Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نامعلوم انجمن —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نامعلوم انجمن — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تاریخ کا نہایت ہی اہم میچ شروع ہوا ہی چاہتا ہے ،ٹاس ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کھیلنے ٹیم کا اعلان ہی نہیں ہوا ۔ یہ میچ اس لئے بھی اہم ہے کہ تمام دنیا پاکستان کو سننے کے لئے آرہی ہے۔ آپ کے دکھ درد بانٹنا چاہتی ہے۔

    نومبر پاکستان میں COP کی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ایک اور سرخ نومبر ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔ بدقسمتی سی بد قسمتی ہے کہ وہ ساری توجہ جو COP27 پر مرکوز ہونی چاہیے تھی وہ 29 نومبر پر ہے۔ تمام بڑے اپنی اپنی سودا بازی میں مصروف ہیں جب کہ دنیا شرم الشیخ مصر میں آپ کو سننے کے لئے آرہی ہے۔

    کانفرنس آف پارٹیز (COP27) اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن پر نظر رکھنے کے لئے قائم کی گئی جسے 1992 میں دنیا کے 154 ممالک نے دستخط کیا۔دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے تمام ممالک اس معاہدے کے تحت ماحول کی بہتری کے اقدامات کرنے کے پابند ہیں جب کہ اس سے متاثرہ ممالک کو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے قابل عمل منصوبوں کے لئے امداد دی جاتی ہے۔

    ‏COP کی 27 ویں سالانہ میٹنگ 6 نومبر کو شروع ہونے جارہی ہے لیکن ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا کہ اس میں پاکستان کی نمائندگی کون کر رہا اور پاکستان کون کون سے قابل عمل منصوبے اس میں فنڈنگ کے کئے لے کر جا رہا ہے۔کس طرح لابنگ اور مذاکرات ہوں گے؟ پاکستان دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ٹاپ کے دس ممالک میں شامل ہے اور حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد دنیا ہمیں سننے کو بے تاب ہے۔ ہماری مدد کرنا چاہتی ہے۔

    چند دن پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اس بارے اجلاس بھی بھی ہوا لیکن اس میں انہیں COP پر بریفنگ دی گئی مگر پاکستانی وفد کے ناموں پر تاحال خاموشی ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار شرم الشیخ مصر جانے کا ہما کس کس کے سر پر بیٹھتا ہے کیونکہ کانفرنس 6 نومبر سے شروع ہورہی ہے ۔ ٹاس ہو چکا ہے میچ شروع ہونے جارہا ہے لیکن پلئیرز کو ابھی تک پتہ نہیں کہ کس نے کھیلنا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری صاحب ایک نوجوان ، متحرک اور پڑھے لکھے وزیر خارجہ ہیں۔وہ پالیسی لیول پر تو اچھا بول لیتے ہیں لیکن نچلی کمیٹیوں کی سطح پر ان کے ساتھ اس کانفرنس میں اچھی ، سمجھدار اور کام کرنے والی ٹیم ہونی چاہئے۔ یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ امید ہے وہ اس دفعہ ایک مستعد ٹیم کا انتخاب کریں گے جو پاکستان کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ سکے۔

  • بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟  — اعجازالحق عثمانی

    بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    اپنے کمرے میں حقہ پیتے ہوئے اچانک چاچے رحمتے نے اپنی جیب سے فون نکالا۔ نمبر ڈائل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے کسی عزیز کی آواز سننے کےلیے فون کا سپیکر آن کیا۔ مگر آواز۔۔۔۔۔۔۔۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    یہ جملہ ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ چاچے رحمتے نے کال بند کر دی ۔

    رانی کمرے کے باہر کھڑی فون سے آنے والی یہ آوازیں بڑے غور سے سن رہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے وہ اپنے سینے میں گلٹی محسوس کر رہی تھی۔ مگر گھر میں کسی کو بتانے سے ہچکچا رہی تھی۔ پورا دن اس کے ذہن میں ایک ہی جملہ گونجتا رہا۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    اور یہ اسے کہیں نہ کہیں پریشان بھی کر رہا تھا۔ ذہن کو پرسکون کرنے کی خاطر اس نے ٹی وی کا ریموٹ اٹھایا۔ ٹی وی سکرین پر ایک ڈاکٹر چھاتی کے کینسر کی علامت بتا رہا تھا۔

