Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    پیدائش:28 نومبر 1928ء
    فیروزپور، صوبہ پنجاب
    برطانوی ہندوستان
    وفات:4 فروری 2017ء
    لاہور، پنجاب، پاکستان
    آخری آرام گا:قبرستان E بلاک
    ماڈل ٹاؤن، لاہور
    قلمی نام:بانو قدسیہ
    تعلیم:ایم اے (اردو)
    اصناف:افسانہ نگاری، فلسفہ، تصوف
    موضوع:ادب، فلسفہ
    نفسیات، اشتراکیت
    ادبی تحریک:صوفی ادب
    شریک حیات:اشفاق احمد
    اولاد:انیق احمد، انیس احمد، اثیر احمد

    بانو قدسیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو اور پنجابی زبان کی مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس جو اپنے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے خاصی مشہور ہوئیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 28 نومبر، 1928ء کو فیروزپور، برطانوی ہندوستان میں زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد چوہدری بدرالزماں چٹھہ زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا جبکہ ابھی بانو قدسیہ محض ساڑھے تین برس کی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔ لاہور آنے سے پہلے وہ وہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ (Chattha) بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    وہ اپنے کالج کے میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول راجہ گدھ ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1983ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے بانو قدسیہ کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2010ء میں دوبارہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 2012ء میں کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2016ء میں اُنہیں اعزازِ حیات (Lifetime Achievement Award) سے نوازا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 26 جنوری 2017ء کو بعارضہ ضیق النفس لاہور کے اتفاق ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیر علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ 88 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اُن کی عمر 88 سال 2 ماہ 7 دن شمسی تھی۔ اُن کی نماز جنازہ 5 فروری 2017ء کو بلاک، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں دوپہر 03:30 بجے اداء کی گئی جبکہ تدفین G بلاک قبرستان ماڈل ٹاؤن، لاہور میں کی گئی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آتش زیر پا
    ۔ (2)آدھی بات
    ۔ (3)ایک دن
    ۔ (4)امر بیل
    ۔ (5)آسے پاسے
    ۔ (6)بازگشت
    ۔ (7)چہار چمن
    ۔ (8)چھوٹا شہر، بڑے لوگ
    ۔ (9)دست بستہ
    ۔ (10)دوسرا دروازہ
    ۔ (11)دوسرا قدم
    ۔ (12)فٹ پاتھ کی گھاس
    ۔ (13)حاصل گھاٹ
    ۔ (14)ہوا کے نام
    ۔ (15)ہجرتوں کے درمیان
    ۔ (16)کچھ اور نہیں
    ۔ (17)لگن اپنی اپنی

    افسانہ و ناول نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ کی زندگی پر ایک نظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔
    انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو ان کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر کلاس کو اپنا اپنا ڈراما پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو تیس منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لیے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور بقول ان کے جتنی بھی اُردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ ان کی پہلی کاوش تھی۔ اس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اُردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں اس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔

    اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تاکہ مقابلہ پورا ہو۔ اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا۔ اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک ان کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انھیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔ بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جب کہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انھوں نے بی اے کا امتحان دیا اس وقت 47 کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اس آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔

    اس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لیے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینیٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مطمئن تھیں کہ یہ حصہ پاکستان کے حصے میں آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔ پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انھیں کامیابی ملی تھی۔ 1949 میں انھوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں رائٹرز کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انھوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرین رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔

    اس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔ ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اس کے لیے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہو جاتی تھی۔ ٹی وی کے پہلے ایم ڈی اسلم اظہر نے اشفاق احمد کو ٹی وی کا سب سے پہلا پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام میں انھوں نے ٹیلی ویژن کو متعارف کرایا تھا۔ اشفاق احمد ٹی وی کے پہلے اناؤنسر تھے۔ ان کا ریڈیو پر بہت وسیع تجربہ تھا۔ یہاں ایک اطالوی فلم بنی تھی۔ اس کے بھی اشفاق احمد مترجم تھے۔

    ٹی وی پر سب سے پہلا ڈراما ’’تقریب امتحان‘‘ ان ہی کا ہوا تھا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف و صورت کے اپنے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جب کہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر انھوں نے 1965 تک لکھا پھر ٹی وی نے انھیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لیے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کیے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترقہ کاوش سے ان کا گھر تعمیر ہوا۔ لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ ان دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اُبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ ان دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہو گئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اُتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981 میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔

    موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ ان کے لیے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔ یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لیے محض اسی لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔ انگنت، ڈراموں، افسانوں اور شاہکار ناول کی مصنفہ بانو قدسیہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تاریخ ولادت:28 نومبر 1949ء
    تاریخ وفات:17 اپریل 2010ء

    نورجہاں ثروت کی پیدائش دہلی میں 28 نومبر 1949ء کو ہوئی۔ ان کی پرورش ان کی نانی کے سائے میں ہوئی۔ جب انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا تو شعبۂ اردو کے صدر مشہور شاعر جاوید وششٹ تھے‘ تو ثروت کو بھی شعر کہنے کا شوق پیدا ہوگیا۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز 1970ء میں اردو کے مشہور رسالے ’سیکولر ڈیموکریسی‘ سے ہوا۔ وہ واحد خاتون ہیں جنھیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔
    نور جہاں ثروت کا انتقالِ 17 اپریل 2010ء کو دہلی میں ہوا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے
    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے
    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے
    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے
    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے
    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے
    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا
    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا
    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا
    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا
    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں
    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں
    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں
    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں
    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • یگیشے چارینتس ،معروف آرمینیائی شاعر

