Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اُردن کے تاریخی شہر جرش کی تاریخ بہت قدیم ہے. عیسی علیہ السلام سے چار صدی پہلے سکندرِ اعظم کے دور میں یہ شہر آباد ہوا. لیکن اسے عروج رومن دور میں ملا. آج یہ رومن دور کے آثارِ قدیمہ سے بھرا ایک مشہور سیاحت کا مقام ہے. اسکا تھیٹر ہو یا قدیم معبد آج بھی اپنی شان و شوکت سے دیکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں.

    دیکھنے والے جب رومن دور کے کھڑے وہ لمبے ستون دیکھتے ہیں جسے تراشے پتھروں سے کھڑا کیا گیا ہے یا تھیٹر کی سنگلاخ سیڑھیوں پر بیٹھ کر میدان میں دیکھتے ہیں تو ان نامعلوم معماروں کے فن کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس قدیم دور میں وہ تعمیر کھڑی کی جسے صدیوں کی مسافت بھی مکمل ڈھیر نہ کر سکی.

    ہم انسانوں کی یہ عادت ہے ہم متاثر دیکھ کر ہوتے ہیں. آپ کوئی گاڑی خریدنے جائیں تب بھی پہلے اس کی باڈی رنگ اور ڈیزائن دیکھیں گے. یہاں اگر آپ متاثر ہوئے تب انجن اور فیچرز سمجھنے کی کوشش شروع کریں گے. ہم دوسرے انسانوں کو بھی پہلے شکل لباس اور نشست و برخاست پر تولتے ہیں. اگر متاثر ہوئے تب ہی اس کے شعور اس کی شخصیت پر جاتے ہیں.

    رومنز کو یہ صدیوں پہلے پتہ تھا. اس لئے آج بھی بھلے ہم ان تاریخی مقامات کے معماروں کو نہیں جانتے لیکن ان کی پہچان زندہ ہے. جب کوئی اس انسانی وصف کے خلاف چلتا ہے تب اسے بہت مایوسی ہوتی ہے. لوگ تھیٹر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ غریب نیچے میدان میں تماشا بن جاتے ہیں.

    لوگ آپ کا پہناوا سلیقہ اور تہذیب دیکھ رہے ہوتے ہیں. آپ کے اندر کا خاموش معمار اگر چاہتا ہے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں تو اسے اس پر وقت محنت اور سرمایہ خرچ کرنا ہوگا. ہاں البتہ اگر کسی کو متاثر کرنے کی خواہش ہی نہیں تب آپ آزاد ہیں. دیو جانس قلبی کی طرح سکندرِ اعظم بھی آپ کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھے کیا چاہتے ہو. آپ اسے بول سکتے ہیں سامنے سے ہٹو دھوپ آنے دو. مجھے کچھ دھوپ چاہئے.

  • ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    چیک ان کاؤنٹر پہ جاتے وقت؛

    اللہ کرے لگیج کا وزن زیادہ نہ ہو. اللہ کرے چیک ان کاؤنٹر پہ کوئی انسان کا بچہ بیٹھا ہو. تین چار کلو زیادہ بھی ہو تو جانے دے.

    چیک ان کے بعد؛

    دیکھ لوں پاسپورٹ اور بورڈنگ پاسز بیگ میں رکھ تو لیے ہیں. یہ نہیں کہ بوکھلاہٹ میں وہیں چھوڑ آئی ہوں. اف لگیج ایکسس نہ ہو جائے اس چکر میں ہینڈ بیگ اتنا زیادہ بھر لیا ہے کہ کندھے شل ہو رہے ہیں.

    کس قدر ظلم ہیں ائیر پورٹ والے. فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس والوں کو کتنا زیادہ سامان لے جانے دیتے ہیں. لیکن سامان ہم اکانومی والوں کے پاس زیادہ ہوتا ہے. یہ تو چھوٹے چھوٹے دو بیگز لے کر چل پڑتے ہیں. کیا ان کو تحفے تحائف دینے نہیں پڑتے؟

    یہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس والوں کو اتنا ایٹیٹیوڈ کس بات کا ہوتا ہے. پہنچنا تو سب نے ایک ہی جگہ ہے اور ایک ہی وقت پہ. اونہہ خوامخواہ کے ششکے.