    "کسی واضح گلٹی یا دانوں کے علاوہ بھی چھاتی کے کینسر کی مختلف علامات ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ چھاتی کی جلد کے دیکھنے اور چھونے میں تبدیلی، چھاتی میں درد یا بے آرامی، خاص طور پر اگر یہ درد نیا اور جانے کا نام نہ لے رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔یہ سب سنتے ہوئے رانی کا ماتھا پریشانی اور خوف کی وجہ سے پیسنے سے شرابور تھا۔خوف اور درد سے وہ روئے جارہی تھی۔ مگر وہ گھر میں اپنی یہ حالت کسی کو بھی نہیں بتا پارہی تھی۔طبیعت میں شدید بگاڑ کی وجہ سے وہ ایک دن سے ہسپتال میں داخل تھی۔ کہ اگلے روز ڈاکٹر نے وارڈ سے نکلتے ہوئے چاچے رحمتے کو بتایا کہ چھاتی کا کینسر آپکی بیٹی کی جان لے گیا۔

    ہر سال اکتوبر میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان کے حوالے سے آگاہی مہم کا انقعاد کیا جاتا ہے۔ اور یہ ماہ بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے آگاہی کے مہینہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 میں پہلی دفعہ بریسٹ کینسر کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے "پنک ربن” مہم کا آغاز کیا گیا تھا ۔

    مگر آج بھی بریسٹ کینسر کا موضوع ایک ٹیبو ہے۔ ہم بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی بات کرے بھی تو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔شاید اسی وجہ سے آج بھی پاکستان میں ہر 9 میں سے ایک خاتون کو بریسٹ کینسر کا خطرہ ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی پہلی سٹیج پر تشخیص کا ریٹ آج بھی 4 فی صد سے کم ہے۔ ایشیا میں بریسٹ کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں پائی جاتی ہے ۔ ڈیٹا کے مطابق ہر سال تقریباً 90 ہزار خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ جبکہ چالیس ہزار سے زائد خواتین ہر برس اس مرض سے موت کا شکار ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے موت کی شرح 26 فی صد سے زائد ہے۔

    چھاتی کا سرکان خواتین کو ہونے والے کینسرز میں سر فہرست ہے ۔ یہ کینسر عموماً 50 سے 60 سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن کم عمری میں بھی چھاتی کا سرکان رپورٹ ہورہا ہے۔

    چھاتی کا سرکان یا بریسٹ کینسر شرم کی بات نہیں۔ باقی بیماریوں کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہے۔ جس کا علاج ممکن ہے۔ مگر آگاہی کے بنا اس بیماری سے لڑنا، ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی ہوگی تو وہ بروقت ڈاکٹر کے پاس جائیں گی۔ بروقت تشخیص سے اسکا علاج ممکن ہے۔

    خواتین کو چاہیے کہ چھاتی میں کوئی گلٹی یا فرق محسوس کریں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اگر چھاتی کے سرکان سے بچنا ہے تو پلیز بریسٹ کینسر کے موضوع کو ٹیبو سمجھنا بند کیجئے ۔

  • انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    بادشاہ وقت کو بھیانک خواب نے ہلا کر رکھ دیا ۔ ایسے برے خواب نے بادشاہ کے دل کا چین وسکون برباد کردیا ۔ وقت کے اعلی معبرین تعبیر بتانے والے بلائے گئے ۔

    بادشاہ وقت نے بتایا کہ رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ یکے بعد دیگرے سارے دانت ٹوٹ رہے ہیں اور پھر سارے ہی جھڑ گئے ۔

    معبرین سوچ میں پڑگئے حساب کتاب لگائے اور پھر تعبیر بادشاہ کے سامنے تھی ۔

    بتایا گیا ۔۔۔۔ حضور خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے سارے بیٹے فوت ہوجائیں گے ۔

    بادشاہ کو اس تعبیر نے اتنا پریشان کیا کہ مارے بوکھلاہٹ کے حقائق سمجھ کی بجائے معبرین کو پھانسی دیکر غصے کی آگ بجھائی ۔

