Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔ (الانعام 06:115)

    اس آیت سے آپ نے کیا سمجھا ہے ؟

    یقیناً آپ کو اس میں قرآن پاک کی تعریف نظر آئے گی ، لیکن میں آپ کو یہ آیت ایک اور رخ سے دکھاؤں ؟

    یہ بات سنہ 627ء کی ہے جب آپ ﷺ خندقیں کھدوا رہے تھے تو زمین سے ایک بڑی سی چٹان نکلی جو صحابیوں سے نہیں ٹوٹ رہی تھی ۔

    اس پر آپؐ خود اٹھے ، اپنی چادر کو مٹی پر رکھا اور اس چٹان پر کدال ماری اور فوراً یہ آیت پڑھی کہ تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔

    صحابہ کہتے ہیں کہ ہم کھڑے آپؐ کو دیکھ رہے تھے اور ہم نے دیکھا کہ آپکی ضرب سے ایک چمک پیدا ہوئی ، پھر آپؐ نے دوبارہ ضرب لگائی اور ایکبار پھر چنگاری نکلی اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی ، اور جب آپؐ نے تیسری ضرب لگائی تو ہم نے ایک بار پھر چمک دیکھی اور وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی ۔

    لیکن جب آپؐ خندق سے باہر نکلے ، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے تو سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ …

    یا رسول اللہؐ ! جب آپ ضرب لگا رہے تھے تب ہمیں ایک چمک نظر آئی تھی ، اس پر آپؐ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے وہ چمک دیکھی تھی ؟ صحابی نے کہا کہ جی اور اس پر آپؐ نے فرمایا کہ …

    جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے کسریٰ اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی پرشین امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی رومن امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے اردگرد کے شہر دکھائے گئے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن سنو ! حبشیوں کو ان کے حال پر رہنے دینا یہاں تک کہ وہ تمہیں کچھ نہ کہیں (سنن نسائی 3178)

    اس واقعے کے بعد آپؐ نے تین بادشاہوں کو خط لکھنا چاہا جس پر آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ لوگ صرف وہ خط قبول کرتے ہیں جن پر مہر لگی ہو اور تب آپؐ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی تھی جس پر محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا اور تین خط لکھے اور میں آپ کو پہلے خط کے متعلق بتانا چاہتا ہوں ۔

    یہ خط پرشین امپائر کے بادشاہ کسریٰ کی طرف تھا اور اسکی دوسری لائن میں لکھا ہوا تھا کہ محمد کی طرف سے جو اللہ کے نبی ہیں ، کسریٰ کے لیے جو فارس کا بادشاہ ہے ۔

    آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی ڈاکیومنٹری کے دوسرے چیپٹر میں نویں صدی کی ایک فارسی کتاب شاہنامہ کے متعلق آپ کو بتایا تھا ؟

    یہ کتاب پرشین امپائر کے بادشاہوں کی داستانوں پر مبنی ہے اور گیارہ صدیوں پہلے لکھی اس کتاب میں اس خط کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب کسریٰ نے یہ خط پڑھا تو وہ شدید غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ میری رعایا میں سے ایک غلام نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام لکھنے کی جرأت کی ؟ اور یہ کہہ کر اس نے آپؐ کا خط پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا ۔

    جب آپؐ تک اس واقعے کی خبر پہنچی تو آپؐ نے کہا کہ وہ لوگ بھی اس خط کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے (بخاری 64) آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسریٰ ہلاک ہو گا اور پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا ، قیصر(رومن بادشاہ ceaser) بھی ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بھی بعد کوئی قیصر پیدا نہیں ہو گا (بخاری 3618)

    اس کے علاوہ بھی آپؐ نے ایک بات بتائی تھی جو میں تھوڑا آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد واقعات کا ایک سلسلہ کیسے چلا ؟

    کسریٰ بیسکلی خسرو ii کا نام تھا ، فارس کا ایک بہت بڑا بادشاہ جس نے اپنا نام ایک ایرانی لفظ haosrauuah سے أخذ کیا تھا جس کا مطلب تھا ’’عظیم الشان‘‘ …

    لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کے اپنے ہی بیٹے نے راتوں رات اس کا تختہ الٹ کرخسرو اور اپنے سارے بھائیوں کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ خسرو کے پسندیدہ بیٹے اور ولی عہد کو بھی بلکہ پرشین امپائر کی تاریخ میں اس پاگل پن کے دور کو mad rampage لکھا گیا ہے ۔

    خسرو کے بعد اس کی ایک بیٹی کو پرشین امپائر کی ملکہ بنایا گیا تھا اور جب آپؐ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنا حکمران ایک عورت کو بنا لیا ہو (بخاری 7099)

    لوگ عموماً اس پوائنٹ پر آ کر بادشاہ اور ملکہ کی بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام لیکن اس وقت boston یعنی امیرکہ کے ایک میوزیم میں سونے اور چاندی کے دو سکے رکھے ہیں جن کے متعلق ہمیں پتہ ہے کہ یہ وہ سکے ہیں جنہیں اس ملکہ نے ایشو کرایا تھا کیوں کہ ان پر اس کا نام بھی لکھا ہے اور اس کی تصویر بھی کھدی ہے جہاں اس کی بالوں کی لٹوں میں ہیرے اور جواہرات جڑے نظر آرہے ہیں ۔

    لیکن میں اس ملکہ کے متعلق آپ کو کیوں بتا رہا ہوں ؟

    خسرو کے تختہ الٹنے اور قتل کے بعد پرشین امپائر سِول وار کا شکار ہو گئی تھی ، پاورفل خاندان ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور شاہنامہ میں ہی لکھا ہے کہ ان لڑائیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک طاقتور خاندان نے ہماری نئی ملکہ بوران کو اپنے ساتھ شادی کی آفر کی ، ملکہ نے لڑائی سے بچنے کے لیے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن خاموشی سے اپنے ایک جنرل کے ہاتھوں شادی کا پیغام بھیجنے والے کا قتل کروا دیا اور امپائر ایک دفعہ پھر لڑائیوں میں ڈوب گئی ۔

    اور یہی وہ ملکہ بوران تھی جس کے متعلق آپؐ کو بتایا گیا تھا کیوں کہ ان سکوں پر اس ملکہ کا نام بھی لکھا ہے ’’بوران دخت‘‘ یعنی وہ شہزادی جس کے پاس بہت سے گھوڑے ہوں ۔اور جس کے اس شخص کو قتل کرانے کے بعد امپائر ایک بار پھر خانہ جنگی میں ڈوب گئی ۔

