Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں

    نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں

    نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں
    ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی

    :01مارچ 1884ء
    گورکھپور، ہندستان
    وفات:30نومبر 1936ء
    الہٰ آباد، ہندستان

    اصغر گونڈوی اردو کے ان گنے چنے شاعروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے حسن و عشق کی شاعری کو محض ہجر کی نالہ ٔ و زاری،جسم کی لطافتوں اور لذتوں کے بیان یا اس سوز و گداز سے جو عشقیہ شاعری کا لازمہ سمجھا جاتا ہے ،دور رکھ کر اک نشاطیہ اور طربیہ لب و لہجہ دیا جو بالکل نیا تھا اور جو پڑھنے والے کو اداس یا غمگین کرنے کی بجائے ایک مسرت افزا کیفیت سے دوچار کرتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اس میں لکھنوی شاعری کےاوچھے پن یا تہذیب سے گری ہوئی کسی بات کا شائبہ تک نہیں۔اصغر کی شاعری اصلاً تصوف کی شاعری ہونے کے باوجود دوسرے صوفی شاعروں مثلاً درد ،سراج اورنگ آبادی یا امیر مینائی کی شاعری سے بہت مختلف ہے اور وہ اس طرح کہ ان کی شاعری اس شخص کو بھی جسے تصوف یا صوفیانہ مضامین سے کوئی دلچسپی نہ ہو، سرشار اور محظوظ کرتی ہے۔ان کا پیرایہ بیان دلکش،رنگین اور مسرت افزا ہے اور ان کی یہی خصوصیت ان کو دوسرے صوفی شعراء سے ممتا زکرتی ہے۔ اصغر نے بہت سے دوسرے شعراء کی طرح نال کٹتے ہی "مطلع عرض ہے” نہیں کہا بلکہ خاصی پختہ عمر میں شاعری شروع کی اور اس کو دوسروں تک پہنچانے یا مقبول بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ان کا چلتا پھرتا اشتہار بس جگر مراد آبادی تھے جو ان سے اس قدر متاثر تھے کہ ان کی غزلیں جیب میں لئے پھرتے تھے اور ایک ایک کو سناتے تھے۔اصغر کبھی پیشہ ور یا پُرگو شاعر نہیں رہے اور تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان سے کہلوا لے۔یہی وجہ ہے کہ ان کا جو بھی کلام ہے وہ سارے کا سارا درجۂ اوّل کا،رطب و یابس سے پاک اور نفاست سے لبریز ہے۔
    اصغر کا اصل نام اصغر حسین تھا وہ یکم مارچ 1884ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے ان کے والد تفضل حسنس بسلسلہ ملازمت گونڈہ میں رہتے تھے جہاں وہ صدر قانون گو تھے اور عربی ،فارسی کی اچھی استعداد رکھتے تھے۔چونکہ گونڈہ میں اصغر نے مستقل رہائش اختیار کر لی تھی اسی لئے اصغر گونڈوی کہلاتے ہیں۔اصغر کی ابتدائی تعلیم دستور کے مطابق مکتب سے شروع ہوئی۔ اور ارد و عربی میں انہوں نے خاصی مہارت حاصل کر لی۔اس کے بعد انگریزی تعلیم کے لئے گورنمنٹ اسکول گونڈہ میں داخلہ لیا اور وہیں سے 1904 میں مڈل(آٹھویں جماعت) کا اماحےن پاس کیا۔ اس دوران انہوں نے عربی اور فارسی کی کی کتابیں اپنے والد سے گھر پر پڑھیں۔ 1906 میں والد کی ایماء سے انگریزی تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیا تاکہ ملازمت حاصل کر سکیں۔اس زمانہ میں اتنی انگریزی تعلیم ملازمت کے لئے کافی سمجھی جاتی تھی۔اسی عرصہ میں اصغر کی ملاقات ریلوے ہیڈ کوارٹر کے دفتر میں ایک ہیڈ کلرک بابو راج بہادر سے کائستھ سے ہوئی۔یہ صاحب خاصے تیز طرار،رنگین مزاج اور انگریز دانی کی بدولت انگریز حکام تک رسوخ رکھتے تھے۔وہ اصغر کی ذہانت،برجستہ گفتگو اور بذلہ سنجی سے متاثر ہوئے اور حکام سے کہہ کر انہیں بیس روپے ماہوار پر ریلوے میں ٹائم کیپر رکھوا دیا۔اصغر نے اپنی ذاتی کوششوں سے اردو فارسی میں کافی مہارت حاصل کر لی تھی اور اک اینگلوا نڈین کی مدد سے انگریزی ادبیات سے بھی آشنا ہو گئے تھے۔یہ تعلیم و صحبت آگے چل کر ”ہندوستانی اکیڈمی“ کے سہ ماہی رسالہ ”ہندستانی“ کے شعبہ اردو کے مدیر کی حیثیت سے ان کے تقرر میں کام آئی۔ اصغر ٹائم کیپری کی ملازمت کے لئے بابو راج بہادر کے بہت ممنون تھے اور انہیں اپنا محسن اور شفیق سمجھ کر ان سے گھل مل گئے تھے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں شراب،افیم اور بالا خانوں کی سیر کا چسکا لگ گیا۔یہ سلسلہ پانچ سال تک چلا پھر اچانک ان کی کایا پلٹی اور تمام بری عادتوں ، راج بہادر کی رفاقت اور ٹائم کیپر کی نوکری کو لات مار کر گھر میں بیٹھ رہے۔ کوٹھوں کی مذکورہ حاضریوں کے دوران چھٹّن نامی اک طوائف اصغر پر لٹو ہوگئی۔ یہ ایک معمولی شکل و صورت کی نیک دل سادہ مزاج اور خاموش طبیعت عورت تھی جس کی طرف اصغر بھی مائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکے تھے ۔وہ اپنے شراب نوشی کے زمانہ میں اگر نشہ میں چُور چھٹن کے گھر پہنچتے اور امام غزالی کے فلسفہ پر اس کے ساتھ بحث کرتے تھے۔ تائب ہونے کے بعد انھوں نے اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا اور اس کے ساتھ ان کی دلچسپی بھی لمحاتی تھی لیکن وہ اصغر کے لئے سنجیدہ تھی اور آسانی سے اصغر کا پیچھا چھوڑنے والی نہیں تھی۔جب اصغر تائب ہو گئے اور اس کے گھر آنا جانا بند کر دیا تو وہ اس مسجد کے باہر جہاں اصغر نماز پڑھتے تھے ،آ کر بیٹھ جاتی تھی تا کہ ان کو دیکھ سکے۔اصغر نے اپنا پیچھا چڑ انے کے لئےیہ شرط رکھی کہ اگر وہ اپنی موجودہ زندگی سے معہ خاندان تائب ہو جائے تو وہ اس سے شادی کر سکتے ہیں ۔وہ اس پر بھی راضی ہو گئی۔اس نیک عورت نے زندگی بھر اصغر کی خدمت کی۔اس سے پہلے اصغر کی شادی گونڈہ کے ہی قاضی صاحبان کے خاندان میں ہو چکی تھی اس سے ان کی دو لڑکیاں بھی تھیں لیکن اصغر کی اپنی پہلی بیوی سے نہیں بنتی تھی اور وہ اصغر کے والد کے ساتھ رہتی تھی۔جوانی کی بے راہ روی کے بعد اصغر نے محسوس کیا کہ جسم کی آسودگی روح کی نا آسودگی کو نا قابلِ برداشت حد تک بڑھا رہی ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مرشد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔جا تو رہے تھے شیخ محمد عمر سے ملنے لیکن راستہ میں کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ قاضی عبد الغنی منگلوری کے مرید ہو گئے جس کے بعد ان کی زندگی ہی بدل گئی ”اب نہ زماں نہ وہ مکاں،اب وہ زمیں نہ آسمان*تم نے جہاں بدل دیا آ کے مری نگاہ میں”۔اب ان کی شخصیت نے نیا جامہ پہنا اور آخری عمر تک وہ ہر حیثیت سے اور ہر معاملہ میں صاحب ذوق اور صاحبِ حال رہے۔وہ بہر حال روایتی صوفی یا زاہد خشک نہیں بلکہ ہنس مکھ اور بذلہ سنج تھے۔
    اصغر کے حالات زندگی جگر مراد آبادی کے تذکرہ کے بغیر ادھورے رہیں گے۔جگر سے اصغر کی ملاقات گونڈہ کے مشاعروں میں ہوئی اور رفتہ رفتہ تعلقات اتنے بڑھے کہ جگر ان کے گھر کے ایک فرد بن گئے۔جن دنوں جگر شدید ذہنی اور جذباتی پریشانیوں میں مبتلا تھے، اصغر نے ان کی شادی اپنی سالی (چھٹن کی چھوٹی بہن) سے کرا دی۔وہ جگر کی رندی اور سرمستی کے باوجود جگر کی قدر کرتی تھی۔جگر ان دنوں ایک چشمہ ساز کمپنی کے گشتی نمائندہ تھے۔ انہوں نے اصغر کے ساتھ مل کر گونڈہ میں چشموں کا اپنا کار و بار شروع کیا۔ لیکن جگر لا اوبالی آدمی تھے۔بیوی کو چھوڑ کر مہینوں کے لئے غائب ہو جاتے تھے۔ چھٹن کا اصرار تھا کہ اصغر نسیم سے شادی کر لیں۔اس کے لئے ضروری تھا کہ جگر نسیم کو اور اصغر چھٹن کو طلاق دیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اصغر نے نسیم سے شادی کر لی۔ چھٹن بدستور ان کے گھر میں رہی اور ان کی خدمت کرتی رہی۔وہ اصغر سے عمر میں بڑی بھی تھی۔ (اصغرکی موت کے بعد جگر نے دوبارہ نسیم سے شادی کی)۔ اصغر کے مزاج میں نفاست بہت تھی وہ عمدہ چیزوں کے شوقین تھے،نازک مزاجی یا تکبر ان کو چھو بھی نہیں گئے تھے ۔ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔مذہبی ہونے کے باوجود کٹّر پن بالکل نہیں تھا، ان کے ملنے والوں میں اہل علم،اوباش،قلندر،طالب علم کاروباری،مہذب اور غیر مہذب،رند ،غرض ہر قسم کے لوگ شامل تھے لیکن سبھی ان کی محفل میں آ کر مہذب ہو جاتے تھے۔ان سے ملنے والے ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔مزاج میں ایک طرح کا ٹھیراو تھا جو ان کے کلام میں بھی ہے۔
    اصغر کی صحافتی زندگی 1912ء میں شروع ہوئی جب انہوں نے فیض آباد سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار "قیصر ہند” میں کام شروع کیا بعد میں یہ اخبار پیام ہند کے نام سے شائع ہونے لگا۔اصغر کا ابتدائی کلام ان ہی اخبارات میں شائع ہوا۔1926ء میں لاہور میں ”اردو مرکز“ قائم ہوا جس کے لئے اصغر کو علامہ تاجور کی ایماء پر گونڈہ سے بلایا گیا۔اصغر نے ڈیڑھ دو سال وہاں کام کیا پھر ادارہ کا مستقبل تاریک دیکھ کر گونڈہ واپس آ گئے۔ ہندوستانی اکیڈمی الہ آباد سے اصغر کا تعلق سر تیج بہادر سپرو کے توسط سے ہوا جو اصغر کے مدّاح تھے۔ اصغر 1930 سے 1936 یعنی اپنی موت تک اکیڈمی سے وابستہ رہے۔اصغر نے شاعری کو کبھی پیشہ نہیں بنایا بلکہ وہ دوسروں کو شاعری سے طرح طرح سے روکتے تھے۔ان کا خیال تھا مشاعروں میں وہی شعر اٹھتا ہے جو سب کی سمجھ میں آ جائے اور ایسا شعر عموماًسطحی ہوتا ہے۔وہ اپنی غزلیں بھی خود پڑھنے کے بجائے دوسروں سے پڑھواتے تھے۔اصغر بلڈ پریشر کے مریض تھے ان پر 1934 میں فالج کا حملہ ہوا جس سے وہ جلد صحتیاب ہو گئے لین 1936 میں اسی مرض کے مزید حملے جان لیوا ثابت ہوئے۔
    اصغر کی غزل میں حسرت کی سادگی پسندانہ شیرینی،فانی کی بالغ نظری،لطافت اور موسیقیت اور تصوف کی چاشنی گھلی ملی نظر آتی ہے۔ان کا کلام پڑھنے والا فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس میں خیال یا مضمون کی خوبی زیادہ ہے یا لطافت اور حسن بیان کی۔ان کے یہاں شاعری کا حاصل یہی ہے کہ پڑھنے والوں کے دل و دماغ کو عرفانی نغموں سے بھر دیا جائے۔اور اس کی روح کو سرشار کیا جائے۔ان کی شاعری میں ہوس کا کوئی شائبہ نہیں،ہر جگہ حسن تخیل،حسن نظر اورحسنِ ادا کی جلوہ نمائی ہے۔جوش اور سرمستی اصغر کے تغزل کی جان ہے۔عشقیہ اشعار میں وہ تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتے اور معمولی خیال کو بھی دلکش بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ان کی شاعری کا لب و لہجہ نشاطیہ اور طربیہ اور رقص معنی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ان کے کلام میں شدّت جذبات کے باوجود اک طرح کا ٹھہراؤ اور ضبط ہے۔ان کا تصوف مولویت کی بے روح فقہ پرستی کے خلاف ایک شدید ردّعمل ہے ان کی نگاہ میں قوّت، ضبط کا نام ہے نہ کہ انتشار کا۔اردو غزل میں اصغر نشاطیہ شاعری کی بہترین مثال ہیں۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
    اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

    عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں
    تیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیں

    یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
    یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

    زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا
    رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

    ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے
    لطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے

    پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی
    ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے

    اک ادا اک حجاب اک شوخی
    نیچی نظروں میں کیا نہیں ہوتا

    ہوتا ہے راز عشق و محبت انہیں سے فاش
    آنکھیں زباں نہیں ہیں مگر بے زباں نہیں

    بنا لیتا ہے موج خون دل سے اک چمن اپنا
    وہ پابند قفس جو فطرتا آزاد ہوتا ہے

    عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں
    ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا

    سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی
    کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے

    مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے
    میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں

    اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں
    ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے

    زلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیا
    ہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں

    نہیں دیر و حرم سے کام ہم الفت کے بندے ہیں
    وہی کعبہ ہے اپنا آرزو دل کی جہاں نکلے

    اصغرؔ غزل میں چاہئے وہ موج زندگی
    جو حسن ہے بتوں میں جو مستی شراب میں

    رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے
    جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے

    سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا
    جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں تھا

    نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں
    ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی

    حل کر لیا مجاز حقیقت کے راز کو
    پائی ہے میں نے خواب کی تعبیر خواب میں

    داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں لیکن
    اس میں کچھ خون تمنا بھی ہے شامل اپنا

    میں کیا کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیں
    رگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے

    یہ بھی فریب سے ہیں کچھ درد عاشقی کے
    ہم مر کے کیا کریں گے کیا کر لیا ہے جی کے

    لوگ مرتے بھی ہیں جیتے بھی ہیں بیتاب بھی ہیں
    کون سا سحر تری چشم عنایت میں نہیں

    جینا بھی آ گیا مجھے مرنا بھی آ گیا
    پہچاننے لگا ہوں تمہاری نظر کو میں

    یہ آستان یار ہے صحن حرم نہیں
    جب رکھ دیا ہے سر تو اٹھانا نہ چاہیئے

    چھٹ جائے اگر دامن کونین تو کیا غم
    لیکن نہ چھٹے ہاتھ سے دامان محمد

    ہم اس نگاہ ناز کو سمجھے تھے نیشتر
    تم نے تو مسکرا کے رگ جاں بنا دیا

    آلام روزگار کو آساں بنا دیا
    جو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا

