Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

  • تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا ،رانا ابرار خالد کا عمران خان کے نام کُھلا خط

    جناب عمران خان صاحب! جس گھڑی کو آپ ذاتی بتاتے پھر رہے ہیں وہ آپ کی ذاتی نہیں تھی کیونکہ ہیروں والی گھڑی سمیت 1.2 کروڑ ڈالر کی لگ بھگ مالیت کا ’’گراف‘‘ کا سیٹ سعودی ولیٔ عہد نے آپ کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو گفٹ کیا تھا۔نہ صرف آپ نے امانت میں خیانت کی اوراخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ سرِبازار بیچ ڈالا بلکہ قانون کی درج ذیل خلاف ورزیاں کیں:

    1۔ قانون کے مطابق سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ ملتے ہی وہاں تعینات پاکستانی سفیر کو ان تحائف کی بابت توشہ خانہ کے انچارج کو تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہئے تھامگر آپ نے سفیر کو ٹرانسفر کی دھمکی دے کر رپورٹ بھجوانے سے منع کر دیا۔

    2۔قانون کا تقاضا تھا کہ سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف آپ کابینہ ڈویژن یا پی ایم آفس کے Designated افسر کے سپرد کرتے جو پاکستان پہنچ کر مذکورہ تحائف (قواعد کے مطابق) توشہ خانہ میں جمع کراتامگر آپ اسے اپنے ذاتی luggage کے ساتھ سیدھے بنی گالا اپنے گھر لے گئے اور توشہ خانہ کے اسٹاف کو ان تحائف کی شکل تک دیکھنے نہیں دی ۔

    3۔ رولز کے مطابق ہونا یہ چاہئے تھا کہ 2019 میں سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف پہلے توشہ خانہ میں جمع ہوتے اور پھر آپ بطور Recipient مذکورہ تحائف کو Retain کرنے کی تحریری درخواست مع بیان حلفی انچارج توشہ خانہ کو بھجواتےمگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔

    4۔تحائف Retain کرنے کیلئےآپ کی درخواست موصول ہونے کے بعد انچارج توشہ خانہ 15روز میں (رولز کے مطابق خط بھجواکر) ایف بی آر سے اور مارکیٹ سے اپریزر بلاتا جو مذکورہ تحائف کا ایگزامینیشن اور پرائس ایویلیوایشن کرکے مارکیٹ نرخوں کے مطابق قیمت کاتعین کرتے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ مذکورہ تحائف توشہ خانہ میں لائے ہی نہیں گئے اور آپ کی ہدایت پر بغیر اپریزل کے مذکورہ تحائف کی Retaining کی رسمی کارروائی پوری کی گئی۔

    5۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ رولز کے مطابق توشہ خانہ کی پرائس ایویلیوایشن کمیٹی بنائی جاتی جو ایف بی آر اپریزر اور پرائیویٹ اپریزر کی تعین کردہ قیمتوں کا جائزہ لے کر سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف کی حتمی قیمت کی منظوری دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    6۔ آپ کی حکومت نے دسمبر 2018 میں توشہ خانہ رولز آف پروسیجر آفس میمورنڈم میں ترمیم کرکے تحائف کی Retaining Fee مارکیٹ پرائس کے 20 فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کردی تھی مگر 2019میں سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘ کے ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaing کے معاملے میں انچارج توشہ خانہ نے جعلی اپریزل کے ذریعے انڈر پرائسنگ کرکے جو قیمت متعین کی وہ 10کروڑ روپے تھی اس کے برعکس آپ کی طرف سے Retaining Fee محض دو کروڑ روپے ادا کی گئی۔ اس طرح آپ نے 20 فیصد ادائیگی کرکے اپنے ہی بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی کی۔

    7۔ آپ نے سعودی ولی عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘کے (1.2 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ مالیت کے) ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کی Retaning کیلئے جو 2 کروڑ روپے کی معمولی رقم ادا کی وہ آپ کےذاتی اکاؤنٹ یا آپ کے نام سے پے آرڈر کے ذریعے قومی خزانے میں جمع نہیں ہوئی بلکہ ان تحائف کو بیرون ملک بیچنے کا انتظام کرنے والے معاون خصوصی کی طرف سے مذکورہ رقم جمع کروائی گئی۔