    لیکن خانہ جنگی میں ڈوبی پرشین امپائر ابھی بھی کمزور نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی بھی آدھی دنیا کے لیے ایک سوپر پاور تھی اور یہ آپ ابھی دیکھ لیں گے ۔

    آپؐ کے چار سال بعد عمر بن خطابؓ نے پرشین امپائر کے ساتھ ٹکر لی اور ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی جسے قادسیہ کہتے ہیں ، نومبر 636ء میں لڑی جانے والی قادسیہ جس میں پرشین امپائر کی طرف سے بوران کا وہی جنرل رستم فرخ زاد تھا جس نے رشتہ بھیجنے والے کا قتل کیا تھا ۔

    اور مسلمانوں کی طرف سے سعد بن وقاصؓ تھے ۔ لڑائی سے پہلے دونوں طرف کے بڑوں کے درمیان کچھ میٹنگز ہوئی تھیں ۔

    ایسی ہی ایک میٹنگ سے پہلے امپائر کے بادشاہ جو بوران کے بعد اس کا چھوٹا سا دس سالہ بھتیجہ یزدگرد تھا ، نے اپنے غلاموں کو کہا کہ اس دفعہ جب عرب آئیں تو اس کے سر پر مٹی سے بھری ایک بالٹی ڈال دینا اور یونہی ہوا ، غلاموں نے عربوں کی طرف سے آئے عاصم تمیمی کے سر پر مٹی سے بھری بالٹی ڈال دی لیکن اس پر وہ لوگ غصہ نہیں ہوئے بلکہ عربوں میں سے ایک نے کہا کہ …

    مبارک ہو ، دشمن نے اپنی مٹی اپنی خوشی سے ہمارے حوالے کر دی
    اور جنرل رستم جو ایک سمجھدار شخص تھا اس نےغلاموں کو کہا کہ یہ تم لوگوں نے کیا کیا ، خود ہی اپنی مٹی انہیں دے دی ۔

    اس واقعے کے بعد عمرؓ نے مزید کسی میٹنگ سے منع کر دیا اور قادسیہ کی لڑائی کا باقاعدہ آغاز ہوا جو پانچ دن تک لڑی جاتی رہی تھی ۔

    لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ پرشین امپائر کمزور نہیں تھی ، ان کے پاس انڈیا سے لائے گئے war elephants کی پوری پوری corps تھیں ۔
    جن کے مقابلے میں سعد بن وقاصؓ نے ایک بڑی خاص سٹریٹجی اپنائی تھی ، جس کے متعلق پھر کبھی لیکن پانچ دن تک ایک سوپر پاور کے ساتھ یہ خونریز لڑائی چلتی رہی اور تیسرے دن دونوں سائیڈز تھکان اور زخموں سے چور چور ہو کر breaking point تک پہنچ چکی تھیں یہاں تک کہ لڑائی کی تیسری رات کا نام ہی لیلۃ الحریر یعنی کراہوں کی رات رکھا گیا تھا ، زخموں سے چور لوگوں کی کراہوں کی رات ، اور اب یہ لڑائی تلوار سے زیادہ stamena کی لڑائی بن چکی تھی ۔

    اگلے دن یہ حال تھا کہ مسلمان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور پرشین امپائر انہیں جیتنے نہیں دے رہی تھی کیوں کہ ان کا رستم فرخ زاد ابھی زندہ تھا لیکن پانچویں دن … ایک بہت ہی خاص بات ہوئی ۔

    ریت کا ایک طوفان آیا جس کے بعد رستم زمین پر مرا ہوا پڑا ملا ، کچھ پتہ نہیں کہ اس کی موت کیسے ہوئی تھی ، کوئی لکھتا ہے کہ وہ اونٹوں پر تلواریں ، کلہاڑے اور تیر لے کر جا رہا تھا اور وہی اس کے اوپر گر گئے ، کوئی کچھ اور لکھتا ہے لیکن ریت کے اس طوفان میں اس کی موت کیسے ہوئی ، کوئی نہیں جانتا ۔

    لیکن رستم کی موت کے بعد پرشین امپائر نے ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمان قادسیہ جیت گئے اور اب حدیث کا وہ باقی حصہ جس میں آپؐ نے کسریٰ کے ہلاک ہونے کے بعد کا بتایا تھا کہ اللہ کی قسم تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے (مسلم 7329)

    پرشین امپائر کی آرمی کا صرف war flag جس کا نام درفش کیوین تھا اور جس کی بیک گراؤنڈ سٹوری بہت ہی حیرت انگیز ہے ، صرف اس وار فلیگ کو ہی ضرار بن کتب نے مدینہ میں تیس ہزار دینار کا بیچا تھا ۔

    میں جانتا ہوں کہ یہ ایک طویل تھریڈ تھا اور ابھی میں اس میں سے بہت کچھ skip کر گیا ہوں مثلاً سعد بن وقاصؓ کی ہاتھیوں کے خلاف سٹریٹجی یا پرشین امپائر کے وار فلیگ کی داستان یا پھر اس شہزادی کے متعلق ڈیٹیلز جس کے پاس بہت سے گھوڑے تھے لیکن ان تمام واقعات کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی ؟

    وہ کیا چیزیں تھیں جنہوں نے عمر بن خطابؓ کو وقت کی سوپر پاور سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا ؟ وہ کیا چیز تھی جس نے مسلمانوں کو آلموسٹ بریکنگ پوائنٹ پرپہنچ جانے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹنے دیا ؟ اور وہ کیا چیز تھی جس نے قادسیہ کے پانچویں دن ایک ریت کا طوفان پیدا کر کہ رستم کی پراسرار موت کے بعد پرشین امپائر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا ؟

    خندق کی وہ چٹان توڑتے ہوئے آپؐ کو پرشین امپائر کا دکھا دیئے جانا جسے صحابیوں نے صرف ایک چمک کی طرح دیکھا ، اور جسے دیکھتے ہی آپؐ نے الانعام کی وہ آیت پڑھی تھی کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا (الانعام 06:115)

    جس آیت کو ہم نارملی ایک تعریفی آیت کے طور پر لیتے ہیں اس کی گہری سٹڈی مجھے یہ بتاتی ہے کہ آپؐ نے اس آیت کے ذریعے آنے والے واقعات کی تہہ در تہہ پوری کی پوری chronology سمجھا دی تھی کہ دیکھنا ، خسرو ٹکڑے ٹکڑے ہو گا ، بوران کی کمانڈ میں امپائر کامیاب نہیں ہو سکے گی ، رستم کی ریت میں طوفان سے موت کے بعد پرشین امپائر تمہارے پاس آ کر رہے گی اور تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ۔

    اور یہ سب باتیں ہمیں کیسے پتہ ؟ کیوں کہ وہ چمک دیکھ کر آپؐ نے پڑھ لیا تھا کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔

    اور یہ وہ واقعہ تھا جو آج سے ٹھیک 1386 سال پہلے ، ٹھیک آج کے دن یعنی 16 نومبر 636ء کواس وقت قادسیہ میں ہو رہا تھا ۔

  • دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    اوپر والی تصویر میں ایک طرف میرے ماموں انور علی (ائیر فورس ریٹائرڈ) ہیں۔ دوسری طرف انکا صاحبزادہ میرا ماموں ذاد معظم علی ہے۔ معظم علی مجھ سے چار سال بڑا ہے۔ ماموں جی اپنی سروس کے آخری سالوں میں کراچی تھے تو ڈاکٹروں نے کہا آپکا اکلوتا بیٹا مائلڈ لیول کا ذہنی معذور ہے۔ اسکا آئی کیو 50 سے 70 کے درمیان ہے۔ زبان میں بھی شدید لکنت تھی۔ جسے آپ ہکلانہ کہتے ہیں۔ ایورج آئی کیو 90 سے 120 ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا معظم علی نارمل بچوں کے سکول نہیں پڑھ سکے گا۔ زرا سوچ کے دیکھیں کسی کی کل کائنات ایک بیٹا ہو اور وہ بھی ذہنی معذور تو والدین پر کیا گزرے گی؟ مامی نے اتنی ٹینشن لی کہ دائمی تیز فشار خون و شوگر کی جوانی میں مریضہ بن گئیں۔ رشتہ داروں میں کیا کہا جائے گا کہ میرا بچہ پاگل ہے۔ یہی تو دیہاتوں میں کہا جاتا ہے۔ اور سپیشل بچے کو والدین کے ہی ماضی کے برے اعمال کی سزا سمجھا جاتا ہے۔

    ماموں جی فوجی تھی۔۔ اعصابی طور پر ایک مضبوط شخص تھے۔ ماموں کہتے ہیں خطیب احمد بیٹا میں نے سب سے پہلا جو کام کیا۔ اس سچائی کو قبول کر لیا۔ اور کراچی کے ایک سپیشل ایجوکیشن سکول میں سنہ 1992 میں معظم علی کو 7 سال کی عمر میں داخل کرا دیا۔ جہاں سپیچ تھراپی اور تعلیم شروع ہو گئی۔ ماموں کہتے ہیں میں معظم کو خود انگلش اور اردو کے حروف تہجی پڑھاتا تھا۔ 92 کے سال پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ سارے ملک میں جشن تھا کراچی اس رات کو پہلے سے بھی روشن ہو چکا تھا۔ اور ہمارے جیسے ساری خوشیاں ختم ہو چکی تھیں۔ میں نے معظم کو لیا اور ساحل سمندر پر ہم باپ بیٹا چلے گئے۔ ہم نے خوب موج مستی کی۔ ماموں کہتے میں نے بیٹے کی معذوری کو اپنی زندگی جینے کا مقصد بنا لیا۔ مجھے اب باقی زندگی مختلف طریقے سے جینا تھی۔ جس کے لیے میں خود کو تیار کر چکا تھا۔

    1994 میں ماموں ریٹائر ہوئے۔ 280 ہزار روپے پنشن و گریجویٹی کے ملے۔ اب ماموں کی نظر میں بیٹے کی تعلیم تھی۔ اپنے آبائی شہر حافظ آباد آئے سپیشل بچوں کے سکول کا پتا کیا۔ کوئی نہیں تھا یہ تو اس وقت ضلع بھی نہیں تھا گوجرانولہ کی تحصیل تھی۔ گوجرانولہ گئے گل روڑ پر ایک ادارہ تھا جس سے ماموں مطمئن نہ ہوئے۔ لاہور گئے اور لاہور میں موجود ادارے وزٹ کیے جن کی حالت کچھ قابل قبول تھی۔ ماموں جی نے نشاط کالونی آر اے بازار میں 5 مرلہ کا پلاٹ لیا اور لاہور بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے شفٹ ہوگئے۔ میری مامی گاؤں رہنا چاہتی تھیں مگر ماموں کے ذہن میں کچھ اور تھا انہوں نے اپنی مرضی کی۔

    معظم کچھ سکولوں سے ہوتا ہوا ڈاکٹر عبدالتواب مرحوم اور ان کی اہلیہ کے گھر میں شروع کیے گئے سپیشل بچوں کے سکول رائزنگ سن ڈیفنس سکول لاہور داخل ہوگیا۔ تب تک معظم کافی بہتر ہوچکا تھا۔ کئی سال کی سپیچ تھراپی معظم کی زبان کی لکنت قدرے کم کر چکی تھی۔ رویے میں قدرے بہتری آچکی تھی۔ لرننگ کا موڈ بن چکا تھا۔ عمر 15 سال ہوچکی تھی جب معظم رائزنگ سن میں داخل ہوا۔ ماموں کہتے ہیں اس سکول میں ایک بڑی پیاری سی گوری چٹی ٹیچر تھی معظم نے ضد کی کہ وہ پڑھے گا تو اسی ٹیچر سے ورنہ پرانے سکول چھوڑ آئیں۔۔معظم کی بات سکول انتظامیہ نے مان لی۔ اس بہن کا میں نے پتا کرنا ہے جس نے میرے بھائی کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ ماموں کہتے اس ٹیچر سے اس کا انٹریکشن بہت اچھا ہو گیا۔ وہ ایک انتہائی محنتی ٹیچر تھی۔ اس کا میں نے شکریہ ادا کرنا ہے۔۔ اسے بتانا کہ دیکھیں آپ کی محنت کا رنگ اللہ نے کیسا چڑھایا ہے معظم پر۔ اور اس کے سکول بھی جا کر انتظامیہ کو معظم سے ملوانا ہے۔

    معظم نے اس ٹیچر سے الحمدللہ اردو انگلش پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ بنیادی حساب سیکھا۔ صاف رہنا سیکھا۔ نماز سیکھی۔ بڑوں کا ادب سیکھا۔ اپنے کام خود کرنا سیکھا۔ معظم اپنے سب کاموں میں آزاد صرف چھ ماہ میں ہوگیا۔ اس خدا کی بندی نے معظم کو بازار سے سودا سلف خریدنا سکھایا۔ معظم دوکان سے سبزی سودا سلف دودھ تندور سے روٹی لانے لگا۔ فلٹر سے پانی بھر کے لانے لگا۔ معظم کو گانے کا بہت شوق تھا۔ ماموں مولوی تھے تو اسکا یہ شوق گھریلو مذہبی رجحان کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔ آج بھی معظم کو کئی گانے پورے پورے یاد ہیں۔ کبھی ویڈیو ریکارڈ کروں گا۔