    جو معبر آتا ایسی ہی یا اس سے ملتی جلتی تعبیر بتاتا ۔

    بادشاہ پھانسی دیے جاتا ۔

    پھر ایک معبر کو بلایا گیا وہ ساری صورت حال سن چکا تھا ۔

    پھر جان کی خلاصی پانے کا سوچنے لگا ۔

    جب بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو تعبیر یوں بیان کی ۔

    کہ حضور آپ کی خواب بہت ہی خوبصورت ہے اور عمدہ حالات پیشین گوئی کرتی ہے ۔

    حضور اللہ نے آپ کو سارے خاندان میں لمبی عمر دینی ہیں۔ لوگ بہت لمبے عرصے آپ کے زیر سایہ محکوم رہیں گے ۔ اور آپ کی بادشاہت آپ کی لمبی عمر کی وجہ سے بہت عرصہ تک قائم رہے گی ۔

    فرسٹریشن کا مارا بادشاہ یہ سن کر انتہائی مسرور ہوا ۔

    پہلی بھی ایک حقیقت تھی یہ بھی حقیقت ہے ۔ فرق دونوں میں نہ تھا بتانے کے انداز نے پریشان کیا اور بتانے کے ہی انداز نے انتہائی مسرور کر دیا ۔

    انداز بدلنے والے معبر کو درہم و دینا اور اشرفیوں سے مالا مال کر کے بھیج دیا گیا ۔

    آپ بھی دیکھیے کو نسا انداز آپ کو نقصان دے رہا ہے ۔

    پھر انداز بدل کر نقصان کو نفع میں تبدیل کردو ۔

    بہترین انداز کا پتہ چلانا ہو تو تمہارے سامنے ایک اسوہ حسنہ ہے وہ اسوہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اس اسوے میں سارے نفع مند انداز مل جائیں گے ۔

  • ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے
    آن لائن تجربات تمام عمر کے افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن نو عمر افراد کے لیے اِس کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح کے خطرات کا بآسانی ہدف بن سکتے ہیں۔یہ بات حیران کن نہیں ہے والدین اگرانٹرنیٹ کے استعمال کے دوران اپنے بچوں کی نگرانی کرنا چاہتیں ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رابطے میں ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں، کسے تلاش کر رہے ہیں اور اپنا وقت کس طرح گزار رہے ہیں۔انٹر نیٹ پر اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظررکھنا ایک مشکل کام ہے لیکن مختصر دورانیے کی ویڈیوز کے مقبول پلیٹ فارم، ٹک ٹاک (TikTok) نے’فیملی پیئرنگ‘ فیچر متعارف کراکے والدین کی زندگی آسان بنا دی ہے۔

    فیملی پیئرنگ (Family Pairing) فیچر کیا ہے؟
    یہ فیچر والدین کو اِس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک کر سکیں اور مختصر دروانیے کی ویڈیو پلیٹ فارم پر اْن کی سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکیں۔بچوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا یہ زبردست طریقہ ہے جو تمام وقت ڈیجیٹل سیفٹی یقینی بناتا ہے۔ یہاں پر اس فیچر کے چھ پہلو ہیں جن کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے:

    اسکرین ٹائم(Screen Time): اگر بچوں کا اسکرین پر صرف ہونے والا وقت آپ کو پریشان کررہا ہے تو خاطر جمع رکھیں کیوں کہ اب آپ ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے ذریعے اسے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک والدین کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ،اپنا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے،بچوں کے لیے اسکرین ٹائم مقرر کر سکیں۔ اگر آپ کا بچہ ایک سے زیادہ ڈیوائسز سے استعمال کرتا ہے تب یہ سیٹنگ تمام ڈیوائسز پر لاگو ہوجاتی ہے۔

    ریسٹریکٹڈ موڈ(Restricted Mode): والدین کو مزید بااختیار بنانے کی غرض سے، ٹک ٹاک اْنھیں اِس بات کے انتخاب کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اْن کے بچے ایپ میں کیا دیکھیں اور کیا نہیں۔آسان لفظوں میں، اگر والدین محسوس کرتے ہیں کہ کوئی مواد اْن کے بچوں کے لیے غیر موزوں ہے تو وہ اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کی اْس مواد تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔

    سرچ (Search): والدین اِس بات کا بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اْن کے بچے کس قسم کی ویڈیوز، ہیش ٹیگس(hashtags)، ساؤنڈز، لوگ یا مواد سرچ کر سکتے ہیں۔اس طرح اْنھیں اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر مزید بہتر نگرانی حاصل ہوتی ہے۔