    اپنی اکانومی کلاس کی تنگ میلی سی سیٹوں پہ پہنچنے سے پہلے فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے rows سے گزرتے ہوئے؛

    ہائے کیا آرام دہ سیٹس ہیں. ریکلائنر ہیں ساری. آرام سے پاؤں پسار کے سو سکتے ہیں. کیسے نرم ملائم گداز سے کمبل ہیں. ابھی تو بیٹھے بھی نہیں ہیں اور فوراً فریش جوسز اور خشک میوہ جات لے کر آگے پیچھے پھر رہی ہے ائیر ہوسٹس. ہمیں تو پانی بھی دینے میں موت پڑتی ہے. ہمارے ساتھ تو سوتیلے والوں سلوک کیا جاتا ہے.

    اف کس قدر فقیر ائیر لائن ہے. کھانا بھی خریدنا پڑے گا. میں تو کوئی نہیں لے رہی پندرہ درہم کا سوکھا سینڈوچ اور دس درہم کی پیپسی.

    گھر پہ بھابھی نے سب کچھ میری پسند کا بنا رکھا ہوگا. گھر جا کر کھا لوں گی. بٹیا کو گھورتے ہوئے؛

    ہزار بار کہا کہ گھر سے کھا کر نکلو. اب کراچی پہنچ کر کھانا.

    یہ ائیر ہوسٹس کیا بتا رہی؟

    اوہ ایمرجنسی میں ایگزٹ کے طریقے. پورے جہاز میں اس پہ کوئی توجہ نہیں دے رہا. اس سے زیادہ غور سے تو لوگ بس میں منجن اور جوئے مار دوا بیچنے والوں کی بات سن لیتے ہیں.

    ائیر پورٹ پہ پہنچنے کے بعد؛

    ائیر ہوسٹس نے کیا بتایا تھا، کس بیلٹ پہ سامان آئے گا. میں کبھی اس بیچاری کی نہیں سنتی.

    پاس سے گزرنے والے قلی سے؛

    بھیا دبئی والی فلائیٹ کا لیگیج کس بیلٹ پہ ہے؟

    لیگیج بیلٹ پہ؛

    اف لوگ کتنا سامان لے کر آئے ہیں. اس فیملی کے اب تک سات پیس آچکے ہیں. ان کا بس چلتا تو پورے گھر کو پہیے لگا کر ساتھ ہی لے آتے.

    میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے. ہمیشہ میرا سامان آخر میں کیوں آتا ہے. میرے دو سوٹ کیس نہیں آئیں گے. لوگوں کے سات سات پیسز لگاتار آ جائیں گے.

    سامان ملنے کے بعد؛

    اف ٹرالی کتنی تھکی ہوئی ہے. پہییے زنگ آلود ہیں. مجھے ہی ہمیشہ گھٹیا ٹرالی ملتی ہے. میری زندگی میں یہ باریک باریک دکھ کتنے ہیں نا

    اللہ کرے کسٹم آفیسر مجھے گرین چینل سے گزرنے دے. ایسا کچھ ہے تو نہیں میرے پاس لیکن میں نے جلدی جلدی میں پیکنگ اچھی نہیں کی ہے. سب کے سامنے بیگز کھلیں تو لوگ سوچیں گے کہ سلیقے سے پیکنگ بھی نہیں کی. ( جیسے ائیر پورٹ کی افراتفری میں کسی کو کسی کا ہوش ہوتا ہے)

    الحمدللہ مجھے گرین چینل سے گزرنے دیا. مجھے ہمیشہ گرین چینل سے گزرنے دیتے ہیں. کون کہتا ہے کہ پاکستانی کسٹم والے برے ہیں. مجھے تو آج تک نہیں روکا الحمدللہ.

