Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    فلم تھری ایڈیٹس میں عامر خان چتر کی تقریر میں کچھ الفاظ بدل دیتا ہے. یہ کچھ الفاظ ہندی سے نابلد چھتر کی خوب بے عزتی کروا دیتے ہیں. غصے میں چھتر کالج کی ٹینکی پر ایک تاریخ لکھتا ہے. آج سے دس سال بعد فیصلہ ہوگا کون کامیاب اور کون ناکام ہے.؟

    میرے خیال میں سکولوں میں پوزیشن ہونی ہی نہیں چاہئے. یہ سمجھ کا کم یادداشت اور قسمت کا زیادہ کھیل بن جاتا ہے. سکولوں کا مقصد ایک نسل کا اپنی نئی نسل کو اس مقام تک لانا ہوتا ہے جس مقام پر آج کی نسل کھڑی ہے. اول دوئم سوئم پوزیشن ایک نسل دنیا کے میدان میں بناتی ہے، حاصل کرتی ہے اور منواتی ہے. اکثر سکول کلاس کے ٹاپرز زندگی کے میدان میں پیچھے اور کلاس کے کمزور بچے اس میدان میں آگے کھڑے ہوتے ہیں.

    کیا سکول رزلٹ کارڈ حقیقت کے میدانوں کے ترجمان ہیں.؟ آپ کے سکول میٹرک کے طلباء کی پوزیشن فرض کیا پندرہ سال بعد آج ایوارڈ ہوں. اپنے اپنے میدان میں پوزیشن اور کامیابی اگر معیار ہو تو نتیجہ کیا ہوگا.؟ آپ بھی سوچیں اور بچوں کا پوزیشن سٹریس کم کرنے کا حوصلہ کریں. ہم سسٹم تو نہیں بدل سکتے لیکن کسی کی پریشانی کو کم ضرور کر سکتے ہیں.

    وقت اکثر چتر کی طرح ان کی یادداشت کے چند لفظ آگے پیچھے کر دیتا ہے. زمانے کے قہقہے نکل جاتے ہیں اور یہ بچارے اپنی ذات میں سمٹ کر گُم ہو جاتے ہیں.

  • روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پتنگے اور دیگر حشرات الارض جو اُڑتے ہیں ان میں ایک نیویگیشن سسٹم سا لگا ہوتا ہے جو انہیں رات کی تاریکی میں چاند۔ کی روشنی کی مدد سے راستہ بتاتا ہے۔ یہ نیویگیشن سسٹم ایک سادہ سے اُصول پر مبنی ہے جسے ٹرانسورس اورئینٹیشن کہتےہیں۔ اب یہ کیا بلا ہے؟ ٹرانسورس اورئنٹیشن دراصل یہ ہے کہ ایک پتنگا اپنی اُڑان کے دوران چاند سے ایک مستقل زاویے پر رہتا ہے جس سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کس سمت جانا یے یا کونسی سمت بدلنی ہے کہ چاند سے اسکا زاویہ ہمیشہ ایک رہے۔

    اب چاند چونکہ زمین سے دور ہے اور آسمان میں اپنی جگہ آہستہ سے بدلتا ہے لہذا ایک پتنگے کا چاند سے ایک مستقل زاویہ رکھ کر اُڑنا آسان ہے۔ پتنگے کے نقطہء نظر سے چاند اسکی اُڑان کے وقفے میں جگہ نہیں بدلتا۔ ویسے ہی جیسے آپ سڑک پر گاڑی دوڑاتے جائیں اور چاند بھی آپکو اپنے ساتھ دوڑتا نظر آتا ہے۔ ہم انسان بھی اس طریقہ کار کو ماضی میں استعمال کرتے رہیں راستہ ڈھونڈنے کے لیے جب ہم قطبی ستارے سے شمال کی سمت کا تعین کر کے لمبے راستوں پر سفر کیا کرتے تھے۔