    یگیشے چارینتس ،معروف آرمینیائی شاعر

    پیدائش:13 مارچ 1897ء
    قارص
    وفات:27 نومبر 1937ء
    یریوان
    طرز وفات:قتل، سزائے موت
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    زبان:آرمینیائی زبان

    یگیشے چارینتس سوویت آرمینیا کے عظیم شاعر، مصنف اور عوامی کارکن تھے۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یگیشے چارینتس صوبہ قارص، آرمینیا، روسی سلطنت میں 13 مارچ 1897ء کو قالین کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ عظیم شاعر، خانہ جنگی کے سرگرم شریک، سوویت آرمینیا میں شوشلزم کی فتح کے مغنی یگیشے چارینتس یادگار نظموں اور منظم داستانوں دانتوں کا افسانہ، ایتلا، سوما، جنونی ہجوم، عوام کا گیت، بریوسوف کے استادانہ ترجمے کی ساری نظمیں، پیرس کے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار، باکو کے 26 کمیساروں کی داستان، گھنگھریالے بالوں والا لڑکا وغیرہ کی حیثیت سے لازوال شہرت کے حامل ہیں۔

    انقلاب کے بانی لینن سے چارینتس نے اپنی نظمیں چچا لینن، لینن اور علی،ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی فل بوٹ کی داستان معنون کیں۔ اپنی نظموں کا لاجواب مجموعہ کتاب راہ مکمل کرنے کے بعد انہیں المناک موت نے آلیا۔ چارینتس کی غنائی اور رزمیہ استعداد مایا کوفسکی کی استعداد کے پیمانے کی ہے۔ اس کا اندازہ خاص طورسے چارینتس کی ان تخلیقات سے ہوتا ہے کہ انھوں نے ولادیمیر ایلیئچ لینن سے معنون کی ہیں۔ فرانس، اٹلی، جرمنی اور ترکی کا سفر کرنے کے بعد چارینتس نے نظموں کا ایک پورا سلسلہ تخلیق کیا جو شعلہ بار پرولتاری بین الاقوامیت پسندی سے مملو ہے۔ ان کے ہیرو ہیں خانہ جنگی کے سورما لیپاریت مخچیان اور جارجیائی نوجوان کمیونسٹ لیگ کے بانی بریس دزینیلادزے اور باکو کے کمسومول کا گمنام ممبر۔
    چارینتس نے اپنی شاعری میں اپنے پورے سوزوگداز کے ساتھ سرمایہ دارانہ ظلم و جبر سے محنت کش عوام کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لازوال و لافانی ہونے کی توثیق کی۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    دانتوں کا افسانہ (16-1915ء)
    ایتلا
    سوما (1918ء)
    جنونی ہجوم
    عوام کا گیت
    پیرس ے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار
    باکو کے 26 کمیساروں کی داستان
    گھنگھریالے بالوں والا لڑکا
    ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی
    فل بوٹ کی داستان
    لینن اور علی
    چچا لینن (1924ء)
    مجموعۂ شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    کتاب راہ (34-1933ء)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    یگیشے چارینتس 40 سال کی عمر میں 27 نومبر 1937ء کو یریوان، آرمینیا کی جیل اسپتال میں کر گئے۔

  • مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    یوم پیدائش 19 جنوری 1873
    یوم وفات 27؍نومبر 1956

    اردو کے ممتاز صحافی، ادیب، شاعر اور مصنف مولانا ظفر علی خان 19؍جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Departmentt) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو” جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔
    1908ء میں لاہور گئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام” کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔
    ظفر علی خان نے 08؍جولائی 1935ء کو شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔
    مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:
    معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت، جنگ روس و جاپان۔
    مولانا ظفر علی خان نے 27؍نومبر 1956ء کو وزیرآباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ محمد عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔

    مولانا ظفر علی خان کی شاعری سے انتخاب

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
    نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی

    قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
    تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن

    کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
    تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا

    نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
    فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا

    آپ کہتے ہیں پرایوں نے کیا ہم کو تباہ
    بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو

    نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
    جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

    پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
    کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا

    سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا

    دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

    اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
    صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب

    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

    ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند
    ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

    سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام
    میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

    زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
    مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا

  • کوونٹرے پیٹ مور،معروف انگریز شاعر اور نقاد

    کوونٹرے پیٹ مور،معروف انگریز شاعر اور نقاد

    پیدائش:23 جولائی 1823ء
    وفات:26 نومبر 1896ء

    کوونٹرے پیٹ مور مشہور نظم ”The Angel in the House“ کا شاعر جو ایک انگریز تھا ۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی ایام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کوونٹرے نے اپنی ابتدائی تعلیم گھریلو ماحول میں ہی حاصل کی۔ اس کی تعلیم میں اس کے باپ کے بھی بہت سے اثرات تھے۔ اس کی مصورانہ صلاحیتوں کی بنا پر اسے Silver Pallet کا انعام 1838 میں سوسائٹی آف آرٹ کی طرف سے دیا گیا ۔ سولہ سال کی عمر میں اسے فرانس کے اسکول میں بھیجا گیا جہاں اس نے پہلی نظم لکھی۔1944 میں اس کی نظموں کا ایک مجموعہ شائع ہوا۔
    وہ ایک سادہ طبعیت انسان تھا جس کی عمر برٹش میوزیم لائبریری لندن میں ایک ذمے دار عہدے پر ملازمت کرتے گزری۔ یہ ملازمت اس نے انیس سال کی عمر میں 1846 میں حاصل کی ۔
    1847ء میں اس کی شادی ایملی آگسٹا نامی خاتون سے ہوئی جن سے اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ پہلی بیوی کا انتقال 1862 میں ہوا جس کے بعد اس نے 1865 میں دوسری شادی کی۔ دوسری بیوی کی وفات 1880 میں ہوئی جس کے بعد اس نے 1881 میں تیسری شادی کی ۔

    نمایاں کام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس کا شمار اپنے عہد کے اچھے لکھنے والوں میں ہوتا تھا۔ وہ نہ صرف ایک شاعر بلکہ ایک اچھا ادیب بھی تھا جس کے مضامین اس زمانے کے معیاری رسائل میں اکثر و بیشتر شائع ہوا کرتے اور ادبی حلقوں میں وقعت کی نگاہ سے دیکھتے جاتے تھے۔ مقالے اور مضامین کے علاوہ اس نے بہت سے ناول لکھے اور کئی شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ اس کی تمام تخلیقات میں اخلاقی اور مذہبی عنصر خاص طور پر نمایاں ہے ۔ کووینٹرے کی بعض تخلیقات درج ذیل ہيں :

    ۔ (1)Tamerton Church
    ۔ (2)The Angel in the House
    ۔ (3)The Betrothed
    ۔ (4)The Espousals
    ۔ (5)Faithful For Ever
    ۔ (6)The Victories of Love
    ۔ (7)How I managed my Estate
    ۔ (8)The Unknown Eros
    ۔ (9)Amelia
    ۔ (10)English Metrical Law
    ۔ (11)Principle in Art
    ۔ (12)Religio poetae
    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ذیل میں پیٹ مور کی مشہور نظم ‘Toys’ کا ترجمہ دیا جا رہا ہے۔ جسے اصل نظم کے مشابہ پیش کیا گیا ہے ۔

    کھلونے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سات سالہ مرا فرزند، مرا لختِ جگر طفل وہ بے مادر ، لیکن اُس نے میری تنبیہ کے باوصف پھر آج ساتویں مرتبہ عمداً مرا توڑا قانون کھولنے ہی تو لگا میرا خون تھا مرے پاس نہ کچھ اس کے سوا کوئی علاج سخت لہجے میں بری طرح سے اس کو ڈانٹا اور اک منہ پہ لگایا چانٹا اور اُس رات خلافِ معمول دمِ رخصت نہ دعا دی نہ اسے پیار کیا ۔ بھرے آنکھوں میں تھا موتی وہ مرا دُر یتیم سامنے میرے کھڑا لیے ڈوبے ہوئے شبنم میں وہ نرگس کے دو پھول صاحب ِ وضع، میں پابندِ اصول کر سکا اپنے رویے میں نہ کوئی ترمیم خواب گاہ کی طرف اپنی میں مڑا، وہ اپنی کچھ زیادہ ہی تھی اس رات فضا میں سردی کروٹیں بدلا کیا، نیند نہ آئی مجھ کو آخرش جی میں یہ آئی کہ ذرا دیکھوں تو کہ ہے کس حال میں میرا دل بند جھانک کر میں نے جو دیکھا اندر ، سو رہا تھا وہ مرا نورِ نظر ایک خوابیدہ کلی کی مانند پاس اک میز پہ کچھ اس کے کھلونے تھے سجے سیپیاں، گھونگھے، گھروندے تھے کئی ان کے بنے شیشیاں چند پرانے سکے کئی سنگ، خارا ایک ٹوٹا سا قلم بڑی نُدرت، بڑی فنکاری سے ان سب کو سجایا گیا بھول جانے کو ہر اک اپنا غم دیکھ کر اس کو، مجھے اس پہ بہت آیا پیار میرا معصوم، وہ میرا فنکار مضطرب ہو کے جو کی میں نے دعائے شب ادا دل پگھل کر مرا آنکھوں سے مری بہنے لگا گڑگڑا کر یہ کہا میں نے کہ اے رب رحیم میں بھی اک طفلکِ ناداں ہوں، اے خلاق عظیم کھیلتا میں بھی کھلونوں سے ہوں اکثر یا رب طبعِ طفلانہ سے مجبور ہوں یکسر یا رب روزِ محشر کوئی طفلانہ ادا بھا جائے بے بسی پر مری شاید تجھے رحم آجائے
    (جام بجام ترجمہ : سید شاکر علی جعفری)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری اس کائنات میں کھربوں ستارے ہیں جن میں سے سورج بھی ایک عام سا ستارا ہے۔ جس طرح سورج کے گرد آٹھ سیارے (جن میں زمین بھی شامل ہے)، جو گردش میں ہیں اور ملکر نظامِ شمسی بناتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اربوں ستاروں کے گرد سیارے گھوم رہے ہیں۔ان سیاروں کو Exoplanets کہا جاتا ہے۔ تو ان میں سے کوئی ایسے سیارے بھی ہیں جن پر کسی صورت میں انسان یا انسانوں جیسی مخلوق ہو؟

    نوے کی دہائی تک ہمارے پاس ٹیکناکوجی نہیں تھی کہ ان دور افتادہ Exoplanets کی تصاویر لے سکیں۔

