Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    صاف لگتا ہے ۔۔۔ نسلِ آدم کی خوب تراش خراش ہوتی رہی ہے۔

    ناٹے قد بت کے انسان، لمبے اور زور آور انسان ۔۔۔ اور پھر رنگا رنگ مزاج کے انسان: جنگجو، فتنہ جُو، صلح جُو، نرم خُو انسان. دانائی سے لبا لب بھرے ہوئے سمجھدار انسان، تخلیق کار انسان ۔۔۔

    شقاوتِ قلب والے بےلچک انسان ـــــ جن کے دل شیطانی قوت و طاقت کی مستقل آماجگاہ ہوتے ہیں۔ سورۃ الناس کی آخری آیت میں ‘مِن الجنۃِ وَالنّاس” کہہ کر ہمارے گردوپیش میں ایسے ہی افراد کی موجودگی کو highlight کیا گیا ہے۔ اِنہیں شیاطین کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ گویا خود اِن کو شیطان قرار دیا گیا ہے، اور اِن سے اللہ کی پناہ طلب کرنا سکھایا گیا ہے۔

    فطرت کا اپنا ایک بیوٹی پارلر ہے، ابتدا سے ہی سرگرمِ عمل ہے۔

    اللہ اس فطرت کا خالق ہے، اور تخلیق کار ہمیشہ نئے تجربے کرتا رہتا ہے۔اپنی تخلیق میں نئے نئے رنگ بھرتا رہتا ہے۔

    اللہ نے بھی بےشمار تجربے کیے ہیں۔ عقل کے سافٹ ویئر کو بھی لاکھوں رنگ رُوپ بخشے ہیں، یعنی ایک تو جبلّت ہے: بھوک، پیاس، جنسی لذّت، حسد، عزّت و جاہ کی طلب وغیرہ۔ ساتھ میں یہ تِھنکنگ مشین الگ سے وجود رکھتی ہے۔ یہ برین پاور ایک الگ فینامینن ہے۔ جیسے عقاب کی عقلمندی، بعض مچھلیوں کا عجیب و غریب ذہنی رویہ، بعض جانوروں میں حیرت انگیز دور اندیشی! اور پھر حضرتِ انسان کی عقلمندی اور اِس کے پینترے تو خیر اخیر شے ہے ۔۔۔

    اللہ کہتا ہے ‘تمہیں از سرِ نو بنا لینا، اٹھا کھڑا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا اِن ستاروں اور سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کے پیچیدہ نظام کو؟’

    یعنی ایک انسان کو حیاتِ نو بخشنا میرے لیے معمولی کام ہے!

    خیر، اب تو Terminator جیسی فلموں میں دکھائی جا رہی سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی بھی اشارے دے رہی ہے کہ کیسے چند کیمیکلز سے بنا انسان ازسرِ نو اُسی شکل و شباہت اور قد بُت میں متشکّل ہو کر جیتے جاگتے وجود کی صورت دوبارہ و سہہ بارہ سامنے آ سکتا ہے۔

    گویا انسان کے مقابلہ میں لاکھوں گنا بڑے، لاکھوں ٹن وزنی، پیچیدہ کیمیائی مرکٗبات اور اُن کے آپسی تعامل پر مبنی ایک ستارہ بنانا زیادہ مشکل ہے۔

    اس سے بھی زیادہ مشکل ایک سو ملّین ستاروں والی ایک چھوٹی کہکشاں ۔ پھر اس سے زیادہ مشکل کام ایک ٹرلین ستاروں والی بڑی کہکشاں۔ پھر اس سے بھی زیادہ مشکل کام ایسی لاکھوں، کروڑوں کہکشاؤں کو آپس میں مربوط کرنا، انہیں برقرار رکھنا۔ ردّی کی ٹوکریاں یعنی بلیک ہولز بنا کر رفتارِ سیارگان کو متاثر کرتے اضافی فلکی اجسام کو ٹھکانے لگا دینا ۔۔۔

    ایسا کیوں نہیں کہ اللہ نے اپنی اِن تخلیقات میں سےچند ایک کے نام بتا کر، خوب جتا کر، اس پیچیدہ و حسین انتظام کی تعریف و تحسین کا حکم دیا ہو ۔۔۔؟

    تھوڑا بہت ایسے کلمات مل جاتے ہیں جن میں اللہ کی کاریگری اور حسنِ انتظام کی تحسین کے اشارے موجود ہیں۔ تاہم، اللہ کی طرف سے موصول ہوئے خطوط / پیغامات میں تاکیدی زور کسی اور بات پر ہے۔

    اِس بات پر کہ تم سب کی نظریں میرے محمدؐ پر فوکس رہیں!

    اِس شخص کو کاپی کرو، اِس کی بات مانو، اِس کے باطنی اور ظاہری manners کو اپناؤ، اِس صاحبِ عزّت و تکریم کی کوئی ایک ادا، کوئی ایک انداز اپناؤ ۔۔۔ اپنے معاملات اِس کے کہے اور کیے کی روشنی میں درست کر لو۔ اِس کے حق میں ہر روز کئی مرتبہ سلیوٹ بجا لاؤ۔ اِس پر درود و سلام بھیجو۔

    مختصر وقفہِ حیات میں اِس محمّدی discipline code پر رہ کر وقت گذار جاؤ تو ایسی مہیب، حسین، پیچیدہ کہکشائیں، یہ خصوصی انتظام پھر تمہارا منتظر ہے۔ ذرا زیادہ اچھے بندے کے لیے جنت الفردوس والی بزنس اِیلیٹ کلاس میں luxury apartments تیارپڑے ہیں۔ کیا سے کیا سُوپر سونک برّاق اور اڑتے قالین بھی ۔۔۔۔ اُن کی تمنّا کرو، انہیں اچِیو کرنے کی سعی کرو ۔۔۔! جبکہ اِس دنیا میں جو کچھ ہاتھ لگے، اُسے دوسروں پر نثار کرتے چلو۔ امن و آشتی کا خیال رکھو۔ لالچ اور حسد سے پرہیز کرو۔ مادّیت پرستی کے خول میں جکڑے جانے سے بچو۔ معاف کر دو، انتقام نہ لو ۔۔۔ یہی میرے محمّدؐ کا طرزِ حیات تھا، یہی محمّدیؐ کوڈ آف ڈسپلن ہے۔