    8۔ آپ نے دوست ملک سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘ کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ (جس میں ایک گھڑی، ایک انگوٹھی ،دو کف لنکس اور ایک قلم شامل تھا) اور غیرملکی دوروں میں ملنے والے دیگر تحائف اندرون وبیرون ملک کی مارکیٹوں میں بیدردی سے فروخت کردئیے۔ حالانکہ یہ تحائف آپ نے نیلامی میں نہیں خریدے تھے بلکہ توشہ خانہ سے Retain کئے تھے اور Retaining کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے قانون میں غیرملکی دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی Retaining کی اجازت Recipient کو اس لئے ملتی ہے کیونکہ وہ اپنی درخواست میں لکھتا ہے کہ ’’یہ تحفہ مجھے فلاں اہم شخصیت نے پیش کیا تھا جو میرے لئے یادگار ہے اور میں اسے بطور یادگار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں،‘‘ اسی لئے ہر Recipient کو Retaining کیلئے ایک بیان حلفی بھی اپنی درخواست کے ساتھ لف کرنا پڑتا ہے۔

    9۔ آپ نے سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ دبئی فروخت کرنے کیلئے ایکسپورٹ NOC کے بغیر نجی جہاز پر بیرون ملک اسمگل کروایاجس کا شعبہ کسٹم کے ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں۔

    10۔عمران خان کی اس حرکت کی پاداش میں پاکستان کو 3ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ کی واپسی اور موخر ادائیگی پر تین ارب ڈالر تیل فراہمی کے معاہدے کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔

    کیا ان حقائق اور قانون کی خلاف ورزیوں کے بعد آپ کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ میری گھڑی، میری مرضی؟

    خیراندیش…رانا ابرار خالد

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    غریبِ شہر تو فاقے سے مرگیا عارفؔ
    امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کرلی

    عارف شفیق 31 اکتوبر 1956 کو کراچی میں پیدا ہوئے. عملی زندگی میں صحافت سے وابستہ رہے ان کی شاعری کے یہ مجموعے شائع ہوئے: آدھی سوچیں گونگے لفظ (1977) سیپ کے دیپ (1979) سر پھری ہوا (1985) جب زمین پر کوئی دیوار نہ تھی (1987) احتجاج (1988) یقین (1989) میں ہواؤں کا رخ بدل دوں گا (1991) مرا شہر جل رہا ہے(1997)

    ان کا کچھ کلام

    اس شخص پر بھی شہر کے کتے جھپٹ پڑے
    روٹی اٹھا رہا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے

    عارف شفیق کوئی نہ آگے نکل سکا
    میں نے ہر آنیوالے کو خود راستہ دیا

    جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
    مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کرلی

    زندگی خوف کا سفر کیوں ہے
    کاش کیوں اگر مگر کیوں ہے

    مجھے خدا نے وہ بخشا ہے شاعری کا ہنر
    جو خواب دیکھتا ہوں وہ دکھا بھی سکتا ہوں

    ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار ہوں جہاں عارفؔ
    مجھے قلم سے وہاں انقلاب لانا ہے

