Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    پیدائش:05 ستمبر 973ء
    کاث
    وفات:09 دسمبر 1048ء
    غزنی
    رہائش:خوارزم
    رے
    غزنی
    گرگان
    شہریت:سلطنت غزنویہ
    زبان:
    ۔۔۔۔۔
    فارسی، قدیم یونانی
    توراتی عبرانی
    سریانی زبان
    سنسکرت، عربی
    شعبۂ عمل:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    طبیعیات، ریاضی، فلکیات
    علوم فطریہ، تاریخ کی سائنس
    لسانيات، ہندویات، زمینیات
    جغرافیہ، فلسفہ، نقشہ نگاری
    انسانیات، نجوم، کیمیا
    طب، نفسیات، الٰہیات
    علم الادویہ، تاریخ مذاہب
    کارہائے نمایاں:آثار الباقیہ
    عن القرون الخالیہ

    ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی (پیدائش: 05 ستمبر 973ء، وفات: 9 0دسمبر 1048ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس داں تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب ”آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ“ مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹے اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کاث شہر دریائے جیحون (دریائے آمو) کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ اس کے اردگرد کئی مضافاتی بستیاں تھیں جن میں ایک بستی کا نام بیرون تھا۔ اس مضافاتی بستی میں ایک یتیم بچہ پرورش پا رہا تھا جس کا نام محمد بن احمد تھا جو دنیا میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ بچہ شروع ہی سے قدرتی مناظر کا دلدادہ تھا۔ وہ دن بھر باغات میں پھرتا، خوب صورت پہاڑوں پر چڑھ جاتا، صحرا میں دوڑتا بھاگتا اور شام کے وقت گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھ میں ریحان کی کونپلوں اور ٹہنیوں کا ایک گلدستہ ہوتا جسے وہ ایک پیالے میں سجا دیتا اور جب ہوا چلتی تو اس گلدستے کی خوشبو اس کے غریب خانی کو معطر کردیتی۔ اس کی ماں اس کو اسی لیے ابو ریحان کہہ کر پکارتی تھی۔ البیرونی کا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا لیکن اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے البیرونی کی ماں اپنے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے روزی کمانے پر مجبور ہوگئی۔ اس کام میں البرونی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔
    ایک روز البرونی کی نباتات کے ایک یونانی عالم سے ملاقات ہو گئی۔ البرونی نے اسے ایک باغ میں پھول توڑنے اور جنگل کے درختوں کے نیچے پودوں کو کاٹتے دیکھا تو اس یونانی علم کے پاس پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگا: جناب آپ ان پھولوں کو کیوں توڑ رہے ہیں اور پودوں کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟ کیا آپ میری طرح ان کو کاٹے بغیر اور انھیں زندگی سے محروم کیے بغیر ان کی تصویریں نہیں بنا سکتے ہیں؟ یہ سن کر یونانی عالم ہنس پڑا اور کہنے لگا: بیٹے میں ان پھولوں اور پودوں کو علم کی خاطر جمع کر رہا ہوں، ان پودوں اور پھولوں سے ہم بیماریوں کے علاج کے لیے دوائیں تیار کر رہے ہیں۔ یہ سن کر البیرونی خوشی سے چلایا: تو آپ نباتات کے عالم ہیں؟ یونانی عالم نے پیار سے کہا: ہاں میرے بیٹے، میرا خیال ہے تمھیں پھولوں اور پودوں سے بہت محبت ہے۔ البیرونی نے کہا میں تو تمام قدرتی مناظر سے محبت کرتا ہوں۔ ستاروں، درختوں، پودوں، پھولوں، پہاڑوں، ٹیلوں اور وادیوں سب ہی مجھے پیار ہے۔ وہ یونانی عالم نے البیرونی کو روزانہ تعلیم دیتا رہااور نباتات کا علم سکھاتا رہا۔ اس وقت البیرونی کی عمر گیارہ سال تھی۔ تین سال گزر گئے اور ابو ریحان چودہ برس کا ہوگیا۔ اس عرصے میں اس نے یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی اور یونانی علم سے پودوں کی دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا۔ طبعی علوم کے بارے میں اس کا شوق اور بڑھ گیا۔ یونانی عالم اپنے وطن یونان لوٹنے سے پہلے البیرونی کو فلکیات و ریاضی کے عالم ابو نصر منصور علی کی خدمت میں جو خوارزمی خاندان کا شہزادہ تھا لے گیا۔ ابو نصر نے البیرونی کے لیے الگ گھر تعمیر کرایا اور وظیفہ بھی مقرر کیا۔ ابو نصر ہر روز فلکیات اور ریاضی کے علوم سکھاتا رہا۔ ابو نصر نے البیرونی کو مشہور ریاضی داں اور ماہر عبد الصمد کی شاگردی میں دے دیا۔

    کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”کتاب الہند“ ہے جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں، ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب ”قانون مسعودی“ ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس داں اور ریاضی داں سمجھا جاتا ہے۔ البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور ”کتاب الہند“ تالیف کی۔ علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام ”البیرونی کریٹر“ رکھا گیا ہے۔
    تصنیفات و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے تاریخ، ریاضی اور فلکیات پر کوئی سو سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں :
    کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کتاب البیرونی نے جرجان کے حکمران شمس المعالی قابوس بن دشمکیر کے نام پر تحریر کی۔ اس کا خاص موضوع علم نجوم اور ریاضی تھا لیکن اس میں بہت سی دیگر دلچسپ علمی، تاریخی اور مذہبی و فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں اور جگہ جگہ تنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرح کتاب اس دور کے اہم تاریخی، مذہبی اور علمی مسائل کی ایک تنقیدی تاریخ بن گئی ہے۔
    کتاب الہند
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہندویات پر عربی زبان میں پہلی شہرہ آفاق کتاب جس کا پورا نام تحقیق ما للھند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرذولۃ ہے۔ یہ کتاب قدیم ہندوستان کی تاریخ، رسوم و رواج اور مذہبی روایات کے ذیل میں صدیوں سے مورخین کا ماخذ رہی ہے اور آج بھی اسے وہی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب الہند کا مواد حاصل کرنے کے لیے البیرونی نے سال ہا سال تک پنجاب میں مشہور ہندو مراکز کی سیاحت کی، سنسکرت جیسی مشکل زبان سیکھ کر قدیم سنسکرت ادب کا براہ راست خود مطالعہ کیا۔ پھر ہر قسم کی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی معلومات کو، جو اہل ہند کے بارے میں اسے حاصل ہوئیں اس کتاب میں قلم بند کر دیا۔ اس کتاب میں ہندو عقائد، رسم و رواج کا غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک انداز میں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس کے ذریعے عربی داں طبقہ تک ہندو مت کے عقائد و دیگر معلومات اپنے اصل مآخذ کے حوالے سے پہنچیں۔
    کتاب مقالید علم الہیئہ وما یحدث فی بسیط الکرہ۔
    قانون مسعودی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے جس کا نام اس نے سلطان محمود عزنوی کے نام پر رکھا ہے۔ پورا نام ہے۔ یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات اور سائنسی علوم کے موضوعات پر اس وقت میں لکھی جا چکی تھیں۔ اس کتاب کا علمی مقام بطلیموس کی کتاب المجسطی سے کسی طرح کم نہیں۔
    ۔ (1)کتاب استخراج
    ۔ الاوتار فی الدائرہ۔
    ۔ (2)کتاب استیعاب الوجوہ
    ۔ الممکنہ فی صفہ الاسطرلاب۔
    ۔ (3)کتاب العمل
    ۔ بالاسطرلاب۔
    ۔ (4)کتاب التطبیق
    ۔ الی حرکہ الشمس۔
    ۔ (5)کتاب کیفیہ رسوم
    ۔ الہند فی تعلم الحساب۔
    ۔ (6)کتاب فی تحقیق
    ۔ منازل القمر۔
    ۔ (7)کتاب جلاء الاذہان
    ۔ فی زیج البتانی۔
    ۔ (8)کتاب الصیدلہ
    ۔ فی الطب۔
    ۔ (9)کتاب رؤیہ الاہلہ
    (10)کتاب جدول
    ۔ التقویم
    ۔ (11)کتاب مفتاح
    ۔ علم الہیئہ۔
    ۔ (12)کتاب تہذیف
    ۔ فصول الفرغانی۔
    ۔ (13)کتاب ایضاح
    ۔ الادلہ علی کیفیہ
    ۔ سمت القبلہ۔
    ۔ (14)کتاب تصور امر
    ۔ لفجر والشفق فی
    ۔ جہہ الشرق والغرب
    ۔ من الافق۔
    ۔ (15)کتاب التفہیم
    ۔ لاوائل صناعہ التنجیم
    ۔ (16)کتاب المسائل
    ۔ الہندسیہ۔
    ۔ (17)مقالہ فی تصحیح الطول
    ۔ والعرض لمساکن المعمورہ
    ۔ من الارض۔

    البیرونی کی دریافتیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے، انہوں نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر ریسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔

  • لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    کبھی کوئی چائے والا اور کبھی پتی والا ۔۔۔اور کبھی کوئی پیپسی اور آج لاہور دا پاوا ۔۔۔۔۔۔۔

    افسوس اس قوم کے رہنماؤں نے اس قوم کو کھیل تماشے اور بےکار امور کے نشے میں یوں مبتلاء کیا کہ ان کو اپنی منزل بھول گئی ۔۔۔

    خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
    آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی

    ہر طرف ایک مجہول اور نامعقول شخص کے منہ سے نکلے فضول الفاظ کی تکرار ہے ، اور اچھے خاصے سنجیدہ دوست بھی اس بربادی وقت اور فکر کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔۔

    کہنے کو ہم رہنما اسلامی ملک ہیں ، خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم سے سب پوچھ کے منزل سفر طے کریں کہ ہم دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہیں اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پوری قوم کی زبان اور حواس پر ایک مجہول جملہ جاری وساری ہے ۔۔۔۔ایسا جملہ کہ جس کا معانی تلاش کیا جائے تو شائد لفظ ” نامعقولیت ” سے ہی ادا ہو پائے ۔۔۔۔

    تکلیف اس امر کی ہے کہ لہو و لعب کی رسیا اس جہالت کو ہر دوسرے ہفتے ایسی کسی جہالت کی تلاش ہوتی ہے۔ ۔۔اور جب ایسی کوئی جہالت مل جاتی ہے تو سوشل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سب اس جہالت کو ماتھے کا جھومر بنائے ناچ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔

    ایسا شخص کہ جس کی گفتگو کے سبب اسے کسی پڑھی لکھی مجلس میں جگہ نہ ملے اس کے انٹرویو چل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
    کیا ترقی چاہنے والی اقوام کے یہی طور طریقے ہوتے ہیں ؟ ۔حقیقت یہ ہے کہ ہم قوم نہیں نرا ہجوم ہیں ، بےہنگم اور تالیاں پیٹنے والا غیر سنجیدہ ہجوم ۔۔۔۔۔

    اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے کہ جب ملک بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ، کہ آج دیوالیہ ہوا کہ آج ، اور قوم کے بڑے چھوٹے سب ہاہا ہوہو کر رہے ہیں ۔۔یعنی جس وقت پوری قوم کو فکرمندی سے آنے والے دنوں کا سوچنا چاہیے اس وقت یہاں غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے ۔۔۔۔

  • جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    عثمان بھائی نے جدید اصطلاحات کی بات چھیڑ دی ہے۔ ماں سے موم ماسی سے آنٹی اور آنٹی سے آنٹ کا سفر طے ہو چکا ہے۔ لوگ آگے کو بڑھ رہے ہیں اور ایک ہم فقیر ہیں مزید پچھلی اخلاقیات پر آگئے۔

    یادش بخیر ہمارے گھر والوں بے ہمیں ماسی کو آنٹی کہنا ہی سکھایا تھا، سو ہم ماسی کی مٹھاس سے محروم محض ہی تو تھے، لیکن جب ہم مشرف بہ مشرق ہوئے تو آنٹی کو ماسی کہنے لگے۔ میرے بیٹے کو گھر والوں بے بتھیری اردو سکھانے کی بات کی، ہم نے مگر ٹھٹھ پنجابی سکھائی۔

    اس کا ایسا مطلب نہیں کہ ہم کوئی ماضی گزیدہ ہوگئے ہیں یا ماضی کے ناسٹلجیا میں مبتلا ہوگئے ہیں، یہ ایک اور طرح کا شعور ہے، جو مالک سے دعا ہے تمہیں بھی نصیب ہو۔

    مسئلہ تہذیب مغرب کا ہے، جو اس کی حقیقت سے واقف ہونے لگے، اسے اس کے ہر مظہر سے چڑ ہونے لگتی ہے۔ ہم بھی ابتداء میں اسی روسیاہ کی زلف گرہ گیر کے اسیروں میں رہے۔ وہ وقت ہم پہ بھی گزرا جب ہم کسی کو بتاتے ہوئے شرماتے تھے کہ ہم مدرسہ کے طالب علم ہیں۔ ہم اس فیز سے بھی گزرے کہ مولوی یا ملا سے نفرت کر بیٹھے۔

    ہر روایت مخالف کام کو سراہنے کا بھوت سوار رہا، مجھے یاد ہے ہمارے استاذ محترم نے جب ہم سے کہا تھا کہ بیٹا! پڑھ کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ تو جواب یہ دیا تھا کہ کم از کم روایتی مولوی نہیں، لیکن اب سوچتا ہوں کہ کاش روایتی مولوی ہی بننے کا جواب دیا ہوتا۔ کیوں کہ روایت کی مخالفت کسی دلیل کی بنا پر نہیں فیشن کی بنا پر کی جا رہی تھی۔ ہمیں بھی جدید ادیبوں کے سڑے گلے فقرے اپنی جاتی پر کسنے میں وہی سکون ملتا جو آج کل نئے جوانوں کو ملتا ہے۔

    ہم بھی اپنا مزاح ملا سے شروع کرتے اور اسی پر ختم کرتے رہے ہیں۔ ہم نے جب پہلی دفعہ اخلاق کا نعرہ لگایا تھا تو شاید لبرل ازم کے تحت ہی لگایا تھا، ہمیں بھی احادیث ج۔ہاد کھٹکتی رہی ہیں۔ ہم بھی ان میں سے رہے ہیں، جو اخلاقیات کو عقیدے سے بھی اوپر کا کوئی شعار قرار دیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی وہ دن دیکھے جب دینی غیرت سے مجبور سخت فتوی لگانے والے عالم دین کو دین سے دوری کا سبب بتانا شعور کی معراج سمجھا کرتے تھے۔

    لیکن پھر خدا نے شعور عطا کیا، تہذیب جدید کے فہم سے کچھ حصہ ملا تو پھر زبان حال سے پکار اٹھے

    ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

    ہاں، ہمارا تعلق اس جاتی سے ہے، جن کو عام طور پر اپنی مجلس میں بیٹھنے نہیں دیا جاتا، لیکن اس پر مطمئن ہیں۔

    ہاں ہم وہ ہیں جو پرانی اخلاقیات مانگتے ہیں۔ ہم اس گروہ عاشقاں سے ہیں، جو کو حکم خدا کے بعد کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی، ہم سے خدا کہتا ہے فلاں سے نفرت کرو تو ٹھوک بجا کے نفرت کرنے لگتے ہیں، ہمیں خدا کسی سے محبت کا کہے تو عمل گو نا کر سکیں مگر اس کی حقانیت ذہن و دل میں واضح رہتی ہے۔ ہم وہ ہیں، جنہیں تہذیب مغرب سے، اس کے مظاہر سے، اس کے ما بعد الطبیعات سے، اس کے فلسفوں سے اتنی ہی چڑ ہے۔ جتنے وہ برے اور انسانیت کے لئے ز،ہر قاتل ہیں۔

  • بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    آج ایک دوست نے چوبیس سالہ انجینئر لڑکے کی تصویر دکھائی جس نے کراچی کے مال کے اندر اونچائی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ۔ اس قدر خوبرو اور گبھرو جوان کہ دیکھ زبان گنگ رہ گئی۔ اس کی موت کو بیروزگاری سے جوڑا گیا۔ اسی مال میں میری دوست کے بڑے بھائی چیف سیکیورٹی آفیسر ہیں ۔ ایف آئی آر میں ذہنی دباو اور بیروزگاری بتایا گیا یوں معاملہ دب گیا۔

