Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!
    تحریر:ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب سے تورخم اور چمن بارڈر بند ہوئے ہیں، بازاروں میں انار کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ ایک کلو انار جو کابل میں دس روپے کا مل رہا ہے، لاہور، کراچی اور پشاور میں ڈیڑھ سے دو سو روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ مذاق اڑا رہے ہیں کہ "انار تو سونا ہو گیا”۔لیکن یہ مذاق نہیں، خون ہے۔ ہر وہ انار جو سرحد پار سے آتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک گولی بھی آتی ہے جو کسی پاکستانی سپاہی کے سینے میں لگتی ہے۔ ہر وہ سیب اور انگور کا ٹرک جو افغانستان سے گزرتا ہے، اس کے نیچے شاید کوئی دھماکہ خیز مواد چھپا ہو تاہےجو ہمارے شہروں میں پھٹتا ہے۔

    اس لیے واضح پیغام ہے کہ سستے اناروں کے بدلے پاکستانی خون، نامنظور!

    رواں سال میں اب تک فتنہ الخوارج تحریکِ طالبان پاکستان نے 1300 سے زائد دہشت گرد حملے کیے ہیں۔ ان میں 1600 سے زیادہ پاکستانی شہید اور 2500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کوئی تھنک ٹینک کی رپورٹ نہیں، یہ ہمارے قبرستانوں کی حقیقت ہے۔ ہر حملے کے پیچھے افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہیں ہیں، جہاں TTP، القاعدہ اور داعش خراسان کے دہشت گرد آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں، تربیت لے رہے ہیں، ویڈیوز بنا رہے ہیں اور سرحد پار کر کے ہماری گردنوں پر چھری چلا رہے ہیں اور بم پھوڑ رہے ہیں۔

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے 2021 میں جب امریکی چلے گئے تو ہم نے سوچا تھا کہ شاید امن ہو جائے گا۔ ہوا کیا؟ دو سال کے اندر TTP نے دوبارہ سر اٹھایا اور آج ہم 2014 سے بھی بدتر صورتحال میں کھڑے ہیں۔

    افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر جو کنٹینرز آتے ہیں، ان میں سے کتنے واقعی سامان لے کر آتے ہیں اور کتنے اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور منشیات؟ 2024-25 میں پاکستانی کسٹمز نے متعدد کنٹینرز پکڑے جن میں ہیروئن، شیشہ، جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا۔ یہ سب "افغان ٹرانزٹ ٹریڈ” کے نام پر بھارت اور دیگر ممالک سے آ رہا تھا اور راستے میں ہماری سڑکوں، ہماری فوج اور ہمارے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    اب جب سرحد بند کی گئی تو افغان تاجر چیخ رہے ہیں کہ "ہمارا کاروبار تباہ ہو گیا”۔ اچھا۔ تو کیا ہم اپنے بچوں کی لاشیں گن کر کاروبار کریں؟

    افغانستان کے پاس ایران کا چاہ بہار پورٹ ہے، ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے راستے ہیں۔ رواں سال ہی افغانستان نے ایران کے راستے 1.6 بلین ڈالر کی تجارت کی جبکہ پاکستان کے راستے صرف 1.1 بلین ڈالر کی۔ یعنی متبادل موجود ہے، بس وہ تھوڑا مہنگا ہے۔

    کیا ہمارا خون سستا ہے..؟ ،کیا ہمارے اور ہمارے بچوں اور خاندانوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے ..؟،نہیں ہماراخون بہت قیمتی ہے،جس کی قیمت کوئی نہیں چکا سکتا،

    جب سے ہم نے سرحد بند کی تو کابل میں انار کی قیمت دس روپے کلو سے پانچ روپے کلو تک پہنچ گئی ،اس کے برعکس پشاور میں دو سو روپے تک چلی گئی۔ یہ فرق صرف پھل کی قیمت کا نہیں، یہ زندگی اور موت کا فرق ہے۔

    کابل میں بیٹھے طالبان حکمران کہتے ہیں کہ "TTP پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے”۔ اچھا۔ تو پھر ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ افغان انار، آلو، سیب، انگور، قالینیں اور لاجورد تو یہ سب افغانستان کا اندرونی مسئلہ ہے،ہمارا کیا ہے۔ ہمارے کسان، ہماری مارکیٹیں، ہمارے گودام بھرے پڑے ہیں۔ ہم بغیر افغان پھلوں کے بھی جی لیں گے، لیکن اپنے بچوں ،اپنے خاندانوں کے بغیر نہیں جی سکتے۔

    طالبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ 2021 سے پہلے پاکستان نے ان کی بہت مدد کی تھی۔ ان کے زخمیوں کا علاج ہمارے ہسپتالوں میں ہوا، ان کے رہنما ہماری سرزمین پر رہے، ان کی فیملیاں یہاں رہیں۔ اب جب وہ اقتدار میں ہیں تو وہی پرانی "اسٹریٹجک ڈیپتھ” والی پالیسی چلا رہے ہیں۔ یہ پالیسی نہیں چلے گی۔

    اب پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ یا تو TTP کو ختم کرو، یا ہم خود ختم کریں گے… چاہے سرحد پار جا کر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    آج پشاور کا بچہ، کوئٹہ کی ماں، کراچی کا تاجر، لاہور کا طالب علم ، سب ایک ہی زبان بول رہے ہیں کہ "ہم اپنے فوجیوں کی لاشوں کی قیمت پر انار نہیں کھائیں گے” "ہم اپنے بچوں کی شہادت کی قیمت پر سیب نہیں کھائیں گے” "ہم اپنوں کے خون کی قیمت پر کوئی تجارت نہیں کریں گے”

    یہ کوئی سیاسی بیان نہیں، یہ قومی ضمیر کا بیان ہے۔

    سرحد پر کھڑا پاکستانی سپاہی سردی میں کانپ رہا ہے، گرمی میں پسینے سے شرابور ہے، گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے۔ وہ اپنی جان دے رہا ہے تاکہ ہم اپنے گھروں میں چین سے سو سکیں، اپنے بچوں کو سکول بھیج سکیں، اپنی بیٹیوں کی شادیاں کر سکیں۔

    اس کی قربانی کی قیمت پر انار، انگور اور سیب کی کوئی تجارت قبول نہیں۔

    جب تک افغانستان میں TTP کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، جب تک سرحد پار سے ہماری گردنوں پر چھری چلتی رہے گی، جب تک ہماری ماؤں کے آنسو نہیں رکیں گے، تب تک سرحد بند رہے گی۔ تب تک ایک دانہ بھی اندر نہیں آئے گا۔

    پاکستانی خون کے بدلے انار؟ یہ سودا ہمیں منظور نہیں!
    سب سے پہلے پاک فوج اور عوام . پاکستان زندہ باد!

  • عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    کائنات کے وسیع و عریض صحرا میں، جہاں سخت چٹانیں بھی موجود ہیں اور نرم ریت بھی، فطرت نے چند چیزوں کو خاص مہربانی کے ساتھ تراشا ہے۔ ان میں سے ایک عورت ہے،جس کی نرمی میں طاقت ہے،جس کی نزاکت میں وقار ہے،اور جس کی خاموشی میں پوری کائنات کی گونج چھپی ہے۔عورت، گویا کسی شاعر کے دل سے پھوٹا ہوا نغمہ ہو، جسے ہوائیں بھی ذرا آہستہ چھوتی ہیں، اور روشنی بھی دبے قدموں اترتی ہے۔

    عورت نازک ہے، مگر یہ نازکی اس کے وجود کی کمزوری نہیں، اس کی نفاست کا وہ روپ ہے جسے قدرت نے بڑی محبت سے چنا ہے۔وہ پھول کی مانند ہےجو نرم ضرور ہوتا ہے،لیکن خوشبو کی صورت دلوں کو فتح کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ دل کا چراغ ہے،جو ذرا سے جھونکے میں لرز بھی جاتا ہے،اور اسی لرزش میں گھر بھر کی روشنی بھی چھپی ہوتی ہے۔عورت کی قیمت اس کے وجود سے ہے،دنیا کی ہر قیمتی شے نرم، نازک اور دلکش ہوتی ہے۔مگر عورت کی قیمت محض حسن میں نہیں،وہ اس کے کردار کی وسعت،اس کی محبت کی گہرائی،
    اور اس کی برداشت کی بلندی میں ہے۔وہ ماں بن کر محبت کا سمندر بانٹتی ہے،بیٹی بن کر گھر کی رونق کا چراغ بنتی ہے،بہن بن کر وفا کی ڈھال ہوتی ہے،اور بیوی بن کر ایک مرد کی دنیا کو سکون کا گھر بنا دیتی ہے۔ایسی ہستی کمزور نہیں ہوتی،وہ پورے گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔

    قدرت نے مرد کے کندھوں پر عورت کی حفاظت کا فریضہ رکھا ہے،یہ فریضہ کوئی تخت نہیں، ایک امانت ہے۔محافظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مرد حکم چلائے،بلکہ یہ کہ وہ عورت کے احساسات کا سپاہی بنے،اس کی عزت کا نگہبان ہو،اور اس کے اعتماد کا پاسبان،طاقت اس وقت تک طاقت نہیں بنتی جب تک وہ کسی کی حفاظت کا وسیلہ نہ بنے۔اگر یہ قیمتی نعمت آپ کے نصیب میں آ جائے،اگر زندگی نے آپ کے دامن میں عورت کی صورت میں ایک ہمسفر رکھ دیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ قسمت نے آپ پر مہربانی کی ہے۔یہ وہ نعمت ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی،یہ وہ خوشبو ہے جو دل کے چاروں گوشوں کو مہکا دیتی ہے۔لہٰذا اس کی مسکراہٹ کی قیمت پہچانیے،اس کی خاموشیوں کی زبان سمجھئے،اس کے خوابوں کو سہارا دیجئے،اس کے خوفوں کی چھاؤں بنیے،اور اس کے نازک دل کو اپنی طاقت سے امن دیجئے،یہی وہ "حفاظت” ہے جس کا حق عورت رکھتی ہے اور جس کا امتحان مرد پر لازم ہے۔

    عورت ایک پھول نہیں، ایک باغ ہے۔وہ ایک نغمہ نہیں، پوری غزل ہے۔وہ نازک ضرور ہے، مگر اس نرمی میں دنیا کو سنوار دینے کی قدرت ہے۔اس کی حفاظت کیجیےکیونکہ حفاظت اس کی ضرورت نہیں،اس کی قدر کا ثبوت ہے.

  • بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    کبھی ایک وقت تھا جب قومی اخبارات میں کسی مسئلے کی نشاندہی کی جاتی تو پورے محکمے میں ہلچل مچ جاتی تھی افسران حرکت میں آتے تحقیقات شروع ہوتیں اور عوام کو یقین ہوتا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے مگر آج منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے میڈیا شور مچاتا رہتا ہے رپورٹس شائع ہوتی ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی عوامی مسائل اب سرکاری فائلوں میں دب کر رہ گئے ہیں اور جنہیں ان کے حل کا ذمہ دار بنایا گیا تھا وہی اب اس بے حسی کا حصہ بن چکے ہیں کرپشن اقربا پروری اور اختیارات کا غلط استعمال اب معاشرتی معمول بن گیا ہے وہ ادارے جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے تھے وہی عوامی مشکلات کی جڑ بن چکے ہیں اے سی سے لے کر چیف سیکرٹری تک اور ایس ایچ او سے لے کر آئی جی تک سب کسی بڑے واقعے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ بعد میں رسمی کارروائی کی جا سکے چھوٹے مسائل پر بروقت توجہ نہ دینے کے باعث وہی مسئلے وقت کے ساتھ سنگین بحران میں بدل جاتے ہیں اگر ذرا قریب سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ بدعنوانی اے سی اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے زیرِ انتظام چلنے والے شعبہ پٹوار میں نظر آتی ہے زمینوں کے انتقال حدبندی اور فرد کے اجراء سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے کاغذ تک سب کچھ چائے پانی کے بغیر ممکن نہیں عام شہری برسوں فائلوں کے پیچھے دوڑتا ہے مگر انصاف اور قانون صرف ان کے لیے دستیاب ہوتا ہے جن کے پاس تعلق یا سفارش ہو۔

    سوال یہ ہے کہ جو افسر اپنے دفتر میں بیٹھے پٹواریوں کو ایمانداری سے کام نہیں کرواتا وہ اپنی تحصیل یا ضلع میں کس تبدیلی کا خواب دیکھ سکتا ہے دوسری طرف محکمہ پولیس کی مثال لیجیے اربوں روپے کی مراعات جدید سہولیات اور وسائل کے باوجود کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ تھانوں میں کرپشن کم ہوئی ہے ایک عام شہری آج بھی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے سفارش ڈھونڈتا ہے اور اکثر اوقات بغیر کچھ دئیے انصاف کا دروازہ بند رہتا ہے ظلم یہ ہے کہ عوام کے محافظ خود شکایت کا مرکز بن چکے ہیں افسران بالا جب کبھی فیلڈ میں جا کر کارروائی کرتے ہیں تو میڈیا کے کیمرے ان کے ساتھ ہوتے ہیں چند تصاویر اور بیانات کے بعد عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اصلاح شروع ہو گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی افسران کے اپنے دفاتر میں کرپشن اور نااہلی کا راج ہے جب اپنے دفتر میں ایمانداری قائم نہیں کی جا سکتی تو فیلڈ میں قانون کی عملداری کیسے ممکن ہے ریاست صرف قانون بنانے سے نہیں چلتی بلکہ قانون پر عمل درآمد سے مضبوط ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں قانون کمزور اور طاقتور مضبوط ہوتا جا رہا ہے عوام کا اعتماد اداروں سے ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ انصاف اب فائلوں فون کالز اور سفارشوں کے گرد گھومتا ہے اگر واقعی تبدیلی مقصود ہے تو اس کا آغاز نیچے سے ہونا چاہیے دفاتر کے اندر سے احتساب دیانت اور شفافیت صرف نعرے نہیں بلکہ نظام کی بنیاد بننے چاہیے جب تک افسران اپنے ماتحت عملے کو قانون کے تابع نہیں کریں گے جب تک پولیس اپنے دروازے عام آدمی کے لیے نہیں کھولے گی اور جب تک کرپشن کو معمول سمجھنے کا رویہ ختم نہیں ہوگا تب تک کوئی اصلاح ممکن نہیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب عوام کا یقین مکمل طور پر ختم ہو جائے گا میڈیا شور مچاتا رہے گا رپورٹس بنتی رہیں گی مگر سننے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری دفاتر کے دروازوں پر چھوڑ دی ہے۔

