Baaghi TV

Category: بلاگ

  • علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن  — اشرف حماد

    علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن — اشرف حماد

    علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبالؒ کے آبا و اجداد جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے سوپٹ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ان کے والد شیخ نور محمد کشمیری تھے۔ علامہ خود کہتے تھے کہ وہ کشمیری ہیں۔ وہ کشمیری زبان میں بات بھی کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ کے کشمیری خادم نے بھی ایک مقامی روز نامہ میں شائع انٹرویو میں کیا تھا۔ آغا اشرف علی اور محمد یوسف ٹینگ نے بھی ان خیالات کی تصدیق کی ہے۔

    علامہ اقبال کے استاد سید میر حسن کے متعلق بھی کہا جاتا ہے وہ کشمیری نژاد تھے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے پردادا شیخ جمال الدین کے چار صاحبزادے شیخ عبدالرحمان، شیخ محمد رمضان، شیخ محمد رفیق اور شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے ابتر معاشی صورتحال سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے اور سیالکوٹ، پنجاب میں آباد ہو گئے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ محمد رفیق کے بیٹے تھے۔

    ڈاکٹر شیخ محمد اقبال جب سیالکوٹ سے لاہور پہنچے تو یہاں پر اُنہوں نے کشمیریوں کی قائم کردہ تنظیم ’انجمن کشمیری مسلمانان‘ میں شمولیت اختیار کی اور اس نوعیت تک اس کے سرگرم ممبر بنے کہ اُنہیں تنظیم کے ذمہ داروں نے اس کشمیری انجمن کا سیکرٹری جنرل بنا دیا۔ محمد اقبال کشمیر، پنجاب اور ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالتِ زار پر رنجیدہ ہوتے اور اسے بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ جوانی ہی میں آپ کا یہ مطالبہ تھا کہ مہاجر کشمیریوں کو ریاست کے حکمران اپنے گھروں کو واپس آنے دیں۔ اُنہیں کشمیر میں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیاجائے۔ اُن کی کشمیر سے والہانہ محبت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایک موقع پر اُنہوں نے فرمایا:

    سامنے ایسے، گلستاں کے کبھی گھر نکلے
    حبیب خلوت سے ، سرِطور نہ باہر نکلے

    ہے جو ہر لحظہ تجلی گر مولائے خلیل
    عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

    اس بات میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حکیم الامت محمد اقبالؒ کو کشمیر سے روحانی، جذباتی اور بے پناہ قلبی محبت تھی جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے کلام، مضامین، خطوط اور عمل سے کئی موقعوں پر کیا ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کو اپنے بزرگوں کے کشمیر کنکشن پر بہت ناز تھا۔ اُن کی رگوں میں دوڑنے والا لہو کشمیر کے شفق فام چناروں کی طرح سرخ تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

    تنم گلے زِ خیابانِ جنت کشمیر
    دلم از حریم حجاز و نواز شیراز است
    (یعنی میرا جسم کشمیر کے چمن کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارضِ مکہ و مدینہ اور میری صدا شیراز سے ہے‘)۔

    کشمیر سے آبائی تعلق رکھنے کے باوجود اُنہیں اس امر کا بھی گہرا احساس تھا کہ وہ اِس وادیٔ جنت نظیر کا مشاہدہ بچشم خود نہیں کرسکے۔ اسی احساسِ نے انہیں یہ اشعار کہنے پر مجبور کیا:

    کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
    اِس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے

    ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
    جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے

    موتی عدن سے، لعل ہوا یمن سے دور
    یا نافہ غزال ہوا ختن سے دور

    ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
    بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دُور

    حضرت علامہؒ 1921ء میں کشمیر تشریف لائے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ ان کی میزبانی کے خواہش مند تھے لیکن اُنہوں نے مہاراجہ کی میزبانی سے معذرت ظاہر کی۔ انہوں نے وادی جنت نظیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی سیاحت کی۔ وہ وادئ کشمیر کے قدرتی حسن سے محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس دوران اپنی آنکھوں سے کشمیریوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا بھر پور جائزہ لیا۔

    یہاں پر یہ بات اہم ہے جموں و کشمیر میں سیاسی سعی وجہد کا آغاز 1931ء میں شروع ہو چکا تھی۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں کشمیریوں کی بے بسی دور کرنے کا پیغام دیا۔ اُن کے دل کے آتش دان میں استقلال کی چنگاریوں کو اپنے گرم جذبات سے مزید حرارت بخشی۔ علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام نصیحت نامہ کی صورت میں اپنی مشہور کتاب "جاوید نامہ” تصنیف کی ہے ۔ اصل میں یہ پوری کتاب کشمیریوں میں جاگرتی کا پیغام دیتی ہے۔ سر محمد اقبال نے اس طویل مثنوی میں کشمیر پر ایک پورا باب لکھا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں محمد اقبال عالمِ تخیلات میں کشمیر کے عظیم اولیاء، صوفیاء اور بزرگ شاعروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنی اس تخیلاتی ملاقات کے دوران محمد اقبال کشمیر میں بانیِ اسلام میر سید علی ہمدانیؒ سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ وہ اُن کے حضور اپنی یہ شکایت رکھتے ہیں: ’آپ کے ماننے والے آج سخت آزمائش میں مبتلا ہیں۔ آپ نظرِ کرم فرمائیں، ہماری شکایت پر توجہ دیں ، ہمیں فرمائے کہ آپ کی مدد کب پہنچے گی’۔

    جاوید نامہ میں وہ فارسی زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر غنیؒ کاشمیری سے بھی عالم تخیل میں باتیں کرتے ہیں۔ یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ محمد اقبال کے قلب و قلم میں کشمیر رچا بسا تھا۔ 1939ء میں علامہ اقبال سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اس عالمِ بقا کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بھی وہ کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخشتے رہے۔ انہوں نے انہی دنوں یہ دعا کی تھی:
    توڑ اس دست ز جفا کیش کو یارب جس نےروحِ آزادیِ کشمیرکو پامال کیا

    علامہ کو دُکھ تھا کہ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ سے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کا سودا کرکے پوری ریاست اس کے حوالے کی۔ علامہ اقبال نے1931ء میں کشمیریوں کی سیاسی مساعی کو منزل آشنا کرنے کے لئے ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ بھی بنائی۔ بعدازاں انہیں اس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ لیکن کئی مصروفیات کی وجہ سے وہ ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ کے منصب صدارت سے مستعفی ہو گئے۔ لیکن ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔

    غرض علامہ کا کشمیر کنکشن تاریخی، دینی، روحانی اور ثقافتی نوعیت کا تھا۔ یہ تعلق بہت مضبوط اور مستحکم تھا۔ دانائے راز عمر بھر اس کنکشن کی آبیاری اور حق ادائی کرتے رہے۔

  • یوم ولادت، علی سردار جعفری،معروف ترقی پسند شاعر

    یوم ولادت، علی سردار جعفری،معروف ترقی پسند شاعر

    یوم ولادت، علی سردار جعفری

    شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
    سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