    چونکہ واقعہ مال کے اندر ہوا تھا تو دوسرے روز وہی چیف سیکیورٹی آفیسر اس لڑکے کی ماں سے ملے اور رہن سہن سے اندازہ ہوا کہ مالی معاملات تو ہر گز خراب نہ تھے ۔ بار بار پوچھنے پر ماں نے بتایا کہ اس واقعے سے پہلے اس کی والد سے تکرار ہوئی تھی اور تکرار کی وجہ رشتہ تھا۔ والدین بھتیجی کو بہو بنانا چاہ رہے تھے جبکہ لڑکے نے بتایا کہ وہ فلاں جگہ رشتہ کرنا چاہتا ہے آپ پرپوزل لے کر جائیں ۔ والدین نے انکار کردیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ اگلے ہفتے منگنی کی رسم ہوگی۔ اس سے پہلے بھی لڑکا تین چار بار ذکر کر چکا تھا لیکن وہی انکار۔۔۔
    اس روز مال سے اس کی منگنی کی تیاری کے سلسلے میں شاپنگ ہو رہی تھی ، وہ ذہنی اذیت برداشت نہ کر سکا اور سب سے اوپر والی منزل سے چھلانگ لگا دی۔

    یہ بظاہر ایک عام قصہ ہے ، ہم عموما اولاد پر نافرمان اور جذباتی ہونے کا لیبل لگا دیتے ہیں لیکن کبھی دوسرے رخ کو دیکھنا گوارا نہیں کرتے ۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں اکثر اپنے والدین کے فیصلوں پر سر جھکا لیتے ہیں ساری عمر کمپرومائز بھی کر لیتے ہیں لیکن والدین جبرا کیسے یہ رشتے جوڑ سکتے ہیں ؟

    بچوں سے پسند نا پسند پوچھ لی جائے اور اگر وہ بتا دیں تو اس میں انا اور ہٹ دھرمی کا کیا سوال ؟؟ ہم میں سے اکثر کو دوسروں کی لائے ہوئے کپڑے ،جوتے اور دیگر استعمال کی چیزیں پسند نہیں آتیں تو دوسرے کا منتخب کردہ ہمسفر کیسے پسند آ سکتا ہے ؟؟

    میں نے تو حقیقی زندگی میں ایسے جوڑے دیکھے ہیں جن کی پسند کو رد کرکے اپنی پسند مسلط کئی گئی اور ایک چھت تلے رہ کر بھی ان کے دل نہ جڑ پائے ۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ زندگی ہی تو گزارنی ہے گزر جائے گی لیکن یہی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔۔۔۔۔۔ زندگی گزارنی نہیں ،جینی ہوتی ہے ۔۔۔ !!!

  • آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے "آئیو”سے. یہ مشتری کا تیسرا بڑا چاند ہے۔ نظامِ شمسی کا ایسا چاند جس پر سب سے زیادہ آتش فشائی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ آئیو پر کئی آتش فشائی مرکز ہیں جن سے لاوا اور گیسیں اسکی فضا میں کئی سو میل اوپر کو اُٹھتی ہیں۔آئیو کی قسمت کہ یہ مشتری اور مشتری کے دیگر بڑے چاندوں کے بیچ یوں گھرا ہےجیسے مشتری اور اسکے بڑے چاند اس بیچارے کو درمیان میں رکھ کر گریویٹی کے بل پر رسہ کشی کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئیو کے اندرونی تہوں میں موجود لاوا اور گیسس ہمیشہ حرکت میں ، گرم یا مائع حالت میں رہتے ہیں اور اس چاند کی آتش فشائی فطرت کا سبب بنتے ہیں۔ ان آتش فشاؤں کیوجہ سے آئیو کی اندرونی تہوں سے مواد اسکی باہری سطح پر آتا ہے، جمتا ہے، اور پھر دوبارہ اندرونی تہوں میں چلا جاتا ہے۔ یوں آئیو کی سطح ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ گویا کسی نے اسے ری سائیکلنگ پلانٹ میں ڈال دیا ہو۔

    آئیو زمین کے چاند سے کچھ بڑا ہے۔ یہ مشتری کے ساتھ "ٹائیڈلی لاکڈ” ہے. نجانے اس لفظ کا فیروز اللغات میں کیا اُردو ترجمہ ہو گا۔ اُردو زبان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بے حد کم ہے۔ خیر آئیو کا ٹائیڈلی لاکڈ ہونے کا مطلب سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ یہ چاند مشتری کیطرف ہمیشہ محبوب کیطرح مستقل منہ کیے رہتا ہے۔ یعنی اس چاند کا اپنے محور پر گردش کا دورانیہ اور مشتری کے گرد گردش کا دورانیہ تقریباً ایک جتنا ہے یعنی 1.8 دن۔ یوں اگر آپ مشتری پر ہوں تو وہاں سے "آئیو” کی ایک ہی سائڈ آپکو ہمشہ نظر آئے گی ویسے ہی جیسے زمین پر ہمیں چاند کی صرف ایک سائیڈ نظر آتی ہے۔ (کوئی اُردو سائنس بورڈ جس میںں بابا اشفاق اور مفتی ممتاز صاحب جیسے ادیب ماضی میں شامل رہے تھے سے کہے کہ اُردو میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بڑھائیں ٹائیڈل لاک کا اُردو ترجمہ "جوار بھاٹوی تالہ” یا "مدوجزری تالہ” کسی کو سمجھ نہیں آنا)

    خیر آئیو پر کبھی کبھی اتنے اونچے آتش فشاں پھٹتے ہیں کہ زمین سے کسی بڑی اور طاقتور ٹیلی سکوپ سے کئی کروڑ میل دور بیٹھے بھی کوئی انہیں دیکھ سکتا ہے۔ آئیو کی دریافت کا سہرا اطالوی ماہرِ فلکیات گیلیلیو کے سر جاتا ہے جس نے 1610 میں دوربین کے ذریعے جب مشتری کو دیکھا تو اسکے ساتھ آئیو اور کئی اور چاند اسے نظر آئے۔ ویسے یہ انسانی تاریخ میں ایسا واقعہ ہے جب انسانوں کو احساس ہوا کہ دیگر اجرامِ فلکی کے گرد بھی کئی اور اجسام گھومتے ہیں اور اس سے انسانوں کا زمین کو کائنات کو مرکز سمجھنے، تمام سیاروں، ستاروں اور سورج کا زمین کے گرد گھومنے یا انسانوں کو خود کو کائنات کی توپ چیز سمجھنے کے بچگانہ تصور سے نجات ملی۔

