیں مولانا مودودی مرحوم کی تحریر و تقدیر جماعت کے تمام ساتھیوں اور رفقاء کے سینوں میں پیوست ہے۔ بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار میں جماعت اسلامی کے امیر اپنا کردار ادا کریں ملک میں سیاسی عدم استحکام کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی جان کی دشمن بن چکی ہیں۔ ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ہیں سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی ہے سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں

  • فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    دیہات کے وہ لوگ جنہوں نے مویشی پالے ہوں جانتے ہیں کہ کسی کٹے کی گردن میں پڑی رسی پکڑ کر اسے سنبھالنا کتنا مشکل ہے بنسبت ایک بھینس کے. بھینس کی رسی پکڑ لیں وہ آپ کے پیچھے آرام سے چل دے گی. لیکن کٹا آپ کو کھینچنے لگے گا. کیونکہ ابھی کٹے نے رسی سے سمجھوتہ نہیں کیا ہوتا.

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھ سے آپکا قیمتی موبائل پھسل جاتا ہے لیکن گرنے سے پہلے آخری لمحے میں آپ کیچ کر لیتے ہیں. آپ سوچیں ہاتھ سے نکلنے کا دکھ زیادہ ہے یا کیچ کرنے کی خوشی.؟ آپکا دماغ فوراً بتائے گا کیچ کرنے کی خوشی زیادہ ہے. کیا اس خوشی کیلئے اب موبائل کو آپ کرکٹ کی بال بنا لیں گے.؟

    ہمارے بازار انسانی نفسیات سے کھیلتے ہیں. جیسے سود اور قرض قسطوں پر چیزیں بیچنے والے ہوں. یہ اپنا اشتہار ان الفاظ سے شروع کریں گے” ابھی پائیں” اور پھر آسان اقساط میں واپسی کریں وغیرہ. اس وقت ہمارے نفس کی مثال اس کٹے کی طرح ہو جاتی ہے جو رسی کمزور دیکھ کر سمجھتا ہے میں اس رسی پکڑنے والے کو کھینچ لوں گا.

    فوری تسکین یا instant gratification ہماری نفسیات کا حصہ ہے. ہمارا دماغ جب کچھ کیچ کرلے تو وہ یہ سوچنا نہیں چاہتا کہ گرا بھی تو مجھ سے تھا. آخر میں اتنا غائب دماغ کیوں ہوا.؟ لیکن کیچ اسے اپنا کارنامہ لگتا ہے. ان قرضوں کے جال میں وہی لوگ پھنستے ہیں جو فوراً کوئی کارنامہ کرنا چاہتے ہوں. لوگ ان کی واہ واہ کریں. بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی.

    لیکن کچھ عرصہ بعد وہ قرض ان کی گردن کی وہ رسی بن جاتی ہے جس سے وہ سمجھوتہ کر چکے ہوتے ہیں. پھر سود خور ان کا دودھ بیچ رہے ہوتے ہیں. اور یہ اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں.

  • سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    ایڈولف سیکس انیسویں صدی کی شروعات میں بیلجیئم میں پیدا ہوا تھا. ایڈولف ایک عجیب قسمت لے کر آیا تھا. حادثے اسکا پیچھا کرتے تھے. مثلاً جب وہ دو سال کا تھا تو اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل کی کھڑکی سے گر گیا تھا. اسکا سر پھٹ گیا لیکن زندگی بچ گئی.

    چھ سال کا ہوا تو تیزاب پی لیا تھا. بمشکل زندگی بچائی گئی. 9 سال کا ہوا تو سیڑھیوں پر پھسل کر ایسا گرا کہ قلابازیاں کھاتے نیچے پہنچ گیا. بدقسمتی یہ ہوئی کہ نیچے ایک جلتے ہوئے چولہے پر گر گیا. 11 سال کی عمر میں اسے خسرہ ہوا. اتنا شدید خسرہ تھا کہ صاحب 9 دن کوما میں رہے.

    یہی نہیں 14 سال کی عمر میں بازو تڑوا دیا 19 سال کی عمر میں ایک عمارت کے اوپر سے گری اینٹ نے اسکا سر ڈھونڈ لیا. 23 سال کی عمر میں زہریلی شراب پی لی تھی لیکن بال بال بچ گیا. البتہ ایڈولف سیکس جب 29 سال کا ہوا تو اس نے سیکسو فون ایجاد کر لیا.

    قسمت اور زندگی سب اپنی اپنی لکھوا کر لائے ہوتے ہیں. بد قسمتی اگر گزر جائے اور زندگی خود کو بچا لے تو بندے کو آگے چل دینا چاہئے. ایک حادثہ ایک واقعہ پکڑ کر بیٹھ جانے والے پھر زندگی سے انصاف نہیں کر پاتے. آج جب کسی سٹیج پر یا کسی فوجی بینڈ میں کسی فنکار کو لہک لہک کر سیکسو فون بجاتے آپ دیکھیں تو ایڈولف سیکس کو یاد کر کے سوچیں کیا آپ اس سے بھی زیادہ بد قسمت ہیں.؟ وہ تو آج بھی لہک لہک کر گا رہا ہے.

  • لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    آج سے تقریباً پانچ سال پہلے قندیل کی شادی اپنے خالہ زاد کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے دوسال بعد ہی اس نے خلع کا کیس دائر کیا تو ایک بزرگ کے ہمراہ مجھے بھی اس کیس میں صلح صفائی کے لیے مدعو کیا گیا کیونکہ میرے اس گھرانے کے ساتھ پرانے تعلقات تھے۔ میں نے قندیل سے پوچھا کہ آپ خلع کیوں لینا چاہتی ہیں؟

    اس نے بالکل سیدھی اور صاف بات کہی کہ شادی سے پہلے میری خالہ میری بلائیں لیتے نہیں تھکتی تھی۔ میرے گھر والے شادی تھوڑی لیٹ کرنا چاہتے تھے کیونکہ چند ماہ قبل ہی میری بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی اور اب میرے جہیز کے لیے والدین کو کچھ وقت چاہیے تھا۔ لیکن میری خالہ نے ضد کی کہ قندیل کونسا پرائے گھر جا رہی۔ بس سادگی سے شادی کر دیں، ہمیں جہیز نہیں چاہیے۔ میرے خالہ کی بہت زیادہ ضد اور اصرار پر گھروالوں نے میری شادی سادگی سے بغیر جہیز کے ہی کر دی۔ بس ضرورت کی چند چیزیں اور کپڑے برتن وغیرہ ہی دے سکے۔

    لیکن کے ایک دو ماہ بعد ہی اس بات پر خالہ اور میری نندوں کے ہلکے پھلکے طعنے شروع ہوئے جسے میں نے اگنور کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ میں نے کئی بار کہا کہ آپ لوگوں نے ہی جلدی مچائی تھی اس لیے جہیز نہیں لائی ورنہ کچھ وقت دیتے تو ہو جانا تھا۔

    ان کا یہ طعنہ بھی ہوتا تھا کہ تمہاری بڑی بہن کو تو اتنا جہیز دیا لیکن تم شاید سوتیلی تھیں اس لیے خالی ہاتھ بھیج دیا۔ اس میں مجھے اتنا گلہ خالہ اور نندوں سے نہیں ہے جتنا اپنے شوہر عدیل سے ہے کیونکہ اس نے بھی کہا تھا کہ جہیز نہیں چاہیے لیکن ان طعنوں کے دوران وہ اکثر خاموش رہتا تھا بلکہ کبھی کبھار وہ بھی شامل ہو جاتا تھا۔ جب طعنے بہت زیادہ بڑھ گئے تو میں نے الگ رہنے کی بات کی تاکہ سکون سے رہ سکوں کیونکہ عدیل کی تنخواہ ماشاءاللہ اچھی ہے اور اللہ کا کرم ہے کہ گھر میں سب کچھ موجود ہے۔ وہ آدھی تنخواہ والدین کو بھی دے دے تب بھی ہمارا گزارا بہت اچھے سے ہو سکتا ہے۔ والدین کی اپنی آمدن بھی ہے جو زمینوں سے ، دکانوں کے کرایوں سے آتی ہے۔
    لیکن اس پر بھی عدیل نے میرا ساتھ نہیں دیا۔

    اب مزید طعنے سہنا ممکن نہیں رہا اور کوئی بہتری کے بھی چانس نہیں کہ میں کچھ وقت ایسے طعنے سہہ کر گزار لوں۔

    اس کی یہ بات اس کے شوہر کے سامنے رکھی اور اس سے پوچھا کہ اتنی تنخواہ ہے، دکانوں کا کرایہ، زمین کی آمدن پھر بھی جہیز نہ لانے کے طعنے کس لیے جب کہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے؟

    بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا، اس کا یہی کہنا تھا کہ جہیز نہ لانے کا سب کہتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ والدین خالی ہاتھ ہی بیٹی کو رخصت کر دیں۔

    میں نے اسے کہا کہ اسلامی لحاظ سے بھی شادی اور بیوی کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں۔ کہیں بھی نہیں ہے کہ بیوی جہیز لائے۔ جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جہیز کی مثال دی جاتی ہے اس میں بھی یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زرہ بیچ کر خریدا گیا تھا اور اس میں بھی صرف ضرورت کی چند ایک چیزیں تھیں۔

    پھر اگر تم لوگوں نے طعنے ہی دینے تھے تو اس وقت اچھے بننے کے لیے کیوں کہا کہ جہیز نہ دیں، تب ہی بھکاری بن کر کہہ دیتے کہ ہمیں تو جہیز چاہیے ہے تاکہ اس بیچاری کی زندگی اجیرن تو نہ کرتے۔

    چونکہ عدیل اور اس کے گھر والے اپنی غلطی تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں تھے تو اس علیحدگی کو نہ روکا جا سکا۔ عدت کے بعد قندیل کی بھی ایک جگہ شادی ہو گئی جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی تھی اور عدیل نے بھی پھپھوکی بیٹی صبیحہ سے شادی کر لی جو ڈھیر سارا جہیز لائی۔

    اب تقریباً خلع کے تین سال کے بعد کی صورت حال یہ ہے کہ قندیل کا گھر بہترین چل رہا۔ ایک بیٹا اس کا اپنا ہے اور شوہر کی پہلے والی بیٹی کو بھی وہ اپنی اولاد کی طرح سنبھال رہی۔ اس کے گھر جاؤ تو گھر میں ہر طرف خوشیوں کا راج نظر آتا ہے۔

    جبکہ عدیل کی دوسری بیوی جو ڈھیر سارا جہیز لائی تھی اس نے اپنی ساس کو نوکرانیوں کی طرح رکھا ہوا ہے، اپنی نندوں کی بھی شادیاں کروا کر انکا گھر میں اثرورسوخ تقریباً ختم کر دیا ہے۔ عدیل کو صبیحہ کے والد نے کاروبار سیٹ کروا کر دیا ہے اس لیے وہ کوئی بھی چوں چراں نہیں کرتا۔ جہیز کے بل پر صبیحہ نے سب کو آگے لگا رکھا ہے لیکن ایسے لالچی لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