Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    بچے اپنی ہی ماں کی پششش کی آواز پر پیشاب کرتے ہیں اسکی وجہ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ لیکن اس آواز کے پیچھے بچے کے دماغ کی کنڈیشننگ چھپی ہے جس میں بچے کے دماغ کو اس آواز پر حرکت کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

    اس سے ریلیٹڈ ایک دلچسپ مثال کتوں پہ کئے گئے تجربے کی ہے۔

    کتے گوشت دیکھ کر منہ سے پانی نکالتے ہیں یہ دیکھ کر ایک روسی نفسیات دان پاؤلو Pavlov کافی حیران ہوا، لیکن اس نے ایک نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے گوشت دینے کیساتھ ساتھ گھنٹی بھی بجانا شروع کی، کچھ عرصہ بعد پاؤلو صرف گھنٹی بجاتا تھا اور کتوں کے منہ سے پانی نکلنا شروع ہونے لگ جاتا تھا۔

    اس کو ہم کلاسیکل کنڈیشننگ کہتے ہیں۔

    بچپن میں جب بچے شروع شروع میں پیشاب کرتے ہیں تو والدین پششش کی آواز نکالتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بچوں کا سب کانشش دماغ اس سٹیمولائی کو پیشاب کے ایکشن سے جوڑنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بچے اپنی ماں کی پششش کی آواز پہ ہی بس پیشاب کرتے ہیں۔

    یہ کنڈیشننگ اتنی مضبوط ہے کہ کچھ لوگ بڑے ہو کر بھی اس آواز پہ پیشاب کر دیتے ہیں۔ عموما بچوں کو پوٹی ٹرین کرنے کے دوران ماں کی یہ آواز اس کو اس سٹیمولائی پہ پیشاب کرنے کی عادی بنا دیتی ہے۔

  • یوم ولادت،ممتاز مرزا

    یوم ولادت،ممتاز مرزا

    اصل نام:مرزا توسل حسین
    قلمی نام:ممتاز مرزا
    پیدائش:29 نومبر 1939ء
    حیدرآباد، سندھ،

    وفات:06 جنوری 1997ء
    کراچی، پاکستان
    آخری آرام گاہ:ٹنڈو آغا، حیدرآباد
    پاکستان
    پیشہ:ماہر سندھی ثقافت، ادیب
    محقق، ماہر لطیفیات
    زبان:سندھی، اردو
    نسل:سندھی
    شہریت:پاکستانی
    تعلیم:ایم اے (سندھی)
    مادر علمی:سندھ یونیورسٹی
    اصناف:سندھی ثقافت، موسیقی
    ادب، تحقیق، لطیفیات
    نمایاں کام:گنج (کلام شاہ عبداللطیف بھٹائی)
    وساریان نہ وسرن
    سپریاں سندے گالھڑی
    سدا سوئیتا کاپڑی
    اہم اعزازات:صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

    ممتاز مرزا سندھی زبان کے ممتاز ادیب، ماہر سندھی ثقافت، ماہر سندھی لوک موسیقی، ادیب، محقق اور ماہر لطیفیات تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے مرتب کر کے شائع کرنا تھا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ممتاز مرزا 29 نومبر 1939ء کو حیدرآباد، سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مرزا توسل حسین تھا۔ ان کا تعلق مرزا قلیچ بیگ، مرزا اجمل بیگ اور مرزا بڈھل بیگ کے ذی علم گھرانے سے تھا۔ ان کے والد مرزا گل حسن احسن کربلائی بھی سندھ کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ممتاز مرزا نے اپنی علمی زندگی کا آغاز سندھی ادبی بورڈ سے کیا جہاں انہیں سندھی۔ اردو ڈکشنری اور اردو۔ سندھی ڈکشنری اور سندھی لوک ادب کی تدوین کا سونپا گیا۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ رہے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ سندھ کے محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے جہاں انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے مرتب کیا اور اپنی نگرانی میں شائع کرایا جو اعلیٰ طباعت کا حسین شاہکار ہے۔ ممتاز مرزا سندھی زبان کے اعلیٰ پائے کے نثر نگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سپریان سندے گالھڑی، سدا سوئیتا کاپڑی اور وساریان نہ وسرن شامل ہیں۔
    ممتاز مرزا نے سندھ کے ممتاز لوک گلوکار الن فقیر اور تھر کی کوئل مائی بھاگی سمیت متعدد فنکاروں کو ریڈیو اور ٹیلی وژن میں روشناس کرایا۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج (کلام حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی)
    ۔ (2)سپریاں سندے گالھڑی (یاداشتیں)
    ۔ (3)سدا سوئیتا کاپڑی (خاکے)
    ۔ (4)وساریان نہ وسرن (خاکے / یاداشتیں)
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حکومت پاکستان نے ممتاز مرزا کی سندھ کی ثقافت، موسیقی و ادب کے فروغ کے اعتراف کے طور پر 14 اگست 1997ء کوان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ممتاز مرزا 6 جنوری، 1997ء کو کراچی میں پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ حیدرآباد، سندھ میں ٹنڈو آغا کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

