Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ بات ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف ہمارا معاشرہ بلکہ پوری دنیا میں خواتین سائنس کے شعبے میں کم نظر آتی ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ خواتین کو سائنس میں دلچسپی نہیں ، وجہ یہ ہے کہ اُن کو کئی مسائل کا سامنا ہے جو مردوں کو نہیں کرنا پڑتا جن میں کام پر خود کو محفوظ تصور کرنا، ازدواجی ذمہ داریوں کی مصروفیات، بہتر تعلیم کا فقدان اور کئی ایسے دیگر معاشرتی مسائل جو انہیں سائنس میں اپنا کیریئر بنانے میں رکاوٹ بنتے ہے۔ اس حوالے سے مغربی ممالک میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اُنکو سائنس کے بنیادی شعبہ جات میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں مگر درحقیقت یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کاوش ابھی بھی بے حد کم ہے۔

    اسکے مقابلے میں پاکستان میں خواتین کا سائنس کے شعبوں میں کردار بھی کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں تو خواتین کی بنیادی تعلیم پر ہی توجہ نہیں دی جاتی، سائنس کے حوالے سے خواتین کو ان شعبوں میں لانا دور کی بات ہے۔ جن سائنس کے شعبوں میں خواتین باقی شعبوں سے زیادہ نظر آتی ہیں وہ حیاتیات، میڈیسن اور فزیالوجی ہیں۔

    اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک سائنس کے شعبے میں ملنے والے نوبل انعاموں میں محض 24 خواتین کو سائنس کے شعبے میں ایوارڈ ملا جن میں سے صرف 11 خواتین کو ملا کر فزکس اور کیمسٹری میں یہ انعام ملا جبکہ باقی 12 خواتین کو میڈیسن کے شعبے میں (میری کیوری وہ واحد خاتون ہیں جنہیں دو نوبل انعام ملے ہیں)۔

    یہ بات میں برملا کہتا ہوں کہ خواتین کا دماغ کسی طور مردوں سے کم نہیں ۔ اور اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ خواتین کی صلاحیتیں مردوں سے کم ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے جسکا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں۔

    اس طرح کی سوچ رکھنے والے معاشروں میں اس طرح کی باتیں بچپن سے ہی خواتین کے دماغ میں ڈال کر اُن میں موجود اعتماد اور اُنکی شخصیت کے اہم پہلوؤں کو مار دیا جاتا ہے۔

    ہم جس زمانے میں رہتے ہیں ہمیں سوچ بھی اسی زمانے کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ اکیسویں صدی میں خواتین کا سائنس میں کردار بڑھا کر ہم نہ صرف سائنس کے شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں بلکہ خواتین سائنس کے وہ مثبت استعمال بھی سامنے لا سکتی ہیں جو ایک پدر شاہی معاشرے میں طاقت یا پیسے کے حصول سے ہٹ کر فلاحی کاموں میں مدد دے۔

    اپنی بچیوں اور بہنوں کو نہ صرف تعلیم دیجیے بلکہ اُن میں اعتماد بھی پیدا کیجیے تاکہ وہ سائنس سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں اگے بڑھ سکیں۔

    ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔

  • لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    محسنین یوتھ سکواڈ کے پہلے یومِ تاسیس پر سالانہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔۔۔ مورخہ ستائیس نومبر 2022 بمقام ایوانِ قائد محسنین کنونشن میں مختلف سماجی، مذہبی، صحافتی اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل مشہور و معروف شخصیات اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔

    محسنین کنونشن میں معروف صحافی و اینکر پرسن عمران ریاض خان اور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مقررین و مہمانِ خصوصی میں عبد الوارث گِل، قیصر احمد راجہ، سیف اللہ ثناء اللہ، سلیم ابنِ فاضل، فاران صدیقی، ڈاکٹر زبیر تیمی، عبید الرحمن شفیق، مدثر یوسف حجازی، حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام، قاری اسامہ شوکت اور میزبانوں میں قاری سیف اللہ کیلانی اور عبدالرب ساجد شامل تھے۔

    کنونشن کا باقاعدہ آغاز گیارہ بجے دن ، قاری سیف اللہ نے تلاوت قرآنِ پاک سےکیا اور بعد ازاں سٹیج سیکریٹری کے فرائض ادا کیے۔ سب سے پہلے گفتگو کے لیے جناب سیف اللہ ثناء اللہ کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے تقریب کے شرکاء نوجوانوں کو وقت کی قدر پر نصیحت کرتے ہوے کہا کہ "نوجوان اس وقت کی قدر نہیں کرتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی تو ہم جوان ہیں، ابھی کافی وقت پڑا ہے، وقت سے سیکھ لیجیے، اس سے پہلے کہ وقت آپکو سکھادے۔”

    پھر جناب فاران صدیقی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے نوجوانوں کو اللہ کے پیغام بابت کہا کہ "اللہ تعالی نے ہمارے لیے قرآن مجید کی صورت میں محبت کا پیغام بھیجا ہے، لیکن ہم اسے پڑھتے ہی نہیں، وہ محبوب ہی کیا جسے محبت بھرا پیغام ملے اور وہ اسے پڑھے ہی نا”

    جناب قیصر احمد راجہ صاحب کا نوجوانوں سے کہنا تھا کہ "اگر ہم اپنی سوسائٹی میں بیلنس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں دینِ فطرت کی طرف آنا ہوگا۔”

    جناب عبید الرحمن شفیق کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد نوجوان ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لہو کو گرمایا جاتا ہے لیکن حقائق سے نظریں چرائی جاتی ہیں ۔”

    جناب عمران ریاض خان کا نوجوانوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ "جیتنا چاہتے ہو تو مل کر چلنا پڑے گا وگرنہ کچل دیے جاؤگے۔”

    جناب قاسم علی شاہ صاحب نے کہا کہ "نوجوان یاد رکھیں کہ کرپشن کا تعلق غربت سے نہیں، بلکہ بےیقینی اور خوف سے ہے۔”

    جناب مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ "ایک بات یاد رکھیے گا کہ اگر آپ کو اپنے حق کے لیے اور آزادی کے لیے قلم کی طاقت کو چھوڑ کر گن کی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تو آپ تب بھی معتدل ہیں۔”

    اور جناب عبد الوارث گِل کا کہنا تھا کہ "اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، تو ہم آج یہاں نہ ہوتے بلکہ اس سے دو، تین قدم آگے ہوتے۔”

    اسکے علاوہ دیگر سپیکرز سلیم ابنِ فاضل ، ڈاکٹر زبیر تیمی اور مدثر یوسف حجازی نے بھی محسنین کنونشن کے شرکاء نوجوانوں سے خطاب کیا اور انہیں معاشرے میں معتدل اور موثر رہنے کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی خطاب کیا۔۔۔

    تقریب میں مختلف مواقعوں پر حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام اور قاری اسامہ شوکت نے تلاوت، نعت، اسماء الحسنی اور ترانے بھی پیش کئے۔۔۔

    جبکہ محسنین یوتھ سکواڈ کے تعارف اور سیلاب کے دوران محسنین رضاکاروں کی خدمات کے بارے میں ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔

    تقریب کے دوران مختلف مواقع پر محسنین یوتھ سکواڈ کے رہنما محسنین جناب عبدالرب ساجد صاحب نے شرکاء کنونشن سے کنونشن کے انعقاد کے مقاصد اور محسنین کے وژن اور نطرئیے کے بارے میں گفتگو کے دوران کہا کہ "محسنین کنونشن کسی سیاسی اور مذہبی جماعت کا پروگرام نہیں، بلکہ نوجوانوں کو روشن مستقبل دینے اوران کو عملی میدان میں راہنمائی فراہم کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے، ہمارے نوجوان کا شعور اتنا بیدار ہوچکا ہے کہ اب وہ کسی مذہبی اور سیاسی انتہا پسندانہ بیانیے کو قبول نہیں کریں گے، ہم نوجوانوں کے شعور کو اس مقام پر لانا چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے جو بھی گفتگو ہو یہ متاثر ہونے کے بجائے اس کو شعور کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کے صحیح یا غلط کا فیصلہ خودکریں، نظریات کے اختلاف کو قبول کرنا معاشرے کا حسن ہے، کسی کےنظریے کا احترام اور چیز ہے اور حمایت کرنا اور چیز ہے۔”

    محسنین کنونشن شام 3 بجے تک چلا جس میں لاہور و گر د ونواح سے مختلف شعبہ زندگی سے نوجوانوں اور بزرگوں نے شرکت کی ، شرکاء محفل نے محسنین یوتھ سکواڈ کے ویژن اور مشن کو سراہا اور محسنین کنونشن کے کامیاب انعقاد پر پوری محسنین یوتھ سکواڈ ٹیم کو مبارکباد دی۔

  • مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    آپ کی عمر 2 سال سے 60 سال تک ہے۔ آپ بڑی پرفیکٹ زندگی جی رہے ہیں۔ یہ قاتل آپ کے اور میرے جسم میں بھی چھپا یا سویا ہو سکتا ہے۔ جو کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی جسے عام زبان میں پٹھوں کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اسے ہمارے جینز میں چھپا ہوا قاتل سمجھا جاتا ہے۔ جو عمر کے کسی بھی حصے میں جاگ کر جسم کے چند حصوں یا پورے جسم میں تہس نہس مچا دیتا ہے۔ اور یہ قاتل ہستے کھیلتے زندگی کی بہاریں دیکھتے اپنے شکار کو موت کے منہ کے قریب لے جاتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی پر آج میں انشاء اللہ تفصیل سے بات کروں گا۔ اور اس قاتل کی چالوں و حملوں سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوگی۔ تحریر پڑھنے کے لیے جو کر رہے ہیں پلیز اسے ابھی چھوڑ دیجیے۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے جسے آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

    اس بیماری کی یوں تو 8 اقسام ہیں مگر تصویری پریزنٹیشن میں 6 اقسام ہیں۔ جو کہ عام ہیں۔ آپ نے تحریر پڑھتے ہوئے تصویر کو a سے شروع کرکے نیچے f کی طرف دیکھتے جانا ہے۔

    آئیے اس خاموش قاتل کے تمام طریقہ واردات پر باری باری بات کرتے ہیں۔

    اے۔ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی
    Duchene Muscular Dystrophy

    مسکولر ڈسٹرافی کے مریضوں میں یہ سب سے کامن قسم ہے۔ یہ ایک جنیٹک یا موروثی بیماری ہے۔ اور جو سب سے چھوٹی عمر میں ہوتی ہے وہ یہی ہے ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی۔ یہ ہمیشہ لڑکوں کو ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر ماں اسکی کیرئیر ہوتی ہے۔ اور بیماری جب ظاہر ہوتی ہے تو پیدا ہونے والے لڑکوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

    اب اس میں ہوتا کیا ہے؟ بچہ بلکل ٹھیک پیدا ہوتا ہے۔ تمام مائل سٹون اپنی عمر کے باقی بچوں کی طرح پورے کرتا ہے۔ چلنا باتیں کرنا سب کچھ پرفیکٹ ہوتا ہے۔ جیسے ہی عمر 5 سال ہوتی تو قاتل اندر سے جاگ کر بچے کے پاؤں کی ایڑھی زمین سے اٹھا دیتا ہے۔ اور اپنے شکار پر ہلا بولنے کی پہلی نشانی اسے پنجوں پر چلانا شروع کرتا ہے۔ چند ہی ماہ بعد بچہ اپنا چھاتی یعنی سینہ باہر نکال کر چلنا شروع ہوتا ہے۔ جیسے پہلوان سینہ تان کر چلتے ہیں۔ اندر چھپا ہوا قاتل ہی سینہ تان کر ایڑھیاں اٹھا کر للکار رہا ہوتا ہے میں آگیا ہوں آؤ اب میرے مقابلے میں۔

    والدین بچے کو ڈانٹ رہے ہوتے کہ یہ تم کیسے چل رہے ہو؟ ایڑھی نیچے لگاؤ سینہ پیچھے کرو۔ مگر بچہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اور والدین اسے بچے کی کوئی عادت سمجھ کر اگنور کر رہے ہوتے۔ اور بزدل قاتل اپنا وار بچے کے پٹھوں پر تیز سے تیز کرتا جا رہا ہوتا۔

    پھر چند ماہ بعد کیا ہوتا ہے کہ بچہ پیراں بھار بیٹھا ہوا جب اٹھنے لگتا تو اس سے اٹھا ہی نہیں جاتا۔ پیچھے گر جاتا۔ یا اٹھے بھی تو گھنٹوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھتا ہے۔ اور دن بدن ٹانگیں کمزور ہوتی جاتیں۔ بظاہر تو ٹانگیں ٹھیک ہونگی مگر اندر موجود مسلز کمزور ہو کر بڑی تیزی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔ کیونکہ والدین کو تو پتا ہی نہیں بچے کے اندر کونسی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اور دشمن اپنے وار معصوم پر دن رات کیے جا رہا۔

    اس گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے سے بیماری کی شناخت شروع ہوتی ہے۔ اسے گاور سائن کہتے ہیں۔ والدین اب جا کے بچے کو سیریس لیتے ہیں۔ بچے کی عمر 7 سے 8 سال ہو چکی ہوتی۔ یعنی 2 سے 3 سال مسلسل قاتل اپنا کام کرتا رہا اور والدین کو خبر ہی نہ ہوئی۔ اب کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ پہچان لیتا کہ یہ تو مسکولر ڈسٹرافی ہے۔ اکثریت آبادی کی رسائی ماہر ڈاکٹروں تک نہیں ہو پاتی وہ کسی عطائی، مالشیے ہڈی جوڑ والے جراح کے پاس جاتے جو اپنے ٹوٹکے لگا کر قاتل کو اپنا شکار نگلنے میں اور وقت فراہم کر دیتے۔ جب تک بیماری کی مکمل تشخیص ہوتی بچہ موت کے منہ میں پہنچ چکا ہوتا۔

    بیٹھ کر اٹھنا مشکل ہوا۔ پھر سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہوا۔ اب کندھوں کے جوڑ کمزور ہونا شروع ہوئے۔ اور بازوؤں کے اوپری حصے کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ 10 سال کی عمر تک بازو کو کندھے سے حرکت دینا بہت مشکل اور کئی کیسز میں بلکل ناممکن ہوجاتا ہے۔ ٹانگیں اور بازو مکمل یا 90 فیصد مفلوج ہو چکے ہوتے۔

