Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم ولادت،نوام چومسکی،ماہر لسانیات،فلسفی ادیب

    یوم ولادت،نوام چومسکی،ماہر لسانیات،فلسفی ادیب

    پیدائش: 07 دسمبر 1928ء
    رہائش:لیکسنگٹن، میساچوسٹس
    دیگر نام:اَورام نوام چومسکی
    رکن:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سربیائی اکادمی برائے سائنس و فنون
    ۔ قومی اکادمی برائے سائنس
    ۔ (2)امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    ۔ رائل سوسائٹی کینیڈا، امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی
    مادر علمی:جامعہ پنسلوانیا
    تخصص تعلیم:لسانیات
    تعلیمی اسناد:بی اے،ماسٹر آف آرٹس
    مادری زبان:امریکی انگریزی
    شعبۂ عمل:لسانيات، نفسیات، اخلاقیات، سیاسیات
    ملازمت:میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی
    کارہائے نمایاں:نحوی اجزاء (کتاب)
    اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)تمغا بنجمن فرینکلن (1999)
    ۔ (2)ہیلمولٹز میڈل (1996)
    ۔ (3)فیلو رائل سوسائٹی کینیڈا

    اَورام نوام چومسکی (پیدائش 7 دسمبر 1928) ایک یہودی امریکی ماہر لسانیات، فلسفی، مؤرخ، سیاسی مصنف اور لیکچرر ہیں۔ ان کے نام کا اولین حصہ اَورام دراصل ابراہیم کا عبرانی متبادل ہے۔ وہ مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ لسانیات میں پروفیسر ہیں اور اس ادارے میں پچھلے 50 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ چومسکی کو لسانیات میں جینیریٹو گرامر کے اصول اور بیسویں صدی کے لسانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے کام سے کمپیوٹر سائنس، ریاضی اور نفسیات کے شعبے میں ترقی ہوئی۔ چومسکی کی خاص وجہ شہرت ان کی امریکی خارجہ پالیسی اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید رہی ہے۔ وہ 100 سے زیادہ کتابوں کے خالق ہیں۔ دنیا بھر میں انہیں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ ان کی ایک کتاب دنیا کس طرح کام کرتی ہے نے بڑی شہرت پائی۔
    1967ء میں انہوں نے نفسیات کے شہرت یافتہ سائنسی کتاب بی ایف سکينر کی وربل بی یوير کی تنقید لکھی جس نے 1950 کی دہائی میں وسیع قبولیت حاصل ہوئی نظریہ کردار Behaviorism کے اصولوں کو چیلنج کیا، تو اس سے اگنيٹو نفسیات میں ایک طرح کے انقلاب کا آغاز ہوا، جس سے نہ صرف نفسیات کا مطالعہ اور تحقیق متاثر ہوئی۔ بلکہ لسانیات، سوشیالوجی، انسانی نفسیات جیسے کئی شعبوں میں تبدیلی آئی۔

    آرٹس اینڈ يومنٹج ساٹیشن انڈیکس کے مطابق 1980-92 کے دوران جتنے محققین اور علما کرام نے چومسکی کا حوالہ دیا ہے، اتنا شاید ہی کسی زندہ مصنف سے متعلق کیا گیا ہو اور اتنا ہی نہیں، وہ کسی بھی مدت میں آٹھویں سب سے بڑے حوالہ کیے جانے والے مصنف ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار سائنٹیفک انفارمیشن کے ایک حالیہ سروے کے مطابق تعلیمی کتب، تحقیق خطوط وغیرہ میں مارکس، لینن، شیکسپیئر، ارسطو، بائبل، افلاطون اور فرائیڈ وغیرہ کے بعد چامسکی سب سے زیادہ حوالہ کیے جانے والے عالم ہیں جو ہیگل اور سسرو وغیرہ کو بھی شکست دیتے ہیں۔
    نوام چومسکی کی پہلی پہچان یہ ہے کہ وہ ماہر لسانیات ہیں۔ انھوں نے 1950ء کی دہائی میں یہ انقلابی نظریہ پیش کیا تھا کہ تمام زبانوں کی بنیاد ایک ہی ہے۔ انھیں بجا طور پر اپنے شعبے کا آئن سٹائن کہا جاتا ہے۔ تا ہم نوام چومسکی کی سیاسیات کے موضوع پر تحریروں نے بھی عالمی توجہ حاصل کی۔ نوام چومسکی اس عالمی جدوجہد کے ایک مفکر اورایکٹوسٹ ہیں جو نہ صرف ریاستی دہشت گردی بلکہ اقتصادی دہشت گردی کے بھی مخالف ہیں۔
    1960 کی دہائی کے ویت نام کی جنگ کی تنقید میں لکھی کتاب دی رسپانس بلٹي آف اینٹلی چولز (خرد مندوں کی ذمہ داری) کے بعد چومسکی خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر میڈیا کے ناقدین اور سیاست کے عالم کے طور پر جانے جانے لگے، بائیں بازو اور امریکہ کی سیاست میں آج وہ ایک متحرک دانشور کے طور میں جانے اور تصورکیے جاتے ہیں۔ اپنے سیاسی ایکٹوزم اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تنقید کے لیے آج انھیں پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔

    چومسکی نے اکثر موقعوں پر امریکی کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسامہ بن لادن کی موت پر چومسکی کہتے ہیں
    ”ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کیا محسوس کرتے اگر عراقی کمانڈوز جارج ڈبلیو بش کے احاطے میں اترتے، اسے قتل کرتے اور اس کی لاش اٹلانٹک سمندر میں پھینک دیتے۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ بش کے جرائم بن لادن کے جرائم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اور بش مشتبہ نہیں بلکہ یقینی طور پر فیصلہ کرنے والا اور وہ احکام دینے والا رہا ہے جس سے بدترین بین الاقوامی جرائم کیے گئے۔ ایسے ہی جرائم میں نازیوں کو پھانسی دی گئی تھی یعنی لاکھوں کی موت، کروڑوں کی ملک بدری، ملک کے بیشتر حصے کی تباہی اور بد ترین فسادات۔“