  • پراجکت شکرے

    پراجکت شکرے

    پیدائش: 29 نومبر 1987
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک ہندوستانی گلوکارہ اور بغمی نگار ہے جو بالی ووڈ فلموں میں کام کرتی ہے اور ریئلٹی شوز میں نظر آتی ہے۔
    اس نے انڈین آئیڈل کے سیزن 1 میں حصہ لیا جہاں وہ چوتھے نمبر پر رہی۔
    پراجکتا شکرے نے انہیں موسیقی کو کیریئر کے طور پر لینے کی شروعات کی اور وہ بالی ووڈ کی معروف پلے بیک سنگر بن کر اس پر مجبور ہوگئیں۔
    چار سال کی چھوٹی عمر سے ہی اس نے گانے کے مختلف مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔
    جب وہ 12ویں جماعت میں تھی، اس نے گانے پر مبنی رئیلٹی شو انڈین آئیڈل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔
    اگرچہ وہ اسے جیت نہیں سکی، لیکن وہ ٹاپ فائیو تک آگے بڑھنے کے بعد نمایاں ہو گئی۔
    وہ اپنے سیزن میں ٹاپ فائیو تک پہنچنے والی واحد خاتون مدمقابل تھیں۔

    وہ اپنے سیزن میں چوتھے نمبر پر رہی۔ شو ختم ہونے کے بعد اسے گانے کی مختلف پیشکشیں آنے لگیں۔
    اسے سونی بی ایم جی لیبل نے سائن کیا تھا اور موسیقار لیسلی لیوس کے ساتھ، اس نے اپنا پہلا سولو البم جاری کیا۔
    وہ انڈین آئیڈل سیزن 1 کی فاتح، ابھیجیت ساونت کے ساتھ مختلف اسٹیج شوز میں پرفارم کر چکی ہیں۔
    اس نے حال ہی میں ڈیجیٹل راستے پر جانے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی اپنا یوٹیوب چینل شروع کرنے والی ہے اور اپنے گانے اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کرے گی۔

  • یوم وفات، معراج فیض آبادی

    یوم وفات، معراج فیض آبادی

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    اصل نام:سید معراج الحق
    وقلمی نام:معراج فیض آبادی
    والد کا نام:سید سراج الحق
    پیدائش: 02 جنوری 1941ء
    جائے ولادت:موضع کولا شریف
    ضلع فیض آباد (یوپی)
    وفات:30 نومبر 2013ء
    تلمیذ: اس نعمت سے محروم ہوں
    تعلیم:بی ایس سی، لکھنؤ یونیورسٹی
    ملازمت:جنوری 2003ء میں
    سنی وقف بورذ ، لکھنؤ
    کی ملازمت سے سبکدوشی
    پتا: بیراگی ٹولہ، پرانا ٹکیت،
    لکھنؤ-4 (یوپی)

    نام سیّد معراج الحق المعروف معراجؔ فیض آبادی،2 جنوری 1941ء کو فیض آباد کے معروف قصبے کولا شریف میں پیدا ہوئے۔ جامعہ لکھنؤ سے انہوں نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔ سنّی وقف بورڈ میں انہوں نے ملازمت کی اور 2013ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔میر انیسؔ ، معراج فیض آبادی کے پسندیدہ شاعر تھے ۔ ان کا مجموعہ ” ناموس“، 2004ء میں شائع ہوا ۔ وہ دنیا بھر کے مشاعروں میں بڑی عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے ۔30 نومبر 2013ء کو معراجؔ فیض آبادی، لکھنؤ میں انتقال کر گئے ۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
    تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے

    اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
    اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا

    زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
    پاؤں بخشے ہیں تو توفیق سفر بھی دینا

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
    اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم

    اے یقینوں کے خدا شہر گماں کس کا ہے
    نور تیرا ہے چراغوں میں دھواں کس کا ہے

    اے دشتِ آرزو مجھے منزل کی آس دے
    میری تھکن کو گردِ سفر کا لباس دے

    ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
    پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
    اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

    آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
    گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے

    گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
    اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا

  • یوم وفات، آسکر وائلڈ،معروف عائرش شائر

    یوم وفات، آسکر وائلڈ،معروف عائرش شائر

    پیدائش:16 اکتوبر 1854ء
    ڈبلن
    وفات:30 نومبر 1900ء
    پیرس
    مدفن:قبرستان بیر لاشیز
    طرز وفات:طبعی موت
    مقام نظر بندی:پینٹویلی جیل
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    جمہوریہ آئرلینڈ
    مادر علمی:میگڈالن کالج
    ٹرنیٹی کالج، ڈبلن
    پیشہ:شاعر، ڈراما نگار، افسانہ نگار، صحافی
    بچوں کے مصنف، ناول نگار
    مصنف، مصنف، نثر نگار
    عوامی صحافی، مضمون نگار
    مادری زبان:انگریزی
    زبان:انگریزی، فرانسیسی
    لاطینی زبان، قدیم یونانی

    آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) ایک آئرش شاعر اور ڈراما نگار تھا۔ 1880 کی دہائی میں مختلف اقسام میں لکھنے کے بعد وہ ابتدائی 1890ء کے دہائی میں لندن کا سب سے مشہور ڈراما نگار تھا۔ آسکر وائلڈ کے والدین کا شمار ڈبلن کے اینگلو-آئرش دانشوروں میں کیا جاتا تھا۔ ان کا بیٹا اپنی ابتدائی زندگی میں ہی فرانسیسی اور جرمن کا ماہر بن گیا۔ آسکر وائلڈ نے پہلے ٹرنیٹی کالج، ڈبلن اور پھر میگڈالن کالج، اوکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی۔