    ( پانچ سیکنڈز کے بعد ہی میں اپنے باریک باریک دکھ والے شکوے سے مکر چکی تھی)

    ائیر پورٹ پہ گھر والوں کو دیکھتے ہوئے؛

    میرے سب سے چھوٹے گڈے کو نہیں لائے.
    لائے ہیں. سو گیا ہے. یہ لیجیے.

  • یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    پیشہ:سیاست داں، سفارت کار، صحافی، مترجم، ناول نگار، منظر نویس، سائنس فکشن مصنف
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی

    چنگیز اعتماتوف (پیدائش: 12 دسمبر، 1928ء – وفات: 10 جون، 2008ء) سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دشوار راستہ
    ۔ 1956ء
    ۔ (2)1957ء
    ۔ روبرو
    ۔ (3)1958ء
    ۔ جمیلہ
    ۔ (4)1962ء
    ۔ پہلا استاد
    ۔ (5)1963ء
    ۔ پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔ (6)1970ء
    ۔ سفید دخانی کشتی
    ۔ (7)1977ء
    ۔ سمندرکے کنارے دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔ (8)1986ء
    ۔ تختۂ دارا
    ۔ (9)1986ء
    ۔ جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Short Novels
    ۔ 1964ء
    ۔ (2)Farewell Gul’sary
    ۔ 1970ء
    ۔ (3)White Steamship
    ۔ 1972ء
    ۔ (4)The White Ship
    ۔ 1972ء
    ۔ (5)Tales of the Mountains
    ۔ and the Steppes
    ۔ 1973ء
    ۔ (6)Ascent of Mount Fuji
    ۔ 1975ء
    ۔ (7)Cranes Fly Early
    ۔ 1983ء
    ۔ (8)The Day Lasts More Than
    ۔ a Hundred Years
    ۔ 1988ء
    ۔ (9)The Place of the Skull
    ۔ 1989ء
    ۔ (10)Time to Speak
    ۔ 1989ء
    ۔ (11)The time to speak out
    ۔ 1988ء
    ۔ (12)Mother Earth and
    ۔ Other Stories
    ۔ 1990ء
    ۔ (13)Jamila
    ۔ 2008ء
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    ۔ (2)آرڈر آف لینن (1971)
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1966ء – رکن اعلیٰ سوویت برائے سوویت یونین
    ۔ (2)1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔ (3)مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف
    سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔ (4)1990ء -سفیر کرغیزستان برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون ،2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلسلہ عالمی ادبیات
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامور افسانہ نگار خدیجہ مستور 11 دسمبر 1927 کو بلسر، بریلی میں پیدا ہوئیں۔ 26 جولائی 1982 کو لندن میں وفات پائی۔ گلبرگ لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں۔

    ان کےافسانوں کے 5 مجموعےکھیل، بوچھاڑ، چند روز اور، تھکے ہارے، اور ٹھنڈا میٹھا پانی اور 2 ناول آنگن اور زمین شائع ہوئے۔ آنگن پر 1962 کا آدم جی ادبی انعام ملا۔ افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر اکادمی ادبیات پاکستان نے سال کی بہترین کتاب کا ہجرہ ایوارڈ دیا-

    خدیجہ مستور ممتاز صحافی اور افسانہ نگار ظہیر بابر کی اہلیہ اور ہاجرہ مسرور، اختر جمال، خالد احمد اور توصیف احمد خاں کی بہن تھیں۔خدیجہ اور ہاجرہ، احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بہنیں تو خط کتابت سے ہی بن چکی تھیں-

    قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان لاہور پہنچا تو احمد ندیم قاسمی پورے خاندان کے سرپرست بن گئے. خدیجہ کی شادی انہوں نے ہی اپنے بھانجے ظہیر بابر سے کرائی.