    مگر پتنگے کی قسمت خراب کہ انیسویں صدی میں ایڈیسن صاحب آئے اور بلب کی ایجاد کو پیٹنٹ کر دیا۔ اب ہر طرف برقی قمقمے ہیں۔ دنیا میں چوبیس گھنٹے ہر جگہ جہاں انسان رہتے ہیں وہاں روشنی رہتی ہے۔ چاہے سورج کی ہو یا بجلی سے جلے مصنوعی بلب اور روشنیوں کی۔

    چونکہ اس عمل کو گزرے چند صدیاں ہی ہوئی ہیں لہذا پتنگے اور دیگر حشرات ارتقائی طور پر اس تبدیلی کو کہ اب ہر طرف رات میں مصنوعی روشنیاں ہوتی ہیں، میں خود کو مکمل ڈھال نہیں سکے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب ایک پتنگا یا کیڑا روشنی کے قریب آتا ہے تو اسکی آنکھیں تیز روشنی سے اول تو چندھیا جاتی ہیں کیونکہ انہیں چاندکی مدہم روشنی کی عادت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ بلب یا مصنوعی روشنیوں کے ساتھ پتنگے مستقل زاویہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو چونکہ یہ روشنی انکے بے حد قریب ہوتی ہے تو مستقل زاویہ رکھنے کے چکر میں یہ چکرا جاتے ہیں اور دائرے میں گھومنے لگتے ہیں۔ یوں بیچارے پتنگے صبح تک گھومتے گھومتے تھک کر نڈھال ہو جاتے ہیں اور دم توڑ دیتے ہیں۔ روشنی کے بلبوں سے بار بار ٹکرا کر اور بلب سے آتی حدت سے انکی ننھی جانیں دارِ فانی کو کوچ کر جاتی ہیں۔

    اقبالِ لاہوری کا ایک شعر تھا:

    مگَس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    مگس یعنی شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ وہ پھولوں سے رس چرائے گی اور شہد کے ساتھ موم بھی بنے گا جس کی شمع سے پروانے جل جائیں گے۔
    اتنا لمبا کنکشن بنانے پر میں اقبالِ لاہوری کو داد دیتا ہوں۔مگر اس شعر میں زمانے کے مطابق تبدیلی کچھ یوں ہونی چاہئے تھی۔

    ایڈیسن کو لیب میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    و آخر دعوانا

  • جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    ہم مڈل کلاسیوں کی شادیوں میں شادی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی جتنی بھی سادگی برتی جائے نہ نہ کرتے اخراجات قرض لینے کی سطح تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ گھر کی خواتین لڑکے اور لڑکی دونوں سائیڈ سے زیور کے بغیر شادی کو حرام سمجھتی ہیں۔ شادی کے بعد اکثریت میں جوڑے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ مشکلات پلس خاوند کی مالی حیثیت تب اور واضح ہو جاتی جب پہلے دوسرے ماہ ہی خوشخبری آجاتی۔

    بھائی یورین ٹیسٹ پازیٹو آنے کے فوری بعد کسی تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے اسکین کروا کر پریگنینسی کی لوکیشن معلوم کرنا ہوتی ہے۔ اور پھر اس اسکین کے ساتھ گائناکالوجسٹ سے ملنا ہوتا ہے۔ بنیادی ٹیسٹنگ اور اگر کسی دوا کی ضرورت ہو تو وہ شروع کر دی جاتی ہے۔ 20 روپے کی سٹک سے یورین ٹیسٹ کرکے گھر نہیں بیٹھنا ہوتا۔

    اگر خوشخبری ملنے پر آپکے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔ اور یہ کام اتنی جلدی ہو گیا ہے کہ ابھی شادی کا بھی قرض باقی ہے تو اگر پاس کچھ سونا موجود ہے وہ بغیر کسی کو بتائے دونوں میاں بیوی مشورہ کرکے بیچ دیں۔ اور خاوند اپنی حاملہ بیوی کی خود کئیر کرے۔ ہر چیز خود میسر کرے۔ نہ کہ اسے اپنی امی یا بہنوں یا گھر کی بزرگ خواتین کے حوالے کر دے۔ ہر ماہ ریگولر چیک اپ کرائیں اور ڈیلیوری بے شک نارمل ہی کیوں نہ بتائی گئی ہو۔ کسی بھی قیمت پر دائی یا کسی ایسے ہسپتال میں مت کرائیں جہاں بچے کو فی الفور آکسیجن لگانے کی سہولت میسر نہ ہو۔