    چند اقتباسات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٭ بے وقوفی کے علاوہ اور کوئی گناہ نہیں۔
    ٭ اگرچہ ہم سب گٹر میں ہیں لیکن ہم میں سے بعض افراد ستارے دیکھ رہے ہیں۔
    ٭ ہر کوئی اپنی غلطی کو تجربے کا نام دیتا ہے۔
    ٭ اس دنیا میں دو ہی ٹریجیڈیاں ہیں، ایک اس چیز کا نام یاد کرنا جس کی آپ کو ضرورت ہو اور دوسرا اسے تلاش کر لینا۔
    ٭ میں ہر وقت خود کو حیران کرتا رہتا ہوں اور یہی وجہ زندگی کو زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔
    ٭ خالص اور سادہ سچ شاید ہی کبھی خالص ہو لیکن سادہ پھر بھی نہیں ہوتا۔
    ٭ سر رابرٹ آپ اتنے امیر بھی نہیں کہ اپنا ماضی خرید کر لا سکیں۔ کوئی بھی اتنا امیر نہیں۔
    ٭ جلد یا بدیر ہمیں اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی۔
    ٭ جو اپنے لئے نہیں سوچتا وہ کبھی سوچتا ہی نہیں۔
    ٭ خودغرضی اپنی مرضی سے جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق جینے دینا ہے۔
    ٭ صرف اچھے سوالات کے ہی اچھے جوابات ہوتے ہیں۔

  • یوم وفات ،علی رضا عابدی

    یوم وفات ،علی رضا عابدی

    پیدائش:30 نومبر 1936ء

    روڑکی،، ضلع ہردوار، برطانوی ہندوستان

    پیشہ:براڈکاسٹر، صحافی، ادیب
    زبان:اردو، سندھی، عربی، فارسی، انگریزی
    قومیت: پاکستانی
    اصناف:سفر نامہ، افسانہ اور مشہور عام تاریخ
    ساتھی:ماہی طلعت عابدی
    اولاد:رباب، مونا اور بابر

    رضا علی عابدی ایک پاکستانی سفر نامہ نگار، صحافی، مصنف اور محقق ہیں۔ عمر کا ایک عرصہ بی بی سی اردو ریڈیو میں گزارا۔ کئی کتب کے مصنف و مؤلف ہیں۔ جن میں کتابیں اپنے آباء کی، ہمارے کتب، خانے جرنیلی سٹرک وغیرہ مشہور ہیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رضا علی عابدی 30 نومبر 1936ء روڑکی، ہری دوار ضلع، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ہندستان کے علاقے یوپی سے حاصل کی، ان کے والد کا تعلق لکھنؤ سے تھا۔ 1950ء میں پاکستان آ گئے۔ 13 برس کی عمر میں انہوں نے اخبارات و جرائد کا باقاعدگی سے مطالعہ شروع کیا جو 65سال بعد بھی جاری و ساری ہے۔ اخبارات کے مطالعہ سے وہ فن خبر نگاری سے مکمل واقف ہو چکے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے 20 برس کی عمر میں 1956ء میں پہلی مرتبہ بائیں ہاتھ سے انگریزی خبر کا ترجمہ کیا۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ کو نہ صرف دیکھا بلکہ اس کو مکمل اخبار میں رپورٹ بھی کیا۔ اس وقت وہ عملی طور پر روزنامہ حریت کے ساتھ منسلک تھے۔ اس کے بعد انگلستان مزید تعلیم کے حصول کے لیے اسکالرشپ پر چلے گئے۔ پھر 1972ء میں ا نہوں نے بی بی سی سے منسلک ہو کر عملی طور پر اپنے کیئرئرکا آغازکیا اور پھر بی بی سی کے پروگرام، ڈاکومنٹریاں تھیں اور رضاعلی عابدی تھے، بی بی سی نے انہیں پاکستان بلکہ پوری دنیا کے اردو بولنے والوں میں دلوں میں جا بٹھایا۔ اور یوں وہ 1996ء میں60 سال کی عمر میں ریٹارڈ ہوئے۔ رضا علی عابدی نے اب تک 30 سے زائد کتابیں لکھیں ہیں جس میں 16بڑوں اور14کتابوں کا تعلق بچوں اور کے مسائل و عمر سے ہے۔ اُن کو 6 نومبر 2013ء کو بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کی طرف سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دینے کااعلان کیا گیا۔
    شائع شدہ کتب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سفر نامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)جرنیلی سٹرک- 1986
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور
    ۔ (2)شیر دریا- 1992
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    ۔ (3)جہازی بھائی-1995
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    ۔ (4)ریل کہانی-1997
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    کتب خانہ
    ۔۔۔۔۔۔
    پہلا سفر
    تیس سال بعد، 2012ء
    بچوں کی کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پہلا تارا،
    ۔ (2)پہلی کرن،
    ۔ (3)چمپکا،
    ۔ (4)میری امی،
    ۔ (5)پیاری ماں،
    ۔ (6)الٹا گھوڑا،
    ۔ (7)قاضی جی کا اچار،
    ۔ (8)پہلی گنتی،
    ۔ (9)بندر کی الف ب،
    ۔ (10)چوری چوری چپکے چپکے،
    ۔ (11)کمال کا آدمی
    ۔ (12)نٹ کھٹ لڑکا (شاعری).
    تمام کتب سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کی ہیں۔
    ادبی کتب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کتب خانہ
    ۔ (2)اردو کا حال 2012ء
    ۔ (3)اپنی آواز(افسانے)
    ۔ (4)جان صاحب(افسانے)
    ۔ (5)حضرت علی کی تقریریں
    ۔ (5)جانے پہچانے
    ۔ (6)ملکہ وکٹوریا اور منشی عبد الکریم
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن لاہور۔2012ء
    ۔ (7)نغمہ گر (برصغیر کے نغموں کی تاریخ)
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔
    ۔ (8)پہلا سفر (1982 کے پہلے
    ۔ پاک بھارت سفر کی روداد
    ۔ جون 2011ء میں
    ۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس)
    ۔ (9)ریڈیو کے دن
    ۔ (ذاتی یادشتیں – 2012ء
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن لاہور)
    ۔ (10)اخبار کی راتیں
    ۔ (2014ء سنگ میل پبلی کیشن لاہور)
    ۔ (11)کتابیں اپنے آباء کی
    ۔ (انیسویں صدی کی اردو کتب)
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔
    ۔ (12)تیس سال بعد
    ۔ (پہلا پاک بھارت سفر+
    ۔ ہمارے کتب خانے، ایک ساتھ)
    ۔ (13)پرانے ٹھگ
    ۔ (انیسویں صدی کے ٹھگوں کی مختصر تاریخ)
    ۔ 2013ء، سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔

  • ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیاہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ یہ سوال بیسویں اور اکسیویں صدی کا سب سے اہم سوال ہے۔۔جب سے انسانوں کو یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ اس وسیع و عریض کائنات کی اربوں کہکشاؤں میں ایک چھوٹی سی کہکشاں ملکی وے کے ایک معمولی سے ستارے سورج کے گرد گھومتا ننھا سیارہ ہے، تب سے یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

    انیسویں صدی میں ریڈیو کی ایجاد کے بعد اس حوالے سے بات ہونے لگی کہ اگر کائنات میں کوئی جدید ایلین تہذیب کسی سیارے پر بستی ہے تو یقیناً اُن سے ریڈیو ویویز یا ریڈیائی لہروں کے ذریعے رابطہ ممکن ہے۔ (اب یہ بات پڑھ کر آپ اپنے گھروں کے ریڈیو مت نکال لیجئے گا۔ کہ چلو ایلینز سے رابطہ کرتے ہیں۔ سائنس اس طرح کام نہیں کرتی).
    مگر ریڈیائی لہروں کے ذریعے ہی رابطہ کیوں؟

    یہ سوال دلچسپ ہے۔ جس طرح سے ہم جانتے ہیں کہ آج جدید ٹیکنالوجی کے باعث ہم ریڈیائی لہروں جو دراصل برقناطیس لہریں ہی ہوتی ہیں(جیسے کہ روشنی) کی مدد سے کمیونیکیشن کرتے ہیں۔ تو اگر کوئی ایلین تہذیب ہمیں ڈھونڈنا چاہے(ویسے ہم اّنکے لئے ایلینز ہونگے 🙂 ). تو وہ ہمیں ہمارے ریڈیائی لہروں کے استعمال سے جو صرف ٹیکنالوجی کے استعمال والی تہذیبیں ہی کر سکتی ہیں، کے ذریعے ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ لہذا اگر ہمیں بھی کائنات میں کسی سیارے سے ایسی ریڈیائی لہریں موصول ہوں جو ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوں تو ہم جان جائیں گے کہ وہاں کوئی جدید مخلوق بستی ہے۔

    کائنات میں دوسری تہذیبوں سے رابطے کے حوالے سے پچھلی دو صدیوں میں کافی سنجیدہ کوششیں کی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اور بڑی کوشش SETI پراجیکٹ ہے۔ SETI. مخفف ہے (Search for Extraterrestrial Intelligence) یعنی کسی ذہین خلائی مخلوق کی تلاش.

    اس پراجیکٹ کے خدو خال گو کہ 1960 اور 70 کی دہائی میں واضح ہونا شروع ہوئے تاہم SETI ادارے کا باقاعدہ آغاز 1984 میں ہوا اور ریڈیائی لہروں کی مدد سے کائنات میں کسی ممکنہ ایلین تہذیب سے رابطے کے حوالے سے باقاعدہ کام 1985 میں۔

    شروع شروع میں اس پراجیکٹ میں فلکیاتی مشاہدات کے لیے زمین پر موجود ریڈیو اینٹیناز ہی استعمال ہوتے رہے مگر بعد میں عوام، حکومتوں اور ٹیکنالوجی سے منسوب اہم شخصیات کی دلچسپی کے باعث اس پراجیکٹ کی فنڈنگ بہتر ہوئی اور آج SETI پراجیکٹ میں 42 جدید ریڈیو اینٹناز پر مشتمل Allen Telescope Array موجود ہے۔ یہ ٹیلیسکوپ امریکا میں سان فرانسسکو سے 300 میل دور کیسکادے کے پہاڑوں میں نصب ہے۔ اور یہ ہفتے میں ہر روز خلا میں کسی ممکنہ ایلین مخلوق سے رابطے کی کوششوں میں پیغام ریڈیائی لہروں کی صورت بھیجتی رہتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کسی ممکنہ جواب کے انتظار میں خلاؤں کو سنتی بھی رہتی ہے۔

    کائنات اتنی وسیع ہے اور ہم سے سب سے قریبی ستارا جسکے گرد سیارے گھوم رہے ہیں وہ بھی کئی نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔ ہماری کہکشاں ملکی وے کی چوڑائی ایک لاکھ سے دو لاکھ نوری سالوں کے بیچ ہے۔ جسکا مطلب یہ ہوا کہ SETI کے کائنات میں بھیجے گئے ریڈیو سگنل اب تک ہماری کہکشاں کے محض چھوٹے سے حصے سے آگے نہیں گئے۔

    یہاں یہ بحث لمبی ہو جائے گی کہ ہم سے ممکنہ طور پر قریبی سیارہ کتنی دور ہو گا جہاں کوئی ایلین تہذیب موجود ہو۔ یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے ۔

    مگر سوال یہ ہے کہ ہم ایلینز سے رابطہ کس زبان میں یا کس فریکونسی میں کر سکتے ہیں؟ ہم انسان زمین پر جب کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو اکثر و بیشتر وہاں ہم اُنکی زبان نہیں بول سکتے اور وہ ہماری۔ تو رابطے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ کیا آپ چینونٹی سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ ممکن ہے کسی جدید تہذیب کے لیے ہم ایک چیونٹی جتنی اہمیت رکھتے ہوں۔