    ڈائریکٹ میسیجز(Messages Direct): ڈائریکٹ میسیجز جہاں 13 سے 15سال کی عمر کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے پہلے سے ہی غیر فعال ہوتاہے، والدین اْسے 16 سال یا اْس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے بھی مکمل طور پر آف کر سکتے ہیں یا اْس تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔یہ فیچر یقینی بناتا ہے کہ آپ کے والدین اجنبی افراد کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں اور اِس طرح اُنھیں محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

    لائیکڈ ویڈیوز اور کمنٹس(Liked Videos & Comments): والدین اِس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ اْن کے نو عمر افرادکے اکاؤنٹ پر موجود ویڈیوز کون لوگ دیکھ سکتے ہیں یا لائیک کر سکتے ہیں۔ وہ اس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ کون لوگ ان کے نوعمر افراد کی ویڈیوز پر کمنٹ کر سکتے ہیں۔یہ فیچر نہ صرف نو عمر افراد کے تجربے میں اضافہ کرتا ہے بلکہ والدین کو سکون کا احساس دیتا ہے ورنہ وہ پریشان ہوتے رہتے ہیں کہ اْن کے بچے انٹرنیٹ پر کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    قابل دریافت ہونا (Discoverability) اور دوسروں کو اکاؤنٹ تجویز کرنا (Suggestions)
    نوعمر افراد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر آپ کوکنٹرول دینے اور اْن کے آن لائن تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے ٹک ٹاک آپ کو اس بات کے انتخاب کا بھی موقع دیتا ہے کہ آپ کے نوعمر ا فراد کے اکاؤنٹس ’پبلک‘ یا’پرائیویٹ‘ سیٹ ہے یا نہیں۔آپ کے پاس یہ آپشن ہوتا ہے کہ آپ بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس دوسرے لوگوں کو تجویز (Suggest)کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
    مختصر اً یہ کہ ٹک ٹاک ڈیجیٹل سیفٹی کے اہمیت کو سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ والدین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے اکاؤنٹس کے ساتھ مربوط کر سکیں اور اْنھیں محفوظ رکھنے کے ساتھ پلیٹ فارم پر ان کا تجربہ مزید بہتر بنا سکیں۔

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

  • اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    کچھ دن پہلے ہمارے شہر منچن آباد کے ایک مشہور و معروف عالم دین اور معلم سے کچھ دوستوں کے ہمراہ ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ایک تبلیغی اور اصلاحی محفل میں تبدیل ہو گئی۔اس محفل کا لب لباب اور حاصل یہ تھا کہ فی زمانہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی بجاۓ مسلکی اعتبار سے اپنی پہچان کروانا اور اسی لحاظ سے اپنے آپ کو پروموٹ کروانا زیادہ اچھا خیال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ رویہ اتحاد امت اور قومی یکجہتی کے بلکل منافی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارا اسلامی تشخص اب پارا پارا ہونے کو ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ آج صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ہم ان حقوق کو بھی اپنے مسلکی نکتہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں جو بطور مسلمان ہم پہ فرض ہیں۔حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد کہ "ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ اگر کوئی

    (1)-سلام کرے تو اس کا جواب دیا جاۓ

    (2)- کوئی بیمار ہے تو اس کی عیادت کی جاۓ

    (3)-کوئی فوت ہو جاۓ تو اس کے جنازے میں شرکت کی جاۓ

    لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ان فرائض کی ادائیگی کو بھی اہنے مسلک کے ساتھ نتھی کر لیا ہے۔ہم سلام اسی شخص سے لینا زیادہ پسند کرتے ہیں جو ہمارا ہم مسلک ہے۔بیمار کی عیادت اسی کی کرتے ہیں جو یمارے اپنے مسلک کا ہے اور نماز جنازہ بھی اسی کی پڑھی جاتی ہے جو مسلکا” ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ساتھ ہی نماز جنازہ کی ادائیگی بھی اپنے مسلک کے مدرسے میں رکھنی ہے۔ہمیں کسی غیر مسلک کی وفات پر اتنا دکھ نہیں ہوتا جتنا اپنے ہم مسلک شخص کی وفات پر ہوتا ہے ۔

    ایک مسلمان اور حضور کا امتی یہ دنیا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر جا رہا ہے لیکن ہم اسے بھی اپنے مسلک کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