    وجہ یہ کہ ستاروں کے مقابلے میں سیارے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ خود روشنی پیدا نہیں کرتے بلکہ اسے منعکس کرتے ہیں۔

    انہیں ڈھونڈنے کا ایک طریقہ جو سائنسدانوں نے نکالا وہ یہ تھا کہ آپ مسلسل کسی ستارے کی تصاویر لیں اور جب انکے سامنے سے کوئی سیارہ گردش کرتے ہوئے گزرے تو ستارے سے آنے والی روشنی میں ہلکی سی کمی ہو۔ اس معمولی سی کمی کی پیمائش کے لیے مگر بہت ہی حساس دوردبینں اور آلات چاہئیں۔

    تو سائنسدانوں نے آخر کار ایسی دوربینیں اور ایسے طریقے ڈھونڈ نکالے جن سے ہم Exoplanets کو تلاش کر سکیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ان Exoplanets میں سے کوئی ہماری زمین جیسا ہے جہاں زندگی پنپتی ہو۔انسان یا انسانوں سے زیادہ تہذیب یافتہ مخلوق بستی ہو؟

    اسے معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

    جس طرح ہر انسان کی اّنگلیوں کے نشان دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی ہر عنصر، گیس، یا مالیکیول کا ایک فنگر پرنٹ ہوتا ہے۔

    کیسے؟ یوں کہ جب سفید روشنی(مثال کے طور پر سورج کی) کسی بھی ایٹم یا مالیکیول پر پڑتی ہے تو اسکا کچھ حصہ وہ جذب کر لیتا ہے اور کچھ حصہ منعکس۔ یہ اس کا سپیکٹرم کہلاتا ہے۔جس رنگ کی روشنی کو وہ جذب کرتا ہے اور جس رنگ کی روشنی کو منعکس، یہ اُسکا جداگانہ فنگر پرنٹ ہے جس سے اسکی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    اب اگر ہم دور افتادہ کسی Exoplanets کی کسی حساس ٹیلی سکوپ سے تصویریں لیں تو اُسکی فضا سے گزر کر ہم تک پہنچتی روشنی ہمیں اُسکی فضا میں موجود گیسیس، عناصر اور مالیکیولز کا پتہ دے سکتی ہیں۔

    مثال کے طور پر اگر کوئی دور خلاؤں میں سے ہماری زمین کی تصاویر لے تو وہ ہماری فضا سے گزرتی روشنی کو اس طریقے سے جانچ کر یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں آکیسجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، نائٹروجن اور میتھین وغیرہ وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

    علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہم کیا کوئی تہذیب یافتہ مخلوق ہیں کیونکہ کچھ گیسیس قدرتی طور پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مصنوعی طور پر ہی تیار ہوسکتی ہیں۔ کچھ انسانی ترقی یا کھیتی باڑی کے باعث۔

    مثال کے طور پر ایمونیا۔ یا اگر ہم کھیتی باڑی کے لئے مصنوعی کھاد بناتے ہیں تو نائٹرس آکسائڈ۔

    2021 کے آخر میں سائنسدانوں نے James Webb Telescope لانچ کی جو اس وقت سورج کے گرد مدار میں ہے۔

    اس ٹیلیسکوپ سے ہم کئی نوری سال دور مختلف Exoplanets کی فضاؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

    اور شاید یہ جان پائیں کہ کس سیارے پر کھیتی باڑی یا صنعتی ترقی ہو رہی ہے یا ماضی میں وہاں کوئی مخلوق بستی تھی۔

  • موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    دنیا کی سب سے خوبصورت موٹیویشن ماں اور باپ ہیں ۔ آپ اگر بچے ہیں تو موٹیویشن باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ؟

    ماں آپ کو بے لوث ان تھک محبت کرنا یہ محبت کر کے سکھاتی ہے۔ یہ آپ کو رشتہ نبھا کر رشتہ بنانا سکھاتی ہے۔ باپ اپنی زندگی آپ کیلئے گزار کر آپ کو زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔ ان کی صبح شام آپ کیلئے ہوتی ہے آپ لیکن ان کی زندگی میں کہاں ہیں ؟

    آپ بڑے ہیں تو اولاد آپ کی موٹیویشن ہے۔ کیونکہ موٹیویشن کی ضرورت ہمیشہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ۔ اولاد کی پرورش سے بڑا اور اہم مقصد کیا ہوگا ؟ جینے کا مقصد اگر زندگی میں ہے تو آپ کہاں ہیں ؟ ہم اکثر جینے کی موٹیویشن باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ باہر سے ایک دوسرے کو تسلی ترتیب و ترکیب تو مل سکتی ہے ۔ موٹیویشن نہیں ملتی۔

    اپنی موٹیویشن گم نہ کردیں اس کیلئے اپنی موٹیویشن کی دنیا میں خود کو دستیاب رکھیں ۔

  • ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم رئیر ڈی زیزز (Rare Disease) کی کیٹگری میں شامل ہے۔ کہ دنیا بھر میں یہ سپیشل کنڈیشن بہت کم ہوتی ہے۔ اسے ایک اور نام ایکرو سیفیلو سنڈیکٹلی ٹائپ 1

    acrocephalo syndactyly type 1

    بھی کہا جاتا یے۔ یہ craniosynostosis سنڈروم سے مشابہت بھی رکھتا ہے۔ اس سے متاثرہ بچے کی شکل اور ہاتھ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

