Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان کی سیاست آجکل اس ہانڈھی کی مثال پیش کر رہی ہے جس میں صرف پانی ہے اور اسکے نیچے تیز آنچ جل رہی ہے جس سے پانی جوشِ ابال سے چھلک چھلک کر باہر آنے کو بیتاب ہے۔۔۔چونکہ ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ لیے دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے اور وفاق میں بیٹھی مخلوط حکومت کو اپنے ڈر اور تحفظات نے گھیرا ہو ہے تو ایسا ہونا بعید از قیاس اور انہونا نہیں۔۔۔

    کل عمران خان کے لانگ مارچ کو چھٹا روز تھا اور حسب معمول خان صاحب کی توپوں کا رخ اداروں کی قیادت اور مخلوط حکومت کی جانب ہی رہا۔۔۔ بہر کیف یہ تو ماننا ہوگا کہ خان صاحب واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہیں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست راس آگئی ہے اورعوام کی ایسی پولیٹیکل اور سوشل سپورٹ بھی میسر آگئی ہے جو باقی سیاستدانوں سے تو انکی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی کا سوال کرتی ہے لیکن خان صاحب کو استثنیٰ دیکر بجز انکے مخالفین کے متعلق خان صاحب کی پر جوش تقاریر سن کر ہی مطمئن اور خان صاحب کے شانہ بشانہ ہے۔

    خیر کل خان صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر نیوٹرل اور غیرسیاسی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا چیزآپ کوصاف اورشفاف الیکشن کرانے میں روک رہی ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ سن لیں، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔”

    اسکے بعد خان صاحب نے خطاب کے دوران مقتدر قوتوں سے چھ سوالات بھی کیے اور ساتھ ہی یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول بھی اب 11 نومبر طے کیا گیا ہے جبکہ خان صاحب کے 6 سوالات کے جوابات کے لیے ردعمل میں پھر مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” آپ روئیں،پیٹیں یا کچھ اور کریں،حکومت شہباز شریف کی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے،،شہباز شریف چور تھا تو عدالتوں میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟اگر احتساب کر رہے تھے تو پھر آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کیوں کی ؟رانا ثنا اللہ قاتل تھا تو ہیروئن کا کیس بنا کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟شہباز شریف چور تھا تو3سال برطانیہ کی عدالت میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟”

    بطور عوام ہمارے بھی چھ سوالات ہیں کہ "ملک کب تک عدم استحکام کا شکار رہے گا؟، عوام کب تک سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی؟، ملکی معیشت اور دفاع کی بھی کسی اقتدار کے خواہشمند کو سچ میں فکر ہے؟، اداروں کو کمزور کرنے اور ان سے تصادم کی یہ بھونڈی چالیں کب تک جار رہیں گی؟، حقیقی آزادی کے نام پر کب تک قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی رہے گی؟ اور تمام سیاستدان کب مل بیٹھ کر حقیقی جمہوری طریقے سے اپنے اور ملک و عوام کے مسائل کے حل بارے سوچیں گے۔۔۔۔۔ آخر کب؟”

    ملک جس سیاسی، ریاستی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاستدان اور ادارے قوم وملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مشاورت کرتے اور باہمی اتفاق سے کسی قومی حکومت کی بنیاد رکھ کر عوام کو خوشخبری سناتے لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے کہ روزانہ عوام کو ایک دوسرے کی کمزوریاں اور برائیاں سنا کر نا صرف ایک دوسرے کی بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے،عام آدمی جس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں سراپا سوال ہے کہ میں کب تک سیاست اور حالات کی اس بے رحم چکی میں پستا رہوں گا؟

  • تاج محل — ریاض علی خٹک

    تاج محل — ریاض علی خٹک

    آگرہ میں تاج محل کے سامنے کسی انجنئیر کو کھڑا کر دیں. وہ آپ کو اس عمارت کی فن تعمیر میں وہ زاوئے نکال کر دکھائے گا جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے. وہ بتائے گا دیکھو یہ اسلامی فن تعمیر کا ٹچ ہے یہ ہند کا تو یہ ثمرقند و بخارا کا زاویہ ہے.

    کسی شاعر کو کھڑا کر دیں وہ محبت کی لازوال داستان سنائے گا. کسی تاجر کو کھڑا کر دیں وہ اس کی آج کی قیمت طے کرنے لگے گا. تاریخ دان اس کی تاریخ سنائے گا کسی سیاست کے مارے مذہب پرست کو کھڑا کر دیں وہ بتائے گا یہ ایک مندر کے اوپر کھڑی عمارت ہے اسے گرا دو.

