Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ نے اکثر یہ محاورا سنا ہو گا کہ "کامیابی نے اُسکی زندگی میں چار چاند لگا دئے” جسکا مطلب کسی شخص یا شے کی عزت بڑھنا، خوبصورتی میں اضافہ ہونا وغیرہ وغیرہ ہے۔

    تو یہ محاورا حقیقتا نظامِ شمسی کے بونے سیارے پلوٹو پر صادق آتا ہے۔ 1930 میں دریافت ہونے والا سیارہ پلوٹو 2006 تک نظامِ شمسی کا نواں سیارہ کہلااتا تھا ۔ مگر پھر سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ "سیارے” کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا لہذا اب اسے محض "بونا سیارہ” کہا جاتا ہے۔

    گو پلوٹو اب نواں سیارہ نہیں ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پلوٹو بے حد خوبصورت سیارہ ہے۔ سورج سے تقریبا 3.7 ارب کلومیٹر دور یہ ننھا سا سیارہ ایک سرد مگر پراسرار دنیا ہے۔

    پلوٹو کی خوبصورتی کو چار چاند لگے ہوئے ہیں بلکہ پانچ چاند!!

    جی ہاں اب تک پلوٹو کے پانچ چاند دریافت ہو چکے ہیں جو تابعدار بچوں کی طرح پلوٹو کاکہا مانتے ہیں اور اسکے گرد گھومتے ہیں۔

    پلوٹو کا سب سے بڑا چاند ہے Charon ہے یہ پلوٹو سے سائز میں آدھا ہے اور اسے 1978 میں دریافت کیا گیا۔

    اسی طرح 2005 میں ہبل ٹیلی سکوپ نے پلوٹو کے دو ننھے چاند دریافت کیے جنکو سائنس دانوں نے نام دیے Nix اور Hydra.

    پھر 2011 میں ایک اور چھوٹا چاند Kerberos دریافت ہو جو Hydra اور Nix کے درمیان کہیں موجود تھا۔

    پلوٹو کا پانچواں چاند Styx دریافت ہوا 2015 میں جب ناسا کے سائنسدانوں یہ ڈھونڈ رہے تھے کہ پلوٹو کی طرف رواںNew Horizon نامی سپیس کرافٹ جب اسکے قریب سے گزرے گا تو کہیں کسی بڑی شے سے ٹکرا تو نہیں جائےگی۔ یہ پتہ کرتے اُنہیں حادثاتی طور پر پلوٹو کا پانچواں چاند دکھائی دیا۔

    یوں اب تک پلوٹو کے دریافت ہونے والے چاند کل پانچ ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ پلوٹو کے یہ چاند بھی دراصل ماضی بعید میں پلوٹو سے کسی سیارے یا سیارچے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں بنے بالکل ویسے ہی جیسے آج سے 4.5 ارب سال پہلے نئی بنی زمین سے مریخ جتنا بڑا کوئی سیارہ ٹکرایا جس سے ہمارا چاند وجود میں آیا۔

  • سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ۔۔۔!!!

    سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ۔۔۔!!!

    سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    گذشتہ دنوں سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبر گردش کرتے ہی راقم نےسوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی "سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ” جس پر پاکستان تحریک انصاف کے کچھ دوستوں نے جذباتی کمنٹس کیے، حالانکہ یہ میرا ذاتی تجزیہ تھا، کسی کو سیاست کے میدان میں اِن آؤٹ کرنا میرے اختیار میں تو ہر گز نہیں ہے، مگر حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحافت کا ایک ادنیٰ سا طالبعلم ہونے کی حیثیت سے تجزیہ پیش کرنا میرا حق ہے۔
    اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک یاسر اعوان دندہ ایک انتہائی محنتی، مخلص، بہادر اور صاف گو نوجوان سیاسی لیڈر ہیں، نوجوان نسل میں ان کو خاصی پذیرائی حاصل ہے، وہ گزشتہ کئی ماہ سے تلہ گنگ و لاوہ کی سیاست میں بہت ایکٹو رہے، گویا کہ تلہ گنگ و لاوہ میں پی ٹی آئی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے والے عمران خان کے یہی سپاہی تھے، جنہوں نے پاکستان تحریک کے ورکر کا ہاتھ تھاما اور انہیں متحرک کیا، بطورِ ضلعی جنرل سیکرٹری ضلع چکوال تلہ گنگ و لاوہ کی تنظیم سازی میں بھی انہوں نے ایک نمایاں کردار ادا کیا، جس کے بعد وہ اہلیہ کی طبیعت خراب ہونے کے باعث بیرون ملک چلے گئے، جبکہ اس دوران ان کے باقی ساتھیوں نے حالات و واقعات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
    مگر گزشتہ دنوں سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت نے گویا کہ ساری کایا ہی پلٹ دی، ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبر سن کر تحریک انصاف کے ورکر اور کارکنان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، سردار فیض ٹمن ایک انتہائی منجھے ہوئے عوام دوست سیاست دان ہیں وہ سابق ایم این اے بھی رہ چکے ہیں اس کے علاوہ ان کا تلہ گنگ و لاوہ میں ایک وسیع حلقہ احباب، اثر و رسوخ، جان پہچان اور یونین سطح تک تگڑے گروپ موجود ہیں، سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت نے حریف سیاسی جماعتوں کےلیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
    سردار فیض ٹمن کو حلقہ این اے 59 میں قومی اسمبلی کا ٹکٹ ملنے کی صورت میں وہ ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئیں گے اور اگر یہی حالات رہے، تحریک انصاف کی ملک بھر مقبولیت یونہی قائم رہی تو آنے والے الیکشن میں ملک بھر کی طرح حلقہ این اے 59 کی سیٹ بھی سردار فیض ٹمن باآسانی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، وہ الگ بات ہے کہ کیا سردار فیض ٹمن ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے، یا پھر اس بار بھی ق لیگ کیساتھ کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی، اور یوں حلقہ این اے 59 میں تحریک انصاف ایک بار پھر بیک فٹ پہ چلی جائے، مگر اس بار ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیوں تلہ گنگ و لاوہ کی مقامی قیادت پہلے ہی ق لیگ کے رویے سے نالاں ہے اور اعلیٰ قیادت کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے۔
    دوسری جانب سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر پی ٹی آئی تلہ گنگ و لاوہ کی قیادت بھی انتہائی مطمئن اور خوشگوار موڈ میں نظر آئی جس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ سردار فیض ٹمن تمام فریقین کو قابلِ قبول ہیں اور وہ تمام دھڑوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے ٹکٹ لینے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور یوں پی ٹی آئی تلہ گنگ و لاوہ میں بھی ایک منظم انداز میں آگے بڑھ پائے گی، اور آنے والے الیکشن میں این اے 59 میں مسلم لیگ ن کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ ایسے میں پھر یہ کہنے میں کوئی دقت نہیں کہ تلہ گنگ و لاوہ کی سیاست میں سردار فیض ٹمن کی انٹری کے بعد ملک یاسر اعوان دندہ تقریباً آؤٹ ہوچکے ہیں۔