    حالانکہ آقاۓ دو جہاں کی تعلیمات یہ نہیں ہیں۔آپ نے تو یہاں تک کیا کہ ایک یہودی بچے کے بیمار ہونے پہ اسکی عیادت اس کے گھر جا کر کی جو حضور کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھا کرتا تھا اور ایک کافر عورت جوکہ حضور کے گلی سے گزرتے ہوۓ سر مبارک پہ کوڑا پھینکا کرتی تھی اس کی بھی بیمار پرسی کی۔ہمارا یہ رویہ بطور مسلمان ہمارے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔

    اس پہ کام کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ ہمارے اس روئیے کی بناء پر یہ امت انتشار کا شکار ہو جاۓ۔ان کا کہنا تھا کہ ان باتوں پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیوں اس قسم کے رویوں کا شکار ہو رہے ہیں؟۔ہمیں اتحاد امت کو فروغ دینا چاہئے اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ "اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کو چھیڑو نہیں” اللہ پاک ہمیں ہدائت دے۔

  • "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    اس کائنات میں اربوں کہکشاؤں کے درمیان جینے کی سہولت فقط ہمارا ہی سیارہ (یعنی زمین) فراہم کرتا ہے۔ زمین پر زندگی گزارنے والے انسانوں کا اس سیارے اور اسکے ماحول کا محافظ اور نگہبان ہونا چاہیے تھا ۔مگر یہی انسان زمین کے ماحول کا دشمن بن گیا۔صنعتی انقلاب نے جتنا انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ماحول کو تباہ کیا ہے۔ماحول اس قدر تباہ ہوچکا ہےکہ اب اس کے واضح اثرات کرہ ارض پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔صنعتی انقلاب کے آغاز میں سبھی ممالک نے زمینی وسائل کا بےردیغ استعمال کرکے زمین کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1972 میں جب اقوام متحدہ کے زیر انتظام، پہلی بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس منعقد ہوئی ۔تب تک انسان ماحول کا قتل کر چکا تھا ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ستر لاکھ اموات ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پلاسٹک کے استعمال کی وجہ سے سرطان کی شرح میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی نا صرف زمین کو تباہ کر رہی ہے۔ بلکہ انسانی جسم کے گارڈ یعنی دفاعی نظام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی کئی اقسام ہیں ۔ مگر زیادہ اثرات دو کے ہی ہیں۔

    • آبی آلودگی:

    آب یعنی پانی؛ مختلف آبی ذخائر مثلاً سمندر، دریا، اور جھیلوں وغیرہ کو آلودہ کرنے میں انسان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ ہم پانی میں جب تک نا پھینکیں ہمارا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا شاید۔ کوڑا کرکٹ بھی ہم پانی کے سپرد ہی کرتے ہیں۔انسان نے اپنی سہولت کے لیے بڑے بڑے بحری جہاز بنائے۔ جو چلتے ہوئے زہریلے مادے خارج کرتے ہیں۔ ان جہازوں کا تیل اور زہریلے مادے آبی آلودگی کی وجوہات میں سب سے نمایاں ہیں۔

    • فضائی آلودگی:

    فضائی آلودگی، آلودگی کی سب سے زیادہ خطرناک قسم ہے۔ بے ہنگم ٹریفک کا دھواں ، صنعتوں میں استعمال کیے جانے والے فوسل فیولز ، تمباکو نوشی ، سپرے ، بھٹوں اور چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ماحول کو آلودہ کرنے میں سب سے آگے ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق روازنہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ متاثرہ افراد دمہ ،سینے کے انفیکشن، ہارٹ اٹیک جیسی مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ماحول انسان کا لازمی جزو ہے ۔ اور انسانی غیر قدرتی سرگرمیاں ہی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنانے کے ساتھ ساتھ کرہ ارض پر خلیفہ بنا کر بھیجا۔ دنیا کی تمام تر نعمتیں حتی کہ زمین اور اسکا ماحول بھی انسان ہی کے لیے تخلیق کیا گیا۔ قرآن کریم میں تقریباً دو سو کے قریب آیات ماحول کے متعلق ہیں۔

    "اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے ۔جس نے ہر چیز کو مضبوطی کے ساتھ بنایا ہے”۔ (النحل)

    "پھر انسان کو تسخیر کی قوت بھی عطا کی گئی ہے۔کائنات کے خزانوں کے استعمال اور ان کو جاننے کی جستجو اس کی طبیعت میں ودیعت کی گئی ہیں۔علم جیسی قیمتی دولت سے نواز کر اس کو کل مخلوقات میں ممتاز و منفرد بنایا ہے”۔(البقرہ)