    ہمارے پختون دیہاتی معاشرے میں کسی آرکیٹیکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی. ایک قطار میں لڑکے گن کر کمرے بنا دیتے ہیں سامنے ایک برآمدہ ہوگا برآمدے میں ہوا یا خوبصورتی کیلئے بارانی جالی لگی ہوگی اور آرکیٹیکچر کے نام پر صرف برآمدے کے ستون رے جاتے ہیں. سیدھے رکھیں یا ترچھا کر کے کونا آگے کر دیں؟ زیادہ انجینئرنگ ہو تو بس ایک کی جگہ دو ستون کردو. جسے بھی سامنے کھڑا کردو وہ کہے گا بس رہنے کیلئے ہی عمارت بنی ہے.

    ہماری فیس بُک کی تحریریں گاوں کی یہی سیدھی قطار کی سیدھی آبادی ہوتی ہے. کچھ لوگ پتہ نہیں کیسے خود کو انجینئر یا تحریر کو تاج محل سمجھ کر اس میں سے وہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں جو ہم نے بھی سوچے نہیں ہوتے لیکن کمال تو سیاست کے مارے ذہن دکھاتے ہیں وہ اس کی بنیاد پر ہی سوال کھڑا کر دیتے ہیں.

  • عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    ملک کا درجہ حرارت بتدریج ٹھنڈ کی جانب گامزن ہے جبکہ ملکی سیاست کے درجہ حرارت میں انتہا کی شدت اور گرمی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ عمران خان جی ٹی روڈ پر لفظوں کی گولا باری کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب پیش قدمی کی قیادت کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں مخلوط پارٹی حکومت کے لوگ جوابی لفظوں کی گولا باری میں مصروف ہیں۔

    ساتھ ہی کنٹینرز اور خندقوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایسا منظر بنایا جا رہا ہے جیسے کوئی بیرونی حملہ آور فوج اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے آرہی ہے اور رانا ثناء اللہ کسی ریاست کے آخری وارث ہیں۔

    عمران خان نے آج گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف اور آصف علی زرداری مل کر ہمارے خلاف سازش کر رہے ہیں،،میں نواز شریف نہیں جو باہر بھاگ جاؤں گا،سن لو!میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،ڈاکو نواز شریف کا استقبال کریں گے،سیدھا جیل پہنچائیں گے،الیکشن لڑیں ،ان کے حلقے میں شکست دوں گا۔۔۔”

    دوسری جانب لندن میں پریس کانفرنس سے شعلہ بیانی کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ "عوام کے ٹیکس کا پیسہ لانگ مارچ پر خرچ کیا جا رہا ہے، عمران خان کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے،لانگ مارچ میں لوگ شریک نہیں ہوئے،آخری کارڈ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا،4سال معیشت کو تباہ کیا گیا،مہنگائی عروج پر پہنچائی،اور کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عمران خان کی تباہی سے محفوظ رہا ہو،عمران خان چاہتا تھا موجودہ حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہ کر سکے۔۔۔”

    جبکہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ” لانگ مارچ میں 5سے 700لوگ شریک ہیں،،،عوام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو مسترد کر دیا، صرف ایک مخصوص طبقہ عمران خان کی باتوں میں آ کر گمراہ ہوا،الیکشن جیتنے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے،،یہ لانگ مارچ نہیں فتنہ مارچ ہے،آئندہ دنوں میں یہ مزید سکڑ جائے گا، اور فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کا شوشہ تھا۔۔۔”

    خیرہم نے سب سیاستدانوں کی گفتگو سنی اور ان کے مزاج کی گرمی دیکھ لی جو کسی صورت جمہوری اقدار کی آئینہ دار نہیں، عوام بھی ایک حد تک ہی اس گرمی اور شدت کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بہت جلد ملک میں افواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی بھی متوقع ہے لیکن اس سے پہلے ادارے کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ اور ممکنہ چیف پر شکوک و شبہات کے سائے طاری کرنا کیا سود مند رہے گا ؟

  • اگناڈس – ریاض علی خٹک

    اگناڈس – ریاض علی خٹک

    پیدائش عیسی علیہ السلام سے چار صدی پیچھے ایک دن یونان کی گلیوں میں خواتین اچانک احتجاج کیلئے نکل آئیں. اس دور میں جب معاشرے میں خواتین کا کردار خاندان کی خدمت بچے پالنا اور صرف امور خانہ داری تھا یہ احتجاج ایک انوکھا کام تھا. اس کے پیچھے اگناڈس کا ایک قصہ ہے.

    یونان میں علم طب صرف مرد کا پیشہ تھا. خواتین کیلئے یہ علم ممنوع تھا. اگناڈس نام کی لڑکی لیکن اس دور کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. کیونکہ زچگی میں مرد ڈاکٹروں سے فطری شرم کی وجہ سے اکثریت خواتین یہ تکلیف خود گزار دیتی لیکن ڈاکٹر کی خدمات نہ لیتی. بہت سی خواتین اس لئے زچگی میں زندگی کی اپنی جنگ ہار جاتیں. اگناڈس یہ بدلنا چاہتی تھی.