    ناسا کے چار مشنز آئیو کے پاس سے گزر چکے ہیں۔۔ان میں سے سب سے پہلا ستر کی دہائی میں وائجر 1 تھا جبکہ آخری مشن "نیو ہورائزن” تھا جو پلوٹو کی طرف جاتے ہوئے اسکے پاس سے گزرا اور اسکی تصاویر لیں۔آئیو پر اس قدر آتش فشاؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زمینی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    ارسلان کو ایس ایم ایس آیا کہ مشہور جینز کے برانڈ پر سیل ہے. دبئی کے رہائشی جانتے ہیں کہ نومبر کے اواخر سے جو سیلز شروع ہوتی ہے وہ سال کے اختتام تک جاری رہتی ہیں. یہ آفرز اتنی دل کھینچ ہوتی ہیں کہ اس سے دامن کیا آنچل بلکہ جیب بچانا بھی انتہائی مشکل ہے.

    امریکن ایگل پہ buy one get one free کی آفر تھی. وہ بھی پورے اسٹور پہ. یہ نہیں کہ ایک کونے می نہ بکنے والا سامان رکھ دیا گیا ہو. وہ الگ چھپا کر رکھا ہے جو مال اچھا ہے کی تفسیر نہیں تھی.

    دوسرے دن ارسلان آفس سے واپسی پہ سیدھا مردف سٹی سینٹر گیا. اپنی پسندیدہ دو جینز ایک کی قیمت میں خریدیں اور گھر واپس آگیا.

    ثمرین کو بھی ایسے بہت سے میسیجز مسلسل آرہے تھے. چونکہ جاب کرتی تھی اس لیے صبح تو جا نہیں سکتی تھی. اس لیے ثمرین نے پروگرام بنایا کہ ہفتے کی صبح دس بجے ہی نکل جائے گی. صبح صبح رش بھی نہیں ہوگا اور پارکنگ بھی آسانی سے مل جائے گی. ویسے ثمرین کی پارکنگ کی صلاحیتیں کچھ اچھی نہیں تھیں. بقول ثمرین کے شوہر اس کو ایک گاڑی پارک کرنے کے لیے دو گاڑیوں کی جگہ چاہیے ہوتی ہے. اور بقول ثمرین کہ میں حلوہ پارکنگ یعنی جہاں دور دور تک کوئی گاڑی نہ ہو، بہترین پارکنگ کر سکتی ہوں.

    چیزیں بٹورنے کی خوشی میں ثمرین صبح وقت پہ ہی گھر سے نکل گئی. حلوہ پارکنگ تو نہیں ملی لیکن ایسا اسپاٹ مل گیا جہاں تین بار ریورس کر کے گاڑی پارک کر ہی لی. گاڑی سے اتر کر سیدھی مول اینٹرینس کی طرف لپکی لیکن پھر یاد آیا کہ موبائل تو گاڑی میں ہی بھول آئی ہوں. گاڑی سے موبائل نکال کر جلدی سے پارکنگ اسپاٹ کی تصویر لے لی ورنہ پھر واپسی پر گاڑی ڈھونڈنے کی خواری ہوتی. یہ مول والے بھی ایک جیسے پارکنگ اسپاٹ پتا نہیں کیوں بنا دیتے ہیں.

    اس کا ارادہ سیدھا امریکن ایگل جا کر جینز اٹھانے کا تھا لیکن برا ہوا bath and body works کا. کیا کِلر آفر تھی. Buy three get four free. ثمرین نے سارے سال کے hand soaps, shower gels, scented candles, fragrances خرید لیے. بل تین سو درہم آیا لیکن سات سو کے آئیٹمز تین سو مل جانا ایک بہترین بچت ہے.

    اس شاپنگ کے بعد ثمرین سیدھا جینز اسٹور جانا ہی چاہتی تھی کہ H&M پہ نظر پڑی. Flat 40% off on entire store.
    ہائے وہ بیگ جس کو پچھلی بار دیکھ کر آہ پھر کر گئی تھی وہ اب اٹھتر درہم کا تھا. اس بیگ کو چھوڑنا کفران نعمت ہوتا. ساتھ ساتھ اسے بچوں کے لیے جیکٹس بھی مل گئے. اس شاپنگ کے بعد اس نے خود کو ڈانٹا کہ اب پیسے ختم ہو رہے ہیں سیدھا امریکن ایگل کا رخ کرنا چاہیے.

    وہ امریکن ایگل کی طرف بڑھی ہی تھی کہ Home box میں برتنوں کا سیٹ انہتر درہم کا تھا. یا اللہ کلر کس قدر پیارا ہے. اور ساتھ میں برنیوں کا سیٹ صرف پچیس درہم میں. بچوں کے بسکٹ اور دوسری چیزیں ان برنیوں میں کتنی پیاری لگیں گی. صرف دو ہی سیٹ بچے ہیں. اس سے پہلے کہ کوئی اچک لے ثمرین نے جلدی سے دونوں چیزیں اپنی ٹرالی میں رکھ لیں. پیمنٹ کاؤنٹر کے پاس ہی کافی کے مگز اور چمچ اور کانٹوں کے پیکٹس بھی پڑے تھے. وہ بھی ساتھ رکھ لیے.