    بچہ اب پانی نہیں پی سکتا۔ روٹی کا نوالہ نہیں توڑ سکتا۔ کنگھی نہیں کر سکتا۔ قمیض پہنتے ہوئے ہاتھ اوپر نہیں اٹھتا۔ یہ کمزوری دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ اور کچھ بچوں میں دل کے پٹھے بھی کمزور ہونا شروع ہوتے ہیں۔ قاتل اب خون پمپ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی طرف اپنا وار کرتا ہے۔ اسے ہم کارڈیو مایو پیتھی کہتے ہیں۔ یہ اگر ہو جائے تو بچے کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    یہ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار بچے 10 سال تک کسی طرح چل لیتے ہیں۔ پھر وہیل چیئر یا چار پائی پر آجاتے ہیں۔ اور دوبارہ کبھی بھی کھڑے نہیں ہو سکتے یا چل نہیں سکتے۔ یا کسی سہارے سے چلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    خطرناک صورت حال کب بنتی ہے؟ بیماری نے حملہ کر دیا ہوا۔ اور بچے کو بخار ہوگیا۔ ابھی بیماری کا آغاز ہے اور بچے کو والدین لٹائے رکھتے ہیں۔ ساکت پڑے ہوئے بچے پر قاتل اپنا حملہ بہت تیز کر دیتا ہے اور مسلز بڑی تیزی سے ضائع ہونے لگتے۔ ان بچوں کو بخار میں ہر وقت کبھی بھی لیٹنے نہ دیں۔ پیراسیٹامول دے کر بچوں کو تھوڑا تھوڑا چلائیں۔ ایک دفعہ مسلز ضائع ہونے ٹوٹنے شروع ہوگئے آپ ان کو پھر روک نہیں سکتے۔ کمان سے تیر نکل جائے گا۔

    نیم حکیم یا عطائی یا ہمارے گھر کے ہی بڑھے بوڑھے سیانے کہتے ہیں کہ بچے کو ورزش کروائیں۔ اس سے پٹھوں میں جان آئے گی۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے جو والدین کرتے اور پٹھے جو پہلے ہی کمزور ہورہے ہوتے وہ تباہ ہوجاتے۔ اتنی ورزش کریں کہ جوڑ جڑ نہ جائیں۔ ان میں تھوڑی حرکت رہے اور کوئی بھی چیز اٹھائے بغیر باڈی ویٹ پر ہی معمولی ورزش کریں۔ بچے کو تھکنا نہیں چاہیے۔ ان بیماری میں بچوں کے پٹھے کاغذ کی طرح ہو چکے ہوتے وہ بڑی جلدی ٹوٹ جاتے ہیں۔

    ایک اور بلنڈر والدین یا ماجھے و نورے قسم پریکٹشنر ان بچوں کے ساتھ کیا مارتے ہیں۔ وہ یہ کہ بچہ جب ایڑھی اٹھاتا ہے تو وہ کسی عطائی، ہڈی جوڑ یا نئے نئے بنے آرتھوپیڈک یا جنرل سرجن کے پاس چلے جاتے۔ وہ اس کی وجہ سے بے خبر ایڑھی کو زمین پر لگانے کی کوشش کرتا۔ نہیں لگتی تو کئی ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی بچوں کے پاؤں کے آپریشن ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ اب اس بچے کا آپریشن کرنے والے عطائی یا سرٹیفائیڈ ڈاکٹر کا میرا بس چلے تو مرڈر کر دوں۔ والدین کو تو پتا ہی نہیں آپ لوگ ہی عقل کر لیا کریں۔ نہیں پتا کسی سے پوچھ ہی لو۔

    ایڑھی اٹھتی پتا کیوں ہے؟

    ٹانگوں، کولہوں اور کمر کے پٹھے سکڑ رہے ہوتے۔ اب جسم اپنے خود کار دفاعی نظام کے تحت ان پٹھوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے خود بخود پاؤں کی ایڑھی اٹھا کر ان پٹھوں کو Compensate کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ کہ والدین اس بچے کو بچا لیں۔ اس کی ٹانگوں کے پٹھوں کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔ جب کسی بھی طرح ایڑھی زمین پر لگا دی جاتی تو پٹھے ٹوٹ کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہوجاتے۔

    پیٹ باہر نکل رہا ہوتا تو بیلٹ کبھی نہ لگائیں۔ اس سے پیرا سپائنل مسلز کمزور ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    ہم قاتل کے وار سے بچ کیسے سکتے ہیں؟

    اسکا پوری دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ جو اسے بلکل ختم کر سکے۔ ہاں سٹیم سیل تھراپی شاید چند سالوں بعد اسکے علاج میں مددگار ہو مگر ابھی آج کے دن تک کوئی علاج نہیں ہے۔

    پاکستان میں ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار اکثریت بچے دیر سے تشخیص ہونے کے باعث ٹین ایج (13 سے 19) میں ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ اگر شروع سے پتا چل جائے اور کوالٹی آف لائف بہتر کر دی جائے۔تو بچوں کی زندگی 30 سے 40 اور بہت کم کیسز میں 50 تک بھی جا سکتی ہے۔ ہمیں ان بچوں کے لیے ان کے لائف سٹائل اور اوور آل ماحول و سپورٹ سسٹم کو بدلنا ہوتا ہے۔ ان کو اٹھا کر چلانا نہیں ہوتا بلکہ وہیل چیئر پر ہی ان کو زندگی کا کوئی مقصد دینا ہوتا ہے۔ جو مقصد انکی عمر بڑھا دیتا ہے۔

    ایک بات میری یاد رکھیں کہ ہم اپنی بھی اور ان مسکولر ڈسٹرافی والے بچوں کی کوالٹی آف لائف تو بہتر کر سکتے ہیں مگر کوانٹٹی آف لائف نہیں بڑھا سکتے۔ یہ ایک موٹا پرنسپل یاد رکھیں۔

    مالش بلکل نہیں کرنی۔

    کوئی بریس کوئی سپیشل جوتا نہ پہنائیں۔

    کوئی سرجری نہیں کروانی۔

    بچوں کو بیکری کی تمام اشیاء، چاول، کولڈ ڈرنکس، مصنوعی جوسز، بلکل نہیں دینے۔

    بچوں کو بلکل بھی موٹا نہیں ہونے دینا۔

    جیسا ہی بچہ موٹا ہوا سمجھیں وہ زندگی سے گیا۔

    ان کو سکول بھیجنا ہے مگر جب تک آسانی سے جا سکیں۔

    پڑھائی اور امتحانوں کا سٹریس نہیں دینا۔

    خوش رکھنا ہے۔ ڈپریشن میں نہیں جانے دینا۔

    بہت زیادہ ڈاکٹر نہیں بدلنے۔ اس کی کوئی دوا نہیں ہے بس لائف سٹائل بدلنا ہوتا۔

    جتنی بار نئے نئے ڈاکٹروں کے پاس جائیں گے بچے میں سٹریس بڑھے گی کہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

    اس معذوری کو ڈے ون سے قبول کریں۔ اور بچے کو بھی اچھی طرح سمجھائیں کہ آپکی زندگی اب وہیل چیئر کے ساتھ گزرنی ہے۔

    چلنے کا خواب معصوم آنکھوں کو نہ دیں جو پورا ہی نہیں ہونا۔ ادھورے یا پورے نہ ہو سکنے والے جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے خواب اکثر ہمیں بڑوں کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔یہ تو پھر معصوم بچے ہوتے۔