    پیدائش: 29 نومبر 1913ء
    وفات:01 اگست2000ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علی سردار جعفری کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مختصر سفرنامہ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود ان کی زبانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علی سردار جعفری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر پر بہار کے ایک مولوی صاحب نے اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم دی۔ وہ رات کو قصص الانبیاء سناتے تھے۔ ایک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے مسلم یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا۔
    پیدائش:بلرام پور (ضلع گونڈہ، اودھ) 29نومبر 1913ء
    نام:
    ۔۔۔۔۔
    علی سردار، نام کا سجع والد کے ایک دوست نے کہا؛بجائے احمد مرسل ہوئے علی سردار
    میرا نام اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ آج تک اس نام کا دوسرا آدمی نہیں ملا۔ ہاں سردار علی نام کسی قدر عام ہے۔ حافظ شیرازی کے ایک قصیدے میں علی سردار اس طرح استعمال ہوا ہے کہ میرے نام کا سجع بن جاتا ہے۔ میرے والد کےکتب خانے میں جو نسخہ تھا اس میں یہ قصیدہ شامل تھا۔ اس زمانے میں مولانا قاضی سجادحسین صاحب نے نئی دہلی سے جو نسخہ ترجمہ کے ساتھ شائع کیا ہے اس میں یہ قصیدہ شامل ہے۔ میرے نام کا شعر یوں ہے
    علی امام و علی ایمن و علی ایمان
    علی امین و علی سرور و علی سردار
    معلوم نہیں یہ شعر میرے والد کی نظر میں تھا یا نہیں لیکن ہم قافیہ نام میرے ایک چچا زاد بھائی کا تھا جو عمر میں مجھ سے چند سال بڑے تھے، علی جرار، میرے والد اور چچا کے نام بھی اسی طرح غیر معمولی تھے۔ سید جعفر طیار جعفری، سید حیدرکرار جعفری، سید احمد مختار جعفری، معلوم نہیں میرے بڑے بھائی ظفر عباس کا نام ان قافیوں سے الگ کیوں تھا۔ میں نے اپنے بچپن کی ایک رباعی میں ان ناموں کو یکجا کر لیا ہے
    نور نظر احمد مختار ہوں میں
    لخت جگر حیدر کرار ہوں میں
    ہیں فتح و ظفر قوت بازو سردار
    یعنی میر جعفر طیار ہوں میں
    میرے والد اور چچا کے ناموں کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے۔ کسی نے میرے دادا سے پوچھا؛
    ’مہدی حسن!تم نے اپنے بیٹوں کے نام جعفر طیار، حیدر کرار اور احمد مختار رکھے ہیں۔ اب چوتھا بیٹا ہوگا تو کیا نام رکھو گے؟‘
    میرے دادا نے برجستہ کہا؛پاک پروردگار!‘
    والد کے ایک دوست فرخ بھیا نے میری پیدائش پر ایک شعر کہا تھا ؛
    دیا حق نے جعفر کو ثانی پسر
    مبارک، خوش اقبال، پیدا ہوا
    تعلیم:
    ۔۔۔۔۔
    سب سے پہلے گھر پر بہار کے ایک مولوی صاحب نے اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم دی۔ وہ رات کو قصص الانبیاء سناتے تھے۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے سلطان المدارس لکھنؤ بھیج دیا گیا، وہاں جی نہیں لگا۔ ایک مولوی صاحب کے گھر قیام تھا۔ وہاں بھی جی نہیں لگا اور میں فرار ہو کر بلرام پور واپس چلا گیا۔ بلرام پور کے انگریزی اسکول لائل کالجیٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ کھلی فضا تھی، اچھے استاد تھے، ہم عمر لڑکوں سے دوستیاں تھیں۔ صبح ناشتہ کر کے گھر سے اسکول جانا اور شام کو چار بجے پھر واپس آکر ناشتہ کرنا، اور میل ڈیڑھ میل دور ایک پریڈ گراؤنڈ میں پیدل جا کر دو گھنٹے کرکٹ، ہاکی کھیلنا روز کا معمول تھا۔
    اسی زمانے میں انیسؔ کے زیر اثر شاعر شروع کی۔ 1933ء میں بیس سال کی عمر میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کر کے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ (ابتدائی تعلیم کے چند سال ضائع ہوگئے تھے)
    یہ ایک طوفانی زمانہ تھا جب تحریک آزادی اپنے شباپ پر تھی۔ اس عہد کے علی گڑھ نے اردو زبان کو اختر حسین رائے پوری، سبط حسن، منٹو، مجاز، جاں نثار اختر، جذبی، خواجہ احمد عباس، جلیل قدوائی، اختر انصاری، شکیل بدایونی، عصمت چغتائی اور 1940ء کے آس پاس اخترالایمان کا تحفہ دیا۔ وہاں خواجہ منظور حسین، ڈاکٹر عبدالعلیم، ڈاکٹر رشید جہاں، ڈاکٹر محمد اشرف وغیرہ سے تعارف ہوا اور جن کی صحبت اور فیض نے ذوق ادب اور آزادی کے جذبے کو جلا عطا کی۔ جدیدعہد کے اردو ادب میں تقریباً 75 فیصد علی گڑھ اور ترقی پسند تحریک کی عطا ہے۔
    دوستی کا ہاتھ
    ۔۔۔۔۔
    ایک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے مسلم یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا اور دہلی جا کر اینگلو عربک کالج میں داخلہ لیا۔ یہ وہ تاریخی کالج تھا جو دہلی کالج کے نام سے ایک بڑا تعلیمی کردار ادا کرچکا تھا۔و ہاں داخلہ دلوانے میں جلیل قدوائی اور اختر انصاری نے مدد کی۔ اس واقعہ کے پچاس سال بعد 1986ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈی لٹ (D.Litt.) کی اعزازی ڈگری سے عزت افزائی کی۔ یہ میرے لیے اس اعتبار سے بہت بڑا اعزاز تھا کہ مجھ سے پہلے اعزازی ڈگری شعراء کی فہرست میں علامہ اقبال، مسز سروجنی نائیڈو اور حضرت جگر مرادآبادی کو عطا کی گئی تھی۔
    جواہر لال نہرو سے اسی زمانے میں ملاقات ہوئی اور ملاقات کا یہ شرف آخر دن تک قائم رہا۔ ان کے انتقال سے دو ماہ قبل تین مورتی ہاؤس میں اندرا گاندھی نے ایک چھوٹا سا مشاعرہ پنڈت جی کی تفریح طبع کے لیے کیا تھا، جس میں فراقؔ، سکندر علی وجدؔ اور مخدوم محی الدین بھی شامل تھے۔ میں نے اپنی نظم “میرا سفر” فرمائش پر سنائی تھی۔
    دہلی سے بی۔ اے کرنے کے بعد میں لکھنؤ آ گیا۔ پہلے مجازؔ کے ساتھ قانون کی تعلیم کے لیے ایل۔ ایل۔ بی میں داخلہ لیا۔ ایک سال بعد اس کو چھوڑ کر انگریزی ادب کی تعلیم کے لیے ایم۔ اے میں داخلہ لیا۔ لیکن آخری سال کے امتحان سے پہلے جنگ کی مخالفت اور انقلابی شاعری کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل اور بنارس سنٹرل جیل میں تقریباً آٹھ ماہ قید رہا اور پھر بلرام پور اپنے وطن میں نظر بند کر دیا گیا۔ یہ نظر بندی دسمبر 1941ء میں ختم ہوئی۔
    لکھنؤ میں سجاد ظہیر، ڈاکٹر احمد وغیرہ کی صحبت رہی۔ وہیں پہلی بار ڈاکٹر ملک راج آنند سے ملاقات ہوئی۔ 1938ء میں کلکتہ میں ترقی پسند مصنفین کی دوسری کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شانتی نکیتن جا کر ٹیگور سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہیں بلراج ساہنی سے ملاقات ہوئی جو ہندی پڑھاتے تھے۔
    1941ء میں لکھنؤ ریڈیو نے ایک مشاعرہ منعقد کیا جو سارے ہندوستان میں بڑے ذوق و شوق سے سنا گیا۔ اس کا نام تھا “نووارد شعراء کا مشاعرہ”جوشؔ نے صدارت کی لیکن کلام نہیں سنایا۔ فیضؔ، مجازؔ، جذبیؔ اور جاں نثار اختر نے میرے ساتھ اس مشاعرے میں شرکت کی۔ ن۔ م۔ راشد کسی وجہ سے نہیں آ سکے۔ یہ نئی ترقی پسند اردو شاعری کے سات سیارے تھے جن کی تاب ناک گردش کا نغمہ آج بھی گونج رہا ہے۔ اخترالایمان نے اس کے بعد شاعری شروع کی۔ لیکن ساحرؔ اور مجروحؔ بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ سکندر علی وجدؔ ہمارے احباب میں تھے لیکن حیدرآباد کی سول سروس کی وجہ سے اس طرح کے مشاعروں میں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ان کی دو نظمیں اجنتا اور ایلورا اردو شاعری کے شاہ کاروں میں شمار کی جاتی ہیں۔ جوشؔ، جگرؔ، فانیؔ، اصغرؔ، یگانہؔ، حسرتؔ موہانی کی شاعری کے ڈنکے بج رہے تھے۔فراقؔ کا شمار ابھی بڑے شاعروں میں نہیں ہوا تھا۔ وہ عمر میں جوشؔ اور جگرؔ کے ہم عصر تھے لیکن شاعری میں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر عروج حاصل کیا۔ ان کی زیادہ شہرت 1947ء کے بعد ہوئی۔ ویسے ان کا شمار بہت اچھے شعراء میں پہلے سے تھا۔
    1943ء میں بمبئی آنا ہوا۔ سجاد ظہیر کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے ہفتہ وار اخبار’قومی جنگ‘میں صحافتی فرائض انجام دیتا رہا۔ اس محفل میں بعد کو سبط حسن، مجازؔ، کیفیؔ، محمد مہدیؔ وغیرہ شامل ہوئے۔ آہستہ آہستہ بمبئی اردو ادب کا مرکز بن گیا۔ 1949ء کے بعد بمبئی میں جوشؔ، ساغر نظامی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، میراجی، اخترالایمان، سجاد ظہیر، ساحرؔ، کیفیؔ، مجروحؔ، حمید اختر اور بہت سارے سربرآوردہ ادیب جمع ہوگئے۔ اس زمانے کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے ادبی اجلاس نے پوری اردو دنیا میں ایک دھوم مچا رکھی تھی۔ باہر سے آنے والے ادیب ان اجلاسوں میں بڑی مسرت سے شریک ہوتے تھے۔ پطرس بخاری سے میری ملاقات پہلی بار بمبئی میں ہوئی۔ ان کے بھائی ذوالفقار بخاری ریڈیو کے ڈائریکٹر تھے اور ان سے بہت اچھے مراسم تھے۔ میری طویل تمثیلی نظم ’نئی دنیا کو سلام‘ اسی دور کی تخلیق ہے۔ ذوالفقار بخاری اس نظم کو ریڈیو پر ڈرامے کے انداز سے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن ملک کی تقسیم کے ساتھ وہ یہاں سے چلے گئے۔
    اس عہد کی عظیم فلمی شخصیتیں ہمارے حلقۂ احباب میں شامل تھیں مثلاً کے ایل سہگل، پرتھوی راج کپور، کے این سگھ وغیرہ۔ بعد کو راج کپور، نرگس اور دوسرے فلمی ستارے اس دائرے میں آ گئے۔ کیا ان کی خوبصورت داستانیں لکھنے کا موقع آئے گا۔ یہ سب کے سب ترقی پسند ادب کے دلدادہ تھے۔
    اودے شنکر کا گروپ جب الموڑہ میں ختم ہو گیا تو اس کے فنکار بمبئی آ گئے اور انڈین پیوپلس تھیٹر میں شریک ہوگئے۔ اودے شنکر نے بمبئی آ کر رقص کے ذریعے سے رامائن کا ایک پروگرام مزدوروں کے لیے پردے پر پرچھائیاں کی شکل میں پیش کیا۔ ان کے بھائی روی شنکر نے ’سارے جہاں سے اچھا‘کی دھن بنائی، جو اب اس ترانے کی دھن ہے۔
    اس خوبصورت دور پر پھر کبھی تفصیل سے لکھا جائے گا۔
    1949ء میں جو ہندوستانی سیاست کا ہیجانی دور تھا اور کمیونسٹ پارٹی کی انتہا پسندی اپنے شباب پر تھی، حکومت ہند کی طرف سے پارٹی پر پابندی عاید کر دی گئی۔ پورے ملک میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ میں بمبئی میں دوبار گرفتار کیا گیا۔ پہلی بار پندرہ دن کے لیے۔ دوسری بار ڈیڑھ سال کے لیے۔ یہ زمانہ بمبئی کے آرتھر روڈ جیل اور ناسک کی سنٹرل جیل میں گزرا۔ 1950ء میں یکایک رہا کر دیا گیا۔ وہ عید کی شام تھی۔ دوسرے دن صبح ہی صبح بمبئی آ کر گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ عیدکا دن تھا۔
    ادبی تخلیقات:
    ۔۔۔۔۔
    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)پرواز (مجموعہ)
    ۔ ـ1943ء
    ۔ ـ(2)نئی دنیا کو سلام
    ۔ ـ(طویل تمثیلی نظم) 1948ء
    ۔ ـ(3)خون کی لکیر
    ۔ ـ(مجموعہ “پرواز” کے انتخاب کے ساتھ)