    قرآن مجید کے علاؤہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے بھی ہمیں ماحول کو آلودگی سے بچانے کی ترغیب ملتی ہے۔

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

    "جب کوئی مسلمان شجر کاری یا کاشتکاری کرتا ہے پھر اس میں سے کوئی پرندہ ، انسان یا حیوان کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے”۔(بخاری: 2320)

    ماحولیاتی آلودگی اور اسکے اثرات ویسے تو ایک بین الاقوامی مسئلہ اور عمل ہیں۔ لیکن کیا پاکستان کے حکمرانوں نے اس ملک اور عوام کو ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے بچانے کےلئے کوئی عملی اقدام اٹھایا ہے؟۔ تو یقیناً جواب ہوگا، ‘بالکل بھی نہیں’۔ عالمی ماحولیاتی اداروں نے کئی برس قبل یہ بتا دیا تھا کہ اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرف توجہ نہ دی تو 2020 سے 2025 کے درمیان پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں سے ایک ہوگا۔ جو شدید موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کے شکار ہونگے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس بھیانک الارم کی طرف بھی کوئی توجہ نہ دی۔ عوام حکمرانوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کو سنجیدہ لینے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ کوڑا کرکٹ سر راہ ہم پھینک دیتے ہیں۔ یا کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ہم درخت لگانے کی بجائے دھڑا دھڑ کاٹے جا رہے ہیں۔

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ماحولیاتی ادارے موجود ہیں۔ مگر انکا کردار بہت افسوس ناک ہے۔ دھڑا دھڑ درخت کاٹے جارہے ہیں، غیر قانونی فیکٹریاں ماحول کو آلودگی کرنے میں معروف ہیں۔ مگر پاکستان کے ماحولیاتی ادارے صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اعلیٰ حکام کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے۔ مگر وہ ہوش کے ناخن کہاں لیں گے۔ وہ تو صرف ووٹ ہی لیں گے۔ بطور ذمہ شہری ہم سب کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔ کیونکہ جب تک پوری قوم اجتماعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کی روم تھام میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گی ۔تب تک اسے ختم کرنا ناممکن ہے ۔ اگر ہم سب انفرادی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں تو نہ صرف ہم خود اس کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں ۔

  • تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    ایک شخص اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر اپنے بیمار بلے(بلی کا مذکر) کی تصویر لگاتا ہے اور اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ابھی چھوٹا سا تھا تب سے میرے پاس ہے اور میں خود اس کی حفاظت کرتا ہوں ۔ اب یہ بیمار ہے اور اس کی بیماری نے مجھے غمزدہ کردیا ہے ۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس بھی لے گیا چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے انجیکشن اور دوائیاں دیں ۔ جس کے بعد اس کی طبیعت کچھ بہتر ہے ۔ سب دوست دعا کریں کہ یہ ٹھیک ہوجائے ۔۔۔

    اس منظر کے بعد اگلا منظر کچھ یوں ہے کہ لوگ اپنی سوچ وفکر کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔

    کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ جانوروں کا اتنا خیال رکھتا ہے تو انسانوں کا کتنا رکھتا ہوگا ۔ اور اس جذبہ شفقت پر تعریف کرتے ہیں لیکن کچھ بلکل اس کے برعکس جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جتنا خیال کتے کا رکھتے ہو کبھی اپنے ماں باپ کا کبھی رکھا ہے ؟

    انسان کو اس دنیا میں رنگ برنگے لوگ ملیں گے جن کے نظریات و افکار بلکل جدا ہونگے ۔ اور کوئی اپنی خاص فکر کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے ۔

    اس دنیا میں رہنے کا راز یہ ہے کہ انسان اس اختلاف کو ختم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ رہنا شروع کردے ۔

    انسان کو اگر کسی کا نکتہ نظر اچھا نہیں لگتا تو وہ اسے اپنے مطابق کرنے کی بجائے اس سے رواداری کرنا شروع کردے ۔

    اگر کوئی اس کے نکتہ نظر کو پسند نہیں کرتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مخالف سے نفرت بھی نہ کرے اور مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے طے کردہ اصولوں پر کاربند رہے ۔