    اِس عارضی قیام گاہ میں خواہ تم ایک ریڑھی بان ہو، کوئی سرکاری ملازم، یا امیر کبیر تاجر پیشہ۔ یہاں جس حال میں بھی ہو، اپنے دائرہ کار میں میرے محمّد کے دئیے ہوئے ضابطہِ حیات کو تھامے رکھو:

    کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

    یومِ اقبالؒ پر لکھی ایک نامکمل تحریر جسے آج مکمل کر ڈالا ۔۔۔ جَسٹ سَم رینڈم تھاٹس۔

  • حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    ایک طویل عرصہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر کے ایک تجربہ حاصل ہوا. جب سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو کوئی ورکر ملازم اس شرح پر سوال نہیں کرتا جس شرح سے کمپنی تنخواہ میں اضافہ کر رہی ہوتی ہے. نہ کسی کو اس سال کمپنی کے نفع نقصان کو جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے. سارے اعتراض و خوشی ناراضگی اسی پر ہوتی ہے فلاں کا اضافہ مجھ سے زیادہ کیسے.؟ یا فلاں سے کم کیوں.؟

    ہمارا وہ کلچر ہے جہاں ہمیں ٹانگ کھینچنے کیلئے کسی پرائے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی. ہم خود ایک دوسرے کیلئے بہت ہیں. اس لئے ایک بڑی اکثریت دیہاڑی والی مزدور بن گئی ہے. صبح آو کام کرو شام کو جاتے تسلی لے لو آج کی دیہاڑی لگ گئی. بیماری اپنا گھر اور کل کے بڑھاپے میں جب دیہاڑی لگانا ممکن نہ ہوگا تب کیا ہو گا.؟ اس کیلئے جلد سے جلد بچے پیدا کرو ان کو بھی دیہاڑی پر لگاو تا کہ کل محفوظ ہو جائے.

    سوشل سیکورٹی پینشن کا حق کیا ہے.؟ کنزیومر رائٹس کیا ہیں.؟ ایک ٹرک ڈرائیور زندگی بھر سڑکوں پر رُلتا پھرتا ہے. اس کی زندگی رسہ ترپال کرتے یا پرانی گاڑی کے ٹائر بدلتے گزر جاتی ہے. تنخواہ اس کی چند ہزار ہوتی ہے. لیکن اس ذمہ داری کا صلہ اس کو کیا ملتا ہے؟ کیا ملک و قوم کل اس کی ذمہ داری اٹھائے گی.؟ کل سارے ٹرک والے ہڑتال کر دیں تو ملک و قوم کو پتہ چل جائے ان کمزور کندھوں پر کتنی ذمہ داری ہے.

    اشرافیہ نے طریقے سیکھ لئے ہیں. وہ زکوٰۃ صدقات تو شوق سے دیتے ہیں. لیکن مزدور کا حق دینا سب کو مشکل لگتا ہے. کل روز محشر ان کے سامنے اگر نیدر لینڈ ڈنمارک اسرائیل کی مثال رکھ دی گئی کہ بتاو ان کافروں نے بھلے صدقات و حیرات نہیں کی لیکن اپنے ہر حقدار کو اسکا پورا پورا حق دیا تب ان کو پتہ چلے گا نفس کی تسلی کے تماشے یہاں کر کے خود کو یہ تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ انصاف نہیں ہے.

    جب تک ہمیں اپنے حقوق کی سمجھ نہیں آئے گی ہم سب ایک دوسرے سے لڑیں گے. حقوق چھین لینے والے چین کی بانسری ہی بجائیں گے. ان سے تو کوئی سوال بھی نہیں کرتا کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے فرصت ہی نہیں.

  • عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

    انگلینڈ پڑھائی کے دوران دنیا بھر سے آئی لڑکیوں سے گھلنے ملنے (معروف معنوں میں ہی لیا جائے) کا اتفاق ہوا۔ ہاسٹل میں ساتھ رہتی تھیں۔ کچن میں چائے، کھانا بنانے، برتن دھونے کا کام اکٹھے کرتے کبھی احساس نہیں ہونے دیتیں تھیں کہ صنف نازک انداز دلربائی بھی جانتی ہے۔

    یونان سے آئی پینی میرے ہاسٹل کے ساتھ والے کمرے میں رہتی تھی۔ دن رات کا ساتھ تھا۔ بحثوں اور باتوں کے درمیان دوستی بھی ہو گئی۔ رات گئے تک پڑھائی کرتے جب ہم بور ہو۔جاتے تو کافی کے دو مگ بنا کر کچن ٹیبل پر بیٹھ جاتے اور دنیا جہان کے مسائل حل کرتے۔

    پینی کے ساتھ اس طرح رہتے میرے دل میں خیال پیدا ہو گیا کہ یورپی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنا آسان ہے۔ کوئی نخرہ نہیں، مردوں کی طرح گھر باہر کے کاموں میں ہاتھ ڈال دیتی ہیں۔ آپ سے بطور مرد کوئی فیور بھی نہیں مانگتیں۔ اپنے سارےکام خود کرتیں ہیں حتی کہ شاپنگ بھی جلدی نمٹا لیتی ہیں۔

    مگر یہ فسوں بس اس وقت تک قائم رہا جب تک پینی کو راج پسند نہیں آ گیا۔ راج ایک انڈین لڑکا تھا جو میتھ میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جینئس تو تھا ہی بلا کا وہمی اور پاکستانیوں سے الرجک بھی تھا۔