    دکان سے باہر نکل کر خود کو کوسا کہ اب صرف دو سو درہم خرچ کرنے کی گنجائش ہے. شرافت سے امریکن ایگل چلی جاؤں. جلدی جلدی اسی طرف چلنے لگی تو Carrefour میں تمام میک اپ پراڈکٹس پہ پچاس فیصد آف تھا. اس کے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا.

    سارے پیسے ختم ہو چکے تھے. امریکن ایگل میں جانے کی گنجائش بالکل نہیں تھی. اتنی شاپنگ کے بعد وہ تھک بھی گئی تھی. گھر جا کر پکانے کی ہمت بالکل نہیں تھی. اس نے کے ایف سی سے ایک فل فیملی میل خریدا اور سرشار سی گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ ڈھائی ہزار کا سامان ہزار درہم میں لائی ہے. امریکن ایگل سے جینز اگلے ہفتے خرید لوں گی.

    ارسلان انتہائی مضبوط قوت ارادی کا مالک تھا. مول میں سے صرف وہی خریدا جس کی ضرورت تھی. لیکن برا ہو ایپل اسٹور کا. اتنی شاندار آفر تھی. کیسے مس کرتا. اس نے مول میں پیسے بالکل خرچ نہیں کئے. بس نیا فون لے لیا. پرانا فون بیگم کو کام آجائے گا. یہ کوئی فضول خرچی تو نہیں.

  • میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    جنگل میں ایک بندر چیخا "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    دیگر سب بندر بھی شروع "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    بہت شور مچا، لیکن دو چار منٹ میں سب خاموش ہو گئے۔

    پھر کسی گدھے نے پکارا۔۔۔ "ڈھچوں ڈھچوں ۔۔۔ پاوا۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    دیگر لاکھوں گدھے بھی شروع ” ڈھچوں ڈھچوں پاوا۔۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔ پاوا۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ ہونے کو آ گئے ہیں، یہ سب گدھے ابھی تک ڈھچوں ڈھچوں کر رہے ہیں۔

    عمومی جانور اپنی حیوانی جبلت سے مجبور ہوتے ہیں، ان کو شعور نہیں ہوتا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو چھوڑ کر کچھ مفید اور تعمیری کام کر لیں۔ اس کے باوجود وہ بھی کچھ دیر چوں چوں کر کے، غرا کر ، بھونک بھونک کر آخر چپ ہو جاتے ہیں۔

    لیکن ان حیوانوں کا کیا کیا جائے جن کے ہاتھوں میں کی بورڈز آ گئے ہیں اور ان کی ڈھچوں ڈھچوں بند نہیں ہو رہی۔ پھر کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ فلاں فلاں میراثی، بھانڈ اور چوڑے چمار یا فلاں فاحشہ کو فلاں ندا یاسر نامی میڈیا طوائف نے اپنے پروگرام میں کیوں بلا لیا۔ تو یہی "پاوا لاوا” بیضہ نامطلوب اچانک ہاں ہاں کرتے ہوئے "اخلاقیات بریگیڈ” کے پیادے بن جاتے ہیں۔

    اللہ کی مار ہو گھٹیا اندھے بہرے حکمرانوں پر، فحش میڈیا پر، اور ان انتہائی گھٹیا اور بداخلاق پنجابی تھیٹر والوں پر، جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو بھانڈ اور میراثی بنانے اور ذومعنی اور فحش باتیں سکھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    ان کو میراثیت کی ایسی لت لگی ہے کہ ان کا حال اس میراثی سے بھی بدتر ہو گیا ہے جو اپنے باپ کی فوتگی پر بھی پولی پولی ڈھولکی بجا کر اپنی لت پوری کرنے کے چکر میں تھا۔

  • ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    دنیا میں ہر جنس پر ظلم ہوتا ہے ۔ مگر سوائے بچےکے ہر عمر ، ہر طبقہ اور ہر جنس اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے ۔ مگر بچہ یہ سب نہیں کر سکتا ۔ وہ بہت کمزور ہے ۔اتنا کمزور کہ وہ اپنے حق کے لیے بول بھی نہیں سکتا۔ خواجہ سراؤں پر ظلم ہوا تو انھوں نے احتجاج کیے، خواتین نے اپنی تنظیمیں بنائی ۔ یہاں تک کہ رکشے والوں کی یونینز ہیں۔ مگر کوئی تنظیم نہیں ہے تو بچوں کی نہیں ہے ۔

    نفسیات دانوں کا شکر ہو جنھوں نے ہمیں علم نفسیات کے ذریعے بتایا کہ بھئی بچے بھی کوئی الگ شے ہیں۔ تم سے مختلف اور کمزور ہیں، جسمانی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی۔ انکا عقل درجہ بہ درجہ وقت کے ساتھ ترقی کی منازل طے پاتا ہے۔اگر کسی بچے کو میوزک کی آواز آرہی ہے ۔مگر آپ دور بیٹھے اسکو والیم اونچا کرنے کا کہتے ہیں تو وہ والیم تو بڑھا دے گا مگر یہ ضرور سوچتا رہے گا کہ جب اسے سننے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی تو آپکو کیوں ہو رہی ہے۔ اگر بچہ مٹی سے کھیلتے ہوئے ہم سے پوچھ لے کہ مٹی کا رنگ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ہم یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے ایسا بنایا ہے یا کچھ اور کہہ کر بس جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر لوگ تو بچوں کو سوال پر ہی ڈانٹ دیتے ہیں ۔ جواب تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی بچہ کم بولتا ہے تو اس مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نکما ہے۔علم نفسیات میں ایسے بچوں کو انٹروورٹ کہا جاتا ہے ۔ ایسے بچے کچھ بڑا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو شرمیلا اور کمزور سمجھا جاتا ہے ۔گو کہ انٹروورٹ ہونا کوئی بری بات نہیں، یہ صرف ایک پرسنلٹی ٹریڈ ہے ۔ 90 فی صد سائنسدان، شاعر ، ادیب یا موجد انٹروورٹ ہی ہوتے ہیں ۔