    معظم کو سپیشل کوٹے پر سیفائر کپڑے کی فیکٹری میں اوور لاک مشین پر ملازمت بھی ملی تھی۔ تین ماہ گیا ماشاءاللہ بہت اچھا کام کرتا تھا۔ نظر کافی کمزور ہونے کی وجہ سے وہ جاب نہ کر سکا۔ اور چھوڑ دی جاب۔

    آج الحمدللہ معظم علی اپنے سب کام خود کر لیتا ہے۔ اپنے ماموں کی سبزی کریانہ کی دوکان پر ملازمت کرتا ہے۔ گھر کے سب کام کرتا ہے۔ اردو انگلش ماشاءاللہ لکھ اور پڑھ لیتا ہے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسے اچھی طرح تعارف ہے۔ اہل بیت کا پتہ ہے۔ بنیادی جنرل نالج بھی ہے۔ سارے خاندان کے بچے بچے کا نام پتا ہے۔

    میں معظم سے ایک بار کہا آئی لو یو یار۔ تو وہ مجھے کہنے لگا یار توں میری ورگے بالاں نوں پڑھان آلی ڈگری جو کیتی اے۔تینوں پتا اے میں سپیشل بچہ واں، تاں توں میرے نال بڑا پیار کرنا ایں۔ جنہاں نوں میرا نئیں پتا اوہ مینوں پاگل کملا رملا شیدائی کہندے نیں۔ مینوں وٹے ماردے نیں۔ مینوں چھیڑدے نیں۔ میرے ابو نوں پتا سی تاں مینوں لہور لے آئے سی۔ میں پنڈ ہندا تے واقعی پاگل ہو چکیا ہندا۔ اس کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسکا ماتھا چوما اور گلے لگا لیا۔

    نیچے والی تصویر میں معظم جیسا ہی ایک لڑکا ہے۔ میرے گاؤں کے پاس رہتا ہے۔ سارا گاؤں اسے سائیں کہتا ہے۔ جو کبھی سکول نہیں گیا۔ گھر والے صبح گھر سے نکال دیتے ہیں۔ شام کو واپس آجاتا ہے۔ اسے میں نے کبھی شلوار پہنے نہیں دیکھا کیونکہ ٹائلٹ ٹرینڈ نہیں ہے تو گھر والے شلوار پہناتے ہی نہیں۔ ایسا ایک آدھ سائیں آپکے گاؤں محلے شہر میں بھی ہوگا؟ جسے بچے پتھر مارتے ہونگے۔ اسے چھیڑ کر اس سے گالیاں لیتے ہونگے؟ بڑے بھی اس سے ٹھٹھہ کرتے ہونگے؟ اسے تنگ کرتے ہونگے؟ شاید آپ بھی ایسا کرتے ہونگے؟ پلیز ایسا نہ کریں۔ نہ کسی کو کرنے دیں۔

    اپنے آس پاس کوئی چھوٹا بچہ دیکھیں تو اسے سکول داخل کروانے میں والدین کی مدد کریں۔ والدین کو گائیڈ کریں کہ سکول جانے کے بعد آپکا معظم علی طرح ہوسکتا ہے اور نہ جا کر گلی محلوں میں آوارہ پھرتا آگے جا کر سائیں آپکا بچہ ہو سکتا ہے۔

    پنجاب کے ہر ضلع ہر تحصیل ہر ٹاؤن میں الحمدللہ سرکاری سپیشل ایجوکیشن سکول ہیں۔ آپ ہماری ہیلپ لائن 1162 پر کال کرکے ہمارے تمام اداروں کی معلومات لے سکتے ہیں۔ مجھے پوچھ سکتے ہیں ایک میسج کال کی دوری پر ہوں۔ پورے پنجاب کے سب سکولوں کا مجھے پتا ہے۔ بلکل فری تعلیم ہے۔ آئیں ہم سب مل کر عہد کریں اگلی پیڑھی میں ہم ملک پاکستان میں انشاء اللہ کسی کو گلی محلوں میں لوگوں کے تماشے کا سامان بننے والا سائیں نہیں بننے دیں گے۔

    معظم علی کو ایسا معظم بنانے میں میرے ماموں جی نے ایک ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے گمنام ہیروز کو ضرور ٹرائی بیوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔ میری کوشش ہے لاہور میں ایک اچھا پروگرام ارینج کروں۔ جس کے چیف گیسٹ میرے ماموں اور ان کا صاحب زادہ ہو۔ ان کی اس 32 سالہ بے لوث سروس پر انہیں سلام پیش کیا جائے۔ وہ اپنے تجربات سب سے شئیر کریں۔ سپیشل بچوں کے والدین کو یقینا میرے ماموں جان بہت آسانی دے سکتے ہیں۔ ماموں جی آپ کا بھانجا ہونے پر مجھے فخر ہے۔ معظم یار تم نے مجھے ہمیشہ موٹی ویشن دی ہے۔ تمہاری وجہ سے ہاں صرف تمہاری وجہ سے میں سرکاری سکول کا ماسٹر ہو کر بھی روایتی ماسٹر نہیں ہوں۔ نہ ہی کبھی بن سکوں گا۔ جیو میرے شہزادے بہت خوشیاں مانو۔

  • اروندھتی رائے

    اروندھتی رائے

    اروندھتی رائے
    پیدائش:24 نومبر 1961ء
    شیلانگ
    شہریت:بھارت
    شریک حیات:پرادیپ کرشن
    والدہ:میری رائے
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    پیشہ:ناول نگار، مصنفہ، منظر نویس، مضمون نگار
    زبان:انگریزی، ہندی ، اردو
    شعبۂ عمل:مضمون
    کارہائے نمایاں:سسکتے لوگ
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ٹائم 100 – (2014)
    ۔ (2)سڈنی امن انعام – (2004)
    ۔ (3)مین بکر پرائز
    ۔ (برائے:سسکتے لوگ) – (1997)