    خود نہیں افورڈ کر سکتے کسی سے درخواست کرکے زیور مال مویشی بیچ کر ان بچوں کو بجلی سے چلنے والی جاپانی پاور وہیل چیئر لے کر دیں۔ جو پانچ دس سال نکال بھی جائے۔

    بچوں کو وہ وہیل چیئر آپریٹ کرنا سکھائیں۔ اپنے گھر کا لیول باہر گلی یا سڑک کے لیول سے بس 6 انچ یا 1 فٹ اونچا رکھیں۔ اور ریمپ بنائیں۔ جب جی چاہے بچہ باہر جائے گھر آئے۔ اسے ایک کمرے گھر یا چارپائی پر محدود نہ کریں۔

    کوشش کریں مسجد، مندر، چرچ، امام بارگاہ، گر دوارہ میں ریمپ بنوائیں۔ بچے کی وہیل چیئر کو مسجد میں بغیر کسی کے دھکا لگائے رسائی دیں۔ وضو کی جگہ سپیشل بنائیں کہ یہ بچہ مسجد میں وہیل چیئر پر بیٹھا ہی وضو کر سکے۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا ہی مسجد کے اندر چلا جائے۔ عبادت کرے اور کوئی اسے روکنے والا نہ ہو۔

    خدا سے تعلق جتنا مضبوط ہوگا۔ زندگی میں کچھ کر گزرنے کی لگن اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور روحانی طاقتیں بھی کوالٹی آف لائف کو بہتر کر دیں گی۔

    ان بچوں کو بولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یوٹیوب چینل بنا سکتے ہیں۔

    وائس اوور آرٹسٹ بن سکتے ہیں۔

    نیوز کاسٹر بن سکتے ہیں۔

    وی لاگنگ کر سکتے ہیں۔

    ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی عام روٹین سے کافی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    ہر بار جب یہ ران کے پٹھوں پر زور دے کر اٹھتے ہیں۔۔تو وہ پٹھے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور اٹھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کے بیٹھنے کی جگہ ہی اونچی کر دیں۔ اٹھتے وقت بلکل زور نہ لگے۔

    شادی کی طرف نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بیماری کی شدت دیکھ کر شادی کا فیصلہ کیا بھی جا سکتا ہے۔

    ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کی میڈیکل تشخیص کے لیے سب سے کامن و عام ٹیسٹ ہے۔ cpk ۔ یہ ایک بلڈ ٹیسٹ ہے۔ جو کی مقدار ایورج سے ہزاروں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ نارمل سی پی کے 150 کی رینج میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ EMG ہو سکتا ہے۔ مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔

    بی۔ بیکر مسکولر ڈسٹرافی

    Becker’s Muscular Dystrophy

    ڈوشین 4 سے 5 سال میں ظاہر ہوتی۔ جبکہ بیکر 15 سے 19 سال تک ظاہر ہوتی ہے۔ ابتدائی علامتیں ڈوشین جیسی ہی ہونگی۔ اکثر بچوں میں ڈوشین کی طرح ایڑھی نہیں بھی اٹھتی۔ مگر پیٹ اور سینہ باہر کو نکلنے لگتا ہے۔ بیٹھ کر اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ چلتے چلتے گر سکتا ہے۔ یا سٹیبل نہیں رہتا لڑ کھڑانے لگتا ہے۔ ٹانگوں میں جان نہیں رہتی۔

    بی والی تصویر زرا دیکھیں۔ کندھے اور ہاتھ کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ بازو اوپر نہیں اٹھتے۔ علامتیں ڈوشین والی ہی ہیں مگر عمر کا فرق ہے۔ اس میں قاتل 4 سال میں جاگا اور یہاں 15 سے 19 سال تک چھپا رہا۔

    بیماری کے آغاز میں تشخیص ہو جائے تو یہ بچہ اگلے دس سال تک چل سکتا ہے۔ کہ اسے سپورٹ دی جائے۔ یہ چیز بھی ختم نہیں ہونی۔ بس ہم نے مریض کی کوالٹی آف لائف ہو بہتر کرنا اور لائف سٹائل کو مکمل بدلنا ہے۔ 30 سے 32 سال کی عمر تک ہر قسم کی سپورٹ کے باوجود یہ بچے بھی بلا آخر وہیل چیئر پر آجاتے ہیں۔

    ان بچوں کے لیے بھی وہ سب احتیاطی تدابیر اور لائف سٹائل میں تبدیلیاں ہیں جو اوپر ڈوشین میں لکھی ہیں۔ موٹے نہ ہوں۔ بہت ورزش نہ کریں۔ خود کو تکلیف دے کر چلیں نہیں۔ علاج کے پیچھے شہر شہر بستی بستی ناں بھاگیں۔ بریس، بیلٹ نہ لگائیں۔ سرجری نہ کروائیں۔ ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    الیکٹرک ٹرائی سائیکل لیں جس پر جہاں مرضی جائیں۔ 150 ہزار کی اچھی الیکٹرک ٹرائی سائیکل آجاتی جو ڈوشین اور بیکر دونوں کے لیے بہترین ہے۔

    تین پہیوں والی موٹر سائیکل ان کے لیے نہیں ہے۔ اس سے گر سکتے ہیں۔ وہ پولیو والے افراد کے لیے ٹھیک ہے۔ ان کا اوپری دھڑ بڑا مضبوط ہوتا ہے۔ جبکہ ان کا اوپری دھڑ بہت کمزور ہوتا۔ ہینڈل نہیں سنبھال سکتے۔

    اس میں ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ کروانے پر سی پی کے cpk زیادہ نہ ہو۔ اس میں صرف ای ایم جی کروا کے یا کلینکل کو رلیشن کرکے معلوم کر سکتے ہیں۔ یا مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔ تشخیص کے بعد لائف سٹائل کو بدلنا ہے علاج پر وقت ضائع نہیں کرنا۔ میں بار بار یہ کہہ رہا ہوں۔

    سی۔ لمب گرڈل مسکولر ڈسٹرافی
    Limb Girdle Muscular Dystrophy

    اچھا یہ والی قسم ایسی ہے جو 2 سال سے لیکر 40 سال تک کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ علامات سب وہی ہونگی۔ اس میں جو مسلز کمزور ہونگے وہ
    hip and shoulder areas (limb-girdle area)
    پر ہونگے۔ علامات وہی ہونگی۔ احتیاط بھی سب وہی ہے۔

    مگر اس قسم میں بیماری کا حملہ 40 سال کی عمر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے قاتل بلکل خاموش سویا ہوا ہے۔ آپ بڑی آئیڈیل و صحت مند زندگی جی رہے ہیں۔

    ڈی۔ فیشیو سکیپولو ہیومرل ڈسٹرافی

    facioscapulohumeral muscular dystrophy

    یعنی چہرہ کندھا دونوں اس میں متاثر ہوتے ہیں۔ ڈی والی فوٹو دیکھیں۔ اس میں چہرے کی ساخت یا سائز ایک یا دونوں سائیڈوں سے سکڑ جاتا ہے۔ کندھے اور بازو بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ بیماری کی قسم 20 سال سے لیکر 50 سال تک کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے۔۔عموما چالیس کے بعد اس کا ایج آف آن سیٹ دیکھا گیا ہے۔
    اس میں عموماً ٹانگیں بہت کم انوالو ہوتی ہیں۔

    جس مرضی عمر میں سویا ہوا قاتل جاگ جائے احتیاط و لائف سٹائل سب وہی ہیں جو اوپر آپ پڑھ کے آئے۔

