Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ ان کے جاننے والے کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ وہ اپنی بیوی کو چھ سات ماہ پہلے طلاق دے چکے تھے اور وہ عدت کے بعد میکے میں تھی۔ طلاق کے چھ ماہ سات ماہ بعد ان کی دوسری شادی ہو رہی تھی تو پہلی مطلقہ (بیوی) پولیس لے کر پہنچ گئی کہ یہ میرا شوہر ہے اور مجھ سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کر رہا ہے۔

    اب چونکہ طلاق زبانی ہوئی تھی تو پولیس نے اسے گرفتار کر کے مقدمہ بنا دیا۔ شادی میں بھی بدمزگی پیدا ہوئی، اسے چند دن حوالات میں بھی رہنا پڑا ، پیسے بھی کافی لگے اور کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

    حالانکہ اس نے وہاں بھی کہا کہ میں اسے اتنے ماہ پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں، وہاں ان کے سامنے بھی طلاق دی اور بعد میں کاغذات بنوا کر بھی عدالت میں پیش کیے۔ لیکن ابھی تک اس مطلقہ عورت کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ طلاق اس نے مقدمے اور سزا سے بچنے کے لیے اب دی ہے۔

    مجھے نہیں معلوم کہ اس سلسلے میں قانون کیا ہے اور اس کی جان کیسے چھوٹ سکتی ہے، یہ تو کوئی وکیل ہی بتا سکتا ہے لیکن یہاں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل کوئی بھی کام کریں تو اسے رجسٹر لازمی کروائیں۔

    چاہے نکاح ہو طلاق ہو ، کوئی کاروباری معاہدہ ہو، کسی گاڑی، مکان، زمین وغیرہ کی خرید و فروخت ہو۔ کیونکہ کب قریبی اور پیارے جان کے دشمن بن جائیں کوئی پتہ نہیں لگتا۔

    دوسری بات یہ کہ طلاق کبھی بھی خوشی سے نہیں ہوتی ہے۔ جب بھی ہوتی ہے مجبوری، غصے یا نہ نبھ سکنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تو طلاق ہونے کے بعد انا اور ضد کو چھوڑ دیا کریں۔

    بس جو وقت گزرا اور جیسے بھی گزرا، اس کی لاج رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں ورنہ اس کا حساب یقیناً آخرت میں دینا ہو گا اور اس دنیا میں بھی اصول ہے کہ کسی کو بے سکون کر کے آپ کبھی بھی سکون نہیں پا سکتے ہیں۔

    اس میں اکثر کیسز میں دیکھا ہے کہ مرد حضرات تو دوسری شادی کر لیتے ہیں، انھیں کنواری لڑکیوں کا بھی رشتہ مل جاتا ہے، بچے ہوں تب بھی مل جاتا ہے لیکن عورتیں دوسری شادی کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ہیں اور اکثر دوسری شادی نہ کرنے کی وجہ سے پہلے والی شوہر میں ہی پھنسی رہتی ہیں اور اس کی خوشی ان سے نہیں دیکھی جاتی۔

    اللہ ہمیں انا اور ضد سے بچائے۔

  • محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی پر اُنکی خدمات پر پوسٹ کی تو چند لوگوں نے کمنٹ میں خصوصی طور پر کہا کہ محسنِ پاکستان پر بھی کچھ لکھوں تو لیجیے معلومات کے لیے محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب پر بھی ایک پوسٹ حاضر ہے۔ گو اُن جیسی قدآور شخصیت پر خاکسار کی کیا اہلِ علم۔و دانش کی لاکھوں پوسٹ یا مضامین بھی ہوں تو ناکافی ہیں مگر اہلِ علم کی تشنگی بڑھانے کے لئے گھڑے میں ایک کنکری ہم بھی ڈالے دیتے ہیں۔

    محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب بھارتی گجرات کے چھوٹے سے قصبے بنتوا میں 28 فروری 1928 میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ یند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے اور 1957 میں آنے والی چینی وبا ایشین فلو میں رضاکار کے طور پر کام شروع کیا۔ یہیں سے اُنہوں نے اپنی پہلی ایمبولینس خریدی اور انسانیت کی خدمت میں جُت گئے۔
    اپنی شریکِ حیات بلقیس ایدھی جو خود پیشے کے اعتبار سے نرس تھیں کے ساتھ ملکر ایدھی فاؤنڈیشن قائم کی جسکا مقصد پاکستان میں انسانوں ہی کہ نہیں جانوروں کی بھی زندگی بچانا اور خدمت کرنا تھا۔