    اس نے مردانہ کپڑے پہنے بال مردانہ بنا لئے اور اسکندریہ کی علم طب کی درسگاہ میں بطور مرد داخلہ لے لیا. تحصیل علم کے بعد واپس یونان میں آکر مطب کھولا. خواتین میں سینہ بہ سینہ بات پھیلی اور حاملہ خواتین سب اگناڈس کی کلینک جانے لگیں. مرد ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے. انہوں نے الزام لگایا اگناڈس ڈاکٹر خواتین کو ورغلاتا ہے.

    اگناڈس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں اس نے اپنا لباس اتار کر ثبوت دیا کہ میں مرد نہیں عورت ہوں. اب لیکن ایک اور مقدمہ کھڑا ہوگیا. عورت نے علم طب کیسے حاصل کر لیا.؟ اس غداری پر جب کیس چلا تو خواتین سب احتجاج کیلئے نکل آئیں. یہ احتجاج اتنا پھیل گیا کہ یونان کو اپنا قانون بدلنا پڑا اور خواتین کو علم طب کی اجازت مل گئی.

    مجھے نہیں پتہ یہ یونانی قصہ کتنا سچا ہے. لیکن یہ البتہ تاریخی سچ ہے کہ جب بھی خواتین احتجاج کیلئے نکل آئیں تو تاریخ بدل جاتی ہے. آپ کسی مرد کو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس عورت کو خوفزدہ نہیں کر سکتے جو ایک بیمار معاشرے میں نئی زندگی کیلئے نیا گھر بسانے کا حوصلہ رکھتی ہو.

  • ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    غالباً 31 اکتوبر 2018 کا دن تھا اور میرا فیملی ٹور تھا سوات کیلئےہم دو سگے بھائی اور دو کزن گاڑی میں بیٹھے اور انتہائی مشکلات کیساتھ لاہور ٹھوکر نیاز بیگ انٹرچینج پہ پہنچے کیونکہ ہمارے نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی ایک مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے احتجاج شروع ہو چکا تھا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر چکا اور جلاؤ گھیراؤ تک بات پہنچ چکی تھی-

    قصور سے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے تک محض چار پولیس ناکے تھے مگر آج وہ پولیس ناکے تو نا تھے مگر کم و بیش 47 رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا راستہ گلیوں بازاروں کے بیچ سے طے کیا اور محض 50 منٹ کا راستہ 5 گھنٹوں میں طے ہوا خیال یہی تھا کہ موٹر وے محفوظ ترین ٹریک ہے وہ بند نا ہوا ہو گا مگر جب انٹرچینج پہ پہنچے تو صورتحال انتہائی گھمبیر اور پریشان کن تھی جلاؤ گھیراؤ جاری تھا اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں-

    مسافر گاڑیوں میں ڈرے سہمے بیٹھے تھے کیونکہ پیچھے کی جانب جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا کیونکہ شہر لاہور کی قسمت کہ زیادہ تر جلاو گھیراؤ یہی سے شروع ہوتا ہےیعنی ہمارے گلے میں وہ ہڈی پھنس چکی تھی جسے نا تو نگل سکتے تھےنا ہی اگلی رات 8 بجے موٹر وے پہ پہنچے تو موٹر وے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ تحفظ کا احساس ہوا-

    میں اپنی گاڑی سے نکل کر موٹر وے پولیس کی گاڑی کے پاس پہنچا جہاں وائرلیس سیٹ پہ ہوئی گفتگو سے صورتحال کا اندازہ ہو رہا تھا جس سے پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تھی خیر اب تو سوائے صبر کے کچھ نا ہو سکتا تھارات تقریباً ایک بجے کے قریب پولیس وائرلیس سیٹ سے آواز سنی کہ 22 ونگ رینجرز از موونگ ٹورڈ بابو صابو انٹرچینج یعنی رینجر کی 22 ونگ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے موٹر وے پہ پہنچ رہی ہے یہ الفاظ سن کے دل کو قرار آیا کہ چلو اب بات بنے گی-

    خیر صبح فجر سے کچھ دیر پہلے رینجرز نے کنٹرول کرکے موٹر وے پولیس کو منتقل کیا تو موٹر وے پولیس نے سفر کی اجازت دی ہم جب بابو صابو انٹرچینج پہ پہنچے تو کلیجہ منہ کو آ گیا مسافر گاڑیوں،بسوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور گاڑیاں چیخ چیخ کہ بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب زور آزمائی ہوئی ہےموٹر وے پہ ایک جانب مظاہرین کا ساؤنڈ سسٹم بمعہ چنگچی رکشہ اور موٹر سائیکلیں بکھری ہوئی پڑی تھیں اور سڑک کے ایک جانب بہت سارے جوتے بھی جو کہ غالباً رینجرز کے پہنچنے پہ مظاہرین چھوڑ بھاگے تھے-