  • یوم ولادت،ہومین بورگوہن، معروف آسامی ادیب ،ناول نگار

    یوم ولادت،ہومین بورگوہن، معروف آسامی ادیب ،ناول نگار

    تاریخ ولادت:07 دسمبر 1932ء
    آسام
    تاریخ وفات:12 مئی 2021ء
    گواہاٹی، آسام
    پیشہ:سماجی خدمات گار، صحافی
    شاعر اور مدیر
    قومیت:ہندستانی
    اصناف:آسامی ادب
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Saudor Puteke
    ۔ Nu Meli Jay
    ۔ (2)Halodhiya Soraye
    ۔ Baudhan Khai
    ۔ (3)Astarag
    ۔ (4)Pita Putra
    ۔ (5)Timir Tirtha
    ۔ (6)Kushilab
    ۔ (7)Edinar Diary
    ۔ (8)Bisannata
    ۔ (9)Nisongota
    ۔ (10)Subala
    ۔ (11)Matshyagandhaa
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Sahitya Akademi Award
    ۔ (2)Assam Valley Literary Award
    ۔ (3)Nilamoni Phukan Award from
    Asom Sahitya Sabha
    ۔ (4)Srimanta Sankardev Award
    ۔ (5)Matshendra Nath Award

    معروف اسمیا مصنف، قدآور صحافی اور روزنامہ اسمیا کے سابق ڈپٹی ایڈیٹر مسٹر بورگوہن نیومیا بارٹا کے سابق چیف ایڈیٹر تھے۔ ”باپ بیٹے“ کے لیے انھیں اسمیا زبان کے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1978ء سے نوازا گیا تھا۔

  • یوم وفات، الی ڈوکمن، معروف سوئس صحافی

    یوم وفات، الی ڈوکمن، معروف سوئس صحافی

    پیدائش:19 فروری 1833ء
    جنیوا
    وفات:07 دسمبر 1906ء
    برن
    شہریت: سویٹزرلینڈ
    زبان:فرانسیسی
    شعبۂ عمل:نظریاتی صحافت
    اعزازات:
    نوبل امن انعام (1902)

    الی ڈوکمن(1833ء-1906ء) کو امن کے حوالے سے کام کرنے پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے 1902ء میں نوبل امن انعام کا اعزاز حاصل کیا۔ انھوں نے امن کے اس نوبل انعام کو ایلبرٹالبرٹ گوباٹ (1843ء -1914ء)،سوئس وکیل، تعلیمی منتظم،اور سیاست داں کے ساتھ مشترکہ طور پر جیتا تھا۔ الی ڈوکمن جنیوا میں پیدا ہوئے تھے اورانھوں نے بطور استاد اور صحافی کے بھی کام کیا۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

  • سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی سوداگری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آ ج کل سیاست کے بازار میں سودا گری ہو رہی ہے ایک سوداگری کا ذکر جاتے جاتے سابقہ آرمی چیف جنرل باجوہ کر گئے صرف وزارت عظمیٰ کے لئے ایسی سوداگری کی کہ آدھا ملک گنوا بیٹھے۔ آج ایسی سوداگری تو نہیں کی جا سکتی تا ہم شہباز شریف اینڈ کمپنی جمع پی ڈی ایم کی سیاسی سوداگری نے عمران خان اور اُن کی جماعت تحریک انصاف کو مقبول ترین بنا دیا ہے ۔ جب سے پرجوش اور خوفزدہ وزرا نے طاقت کا استعمال شروع کیا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کا گراف بڑھتا جارہا ہے ۔ پرجوش وزرا کے لئے یہ خبر ہے کہ طاقت کا استعمال اب مشکل ہوگا۔ فوج نے صاف کہہ دیا ہے کہ اپنے مسئلے خود حل کریں فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ویسے بھی فوج خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میں کیسے دخل دے سکتی ہے ۔ فوج اپنے اصل کام میں مصروف ہے فوج ایک مقدس جنگ میں مصروف ہے۔ ملک وقوم کی حفاظت پر مامور فوجی جوان غازی اور شہید کا رتبہ حاصل کرنے میں رہتے ہیں۔

    ملک کے ممتاز صحافی ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس سپریم کورٹ نے لے لیا ہے جب سے ارشد شریف قتل ہوئے راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں سمیت سیاسی وسماجی اور وکلاء اس قتل کا نوٹس لینے کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ پاکستان سے لے کر کینیا تک لہو کا سفر ارشد شریف نے کیسے طے کیا اس قتل میں کون شامل تھے؟ ارشد شریف کی افسوسناک مگرپراسرار موت نے صحافتی دنیا میں ایک بھونچال برپا کردیا ہے ۔

    تازہ ترین سیاسی صورت حال کے بارے میں مخبروں نے اطلاع دی ہے کہ پنجاب اسمبلی برقرار رہے گی اور کے پی کے میں مخبر سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں۔ اصل اقتدار کے مزے مخبروں کے ہی ہوتے ہیں ۔ صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم اقتدار کے مزلے لے رہی ہے کے پی کے میں جمعیت علمائے اسلام کے گورنرہیں پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے ق لیگ اقتدار کے مزے میں رہتی ہے ۔ بڑی سیاسی جماعتیں دست وگریبان ہیں ۔ جمہور سیاسی تماشوں سے لطف اندوزہو رہے ہیں موجودہ سیاسی انتشار میں عوام کے بنیادی مسائل دب کررہ گئے پنجاب کے سرکاری کالجوں میں پروفیسرز کی کمی پنجاب کے سلطان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ پنجاب کے سرکاری کالجوں میں غریب کے بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

  • حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میرے ایک دوست نے اپنے سکول میں کچھ اساتذہ کو بھرتی کرنا تھا تو انٹرویوز والے دن مجھے بھی بلا لیا۔ صرف دو اساتذہ کو رکھنا تھا لیکن بہت سے لوگ انٹرویو دینے آئے ہوئے تھے۔ ایک ایک کر کےہم انھیں بلا رہے تھے۔ ساتویں آٹھویں نمبر پر ایک لڑکی حدیقہ انٹرویو دینے آئی تو ایسی علیک سلیک ہوئی جس سے مجھے لگا کہ یہ ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں اس لیے اس انٹرویو میں میں خاموش رہا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے کلاس فیلو رہ چکے تھے۔

    رسمی سلام دعا کے بعد دوست نے کہا کہ آپ کو اس جاب کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ اس تنخواہ میں تو آپ کا ایک سوٹ بھی نہیں آئے گا۔
    حدیقہ نے کہا کہ اب وہ یونیورسٹی والا دور نہیں رہا جب میں بڑی سی گاڑی میں آتی تھی۔ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
    میرے دوست نے حالات کا مزید پوچھا کہ آپ کے والد کی تو بہت زیادہ زمینیں تھیں، بنگلے کوٹھیاں اور گاڑیاں۔۔۔ ان سب کا کیا ہوا کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    کہنے لگی، تب میرے والد صاحب زندہ تھے، وہ میرے سارے نخرے اٹھاتے تھے اور میرا خیال بھی رکھتے تھے۔ میری ہر خواہش بھی پوری کرتے تھے۔ ایم فل کے آخری سال میں تھی تو والد صاحب ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد صاحب کے بعد ساری دولت اور جائیداد دونوں بڑے بھائیوں کے پاس آگئی۔ مجھے بڑی مشکل سے آخری سمسٹر کے امتحانات دینے کی اجازت ملی۔

    پھر میری تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر میں تقریباً قید رکھا گیا۔ وہاں ہر سہولت میسر تھی لیکن نہ باہر نکل سکتی تھی نہ کسی سے بات چیت کی اجازت تھی۔ والدہ صاحبہ کو میری حالت پر ترس آتا تھا لیکن انھیں بھی یہ تھا کہ جائیداد صرف بیٹوں کو ہی ملنی چاہیے۔ کئی بار میرے بھائیوں نے مجھے والد صاحب کی وراثت سے محروم کرنے کے لیے کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی لیکن میں نے ہر بار انکار کیا۔ اس پر مجھے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کئی سال گزرے۔ میری عمر ڈھلنے لگی، والدہ صاحبہ بھی وفات پا گئیں تو میری ہمت بھی جواب دے گئی۔ مجھے اس گھر سے اب وحشت ہونے لگی تھی۔

    بالآخر میں نے ہار مان لی اور ساری وراثت سے دستربردار ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ایک غریب رشتہ دار کےساتھ میری شادی کر کے مجھے اپنی آبائی حویلی سے بھی نکال دیا گیا۔ غریب شخص کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ میرے پاس کبھی اتنے پیسے نہ ہوں کہ میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ لڑ سکوں۔ لیکن میں نے اپنا مقدمہ اب یہاں کسی عدالت میں نہیں لڑنا ، نہ ہی مجھے میری زندگی میں انصاف مل سکتا ہے۔ ہاں ایک عدالت آخرت میں ہونی ہے، اس میں اللہ میاں سے یہ ضرور کہوں گی کہ جیسے ان دونوں نے مجھے میرے حق سے محروم رکھا ہے، انھیں بھی اپنی رحمت سے محروم رکھ۔

    حدیقہ خاموش ہوئی تو کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ شاید کسی میں کچھ کہنے سننے کی بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ سب بس بمشکل آنسو ضبط کیے بیٹھے تھے۔

    چند لمحے بعد میرے دوست نے کہا کہ آپ کا ایک بھائی تو خاصا مذہبی تھا۔اور چھوٹا لبرل تھا جس سے اکثر یونیورسٹی میں اس موضوع پر بحث بھی ہوجاتی تھی۔

    حدیقہ نے میرے دوست کی بات پوری ہونے سے بھی پہلے کہا، جی میں نے بڑے بھائی کو اسلامی حوالے بھی دیے اور کہا تھا کہ آپ کے حج اور عمرے کا آپ کو کیا فائدہ جب آپ میرا حق دبا کے بیٹھے ہیں۔

    چھوٹے لبرل بھائی سے بھی کہا کہ آپ خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں لیکن اپنی بہن کو اس کا جائز حق دینے کے حق میں بھی نہیں۔ آپ کے لبرلزم میں تو میرا تیسرا حصہ بنتا ہے جبکہ آپ مجھے پانچواں حصہ بھی دینے کو تیار نہیں۔

    لیکن اس جائیداد والے معاملے میں مذہبی ہوں یا لبرل، سارے مرد ایک جیسے ہیں۔ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیتے سب کو موت پڑتی ہے۔

    پتہ نہیں کتنی حدیقائیں اپنے ہی بھائیوں کی لالچ کی وجہ سے اپنے حق سے محروم ہوتی رہیں گی۔ کیا کوئی بھی شخص مال و دولت کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر گیا ہے؟ پتہ نہیں لوگ یہ کیسے کر لیتے ہیں کہ جان چھڑکنے والی بہنوں کو بھی ان کے جائز حصے سے محروم کر کے خوش رہتے ہیں۔ایسے لوگ خود کو عذابِ قبر اور جہنم سے کیسے بچا پائیں گے؟

  • کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالی گھٹاؤں، کالی زلفوں اور کالے گلاب سے تو سب آشنا ہیں. مگر آج ہم آپ کو متعارف کرواتے ہیں کالے چاولوں سے… جی ہاں کالے چاول. Black rice. قدیم زمانے سے اہل چین کے ہاں کالے چاولوں کی کاشت کی جاتی رہی. جانے کیسے چین کے شاہی خاندان کے لوگ ان کالے چاولوں کی غذائی خوبیوں سے واقف ہوئے کہ انہوں نے اس کی کاشت اور استعمال کو صرف شاہی خاندان تک محدود کردیا. اسی وجہ سے انہیں ممنوعہ چاول forbidden rice بھی کہا جاتا ہے.