    اور کچھ نہ دے سکا میں اگر ورثے میں
    اپنی اولاد کو سچائی تو دے جاؤں گا

    عارف شفیق ورثے میں اولاد کے لئے
    میں جا رھا ھوں جرآت اظہار چھوڑ کر

    اک فتویٰ پھر آیا ہے یہ غاروں سے
    کافر کہہ کر مجھ کو مارا جاسکتا ہے

    ساری دنیا ہے آشنا مجھ سے
    اجنبی اپنے خاندان میں ہوں

    آنسو پونچھے، دکھ بانٹے انسانوں کے
    میں نے بھی تو ساری عمر عبادت کی

    آنکھوں میں جاگ اٹھے ہیں تنہا شجر کے دکھ
    گلدان میں جو پھول سجے دیکھتا ہوں میں

    موم کی صورت خود ہی پگھل جائے گا اک دن
    لفظ محبت لکھ دے تو دل کے پتھر پر

    کسی کی آنکھ سے آنسو بھی پونچھ لیتا کبھی
    غرور کرتا ہے جو شخص اپنے سجدوں پر

    وہی ہیں لفظ پرانے جو لکھ رہے ہیں سب
    معانی ان میں مری شاعری اتارتی ہے

    اکثر سب کو رستہ دینے والے لوگ
    میری طرح سے خود پیچھے رہ جاتے ہیں

    شہر سارا ہی ہوگیا روپوش
    کوئی ملتا نہیں ٹھکانے پر

    یقیں اب ہوگیا میں سچ ہوں عارف
    جبھی دنیا مجھے جھٹلا رہی ہے

    سولی پہ چڑھا کر مرے چاند اور مرے سورج
    اب شہر میں مٹی کے دیے بانٹ رہا ہے

    ایسا نہ ہو وہ خود کو سمجھنے لگے خدا
    اتنا بھی جھکنا ٹھیک نہیں التماس میں

    وہاں ہر چیز تھی اک جنس وفا تھی نایاب
    خاک ڈال آیا ترے شہر کے بازاروں پر

    جب کوئی اہم فیصلہ کرنا
    اپنے بچوں سے مشورہ کرنا

    میں نے سیکھا ہے اپنے بچوں سے
    سچ کا اظہار برملا کرنا

    وقت کرتا ہے خود فیصلہ ایک دن
    اب ہمیں وقت کا فیصلہ چاہیے

    چند سکے نہ دے ہم کو خیرات میں
    اپنی محنت کا پورا صلہ چاہیے

    عارف وہ فیصلے کی گھڑی بھی عجیب تھی
    دل کو سنبھالنا پڑا میزان کی طرح

    پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے کیوں میرا نام و نسب
    سوچ لیں پیغمبروں سے سلسلہ مل جائے گا

    تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر
    ترے بغیر بسر میں نے زندگی کرلی

    اپنے دروازے پہ خود ہی دستکیں دیتا ہے وہ
    اجنبی لہجے میں پھر وہ پوچھتا ہے کون ہے

    کوئی لشکر یہاں سے گزرا ہے
    اتنی اُجڑی یہ رہگزر کیوں ہے

    خوب ہے تیری عاجزی لیکن
    اونچا مسجد سے تیرا گھر کیوں ہے

    کیا کبھی تُو نے سچ نہیں بولا
    تیرے شانوں پر پھر یہ سر کیوں ہے

    نظمیں

    .. رابطہ..

    اپنی ذات
    اپنے گھر
    اپنے مذہب
    اپنی تہزیب
    اور اپنے قبیلے کی
    دیواریں اتنی بھی اونچی نہ کرو
    کہ ساری دنیا سے
    تمہارا رابطہ کٹ جائے

    .. زمینی کتاب..

    اب تک آسمانوں سے
    زمین پر کتابیں اتری ہیں
    میں اس زمین کا شاعر ہوں
    میری خواہش ہے کہ
    ایک کتاب زمین سے
    آسمانوں پر بھی اترے
    کیونکہ
    آسمان والے جان سکیں
    کہ
    قیامت سے پہلے
    زمین پر کتنی قیامتیں
    گزر چکی ہیں

    .. محرومی..

    میں ماں باپ کے ہوتے ہوئے
    یتیموں کی طرح
    زندگی گزار رہا ہوں
    تنہا کھڑا
    اس کتیا کو دیکھ رہا ہوں
    جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے
    پیار سے ان کو چاٹ رہی ہے
    اور
    میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
    کاش میں پلا ہی ہوتا

  • برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    برصغیر کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر۔ 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔

    شیلیندر صاحب کے نغمے اورر اشعار

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند……

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند……

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند…….