    شاہد یوسف نارنگ منڈی

  • جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    عظیم الشان اجتماع عام جماعت اسلامی پاکستان جواکیس،بائیس،تئیس نومبر2025 ء کو مینارِپاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے جا رہا ہے یقیناً اپنے معنوی اور نظریاتی پس منظر کے اعتبار سے ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ”بدل دو نظام“ کے جرات افروز سلوگن کے زیرِ سایہ یہ اجتماع ایک نئے عزم، نئی توانائی اور ایک اُٹھتے ہوئے شعور کی علامت بنتا دکھائی دیتا ہے۔ گٹھا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کا مینار بن جانے کا تصور صرف ایک استعاراتی پکار نہیں بلکہ ایک اجتماعی اُمید، ایک اجتماعی جدوجہد اور ایک اجتماعی بیداری کی علامت ہے جو قوم کے دلوں میں نئی زندگی پھونکنے کے لیے بے قرار ہے۔یہ اجتماع صرف سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل، نظریاتی استقامت اور تحریکی سفر کا وہ قدم ہے جو کم و بیش ایک صدی کے فاصلوں پر محیط جدوجہد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ولولہ انگیز، فکر انگیز اور غیر متزلزل قیادت نے جس قافلے کو روانہ کیا تھا، وہ قافلہ آج بھی اُسی جذبے، اُسی حرارت اور اُسی اخلاص کے ساتھ رواں دواں ہے۔ سیدمودودیؒ کا فکر، اُن کی تعلیمات اور اُن کا تصورِ انقلاب آج بھی اِس سفر کی بنیاد، سمت اور رُوح ہے۔اِسی فکری مشعل کو لے کر میاں طفیل محمدؒ نے جس سوزِ دروں، انکساری اور عزمِ راسخ کے ساتھ قافلے کی رہنمائی کی، وہ تاریخِ پاکستان کے تحریکی اور سیاسی سفر میں ایک روشن باب بن چکی ہے۔ پھر قاضی حسین احمدؒ کی جرات مندانہ قیادت نے جماعت اسلامی کے سفر میں نئی تیزی، نیا ولولہ، نئی توانائی اور نئی وسعتیں پیدا کیں۔ اِن کی خطابت، اِن کا عوامی رشتہ اور اِن کی فکری پختگی نے جماعت کو ایک نئی شناخت عطا کی۔ اِن کے بعد سید منور حسنؒ نے ایک مدبرانہ، متین اور عمیق بصیرت پر مبنی قیادت کا سلسلہ آگے بڑھایا جس نے جماعت اسلامی کے نظریاتی تشخص کو مزید استحکام بخشا۔ سراج الحق کی درویشانہ صفات اور نرم خو مگر پُرعزم قیادت نے جماعت کے حسنِ کردار اور خدمتِ خلق کے پہلو کو اور زیادہ نمایاں کیا۔آج اِس تسلسل کے بعد محترم حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان کی صورت میں جماعت کے سامنے ایسی قیادت موجود ہے جس میں جرات بھی ہے وژن بھی ہے حکمت بھی ہے اور عمل کی برق رفتاری بھی۔ اِن کی شاہین صفت پرواز جماعت کے کارکنان اور عام لوگوں میں نئی اُمید پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ کراچی کی سیاست سے لے کر قومی سطح کے مسائل تک اِن کی جدوجہد نے اِنہیں ملک کے نوجوانوں، متوسط طبقے اور شہری مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنے والے طبقات کے دلوں میں مقبول کر دیا ہے۔ اِن کی قیادت میں ”بدل دو نظام“ کا نعرہ محض ایک سیاسی جذباتیت نہیں بلکہ تبدیلی کے ایک منظم، باوقار، سنجیدہ اور بامقصد راستے کی طرف دعوت ہے۔اِس عظیم اجتماع کے ناظم کہنہ مشق اور منجھے ہوئے سیاست دان لیاقت بلوچ ہیں جن کی سیاسی بصیرت، تنظیمی مہارت اور مزاج کی پختگی اِس اجتماع کو ایک نئی سمت، نئی توانائی اور متاثرکن نظم دے رہی ہے۔ اِن کی موجودگی اِس اجتماع کی وقعت اور اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔یہ اجتماع نہ صرف پاکستان کے اندر مایوسی کے اندھیروں کو چاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ انقلابِ اسلامی کی نوید، ایک نئی صبح کے آغاز اور قوم کے لیے اُمید کی کرن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی، معاشی، سماجی اور تہذیبی صورتحال میں جب ہر سمت اضطراب، بے یقینی اور بے سمتی کے بادل چھائے ہوئے ہیں ایسے میں یہ اجتماع ایک اجتماعی شعور کی بیداری، اتحادِ امت کی مضبوطی اور پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی راہ کا تعین کر سکتا ہے۔اِس اجتماع میں نہ صرف ملک بھر سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے بلکہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے قائدین بھی اِس میں شریک ہوں گے جو نہ صرف باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنے گا بلکہ امتِ مسلمہ کے اندر وحدت، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجز، بحران اور اختلافات ایسے مواقع کا تقاضا کرتے ہیں جہاں ایک سنجیدہ، بامقصد اور نظریاتی بنیادوں پر قائم تحریک سب کو ایک ساتھ بٹھا کر مشترکہ لائحہ عمل سوچنے کا ماحول فراہم کرے۔یہ اجتماع پاکستان کے عوام میں بھی ایک ولولہ تازہ پیدا کرے گا۔ عام آدمی جو مہنگائی، معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، ظلم، ناانصافی اور کرپٹ نظام سے تنگ آ چکا ہے اِسے ایک منظم، باکردار، اُصولی اور متبادل قیادت کا تصور فراہم کیا جائے گا۔ یہ احساس کہ قوم تنہا نہیں، یہ وطن محض مایوسی کی داستان نہیں بلکہ یہاں بھی ایک ایسا کردار موجود ہے جو اُمید دلانے، راستہ دکھانے اور عملی جدوجہد کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مینارِ پاکستان کا تاریخی مقام اِس اجتماع کی معنویت کو مزید گہرا کرتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ایک تاریخی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک وطن کا تصور پیش کیا تھا۔ آج وہی مقام ایک نئی قرارداد، ایک نئے عزم، ایک نئے سفر اور ایک نئی تبدیلی کی طرف خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ یہ اجتماع اِس بات کا اعلان ہے کہ قوم ایک بار پھر اپنی توانائی، اپنی وحدت، اپنے شعور اور اپنی دینی و قومی ذمہ داری کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر یہ اجتماع اپنے مقاصد، اپنی روح اور اپنے سلوگن کے مطابق کامیاب ہوتا ہے تو یقیناً یہ پاکستان کے لیے وہ موڑ ثابت ہو سکتا ہے جس کے بعد قوم اپنی راہیں خود متعین کرے، اپنی منزلیں خود چنے اور اپنے مستقبل کو نئی روشنیوں سے ہمکنارکر دے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد،اِس کی قیادت کی مسلسل قربانیاں اور اِس کا نظریاتی استحکام پاکستان کے لیے ایک نعمت بن سکتا ہے بشرطیکہ قوم اِس بیداری کے لمحے کو پہچانے اور اِسے مضبوطی کے ساتھ تھام لے۔یہ اجتماع نہ صرف جماعت اسلامی کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ اُمید کی نوید بھی ہے جدوجہد کی علامت بھی اور تبدیلی کا اعلان بھی۔ اگر قوم نے اِس پکار کا مثبت جواب دیا تو یہ اجتماع واقعی اندھیروں میں روشنی کا مینار ثابت ہو سکتا ہے۔وہ روشنی جو آنے والی نسلوں کے لیے تابناک مستقبل کی خبر بھی دے اور راستہ بھی دکھائے

  • بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک

    بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک

    بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    تاریخ انسانی گواہ ہے کہ قومیں اپنی عسکری طاقت پر فخر کرتی ہیں، مگر جب یہ طاقت حقیقت کی کسوٹی پر پرکھی جاتی ہے تو بہت سے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ بھارت جو خود کو علاقائی طاقت اور عالمی سطح پر ابھرتا ہوا سپر پاور کہلوانے کا شوقین ہے، حالیہ مہینوں میں ایسی ہی ایک شرمناک صورتحال سے دوچار ہوا ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ بھارتی فضائیہ کے کئی اڑتے ہوئے جنگی طیارے گر کر تباہ ہوچکے ہیں (بھارتی جنگی جہازوں کو عام طور اڑتے ہوئے تابوت کہا جاتا ہے) جن میں جیگوار، ٹرینر جیٹس اور دیگر شامل تھے۔ یہ واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ بھارتی عسکری نظام کی گہری کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

    تاریخی طور پر دیکھا جائے تو بھارت کی فضائیہ کو ایسی ناکامیوں کا سامنا پہلے بھی ہوا ہے۔ 1962 کی چین کے ساتھ جنگ میں بھارتی فضائیہ نے اپنی ناکامی کا مظاہرہ کرچکی ہے ،جب اس کے طیارے چینی حملوں کے سامنے بے بس ثابت ہوگئے تھے۔ اسی طرح 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی بھارتی فضائیہ کو پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا، جہاں ایم ایم عالم جیسے پاکستانی پائلٹس نے بھارتی غرور خاک میں ملایا ،بھارتی جیٹس کو گرا کر تاریخ رقم کردی۔ حالیہ 2025 کی مختصر جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول پاکستانی شاہینوں نے آٹھ بھارتی طیارے تباہ کئے جن میں رفال ،مگ ودیگر شامل تھے، اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔ یہ ناکامیاں نہ صرف بھارتی عسکری طاقت کے دعوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں بلکہ ان کی ٹریننگ، مینٹیننس اور ٹیکنالوجی کی خامیوں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

    اس عسکری ناکامی کے بعد بھارتی قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم نریندرامودی ایک شدید ذہنی دباؤ اور انتقامی ذہنیت کا شکار نظر آیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ناکامی کے بعد قائدین اکثر جذباتی فیصلے کرتے ہیں جو مزید تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ 1971 کی جنگ کے بعد جب بھارت نے پاکستان کو تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کی، تو اس کی قیادت نے فتح کا نشہ چڑھایا، مگر اس سے پہلے 1962 میں چین کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد نہرو کی حکومت شدید پریشانی میں مبتلا ہوئی تھی۔

    آج کی صورتحال میں بالاکوٹ حملے کی ناکامی کے بعد سے بھارتی قیادت کی ذہنی حالت اسی طرح کی ہے۔ 2019 کے بالاکوٹ واقعے میں بھارتی جیٹس کو پاکستانی فضائیہ نے ناکام بنا دیا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ شکست اب تک بھارتی قیادت کے ذہنوں میں تازہ ہے، جو انہیں انتقامی کارروائیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مگر یہ ذہنی دباؤ انہیں منطقی فیصلوں سے دور کر رہا ہے اور نتیجتاً بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے خلاف براہ راست جنگ لڑ سکتا ہے؟ جس کا جواب واضح ہے کہ نہیں کیونکہ بھارت کی کمزور معیشت، داخلی تقسیم، عالمی رسوائی کا خوف اور سرمایہ کاروں کی مخالفت اسے ایسی مہم جوئی سے روکتی ہے۔ تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو بھارت کی معیشت ہمیشہ سے ہی اس کی عسکری مہم جوئیوں کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ 1999 کی کارگل جنگ میں، جب بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تھی تو بھارتی معیشت پر شدید دباؤ پڑا، اور عالمی دباؤ نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

    آج 2025 میں بھارت کی جی ڈی پی گروتھ کم ہو رہی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور داخلی سطح پر مذہبی اور علاقائی تقسیم عروج پر ہے۔ کشمیر، آسام،تری پورہ ،ناگالینڈ اور پنجاب میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ چکی ہیں جو 1947 کی تقسیم کے بعد سے چلی آ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کا سامنا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں درج ہے۔ سرمایہ کار خاص طور پر امریکی اور یورپی کمپنیاں، جنگ کی صورت میں بھارت سے نکل جائیں گی، جیسا کہ 2020 کی چین کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد دیکھا گیا۔ یہ سب عوامل مل کر بھارت کو براہ راست جنگ سے روکتے ہیں کیونکہ ایسی جنگ نہ صرف معاشی تباہی لائے گی بلکہ اس کی داخلی استحکام کو بھی ختم کر دے گی۔

    تو براہ راست جنگ نہ لڑ سکنے کی صورت میں بھارت نے متبادل راستہ اختیار کیا جو ہے افغان اور ایرانی سرزمین کا استعمال۔ بھارت نے افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کو مالی امداد دے کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا جبکہ ایران کی سرحدوں سے بھی جاسوسی اور سبورسیو ایکٹیویٹیز کو ہوا دی جارہی ہے۔ یہ حکمت عملی نئی نہیں بلکہ تاریخی طور پر بھارت نے پراکسی وارز کا سہارا لیا ہے۔

    1971 کی جنگ میں بھارت نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو تربیت اور اسلحہ دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جو بالآخر پاکستان کی تقسیم کا باعث بنی۔ اسی طرح 2001 کے بعد افغانستان میں، بھارت نے شمالی اتحاد اور دیگر گروہوں کو سپورٹ کیا جو پاکستان کی سرحدوں پر دہشت گردی کا ذریعہ بنے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را (RAW) نے افغان سرزمین سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ ایران کے چابہار اور سرباز علاقوں سے بھی سرگرمیاں چل رہی ہیں۔

    2016 میں پاکستان میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، اس کی ایک زندہ مثال ہے، جہاں ایک حاضر سروس بھارتی نیول افسر کو ایرانی سرزمین سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے جاسوسی اور دہشت گردی کے واضح ثبوتوں سمیت سمیت پکڑا گیا ،جس نے خود بھی اعتراف کیا کہ وہ دہشت گردی کا نیٹ ورک چلارہاتھا، پاکستانی حکام کے مطابق کلبھوشن یادیو ایران کے سرحدی علاقے سرباز سے پاکستان میں داخل ہوا، جہاں وہ بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلاتا رہا.

    افغان گروہوں کی مالی بنیاد ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔ یہ گروہ بنیادی طور پر منشیات، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت پر قائم ہیں۔ افغانستان کی افیون کی پیداوار دنیا کا تقریباً 90 فیصد ہے، جو 1980 کی دہائی میں سوویت جنگ کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ اس زمانے میں مجاہدین کی مالی معاونت کے لیے افیون کی تجارت کو ایک ذریعہ بنایا گیا تھا اور آج بھی طالبان سمیت مختلف گروہ اسی معیشت پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سو ملین ڈالر کے عوض یہ گروہ دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت، جو کئی ملین ڈالر تک جاتی ہے، انہی گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ انتہائی خطرناک کھیل ہے کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ پراکسی گروہ اکثر اپنے آقاؤں کے خلاف بھی پلٹ جاتے ہیں۔

    بھارت کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔ جو دہشت گرد آج پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، کل زیادہ رقم کے بدلے بھارت پر پلٹ سکتے ہیں۔ کرائے کے قاتل بے وفا ہوتے ہیں۔ امریکہ کی مثال سامنے ہے، جس نے 1980 کی دہائی میں مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا، مگر بعد میں یہ گروہ القاعدہ بن کر امریکہ کے خلاف ہو گئے۔ اسی طرح بھارت کی سپورٹ والے گروہ، جیسے ٹی ٹی پی یا بی ایل اے، اگر چین یا ایران سے زیادہ رقم ملی تو بھارت کی طرف مڑ سکتے ہیں۔ یہ بھارت کی اپنی سلامتی کے لیے ایک ٹائم بم ہے۔