    کچھ عرصہ قبل جب جدید سائنس نے مختلف اجناس کے غذائی اجزاء کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کالے چاولوں میں اینٹی آکسیڈنٹس اور فائٹو کیمکلز کی مقدار بہت زیادہ ہے. بلکہ سب سے زیادہ کارآمد اینٹی آکسیڈنٹ اور نیوٹراسیوٹیکل کیمیائی مرکب اینتھوسائیانین کی سب سے زیادہ مقدار کالے چاولوں میں پائی جاتی ہے.

    اینتھوسائیانین بنیادی طور پر پھلوں میں پایا جانے والی گہرا جامنی رنگ ہوتا ہے جسے پھلوں سے سادہ کیمیائی عمل سے علیحدہ کیا جاتا ہے. یہ وہ مرکب ہے جس کا مستقل استعمال دائمی امراض کے خاتمے کے لئے بیحد مفید ہے. حتی کہ بہت سے اقسام کے کینسر کے خلیے بھی اینتھوسائیانین کے استعمال سے ختم ہوجاتے ہیں. اس وجہ سے پوری دنیا میں اینتھوسائیانین کی مانگ اور قیمت فروخت بہت زیادہ ہے.

    کالے چاولوں میں اس جامنی اینتھوسائیانین کی اس قدر زیادہ مقدار ہوتی ہے کہ وہ کالے نظر آتے ہیں. جب کہ پکنے کے بعد یہ گہرے جامنی ہی دکھائی دیتے ہیں. اس زبردست دریافت کے بعد دنیا بھر میں کالے چاولوں کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے. خطے میں چین کے بعد سب سے پہلے تھائی لینڈ میں اس کی کاشت شروع ہوئی. پھر فلپائن اور سال 2011 میں بھارت میں آسام میں ایک کسان نے اس کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا. اس وقت سے اب تک بھارت میں آسام، اڑیسہ اور ارد گرد کے علاقوں میں ہزاروں ایکڑ پر سالانہ کالے چاولوں کی کاشت کی جا رہی ہے.

    سال 2017 میں بھارتی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں اس کی کاشت کا میابی سے کی گئی. یہاں اس کی فی ایکڑ پیداوار تیس سے پینتیس من حاصل کی گئی. عام چاول کی نسبت کالے چاول کی قیمت فروخت بہت زیادہ ہے. بھارت میں اس کی تھوک میں فروخت ساڑھے تین سو روپے بھارتی فی کلوگرام ہوتی ہے. یعنی پاکستانی آٹھ سو روپے فی کلو. اور اگر یہ کھاد اور کرم کش ادویات کے بغیر یعنی آرگینک طریقے سے اگایا گیا ہوتو اس کی قیمت فروخت پانچ سو روپے بھارتی یعنی ساڑھے گیارہ سو روپے پاکستانی فی کلوگرام ہوتی ہے.

    آسان الفاظ میں اگر عام طریقہ سے بھی اگایا جائے تو فی ایکڑ دس لاکھ روپے کی فصل حاصل کی جاسکتی ہے. پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں جہاں کچھ علاقے چاول کی کاشت کے انتہائی موزوں ہیں عین ممکن ہے کہ اس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار اور بھی شاندارہو. جس کی قیمت عالمی منڈی میں اور بھی زیادہ ہو. ہم نہ صرف کالے چاول براہ راست فروخت کرسکتے ہیں بلکہ اس میں امسے اینتھوسائیانین ایکسٹریکٹ کرکے بھی مہنگے داموں بیچ کر بہت سا زرمبادلہ کما سکتے ہیں.

    بات پھر وہی ذرا سا غوروخوض کی عادت ہو، تھوڑا ترقی کا شوق اور آرزو ہو تو خوشحالی کے سینکڑوں راستے اور ہزاروں منزلیں ہماری منتظر ہیں.

  • اصلی شہد اور نقلی شہد!!! — شہزاد حسین

    اصلی شہد اور نقلی شہد!!! — شہزاد حسین

    میں پچھلے کئی سالوں سے فیس بک پر ہی شہد کی خریداری کررہا ہوں۔ گزشتہ کئی سالوں کے تجربے کے اور بے شمار شہد فروشوں کے شہد کو ٹیسٹ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ فارمی شہد، فارمی ہوتا ہے، چاہے دنیا کے سب سے بہترین برانڈ کا ہی کیوں نہ ہو.

    میری کوشش رہتی ہے کہ خالص جنگلی شہد استعمال کیا جائے جس کا فلیور ہی الگ ہوتا ہے.

    ایسا شہد قریباً 4 سے 5 ہزار روپے کلو ملتا ہے اور آرام سے کئی ماہ چل جاتا ہے.

    اصلی شہد کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت کم مقدار میں دستیاب ہوتا ہے۔ اسی لیے کافی مہنگا ہوتا ہے.

    مارکیٹ میں اکثریت شہد فارمی ہے.

    آپ کو ایک بار اصلی شہد کی عادت پڑجائے تو فارمی شہد چکھتے ہی تھوک دیں گے.