    ملک بھر میں ایمبولنسیز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جس میں 1800 سے زائد ایمبولینسیز موجود ہیں۔
    پاکستان میں جہاں کہیں آفت ، سیلاب ، زلزلے آتے ایدھی صاحب کی فاؤنڈیشن وہاں وہاں حکومتی اداروں سے پہلے پہنچتی۔ ملک کو جب دہشتگردی نے لپیٹا تو ہر خود کش دھماکے میں پہلے پہلے اُنکی سروس پہنچتی۔ ایدھی صاحب انسانیت کو مذہب مانتے تھے۔ وہ بلا کسی رنگ، نسل، مذہب ، زبان کی تفریق کے ہر کسی کی مدد کو پہنچتے۔
    یتیموں کا پرسانِ حال یہ محسنِ پاکستان، 20ہزار سے زائد بچوں کو پالتا رہا۔ کئی یتیم بچوں کے والد کے خانے میں ایدھی صاحب کا نام اور والدہ کے خانے میں بلقیس ایدھی صاحبہ کا نام آج بھی درج ہے۔

    کوئی بھی کیسی بھی مشکل میں ہوتا، ایدھی صاحب کا در اُسکے لیےکھلا ہوتا۔ یتیم خانے، سکول، ہسپتال، ڈسپنسریاں ، بے گھر افراد کے لیے رہائش گاہ، جانوروں کے لیے محفوظ پناہگاہیں، نشے کے عادی افراد کے علاج کے سینٹر۔ غرض کیا کیا ہے جو محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی صاحب نے نہیں کیا۔

    اُنکا فلاحی کام محض پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر ممالک میں بھی جب کوئی قدرتی آفت آتی تو ایدھی فاؤنڈیشن دل کھول کر اُنکی مدد کرتی۔ یہاں سے راشن، کپڑے، خوراک، ادوایات ان ممالک کو بھیجی جاتیں۔

    ایدھی صاحب کو اپنی زندگی میں کئی ملکی و غیر ملکی اوراڈز سے نوازا گیا مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ان ایوارڈز کی توقیر ہے کہ اِنکو ایدھی صاحب کو دیا گیا۔

    ایدھی صاحب کے دو اقوال یہاں نقل کرنا چاہوں گا جس سے اندازہ ہو گا کہ محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی کس قدر بلند سوچ کے مالک تھے۔

    1.”کئی برس بیتنے کے بعد اب بھی مجھ سے کچھ لوگ سوال اور شکایت کرتے ہیں کہ آپ اپنی ایمبولینس میں کسی ہندو یا عیسائی کو کیوں لے جاتے ہیں؟ تو میں اُنہیں جواب دیتا ہوں: کیونکہ میری ایمبولینس تم سے زیادہ مسلمان ہے”.

    2. "کم تعلیم یافتہ ہونا محض اّنکے لیے معذوری ہے جو اپنی تمام عمر چلنے پھرنے اور بولنے میں گزارتے ہیں جبکہ اُنکےدماغ سوئے رہتے ہیں”.

  • معجزات  کا سال  — فرقان قریشی

    معجزات کا سال — فرقان قریشی

    annus mirabilis، یہ نام ایک مخصوص سال کو دیا گیا تھا ، سنہ 1905ء کے سال کو اور یہ نام دینے والی کوئی مذہبی تنظیم نہیں بلکہ دو سو سال سے لگاتار چھپنے والا ایک جرمن سائنس میگزین annalen der physik تھا ۔

    لیکن اس میگزین نے 1905ء کو معجزات کے سال کا نام کیوں دیا ؟

    کیوں کہ اس سال اس میگزین کے اندر آئین سٹائن نے اپنے چار ریسرچ پیپرز شائع کیے تھے جن میں سے ایک پیپر آج کے دن شائع ہوا تھا یعنی 21 نومبر 1905ء کو ، آئن سٹائن کا وہ پیپر جس میں اس نے E= Mc2 کی تھیوری پیش کی تھی ۔

    یہ وہ تھیوری ہے ، وہ equation ہے جس کی شکل سے آج دنیا کا تقریباً ہر شخص واقف ہے چاہے وہ اس کا مطلب جانتا ہے یا نہیں جانتا ، سائنس کی شاید سب سے مشہور تھیوری جس نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    انفیکٹ وہ اوریجنل میگزینز جن میں یہ ریسرچ پیپر شائع ہوا تھا ان میں سے آج صرف تین میگزینز موجود ہیں جن میں سے ایک میگزین پچھلے سال ایک auction میں بارہ لاکھ ڈالرز کا بکا تھا ۔ لیکن اس تھیوری نے دنیا کو کیسے بدل دیا ؟