    ہم نے رک کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو پنجاب پولیس نے بڑی سختی سے آگے بڑھنے کو کہا گجرانوالہ،و چکری انٹر چینج پہ بھی جلتی گاڑیاں بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب غصہ نکلا ہے ہم نے برق رفتاری سے اپنا سفر جاری کیا اور مردان سے انٹرچینج لیا کیونکہ اس وقت سوات تک موٹر وے ابھی زیر تعمیر تھی-

    مردان شہر میں داخل ہوئے تو سارا شہر بند تھا مجبوراً گاڑی تخت بھائی شہر میں لے گئے جہاں تخت بھائی کے مین بازار کو بند کیا گیا تھا مجبوراً واپس مڑے اور تخت بھائی کے کھیتوں کھلیانوں سے سفر کرتے ہوئے مینگورہ ( سوات) شہر پہنچے اور ہلکی پھلکی کشیدگی کی بو پا کر گاڑی کالام کی جانب موڑ لی مگر زیادہ دیر ہونے کے باعث وادی بحرین میں قیام کیا صبح سویرے کالام کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ
    سوات میں برف باری شروع ہو چکی تھی اور کالام کا ٹمپریچر منفی 3 تک گر چکا تھا –

    تقریباً 40 کلومیٹر کی چڑھائی والا سفر طے کرکے ہم کالام پہنچے اور ہوٹل لے کر کالام ہوٹل کے ٹیرس پہ باربی کیو شروع کیا تاکہ تھکاوٹ بھی دور ہو اور گرمائش بھی ملےمیں نے ساتھیوں سے کہ کہا کہ نماز عشاء پڑھ لوں اور پھر آکر کر کھانا کھاؤں گا میں ہوٹل سے نکل کر کالام میں واقع کئی دہائیوں سال پہلے بنی تاریخی لکڑی سے بنی مسجد میں میں نماز پڑھنے چلا گیا جہاں مولانا سمیع الحق کی شہادت کی اطلاع ملی-

    مولانا صاحب کی شہادت کی خبر سن کر آنکھیں نمک ناک ہوئیں اور مجھے 2016 میں اسلام آباد کے ایک جلسے میں ان سے ہاتھ ملانے کا منظر یاد آ گیامیں نے بڑے پیار سے مولانا صاحب کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مولانا صاحب نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا تھا اور بلکل بھی احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک بہت بڑے عالم دین و سیاست دان ہیں-

    پورا صوبہ خیبرپختونخوا خاص کر مینگورہ سوات مکتبہ دیوبند کا گڑھ ہے سو مولانا سمیع الحق کی شہادت پہ یہ گمان ہوا کہ اب یہاں بھی حالات کشیدہ ہونگے مگر بفضل ربی کوئی واقعہ پیش نا آیا-

    مولانا کی شہادت پہ میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ ان کی شہادت سے قبل معروف سیاستدان و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وفات پہ پاکستان کا برا حال کیا گیا تھا اور اب کی بار اگر مولانا سمیع الحق کی جگہ کوئی معروف سیاستدان ہوتا تو یقیناً ان کی وفات پہ بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا کیونکہ ہمارے ہاں یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے لیڈر کی ایک کال پہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے اور اگر کوئی پارٹی کارکن حکم ربی سے طبعی موت بھی مر جائے تو اس پہ سیاست کرتے ہوئے ملک کے امن و امان کو برباد کرکے عوام کا نقصان کیا جاتا ہے –

    ماضی قریب و موجودہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا ہے اور مذہبی منافرت نے کم مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ کی چوتھی برسی پہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین-