    تو ہم کسی جدید تہذیب کو اپنی موجودگی کا کیسے پتہ دیں گے؟ اسکا جواب ہے 1420 میگا ہرٹز کی فریکونسی سےوہ سائنسی کیڑے جنہیں ایگزٹ نمبر جاننا ہے، تو یہ فریکونسی ہے 1420.405751768میگاہرٹز) ۔ اس فریکونسی کو ہائڈروجن لائن کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ایک نیوٹرل ہائڈروجن ایٹم سے تب نکلتی ہے جب اسکے الیکٹران کی سپن (کلاسیکل فزکس میں سپن کا مطلب کسی ایٹمی ذرے کا اپنے محور کے گرد گھومنا، کوانٹم فزکس میں البتہ اسکا مطلب کچھ پیچیدہ ہے) اسکے پروٹان کی سپن سے مخالف سمت میں گھومے۔

    عمومی طور پر یہ دونوں ایک ہی سمت میں گھومتے ہیں۔ مگر جب الیکٹران کی سپن مخالف سمت میں ہو جائے تو ہائڈروجن ایٹم سے خاص طرح کی ریڈیو فریکوئینسی کی لہر نکلتی ہے۔ کائنات میں موجود کوئی بھی جدید تہذیب اگر متواتر اس فریکوئنسی پر سگنل موصول کرے گی تو جان جائے گی کہ ہم اتنے ذہین ضرور ہیں کہ ایٹم کے بارے میں اور اس خاص فریکونسی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس فریکوینسی کے استعمال کی ایک اور وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ کائنات میں ہائیڈروجن عام پائی جاتی ہے اور اس یہ ریڈیو فریکونسی دوسری ریڈیو فریکونسییز سے زیادہ موثر طور پر کائنات میں سفر کر سکتی ہے۔

    پھر چاہے ایلین ترکش زبان بولیں یا کچھ اور، اس طریقے سے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ مویا ناسا جو آئے روز دنیا کی "ذہین ترین قوم” کو بے وقوف بنانے کے لئے نئے نئے سپیس کرافٹ، خلائی دوربینیں اور روبوٹ چھوڑتا رہتا ہے۔ یہ ان سے خلا میں رابطہ کیسے رکھتا ہے؟ کیونکہ عقلِ "سلیم” یا منیر تو یہ کہتی ہےکہ خلا میں ٹیلی نار، یوفون یا زونگ کے کھمبے تو ہیں نہیں کہ پیکیج کرایا اور گھنٹوں لمبی باتیں، "شونوں مونوں” والے میسیجز یا جگتوں والے لطیفے بھیج کر ٹائم پاس کرنا شروع کر دیا۔
    تو اسکا جواب ہے ڈیپ سپیس نیٹ ورک!!

    ڈیپ سپیس نیٹ ورک دراصل زمین پر بڑے بڑے ڈش کی طرح کے ریڈیو اینٹناز کا ایک جال ہے۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ اینٹیناز آسٹریلیا، کینبرا، کیلیفورنیا ، سپین وغیرہ میں دن رات آسمانوں میں ناسا اور دوسری ایجنسیوں کے بھیجے گئے مشنز سے سلام دعا کرتے رہتے ہیں۔ ان انٹیناز کو زمین پر کم و بیش ایک ہی فاصلے پر رکھا گیا ہے کہ زمین کی گردش کے باعث ایسا نہ ہو کہ کوئی وقفہ آئے جب خلا سے بھیجا جانے والا سگنل پکڑنے کے لیے کوئی بھی اینٹینا موجود نہ ہو اور سگنل ضائع ہو جائے۔

    خلا میں موجود سپیس کرافٹس زمین پر ریڈیو سگنل کے ذریعے تصاویر اور اپنی موجودہ جگہ کا پتہ دیتے ہیں ۔ ان سگنلز کو دنیا بھر میں یہ ڈیپ سپیس اینٹنا موصول کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین سے سپیس کرافٹ کو ہدایات بھیجتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے، کونسی تصاویر لینی ہیں، کس سمت مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    اس نیٹ ورک میں موجود اینٹناز کمزور سے کمزور سگنل کو بھی ہماری پولیس کیطرح فورآ سے دھر لیتے ہیں۔۔اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ 1977 میں ناسا کے دو سپیس کرافٹ Voyager 1 اور Voyager 2 جو 45 سال بعد اربوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں ، یہ ڈیپ سپیس نیٹ ورک ان سے آنے والے سگنلز بھی پکڑ لیتے ہیں اور اب تک مسلسل ان سے رابطے میں ہے۔ Voyager سپیس کرافٹس سے آنے والے سگنل بے حد کمزور ہیں۔ کتنے کمزور؟ آپکی معمولی سی ڈیجیٹل گھڑی کو چلانے والے برقی سگنل سے بھی 20 ارب گنا کمزور!!