    کیوں کہ یہ وہ تھیوری ہے جس پر ایٹم بنا ہے ، یہ تصویر ٹاسک فورس ون کی ہے ۔

    امیرکن نیوی کی پہلی نیوکلیئر پاورڈ یونٹ جو دنیا کے سمندروں میں پینسٹھ دن تک گھومتی رہی تھی اور 1964ء میں کراچی بھی آئی تھی ، اس کے ڈیک پر E=Mc2 لکھا آپ کو صاف نظر آ ئے گا ۔

    اب یہاں تک تو ایک ایوریج انسان کا نالج ہوتا ہی ہے لیکن اس کے بعد کچھ بہت ہی دلچسپ باتیں ہیں جو عموماً لوگ نہیں جانتے اور انہی دلچسپ باتوں میں سے ایک بات اس تھیوری پر ایٹم بم بنانے والے شخص dr. robert oppenheimer کی شخصیت ہے ۔

    ایک جینئس یہودی جس کا ہر چیز میں انٹرسٹ تھا ، اسے مشکل کام پسند تھے اور نیوکلیئر فزکس یا ایٹم بم بنانے جیسے کام اسے آسان لگتے تھے لہٰذا اسکی دلچسپی ان علوم میں ہو گئی جو عام لوگوں کے لیے نہیں ہوتے ، دوسرے الفاظ میں ’’مخفی علوم‘‘ ۔

    اس نے سنسکرت زبان سیکھی اور اوریجنل سنسکرت میں ہندو ٹیکسٹ یعنی ’’بھگود گیتا‘‘ اور ’’اوپانیشد‘‘ کو سٹڈی کیا۔ اس کے دوست اور کولیگ isidor rabi نے ایک مرتبہ dr. oppenheimer کے متعلق کہا تھا کہ …

    ’’وہ فزکس اور سائنس کے لیے بہت over educated ہے ، اسے سائنس کو سمجھنا بہت آسان لگتا ہے اس لیے اسے مذہب جیسی پراسرار سٹڈیز میں زیادہ دلچسپی ہو گئی ۔‘‘

    لیکن پھر بھی اپنے جینئس دماغ کی وجہ سے اوپن ہائمر امیرکہ کے لیے ایٹم بم بنانے والے پراجیکٹ یعنی the manhatten project کا ڈائریکٹر تھا اور اسی شخص نے بیسکلی ایٹم بم ڈیزائن کیا تھا ۔

    لیکن جو چند باتیں بہت دلچسپ ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ oppenheimer نے ایٹم بم بنانے کے پراجیکٹ کی تقریباً ہر چیز کو ایک مذہبی رنگ دیا ہوا تھا مثلاً جس جگہ ایٹم بم نے ٹیسٹ ہونا تھا ، اس سائٹ کو اس نے trinity کا نام دیا ۔

    اور اس نے اپنی یہ انسپریشن 1633ء میں پبلش ہوئی انیس نظموں کے مجموعے میں سے ایک نظم batter my heart, three person’d god میں سے لی تھی ، جس میں خدا سے ڈائریکٹ بات کی جا رہی ہے ، ایک طرح کی دعا جس میں شدید قسم کی جنسی اور ملٹری superiority کی دعا مانگی گئی ہے ۔

    لیکن ایک اور بہت دلچسپ بات کہ اس نظم کے رائیٹر نے اپنی زندگی میں ہی اپنا ایک بہت خاص پورٹریٹ بنوایا تھا ۔ ایک ایسا پورٹریٹ جس میں اس نے اپنے آپ کو کفن میں لپٹا دکھایا ہے کیوں کہ اس کا ماننا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جس دن دنیا پر سب کچھ تباہ ہو جائے گا اور اس دن میں اس کفن کے اندر لپٹا اٹھوں گا ۔

    اور جس وقت dr. oppenheimer نے انسانی تاریخ کا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا جسے the trinity test کہتے ہیں ، اس وقت دھماکے کو دیکھتے ہوئے اس نے بھگود گیتا کی ایک لائن پڑھی تھی ۔

    ’’اگر آسمان میں ہزاروں سورج ایک ساتھ چمکیں ، تو وہ خدا کو دیکھنے جیسا ہو گا … میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    بعد میں اس نے ٹی وی پر یہ بات ایک بار پھر کہی تھی کہ …

    جب ہم لوگ اس دھماکے کو ہوتا دیکھ رہے تھے تو ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب دنیا بدلنے والی ہے … کچھ لوگ ہنس رہے تھے ، کچھ رو رہے تھے لیکن زیادہ تر لوگ خاموش تھے … دھماکے کے وقت وہ کچھ بھی نہیں بول پا رہے تھے ۔