    اسے دانشورانہ پسماندگی (Intellectual disabilities) کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔

    یہ کنڈیشن وراثت میں autosomal dominant ہے۔ یعنی والدین کو نہیں بھی ہوگا فیملی ہسٹری میں نہیں ہے تو بھی ہو سکتا ہے۔ ان بچوں کی مشترکہ خصوصیات میں

    آنکھیں بڑی بڑی باہر کو نکلی ہوئی ہوتی ہیں،

    اوپری جبڑا ٹھیک سے نہ بنا ہونے کی وجہ سے دانت ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں۔

    کئی کیسز میں ایسے ہی نیچے والا جبڑا بھی ہوتا ہے۔

    ناک طوطے کی چونچ کی طرح اوپر اٹھی ہوئی گول مٹول سی ہوتی اسے Beaked Nose کہا جاتا ہے۔ رنگ عموماً سفید و سرخ ہوتا ہے۔

    اوور آل چہرہ درمیان سے نیچے بیٹھا ہوا چپٹا سا ہوتا ہے۔

    کھوپڑی نارمل شیپ سے مختلف ہوسکتی عموماً کون کی شکل ہوتی ہے۔ ڈاکٹری زبان میں turribrachycephaly
    کہا جاتا ہے۔ کھوپڑی بہت بڑی یا بہت چھوٹی یا ٹیڑھی میڑھی سی کہیں سے اونچی کہیں سے نیچی ہو سکتی ہے۔

    سنڈیکٹلی (syndactyly) کیا ہے؟

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ایک کنڈیشن اور ہے جو ایپرٹ سنڈروم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔ اسے سنڈیکٹلی کہا جاتا ہے۔ ایپرٹ سنڈروم اور سنڈیکٹلی 99 فیصد کیسز میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔

    اس میں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی دو دو یا تین تین انگلیاں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ نوے فیصد رنگ فنگر اور ساتھ والی انگلی جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ شہادت انگلی اور چھنگلیا جسے پنجابی میں چیچی کہتے الگ ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا بھی آزاد ہوتا ہے۔ مگر 5 فیصد کیسز میں چھنگلیا کو چھوڑ کر تینوں انگلیاں جڑی ہوتی ہیں۔ اور پاقی 5 فیصد میں چاروں انگلیاں ہی جڑیں ہوتی ایک بڑی سی انگلی بنی ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا الگ ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ آگے چل کر دیکھتے ہیں۔

    آبادی میں کتنے فیصد ایپرٹ سنڈروم ہیں؟

    مختلف سٹڈیز بتاتی ہیں کہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچوں کی پیدائش کی ریشو ہر 65 ہزار میں سے ایک بچہ ہے یعنی 2 لاکھ میں سے 3 بچے ایپرٹ سنڈروم کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اسی ریشو کا حساب کیا جائے تو 22 کروڑ میں سے 3 ہزار سے 32 سو کے آس پاس لوگ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں National Organization for Rare Disorders (NORD) کے مطابق ہر 165،000 سے 200،000 بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ وہاں کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق 65 ہزار سے 88 ہزار بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    فیملی ہسٹری کے بغیر بھی یہ سنڈروم بچے میں آ سکتا ہے۔ اگر والدین میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم ہو تو 50 فیصد چانسز ہوتے ہیں بچے میں ایپرٹ سنڈروم منتقل ہوگا۔ اسی لیے انکی شادیوں کو سپورٹ نہیں کیا جاتا۔

    یہ ایک جینیٹک کنڈیشن ہے۔ جیسے کسی سافٹ ویئر یا موبائل ایپ کی کوڈنگ ہوتی ہے ناں؟ بالکل اسی طرح ہمارا وجود جب پانی کا ایک گندہ قطرہ ہوتا ہے۔ جو ماں کے رحم میں بیضے سے ملاپ کرتا ہے۔ تو خدا کی ذات اس سپرم اور بیضے کے ملنے بننے والے زائیگوٹ میں ایک سسٹیمیٹک کوڈنگ کرتی ہے۔ جسے ہم DNA کے نام سے جانتے ہیں۔

    ڈی این اے میں آدھی جنیٹک انفارمیشن ماں کی طرف سے اور آدھی باپ کے جینز سے آتی ہے۔ ڈی این اے ایک کوڈنگ سسٹم ہے جو ہماری ازل سے ابد تک کی ساری انفارمیشن ہمارے مرنے کے ہزاروں لاکھوں سال بعد تک بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اور جینز اسکے مزید پارٹ ہیں۔ جینز پانی کے اس قطرے سے ہماری شکل عقل رنگ روپ قد کاٹھ جسامت بنانے میں ڈی این اے میں محفوظ کوڈنگ پر عمل کرتے ہیں۔

    پانی سے خون اور پھر گوشت کا لوتھڑا بننے کے دوران جینز میں کئی تبدیلیاں اور تغیرات آتے ہیں۔ ڈی این اے نہیں بدلتا وہ وہی رہتا ہے۔ اب کونسے جین میں میوٹیشن mutation ہوئی ہے؟ وہ طے کرتی ہے کہ مسئلہ کہاں ہوگا؟ اگر سب جینز بالکل ٹھیک رہیں تو ہم بغیر کسی جسمانی عارضہ کے پیدا ہوتے ہیں۔

    ایپرٹ سنڈروم میں
    fibroblast growth factor receptors 2 (FGFR2)