    سوزننا اروندھتی رائے بھارتی مصنفہ ہیں جو اپنی شاہکار ناول سسکتے لوگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اس ناول کے لیے ان کو 1997ء میں مین بکر پرائز اعزاز سے نوازا گیا اور یہ کتاب کسی بھی بھارتی کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی تھی۔ وہ ایک سیاسی فعال پسند بھی ہیں جو انسانی حقوق اور ماحولیاتی شعور کے لیے کام کرتی ہیں۔
    ابتدائی حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اروندھتی رائے کی پیدائش شیلانگ، میگھالیہ، بھارت میں ہوئی۔ ان کی والدہ میری رائے ایک ملیالی نسل کی مار توما مسیحی مذہب کو ماننے والی اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تھیں۔ ان کا تعلق کیرالا سے تھا۔ اروندھتی رائے کے والد ایک بنگالی ہندو تھے اور کولکاتا میں چائے کی کھیتی میں منیجر تھے۔ رائے محض دو سال کی تھیں جب ان کے والدین کا طلاق ہوگیا اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ کیرلا میں آ بسیں۔ ایک وقت تک ان کا خاندان نانا کے یہاں اوٹی، تمل ناڈو میں رہا پھر جب وہ پانچ سال کی تھیں تب کیرلا واپس چلی گئیں جہاں ان کی والدہ نے اپنا ایک اسکول کھول لیا تھا۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رائے دہلی آگئیں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیرز میں ان کو ایک عہدہ مل گیا۔ 1984ء میں ان کی ملاقات ایک آزاد فلم ساز پردیپ کرشن سے ہوئی جنھوں نے رائے کو اپنی انعام یافتہ فلم ماسے صاحب میں گودر کا رول دیا۔ بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔ ان دونوں تحریک آزادی پر ایک ٹی وی سلسلہ میں ساتھ کام کیا اور دو فلمیں بھی ساتھ میں کیں۔ بعد میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔
    ان کی ناول دی گاڈ آف اسمال تھنگز (سسکتے لوگ) کی کامیابی کے بعد ان کی معاشی حالت سدھر گئی۔ اس کی اشاعت 1997ء میں ہوئی تھی۔ بھارت کے نامی خبر رساں ٹی وی میڈیا گروپ این ڈی ٹی وی کے صدر پرینوئے رائے کی کزن ہیں۔ اور فی الحال دہلی میں مقیم ہیں۔

    ابتداءا رائے نے ٹی وی اور فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے ان وچ اینی گرز اٹ دوز ہنز 1989ء فلم میں منظرنامہ لکھا۔ یہ فلم فن تعمیر کے طالبعلم کے تجربوں پر مبنی تھی اور اس میں رائے نے بھی کردار نبھایا تھا۔ ان کی دوسری فلم الیکٹرک مون 1992ء تھی۔ دونوں ان کے شوہر نے ڈائریکٹ کیں۔ رائے کو اول الذکر فلم کے لیے 1988ء میں نیشنل فلم اوارڈ فار بیسٹ اسکرین پلے سے نوازا گیا۔ 1994ء میں ان کو اس وقت خوب شہرت ملی جب انہوں نے پھولن دیوی کی زندگی پر مبنی شیکھر کپور کی فلم بنڈت کوین کی تنقید کی۔ انہوں نے اپنے تنقید نامے کو ‘‘بھارت میں عصمت دری کی عظیم چال‘‘ کا نام دیا اور ایک زندہ عورت کی عصمت دری کو اس کی اجازت کے بغیر اس طرح دکھائے جانے پر سوال اٹھایا اور کپور پر دیوی پر استحصال کا الزام بھی لگا دیا۔

  • 24 نومبر معروف شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش

    24 نومبر معروف شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔26 دسمبر 1994 میں وہ اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
    ان کے لوحِ مزار پر انہیں کے یہ اشعار کنندہ ہیں :-

    یارب میرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
    زخمِ ہُنر کو حوصلہء لب کشائی دے

    شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
    آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

  • معروف شاعرہ سیدہ شاہدہ حسن  کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ سیدہ شاہدہ حسن کا یوم پیدائش

    میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی
    کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی

    سیدہ شاہدہ حسن نام اور تخلص شاہدہ ہے۔ 24 نومبر 1953ء کو چٹاگانگ میں پیدا ہوئیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج کراچی سے انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے پہلے انگریزی ادب میں بی اے(آنرز) اور پھر 1975ء میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ کراچی میں تدریس سے وابستہ رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کا کلام ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ایک تارا ہے سرہانے میرے‘‘، ’’یہاں کچھ پھول رکھے ہیں‘‘۔ 1992ء میں فانی بدایونی عالمی ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا ۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:418

    تصنیفات

    ۔ (1)ادا جعفری فن و شخصیت-2007
    ۔ (2)یہاں کچھ پھول رکھے ہیں-2002
    ۔ (3)ایک تارہ ہے سرہانے میرے-1995
    ۔ (4)شام کی بارشیں

    غزل

    احساس تو مجھی پہ کر رہی ہے
    چھوکر جو ہوا گزر رہی ہے
    جس نے مجھے شاخ پر نہ چاہا
    خوشبو مری اس کے گھر رہی ہے
    بے سمتیٔ اشک کی ندامت
    اس بار بھی ہم سفر رہی ہے
    ٹھہرا ہے وہ جب سے رہ گزر میں
    مٹی مری رقص کر رہی ہے
    چپکے سے گھڑی گھڑی مسافرت کی
    دہلیز پہ پاؤں دھر رہی ہے
    تارے بھی نظر نہ آئیں گھر میں
    آنکھ ایسی گھڑی سے ڈر رہی ہے
    ٹوٹا ہوا عکس لے کے لڑکی
    آئینے میں پھر سنور رہی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی
    ترے لیے تو میں ہر بار ہار ہار گئی
    کہاں کے خواب کہ آنکھوں سے تیرے لمس کے بعد
    ہزار رات گئی اور بے شمار گئی
    میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی
    کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی
    کمال کم نگہی ہے یہ اعتبار ترا
    وہی نگاہ بہت تھی جو دل کے پار گئی
    عجب سا سلسلۂ نارسائی ساتھ رہا
    میں ساتھ رہ کے بھی اکثر اسے پکار گئی
    خبر نہیں کہ یہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں میں
    وہاں تلک میں گئی ہوں کہ رہ گزار گئی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ شام ہی تنہا نہیں ہے
    ہوا میں نے بھی گھر دیکھا نہیں ہے
    وہ بادل ہے مگر اس دشت جاں پر
    ابھی دل کھول کر برسا نہیں ہے
    محبت اک حصار بے نشاں ہے
    لہو میں دائرہ بنتا نہیں ہے
    بکھرتی جا رہی ہوں اور خوش ہوں
    سمٹنے میں کوئی سچا نہیں ہے
    خوشا اے روئے شاخ سبز تجھ پر
    سراب آئینہ کھلتا نہیں ہے
    تجھے دیکھا ہے جب سے شام آلودہ
    مری آنکھوں میں دن اترا نہیں ہے
    میں کیوں دیکھوں ہجوم مہر و مہ کو
    مری تنہائیوں میں کیا نہیں ہے
    نہیں جاتے ہیں دکھ اب آ کے گھر سے
    کہ یہ آنا ترا آنا نہیں ہے
    بھٹک جائیں گی راتیں جس کے ہاتھوں
    ابھی اس خواب کا چرچا نہیں ہے
    زباں گم تھی اثر کے ذائقوں میں
    ترا مجرم لب گویا نہیں ہے