    ۔ ـ1949ء
    ۔ ـ(4)امن کا ستارہ
    ۔ ـ(دو طویل نظمیں)
    ۔ ـ1950ء
    ۔ ـ(5)ایشیاء جاگ اٹھا
    ۔ ـ(طویل نظم)
    ۔ ـ1951ء
    ۔ ـ(6)پتھر کی دیوار (مجموعہ)
    ۔ ـ1953ء
    ۔ ـ(7)ایک خواب اور (مجموعہ)
    ۔ ـ1964ء
    ۔ ـ(8)پیراہن شرر (مجموعہ)
    ۔ ـ1965ء
    ۔ ـ(9)لہو پکارتا ہے-(مجموعہ)
    ۔ ـ1968ء
    نثر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)منزل (افسانے)
    ۔ ـ1938ء
    ۔ ـ(2)یہ خون کس کا ہے
    ۔ ـ(ڈرامہ) 1943ء
    ۔ ـ(3)پیکار (ڈرامہ)
    ۔ ـ1944ء
    ۔ ـ(4)ترقی پسند ادب
    ۔ ـ1953ء
    ۔ ـ(5)لکھنؤ کی پانچ راتیں
    ۔ ـ1965ء
    ۔ ـ(6)اقبال شناسی
    ۔ ـ1969ء
    ۔ ـ(7)پیغمبران سخن
    ۔ ـ(کبیرؔ، میرؔ، غالبؔ)
    ۔ ـ(8)ترقی پسند ادب کی نصف صدی
    ۔ ـ(نظام اردو خطبات
    ۔ ـدہلی یونی ورسٹی 1984ء)
    فنی تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)بولو اے سنت کبیر
    ۔ ـڈاکومنٹری فلم کا مسودہ)
    ۔ ـڈائریکٹر خواجہ احمد عباس
    ۔ ـ(2)ہندوستان ہمارا
    ۔ ـ(ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ
    ۔ ـتہذیب پر ڈاکومنٹری فلم کا مسودہ)
    ۔ ـڈائریکٹر خواجہ احمد عباس
    ۔ ـ(3)لٹریری اسٹارم
    ۔ ـ(The Literary Storm)
    ۔ ـانگریزی میں ڈاکومنٹر ی فلم
    ۔ ـموضوع تحریک آزادی میں
    ۔ ـادب کا حصہ مسودہ اور ڈائریکشن
    ۔ ـ1857ء سے 1947ء
    ۔ ـآسامی۔ بنگالی، اڑیہ، ہندی، اردو
    ۔ ـاور انگریزی ادب کا کارنامہ
    ۔ ـ(تین حصوں میں:
    ۔ ـ1857ء سے 1905ء تک
    ۔ ـ1905ء سے 1920ء تک
    ۔ ـ1920ء سے 1947ء تک)
    ۔ ـ(4)ٹیلی ویژن سیریل کہکشاں:
    ۔ ـجدید اردو شعراء کی زندگی اور شاعری:
    ۔ ـحسرتؔ، موہانیؔ، جگرؔ مرادآبادی
    ۔ ـجوشؔ ملیح آبادی، فراقؔ گورکھپوری
    ۔ ـاسرارالحق مجازؔ اور مخدوم محی الدین
    ۔ ـ(ڈائریکٹر جلال آغا)
    ۔ ـتحریر و تہذیب سردار جعفری)
    ۔ ـ(5)روشنی اور آواز:
    ۔ ـلال قلعہ، شاہجہاں سے
    ۔ ـہندوستان کی آزادی تک۔
    ۔ ـ(6)روشنی اور آواز:
    ۔ ـشالیمار باغ سری نگر، جہانگیر
    ۔ ـاور نورجہاں سے آج کے عہد تک
    ۔ ـاس باغ میں لیلیٰ مجنوں کی
    ۔ ـکہانی پھولوں اور پودوں کی
    ۔ ـزبانی کہی گئی ہے۔
    ۔ ـباغ میں بہتی ہوئی نہر
    ۔ ـوقت کا استعارہ ہے۔
    ۔ ـپانی پر تیرتے ہوئے پھول
    ۔ ـلیلیٰ کا استعارہ ہیں
    ۔ ـاور نہر پر دونوں طرف سے
    ۔ ـجھکی ہوئی بید مجنوں
    ۔ ـکی شاخیں پھولوں کو
    ۔ ـچھو نہیں سکتیں
    ۔ ـمجنوں کا استعارہ ہیں۔
    ۔ ـنہر کے دونوں طرف
    ۔ ـکیاریوں میں لیموں اور
    ۔ ـسنترے کے دودو پودے
    ۔ ـجنت میں لیلیٰ مجنوں کی
    ۔ ـیکجائی کی علامت ہیں۔
    ۔ ـناقہ لیلیٰ کی علامت اب
    ۔ ـباقی نہیں رہ گئی ہے۔
    ۔ ـیہ علامت سبز گھاس کے
    ۔ ـقطعات پر ٹیبلوں کی شکل
    ۔ ـمیں تھی جن پر
    ۔ ـگلاب کی بیلیں
    ۔ ـچڑھی ہوئی تھیں۔
    ۔ ـکشمیری کہانی بھونرا
    ۔ ـاور نرگس تحریک آزادی کی
    ۔ ـکہانی سناتی ہے جس میں
    ۔ ـبھونرا مجاہد کی علامت ہے
    ۔ ـاور نرگس (محبوبہ)
    ۔ ـآزادی کی علامت۔
    ۔ ـجاڑوں کی برف پگھل
    ۔ ـجانے کے بعد جب زنبور
    ۔ ـبہار گنگناتا ہوا
    ۔ ـنرگس سے ہم آغوش
    ۔ ـہوجاتا ہے تو آزادی
    ۔ ـکی بہار آجاتی ہے۔
    ۔ ـتین رنگ کے کشمیری
    ۔ ـکنول کے پھول برہما
    ۔ ـوشنو اور شیو کی علامت
    ۔ ـکے طور پر استعمال کیے گئے ہیں
    ۔ ـسرخ کنول صبح ازل کا طلوع
    ۔ ـآفتاب ہے۔
    ۔ ـنیلا کنول کائنات کی
    ۔ ـدوپہر ہے اور سفید کنول
    ۔ ـموت کی علامت ہے
    ۔ ـجو تجدید حیات کی
    ۔ ـآئینہ دار ہے۔
    روشنی اور آواز:
    ۔ ـتین مورتی نواس
    ۔ ـجواہر لال نہرو کی
    ۔ ـآزادی کے بعد کی کہانی ہے۔
    سابرمتی آشرم:مہاتما گاندھی کی کہانی ہے جو ڈانڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے کیوں کہ اس کے بعد گاندھی جی احمد آباد سے منتقل ہوگئے۔
    اکابرین عالم جن سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملاقات کا شرف حاصل ہوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1-ٹیگور، 2- مہاتما گاندھی، 3- جواہر لال نہرو، 4- مولانا ابوالکلام آزاد، 5- ستیہ جیت رے، 6- پابلو نرودا، 7- ناظم حکمت، 8- اہالیہ اہرن،؟؟ 9- شالوخوف، 10- پاستر ناک، 11- فرانسیسی شاعر لوئی آراگون، 12- جیولیوکیوری (سائنس)، 13- خروشچیوف، 14- پال روبسن۔
    میرا سفر
    ۔۔۔۔۔۔
    سیروسیاحت
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان، تاجسکتان، ازبکستان، آذربائجان، روس، سائی بیریا، عراق، یمن، مصر، یونان، بلغاریہ، برلن، (مشرقی)برلن (مغربی) فرانس، چیکوسلواکیہ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، انگلستان، امریکہ اور کنیڈا۔
    اعزاز و اکرام
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ
    ۔ ـ (شعری مجموعہ ایک خواب اور)
    ۔ ـ(2)پدم شری
    ۔ ـ (صدر مملکت، ڈاکٹر رادھا کرشنن)
    ۔ ـ شاعری کے لیے 1967ء
    ۔ ـ(3)جواہر لال نہرو فیلوشپ
    ۔ ـ 1968-1969ء
    ۔ ـ(4)سجاد ظہیر ایوارڈ
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ نہرو کلچرل ایسوسی ایشن
    ۔ ـ لکھنؤ 1974ء
    ۔ ـ(5)اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ ـ (اقبال شناسی کے لیے)
    ۔ ـ 1977ء
    ۔ ـ(6)اقبال امیڈل
    ۔ ـ (تمغہ امتیاز)حکومت پاکستان
    ۔ ـ 1978ء
    ۔ ـ(7)اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ ـ (شعری مجموعہ لہو پکارتا ہے)
    ۔ ـ 1979ء
    ۔ ـ(8)مخدوم ایوارڈ
    ۔ ـ آندھرا پردیش اردو اکیڈمی
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1980ء
    ۔ ـ(9)میر تقی میرؔ ایوارڈ
    ۔ ـ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1982ء
    ۔ ـ(10)کمارن آشن ایوارڈ
    ۔ ـ (ملیائی زبان کی طرف سے)
    ۔ ـ تریونڈرم (طویل نغمہ
    ۔ ـ ایشیا جاگ اٹھا کے لیے)
    ۔ ـ 1982ء
    ۔ ـ(11)خصوصی تمغہ ماسکو
    ۔ ـ (ستر سالہ جشن پیدائش پر)
    ۔ ـ 1984ء
    ۔ ـ(12)اقبال سمان
    ۔ ـ مدھیہ پردیش حکومت
    ۔ ـ بھوپال کی طرف سے
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1986ء
    ۔ ـ(13)ڈی لٹ
    ۔ ـ (اعزازی دکتور ادب)
    ۔ ـ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
    ۔ ـ 1986ء
    ۔ ـ(14)بین الاقوامی اردو انعام
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ اکیڈمی آف اردو لٹریچر
    ۔ ـ ٹورنٹو، کنیڈا 1988ء
    ۔ ـ(15)گنگا دھر مہر ایوارڈ
    ۔ ـ سمبل پور یونی ورسٹی
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1992ء
    ۔ ـ(16)میر ایوارڈ
    ۔ ـ میرؔ اکیڈمی لکھنؤ
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1993ء
    ۔ ـ(17)مولانا آزاد ایوارڈ
    ۔ ـ اترپردیش اردو اکیڈمی
    ۔ ـ لکھنؤ 1994ء
    ۔ ـ(18)خصوصی Emiritus
    ۔ ـ فیلوشپ ڈپارٹمنٹ آف کلچر
    ۔ ـ حکومت ہند، نئی دہلی
    ۔ ـ(19)ظ۔ انصاری ایوارڈ
    ۔ ـ مہاراشٹر ریاست اردو اکیڈمی
    ۔ ـ 1995ء
    ۔ ـ(20)گیان پیٹھ ایوارڈ
    ۔ ـ 1997ء
    اعزاز و اکرام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)ممبر سینیٹ
    ۔ ـ ( Member of
    ۔ ـ the Senate)
    ۔ ـ بمبئی یونی ورسٹی ( 2 بار)
    ۔ ـ(2)پروڈیوسر ایمرٹیس
    ۔ ـ ریڈیو اور ٹیلی ویژن
    ۔ ـ 1980ء سے 1985ء تک
    ۔ ـ(3)صدر کل ہند انجمن ترقی پسند
    ۔ ـ مصنفین (اردو)
    ۔ ـ 1977ء سے
    ۔ ـ ستمبر 1990ء تک
    ۔ ـ(4)جنرل سکریٹری
    ۔ ـ کل ہند صد سالہ
    ۔ ـ جشن اقبال کمیٹی 1970ء
    ۔ ـ(5)وزیٹنگ پروفیسر
    ۔ ـ جموں یونی ورسٹی
    ۔ ـ اکتوبر سے
    ۔ ـ دسمبر 1983ء تک
    ۔ ـ(6)صدر کمیٹی
    ۔ ـ برائے جائزہ سفارشات
    ۔ ـ گجرال کمیشن (اردو)
    ۔ ـ مارچ سے
    ۔ ـ ستمبر 1990ء تک
    ۔ ـ(7)نائب صدر
    ۔ ـ مہاراشٹر اردو اکیڈمی،بمبئی
    ۔ ـ جنوری 1994ء تک
    ۔ ـ(8)صدر،فلم رائٹرس
    ۔ ـ ایسوسی ایشن، بمبئی
    ۔ ـ 1992ء سے 1993ء
    ۔ ـ(9)کورٹ ممبر
    ۔ ـ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
    ۔ ـ(10)ٹرسٹی، نیشنل بک ٹرسٹ
    ۔ ـ (ہند)، نئی دہلی
    سجع
    ۔۔۔۔۔
    (تضمین بر شعر حافظ شیرازی)
    مجھے ہے بلبل شیراز سے جو نسبت خاص
    عطا ہوا ہے نہ ہوگا کسی کو بھی یہ وقار
    ہر ایک لفظ ہے پروردگار موسم گل
    ہر ایک حرف ہے گہوارہ نسیم بہار
    صریر خانہ معجز رقم نوائے سروش
    سرود خامشی گلبانگ گلشن اسرار
    ہے شعر حافظؔ شیریں بھی سخن ترانہ جاں
    ہے جس میں اسم علی مثل گوہر شہوار
    “علی امام و علی ایمن و علی ایماں
    علی امین و علی سرور و علی سردار”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (بہ شکریہ ؛سردار کی نادر تحریریں،مرتبہ ،ڈاکٹر محمد فیروز،ساقی بک ڈپو ،دہلی،2008)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے
    اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے
    مقتولوں کا قحط پڑ نہ جائے
    قاتل کی کہیں کمی نہیں ہے
    ویرانوں سے آ رہی ہے آواز
    تخلیق جنوں رکی نہیں ہے
    ہے اور ہی کاروبار مستی
    جی لینا تو زندگی نہیں ہے
    ساقی سے جو جام لے نہ بڑھ کر
    وہ تشنگی تشنگی نہیں ہے
    عاشق کشی و فریب کاری
    یہ شیوۂ دلبری نہیں ہے
    بھوکوں کی نگاہ میں ہے بجلی
    یہ برق ابھی گری نہیں ہے
    دل میں جو جلائی تھی کسی نے
    وہ شمع طرب بجھی نہیں ہے
    اک دھوپ سی ہے جو زیر مژگاں
    وہ آنکھ ابھی اٹھی نہیں ہے
    ہیں کام بہت ابھی کہ دنیا
    شائستۂ آدمی نہیں ہے
    ہر رنگ کے آ چکے ہیں فرعون
    لیکن یہ جبیں جھکی نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
    راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا
    باعث رشک ہے تنہا رویٔ رہ رو شوق
    ہم سفر کوئی نہیں دورئ منزل کے سوا
    ہم نے دنیا کی ہر اک شے سے اٹھایا دل کو
    لیکن ایک شوخ کے ہنگامۂ محفل کے سوا
    تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد
    بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا
    جانے کس رنگ سے آئی ہے گلستاں میں بہار
    کوئی نغمہ ہی نہیں شور سلاسل کے سوا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔
    کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
    راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

    انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو
    بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں

    سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
    ہم کو آوارگی ہی راس آئی

    دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیا
    اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے

    پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
    نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

    یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو
    تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے

    شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت
    مزا تو جب ہے کہ یاروں کے رو بہ رو کہیے

    اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میری
    کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نے

    بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے
    وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا

    مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
    دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے

    یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدست
    وہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثواب

    تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہ
    میں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہے

    اسی دنیا میں دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
    شیخ جی تم بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

    پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن
    سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں

    شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
    سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

    کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میں
    لب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہو

    پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہے
    پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھا

    یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہے
    نغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہے

    دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریب
    تصورات کہن کے قدیم بت خانے

    پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہے
    وہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہے

  • یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    پیدائش:14 نومبر 1942ء
    گوہاٹی، آسام
    برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:29 نومبر 2011ء
    گوہاٹی، آسام، بھارت
    قلمی نام:مامونی رائسم گوسوامی
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ، ادیبہ، شاعرہ
    قومیت:بھارتی
    دور:1956ء-2011ء
    اصناف:آسامی ادب
    موضوع:Plight of the
    ۔ dispossessed in
    ۔ بھارت
    ۔ and abroad
    نمایاں کام:The Moth Eaten
    ۔ Howdah of a Tusker
    ۔ The Man from Chinnamasta
    ۔ Pages Stained With Blood
    شریک حیات:مادھون رائسم ائینگار (متوفی)

    مامونی رایسم گوسوامی ایک آسامی مصنفہ، شاعرہ، پروفیسر اور لکھاری تھیں۔ انھیں 1983ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز، 2001ء میں گیان پیٹھ انعام اور پرنسپل پرنس کلاوس لاوریٹ انعام، 2008ء سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ عصر حاضر کی مشہور ادیبہ ہیں جن کی کئی کتابیں آسامی سے انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
    اپنی ادبی دنیا کے علاوہ وہ سماجی تبدیلی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں سماجی آزادی اور سماجی تبدیلی کی بات کی ہے اور آزاد آسام اور حکومت ہند کے مابین ثالثی بن کر صلح و امن کی خوب کوششیں کیں۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے ایک گروپ بنام پپلز کنسلٹیٹو گروپ بنا۔ وہ خود کو امن کی متلاشی مانتی تھیں۔ ان کی تحریروں کو کئی اسٹیج اور ناٹک میں دکھایا گیا ہے۔ ایک فلم اداجیہ ان کی ناول پر بنی ہے۔ اور اسے بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بنی جس کا نام ورڈس فروم دی مسٹ ہے اور جسے جہنو بروا کے ڈیریکٹ کیا ہے۔
    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اندرا گوسوامی کی ولادت گوہاٹی میں ہوئی۔ ان کے والد اومرکنٹ گوسوامی اور والدہ امبیکا دیوی ہیں۔ انتدائی تعلیم گوہاٹی میں حاصل کرنے کے بعد کوٹن کالج کوہاٹی سے آسامی ادب میں گریجویشن کیا اور وہیں سے اسی موضوع میں ماسٹر بھی کیا۔
    کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔
    1962ء میں ان کی پہلی کتاب ”چناکی موروم“ منظر عام پر آئی جو کہانیوں کا مجموعہ تھی اور اس وقت وہ طالبہ ہی تھی۔ آسام میں انہیں مامونی بائدیو کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب کے ناشر کیرتی ناتھ نے انہیں اپنے رسالہ میں لکھنے کے لیے دعوت دی اور اس وقت وہ محض 8 برس کی تھیں۔
    ذہنی دباؤ
    ۔۔۔۔۔۔
    بچپن ہی سے انہیں ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری، دی ان فنشڈ آٹوبایوگرافی، میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے شیلونگ میں کئی بار اپنے گھر سے کودنے کی کوشش کی۔ متعدد خود کشی کے اقدام نے ان کی جوانی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ شادی کے محض 18 ماہ بعد ان کے کرناٹک نزاد شوہر کا کشمیر میں ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہو گیا جس کے بعد انھوں نے نیند کی گولیاں لینی شروع کر دیں۔ اس کے بعد انہیں آسام لایا گیا اور انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور سینک اسکول، گوالپارا میں معلمہ ہو گئیں۔ یہاں نے انہوں پھر لکھنا شروع کیا لیکن اس بار ان کی تحریروں میں زندگی کے حادثات کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی بالخصوص شوہر کی وفات اور مدھیہ پردیش اور کشمیر میں زندگی گزارنے کا تجربہ ان پر کافی اثر کر چکا تھا۔
    ورانداون کی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوالپارا میں تدریس کے بعد ان کے استاد نے انہیں ورنداون جانے کا مشورہ دیا تاکہ کچھ ذہنی سکون مل سکے۔ انہوں نے اپنی بیوگی کا تذکرہ اپنی ناول دی بلیو نیکیڈ بارجا، 1976ء میں کیا اور ورنداون کی دکھ بھری زندگی کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔ ایک درندناک پہلو ورنداون کا یہ بھی ہے کہ جوان بیوہ عورتوں کو آشرم والے خوب ترجیح دیتے ہیں جبکہ بوڑھی عورتیں محروم رہ جاتی ہیں۔ ورانداون میں انہوں نے راماین کا مطالعہ شروع کیا تلسی داس کے راماین کا کثیر حصہ پڑھ ڈالا۔ تلسی داس کی راماین انہوں نے محض 11 روپیہ میں خریدی تھی۔
    دہلی یونیورسٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قدہلی یونیورسٹی کے شعبہ بھارتی زبان وادب میں آسامی زبان کی پروفیسر ہو گئیں اور اس طرح اب ان کا مسکن دہلی ہو گیا۔ یہیں رہ کر اہوں نے اپنی شاہکار کتابیں لکھیں جن میں کئی افسانے جیسے ہری دوئے، ننگوتھ شوہور، بوروفور رانی شامل ہیں۔
    انہوں نے اپنی کتاب پیجیز سٹینڈ وتھ بلڈ میں سکھوں پر ہونے مظالم کو موضوع بنایا جب سابق وزیر اعظم بھارت اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ گوسوامی اس وقت دہلی شکتی نگر، اترپردیش علاقہ میں قیام پزیر تھیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے فسادات کا مشاہدہ کیا تھا۔
    کامیابی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1982ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی اعزاز کے نوازا گیا۔ 2000ء میں گیان پیٹھ انعام سے سرفراز ہوئیں۔ گوسوامی کے ناول کے دو خاص موضوعات عورت اور آسامی سماج ہے مگر انہوں آسامی سماج میں ایک مرد کردار اختراع کیا جو اندرناتھ کا ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب دتال ہنتیر اونی ہودہ میں لکھا ہے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1972ء ۔ چیناور سروت
    ۔ (2)1976ء نیل کنٹھی براہ
    ۔ (3)1980ء اہیرون
    ۔ (4)1980ء میمور دھورا
    ۔ (5)1980ء بدھو ساگور دھوکھور گیشا
    ۔ (6)1988ء دتال ہتیر اونی کھوا ہودا
    ۔ (7)1989ء اودے بھانور چرترو
    ۔ (8)ننگوتھ سوہور
    خود نوشت سوانح
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)این ان فنشڈ آٹوبایوگرافی
    ۔ (آسامی زبان:আধা লেখা দস্তাবেজ)
    ۔ (2)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:দস্তাবেজ নতুন পৃষ্ঠা)
    ۔ (3)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:অপ্সৰা গৃহ)
    افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بیسٹ
    ۔ (2)دوارکا اینڈ ہز سن
    ۔ (3)دی جرنی
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پین اینڈ فلیش
    ۔ (2)پاکستان
    ۔ (3)اوڈے تو ا ہور
    غیر افسانوی ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راماین فروم گنگا ٹو برہم پتر، دہلی 1996ء
    ۔ (2)آن لائن
    ۔ (3)دی جنرل
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1982ء- ساہتیہ اکیڈمی
    ۔ (2)1989ء- بھارت نرمان اعزاز
    ۔ (3)2000ء- گیان پیٹھ انعام
    ۔ (4)2002ء- پدم شری اعزاز
    ۔ (انہوں نے قبول کرنے سے منع کر دیا)
    ۔ (5)2007ء- اروناچل پردیش کی
    ۔ راجیو گاندھی یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (6)2008ء- اندرا گاندھی
    ۔ نیشنل اوپن یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (7)2008ء- ایشور چندر ودیاساگر
    ۔ گولڈ پلیٹ من جانب ایشیاٹک سوسائٹی
    ۔ (8)2009ء- آسام رتن
    ۔ ریاست آسام کا اعلیٰ ترین اعزاز۔

  • یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

    پیدائش:18 اگست 1920ء
    کولکاتا،برطانوی ہند
    وفات:29 نومبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    شہریت: پاکستان
    پیشہ:غنائی شاعر،نغمہ نگار

    فیاض ہاشمی ہند و پاک کے معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار اور مقالمہ نویس تھے۔
    حالات زندگی و فن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 18 اگست 1920ء کو کلکتہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کلکتہ گرامر اسکول سے حاصل کی اور باقاعدہ ہومیو پیتھ ڈاکٹر بنے لیکن پریکٹس نہیں کی کیونکہ رجحان شاعری کی طرف تھا۔ وہ آٹھ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ 1935ء میں فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے تھے۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی بہت شعر کہنے شروع کردیے تھے جس کی بنیاد پر کلکتہ میں ہونے والے مشاعروں میں انھیں کمسن شاعر کی حیثیت سے بطورِ خاص بلوایا جاتا تھا۔ انھوں نے فلمی گیتوں میں اُردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا انداز اپنایا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو لازوال شہرت عطا ہوئی۔ فیاض ہاشمی کی شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی شُد بُد رکھتے تھے۔ ان کی اس منفرد اور قابلِ قدر خصوصیت کی بنا پر H.M.V نامی گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ اس کمپنی میں فیاض ہاشمی کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار کمل داس گپتا سے ہوئی۔ ان دونوں کی جوڑی خوب نبھی اور بڑے لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ فیاض ہاشمی کا نام ہندستان بھر میں ایک کم عمر گیت نگار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ کمل داس گپتا اور فیاض ہاشمی کی جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جونتھیکا رائے، پنکج ملک اور ہیمنت کمار جیسے بڑے گلوکاروں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا اور بے پناہ شہرت کا حامل بنایا۔ ان گلوکاروں کے مشہورگیتوں میں تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، چودہویں منزل پہ ظالم آ گیا، اِک نیا انمول جیون مل گیا، یاد دلواتے ہیں وہ یوں میرا افسانہ مجھے، ہونٹوں سے گل فشاں ہیں وہ کے علاوہ طلعت محمود کی آواز میں بے شمار گیت اور غزلیں ہیں۔