  • سماٹ سندھیوں کی 500 سالہ تاریخ

    سماٹ سندھیوں کی 500 سالہ تاریخ

    سماٹ سندھیوں کی 500 سالہ تاریخ
    تحریر : بلاول سموں
    سندھ پر 712 ســے لیکـر 1024 تک کے 312 سال عــربوں کا قبــضہ رھا لیـــکن سماٹ قوم 312 سـال کی غلامی اور طویل جدوجہد کے بعد بلآخــر 1024 میــں سنــدھ پر عربوں کی حکمرانی ختم کرنے میں کامیاب ھوگئی تھی۔ اس لیـے 1024 سے لیکر 1335 کے 311 سال تک سمــاٹ قـــوم کا ســومرا خاندان سندھ کا حکمــران رھــا اور 1335 سـے لیکر 1520 کے 185 سال تک سماٹ قوم کے سمہ خاندان کی سندھ پر حکمران رھی۔ لیکـن 1520 میں ترک نژاد ارغونوں نے سندھ پر قبــضہ کـــرلیا۔ اس لیــے 1520 ســــے لیکر 1554 تک 34 ســـال ترک نژاد ارغـــونوں کی سندھ حکمرانــی رھـی۔ جبکہ 1554 سے لیکر 1591 تک 37 ســـال ترک نژاد ترکــھانوں کی سندھ حکمرانی رھی۔ جس کــے بعد مغلوں نے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ اس لیے 1591 سے لیکر 1701 تک 110 سال مغلوں کی حکمرانی رھی۔ گــوکہ 1591 ســے لیکر 1701 تک سنــدھ پر مغلوں کـــی حکمرانی رھی۔ لیکن پنجاب میں پنجابیوں کی مزاحمت کے بڑھنے کی وجہ سے مغلوں کــی پنجاب میـں حکمرانی کمزور ھونا شروع ھوگئی۔ جس کــی وجہ سے دھلی میں بیٹھ کر مغلوں کــو براہ راســت سنــدھ پر اقتـــدار کو برقرار رکھنا مشــکل ھوگیــا تھا۔ اس لیے دھلی دربار ســے تعلقات کــی وجہ سے 1701 سے عباسی کلھوڑا کـــو سنـدھ پر حکمرانی کرنے کا موقع مل گیا اور 1701 سـے لیکر 1783 تک کے 82 سال عــربی نژاد عباســی کلھوڑا کی سندھ پر حکمرانی رھی۔عباسی کلھــوڑا چــونکہ عــربی نژاد تھــے اور انکـی سندھ میں اکثریت نہیں تھی۔ جس کی وجہ ســے سـماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے کـــے لیـــے عباســـی کلـــھوڑا کـــو پنجاب سے کـــردستانـــی نژاد تالپــور بلوچ لانے پڑے تاکہ بلوچ قبائل کـــی مدد ســـے عباسی کلھوڑا کو سندھ میں سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے میں مدد مل سکے۔ لیکن نادر شاہ افشار کــے ایران کا حکـمراں بن جانـے اور دھلی پر 1739 میں نادر شاہ افشار کــے حملــے کـے بعد مغل حکمرانوں کے کمزور ھوجانـے۔ جبکہ 1747 میں نادر شاہ افشار کے دســتِ راست احـمد شاہ ابدالی کے افغانستان کــی سلطنت قائم کرکے افغانستان میں درانی حکـومت قائم کرلینے کی وجہ سے تالپور بلوچ نے عباســـی کلـــھوڑا کـــے ساتھ مل کر سماٹ سندھیـــوں پر حکـمرانی کرتے رھنے کے بجائے مغل سلطنت کــی آشیرباد اور ایران کے قاجار خاندان کـــی معاونت سـے 1783 میں ھالانی کـــے مقام پر عباســی کلھوڑا کـــے ساتھ جنگ کرنـے کے بعد عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکـــے سنـــدھ پر خــود حکمرانی کرنا شروع کردی۔ لہٰذا 1783 ســے لیـکر 1843 تک کے 60 سال کردستانـــی نژاد تالپــور بلوچ کــــی سندھ پر حکمرانـــی رھـــی۔ لیکن 1843 میں سندھ پر قبضہ کـــرکــــے انگریزوں نــے تالپور بلوچ کی حکمرانـــی کــو ختم کردیا اور خود سندھ کے حکـــمراں بن گئـــے۔ اس لیــے 1843 سے لیکر 1947 تک کـــے 104 سال سندھ پر انگریزوں کی حکمرانی رھی۔
    پاکستان کے 1947 میں قیام کے بعد پاکستان
    کا وزیرِ اعظـــم یوپی کـــے اردو بولنـــے والــے ھندوستانــی لیاقت علی خان کے بن جانے سے اور کــراچی کـــے پاکستان کا دارالحکومت بن جانــے کے بعد ستمبر 1948 میں پاکستان کی گورنمنٹ ســـروس میـــں امیـــگرنٹس کے لیے %15 اور کراچـــی کــے لیـے %2 کوٹہ رکھ کر لیاقت علــی خان نـے یوپی ‘ سی پی سے اردو بولنے والے ھندوستانی لا کر کراچی اور سندھ کــے دوسرے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کر دیـــے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنا شروع کردیا۔ اس عمل کــے دوران سندھ کے مسلمان سماٹ سندھیــوں نے تو مزاھمت کی لیکن عربی نژاد اور بلــوچ نژاد اشــرافیہ نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کـے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس لیے ھی لیاقت علی خان نے سندھ کے سماٹ وزیر اعلی ایوب کھـــوڑو کـو ھٹا کر عربی نژاد پیر الٰہی بخش کــو سندھ کا وزیر اعلی بنا دیا۔ عربـی نژاد پیر الٰہی بخش نے ھندوستان سےلا کـــر کراچــی میـــں آباد کیـــے جانــے والــے مھاجروں کے لیے 1948 میں پہلی کالونی پی آئــی بــی کـــالونی (پیـر الٰہی بخش کالونی) بنائـــی۔ جس کـــے بعد ھنــــدوستان سے لا کر کراچــی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیــے سنــدھ حکــومت کــی ســـرپرستـی میں کالــونیاں بنانــے اور ھنـــدو سـماٹ سندھیوں کــو سندھ سـے نکالنے کا سلسلہ منصوبہ بندی کے ساتھ اور تیزی سے شروع کردیا گیا۔سندھ کـے اصل باشندے ‘ سماٹ سندھی پہلے ھی اکثریت میں ھونــے کـے باوجود ‘ صدیوں سے عربی نژاد اور بلوچ نژاد کی بالادستی کی وجہ سـے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا تھــے۔ لیکــن ھندو سماٹ سندھیوں کـــو سندھ ســـے نکال دینــے ســے سندھ میں سماٹ سنــدھیوں کـی آبادی بھی کم ھو گئی۔ جس کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں پر یوپـــی ‘ ســـی پـــی کــــی اردو بولنــــے والی ھندوستانــی اشرافیہ کی اور سندھ کے دیہی علاقــوں پر عــربی نژاد اور بلوچ نژاد اشرافیہ کـــی مکمل سماجـــی ‘ سیاســـی اور مــعاشی بالادستــی قائم ھــو گئــی اور سـماٹ سندھی مستــقل طور پر سماجی ‘ سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا ھو گۓ.

  • نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

    گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔

    حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔

    ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔

    طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔

    وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔

    حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

    شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی

    ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

  • معاشی بدحالی

    معاشی بدحالی

    معاشی بدحالی
    تحریر : نزرانہ اعوان
    سردیوں کی یخ بستہ شام منہ لپیٹےایک مجبور ماں اپنے معصوم بچے کوایدھی سنٹر کےجھولے میں چھوڑ جاتی ہے۔۔۔۔اس سے سوال کیا گیا ؟؟ کہ کیا تجھے تمہاری ممتا ستائے گی نہیں ؟کیا اس بچے کی سسکیاں تجھ کو رولائیں گی نہیں؟ اسکے خشک و زرد ہونٹوں سے آواز آئی۔۔میں اپنا بھوکا پیٹ تو برداشت کر سکتی ہوں لیکن اپنے بچے کو بھوکا روتے نہیں دیکھ سکتی ۔اس پر یہ کہنا لازم ہےکہ.

    خاک میں ماں کی محبت کو ملا دیتی ہے
    بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے

    دور حاضر میں ہر فرد اس بات پر لڑ رہا ہے کہ ہم اخلاقی بدحالی کا شکار ہیں ۔لیکن میرا یہ دعوٰی ہے کہ ۔۔۔ ہم اخلاقی بدحالی سے زیادہ معاشی بدحالی کا شکار ہیں کیونکہ تاریخی اوراق گواہ ہیں کہ جب جب اخلاقيات تباہی کے دہانے پر پہنچے تو اس کی اصل وجہ معیشت ٹھہری،اور آج کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے ہمیں چاہیے کہ اس کا جلد از جلد کوئی حل نکالیں،بجائے اس کے کہ ہم چند ووٹوں کے عوض سٹیج پر کھڑے ہو کر بڑی بڑی باتیں کرتے رہیں کیونکہ اخلاقیات ہر لحاظ سے معیشت کی محتاج ہے .
    روٹی کے چند ٹکڑوں اور قابل گزارہ دودھ کی قلت، ان دم توڑتے بچوں کا مسئلہ اخلاقیات نہیں معیشت ہےجب ایک مجبور ماں اپنے بچوں سمیت ریل گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے تو اس کامسئلہ اخلاقیات نہیں معیشت ہے۔ دو کلو آٹے کےلیے جب ایک بوڑھا ملتان میں نشتر ہسپتال کےباہر اپنا خون بیچتا ہے تو اسکی وجہ اخلاقیات نہیں معیشت ہے ۔جب کراچی کے علاقے لیاری میں رہائش پزیر سلطان نامی عمر رسید آدمی بیروزگای سے تنگ آکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اسکا مسئلہ اخلاقیات نہیں معیشت ہے۔ جب ننکانہ صاحب میں 35سالہ فیاض اپنی بچوں سمیت دریا میں کود جائے تو اسکا مسئلہ ہماری معیشت ہے۔جب اک نوجوان مہنگائی کے ہاتھوں اپنے خاندان کی ضررویات زندگی پوری نہیں کر پائے گا تو پھر بے شک وہ چور اور ڈاکو ہی بنے گا۔ ایسے کئی سلطان اورفیاض اب بھی ہمارے معاشرے کاحصہ ہیں لیکن خوش قسمتی یہ ہے کہ ابھی تک انکی ہمت نے دم نہیں توڑا.
    یہ زرد چہرے ،پتھريلی آنکھیں، عصمت لوٹاتی بیٹیاں، بھوک سے سسکتے بچے، فٹ پاتھ پر ٹھٹھرتی آدمیت ہماری معاشی بدحالی کامنہ بولتا ثبوت ہیں ۔۔
    چہرا بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے
    اور لوگ کہہ رہے تھے کہ کچھ کھا کے مر گیا