    تلاش و ترسیل :آغانیاز مگسی

  • کرشن چندر  ،23 نومبر  1914  یوم پیدائش

    کرشن چندر ،23 نومبر 1914 یوم پیدائش

    کرشن چندر ،23 نومبر 1914 یوم پیدائش

    اردو کے نامور افسانہ نگار کرشن چندر کی پیدائش 23 نومبر 1914ء کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب (موجودہ پاکستان) میں ہوئی ۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے ۔ کرشن چندر کی تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے ہوا تھا۔ اس وجہ سے اردو پر ان کی گرفت کافی اچھی تھی۔ انہوں نے 1929ء میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ اس کےبعد 1935ء میں انگریزی سے ایم ۔اے۔ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے قانون کی پڑھائی بھی کی تھی۔

    کرشن چندر کے معاصرین میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی تھے۔ خامہ فرسائی کے زریں دور کی بات کریں توپتہ چلتا ہے کہ کرشن چندر 1955ء سے لے کر 1960ء تک اپنا بہترین ادب تخلیق کر چکے تھے۔ ان کی کئی تصنیفات، مثلاً ’کالو بھنگی‘، ’مہالکشمی‘ اور ’ایک گدھے کی سرگذشت‘ کا فی مقبول ہوئے تھے۔

    کرشن چندر نے کئی فلموں کی کہانیاں، منظرنامے اور مکالمے لکھے۔ ’دھرتی کے لال‘، ’دل کی آواز‘، ’دو چور‘، ’دو پھول‘، ’من چلی‘، ’شرافت‘ وغیرہ ایسی فلمیں ہیں جنہوں نے کرشن چندر کی صلاحیتوں کو پردہ سیمیں پر پیش کیا۔
    کرشن چندر نے مسلمان ادیبہ سلمی صدیقی سے پسند کی شادی کی انہوں نے سلمی صدیقی کی شرط پر نکاح سے قبل اسلام قبول کیا اوراپنا اسلامی نام وقار احمد رکھاتھا۔

    8 مارچ 1977ء کو کرشن چندر کا انتقال ہوا۔

  • ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر مغرب کیلئے آسمانی صحیفے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جو ملک اسکی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، خواہ جزوی ہی ہو، اس سے بزور اسکی پیروی کروائی جائے گی۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مقتدر مغربی طاقتوں سے سوال کیا جائے گا کہ آپ دنیا کے پسے ہوئے اور جبر کا شکار طبقات کی مدد کیوں نہیں کرتے ( واضح رہے کہ یہاں "پسے ہوئے” اور "جبر کا شکار” اقوام متحدہ کے چارٹر کی تعریف کی رو سے ہیں، خواہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ ہو)۔۔۔۔۔

    تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر آپ طاقت رکھتے ہیں تو جسے انصاف سمجھتے ہیں اسے ہر اس علاقے میں بزور نافذ کروائیں جہاں آپکی طاقت کا راج ہے۔

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اس دنیا کی بنیادی اخلاقیات کی معراج ہے۔ اسلام بھی یہی کرتا ہے اور باطل بھی یہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ باطل اور اسکے دیسی چیلے یہ کام نفاق کی چادر اوڑھ کر کرتے ہیں اور اسلام ڈنکے کی چوٹ پر باطل کو چیلنج کرتا ہے اور اسکے سر پر ایسی ضرب لگاتا ہے کہ اسکا بھڑکس نکال دیتا ہے (القرآن)۔۔۔

    لیکن ایک اور بھی فرق ہے:

    اسلام کمزوری کے زمانے میں بھی آخری حد تک مزاحمت ضرور کرتا ہے۔ باطل کیلئے کبھی بھی تر نوالہ ثابت نہیں ہوتا۔۔۔

    ٹرانز جینڈرز کے حقوق ابھی شروعات ہے۔ ابھی جوائے لینڈ جیسی فلم سے اس نحوست کو یہاں نارملائز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے مغربی آقاؤں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ اس فلم پر سے پابندی بالکل ویسے ہی شاطرانہ طریقے سے ہٹوا دی گئی ہے جیسے انہوں نے اپنے پچھلے دور میں ٹرانز جینڈر ایکٹ کو دھوکے سے منظور کروایا تھا۔۔۔

    یعنی ان میں تو رتی بھر بھی دینی غیرت باقی نہیں رہی۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی اتحادی لاکھوں علماء والی جماعت کتنی غیرت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔۔۔۔ اور توحید کے نام پر ووٹ لینے والے ن لیگ کے ازلی و ابدی اتحادی سینیٹر صاحب اور انکی جماعت کیا کرتی ہے، یہ بھی ہم دیکھیں گے۔۔۔

    اور اگر ابھی کچھ نہ کیا تو اگلے مرحلے پر زانیوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک چلے گی اور اس پر بھی فلمیں بنیں گی۔۔۔۔ تیار رہئیے گا۔۔۔۔!!!

  • سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    ایک نوجوان انسان جس کے سننے کی قوت مکمل ٹھیک ہو بیس ہزار ہرٹز کی آواز سن سکتا ہے لیکن ایک کتا 60 ہزار ہرٹز کی آواز بھی سن لیتا ہے. اس لئے کتا کبھی کبھی جب اچانک بھونکنا شروع کردے تو ہمیں بلاوجہ ہی لگتا ہے لیکن کتا بہرحال بلاوجہ نہیں بھونک رہا ہوتا وہ کسی آواز کا جواب دے رہا ہوتا ہے جو ہم سُن نہیں پا رہے ہوتے.

    ایک شاہین کی نظر 20/5 ہوتی ہے. اور ایک مکمل صحت مند انسان کی صحت مند آنکھوں کی 20/20 ہوتی ہے. یعنی ایک شاہین 20 فٹ دور سے وہ چیز دیکھ سکتا ہے جو ہمیں 5 فٹ دوری پر نظر آئے گی. اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے حساب سے صلاحیت عطاء کی. ہر مخلوق اپنی صلاحیت کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی ہے.

    لیکن ہم انسان زیادہ قناعت پسند نہیں ہیں. اس لئے ہم نے خوردبین و دوربین بھی بنالی تو دور دراز کی آوازیں سننے کے آلے بھی بنا لئے. ہم نے اپنی ضروریات کا دائرہ اتنا بڑا کر دیا کہ ہمیں اپنے گھر اپنے صندوق الماریاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں. ہمیں سب کچھ چاہئے ہوتا ہے. ہمارے پاس ہر چیز کیلئے ایک ہی دلیل ہوتی ہے ” کبھی نہ کبھی تو کام آجائے گی”

    اسی دلیل پر ہم وہ چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جو ہم استعمال ہی نہیں کرتے. آپ اپنے گھر کی پڑتال کرلیں اشیاء کا ایک ڈھیر کھڑا ہو جائے گا جو آپ نے ضروری سمجھ کر سنبھال رکھا ہوگا لیکن اب بھول چکے ہوں گے. یہ سالوں سے استعمال ہی نہیں ہوا ہوگا.