    کوشش کریں کسی ایسی جگہ ڈیلیوری ہو جہاں بچوں کی نرسری موجود ہو۔ کم از کم وہاں سے قریب ہی کسی ہسپتال میں نرسری ہو۔ گاؤں سے شہر یا شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آکسیجن لگوانے یا نرسری میں بچہ لیجانے تک وہ زندہ بچ بھی جائے اسکا برین کسی حد تک متاثر یا ڈیمج ہو چکا ہوتا۔ اس چیز کا فوری پتا نہیں چلتا۔ چند ماہ یا ایک دو سال تک جب بچہ اپنی عمر کے مطابق حرکات و سکنات نہیں کرتا تو ڈاکٹر پوچھتے کہ پیدائش کہاں ہوئی تھی۔ بچہ رویا تھا اسکا رنگ کیا تھا اسے آکسیجن لگی تھی ؟ تو خیال آتا گڑ بڑ کہاں ہوئی تھی۔

    برین ڈیمج کے نتیجے میں ہونے والی معذوری کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ اسے سیری برل پالسی کہتے ہیں۔ جسم مفلوج ہوجاتا اور ساری عمر بچے کو بیٹھنے کھڑا ہونے بات کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بروقت کیا گیا فیصلہ جو حاملہ ماں کی اچھی کئیر اور اچھی جگہ ڈیلیوری عمر بھر کے پچھتاوے سے بہتر ہے۔

    اگر زیور نہیں ہے تو کم از کم قرض اتر جانے یا قرض اترنے کی کوئی سبیل ہی بن جانے تک انتظار کر لیا جائے۔ فیملی بڑھانے کا فیصلہ باہمی رضا مندی سے مؤخر کر لیا جائے۔

    میں اور مہدی بخاری بھائی سکردو کے ایک ہوٹل میں رکے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں ایک فرینچ کپل رکا تھا۔ ان سے چائے کی میز پر گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سال کے ہنی مون پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا فیصلہ ہے ہم ایک سال تک کوالٹی ٹائم ساتھ گزاریں گے چھ ماہ چند ملکوں میں اور چھ ماہ پیرس میں جاکر گزاریں گے۔ پاکستان میں وہ ایک ماہ رکنے والے تھے۔ اور پھر فیملی بڑھائیں گے۔ یہاں یہ کنسپٹ تو جیسے گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو نیو بیاہتا جوڑوں تک پہنچانے کی ضرور کوشش کریں۔۔

  • بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ بھوت پریت تھڑے اور فٹ پاتھوں پر بیٹھے گندے بدبودار عاملوں اور بنگالی بابوں کو نظر آ جاتے ہیں مگر جدید لیبارٹریوں اور تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے سائنسدانوں کو نہیں ۔ یا پھر وِچلی گل کوئی ہور اے؟

    انسانی دماغ ایک پیچیدہ شے ہے۔ اگر آپ کسی کو حتیٰ الامکان یقین دلا دیں کہ وہ کل مر جائے گا تو بھلے وہ کسی اور سبب سے مرے نہ مرے اس خوف سی ہی مر جائے گا کہ کل اُس نے مرنا ہے۔ آج کی جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جن مسائل کو ہم ماضی میں غیر مرئی عوامل سے جوڑتے تھے وہ دراصل انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں، ان سے جڑے مسائل اور ماضی میں تشخیص نہ ہونے والی بیماریوں کے سبب ہیں۔وہ بیماریاں جنکے بارے میں آج ہم جانتے ہیں کہ مختلف جرثومے جیسے کہ بیکٹیریا، وائرس وغیرہ سے ہوتے ہیں، اُنہیں بھی ماضی میں ان غیر مرئی عوامل سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    جرثونوں کے ذریعے بیماریوں کا علم انسانوں کو سولہویں صدی کے وسط میں ہوا جب Girolamo Fracastoro جوایک اطالوی طبیب تھے، نے یہ خیال پیش کیا۔