    درمیان کی تفصیل فضول ہے، مگر آپ۔میں سے جو دلچسپی رکھتے ہیں انکے لیے بتا رہا ہوں، کہ ایک پورا سیمیسٹر پینی راج کے لیے پسندیدگی کے جذبات رکھنے کے باوجود اسکی طرف سے پہل کرنے کا انتظار کرتی رہی۔ بالاخر راج نے پینی کو ڈیٹ پر جانے کے لیے پوچھ لیا۔

    اس روز پینی کی خوشی دیدنی تھی۔

    دونوں کا ریلیشن شپ شروع ہوا اور پینی ہر دوسرے روز راج کے ہاسٹل میں وقت گذارنے لگی اور راج کبھی کبھار پینی کے کمرے میں نظر آنے لگا۔

    میں نے حیرت سے نوٹ کیا کہ پینی راج کے ساتھ ٹیپیکل گرل فرینڈ بنی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ مارکسزم اور فیمنزم پر گھنٹوں بحث کرنے اور صبر سے دلائل کے علاوہ طعن و تشنیع سن کر کبھی کبھی مان کینے اور اکثر ڈٹ جانے والی پینی راج کے ساتھ دوسرے جملے پر ناراض ہو۔جاتی۔

    راج دیر سے کیوں آیا۔ راج نے ایسا کیوں کیا۔ راج نے ویسا کیوں کیا۔ بالاخر میں نے پینی کو ایک روز بازوؤں سے پکڑ کر سنجیدگی سے جھنجھوڑ ڈالا۔

    یہ سب کیا ہے؟، میں نے حیرت سے سوال کیا۔

    کیا سب؟، اس کی ذہین آنکھوں میں حیرت تھی۔

    یہ ۔ ۔ یہ راج کے ساتھ تمہاری شکایات، سلوک؟ کیوں کر رہی ہو ایسا؟ تم تو باقی لڑکیوں سے مختلف ہو ۔ ۔ ہو نا؟

    میری شکایات؟ وہ۔حیرت سے چلائی، تم نے اس الو کی حرکتیں دیکھی ہیں؟ ۔ ۔ ۔

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ؟؟ میں نے سوالیہ اسکو گھورا

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ہمممم ۔ ۔ ۔ مثلاً وہ اکثر میری بات توجہ سے نہیں سنتا ۔ ۔ ۔ لاپرواہ ہے، میری۔باتیں بھول۔جاتا ہے، ۔ ۔ ۔

    پینی! میں بھی اکثر تمہاری بات پر توجہ نہیں دیتا۔ لاپرواہ ہوں، اور تمہاری اکثر باتیں بھول۔جاتا ہوں۔

    تم۔ ۔ ۔ ؟؟ وہ حیرت سے چلائی ۔ ۔ ۔ تم میرے بوائے فرینڈ تو۔نہیں ہو۔نا ۔ ۔ ۔ اس نے قہقہہ لگایا۔

    مگر، ۔ ۔ میں کنفیوز ہو۔کر بولا، ۔ ۔ ۔ کیا بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ نہیں ہونا چاہیے؟

    ہونا چاہیے، مگر ۔ ۔ ۔ پینی ہنستے ہوئے یکدم رک کر سوچنے لگی ۔ ۔

    واقعی ۔ ۔ ۔میں تمہارے ساتھ زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ ہوں۔ ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ وہ الٹا مجھے سے سوال کرتے ہوئے معصومیت سے اپنی آنکھیں پٹپٹانے لگی۔

    اسکو بات سمجھتے دیکھ کر میں پرجوش ہوگیا، اپنی بات مزید سمجھانے لگا۔

    دیکھو! تمہارا ریلیشن شپ کمال کا ہو سکتا ہے اگر تم اسکے ساتھ ویسا سلوک رکھو جیسا مجھ سے رکھتی ہو۔ نخرے وخرے مت کرو۔ انسان سمجھو وغیرہ ۔ ۔ ۔ وہ اسکول گوئنگ بچی کی طرح سر ہلانے لگی ۔ ۔ ۔ تصور میں وہ خود کو راج کے ساتھ ‘دوستی’ کرتے دیکھ رہی تھی۔

    یکایک وہ جھرجھری لے کر اپنے خیالات سے بیدار ہوئی، اور قہقہہ لگا کر کہنے لگی ۔ ۔ ۔ نہ نہ ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا راج سے دوستی ووستی ۔ ۔ ۔ وہ میرا بوائے فرینڈ ہے، ۔ ۔ ۔ اور ایسے ہی ٹھیک ہے۔

    کیا؟ میں ہر۔بات کو۔منطق میں تولنے والی پینی کو گھور رہا تھا۔ ۔ ۔ ایسا کیوں؟

    نہ نہ ، اس خیال سے ہی عجیب کریپی فیلنگ آتی ہے، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا، ۔ ۔ اب تم میرے بوائے فرینڈ کیسے ہو سکتے ہو ۔ ۔ ۔ اس نے بات کو الٹا دیا۔ ۔ ۔ ایسے ہی میرا بوائے فرینڈ ۔ ۔ تم۔کیسے ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے رات تین بجے میں کافی بنانے اٹھ سکتی ہوں، ۔ ۔ ۔ مگر وہ میرا بوائے فرینڈ ہے۔ ۔ اسکو رات دو بجے میرے لیے برگر لانے جانا ہی پڑیگا۔ ۔ ۔

    مجھے تب ہی سمجھ آ گئی،

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

  • ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    ڈاکٹرغلام علی_یاسر 13؍دسمبر 1976ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حبیب حیدر تھا۔ انہوں نے عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گذارے اور وہ 1994ء میں اسلام آباد چلے گئے۔ علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو ادب میں ایم فل اور پھر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    علی یاسر نے 1990ء میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی۔ انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا۔ علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لیے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی اور یوں نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا۔

    وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور رہے۔شاعری میں اپنی پہچان رکھنے والے علی یاسر میڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام میں شریک بھی ہوتے اور میزبانی بھی کرتے رہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو پر کئی پروگرامز کے میزبان رہے۔

    انہوں نے پی ٹی وی کے لیے بہت سی دستاویزی فلمیں، اسکرپٹس اور نغمے لکھے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کیے جن میں ”چین کی محبت کی نظمیں“ اور ”نوبل لیکچر“ وغیرہ شامل ہیں۔ علی یاسر علامہ اقبالؔ یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر بھی وابستہ تھے۔

    علی یاسر تواتر سے مشاعروں میں شریک ہوتے تھے اور مشاعروں کی نظامت بھی کرتے تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دبئی، ابو ظہبی اور نئی دہلی میں مشاعروں میں بھی شریک ہو ئے۔ ”ارادہ“ کے نام سے علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007ء میں منظر عام پر آیا جبکہ 2016ء میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ”غزل بتائے گی“ کے عنوان سے شائع ہوا۔

    علی یاسر نے 2008ء اور 2010ء میں اہلِ قلم ڈائری کو مرتب کیا۔ ”کلیاتِ منظور عارف“ اور ”اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا“ کے عنوانات سے کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ وہ اپنی نعتیں اور نیا مجموعہء غزل بھی مرتب کرنے میں منہمک تھے لیکن موت نے مہلت نہ دی۔

    ڈاکٹر علی یاسرؔ 17؍فروری 2020ء کو برین ہیمرج کے سبب اسلام آباد میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے راہوالی ( گوجرانوالہ) میں مدفون ہوئے۔

    کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا
    مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا

    جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے
    جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا

    اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ
    غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا

    جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار
    یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا

    ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کے لئے
    وہ محترم ہوا جو احترام کر کے گیا

    یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی
    ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا

    ہے کون شاعر خوش فکر کون ہے فن کار
    غزل بتائے گی اس میں نام کر کے گیا

    اثر ہوا نہ ہوا بزم پر علی یاسرؔ
    کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا

    دور کرنے کو تری زلف کا خم اتریں گے
    آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے

    حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست
    وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے

    ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو
    اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    اتنی آہیں نہ بھرو اشک نہ سارے بہہ جائیں
    طبع نازک پہ ابھی اور بھی غم اتریں گے

    جیسے ہم آنکھ ملا کر ترے دل میں آئے
    لوگ اس زینۂ دشوار سے کم اتریں گے

    شاد و شاداب اسی وقت رہوں گا یاسرؔ
    سر قرطاس جب اشعار کے یم اتریں گے

    ہے روشنی مرا عزم و یقیں چلا آیا
    ستارہ ہوں میں برائے زمیں چلا آیا

    میں سب سے قیمتی خلقت خدائے قدرت کی
    مرا جواز ہے یوں ہی نہیں چلا آیا

    ہے میری آہ مرے قہقہوں کی آہٹ میں
    عزائے زیست میں خندہ جبیں چلا آیا

    بساط دامن صد چاک تیری قسمت ہے
    ترے وصال کو ایسا نگیں چلا آیا

    عجب غضب ہے کہ دل ڈھونڈنے لگا خود کو
    ادھر جو آج وہی دل نشیں چلا آیا

    زمیں سے دادرسی کی امید ٹوٹ چکی
    سو نالہ جانب عرش بریں چلا آیا

    خیال تھا کہ مرے دوستوں کی محفل ہے
    سو دوستو یہ ہوا میں یہیں چلا آیا

    ہر ایک وقت ہے اس کا ہر ایک سر کومل
    غزل میں بن کے وہ اک بھیرویں چلا آیا

    یہ کہہ کے گور بھی مجھ پر کشادہ ہونے لگی
    خوش آمدید کہ میرا مکیں چلا آیا

    اب احتیاط سے مطلب نہیں علی یاسرؔ
    کہ سامنے وہ مرا نکتہ چیں چلا آیا

  • یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    پیدائش… 21 اگست 1919ء(امرتسر، ھندوستان)
    وفات….. 12دسمبر 1994ء(لاہور ،پاکستان)

    👈حالات زندگی

    ظہیر کاشمیری 21 اگست،1919ء کو امرتسر، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام پیرزادہ غلام دستگیر تھا۔ انہوں نے میٹرک ایم اے او ہائی اسکول امرتسر سے اور پھر ایم اے او کالج امرتسر سے بی اے کیا اور خالصہ کالج امرتسر میں ایم اے (انگریزی) میں داخلہ لیا مگر اسے مکمل نہ کر سکے۔

    👈صحافت

    ظہیر کاشمیری نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبہ سے کیا۔ رسالہ سویرا کے ایڈیٹر رہے۔ کالم نگار کی حیثیت سے روزنامہ احسان، نوائے وقت اور پکار میں کالم لکھتے رہے۔ بعد ازاں روزنامہ مساوات اور روزنامہ حالات سے بھی وابستہ رہے۔

    👈ترقی پسند تحریک سے وابستگی

    ظہیر کاشمیری زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔ ان کا شمار ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے آغاز ہی سے وابستہ ہو گئے اور اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنے ترقی پسندانہ خیالات میں اضافہ کرتے رہے۔ ظہیر کاشمیری مزدوروں کے عالمی حقوق کے لیے بہت سی ٹریڈ یونین تحریکوں سے بھی وابستہ رہے جس کے سبب قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

    👈فلمی دنیا سے وابستگی

    قیام پاکستان سے قبل ظہیر کاشمیری لاہور آ گئے اور فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ کہانیاں لکھیں اور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔

    👈شاعری
    ظہیر نے انسانی آزادی اور عظمت کی جدوجہد کو تاریخی تسلسل میں دیکھا ہے۔ انسانی تاریخی کی ابتدا سے لے کر آج تک انسانی جدوجہد کے فکر و کلام کا خاص موضوع رہی ہے۔ عصری تغیرات اور تاریخی عمل سے نہ صرف یہ کہ ان کا فکر و فن ہمیشہ ہم آہنگ رہا ہے بلکہ انسانی عز و شرف کی ان عظیم تحریکات سے عملی سطح پر بھی وہ وابستہ رہے ہیں۔ ہم عصر تاریخ کا کوئی واقعہ یا آزادی یا انسانی حقوق کی خاطر کی جانے والی کوئی ایسی جہد و پیکار نہیں جس نے ان کے فکر و جذبہ کو تحریک نہ دی ہو اور جسے انہوں نے فن کے سانچے میں نہ ڈھالا ہو۔ ظہیر کاشمیری کا شمار اُردو کے ان چند قد آور شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اُردو شاعری خصوصاً غزل کو نیا رنگ دیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیں۔

    👈تصانیف
    آدمی نامہ
    رقصِ جنوں
    اُوراقِ مصور
    جہانِ آگہی
    چراغ آخرِ شب
    حرفِ سپاس
    ادب کے مادی نظریے
    عظمت ِ آدم
    تغزل

    👈اعزازات

    ظہیر کاشمیری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

    👈وفات.

    ظہیر کاشمیری 12 دسمبر، 1994ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے.

    موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے
    فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

    گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے
    ہم کہ فروغ صبح چمن تھے پابند فتراک ہوئے

    مہر تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا
    صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوش افلاک ہوئے

    دل کے غم نے درد جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
    پہلے پلکیں پر نم تھیں اب عارض بھی نمناک ہوئے

    کتنے الھڑ سپنے تھے جو دور سحر میں ٹوٹ گئے
    کتنے ہنس مکھ چہرے فصل بہاراں میں غم ناک ہوئے

    برق زمانہ دور تھی لیکن مشعل خانہ دور نہ تھی
    ہم تو ظہیرؔ اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے

  • کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    کیا خدا موجود نہیں؟ — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خدا انسانوں پر ہونے والے ظلم کو کیوں نہیں روکتا، لہذا خدا موجود ہی نہیں۔ میں نہیں سمجھا کہ آخر اس شکوے کو نام کیا دیا جاوے۔

    یا تو مانو کہ وہ نہیں ہے، اگر نہیں ہے تو ظلم نا روکنے کا شکوہ کس سے کیا جا رہا ہے، اسی خداوند قدوس سے، جس کا وجود ہی نہیں۔ اور یا مانو کہ وہ ہے، مگر ظلم کو روکتا نہیں ہے، پھر تمہارا سوال بجا ہوجائے گا کہ کیوں نہیں روکتا۔ لیکن اس سوال سے پہلے کا سوال یہ ہوئے گا کہ آخر ظلم نام کس بلا کا ہے، جس کو خدا روکتا نہیں ہے۔

    آپ کہتے ہیں کسی جان کو بے وجہ قت۔ل کرنا تو ظلم ہے۔ ہم کہتے ہیں بجا فرمایا، مگر کس کے لئے؟ مٹی کی ایک سرحد نامی لکیر پاس کرنے پر دوسرے ملک کا سولجر اسے گولی سے بھون دیتا ہے تو ظالم کون ہوا؟ ایک ملک والے جانے والے کو شہی۔د اور دوسرے ملک والے مارنے والے کو غازی بنا دیتے ہیں، اب جس کو ظلم کہنے پر تم متفق ہی نہیں، اسے خدا کیوں روکے؟

    بالفرض انڈیا اگر پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور خدا ان کی بندوقوں میں کیڑے ڈال دیتا ہے، ان کے گھوڑے خراب کر دیتا ہے، اور تمہاری بندوقیں بمنزلہ ٹینک بنا دیتا ہے تو انڈیا والوں کے نزدیک تو خود خدا ظلم کی طرف کھڑا ہوگا اور تمہارے نزدیک وہ حق کے ساتھ کھڑا ہوگا، بعینہ یہی قصہ مخالف سمت میں ہوجاتا ہے، تمہاری بندوقوں میں کیڑے اور مخالفین کی بندوقوں میں گولے بھر دے تو پھر تم خدا کو کیا کہو گے؟ گویا جو چیز تمہارے ہاں ظلم ہے، تمہارے ہمسائے کے ہاں حق کی فتح ہے۔

    تم کہتے ہو کسی کے پیسے ہتھیا لینا ظلم ہے، لہذا خدا کو روکنا چاہئے، تو گویا خدا کو سود کے پیسوں کو آگ لگا دینی چاہئے، پھر تم سود پر لڑو گے کہ کون سے سود والے پیسوں کو آگ لگائے، غامدی صاحب کی تعریف سود کے مطابق یا روایتی مولوی کی تعریف کے مطابق؟

    ہمیں لگتا ہے کہ ٹیکس انسانیت پر ظلم ہے اور تم کہتے ہو کہ ملک کی معیشت چلانے کے لئے ٹیکس کا لینا فرض و واجب اور ٹیکس دینے والا تمہارا ہیرو ہے۔ اب بتاو وہ ٹیکس لینے والے کو روکے یا ٹیکس نا دینے والے کو روکے؟ کون سے والے ظلم کو روکے؟

    جانور کو ذبح کرنا ایک جیتی جان کو مار دینا ظلم ہے یا نہیں ہے؟
    انسانوں پر دواوں کے تجربات کرنا ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    اللہ کی زمین ہر لکیریں کھینچ کر اسے اپنی ملکیت قرار دینا اور پھر اس پر اپنا حق یوں جتانا کہ وہاں قدم رکھ دینے والا غدار کہلایا جائے، جاسوس کہا جائے اور پھر اسے جان سے جانا پڑے ظلم ہے یا نہیں ہے؟

