Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جارج ایلیٹ  ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    لفظ Pop Music کی خالق
    22 نومبر 1819 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قلمی نام جارج ایلیٹ سے شہرت حاصل کرنے والی ناولن نگار، شاعرہ اور مترجم "میری این ایوینز” کی زندگی میں خواتین مصنفین اپنے ہی ناموں کے تحت اپنا کام شائع کروانا شروع کر چکی تھیں، لیکن وہ خواتین کی تحریروں کو دقیانوسی رومانویت تک محدود سمجھنے کی شکل سے بچنا چاہتی تھیں۔ ان کے قلمی نام کے استعمال کی دوسری وجہ اپنی نجی زندگی کو عوامی جانچ سے بچانے کی خواہش تھی، جس کی وجہ شادی شدہ جارج ہنری لیوس کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات تھے۔

    مارٹن ایمس اور جولین بارنز کے مطابق ایلیٹ کا ناول "مڈل مارچ” Middlemarch انگریزی ادب کا عظیم ترین ناول ہے۔

    وہ اپنے عہد کی کامیاب ترین ادیب تھیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ناول رومولا Romola کی اشاعت کے لیئے دس ہزار پاونڈ وصول کیئے تھے ۔

    جارج ایلیٹ نے اپنی زندگی کے آخری سال, اپنے سے 20 سال چھوٹے” جان کراس” سے شادی کی تھی۔

    میوزک کے لیئے استعمال ہونے والی اصطلاح پاپ pop کا لفظ سب سے پہلے استعمال انہوں نے اپنے خطوط میں کیا (بمطابق: آکسفورڈ ڈکشنری)۔

    انہوں نے 22 دسمبر 1880 کو وفات پائی۔

    جارج ایلیٹ کے مشہور ناول درج ذیل ہیں:
    Adam Bede, 1859
    The Mill on the Floss, 1860
    Silas Marner, 1861
    Romola, 1863
    Felix Holt, the radical, 1866
    Middlemarch, 1871–72
    Daniel Deronda 1876

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    پت جھڑ کی رت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامان تار تار سیے جا رہی ہوں میں

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کلکتہ میں 22 نومبر 1969ء کو ،سید غلام محی الدین وارثی (مرحوم) اور گہر جان (مرحومہ) کے ہاں پیدا ہوئیں انہوں نے ایم اے، پی ایچ ڈی کی اور خدمتِ خلق میں لگ گئیں ان کی تصانیف میں جاگتی آنکھوں کا سپنا (شعری مجموعہ) زیرِ ترتیب ہیں جس نے ان کو شناخت دی-

    ان کی خدمات کی بدولت انہیں کئی ملکی و بین الاقوامی انعامات و اعزازات سے نواز اگیا جن میں (1)جھانسی کی رانی لکشمی بائی استری شکتی ایوارڈ (حکومت ہند) ، (2) ویمنس آف دی ایئر انٹرنیشنل ایوارڈ (حکومت ہند)، (3)رول ماڈل (حکومت ہند)، (4)فخرِ ہندوستان (حکومت ہند)، (5)مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت ہند)، (6)ملینیم مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (7)ٹیلنٹیڈ لیڈیز ایوارڈ (8)ٹیلنٹیڈ لیڈیز نیشنل ایوارڈ، ویمنس آف دی ایئر (امریکن بائیوگرافیکل انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا)، (10)دی ٹیلی گراف ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (11)بیگم رقیہ ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال) مکمل پتا:پریم آشا، 41/C، جان نگر روڈ کلکتہ-700017 شامل ہیں-