    اسی طرح پنکج ملک یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، ہیمنت کمار کا بھلا تھا کتنا اپنا بچپن، جگ موہن کا یہ چاند نہیں تیری آرتی ہے، جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے بھجن کی شہزادی قرار پائیں۔ جوتھیکا رائے کا چپکے چپکے یوں ہنسنا کافی مشہور ہوا۔ 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ ان کی مطالبے پر گراموفون کمپنی نے ان کا ٹرانسفر لاہور کر دیا اور انہیں H.M.V لاہور کا ڈائریکٹر بنادیا۔ یہاں انہوں بے شمار فنکاروں کو اکٹھا کیا جن میں منور سلطانہ، فریدہ خانم، زینت بیگم، سائیں اختر حسین اور سائیں مرنا کے علاوہ اور بھی بہت سے فنکار تھے۔ 1956ء میں رائلٹی کی ادائیگی پر اختلاف کی بنا پر وہ کمپنی سے علاحدہ ہو گئے اور کراچی آ گئے لیکن 1960ء میں ایس ایم یوسف انہیں دوبارہ لاہور لے آئے اور وہ ان کے ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ پاکستان آئے تو انھوں نے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ استاد حسیب خاں ببن کار، استاد فتح علی خان، استاد بڑے غلام علی خان، استاد مبارک علی خان، ماسٹر غیاث حسین اور استاد محمد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں قادری اور مشیر کاظمی بھی انہی کے توسط سے کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد کو بڑا مکالمہ نگار بنانے میں فیاض ہاشمی کی معاونت شامل ہے۔
    ازدواجی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی نے تین شادیاں کیں، پہلی بیگم سے سات بچے ہیں، دوسری شادی اداکارہ کلاوتی سے کی جو مسلمان تھیں، ان سے ایک بیٹا تھا، تیسری بیگم سے چار بچے ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    1944ء – راگ رنگ (شاعری)
    بطور نغمہ نگار مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سہیلی
    آشیانہ
    اولاد
    دل کے ٹکڑے
    سہاگن
    لاکھوں میں ایک
    زمانہ کیا کہے گا
    عید مبارک
    سویرا
    ہزار داستان
    ایسا بھی ہوتا ہے
    مشہور فلمی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو نہیں ہے توکچھ بھی نہیں ہے (گلوکار: ایس بی جون، فلم: سویرا)
    آج جانے کی ضد نہ کرو (گلوکار: حبیب ولی محمد، فلم: بادل اور بجلی)
    تصویر تیری دل مِرا بہلا نہ سکے گی (گلوکار: طلعت محمود)
    چلو اچھا ہوا تم بھول گئے (گلوکار: نورجہاں، فلم: لاکھوں میں ایک)
    گاڑی کو چلانا بابو (گلوکار: زبیدہ خانم، فلم: انوکھی)
    قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: داستان)
    یہ کاغذی پھول جیسے چہرے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: دیور بھابی)
    نشان کوئی بھی نہ چھوڑا (گلوکار: مہدی حسن، فلم: نائلہ)
    لٹ الجھی سلجھا رے بالم (گلوکار: نورجہاں، فلم: سوال)
    ساتھی مجھے مل گیا (گلوکار: ناہید اختر، فلم: جاسوس)
    ہمیں کوئی غم نہیں تھا غمِ عاشقی سے پہلے (گلوکار: مہدی حسن / مالا، فلم: شب بخیر)
    رات سلونی آئی (گلوکار: ناہید نیازی، فلم: زمانہ کیا کہے گا)
    مشہور ملی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران، اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
    سورج کرے سلام، چندا کرے سلام
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 29 نومبر، 2011ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔

    غزلیں
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)
    مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی
    اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی
    کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار
    ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی
    چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
    چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
    فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے
    کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا کے پی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری
    تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری
    نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ
    دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
    عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
    ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
    یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس کا
    یہاں سے اور آگے بڑھنا یہ عمر رواں میری

  • ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    نیازمگسی:
    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    پیدائش:28 نومبر 1757ء
    لندن
    وفات:12 اگست 1827ء
    چیرنگ کراس، لندن
    رہائش:فیلپہام (ستمبر 1800 – ستمبر 1803)
    بیٹرسی (جولا‎ئی 1782 – اگست 1782)
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت برطانیہ عظمی (01 جنوری 1801)
    نسل:انگریز
    تلمیذ خاص:ڈبلیو بی یٹس
    جبران خلیل جبران
    آلین جنسبرگ
    پیشہ:مصور، شاعر، الٰہیات داں
    جمع کار، الیس ٹریٹر، فلسفی، طابع
    زبان:انگریزی
    شعبۂ عمل:شاعری
    مؤثر:میری وولسٹن کرافٹ
    دانتے، بین جونسن
    بہمن، جان ملٹن
    تحریک:رومانیت

    ولیم بلیک (28 نومبر 1857 – 12 اگست 1827) ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر تھے۔

  • فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    پیدائش:28 نومبر 1820ء وفات:05 اگست 1895ء
    لندن
    وجۂ وفات:سرطان
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:جرمنی
    مادر علمی:جامعہ ہومبولت
    پیشہ:ماہر معاشیات، فلسفی، مصنف
    انقلابی، ماہرِ عمرانیات
    حامیِ حقوق نسواں، صحافی
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:فلسفہ
    مؤثر:ہیراکلیطس، کارل مارکس

    جرمنی کا انقلابی مفکر جس نے کارل مارکس کے ساتھ مل کر سائنسی سوشلزم کی بنیاد رکھی۔ دولت مند کارخانہ دار کا بیٹا تھا۔ 1842ء میں مانچسٹر میں باپ کے کارخانے میں کام سیکھنے گیا اور مزدوروں کی تحریک سے روشناس ہوا۔ 1844ء میں پیرس کے عارضی قیام کے دوران میں کارل مارکس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ 1845ء میں 1850ء تک جرمنی، فرانس اور بیلجیم میں انقلابی تحریکیں چلائیں اور مارکس کے ساتھ مل کر کئی کتابیں لکھیں جن میں کمیونسٹ مینی فسٹو (1848ء) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ 1848ء میں واپس انگلستان چلا گیا اور ساری عمر وہیں رہا۔ اینگلس نے مارکس کی وفات کے بعد اس کی مشہور تصنیف (سرمایہ) کی دوسری اور تیسری جلدیں اس کی یاداشتوں کی مدد سے مرتب کیں۔ متعدد تاریخی اور فلسفیانہ کتابوں کا مصنف ہے۔

  • سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ بات ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف ہمارا معاشرہ بلکہ پوری دنیا میں خواتین سائنس کے شعبے میں کم نظر آتی ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ خواتین کو سائنس میں دلچسپی نہیں ، وجہ یہ ہے کہ اُن کو کئی مسائل کا سامنا ہے جو مردوں کو نہیں کرنا پڑتا جن میں کام پر خود کو محفوظ تصور کرنا، ازدواجی ذمہ داریوں کی مصروفیات، بہتر تعلیم کا فقدان اور کئی ایسے دیگر معاشرتی مسائل جو انہیں سائنس میں اپنا کیریئر بنانے میں رکاوٹ بنتے ہے۔ اس حوالے سے مغربی ممالک میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اُنکو سائنس کے بنیادی شعبہ جات میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں مگر درحقیقت یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کاوش ابھی بھی بے حد کم ہے۔

    اسکے مقابلے میں پاکستان میں خواتین کا سائنس کے شعبوں میں کردار بھی کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں تو خواتین کی بنیادی تعلیم پر ہی توجہ نہیں دی جاتی، سائنس کے حوالے سے خواتین کو ان شعبوں میں لانا دور کی بات ہے۔ جن سائنس کے شعبوں میں خواتین باقی شعبوں سے زیادہ نظر آتی ہیں وہ حیاتیات، میڈیسن اور فزیالوجی ہیں۔

    اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک سائنس کے شعبے میں ملنے والے نوبل انعاموں میں محض 24 خواتین کو سائنس کے شعبے میں ایوارڈ ملا جن میں سے صرف 11 خواتین کو ملا کر فزکس اور کیمسٹری میں یہ انعام ملا جبکہ باقی 12 خواتین کو میڈیسن کے شعبے میں (میری کیوری وہ واحد خاتون ہیں جنہیں دو نوبل انعام ملے ہیں)۔

    یہ بات میں برملا کہتا ہوں کہ خواتین کا دماغ کسی طور مردوں سے کم نہیں ۔ اور اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ خواتین کی صلاحیتیں مردوں سے کم ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے جسکا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں۔

    اس طرح کی سوچ رکھنے والے معاشروں میں اس طرح کی باتیں بچپن سے ہی خواتین کے دماغ میں ڈال کر اُن میں موجود اعتماد اور اُنکی شخصیت کے اہم پہلوؤں کو مار دیا جاتا ہے۔

    ہم جس زمانے میں رہتے ہیں ہمیں سوچ بھی اسی زمانے کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ اکیسویں صدی میں خواتین کا سائنس میں کردار بڑھا کر ہم نہ صرف سائنس کے شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں بلکہ خواتین سائنس کے وہ مثبت استعمال بھی سامنے لا سکتی ہیں جو ایک پدر شاہی معاشرے میں طاقت یا پیسے کے حصول سے ہٹ کر فلاحی کاموں میں مدد دے۔

    اپنی بچیوں اور بہنوں کو نہ صرف تعلیم دیجیے بلکہ اُن میں اعتماد بھی پیدا کیجیے تاکہ وہ سائنس سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں اگے بڑھ سکیں۔

    ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔

  • لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    محسنین یوتھ سکواڈ کے پہلے یومِ تاسیس پر سالانہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔۔۔ مورخہ ستائیس نومبر 2022 بمقام ایوانِ قائد محسنین کنونشن میں مختلف سماجی، مذہبی، صحافتی اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل مشہور و معروف شخصیات اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔

    محسنین کنونشن میں معروف صحافی و اینکر پرسن عمران ریاض خان اور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مقررین و مہمانِ خصوصی میں عبد الوارث گِل، قیصر احمد راجہ، سیف اللہ ثناء اللہ، سلیم ابنِ فاضل، فاران صدیقی، ڈاکٹر زبیر تیمی، عبید الرحمن شفیق، مدثر یوسف حجازی، حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام، قاری اسامہ شوکت اور میزبانوں میں قاری سیف اللہ کیلانی اور عبدالرب ساجد شامل تھے۔

    کنونشن کا باقاعدہ آغاز گیارہ بجے دن ، قاری سیف اللہ نے تلاوت قرآنِ پاک سےکیا اور بعد ازاں سٹیج سیکریٹری کے فرائض ادا کیے۔ سب سے پہلے گفتگو کے لیے جناب سیف اللہ ثناء اللہ کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے تقریب کے شرکاء نوجوانوں کو وقت کی قدر پر نصیحت کرتے ہوے کہا کہ "نوجوان اس وقت کی قدر نہیں کرتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی تو ہم جوان ہیں، ابھی کافی وقت پڑا ہے، وقت سے سیکھ لیجیے، اس سے پہلے کہ وقت آپکو سکھادے۔”