  • شاعر اور نثر نگار  نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    شاعر اور نثر نگار نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    نریش کمار شاد کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں وہ اچھے شاعر بھی تھے ، نثر نگار بھی انہوں نےترجمے بھی کئے اور کئی رسالوں کی ادارت بھی کی ۔ نریش جتنے پرگو شاعر تھے اتنے ہی بڑے بلا نوش بھی ، ان کیلئے شاعری اور شراب دونوں زندگی کی بدصورتیوں کو انگیز کرنے کا ایک ذریعہ تھیں ۔ نریش کی شراب یاد رکھی گئی اور ان کی شاعری بھلا دی گئی ۔ حالانکہ نریش کی غزلیں، نظمیں اور کئی نئی مغربی اصناف میں ان کے تخلیقی تجربے ان کی شاعرانہ اہمیت کو روشن کرتے ہیں ۔

    شاد کی پیدائش ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو ہوشیار پور پنجاب میں ہوئی ۔ ان کے والد درد نکودری بھی شاعر تھے اور حضرت جوش ملسیانی کے خاص شاگردوں میں سے تھے ۔ گھر کے شعری ماحول نے شاد کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنے لگے ۔ شاد کی تعلیم لاہور میں ہوئی انہوں نے گورمینٹ ہائی اسکول چونیاں ضلع لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحام پاس کیا ۔ اس کے بعد بہ سلسلۂ ملازمت راولپنڈی اور جالندھر میں مقیم رہے لیکن جلد ہی سرکاری ملازمت ترک کرکے لاہور آگئے اور وہاں ماہنامہ’ شالیمار ‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔

    تقسیم کے بعد شاد کچھ مدت کانپور میں رہے اور یہاں حفیظ ہوشیارپوری کے ساتھ مل کر ’چندن‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔ اس رسالے کے بند ہو جانے کے بعد دلی اگئے اور بلدیو متر بجلی کے ماہنامہ ’ راہی ‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک رسالہ ’ نقوش ‘ کے نام سے بھی نکالا ۔ آخر ہاؤسنگ اینڈ رینٹ آفس میں ملازمت اختیار کی ۔

    شعری مجموعے : بتکدہ ، فریاد ، دستک ، للکار ، آہٹیں ، قاشیں ، آیات جنوں ، پھوار ، سنگم ، میرا منتخب کلام ، میراکلام نو بہ نو ، وجدان ،
    نثری کتابیں: سرخ حاشیے ، راکھ تلے ، سرقہ اور توارد ، ڈارلنگ ، جان پہچان ، مطالعے ، غالب اور اس کی شاعری ، پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری ، پانچ مقبول طنز ومزاح نگار ۔ ادب اطفال : شام نگر میں سنیما آیا، چینی بلبل اور سمندری شہزادی ۔

    ۲۰ مئی ۱۹۶۹ کو شاد جمنا کے کنارے پر مرے ہوئے پائے گئے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
    تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

    خدا سے کیا محبت کر سکے گا
    جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

    اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
    ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

    زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
    مدتوں موت نے بھی ترسایا

    گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
    تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

    زندگی نام ہے جدائی کا
    آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

    محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
    نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں

    محفل ان کی ساقی ان کا
    آنکھیں اپنی باقی ان کا

    خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
    مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

    عقل سے صرف ذہن روشن تھا
    عشق نے دل میں روشنی کی ہے

    کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
    ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

    یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
    یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا

    طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
    اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں

    تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
    میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے

  • روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن 11 دسمبر 1918ء کو کیسلووودسک میں پیدا ہوئے الیکزینڈر سلزینسٹائن (1918ء تا 2008ء )روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1970ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

    انہیں ان کی خدمات پر متعدد اعزازتسے نوازا گیا جن میں میخائیل لومونوسف گولڈ میڈل (1998)، نوبل انعام برائے ادب (1970)، آرڈر آف ریڈ اسٹار (1944)، ٹیمپلٹن انعام، آرڈر آف اسٹار آف رومانیہ، آرڈر آف سینٹ اینڈریو سے نوازا گیا-