    غزل

    دادِ جفا وفا ہے دیے جارہی ہوں میں
    اُن سے مگر نباہ کیے جارہی ہوں میں
    خونِ دل و جگر ہو کہ ہوں میرے اشکِ غم
    اُن کا ہی نام لے کے پیے جارہی ہوں میں
    پت جھڑ کی رُت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامانِ تارتار سیے جارہی ہوں میں
    وارفتگی کہوں اِسے یا بے خودی کہوں
    بس آپ ہی کا نام لیے جارہی ہوں میں
    شاید کہ زندگی کے کسی موڑ پر ملوں
    یہ سوچتی ہوں اور جیے جارہی ہوں میں
    کیا رنگ لائے خدمتِ مخلوق دیکھیے
    خدمت کا حوصلہ ہے ، کیے جارہی ہوں میں
    مہنازؔ وہ بھی یاد کریں گے مری وفا
    دل دے کے اُن سے درد لیے جارہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حسرتوں کا مزار ہے سینہ
    دفن ہیں دل میں دل کے افسانے
    اس تبسم فروش دنیا میں
    غم کے ماروں کو کون پہچانے
    تم حقیقت کو کیسے سمجھو گے
    جب سمجھتے نہیں ہو افسانے
    میں تو پیاسی ہی لوٹ آئی ہوں
    پوچھ مت کیا کہا ہے دریا نے
    مجھ کو مہنازؔ یہ پتا بھی نہیں
    ڈھونڈتے ہیں کسے یہ پروانے

    اشعار

    زندگی بھر بلندی نہ ملتی ہمیں
    ہار جاتے اگر حوصلے آپ ہم
    کچھ نہ کچھ ہاتھ اس میں پڑوسی کا ہے
    ورنہ کل تک تھے اچھے بھلے آپ ہم
    دوستی کے ہیں انجام سے آشنا
    چونکہ مہنازؔ ہیں دل جلے آپ ہم

    آغا نیازمگسی

  • امریکی ادیب،ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار جیک لندن کا یوم وفات

    امریکی ادیب،ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار جیک لندن کا یوم وفات

    جیک لندن (انگریزی: Jack London) (پیدائش: 12 جنوری 1876ء – وفات: 22 نومبر 1916ء) امریکی ادیب، اپنے دور کے مقبول ترین ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار تھے۔

    حالات زندگی

    جیک لندن 12 جنوری 1876ء کو سان فرانسسکو، کیلیفورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکا میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن سے ہی بڑے مہم جو تھے۔ 17 سال کی عمر می جہازوں کے عملے میں بھرتی ہو گئے اور جاپان چلے گئے۔ سمندر سے چوری چھپے موتی نکالتے رہے۔ ملک میں سونے کی دوڑ مچی تو اس میں بھی شریک ہو گئے۔ روس اور جاپان کی جنگ کے دوران اخباری نمائندہ بن کر پہنچ گئے اور 1914ء میں جنگی خبر رساں بن کر میکسیکو گئے۔

    جنک لندن کی کہانیوں میں ان ہی مہموں اور تجربات کی عکاسی ہے۔ 1900ء سےاس کی کہانیاں چھپنی شروع ہوئیں۔ پہلے یہ رسالوں میں چھپیں۔ شروع کی کہانیوں میں سن آف وی وولف (Son of the Wolf) اور ٹیلس آف دی فار نارتھ (Tales of the Far North) کافی مشہور ہوئیں۔ کال آف دی وائلڈ (Call of the Wild) ان کی کتوں کے بارے میں کہانیاں ہیں۔ کتوں پر اتنی عمدہ کہانیاں اور کہیں نہیں ملتی ہیں۔ ان کی بعض کہانیان اس کی اپنی زندگی کے واقعات پر مبنی ہیں، ان میں اسموک بلو (Smoke Bellew)، مارٹن ایڈن (Martin Eden) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

    جیک لندن کو کہانیوں کے لیے اس زمانے میں سب سے زیادہ ماوضہ ملتا تھا لیکن وہ ادیب کےعلاوہ سوشلسٹ بھی تھےاور اس کے نزدیک اپنے لکھے ہوئے رسالوں کی افسانوں اور ناولوں کے مقابلہ میں زیادہ قدر تھی۔ جیک لندن نے ایک پچاس فٹ لمبی کشتی پر پورے کرہ ارض کا چکر بھی لگایا تھا۔

    دی کروز آف دی اسمارک (The Cruise of the Smark) میں انہوں نےاس سفر کی تفصیل بڑےدلچسپ انداز میں لکھی ہے ان کی تصنیفات کے علاوہ اس کی سوانح عمری بھی شائع ہوئی ہے۔ جیک لندن 22 نومبر 1916ء کو گلین ایلن، کیلیفورنیا میں انتقال کر گئے۔