    پھر جناب فاران صدیقی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے نوجوانوں کو اللہ کے پیغام بابت کہا کہ "اللہ تعالی نے ہمارے لیے قرآن مجید کی صورت میں محبت کا پیغام بھیجا ہے، لیکن ہم اسے پڑھتے ہی نہیں، وہ محبوب ہی کیا جسے محبت بھرا پیغام ملے اور وہ اسے پڑھے ہی نا”

    جناب قیصر احمد راجہ صاحب کا نوجوانوں سے کہنا تھا کہ "اگر ہم اپنی سوسائٹی میں بیلنس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں دینِ فطرت کی طرف آنا ہوگا۔”

    جناب عبید الرحمن شفیق کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد نوجوان ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لہو کو گرمایا جاتا ہے لیکن حقائق سے نظریں چرائی جاتی ہیں ۔”

    جناب عمران ریاض خان کا نوجوانوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ "جیتنا چاہتے ہو تو مل کر چلنا پڑے گا وگرنہ کچل دیے جاؤگے۔”

    جناب قاسم علی شاہ صاحب نے کہا کہ "نوجوان یاد رکھیں کہ کرپشن کا تعلق غربت سے نہیں، بلکہ بےیقینی اور خوف سے ہے۔”

    جناب مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ "ایک بات یاد رکھیے گا کہ اگر آپ کو اپنے حق کے لیے اور آزادی کے لیے قلم کی طاقت کو چھوڑ کر گن کی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تو آپ تب بھی معتدل ہیں۔”

    اور جناب عبد الوارث گِل کا کہنا تھا کہ "اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، تو ہم آج یہاں نہ ہوتے بلکہ اس سے دو، تین قدم آگے ہوتے۔”

    اسکے علاوہ دیگر سپیکرز سلیم ابنِ فاضل ، ڈاکٹر زبیر تیمی اور مدثر یوسف حجازی نے بھی محسنین کنونشن کے شرکاء نوجوانوں سے خطاب کیا اور انہیں معاشرے میں معتدل اور موثر رہنے کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی خطاب کیا۔۔۔

    تقریب میں مختلف مواقعوں پر حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام اور قاری اسامہ شوکت نے تلاوت، نعت، اسماء الحسنی اور ترانے بھی پیش کئے۔۔۔

    جبکہ محسنین یوتھ سکواڈ کے تعارف اور سیلاب کے دوران محسنین رضاکاروں کی خدمات کے بارے میں ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔

    تقریب کے دوران مختلف مواقع پر محسنین یوتھ سکواڈ کے رہنما محسنین جناب عبدالرب ساجد صاحب نے شرکاء کنونشن سے کنونشن کے انعقاد کے مقاصد اور محسنین کے وژن اور نطرئیے کے بارے میں گفتگو کے دوران کہا کہ "محسنین کنونشن کسی سیاسی اور مذہبی جماعت کا پروگرام نہیں، بلکہ نوجوانوں کو روشن مستقبل دینے اوران کو عملی میدان میں راہنمائی فراہم کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے، ہمارے نوجوان کا شعور اتنا بیدار ہوچکا ہے کہ اب وہ کسی مذہبی اور سیاسی انتہا پسندانہ بیانیے کو قبول نہیں کریں گے، ہم نوجوانوں کے شعور کو اس مقام پر لانا چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے جو بھی گفتگو ہو یہ متاثر ہونے کے بجائے اس کو شعور کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کے صحیح یا غلط کا فیصلہ خودکریں، نظریات کے اختلاف کو قبول کرنا معاشرے کا حسن ہے، کسی کےنظریے کا احترام اور چیز ہے اور حمایت کرنا اور چیز ہے۔”

    محسنین کنونشن شام 3 بجے تک چلا جس میں لاہور و گر د ونواح سے مختلف شعبہ زندگی سے نوجوانوں اور بزرگوں نے شرکت کی ، شرکاء محفل نے محسنین یوتھ سکواڈ کے ویژن اور مشن کو سراہا اور محسنین کنونشن کے کامیاب انعقاد پر پوری محسنین یوتھ سکواڈ ٹیم کو مبارکباد دی۔

  • مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    آپ کی عمر 2 سال سے 60 سال تک ہے۔ آپ بڑی پرفیکٹ زندگی جی رہے ہیں۔ یہ قاتل آپ کے اور میرے جسم میں بھی چھپا یا سویا ہو سکتا ہے۔ جو کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی جسے عام زبان میں پٹھوں کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اسے ہمارے جینز میں چھپا ہوا قاتل سمجھا جاتا ہے۔ جو عمر کے کسی بھی حصے میں جاگ کر جسم کے چند حصوں یا پورے جسم میں تہس نہس مچا دیتا ہے۔ اور یہ قاتل ہستے کھیلتے زندگی کی بہاریں دیکھتے اپنے شکار کو موت کے منہ کے قریب لے جاتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی پر آج میں انشاء اللہ تفصیل سے بات کروں گا۔ اور اس قاتل کی چالوں و حملوں سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوگی۔ تحریر پڑھنے کے لیے جو کر رہے ہیں پلیز اسے ابھی چھوڑ دیجیے۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے جسے آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

    اس بیماری کی یوں تو 8 اقسام ہیں مگر تصویری پریزنٹیشن میں 6 اقسام ہیں۔ جو کہ عام ہیں۔ آپ نے تحریر پڑھتے ہوئے تصویر کو a سے شروع کرکے نیچے f کی طرف دیکھتے جانا ہے۔

    آئیے اس خاموش قاتل کے تمام طریقہ واردات پر باری باری بات کرتے ہیں۔

    اے۔ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی
    Duchene Muscular Dystrophy

    مسکولر ڈسٹرافی کے مریضوں میں یہ سب سے کامن قسم ہے۔ یہ ایک جنیٹک یا موروثی بیماری ہے۔ اور جو سب سے چھوٹی عمر میں ہوتی ہے وہ یہی ہے ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی۔ یہ ہمیشہ لڑکوں کو ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر ماں اسکی کیرئیر ہوتی ہے۔ اور بیماری جب ظاہر ہوتی ہے تو پیدا ہونے والے لڑکوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

    اب اس میں ہوتا کیا ہے؟ بچہ بلکل ٹھیک پیدا ہوتا ہے۔ تمام مائل سٹون اپنی عمر کے باقی بچوں کی طرح پورے کرتا ہے۔ چلنا باتیں کرنا سب کچھ پرفیکٹ ہوتا ہے۔ جیسے ہی عمر 5 سال ہوتی تو قاتل اندر سے جاگ کر بچے کے پاؤں کی ایڑھی زمین سے اٹھا دیتا ہے۔ اور اپنے شکار پر ہلا بولنے کی پہلی نشانی اسے پنجوں پر چلانا شروع کرتا ہے۔ چند ہی ماہ بعد بچہ اپنا چھاتی یعنی سینہ باہر نکال کر چلنا شروع ہوتا ہے۔ جیسے پہلوان سینہ تان کر چلتے ہیں۔ اندر چھپا ہوا قاتل ہی سینہ تان کر ایڑھیاں اٹھا کر للکار رہا ہوتا ہے میں آگیا ہوں آؤ اب میرے مقابلے میں۔

    والدین بچے کو ڈانٹ رہے ہوتے کہ یہ تم کیسے چل رہے ہو؟ ایڑھی نیچے لگاؤ سینہ پیچھے کرو۔ مگر بچہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اور والدین اسے بچے کی کوئی عادت سمجھ کر اگنور کر رہے ہوتے۔ اور بزدل قاتل اپنا وار بچے کے پٹھوں پر تیز سے تیز کرتا جا رہا ہوتا۔

    پھر چند ماہ بعد کیا ہوتا ہے کہ بچہ پیراں بھار بیٹھا ہوا جب اٹھنے لگتا تو اس سے اٹھا ہی نہیں جاتا۔ پیچھے گر جاتا۔ یا اٹھے بھی تو گھنٹوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھتا ہے۔ اور دن بدن ٹانگیں کمزور ہوتی جاتیں۔ بظاہر تو ٹانگیں ٹھیک ہونگی مگر اندر موجود مسلز کمزور ہو کر بڑی تیزی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔ کیونکہ والدین کو تو پتا ہی نہیں بچے کے اندر کونسی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اور دشمن اپنے وار معصوم پر دن رات کیے جا رہا۔

    اس گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے سے بیماری کی شناخت شروع ہوتی ہے۔ اسے گاور سائن کہتے ہیں۔ والدین اب جا کے بچے کو سیریس لیتے ہیں۔ بچے کی عمر 7 سے 8 سال ہو چکی ہوتی۔ یعنی 2 سے 3 سال مسلسل قاتل اپنا کام کرتا رہا اور والدین کو خبر ہی نہ ہوئی۔ اب کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ پہچان لیتا کہ یہ تو مسکولر ڈسٹرافی ہے۔ اکثریت آبادی کی رسائی ماہر ڈاکٹروں تک نہیں ہو پاتی وہ کسی عطائی، مالشیے ہڈی جوڑ والے جراح کے پاس جاتے جو اپنے ٹوٹکے لگا کر قاتل کو اپنا شکار نگلنے میں اور وقت فراہم کر دیتے۔ جب تک بیماری کی مکمل تشخیص ہوتی بچہ موت کے منہ میں پہنچ چکا ہوتا۔

    بیٹھ کر اٹھنا مشکل ہوا۔ پھر سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہوا۔ اب کندھوں کے جوڑ کمزور ہونا شروع ہوئے۔ اور بازوؤں کے اوپری حصے کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ 10 سال کی عمر تک بازو کو کندھے سے حرکت دینا بہت مشکل اور کئی کیسز میں بلکل ناممکن ہوجاتا ہے۔ ٹانگیں اور بازو مکمل یا 90 فیصد مفلوج ہو چکے ہوتے۔

    بچہ اب پانی نہیں پی سکتا۔ روٹی کا نوالہ نہیں توڑ سکتا۔ کنگھی نہیں کر سکتا۔ قمیض پہنتے ہوئے ہاتھ اوپر نہیں اٹھتا۔ یہ کمزوری دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ اور کچھ بچوں میں دل کے پٹھے بھی کمزور ہونا شروع ہوتے ہیں۔ قاتل اب خون پمپ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی طرف اپنا وار کرتا ہے۔ اسے ہم کارڈیو مایو پیتھی کہتے ہیں۔ یہ اگر ہو جائے تو بچے کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    یہ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار بچے 10 سال تک کسی طرح چل لیتے ہیں۔ پھر وہیل چیئر یا چار پائی پر آجاتے ہیں۔ اور دوبارہ کبھی بھی کھڑے نہیں ہو سکتے یا چل نہیں سکتے۔ یا کسی سہارے سے چلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    خطرناک صورت حال کب بنتی ہے؟ بیماری نے حملہ کر دیا ہوا۔ اور بچے کو بخار ہوگیا۔ ابھی بیماری کا آغاز ہے اور بچے کو والدین لٹائے رکھتے ہیں۔ ساکت پڑے ہوئے بچے پر قاتل اپنا حملہ بہت تیز کر دیتا ہے اور مسلز بڑی تیزی سے ضائع ہونے لگتے۔ ان بچوں کو بخار میں ہر وقت کبھی بھی لیٹنے نہ دیں۔ پیراسیٹامول دے کر بچوں کو تھوڑا تھوڑا چلائیں۔ ایک دفعہ مسلز ضائع ہونے ٹوٹنے شروع ہوگئے آپ ان کو پھر روک نہیں سکتے۔ کمان سے تیر نکل جائے گا۔