    ایسے ہی ہم بہت کچھ سن رہے ہوتے ہیں جو سننا ضروری نہیں ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں جو دیکھنا ضرورت نہیں ہوتا سنبھال رہے ہوتے ہیں جو رکھنا ضروری نہیں ہوتا. یہی کاٹھ کباڑ جمع ہوکر ہماری پریشانی ہماری ڈیپریشن اینزائٹی وہم اور اندیشے بن کر ہماری زندگی کو آلودہ کرتے ہیں. قناعت اختیار کریں زندگی آسان ہو جاتی ہے. ورنہ ایک دن شاہین کی طرح آپ بھی تنہا ہو جائیں گے. لیکن ہم انسان اکیلے جی نہیں سکتے.

  • نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    یہ بات غلط ہے کہ نیوٹن جب درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو اس کے سر پر سیب گر کر لگا- اصل میں تو وہ سکول سے بھاگ کر وہاں بیٹھا “کٹے” اور “وچھے” کی حرکات پر غور کر رہا تھا جس کے بعداس نے یہ قانون حرکت دریافت کیا-سیب قدرتی طور پر اس دوران اس کے سر پر گر گیا تھا-

    ڈیجٹل نسل کیلئے وضاحت کرتا چلوں کہ” کٹا “ میڈم بھینس“کے صاحبزادے کو کہتے ہیں اور” وچھا “ مس گائے کے بچے کا نام ہے-نیوٹن کے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کٹے اور وچھے کی گہری دوستی ہو گئی – وچھا کٹے سے کہتا کہ “یار آؤ گلی میں چھلانگیں مارتے ہیں “ جبکہ کٹا ہر وقت اس موڈ میں ہوتا کہ “نہیں بھائی -دیوار کے ساتھ بیٹھ کر “جگالی” مارتے ہیں(یعنی چیونگم چباتے ہیں)”- یہیں سے کٹے وچھے کا قانون دریافت ہوا-

    آپ اگر غور کریں تو آپ کو کئی “کٹے “ اور “وچھے” انسانی روپ میں آپ کے گھر گلی محلے اور دفتروں میں نظر آیئں گے- انسان نما کٹے ہر وقت چینگم چبا رہے ہوں گے اور آپ کو کہیں گے”یہ مشکل ہے”، “تم بزنس نہیں گر سکتے”، “ایک دفعہ سرکاری نوکری مل جائے تو پھر ٹھنڈ ہی ٹھنڈ”، “میں سیلیکٹو سٹڈی کروں گا”، “مین یہ سمسٹر ڈراپ کر دیتا ہوں اگلے میں زیادہ تیاری کروں گا”،”میں سی ایس ایس نہیں کر سکتا”، “میری انگلش ٹھیک نہیں ہو سکتی”، حالات میرے بس سے باہر ہیں”،”یہ نظام کی خرابی ہے”، “ہمارے حکمران ہی نالائق ہیں”، وغیرہ وغیرہ-

    کٹوں کے سب سے پسندیدہ جملے ہوتے ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”اس کام پر میرا دل نئیں کررہا” یا “آج میرا موڈ نہیں” یا “تم یہ کام نہیں کر سکتے”-

    کٹے دن رات ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ٹاک شو دیکھتے رہیں گے مگر جب کوئی گھر کا کامُ کہےگا تو انہیں سانپ سونگھ جائے گا-تھکاوٹ یاد آجائے گی- یہ ہر جگہ آپ کو اپنی” کٹا گیری” کرتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم کام کل پر ڈالیں گے اور دعا کریں گے کہ وہ کل کبھی نہ آئے- یہ ساری رات سمارٹ فون پر گزار کر دفتر میں اونگھتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم میٹنگ میں بغیر تیاری کے جایئں گے اور میٹنگ شروع ہونے تک ان کی خواہش ہو گی کہ اللہ کرے نہ ہی ہو-

    کٹے جم میں داخلہ کر سمجھیں گے کہ دفتر میں کرسی پر بیٹھے ہی وزن کم ہو جائے گا-یہ آپ کو ڈیوٹی پر اونگھتے نظر آہیں گے – کٹوں کے بال بڑھے ہوں گے کئی کئی دن نہ نہانے کی وجہ سے ان کے جسم سے” کٹ سوری” کی مہک آرہی ہوگی-یہ رات والے کپڑے پہن کر دفتر آجائیں گے- یہ آپ کو ہر وقت سہولیات کی کمی اور کام کی زیادتی کا شکوہ کرتے نظر آئیں گے- ان کے خیال میں یہ غلط وقت پر غلط ملک اور غلط لوگوں کے ہاں پیدا ہو گئے ہیں- یہ ہر وقت مواقع کی کمی کا شکوہ کرتے ہوں گے-یہ دیر سے سویئں گے اور دیر تک سوئیں گے- ان کی تو ندیں نکلی ہوں گی اور یہ نماز میں بھی اپنے رب کے حضور کٹھے ڈکار مار رہے ہوں گے

    کٹوں سے بچیں – یہ مضر انسانیت ہیں- یہ سب آپ کے اندر کے وچھے کو ورغلا کر “او گل” (جگالی) پر لگانا چاہتے ہیں – حالانکہ آپ کے اندر کا وچھہ باہر کی دنیا میں چھلانگیں لگانا چاہتا ہے- آسمان کو چھونا چاہتا ہے- ہواؤں کو مسخر کرنا چاہتا ہے- پانیوں پر تیرنا چاہتا ہے-

    آپ کی جب بھی کسی وچھے سے بات ہو گی وہ کہے گا “تم یہ کرسکتے ہو”، “تم کسی سے کم نہیں”، “تمہارے اردگرد کی دنیا مواقع سے بھری پڑی ہے”،”ہمارا ملک بھی کسی سے کم نہیں”، “”محنت ضائع نہیں جاتی” – وچھے کو جب بھی موقع ملے گا یہ چھلانگیں لگائے گا یہ سراپا توانائی ہوگا- اس کے زندگی میں بڑے بڑے گول(ارادے) ہوں گے- اسی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہوگا – یہ کئی کٹوں سے بھی زندگی میں اپنی “وچھا ماری “سے بڑی بڑی چھلانگیں لگوانے کی کوشش میں ہوں گے-