  • سورۃ الفاتحہ کی فضیلت

    سورۃ الفاتحہ کی فضیلت

    سورۃ الفاتحہ کی فضیلت
    تحریر:محمد ریاض ایڈووکیٹ
    قرآن مجید کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے اور اختتام سورۃ الناس پر ہوتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی پہلی سورۃ ہے، جسکی احادیث میں بہت فضلیت آئی ہے۔فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتداء کے ہیں۔اسلئے اسے الفاتحۃُیعنی فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے۔ اسکے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہیں۔ مثلاًام القرآن، اسبع المثانی، القرآن العظیم، اشفاء، الُرقیۃُ(دم)۔ اسکا ایک نام الصلٰوٰۃ بھی ہے۔جیسا ایک حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”میں نے صلاۃ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے۔مراد سورۃ الفاتحہ ہے جسکا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنااور اسکی رحمت اور ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے۔اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے، جو بندہ اپنے اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔اس حدیث میں سورۃ الفاتحہ کو ”نماز“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اسکا پڑھنا بہت ضروری ہے۔چنانچہ نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں اسکی خوب وضاحت کردی گئی ہے۔ جیسا کہ ”اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی۔اک حدیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ نماز کی حالت میں جب بندہ”الحمداللہ رب العالمین“پڑھتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف کی ہے۔جب بندہ ”الرحمن الرحیم“کہتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے، جب بندہ”ملک یوم الدین“ کہتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔سورۃ الفاتحہ مکی سورت ہے یعنی اسکا نزول مکہ مکرمہ میں ہجرت مدینہ سے پہلے ہوا۔سورۃ الفاتحہ کی پہلی چار آیات میں اللہ کریم کی حاکمیت و بادشاہت کا تذکرہ ہے۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (آیت نمبر 1)یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یا اسکے لئے خاص ہیں کیونکہ تعریف کا اصل مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے اندر اگر کوئی خوبی، حسن یا کمال ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیداکردہ ہے۔الحمداللہ یہ کلمہ شکر ہے جسکی فضیلت احادیث میں بہت آئی ہے۔رب، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، جسکے معنی ہیں ہر چیز کو پیدا کرکے اسکی ضروریات مہیا کرنے اور اسکی تکمیل تک پہنچانے والا۔بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا (آیت نمبر 2)۔ یعنی اللہ بہت رحم کرنے والا ہے اور اسکی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔دنیا میں اسکی رحمت عام ہے جس سے بلاتخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہورہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہوگا، یعنی اسکی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے (آیت نمبر3)۔ روز قیامت اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اسکے اچھے یا بُرے اعمال کے مطابق مکمل جزاء اور سزادیگا۔آخرت میں تمام اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ روز قیامت فرمائے گا کہ آج کس کی بادشاہت ہے، پھر خود ہی جواب دے گا کہ صرف ایک اللہ غالب کے لئے۔ اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے کوئی اختیار نہیں رکھے گی، سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔یہ ہوگا جزاء کا دن۔(سورۃ الانفطار)۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں (آیت نمبر4)۔ یعنی جس ذات کے ساتھ محبت بھی ہو، اسکی مافوق الاسباب طاقت کے سامنے عاجزی و بے بسی کا اظہار بھی ہواور اسباب و مافوق الاسباب ذرائع سے اسکی گرفت کا خوف بھی ہو۔نہ عبادت اللہ کے سوا کسی کی جائز ہے اور نہ استعانت (مدد)کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کردیا گیاہے۔ لیکن جن کے دل میں شرک کا روگ راہ پاگیا ہے وہ مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب استعانت میں فرق نظر انداز کرکے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہوتے ہیں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ بیوی، ڈرائیور و دیگر افراد سے مدد مانگتے ہیں۔اسی طرح وہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ انسانوں سے بھی مدد مانگنا جائز ہے۔حالانکہ اسباب کے ماتحت ایک دوسرے سے مدد مانگنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے، یہ تو اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے جس میں سارے کام ظاہری اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کرسکتا ہو، جیسا کہ کسی فوت شدہ شخص یا بُت کو مدد کے لئے پکارنا، اسکو مشکل کشااور حاجت روا سمجھنا، اسی کا نام مافوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا ہے اور اسی کا نام شرک ہے۔ ہمیں سیدھی (اور سچی) راہ دیکھا (آیت نمبر5)۔یعنی ہماری صراط مستقیم کی جانب رہنمائی فرما۔یہ صراط مستقیم وہی ”الاسلام“ ہے جسے نبی کریم ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔ان لوگوں کی راہ جن پر تم نے انعام کیا، انکی نہیں جن پر غضب کیاگیا(یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق کو پہنچانامگر اس پر عمل پیرا نہ ہوئے)اور نہ گمراہوں کی (یعنی وہ لوگ جو جہالت کے سبب راہ حق سے بھٹک گئے)(آیت نمبر6 اور 7)۔ان آیات میں صراط مستقیم کی وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ سیدھا رستہ وہ ہے۔جس پر وہ لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا (جن کی تفصیل سورۃ النسا ء میں درج ہے یعنی انبیاء، شہدا، صدیقین، صالحین)۔بعض روایات سے ثابت ہے کہ (جن پر تیرا غضب نازل ہوا) سے مرادیہودی اور (گمراہوں) سے مرادنصاریٰ یعنی عیسائی ہیں۔سورۃ الفاتحہ کے آخر میں آمین کہنے کی نبی کریم ﷺ نے بڑی تاکید اور فضیلت بیان فرمائی ہے۔اس لئے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنا چاہئے۔آمین کے معنی مختلف بیان کئے گئے ہیں۔جیسا کہ اسی طرح ہو، ہمیں نامراد نہ کرنا، اے اللہ ہماری دعا قبول فرمالے۔خاتم النبیین نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ میری جانب سے لوگوں تک پہنچاؤ چاہے ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔اللہ کریم ہم سبکو قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر دین و دنیا میں سرخرو ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

  • آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ؟تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ؟تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملہ منصوبہ تھا؟ سازش تیار کہاں ہوئی اس حملے میں کون لوگ شامل تھے؟ اب ایک نئی بحث کا آعاز ہو گا۔ جے آئی ٹی بنے گی ۔ کمیشن بنے گا، تحقیقات ہوگی ۔ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ چند روز میڈیا ٹویٹر پر بیان جاری ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ قیام پاکستان سے لے کر تاد م تحریر ایسے کئی دلخراش واقعات رونما ہوئے کہاں گئی اُن کی تحقیقاتی رپورٹیں ؟ ملکی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح زندگی اور موت کی جنگ لڑرہے تھے تب کیا ہوا تھا؟ کراچی پہنچنے تک جہاز میں کم آکسیجن والے سلنڈر کی تحقیقات کا کیا ہوا؟ محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی اُن کی لازوال خدمات اور حب الوطنی کے اعتراف میں غدار وطن کا تمغہ ملنا ۔1951 میں راولپنڈی میں لیاقت علی خان کا قتل اور پھر قتل کرنے والے کا موقع پر ہی قتل۔ پھر بھٹو کو پھانسی ۔ جنرل ضیاء الحق کے جہاز کا فنی خرابی کے باعث کریش ہونا ۔ گورنر سندھ حکیم سعید شہادت کا واقعہ ۔ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا دہشت گردی کا سکار ہونا ۔ نواب اکبر بگٹی پر غداری کا الزام پر شہادت ۔ پھر بے نظیر بھٹو کا بطور وزیراعظم کراچی میں مرتضیٰ بھٹو کا سڑک پر لاش دیکھ کر رونا چیخنا۔ کراچی میں صلاح الدین ممتاز صحافی کا قتل عام ، کراچی سے خیبر تک لاتعداد صحافیوں کا قتل عام ، سابق صدر مشرف دور حکومت میں دہشت گردوں کے ذریعے پاک فوج ، پولیس اور عوام کا قتل عام ۔ یہ سارے واقعات ایک طرف زندگی کی بے ثباتی کی داستان بیان کرتے ہیں تو دوسری طرف زندہ انسانوں کی خود غرضی پر سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔

    ز ندہ لوگوں کو نظر انداز کرنے سے لے کر مرنے کے بعد اکیس توپوں کی سلامتی دینے تک مجبور اور بے بس عوام کی لاشوں کی بے حرمتی تک کی داستانیں طویل ہیں۔ وطن عزیز مین عشروں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ کچھ دنوں مہینوں تک میڈیا ،سوشل میڈیا پر بحث جاری رہتی ہے اور پھر بس ۔ ہمارا المیہ یہہ ے کہ ہم سانحات کا پس منظر جاننے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کردیتے ہیں۔ عمران خان پر قاتلانہ حملے کا پس منظر کیا پس پردہ کیا ہے آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ان سڑکوں پر ملک کے نامور شخصیات کو قتل کردیا جاتا ہے اب سابق وزیراعظم کو نشانہ بنایا گیا۔ کیا کبھی کوئی آزاد تحقیقاتی کمیشن پورا سچ اس ملک کے عوام کے سامنے لاپائے گا؟

  • سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس محض علم نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔ یہ سوچنے کا وہ انداز ہے جو آپ کو چیزوں کی حقیقت کی طرف لیکر جاتا ہے۔ کائنات کیسی ہے؟ کائنات کے اُصول کیا ہیں ؟ زندگی کیا ہے؟ زندگی کے اُصول کیا ہیں؟ یہ سب ہمیں سائنسی طرزِ فکر سے سمجھ میں آتے ہیں۔
    سائنس کی بنیاد حقائق اور منطق پر استوار ہے۔ سائنس میں محض تجربات اور مشاہدات سے سب نتائج اخذ نہیں ہوتے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ریاضی کے اُصول اور ماڈلز بھی استعمال ہوتے ہیں؟ کیا ہم ستاروں پر تھرمامیٹر لے جا کر یا فیتے لے جا کر اُنکا درجہ حرارت یا فاصلہ ماپ سکتے ہیں؟ نہیں۔

    تو پھر ہم کیسے اِنکا فاصلہ یا درجہ حرارت جان پاتے ہیں؟

    کیونکہ ہم جانتے ہیں زمین پر کسی گرم شے سے نکلنے والی روشنی کے رنگ اُسکے درجہ حرارت سے منسلک ہیں۔ لوہا سخت گرم ہو تو دہکتے ہوئے انگارے کا رنگ دیتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی گرم شے سے ایک خاص رنگ کی روشنی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب وہ ایک خاص درجہ حرارت تک پہنچ جائے۔ تو کیا دور ستاروں سے آنے والی روشنی کے رنگوں کو جان کر ہم نہیں بتا سکتے کہ وہاں درجہ حرارت کیا ہو گا؟

    ایسے ہی جب ہم اپنی دائیں آنکھ بند کر بائیں آنکھ سے سامنے پڑی کسی شے کو دیکھتے ہیں اور پھر یہی عمل بائیں آنکھ بند کر کے دائیں آنکھ سے دہراتے ہیں تو دونوں دفعہ سامنے رکھی شے کی پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب اس پوزیشن کے فرق سے ٹریگنومیٹری کے سادہ اُصولوں سے سامنے پڑی شے کا فاصلہ اسے بنا چھوئے ہی بتا سکتے ہیں۔ اسے Parallax کہتے ہیں۔ تو کیا عقل استعمال کرتے ہوئے اسی طریقے سے ہم سے ہزاروں نوری سال دور کے ستاروں کا فاصلہ معلوم نہیں کیا جا سکتا یا ہمیں خود چل کر وہاں جانا ہو گا؟
    دراصل یہ وہ سائنسی طریقے ہیں جو سائنسی سوچ سے آتے ہیں کہ کیسے کسی مسئلے کا حل نکالنا ہے جو بالکل صحیح ہو۔