    نیم حکیم یا عطائی یا ہمارے گھر کے ہی بڑھے بوڑھے سیانے کہتے ہیں کہ بچے کو ورزش کروائیں۔ اس سے پٹھوں میں جان آئے گی۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے جو والدین کرتے اور پٹھے جو پہلے ہی کمزور ہورہے ہوتے وہ تباہ ہوجاتے۔ اتنی ورزش کریں کہ جوڑ جڑ نہ جائیں۔ ان میں تھوڑی حرکت رہے اور کوئی بھی چیز اٹھائے بغیر باڈی ویٹ پر ہی معمولی ورزش کریں۔ بچے کو تھکنا نہیں چاہیے۔ ان بیماری میں بچوں کے پٹھے کاغذ کی طرح ہو چکے ہوتے وہ بڑی جلدی ٹوٹ جاتے ہیں۔

    ایک اور بلنڈر والدین یا ماجھے و نورے قسم پریکٹشنر ان بچوں کے ساتھ کیا مارتے ہیں۔ وہ یہ کہ بچہ جب ایڑھی اٹھاتا ہے تو وہ کسی عطائی، ہڈی جوڑ یا نئے نئے بنے آرتھوپیڈک یا جنرل سرجن کے پاس چلے جاتے۔ وہ اس کی وجہ سے بے خبر ایڑھی کو زمین پر لگانے کی کوشش کرتا۔ نہیں لگتی تو کئی ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی بچوں کے پاؤں کے آپریشن ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ اب اس بچے کا آپریشن کرنے والے عطائی یا سرٹیفائیڈ ڈاکٹر کا میرا بس چلے تو مرڈر کر دوں۔ والدین کو تو پتا ہی نہیں آپ لوگ ہی عقل کر لیا کریں۔ نہیں پتا کسی سے پوچھ ہی لو۔

    ایڑھی اٹھتی پتا کیوں ہے؟

    ٹانگوں، کولہوں اور کمر کے پٹھے سکڑ رہے ہوتے۔ اب جسم اپنے خود کار دفاعی نظام کے تحت ان پٹھوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے خود بخود پاؤں کی ایڑھی اٹھا کر ان پٹھوں کو Compensate کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ کہ والدین اس بچے کو بچا لیں۔ اس کی ٹانگوں کے پٹھوں کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔ جب کسی بھی طرح ایڑھی زمین پر لگا دی جاتی تو پٹھے ٹوٹ کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہوجاتے۔

    پیٹ باہر نکل رہا ہوتا تو بیلٹ کبھی نہ لگائیں۔ اس سے پیرا سپائنل مسلز کمزور ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    ہم قاتل کے وار سے بچ کیسے سکتے ہیں؟

    اسکا پوری دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ جو اسے بلکل ختم کر سکے۔ ہاں سٹیم سیل تھراپی شاید چند سالوں بعد اسکے علاج میں مددگار ہو مگر ابھی آج کے دن تک کوئی علاج نہیں ہے۔

    پاکستان میں ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار اکثریت بچے دیر سے تشخیص ہونے کے باعث ٹین ایج (13 سے 19) میں ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ اگر شروع سے پتا چل جائے اور کوالٹی آف لائف بہتر کر دی جائے۔تو بچوں کی زندگی 30 سے 40 اور بہت کم کیسز میں 50 تک بھی جا سکتی ہے۔ ہمیں ان بچوں کے لیے ان کے لائف سٹائل اور اوور آل ماحول و سپورٹ سسٹم کو بدلنا ہوتا ہے۔ ان کو اٹھا کر چلانا نہیں ہوتا بلکہ وہیل چیئر پر ہی ان کو زندگی کا کوئی مقصد دینا ہوتا ہے۔ جو مقصد انکی عمر بڑھا دیتا ہے۔

    ایک بات میری یاد رکھیں کہ ہم اپنی بھی اور ان مسکولر ڈسٹرافی والے بچوں کی کوالٹی آف لائف تو بہتر کر سکتے ہیں مگر کوانٹٹی آف لائف نہیں بڑھا سکتے۔ یہ ایک موٹا پرنسپل یاد رکھیں۔

    مالش بلکل نہیں کرنی۔

    کوئی بریس کوئی سپیشل جوتا نہ پہنائیں۔

    کوئی سرجری نہیں کروانی۔

    بچوں کو بیکری کی تمام اشیاء، چاول، کولڈ ڈرنکس، مصنوعی جوسز، بلکل نہیں دینے۔

    بچوں کو بلکل بھی موٹا نہیں ہونے دینا۔

    جیسا ہی بچہ موٹا ہوا سمجھیں وہ زندگی سے گیا۔

    ان کو سکول بھیجنا ہے مگر جب تک آسانی سے جا سکیں۔

    پڑھائی اور امتحانوں کا سٹریس نہیں دینا۔

    خوش رکھنا ہے۔ ڈپریشن میں نہیں جانے دینا۔

    بہت زیادہ ڈاکٹر نہیں بدلنے۔ اس کی کوئی دوا نہیں ہے بس لائف سٹائل بدلنا ہوتا۔

    جتنی بار نئے نئے ڈاکٹروں کے پاس جائیں گے بچے میں سٹریس بڑھے گی کہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

    اس معذوری کو ڈے ون سے قبول کریں۔ اور بچے کو بھی اچھی طرح سمجھائیں کہ آپکی زندگی اب وہیل چیئر کے ساتھ گزرنی ہے۔

    چلنے کا خواب معصوم آنکھوں کو نہ دیں جو پورا ہی نہیں ہونا۔ ادھورے یا پورے نہ ہو سکنے والے جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے خواب اکثر ہمیں بڑوں کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔یہ تو پھر معصوم بچے ہوتے۔

    خود نہیں افورڈ کر سکتے کسی سے درخواست کرکے زیور مال مویشی بیچ کر ان بچوں کو بجلی سے چلنے والی جاپانی پاور وہیل چیئر لے کر دیں۔ جو پانچ دس سال نکال بھی جائے۔

    بچوں کو وہ وہیل چیئر آپریٹ کرنا سکھائیں۔ اپنے گھر کا لیول باہر گلی یا سڑک کے لیول سے بس 6 انچ یا 1 فٹ اونچا رکھیں۔ اور ریمپ بنائیں۔ جب جی چاہے بچہ باہر جائے گھر آئے۔ اسے ایک کمرے گھر یا چارپائی پر محدود نہ کریں۔

    کوشش کریں مسجد، مندر، چرچ، امام بارگاہ، گر دوارہ میں ریمپ بنوائیں۔ بچے کی وہیل چیئر کو مسجد میں بغیر کسی کے دھکا لگائے رسائی دیں۔ وضو کی جگہ سپیشل بنائیں کہ یہ بچہ مسجد میں وہیل چیئر پر بیٹھا ہی وضو کر سکے۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا ہی مسجد کے اندر چلا جائے۔ عبادت کرے اور کوئی اسے روکنے والا نہ ہو۔

    خدا سے تعلق جتنا مضبوط ہوگا۔ زندگی میں کچھ کر گزرنے کی لگن اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور روحانی طاقتیں بھی کوالٹی آف لائف کو بہتر کر دیں گی۔

    ان بچوں کو بولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یوٹیوب چینل بنا سکتے ہیں۔

    وائس اوور آرٹسٹ بن سکتے ہیں۔

    نیوز کاسٹر بن سکتے ہیں۔

    وی لاگنگ کر سکتے ہیں۔

    ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی عام روٹین سے کافی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    ہر بار جب یہ ران کے پٹھوں پر زور دے کر اٹھتے ہیں۔۔تو وہ پٹھے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور اٹھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کے بیٹھنے کی جگہ ہی اونچی کر دیں۔ اٹھتے وقت بلکل زور نہ لگے۔

    شادی کی طرف نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بیماری کی شدت دیکھ کر شادی کا فیصلہ کیا بھی جا سکتا ہے۔

    ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کی میڈیکل تشخیص کے لیے سب سے کامن و عام ٹیسٹ ہے۔ cpk ۔ یہ ایک بلڈ ٹیسٹ ہے۔ جو کی مقدار ایورج سے ہزاروں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ نارمل سی پی کے 150 کی رینج میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ EMG ہو سکتا ہے۔ مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔

    بی۔ بیکر مسکولر ڈسٹرافی

    Becker’s Muscular Dystrophy

    ڈوشین 4 سے 5 سال میں ظاہر ہوتی۔ جبکہ بیکر 15 سے 19 سال تک ظاہر ہوتی ہے۔ ابتدائی علامتیں ڈوشین جیسی ہی ہونگی۔ اکثر بچوں میں ڈوشین کی طرح ایڑھی نہیں بھی اٹھتی۔ مگر پیٹ اور سینہ باہر کو نکلنے لگتا ہے۔ بیٹھ کر اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ چلتے چلتے گر سکتا ہے۔ یا سٹیبل نہیں رہتا لڑ کھڑانے لگتا ہے۔ ٹانگوں میں جان نہیں رہتی۔

    بی والی تصویر زرا دیکھیں۔ کندھے اور ہاتھ کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ بازو اوپر نہیں اٹھتے۔ علامتیں ڈوشین والی ہی ہیں مگر عمر کا فرق ہے۔ اس میں قاتل 4 سال میں جاگا اور یہاں 15 سے 19 سال تک چھپا رہا۔

    بیماری کے آغاز میں تشخیص ہو جائے تو یہ بچہ اگلے دس سال تک چل سکتا ہے۔ کہ اسے سپورٹ دی جائے۔ یہ چیز بھی ختم نہیں ہونی۔ بس ہم نے مریض کی کوالٹی آف لائف ہو بہتر کرنا اور لائف سٹائل کو مکمل بدلنا ہے۔ 30 سے 32 سال کی عمر تک ہر قسم کی سپورٹ کے باوجود یہ بچے بھی بلا آخر وہیل چیئر پر آجاتے ہیں۔

    ان بچوں کے لیے بھی وہ سب احتیاطی تدابیر اور لائف سٹائل میں تبدیلیاں ہیں جو اوپر ڈوشین میں لکھی ہیں۔ موٹے نہ ہوں۔ بہت ورزش نہ کریں۔ خود کو تکلیف دے کر چلیں نہیں۔ علاج کے پیچھے شہر شہر بستی بستی ناں بھاگیں۔ بریس، بیلٹ نہ لگائیں۔ سرجری نہ کروائیں۔ ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    الیکٹرک ٹرائی سائیکل لیں جس پر جہاں مرضی جائیں۔ 150 ہزار کی اچھی الیکٹرک ٹرائی سائیکل آجاتی جو ڈوشین اور بیکر دونوں کے لیے بہترین ہے۔

    تین پہیوں والی موٹر سائیکل ان کے لیے نہیں ہے۔ اس سے گر سکتے ہیں۔ وہ پولیو والے افراد کے لیے ٹھیک ہے۔ ان کا اوپری دھڑ بڑا مضبوط ہوتا ہے۔ جبکہ ان کا اوپری دھڑ بہت کمزور ہوتا۔ ہینڈل نہیں سنبھال سکتے۔