    اس کے علاوہ تیسری راہ سراسر فساد کی راہ ہے جس پر سوائے ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

    یہی اصول و ضوابط مذہبی ، سیاسی سماجی فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اکسیر ہیں ۔

  • اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کیا کہتے ہیں. زیدان

    فٹ بال لیجنڈ زین الدین زیدان نے کہا ہے کہ قطر سے متعلق تمام تر تحفظات کے باوجود اب وقت آگیا ہے کہ تنازعات کو بھول جائیں اور فٹ بال ورلڈ کپ پر توجہ دیں۔ فٹ بال کی عالمی جنگ رواں برس 20 نومبر سے خلیجی ملک قطر میں شروع ہورہی ہے۔ 2022 کے فٹبال ورلد کپ کی میزبانی کے لئے فرانس اور قطر آمنے سامنے تھے، فیفا نے فرانس کے بجائے قطر کو میزبانی دی، اس فیصلے کو ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن اس کے باوجود اب تک قطر پر تنقید کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔

    یورپی دنیا میں بنیادی حقوق تصور کئے جانے والے بعض معاملات پر قطر میں موجود قوانین اور وہاں غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ مبینہ غیر انسانی سلوک پر قطر میں ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے اعلان سامنے آرہے ہیں۔ ان تمام تنازعات پر فرانس کے لیجنڈ فٹبالر زین الدین زیدان (Zinedine Zidane) نے اظہار خیال کیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں زین الدین زیدان (Zinedine Zidane) نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فرانس کا ٹورنامنٹ بہت اچھا ہوگا لیکن مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ میں قطر جاؤں گا یا نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ بدھ سے کراچی کو حب کینال سےدو دن پانی کی فراہمی معطل رہے گی
    امریکا کا صحافی ارشد شریف کی موت پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
    شادی سے انکار پر لڑکے نے 22 سالہ کزن کو زندہ جلا دیا،پسند کی شادی نہ ہونے پرلڑکے نے کزن کو قتل کر کے خودکشی کرلی
    زیدان نے کہا کہ تمام تر تنازعات کے باوجود پر فٹبال کے شائقین کی توجہ اب صرف اور صرف کھیل پر ہونی چاہیے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے ہیں، سچ یا صحیح بات کہنا کبھی بھجی کافی نہیں ہوتا۔

  • وقت کم، مقابلہ سخت۔۔۔!!!

    وقت کم، مقابلہ سخت۔۔۔!!!

    وقت کم، مقابلہ سخت۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    الحمدللّٰہ اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ کی بھرپور آواز اور حافظ عمار یاسر کی انتھک محنت اور کوششوں سے تلہ گنگ ضلع بن گیا، اس تاریخی کامیابی پر اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ نے بھرپور طریقے سے جشن منایا ہے اور مبارکباد کا سلسلہ تاحال جاری ہے، مگر دوسری جانب ضلع تلہ گنگ کے قیام کے بعد اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے، تلہ گنگ ضلع کو مکمل طور پر فنکشنل کرنا اور ایک خود مختار ضلع بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے، اس کےلیے ہم سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگر تلہ گنگ ضلع کے بننے کے باوجود بھی ضلعی افسران کی بروقت تعیناتیاں نہ کی گئیں اور ہمیں چکوال کے افسران کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا گیا تو حالات مزید بگاڑ کی طرف جاسکتے ہیں، اسی طرح شنید ہے کہ نئے اضلاع کے قیام کے بعد انتخابی حلقہ بندیوں میں بھی ضلع تلہ گنگ کو ایک قومی اسمبلی اور ایک ہی صوبائی اسمبلی کی نشست تک محدود کیا جا رہا ہے، جوکہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہوگی، اس طرح مسائل کے حل کی بجائے مزید مسائل جنم لیں گے، تحصیل لاوہ جوکہ پہلے ہی صرف نام کی تحصیل ہے کو یونہی اگنور کیا جاتا رہے گا اس لیے ضروری ہے کہ لاوہ کےلیے بھی صوبائی اسمبلی کی علیحدہ سے نشست ہونی چاہیے تاکہ تحصیل لاوہ کو بھی اس کا پورا حق مل سکے اور محرومیوں کا ازالہ ہوسکے، آنے والے وقت میں پیدا کردہ مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے صاحب اقتدار کو بروقت اقدامات کرنا ہوں گے، دوسری جانب اگر ملکی حالات کا جائزہ لیا جائے تو حالات انتہائی نازک رخ اختیار کیے ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کے بعد تو گویا کسی وقت بھی ملک میں بھونچال برپا ہوسکتا ہے، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بھی رواں ہفتے جمعہ کے روز لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے بعد پنجاب حکومت کا ٹکنا بھی قدرے مشکل نظر آرہا ہے، ایسے میں وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کو ہنگامی بنیادوں پر نومولود ضلع تلہ گنگ کےلیے اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ خدانخواستہ پنجاب حکومت کی تبدیلی یا قبل از وقت نئے الیکشن کی صورت میں ہم ایک نوٹیفکیشن تک محدود ہوکر نہ رہ جائیں، کیونکہ یہاں اقتدار کے مسند پہ بیٹھنے والا ہر شخص اپنی مرضی سے پالیساں بناتا اور سسٹم کو ہانکتا ہے، ایسے میں ہمیں آنے والی حکومت کے رحم و کرم پہ چھوڑ دینا بھی بہت بڑی زیادتی ہوگی، تلہ گنگ کو ایک خود مختار ضلع بنانے کےلیے ہمیں بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کا زور بازو بننا ہوگا، اور حافظ صاحب کو بھی مزید انرجیٹک ہوکر برق رفتاری سے ہنگامی بنیادوں پر ضلع تلہ گنگ کے انتظامی امور کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ کیونکہ وقت انتہائی کم ہے اور مقابلہ سخت، اس قلیل وقت میں مسائل کیساتھ بھرپور طریقے سے پنجہ آزمائی کرنا پڑے گی تب ہی ہم سرخرو ہوں گے۔

  • وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    پاکستان میں سرکاری جامعات کے طلبہ کے لیے وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم ایک بار شروع کی جا رہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پہلے فیز میں فروری 2023 سے اسکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔

    چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے کراچی آمد کے موقع پر ایچ ای سی کے ریجنل دفتر میں نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پرائم منسٹر کی جانب سے اس سلسلے میں administrative approval مل گئی ہے 28 اکتوبر کو اس سلسلے میں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہے اور پالیسی کے نکات کی منظوری کے ساتھ ہی اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ایم فل/پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ جامعات کے انڈر گریجویٹ اور اوپن/ورچوئل یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی لیپ ٹاپ دیے جائیں گے تاہم انڈر گریجویٹ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد محدود ہوگی۔ ’’ایکسپریس‘‘ کے اس سوال پر کہ کیا اس بار بھی لیپ ٹاپ اسکیم وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ جاری ہوگی، انھوں نے نفی میں جواب نہیں دیا، انھوں نے بتایا کہ اسکیم کے لیے 10 بلین روپے کا فنڈ مختص کیا جا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک سوال پر چیئرمین ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کے دورے کے موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کریں گے اور ان سے گزارش کریں گے کہ جامعات کو بہتر نظم و نسق کے ساتھ چلانے کے لیے وہاں ایڈہاک ازم ختم کرکے وائس چانسلرز کا فوری تقرر کروائیں جبکہ سندھ کی جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کے مسائل حل کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے گزارش ہوگی کہ وہ ڈی ایف کا رپورٹنگ چینل وائس چانسلرز کو ہی رہنے دیں بصورت دیگر وائس چانسلرز بے اختیار ہوجائیں گے اور جامعات کا انتظام عملی طور پر ڈائریکٹر فنانس کے پاس چلا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع، ڈھائی کروڑ بچوں کو قطرے پلائے جائیں
    عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی
    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے
    پاکستانی ائیرلائنز کی یورپ میں بحالی؛ یورپی کمیشن نے پی سی اے اے حکام کو تکنیکی میٹنگ کے لیے مدعو کرلیا
    جامعات میں مالی بحران کے حوالے سے ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ تنخواہوں کے ساتھ ساتھ دیے جانے والے الاؤنسز اور ایڈیشنل فنڈز کا استعمال روکیں، اخراجات پر قابو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انڈر گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پالیسی میں ترامیم لارہے ہیں اور اس کے نقائص دور کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مختار احمد نے پیر کو جامعہ کراچی میں چائینیز لینگویج سینٹر کا دورہ بھی کیا اور وہاں خود کش حملے کے سانحے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والوں کے سوگ میں کچھ دیر کی خاموشی اختیار کی۔