    فارمی شہد کا کوئی خاص فلیور نہیں ہوتا۔ وہ محض شیرے کی طرح میٹھا ہوتا ہے مانوں میٹھا fructose سیرپ پی رہے ہوں.

    جبکہ،

    اصلی شہد منہ میں جاتے ہی ایک distinct ٹیسٹ کا احساس دلاتا ہے.

    فیس بک پر بکنے والا نوے فیصد سے زائد شہد فارمی ہے.

    ایک دلچسپ بات بتاؤں:

    میں کئی شہد فروشوں کو جانتا ہوں، ان سے خریداری بھی کرچکا ہوں، جو عام سا فارمی شہد بیچتے ہیں اور لوگ وہاں کومنٹس میں "واہ واہ” کررہے ہوتے ہیں.

    ان کی اکثریت وہ ہیں جنھوں نے کبھی اصلی شہد نہیں چکھا۔ انھیں کوالٹی کا سرے سے اندازہ ہی نہیں ہوتا.

    میں شہد کی خریداری کے لیے اپنے کچھ خاص دوستوں پر بھروسہ کرتا ہوں جو شمالی علاقہ جات کے باسی ہیں اور باقاعدہ شہد کا کام نہیں کرتے.

    میں فارمی شہد کی برائی نہیں کررہا ہوں۔ فقط اتنا سمجھارہا ہوں کہ فارمی کو فارمی ہی سمجھیے، اصلی ہرگز نہیں.

    فارمی شہد ایک مناسب "بجٹ” آپشن لگتا ہے۔ دو سے ڈھائی ہزار روپے کلو باآسانی مل جاتا ہے.

    کچھ فارمی شہد ہزار پندرہ سو کے بھی دستیاب ہیں.

    انھیں استعمال کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ دو سو روپے کلو ملنے والا خالص گڑ لے کر پھانک لیں.

    ایک اہم بات،

    دو ڈھائی ہزار روپے کلو فارمی شہد لینے سے کہیں بہتر ہے کہ پانچ ہزار روپے کلو والا اصلی شہد آدھا کلو خرید لیں.

    اگر بجٹ اور تنگ ہے تو بیشک ایک پاؤ خرید لیں پر فارمی شہد سے پرہیز کیجیے.

    یہ شہد ہول سیل مارکیٹوں میں ڈرموں میں بھر کر بیچا جاتا ہے۔

    میں اب فارمی شہد سے سخت بیزار ہوچکا ہوں۔ ان پر 500 روپے خرچ کرنا بھی پیسوں کا ضیاع ہے.

    دو سے تین ہزار روپے کلو یا اس سے کم میں آپ کو کسی صورت اصلی شہد نہیں مل سکتا۔ یہ سارا مال فارمی ہے.

    اصلی شہد قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی خاص بات اس کا "نایاب” ہونا ہے.

    لہذا،

    کوشش کیجیے کہ شہد چاہے بہت تھوڑا استعمال کریں پر وہ اصلی و نسلی ہو۔ ڈرموں سے بھر کر آنے والی "جعلی نسل” پر پیسہ ہرگز مت برباد کیجیے۔۔۔۔۔!!!!

  • عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری زمین کا چاند اور نظامِ شمسی کا سب سے پہلا سیارہ عطارد ایک جیسے کیوں دکھتے ہیں؟

    کیونکہ دونوں کی فضا نہیں ہے اور دونوں کے اندر اربوں سالوں سے کوئی جغرافیائی تغیرات نہیں ہو رہے جیسے کہ زمین یا زہرہ پر آتش فشاں یا اُنکے اندر لاوا موجود ہے جو باہر کو آتا ہے اور سطح کو تبدیل کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کچھ چاند یا عطارر پر نہیں ہوتا۔

    اگر ان دونوں کی سطح کا جائزہ لیا جائے تو ان پر شہابیوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے اور انکے نشانات واضح نظر آتے ہیں۔ زمین پر خلا سے گڑھے کیوں نہیں دِکھتے؟ اول تو زمین کی فضا جو اسے شہابیوں سے بچاتی ہے اور دوسرا یہ کہ زمین کی اوپری سطح تبدیل ہوتی رہتی ہے یعنی یہ حرکت میں رہتی ہے۔ جسکی وجوہات زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس کی حرکت ، زمین کے اوپر پانی(بارش، دریا، سمندر) سے پیدا ہونے والے کٹاؤ اور انسانوں کی زمین پر کی جانے والی تبدیلیاں (صنعتی، زرعی،تعمیراتی) شامل ہیں۔

    عطارد کے سطح کا تفصیلی جائزہ لیکر ہم زمین اور اسکے چاند کے بارے میں اور ماضی میں اسکی پیدائش کے حوالے سے کافی کچھ جان سکتے ہیں۔ عطارر کی سطح میں تبدیلیوں کا نہ ہونا دراصل ہمیں ماضی میں نظامِ شمسی کے ہولناک منظر کی یاد دلاتا ہے جب زمین، عطارر اور دیگر سیارے ابھی بن رہے تھے اور ان پر کئی سیارے، سیارچے، شہابیے وغیرہ ٹکرا رہے تھے۔ ہمارا چاند بھی زمین پر نظامِ شمسی کی پیدائش کے وقت ایک مریخ کی سائز کے سیارے "تھیا” کے ٹکرانے سے وجود میں آیا۔

    زمین کُل نہیں،نظامِ شمسی کا جُز ہے۔ اور ہم دیگر سیاروں کے بارے میں جان کر زمین کے ماضی کے بارے میں بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ لہذا خلا کی تسخیر ہمیں محض مستقبل کی ٹیکنالوجیز فراہم نہیں کرتی بلکہ ماضی کے کئی رازوں سے بھی پردہ اُٹھاتی ہے۔۔اسی لیے خلا کی تسخیر انسانی بقا کے لیے اہم ہے۔