    سولہویں صدی کے آخر میں خوردبین کی ایجاد سے ان جرثوموں کو دیکھنا ممکن ہوا۔ Fracastoro کے اس اچھوتے خیال کو سائنس میں جدت کی بدولت ایک سائنسی تھیوری بننے میں کئی صدیاں لگیں۔ آج یہ ایک مسلمہ حقیقت کے روپ میں ایک مصدقہ سائنسی تھیوری ہے، جسے Germ Theory کہا جاتا ہے۔ آج اسی تھیوری کی بنیاد پر کئی جدید اور موثر طریقہ علاج طب کی دنیا میں انقلاب برپا کر چکے ہیں۔ سائنس کی یہ تھیوری انسانوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کہ اسکی بدولت اب تک کروڑوں انسانوں کی زندگی بچ چکی ہے۔۔زندگی سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ کیا ہو گا؟ انسانیت کے لیے سائنس کا یہ سب سے بڑا تحفہ ہے۔

    ماضی میں جب انسان یہ سب نہیں جانتے تھے تو نہ دکھنے والے یہ جرثونے اور ان سے جڑی بیماریوں کو غیر مرئی قوتوں کا شاخسانہ کہنے میں حق بجانب تھے۔ مگر آج ہم سائنس کی بدولت اصل محرکات جانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس طرح کے توہمات کی تقلید کر کے اپنی زندگیاں اور اپنا پیسہ ایسے عاملوں اور جعلی پیروں پر لگائیں۔ اس جاہلانہ رویے سے آج تک کتنی معصوم جانیں ضائع اور کتنے گھر برباد ہو چکے ہیں۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کے رویوں کی بیخ کنی کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے محفوظ رہیں تو ہمیں جدید سائنسی علوم اپنانے ہونگے, سائنسی طرزِ فکر رکھنا ہو گا۔ ورنہ بنگالی بابوں کو عقل گروی رکھ کر قدرت کی اس سب سے بڑی نعمت کو ٹھوکریں مارتے رہیں۔ کس نے روکا ہے؟

  • کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    بچے اپنی ہی ماں کی پششش کی آواز پر پیشاب کرتے ہیں اسکی وجہ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ لیکن اس آواز کے پیچھے بچے کے دماغ کی کنڈیشننگ چھپی ہے جس میں بچے کے دماغ کو اس آواز پر حرکت کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

    اس سے ریلیٹڈ ایک دلچسپ مثال کتوں پہ کئے گئے تجربے کی ہے۔

    کتے گوشت دیکھ کر منہ سے پانی نکالتے ہیں یہ دیکھ کر ایک روسی نفسیات دان پاؤلو Pavlov کافی حیران ہوا، لیکن اس نے ایک نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے گوشت دینے کیساتھ ساتھ گھنٹی بھی بجانا شروع کی، کچھ عرصہ بعد پاؤلو صرف گھنٹی بجاتا تھا اور کتوں کے منہ سے پانی نکلنا شروع ہونے لگ جاتا تھا۔

    اس کو ہم کلاسیکل کنڈیشننگ کہتے ہیں۔

    بچپن میں جب بچے شروع شروع میں پیشاب کرتے ہیں تو والدین پششش کی آواز نکالتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بچوں کا سب کانشش دماغ اس سٹیمولائی کو پیشاب کے ایکشن سے جوڑنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بچے اپنی ماں کی پششش کی آواز پہ ہی بس پیشاب کرتے ہیں۔

    یہ کنڈیشننگ اتنی مضبوط ہے کہ کچھ لوگ بڑے ہو کر بھی اس آواز پہ پیشاب کر دیتے ہیں۔ عموما بچوں کو پوٹی ٹرین کرنے کے دوران ماں کی یہ آواز اس کو اس سٹیمولائی پہ پیشاب کرنے کی عادی بنا دیتی ہے۔