    نامی جین میں کوئی تبدیلی یا خرابی واقع ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ جینز پروٹین بناتے ہیں اور وہ پروٹین آگے ہڈیوں اور اسکن کے سیلز بناتی ہے۔ یہ والا FGFR2 جین ہڈیوں کی مجموعی ڈیویلپمنٹ کے سگنل دینے کا کام کرتا ہے۔ یعنی یہ جین ہی ہماری ہڈیاں بنانے کا ذمہ دار ہے۔ اب اس میں خرابی کے باعث پروٹین سے اگلے مرحلے میں ہڈیاں بننے کے عمل میں ہمارے ڈھانچے کو ملنے والے سگنل اپنے نارمل دورانیے سے لمبے عرصے تک ملتے رہتے ہیں۔ تو کھوپڑی کی ہڈیوں کو یہ جین وقت سے پہلے ہی بند کر دیتا ہے۔

    اور اوپر ریشے چڑھا دیتا ہے۔ یہ عمل نارمل گروتھ پیٹرن میں چند سال کی عمر میں ہونا تھا۔ جو ماں کے پیٹ میں ہی ہو گیا۔ اب کھوپڑی بڑی ہونے لگتی ہے۔ تو مسلز کے گچھے اسے بڑھنے نہیں دیتے روکتے ہیں۔ ان مسلز کی انفارمیشن کے مطابق برین مکمل ہوچکا ہے جبکہ ہوا نہیں ہوتا۔ اور کھوپڑی ابنارمل طریقے سے بڑی ہونا شروع ہوتی ہے۔ جہاں سے اسے موقع ملتا ہے بڑھ جاتی ہے۔ بلکہ کئی بچوں کی کھوپڑی ڈیمج ہوجاتی ہے۔ ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں میں موجود ہڈیاں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ اور جسم کی باقی ہڈیوں میں بھی کسی حد تک کوئی بگاڑ آ سکتا ہے۔

    اسی جین FGFR2 میں خرابی کی وجہ سے چند اور منسلکہ ڈس آرڈر بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ

    Pfeiffer syndrome
    Crouzon syndrome
    Jackson-Weiss syndrome

    ایپرٹ سنڈروم مردوں اور عورتوں میں برابر پایا جاتا ہے۔

    تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

    ایک بات یاد رکھیں بیسویں ہفتے میں حاملہ ماں کا الٹرا ساؤنڈ کسی میل ریڈیالوجسٹ سے کلر ڈاپلر ٹو ڈی یا تھری ڈی کے ساتھ ضرور کروائیں۔ گائنا کالوجسٹ کو الٹرا ساؤنڈ کا اتنا علم نہیں ہوتا۔ جتنا ایک ریڈیالوجسٹ کو۔ اور میل کی معاملہ فہمی و ایسے سکینز کی تشخیص فی میل سے ہر معاملے میں کچھ بہتر ہی ہوتی ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے آپ اس سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ حمل کے چھٹے ماہ میں ڈھانچے کا سکین کرنے سے پتا چل جاتا ہے کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم ہے یا نہیں۔ کوئی اور بھی سپیشلٹی ہو تو ڈاکٹر بتا دیتے ہیں۔ کھوپڑی ٹھیک نہ بنی ہو تو نظر آ رہی ہوتی۔ یا پیدا ہونے پر ہی معلوم ہوجاتا کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہے۔ پیدائش کے بعد سی ٹی سکین سے ہڈیوں میں خرابی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ایورج عمر کتنی ہو سکتی؟

    عموماً ایپرٹ سنڈروم کا شکار بچے باقی مقامی لائف سپین کے مطابق عمر گزارتے ہیں۔ ایورج عمر اتنی ہی ہوگی جتنی انکے باقی بہن بھائیوں کی۔ البتہ دل کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ الگ بات ہے۔

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچے کو مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    مسائل بہت زیادہ ہیں جو ساری عمر در پیش رہ سکتے ہیں۔ والدین یا سرپرست کو اس بات کو دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ بچہ ساری عمر سپیشل اٹینشن اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے زیر سایہ ہی رہے گا۔

    سماعت کا جزوی یا کلی طور پر نہ ہونا
    بولنے میں دشواری ہونا
    شدید ایکنی Acne ہونا جس سے پورے جسم چہرے گردن پر دانے اور پمپل بن جانا
    بہت زیادہ پسینہ آنا
    گردن میں سپائنل بون کا جڑا ہوا ہونا جو قد کو بڑھنے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے
    آئلی سکن ہونا
    پلکیں اور بھنویں بہت اکثر کم یا نہ ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں شدید تاخیر ہونا
    تالو کا کٹا ہوا ہونا یعنی Cleft palate
    آئے روز کانوں کا انفیکشن ہونا۔
    معمولی سے لے کر درمیانے لیول کی دانشورانہ پسماندگی intellectual disabilities ہونا۔

    علاج کیا ہے؟

    ہر بچے کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ عمر کے ابتدائی دو سالوں میں سرجری کرکے برین کو بڑھنے سے روکنے والے مسلز کو کافی حد تک ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ چہرے کی سرجری کرکے جبڑوں اور چہرے کی دوسری ہڈیوں میں موجود خلا یا بگاڑ کو بھی درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن چیک اپ ساری عمر جاری رہیں گے یہ کنڈیشن بلکل ٹھیک کبھی نہیں ہوگی۔ جن چیزوں میں بہتری لائی جا سکتی ان میں