    آغا نیاز مگسی

  • مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی (22 نومبر 1884ء — 22 نومبر 1953ء) اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم: مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم سید ابو الحسن ایک صوفی منش انسان تھے۔ تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربھنگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔ 1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔ 1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔

    علمی خدمات:

    عالمِ اسلام کو جن علما پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ ان کی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر، 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ، معارف جاری کیا۔

    تصانیف:

    سیرت النبی
    عرب و ہند کے تعلقات
    حیات شبلی
    رحمت عالم
    نقوش سلیمان
    حیات امام مالک
    اہل السنہ والجماعہ
    یاد رفتگاں
    سیر افغانستان
    مقالات سلیمان
    خیام
    دروس الادب
    خطبات مدراس
    ارض القرآن
    ہندوؤں کی علمی و تعلیم ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں
    بہائیت اور اسلام

    ہجرت و وفات:

    تقسیم ہند کے بعد جون 1950ء میں ساری املاک ہندوستان میں چھوڑ کر ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں مقیم ہوئے۔ یہاں مذہبی و علمی مشاغل جاری رکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے تعلیمات اسلامی بورڈ کے صدر مقرر ہوئے۔ 69 سال کی عمر میں کراچی میں ہی 22 نومبر 1953ء کو انتقال کیا۔

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ملک و قوم کی خاطر انتقامی سیاست دفن کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک و قوم کی خاطر انتقامی سیاست دفن کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روز مرہ کا معمول بن چکا ہے آج کی سیاست میں اور سیاسی جماعتوں میں خلیج اتنی وسیع ہے کہ ہوس اقتدار میں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا مشکل ترین نظر آرہا ہے ۔ کسی زمانے میں سیاستدان ملک اور قوم کی خاطر جمہوریت کی خاطر مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ سیاسی جماعتوں میں ایسے ایسے افراد شامل ہو چکے ہیں اور ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی ان کو اہمیت دینے لگا ہے جن کی زبانوں سے گالی گلوچ اور من گھڑت الزامات کے علاوہ کچھی نہیں ہوتا۔ ملک کے جو حالات ہیں اور عوام پر جو گزر رہی ہے ایسے سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر ملک وقوم کے بارے سوچ رکھتے ہوں۔

    اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھارسے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو پاکستان روانہ کیا تھا مگر ملکی سیاسی انتسار اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسحاق ڈار بہت کچھ کرنے کے باوجود ڈوبتی معیشت کو سہارا تو دے رہے ہیں اورساتھ اپنے بیانات کے ذریعے اپوزیشن کو باور کروا رہے ہیں کہ ملک وقوم کی خاطر اپنی زبانوں کو لگام دیں ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کبھی ڈیفالٹ کیا نہ کرے گا۔ مگر سیاسی انتشار اور ہوس اقتدار نے سیاستدانوں کو ملک کے وقار اورعزت کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ موجودہ حالات میں فہم وفراست اور سوچ بوجھ کا مظاہرہ بنا سکتا ہے ۔ باقی تمام راستے غلط ہیں جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہاہے وہ راستہ جمہوری نہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیا ، وی لاگرز کوبھی وطن عزیز کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا قوی مفادات اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا ۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالادستی ، منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں پر چلنا چھوڑ دیں ملک وقوم کی خاطر انتقامی سیاست کو دفن کریں ملکی بقا و سلامتی کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردارادا کریں۔

  • میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں ان کے گھر تیسرے بچے کی پیدائش پر مبارک بعد کے لیے بیٹھا تھا۔ وہ دونوں بہت خوش تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرے سامنے دنیا جہان کی چیزیں لا کر رکھ دیں۔ یہ میری ان دونوں سے دوسری ملاقات تھی جو اسی جگہ ان کے گھر ہوئی تھی۔ ان دونوں سے پہلی ملاقات بھی اسی ڈرائنگ روم میں تقریباً اس ملاقات سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ لیکن وہ ملاقات بہت تلخ ماحول میں ہوئی تھی۔ وہ دونوں میری تحاریر پڑھتے تھے اور مجھے جانتے تھے ۔

    میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ لڑکی کے والد سے میری شناسائی تھی اور ان کے کہنے پر ہی میں ان کے ساتھ ان دونوں سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت علیحدگی کا فیصلہ کر چکے تھے اور اب اس پر کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ عورت جانے کے لیے ساری پیکنگ پہلے ہی کر چکی تھی اور طلاق کے کاغذات تیار کروا چکے تھے۔

    میں نے ان دونوں سے صرف ایک گزارش کی تھی کہ اب لوگ ایک دوسرے سے بے شک الگ ہو جائیں لیکن ابھی طلاق کے کاغذات پھاڑ دیں اور چھ ماہ کے بعد اگر ضرورت رہی تو یہ کاغذات میں خود آپ لوگوں کو تیار کروا دونگا۔ میں انھیں نہیں جانتا تھا، میرا اس میں کوئی مفاد نہیں تھا لیکن بس ایک خواہش تھی کہ کسی طرح ان کا گھر بچ جائے۔

    تقریباً بیس منٹ رہنے والی اس تلخ ملاقات میں ان دونوں نے بمشکل میری یہ بات مان لی تھی، طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے تھے اور لڑکی اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لے کر اس گھر سے اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔ چار ماہ ایک دوسرے سے الگ رہنے کے بعد ان کی بات چیت دوبارہ شروع ہوئی اور پھر اگلے ماہ وہ واپس اپنے گھر آگئی تھی۔ یوں ان کا گھر بچ گیا تھا۔

    اب میری ملاقات ہوئی تو انھیں یوں خوش دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی خوشی کے آنسو تھے۔ وہ بھی شکر گزار تھے کے اس دن جلد بازی میں طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیتے تو اب وہ بھی پتہ نہیں کس حال میں ہوتے اور بچے بھی رل جاتے۔

    میاں بیوی میں اختلافات ہو جانا ایک نارمل بات ہے لیکن کبھی بھی حالات آخری سٹیج تک نہ لے کر جائیں۔ اگر بہت زیادہ بگڑ جائیں تو پھر بغیر طلاق کے ہی کچھ وقت کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں تاکہ دونوں کو اندازہ ہو جائے کہ علیحدگی کے بعد کی زندگی کیسی ہے۔

    یاد رہے کہ جلد بازی میں دونوں کو لگ رہا ہوتا ہے کہ اب ساتھ رہنا ممکن نہیں لیکن میاں بیوی میں قربت قدرتی ہے اور کچھ وقت الگ بتانے سے دونوں کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہوتا ہے اور قربت کے لیے بھی دل کرتا ہے۔

    اس رشتے کی مضبوطی کے لیے نارمل حالات میں بھی تین چار ماہ بعد عورت کو میکے لازمی جانا چاہیے تاکہ میاں بیوی کچھ وقت ایک دوسرے سے دور رہ کر ایک دوسرے کی کمی محسوس کر سکیں۔ اس سے پیار محبت بڑھتی ہے۔ میاں کو بھی احساس ہوتا ہے کہ کیسے اس کے کام بہترین ہو رہے ہوتے ہیں اور چند دن بیوی کے نہ ہونے سے گھر کا نظام کیسے درہم برہم ہو جاتا ہے۔

  • گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم اور آپ ہر روز گوگل میپ کے استعمال سے راستے تلاش کرتے ہیں۔ اپنے موبائل فون میں گوگل میپ کی ایپ نکالی، لوکیشن آن کی اور ایک جگہ کا راستہ لکھا تو ترنت گوگل۔میپ نے اپکو راستہ بتا دیا۔ فرض کریں آپکو لاہور میں "شاہ دی کھوئی” سے لمز یونیورسٹی جانا ہے۔ تو آپ کسی لاہوری سے راستہ پوچھنے کی غلطی نہیں کریں گے کیونکہ وہ آپکو لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچا دے گا۔ تو آپ نے گوگل میپ پر لمز کا ایڈریس ڈالا اور گوگل نے آپکو راستہ بتا دیا اور ساتھ ہی ڈائریکشنز بھی کہ کونسی جگہ ِرنگ روڈ لینا ہے، کہاں سے رنگ روڈ سے اُترنا ہے، کہاں لالک چوک پر مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    مگر گوگل آپکو یہ سب کیسے بتاتا ہے؟ اسکا جواب ہے جی پی ایس سسٹم کے ذریعے۔ اب یہ جی پی ایس کیا بلا ہے؟