    بستر خاک پہ بیٹھا ہوں نہ مستی ہے نہ ہوش
    ذرے سب ساکت و صامت ہیں ستارہ خاموش

    اصغرؔ حریم عشق میں ہستی ہی جرم ہے
    رکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لئے ہوئے

    عارض نازک پہ ان کے رنگ سا کچھ آ گیا
    ان گلوں کو چھیڑ کر ہم نے گلستاں کر دیا

    اصغرؔ سے ملے لیکن اصغرؔ کو نہیں دیکھا
    اشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے

    میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی
    جلووں کے اژدحام نے حیراں بنا دیا

    وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے
    کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے

    روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں
    جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا

    مجھ کو خبر رہی نہ رخ بے نقاب کی
    ہے خود نمود حسن میں شان حجاب کی

    لذت سجدۂ ہائے شوق نہ پوچھ
    ہائے وہ اتصال ناز و نیاز

    اے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی
    کچھ قید رسم نے جسے ایماں بنا دیا

    بے محابا ہو اگر حسن تو وہ بات کہاں
    چھپ کے جس شان سے ہوتا ہے نمایاں کوئی

    اس جلوہ گاہ حسن میں چھایا ہے ہر طرف
    ایسا حجاب چشم تماشا کہیں جسے

    کیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سے
    ہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے

    وہ شورشیں نظام جہاں جن کے دم سے ہے
    جب مختصر کیا انہیں انساں بنا دیا

    وہیں سے عشق نے بھی شورشیں اڑائی ہیں
    جہاں سے تو نے لیے خندہ ہائے زیر لبی

    کیا کیا ہیں درد عشق کی فتنہ طرازیاں
    ہم التفات خاص سے بھی بد گماں رہے

    مائل شعر و غزل پھر ہے طبیعت اصغرؔ
    ابھی کچھ اور مقدر میں ہے رسوا ہونا

    عشق کی بیتابیوں پر حسن کو رحم آ گیا
    جب نگاہ شوق تڑپی پردۂ محمل نہ تھا

    قہر ہے تھوڑی سی بھی غفلت طریق عشق میں
    آنکھ جھپکی قیس کی اور سامنے محمل نہ تھا

    عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے
    ساری خطا مرے دل شورش ادا کی ہے

    مری وحشت پہ بحث آرائیاں اچھی نہیں زاہد
    بہت سے باندھ رکھے ہیں گریباں میں نے دامن میں

    کچھ ملتے ہیں اب پختگی عشق کے آثار
    نالوں میں رسائی ہے نہ آہوں میں اثر ہے

    ہر اک جگہ تری برق نگاہ دوڑ گئی
    غرض یہ ہے کہ کسی چیز کو قرار نہ ہو

    یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری
    جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے

  • کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    آج کل اس مسئلے کی وجہ سے کئی جگہ ناچاقیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ سوچا اس پر کچھ لکھ دوں۔

    اپنے ذاتی اخراجات یا اپنی بچت کے لیے عورتیں پہلے بھی گھروں میں کوئی نہ کوئی کام کرتی تھیں مثلاً کپڑوں کی سلائی ، کڑھائی یا چھکوریاں وغیرہ بنانا۔ اس آمدن پر صرف عورت کا ہی حق ہوتا تھا اور اس میں کوئی اختلاف کبھی نہیں ہوا۔ اب بہت ساری عورتیں گھروں سے باہر نکل کر سارا دن جاب کرتی ہیں اور اس تنخواہ پر بھی ان کے مؤقف کے مطابق صرف ان کا ہی حق ہے۔

    یہاں میں اپنی رائے عرض کروں تو جو عورتیں گھروں میں رہ کر کام کرتی ہیں وہ اپنے فارغ اوقات میں سے کام کر کے اپنے لیے کماتی ہیں۔ جبکہ جو عورتیں پورا دن جاب کرتی ہیں وہ اپنے اصل کام یعنی گھرسنبھالنے والی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر یہ کام کر رہی ہوتی ہیں۔

    اگر وہ مکمل طور پر سبکدوش نہ بھی ہوں تو بھی ان کی اس جاب کی وجہ سے گھر کے دوسرے افراد کو کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے۔ بچے یا تو گھر کے کسی دوسرے فرد کے پاس چھوڑنے پڑتے ہیں یا پھر ڈے کئیر میں۔ اس طرح بچوں کی تربیت اور ان کی اچھے سے دیکھ بھال متأثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر عورت گھر میں رہے تو شام کو واپسی پر شوہر کو اچھے سے وقت دے سکے گی اور اس کا خیال بھی اچھے سے رکھ سکتی ہے۔ جبکہ سارا دن آفس میں کام کر کے تھک ہار کر لوٹنے والی بمشکل کھانا پکانا ہی کر سکے گی۔

    مہمانوں کی آمد پر سارا کچھ باہر سے ہی منگوانا پڑے گا۔ گھر میں اگر بوڑھے والدین ہیں تو ان کی خدمت کے لیے نہ وقت ہو گا نہ انرجی۔ ایسے میں اگر سسرال والے یا شوہر اپنی بیوی کو جاب کی اجازت دے رہا تو اس کا یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کی ساری تنخواہ پر صرف اس کا حق ہے؟

    یہاں ایک بات اور یاد رہے کہ آج کل ہونے والے رشتوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جاب والی لڑکی نہیں چاہیے اوراگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے جاب کر رہی ہو تو وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد جاب کی اجازت نہیں ہوگی۔ جاب چھوڑنی ہو گی۔ جاب والی لڑکیاں عام طور پر ایسے رشتوں کو ٹھکرا دیتی ہیں۔

    دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو باقاعدہ ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں کہ جاب والی لڑکی کا رشتہ ملے۔ انھیں شادی کے بعد بھی جاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ جاب والی لڑکیاں ایسے رشتوں کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن یہاں پتہ نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ یہ رشتہ ہی جاب کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اب اگر رشتہ ہی جاب کی وجہ سے ہو رہا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ساری تنخواہ پر لڑکی کا حق تسلیم کریں گے۔

    یہ چند ایک باتیں اگر ذہن میں بٹھا لیں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    یہاں اپنی ایک پرانی تحریر کا اقتباس بھی شئیر کر دیتا ہوں جو اس بات کو مزید واضح کر دے گا۔

    معاشرے کی بنیادی اکیائی خاندان ہوتا ہے جو مرد اور عورت سے مل کر وجود میں آتا ہے۔ ہر خاندان میں دو قسم کی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔

    ۱۔ باہر سے کما کر لانا

    ۲۔ امورِ خانہ داری جیسے کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ

    اب ان ذمے داریاں کو پورا کرنے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔

    ۱۔ تمام ذمے داریاں کسی ایک پر ڈال دی جائیں۔ یقیناً کسی انتہائی مجبوری کے بغیر ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا۔ اور ایسا تعلق کبھی بھی دیر پا نہیں ہو سکتا۔

    ۲۔ دونوں مل کر کمائیں اور دونوں گھر کے کام بھی مل کر کریں۔ بظاہر یہ آئیڈیل صورت لگتی ہے لیکن اس میں خاندان کا شیرازہ کس طرح بکھرتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس مغربی معاشرے کو دیکھ لیا جائے۔ بچے صبح سے شام تک کئیر سنٹرز کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ باہر کے کھانوں پر گزارہ ہوتا ۔ پھر جو لوگ میری طرح کافی عرصے سے یورپ میں رہ رہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو بھی دیرپا ، شادی شدہ جوڑے ہیں ان میں مرد ہاتھ تو بٹاتے گھریلو کاموں میں لیکن زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں۔ اس طرح عورتوں کو ایک تو لازمی طور پر کام کر کے خود اپنے لیے کمانا پڑتا اور دوسری طرف گھریلو ذمینداریا ں بھی نبھانی پڑتی ہیں اور عورت پر دوہرا بوجھ ڈال دیا جاتا۔ اس لازمی طور پر کمانے کی وجہ سے عورتوں کو کیا کیا کام کرنے پڑتے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