    سوال تو پھر سوال ہے، پیدا ہوگا تو جواب لے کر لوٹے گا کہ وہ کس ظلم کو روکے؟ کون سی چیز ہے جس کو ظلم کہنے پر تم انسانوں کا اتفاق ہوچکا ہے۔ اور اسے کس چیز کو روکنا ہوگا؟

    جان لو کہ پوری مخلوق اس کا کنبہ ہے، اور اس نے اپنی اس مخلوق کو بہ طور امتحان دنیا میں بھیجا ہے۔ اب یہاں جو جس پر ظلم کرتا ہے، خدا کی رضا سے نہیں کرتا، بلکہ اس کے روکنے کے باوجود کرتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ ہر ظلم کا بدلہ دیا جائے گا، کل اس کی عدالت میں کھلے گا کہ کیا چیز ظلم تھی اور کیا چیز جہ۔اد تھی، فساد کیا تھا مظلومیت کیا تھی، جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا۔ تب جب دلائل وافر ہوں گے تو ان تمام چیزوں کا بدلہ دے دیا جائے گا۔ یہی اس کا اصول ہے اور یہی اس کے اصولوں کے قرین قیاس ہے۔

  • بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے ٹھہراؤ اور جمود کا فرق نہیں معلوم تھا, بہت طویل عرصہ لگا ان میں فرق کو سمجھتے سمجھتے لیکن اب جبکہ اس بابت جان چکا ہوں تو متنوع المزاجی اور غیر مستقل مزاجی کے فتوے پاتا ہوں لیکن میں ذاتی حیثیت میں خوش اور مطمئن ہوں کیونکہ جمود کا شکار رہ کر ایک لمبا عرصہ میں نے بیگاریں بھگتیں اور اپنا وقت اور قابلیت کھوٹی کی لیکن ٹس سے مس نہ ہوا کہ چلو خیر ہے لیکن وہ میری غلطی بلکہ فاش غلطی تھی اب میں جمود کو خیرباد کہہ چکا ہوں اور نت نئے تجربے کرتا رہتا ہوں کہ سیکھنے کو بھی ملے اور آدم شناشی کے فن میں طاق ہوسکوں۔

    لوگ آپ کو بیوقوف سمجھیں اور آپ کا استعمال کرنا چاہیں یہ قطعی انہونی اور بری بات نہیں لیکن آپ واقعی بیوقوف بن جائیں اور لوگوں سے اسی بیوقوفی میں استعمال ہوجائیں یہ ایک خطرناک بات ہے, بس اس بات کو اصول بنالیں کہ ” میں, مجھے اور میرا” کو آپ نے فوقیت دینی ہے ناکہ مدمقابل اس انسان نے جو آپ کی بیگار چاہتا ہے۔

    اپنی کور ویلیوز کو ڈی ویلیو مت کرنے دیں کسی کو, اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ منافع بخش بنائیں خواہ اس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے یا تعلق داؤ پر لگتا ہے تو لگنے دیں لیکن مفت میں کسی کو مشورہ بھی مت دیں کیونکہ جس چیز جس کام جس انسان کی قیمت طے نہ ہو, مفت میسر ہو اس کے ساتھ من و سلوی کے ساتھ بنی اسرائیل والا سلوک ہی ہوتا ہے لہذا کوئی بھی جذبہ خدمت اور عظمت رفتہ کا چورن منجن دیکر آپ کو کسی نئے نشے کا شکار کرنا چاہے تو آپ صاف صاف اپنا معاملہ اپنی قیمت منہ سے بتادیں کیونکہ "نشے سے انکار زندگی سے پیار” ایک اچھا اصول ہے۔

    75 سالوں سے پاکستان میں یہی چل رہا ہے, بہت سی خرابیاں اور برائیاں اب سوشل نارمز بن چکیں ہیں جس میں حق تلفی, خوشامد, منافقت اور مذہب, ریاست و سیاست کے نام پر بیگار لینا عام سی چیزیں ہیں۔

    دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستان میں کاز بلڈرز کی بہتات ہوچکی ہے کیونکہ یہاں کسی بھی کاز کا نام استعمال کرنا اور راتوں رات پیسہ و شہرت بٹورنا نہایت آسان عمل ہے جبکہ جو کاز شروع ہوتا ہے بلخصوص جن کے لیے شروع ہوتا ہے ان کو اس کا رائی برابر بھی خالص فائدہ نہیں پہنچتا اور شومئی قسمت اس میں دائیں بائیں اور وسط کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں مطلب اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

    آپ بطور عوام ایک ٹول اور ایسٹ بن چکے ہیں, ایک بوفے سجا ہوا ہے آپ کا سر راہ, جس شاطر اور لالچی دماغ کو دور کی کچھ سوجھ جائے وہ ایک لش پش سا نام اور نعرہ لیکر آپ کے بیچ کودی مارتا ہے اور آپ کےسجے بوفے سے من پسند عوام کو اٹھا لیتا ہے, آپ آوے آوے اور جیوے جیوے کے نعرے بلند کرکے اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اسکی جڑیں پھیلاتے اور مضبوط کرتے ہیں اور جب وہ تناور ہوجاتا ہے تو سب سے پہلےآپ کو اپنے سائے اور پھل سے محروم کرتا ہے جبکہ جو بجز سرمایہ داری کرتے ہیں وہ اس کے سائے اور پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    خیر بات لمبی ہوگئی کہ جمود کا شکار مت ہوں, ٹھہراؤ اختیار کریں کہ ایک پل ٹھہرنا اور مشاہدہ کرنا اور سیکھنا غیر منافع بخش نہیں البتہ مستقل ایک کھونٹے سے بغیر کسی معاوضے کے بندھنا نرا دنیاوی و دینوی نقصان ہے۔

    اپنے وقت, ہنر, قابلیت اور معاشرتی شناخت کا معاوضہ طے کریں اور وصولیں پھر کسی کے لیے "خدمات” کا تعین کریں۔

  • ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے کے بعدپوری ربع صدی آنی وسائل کے غیر ملکی اور ملکی مشاورتی اداروں میں کام کرتے گزری ہے۔ دنیا بھر میں مشاورتی اداروں ( سول انجنئیرنگ کنسلٹنٹس) کے بارے میں کافی باتیں مشہور ہیں تاہم ایک بات جس پر شروع دن سے دل کڑھتا تھا وہ ہے ”کاغذ “ کا بے دریغ استعمال۔

    مشاورتی اداروں کو اپنی رپورٹس اور ڈارئنگوں کی پرنٹنگ کے لئے بے انتہا کاغذ چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیزائن فائنل کرنے تک ایک ایک ڈیزائن شیٹ کم ازکم دس سے بارہ دفعہ مختلف انداز میں ڈار فٹ پرنٹ ہو کر چیک ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ایک دفعہ کا پرنٹ کیا ہوا سینکڑوں ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹوں کا پوار سیٹ ڈیزائن کی ایک معمولی سی تبدیلی سے دوبارہ پرنٹ کرنا پڑتا ہے۔ کلائنٹ کے کمنٹس آجاتے ہیں، دوران تعمیر سائٹ کے مسائل آجاتے ہیں۔ الغرض ہر تبدیلی کا مطلب ہے نئی پرنٹنگ۔

    یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا اگر آپ کو کاغذ کے ایک صفحے کے پیچھے ہونے والی قدرتی تباہی کا اگر پتہ نہ ہوتا۔ کاغذ کا ایک رِم بنانے کے کئے پتہ نہیں کتنے درختوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور پھر درخت سے کاغذ بننے کے عمل میں بے انتہا پانی بھی پراسسنگ اور کولنگ میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود پیپر انڈسٹری تو عالمی معیار سے کم ازکم دس گنا زیادہ پانی ضائع کرتی ہے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پچھلی ربع صدی میں اکیلے میں نے جتنے کاغذ پرنٹنگ میں استعمال کردئے ہیں ، اس سے تو کئی جنگل اس دھرتی کے سینے سے کٹ گئے ہوں گے اور پانی کی کئی ندیاں بہہ گئی ہوں گی۔ اس عمل کی تباہی کو کچھ کم کرنے کے لئے ہم ہمیشہ ضائع شدہ پرنٹ والے کاغذ سنبھال کر رکھ لیتے اور رف / ڈرا فٹ پرنٹنگ ان کی دوسری صاف سائیڈ پر کر لیتے۔ اس طرح کم ازکم اس تباہی کا اثر آدھا تو کم ہو جاتا۔

    تاہم اب ایک کمپنی “ڈی پرنٹر “ میدان میں لائی ہے جو کہ عام استعمال ہونے والے لیزر پرنٹر کے اُلٹ کام کرتا ہے۔ اس کے اندر اگر آپ ایک پرنٹ شدہ صفحہ ڈالیں تو یہ اسے سلیٹ کی طرح صاف کرکے دوسری طرف نکال دیتا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ ایک صفحے کو آپ دس بار تک ڈی پرنٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی ماحول دوست ایجاد سمجھی جارہی ہے جو کہ اس سیارے سے درختوں کی کٹائی کا عمل سست کرنے، پانی کی بچت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟  — ابو بکر قدوسی

    کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟ — ابو بکر قدوسی

    یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوئی لوگوں کو کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت ہی نہیں دیا ، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔

    اسلام نے بس اتنا کیا ہے کہ انتخاب حاکم کی حد تک مختلف آپشنز کو کھلا رکھا ، لیکن اس حاکم کو بھی طریق حکومت میں ہرگز مادر پدر آزاد نہیں چھوڑا ۔

    اور حاکم کا اگر عوامی انتخاب کیا جائے گا تو اس میں بھی لوگوں کو پابند کیا اور نظائر سے واضح کیا کہ معیار کیا ہونا چاہیے ۔

    اور کوئی حاکم انتخاب کے بغیر بھی سریر آرائے سلطنت ہو جاتا ہے تو اسے پابند رکھا کہ وہ ان امور کا خیال رکھے گا ۔یہی وجہ تھی کہ اموی اور عباسی دور حکومت میں ہرگز خلیفہ یا بادشاہ کی زبان سے نکلے الفاظ کو قانون نہیں سمجھا جاتا تھا جیسا کہ بعد میں عثمانی دور میں اور ہمارے ہاں برصغیر کی بادشاہت میں نظر آتا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان ابتدائی ادوار میں خلیفہ کے کسی اقدام کو اگر کسی نے چیلنج کیا ، یا اس کے دربار میں روکا اور ٹوکا تو بنیاد قران و سنت کے احکام کو ہی بنایا ۔

    اسی طرح اگر جمہوریت میں حکمران کا انتخاب ہوتا ہے تو بھی عوام اور حکام اس انتخاب میں مکمل آزاد نہیں ہیں ۔ بطور مثال ایک ضابطہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک معزز بزرگ نے کسی علاقے کی امارت طلب کی تو آپ نے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ ہم طلب پر عہدے نہیں دیتے ۔۔۔۔یوں یہ اصول طے پا گیا کہ طلبگار کو عہدہ دینا خلاف ضابطہ ہے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ نظام امارت و حکومت کا مکمل طریقہ اسلام کے ہاں موجود ہے ۔

    اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا ۔

    اسلام نے جزیات تک پر بحث کی ہے اور یہ تک طے کر دیا ہے کہ حاکم کا لباس کیسا ہو گا ، اسے عوام کے سامنے کیسے جانا ہے ، ملکی خزانے کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہو گا ، اور اس کی ذمے داری کہاں سے کہاں تک ہو گی ، عوام کے حقوق اس پر کیا ہوں گے اور مملکت پر کیا ۔

  • لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر 5 میں سے ایک فرد سماعت کے مسائل کا شکار ہے۔

    دنیا میں اس وقت 49 کروڑ سننے کے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ تعداد 2050 تک 1.5 ارب ہونے کا خدشہ ہے۔