    ایسے ہی ماضی میں زمین پر یا نظامِ شمسی میں یا کائنات میں کیا ہوا تھا۔ یہ جب سائنس بتاتی ہے تو جنکو سائنس کی سمجھ نہیں وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ "کیا آپ وہاں خود کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے؟” کیونکہ اّنکو دراصل علم نہیں یا اُنکا محدود علم اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتا کہ ماضی سے ملے فوسلز، پتھروں، شواہد اور طبیعیات، حیاتیات اور کیمیا کی تھیوریز پر بنے کمپیوٹر ماڈلز ہمیں ڈیٹا کی مدد سے ماضی میں لے جا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا۔ کیا کسی کُھدائی کے دوران دریافت ہونے والے شہر کے آثار سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں شہر آباد تھا؟ کیا ہمیں خود ٹائم مشین لے جا کر وہاں جانا ہو گا اور تصاویر کھینچنی ہونگی کہ جی وہاں شہر تھا۔ نہیں!! یہاں بھی وہی اُصول استعمال ہونگے۔ کامن سینس اور منطق۔۔

    لہذا یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی سائنسی دریافت یا ایجاد کو رد کرنے یا اس پر سوال کرنے سے پہلے آپ یہ اچھی طرح دیکھ لیں کہ آیا آپکو سائنسی طریقہ کار کا علم ہے یا نہیں۔

    اگر نہیں تو آپ سوال کر کے پوچھ سکتے ہیں مگر یہ کہہ کر رد کر دینا کہ آپکا محدود علم اسکا احاطہ نہیں کر پا رہا ، علمی بددیانتی اور آپکے علم سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔

    لہذا سائنس سیکھیں اور ساتھ ساتھ سائنسی طرزِ فکر بھی کیونکہ ایک کے بغیر دوسری نا مکمل ہے۔

  • کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ اتنا بہترین تھا کہ اب تک اس کو تیسری مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔ کل بہت پیاری جیت ہمارے نام ہوئی تھی مگر بارش کے دوران جب خان صاحب کے حادثے کی خبر سنی تو دل اداس ہو گیا تھا اور پھر جیتنے پر رتی برابر بھی خوشی نا ہوئی۔

    لیکن،

    کل والے میچ نے ہماری سیمی فائنل میں جانے کی امیدیں پھر سے تازہ کر دی ہیں۔ اب فیصلہ کن دن اتوار کا ہی ہوگا۔ اس دن فقط ہماری جیت ہی ضروری نہیں بلکہ دو کیسز ہونا اہم ہے۔

    اگر اتوار کو ہونیوالے پہلے میچ میں ساؤتھ افریقہ اگر نیدرلینڈز سے ہار جائے تو پاکستان آٹومیٹیکلی بنگلہ دیش سے جیت کر آگے جا سکتا ہے۔ مگر نیدرلینڈز ساؤتھ افریقہ کو ہرا پائیں گے؟ یہ سوچنا بھی ناممکن سا لگتا ہے لیکن اپ سیٹ ہو بھی سکتے ہیں۔

    اگر خدانخواستہ ساؤتھ افریقہ جیت جاتا ہے تو دوسرا میچ ہمارا ہے جو کہ ہم جیت جاتے ہیں تو پھر امیدیں زمبابوے سے ہیں۔ اگر پھر زمبابوے بھارت کو ہرا دے گا تو ہمارا رن ریٹ جو کہ بھارت سے بہتر ہے اسکی بنا پہ ہم آگے چلے جائیں گے۔

    وہیں اگر ساؤتھ افریقہ کا میچ کینسل ہو جائے تو تب بھی ہم آگے جا سکتے ہیں۔ اب صرف ہماری قسمت کا کھیل ہے۔ اگر ہماری قسمت ہوئی تو سیمی فائنلز میں جانا کنفرم ہے۔

    وہیں پہ خان صاحب کیساتھ قوم کی وابستگی ان کی سیاست نہیں تھی بلکہ یہی کرکٹ تھی جس کی وجہ سے لوگ ان سے جڑے تھے۔ آپ اندازہ لگائیں وہ قوم جو دو میچ ہار کر دو جیتنے والی ٹیم کو ہیرو بنا چکی ہے وہ عمران خان جو کہ کرکٹر ہونے کے بعد شوکت خانم اور سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا تھا اس کے حق میں کیوں نا کھڑی ہو۔

    دعا ہے کہ یہ اتوار ہمارے لئے خوش نصیبی کا اتوار ثابت ہو اور آسٹریلیا میں موجود کرکٹ ٹیم کیساتھ ساتھ وطن میں موجود کرکٹر تک دونوں کامیاب ہو جائیں اور ملک میں حالات نارمل ہو جائیں۔

  • تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    نام: جولیس سیزر 44 قبل مسیح
    سٹیٹس: عوامی مقبولیت اتنی بڑھ گئی تھی کہ تاحیات بادشاہ مقرر ہونے والا تھا ۔
    نتیجہ: اپنی ہی پارلیمنٹ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عمر بن خطابؓ 644ء
    سٹیٹس: تیزی سے دنیا میں ایک منصفانہ نظام کا قیام ۔
    نتیجہ: ایک غلام جو اپنے حق میں فیصلہ چاہتا تھا ، کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عثمان بن عفانؓ 656ء
    سٹیٹس: ریاست میں قوانین کا نفاذ ۔
    نتیجہ: قانون سے بھاگنے والے مصری گروپ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت علی ابن طالبؓ 661ء
    سٹیٹس: جنگ نہروان میں سٹینڈ لیا ۔
    نتیجہ: خارجیوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: ابراہم لنکن 1865ء
    سٹیٹس: سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: نسل پرستوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی 1963ء
    سٹیٹس: امیرکہ میں ایک سیکرٹ گورنمنٹ کی بات کرنے لگ گئے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: مہاتما گاندھی 1948ء
    سٹیٹس: پاکستان کے قیام کو قبول کر لیا تھا ۔
    نتیجہ : RSS کے شدت پسند کے ہاتھوں assassinated

    نام: لیاقت علی خان 1951ء
    سٹیٹس: جانی مانی راولپنڈی سازش کا شکار ۔
    نتیجہ: سعد اکبر کے ہاتھوں assassinated جسے اسی وقت کسی اور نے مار دیا تھا ۔

    نام: جورڈن کے بادشاہ کنگ عبداللہ 1951ء
    سٹیٹس: امن کی کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل 1975ء
    سٹیٹس: سعودی عرب کی ترقی کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: امیرکہ سے آئے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں assassinated

    نام: انور سادات 1981ء
    سٹیٹس: شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: مصر کی ملٹری پریڈ کے دوران assassinated

    نام: بینظیر بھٹو 2007ء
    سٹیٹس: عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر گئی تھیں ۔
    نتیجہ: معلوم اور نامعلوم ناموں کے ہاتھوں assassinated

    ان سب ناموں میں آپ کو کیا pattern کامن نظر آ رہا ہے ؟

    یہ سب لوگ کسی نہ کسی صورت میں اپنے مذہب یا ملک یا اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہے تھے اور انہیں عوام میں مقبولیت ملنا شروع ہو گئی تھی ۔

    اور ان میں سے امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی … جو اچانک امیرکہ میں ایک shadow اور چھُپے ہوئے لوگوں کی حکومت کی بات کرنے لگ گئے تھے ان پر ایک نہیں بلکہ بیس مرتبہ assassination اٹیمپٹس ہوئی تھیں اور بالآخر ان میں سے ایک اٹیمپٹ ، کامیاب ہو گئی ۔

    اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو … لیکن تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ، اور تاریخ کے اسی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے میری deductive logic مجھے بتاتی ہے …

    کہ وہ دوبارہ attempts ضرور کریں گے ۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان اور جو بھی اسلام اور پاکستان کا محسن ہے ، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔

  • قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    یہ تو آپ کو ہی پتہ ہوگا کہ جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں سے دوسری بلند ترین چوٹی K2 کتنی دور ہے. لیکن آپ جہاں سے بھی آئیں گے تو کے ٹو کا راستہ پاکستان سے سب کیلئے ایک ہی ہے. 16 ہزار تین سو فٹ بلندی پر بیس کیمپ ہے. جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ 17400 فٹ کی بلندی پر ان لوگوں کیلئے ہے جو تہیہ کر لیں ہم نے اسے سر کرنا ہی کرنا ہے.

    موسم اور حالات اگر سازگار ہوں تو سفر کیمپ اول کیلئے شروع ہوگا جو انیس ہزار نو سو فٹ بلندی پر ہے. اگلا پڑاو کیمپ ٹو پر ہوگا جو کچھ بائیس ہزار فٹ پر ہے تیسرا پڑاو کیمپ تھری پر 23 ہزار آٹھ سو پر کریں گے چوتھا 25 ہزار تین سو پر اور ہھر آخری کوشش ہوگی جس میں کوئی پڑاو نہیں بلکہ ایک تنگ راستہ ہے جسے بوٹل نیک کہتے ہیں.