    2008 میں عارضہ قلب کی وجہ سے ماسکو میں وفات پا گئے تھے-

  • دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا نام: شبانہ زیدی شبین
    قلمی نام: شبین
    والد کا نام: سید ظفر زیدی
    والدہ کا نام: سیدہ مہرالنساء
    شوہر کا نام سید ذاکر حسین زیدی
    بچوں کے نام:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کنول
    ۔ (2)ثمر
    ۔ (3) مظفر
    ۔ (4)اظفر
    ۔ (5)حسنین رضا
    ۔ (6)احسن رضا
    آبائی وطن : اوکاڑہ، پاکستان ۔
    جائے ولادت: لیہ
    تاریخِ ولادت: 10 دسمبر 1988
    تعلیم: ایم اے۔ ایم ایڈ
    پیشہ: درس و تدریس
    آغازِ تحریر:۔ 2005
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سلگتے کنول۔2008
    ۔ (2)اک شہر بسا پانی پر۔2013
    ۔ (3)میں خیال ہوں کسی اور کا
    ۔ (انتخاب )
    ۔ (4)موج سبد گل2016
    ۔ (رثائی شاعری )
    ۔ (5)نظم کہانی۔2018
    ۔ ( بچوں کے لیے )
    ان کے علاوہ دو ناول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔1۔ سراب۔۔ 1988
    ۔2سوشلزم اور عشق بلاخیز ۔ منتظر اشاعت
    پذیرائی: پروین شاکر ایوارڈ
    شریف اکیڈمی
    ایوارڈ:دختر لیہ ٹائٹل ایوارڈ
    روش انٹرنیشنل ایوارڈ
    اور بےشمار ایوارڈ و اسناد
    پتا:۔ صدر گوگیرہ۔اوکاڑہ پنجاب۔پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی کے رونے سے موسم ہرا نہیں ہوتا
    دو آنسوؤں سے زمیں کا بھلا نہیں ہوتا
    ہماری دوستی اس چاند سے ہو ئی جب سے
    کسی اندھیرے اب سے سامنا نہیں ہوتا
    ہوائے تازہ کا ہوتا بھی تو گزر کیسے
    دریچہ ذہن کا جب تک کھلا نہیں ہوتا
    ہوں جس کے اپنے ہی چہرے پہ داغ اور دھبے
    وہ دوسروں کے لیے آئینہ نہیں ہوتا
    اکیلی شام مہکتی ہے میرے آنگن میں
    اب انتظار کسی دوست کا نہیں ہوتا
    ہمیں تو جینا ہے خود اپنے ہی اصولوں پر
    آمیر شہر کسی کا خدا نہیں ہوتا
    خدا ڈبوئے تو پھر کیسے پار اترو گے
    خدا سے بڑھ کے کوئی ناخدا نہیں ہوتا
    تمھاری یاد بھی اب تھک چکی ہے آ آ کر
    شبین ہم سے بھی اب جاگنا نہیں ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں
    زرد پتوں کو ہواؤں نے گرایا ہی نہیں
    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    کیوں ترے واسطے اس دل میں جگہ ہے ورنہ
    کوئی چہرہ مری آنکھوں میں سمایا ہی نہیں
    اس نے بھی مانگ لیا آج محبت کا ثبوت
    ایک لمحے کے لیے جس کو بھلایا ہی نہیں
    مجھ کو تنہائی نے گھیرا ہے کئی بار مگر
    اس کی یادوں نے مگر ساتھ نبھایا ہی نہیں
    جس کی خوشبو سے مہکتے مرے گھر کے در و بام
    وقت نے رنگ کوئی ایسا دکھایا ہی نہیں
    روشنی اپنے مقدر کہاں ہوگی شبینؔ
    جب دیا ہم نے اندھیروں میں جلایا ہی نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رتوں کا لمس شجر میں رہے تو اچھا ہے
    مٹھاس بن کے ثمر میں رہے تو اچھا ہے
    کہاں سے دل کے علاقے میں آ گئی دنیا
    یہ سر کا درد ہے سر میں رہے تو اچھا ہے
    مرا قیام ہے گھر میں مسافروں جیسا
    یہ گھر بھی راہ گزر میں رہے تو اچھا ہے
    میں سن رہی ہوں قیامت کی آہٹوں کو شبینؔ
    حیات پھر بھی سفر میں رہے تو اچھا ہے

  • نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    جب سے اتری ہوں آسمان سے میں
    تب سے الجھی ہوں اس جہان سے میں

    عارفہ صبح خان

    تاریخ پیدائش:10 دسمبر 1970

    تحریر و تعارف: آغا نیاز مگسی

    پاکستان کی نامور ادیبہ_شاعرہ، اور صحافی ڈاکٹر عارفہ صبح خان 10 دسمبر 1970 میں لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد ادریس خان اور یوسفزئی پٹھان قبیلے سے تعلق ہے تحریک پاکستان میں انہوں نے بڑا فعال کردار ادا کیا جس کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کے بہت قریب رہے۔ ۔ عارفہ کے دادا سعید جان جج اور پر دادا ایس ایس پی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ عارفہ صبح خان نے ابتدائی تعلیم فاطمہ جناح گرلز ہائی اسکول لاہور سے اور اعلی تعلیم یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے ادبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    عارفہ نے چوتھی جماعت سے نثر نگاری اور شاعری شروع کی لیکن انہوں نے شاعری میں کسی استاد کی شاگردی اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی اصلاح لی لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ شاعری میں استاد ضروری ہے۔ وہ پاکستان میں اردو کی پہلی مزاحیہ خاتون ادیبہ اور صحافی ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں ۔ وہ علمی لحاظ سے ڈاکٹر فراق تحسینی اور ڈاکٹر سلیم اختر کو اپنا استاد مانتی ہیں۔ عارفہ نے روزنامہ جنگ سمیت متعدد اخبارات اور رسائل وغیرہ میں کام کیا ہے۔ وہ کرنل محمد خان، شفیق الرحمن ، احمد ندیم قاسمی اورعطاالحق قاسمی کا بڑے احترام کے ساتھ ذکر کرتی ہیں۔ عارفہ کی شادی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ظفر آفتاب کے ساتھ 1995 میں شادی ہوئی اور 1998 میں انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ وہ بیٹی کے پیداطہونے پر بہت خوش ہیںچلیکن انہیں اس بات کا بہت دکھطہے کہ انہیں بیٹے کی اولاد نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کو بھائی بھی والدین سے پیدا نہیں ہوا اور مزید یہ کہ عارفہ کی والدہ کا بھی کوئی بھائی پیدا نہیں ہوا یعنی ان کی تین نسلوں میں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)عکس زن
    ۔ (2)تجاہلِ عارفانہ
    ۔ (3)شٹ اپ
    ۔ (4)مابدولت
    ۔ (5)اماں حوا سے اماں کونسلر تک
    ۔ (6)کُرکُرے کردار
    ۔ (7)اب صبح ہو نے کو ہے
    ۔ (8)اردو تنقید کا اصلی چہرہ
    ۔ (9)صبح ہوگئی جاناں
    ۔ (10)عشقِ بلاخیز
    ۔ (11)ادبی ستارے
    ۔ (12)کافر ادا
    ۔ (13)تنقیدیں گرہیں
    ۔ (14)سیاست دانوں کے سائیڈ ایفیکٹس
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پاکستان کی
    ۔ پہلی مزاح نگار خاتون ہونے کا اعزاز
    ۔ (2)پاکستان کی پہلی کرائم رپورٹر ہونے کا اعزاز
    ۔ (3)پاکستان کی پہلی پولیٹیکل لیڈی رپورٹر
    ۔ (4)صحافت کی شیرنی کا لقب
    ۔ (صحافت کے امام مجید نظامی نے دیا)
    ۔ (5)خواتین کی پطرس بخاری کا خطاب
    ۔ (کرنل محمد خان مرحوم نے دیا)
    ۔ (6)خان زادی، خان بی بی
    ۔ اردو ادب کی قلوپطرہ، اعزازات کی ملکہ
    ۔ ادب کا ستارہ (خطابات)
    ۔ (7)10 گولڈ مڈلز اور پچاس ایوارڈز
    ۔ ادبی، صحافتی اور علمی خدمات پر
    ۔ (8)صدر آل پاکستان ویمن جرنلسٹ فورم
    ۔ پریس کلب، لاہور
    ۔ پانچ سال مسلسل صدر رہنے کا اعزاز
    ۔ (9)صحافت اور ادب میں سب سے زیادہ
    ۔ گولڈمڈلز اور ایوارڈز لینے کا ریکارڈ
    ۔ (10)بہترین صحافی ایوارڈ
    ۔ سات بار مسلسل
    ۔ (11)ڈرامے سیریلز لکھے
    ۔ سونے کی چڑیا
    ۔ نئے راستے
    ۔ لیڈی رپورٹر کیوں
    ۔ (12)چار سیاسی پروگراموں کی اینکرنگ
    ۔ ہاٹ ایشوز
    ۔ پولیٹیکلز ٹمپریچر
    ۔ ون ٹو ون
    ۔ ویمن ایشوز
    موبائل:00923008005450