    لیکن dr. oppenheimer نے اس بھیانک دھماکے کو دیکھتے ہوئے گیتا کی یہی لائن کیوں پڑھی ؟

    کیوں کہ بھگود گیتا میں اس لائن کا context بہت عجیب ہے جو میں آپ کو بتا دیتا ہوں ، جہاں ایک بہت بڑی جنگ یا جنگ عظیم چل رہی ہے یعنی مہابھارت …

    اور وشنو ، ارجن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایک نئی جنگ شروع کرے اور اس وقت وشنو اپنے آپ کو ایک خدا کے طور پر ڈکلیئر کر دیتا ہے … اور اپنے جسم سے کئی بازو نکال کر کہتا ہے …

    ’’اب میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سچائی .. کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کن ہوتی ہے ، جیسے جیسے میری ریسرچ وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے ، ویسے ویسے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ان واقعات میں حیرانیوں کی کئی کئی تہیں چھپی ہوئی ہیں ۔

    اب آپ کو ایک بات تو سمجھ آ جانی چاہیئے کہ اس پیپر کو پبلش کرنے والے شخص آئن سٹائن نے ، جس نے اپنی زندگی میں ہمارے وقت کی دونوں بڑی جنگیں دیکھی ہیں ، اس نے یہ کیوں کہا کہ …

    پہلی ورلڈ وار رائفلز اور بندوقوں سے لڑی گئی ، دوسری جنگ عظیم ٹینکوں اور جہازوں سے لڑی جا رہی ہے … مجھے نہیں پتہ کہ تیسری جنگ عظیم کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی لیکن چوتھی جنگ عظیم لڑنے کے لیے … صرف ڈنڈے اور پتھر ہی بچیں گے ۔

  • 25 نومبر 2020 ،یوم وفات میرا ڈونا

    25 نومبر 2020 ،یوم وفات میرا ڈونا

    ڈیاگو ارمانڈو میراڈونا ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے ایک سابق فٹ بال کھلاڑی تھے۔ انہیں فٹ بال کی تاریخ کے عظیم اور متنازع ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    30 اکتوبر 1960 کو پیدا ہونے والے ڈیاگو میراڈونا ارجنٹائن کے دار الحکومت بیونس آئرس کے نواحی قصبے ویلا فیوریتو کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے پیشہ ورانہ دور میں بوکا جونیئرز، ایف سی بارسلونا اور ایس ایس سی ناپولی کے لیے مختلف اعزازات حاصل کیے۔ اپنے بین الاقوامی دور میں آپ نے 91 مقابلوں میں شرکت کی اور 34 گول کیے۔

    آپ نے 1982ء، 1986ء، 1990ء اور 1994ء کے فٹ بال عالمی کپ مقابلوں میں شرکت کی۔1986ء میں ارجنٹائن نے آپ کی قیادت میں عالمی کپ میں شرکت کی اور حتمی مقابلے میں مغربی جرمنی کو شکست دے کر عالمی چیمپیئن بنا۔ میراڈونا نے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

    کوارٹر فائنل میں انگلستان کے دو گول نے آپ کو ایک افسانوی حیثیت دے دی۔ ٹیلی وژن ری پلے نے ثابت کیا کہ آپ نے پہلا گول اپنے ہاتھ سے کیا تھا۔ بعد ازاں آپ نے کہا کہ "تھوڑا سا میراڈونا کا سر اور تھوڑا سا خدا کا ہاتھ”۔ اس طرح یہ گول "خدائی ہاتھ” (Hand of God) کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ مقابلے کے بعد آپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

    ” اگر اس میں ہاتھ شامل بھی تھا، تو وہ ضرور خدا کا ہاتھ تھا۔ “
    انگلستان کے خلاف اس یادگار مقابلے میں اس پہلے متنازع گول کے بعد آپ نے جو دوسرا گول بنایا وہ ان کی صلاحیتوں کا عکاس تھا۔ آپ نے میدان کے وسط سے گیند کو لیا اور انگلستان کے پانچ کھلاڑیوں اور گول کیپر کو غچہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھائی۔ اسے 2002ء میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی جانب سے کیے گئے ایک آن لائن پول میں صدی کا بہترین گول قرار دیا گیا۔ اس مقابلے میں ارجنٹائن نے 2-1 سے فتح حاصل کی اور انگلستان کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ ان دونوں گولوں کو برطانیہ کے چینل 4 ٹیلی وژن کی جانب سے 2002ء میں کھیلوں کے 100 بہترین لمحات میں چھٹا نمبر دیا۔