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

  • سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک میں سیاسی استحکام سیاستدانوں میں عدم خود اعتمادی اور سیاسی بلوغت کے فقدان کے سبب ہے۔ موروثی سیاست کی دوڑ اور مقتدر حلقوں کے مرہون منت شخصیات اور لینڈ مافیا کے جہازوں میں جھولے لینے والے سیاستدان کسی طرح بھی وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پنجاب میں بھرتیوں سے لیکر سیاسی امور حتیٰ کہ اسمبلیوں کی تحلیل پر پالیسی بیان ٹویٹ کرکے اپنے ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور حیف ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو طفل سیاست کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر قومی معاملات میں ان سے مشاورت کے لئے گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی وزیراعظم’ وزیراعلیٰ’ مشیر اعلیٰ کی اولادیں قومی اور سیاسی انتظامی اور پارلیمانی امور میں اپنے والدین کے عہدوں کے بل بوتے پر فیصلے صادر کررہے ہوں۔ ہرگز نہیں

    ہمارے ہاں سیاسی انحطاط کی اس سے بدتر مثال کہیں نہیں ملتی آج اس بدانتظامی کو مثال بنا کر کسی بھی اعلیٰ پولیس آفیسر یا بیوروکریٹ یا انتظامی افسران کا بیٹا بیٹی بھی انتظامی احکامات پر ٹویٹ در ٹویٹ کرنا شروع کردے تو کیا تعجب ہوگا؟ آج کے سیاستدانوں کو قائد اعظم’ خان لیاقت علی خان’ نواب زادہ نصراﷲ’ ایئرمارشل اصغر خان’ پروفیسر این ڈی خان’ معراج خالد’ معراج محمد خان’ ملک قاسم’ بے نظیر بھٹو’ ذوالفقار علی بھٹو’ رضا ربانی’ پرویز رشید’ مولانا عبدالستار خان نیازی’ مولانا مودودی’ مولانا مفتی محمود’ مولانا کوثر نیازی اور اسی طرح دیگر بہت سے نام ہیں جن کی سیاسی بصیرت اور ادراک کو مشعل راہ بنانا چاہئے اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے گیٹ نمبر4 اور پانچ کی طرف یا آبپارہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے فوج نے سیاسی کردار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہوں نے سیاسی دروازے بند کردیئے ہیں سیاستدانوں کو بیساکھیوں کو چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

  • میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔

    میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے

    تنویر سپرا

    13 دسمبر. 1993 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تنویر سپرا کا اصل نام محمد حیات تھا۔ وہ 1929ء میں جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھہ سکے اور لڑکپن ہی میں مزدوری کے لیے کراچی چلے گئے ۔۔ وہاں بحری جہازوں میں رنگ و روغن کا کام کیا ، کچھہ عرصہ درزیوں کا کام کرتے رہے ۔ جہلم واپس آ کر دکانداری کی ، لاہور میں کچھہ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے ۔۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے ۔ 1959 میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں کام کرتے رہے ۔۔ محنت مشقت کے ساتھہ غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ اور ذاتی مطالعے اور لگن کی بدولت ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے ۔
    شاعری کا آغاز 1963،64 میں کیا ۔ اور 1969 میں فنون میں چھپنے کے بعد ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے ۔ ان کا مجموعہ کلام ” لفظ کھردرے ” 1980 میں منظر عام پر آیا ۔ 1988 میں انھیں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام ملا ۔

    13دسمبر 1993ء کواسلام آباد میں وفات پائی اور جہلم میں مدفون ہیں۔

    تنویر سپرا کے کچھ شعر

    دیہات کے وجود کو قصبہ نکل گیا
    قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

    اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
    دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

    تنویرؔ پڑھو اسم کوئی رد بلا کا
    گھیرے میں لیے بیٹھے ہیں کچھہ سائے مرا جسم

    اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھہ چلتا ہے
    وہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے

    میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو
    انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

    دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں
    رات کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں

    آج بھی سپرا اسکی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
    میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

    شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
    روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

    اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
    الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جونہی مرا مکان گرا ، اَبر چَھٹ گئے

    دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
    جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے

    سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
    میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

  • یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔ میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 میں سر فہرست تین مسائل ہیں جس کا تعلق دنیا کی کل آبادی کے اندھا دھند پھیلاؤ سے ہے۔

    1- آبادی
    2-خوراک
    3-ماحولیات

    اب آبادی کے مزید پھیلاؤ کے لیے مختلف طریقے, نظام, تحاریک اور معاشرتی ڈھانچے تشکیل دیئے گئے, تشکسل دیئے جارہے ہیں اور مزید تشکیل دیئے جائیں گے جس سے بغیر کسی زیادہ خون خرابے کے قدرتی طور پر نسل انسانی کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔

    بحث اور تفصیل کافی طویل ہے, مختصراً یہ کہ LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے اور پہلے سے بڑھی ہوئی آبادی میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور جب آبادی کم ہوگی اور مزید نہیں پھیلے گی تو فی کس خوراک کا تخمینہ گھٹے گا اور ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوسکے گی کہ کم آبادی میں انڈسٹریل کمپلیکسز کی پروڈکشن کا پیک لیول کم ہوگا۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ اول غیر فطری جنسی رشتوں سے عمل تولید کا قدرتی سائیکل ٹوٹ جائے گا جس سے ایک تو نئی پیدائش رک جائے گی اور دوم غیر فطری جنسی رشتوں سے جان لیوا وائرسز اور بیکٹریا کی منتقلی کی بدولت لاعلاج بیماریاں عام ہوجائیں گی جس سے پہلے سے موجود آبادی کا خطیر حصہ قبروں کی جانب رواں دواں ہوگا۔

    جب ایسا ہوگا تو یقینا بڑھی ہوئی یا بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے جو خوراک اور ماحولیات متاثر تھے یا ہورہے تھے وہ مزید متاثر ہونے سے بچ جائیں گے۔

    مزید یہ کہ جن معاشروں میں خاندان نامی انسٹیٹیوٹ کا وجود عنقا ہورہا ہے یا ہوچکا ہے وہاں تو خاموش تباہی کی شروعات ہوچکی لیکن اب نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 کے کرتا دھرتاؤں کا بنیادی ہدف تیسری دنیا ہے جہاں پوری دنیا کی آبادی کا 60 سے 70 فیصد آباد ہے اور جو دنیا کی خوراک اور ماحول پر زیادہ اثر انداز ہورہے ہیں۔

    اور ہاں عورت کی آزادی بھی اس ایجنڈے کا ایک بنیادی جزو ہے کہ جب ” عورت میرا جسم میری مرضی ” کا نعرہ بلند کرکے مرد کو ٹھینگا دکھا کر راستہ ناپے گی تو پھر بھی بچی کچھی صورتحال جس میں پیدائش کا امکان رہتا ہے وہ بھی ختم یا کم ہوجائے گی۔

    لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین آپ کو یہ باتیں کرنے پر جہالت, قدامت پسند اور سازشی تھیوریز کے پروردہ کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یاد رکھنا ہم جوابدہ اللہ کو ہیں تھڑے باز تھرڈ کلاس لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین مخلوق کو نہیں اور یہ سب بتانا اور آگاہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں آتا ہے لہذا اس فتنہ عظیم سے بچیں۔

  • چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    چیمپئن سیلز — ضیغم قدیر

    وہ لمحہ جب سب سے چھوٹا خلیہ سب سے بڑے خلئے سے جا ملتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ ہوتا ہے. ان دو خلئیوں کا امتزاج اتنا حسین ہوتا ہے کہ وہ آپ جیسی ایک خوبرو شخصیت کو وجود دیتا ہے۔ (جی آپ خوبرو ہیں) اربوں سپرمز میں سے ایک ایسا چیمپئن سپرم ہوتا ہے جو اس دوڑ میں جیتنے کا چانس رکھتا ہے۔ اسی طرح ملینز آو پوٹینشل ایگ سیل میں سے صرف ایک ایگ سیل ہی آپ کو وجود دے پاتا ہے۔

    سپرم کا سائز اتنا کم کیوں ہوتا ہے؟

    چونکہ سپرم نے صرف جینیٹک میٹیرل ایگ سیل تک لیجانا ہوتا ہے اس لئے ایک سپرم سیل میں اتنی زیادہ ایڈاپٹیشن آ چکی ہیں کہ اس کا سائز کم سے کم ہو گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں جیسے ایک لمبے سفر کے لئے آپ صرف ضرورت کی اشیا ساتھ لیکر نکلتے ہیں بالکل ایسے ہی ایک سپرم بھی اپنے پاس سفر کا ضروری سامان رکھتا ہے ۔ یہ سامان درج ذیل ہے.

    ڈی این اے
    فیول
    70-100 مائٹوکانڈریا

    بس ان چند چیزوں کیساتھ یہ سب سے ننھا سیل سب سے بڑے سیل سے ملنے نکل جاتا ہے۔ اس دوران کامیاب مسافر سپرم وہی ہے جو سب سے زیادہ تیز اور انرجی رکھتا ہے۔ یہ انرجی انہیں تیرنے میں مدد دیتی ہے اور یوں یہ ایک ایگ سیل تک پہنچ جاتے ہیں۔

    یہاں اس کا سامنا خود اسے 174000 گنا وزنی سیل سے ہوتا ہے۔

    ایگ سیل اتنا بڑا کیوں ہوتا ہے؟

    ایک نارمل ایگ سیل کو ہم عام آنکھ سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایگ اپنے اندر خوراک کا بڑا ذخیرہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ تمام طرح کی تقسیم یہی ہونی ہے تو یہ سیل اپنے پاس خوراک کا ہر ممکن ذخیرہ رکھتا ہے۔ یہ تمام ذخیرہ سیل کی تقسیم کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اسی لئے اس کا سائز اتنا بڑا ہے۔

    وہ مسافر سپرم جو کہ سفر کا ضروری سامان لیکر نکلا تھا یہاں آکر خوب خاطر مدارت کرواتا ہے۔ یہاں یہ سپرم اپنی امانت (ڈی این اے) ایگ کو سونپتا ہے. یوں سیل کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

    سب سے پہلے یہ خلئیہ ایک سے دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ یہ دو پھر چار میں اور یونہی سلسلہ چلتے چلتے اربوں تک پہنچ جاتا ہے اور موت تک چلتا رہتا ہے۔

    ایک نارمل مرد اپنی صحتمند زندگی میں اربوں سپرم سیل پیدا کرتا ہے۔جبکہ اسی طرح ایک مادہ دس لاکھ تک potential ایگ سیل رکھتی ہے۔ بعد میں جوانی تک پہنچتے پہنچتے انکی تعداد دو سے تین لاکھ رہ جاتی ہے اور پھر ان سے محض 300 تک ایگ سیل اوویولیٹ ہو پاتے ہیں۔ یہ تعداد عمر کیساتھ ساتھ کم ہوتی ہے اور عموما چالیس سال بعد ان کا ریلیز ہونا ختم ہوجاتا ہے۔

    ان اربوں سپرم سیلز میں سے صرف ایک سیل ان ملینز میں سے ایک ایگ سیل سے جا ملتا ہے اور آپ کو وجود دیتا ہے۔ تو کیا آپ ان سیلز کو چیمپئن سیلز نہیں کہیں گے؟

    قدرت کا یہ نظام ایک حیرت کدے سے کم نہیں. سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے سیل کے حسین امتزاج کے نتیجے میں یہ سب وجود پاتا ہے اور فنا بھی ہوتا ہے اور یونہی حیات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ جو چیمپئن ہوتے ہیں وہ نیا وجود بنا لیتے ہیں باقی کے فنا ہوجاتے ہیں۔