  • یوم ولادت،  نارائن وامن تِلک

    یوم ولادت، نارائن وامن تِلک

    پیدائش:06 دسمبر 1861ء
    تاریخ وفات:09 مئی 1919ء
    شہریت:برطانوی ہند
    زوجہ:لکشمی بائی تلک
    زبان:مراٹھی

    نارائن وامن تِلک (06 دسمبر 1861 – 09 مئی 1919) برطانوی ہندوستان میں بمبئی پریزیڈنسی کے علاقے کوکن کے ایک مراٹھی شاعر تھے۔ وہ ہندو مت چھوڑ کر پروٹسٹنٹ مسیحیت قبول کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
    ناراین وامن تلک کی پیدائش بمبئی پریزیڈینسی کے رتناگری ضلع کے کرج گاؤں میں سنہ 1861ء کو ہوئی۔
    1869ء-1873ء کے دوران میں انھوں نے ممبئی کے قریب کے قصبے کلیان سے تعلیم حاصل کی اور ناسک کے قصبے میں اگلے چار برسوںکے دوران میں سنسکرت ادب کا علم حاصل کیا۔ 1877 – 1889ء کے دوران میں انگریزی اور دوسرے مضامین سیکھنے کے بعد انھوں اپنا تعلیمی سلسلہ ختم کر دیا اور ایک ٹیچر کی نوکری کرنا شروع کر دی تاکہ خود اور اپنی بیوی منکرنیکا گھوکلے کو سہارا دے سکے۔ منکرنیکا گھوکلے سے انھوں نے سنہ 1880ء میں شادی کی تھی، شاید خاندان اور اس وقت کی سماجی رسم کے مطابق ہوئی تھی۔ شادی کے بعد منکرنیا کو لکشمی بائی کا نام دیا گیا۔ وہ کبھی اسکول نہیں گئی تھی؛ تاہم، ناراین وامن تلک کے زور دینے پر وہ مراٹھی پڑھنا اور لکھنا سیکھ گئی، منکرنیکا نے زبان پر مہارت حاصل کر لی اور بعد میں خود کی آپ بیتی ”سمرتی چترے“ بھی تحریر کی جو مراٹھی میں ایک شاہکار آپ بیتی ثابت ہوئی۔
    ناراین وامن تلک نے اپنی زندگی میں کئی اتار چڑاؤ دیکھے اور انھوں نے اپنی زندگی میں مہاراشٹر کے مختلف قصبات میں مختلف اقسام کی نوکریاں کیں جن میں ٹیچر، پنڈت اور پرنٹنگ پریس کمپوزیٹر کی نوکری شامل ہے۔
    سنہ 1891ء میں ان کو ناگپور میں سنسکرت ادب کے مترجم کے طور پر نوکری ملی (اسی سال انھوں نے سنسکرت میں خود ہی کچھ نظمیں لکھیں)۔ اپا صاحب بھوتی کی سرپرستی میں انھوں نے مراٹھی زبان کے جریدہ ”رشی“ (ऋषि) میں ایڈیٹنگ کی، اس جریدے میں ہندو مذہبی معاملات پر بات کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

    سنہ 1893ء میں ملازمت کی تلاش کے لیے ناراین وامن تلک نے ٹرین کے ذریعے راج نان گاؤں کا سفر طے کیا۔ راج نان گاؤں پر اس زمانے میں ایک نوابی ریاست تھی جس کا حکمران ایک ہندو پنڈت تھا اور جو ہندوستان کے وسطی اضلاع میں واقع تھا۔ سفر کے دوران میں ان کی ملاقات ایک پروٹسٹنٹ مبلع فری میتھوڈسٹ چرچ کے ارنسٹ ورڈ سے ہوئی، جو جوش سے مسیحیت کی بات کرتا تھا۔ اس مبلغ نے بائبل کی ایک نقل انھیں پیش کی اور ان مشورہ دیا کہ ان کو دو برسوں میں مسیحی بن جانا چاہیے۔ ان کا ہندومت ترک کر کے مسیحیت قبول کرنے تک کا سفر درد ناک تھا۔ انھوں نے ایک مسیحی تبلیغی جریدے میں نامعلوم مصنف کے طور پر کام کیا اور اس بیچ انھوں نے کئی دفعہ سوتے ہوئے خواب دیکھے جس میں کوئی غیبی قوت ان کو مسیحیت قبول کرنے کا کہہ رہی تھی جس کے بعد انھوں نے بپتسمہ لینے کا فیصلہ کیا۔ 10 فروری 1895ء کو ممبئی میں ان کو بپتسمہ دیا جس سے علم ان کے رشتے دار اور بیوی لاعلم تھے۔ اس کی بیوی لکشمی بائی کی آزمائش ایک قابل ذکر کہانی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے الگ ہو گئی تھی اور چار سالوں تک طویل کشمکش رہنے کے بعد دوبارہ اپنے شوہر سے مل گئی اور مسیحیت بھی قبول کر لی۔

    اس کے فوری بعد سنہ 1094ء میں ناراین وامن تلک نے احمد نگر کی سیمینری (تربیت گاہ) میں پڑھانا شروع کیا اور کانگریگشنل چرچ میں ایک خادم دین کے طور پر ان کا نفاذ فرمان ہوا۔ وہ 1912ء میں مسیحی تبلیغی جریدے ”گیان ادے“ کے ایڈیٹر اور معاون بنے اور اپنی وفات تک اسی منصب فائز رہے۔ مسیحی ہونے کے تقریباً دس سالوں بعد انھوں نے مراٹھی زبان کے مہاوروں، خاص کر مہاراشٹر کے وارکری ہندو سمپردائے کے شاعرانہ انداز میں اپنے عقیدے کو بیان کرنا شروع کیا۔ ان کے بنائے کئی گانے مراٹھی بولنے والے مسیحیوں میں اب تک انتہائی مقبول ہیں۔ وہ روایتی مسیحیت کے نقاد تھے اور اپنی وفات سے دو سال قبل وہ چرچ کے قریب ہوگئے تاکہ یسوع کے بپتسمہ یافتہ اور غیر بپتسمہ یافتہ شاگردوں کو اکھٹا کر کے ایک جماعت بنا سکیں۔ ان کا یہ مقصد کامیاب نہ ہو سکا اور وہ 09 مئی 1919ء کو ممبئی میں وفات پا گئے۔
    ناراین وامن تلک کے بیٹے دیو دت ناراین تلک رزمی نظم ”کرست یان“ کے مدیر اور ناشر تھے۔ ان کے پوتے اشوک دیو دت تلک ایک مؤرخ تھے جنھوں نے ”سمرتی چترے“ کی ایڈیٹنگ کی اور ناراین وامن تلک کے بارے میں ایک سوانحی ناول ”چلتا بولتا چمتکار“ لکھا۔

  • کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    شوہر کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے اپنے شوہر کو اپنا بنانے کے لئے عورت کو شوہر سے محبت کا انداز اور طریقہ سیکھنا چاہئے.

    شوہر کتنا بھی غصہ والا اور بڑا بدمعاش بےوقوف آوارہ ہو لیکن اس کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے.

    بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عورت نے اپنے شوہروں کی اصلاح کی ہے آوارہ گرد شوہر کو بھی صحیح راہ پر لانے والی اور صبر کرنے والی عورتوں کی کوئی کمی نہیں شوہر کے دل کو اپنے مٹھی میں رکھنے کے لیے اس کی ہر خواہش کی تابع بن جائے اس کی غلطیوں اور کج روی دور کرنے کے لئے اچھی مثالیں دے کر سمجھائے اس کو دینی ماحول میں بھیجے .

    گھر میں قرآن و حدیث کی تعلیم کرے اور دین کی باتیں شوہر کو سمجھائے اللّه سے اس کے لیے ھدایت کی دعا کرے .

    شوہر کو جس کام سے خوشی ہوتی ہے ایسے کام کریں دل کی گہرائیوں اور پر خلوص طریقے پر اس کی خدمت کریں تو شوہر ایک نہ ایک دن ضرور اس کا تابع ہو جائے گاان شاءاللّٰہ.

    جو عورت اپنے شوہر سے سچی محبت کرتی ہے ایسے شوہر کی مجال نہیں کہ وہ اپنی عورت کا بے وفا بن کر ادھر ادھر بھٹکتا رہے
    جی ہاں اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں.

    بیویاں شوہر کے لیۓ سجنے سنورنے کو تیار ہی نہیں.

    شوہر جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہی گرد آلود چہرا موٹا جسم بوسیدہ لباس خشکی بھرے بال لیۓ مردانہ آواز نکالتے ہوۓ منہ بنا کر غصہ میں کہتی ہے فلاں چیز لانا بھول گئے ہونگے معلوم ہے مجھے آپ سے ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ.

    یہاں وہ شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے پھر اسے بیوی سے زیادہ موبائل ٹیلیوژن اور دوستوں میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے.

    ایمان اور دل میں اللّٰہ کا ڈر ہوتا ہے تو نفس پر قابو کیۓ رکھتا ہے اور کہیں ایمان کمزور خوف اللّٰہ کم ہو تو باہر خواتین سے تعلق بنا بیٹھتا ہے.

    ہر شخص اپنی بیوی کو جوان تر و تازہ اور خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسکی بیوی رومانوی انداز میں گفتگو کرے لیکن خواتین کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ بچوں کے بعد یہ سب نہیں ہوتا بچے کون سنبھالے گا گھر کے کام کاج کون کرے گا ان تمام معاملات میں انسان کی حالت خراب ہو ہی جاتی ہے.

    اور پھر اس کا نتیجہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ شوہر موبائل میں مصروف رہتے ہیں دوستوں میں مصروف رہتے ہیں آفس کام سے دھیان ہی نہیں ہٹتا گھر دیر سے آتے ہیں.

    واضح بات ہے کہ جب بیوی کے اندر سے شوہر کو نظر انداز کرنے کی فیلنگز آیئں گی تو شوہر نے موبائل اور ٹیلیوژن کو ہی ترجیح دینی ہے دوستوں کو ہی ترجیح دینی ہے ایسا کیسے ممکن ہے کہ سجی سنوری بیوی سے منہ موڑ کر شوہر موبائل میں گھسا رہے؟

    اگر ایک عورت اپنے کمرے کا ماحول شوہر کے لیے رومانوی بنا کر رکھے خود کو شوہر کے لیے تیار کیۓ سج سنور کر رہے شوہر سے گفتگو کے دوران آواز میں نرمی اپناۓ رکھے تو شوہر دوستوں میں جانا تو دور بلکہ اپنے آفس سے جلدی چھٹی لے آۓ گا.

    یہ تو اللہ کا حکم ہے خواتین واسطے کے اپنے شوہر کے لیے سجنی سنوری رہا کرو تاکہ شوہر کا اپنی بیوی سے دل لگا رہے وہ کبیرہ گناہوں کی طرف نا جاۓ اور غیر محرموں سے پردے کا حکم دیا گیا.

    لیکن یہاں تو مکمل الٹی گنگا بہ رہی ہے کہ گھر میں شوہر کے سامنے بیوی کے ہاتھوں میں سے پیاز اور لہسن کی سمیل آرہی ہے اور کسی شادی کہ تقریب میں جاتے وقت میک اپ کے ڈبے ختم کر دیے آدھے آدھے پرفیوم اور سپرے ہوا میں اڑا دیے.

    بعض جگہ مردوں میں بھی یہ خامیاں ہیں بیوی کے پاس جایئں تو صفائ و ستھرائ کا خیال رکھیں خود کو چست و ایکٹو رکھیں چہرے پر مسکراہٹ رکھے بالوں میں کنگھی اور ہلکی خوشبو کا استعمال بے حد ضروری ہے.

    ایسا نا ہو کہ باہر سے پسینے میں بھرا آۓ اور بدبو سے آس پاس ماحول خراب کر دے سر کے بالوں میں خشکی نا آنے دے داڑھی ہے تو کنگا کیا کرے چہرے گرد و پسینے سے صاف رکھے مطلب بیوی کو بھی اپنا شوہر جوان خوبصورت ترو تازہ اور ایکٹو اچھا لگتا ہے.

    تمام باتوں کا مقصد یہ ہے میاں بیوی کی زندگی میں دونوں کا ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا ایک دوسرے کے لیئے تیار ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اس سے محبت بڑھتی ہے بیزاریت دور بھاگتی یے گھر کا ماحول خوبصورت رہتا ہے.

    بیوی کے معاملات اس لیئے زیادہ ڈسکس کیے کہ اکثر و بیشتر بیویاں بچوں اور گھر کے کاموں میں اتنا مصروف ہو جاتی ہیں کہ شوہر کے لیۓ سجنے اور سنورنے کے لیۓ وقت نہیں نکال پاتی جس سے شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونے لگتا ہے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے.

    مختصر سی بات ہے فارغ آج کل کوئی بھی نہیں جہاں خواتین کے پاس کام کے انبار لگے ہوتے ہیں وہاں مرد بھی دن بھر کمانے کیلیے اپنی جان جلاتا ہے وقت نکلتا نہیں ہے وقت نکالنا پڑتا ہے اور ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا تو اس رشتے کے لیے انتہائ ضروری ہے اگر اس کے لیے دونوں میں سے کسی کو فرصت نہیں ملتی تو معذرت کے ساتھ عرض یہ ہے کہ اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں
    اکثر خواتین یہ شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کا شوہر دوسری عورتوں کی طرف راغب ہوتا ہے جو کہ انتہائی غلط کام ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے پاک اور صاف لباس کو چھوڑ کے گندہ لباس پہن لے خواہ ایسا کام کرنے والا مرد ہو یا عورت
    خواتیں یہ شکوہ تو کرتی ہیں کہ شوہر دوسری خواتیں میں دلچسپی لیتا ہے لیکن وجہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اس کی اکثر تین وجوہات ہوتی ہیں.

    1: بیوی کی بدزبانی.
    2: بیوی کا اپنے شوہر کی خواہشات کا احترام نہ کرنا شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا.
    3: بیوی کا خود کی صفائی کا خیال نہ رکھنا.

    1: جب بیوی شوہر سے بد زبانی کرتی ہو تو اس کا دل ضرور بیوی سے دور ہوتا جاتا ہے پھر جب اسے باہر کی کسی دوسری عورت سے عزت اور میٹھے بول سننے کو ملتے ہیں تو وہ اس کی طرف راغب ہوتا ہے لہذا بیوی کو چاہئے وہ شوہر سے پیار سے بات پر میٹھے بول بولے جب آپ شوہر سے نرم میٹھے انداز میں بات کریں گی اس کا دل خوش ہو جائے گا جب گھر سے پیار ملے تو باہر جانے کی کیا ضرورت.

    2: بیوی اپنے شوہر کی ضروریات اور خواہشات کا احترام کرے اس کی ہر جائز خواش کو پورا کرے اور ہر جائز حکم مانے اور شوہر بھی بیوی سے ایسا مطالبہ نہ کرے کو شریعت کے خلاف ہو اور نہ ہی ایسا مطالبہ بیوی کو ماننا چاہئے.

    3: اکثر دیکھا گیا ہے جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو شروع کے دنوں میں کام کا اتنا بوجھ نہیں ہوتا اور شوق شوق میں وہ خود کا صاف رکھتی ہے اپنے اوپر توجہ دیتی ہے خیال رکھتی ہے لکن جب کام کا بوجھ پڑتا ہے تو وہ ماسی بن جاتی ہو اپنے صفائی کا خیال نہیں رکھتی اگر رکھتی بھی ہے تو پہلے کی طرح نہیں پھر جب اولاد ہو جاتی ہے پھر تو بس اپنی ایسی حالت بنا لیتی ہے کہ شوہر کا دیکھنے کو بھی دل نہ کرے صفائی نصف ایمان ہے .

    جب خود کو صاف نہیں رکھیں گی تو شوہر بیوی پر کیا توجہ دے گا ایسی صورت میں شوہر باہر کی عورتوں کی طرف دیکھتا ہے جو بنی سنوری ہوتی ہیں ایسی عورت ہر مرد کو بھاتی ہے پسند ہوتی ہے.

    لہذا کام اور بچوں کی دیکھ بھال ایک طرف لیکن کم سے کم اپنے کپڑے صاف رکھیں شوہر کے آنے سے پہلے تبدیل کر لیں ہلکا سا میک اپ کر لیں جسا شوہر کو اچھا لگتا ہو اپنی حفاظت کریں تانکہ شوہر جب گھر آئے اور اپنی بیوی پر نظر پڑے تو اسے اچھی لگے اس کا دل خوش ہو جائے اگر آپ ماسی بنی ہوں گی تو پھر شوہر سے توجہ کی امید نہ رکھیں.

    جن لڑکیوں کی شادی ہونے والی ہے وہ شروع سے ہی ان باتوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ جب آپ کی لا پرواہی کی وجہ سے ایک بار شوہر کو باہر کی عورتوں کی لت لگ گئی تو پھر اس عادت کو چھوڑنا بہت مشکل ہے.