  • یوم ولادت،ممتاز مرزا

    یوم ولادت،ممتاز مرزا

    اصل نام:مرزا توسل حسین
    قلمی نام:ممتاز مرزا
    پیدائش:29 نومبر 1939ء
    حیدرآباد، سندھ،

    وفات:06 جنوری 1997ء
    کراچی، پاکستان
    آخری آرام گاہ:ٹنڈو آغا، حیدرآباد
    پاکستان
    پیشہ:ماہر سندھی ثقافت، ادیب
    محقق، ماہر لطیفیات
    زبان:سندھی، اردو
    نسل:سندھی
    شہریت:پاکستانی
    تعلیم:ایم اے (سندھی)
    مادر علمی:سندھ یونیورسٹی
    اصناف:سندھی ثقافت، موسیقی
    ادب، تحقیق، لطیفیات
    نمایاں کام:گنج (کلام شاہ عبداللطیف بھٹائی)
    وساریان نہ وسرن
    سپریاں سندے گالھڑی
    سدا سوئیتا کاپڑی
    اہم اعزازات:صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

    ممتاز مرزا سندھی زبان کے ممتاز ادیب، ماہر سندھی ثقافت، ماہر سندھی لوک موسیقی، ادیب، محقق اور ماہر لطیفیات تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے مرتب کر کے شائع کرنا تھا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ممتاز مرزا 29 نومبر 1939ء کو حیدرآباد، سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مرزا توسل حسین تھا۔ ان کا تعلق مرزا قلیچ بیگ، مرزا اجمل بیگ اور مرزا بڈھل بیگ کے ذی علم گھرانے سے تھا۔ ان کے والد مرزا گل حسن احسن کربلائی بھی سندھ کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ممتاز مرزا نے اپنی علمی زندگی کا آغاز سندھی ادبی بورڈ سے کیا جہاں انہیں سندھی۔ اردو ڈکشنری اور اردو۔ سندھی ڈکشنری اور سندھی لوک ادب کی تدوین کا سونپا گیا۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ رہے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ سندھ کے محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے جہاں انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے مرتب کیا اور اپنی نگرانی میں شائع کرایا جو اعلیٰ طباعت کا حسین شاہکار ہے۔ ممتاز مرزا سندھی زبان کے اعلیٰ پائے کے نثر نگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سپریان سندے گالھڑی، سدا سوئیتا کاپڑی اور وساریان نہ وسرن شامل ہیں۔
    ممتاز مرزا نے سندھ کے ممتاز لوک گلوکار الن فقیر اور تھر کی کوئل مائی بھاگی سمیت متعدد فنکاروں کو ریڈیو اور ٹیلی وژن میں روشناس کرایا۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج (کلام حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی)
    ۔ (2)سپریاں سندے گالھڑی (یاداشتیں)
    ۔ (3)سدا سوئیتا کاپڑی (خاکے)
    ۔ (4)وساریان نہ وسرن (خاکے / یاداشتیں)
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حکومت پاکستان نے ممتاز مرزا کی سندھ کی ثقافت، موسیقی و ادب کے فروغ کے اعتراف کے طور پر 14 اگست 1997ء کوان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ممتاز مرزا 6 جنوری، 1997ء کو کراچی میں پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ حیدرآباد، سندھ میں ٹنڈو آغا کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

