Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    گزارش ہے کہ آج کی جدید دنیا نے شخصی و انفرادی آزادی کے نام پر خلاف فطرت و شرع معاملات جیسا کہ ہم جنس پرستی و دیگر کو نا صرف اپنے ہاں قانونی حیثیت دی ہے بلکہ ڈیجیٹل میڈیا و اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں باقاعدہ تمام قسم کی موویز و سیزنز میں اس ایجنڈے کی (جسے LGBTQ+ کہا جاتا ہے) ترویج سے مشروط کیا ہے کہ کچھ نا کچھ اس مسئلہ کو لازمی ہائی لائٹ کیا جائے۔ باقاعدہ طور پر بننے والا مواد اس سے ہٹ کر ہے۔ پہلے پہل مغربی سینما جو ہالی ووڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اس نے اس گند کو پھیلانے کا کام کیا بعد ازاں بھارتی سینما بالی ووڈ اور اب یہ جرات پاکستانی فلم انڈسٹری کو بھی ہوگئی ہے۔ سرمد کھوسٹ پاکستانی سینما میں متنازعہ موویز بنانے کے حوالے سے معروف ہیں جنکی اکثر موویز سینسر بورڈ میں آکر پھنس جاتی تھیں اور اکثر نکل بھی جاتی تھیں۔ لیکن حیران کن طور جوائے لینڈ نامی مووی جو دو لڑکوں کی محبت و شادی پر مبنی سٹوری ہے یہ نا صرف بن گئی بلکہ باہر کے سینما سے متعدد ایوارڈز لینے کے بعد بغیر کسی تردد کے سینسر بورڈز سے اپروول کے بعد 18 نومبر کو پاکستانی سینماؤں میں ریلیز کیلئے تیار ہے۔

    اللہ کی بغاوت اور غیض و غضب کا شکار قوم لوط کا عمل غلیظ (جسکے مرتکب فاعل و مفعول کی سزا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حدیث کے مطابق قتل ہے) کی ترویج پر مبنی یہ مووی کی ریلیز لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنے ملک جسکے آئین کے دیباچہ میں قرارداد مقاصد کے مطابق اس ملک میں قرآن و سنت و آئین سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا وہاں پہلے ٹرانس جینڈر بل کے نام پر آئین و قانون میں نقب اور اب سرعام اسکی ترویج کی جرات یقینا سینسر بورڈ و حکومت اور اسکے بعد مذہبی جماعتوں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس فتنے کے سدباب کیلئے #BanJoyland مہم پلان کی تو الحمد اللہ پوسٹرز و ویلاگز کے ساتھ ٹویٹر پر ٹرینڈ بھی پینل ہوگیا ،کچھ نا کچھ سوشل میڈیا پر آگاہی و ٹویٹر سپیس بھی ہوگئی، یقینا یہ ناکافی ہے اسکی روک تھام کیلئے سوشل میڈیا سے بڑھ کر عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے اور سڑکوں پر نوجوانوں کے ہمراہ احتجاج کے ذریعے اس بد فعلی کو روکنے کی پوری کوشش اسکے بین ہونے تک کی جائے گی ان شا اللہ۔

    اب اس مہم پر کافی احباب کا اعتراض آیا ہے کہ آپ تو بذات خود اسکی پروموشن کا باعث بن رہے ہیں تو گزارش یہ کہ ہمارے نا کرنے سے مووی ریلیز ہو کر رہے گی اور اسکے بعد اسکی ویوورشپ یقیناً لاکھوں میں ہوگی۔ اگر اس سے قبل ہی اسکی روک تھام کر لی جاتی ہے تو یقیناً یہ فائدہ مند ہوگا۔ اس مہم سے زیادہ سے زیادہ چند سیکنڈ کے پرومو تک پہنچ ہوگی لیکن اصل گند مووی کی ریلیز سے بچا جا سکتا ہے۔ خلاف قانون و آئین و اسلام مووی کی روک تھام کی مہم کوئی پہلی مہم نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اس طرز کی مہمات کامیاب ہوئی ہیں جن میں اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر بھارتی و دیگر فلمز کی نمائش پر پابندی لگی۔
    باقی ہر برے کام کے بارے میں یہ سوچا جانے لگے پھر تو اچھائی کی ترویج اور برائی روک تھام ناممکن ہو جائے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ برائی کو ہوتا دیکھیں تو استطاعت کے مطابق ہاتھ یا زبان سے روکیں اور اگر ممکن نہیں تو پھر کم از کم دل میں برا جانیں۔ امید ہے کچھ نا کچھ کلئر کر پایا ہوں گا۔ شکریہ

    الحمد اللہ یہ تحریر لکھنے کے دوران ہی یہ خوشخبری ملی کہ یہ فلم بین ہو چکی ہے۔ یقیناً یہ معمولی کاوش اللہ کی مدد یہ سے یہ کامیابی ملی۔ تمام احباب کا خصوصی شکریہ۔ جزاک اللہ خیر

  • پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ ؟ لیڈرشپ سے چند سوالات

    حملے کے بعد کیوں عمران خان کسی بھی انکوائری کمیٹی کو اپنے الزامات کے ثبوت نہیں دینا چاہتے؟

    عمران خان کیوں میڈیکو لیگل رپورٹ بنوانے سے کترا رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو گولیوں کے ٹکڑے لگے ہیں تو پہلے 4 گولیوں کا جھوٹ کیوں بولا گیا؟

    عمران خان جن پر الزام لگا رہے ہیں انہیں استعفے کا کہہ رہے ہیں۔ اپنے دور حکومت میں خود پر لگنے والے الزامات پر کیوں استعفیٰ نہیں دیتے تھے؟

    اپنے دور حکومت میں سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف تقریریں کرتے تھے تو اب لوگوں کو کیوں اسی بات کی ترغیب دے رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کو 24 ستمبر سے ہی پتہ تھا کہ ان پر حملہ ہونا ہے تو کیوں انہوں نے اپنی اور سپورٹرز کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں؟

    عمران خان نے DW کو انٹرویو میں اقرار کیا کہ ان کے پاس circumstantial evidence ہے۔ کیا صرف ایسے ثبوت سے وہ الزام پر الزام دھر رہے ہیں؟

    اگر عمران خان کی مرضی کی بنی انکوائری کمیٹی نے بھی الزامات کو غلط قرار دے دیا تو کیا عمران خان جلاؤ گھیراؤ کی سیاست ترک کریں گے؟

    عمران خان کیوں فوج سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ نیوٹرل ہونے کی بجائے وہ انہیں دوبارہ حکومت کی کرسی پر بٹھائے؟

    کیا پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹرشپ نافذ ہے؟ اگر نہیں تو عمران خان سے معمولی اختلاف کرنے والے کو پارٹی سے کیوں نکال دیا جاتا ہے؟

    کیا عمران خان کو اپنی پارٹی میں صرف "یس مین” چاہئیں؟ اگر نہیں تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی کارکن کی رکنیت کیوں منسوخ کی جا رہی ہوتی ہے؟

    کیا پی ٹی آئی میں کسی کو اتنا بھی حق نہیں کہ عمران خان کی بات سے اختلاف کرے یا مختلف نقطہ نظر پیش کرے؟

    کیا پی ٹی آئی اختلاف رائے رکھنے والے ممبران کی ممبرشپ منسوخ کر کے جمہوری اقتدار کے برعکس عمل پیرا ہے؟

  • مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر یورپ کے آرٹ میں کئی جدید فنی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سب سے دلچسپ سرئیلیزم تھی۔ آپ اگر پیرس جائیں تو وہاں ایک پورا میوزیم محض جدید آرٹ کی تحریکوں کی پینٹنگز کے لیے مختص ہے۔ اسے میوزیم آف ماڈرن آرٹس کہتے ہیں اور یہ ایفل ٹاور اور دریائے سین کے کنارے پر ہے۔ اسکے علاوہ جدید آرٹ کے حوالے سے ایک اور میوزیم "اورسے میوزیم” ہے جہاں یورپ میں چودہویں سے سترویں صدی تک نشاطِ ثانیہ کی تحریک کے دوران جنم لینے والے جدید آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔

    ان دونوں میوزیمز میں آپکو انیسویں کے سرئیلیزم کے نامور فنکاروں جیسے کہ سلوادور دالی, پابلو پِکاسو، اندرے بریطون وغیرہ کے فن پارے ملیں گے۔ سرئیلیزم دراصل انسانی تخیل اور انسان کے لاشعور میں بسے خیالات کو کینوس پر اُتارنے کا نام ہے۔ خواب میں ہم جو عجیب و غریب قسم کی تشبیہات دیکھتے ہیں اسے کیسے لاشعور سے شعور میں لایا جائے اور دکھایا جائے۔

    مثال کے طور پر دالی کی مشہور پینٹنگ "Persistence of Memory” یا "یاداشت کی استقامت” میں گھڑیوں کو پگھلتا دکھایا گیا جس سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی نمائندگی ہے جس میں وقت کا بہاؤ تبدیل ہوتا ہے مگر دالی صاحب نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ پینٹنگ سورج میں پگھلتے پنیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ مگر اس میں وقت کا بہاؤ دراصل گھڑیوں کے پگھلنے کی صورت انسانی لاشعور سے شعور میں آیا۔

    بالکل ایسے ہیں ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کو ایک عظیم فنکار ملا جسکا نام تھا صادقین۔ صادقین کا کام بے حد خوبصورت ہے۔ لاہور میوزیم جائیں یا تربیلہ ڈیم یا سٹیٹ بینک کراچی وہاں آپکو صادقین کا کام چھتوں پر، پینٹینگز میں, لکڑی کے کام میں دکھے گا۔صادقین ایک بڑی حد تک پاکستان میں سرئیلزم تحریک کے پیشوا تھے مگر اُنکا کام اس میڈیم کے ذریعے آفاقی تصورات کو جس میں فلکیات، انسانی جستجو اور کائناتی رموز، اور لاشعور کے خیالات کو ایک شکل دینا تھی۔ انکے اس کام پر مبنی ایک کتاب ہے : Sadquine: The” Holy Sinner ” جسکا ٹائٹل جرمنی کے نوبل انعام یافتہ مصنف تھامس مان کے اسی نام کے ناول سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اّنکے سرئیلیزم آرٹ جس میں کچھ کام اُنہوں نے غالب اور اقبال کی شعروں سے متاثر ہو کر کیا، موجود ہے۔