    اعتماد کی بھی دو اقسام ہیں. ایک معلوم ہونے کا اعتماد اور دوسرا عمل کا اعتماد. ہماری اکثریت پہلا اعتماد رکھتی ہے. جسے معلوم ہونے کا اعتماد کہتے ہیں. آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کے ٹو کا راستہ معلوم ہے.؟ آپ کو معلوم ہوگا تو بہت اعتماد سے فرفر بتا دیں گے ورنہ گوگل سے چیک کر لیں گے جیسے میں نے اوپر گوگل سے لکھ دیا.

    گھر میں لیٹے لیٹے بھی آپ اپنی معلومات پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ مجھے معلوم ہے تو اسکا مطلب ہے میں قراقرم کے سر کا تاج کے ٹو سر کر سکتا ہوں. لیکن عمل کا اعتماد وہ ہے جو آپ کو اس سفر کیلئے گھر سے نکالنے کی جرات و ہمت دیتا ہو. یہ ہر سال کے ٹو سر کرنے والے لوگ ہوں یا دور دراز کے سفر پر نکل جانے والے ہوں یہ تاریخ میں اپنا نام لکھانے نہیں بلکہ اپنا اعتماد ہی چیک کرنے نکلتے ہیں. کیونکہ اعتماد کا بوٹل نیک یہی امتحان ہے.

    یہ امتحان ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے ہم کتنے پانی میں ہیں اور اس امتحان کے نمبرز ہمارا رزلٹ طے کرتے ہیں. اور یہی رزلٹ ہمارا مقام طے کرتا ہے.

  • علم کی فضیلت — ام عفاف

    علم کی فضیلت — ام عفاف

    اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسے علم سکھایا انسان اور علم کا ابتداء ہی سے گہرا تعلق ہے. انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان فرق صرف علم اور شعور کا ہے. اسی بنا پر للہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا.

    اس دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان میں بھی علم کی بہت اہمیت رہی ہے. علم کے بغیر قومیں ناکام رہی ہیں. اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبی اکرم صلعم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم سے ہی متعلق تھی کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا. 12 ربیع الاول جو کہ اصحاب سیر کے ایک طبقہ کے مطابق یوم ولادت با سعادت نبوی ہے (بعض محققین 9 ربیع الاول کے قائل ہیں) مسلم معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے. کہیں محفل میلاد ہے تو کہیں جلسہ سیرت النبی کہیں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہے تو کہیں جلوس کا اہتمام ہے.

    ظاہر ہے یہ سب کچھ رسول اللہ صلعم کے لیے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی کیا جاتا ہے لیکن احقر کی نظر میں یہ دن رسول اللہ صلعم کے مشن کی یاد اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کے طور پر منایا جائے تو آپ صلعم کے لیے امت مسلمہ کی بہترین خراج عقیدت ہو گی. ذرا غور کریں! یہ وحی اس وقت نازل ہوئی جب دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم اور جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا ‘عالم یہ تھا کہ انسانیت پس چکی تھی’ مظلوم کا پرسان حال کوئی نہیں تھا ‘غریب بے یار و مددگار تھا یتیم بے کس تھا. علم کائنات سے اٹھ چکا تھا’ بے مروتی انتہا پر تھی شیخی وطیرہ بن چکی تھی. جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے. قانون کوئی نہیں تھا البتہ طاقت؛ دستور وہی جو طاقتور کے الفاظ. فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے. بے سلیقہ زندگیاں تھیں. غور وفکر ناپید تھی اسلاف کے سچے اور جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے. ان پر نسلی قبائلی نسبی و علاقائی تفاخر طاقت ہے. انسان اسفل السافلین سے بھی نچلے گھڑے میں اتر چکا تھا. لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا. یہ خلیفہ لم یزل کی شان تو نہ تھی. اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج ودوام بخشنے کے لیے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیب بھی اسلامی تہذیب سے روشنی اور چمک لے کر محبت اور ترقی کا ثمر چکھ سکیں.

    تہذیب اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول صلعم کی ذات مبارکہ ہے آپ صلعم کے اخلاق و کردار افعال واقوال آپ صلعم کی سیرت طیبہ مینارہ نور کی طرح ہدایت ورہنمائ کے لیے محفوظ اور موجود ہے. آپ صلعم کے بارے میں خود رب کائنات نے فرمایا کہ

    انک لعلی خلق عظیم.

    اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں.(یعنی کہ آداب قرآنی سے مزین اور اخلاق الہیہ سے متصف ہیں)
    .
    آپ صلعم نے حصول علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے. بلکہ حصول علم کی فضیلت میں دین اسلام کہتا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے ہیں.

    رسول صلعم نے فرمایا کہ حکمت(علم) مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو. ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حضور اکرم صلعم نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتیٰ کہ آپ صلعم نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو. مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا. علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی موت بھی واقع ہوجائے تو اس کا مرتبہ شہید جیسا ہے.