    ای۔ ڈسٹل مسکولر ڈسٹرافی

    Distal Muscular Dystrophy

    یہ بیماری بھی عمر کے کسی حصے میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ عموماً یہ 40 سے 60 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں آپ فوٹو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ڈسٹل پارٹس آف باڈی۔ یعنی سنٹر سے دور دراز کے علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ بازوں کے کہنیوں سے نچلے حصے اور ٹانگوں کے گھٹنے سے نچلے حصے۔

    اس میں بھی علامات اور باقی سب باتیں وہی ہونگی جو ڈوشین میں ہیں۔

    ایف۔ اکولو فرینجئیل مسکولر ڈسٹرافی

    Oculopharyngeal Muscular Dystrophy

    یہ بھی مسکولر ڈسٹرافی کی ایک رئیر فارم ہے۔ جو عموماً 40 سے 60 سال کی عمر میں اس سے متاثرہ مردوں و عورتوں دونوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس میں آنکھوں اور گلے کے مسلز کمزور ہونا شروع ہوتے۔ اور آنکھوں کی شیپ بدل دیتے۔ ہمارے بھنویں نیچے لٹک جاتے ہیں۔ اور گے کی اسکن بھی ڈی سیپ ہو جاتی ہے۔ اس مریض کو دیکھنے و کھانے میں مسئلہ پیش آتا ہے۔ کوئی سچ ایز علاج نہیں ہے۔ بس لائف سٹائل بدلنا ہے۔

    اب ساری کہانی کا کرکس نکالوں تو دو باتیں کہوں گا۔

    1. لانگ لائف ری ہیبلی ٹیشن پراسس ہوگا۔ اسے لائف ٹائم بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کوئی ایک ہی اچھا ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ چن لیں۔ جس سے آن لائن ہی رابطے میں رہیں۔ اور زندگی گزرنے کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے اس سے راہنمائی لیتے رہیں۔ ایڈوانس ممالک میں ایسے بچوں کے ساتھ کام کرنے والے ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ سالانہ فیس لیتے ہیں۔ اور فون کال پر دستیاب ہوتے ہیں۔ میں خود پرائیویٹلی یہ سروس فراہم کرتا ہوں۔

    ابھی میرے پاس دو بچے ہیں جن کے والدین کو میں بڑی جد و جہد کے بعد علاج کی نفسیات سے نکال کر ری ہیبلی ٹیشن میں لا چکا ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ان بچوں کا ڈائٹ پلان، تعلقات، تعلیم، جاب، لائف سٹائل، زندگی کے بڑے فیصلے سب کچھ ماہرین کی سپر ویژن میں ہوتا ہے۔

    آپ ایک دو بار مجھ سے فون پر بات کر سکتے ہیں۔
    مجھے مل کر مشورہ کر سکتے ہیں۔ یہ سروس ساری عمر ساتھ چلنے والی کنڈیشنز مسکولر ڈسٹرافی، سیری برل پالسی اور ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لیے بلکل فری یے۔

    اور یہاں کیا ہوتا؟ جیڑھی رات قبر ویچ اے او باہر نئیں

    جنھے لایا گلیں میں اوہندے نال چلی

    جیہڑا رب بیماری لا سکدا اے او کٹ وی تے سکدا اے ( اور اسی لاحاصل امید کے چکر میں علاج کے پیچھے شہر شہر جا جا کر بچے کی باقی ماندہ صلاحیتوں پر اچھے بھلے سمجھدار والدین پانی پھیر دیتے ہیں)

    2. ان بچوں کے لیے گھر میں سکول کالج مسجد آفس ہر جگہ بدلاؤ کرنے ہیں۔ انہیں بے مقصد زندگی نہیں گزارنے دینی۔ جہاں بھی بچے کے ساتھ مسکولر ڈسٹرافی جڑ جائے۔ اس کے والدین نہیں کر سکتے تو کمیونٹی کے دیگر افراد مل کر اس بچے کی رسائی ہر ممکن جگہ تک یقینی بنائیں۔ پارک میں اس کی رسائی کے لیے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی پارک و گراؤنڈز کی راہداری اور گیٹ کھلا کرنے کا قانون طور پر پابند ہے۔ تمام بنک ریمپ بنانے کے پابند ہیں۔ مگر جیسے ریمپ بنکوں میں بنے ہوتے وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ خانہ پری ہوتی یے وہ بس۔ پلازوں میں دفاتر میں ریمپس بنائے جائیں اور ان لوگوں کو وہیل چیئر سمیت ہر جگہ رسائی ملے۔

  • کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے آج پوری دنیا میں کرکٹ فِیور وائرس عام ہے۔

    آج کل جو گلیمر والا کرکٹ ہم دیکھ رہے ہیں اس کے باوِ آدم آسٹریلیا کے مشہور بزنس شوگان(Tycoon) مسٹر کیری پیکر ہیں۔ اپنے یہاں کچھ لوگ انہیں لوڈ کیریر بھرتی والا کہتے ہیں۔ کچھ کیریر پیکر کہتے ہیں، لیکن کچھ صاحب علم کرکٹ کھلاڑی ہی انہیں کیری پیکر کہتے ہیں۔

    کرکٹ کی پہلی واردات انگلینڈ میں ڈالی گئی تھی جب ہر چیز سفید پوش ہوا کرتی تھی؛ کپڑے سفید تھے، کھلاڑی سفید تھے، ٹی وی سیاہ اور سپید تھا، صرف بال براؤن کلر کے تھے۔ اس وقت کرکٹ کی وہ شکل نہیں تھی جو آج ہے۔ ان ایام میں ہر کھلاڑی کفن بر دوش تھا۔

    اس سے قبل کرکٹ میں، صرف ٹیسٹ میچ پہلے 6 دن (ایک دن آرام) کے دورانیے کے ساتھ کھیلے جاتے تھے۔ اوور 8 بالوں کا ہوا کرتا تھا۔ پھر ٹیسٹ 5 روزہ اور 6 گیندوں والے اوور کا ہو گیا۔

    1971 میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا تیسرا ٹیسٹ میچ تین دن تک بارش پر قربان ہو گیا تھا اور منتظمین شائقین کی مایوسی اور پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہونے کے بعد ان کے مالی نقصان سے بہت پریشان تھے۔

    5 جنوری 1971 کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب روایتی پانچ روزہ ٹیسٹ کرکٹ کا اختتام 50 اوورز کی ون ڈے کرکٹ پر ہوا۔

    اس نئے رنگین ODI کرکٹ میچ کے نگران رنگین مزاج کیری پیکر تھے، جن کا مختصر نام کیری پیکر اور پورا نام "Packer Kerry Francis Bullmore” تھا۔ وہ دسمبر 1937 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیدا ہوئے۔

    جب ان کے والد، سر فرینک پیکر کا 1972 میں انتقال ہو گیا، تو انہوں نے ایک کروڑوں کی مضبوط کاروباری ایمپائر سے بطور وراثت چھوڑ دی جسے کیری پیکر نے سنبھالا۔ اس "معمولی ترکہ” میں صرف آسٹریلیا کے 9 ٹیلی ویژن نیٹ ورک تھے۔ گویا میڈیا پر ان کی گرفت کافی مضبوط تھی اور میڈیا ان کی کنیز تھا۔