    ۳۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک کمائے اور دوسرا گھریلو ذمہ داری نبھائے۔ اگر کوئی حقیقی طور پر صحیح معاشرہ قائم کرنا چاہے تو یہی صورت ہی سب سے بہتر ہے۔ کسی بھی ادارے، کمپنی، ملک وغیرہ میں مختلف لوگ مختلف کام ہی انجام دیتے ہیں۔ اس طر ح اس کا نظام چلتا۔ ذمے داریاں تقسیم ہو جاتیں اور سب کام صحیح طور پر چلتے ہیں اگر سب اپنے حصے کا کام کرتے رہیں۔ اب اس صورت میں مزید دو آپشن ہوتے ہیں۔

    الف۔ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔
    ب۔ عورت کمائے اور مرد گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔

    اس میں کوئی دو رائے تو ہیں نہیں کہ اگر اس طر ح ذمے داریاں تقسیم کرنی ہوں تو کون کس ذمے داری کے لیے زیادہ موضوع ہے۔ مزید برآں اسلام جو پاکیزہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے اس میں بھی یہی صورت ممکن ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔ انسان کو بنانے والے نے خود مرد کو کمانے کا ذمہ سونپا ہے (سورہ النسا ، آیت ۳۴) اور وہی بہتر جانتا ہے کہ مرد ہی اس کام کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔

    لیکن اگر کسی کو اسلام کے اس فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ دوسرا تجربہ کر کے دیکھ سکتا ہے۔ یعنی بیوی کمائے اور شوہر گھر سنبھالے۔ اول تو بیوی طعنے دے دے کر ہی مار دے گی کہ فارغ بیٹھے رہتے ہو۔ اور اگر یہ نہ بھی ہو تو جیسے ہی بیوی آفس سے گھر آئے شوہر پہلے ہی تیار بیٹھا ہو کہ چلو شاپنگ پر جانا ہے۔ یا یہ کہ آج کھانا باہر کھائیں گے۔ پھر ہر تھوڑے دنوں کے بعد ضد کہ مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ کے آؤ اور وہاں رہنے کے لیے پیسے بھی دو۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ تو دیکھیں کہ کتنے دن بیوی کماتی رہتی ہے۔

    آخر میں مردوں سے گزارش ہے کہ گھر کے کام کو عار نہ سمجھیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، جب وقت ملتا تو گھر کے کاموں میں اپنی ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ اور عورتوں سے گزارش کہ ذمے داریاں بانٹ کر نبھائی جائیں تو گھرانہ احسن طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ اور اپنے والدین کے گھر کام کر کے اگر کوئی نوکرانی نہیں بن جاتی تو شوہر کے گھر کام کرنے سے کوئی نوکرانی کیوں بن جاتی ہے۔

  • کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    مذہبی طور پر مخلوط معاشروں کا بہرحال یہ المیہ ہوتا ہے کہ وہاں دوسرے مذاہب کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں – ہمارے برصغیر میں ہندووں کی بہت سی عادات اور عقائد کو ہمارے لوگوں نے کم علمی کے سبب اپنا معمول بنا لیا – اس کمزوری سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم کو خود اپنے دین اور اس کی تعلیمات کا مکمل معلوم ہو –

    بائبل عہد قدیم کے مطابق عورت حائضہ عورت ناپاک ہوتی ہے جس برتن کو چھوٙئے وہ برتن توڑ دیا جائے جس بستر پر بیٹھے وہ بستر ناپاک جس کپڑے کو چھوئے وہ کپڑا ناپاک ایام حیض کے بعد غسل اور دو قمریوں کی قربانی گذرانے کے بعد پاک ہوتی ۔۔۔

    عرب کے یہود میں عورت کے حیض کے دن اس کو اچھوت بنا دیتے تھے ، اس کا کھانا پینا اور رہنا سہنا سب الگ کر دیا جاتا – یہی صورت ہمارے ہندستان میں ہندوں میں موجود رہی ہے ۔ہندووں میں بھی ان ایام میں عورت کو الگ کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    پاکستان میں گلگت کے ساتھ ملحق کافرستان کہلانے والے علاقے میں مقامی قبائل آباد ہیں ، جو ایام حیض میں عورتوں کے لئے الگ ایک مخصوص عمارت میں عورتوں بیٹیوں کو بھیج دیتے ہیں ۔

    دو برس پہلے بی بی سی اردو پر ایک خاتون کی کہانی نے عورت کی اس تذلیل کو ان لفظوں میں بیان کیا ، آپ اس کو پڑھیے ، آپ حیران ہو جائیں گے – خاتون کہتی ہیں :

    مجھے 12 برس کی عمر میں حیض آئے۔ میری ماں اور بھابھیاں حیض کے دنوں میں گھر سے باہر بنی مٹی کی ایک جھونپڑی میں رہا کرتی تھیں اس لیے میں نے بھی وہاں جانا شروع کر دیا۔ میں ہمیشہ ڈرتی تھی کہ جانے یہاں کیا ہوگا کیونکہ مجھے کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانوروں سے ڈر لگتا تھا۔

    مجھے بتایا گیا تھا کہ اِن دنوں میں کتابوں کو ہاتھ لگانا گناہ ہے اس لیے میں اپنے حیض کے دنوں میں سکول ہی نہیں جاتی تھی۔

    آج بھی حیض والی عورتوں کو مویشیوں کے باڑے میں جانے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ان دنوں میں دودھ ، مکھن اور دہی استعمال نہیں کر سکتیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا جب مجھے اپنے ہی گھر کے باڑے میں جانے نہیں دیا گیا۔ حیض کے دوران لوگ آپ کو کھانا بھی ہاتھ میں نہیں دیتے بلکہ آپ کے سامنے پھینک جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ کو اپنے سے بڑوں کو چھونا بھی نہیں چاہیے۔”

    اسی تہذیب نے یہاں مسلمانوں کو بھی متاثر کیا …ابھی کچھ دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ ان کے علاقے میں حالت حیض کی صورت میں عورت کو کسی حد تک اچھوت ہی سمجھ لیا جاتا ہے اسی طرح ایک دوست نے بتایا کہ بچے کی پیدائش پر پلید سمجھتے ہیں چالیس دن تک اس کے ساتھ ہاتھ تک نہیں ملاتے سر پر ہاتھ نہیں رکھتے ۔۔یعنی حیرت ہے کہ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش کی صورت میں بھی اس کو اچھوت سمجھ لیا جاتا ہے -اور بعض علاقوں میں چالیس دن تک عورت کا بستر ، برتن اور چارپائی غرض ہر شے الگ کر دی جاتی ہے – حالانکہ ان دنوں میں عورت زیادہ معزز ہوتی ہے ، اس کی تکریم معمول سے زیادہ کرنی چاہیے اور ان دنوں میں ہی اس کو آپ کی محبت ، ہمدردی اور ساتھ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے –

    کیونکہ : زچگی کی صورت میں ویسے ہی وہ ایک بڑی تکلیف سے گزر چکی ہوتی ہے ، ایسے میں اسے پل پل آپ کے پیار کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ آپ اسے اچھوت بنا دیں – ویسے بھی آپ جو اولاد کو ترس رہے ہوتے ہیں اور کبھی تو بیٹے کی خواہش میں مرے جا رہے ہوتے ہیں اور اس نے آپ کی خواہش کو اپنایت سے اپنے اندر چھپا لیا – آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے نو ماہ کی اذیت برداشت کی ہوتی ہے اور آپ اسے تنہا کر دیتے ہیں –

    اسی طرح حالت حیض میں بھی عورت آپ کی محبت کی معمول سے زیادہ حق دار ہوتی ہے کیونکہ وہ دن رات آپ کے خدمت میں کمربستہ ہوتی ہے ، آپ کے بچے پالتی ہے ، آپ کا کھانا بناتی ہے ، اور اگر ورکنگ وومن ہے تو کسی نہ کسی طور آپ کے حصہ کا کام بھی کرتی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے عورت کو وراثت ملے ، یا خاوند کی کمائی سے کچھ بچا پائے یا نوکری کر کے تنخواہ لائے …. آخر گھر میں ہی خرچ کرتی ہے …تو ان مشکل دنوں میں وہ آپ کے ساتھ کی ضرورت مند ہوتی ہے جہاں تک ہمارے دین کا تعلق ہے اس کی تعلیمات ان دنوں کے حوالے سے بہت واضح اور روشن ہیں.