    یہ تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔

    جب پھول کی ایک ننھی کلی چٹخ کھلتی ہے۔ یا کسی شاعر کی محبوبہ بغیر آواز پیدا کیے مسکراتی ہے تو 5 ڈیسی بل کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ کلی کا چٹخنا اور کسی لڑکی کی بغیر آواز کی مسکراہٹ بھی سنی ج سکتی ہے۔ یہ آواز دنیا میں 0.5 فیصد لوگ سن سکتے ہیں۔

    نارملی ہم 15 سے 20 ڈیسی بل کی ہلکی سے ہلکی آواز سن سکتے ہیں۔ ہماری نارمل گفتگو 50 سے 60 ڈیسی بل تک کی ہوتی ہے۔ 70 ڈیسی بل تک کی اونچی آواز سننا کان کے لیے محفوظ ہے۔ 70 ڈیسی بل کی آواز موبائل فون سے ہینڈز فری لگا کر 7 نمبر والیوم پر سنی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد موبائل وارننگ دیتا ہے کہ آگے جائیں گے تو آپکی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    90 ڈیسی بل پر آواز کے ساتھ تھرتھراہٹ شامل ہوجاتی ہے۔ 90 سے اوپر کی آواز جو فرد سن سکے اسے ڈیف کہتے ہیں۔ 100 ڈیسی بل کی آواز یعنی موبائل کا ہینڈز فری میں فل والیوم کرکے 30 منٹ تک سننے پر ہم اپنے کان کے اتنا نقصان پہنچا لیتے کہ جیسے آپکی ایک انگلی کا ایک پورا کاٹ دیا جائے۔

    راک سٹار میوزک میں آوازیں 120 ڈیسی بل تک جا رہی ہوتی ہیں۔ مگر اس آواز میں ساؤنڈ اور تھرتھراہٹ مکس ہوتی ہے۔ ووفر لگے ہوتے ہیں۔ ماہر ڈی جے آوازوں کی فریکوئنسی ہر لمحے بڑھا گھٹا رہا ہوتا ہے۔ کہ کان کا پردہ نہ پھٹ جائے۔ صرف 20 منٹ تک 120 ڈیسی بل کی آواز کان میں ڈالی جائے تو کان کا پردہ ہی نہیں دماغ کو آواز کے سگنل دینے والی نسیں بھی پھٹ جائیں۔

    اب ہو کیا رہا ہے؟ مساجد امام بارگاہوں کے اندر لگے ریگولر اسپیکرز اور دیگر مذہبی رسومات جیسے مجلس محفل جلسے میں یا شادی پر مہندی وغیرہ کی رسم پر ہم جو ساؤنڈ سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ آپکو پتا ہے اسکی فریکوئنسی کتنی ہوتی ہے؟ کم سے کم 100 ڈیسی بل سے اوپر جو آواز مسلسل ہمارے کان ڈیمج کر رہی ہوتی۔

    میں اس رمضان میں تراویح پڑھ رہا تھا۔ اسپیکر کی آواز 100 سے110 ڈیسی بل کی تھی۔ دوسری تروایح میں مجھے نماز توڑ کر سپیکر بند کرنا پڑا نہیں تو میرے کان کا پردہ پھٹ جاتا۔ لوگ اتنی اونچی آواز سے اوزار ہوتے ہیں مگر مذہبی آداب کی وجہ سے چپ بیٹھے رہتے۔ اور اوپر سے کئی مولوی صاحبان گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز کی فریکوئنسی کو مزید بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    میں نے اپنے امام صاحب کو گائیڈ کیا کہ آواز کم رکھیں کیوں سارے نمازیوں کو بہرہ کرنا ہے۔

    مسجدوں کی چھتوں پر لگے یونٹ بھی بہت خطرناک ہیں۔ انکی جگہ آواز کی تھرو کی رینج بڑھانے والے سپیکرز انسٹال کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ اسپیکروں کی فریکوئنسی 120 سے 140 تک ہوتی ہے۔ مسجد کے قریب گھروں میں لوگوں کی سماعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ابھی آپ میں سے کئی مجھ پر فتویٰ لگانے آجائیں گے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ اذان اور قرآن روح کو سکون تب دے سکتے ہیں جب انکی آواز متوازن ہو اور 70 سے 80 ڈیسی بل تک ہی ہو۔

    محفل نعت، میلاد النبی کی محافل، مجالس عزا، جلسے، مہندی کے فنکشن میں خدارا اسپیکروں کی آواز کم رکھیں۔ ہینڈز فری کا والیوم کبھی بھی 7 سے اوپر نہ کریں۔ مساجد کی چھتوں پر لگے یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کریں۔ نماز اور جمعہ کی تقریر کے لیے مساجد میں استعمال ہونے والے ریگولر اسپیکرز کی آواز اگر کانوں کو سکون دینے کی بجائے بیزار کرتی ہے۔ تو قاری صاحب کو سمجھائیں کہ بلند آواز زیادہ اثر نہیں کرتی۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں بات دلیل و منطق سے کریں دل بدل دے گی۔

    ہمارے کانوں کے ساتھ جو ظلم مذہبی اجتماعات میں ہوتا نجی محفلوں میں ہوتا۔
    مغرب میں یہ سب وہاں لوگوں کے ساتھ بار اور میوزیکل نائٹس میں ہوتا ہے۔

    وقتی تھرل Thrill کانوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ یہاں بھی وہاں بھی۔

    ہمیں مساجد اور بڑے اجتماعات میں ڈیسی بل میٹرز لگانے کی ضرورت ہے کہ جس سے معلوم ہو سکے آواز محفوظ کی حد سے بڑھ تو نہیں رہی۔

    ہینڈز فری کا استعمال خدا را کم سے کم کریں۔ اپنی سماعت کو بچائیں۔ کوئی بھی آلہ سماعت قدرتی سننے کی صلاحیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