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کی راہ جب نکالی تھی
    زندگی کس قدر مثالی تھی
    تو نے مجھ کو بھری تھی جب چٹکی
    میرے گالوں پہ کتنی لالی تھی
    گھیر رکھا تھا تیری یادوں نے
    سامنے چائے کی پیالی تھی
    جان دے کر دیارِ فرقت میں
    پیار کی آبرو بچالی تھی
    سارے ارماں سمیٹ کر دل میں
    ہم نے اک بزم سی سجالی تھی
    غمِ دنیا میں خود کو ڈھالا تھا
    عمر بھی اپنی لاابالی تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تیری یادیں سنبھال لیتی ہوں
    دل کا آنگن اُجال لیتی ہوں
    شعر کہہ کر غبار اندر کا
    میں ہمیشہ نکال لیتی ہوں
    اک تری جستجو میں گرتے ہوئے
    خود کو اکثر سنبھال لیتی ہوں
    کام آتی ہوں بے نواؤں کے
    اور دعائے وصال لیتی ہوں
    ہجر کی دوپہر میں سر پہ صبحؔ
    اس کی یادوں کی شال لیتی ہوں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    چلو اتنا ہی کردو
    ۔۔۔۔۔
    ابھی راتوں کی تاریکی
    ابھی موسم کا سناٹا
    ابھی یہ رینگتے سائے
    درو بامِ تمنا پر
    کہ جیسے کل مسلط تھے
    اسی صورت مسلط ہیں
    ابھی تو کچھ نہیں بدلا
    عجب اک بے کلی سی ہے
    عجب اک ہو کا عالم ہے
    میں کیسے دل کو سمجھاؤں، میں کیسے دل کو بہلاؤں
    اگر تم نے
    نہ آنے کی قسم توڑی نہیں اب تک
    چلو اتنا ہی کردو
    کہ اس میں کیا برائی ہے
    مجھے تم فون پر دل کے
    بہلنے اور سنبھلنے کی
    کی کوئی صورت بتادینا
    تمھارا شکریہ ہوگا

  • ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    عمیرہ احمد ایک نامور پاکستانی ادیبہ اور اسکرین لکھاری جو اپنی کتاب” پیر کامل” کی بدولت مشہور ہوئیں اور پھر اپنے متعدد ناولوں پر مبنی ٹی وی ڈراموں سے شہرۂ آفاق پر پہنچیں۔

    ان کے ناولوں پر بننے والے ڈراموں میں میری ذات ذرہ بے نشاں، دوراہا،پیر کامل، مٹھی بھر مٹی، شہرذات، میرا نصیب اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں۔ عمیرہ احمد مرے کالج، سیالکوٹ سے انگریزی میں ماسٹرز کر کے آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں۔ اپنے تحریری سفر کا آغاز انھوں نے خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں آگئیں۔