    سیمی فائنل میں بیلجیم کے خلاف آپ نے دو گول داغے اور ٹیم کو حتمی مقابلے میں لے آئے، جہاں مغربی جرمنی نے آپ کی کڑی نگرانی کی لیکن اس کے باوجود آپ کی مدد سے ارجنٹائن فاتحانہ گول کرنے میں کامیاب ہوا اور یوں فتح 3-2 سے ارجنٹائن کے حصے میں آئی۔ آپ کو بہترین کھلاڑی کا گولڈن بال ایوارڈ دیا گیا۔

    1990ء کے عالمی کپ میں ٹخنے کے زخم نے آپ کی کارکردگی کو متاثر کیا اس کے باوجود ارجنٹائن کی ٹیم حتمی مقابلے تک پہنچی جہاں مغربی جرمنی نے ایک متنازع پنالٹی ملنے کے سبب 1-0 سے کامیابی حاصل کی۔ یوں ارجنٹائن اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

    1991ء میں اٹلی میں کوکین کے لیے ایک ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد آپ کو 15 ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 1994ء کے عالمی کپ کے دوران بھی آپ منشیات کے استعمال کے باعث پابندی کا شکار بنے۔ یوں شدید تنازعات کی لپیٹ میں آنے کے بعد بالآخر آپ نے 30 اکتوبر 1997ء کو فٹ بال سے سبکدوشی کا اعلان کر دیا۔

    بعد ازاں آپ صحت کی خرابی اور وزن میں بے پناہ اضافے کے باعث مسائل کا شکار رہے۔ تاہم ایک جراحی کے نتیجے میں وزن میں اضافے پر قابو پا لیا گیا۔ کوکین کے نشے سے چھٹکارہ پانے میں بھی آپ نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

    2000ء میں آپ کی سوانح حیات "میں ڈیاگو ہوں” (Yo Soy El Diego) شایع ہوئی جو ارجنٹائن میں فروخت ہونے والی بہترین کتاب بنی۔

    فیفا کے "صدی کے بہترین کھلاڑی” کے لیے کرائے گئے پول میں آپ 53.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔ برازیل کے اعتراضات کے بعد فیفا نے فٹ بال ماہرین کی ایک کمیٹی مقرر کر دی جس نے پیلے کو صدی کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ میراڈونا نے اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً فیفا کی تقریب میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دی۔ بالآخر فیفا نے دو اعزازات دیے، میراڈونا اپنا انعام لے کر چل دیے اور پیلے کو اعزاز سے نوازنے کا انتظار نہ کیا

    25 نومبر 2020 کو ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے اس افسانوی کردار اور عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا کا دل کا دورہ پڑنے سے حرکتِ قلب بند ہوجانے کے سبب انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت وہ 60 برس کے تھے۔

  • خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    پیدائش:25 جون 1893ء
    بیروت
    وفات:25 نومبر 1976ء
    قاہرہ
    شہریت:سوریہ
    مناصب
    سعودی سفیر برائے مصر
    دفتر میں
    ۔۔۔ 1934 – 1946
    زبان:عربی

    خیر الدین زرکلی انیسویں صدی کے شام کے مشہور قومی شاعر، مؤرخ اور مصنف تھے۔ عموماً اپنے اشعار میں فرانسیسی سامراج پر تنقید کرتے تھے۔ فرانسیسیوں کے مقابلے کے لیے مجاہدین کی مدد کرتے تھے اسی وجہ سے کئی بار فرانسیسیوں نے انھیں سزائے موت سنائی لیکن ہر بار وہ ان سے بھاگ کر بچ نکلنے میں کامیاب رہتے۔

    خیر الدین زرکلی 25 جون 1893ء میں بیروت میں پیدا ہوئے، ان کے والد محمود بن محمد بن علی بن فاس زرکلی دمشق کے مشہور تاجر تھے۔ ابتدائی تعلیم دمشق میں اپنے وطن میں حاصل کی، اس کے علاوہ مکہ، ریاض، مدینہ منورہ، عمان، بیروت اور قاہرہ کا سفر کیا۔ انھوں نے سعودی عرب سفارت میں بھی کام کیا ہے اور عرب لیگ میں بطور وزیر اور سعودی عرب کا ترجمان ہونے کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ سنہ 1957ء میں مغربی ممالک میں سعودی سفیر مقرر ہوئے، یہ ان کا آخری عہدہ تھا۔ کئی اخبار و رسائل بھی جاری کیے مثلاً: ”الحیاۃ فی القدس“، ”لسان العرب“، ”الاصمعی“ اور ”الفقید فی دمشق“ وغیرہ۔ علاوہ ازیں قاہرہ میں ان کا ایک عربی مطبع بھی تھا۔ ان کی مشہور کتابوں میں سے: ”الاعلام للزرکلی“ (موجودہ زمانے میں شخصیات کی تاریخ و تراجم پر سب سے بڑی کتاب) ہے جس کی تالیف و ترتیب میں 60 سال لگے۔ اس کے علاوہ دس اور دوسری تالیفات ہیں۔ ان میں ایک دیوان بھی ہے جو ان کی نظموں اور شعری کلام کا مجموعہ ہے اور ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ ان کی وفات 25 نومبر 1976ء کو قاہرہ، مصر میں ہوئی

  • بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ کا یوم پیدائش

    بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ کا یوم پیدائش

    بلبل پنجاب کے نام سے مشہور ہونے والی پنجابی زبان کی نامور گلوکارہ اور شاعرہ سریندر کور کا آج جنم دن ہے.
    تحریر؛ آغا نیاز مگسی
    سریندر کور 25 نومبر 1929 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ وہ پنجابی لوک گیت کی صنف میں اپنی شراکت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے نے کئی مشہور اشعار گائے ہیں جن میں نند لال نورپوری، موہن سنگھ، امریتا پریتم اور دیگر نے لکھا ہےجبکہ کئی گیت اور اشعار خود ان کے اپنے لکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے بلھے شاہ کے پنجابی صوفی کافیاں بھی گائیں اور خوب پذیرائی حاصل کی۔ ان کے چند مقبول گانوں میں ‘جتی قصوری ۔پڑیاں نہ غریبی’، ‘گھمن دی رات لمی ہے جان میرے گیت لمے نے’، ‘اہنا آکھیاں’ ‘چ پون کیون کالرا’، ‘ماونتے دھیان’، ‘لٹھے دی چادر’، ‘کالا’ شامل ہیں۔ ڈوریا اور بہت کچھ۔ وہ اپنی بڑی بہن پرکاش کور کے ساتھ جوڑی کے ساتھ ملک بھر میں مشہور ہوگئیں۔

    انہوں نے آسا سنگھ مستانہ، رنگیلا جٹ، کرنیل گل، دیدار سندھو اور یہاں تک کہ اپنی بیٹی ڈولی گلیریا اور پوتی سنائی کے ساتھ گایا ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1943 میں لاہور ریڈیو اسٹیشن سے کیا جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 2,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔ سال 1984 میں، انہیں پنجابی لوک موسیقی کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں 2006 میں حکومت ہند کی طرف سے چوتھا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم شری بھی ملا۔ انہیں ملینیم پنجابی سنگر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں 2002 میں گرو نانک دیو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ سریندر کور کا انتقال 14 جون 2006 کو 77 سال کی عمر میں نیو جرسی، امریکہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سریندر کور کو ان کی وفات کے بعد بلبل پنجاب کا خطاب دیا۔

    سریندر کور تقسیم ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ غازی پور ہندوستان منتقل ہو گئیں ۔ 1948 میں ان کی شادی دہلی یونیورسٹی کے پنجابی شعبہ کے سربراہ پروفیسر جوگندر سنگھ سوڈھی سے ہوئی تھی، جنہوں نے بعد میں ہندی فلم انڈسٹری میں ان کا کیریئر بنانے میں بہت بڑی مدد کی۔ یہ جوڑے پنجاب میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے۔ 2006 میں دور درشن پر ان کی زندگی اور شراکت پر ایک دستاویزی فلم، ’پنجاب دی کوئل‘۔ نشر کی گئی ان کی بہن پرکاش کور اور بڑی بیٹی ڈولی گلیریا بھی گلوکارہ ہیں۔ سریندر کور کی 3 بیٹیاں ہیں ۔ بڑی بیٹی ڈولی گلیریا پنجکولہ امریکہ میں رہتی ہیں جبکہ نندینی سنگھ اور پرمودنی نیو جرسی امریکہ میں آباد ہیں ۔

  • کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام دیکھنے کے لئے آپ کو ہالی وڈ کی ایک فلم سیریز دیکھنا پڑے گی جس کا نام Star Wars ہے۔ اس کے انڈر دس موویز اور چار سیزن ہیں۔

    اس سیریز میں آپ صرف مختلف کلچرز کو نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ کیسے بائیولوجیکلی مختلف سپی شیز ایک دوسرے کیساتھ امن و امان کیساتھ رہ رہی ہے۔ اور مختلف مواقعوں پہ کیسے ایک دوسرے کے کلچر کا احترام کر رہی ہیں۔