    1977 میں، کیری پیکر نے کرکٹ کے حلقوں میں ادھم مچا دی جب، آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ساتھ میچوں کو نشر کرنے کے حقوق پر تنازعہ کے بعد، اس نے ورلڈ سیریز کرکٹ کا آغاز کیا، جسے کیری پیکر کرکٹ سیریز یا کیری پیکر کرکٹ سرکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے بہترین کرکٹرز کو بھاری معاوضوں پر کام پر لگا دیا۔

    کیری پیکر کے ساتھ بندر بانٹ کرنے والوں میں ویوین رچرڈز، ڈینس للی، مائیکل ہولڈنگ، ٹونی گریگ، بیری رچرڈز، ظہیر عباس، ماجد خان اور عمران خان سمیت دنیا کے چند بہترین کھلاڑی شامل تھے۔

    کیری پیکر نے ون ڈے کرکٹ کو منظم کرکے ایک نئے نویلے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور پہلی بار کھلاڑیوں نے رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کئے۔ ڈے اینڈ نائٹ کرکٹ کا آغاز بھی کیری پیکر نے کیا، اس طرح کرکٹ کی تاریخ بدل گئی۔

    دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے کیری پیکر کے خلاف خیالی محاذ بنا لیا اور اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ سیریز کھیلنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کھلاڑیوں کی "کفاف” میں اضافہ کرکے کرکٹ بورڈز کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

    بعد ازاں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کیری پیکر سے مفاہمت کی لیکن اس دوران انہوں نے کرکٹ کو جو رنگ دیا وہ اب بھی موجیں مارتا ہے اور یہ مزید نکھر گیا ہے۔

    کرکٹ کا ایک نیا انداز جو برطانیہ میں 2003 میں متعارف کرایا گیا تھا، ٹی 20 تھا۔ اس نئے طرز کی کرکٹ میں دونوں ٹیمیں 20 اوورز کی اننگز کھیلتی ہیں۔ اب پانچ پانچ دن فاقے اور مزدوری نہیں کرنا پڑتی ہے۔

    پہلا T20 کرکٹ ورلڈ کپ 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا تھا جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی تھی۔
    آج اس کلرفل کرکٹ کو دیکھنے والوں کو شاید کیری پیکر یاد نہ ہوں لیکن کیری پیکر اس جدید کرکٹ کے بانی ہیں۔

    17 دسمبر کو پیدا ہونے والے کیری پیکر کا انتقال 26 دسمبر 2005 کو گردوں کی خرابی سے ہوا۔

  • یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    پیدائش:28 نومبر 1928ء
    فیروزپور، صوبہ پنجاب
    برطانوی ہندوستان
    وفات:4 فروری 2017ء
    لاہور، پنجاب، پاکستان
    آخری آرام گا:قبرستان E بلاک
    ماڈل ٹاؤن، لاہور
    قلمی نام:بانو قدسیہ
    تعلیم:ایم اے (اردو)
    اصناف:افسانہ نگاری، فلسفہ، تصوف
    موضوع:ادب، فلسفہ
    نفسیات، اشتراکیت
    ادبی تحریک:صوفی ادب
    شریک حیات:اشفاق احمد
    اولاد:انیق احمد، انیس احمد، اثیر احمد

    بانو قدسیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو اور پنجابی زبان کی مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس جو اپنے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے خاصی مشہور ہوئیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 28 نومبر، 1928ء کو فیروزپور، برطانوی ہندوستان میں زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد چوہدری بدرالزماں چٹھہ زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا جبکہ ابھی بانو قدسیہ محض ساڑھے تین برس کی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔ لاہور آنے سے پہلے وہ وہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ (Chattha) بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    وہ اپنے کالج کے میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول راجہ گدھ ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1983ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے بانو قدسیہ کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2010ء میں دوبارہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 2012ء میں کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2016ء میں اُنہیں اعزازِ حیات (Lifetime Achievement Award) سے نوازا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 26 جنوری 2017ء کو بعارضہ ضیق النفس لاہور کے اتفاق ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیر علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ 88 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اُن کی عمر 88 سال 2 ماہ 7 دن شمسی تھی۔ اُن کی نماز جنازہ 5 فروری 2017ء کو بلاک، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں دوپہر 03:30 بجے اداء کی گئی جبکہ تدفین G بلاک قبرستان ماڈل ٹاؤن، لاہور میں کی گئی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آتش زیر پا
    ۔ (2)آدھی بات
    ۔ (3)ایک دن
    ۔ (4)امر بیل
    ۔ (5)آسے پاسے
    ۔ (6)بازگشت
    ۔ (7)چہار چمن
    ۔ (8)چھوٹا شہر، بڑے لوگ
    ۔ (9)دست بستہ
    ۔ (10)دوسرا دروازہ
    ۔ (11)دوسرا قدم
    ۔ (12)فٹ پاتھ کی گھاس
    ۔ (13)حاصل گھاٹ
    ۔ (14)ہوا کے نام
    ۔ (15)ہجرتوں کے درمیان
    ۔ (16)کچھ اور نہیں
    ۔ (17)لگن اپنی اپنی

    افسانہ و ناول نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ کی زندگی پر ایک نظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔
    انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو ان کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر کلاس کو اپنا اپنا ڈراما پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو تیس منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لیے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور بقول ان کے جتنی بھی اُردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ ان کی پہلی کاوش تھی۔ اس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اُردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں اس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔

    اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تاکہ مقابلہ پورا ہو۔ اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا۔ اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک ان کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انھیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔ بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جب کہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انھوں نے بی اے کا امتحان دیا اس وقت 47 کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اس آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔

    اس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لیے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینیٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مطمئن تھیں کہ یہ حصہ پاکستان کے حصے میں آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔ پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انھیں کامیابی ملی تھی۔ 1949 میں انھوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں رائٹرز کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انھوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرین رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔

    اس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔ ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اس کے لیے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہو جاتی تھی۔ ٹی وی کے پہلے ایم ڈی اسلم اظہر نے اشفاق احمد کو ٹی وی کا سب سے پہلا پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام میں انھوں نے ٹیلی ویژن کو متعارف کرایا تھا۔ اشفاق احمد ٹی وی کے پہلے اناؤنسر تھے۔ ان کا ریڈیو پر بہت وسیع تجربہ تھا۔ یہاں ایک اطالوی فلم بنی تھی۔ اس کے بھی اشفاق احمد مترجم تھے۔

    ٹی وی پر سب سے پہلا ڈراما ’’تقریب امتحان‘‘ ان ہی کا ہوا تھا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف و صورت کے اپنے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جب کہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر انھوں نے 1965 تک لکھا پھر ٹی وی نے انھیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لیے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کیے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترقہ کاوش سے ان کا گھر تعمیر ہوا۔ لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ ان دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اُبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ ان دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہو گئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اُتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981 میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔

    موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ ان کے لیے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔ یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لیے محض اسی لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔ انگنت، ڈراموں، افسانوں اور شاہکار ناول کی مصنفہ بانو قدسیہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تاریخ ولادت:28 نومبر 1949ء
    تاریخ وفات:17 اپریل 2010ء