    اس سب کے باوجود پاکستان کی عسکری دفاعی لائن انتہائی مضبوط ہے۔ پاکستان کی فوج ہر محاذ پر چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ تاریخی طور پر، 1948 کی کشمیر جنگ سے لے کر 1965 اور 1971 تک، پاکستان کی فوج نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کو روکا ہے۔ آج لائن آف کنٹرول ،مشرقی اور مغربی سرحدوں پر پاک فوج کی موجودگی بھارت اور اس کی پراکسیز کو کسی بھی مہم جوئی سے روکتی ہے۔

    دوسری طرف افغانستان کی صورتحال بگڑ چکی ہے کیونکہ یہ ایک "جنگل” بن چکا ہے جہاں دہشت گرد گروہ پیسے کے بل پر بدلتے ہیں۔ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد غیر مستحکم حالات نے یہ صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔ اس غیر یقینی ماحول میں بھارت کی پراکسی حکمت عملی مزید خطرناک ہو گئی ہے کیونکہ یہ گروہ کسی بھی وقت رخ بدل سکتے ہیں اور خطے کو مزید آگ میں دھکیل سکتے ہیں۔

    آخر میں ہم یہ بتاتے چلیں کہ پاکستان ہر طوفان اور مشکلات کے بعد مضبوط ہو کر نکلتا آیاہے۔ 1947 کی تقسیم سے لے کر آج تک، پاکستان نے ہر چیلنج کا سامنا کیا اور ابھرا۔ یہ ملک نہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے زندہ ہے بلکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بھی ہے جوترقی کی منازل طے کررہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایمان، قربانی اور اتحاد پر ہے۔ پاکستان کی فوج، عوام اور قیادت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مشکلات انہیں توڑ نہیں سکتیں بلکہ مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین ایک چٹان ہے، جو ہر حملے کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کی پراکسی جنگیں، عالمی دباؤ اور داخلی مسائل اسے کبھی بھی پاکستان کے خلاف براہ راست کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وقت گواہ ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی، عسکری اور نظریاتی طاقت کے بل پر ہمیشہ سرخرو رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔انشاءاللہ
    پاک فوج زندہ باد،پاکستان پائندہ باد

  • پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سابق وزیراعظم کی بیگم کو لے کر اکانومسٹ میں جادو ٹونے کی جو کہانی شائع ہوئی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم کی بیگم کے بارے میں جادو ٹونے کی کہانیاں میڈیا پر آتی رہیں۔ لیکن موجودہ سٹوری کا الزام ایک ایسی شخصیت پر لگایا جا رہا ہے جو اس طرح کی چیزوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔ پرویز رشید کو میں سالوں سے جانتا ہوں پرویز رشید آج بھی پاکستان کے ان چند سیاست دانوں میں شامل ہوتے ہیں جو دلیل، گفتگو، اصول اور برداشت کے قائل ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ آزمائشیں دیکھیں، جیل کی صحبتیں برداشت کیں مگر راستہ وہی رکھا جو آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں سے جڑا ہوا تھا۔ پرویز رشید کی سیاست اس بات کی علامت ہے کہ طاقت کے بغیر بھی باوقار سیاست کی جا سکتی ہے۔ وہ سیاست کو صرف کھیل نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ پی ٹی آئی اور کچھ صحافی اس شخص پر الزام لگا کر اپنی ذہنی پستی کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان میں سیاست کے معیار کو بلند کرنا ہے تو پرویز رشید جیسے رہنماؤں کی طرز فکر کو سمجھنا اور اپنانا ضروری ہے۔ سیاسی زندگی میں اختلافات اور تنازعات ناگزیر ہوتے ہیں مگر ان کا طریقہ سیاست ہمیشہ غیر جارحانہ، شائستہ اور مدلل رہا۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی ذاتی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا ان کی گفتگو ہمیشہ سیاسی، فکری اور مذہبی رہی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا آسان نہیں مگر پرویز رشید نے ہمیشہ کھل کر اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کیا ان کا بیانیہ ہمیشہ یہ رہا کہ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کا مذہبی درجہ طے کرنا نہیں بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی سوچ انہیں ایک روشن خیال، متعدل مزاج اور آئینی سیاست کے رہنما کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

    پرویز رشید کو مسلم لیگ ن کے اندر ایک باوقار ساتھی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ وہ نواز شریف کے قریب ترین رفقاء میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان کی قربت محض سیاسی نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی کی بنیاد پر مضبوط ہے۔ وہ ایک فکری سیاستدان ہیں کتاب اور دلیل کو سیاست کی طاقت پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان پر کسی بھی مالی بدعنوانی یا کرپشن کا کبھی کوئی الزام نہ لگا نہ ثابت ہوا۔ وہ صاف ستھری سیاست کے نمائندہ رہنماؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ ملکی سیاست میں فکری بلوغت، جمہوری مزاحمت اور شائستگی کے نمائندہ چہرے سمجھے جاتے ہیں پرویز رشید نہ جادو ٹونے کی اس بےہودہ رسموں کو تسلیم کرتے ہیں۔

    اسلام نے جادو ٹونہ، فال گیری، نجومیوں سے پیشگوئیاں کروانے اور ماوراتی غیر شرعی طریقوں پر بھروسہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ قران مجید میں جادو کو گمراہ کن عمل قرار دیا گیا ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص واقعی ایسی چیزوں پر یقین رکھتا ہے یا ان کا سہارا لیتا ہے یہ نہ صرف دین سے متصادم ہے بلکہ توحید کے عقیدے کے خلاف بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ امریکہ نے ترقی سائنس، تحقیق، تعلیم اور نظم و ضبط سے کی۔ یورپ نے ترقی صنعتی انقلاب، سیاست کے استحکام، اداروں کی مضبوطی اور معاشی نظم پر کی۔ چین، جاپان، کوریا، سنگاپور جیسے ممالک نے ٹیکنالوجی اور محنت کے ذریعے مقام پایا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک چاہے وہ سپرپاور ہو یا ترقی پذیر جادو ٹونے کے سہارے نہیں چلا قومیں صرف علم، محنت، قانون، انصاف اور مضبوط اداروں سے بنتی ہیں۔ ملکی سیاسی اور سماجی گفتگو کو اس سطح پر لایا جا رہا ہے کہ ملک کی قیادت کو جادو ٹونے کے زاویے سے دیکھا جائے یہ ایک غیر سنجیدہ اور غیر دانشدانہ انداز ہے۔ یہ قوم کی فکری سوچ کو نقصان پہنچاتی ہے ترقی کے مسائل، معیشت تعلیم، قانون، گورننس پیچھے رہ جاتے ہیں اور موضوع بحث جادو ٹونہ رہ جاتا ہے۔ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹتی ہے لوگ دلیل کو چھوڑ کر افواہوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ وطن عزیز کی اصل ضرورت مضبوط اداروں، سائنسی سوچ، تعلیم کی بہتری، انصاف کے نظام، سیاسی بلوغت، میڈیا میں ذمہ دارانہ گفتگو نہ کہ ایسی بحثوں کی جو قوم کی فکری پستی کو ظاہر کریں۔ اسلامی معاشرہ ہو یا جدید ریاست جادو ٹونہ کی بحثیں نہ دینی طور پر فائدہ مند ہیں نہ قومی سطح پر۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان دعوؤں کو ہوش سے دیکھیں بلا تحقیق الزامات کو زبان نہ دیں اور بحث کو ایسے موضوعات کی طرف لے جائیں جو قوم کی ترقی کا سبب ہوں۔

  • عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی   اصل  مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہنگامہ ہے کیوں برپا۔ آئین اور آئینی عدالت کو لے کر ایک ہنگامہ بنا ہے۔اگردیکھا جائے تو آئین دو اور دو جمع چار کی طرح آسان سوال ہے جبکہ آئین میں سب کچھ درج ہے آئینی حدیں موجود ہیں۔ دنیا میں آئینی عدالتوں کا کوئی ایک عالمی نظام، سسٹم یا مشترکہ ڈھانچہ موجود نہیں دنیا کے ہر ملک نے اپنی ضروریات ، سیاسی تاریخ اور آئینی ڈھانچے کے مطابق الگ الگ ماڈل اختیار کیا ہوا ہے ۔ دنیا میں دوبڑے ماڈل رائج ہیں جن کے مطابق آئینی عدالتی نظام چلتے ہیں ۔ خصوصی عدالتوں کا ماڈل اس ماڈل میں ایک الگ آئینی عدالت ہوتی ہے جو صرف آئین کی تشریح ،آئینی تنازعات اور قوانین کی آئینی حیثیت کاجائزہ لیتی ہے ۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کا بنیادی طور پر آئینی جائزہ لیتی ہے ،آئینی شکایات کو سنتی ہے ۔ حکومتی اداروں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں ۔ جرمنی، اٹلی، اسپین ، آسٹریا ، ترکیہ ، جنوبی افریقہ ، مصر، کئی یورپی ممالک اور لاطینی امریکی ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں۔ا مریکن سپریم کورٹ ماڈل اس نظام میں آئینی معاملات کی نگرانی ، سپریم کورٹ ہی کرتی ہے کوئی الگ آئینی عدالت نہیں ،امریکن سپریم کورٹ ماڈل بھارت ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور پاکستان میں موجود تھا۔

    پاکستان نے بھی آئینی تنازعات کے حل کے لئے آئینی عدالت بناد دی۔ ہر ملک کے آئینی مسائل اور عدالتی ڈھانچے مختلف ہوتے ہیں نہ کوئی عالمی کنٹرولنگ باڈی ہے ۔ نہ کوئی بین الاقوامی آئینی کورٹ ۔ نہ ہی کوئی مشترکہ قوانین۔ دنیا کے کئی ممالک میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہی آئینی معاملات کو دیکھتی ہے جبکہ یورپی ممالک کے کئی ممالک میں الگ آئینی عدالتیں موجود ہیں۔ رہا سوال عدالتوں کا ، عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف کا ہے ۔ دنیا کے بنائے ہوئے عدالتی نظام اپنی جگہ ا ہم ہیں مگر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے انسان نے ایک دن اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ وہاں نہ سفارش نہ جھوٹ، نہ دنیاوی طاقت ۔ وہاں صرف سچ اور عدل قبول ہو گا۔ وہ لوگ جو انصاف تقسیم کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں اپنے حلف اور اپنے ضمیر کی پاسداری کریں۔ عدالت کا منصب کوئی دنیاوی اعزاز نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت سب سے بڑا ظلم ہے۔ اگر کوئی جج ، ا فسر، یا اختیار رکھنے والا شخص اپنے فیصلوں سے سچائی سے ہٹ جائے وہ انسانوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے بلکہ خود اپنے انجام کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے ۔ دنیا کی عدالتیں وقتی ہیں ان کے فیصلے محدود ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عدالت ابدی ہے وہاں پورا حساب لیا جائے گا۔انصاف صرف کتابوں کا لفظ نہیں یہ دلوں کی گہرائی میںاُتر کر انسانیت کو روشنی دیتا ہے اور وہ معاشرہ ہی ترقی پا سکتا ہے جہاں انصاف زندہ ہو اور ہر شخص اپنے اختیار کو ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرے۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یاد رکھیے و لوگ زمینی عدالتوں میں انصاف سے روگردانی کرتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ انسانوں کے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حق کو مجروح کرتے ہیں۔

  • بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوموں کے عروج و زوال کا تعلق صرف معیشیت سیاست یا دفاعی طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ ان کے اجتماعی رویوں اور سوچ کے تسلسل سے ہوتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے فیصلوں، موقف اور ترجیحات میں یک رنگی اختیار کرتی ہے تو دنیا اسے ایک سنجیدہ معتبر اور باوقار قوم کے طور پر پہچانتی ہے۔ لیکن جب یہی قوم حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات، رائے اور رویے بدلنے لگے تو اس کا تاثر متزلزل ہو جاتا ہے اور بدقسمتی سے آج ہمیں اپنے معاشرے میں دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو جب پاک بھارت جنگ ہوئی اس وقت پوری قوم نے اپنی فوج اور عسکری قیادت پر فخر کیا۔ پوری قوم نے آرمی چیف کو ہیرو قرار دیا فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا اور ان کی قیادت کو قومی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ مگر وقت گزر گیا اور حالات بدلنے پر وہی قوم اسی شخصیت کے بارے میں مختلف آراء اختیار کرنے لگی۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں کیا جا رہا ہے اختلاف رائے تو ہر جمہوری معاشرے کی خوبصورتی ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے موقف میں اصولی تسلسل برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم حالات کے مطابق رائے بدلتے ہیں یا اصول کے مطابق؟ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے رویے وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اصولی بنیادوں پر استوار ہوں۔ یہ تضاد یا دورنگی رویہ ہمیں دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کرتا ہے دنیا یہ دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم کبھی اپنے ہی فیصلوں پر فخر کرتی ہے اور پھر انہی فیصلوں پر نقطہ چینی شروع کر دیتی ہے۔ یہی رویہ قومی اداروں کے احترام اور اجتماعی اعتبار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اقبال نے اسی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا
    یک رنگ ہو جا اے میرے دل کے درد کی دعا
    دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
    یہ شعر محض تصوف یا اخلاقیات کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ قومی تعمیر کی بنیاد بھی ہے جب تک ہم اپنی سوچ اپنی زبان اور اپنے فیصلوں میں استقامت پیدا نہیں کریں گے تب تک ہماری اجتماعی ساکھ مضبوط نہیں ہو سکتی قوموں کی پختگی کا پیمانہ ان کی یکجہتی دیانت فکر اور تسلسل رائے میں ہوتا ہے نہ کہ وقتی تعریفوں اور موسمی تنقیدوں میں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آراء کو وقتی جذبات سے ازاد کریں اصولوں کے تابع بنائیں اور بطور قوم ایک رنگ اختیار کریں کیونکہ قوموں کا معیار دو رنگی نہیں بلکہ یک رنگ میں پوشیدہ ہے۔

  • اب نہیں تو کب؟

    اب نہیں تو کب؟

    اب نہیں تو کب؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں خودکش دھماکہ اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں واقع کیڈٹ کالج پر خوارج کا وحشیانہ حملہ، یہ دو الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی سازش کا حصہ ہیں جو ہمارے ملک کی سلامتی کو چیلنج کر رہے ہیں۔کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج پر حملہ آور ایک خودکش کے علاوہ چار خوارج کامیاب آپریشن کرکے جہنم واصل کیے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وقت کالج کی بلڈنگ کو بارودی سرنگوں کے خطرے کی وجہ سے کلیئر کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کامیاب آپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالب علم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ سکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن نہایت احتیاط اور حکمت عملی سے کیا گیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان فتنہ الخوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سے کالج کا مرکزی گیٹ گرگیا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے اور حملہ آور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے، خوارج ایک عمارت میں چھپے تھے جو کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور تھی۔