    تنگ دستی بھوک اور بدتر معاشی حالات اعلیٰ اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔کوئی بھی انسان اخلاقیات کی بات تو تب کرے گا جب اس کی زندگانی فاقہ کشی اور غم بے روزگاری سے عاری ہوگی. پچھلے کئی برسوں سے پاک وہند کے درمیان مسئلہ کشمیر پر جنگ جاری ہے. ہم اقوام متحدہ میں بار بار اپیل کر رہے ہیں مگر آج تک کوئی امید کی کرن نظر نہ آئی،اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کی وجہ ہماری اخلاقی بد حالی ہے ؟
    ہرگز نہیں ہے، اس کی وجہ تو ہماری معاشی بدحالی ہے،ہمیں اب یہ بات تسليم کرنا ہوگی بھارت معیشت میں ہم سے بہتر ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ بے دھڑک کشمیر پر آج بھی قبضہ کر کے بیٹھا ہے ۔ اور میری گزاش ہے ہمارے معزز حکمرانوں سے کہ آپس کے بحث و مباحثہ اور کرسی کے مفاد کے بجائے ملکی معیشت پر دھیان دیں۔اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ دور حاضر میں ہر ملک اپنی اپنی معیشت کا رونا رو رہا ہے کیونکہ کروناوائرس نے تمام ممالک کی معیشت کو تباہ کردیاہے۔اور یہاں تک کہ امریکی معیشت جو کہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشت ہے وہ بھی اس موذی وبا کی لپیٹ میں آگئی۔۔۔اور اب ہماری اولین ترجیح بھی معیشت کی بحالی ہونی چاہنے۔ کیونکہ یہ دورسائنس وٹیکنالوجی اورمعیشت میں ترقی کا دور ہے ۔ہمارے ملک کا المیہ تو یہ ہے کہ ہر کوئی فقط کرسی کے حصول تک محدود رہ گیا ہے ۔کوئی بھی اپنی کمزوری کو تسليم نہیں کررہا۔کوئی موجودہ حکومت کو معیشت کی ابتری کاذمہ دار ٹھہراتا ہے،کوئی تمام مسائل کی ہار سابقہ حکومت کے گلے میں ڈال دیتاہے۔اور یہی نہیں کوئی عقل سے عاری تو افواج پاکستان کو ہی نشانہ بنالیتا ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس کے جھگڑوں سے بالاتر ہو کراپنی معیشت پردھیان دیں.
    لیکن اگر اب بھی آپکا دماغ میرے دعویٰ کو ماننے سے انکاری ہے تو میں آپ سے سوال کرتی ہوں۔
    کہ جس کا اک ہی بچہ ہو بھوکا آٹھ پہروں سے
    بتاؤ اہل دانش تم کہ گندم لے؟ یا تختی لے؟؟

  • زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    بوسٹن: امریکا کی کلائمیٹ ٹاسک فورس کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کی سطح سے نیچے گہرائی میں موجود گرم چٹانوں کا استعمال توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی موجودہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر منافع بخش ادارے کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’سُپر ہاٹ راک انرجی‘ 2030 کی دہائی کے ابتداء میں کمرشل استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

    شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی ہیں،ماہرین

    زمین کا مرکز بہت گرم ہے کہیں مرکز میں 7,952 ڈگری اور 10,800 ڈگری فارن ہائیٹ کے درمیان۔ اگر ہم سطح سے نیچے کی کھدائی کر سکتے ہیں جسے سپر ہاٹ چٹان کہا جاتا ہے، تو ہم زمین کی حرارت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسے صفر کاربن کے ایک بڑے ذریعہ میں تبدیل کر سکتے ہیں