    یہ اینٹیناز ان مختلف سپیس کرافٹ کے سگنلز کو موصول کر کے اسے ناسا کی کیلیفورنیا میں سپیس فلائٹ آپریشن فیسلیٹی کو بھیجتے ہیں جہاں ان سگنلز کو پراسس کر کے ان میں موجود تصاویر یا دیگر اہم معلومات کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے سائنسدانوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ سائنسدان ان تصاویر اور ڈیٹا کی مدد سے منطقی نتائج نکالتے ہیں، تحقیقی مقالہ جات لکھتے ہیں اور کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔

    مریخ پر موجود ناسا کی روورز جیسے کہ Curiosity یا حال ہی میں بھیجی جانی والی Preservernce بھی اس طرح سے زمین پر رابطے میں رہتی ہے مگر یہ ایک اور موثر طریقے سے بھی زمین پر ڈیٹا اور تصاویر بھیجتی ہے۔ اور وہ ہے بذریعہ Mars Reconnaissance Orbiter، یہ مریخ کے گرد گھومتا ایک سٹیلائٹ ہے جو ان روورز سے ڈیٹا اکٹھا کر کے زمین پر ڈیپ سپیس نیٹورک تک اسے بھیجتا ہے۔ اس طرح زیادہ آسانی سے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔

  • دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بیسویں صدی کے وسط میں راکٹ ٹیکنالوجی میں جدت سے ہم خلا میں پہنچے۔ 1969 میں پہلا انسان چاند پر گیا اور آج انسان کے بنائے سپیس کرافٹ اور روبوٹ دیگر سیاروں تک اور نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں۔

    مگر کائنات بے حد وسیع ہے۔ دِکھنے والی کائنات کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور یہ بگ بینگ کے وقت سے اب تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    آج سائنس کی مدد سے ہم خلاؤں میں سفر کر سکتے ہیں اور دوسری دنیاؤں پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات میں سورج جیسے کئی اور ستارے ہیں جنکے گرد کئی سیارے گھوم رہے ہیں۔ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ نظامِ شمسی سے باہر کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ستاروں سے اتنے فاصلے پر ہیں جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ اور ان میں سے کئی سیارے شاید زندگی کے لئے اس زمین سے بھی بہتر ہوں۔
    مگر یہ سیارے زمین سے بہت دور ہیں۔ کئی تو لاکھوں نوری سالوں کی مسافت پر۔ مگر ہمارا سب سے قریبی ستارہ جسے ہم پڑوسی کہہ سکتے ہیں اسی کہکشاں ملکی وے میں جس میں ہم رہتے ہیں، میں ہم سے قریب 4.24 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں جو کہ ناممکن ہے تو ہمیں اس تلک پہنچنے میں 4.24 سال لگیں گے۔اس سرارے کا نام ہے Proxima Centauri.

    اس ستارے کے گرد کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے یا مستقبل میں جہاں رہنا ممکن ہو۔ مگر ہم اس تک پہنچیں گے کیسے؟

    آج تک انسان کے بنائے جدید سپیس کرافٹس میں سب سے زیادہ رفتار حاصل کرنے والا سپیس کرافٹ ناسا کا سولر پارکر پراب یے جو 2018 میں ہمارے سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ تقریبآ 5 لاکھ 35 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے قریب سے گزرا۔ مگر یہ رفتار روشنی کی رفتار جو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے نہایت کم ہے۔۔یعنی روشنی کی رفتار کا محض 0.05 فیصد!!

    اب تک کا سب سے دور بھیجا جانے والا سپیس کرافٹ ناسا کا وائجر-1 ہے جو آج سے 44 سال پہلے یعنی 1977 میں نظامِ شسمی کے مشاہدے کے لئے بھیجا گیا اور یہ مشتری، اور زحل کے پاس سے گزرتا نظامِ شمسی سے باہر کی جانب نکالا مگر ہے یہ اب بھی نظامِ شمسی کی حدود میں ہے کیونکہ نظامِ شمسی پلوٹو سے بھی آگے بے حد وسیع ہے جہاں سورج کی گریوٹی اور اسکی تابکاری کا اثر موجود ہے۔

    44 سال مسلسل سفر کرنے کے باوجود یہ زمین سے تقریباً 23 ارب کلومیٹر دور ہے۔ کہنے کو یہ فاصلہ بے حد زیادہ ہے مگر یہ فاصلہ ایک نوری سال نہیں بلکہ 20 گھنٹے اور 30 نوری منٹ دور ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار سے اس تک پہنچنے میں صرف 20 گھنٹے اور 30 منٹ لگیں گے۔
    وائجر 1 اس وقت تقریباً 61 ہزار 2 سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور اسے ایک نوری سال کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 18 ہزار سال لگیں گے۔ گو یہ سپیس کرافٹ ہم سے نزدیکی ستارے Proxima Centauri کی جانب نہیں بڑھ رہا بلکہ اس سے مخالف سمت میں یے مگر اگر فرض کریں کہ یہ اس طرف سفر کر رہا ہوتا تو اسے وہاں تک پہنچنے میں اس رفتار سے تقریباً 76 ہزار سال لگتے۔ جبکہ انسانوں کی عمر آج اوسطاً 72 سال ہے۔ سو یہ بات تو طے ہے کہ انسانی عمر میں ہم ان ستاروں یا دوسری دنیاؤں تک نہیں پہنچ سکتے مگر کیا ان تک پہنچنے کا کوئی اور طریقہ یا راستہ ہے؟

    یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے. فی الحال اتنا جان لیجئے کہ ایک ایسا ممکنہ طریقہ ہے جس سے شاید ہم محض 20 سال میں اپنے قریبی ستارے اور اسکے گرد گھومتے سیاروں تک پہنچ سکیں۔ مگر یہ طریقہ ٹیکنالوجی میں جدت اور کئی سالوں کی محنت اور پیسے سے ہی شاید ممکن ہو۔ اس پر گفتگو پھر کبھی۔

  • البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم کا شکار افراد کو البینو یا پنجابی میں بگے کہا جاتا ہے۔ تصویر میں چیچنیا کے ایک گاؤں قشلوئے کی ایک بارہ سالہ البینو لڑکی آمنہ ہے۔ جسکی ایک آنکھ نیلی اور دوسری گہری براؤن ہے۔ دنیا بھر میں اس بچی کے حسن کے چرچے ہیں ۔

    کیا آپ جانتے ہیں البینزم انسانوں کے علاوہ دیگر کئی مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے؟