    علاوہ ازیں سکیورٹی فورسز نے 8 اور 9 نومبر کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیاں کیں جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 20 دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں آٹھ بھارتی سپانسرڈ خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل میں دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سپانسرڈ مزید 12 خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز کا علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ بھارت کے حمایت یافتہ خارجیوں کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔

    کل ہی کا دن یعنی 11 نومبر، جب اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے باہر ایک خودکش دھماکہ ہوا تو 12 معصوم شہری شہید ہوگئے اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ صرف ایک دہشت گردی کی کارروائی نہیں تھا بلکہ ریاست پاکستان کے اداروں پر براہ راست حملہ تھا جو دہشت گردوں کی طرف سے جاری اس جنگ کا تسلسل ہے جس کا آغاز افغان سرحد پار سے ہو رہا ہے۔ یہ حملے جو ایک دوسرے کے فوراً بعد ہوئے، پاکستان کی معاشی و انتظامی مسائل اور سرحدی علاقوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منصوبہ بندی کیے گئے تھے۔

    اب سوال یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کہاں سے آ رہے ہیں؟ جس کاجواب واضح ہے کہ افغانستان۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر افغان دہشت گرد گروہوں کی جڑیں کابل کی موجودہ حکومت کی سرپرستی اور پناہ میں مضبوط ہو رہی ہیں۔ پاکستانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ یہ حملے افغان سرزمین سے منصوبہ بندی کیے جاتے ہیں اور کابل کی طالبان حکومت ان دہشت گردوں کو نہ صرف پناہ دیتی ہے بلکہ انہیں ہتھیار اور تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ وانا کے حملے میں بھی، جہاں خوارج نے کیڈٹس کو نشانہ بنایا، ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور افغان سرحد پار سے داخل ہوئے تھے اور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے۔ اسلام آباد کے دھماکے میں استعمال ہونے والا گاڑی بم بھی اسی طرح کی سازش کا حصہ ہے جو سرحد پار سے کنٹرول ہو رہا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں بلکہ یہ ایک منظم مہم ہے جو پاکستان کو کمزور کرنے اور اسے اپنے گھٹنوں پر لانے کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔ دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگنے سے شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ سی این جی سلنڈر پھٹنے سے ہوا لیکن بھارتی گودی میڈیا نے پولیس مؤقف کے برعکس ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے دھماکے میں پاکستانی کو ملوث قرار دے دیا۔ بھارت کی حکومت اور ذرائع ابلاغ مسلسل جھوٹ بول کر اپنے عوام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے جھوٹ کا پول کئی بار کھل چکا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت براہ راست ملوث ہے جس کا اعتراف بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوول بھی کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان بھی کئی بار بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت مہیا کر چکا ہے۔ خطے اور دنیا کے امن کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اور عالمی ادارے بھارت کی دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

    لیکن مسئلہ صرف سرحد پار کے افغان دہشت گردوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین، جو برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں، ان حملوں کی اخلاقی اور عملی مددگار بن چکے ہیں۔ 1979 کی سوویت حملے کے بعد سے لے کر اب تک، پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی، انہیں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ مگر بدقسمتی سے، ان میں سے بہت سے عناصر نے ہماری مہمان نوازی کا بدلہ دہشت گردی اور غداری سے دیا ہے۔ آج پاکستان میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ لاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں اور ان میں سے کئی ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ہمدرد یا فعال ارکان ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف دہشت گردوں کو خفیہ جگہیں فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کی مالی مدد، انٹیلی جنس اور حتیٰ کہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور یہ غیر ملکی جو ہماری سرزمین پر بیٹھ کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

    اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے جب کسی بھی افغان کو رجسٹر کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، کیونکہ یہ ہمارے کھلے اور ننگے دشمن ہیں جن پر ذرہ برابر اعتبار نہیں کیا جا سکتا،دہشت گرد کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہوتے اور یہ وہی خونخوار درندے ہیں جو ہمارے بچوں کے جنازوں پر ناچتے ہیں! یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان کے دل کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں افغان دہشت گردوں کے مکروہ نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں بلکہ انہی افغان بستیوں کے گھروں میں بم بنتے ہیں، انہی کی دکانوں پر ہتھیار چھپتے ہیں اور انہی کی مساجد سے جہاد کے فتوے نکلتے ہیں جو بعد میں اسلام آباد کی کچہریوں اور وانا کیڈٹ کالج پر گرتے ہیں! سرحدی علاقوں میں تو افغان مہاجرین کے کیمپ کھلے عام دہشت گردوں کی یونیورسٹیاں بن چکے ہیں جہاں بم بنانے کی ٹریننگ ہوتی ہے، خودکش جیکٹیں تیار کی جاتی ہیں اور نوجوانوں کو موت کا سوداگر بنایا جاتا ہے۔

    اور سب سے بڑا المیہ یہ کہ ان خونخواروں کے مددگار اور ہمدرد ہمارے اپنے ہی پاکستانی ہیں،یہ وہ غدار ہیں جو جھوٹی ہمدردی کا لبادہ اوڑھے انہیں چھپاتے ہیں، ان کی مالی امداد کرتے ہیں، ان کیلئے جاسوسی کرتے ہیں بلکہ وہ جو مذہبی، قبائلی یا سیاسی بنیادوں پر "افغان بھائی” کا راگ الاپتے ہیں، دراصل پاکستان کے دل میں خنجر گھونپ رہے ہیں! یہ غدار جانتے ہیں کہ یہ افغان دہشت گرد ہمارے بچوں کو کاٹ رہے ہیں، ہمارے فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں، ہمارے مدرسوں اور عدالتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،مگر اپنے ذاتی مفادات، کرپٹ سیاست یا غلط فکری جنون کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ یہ ہمدرد نہیں بلکہ پاکستان کے کھلے دشمن ہیں اور ان کا انجام بھی وہی ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کا ہوتا ہے!

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اس مہلک خطرے کا سامنا کرے اور بھرپور طاقت سے جواب دے۔ افغانی دہشت گردوں کے خلاف ایکشن تو ناگزیر اور فوری ہے، مگر یہ صرف سرحد پار بمباری تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان میں مقیم تمام افغانوں خواہ وہ رجسٹرڈ ہو یا غیر رجسٹرڈ سب کے خلاف فوری اور بے رحم کارروائی کی جائے۔ تمام افغان مہاجرین کو فوراً ملک بدر کیا جائے کیونکہ یہ غیر ملکی ہیں اور اب ہر حال میں سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں پاکستان سے بے دخل کرنا قومی سلامتی کا اولین تقاضا ہے۔ یہ کھلے دشمن ہیں اور اب رجسٹریشن جیسی کوئی رسمی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، لہٰذا انہیں ایک ہی نظر سے دیکھا جائے۔
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 2023 میں شروع ہونے والی مہاجرین کی واپسی کی مہم نے ہزاروں افغانوں کو واپس بھیجا، مگر اب یہ عمل تیز تر، منظم اور بے مثال شدت سے جاری رکھنا ہوگا۔ تمام سرحدی چوکیوں پر افغانوں کی سخت ترین چیکنگ ہو، ان کے کیمپوں میں اپریشن کیا جائے ان کی مسلسل تلاشیاں لی جائیں اور کسی بھی مشتبہ عنصر کو فوری گرفتار یا ملک بدر کیا جائے۔ کوئی رعایت، کوئی ہمدردی، کوئی تاخیر،اب برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ان افغان خونخواروں کے ہمدردوں اور پناہ دہندگان کے خلاف بغیر کسی رعایت یا رحم کے قانون کا سب سے بھاری ڈنڈہ اٹھنا چاہیے، جو پاکستانی بھی ان دہشت گردوں کو چھپاتا ہے، انہیں پیسے دیتا ہے، یا ان کی حمایت کرتا ہے، وہ پاکستان کا غدار ہے اور دہشت گردی روک تھام ایکٹ کے تحت فوری مقدمات درج ہوں،کوئی سیاسی دباؤ، کوئی سفارش، کوئی معافی قبول نہ کی جائے!
    ان غدار سہولت کاروں کو سزائے موت تک پہنچایا جائے اور جو بھی ان کے ہمدرد ہیں، انہیں کھلے عام پاکستان کا دشمن ڈکلیئر کیا جائے۔ یہ "افغان بھائی” کا جھوٹا نعرہ لگانے والے دراصل پاکستان کے دل میں چھپا ناسور ہیں جو ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں!
    انٹیلی جنس ایجنسیاں فوراً متحرک ہوں، ہر گھر، ہر دکان، ہر مسجد کی تلاشی لی جائے اور عوام کو کھل کر بتایا جائے کہ غداری کی سزا صرف موت ہے،کوئی دوسرا آپشن نہیں!