    جی پی ایس دراصل مخففففف(یہ لفظ پتہ نہیں کس نے نکالا تھا اتنے سارے ف ف ف والا) ہے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کا۔ گلوبل پوزیشننگ سسٹم کیا ہے؟ بھلا ہو امریکیوں کا کہ انہیں نے آج سے 44 سال پہلے اس سسٹم کا آغاز کیا۔ یہ سسٹم دراصل خلا میں 31 سٹلائٹس (اس وقت فعال) کا نیٹ ورک ہے جو زمین سے تقریباً 20200 کلومیٹر اوپر خلا میں زمین کے گرد مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت پہلا سٹلائٹ 1978 میں بھیجا گیا جبکہ بعد میں تواتر سے مزید سٹلائٹس بھیجے گئے۔ ان میں سے جب کچھ سٹلائٹ پرانے یا ناکارہ ہو جاتے ہیں تو انکی جگہ نئے سٹلائٹس بھیجے جاتے ہیں۔ اب تک کل ملا کر 77 سٹلائٹس اس سسٹم کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔

    خیر اب یہ موئے سٹلائٹ کرتے کیا ہے؟ ان سٹلائٹس میں ایٹامک کلاکس لگی ہوتی ہیں یعنی ایٹمی گھڑیاں جو نہایت ایکوریسی سے وقت کا حساب رکھتی ہیں۔ یہ سٹلائیٹس ہر لمحے اپنی جگہ اور مقامی وقت کو ریڈیائی لہروں کے ذریعے زمین پر ریڈیائی سگنلز کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ سٹلائٹس سے بھیجے گئے سگنلز کو آپکے فون میں لگے جی پی ایس ریسور موصول کرتے ہیں جس سے زمین پر یہ اپنی جگہ معلوم کرتے ہیں جیسے کہ آپکا فون آپکو ان سگنلز سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کو استعمال کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ آپ اس وقت لکشمی چوک پر ہیں جہاں آپ تو دیسی ککڑ کی کی دیسی گھی میں بنی کڑاہی رگڑ رہے ہیں مگر بیگم کو آپ نے بتایا ہے کہ آج گھر کام کی زیادتی کیوجہ سے گھر دیر سے آئیں گے۔

    مگر آپکا فون آپکی یہ لوکیشن معلوم کیسے کرتا ہے؟

    ہم جانتے ہیں کہ ریڈیائی لہریں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ سو جب ہمارے فون کو سٹلائیٹ سے ایک سگنل موصول ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے 8 بج کر 10 منٹ تو ہم یہ جان جاتے ہیں کہ سٹلائیٹ نے یہ سگنل 8 بج کر 10 منٹ پر بھیجا۔ اب ہمارا فون یہ بھی جانتا ہے کہ اس وقت فون پر کیا وقت ہوا ہے کیونکہ فون کے اندر بھی ایک گھڑی ہے۔ تو اگر آپکا فون یہ دیکھے کہ سگنل موصول ہوا ہے8 بج کر 10 منٹ اور 1 سیکنڈ بعد(ویسے ایک سکینڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے مگر سمجھانے کے لیے) تو موبائل فون کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ سگنل پہنچنے میں محض ایک سیکنڈ لگا ہے۔ اب اسے روشنی کی رفتار سے ضرب دیں تو آپکو معلوم ہو جائے گا کہ سٹلائیٹ آپکے فون سے کتنی دور یے۔ یعنی آپ ایک سفئیر(آپ اسانی کے لیے دائرہ کہہ لیں) میں ہیں جسکا رداس اس فاصلے جتنا ہے جو آپکے فون نے معلوم کیا ہے۔ مگر آپ اس سفیئر میں آپ کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ (وضاحت کے لیے تصویر دیکھیں).

    مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپکی لوکیشن کہاں پر ہے۔ اسکے لیے اگر آپکے موبائل فون کو کم از کم تین سٹلائٹس سے بیک وقت سگنلز موصول ہوں(عموماً چار سے زیادہ بہتر لوکیشن ملتی ہے) تو اس سے تین سفیئرز بنیں گے جناک رداس ہر اُس فاصلے جتنا ہو گا جو آپکے فون نے معلوم کیا۔اسکا مطلب یہ کہ آپ ان تمام سفئیرزمیں بیک وقت ہونگے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ آپ یاک کی صورت ان سب میں ہونگے یعنی ان تمام سفیئرز کے مشترکہ مقام یا سنگم پر۔ یوں آپ کا فون آپکو اپنی ایگزیکٹ لوکیش بتانے کے قابل ہو جائے گا۔اس اُصول کا ایک مشکل سا سائنسی نام بھی ہے جسے ٹرائلیٹریشن(Trilateration) کہتے ہیں۔

    اب آپکی لوکیشن کو استعمال کر کے گوگل میپ پہلے سے بنائے گئے زمین کے نقشے میں آپکی لوکیشن کے حساب سے آپکی منزل مقصود تک کا راستہ آپکو بتائے گا۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ سٹلائیٹ زمین سے اوپر خلا میں اتنہائی تیزی سے مدار میں گھوم رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وقت کسی شے کی رفتار کے مطابق بہتا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زیادہ گریویٹی کی وجہ سے وقت سست روی سے بہتا ہے۔ اور سٹلائیٹ چونکہ زمین سے دور ہوتے ہیں تو ان پر زمین کی گریویٹی کا اثر کم ہوتا ہے۔ لہذا سٹلائیٹس پر وقت تیزی سے گزرتا ہے بنسبت زمین کی سطح پر۔ یہ سب ہمیں آئن سٹائن کی ریلیٹویٹی تھیوری بتاتی ہے(جی سائنس میں تھیوری عام فہم والی تھیوری نہیں بلکہ ثابت شدہ تھیوری کو کہتے ہیں جسکا کوئی استعمال بھی ہو)۔ لہذا اگر ہم وقت کے سٹلائیٹ پر تیزی سے گزرنے کے عمل کو لوکیشن معلوم کرنے میں شامل نہیں کریں گے تو سچ میں آپ لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ اس میں قصور کسی بیچارے لاہوری کا نہیں ہوگا بلکہ آپکا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس کی تھیوری از جسٹ تھیوری۔

  • بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    آپ بازار جانے کیلئے جیب میں پیسے ڈالتے ہیں اپنی ضروریات کی چیزوں کی ایک لسٹ سوچتے ہیں اور گھر سے نکل جاتے ہیں. بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپ نے قیمت اور کہاں سے خریدنا ہے پہلے طے کیا ہو. اکثریت بس سوچتی ہے جہاں سے بہترین معیار اچھی قیمت ملی خرید لوں گا.

    دکاندار بھی جب دکان صبح کھولتا ہے تو اسے کوئی گارنٹی نہیں ہوتی آج کیا اور کتنی فروخت ہوگی. کون آئے گا کون نہیں.؟ بازار اندازے پر چلتا ہے. گاہک کے پاس قوت خرید ہو اور دکاندار کے پاس چیز اور دروازہ کھلا ہو تو کاروبار زندگی چلتا رہتا ہے.

    بازار میں گاہک بھی بہت ہوں اور دکانیں بھی بہت لیکن کسی ایک دکان پر زیادہ گاہک جا رہے ہوں تب ہم کہتے ہیں اس پر اللہ کا خصوصی کرم ہے. کیونکہ اس کی کوئی ایک ادا دوسروں سے بہتر ہوتی ہے. معیار اخلاق قیمت فروخت یا سروس آپ اسے کچھ بھی بول دیں لیکن جب گاہک گھر سے نکلتے فیصلہ کر لے کہ فلاں دکان پر جانا ہے تو یہ اللہ کا کرم ہوتا ہے.