    آپکا خاندان یا معاشرہ تو انٹروورٹ ہونے پر آپ کے بچے کی کبھی تعریف نہیں کرے گا۔مگر یہی انٹروورٹ بچہ زندگی میں کبھی ایسا کام ضرور کرے گا جس سے آپکا سر فخر سے بلند ہو جائے گا ۔ سو ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کبھی نہ کریں ۔آپ شدید حیران ہونگے یہ سن کر کہ دنیا کا ہر دوسرا امیر ترین آدمی انٹروورٹ ہے۔ٹیسلا کے ارب پتی مالک نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "میں بنیادی طور پر ایک انٹروورٹڈ انجینئر کی طرح ہوں، اس لیے اسٹیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    ہم بچوں کا ہر موڈ برداشت نہیں کرتے ۔ چاہتے ہیں کہ بچے ہر وقت خوش رہیں۔ ان کے بھی اپنے جذبات ہوتے ہیں ، انھیں بھی خوشی اور غمی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر ہم اس بات کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں ۔ صرف اسی بات کو نہیں، بلکہ بچوں کو بچہ سمجھنے میں بھی ابھی ہمیں صدیاں درکار ہیں ۔

    جیسے بچوں کو پیدائش کے بعد سیکھنے کے لیے سکول بھیجا جاتا ہے ۔کاش بچہ پیدا کرنے سے پہلے والدین کےلیے بھی بچے کو سمجھنے اور تربیت کی خاطر کسی ڈگری کی شرط ہوتی ۔

  • آیت نور — فرقان قریشی

    آیت نور — فرقان قریشی

    ابھی ہم لوگ ٹوئیٹر پر آیت نور کے حوالے سے ’’نور‘‘ کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے کہ نور کیا ہے ، اور میں نے سوچا کہ اپنی کچھ ٹوئیٹس یہاں فیسبک پیج پر آپ کے ساتھ بھی شیئر کروں ۔

    قرآن پاک کی آیات کو سمجھنے کے لیے ، سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیئے کہ قرآن پاک کس کا کلام ہے ۔

    انسان تو صرف تین ڈائی مینشنز کے اندر قید ایک مخلوق ہے جب کہ قرآن پاک کلام ہے تمام ڈائی مینشنز سے اوپر ایک ذات کا … اس بات کا مطلب کیا ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ … قرآن کی آیات ایک ایسا کلام ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی ذہانت کو ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں استعمال کرنا ہو گا ۔

    آپؐ نے چونکہ نماز کو بھی نور کہا تھا اس لیے ابن عباسؓ اور انس بن مالکؓ نور کو ہدایت اور رہنمائی بھی بتاتے ہیں اور یہ نور کو سمجھنے کا پہلا لیول اور پہلی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن جب طائف والوں نے آپؐ کو تکلیف دی تو اس وقت آپؐ کی مانگی ہوئی دعا کو غور سے پڑھیں ، اس دعا میں ہے کہ

    ’’میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں جو اندھیروں کو روشن کر دے‘‘

    اور یہ نور کو سمجھنے کا دوسرا لیول اور دوسری ڈائی مینشن ہے کہ مایوسی اور تکلیف سے نکالنے والی ، سکون دینے والے کوئی چیز ۔

    لیکن کیا نور صرف کوئی میٹافوریکل یا تمثیلی چیز ہے ؟

    شاید نہیں کیوں کہ آپؐ نے اس کی تخلیق کے متعلق بھی بتایا تھا اور نور کا ذکر باقی مخلوقات کے ساتھ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مٹی ، پہاڑ ، درخت اور مکروہات کے بعد نور تخلیق ہوا تھا اور اسی نور سے پھر فرشتوں کو بنایا گیا تھا اور یہ نور کو کوئی سمجھنے کا تیسرا لیول اور تیسری ڈائی مینشن ہے ۔

    نور ایک فزیکل چیز لگتی ہے کیوں کہ آپؐ نے بتایا تھا کہ عدل کرنے والے ، اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف نور سے بنے منبروں پر بیٹھے ہوں گے ۔

    بلکہ یہ بھی کہ نور سے بنے ان منبروں میں سے کچھ منبر تو ایسے بھی ہوں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے اور یہ نور کو سمجھنے کا چوتھا لیول اور چوتھی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا یہ وہی دائیں ہے جو ہماری زبان میں رائیٹ سائیڈ ہوتا ہے ؟

    بالکل نہیں کیوں کہ وہاں سمتیں معنے نہیں رکھتیں آپؐ نے اسی حدیث میں یہ بھی بتایا تھا کہ اللہ کے دونوں طرف دائیں ہے ۔

    اس کا کیا مطلب ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ڈائی مینشن اور اس لیول پر آ کر ہماری cardinal directions کوئی معنے نہیں رکھتیں ۔

    نور کسی طرح کا cover یا پردہ بھی لگتا ہے کیوں کہ جب عبداللہ بن شقیقؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟

    تو آپ نے فرمایا کہ میں نے بس نور دیکھا ہے اور اس پر آپ نے چار باتوں کا خطبہ دیا کہ اللہ کے چہرے کا پردہ نور ہے اور اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو سب کچھ جل جائے ۔

    اور یہ نور کو سمجھنے کا پانچواں لیول اور پانچویں ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہیں ؟

    ہاں اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہماری سمجھ میں آتی ہیں مثلاً ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اس مقام پر دن اور رات نہیں ہوتے ۔