    جن میں ہمارے آس پاس البینو یعنی بلکل سفید چوہے، کینگرو، مگر مچھ، ہاتھی، کوے، طوطے، گائے، بھینس، زیبرے، گدھے، گوریلے، ریچھ، بلی بندر، گلہری پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک البینو سفید زرافہ بھی ہے۔

    البینزم سے متاثر بچے و معمر افراد دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں یہ غیر معمولی سفید، بھورے رنگ و بالوں کے ساتھ ہونگے۔ ان کی آنکھوں کا رنگ بھی نیلا، سبز، بھورا اور سرخ ہو سکتا ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ آنکھوں کا رنگ بدلتا بھی رہتا ہے۔ ایک آنکھ کا دوسری آنکھ سے رنگ مختلف ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں اس کی ریشو 17 ہزار سے 20 ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں ایک بچہ البینو کی ہے۔ یعنی ایک لاکھ میں سے 5 اور ایک کروڑ میں سے 500. پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں تقریباً 11 ہزار کے آس پاس البینو ہو سکتے ہیں۔

    یہ ڈس آرڈر مرد و خواتین دونوں میں پایا جاتا ہے۔ (سوائے اوکولر کے وہ آگے پڑھیں گے)

    یہ والدین سے وراثت میں ملنے والا ایک پیدائشی ڈس آرڈر ہے جس کا جدید سائنسی ترقی کے باوجود آج تک دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہماری جلد، بالوں اور آنکھوں کا رنگ بنانے میں جس کا کردار ایک خاص سیاہ مادہ جسے میلانن Melanin pigment کہا جاتا ہے کرتا ہے۔ میلانن کی کمی یا مکمل غائب ہونا البینو بچے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔

    ہمارے جسم کی رنگت کیسی ہوگی اسکا مکمل انحصار ہمارے جسم کے سیلز میں موجود میلانن کی مقدار پر ہے۔ اسکی جتنی مقدار زیادہ ہوگی ہمارا رنگ اتنا ہی کالا ہوگا جتنی کم ہوگی اتنا ہی سفید ہوگا۔ یوں سمجھیے یہ ایک طرح کی سیاہی ہے جو ہمارے جینز کے کوڈز میں ہوتی ہے اور جب پروٹین بننے کے بعد سکن سیلز بنتے تو اسکی مقدار ہماری رنگت کا تعین کرتی ہے۔

    میلانن کا ایک اور کام ہماری آپٹک نروز کے بننے میں بھی ہے۔ اسکی مقدار میں کمی جہاں رنگت میں فرق ڈالتی وہیں بصارت میں بھی کمی کا سبب بنتی سکتی

    اکثر اوقات البینو بچوں کا رنگ نارمل رنگ سے معمولی سا مختلف ہوتا اور کبھی بلکل ہی سفید۔ مگر انکی جلد انتہائی حساس اور پتلی ہوتی ہے جو عام سورج کیروشنی بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ انہیں بہت دھوپ سے جلد چھائیاں پڑ جاتی ہیں اور تیز دھوپ و روشنی میں اسکن جل بھی جاتی ہے۔ یہ دھوپ میں نکلتے ہوئے کوئی سن بلاک یا حفاظتی کریم وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ اوپر بھی بتایا گیا کہ اسکا کوئی علاج نہیں ہے بس اپنی حفاظت ہی کرنی ہے شدید گرمی سے خصوصاً اور شدید سردی سے بھی عموماً۔ کیونکہ کوئی بھی شدید موسم ان لوگوں کی اسکن پتلی ہونے کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتی۔

    بینائی کا زیادہ مسئلہ ہوتا ہے تو اسے زرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

    البینزم کی کوئی بھی قسم ہو حس بصارت میں سو فیصد خرابی ہوگی۔ یہ اس ڈس آرڈر کی بنیادی علامت ہے جو فرد کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔

    تیزی سے غیر ارادی طور پر آنکھیں آگے پیچھے حرکت کرتی ہیں جسے (nystagmus) کہا جاتا ہے۔

    آنکھوں کی غیر ارادی حرکت کو روکنے اور فوکس کرکے دیکھنے کی کوشش میں فرد اپنے سر کو ہلانے لگتا ہے کہ آنکھوں کی حرکت رک جائے۔

    دونوں آنکھوں کا مرکز و فوکس ایک پوائنٹ پر کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے جسے (strabismus) کہا جاتا ہے۔ دونوں آنکھیں ایک جگہ پر فوکس نہیں کریں گی تو دیکھنے میں یقیناً دشواری ہو گی۔

    شدید قسم کی قریبی نظر میں یعنی nearsightedness یا دور کی نظر میں کمی farsightedness ہوگی۔

    تیز یا ہلکی لائٹ بھی آنکھوں میں پڑے گی تو تکلیف ہوگی جسے (photophobia) کہا جاتا۔

    آنکھ کا پارٹ ریٹینا ٹھیک طرح سے بن ہی نہیں پاتا تو آنکھ کی دیکھنے کی قدرتی صلاحیت ہی کم ہوتی۔

    اگر ریٹینا کسی حد تک ٹھیک ہے تو جو سگلنز ریٹینا سے آپٹک نروز کے راستے ہمارے برین میں جاتے وہ نروز ڈیمیج ہونگی تو امیج ٹھیک نہیں بنے گا۔

    (misrouting of the optic nerve)