  • پراجکت شکرے

    پراجکت شکرے

    پیدائش: 29 نومبر 1987
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک ہندوستانی گلوکارہ اور بغمی نگار ہے جو بالی ووڈ فلموں میں کام کرتی ہے اور ریئلٹی شوز میں نظر آتی ہے۔
    اس نے انڈین آئیڈل کے سیزن 1 میں حصہ لیا جہاں وہ چوتھے نمبر پر رہی۔
    پراجکتا شکرے نے انہیں موسیقی کو کیریئر کے طور پر لینے کی شروعات کی اور وہ بالی ووڈ کی معروف پلے بیک سنگر بن کر اس پر مجبور ہوگئیں۔
    چار سال کی چھوٹی عمر سے ہی اس نے گانے کے مختلف مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔
    جب وہ 12ویں جماعت میں تھی، اس نے گانے پر مبنی رئیلٹی شو انڈین آئیڈل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔
    اگرچہ وہ اسے جیت نہیں سکی، لیکن وہ ٹاپ فائیو تک آگے بڑھنے کے بعد نمایاں ہو گئی۔
    وہ اپنے سیزن میں ٹاپ فائیو تک پہنچنے والی واحد خاتون مدمقابل تھیں۔

    وہ اپنے سیزن میں چوتھے نمبر پر رہی۔ شو ختم ہونے کے بعد اسے گانے کی مختلف پیشکشیں آنے لگیں۔
    اسے سونی بی ایم جی لیبل نے سائن کیا تھا اور موسیقار لیسلی لیوس کے ساتھ، اس نے اپنا پہلا سولو البم جاری کیا۔
    وہ انڈین آئیڈل سیزن 1 کی فاتح، ابھیجیت ساونت کے ساتھ مختلف اسٹیج شوز میں پرفارم کر چکی ہیں۔
    اس نے حال ہی میں ڈیجیٹل راستے پر جانے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی اپنا یوٹیوب چینل شروع کرنے والی ہے اور اپنے گانے اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کرے گی۔

  • یوم وفات، معراج فیض آبادی

    یوم وفات، معراج فیض آبادی

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    اصل نام:سید معراج الحق
    وقلمی نام:معراج فیض آبادی
    والد کا نام:سید سراج الحق
    پیدائش: 02 جنوری 1941ء
    جائے ولادت:موضع کولا شریف
    ضلع فیض آباد (یوپی)
    وفات:30 نومبر 2013ء
    تلمیذ: اس نعمت سے محروم ہوں
    تعلیم:بی ایس سی، لکھنؤ یونیورسٹی
    ملازمت:جنوری 2003ء میں
    سنی وقف بورذ ، لکھنؤ
    کی ملازمت سے سبکدوشی
    پتا: بیراگی ٹولہ، پرانا ٹکیت،
    لکھنؤ-4 (یوپی)

    نام سیّد معراج الحق المعروف معراجؔ فیض آبادی،2 جنوری 1941ء کو فیض آباد کے معروف قصبے کولا شریف میں پیدا ہوئے۔ جامعہ لکھنؤ سے انہوں نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔ سنّی وقف بورڈ میں انہوں نے ملازمت کی اور 2013ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔میر انیسؔ ، معراج فیض آبادی کے پسندیدہ شاعر تھے ۔ ان کا مجموعہ ” ناموس“، 2004ء میں شائع ہوا ۔ وہ دنیا بھر کے مشاعروں میں بڑی عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے ۔30 نومبر 2013ء کو معراجؔ فیض آبادی، لکھنؤ میں انتقال کر گئے ۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
    تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے

    اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
    اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا

    زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
    پاؤں بخشے ہیں تو توفیق سفر بھی دینا

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
    اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم

    اے یقینوں کے خدا شہر گماں کس کا ہے
    نور تیرا ہے چراغوں میں دھواں کس کا ہے

    اے دشتِ آرزو مجھے منزل کی آس دے
    میری تھکن کو گردِ سفر کا لباس دے

    ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
    پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
    اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

    آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
    گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے

    گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
    اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا

  • یوم وفات، آسکر وائلڈ،معروف عائرش شائر

    یوم وفات، آسکر وائلڈ،معروف عائرش شائر

    پیدائش:16 اکتوبر 1854ء
    ڈبلن
    وفات:30 نومبر 1900ء
    پیرس
    مدفن:قبرستان بیر لاشیز
    طرز وفات:طبعی موت
    مقام نظر بندی:پینٹویلی جیل
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    جمہوریہ آئرلینڈ
    مادر علمی:میگڈالن کالج
    ٹرنیٹی کالج، ڈبلن
    پیشہ:شاعر، ڈراما نگار، افسانہ نگار، صحافی
    بچوں کے مصنف، ناول نگار
    مصنف، مصنف، نثر نگار
    عوامی صحافی، مضمون نگار
    مادری زبان:انگریزی
    زبان:انگریزی، فرانسیسی
    لاطینی زبان، قدیم یونانی

    آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) ایک آئرش شاعر اور ڈراما نگار تھا۔ 1880 کی دہائی میں مختلف اقسام میں لکھنے کے بعد وہ ابتدائی 1890ء کے دہائی میں لندن کا سب سے مشہور ڈراما نگار تھا۔ آسکر وائلڈ کے والدین کا شمار ڈبلن کے اینگلو-آئرش دانشوروں میں کیا جاتا تھا۔ ان کا بیٹا اپنی ابتدائی زندگی میں ہی فرانسیسی اور جرمن کا ماہر بن گیا۔ آسکر وائلڈ نے پہلے ٹرنیٹی کالج، ڈبلن اور پھر میگڈالن کالج، اوکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی۔

    چند اقتباسات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٭ بے وقوفی کے علاوہ اور کوئی گناہ نہیں۔
    ٭ اگرچہ ہم سب گٹر میں ہیں لیکن ہم میں سے بعض افراد ستارے دیکھ رہے ہیں۔
    ٭ ہر کوئی اپنی غلطی کو تجربے کا نام دیتا ہے۔
    ٭ اس دنیا میں دو ہی ٹریجیڈیاں ہیں، ایک اس چیز کا نام یاد کرنا جس کی آپ کو ضرورت ہو اور دوسرا اسے تلاش کر لینا۔
    ٭ میں ہر وقت خود کو حیران کرتا رہتا ہوں اور یہی وجہ زندگی کو زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔
    ٭ خالص اور سادہ سچ شاید ہی کبھی خالص ہو لیکن سادہ پھر بھی نہیں ہوتا۔
    ٭ سر رابرٹ آپ اتنے امیر بھی نہیں کہ اپنا ماضی خرید کر لا سکیں۔ کوئی بھی اتنا امیر نہیں۔
    ٭ جلد یا بدیر ہمیں اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی۔
    ٭ جو اپنے لئے نہیں سوچتا وہ کبھی سوچتا ہی نہیں۔
    ٭ خودغرضی اپنی مرضی سے جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق جینے دینا ہے۔
    ٭ صرف اچھے سوالات کے ہی اچھے جوابات ہوتے ہیں۔

  • یوم وفات ،علی رضا عابدی

    یوم وفات ،علی رضا عابدی

    پیدائش:30 نومبر 1936ء

    روڑکی،، ضلع ہردوار، برطانوی ہندوستان

    پیشہ:براڈکاسٹر، صحافی، ادیب
    زبان:اردو، سندھی، عربی، فارسی، انگریزی
    قومیت: پاکستانی
    اصناف:سفر نامہ، افسانہ اور مشہور عام تاریخ
    ساتھی:ماہی طلعت عابدی
    اولاد:رباب، مونا اور بابر