    ان کا پہلا ڈراما ‘‘وجود لاریب‘‘ انڈس ویژن سے 2005 میں آیا جس کے لیے انہوں نے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ لیا۔ اس کے بعد ‘‘دام‘‘، ‘‘قید تنہائی‘‘ اور متعدد ڈرامے وہ لکھ چکی ہیں اور ان کے کئی ناول کی ڈرامائی تشکیل ہو چکی۔ ‘‘نور کا مسکن‘‘ کے نام سے ایک ریڈیو ڈراما بھی لکھا۔
    ناول اور کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پیر کامل
    ۔ (2)زندگی گلزار ہے
    ۔ (3)میری ذات ذرہ بے نشان
    ۔ (4)ایمان امید اور محبت
    ۔ (5)حسنہ اور حسن آرا
    ۔ (6)حرف سے لفظ تک
    ۔ (7)میرے 50 پسندیدہ سین
    ۔ (8)من و سلوا
    ۔ (9)حاصل
    ۔ (10)لا حاصل
    ۔ (11)واپسی
    ۔ (12)شیریں
    ۔ (13)میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے
    ۔ (14)سحر ایک استعارہ ہے
    ۔ (15)دربار دل
    ۔ (16)امبر بیل
    ۔ (17)عکس
    ۔ (18)آب حیات
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)وجود لاریب (2004)
    ۔ (2)دام محبت (2009)
    ۔ (3)ٹی وی ون گلوبل (2009)
    ۔ (4)میری ذات ذرہ بے نشاں (2009)
    ۔ (5)تھوڑا سا آسماں (2009)
    ۔ (6)عمیرہ احمد (2010)
    ۔ (7)اڑان (2010)
    ۔ (8)مات (2011)
    ۔ (9)شہر ذات (2012)
    ۔ (10)کنکر (2013)
    ۔ (11)بے حد (2013)
    ۔ (12)زندگی گلزار ہے (2013)
    ۔ (13)محبت صبح کا ستارہ ہے (2014)
    ۔ (14)ڈائجسٹ رائٹر (2014)

  • اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    لوئجی پیرآندیلو اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈراما نگار، افسانہ نگار اور ناول نگار اور 1934ء کے ادب کے نوبل انعام یافتہ مصنف ہیں۔

    حالات زندگی و ابتدائی تعلیم

    لوئجی پیرآندیلو 28 جون 1867ء کو سسلی، اٹلی میں گندھک کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1880ء میں پیآندیلو کے والدین سسلی کے صد مقام پالیرمو میں سکونت پزیر ہو گئے جہاں انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔

    اعلیٰ تعلیم

    1887ء میں روم یونیورسٹی اٹلی، 1888ء میں بون یونیورسٹی جرمنی میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    ادبی خدمات

    لوئجی پیرآندیلو بہت بڑا ڈراما نگار تھا۔ ڈراموں کی شہرت کی وجہ سے اس کے افسانے طویل عرصہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے حالانکہ پیرآندیلو بتنا بڑا ڈراما نگار تھا، اتنا بڑا افسانہ نگار بھی تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں 500 پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو تیرہ مجموعوں کی صورت میں شائع ہوچکی ہیں۔ لوئجی پیرآندیلو آفاقی تاثیر رکھنے والا مصنف ہے۔ اس کی کہانوں میں انسانی رشتوں کی ان سچائیوں کا معنی خیز اظہار ہے جن سے معاشرہ تعمیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ پیرآندیلو کا لازوال ڈراما ”چھ کردارخالق کی تلاش میں“ دنیائے ادب کے عظیم ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پیرآندیلو نے 50 سے زائد ڈرامے لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے شمار افسانے، ناول اور شاعری کے مجموعہ تخلیق کے۔

    اعزازات

    لوئجی پیرآندیلو کی ادبی خدمات کے صلے میں 1934ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔

    وفات

    دنیائے ادب کے عظیم ڈراما نگار اور افسانہ نگار لوئجی پیرآندیلو 10 دسمبر 1936ء کو روم، اٹلی میں انتقال کر گئے۔