    زیرِ نظر تصویر میں صادقین کے اس کام کی دو جھلکیاں ایک علم کی جستجو کے حوالے سے اور دوسری افلاک اور انسان کے موضوع پر۔

    صادقین نے برصغیر کے آرٹ میں میں حروفیہ تحریک کا آغاز کیا جس میں عربی خطاطی کو ایک نئے روپ سے پیش کیا گیا۔ برِ صغیر میں اگر آرٹ میں اصل سوچ رکھنے والوں کا نام لیا جائے تو صادقین بلاشبہ سرِ فہرست ہونگے۔

    صادقین (1923 تا 1987)

  • شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر 23 سے 26 سال کی عمر ہے۔ اس میں انسان کو شادی ضرور کر لینی چاہیے۔ فیملی سٹارٹ کرنے سے لیکر پارٹنر سے ذہنی ہم آہنگی تک، ہر کام کے لئے یہ لائف پیریڈ بہت اہم ہے۔ اور ہو سکے تو انسان کو اپنے پارٹنر کے بارے میں 20 سال کی عمر تک کلئیر ہونا چاہیے یا کم از کم اس کے جیسے انسانوں کی خصوصیات کا علم ہونا چاہیے کہ اس کو کیسا پارٹنر چاہیے۔ تاکہ وہ ایک ذہنی کوفت سے آزاد رہ کر باقی سرگرمیوں پہ زیادہ سے زیادہ انرجی صرف کرسکے۔

    ماڈرنزم ایک طرف، فیمنزم ایک طرف، انسان کا جو بائیولوجیکل وجود ہے وہ ایک پارٹنر مانگتا ہے اور بہت شدت سے مانگتا ہے۔ انسان جتنا مرضی اس بات کی مخالفت کرتا نظر آئے کہ انسان کو شادی نہیں کرنی چاہیے فلاں کام کرنا چاہیے لیکن جب اس کو پیار ہو جاتا ہے یا اس کا جسم بغاوت کرتا ہے تو شادی ایک مجبوری امر بن جاتی ہے۔ سو یہ ایک ایسا جسمانی رد عمل ہے جس سے فرار نا ممکن ہے۔

    رہی بات بائیولوجی کی، تو بائیولوجیکلی ایک انسانی عورت 30 کے بعد اگر ماں بننے کی طرف جاتی ہے تو یہ آنے والے بچوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سو ارتقاء نے ہمارے جسموں کو اس سختی سے ڈیزائن کیا ہے کہ ہماری مادائیں 30 کے بعد "شادی” کی طرف جائیں تو یہ نا صرف انکے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی نقصاندہ ہے۔

    ماڈرنزم ہماری زندگیوں کو کافی بدل چکی ہے اس میں خصوصاً لڑکیوں کو 20-30 سال کی عمر کے دوران اتنی ڈیٹنگ آپشن مل جاتی ہیں کہ وہ ایک مستقل پارٹنر رکھنا فضول سمجھنے لگ جاتی ہیں مگر جونہی انکی عمر ایک خاص لمٹ کراس کرتی ہے تو کوئی ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ یہی حساب لڑکوں کا ہے کہ کیرئر کی دوڑ میں وہ اس اہم کام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور ظاہر ہے ہر لڑکا ویل سیٹل نہیں ہو پاتا تو وہ بھی تنہا رہ جاتا ہے۔

    بظاہر 35 سال تک تو انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہت سے لوگ رکھتا ہے مگر جب سب کی فیملیز شروع ہو جاتی ہیں تو وہ تنہائی محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے اور آخر میں وہ مکمل طور پہ ایموشنل تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ایموشنل تنہائی بہت خطرناک چیز ہوتی ہے۔ آپ اکثر ان لوگوں کو دیکھیں جو شادی کئے بغیر رہ رہے ہیں پھر انکی زندگی اور روٹین دیکھیں تو آپ کو ایک جھرجھری ضرور آئے گی۔

    ہمارے معاشرے میں اس چیز کو ڈسکس کرنا ٹابو سمجھا جاتا ہے مگر یہ باتیں حقیقت کے قریب ہیں ۔ آپ معاشی طور پہ جتنا مرضی آزاد ہو جائیں آپ کو ایک ایموشنل بانڈ کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ 30 تک یہ بانڈ شوہر یا بیوی دے سکتی ہے اور پھر بچے آپ کی اس نفسیاتی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔

    امیجن کریں کہ آپ 70 سال کی عمر میں بستر مرگ پہ ہوں اور آپ سے جدا ہونے کے غم میں تیس چالیس پوتے پوتیاں نم آنکھیں لئے کھڑے ہوں یہ آپ کی زندگی کی ایک بڑی کامیابی ہے بجائے اس کے کہ آپ کی وفات کا ماسوائے آپکے بہن بھائیوں کے کسی کو بھی خاص غم نا ہو بلکہ ان کو بھی اندر سے آپکی ذمہ داری ختم ہونے کی خوشی ہوگی۔

  • کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام  — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق یعنی کلاس فیلوز کی بہت ساری اقسام ہو سکتی ہیں۔ جن کی مستند تعداد بتانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔ کیونکہ انکی اقسام اتنی ہی جلدی بدلتی ہیں جتنی جلدی پنجاب میں وزیراعلی۔۔ مگر کلاس فیلوز کی چند اقسام پیش خدمت ہیں ۔

    نمبر ایک:
    پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کبھی وقت پر نہیں آتے مگر عموماً وقت سے پہلے چلے ضرور جاتے ہیں۔ اسی قسم کے کچھ باشندے تو چھٹی کے ٹائم سے دس منٹ پہلے ہی کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ میم "ٹیم”(ٹائم) ہوگیا ہے۔

    نمبر دو:
    کلاس روم میں ایک اور مخلوق پائی جاتی ہے جو ہفتے کے چھ دن بیمار رہتی ہے اور ساتویں دن یعنی اتوار کو بیماری کو چھٹی دیتی ہے۔ ان پر بیماریاں بھی بڑی ترتیب سے آتی ہیں۔ سوموار کو انکا گلا خراب ہوتا ہے ۔ اگلے دن نزلہ اور پھر بخار اور اگلے دن یعنی اتوار کو بیماری کی چھٹی ۔ بیماری کا یہ سائیکل ہر دو ماہ بعد ضرور آتا ہے ۔ اگر کبھی یہ سائیکل پنکچر ہوجائے تو پھر انکے دور کے رشتہ داروں میں سے کوئی خدا کو پیارا ہو جاتا ہے۔

    نمبر تین:
    اگلی قسم کا نام ہے ” فٹا فٹ” ۔ کلاس رومز میں پائی جانے والی یہ مخلوق ہر وقت فٹا فٹ کے چکروں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگر ٹیچر کلاس میں 5 منٹ تک نہ آئے تو یہ مخلوق فٹا فٹ سٹاف روم کو دوڑے گی۔ پھر پوری کلاس انکو خوب صلواتیں بھی سناتی ہے ۔جن کا اس مخلوق پر اتنا ہی اثر پڑتا ہے ۔جتنا ہم سب پر قاسم علی شاہ کا۔

    نمبر چار:
    اس قسم کا نام Attention Beggars ہے۔
    یہ ہر وقت اٹنشن کے چکر میں بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔ اٹنشن کے چکر میں یہ تمام تر چھچھورے پن کر مظاہرہ کرنے کے باوجود تھوڑی سی بھی توجہ نہ ملنے کے بعد بھی زرا شرمندہ نہیں ہوتے،
    بلکہ بھکاریوں کی طرح اگلے بندے کے پاس چلے جاتے ہیں۔

    نمبر پانچ:
    ایک وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو کبھی چھٹی ہی نہیں کرتی ۔ نہ جانے یہ مخلوق اتوار کو گھر کیسے بیٹھتی ہوگی۔ انکو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے خاندان میں نہ تو کوئی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بابا مرتا ہے ۔ بیماری تو ان کے گھر ایسے ہی آتی ہوگی جیسے ہندؤں کو کلمہ

    نمبر چھ:
    ایک مخلوق ہر وقت اپنے ہی اشتہار چلاتی رہتی ہے ۔ یعنی

    میں نے یہ کر دیا
    میں نے وہ نے وہ کر دیا

    وقت آنے پر جب پتہ چلتا ہے تو اس مخلوق نے صرف وہ ہی کیا ہوتا ہے ۔ جو میں آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ اس مخلوق کو آپ "بول نیوز” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہر کام سب سے پہلے ، سب سے اچھا یہی مخلوق کرتی ہے، صرف باتوں میں ۔

    شکائتو! ٹولے کا تو نہ ہی پوچھیے۔ اس مخلوق کی پہچان انتہائی آسان کام ہے ۔ ٹیچرز کی خوش آمدیں تو ان پر بس ہیں۔ یہی لوگ "آئی ایس آئی” کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ کلاس کی خفیہ باتیں، ٹیچرز اور ایڈمن آفس تک پہنچانا انکا اولین فرض ہوتا ہے۔ اگر کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام لکھنے بیٹھا جائے تو کئی اک دن درکار ہونگے ۔ سو انھی چند اقسام پر گزارا کرتے ہیں ۔

  • سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں تشدد ہٹلر کا راستہ:تجزیہ:شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملے نے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنا رُخ پاکستان کی طرف موڑنے پر مجبورکردیا۔ ملکی سیاست میں انتشار مزید گہرا ہو رہا ہے۔پاکستان مخالف قوتیں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں جشن کا سماں ہے۔ تاہم سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مستقبل اور اقتدار میں رہنے کی جنگ میں مصروف ہیں اس وقت ملک کہاں کھڑاہے.