    اور عرش پر روشنی اس نور کی وجہ سے ہی ہوتی ہے ، ایک طرح کی ٹھنڈی روشنی اور یہ نور کوسمجھنے کا چھٹا لیول اور چھٹی ڈائی مینشن ہے ۔

    اگر آپ قرآن کا علم رکھنے والے کسی شخص سے پوچھیں کہ قرآن کی سب سے mysterious آیت کونسی ہے تو زیادہ چانسز یہی ہیں کہ وہ آیت نور کا ہی نام لے گا ۔

    کیونکہ اس آیت کا آغاز ہی آپ سے ڈیمانڈ کرنا شروع کر دیتا ہے کہ آپ کا دماغ ذہانت کے ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں سوچنا شروع کر دے ۔

  • اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن سے سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ وغیرہ پر لاہور کے ایک مونچھوں والے صاحب بے حد مقبول ہوئےپڑے ہیں اور کافی ٹرینڈ میں ہیں۔ ان صاحب کا نام ہے اختر لاوا۔

    پیشے کے اعتبار سے یہ ایک کاروباری شخصیت ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ٹک ٹاکر بھی ہیں۔ انکی ایک ویڈیو کچھ دن پہلے ٹک ٹاک سے ہوتی ہوئی جب ٹوئیٹر پر پہنچی تو یہ ایک ٹرینڈ بن گئے۔ بقول اختر لاوا صاحب انکے نام کے ساتھ لفظ لاوا کے پیچھے ایک کہانی ہے۔

    فرماتے ہیں کہ ان کا شجرۂ نسب محمد بن قاسم سے جا ملتا ہے اور انگریزوں کے دور میں جب انگریزوں نے اِنکے گاؤں پر حملہ کیا تو اختر لاوا صاحب کے لکڑ دادا انگریزوں سے بے جگری سے لڑے اور انکو مار بھگایا۔ تب سے لوگوں نے انکے خاندان کے ساتھ یہ لاوا کا لاحقہ منسوب کر دیا کہ یہ لوگ بے حد جوشیلے ہیں۔خیر لاوا صاحب جس وجہ سے مشہور ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اچانک سے کسی کنگ فو فائٹر کی طرح بجلی کی سی تیزی سے ایک قدم آگے آ کر نہایت پھرتی اور اپنے لکڑ دادا کی طرح جوش سے محمد علی کلی باکسر کے سٹائل میں مُکا ہوا میں لہراتے ہیں اور یہ تاریخی اور جلی حروف میں لکھا جانے والا جملہ ارشاد فرماتے ہیں: "لہور دا پاوا۔۔۔۔۔۔۔اختر لاوا”۔ پاوا غالباً اندرون لاہور میں بدمعاش کو کہتے ہیں۔ اب چونکہ اِنکا تعارف ہو چکا تو میں نے سوچا اسی بہانے آپکو اصل لاوا جو زمین سے نکلتا ہے اسکے بارے کچھ جانکاری دیتا جاؤں۔

    لاوا دراصل زمین کے اندر موجود پگھلی چٹانوں سے بنتا ہے۔ جب یہ زمین کے اندر ہوتی ہیں تو انہیں جیالوجی میں میگما کہتے ہیں۔ میگما کا درجہ حرارت 700 سے 1300 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ میگما زمین کی اوپری سطح یعنی کرسٹ میں 6 سے 10 کلومیٹر نیچے بڑے بڑے ذخائر کی صورت پایا جاتا ہے۔ انہیں میگما چیمبرز کہا جاتا ہے۔ میگما چیمبرز خصوصاً آتش فشاں پہاڑوں کے نیچے ہوتے ہیں۔

    میگما میں گیس کے بلبلے بھی ہوتے ہیں جو گرم ہونے کی وجہ سے پھٹتے رہتے ہیں مگر یہ زمین کی پتھریلی سطح کے نیچے دب کر اوپر کو نہیں آتے تاہم کبھی کبھار جب پریشر بے حد بڑھ جائے تو یہ بلبلے میگما کو اپنے ساتھ زمین کی نرم جگہوں سے اوپر لے آتے ہیں اور یوں زور سے میگما زمین سے باہر آتش فشاؤں کے پھٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ میگما جب باہر آتا ہے تو اسے لاوا کہتے ہیں۔ لاوا کا درجہ حرارت ںھی کم و بیش اتنا ہوتا ہے جو میگما کا ہوتا ہے۔

    زمین یا آتش فشاں سے نکلتا لاوا کئی سو میٹر بلندی تک جا سکتا ہے۔ لاوے کا رنگ اسکے درجہ حرارت پر منحصر ہوتا یے۔ 1000 ڈگریی سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر لاوے کا رنگ بھڑکتا نارنجی جبکہ 650 ڈگری سینٹی گریڈ سے 500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارات کے لاوے کا رنگ بادامی مائل سرخ ہوتا ہے۔

    لاوا زمین سے نکل کر مختلف رفتار سے اسکی سطح پر بہتا یے۔ یہ اس پر منحصر کے کہ لاوے میں سیلیکا کی مقدار کتنی ہے۔ سیلیکا دراصل گلاس ہوتا ہے۔سیلیکا کی کم مقدار کا لاوا پتلا اور زیادہ علاقے میں پھیلتا ہے جبکہ زیادہ مقدار میں سیلیکا لاوے کو گاڑھا کر دیتی ہے اور یہ سست روی سے بہتا ہے۔لاوا جب زمین کے اوپر آ کر ٹھنڈا ہو کر جمتا ہے تو کالے پتھروں اور چٹانوں می صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اب آپ بتائیں اختر لاوا میں کتنا سیلیکا ہے؟