    یاد رہے! کہ یہاں علم سے مراد علم نافع ہے. جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کرسکے معاملات دنیا کو سلجھانے کی تعلیم حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرت النبی صلعم سے ملتی ہے. علم دین اور قرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درسگاہ نبوت سے براہ راست سیکھتے تھے وہ علم انہیں کہیں جاکر سیکھنے کی حاجت نہ تھی. لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی شرط یہ تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کرسکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاءے اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے جو مسلمانوں کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ ہرگز تعلیمات اسلامی نہیں ہوسکتی تھی. وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے.

    اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصول علم سے کتنی دور ہیں. مسلمانوں کی کتنی جامعات ویونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں. دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی! ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہے. جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے. لیکن ہمارا سماجی رویہ حصول علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نقالی کرہے ہیں ہم جدت سے کتنا دور ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ اس وقت رسول صلعم کے آگے آنے سے ڈرتے تھے آج ہم ان کی نقالی کرہے ہیں. جس مذہب کی اپنی ثقافت تہذیب وتمدن ہو وہ قوم کسی اور کے طور طریقوں کو اختیار کرے ایسی قوم کے لئے شرمندگی کا مقام اور کیا ہو گا.

    ذرا سوچیں! کہ جس قوم کی آج سے کچھ صدیوں پہلے اتنی مضبوط پوزیشن تھی وہ قوم آج زوال پذیر کیوں ہے؟

    وہ صرف اسی لیے کہ ہم نے اطاعت رسول صلعم کو چھوڑ دیا ہے ہمارے پیارے نبی صلعم جن کی مثال کافر بھی دیتے ہیں آج ہم نے ان کی پیروکاری کو چھوڑ دیا ہے. جلسے جلوس محبت کا اظہار، جشن، چراغاں تو یہودونصاری بھی ایک دن کے لیے اپنے نبیوں کے لیے کرلیتے ہیں لیکن اصل بات اطاعت کی ہے. افسوس کہ وہ ہمارے اندر اب مفقود ہے. رسول صلعم کا عاجزانہ رویہ سادگی، سادہ طرز زندگی کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے. ہم نے سیرت طیبہ کے قانون کو لاگو نہیں کیا ہے اسی لیے آج ہم اتنا پیچھے ہیں. دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں،
    شاعر کیا خوب کہتا ہے.

    وہ معزز تھے زمانے میں صاحب قرآں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

  • اسلام آباد؛ ترک فوڈ فیسٹیول کا انعقاد؛ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    اسلام آباد؛ ترک فوڈ فیسٹیول کا انعقاد؛ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    دارالحکومت اسلام آباد میں 4 روزہ ترک فوڈ فیسٹیول، سفرا کی شرکت جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 4 روزہ ترک فوڈ فیسٹیول کا آغاز ہوگیا۔ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر مہمت پاچاجی نے فوڈ فیسٹیول کا افتتاح کیا ہے. فیسٹیول میں استنبول کیمپینسکی محل کے مشہور شیف سردار اونگل ، داوت کتلوگن، یالجن کوکمن اور شیف دی پارٹیے کے مشہور پکوان پیش کیے جائیں گے۔

    فیسٹیول کے دوران کلاسیکل موسیقی بھی تقریب کو چار چاند لگائے گی۔ جبکہ ترک سفیر مہمت پاچاجی کا کہنا تھا کہ اس فیسٹیول میں لوگ ترک کھانوں کے اصل ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے ، یہ کھانے استنبول کے مشہور شیفز کی ریسیپیز کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے فوڈ فیسٹیول دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    ترک سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 75 سالہ دوستی کا مضبوط رشتہ ہے۔ لذیذ پکوان، مثلاً لیمب تندوری، گرِلڈ تاس کباب وغیرہ پاکستانیوں کو ترکیہ کے منفرد ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کنٹینر پر فائرنگ، عمران خان کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں: ترجمان پاک فوج
    اللہ کی رحمت اورقوم کی دعاوں سےخیریت سے ہوں:جھکوں گانہیں ڈٹ کرمقابلہ ہوگا:عمران خان
    کنٹینر پر فائرنگ، نواز شریف اور مریم کی عمران خان پرحملے کی مذمت

    سرینا ہوٹل کے مینجر کا کہنا تھا کہ ہمیں ترکیہ کے سفارت خانے کے ساتھ مل کر یوم جمہوریہ کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کا اہتمام کر کے اور اس میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے فنڈ ریزینگ گالا کا انعقاد کرکے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ افتتاحی گالا ڈنر میں سفارتی برادری، کارپوریٹ سیکٹر اور کاروباری شخصیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ گالا ڈنر میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز اکھٹے کیے گئے۔