    عوام کس حال میں ہیں اس سے بے خبر سیاستدان ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جس کا عوام سے کوئی واسطہ نہیں پنجاب میں گورنر راج لگے یا عمران خان کو گرفتار کرنے پر پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا اگر عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے توخیبر پختونخوا میں حالات خراب تر ہو سکتے ہیں پاک افغان سرحد اور پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت انتشار مزید پھیلانے میں اپنا کردارادا کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔

    ملکی سلامتی اور بقا کے لئے سیاسی جماعتیں ضد ،انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں حکومت اور عمران خان اس ملک اور عوام کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف ، پیپلزپارٹی میں موجود سنجیدہ سیاستدان ، مسلم لیگ (ن) کے سنجیدہ سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جومذاکرات کرے اورملک کو مزید انتشار کی سیاست سے بچانے میں کردارادا کرے۔ ملک کے وقاراور سلامتی کی خاطر یہی ایک راستہ ہے سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور ہٹلر کا راستہ ہے۔

    قوم تقسیم ہو رہی ہے ۔ چوراہوں جلسے ،جلوسوں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے خدا کی پناہ۔ اس ملک کی خاطر ضد، ہٹ دھرمی کو دفن کریں ۔ دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا اس سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

    اس وطن عزیز کی خاطر اور اس عام آدمی کی خاطر جس کو دنیائے سیاست میںکیا تبدیلی ہو رہی ہے ۔ بے خبر ہو کر اپنی مشکلات سے لڑرہا ہے۔عام آدمی سبزی ، دالیں ،گوشت، بجلی ،گیس ،آٹے کی خرید سے جنگ لڑ کر ہار رہا ہے اور ہار چکا ہے عام آدمی کا سیاستدانوں پر اعتماد اٹھ رہا ہے عام آدمی بیزار ہے اس کا اعتماد بحال کرنے میں سیاستدان کردار ادا کریں اگر اس کا اعتماد بحال نہ ہوا تو ذرا سوچئے کیا ہو گا؟

  • انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    ٹی20 ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں بھارتی ٹیم کو 10 وکٹوں سے بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور ٹیم انڈیا ناک آؤٹ مرحلے سے باہر ہوگئی تھی۔ سماجی رابطوں کی سائٹ پر انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد بھارتی ٹیم کو ’چوکرز‘ کا خطاب ملا، لفظ چوکرز کرکٹ کی اصطلاح میں ان ٹیموں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو آئی سی سی ایونٹس میں ناک آؤٹ مرحلوں سے باہر ہوجاتی ہیں۔

    ویسے کرکٹ کی تاریخ میں لفظ چوکرز جنوبی افریقی ٹیم کیلئے استعمال ہوتا ہے تاہم بھارت بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا ہے، اگر بھارتی ٹیم کی 10 سالہ کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اعداد و شمار کچھ یوں نشاندہی کرتے ہیں۔ سال 2013 میں بھارت نے آخری بار چیمپئن ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوا تھا، جس کے بعد سے آئی سی سی کے بینر تلے ٹیم انڈیا فیورٹ ہونے کے باوجود کوئی ایونٹ نہیں جیت سکی ہے۔ سال 2014 کے ٹی20 ورلڈکپ کے فائنل میں شکست اور پھر سال 2015 ون ڈے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست جبکہ سال 2016 کے ٹی20 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست علاوہ ازیں سال 2017 کی چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں پاکستان سے شکست ہوئی تھی اس کے ساتھ سال 2019 کے ون ڈے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست ہوئی.

    اور پھر سال 2021 آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست اسکے بعد سال 2021 کے ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان سے 10 وکٹوں کی ہار جبکہ ایونٹ کے پہلے مرحلے میں ہی شکست جبکہ سال 2022 کے ٹی20 ورلڈکپ میں بھی سیمی فائنل تک رسائی کے بعد 10 وکٹوں سے انگلینڈ کے ہاتھوں شکست
    قبل ازیں آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو جبکہ انگلینڈ نے بھارت کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست سے دوچار کیا تھا۔

  • سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار

    سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار

    سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار
    تحریر:محمد ریاض ایڈووکیٹ
    وزیر آباد کی حدود میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ایک قیمتی جان کا نقصان ہوا اور عمران خان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس ہولناک واقعہ پر پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے افراد نے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا۔ ایک طرف افسوناک واقعہ پرعوام الناس میں غم وغصہ دیکھنے کو ملا وہیں پر اتنے بڑے سانحہ کی ایف آئی آر کے اندراج میں حد درجہ تاخیر دیکھنے کو ملی۔ پاکستانی معاشرے میں ایف آئی آر کے اندراج کا نہ ہونا یا اندراج میں تاخیر ہونا، اندراج کروانے یا اندراج رکوانے کے لئے دباؤ جیسے واقعات کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ پاکستانی معاشرے میں یہ عام سی بات ہے۔ مگر حیرانی اس بات کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان جیسی قد آور شخصیت پر ہونے والے قاتلانہ اور دہشتگردی جیسے واقعہ پر ایف آئی آر کے اندراج کے لئے بالآخر عدالت عظمیٰ کو آرڈر جاری کرنا پڑا۔ بہرحال آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف یعنی جرم کے خلاف انصاف حاصل کرنے کا طریقہ کار۔ جرائم جیسا کہ چوری، ڈکیتی، زنا، قتل، لڑائی جھگڑا، اقدام قتل، منشیات وغیرہ کے خلاف حصول انصاف کے لئے پاکستانی کریمینل (فوجداری) جسٹس سسٹم میں واضع ہدایات موجود ہیں۔فوجداری قوانین جیسا کہ تعزیرات پاکستان اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت درج ذیل طریقہ کار موجود ہیں۔جیسا کہ تھانہ میں ایف آئی آر (ٖFirst Information Report) کا اندراج، پولیس تفتیش، عدالتی کارروائی،بریت یا سزا، سزا کے خلاف اپیل، بریت وغیرہ وغیرہ۔
    پولیس کو اطلاع:
    چوری ڈکیتی، حادثات،قاتلانہ حملہ، جنسی زیادتی وغیرہ کی صورت میں پولیس کو بروقت اطلاع انتہائی ضروری ہے۔پولیس کو بروقت اطلاع دینے کے لئے 15 پر کال کرنی چاہئے۔اسکے ساتھ ساتھ 1122 کو بھی کال کرنی چاہئے تاکہ متاثرہ شخص کو فی الفور طبی امدار مہیا کی جاسکے۔
    طبی معائنہ:
    جسمانی ضربات کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے سب سے پہلے میڈیکل لیگل رپورٹ یا سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہو تی ہے۔ فوجداری نظام انصاف میں میڈیکل لیگل رپورٹ بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔یہ رپورٹ صرف حکومت کی جانب سے کسی سرکاری ہسپتال میں تعینات میڈیکل آفیسر ہی جاری کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ زخموں کی نوعیت ہی جرم کی شدت کا تعین کرتی ہے۔اور اسی بناء پر ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان میں درج جرائم کی دفعات کا اندراج کیا جاتا ہے اور مجرم کو سزاء بھی انہی دفعات کی بناء پر ملتی ہے۔ زخمی کو سرکاری ہسپتال پہنچانے سے پہلے تھانہ میں پہنچ کر پولیس ڈاکٹ حاصل کرنا ہوتی ہے۔ (جان جانے کا خطرہ لاحق ہو یا بہت ہی زیادہ ہنگامی صورتحال میں متاثرہ شخص کو تھانہ لیجانے کی بجائے فوراسرکاری ہسپتال میں داخل کرواناچاہئے کیونکہ سرکاری ہسپتال میں قائم پولیس چوکی سے پولیس ڈاکٹ حاصل کی جاسکتی ہے)۔ پولیس ڈاکٹ کے حصول کے بعد سرکاری ہسپتال میں میڈیکل آفیسر متاثرہ شخص کا طبی معائنہ اور علاج کرتا ہے۔ اور میڈیکل لیگل رپورٹ تیار کرتا ہے۔
    ایف آئی آر کا اندراج:
    ٖضابطہ فوجداری کی شق 154 کے تحت کوئی بھی شخص کسی قابلِ سماعت اور قابل دست اندازی جرم کی اطلاع دے کر ایف آئی آر درج کرواسکتا ہے۔ اس کا متاثرہ شخص سے کسی قسم کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔یعنی متاثرہ شخص یا کوئی اور بھی ایف آئی آر کا اندراج کرواسکتا ہے۔قانونی طور پر پولیس کی مدعیت میں بھی ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔
    پولیس کا عدم تعاون:
    تھانہ میں FIR کا اندراج نہ ہونا، پولیس کا عدم تعاون یا ناقص تفتیش کی صورت میں سائل مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت جسٹس آف پیس اور علاقہ مجسٹریٹ کے پاس براہ راست رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ مندرجہ ذیل طریقوں سے عدالت سے دادرسی یا انصاف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے جسٹس آف پیس عمومی طور پر سیشن جج صاحبان ہوتے ہیں۔
    نمبر 1: ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے اور بی کے تحت متاثرہ فریق جسٹس آف پیس کی عدالت میں جا کر بتا سکتا ہے کہ پولیس اس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار ی ہے جس پر عدالت پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اگر پھر بھی پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کرے تو متاثرہ فریق ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر سکتا ہے۔
    نمبر 2: اگر پولیس ایف آئی درج نہیں کررہی یا ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تعاون نہ کر رہی ہو یا ناقص تفتیش کررہی ہے تو مدعی براہ راست مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ(شکایت) دائر کرسکتا ہے۔ضابطہ فوجداری کی شق 190 کے تحت علاقہ مجسٹریٹ کو استغاثہ (Complaint) کااندراج کروایا جاسکتا ہے۔ استغاثہ میں باقاعدہ ٹرائل ہوتا ہے اور ملزمان کو طلب کرنے کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی شق 200 کے تحت مجسٹریٹ شکایت کی جانچ پڑتال کے بعد معاملہ مزید عدالتی کاروائی کے لئے متعلقہ عدالت میں بھیج دیتا ہے۔
    سانحہ وزیر آباد کی ایف آئی آر کی تاخیر کے منفی اثرات:
    عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد عمران خان کو وزیرآباد، گجرات، گوجرانوالہ یا لاہور کے کسی سرکاری ہسپتال میں لیجانے کی بجائے شوکت خاتم ہسپتال لیکر جایا گیا۔ نہ تو پولیس ڈاکٹ حاصل کی گئی اور نہ ہی سرکاری ہسپتال میں داخل کروا کرطبی معائنہ اور علاج کروایا گیا۔جس بناء پر سرکاری میڈیکل آفیسر سے میڈیکل لیگل رپورٹ بھی حاصل نہ کی گئی۔ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت کے زیراہتمام کسی بھی سرکاری ہسپتال میں عمران خان کو داخل نہ کروا کر سنگین قانونی غلطی کی گئی ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ عمران خان کو اس سنگین قانونی غلطی پر اپنی پارٹی کی اعلی سطح کمیٹی تشکیل دینی چاہئے کہ وہ کون افراد تھے جنہوں نے عمران خان کو سرکاری ہسپتال میں داخل کروانے کی بجائے شوکت خانم ہسپتال پہنچایا اور سانحہ وزیر آباد کے مقدمہ کو نہایت کمزور کروادیا۔ اور اس بات کی حیرانی ہے کہ نہ جانے پی ٹی آئی قیادت پولیس کے عدم تعاون پر درج بالا دستیاب قانونی ذرائع کو بروئے کار کیوں نہ لائی؟

  • اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں، اسی لئے ارشاد ہوا، مفہوم

    "جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ”

    آپ بےشک خود کو ناکارہ اور دھرتی کا بوجھ سمجھیں لیکن کچھ لوگوں کے جینے کی وجہ صرف آپ ہیں اور ان کی زندگی میں رنگینی آپ کے دم سے ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ جیسے ہیرے کی قدروقیمت اور پہچان جوہری کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ایسے ہی آپ کی قدروقیمت صرف آپ کے گھر والے جانتے ہیں اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ جب بھی آپ کوئی فیصلہ کریں تو یہ ضرور سوچیں کہ کہیں اس کے اثرات سے میرے گھر والے متاثر نہ ہوں ۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست میں رواداری ختم ہو کر تشدد کا عنصر شامل ہو گیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں آپ کو بروقت انصاف نہ ملے یا آپ کو واضح محسوس ہو کہ انصاف کرنے والا اپنے بجائے کسی اور کے احکامات پر فیصلے کر رہا ہے تو پھر فیصلے بھی سڑکوں پر ہی ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے بجائے طاقت سے روکا جاتا ہے جس کے ردعمل میں بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

    مرحوم قاضی حسین احمد کی پہچان ” دھرنا ” اور ان کا مشہور نعرہ "ظالموں قاضی آ رہا ہے ” تھا موجودہ وقت میں سیاست دان چین سے متاثر ہیں اس وجہ سے اپنی سوچ کو وہ انقلاب سمجھتے ہیں اور انقلاب لانے کے لئے وہ ” ماؤزے تنگ ” کی طرح لانگ مارچ کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس لانگ مارچ کا اختتام دھرنے پر ہی ہوتا ہے، ابھی بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے لانگ مارچ شروع کیا ہوا ہے جس کے دوران ان پر حملہ بھی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس شدید حملے میں ان کی جان محفوظ رہی اور وہ زخمی ہوئے امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے ۔

    اس لانگ مارچ کے دوران عمران خان کو بچانے کی کوشش میں ایک کارکن کی شہادت ہوئی ہے اس کے علاوہ لانگ مارچ میں شامل گاڑی کی ٹکر سے اور گاڑی پر سے گر کر بھی کارکن اور میڈیا ورکر فوت اور زخمی ہوئے ہیں حال ہی میں راولپنڈی میں احتجاج کے دوران ایک کارکن بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور کرنٹ لگنے سے وہ کھمبے پر سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔

    پاکستان میں یہ نہ پہلا لانگ مارچ ہے اور نہ ہی آخری اور اگر لانگ مارچ یا دھرنا کامیاب ہو بھی جائے تو اقتدار یا اختیار لیڈروں اور ان کے منظور نظروں کو ہی ملتا ہے جب کہ سیاسی ورکر اپنی حامی جماعت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد چھوٹے موٹے کاموں (بجلی گیس کے میٹر وغیرہ) کے لئے درخواستیں لے کر ان کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی اس کا کام ہو بھی جائے تو اس کی وجہ سیاسی کارکن کی جماعتی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ صاحب کے اچھے موڈ یا ان کے کسی منظور نظر کی سفارش کی وجہ سے اس کا کام ہوتا ہے ۔

    ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے دوران عام عوام کے ساتھ شرپسند لوگ بھی مجمع میں شامل ہوتے ہیں جن کا مقصد ایسے موقع پر فساد کر کے ملک میں افراتفری اور ابتری پیدا کرنا ہوتی ہے اور موقع ملتے ہی وہ اپنا کام سرانجام دے دیتے ہیں ایسے موقعوں پر کیوں کہ سیاسی لیڈروں کی سیکیورٹی سخت ہوتی ہے تو عموماً ٹارگٹ عام عوام بنتے ہیں اور زیادہ نقصان بھی عام عوام کا ہی ہوتا ہے ۔

    سیاست دان ان واقعات پر اپنے غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں سیاسی کارکنوں کے لواحقین کے لئے امداد کا اعلان کرتے ہیں کچھ امداد انہیں دے دیتے ہیں اور باقی امداد کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کو تو ایسے واقعات سے عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اقتدار کا سنگھاسن حاصل کر لیتے ہیں مگر عام عوام کو کیا ملتا ہے صرف حکمران ان کی جماعت کے آ جاتے ہیں لیکن عوامی مسائل اسی طرح اپنی جگہ رہتے ہیں اور یہ سیاسی کارکن بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے مختلف دفاتر میں دھکے کھا کر نظام کو برا کہتے رہتے ہیں ۔

    عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ بے شک آپ اپنی ایک سیاسی سوچ رکھیں اور جس سیاسی جماعت کے نظریات آپ کو پسند ہیں اس کی حمایت کریں لیکن جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں جا کر اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں بلکہ ووٹ کی طاقت سے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے اقتدار میں لائیں آپ کے پاس سب سے قیمتی چیز آپ کی جان ہے لیکن آپ بھی کئی لوگوں کی کل متاع ہیں جن کی زندگی آپ سے شروع اور آپ پر ختم ہوتی ہے اس لئے براہ کرم ان سیاسی جماعتوں کی خاطر اپنی جان خطرے میں اور اپنے پیاروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں ۔

  • میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی کل آبادی میں نوجوانوں کی تعداد تقریباً 70 فی صد ہے۔ اور یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ مگر اس مستقبل کا ساتھ ریاست کا رویہ، افسوسناک ہے۔ پاکستان کے اس 70 فی صد سے جذباتی بنیادوں پر ووٹ لے لیے جاتے ہیں۔ مگر پھر حکومتیں انکو بھول جاتی ہیں۔ اسمبلیوں میں صرف ایک دوسرے کو چور، ڈاکو ہی کہا جاتا ہے۔ اپنی سیاست چمکانے کے لیے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ مگر نوجوان کی کوئی بات نہیں کرتا۔ نوجوان اگر سمجھ جائے تو یہی وقت کا بادشاہ ہے۔ مگر نوجوان کنفوز ہے۔ اس لیے کہ اس کے سامنے کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔ جسکی وہ پیروی کر کے آگے بڑھے۔کیونکہ موجودہ دور میں مذہبی یا سیاسی کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں ہے، جو نوجوان نسل کو متاثر کر سکے۔لیکن اگر یہی نوجوان نسل، اقبال کے فلسفہ اور فکر سے رہنمائی لے۔تو یقیناً وقت کے بادشاہ بن سکتے ہیں۔علامہ اقبال نے نوجوان نسل کےلیے ہی فرمایا تھا کہ

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    اقبال نے نوجوان نسل کو شاہین سے تعبیر کیا ۔ شاہین خود دار اور بے خوف پرندہ ہے۔ نڈر ہو کر پروں کو کھول کر فضا میں اڑتا ہے۔اقبال کی شاعری میں موجود فکر اور فلسفہ انھیں باقی شعراء سے منفرد بناتا ہے ۔ وہ اپنے وقت کے مظلوموں کی طاقتور ترین آواز تھے۔ آج بھی انکی فکر سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ ان کے فلسفے میں آفاقیت پائی جاتی ہے۔

    کبھی نوجوان قوت خوابیدہ کو بیدار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

    پیغام خودی دے کر اقبال اس قوم کے نوجوانوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے۔ جس کی جھلک ان کے اشعار میں بھی ملتی ہے۔

    جوانوں کو میری آہ سحر دے

    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

    خدایا آرزو میری یہی ہے

    میرا نور بصیرت عام کر دے

    خدا کرے کہ ہم نوجوانوں کو فکر اقبال سمجھ آجائے۔ اور ہم اپنے مقام و مرتبے کو پہچان پائیں۔