    کلین ایئر ٹاسک فورس، جو کہ ایک غیر منافع بخش آب و ہوا کی تنظیم ہے، کی جمعہ کو سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ کلین، بیس لوڈ سپر ہاٹ راک انرجی کے اس زمرے میں دیگر زیرو کاربن ٹیکنالوجیز کے ساتھ لاگت سے مسابقتی ہونے کی صلاحیت ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی کی جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے جیو تھرمل توانائی کی فنڈنگ اور پبلک پرائیوٹ شراکت داری عالمی توانائی کے نظاموں کے لیے کم لاگت والی صفر کاربن ٹیکنالوجی ثابت ہوسکتی ہے۔ جبکہ اس کے استعمال کے لیے دیگر وسائل کی نسبت کم زمین درکار ہوگی۔

    زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے

    اس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائیوں میں اتنا پانی بھرا جائے گا کہ وہ ان چٹانوں تک پہنچے جن کا درجہ حرارت تقریباً 400 ڈگری سیلسیئس تک ہے۔ ان گرم چٹانوں پر پانی پہنچنے کے بعد جو بھانپ واپس آئے گی وہ جنریٹر چلائی گی۔

    جیوتھرمل توانائی کی جو قسم زیر استعمال ہے اس کا انحصار ایسی سطح کے قریب ہے جہاں درجہ حرارت اتنا گرم ہو تاکہ بھانپ بنائی جاسکے۔ اتنی گرم چٹانیں ڈھونڈنے کے لیے زمین میں 19.31 کلومیٹر تک کھدائی کرنی ہوگی۔

    کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک غیر منافع بخش جیوتھرمل تنظیم، ہاٹ راک انرجی ریسرچ آرگنائزیشن، اور ایک بین الاقوامی کلین انرجی کنسلٹنسی، LucidCatalyst، کو تجارتی پیمانے پر سپر ہاٹ راک بجلی کی سطحی لاگت کا تخمینہ لگانے کے لیے کمیشن بنایا۔

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    انہوں نے طے کیا کہ آخر کار اس کی لاگت 20 ڈالر سے 35 ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ کےدرمیان ہوسکتی ہےجو آج قدرتی گیس کے پلانٹس سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلے میں ہے۔

    یہ ابھی تک حقیقت نہیں ہے کلین ایئر ٹاسک فورس کے چیف جیو سائنس دان اور رپورٹ کے مصنف، بروس ہل نے سی این بی سی کو بتایا کہ فی الحال، کوئی سپر ہاٹ راک جیوتھرمل انرجی سسٹم کام اور توانائی فراہم کرنے والا نہیں ہے۔ لیکن پیسہ تحقیقی منصوبوں اور کمپنیوں میں بہہ رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں-

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام…

  • اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک کے انتہائی اہم اداروں کے وقار کو روندنے کا خبط ہوس اقتدار اور اقتدار سے چمٹنے کا نشہ کہیں کسی ردالفساد کا منتظر تو نہیں ؟ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالا دستی ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں مہنگائی کا زخم پہلے سے بدن دریدہ عوام پر نہ لگایا جاتا ہو، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ صاف پانی ، گیس ، بجلی اور دوسری بنیادی سہولیات کی محرومی دن بدن شدت پکڑتی جا رہی ہے ۔ لینڈ مافیا سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹی بنا کر قانون اور قانون بنانے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے ۔ سوسائٹیز سے منسلک ادارے کروڑوں روپے کی رشوت لے کر پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اپنے دفاتروں پر آویزاں کردیا ہے ۔

    ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر عمران خان کس مقصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں اگر یہ مارچ نئے انتخابات کے لئے ہیں تو اس سے قبل عمران خان حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟ حیرت اس بات پر کہ اس سرکس نما مارچ میں اعلیٰ عسکری اداروں پر زبان درازیاں اور الزامات کی بوچھاڑ نام نہاد راہنمائوں کی اپنی ہی شخصیت کے پول کھول رہی ہے دوسری جانب لانگ مارچ میں جس شرمناک طریقے سے ملک کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل ندیم انجم ایک اعلیٰ پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل حقیقی سولجر ہیں اوران کا تعلق شہیدوں ،غازیوں اور نشان حیدر والوں کی سرزمین گوجر خان سے ہے ، گوجر خان تحصیل کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں پر پاکستان کے جھنڈے موجود ہیں اور گوجر خان کو افواج پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس خطے نے پاکستان آرمی کو آرمی چیف بھی دئیے ہیں ۔ جن میں جنرل سوار خان ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جیسے سپہ سالار شامل ہیں۔ جنرل ندیم انجم افواج پاکستان کا فخر ہیں اور گوجر خان کی غیور عوام کو بھی ان پر فخر ہے ۔ ملک کے محب وطن عوام سیاسی سرکس میں ہونے والی بدست تقریروں اور نعرہ بازیوں پر شدید رنجیدہ ہیں اور سنجیدہ حلقے سوچ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملکی سلامتی اور بقا سے زیادہ اقتدار عزیز ہے ؟