    وچھوں کا پسندیدہ جملہ ہوگا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”ہم یہ کام کیسے نہیں کر سکتے؟” وچھے کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ نہیں ہوتا، اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ “پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروالو گے “ تو یہ کہیں گے کہ “ساڑھے سات کے دو نوٹ چاہئیں یا سوا تین کے چارنوٹ”

    دنیا کی ساری مادی ترقی وچھوں کی مرہون منت ہے- وچھوں کا سکرین ٹائم کم ہوگا-ان کے پاس فیملی اور دوستوں کے لئے وقت ہو گا- ان کا اپنے رب سے بھی رابطہ برقرا ہوگا- یہ آپ کو مولا کی عنایتوں کا شکر ادا کرے نظر آیئں- یہ کم کھائیں گے- ان کے سونے اور جاگنے کے وقت مقرر ہوں گے- ان کا لباس صاف ہوگا – یہ آپ کو لوگوں کے ساتھ قہقہے لگاتے نظر آئیں گے- پارک میں واک کرتے نظر آیئںگے-

    اگلی دفعہ آپ کو اگر کوئی کٹا میکڈانلڈ میں بیٹھ کر ڈبل زنگر برگر کے بعد کوک سے ڈکار مارنے کی دعوت دے تو آپ اسے جم میں جاکر پش آپس لگانے کا پتہ پھینکیں- جب بھی آپ کسی کے منہ سے سنیں کہ “تم یہ کام نہیں کر سکتے “ “یا چھوڑو یار کل کریں گے” تو آپ زورُسے نعرہ لگائیں کہ ۰۰۰۰۰“کٹا ای اوئے” اور اس کی صحبت سے نکل جایئں ۰۰۰۰

    زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو وچھے کی طرح اپنے آپ سے پوچھیں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰“میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں؟” ۰۰۰۰۰۰۰ یہ “کیسے” کا سوال ہی آپ کو آپ کے اندر کے “وچھے“کی صلاحیتوں سے روشناس کروائے گا – جس نے اپنے اندر کو کھوج لیا وہ کامیاب ہوا- اس کی سب مرادیں بر آیئں-اسے اپنے دنیا میں آنے کا مقصد مل گیا- اسے نروان حاصل ہو گیا-

    آخر میں نیوٹن کا اصلی قانون حرکت بیان کرتا چلوں کہ

    ”اگر کوئی انسان حالت حرکت میں ہے تو وہ متحرک ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “کٹا” نہ ٹکر جائے ۰۰۰۰۰۰۰۰ اور اگر کوئی انسان حالت سکون میں ہے تو وہ ساکن ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “وچھا” نہ مل جائے”

    ویسے گورے یونہی تو گائے کا دودھ نہیں پیتے اور ہم بھینس کا؟”

  • حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    حیران ہوجائیے!!! — ضیغم قدیر

    ہماری آنکھوں کے پاس بھی وہی ڈی این اے ہے جو ہمارے معدے کے پاس ہے لیکن ہماری آنکھیں آنسو خارج کرتی ہیں اور معدہ تیزاب۔

    یہ سب جیین ریگولیشن اور ٹرانسکپرشن کی مہربانی ہے جس کے نتیجے میں ہمارا ٍی این اے مخصوص حصے بنانے والے پروٹینز میں بدلتا ہے۔ اور یہ دو اہم کام ہماری آنکھوں سے آنسوؤں کی بجاۓ HCl نہیں نکلواتے۔ورنہ ذرا سی گڑبڑ پہ صورتحال خطرناک حد تک بگڑ بھی سکتی ہے۔ اور ایسی بہت سی گڑبڑیں ہی وہ وجہ ہیں جن کے نتیجے میں اکثر مس کیرج ہو جاتی ہے۔

    ڈی این اے ریگولیشن ایک بہت ہی حساس کام ہوتا ہے کہنے کو تو ذمہ دار لوگوں کے لیۓ ہر کام ہی حساس ہوتا ہے لیکن ڈی این اے کے لیۓ تو یہ حد سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔لیکن یہ انتہائی تیز رفتاری اور پرفیکشن کیساتھ مکمل ہوتا ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ ایک گھنٹے میں پورے جسم کو بنانے والے تمام حروف کی کاپی کر سکتا ہے۔ اور یہ خود کو خود ہی چیک کرتا ہے۔ اگر یہ چیک اینڈ بیلنس خراب ہو جائے تو پھر اس کی وجہ سے کینسر کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

    اسکے علاوہ،

    ایک ہیمو گلوبن مالیکیول میں صرف 0.3% آئرن ہوتی ہے لیکن یہی آئرن اسکے آکسیجن لیجانے کی صلاحیت متعین کرتی ہے۔ اگر یہ زرا سی بدل جائے تو سارا سسٹم خراب ہو سکتا ہے۔

    آپکے ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹراڈول مالیکولز کے سٹرکچر میں چار ایٹمز پہ مشتمل صرف ایک میتھائل گروپ CH³ کا فرق ہوتا ہے لیکن اگر یہ میتھائل گروپ ہٹ جاۓ تو آپ لڑکی بن جاتے ہیں اور اگر لگ جاۓ تو آپ مرد بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ چار ایٹم آپ کی جنس کا تعین کرتے ہیں اگر دوران حمل ابتدائی ہفتوں میں ان کو بناتے ہوئے ان میں ہلکی سی اونچ نیچ ہو جائے تو آپ کی جنس تک بدل سکتی ہے۔

    بات ختم نہیں ہوئی بلکہ بات تو شروع ہوئی ہے کیونکہ تمام جانداروں (ایک گروپ کے) سیلز بائیوکیمیکل لیول پہ ایک ہی جیسے میٹیریل سے بنے ہیں لیکن ذرا سے جینز کی ہیر پھیر کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔اس بات کے آپ لوگ گواہ ہیں۔

    سادہ الفاظ میں ڈی این اے کے اجزاء تمام جانداروں میں تین ہی ہیں مگر ان تین کی ترتیب اور تعداد پورے کے پورے جاندار کی ہئیت کا تعین کر دیتی ہے۔ یہ بات ارتقاء کا بھی ثبوت ہے کہ تمام جاندار نفس واحد سے بنے۔

    ذہانت جسے بہت سے لوگ گاڈ گفٹڈ لیتے ہیں تازہ ترین ریسرچز کیمطابق پتا چلا ہے کہ کچھ جینز اسکو متعین کرتے ہیں مطلب کہ امکان ہے کہ ذہانت بھی وراثتی ورثہ ہے اور یہ بات حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی۔ اور اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ جو جینز اس کو کنٹرول کرتے ہیں ان کی مجارٹی ماں سے ملتی ہے۔