    کیا ہم مزید خون بہنے دیں گے؟ کیا اسلام آباد کی کچہریوں، وانا کیڈٹ کالج اور ہمارے بچوں کے سکولوں کو مزید دہشت گردوں کی قربان گاہ بننے دیں گے؟جس کا جواب ہے ہرگز نہیں!
    اب عمل کا وقت ہے،اب یا کبھی نہیں! ہم اپنے بیگناہ شہریوں، بہادر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور معصوم بچوں کے مزید جنازے نہیں اٹھائیں گے۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ، بغیر کسی رعایت کےحکومت، فوج اور عوام ایک آواز بن کر اس دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں،کابل کو واضح اور آخری پیغام دیں کہ اگر تم نے دہشت گردوں کو پناہ دینا جاری رکھا تو پاکستان کا جواب تباہ کن ہوگا،سرجیکل سٹرائیکس، سرحدی بندش، یا سفارتی تنہائی جو بھی ضروری ہو!.اس کے علاوہ پاکستان میں ہر افغان عنصر، ہر ہمدرد، ہر سہولت کار کو ختم کریں،کوئی چھوٹا، کوئی بڑا، کوئی رجسٹرڈ، کوئی غیر رجسٹرڈ نہیں بچنا چاہئے،یہ ایکشن اب نہیں تو پھر کب؟ ہر گھنٹہ، ہر دن کا انتظار ہمارے خون سے لکھا جائے گا۔
    پاکستان زندہ باد!
    پاک سرزمین کی حفاظت،ہم سب کی ذمہ داری ہے

  • ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی، وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔
    لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔ سابق دور حکومت میں اینٹی کرپشن کو آنٹی کرپشن کہا جا تا تھا بالکل اسی طرح آج کل PERA یعنی اینٹی انکروچمنٹ فورس آنٹی انکروچمنٹ فورس بنتی جارہی ہے۔ انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے چند پولیس افسران ملنے آئے تو کہنے لگے کہ جن اہلکاروں کو پولیس یونیفارم میں ریڑی والے بھی مفت پھل نہیں دیتے تھے جب سے انہوں نے PERA یونیفارم پہنی ہے ان سے قسم لے لو کہ انہوں نے اس دن سے گھر کا راشن، پھل اور سبزیاں تک خریدی ہوں سب کچھ مفت باری پر چل رہاہے۔

    چند دن قبل گارڈن ٹاؤن لاہور میں عجیب منظر دیکھنے کو ملا، پھل خریدنے کیلئے گاڑی روکی تو دکاندار روتے ہوئے بولا جی سر میں نے اظہار ہمدردی پوچھا کہ خیریت رو کیوں رہے ہو کہنے لگا کہ ہر ہفتے PERA , ایل ڈی اے اور ایم سی ایل والے آجاتے ہیں، آج صبح PERA والے پیسے لیکر گئے ہیں تھوڑی دیر پہلے PERA کی ایک اور گاڑی والے آئے تو انکو کہا کہ صاحب جی صبح آپکی ٹیم سے ملاقات ہوگئی تھی تو وہ گالیاں دینے لگے کہ ہم تو ابھی آئے ہیں، ہماری خدمت کرو نہیں تو سارا کچھ گاڑی میں رکھو اور سٹیشن چلو۔۔۔۔۔۔نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار بتانے سے بھی قاصر تھا کہ پہلے کونسی گاڑی ”بھتہ“ لے کر جا چکی۔پیرا PERA کی گاڑیوں پر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دوسری تحصیل سے بھتہ خوری کی جاسکتی ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ طریقہ واردات ہوکہ پہلے ایک گاڑی جائے پھر دوسری بھی چلی جائے۔

    اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا گیا ہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہے۔ بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں ڈالہ گردی اور غندہ ازم کرتی پھر رہی ہے۔
    ایک دوست نے لاہور کی اہم ترین تحصیل کے ایس ڈی ای او پیرا کا وائس نوٹ سنایا جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ آپ کی بار بار شکایات سے تنگ آکر میں نے انکروچمنٹ کی ٹیم بھیج کر آپ کو ابلائج کیا ورنہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ گلیوں میں تجاوزات دیکھیں، جوابی وائس نوٹ میں مذکورہ ایس ڈی ای او کو غیرت دلائی کہ بھائی تم نے ٹیم بھیج کر جو ابلائج کیا ہے بتا دو کہ کیا تمہاری ٹیم نے ایک پتھر بھی ہٹایا؟
    ایس ڈی ای او ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ اس نے ابلائج کیا کیونکہ رہائشوں علاقوں میں کونسا کسی نے پیسے دینے ہیں یا اسے ”پروٹیکشن منی“ مل جائے گی جو وہ تجاوزات ہٹائے جبکہ بازار میں تو ہر چکر پر مال ہی مال اکٹھا کیا جاتا ہے۔
    مجھے حیرانگی ہوئی کہ نئے افسران اس قدر ذہنی مریض اور بے حیا ہوچکے ہیں کہ جس کام کیلئے انہیں پوسٹنگ دی گئی اس لیگل کام کو کرنا احسان جتلانا اور ابلائجمنٹ سمجھتے ہیں جبکہ حرام اکٹھا کرنا استحقاق۔

    حاکمیت اور بدمعاشی والی اسی غلیظ سوچ کے ساتھ سرکاری افسران اغوا برائے تاوان جیسی وارداتیں ڈال رہے ہیں۔
    مجھے امید ہے یہ بچہ عنقریت رہائشی ایریاز والے معزز شہریوں کو کہے گا آپ سے بھتہ نہ لیکر آپ کو ابلائج کر رہا ہوں کیونکہ ہر کاروباری سے تو لیتے ہی ہیں ایسے میں رہائشیوں سے نہ لینا یقینی طور پر ابلائجمنٹ ہی ہے ، مذکورہ نوجوان افسر کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ تمہاری تحصیل میں سرکاری دفاتر تک کے دائیں بائیں بھی دس دس فٹ کی تجاوزات ہیں۔
    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ تجاوزات کی صورت انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر ”وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔لاء انفورسمنٹ ایجنسیز، اینٹی کرپشن اور سی سی ڈی کو چاہئے کہ سرکاری بھتہ خوری اور بنا نمبر پلیٹ سرکاری ڈالہ گردی کو بھی لگام ڈالیں۔چیف سیکرٹری کو چاہئے کہ تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے افسران کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ جیل بھیجا جائے۔