    بصارت کے مسائل کا بہتر ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں تاخیر کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے
    دانتوں کے ابنارمل پیٹرن کو درست کیا جا سکتا ہے

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    دانشورانہ پسماندگی نہ ہو یا ذہانت کم ہو تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق یہ بچے نارمل یا سپیشل ایجوکیشن سیٹ اپ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    بلکل کر سکتے ہیں۔ مگر انکی شادیاں دنیا بھر میں کم ہی ہو پاتی ہیں۔ اگر شادی کریں تو کوشش کریں بچے نہ پیدا کریں۔۔

    مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس

  • موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں  — اشرف حماد

    موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں — اشرف حماد

    ’’پیش گوئی ‘‘ یا پشین گوئی فارسی ترکیب ہے یعنی دو فارسی لفظوں کا "معجون” مرکب۔ پیش کے معنی ہیں آگے یا سامنے اور گوئی کے معنی ہیں بات یا باتیں کہنا۔ اسی لیے جب کسی کے آگے یا سامنے کوئی چیز رکھتے ہیں تو اسے پیش کرنا کہتے ہیں۔ یا ماڈرن انداز میں Present کرنا کہتے ہیں۔ جیسے پیشِ خدمت ، پیش رو (یعنی آگے جانے والا)، پیشِ نظر(یعنی نظر کے سامنے)، پیش قدمی (یعنی قدم آگے بڑھانے کا عمل)اور پیش کار وغیرہ۔

    پیش امام میں بھی یہی "پیش” نتھی کیا گیا ہے یعنی ’’آگے‘‘ ہے کیونکہ وہ نماز میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ یا اسے آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اسے پیش امام کہتے ہیں۔ پیش امام تو اہل تشیع کا با اختیار ہوتا ہے۔ جب کہ سنیوں کا پیش امام "ڈیجیٹل” ہوا کرتا ہے۔ سلو یا فاسٹ ڈیجیٹ کے حساب سے وہ امامت کراتا ہے۔ ان ڈیجیٹس کا استعمال مسجد کمیٹی کے ریٹائرڈ ممبران بخوبی استعمال کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح "پیش بینی” کے معنی ہیں پہلے سے دیکھ لینا اور اس سے مطلب ہے دُور اندیشی یا آنے والے حالات کا پہلے سے اندازہ کرلینا۔ دور اندیش اصل میں گھر کے بڑے بوڑھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ نزدیکی نظر ان کی کمزور ہوتی ہے، لہٰذا انہیں عینک کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ مگر دور کی نظر ان کی بہت تیز اور تیر بہدف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول سعدی شیرازیؒ جو کچھ جوان آئینہ میں دیکھتا ہے وہ یہ بزرگ حضرات خشتِ خام تو کیا کنکریٹ دیوار میں بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسے یو ٹیوب کے ایچ ڈی ویڈیوز۔

    فارسی میں اسم کے آگے ’’ین ‘‘ لگانے سے صفت بنائی جاتی ہے، جیسے نمک سے نمکین، رنگ سے رنگین،زر سے زرّین یا زرّیں، عنبر سے عنبرین، مطلب عنبر سیب سے سیب عنبرین وغیرہ۔ پتہ نہیں سیب عنبر کے متعلق کس نے بد گوئی کی تھی کہ یہ سرے سے ناپید ہوا بلکہ ناپید کیا گیا۔ اب تو یہ کسی دلہن کے خواب میں بھی نہیں آتا تاکہ اس کے بیٹا پیدا ہو جاتا۔

    اسی اصول پر لفظ پیش (پ ے ش)سے فارسی میں صفت بنی ’’پیشیِن‘‘ (پ ے ش ی ن ) ،جس کے معنی ہیں اگلا یا آگے کا، سامنے کا، پہلا۔ اسے اردو میں ’’پیشین ‘‘یعنی اعلان ِ نون کے ساتھ بھی لکھتے ہیں اور’’ پیشیں ‘‘یعنی نون غنے کے ساتھ بھی۔ لفظ پیشین سے ترکیب بنی ہے پیشین گوئی ،لفظی معنی ہیں پہلے سے کہنا ۔ جب آگے آنے والے واقعا ت و حالات کے بارے میں ان کے رونما ہونے سے پہلے بتادیا جائے تو اسے پیشین گوئی کہتے ہیں ۔جو شخص آنے والے حالات کے بارے میں پہلے سے کچھ بتا دے اسے پیشین گو کہتے ہیں، چاہے وہ سیاسی واردات ہوں یا موسم کا حالِ بد ہو۔

    لیکن ’’مستقبل کے حالات کی پہلے سے خبر دینا ‘‘کے معنوں میں پیشین گوئی بہتر ہے۔ البتہ آج کل ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بعض حضرات اسے ’’پیشن ‘‘ گوئی بولتے ہیں، مثلاً محکمۂ موسمیات نے بارش کی ’’ پیشن گوئی ‘‘ کی ہے ، یعنی نہ پیش اور نہ پیشین بلکہ ایک نیا خود ساختہ لفظ پیشن بولا جارہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کشمیریوں نے ظہر کو پیشن میں بدل دیا ہے۔