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے ہوتی تو یہودی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے اور نہ اس کے ساتھ گھروں میں اکٹھے رہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "حائضہ سے ہر کام کرو سوائے جماع کے”۔
    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:302]

    دیکھا جائے تو یہ حدیث ہر معاملے کو واضح کر رہی ہے کہ سوائے ہم بستری کے ان ایام میں ان کے ساتھ ہر معاملہ جائز ہے – ایک یہ جہالت بھی پائی جاتی ہے کہ ان ایام میں بیوی کے جسمانی طور پر پاس جانا بھی گناہ ہے حالانکہ گناہ صرف ہم بستری یعنی صحبت ہے – اس کے علاوہ آپ اپنی بیوی سے محبت والے دیگر معاملات کر سکتے ہیں – میں پہلے لکھ چکا ہوں یہ دن عورت کے نارمل دن نہیں ہوتے اس کو ان دنوں میں زیادہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ توجہ کی بھی …..اور محبت کا بہترین اظہار جسمانی قرب ہوتا ہے ..اور ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم سے زیادہ کون نفسیات انسانی کو سمجھ سکتا تھا ..سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :

    ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ‘حالت حیض میں’ ازار باندھنے کا حکم دیتے، سو میں ازار باندھتی۔ آپ مجھے گلے لگاتے تھے اور میں حیض والی ہوتی تھی۔”

    [صحیح البخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض، حدیث:300، وصحیح مسلم، الحیض، باب مباشرۃ الحائض فوق الازار، حدیث:293]
    ایک اور حدیث میں ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ‘میں اپنی اعتکاف گاہ’ سے مجھے بوریا پکڑانے کا حکم دیا۔ میں نے کہا کہ میں حائضہ ہوں۔

    آپ نے فرمایا:

    "تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔”

    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:298]

    اور میاں بیوی کی محبت اور پیار کی اس سے زیادہ کیا تصویر کشی ہو سکتی ہے ، اور شوہر کی توجہ کا مظہر اس سے زیادہ کیا انداز ہو سکتا ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کو تکیہ بنا کر قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تھے، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

    [صحیح البخاری، الحیض، باب قراء ۃ الرجل فی حجر امراتہ وھی حائض، حدیث:297، وصحیح مسلم، الحیض ، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:301]

    یہ تمام احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ دن عورت کو معزز اور محترم بناتے ہیں نہ کہ اچھوت –

    ایک واحد معاملہ اور پابندی ضرور ہے کہ ان ایام میں عورت عبادت کے لیے مسجد میں نہیں آ سکتی تو بھی اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں بلکہ ایک طرح کی سہولت ہے کہ ان دنوں میں تو عورت گھر میں بھی کسی بھی قسم کی فرض عبادت سے آزاد ہوتی ہے –

    لیکن اس خون کو نجاست ضرور قرار دیا گیا اسی سبب مسجد میں آنا بھی ممنوع ہے .

  • مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    حدیث مبارکہ میں دو ایسے اشخاص کے لیے مبارکباد پیش کی گئی ہے جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوئے اور جنہیں قناعت کی صفت سے متصف ہونا نصیب ہوا ۔ اگر بنظر دقیق ان دونوں باتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ دونوں چیزیں ہی اپنے اندر ایسی معنویت اور افادیت رکھتی ہیں ہیں کہ انسان بے ساختہ ان باتوں پر مبارکباد کا قائل ہوجاتا ہے ۔

    اسلام پانچ چیزوں کا نام ہے ۔ شہادتین ان میں اول نمبر پر ہے ۔ عقیدہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو در بدر کا فقیر ہونے سے بچاتا ہے اور غیرت مند زندگی گزارنے کی راہ دیتا ہے ۔ انسان ہمیشہ کسی سہارے کو محسوس کرکے خود کی ڈھارس بندھاتا ہے اور ہمیشہ احساس تحفظ سے لبریز رہتا ہے ۔ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا بلاشبہ ایسی نعمت ہے جس جیسی نعمت دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔
    انسانی زندگی کا ایسا ضابطہ حیات جو انسان کو دنیوی و اخروی طور پر کامیابی کی ضمانت دے یقینا وہ آپ علیہ السلام کی بدولت ہی میسر آسکتا ہے ۔

    اسلام میں دوسرے نمبر پر فرضیت نماز ہے جو مختلف اوقات میں انسانوں پر پانچ مرتبہ فرض ہے ۔ نمازوں کے اوقات ایک طرح سے انسانوں کے لیے بریک ٹائم ہیں دن بھر کام کے دوران انسان کچھ وقت کے لیے دنیا سے لاتعلق ہوکر بس یکسوئی سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس سے ذہنی و قلبی اطمینان سے مستفیض ہوتا ہے ۔ مزید برآں انسان نماز کی ادائیگی سے ایک طرح کی ورزش بھی کرلیتا ہے ۔

    گویا جہاں خدا راضی ہوتا ہے وہیں پر دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوگئے ہیں ۔ تیسرے نمبر پر روزہ ہے جس سے انسان کو جسمانی و روحانی برکات کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔ سارا سال کام کرنے والے معدے کو آرام ملتا ہے ۔ اور جدید تحقیق کے مطابق کینسر سمیت متعدد بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے ۔ غریبوں کی بھوک اور تنگیوں کا بھی احساس ہوتا ہے جس سے انسان کا دل نرم ہوکر بندوں اور بندوں کے خدا دونوں کے لیے نرم ہوجاتا ہے ۔

    چوتھے نمبر پر زکوہ ہے جس سے معاشرے میں موجود طبقاتی عدم مساوات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ دولت ایک جگہ اکٹھی ہونے کی بجائے گردش میں آتی ہے اور غریب طبقہ بھی انسانی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر استحکام کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔

    پانچویں نمبر پر حج ہے جس میں سارے مسلمان بقدر استطاعت سال بعد بیت اللہ میں جمع ہوتے ہیں اپنی اجتماعیت پر ناز کرتے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک مضبوط رشتہ اخوت اسلام کی نسبت سے قائم ہوجاتا ہے ۔ جہاں ان کو قوت ایمانی و رشتہ انسانی میسر ہوتا ہے وہیں پر سیر و سیاحت کا بھی موقع مل جاتا ہے ۔

    اسی طرح قناعت پر مبارکباد دی گئی ہے ۔ اور قناعت بھی اپنے اندر لا محدود معنویت رکھتی ہے اور کثیر فوائد سے لبریز ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ دل اور نفس کی تمام بیماریوں کا علاج قناعت میں ہے ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدا کی دی گئی نعمتوں اور عطاوں پر راضی ہوجائے ۔ اس کے بعد خواہشات ، لالچ ، حرص ، حسد ، بغض اور دیگر نفسانی آلائشوں سے انسان محفوظ ہوجاتا ہے ۔

    یوں حدیث کے پہلے اور دوسرے حصے کا جائزہ لینے سے انسان عش عش کر اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ واقعی جن کو یہ دونوں نعمتیں میسر ہیں ان کے لیے مبارکباد تو بنتی ہے ۔

  • ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    بل گیٹس نے یونیورسٹی چھوڑی، مارک زکر برگ نے یونیورسٹی چھوڑی، سٹیو جابز نے چھوڑی وغیرہ وغیرہ

    یہ جملہ آئے روز سننے کو ملتا ہے مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ انہوں نے یونیورسٹی چھوڑی تو تب انکی پوزیشن کیا تھی اور ان کو سپورٹ کرنیوالا کون تھا؟

    جس وقت ان سب نے یونیورسٹیوں کو چھوڑا اس وقت یہ اپنی کمپنیاں بنا چکے تھے اور وہ کمپنیاں اتنی زیادہ آؤٹ ریچ پر پہنچ چکی تھی کہ ان کے لئے یونیورسٹی اور کمپنی دونوں ایک ساتھ چلانا مشکل ہوگیا تھا۔ سو انہوں نے ڈگری پہ کاروبار کو ترجیح دی۔ اور کمپنیز کو مزید ترقی دینے پر لگ گئے۔

    لیکن یہاں فائنل سٹیپ بتا کر پہلے سٹیپ نہیں بتائے جاتے۔

    کیوں؟

    کیونکہ پہلے سٹیپ محنت طلب ہیں، جبکہ فائنل سٹیپ سب سے زیادہ آسان اور دل کو لبھانے والا ہے اور انسانی نفسیات ہے کہ وہ آسان باتیں سننا پسند کرتا ہے اور محنت طلب باتوں اور کاموں سے بھاگتا ہے۔

    آسان بات یہ ہے کہ تمام ارب پتی یونیورسٹیوں سے ڈراپ آؤٹ ہوئے تو ارب پتی بنے۔

    مشکل بات یہ ہے کہ یہ سب ارب پتی امریکہ میں رہ رہے تھے، وہاں پر انہیں اچھی سکول ایجوکیشن ملی، بعد میں کالج میں انکی پروفیشنل ڈیولپمنٹ پہ کام ہوا، کالج کے دوران ان کا واسطہ اس ٹیکنالوجی سے ہوا جو غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے آپ اور ہم نے پانچ دس سال بعد دیکھنی تھی اور پھر اس ٹیکنالوجی کو پروفیشنلی پراڈکٹ میں بدلنے کے لئے ان کے پاس ملکی وسائل تھے جس میں آسان قرضے سے لیکر والدین کے پیسے تک سب موجود تھا۔ ان پر کسی قسم کا سوشل پریشر نہیں تھا کہ آپ کی کمپنی فلاں کے مذہب، عقیدے وغیرہ کو ٹھیس پہنچائے گی نا ان سے کسی نے یہ پوچھا کہ آپ سلفی ہیں یا مقلد ہیں یا قادیانی، نا ہی ان کو آپ کے والے مسائل تھے کہ بائیس پچیس سال کی عمر تک آپ کی سیکس لائف مکمل ہوئی کہ نہیں، سب کی گرل فرینڈز تھی سو وہ نفسیاتی طور پر آزاد رہ کر کسی بھی آئیڈیا پہ کام کر رہے تھے اور ان کا معاشرہ اور ملک سپورٹ کر رہا تھا۔

    پھر جا کر انکی کمپنیاں جب ملین ڈالر سے زائد کے کیپیٹل پر پہنچی تو انہوں نے کالج سے ڈراپ آؤٹ ہونا پسند کیا۔

    اب یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں۔۔۔کہ

    کیا آپ کے ملک میں آپ کے پاس نئے آئیڈیاز سوچنے کے لئے وسائل دستیاب ہیں؟ کیا آپ زندگی کے بنیادی سروائیول کی پسوڑیوں مطلب شادی یا سادہ الفاظ میں سیکس لائف کی پسوڑی سے نکل چکے ہیں؟ کیا آپ کا ملک آپ کو آپکی کمپنی کے لئے خام مال باآسانی دے سکتا ہے؟ کیا آپ کے ملک میں ٹیکنالوجی اس لیول پہ ہے جس پر ایک ہارورڈ کا طالب علم دیکھ رہا ہے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی کمپنی میں لوکل انویسٹر شئیر خریدیں گے؟ اور کیا آپکے ملک میں لانگ ٹرم پہ بزنس پالیسی موجود ہے؟

    ان سب سوالوں کا جواب نا میں ہوتا ہے۔

    سو پھر ڈگری کو برا کیوں کہا جائے؟ پھر سیدھا نقطہ یہ ہے کہ آپ سماج کو بدلیں یا اسے چھوڑ دیں پھر جا کر آپ کچھ نیا بنا سکیں گے۔

    اس وقت ہمارا ملک ایک کنزیومر ملک ہے جہاں پر پروڈیوسر بننے کی سوچ کے پیچھے ہزاروں چیلنجز ہوتے ہیں۔ آئیڈیاز ہیں تو وسائل نہیں وسائل ہیں تو آئیڈیاز نہیں اگر دونوں ہیں تو ملکی پالیسیز نہیں ہیں۔

    پاکستان کا سب سے بڑا سٹارٹ اپ میرے خیال سے دراز ہے اور پھر ائیر لفٹ تھی، دراز کے سی او نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال دیکھ کر بہت سے آپریشن محدود کریں گے، جبکہ ائیر لفٹ تو مکمل بند کر دی گئی۔ ائیر لفٹ کیساتھ ساتھ کریم اور دیگر ہزاروں چھوٹے سٹارٹ اپس بند ہو گئے۔

    اب یہاں سٹارٹ اپس کے بند ہونے کی وجہ FDI یا فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا بند ہونا ہے۔ کیونکہ ہمارا لوکل انویسٹر تو دھیلا خرچنا نہیں چاہتا۔ آپ ایک آئیڈیا لائیں اس پر کمپنی بنائیں، لوکل مارکیٹ میں سے کوئی بھی انویسٹ نہیں کرے گا سارا زر باہر سے لانا پڑے گا۔

    وہیں ایک ہاؤسنگ سکیم بنائیں دھڑا دھڑ پلاٹ بکیں گے، انویسٹمنٹ آئے گی پیسہ آئے۔

    مطلب مارکیٹ کی ڈائنامکس ہی کنزیومر بیسڈ ہے پروڈیوسر کو کوئی یہاں پنپتا نہیں دیکھ سکتا۔

    ایسے میں حل یہی ہے باہر جائیں ڈھیر سا پیسہ کما کر یا تو وہاں ہی کمپنی لانچ کریں یا یہاں آ کر لانچ کریں اور پراڈکٹس باہر ایکسپورٹ کریں۔

    مگر باہر جانے کے لئے آپ کو پراپر یونیورسٹی ایجوکیشن چاہیے، اچھا جی پی اے اور سکالرشپ سو اس کے لئے ڈگری پر محنت کریں، 3.4 سے اوپر جی پی اے رکھیں، پرسنل گرومنگ سیکھیں، خود کو پریزنٹ کرنا سیکھیں اور یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ڈگری کو چھوڑنے کی بات کرنے والے ڈفر خود ایک پرزہ تک نہیں بنا سکتے سو ان کا چورن مت خریدیں۔

  • کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کمر کے بل سر جھکائے پانی کے تالاب نما کھیت میں چاول کی کھیتی کبھی دیکھی ہے.؟ اکثریت سوچتی ہوگی شائد چاول کیلئے کھڑے پانی میں کاشت لازم ہے. لیکن ایسا ہے نہیں. کھڑے پانی میں چاول اس لئے لگایا جاتا ہے کہ خودرو گھاس چاول کی فصل کے جڑ پکڑنے سے پہلے کھیت میں جگہ نہ بنالے. یہ پانی گھاس اُگنے نہیں دیتا.