    نورجہاں ثروت کی پیدائش دہلی میں 28 نومبر 1949ء کو ہوئی۔ ان کی پرورش ان کی نانی کے سائے میں ہوئی۔ جب انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا تو شعبۂ اردو کے صدر مشہور شاعر جاوید وششٹ تھے‘ تو ثروت کو بھی شعر کہنے کا شوق پیدا ہوگیا۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز 1970ء میں اردو کے مشہور رسالے ’سیکولر ڈیموکریسی‘ سے ہوا۔ وہ واحد خاتون ہیں جنھیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔
    نور جہاں ثروت کا انتقالِ 17 اپریل 2010ء کو دہلی میں ہوا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے
    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے
    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے
    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے
    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے
    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے
    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا
    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا
    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا
    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا
    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں
    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں
    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں
    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں
    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • یگیشے چارینتس ،معروف آرمینیائی شاعر

    یگیشے چارینتس ،معروف آرمینیائی شاعر

    پیدائش:13 مارچ 1897ء
    قارص
    وفات:27 نومبر 1937ء
    یریوان
    طرز وفات:قتل، سزائے موت
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    زبان:آرمینیائی زبان

    یگیشے چارینتس سوویت آرمینیا کے عظیم شاعر، مصنف اور عوامی کارکن تھے۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یگیشے چارینتس صوبہ قارص، آرمینیا، روسی سلطنت میں 13 مارچ 1897ء کو قالین کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ عظیم شاعر، خانہ جنگی کے سرگرم شریک، سوویت آرمینیا میں شوشلزم کی فتح کے مغنی یگیشے چارینتس یادگار نظموں اور منظم داستانوں دانتوں کا افسانہ، ایتلا، سوما، جنونی ہجوم، عوام کا گیت، بریوسوف کے استادانہ ترجمے کی ساری نظمیں، پیرس کے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار، باکو کے 26 کمیساروں کی داستان، گھنگھریالے بالوں والا لڑکا وغیرہ کی حیثیت سے لازوال شہرت کے حامل ہیں۔

    انقلاب کے بانی لینن سے چارینتس نے اپنی نظمیں چچا لینن، لینن اور علی،ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی فل بوٹ کی داستان معنون کیں۔ اپنی نظموں کا لاجواب مجموعہ کتاب راہ مکمل کرنے کے بعد انہیں المناک موت نے آلیا۔ چارینتس کی غنائی اور رزمیہ استعداد مایا کوفسکی کی استعداد کے پیمانے کی ہے۔ اس کا اندازہ خاص طورسے چارینتس کی ان تخلیقات سے ہوتا ہے کہ انھوں نے ولادیمیر ایلیئچ لینن سے معنون کی ہیں۔ فرانس، اٹلی، جرمنی اور ترکی کا سفر کرنے کے بعد چارینتس نے نظموں کا ایک پورا سلسلہ تخلیق کیا جو شعلہ بار پرولتاری بین الاقوامیت پسندی سے مملو ہے۔ ان کے ہیرو ہیں خانہ جنگی کے سورما لیپاریت مخچیان اور جارجیائی نوجوان کمیونسٹ لیگ کے بانی بریس دزینیلادزے اور باکو کے کمسومول کا گمنام ممبر۔
    چارینتس نے اپنی شاعری میں اپنے پورے سوزوگداز کے ساتھ سرمایہ دارانہ ظلم و جبر سے محنت کش عوام کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لازوال و لافانی ہونے کی توثیق کی۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    دانتوں کا افسانہ (16-1915ء)
    ایتلا
    سوما (1918ء)
    جنونی ہجوم
    عوام کا گیت
    پیرس ے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار
    باکو کے 26 کمیساروں کی داستان
    گھنگھریالے بالوں والا لڑکا
    ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی
    فل بوٹ کی داستان
    لینن اور علی
    چچا لینن (1924ء)
    مجموعۂ شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    کتاب راہ (34-1933ء)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    یگیشے چارینتس 40 سال کی عمر میں 27 نومبر 1937ء کو یریوان، آرمینیا کی جیل اسپتال میں کر گئے۔

  • مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    یوم پیدائش 19 جنوری 1873
    یوم وفات 27؍نومبر 1956

    اردو کے ممتاز صحافی، ادیب، شاعر اور مصنف مولانا ظفر علی خان 19؍جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Departmentt) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو” جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔
    1908ء میں لاہور گئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام” کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔
    ظفر علی خان نے 08؍جولائی 1935ء کو شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔
    مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:
    معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت، جنگ روس و جاپان۔
    مولانا ظفر علی خان نے 27؍نومبر 1956ء کو وزیرآباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ محمد عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔

    مولانا ظفر علی خان کی شاعری سے انتخاب

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
    نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی

    قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
    تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن

    کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
    تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا

    نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
    فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا

    آپ کہتے ہیں پرایوں نے کیا ہم کو تباہ
    بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو

    نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
    جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

    پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
    کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا

    سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا

    دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

    اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
    صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب

    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

    ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند
    ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

    سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام
    میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

    زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
    مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا

  • کوونٹرے پیٹ مور،معروف انگریز شاعر اور نقاد

    کوونٹرے پیٹ مور،معروف انگریز شاعر اور نقاد

    پیدائش:23 جولائی 1823ء
    وفات:26 نومبر 1896ء

    کوونٹرے پیٹ مور مشہور نظم ”The Angel in the House“ کا شاعر جو ایک انگریز تھا ۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی ایام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کوونٹرے نے اپنی ابتدائی تعلیم گھریلو ماحول میں ہی حاصل کی۔ اس کی تعلیم میں اس کے باپ کے بھی بہت سے اثرات تھے۔ اس کی مصورانہ صلاحیتوں کی بنا پر اسے Silver Pallet کا انعام 1838 میں سوسائٹی آف آرٹ کی طرف سے دیا گیا ۔ سولہ سال کی عمر میں اسے فرانس کے اسکول میں بھیجا گیا جہاں اس نے پہلی نظم لکھی۔1944 میں اس کی نظموں کا ایک مجموعہ شائع ہوا۔
    وہ ایک سادہ طبعیت انسان تھا جس کی عمر برٹش میوزیم لائبریری لندن میں ایک ذمے دار عہدے پر ملازمت کرتے گزری۔ یہ ملازمت اس نے انیس سال کی عمر میں 1846 میں حاصل کی ۔
    1847ء میں اس کی شادی ایملی آگسٹا نامی خاتون سے ہوئی جن سے اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ پہلی بیوی کا انتقال 1862 میں ہوا جس کے بعد اس نے 1865 میں دوسری شادی کی۔ دوسری بیوی کی وفات 1880 میں ہوئی جس کے بعد اس نے 1881 میں تیسری شادی کی ۔

    نمایاں کام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس کا شمار اپنے عہد کے اچھے لکھنے والوں میں ہوتا تھا۔ وہ نہ صرف ایک شاعر بلکہ ایک اچھا ادیب بھی تھا جس کے مضامین اس زمانے کے معیاری رسائل میں اکثر و بیشتر شائع ہوا کرتے اور ادبی حلقوں میں وقعت کی نگاہ سے دیکھتے جاتے تھے۔ مقالے اور مضامین کے علاوہ اس نے بہت سے ناول لکھے اور کئی شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ اس کی تمام تخلیقات میں اخلاقی اور مذہبی عنصر خاص طور پر نمایاں ہے ۔ کووینٹرے کی بعض تخلیقات درج ذیل ہيں :