    لفظ پیش گوئی کی تاریخ پرانی ہے۔ اگلے وقتوں میں تنجیم داں ہوا کرتے تھے جو مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے تھے۔ پھر جمشید کے پیالے میں گلوبل ولیج دیکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں شاہ نعمت اللہ علیہ رحمہ نے پیشین گوئیاں کیں جو ایک ایک کرکے پوری ہو رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کشمیریوں اور کشمیر کے متعلق ان کی پیشین گوئیوں میں Delay Tactics سے کام لیا جارہا ہے۔
    پیشین گوئیاں موسمی، سیاسی، سماجی، نوکر شاہی اور کنبے کے "پنڈت” کرتے آئے ہیں، مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ اور گھبرائے گا نہیں وہ یہ فریضہ بلا معاوضہ انجام دیتے رہیں گے۔
    بہرحال پیشین گوئیاں تب بھی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں ان کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کو سب زیادہ ہائپ دی جارہی ہے جس سے زندگی کا کارواں رکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پیش گوئی ایک اندازہ ہے، امکان ہے۔ اسے ایسا ہی رہنے دیں۔ اس پر افواہیں پھیلا کر سیاست نہ کی جائے۔ یہ آپ کا اس مظلوم قوم پر بڑا احسان ہوگا۔

  • مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایسے شہابیے گرتے رہتے ہیں جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ فضا میں رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ وہ شہابیے جنکا وزن 10 گرام وزن سے بھی کم ہو اُنکی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ شہابیے زیادہ تر نظامِ شمسی کے مریخ اور مشتری کے بیچ موجود ایسٹرائیڈ بیلٹ سے آتے ہیں۔ایسٹرائیڈ بیلٹ مریخ اور مشتری کے درمیان وہ علاقہ ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے شہابیے موجود ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے مختلف سیاروں پر یا اُنکے چاندوں پر جب کوئی بڑا شہابِ ثاقب گرتا ہے تو انکی سطح سے کچھ ٹکڑے خلا میں بکھر جاتے ہیں۔ اور پھر یہ کروڑوں میلوں کی مسافت طے کر کے زمین پر آ گرتے ہیں۔

    ایسا ہی کچھ مریخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب مریخ پر بڑے شہابِ ثاقب گرتے ہیں تو یہ مریخ کی سطح کا معمولی سا حصہ ، پتھر، یا چٹان کا ٹکڑا تیزی سے مریخ کی گریوٹی سے نکل کر خلا میں نکل جاتا ہے اور سفر کرتے کرتے زمین پر آ گرتا ہے۔ مریخ سے نکلے یہ چٹانوں کے ٹکڑے جو شہابیوں کی شکل میں ہوتے ہیں زمین پر کئی جگہوں پر گرتے ہیں جن میں خاص طور پر انٹارکٹیکا اہم ہے۔ کیونکہ وہاں پر انہیں ڈھونڈنا قدرے آسان ہے مگر بالعموم یہ زمین پر ہر جگہ گرتے ہیں۔

    اب تک تقریباً 277 ایسے شہابیوں کی شناخت کی جا چکی ہے کہ یہ مریخ سے زمین پر آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا شہابیہ افریقہ کے ملک مالی میں 2021 میں گرا۔ اس شہابیے کا وزن تقریباً 14.5 کلو گرام یے۔

    مگر ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ شہابیے مریخ سے آئے ہیں؟ اسکا جواب ہے انکی اندر موجود عناصر اور انکے آئسوٹوپس کی مدد سے۔

    مریخ تک اپ تک کئی روبوٹک مشنز بھیجے جا چکے ہیں اور مریخ کے گرد مدار میں ناسا کے سپیس کرافٹ بھی موجود ہیں۔ یہ سب مریخ کی سطح اور اِسکی چٹانوں کی ساخت اور ان میں موجود عناصر اور اُنکے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ مریخ کی فضا کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ سو اگر ہم زمین پر گرنے والے شہابیوں کا تجزیہ کریں اور ان میں وہی عناصر اور اُسی طرح کی کمپوزیشن ہو جو مریخ کی چٹانوں کی ہے تو ہم بہتر انکان کے ساتھ بتو سکتے ہیں کہ یہ مریخ سے آئے ہیں۔

    مریخ سے آئے یہ مہمان سائنسدانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیونکہ انکے تجزے سے وہ جان سکتے ہیں کہ کیا مریخ پر ماضی میں زندگی موجود تھی اور کیا اب بھی کسی شکل میں مریخ پر کوئی زندگی کسی شکل میں موجود ہے یا نہیں؟

    گو کچھ شہابیوں میں مریخ پر ماضی میں زندگی کے حوالے سے آثار ملے ہیں مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کئی ہزار سال پرانے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ زمین پر گرنے جے بعد یا زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے ان می کوئی زمینی مائیکروب یا کوئی چھوٹے کیڑے وغیرے داخل ہو چکے ہوں اور پھر یہ کئی ہزار سال گزرنے کے بعد فوسل کی شکل اختیار کر گئے ہوں۔ لہذا حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان شہابیوں میں موجود ماضی میں زندگی کے آثار مریخ کی زندگی کے ہیں یا زمین کی زندگی کے۔ یہی وجہ ہے کہ 2021 میں ناسا نے مریخ پر پروزیرورینس روور بھیجی ہے جو وہاں کی چٹانوں اور سطح کے تجزیے کے ساتھ ساتھ وہاں کی سطح کے کئی سیمپل بھی اکٹھے کر رہی ہے۔ جنہیں مستقبل کے کسی ممکنہ مشن میں زمین پر واپس لایا جائے گا اور اِنکا بہتر طور پر تجزیہ کیا جا سکے گا۔