    رضا علی عابدی ایک پاکستانی سفر نامہ نگار، صحافی، مصنف اور محقق ہیں۔ عمر کا ایک عرصہ بی بی سی اردو ریڈیو میں گزارا۔ کئی کتب کے مصنف و مؤلف ہیں۔ جن میں کتابیں اپنے آباء کی، ہمارے کتب، خانے جرنیلی سٹرک وغیرہ مشہور ہیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رضا علی عابدی 30 نومبر 1936ء روڑکی، ہری دوار ضلع، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ہندستان کے علاقے یوپی سے حاصل کی، ان کے والد کا تعلق لکھنؤ سے تھا۔ 1950ء میں پاکستان آ گئے۔ 13 برس کی عمر میں انہوں نے اخبارات و جرائد کا باقاعدگی سے مطالعہ شروع کیا جو 65سال بعد بھی جاری و ساری ہے۔ اخبارات کے مطالعہ سے وہ فن خبر نگاری سے مکمل واقف ہو چکے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے 20 برس کی عمر میں 1956ء میں پہلی مرتبہ بائیں ہاتھ سے انگریزی خبر کا ترجمہ کیا۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ کو نہ صرف دیکھا بلکہ اس کو مکمل اخبار میں رپورٹ بھی کیا۔ اس وقت وہ عملی طور پر روزنامہ حریت کے ساتھ منسلک تھے۔ اس کے بعد انگلستان مزید تعلیم کے حصول کے لیے اسکالرشپ پر چلے گئے۔ پھر 1972ء میں ا نہوں نے بی بی سی سے منسلک ہو کر عملی طور پر اپنے کیئرئرکا آغازکیا اور پھر بی بی سی کے پروگرام، ڈاکومنٹریاں تھیں اور رضاعلی عابدی تھے، بی بی سی نے انہیں پاکستان بلکہ پوری دنیا کے اردو بولنے والوں میں دلوں میں جا بٹھایا۔ اور یوں وہ 1996ء میں60 سال کی عمر میں ریٹارڈ ہوئے۔ رضا علی عابدی نے اب تک 30 سے زائد کتابیں لکھیں ہیں جس میں 16بڑوں اور14کتابوں کا تعلق بچوں اور کے مسائل و عمر سے ہے۔ اُن کو 6 نومبر 2013ء کو بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کی طرف سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دینے کااعلان کیا گیا۔
    شائع شدہ کتب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سفر نامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)جرنیلی سٹرک- 1986
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور
    ۔ (2)شیر دریا- 1992
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    ۔ (3)جہازی بھائی-1995
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    ۔ (4)ریل کہانی-1997
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    کتب خانہ
    ۔۔۔۔۔۔
    پہلا سفر
    تیس سال بعد، 2012ء
    بچوں کی کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پہلا تارا،
    ۔ (2)پہلی کرن،
    ۔ (3)چمپکا،
    ۔ (4)میری امی،
    ۔ (5)پیاری ماں،
    ۔ (6)الٹا گھوڑا،
    ۔ (7)قاضی جی کا اچار،
    ۔ (8)پہلی گنتی،
    ۔ (9)بندر کی الف ب،
    ۔ (10)چوری چوری چپکے چپکے،
    ۔ (11)کمال کا آدمی
    ۔ (12)نٹ کھٹ لڑکا (شاعری).
    تمام کتب سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کی ہیں۔
    ادبی کتب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کتب خانہ
    ۔ (2)اردو کا حال 2012ء
    ۔ (3)اپنی آواز(افسانے)
    ۔ (4)جان صاحب(افسانے)
    ۔ (5)حضرت علی کی تقریریں
    ۔ (5)جانے پہچانے
    ۔ (6)ملکہ وکٹوریا اور منشی عبد الکریم
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن لاہور۔2012ء
    ۔ (7)نغمہ گر (برصغیر کے نغموں کی تاریخ)
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔
    ۔ (8)پہلا سفر (1982 کے پہلے
    ۔ پاک بھارت سفر کی روداد
    ۔ جون 2011ء میں
    ۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس)
    ۔ (9)ریڈیو کے دن
    ۔ (ذاتی یادشتیں – 2012ء
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن لاہور)
    ۔ (10)اخبار کی راتیں
    ۔ (2014ء سنگ میل پبلی کیشن لاہور)
    ۔ (11)کتابیں اپنے آباء کی
    ۔ (انیسویں صدی کی اردو کتب)
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔
    ۔ (12)تیس سال بعد
    ۔ (پہلا پاک بھارت سفر+
    ۔ ہمارے کتب خانے، ایک ساتھ)
    ۔ (13)پرانے ٹھگ
    ۔ (انیسویں صدی کے ٹھگوں کی مختصر تاریخ)
    ۔ 2013ء، سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