    اگر آپ کو یہ لگاتا ہے کہ آپ دنیا کی سب سے خاص قوم میں پیدا ہوئے ہیں یا آپ کا کلچر حد سے زیادہ اہم ہے یا کسی اور قوم کا آپ سے بہتر ہے اور آپ کے کلچر کا اظہار غلط ہے تو آپ کو اپنے ذہنی علاج کے لئے ایسی فکشن ضرور دیکھنی چاہیے وہیں پر اپنا کلچرل ایکسپوژر وسیع کرنا چاہیے۔

    ہندوستان یا عرب کے کلچر میں کسی بدیسی کو مکمل شارٹ لباس پہن کر نہیں گھومنا چاہیے وہیں پر یورپ میں برقعے پہن کر گھومنا بھی انکے کلچر کی خلاف ورزی ہے سو ان چیزوں کو اپنی جگہ رکھ کر ہر جگہ کے کلچر اور روایات کا احترام کرکے زندگی انجوائے کرنی چاہیے۔

    ہماری قوم سمیت پوری دنیا میں موجود وسیع آبادی کا مسئلہ یہی ہے کہ انہوں نے ایک سے دوسری سٹیٹ نہیں دیکھی 9/5 جاب کر کر کے زندگی ختم کرنیوالوں کو چھوٹی چھوٹی بات بھی چبھتی ہے۔

    حالانکہ

    قطر میں لباس پہ لگی ممانعت سمیت کسی اور ملک میں چہرہ ڈھانپنے والے حجاب پہ لگی ممانعت تک سب کچھ مقامی کلچرل ویلیوز کے لحاظ سے درست ہے اور وہاں وزٹ کے دوران انکا احترام کرنا چاہیے اور اگر اپنا کلچرل زیادہ عزیز ہے تو ایسی جگہوں کو وزٹ ہی نہیں کرنا چاہیے ۔

  • باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں یا The call of the void ہماری نفسیات کا ایک حصہ ہیں. کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں نیچے اتھاہ گہرائی ہے. ایک قدم اور آپ نیچے گر سکتے ہیں. آپ کے دل میں خیال آتا ہے یہ ایک قدم اٹھا کر دیکھ نہ لوں.؟

    سڑک کنارے تیز رفتار آتی گاڑی کے سامنے خواہش ہوئی سامنے نہ چلا جاوں. ہجوم میں اچانک ایک تیز چیخ مارنے کی خواہش کبھی ہوئی ہے؟ . بہت سے لوگ اس کیفیت سے روشناس نہ ہوں گے. بہت سے یاد کریں گے تو ان کو یہ اندر کی آواز یاد آجاتی ہے.

    ہم سب کے پاس فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے. ہمارا دماغ نہ صرف ایک ہی وقت بہت سے فیصلے کر سکتا ہے بلکہ اسے اپنی اس صلاحیت کا بخوبی پتہ بھی ہوتا ہے. ہم اچھے فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور برے فیصلے بھی. ایک پہاڑ کی چوٹی پر دماغ جب نیچے کا منظر دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہتا کہ چھلانگ لگا لو بلکہ گھبرا کر کہتا ہے ” کہیں چھلانگ ہی نہ لگا لو”

    ہر ایک کا اپنا اینزائٹی لیول ہوتا ہے. کچھ لوگ فیصلوں میں کلئیر ہوتے ہیں کچھ نہیں. کچھ کا دماغ فوری تجزیہ کرتا ہے کچھ گومگو رہتے ہیں. جو جتنا کنفیوز ہوتا ہے اتنا ہی وہ ادھوری بات لیتا ہے. اسے لگتا ہے جیسے دماغ نے خواہش کی ہو چھلانگ لگا دو. اچھے برے اعمال میں بھی یہی باطل آوازیں دماغ اٹھاتا ہے. جس کا ایمان اور یقین جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کم وہ یہ باطل آوازیں سنتا ہے اور جس کا جتنا کمزور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کی باطل خواہشات پیدا ہوں گی.

  • ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    دو ماہ سے ایران میں خواتین کا احتجاج بلکہ خونی احتجاج جاری ہے جس میں ابھی تک بیسیوں شہری جان ہار گئے ہیں۔۔۔۔

    نوجوان خاتون "مہسا امینی” کے مظلومانہ قتل سے شروع ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے ۔اور آج ایران کے مذہبی رہنما اور رہبر خمینی کی سابقہ رہائش گاہ پر مظاہرین چڑھ دوڑے اور وہاں کچھ حصے کو آگ لگا دی ،اگرچہ ایرانی حکومت نے کسی نقصان کی تردید کی ہے ۔۔۔۔۔

    دو ماہ سے جاری اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا آغاز خواتین کے مظاہروں سے ہوا جو "زن ، زمین ، آزادی” کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں ۔ یہ خواتین مظاہروں میں اپنے حجاب جلاتی ہیں اور بال کاٹتی ہیں ، اور یوں ایران میں عائد مذہبی پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے حکومتی احکامات سے بغاوت کا اظہار کرتی ہیں ۔

    بظاہر یہ لبرل ایران اور سخت گیر مذہبی انتظامیہ کا مقابلہ ہے ، لیکن حقیقتاً یہ لوگوں کا غبار ہے کہ جو سخت پابندیوں کا ردعمل ہے ۔

    گو دو ماہ سے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں ، لیکن نہتے مظاہرین کے مقابل حکومتی مشینری کی کامیابی کے امکانات ہمیشہ زیادہ ہوتے لیکن کبھی کبھی عوامی جدوجہد پچھاڑ بھی دیا کرتی ہیں جس کی موجودہ دور میں بیسیووں مثالیں موجود ہیں ۔۔۔ایرانی حکومت کے لیے اس میں ابھی تک طمانیت کا پہلو صرف یہ ہے کہ قلیل واقعات کے سوا مظاہرین کی طرف سے مسلح بغاوت کے انداز میں کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ابھی تک اس احتجاج میں ایران مخالف طاقتوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ۔۔

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آس پاس کی آمریتیں ساری ایران دشمنی کے باوجود چاہتی ہیں کہ عوامی بغاوت کی کامیابی کا پیغام ان کے ملکوں کے عوام کو نہ جائے ۔

    اگر ایران اس عوامی بغاوت پر قابو بھی پا لیتا ہے تو بھی اس کے لیے اس میں سبق ہے کہ اب اس کی قیادت انقلاب دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اپنی جنگوں کو سمیٹنا شروع کرے۔ اور ملک میں موجود اپنے عوام کی اقتصادی اور معاشی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دے ۔۔۔۔کہ ملکوں کی بقاء عوام کے اطمینان میں ہوتی ہے۔۔۔۔

  • ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کا آرٹیمیس پراجیکٹ جسکا مقصد 2024 میں دوبارہ سے انسان کو چاند پر بھیجنا ہے۔اس پراجیکٹ کے کئی مراحل ہیں جن میں سے پہلا مرحلہ اس ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ ہے جسکے ذریعے مستقبل میں انسانوں کو چاند اور دیگر سیاروں پر بھیجا جائے گا۔ اس پہلے مرحلے میں پچھلے ہفتے 15 نومبر 2022 کو چاند کیطرف ایک راکٹ کے ذریعے ایک سپیسکرافٹ بھیجا گیا۔ اس سپیسکرافٹ کانام اورآئن ہے۔ یہ سپیسکرافٹ زمین کے گرد چکر لگا کر تیزی سے چاند کیطرف گیا اور اب یہ چاند کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ سپیسکرافٹ چاند کے گرد مدار میں گھومے گا اور پھر کچھ دن بعد واپس زمین کی طرف لوٹے گا۔ اس سپیسکرافٹ میں کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں جنکی مدد سے اسکا سفر دیکھا جا سکتا ہے۔

    زیرِ نظر تصویر ناسا نے چند گھنٹے پہلے شائع کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سپیس کرافٹ چاند سے تقریباً 1700 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ پسِ منظر میں ہماری زمین ہے۔ نیلی شفاف زمین ، سورج کی روشنی میں نہاتی ہوئی اور سامنے چاند ہے۔ ایک نقطے سی دکھتی اس زمین پر ہم سب رہتے ہیں، ایک چھوٹا سا سیارہ، خلاؤں میں ایک ادنی سے ستارے جسے ہم انسان سورج کہتے ہیں کے گرد گھومتا ہوا۔

    مستقبل میں ہم انسان چاند کے علاوہ مریخ اور نجانے کون کون سی دنیاؤں پر بسیں گے۔ وہ نسلیں جو ہمارے بعد آئیں گی وہ شاید یہ جان ہی نہ پائیں کہ ہم نے کبھی اپنا سفر اس جگمگاتی زمین سے شروع کیا۔ ان میں سے کئی نے شاید اپنے اباؤ اجداد سے محض زمین کا نام ہی سنا ہو۔ انسان زمین سے نکل کر خلاؤں کی وسعتوں میں انسانیت کے بیج بوئے گا۔ یہ تصور کتنا خوابناک ہے اور رومانوی بھی۔

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان