Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ:  شہزاد قریشی

    سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ اور یورپ سے لے کر سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت اپنی قوم اور اپنے ممالک کے لئےمستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلی کے میدان میں اتر چکے ہیں سعودی عرب کا انحصار مستقبل میں صرف پٹرول اور ڈیزل پر نہیں ہوگا جبکہ روس اور یوکرائن کی جنگ کو لے کر یورپ مستقبل میں گیس اور پٹرول ڈیزل پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ممالک کے شاندار مستقبل کے لئے بجلی پر انحصار کر کے گا۔

    اس سلسلے میں گھروں میں گیس کی جگہ الیکٹرانک سسٹم جبکہ گاڑیاں بھی الیکٹرانک سسٹم پر سڑکوں پر لانے کے لئے عملی طور پر کام شروع کردیا گیا ہے سعودی عرب کا وژن 2030 اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ سعودی عرب اپنے مستقبل کے لئے چین سمیت اٹلی اور دیگر یورپی ممالک سے صرف سیاسی رابطوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، تجارت اور دیگر شعبوں میں مذاکرات کر رہا ہے۔

    سعودی عرب جس کی ستر فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ نتیجہ خیز تعاون کے ذریعے استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے سعودی عرب کے مستقبل کے لئے ترقی کے خواب کا بلاشبہ سہرا پرنس محمد بن سلیمان کو جاتا ہے۔ کاش ہمارے ریاستی ذمہ داران اور سیاستدان وطن عزیز کی ترقی اور پڑھے لکھے جوانوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔

    سیاستدان ایک دوسرے کی آڈیو، ویڈیو پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں ایک دوسرے کو غدار، کرپٹ، سیکورٹی رسک ثابت کرنے، حد یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معاشرے کے نوجوان بچوں اور بچیوں کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ایک دوسرے کی عورتوں کی آڈیو ، ویڈیو سوشل میڈیا پر دکھائی جا رہی ہے کیا یہ وطن عزیز اور عوام کا مقدر سنوار رہے ہیں؟ انتظامی افسران کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ ہر آنے والی حکومت کی غلامی اختیار کر لیتے ہیں یہی حال بیورو کریسی کا ہے۔

    یہی حال اعلیٰ پولیس افسران کا ہے۔ اقتدار اور ہوس اقتدار میں وطن عزیز اور نوجوان نسل کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں۔ دنیا اپنے اپنے مستقبل کے لئے اپنی عوام کے لئے منصوبے بنا رہی ہے ہم ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔

    حکمرانوں، تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں کو بھی چاہئے کہ آپس کی سیاسی کھینچا تانی اور رسہ کشی کو ترک کر کے وطن عزیز میں سیاسی ہم آہنگی، کفایت شعاری، گڈگورننس پر توجہ دیں اور قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ختم کیا جائے۔ لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی جائیں جس سے عوام کو رہنمائی اور وطن عزیز کو استحکام کی امید لگے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • کھلاڑیوں کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین پی سی بی

    کھلاڑیوں کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین پی سی بی

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہا کہ پوری دنیا کے کرکٹرز انجری کا شکار ہوتے ہیں.

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہا ہے کہ انگلیںنڈ کے آنے سے ہم نے بھی مثبت کرکٹ کھیلنا شروع کردی ہے، ہم اپنی صلاحیت کے مطابق کھیل رہے ہیں، قومی کرکٹ ٹیم آخری لمحے تک مقابلہ کرنا جانتی ہے۔ میڈیا منفی سوچ والی ہیڈلائنز بند کرے۔رمیز راجا نے کھلاڑیوں کی انجریز پر میڈیا کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے کہا کہ پوری دنیا کے کرکٹرز انجری کا شکار ہوتے ہیں، ہم کھلاڑیوں کو ٹی20 سے ٹیسٹ کرکٹ میں لے کر جارہے ہیں جبکہ ٹیسٹ کرکٹ سے کھلاڑی ٹی20 میں آتے ہیں انہوں نےمزید کہا کہ فاسٹ بولرز کو پانچ روزہ کرکٹ کی فٹنس برقرار رکھنے کا کہا ہے، قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول شاندار ہے البتہ کھلاڑیوں کو ابھی بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی
    12 سالہ بچی کو تین سال تک زیادتی کا نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار
    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی
    اسلام آباد سیشن عدالت ؛عمران خان کی عبوری ضمانت میں نو جنوری تک توسیع
    ریحان احمد انگلینڈ کی جانب سے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے
    چیئرمین پی سی بی رمیز راجانے شکوہ کیا کہ ملتان ٹیسٹ میں سعود شکیل کا متنازع آؤٹ نہ دیا جاتا تو ہم جیت جاتے اور اظہر علی کو ریٹائرمنٹ لینے کیلیے کسی قسم کاکوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا ہے.

  • آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے پی ٹی آئی کے اراکین ناراض، بغاوت کا خدشہ

    آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے پی ٹی آئی کے اراکین ناراض، بغاوت کا خدشہ

    مظفر آباد: پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے خلاف بغاوت کے خدشے کے پیش نظر پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔

    توشہ خانہ کیس ؛عمران خان کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کا نام بھی سامنے…

    مظفرآباد سے ذرائع کے مطابق عمران خان نے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی پارلیمانی کا اجلاس کل زمان پارک لاہورمیں طلب کر لیا، جس میں وزیراعظم آزادکشمیرسردار تنویر الیاس کے خلاف پی ٹی آئی اراکین کی بغاوت کاخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایس ای سی پی کی انتظامیہ کی ملاقات

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ناراض اراکین اجلاس میں عمران خان کو وزیراعظم کی ناقص کارکردگی سے آگاہ کریں گے اور انہیں عہدے سے ہٹا کر کسی دوسرے شخص کو وزیراعظم نامزد کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوئٹریس سےملاقات

    ذرائع کے مطابق ناراض اراکین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویز الیاس کی گزشتہ 7 ماہ کی کارکردگی سے انتہائی مایوس ہیں اور وہ مختلف معاملات پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔

  • جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    پیدائش:16 دسمبر 1775ء
    وفات:18 جولا‎ئی 1817ء
    ونچیسٹر
    مدفن:ونچیسٹر کیتھیڈرل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:مملکت برطانیہ عظمی
    مادری زبان:انگریزی
    کارہائے نمایاں:تکبر اور تعصب، شعور و احساس

    جین آسٹن(16دسمبر 1775ء – 18جولائی 1817ء) انگریزی کے عظیم ناول نگاروں میں سے ایک، موجودہ دور کے بعض نقادوں کے نزدیک اس کے ناول ”پرائڈ اینڈ پریجوڈس“ کا شمار دنیا کے دس عظیم ناولوں میں کیا جا سکتا ہے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جین ایک پادری کی لڑکی تھی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی 25 سال اس نے ہیمپ شائر میں اپنے باپ کے ساتھ گرجا میں گزارے۔ یہیں اس نے اپنے تین مشہور ناول تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)، شعور و احساس (Sense and Sensibility) اور نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey) لکھے جو بہت بعد میں شائع ہوئے۔ باپ کے انتقال کے بعد پورا خاندان ہمپ شائر میں چاٹن کاٹیج منتقل ہو گیا۔ آخر عمر تک جین یہیں رہی۔ ایک پادری کی لڑکی کے قلم سے ایسی ناول نگاری اس دور کے سماج کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے یہ ناول لکھنے کے کافی عرصہ بعد چھپے اور وہ بھی فرضی نام سے البتہ قریبی دوست احباب کو اس کا علم تھا۔ اس کا ناول نارتھینجر ایبے مسز ریڈ کلف کے اسکول کے رومانوں پر ایک نہایت پر لطف اور طنزیہ ناول ہے جس کا مسودہ 1803ء میں صرف دس پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔ جین نے ان ناولوں پر خاص طور سے ان کی زبان پر کافی محنت کی تھی لیکن اس کی زندگی میں اسے کوئی شہرت نہ ملی۔ اس کے سارے ناول صوبائی سماج میں رہنے والے شرفا کے اطراف گھومتے ہیں۔ اکثر قصوں میں شادی کے قابل لڑکیوں کے لیے شوہر کی تلاش اصل موضوع ہے۔ جین اپنی اعلیٰ نثر کے لیے مشہور ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں کرداروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح بڑی چابک دستی کے ساتھ گھماتی ہے۔ اخلاقی قدریں بڑی گہری ہیں۔ پلاٹ میں ہلکا طنز ومزاح ہے۔ وہ بیوقوف، بر خود غلط سیدھے سادے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتی ہے۔ اس کا شمار انگریزی زبان کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات الگ الگ مجموعے کی شکل میں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ اس کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے۔
    ایک نیلامی میں جین آسٹن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات 993250 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)
    شعور و احساس (Sense and Sensibility)
    مینزفیلڈ پارک (Mansfield Park)
    ایما (Emma)
    نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey)
    ترغیب (Persuasion)

  • اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

    اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

     قومی کرکٹ ٹیم کے سینیر بلےباز اور سابق کپتان اظہر علی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق کپتان اظہر علی نے کہا کہ انگلیںڈ کے خلاف کل ہونے والا کراچی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ ہوگا، میں اپنے سینئرز اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چار پانچ سال انجری کا شکار رہا، میری فیملی نے میرے کیرئیر کے لیے بہت قربانیاں دیں، امید ہے اب انہیں کافی ٹائم دے سکوں گا۔ میرے لیے اعلیٰ سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا بہت بڑا اعزاز اور اعزاز ہے، ایسا فیصلہ کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، لیکن گہرائی سے سوچنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ میرے لیے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا صحیح وقت ہے۔

    اظہر علی نے کہا کہ مجھے کچھ بہترین کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جن کے ساتھ میرا مضبوط رشتہ ہے، مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ میں نے کچھ شاندار کوچز کے تحت کھیلا جن کا میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا، بہت سے کرکٹرز اپنے ممالک کی قیادت نہیں کرپاتے لیکن میں پاکستان کی کپتانی کرنے میں کامیاب ہوا، میرے لیے بہت فخر کی بات ہے۔ ٹیسٹ بیٹنگ لائن اپ میں اہم مقام بننے تک میرے پاس اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات تھے جنہیں میں ہمیشہ یاد رکھوں گا،انہوں نے کہا کہ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں،یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کرکیا، مستقبل کے حوالے سے ابھی سوچا نہیں، البتہ اپنی کمٹمنٹس پوری کروں گا۔

    پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے اظہر علی کی پاکستان کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا حوصلہ اور عزم بہت سے نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک تحریک رہا ہے اور وہ آنے والے اور آنے والے کرکٹرز کے لیے ایک رول ماڈل ہیں،اگرچہ یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کے پاس ڈریسنگ روم میں اپنے تجربے کا کوئی کھلاڑی نہیں ہوگا لیکن یہ صرف زندگی کے دائرے کی عکاسی کرتا ہے۔ امید ہے کہ اظہر علی پاکستان کرکٹ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اور ابھرتے ہوئے کرکٹرز کے ساتھ اپنے وسیع علم اور تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے دیکھیں گے۔

    اظہر علی کا کیرئیر؛

    سابق کپتان اور مڈل آرڈر بلےباز اظہر علی پاکستان کے کامیاب ترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں، انہوں نے 96 میچوں میں 42.49 کی اوسط سے 7 ہزار 97 رنز بنائے، وہ ملک کے پانچویں سب سے زیادہ ٹیسٹ زنر اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ اس سے قبل یونس خان (10,099)، جاوید میانداد (8,832)، انضمام الحق (8,829) اور محمد یوسف (7,530) کے ساتھ پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن پر قابض ہیں۔ اظہر علی نے سال 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف انگلینڈ میں اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور اپنے دوسرے ہی میچ میں اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری بنائی، انہوں نے کیرئیر میں 35 نصف سینچریاں جبکہ 19 مواقع پر 100 رنز کا ہندسہ عبور کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ 19 دسمبر تک موخر
    حکومت ملک بھر میں نوجوانوں کو 50 ارب روپے کے قرض دے گی مگر کیسے؟
    16 دسمبر دہشت گردی کے خلاف پورے پاکستان کے ایک آواز ہونے کا دن ہے. وزیراعظم
    ایلون مسک نے سی این این، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کے اکاونٹس معطل کردئیے
    سابق کپتان گلابی گیند کے ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری بنانے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں، یہ کارنامہ انہوں نے سال 2016 میں دبئی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف حاصل کیا تھا۔ اپنے 12 سالہ کیریئر کے دوران اظہر نے دو ڈبل سنچریاں بھی بنائیں، ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف 226 (مئی 2015) اور میلبرن (دسمبر 2016) میں آسٹریلیا کے خلاف 205 ناٹ آؤٹ رہے۔

  • مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    انسان کو طبعی طور پر ایسی مشغولیت بھی درکار ہوتی ہے جس سے اس کو فرحت کا احساس ہو اور وہ ذہنی تھکن اور نفسانی بوجھل پن سے چھٹکارا حاصل کرسکے ۔ قدیم زمانے میں جب انسان ابھی تمدن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس وقت بھی انسان اپنے معاصرین کے ساتھ زیادہ وقت بات چیت اور گپ شپ میں گزارتا تھا ۔ آج کا انسان بھی گپ شپ کو کام پر ترجیح دیتا ہے ۔ اسی لیے سائنس انسان کے اس رویے کی وضاحت اسی انداز میں کرتی ہے کہ گپ شپ اور طنز و مزاح پسندی کا رویہ انسان کے آبا و اجداد سے genetically منتقل ہوا ہے ۔ خیر بات دوسری طرف چلی گئی اور اصل بات بیچ میں رہ گئی ۔ یعنی طنز و مزاح کرنا انسان کی فطرت ہے ۔ لیکن اسلامی نکتہ نظر سے مزاح کی حدود و قیود ہیں ۔ اسلام مزاح کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ نبی علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ مزاح پر مبنی گفتگو فرمایا کرتے تھے ۔ لیکن موجودہ مزاح کی طرح نہ تو اس میں جھوٹ شامل ہوتا نہ ہی مقابل کی تحقیر ہوتی تھی ۔

    نبی علیہ السلام نے جو مزاح فرمایا اس کی ایک مثال ذیل میں ہے ۔کہ آپ علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے کھجوریں تناول فرما رہے تھے کہ کھجوروں کی گٹھلیاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ دیکھا دیکھی صحابہ نے بھی تمام گٹھلیاں حضرت علی رض کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ جب گٹھلیوں کا ڈھیر حضرت علی کے سامنے لگ گیا تو آپ علیہ السلام نے ہنستے ہوئے ہوچھا علی ساری کھجوریں تم ہی کھاگئے ہو ؟

    یہ بات علی رض نے سنی تو فورا جواب دیا یا رسول اللہ میں تو صرف کھجوریں کھاتا رہا ہوں باقی تو گٹھلیوں سمیت ہی کھا گئے ۔ یہ بات سنی تو رسول اللہ ص کھلکھلا کر ہنسنے لگے ۔

    اس طرح کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں ۔ جس میں خوش طبعی پر مبنی مزاق بھی ہے اور دوسروں کی تحقیر بھی نہیں ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں جو مزاق کی صورتیں ہیں ان میں یا تو جھوٹ ہے یا فحاشی و عریانی پرمبنی باتیں ہیں اور یا دوسروں کی تحقیر کی جاتی ہے ۔

    اور نبی علیہ السلام نے تو یہ واضح فرمادیا کہ جس نے لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولا اس کے لیے ہلاکت ہے ۔

    اسی طرح دوسروں کی تحقیر کے حوالے سے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ تحقیر پر مبنی کلمہ سمندر میں ڈال دیا جائے تو سمندر کا پانی کڑوا ہوجائے ۔

    بحثیت مسلمان سوشل میڈیا کے توسط سے آج کا انسان بہت سارا مواد دیکھتا اور شیئر کرتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دیکھے کہ وہ جو کررہا ہے وہ اس کے شایان شان بھی ہے یا نہیں ۔

  • خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات پرانے یا نئے نہیں ہوتے، درست یا غلط ہوتے ہیں۔ ہر نئی چیز اچھی نہیں اور ہر پرانی چیز بری نہیں ہوتی۔ سخاوت ایک پرانا خیال سہی، مگر کردار کی عظمت کا نشان آج بھی بنتی ہے۔ بہادری کا لفظ پرانا ضرور، مگر دنیا آج بھی بہادروں کی عزت کرتی ہے۔

    چالاکی ہوشیاری مکاری جھوٹ فریب دغا، گو جدید دور میں نئے ناموں کے ساتھ لانچ کر دئیے گئے مگر آج بھی برے کے برے ہیں، دنیا نئے سیاروں پر چلی جائے، چاند پہ بسیرے کر لے، سورج پہ چھاوں تلاش کر لے، انہیں جھوٹ سے نفرت کرنا ہی پڑے گی۔ فریب پوری تاریخ بدل جانے کے باوجود فریب ہی رہے گا، گھٹیا اور بودا ہی رہے گا۔ قابل احترام لفظ نہیں بن سکتا۔ قتل نفس مظلوم جرم تھا جرم رہے گا۔

    گویا کچھ تعلق نہیں نئے پرانے کی بحث کا اچھائی برائی کے ساتھ۔

    مسئلہ توحید ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک تروتازہ ہے، اہل توحید آج بھی اجنبی اور دشمنان توحید آج بھی خود کی عقل پہ نازاں۔ قوم نوح نے پانچ بت بنائے، کئی اقوام نے معبد خانے بھر دئیے، کئی شاہوں نے اپنی خدائی کا اعلان کیا اور مشرکین مکہ کے بت ہزاروں تک پہنچ گئے، کئی تہذیبوں نے ہر جاندار چیز کو خدا مانا اور کئیوں نے خود طاقت ور ہر مخلوق کے سامنے سر جھکایا، انکار خدا پر ان کے دلائل یہی ہوا کرتے کہ وہ سامنے کیوں نہیں آتا، غریبوں کو نبی بنا کر بھیج دیا، اس کے ساتھی غریب ہی کیوں ہیں،۔ہمارے اسٹیٹس کو پرابلم ہوجاتی ہے وغیرہ !

    دور جدید میں اسی توحید کے دشمنوں نے خدا کی وحدانیت کا عقیدہ چھوڑ کر انسان کو ہی خدا باور کرویا، گویا خدا کو سمجھانا پڑا کہ قبلہ آپ خدا ہیں۔ہے نا عجیب !

    پھر ایک خدا کو چھوڑ کر لاکھوں غیر مرئی طاقتوں پر ایمان لے آئے۔ پہلے مشرکین سے کہا جاتا کہ تمہارے بت کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں تو وہ جواب دیتے، تمہارا خدا بھی تو نظر نہیں آتا۔ آج کا جدید مشرک جب جواب دیتا تو بعینہ یہی سوال اٹھاتا ہے کہ خدا نظر کیوں نہیں آتا، بلیک ہول کے بعد تو دنیا ختم، وہاں تو خدا نہیں ہے۔ ان سے پوچھیں قوانین قدرت بھی تو نظر نہیں اتے، تس پہ جواب دیتا ہے کہ ان کے آثار تو بکھرے پڑے ہیں، جواب ہمارا بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود تمہارے جسم کے اندر کے نظام سے سمجھ آتا ہے، اگر تم سمجھنے کی کوشش کرو، اگر کوشش ہی نا کرو تو بے شک پہاڑ الٹا دئیے جائیں، ہدائت تب ہی ملنی جب حکم خداوند قدوس کا آجانا ہے۔

  • اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    کھانا ہر انسان کی مادی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں تو فون کی بیٹری، وائی فائی سگنلز کے بعد انسان کو سب سے زیادہ فکر دو وقت کی روٹی کی ہی ہوتی ہے، البتہ جو قومیں روٹی نہیں کھاتیں ، ان کے ہاں پتہ نہیں دو وقت کی ‘کیا’ کی فکر ہوتی ہوگی ۔ شاید چینی ایسا کہتے ہوں ‘بھئی اپنی تودو وقت کی نوڈلز بمشکل پوری ہوتی ہیں’ ۔ انگریز ماں شاید ایسے اپنے بچے کو دعا دیتی ہوگی ‘وے پیٹر… گاڈ کرے تجھے دو وقت کا برگر آسانی سے ملنا شروع ہو جائے ‘

    ہمارے محلہ کے عظیم ماہرِ معیشت و پکوائی ،بشیر تندور والے کا کہنا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کی اسی فیصد تگ ودو روٹی کمانے کے لئے ہوتی ہے جبکہ ان کا نوے فیصد بجٹ ‘سالن’ کھا جاتا ہے۔ قریب یہی نسبت سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں ہے ۔ ادھر روٹی کا بھی عجیب معاملہ ہے، اکثر لوگوں کو کہتے سنا ‘بھئی آج سالن بہت لذیذ تھا میں تین روٹیاں کھا گیا’ حیرت ہوتی ہے ۔بھئی اگر سالن لذیذ تھا تو سالن زیادہ کھائیں نا روٹی بیچاری کا کیا قصور ہے ۔

    کھانے میں، کمزور کا حق اور سرکار کے مال کے بعد شہد ، دہی اور ماں کی گالیاں سب سے زود ہضم غذائیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جینے کے لیے کھاتے ہیں اور باقی کھانے کے لیے جیتے ہیں ۔ اسی لیے شاید کچھ لوگ بہت سلیقہ سے اور منتخب کھانا کھاتے ہیں ان کو عرفِ عام میں مہذب یا غیرملکی کہتے ہیں ۔اور دیگر کھانے پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں گویا کھانا کھا نہیں رہے فتح کر رہے ہوں۔ زیادہ کھانے والوں میں بھینسیں، بٹ، اہلیانِ گوجرانوالہ مولوی اور سیاستدان مشہور ہیں، جبکہ کم کھانے والوں میں، ماڈلز، چڑیاں ، ستر سی سی موٹر سائیکل اورموٹروے پولیس شہرت رکھتے ہیں۔

    کھانے کے معاملہ میں ہرایک کا انتخاب مختلف ہے ۔ کچھ قومیں صرف گوشت نہیں کھاتیں، جبکہ کچھ صرف گوشت کھانا چاہتی ہیں چاہے کسی بھی جانور ۔ خود ہمارے حلقہ احباب میں کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں گوشت ہو چاہے لگڑ بگڑ کا ہی ہو۔ ایسے لوگوں کی خواہش اور فرمائش پر ہی شاید مہربانوں نے گدھے کے گوشت کو رواج دیا۔ گو اطباء اس بات پر بضد ہیں کہ غذائی اعتبار سے گدھے کے گوشت میں کوئی کمی نہیں ، البتہ دانشورانِ ملت کا خیال ہے کہ اس کے مسلسل استعمال سے دانائی جاتی رہتی ہے ۔ قابل خرگوشوی اس انکشاف پر چنداں پریشان نہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے دانائی کا کرنا بھی کیا ہے، ہمیں کونسا لیپ ٹاپ اور ہوائی جہاز بنانا ہیں، آجا کے ہم نے فرقے ہی بنانے ہیں، اور وہ دانائی کے بغیر عمدہ اور کثرت سے بنتے ہیں ۔

    خود قابل خرگوشوی سے اگر پوچھا جائے کہ انہیں کھانے میں کیا پسند ہے تو کہیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ پکا کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر انڈے آلوپکے ہیں تو انہیں انڈے پسند ہیں، اور اگر آلو بینگن پکے ہیں تو آلو، اور اگر بینگن اروی پکی ہو تو انہیں اچار پسند ہے ۔ چاول کے متعلق ان کی رائے ہے کہ یہ اگانے اور برآمد کرنے کی شے ہے پکانے کی نہیں ۔

    دنیا کا سب سے آسان کام کھانا ہے اور سب سے مشکل پکانا، اور اس سے بھی مشکل یہ فیصلہ کرنا کہ ‘اج کیہہ پکائیے ‘ ۔گمانِ فاضل ہے کہ خواتین میں ‘کہاں سے لیا’، اور ‘کتنے کا ہے’ کہ بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ‘اج کیہہ پکائیے ‘ہی ہے۔ بلکہ ہمارے خیال میں تو خواتین کی تعلیم میں امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ ایک مضمون ‘اج کیہہ پکائیے’ بھی ہونا چاہئے ۔ بلکہ ہم اہل علم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حوالہ سے موبائل اپلیکیشن اور ویب سائٹس کا اجرا کریں جو اس دیرینہ مسئلہ پر موسم اور ماحول کے تناظر میں ان کی درست راہنمائی کرسکیں ۔

    کھانے کی ضد اور وجہ ہے بھوک ساحر لدھیانوی کہتے ہیں

    بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

    بات صرف آداب تک ہی نہیں رکتی صاحب بھوک چوریاں کروا سکتی ہے، ڈاکے پڑوا سکتی ہے، غیرت و حمیت کا سودا کروا سکتی ہے یہاں تک کہ عزتیں نیلام کروا سکتی ہے، گویا بھوک انسانوں سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔ قرآن پاک میں بھوکے کو کھانے کھلانے کی اتنی بار تاکید کی گئی ہے کہ ہمیں حیرت سے اسکی بابت استادِ محترم سے پوچھنا پڑا کہ ایسا کیوں ہے۔ فرمایا اس لیے کہ بھوک دن کئی بار لگتی ہے ۔ اگر قران پاک کو بغور دیکھیں تو جہاں متعدد بار کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی وہیں پر اس بات کا حکم بھی ہے کہ اوروں کو اس جانب ترغیب دلائی جائے ۔ بلکہ سورۃ الحاقہ میں اللہ کریم جہنمیوں کے جرائم گنواتے ہوئے کہتے ہیں

    وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡن ۔

    کہ یہ شخص لوگوں کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا ۔ اسی طرح سورۃ فجر میں اللہ کریم باغیوں اورسرکشوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾

    اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتے .

    اور سورۃ الماعون میں تو حد ہی کردی ۔ کہ وہ شخص روزِ قیامت کا ہی منکر ہے جو نمازوں میں غفلت برتتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ سو برادرانِ اسلام یاد رہے کہ صرف غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہی فرض ادا نہیں ہوتا اس کی ہمہ وقت ترغیب بھی ضروری ہے ۔اور میں نے آپ کو ترغیب دے دی ۔

  • انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    انڈس ڈولفنز — ضیغم قدیر

    آج جہاں پاکستان ہے وہاں 50 ملین سال پہلے ایک سمندر تھا جس میں ڈولفنز بھی رہا کرتی تھی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ سمندر سوکھ گیا اور چھوٹے بہاؤ کے راستے یا پھر دریا بچ گئے۔

    وہ ڈولفنز جو کہ کھلے سمندروں کی باسی تھی اور صاف پانیوں کی دلدادہ تھی وہ ایک گہرے گدلے پانی میں پھنس کر رہ گئی۔ اس سروائیول کے دوران ان ڈولفنز نے خود میں ارتقائی تبدیلیاں کروائی اور ان کی آنکھوں کے جینز سائلنٹ ہوگئے۔

    اور یوں یہ ہمیشہ کے لئے اندھی ہو کر رہ گئی۔

    وقت کی اس دوڑ میں فطرت سے یہ ڈولفنز جیت گئی مگر پھر انسانوں سے ہار گئی۔

    آٹھویں کلاس میں کہیں پڑھا تھا کہ انڈس ڈولفن ناپید ہو رہی ہے۔ بہت تجسس ہوا، سرچ کیا پتا چلا کہ انسانی آلودگی ان کے لئے نقصاندہ ہے مگر اس آلودگی کیساتھ ساتھ انسانی ذہنی آلودگی بھی ان کے ناپید ہونے کی طرف جانے کی وجہ ہے۔

    یہ جاننا میرے لئے ڈسٹربنگ تھا کہ،

    سندھی کلچر میں یہ سالوں پرانی روایت ہے کہ اگر آپ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کریں گے تو آپ کی مردانہ طاقت میں اضافہ ہوگا۔ اب جبکہ مردانہ طاقت ہمارے معاشرے میں موجود واحد طاقت ہے جس کی کمی ہر مرد کو ہے اس لئے انہوں نے کئی سالوں سے ان معصوم مچھلیوں کیساتھ جنسی زیادتی کرنے کا ایک کلچر بنا لیا اور یہ ایک اچیومنٹ بن گئی کہ انڈس ڈولفن کیساتھ جنسی عمل کیا ہے۔

    اب اس بات کو آزادانہ سورسز تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مگر ایک معاشرے کے فرد کو ان چیزوں کے نا ہونے پہ حیرت بالکل نہیں ہوتی کیونکہ یہاں پر گدھیوں، بکریوں اور ہرن تک کو جنسی زیادتی سے کوئی نہیں بچا سکتا بلکہ یہ بہت سے لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے اور اس پر باقاعدہ لطیفے بھی بنائے جاتے ہیں۔

    خیر،

    اب چونکہ یہ آبی مخلوق تھی گدھیوں کی طرح یہ انسانی زیادتی اور انسانی آب و ہوا دونوں برداشت نہیں کر پاتی تھی اس لئے مرنا انکی قسمت ہوا کرتی تھی۔

    اب ماحولیاتی آلودگی اور انسانی آلودگی کی وجہ سے ان مچھلیوں کی تعداد کم ہو کر ہزار سے پندرہ سو رہ گئی ہے اور اگر IUCN درمیان میں نا آتا تو شائد اب تک ان ہزار باقی ماندہ کا بھی جنسی شکار کر لیا جاتا مگر اب یہ مشکل ہو چکا ہے۔

    لیکن ابھی بھی بہت سے دوسرے جانور انسانی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں اور چونکہ انکی زبان نہیں ہے اس لئے کوئی یہ نہیں جان سکتا۔ مگر یہ سچ ہے اور دیہات میں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں۔

    یاد رہے،

    اس ضمن میں یہ چیز فقط پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ موجود ہے یورپ میں سور اس بات سے نہیں بچ پاتے اور اس کراہت آمیز روایت/کلچر یا پھر شوق کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ابھی تعلیم اور شعور کے بعد یہ ٹرینڈ کم ہو چکا ہے لیکن یہ کراہت آمیز عمل انسانی معاشرے میں بخوبی موجود ہے۔

    انڈس ڈولفنز ارتقاء کی بہت اچھی مثال تھی مگر ہم انہیں تقریبا مکمل طور پر کھو دینے والے ہیں اور یہ انتہائی دکھ دینے والی بات ہے۔

  • کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    ویرانے میں بنے کسی گھر میں کچھ دیر قیام کرنے والے مسافروں کے تاثرات الگ الگ ہوں گے. ایک چور سوچے گا یہ جگہ چوری کے بعد کچھ دن چھپنے کیلئے بہترین ہے. ایک شاعر سوچے گا کچھ عرصہ بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت میں رہنے اور اسکے حسن کو بیان کرنے کیلئے کتنی بہترین جگہ ہے. ایک طالب علم اسے الگ نظر سے سوچے گا تو کوئی شکی مزاج اُس پہلے آدمی پر شک کرے گا کہ آخر اس ویرانے میں یہ چھت اس نے بنائی کیوں..؟

    ہم ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے ہم ہوتے ہیں، ویسے ہی سوچتے ہیں جیسی ہماری شخصیت ہوتی ہے. وہی نتائج نکالتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ ہوتے ہیں. ایک منفی شخصیت کو اپنے آس پاس سب کچھ غلط نظر آرہا ہوتا ہے. وہ دن رات آس پاس وہ برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے جنکا وہ خود شکار ہوتا ہے. وہ مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے جن کا وہ خود شکار ہوتا ہے. پھر پریشان بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے.

    اسے ہر وقت کا ایک شکوہ ہوتا ہے ” لوگ نہیں بدل رہے” . وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ذات ہے جسے وہ بدل سکتا ہے. وہ یہ "خود” ہے. باقی لوگوں کو بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں صرف اچھائی یا برائی کی طرف دعوت ہی وہ دے سکتا ہے. جو طاقتور لوگ ہوتے ہیں وہ خود کو بدلتے ہیں. جو کمزور شخصیت ہوتی ہے وہ دوسروں میں پھر اپنی کمزوری کے جواز ڈھونڈتی ہے. یہی ان کی کمزوری کا پردہ ہوتا ہے.