    اس میں ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ کروانے پر سی پی کے cpk زیادہ نہ ہو۔ اس میں صرف ای ایم جی کروا کے یا کلینکل کو رلیشن کرکے معلوم کر سکتے ہیں۔ یا مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔ تشخیص کے بعد لائف سٹائل کو بدلنا ہے علاج پر وقت ضائع نہیں کرنا۔ میں بار بار یہ کہہ رہا ہوں۔

    سی۔ لمب گرڈل مسکولر ڈسٹرافی
    Limb Girdle Muscular Dystrophy

    اچھا یہ والی قسم ایسی ہے جو 2 سال سے لیکر 40 سال تک کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ علامات سب وہی ہونگی۔ اس میں جو مسلز کمزور ہونگے وہ
    hip and shoulder areas (limb-girdle area)
    پر ہونگے۔ علامات وہی ہونگی۔ احتیاط بھی سب وہی ہے۔

    مگر اس قسم میں بیماری کا حملہ 40 سال کی عمر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے قاتل بلکل خاموش سویا ہوا ہے۔ آپ بڑی آئیڈیل و صحت مند زندگی جی رہے ہیں۔

    ڈی۔ فیشیو سکیپولو ہیومرل ڈسٹرافی

    facioscapulohumeral muscular dystrophy

    یعنی چہرہ کندھا دونوں اس میں متاثر ہوتے ہیں۔ ڈی والی فوٹو دیکھیں۔ اس میں چہرے کی ساخت یا سائز ایک یا دونوں سائیڈوں سے سکڑ جاتا ہے۔ کندھے اور بازو بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ بیماری کی قسم 20 سال سے لیکر 50 سال تک کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے۔۔عموما چالیس کے بعد اس کا ایج آف آن سیٹ دیکھا گیا ہے۔
    اس میں عموماً ٹانگیں بہت کم انوالو ہوتی ہیں۔

    جس مرضی عمر میں سویا ہوا قاتل جاگ جائے احتیاط و لائف سٹائل سب وہی ہیں جو اوپر آپ پڑھ کے آئے۔

    ای۔ ڈسٹل مسکولر ڈسٹرافی

    Distal Muscular Dystrophy

    یہ بیماری بھی عمر کے کسی حصے میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ عموماً یہ 40 سے 60 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں آپ فوٹو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ڈسٹل پارٹس آف باڈی۔ یعنی سنٹر سے دور دراز کے علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ بازوں کے کہنیوں سے نچلے حصے اور ٹانگوں کے گھٹنے سے نچلے حصے۔

    اس میں بھی علامات اور باقی سب باتیں وہی ہونگی جو ڈوشین میں ہیں۔

    ایف۔ اکولو فرینجئیل مسکولر ڈسٹرافی

    Oculopharyngeal Muscular Dystrophy

    یہ بھی مسکولر ڈسٹرافی کی ایک رئیر فارم ہے۔ جو عموماً 40 سے 60 سال کی عمر میں اس سے متاثرہ مردوں و عورتوں دونوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس میں آنکھوں اور گلے کے مسلز کمزور ہونا شروع ہوتے۔ اور آنکھوں کی شیپ بدل دیتے۔ ہمارے بھنویں نیچے لٹک جاتے ہیں۔ اور گے کی اسکن بھی ڈی سیپ ہو جاتی ہے۔ اس مریض کو دیکھنے و کھانے میں مسئلہ پیش آتا ہے۔ کوئی سچ ایز علاج نہیں ہے۔ بس لائف سٹائل بدلنا ہے۔

    اب ساری کہانی کا کرکس نکالوں تو دو باتیں کہوں گا۔

    1. لانگ لائف ری ہیبلی ٹیشن پراسس ہوگا۔ اسے لائف ٹائم بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کوئی ایک ہی اچھا ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ چن لیں۔ جس سے آن لائن ہی رابطے میں رہیں۔ اور زندگی گزرنے کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے اس سے راہنمائی لیتے رہیں۔ ایڈوانس ممالک میں ایسے بچوں کے ساتھ کام کرنے والے ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ سالانہ فیس لیتے ہیں۔ اور فون کال پر دستیاب ہوتے ہیں۔ میں خود پرائیویٹلی یہ سروس فراہم کرتا ہوں۔

    ابھی میرے پاس دو بچے ہیں جن کے والدین کو میں بڑی جد و جہد کے بعد علاج کی نفسیات سے نکال کر ری ہیبلی ٹیشن میں لا چکا ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ان بچوں کا ڈائٹ پلان، تعلقات، تعلیم، جاب، لائف سٹائل، زندگی کے بڑے فیصلے سب کچھ ماہرین کی سپر ویژن میں ہوتا ہے۔

    آپ ایک دو بار مجھ سے فون پر بات کر سکتے ہیں۔
    مجھے مل کر مشورہ کر سکتے ہیں۔ یہ سروس ساری عمر ساتھ چلنے والی کنڈیشنز مسکولر ڈسٹرافی، سیری برل پالسی اور ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لیے بلکل فری یے۔

    اور یہاں کیا ہوتا؟ جیڑھی رات قبر ویچ اے او باہر نئیں

    جنھے لایا گلیں میں اوہندے نال چلی

    جیہڑا رب بیماری لا سکدا اے او کٹ وی تے سکدا اے ( اور اسی لاحاصل امید کے چکر میں علاج کے پیچھے شہر شہر جا جا کر بچے کی باقی ماندہ صلاحیتوں پر اچھے بھلے سمجھدار والدین پانی پھیر دیتے ہیں)

    2. ان بچوں کے لیے گھر میں سکول کالج مسجد آفس ہر جگہ بدلاؤ کرنے ہیں۔ انہیں بے مقصد زندگی نہیں گزارنے دینی۔ جہاں بھی بچے کے ساتھ مسکولر ڈسٹرافی جڑ جائے۔ اس کے والدین نہیں کر سکتے تو کمیونٹی کے دیگر افراد مل کر اس بچے کی رسائی ہر ممکن جگہ تک یقینی بنائیں۔ پارک میں اس کی رسائی کے لیے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی پارک و گراؤنڈز کی راہداری اور گیٹ کھلا کرنے کا قانون طور پر پابند ہے۔ تمام بنک ریمپ بنانے کے پابند ہیں۔ مگر جیسے ریمپ بنکوں میں بنے ہوتے وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ خانہ پری ہوتی یے وہ بس۔ پلازوں میں دفاتر میں ریمپس بنائے جائیں اور ان لوگوں کو وہیل چیئر سمیت ہر جگہ رسائی ملے۔

  • کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے آج پوری دنیا میں کرکٹ فِیور وائرس عام ہے۔

    آج کل جو گلیمر والا کرکٹ ہم دیکھ رہے ہیں اس کے باوِ آدم آسٹریلیا کے مشہور بزنس شوگان(Tycoon) مسٹر کیری پیکر ہیں۔ اپنے یہاں کچھ لوگ انہیں لوڈ کیریر بھرتی والا کہتے ہیں۔ کچھ کیریر پیکر کہتے ہیں، لیکن کچھ صاحب علم کرکٹ کھلاڑی ہی انہیں کیری پیکر کہتے ہیں۔

    کرکٹ کی پہلی واردات انگلینڈ میں ڈالی گئی تھی جب ہر چیز سفید پوش ہوا کرتی تھی؛ کپڑے سفید تھے، کھلاڑی سفید تھے، ٹی وی سیاہ اور سپید تھا، صرف بال براؤن کلر کے تھے۔ اس وقت کرکٹ کی وہ شکل نہیں تھی جو آج ہے۔ ان ایام میں ہر کھلاڑی کفن بر دوش تھا۔

    اس سے قبل کرکٹ میں، صرف ٹیسٹ میچ پہلے 6 دن (ایک دن آرام) کے دورانیے کے ساتھ کھیلے جاتے تھے۔ اوور 8 بالوں کا ہوا کرتا تھا۔ پھر ٹیسٹ 5 روزہ اور 6 گیندوں والے اوور کا ہو گیا۔

    1971 میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا تیسرا ٹیسٹ میچ تین دن تک بارش پر قربان ہو گیا تھا اور منتظمین شائقین کی مایوسی اور پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہونے کے بعد ان کے مالی نقصان سے بہت پریشان تھے۔

    5 جنوری 1971 کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب روایتی پانچ روزہ ٹیسٹ کرکٹ کا اختتام 50 اوورز کی ون ڈے کرکٹ پر ہوا۔

    اس نئے رنگین ODI کرکٹ میچ کے نگران رنگین مزاج کیری پیکر تھے، جن کا مختصر نام کیری پیکر اور پورا نام "Packer Kerry Francis Bullmore” تھا۔ وہ دسمبر 1937 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیدا ہوئے۔

    جب ان کے والد، سر فرینک پیکر کا 1972 میں انتقال ہو گیا، تو انہوں نے ایک کروڑوں کی مضبوط کاروباری ایمپائر سے بطور وراثت چھوڑ دی جسے کیری پیکر نے سنبھالا۔ اس "معمولی ترکہ” میں صرف آسٹریلیا کے 9 ٹیلی ویژن نیٹ ورک تھے۔ گویا میڈیا پر ان کی گرفت کافی مضبوط تھی اور میڈیا ان کی کنیز تھا۔

    1977 میں، کیری پیکر نے کرکٹ کے حلقوں میں ادھم مچا دی جب، آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ساتھ میچوں کو نشر کرنے کے حقوق پر تنازعہ کے بعد، اس نے ورلڈ سیریز کرکٹ کا آغاز کیا، جسے کیری پیکر کرکٹ سیریز یا کیری پیکر کرکٹ سرکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے بہترین کرکٹرز کو بھاری معاوضوں پر کام پر لگا دیا۔

    کیری پیکر کے ساتھ بندر بانٹ کرنے والوں میں ویوین رچرڈز، ڈینس للی، مائیکل ہولڈنگ، ٹونی گریگ، بیری رچرڈز، ظہیر عباس، ماجد خان اور عمران خان سمیت دنیا کے چند بہترین کھلاڑی شامل تھے۔

    کیری پیکر نے ون ڈے کرکٹ کو منظم کرکے ایک نئے نویلے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور پہلی بار کھلاڑیوں نے رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کئے۔ ڈے اینڈ نائٹ کرکٹ کا آغاز بھی کیری پیکر نے کیا، اس طرح کرکٹ کی تاریخ بدل گئی۔

    دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے کیری پیکر کے خلاف خیالی محاذ بنا لیا اور اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ سیریز کھیلنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کھلاڑیوں کی "کفاف” میں اضافہ کرکے کرکٹ بورڈز کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

    بعد ازاں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کیری پیکر سے مفاہمت کی لیکن اس دوران انہوں نے کرکٹ کو جو رنگ دیا وہ اب بھی موجیں مارتا ہے اور یہ مزید نکھر گیا ہے۔

    کرکٹ کا ایک نیا انداز جو برطانیہ میں 2003 میں متعارف کرایا گیا تھا، ٹی 20 تھا۔ اس نئے طرز کی کرکٹ میں دونوں ٹیمیں 20 اوورز کی اننگز کھیلتی ہیں۔ اب پانچ پانچ دن فاقے اور مزدوری نہیں کرنا پڑتی ہے۔

    پہلا T20 کرکٹ ورلڈ کپ 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا تھا جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی تھی۔
    آج اس کلرفل کرکٹ کو دیکھنے والوں کو شاید کیری پیکر یاد نہ ہوں لیکن کیری پیکر اس جدید کرکٹ کے بانی ہیں۔

    17 دسمبر کو پیدا ہونے والے کیری پیکر کا انتقال 26 دسمبر 2005 کو گردوں کی خرابی سے ہوا۔