    سطح زمین پر چلتے ہوئے کسی گہری جگہ کا اندازہ ٹھیک سے نہیں ہو پاتا۔

    شدید ترین صورتحال میں لیگل بلائنڈنیس یعنی بصارت 20/200 سے کم ہوگی۔ یا البینو میں مکمل نابینا پن بھی ہو سکتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    ماں کے پیٹ میں جب بچہ اللہ کے حکم سے خون سے گوشت کا لوتھڑا بن رہا ہوتا ہے تو بہت سارے جینز ملکر انسٹرکٹشنز دیتے ہیں کہ جب گوشت سے پہلے پروٹین بنے گی تو میلانن کی پروڈکشن و مقدار مخصوص سیلز میں کیا ہوگی۔ میلانن جن سیلز میں بنتی ہے انہیں میلانو سائٹس melanocytes کہا جاتا ہے۔ یہ سیلز خصوصاً ہماری اسکن، بالوں اور آنکھوں میں پائے جاتے ہیں اور ان تینوں کے رنگ کا تعین کرتے ہیں۔

    پیغامات یا انسٹرکٹشنز دینے والے کسی ایک جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر mutation ہوتا ہے تو میلانن کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔ کونسے جین میں بدلاؤ ہوا ہے اسی بنا پر البینزم کی قسم کا تعین ہوتا ہے کہ میلانن کی مقدار کم ہوئی ہے یا سرے ہی میلانن بنا ہی نہیں۔

    البینزم کی اقسام کونسی ہیں؟

    1. او کو لو کو ٹینئیس البینو
    Oculocutaneous albinism (OCA

    یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔ اس میں متاثرہ بچہ اپنی امی اور ابو دونوں فریقوں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے۔
    (autosomal recessive inheritance) سات جینز میں سے جنہیں OCA1 سے OCA7 تک لیبل کیا جاتا ہے کسی ایک جین میں میوٹیشن ہونے پر یہ قسم سامنے آتی ہے۔ اس میں میلانن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اسکن بال اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں۔

    2۔ اوکولر البینو Ocular albinism

    اس قسم میں عموماََ بینائی متاثر ہوتی ہے سکن اور بالوں کا رنگ نارمل ہی ہوتا ہے۔ اس کی سب کامن قسم ٹائپ 1 ہے جس میں X کروموسوم کی جین میوٹیشن ہوتی ہے۔ X لنکڈ اوکولر البینو میں بچہ اپنی ماں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے اور البینو پیدا ہوتا ہے۔ جسے
    (X-linked recessive inheritance) کہا جاتا ہے۔ یہ قسم صرف مردوں میں ہی پائی جاتی ہے کوئی لڑکی اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ اور پہلی قسم OCA سے بہت زیادہ کم ہے۔

    3۔ تیسری قسم جو سنڈرومز سے تعلق رکھتی ہے Albinism related to rare hereditary syndromes

    مثال کے طور پر Hermansky-Pudlak سنڈروم OCA کی ایک قسم میں پایا جاتا ہے جس میں جلدی خون بہنے لگنا، پھپھڑوں اور مثانے کے امراض شامل ہیں۔ اس کے بعد Chediak-Higashi سنڈروم سے OCA کی ہی ایک قسم میں قوت مدافعت بہت کم ہوجاتی۔ بہت جلد انفیکشن ہوجاتے جو جلدی ٹھیک نہیں ہوتے۔ اسکے ساتھ نیورولوجیکل مسائل بھی سامنے آنے لگتے جو شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ سنڈروم سے متعلقہ اقسام پہلی قسم OCA میں ہی آئیں گی۔

    ان افراد کو مسائل کہاں پیش آتے ہیں؟

    دیکھنے اور اسکن کی حساسیت تو بیان ہوچکی اس کے علاوہ انہیں بے شمار سماجی، معاشی و جذباتی غیر منصفانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بینائی میں کمی کی وجہ سے لکھنے پڑھنے کچھ سیکھنے دوران ملازمت یا ڈرائیونگ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    جلد پتلی ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ سن برن کا ہوتا ہے۔ جو بہت زیادہ ہونے لگیں تو خدا نخواستہ اسکن کے کینسر کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

    سماج میں رہتے ہوئے البینو افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا۔ انہیں کم پڑھے لکھے افراد کی طرف سے ضرورت سے زیادہ فوکس کرکے دیکھا جاتا جیسے یہ کوئی اور مخلوق ہوں اور اکثر منفی کمنٹس پاس کیے جاتے ہیں۔ انکے برے نام رکھے جاتے برے ناموں سے پکارا جاتا۔ دکھ دینے والے سوال کیے جاتے بیچارہ معذور کہہ کر ان افراد کا دل دکھایا جاتا ہے۔ کسی بھی سماج میں کیونکہ یہ افراد واضح طور پر مختلف ہوتے ہیں تو ان سے آوٹ سائیڈرز کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جو ان افراد میں تنہائی مایوسی اور ذہنی دباؤ و بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل یہ افراد مرد و خواتین آپس میں اور نارمل لوگوں سے بھی شادی کر سکتے ہیں۔ انکے بچے بھی ان جیسے ہونگے یہ ضروری نہیں ہے مگر بچے پیدا کرنے سے قبل کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیا جائے کوئی احتیاطی تدابیر ہوں تو وہ اپنائی جائیں۔

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل پی ایچ ڈی تک دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ عام سکولوں میں ایڈجسٹ نہ ہو بچہ تو قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں داخل کروا دیں۔

    ایورج عمر کیا ہے؟

    کسی بھی معاشرے کے افراد کی جو ایورج ایج یوگی وہی البینو کی بھی ہوگی۔ کیونکہ میلانن کا کم یا زیادہ ہونا مجموعی زندگی اور صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

    آئی کیو لیول کتنا ہوگا؟

    ذہانت میں یہ افراد نارمل افراد کی طرح ہی ہونگے۔ میلانن کی کمی بیشی ذہانت کو بلکل متاثر نہیں کرتی۔