    کامیابی کا سفر جتنا خاموش ہو اتنا اچھا ہوتا ہے. ہماری اکثریت کامیاب ہونے کی بجائے کامیاب ہو کر دکھانا چاہتی ہے. دکھاوے کی یہ خواہش ان سے سفر سے پہلے ہی اعلانات شروع کروا دیتی ہے. آس پاس عزیز دوست رشتہ دار اپنے پرائے پھر تماشائی بن جاتے ہیں. اتنی نظروں کے بوجھ تلے یہ پھر خود بھی گھبرا جاتے ہیں اور ان کا سفر بھی ڈگمگا جاتا ہے.

    ارسطو کہتا تھا آپ تنقید سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر نہ تو کچھ کریں نہ بولیں اور نہ ہی کچھ بنیں. لیکن اگر آپ بولنا بھی چاہتے ہیں کچھ کرنا اور بننا بھی تو تنقید لازم ہوگی. اس لئے بہتر ہے کہ تنقید کیلئے خود کو تب دستیاب کریں جب کامیابی کی فصل نے جڑ پکڑ لی ہو اور اس لہلہاتے کھیت کو چھپانا اب ممکن نہ ہو.

    فزکس میں سکیل اس مقدار کو کہتے ہیں جو ہو یعنی فاصلہ رفتار حجم کمیت وغیرہ لیکن ویکٹر اسے کہتے ہیں جہاں مقدار بھی ہو اور اس کی سمت بھی ہو. بے چینی اینزائٹی سکیلر مقدار ہے. جبکہ خوف ویکٹر ہوتا ہے. کامیابی کا سفر بے چین رکھتا ہے لیکن سفر سے پہلے اسکا شور اور اعلانات اسے باقاعدہ وہ خوف بنا دیتا ہے جو سب کی نظروں اور تنقید کے تیروں کو ایک سمت دے کر آپ کو میدان میں کھڑا کر دیتا ہے.

  • سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    فلم تھری ایڈیٹس میں عامر خان چتر کی تقریر میں کچھ الفاظ بدل دیتا ہے. یہ کچھ الفاظ ہندی سے نابلد چھتر کی خوب بے عزتی کروا دیتے ہیں. غصے میں چھتر کالج کی ٹینکی پر ایک تاریخ لکھتا ہے. آج سے دس سال بعد فیصلہ ہوگا کون کامیاب اور کون ناکام ہے.؟

    میرے خیال میں سکولوں میں پوزیشن ہونی ہی نہیں چاہئے. یہ سمجھ کا کم یادداشت اور قسمت کا زیادہ کھیل بن جاتا ہے. سکولوں کا مقصد ایک نسل کا اپنی نئی نسل کو اس مقام تک لانا ہوتا ہے جس مقام پر آج کی نسل کھڑی ہے. اول دوئم سوئم پوزیشن ایک نسل دنیا کے میدان میں بناتی ہے، حاصل کرتی ہے اور منواتی ہے. اکثر سکول کلاس کے ٹاپرز زندگی کے میدان میں پیچھے اور کلاس کے کمزور بچے اس میدان میں آگے کھڑے ہوتے ہیں.

    کیا سکول رزلٹ کارڈ حقیقت کے میدانوں کے ترجمان ہیں.؟ آپ کے سکول میٹرک کے طلباء کی پوزیشن فرض کیا پندرہ سال بعد آج ایوارڈ ہوں. اپنے اپنے میدان میں پوزیشن اور کامیابی اگر معیار ہو تو نتیجہ کیا ہوگا.؟ آپ بھی سوچیں اور بچوں کا پوزیشن سٹریس کم کرنے کا حوصلہ کریں. ہم سسٹم تو نہیں بدل سکتے لیکن کسی کی پریشانی کو کم ضرور کر سکتے ہیں.

    وقت اکثر چتر کی طرح ان کی یادداشت کے چند لفظ آگے پیچھے کر دیتا ہے. زمانے کے قہقہے نکل جاتے ہیں اور یہ بچارے اپنی ذات میں سمٹ کر گُم ہو جاتے ہیں.

  • روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پتنگے اور دیگر حشرات الارض جو اُڑتے ہیں ان میں ایک نیویگیشن سسٹم سا لگا ہوتا ہے جو انہیں رات کی تاریکی میں چاند۔ کی روشنی کی مدد سے راستہ بتاتا ہے۔ یہ نیویگیشن سسٹم ایک سادہ سے اُصول پر مبنی ہے جسے ٹرانسورس اورئینٹیشن کہتےہیں۔ اب یہ کیا بلا ہے؟ ٹرانسورس اورئنٹیشن دراصل یہ ہے کہ ایک پتنگا اپنی اُڑان کے دوران چاند سے ایک مستقل زاویے پر رہتا ہے جس سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کس سمت جانا یے یا کونسی سمت بدلنی ہے کہ چاند سے اسکا زاویہ ہمیشہ ایک رہے۔

    اب چاند چونکہ زمین سے دور ہے اور آسمان میں اپنی جگہ آہستہ سے بدلتا ہے لہذا ایک پتنگے کا چاند سے ایک مستقل زاویہ رکھ کر اُڑنا آسان ہے۔ پتنگے کے نقطہء نظر سے چاند اسکی اُڑان کے وقفے میں جگہ نہیں بدلتا۔ ویسے ہی جیسے آپ سڑک پر گاڑی دوڑاتے جائیں اور چاند بھی آپکو اپنے ساتھ دوڑتا نظر آتا ہے۔ ہم انسان بھی اس طریقہ کار کو ماضی میں استعمال کرتے رہیں راستہ ڈھونڈنے کے لیے جب ہم قطبی ستارے سے شمال کی سمت کا تعین کر کے لمبے راستوں پر سفر کیا کرتے تھے۔

    مگر پتنگے کی قسمت خراب کہ انیسویں صدی میں ایڈیسن صاحب آئے اور بلب کی ایجاد کو پیٹنٹ کر دیا۔ اب ہر طرف برقی قمقمے ہیں۔ دنیا میں چوبیس گھنٹے ہر جگہ جہاں انسان رہتے ہیں وہاں روشنی رہتی ہے۔ چاہے سورج کی ہو یا بجلی سے جلے مصنوعی بلب اور روشنیوں کی۔

    چونکہ اس عمل کو گزرے چند صدیاں ہی ہوئی ہیں لہذا پتنگے اور دیگر حشرات ارتقائی طور پر اس تبدیلی کو کہ اب ہر طرف رات میں مصنوعی روشنیاں ہوتی ہیں، میں خود کو مکمل ڈھال نہیں سکے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب ایک پتنگا یا کیڑا روشنی کے قریب آتا ہے تو اسکی آنکھیں تیز روشنی سے اول تو چندھیا جاتی ہیں کیونکہ انہیں چاندکی مدہم روشنی کی عادت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ بلب یا مصنوعی روشنیوں کے ساتھ پتنگے مستقل زاویہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو چونکہ یہ روشنی انکے بے حد قریب ہوتی ہے تو مستقل زاویہ رکھنے کے چکر میں یہ چکرا جاتے ہیں اور دائرے میں گھومنے لگتے ہیں۔ یوں بیچارے پتنگے صبح تک گھومتے گھومتے تھک کر نڈھال ہو جاتے ہیں اور دم توڑ دیتے ہیں۔ روشنی کے بلبوں سے بار بار ٹکرا کر اور بلب سے آتی حدت سے انکی ننھی جانیں دارِ فانی کو کوچ کر جاتی ہیں۔

    اقبالِ لاہوری کا ایک شعر تھا:

    مگَس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    مگس یعنی شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ وہ پھولوں سے رس چرائے گی اور شہد کے ساتھ موم بھی بنے گا جس کی شمع سے پروانے جل جائیں گے۔
    اتنا لمبا کنکشن بنانے پر میں اقبالِ لاہوری کو داد دیتا ہوں۔مگر اس شعر میں زمانے کے مطابق تبدیلی کچھ یوں ہونی چاہئے تھی۔

    ایڈیسن کو لیب میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    و آخر دعوانا

  • جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    ہم مڈل کلاسیوں کی شادیوں میں شادی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی جتنی بھی سادگی برتی جائے نہ نہ کرتے اخراجات قرض لینے کی سطح تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ گھر کی خواتین لڑکے اور لڑکی دونوں سائیڈ سے زیور کے بغیر شادی کو حرام سمجھتی ہیں۔ شادی کے بعد اکثریت میں جوڑے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ مشکلات پلس خاوند کی مالی حیثیت تب اور واضح ہو جاتی جب پہلے دوسرے ماہ ہی خوشخبری آجاتی۔

    بھائی یورین ٹیسٹ پازیٹو آنے کے فوری بعد کسی تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے اسکین کروا کر پریگنینسی کی لوکیشن معلوم کرنا ہوتی ہے۔ اور پھر اس اسکین کے ساتھ گائناکالوجسٹ سے ملنا ہوتا ہے۔ بنیادی ٹیسٹنگ اور اگر کسی دوا کی ضرورت ہو تو وہ شروع کر دی جاتی ہے۔ 20 روپے کی سٹک سے یورین ٹیسٹ کرکے گھر نہیں بیٹھنا ہوتا۔

    اگر خوشخبری ملنے پر آپکے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔ اور یہ کام اتنی جلدی ہو گیا ہے کہ ابھی شادی کا بھی قرض باقی ہے تو اگر پاس کچھ سونا موجود ہے وہ بغیر کسی کو بتائے دونوں میاں بیوی مشورہ کرکے بیچ دیں۔ اور خاوند اپنی حاملہ بیوی کی خود کئیر کرے۔ ہر چیز خود میسر کرے۔ نہ کہ اسے اپنی امی یا بہنوں یا گھر کی بزرگ خواتین کے حوالے کر دے۔ ہر ماہ ریگولر چیک اپ کرائیں اور ڈیلیوری بے شک نارمل ہی کیوں نہ بتائی گئی ہو۔ کسی بھی قیمت پر دائی یا کسی ایسے ہسپتال میں مت کرائیں جہاں بچے کو فی الفور آکسیجن لگانے کی سہولت میسر نہ ہو۔

    کوشش کریں کسی ایسی جگہ ڈیلیوری ہو جہاں بچوں کی نرسری موجود ہو۔ کم از کم وہاں سے قریب ہی کسی ہسپتال میں نرسری ہو۔ گاؤں سے شہر یا شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آکسیجن لگوانے یا نرسری میں بچہ لیجانے تک وہ زندہ بچ بھی جائے اسکا برین کسی حد تک متاثر یا ڈیمج ہو چکا ہوتا۔ اس چیز کا فوری پتا نہیں چلتا۔ چند ماہ یا ایک دو سال تک جب بچہ اپنی عمر کے مطابق حرکات و سکنات نہیں کرتا تو ڈاکٹر پوچھتے کہ پیدائش کہاں ہوئی تھی۔ بچہ رویا تھا اسکا رنگ کیا تھا اسے آکسیجن لگی تھی ؟ تو خیال آتا گڑ بڑ کہاں ہوئی تھی۔

    برین ڈیمج کے نتیجے میں ہونے والی معذوری کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ اسے سیری برل پالسی کہتے ہیں۔ جسم مفلوج ہوجاتا اور ساری عمر بچے کو بیٹھنے کھڑا ہونے بات کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بروقت کیا گیا فیصلہ جو حاملہ ماں کی اچھی کئیر اور اچھی جگہ ڈیلیوری عمر بھر کے پچھتاوے سے بہتر ہے۔

    اگر زیور نہیں ہے تو کم از کم قرض اتر جانے یا قرض اترنے کی کوئی سبیل ہی بن جانے تک انتظار کر لیا جائے۔ فیملی بڑھانے کا فیصلہ باہمی رضا مندی سے مؤخر کر لیا جائے۔

    میں اور مہدی بخاری بھائی سکردو کے ایک ہوٹل میں رکے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں ایک فرینچ کپل رکا تھا۔ ان سے چائے کی میز پر گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سال کے ہنی مون پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا فیصلہ ہے ہم ایک سال تک کوالٹی ٹائم ساتھ گزاریں گے چھ ماہ چند ملکوں میں اور چھ ماہ پیرس میں جاکر گزاریں گے۔ پاکستان میں وہ ایک ماہ رکنے والے تھے۔ اور پھر فیملی بڑھائیں گے۔ یہاں یہ کنسپٹ تو جیسے گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو نیو بیاہتا جوڑوں تک پہنچانے کی ضرور کوشش کریں۔۔

  • بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ بھوت پریت تھڑے اور فٹ پاتھوں پر بیٹھے گندے بدبودار عاملوں اور بنگالی بابوں کو نظر آ جاتے ہیں مگر جدید لیبارٹریوں اور تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے سائنسدانوں کو نہیں ۔ یا پھر وِچلی گل کوئی ہور اے؟

    انسانی دماغ ایک پیچیدہ شے ہے۔ اگر آپ کسی کو حتیٰ الامکان یقین دلا دیں کہ وہ کل مر جائے گا تو بھلے وہ کسی اور سبب سے مرے نہ مرے اس خوف سی ہی مر جائے گا کہ کل اُس نے مرنا ہے۔ آج کی جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جن مسائل کو ہم ماضی میں غیر مرئی عوامل سے جوڑتے تھے وہ دراصل انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں، ان سے جڑے مسائل اور ماضی میں تشخیص نہ ہونے والی بیماریوں کے سبب ہیں۔وہ بیماریاں جنکے بارے میں آج ہم جانتے ہیں کہ مختلف جرثومے جیسے کہ بیکٹیریا، وائرس وغیرہ سے ہوتے ہیں، اُنہیں بھی ماضی میں ان غیر مرئی عوامل سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    جرثونوں کے ذریعے بیماریوں کا علم انسانوں کو سولہویں صدی کے وسط میں ہوا جب Girolamo Fracastoro جوایک اطالوی طبیب تھے، نے یہ خیال پیش کیا۔

    سولہویں صدی کے آخر میں خوردبین کی ایجاد سے ان جرثوموں کو دیکھنا ممکن ہوا۔ Fracastoro کے اس اچھوتے خیال کو سائنس میں جدت کی بدولت ایک سائنسی تھیوری بننے میں کئی صدیاں لگیں۔ آج یہ ایک مسلمہ حقیقت کے روپ میں ایک مصدقہ سائنسی تھیوری ہے، جسے Germ Theory کہا جاتا ہے۔ آج اسی تھیوری کی بنیاد پر کئی جدید اور موثر طریقہ علاج طب کی دنیا میں انقلاب برپا کر چکے ہیں۔ سائنس کی یہ تھیوری انسانوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کہ اسکی بدولت اب تک کروڑوں انسانوں کی زندگی بچ چکی ہے۔۔زندگی سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ کیا ہو گا؟ انسانیت کے لیے سائنس کا یہ سب سے بڑا تحفہ ہے۔

    ماضی میں جب انسان یہ سب نہیں جانتے تھے تو نہ دکھنے والے یہ جرثونے اور ان سے جڑی بیماریوں کو غیر مرئی قوتوں کا شاخسانہ کہنے میں حق بجانب تھے۔ مگر آج ہم سائنس کی بدولت اصل محرکات جانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس طرح کے توہمات کی تقلید کر کے اپنی زندگیاں اور اپنا پیسہ ایسے عاملوں اور جعلی پیروں پر لگائیں۔ اس جاہلانہ رویے سے آج تک کتنی معصوم جانیں ضائع اور کتنے گھر برباد ہو چکے ہیں۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کے رویوں کی بیخ کنی کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے محفوظ رہیں تو ہمیں جدید سائنسی علوم اپنانے ہونگے, سائنسی طرزِ فکر رکھنا ہو گا۔ ورنہ بنگالی بابوں کو عقل گروی رکھ کر قدرت کی اس سب سے بڑی نعمت کو ٹھوکریں مارتے رہیں۔ کس نے روکا ہے؟