    ۔ (1)Tamerton Church
    ۔ (2)The Angel in the House
    ۔ (3)The Betrothed
    ۔ (4)The Espousals
    ۔ (5)Faithful For Ever
    ۔ (6)The Victories of Love
    ۔ (7)How I managed my Estate
    ۔ (8)The Unknown Eros
    ۔ (9)Amelia
    ۔ (10)English Metrical Law
    ۔ (11)Principle in Art
    ۔ (12)Religio poetae
    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ذیل میں پیٹ مور کی مشہور نظم ‘Toys’ کا ترجمہ دیا جا رہا ہے۔ جسے اصل نظم کے مشابہ پیش کیا گیا ہے ۔

    کھلونے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سات سالہ مرا فرزند، مرا لختِ جگر طفل وہ بے مادر ، لیکن اُس نے میری تنبیہ کے باوصف پھر آج ساتویں مرتبہ عمداً مرا توڑا قانون کھولنے ہی تو لگا میرا خون تھا مرے پاس نہ کچھ اس کے سوا کوئی علاج سخت لہجے میں بری طرح سے اس کو ڈانٹا اور اک منہ پہ لگایا چانٹا اور اُس رات خلافِ معمول دمِ رخصت نہ دعا دی نہ اسے پیار کیا ۔ بھرے آنکھوں میں تھا موتی وہ مرا دُر یتیم سامنے میرے کھڑا لیے ڈوبے ہوئے شبنم میں وہ نرگس کے دو پھول صاحب ِ وضع، میں پابندِ اصول کر سکا اپنے رویے میں نہ کوئی ترمیم خواب گاہ کی طرف اپنی میں مڑا، وہ اپنی کچھ زیادہ ہی تھی اس رات فضا میں سردی کروٹیں بدلا کیا، نیند نہ آئی مجھ کو آخرش جی میں یہ آئی کہ ذرا دیکھوں تو کہ ہے کس حال میں میرا دل بند جھانک کر میں نے جو دیکھا اندر ، سو رہا تھا وہ مرا نورِ نظر ایک خوابیدہ کلی کی مانند پاس اک میز پہ کچھ اس کے کھلونے تھے سجے سیپیاں، گھونگھے، گھروندے تھے کئی ان کے بنے شیشیاں چند پرانے سکے کئی سنگ، خارا ایک ٹوٹا سا قلم بڑی نُدرت، بڑی فنکاری سے ان سب کو سجایا گیا بھول جانے کو ہر اک اپنا غم دیکھ کر اس کو، مجھے اس پہ بہت آیا پیار میرا معصوم، وہ میرا فنکار مضطرب ہو کے جو کی میں نے دعائے شب ادا دل پگھل کر مرا آنکھوں سے مری بہنے لگا گڑگڑا کر یہ کہا میں نے کہ اے رب رحیم میں بھی اک طفلکِ ناداں ہوں، اے خلاق عظیم کھیلتا میں بھی کھلونوں سے ہوں اکثر یا رب طبعِ طفلانہ سے مجبور ہوں یکسر یا رب روزِ محشر کوئی طفلانہ ادا بھا جائے بے بسی پر مری شاید تجھے رحم آجائے
    (جام بجام ترجمہ : سید شاکر علی جعفری)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری اس کائنات میں کھربوں ستارے ہیں جن میں سے سورج بھی ایک عام سا ستارا ہے۔ جس طرح سورج کے گرد آٹھ سیارے (جن میں زمین بھی شامل ہے)، جو گردش میں ہیں اور ملکر نظامِ شمسی بناتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اربوں ستاروں کے گرد سیارے گھوم رہے ہیں۔ان سیاروں کو Exoplanets کہا جاتا ہے۔ تو ان میں سے کوئی ایسے سیارے بھی ہیں جن پر کسی صورت میں انسان یا انسانوں جیسی مخلوق ہو؟

    نوے کی دہائی تک ہمارے پاس ٹیکناکوجی نہیں تھی کہ ان دور افتادہ Exoplanets کی تصاویر لے سکیں۔

    وجہ یہ کہ ستاروں کے مقابلے میں سیارے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ خود روشنی پیدا نہیں کرتے بلکہ اسے منعکس کرتے ہیں۔

    انہیں ڈھونڈنے کا ایک طریقہ جو سائنسدانوں نے نکالا وہ یہ تھا کہ آپ مسلسل کسی ستارے کی تصاویر لیں اور جب انکے سامنے سے کوئی سیارہ گردش کرتے ہوئے گزرے تو ستارے سے آنے والی روشنی میں ہلکی سی کمی ہو۔ اس معمولی سی کمی کی پیمائش کے لیے مگر بہت ہی حساس دوردبینں اور آلات چاہئیں۔

    تو سائنسدانوں نے آخر کار ایسی دوربینیں اور ایسے طریقے ڈھونڈ نکالے جن سے ہم Exoplanets کو تلاش کر سکیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ان Exoplanets میں سے کوئی ہماری زمین جیسا ہے جہاں زندگی پنپتی ہو۔انسان یا انسانوں سے زیادہ تہذیب یافتہ مخلوق بستی ہو؟

    اسے معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

    جس طرح ہر انسان کی اّنگلیوں کے نشان دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی ہر عنصر، گیس، یا مالیکیول کا ایک فنگر پرنٹ ہوتا ہے۔

    کیسے؟ یوں کہ جب سفید روشنی(مثال کے طور پر سورج کی) کسی بھی ایٹم یا مالیکیول پر پڑتی ہے تو اسکا کچھ حصہ وہ جذب کر لیتا ہے اور کچھ حصہ منعکس۔ یہ اس کا سپیکٹرم کہلاتا ہے۔جس رنگ کی روشنی کو وہ جذب کرتا ہے اور جس رنگ کی روشنی کو منعکس، یہ اُسکا جداگانہ فنگر پرنٹ ہے جس سے اسکی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    اب اگر ہم دور افتادہ کسی Exoplanets کی کسی حساس ٹیلی سکوپ سے تصویریں لیں تو اُسکی فضا سے گزر کر ہم تک پہنچتی روشنی ہمیں اُسکی فضا میں موجود گیسیس، عناصر اور مالیکیولز کا پتہ دے سکتی ہیں۔

    مثال کے طور پر اگر کوئی دور خلاؤں میں سے ہماری زمین کی تصاویر لے تو وہ ہماری فضا سے گزرتی روشنی کو اس طریقے سے جانچ کر یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں آکیسجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، نائٹروجن اور میتھین وغیرہ وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

    علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہم کیا کوئی تہذیب یافتہ مخلوق ہیں کیونکہ کچھ گیسیس قدرتی طور پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مصنوعی طور پر ہی تیار ہوسکتی ہیں۔ کچھ انسانی ترقی یا کھیتی باڑی کے باعث۔

    مثال کے طور پر ایمونیا۔ یا اگر ہم کھیتی باڑی کے لئے مصنوعی کھاد بناتے ہیں تو نائٹرس آکسائڈ۔

    2021 کے آخر میں سائنسدانوں نے James Webb Telescope لانچ کی جو اس وقت سورج کے گرد مدار میں ہے۔

    اس ٹیلیسکوپ سے ہم کئی نوری سال دور مختلف Exoplanets کی فضاؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

    اور شاید یہ جان پائیں کہ کس سیارے پر کھیتی باڑی یا صنعتی ترقی ہو رہی ہے یا ماضی میں وہاں کوئی مخلوق بستی تھی۔