    اللہ رب العزت کی نعمتیں دنیا میں بکھری پڑیں ہیں. نعمتیں بھی بے شمار تو مخلوق خدا بھی بے شمار ہے. لیکن ہم جب اپنے آس پاس دیکھتے ہیں تو کسی ایک کے پاس نعمتیں دوڑ دوڑ کر آرہی ہوتی ہیں اور کسی کی آنکھیں انتظار میں ترس جاتی ہیں. تب اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں. گلے شکوے کرتے ہیں. جن پر نعمتوں کی برسات ہو ان سے حسد کرتے ہیں.

    کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی اداؤں پر غور کرتے ہیں. جو سوچتے ہیں ان پر کرم کیوں نہیں ہو رہا. دنیا ان سے راضی کیوں نہیں ہو رہی.؟ کیا نعمتیں بانٹنے والا اس سے راضی ہے.؟ یہی خود احتسابی یا Audit ہمیں پھر ہماری کمی کوتاہیاں دکھاتا ہے. اور یہی کمی بیشیاں جب درست ہو جائیں تو کرم کا دروازہ کھل جاتا ہے. اللہ رب العزت اپنے سب بندوں کا ایک یکساں پروردگار ہے. ہم بندوں میں البتہ بندگی کے الگ الگ درجات ہوتے ہیں.

    ریاض علی خٹک

  • کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر ماہرین تشویش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن مذہبی علماء اس بات پر مصر ہیں کہ زیادہ بچوں کی پیدائش فضیلت کا سبب ہے جس کے بارے متعدد احادیث بھی مروی ہیں ۔ یہاں پر ایک فقہی قاعدے کا انظباط ضروری ہے کہ بعض چیزیں علت و معلول کے تعلق سے لاگو ہوتی ہیں ۔

    چناچہ عہد نبوی میں مسلمانوں کی عددی قوت کی غرض سے یہ احکام لاگو ہوئے لیکن موجودہ دور میں آبادی بجائے فائدہ کے ایک درد سر بنی ہوئی چانچہ جنگ یا عددی قوت کی علت نہیں رہی تو زیادہ اولاد کی صورت معلول بھی نہیں رہے گا ۔ اس صورت حال کو آپ مندرجہ ذیل تحریر سے بھی سمجھ سکتے ہیں جو کہ حالیہ طور پر روسی حالات کے بارے لکھی گئی ہے دوسری جنگ عظیم میں بہت سارے روسی سپاہیوں کی ہلاکت کی وجہ سے روس نے زیادہ بچے پیدا کرنے والی ماوں کو انعامات سے نوازا بعد ازاں اس سلسلے کو روک دیا گیا تاہم حالیہ روسی جنگ کے تناظر یہ اعلان دوبارہ گیا ۔

    عہد نبوی ص میں کثرت اولاد کا حکم بھی کچھ اسی تناظر میں تھا لیکن جب حالت امن ہو ضرورت نہ ہو ۔ اور کثرت آبادی بذات خود مسئلہ بن جائے تب اولاد کی کثرت پر اسلامی حوالے سے اصرار کرنا محل نظر ہے ۔ تاہم اگر معاشی حالات مستحکم ہوں تو حالات کی نوعیت بدل جائے گی ۔ ذیل میں روس سے متعلقہ رپورٹ ملاحظہ ہو ۔

    روس نے نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کا اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ ایوارڈز دینا شروع کر دیے۔

    دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا۔

     روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے رواں سال اگست میں 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی روسی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 35 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان روسی خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے اور وہ ان سب کی اچھی پرروش کرتی تھیں، تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    تاہم 3 دہائیوں کے بعد اب پہلی بار روس نے یہ تاریخی ایوارڈ ر مضان قادریوف کی اہلیہ سمیت دیگر کو  دے دیے ہیں۔

    رمضان قادروف اس وقت چیچن ریپبلک کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے  بیٹوں کو پیوٹن کی یوکرین جنگ کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

  • فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    فیفا ورلڈ کپ قطر اور الباکستانی عوام — عبدالقدیر رامے

    خیر عرصہ قبل ہم پر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کے فتوے تو لگ ہی چکے تھے البتہ آج نیا اور دلچسپ فتویٰ لگا.. جلن کا فتویٰ..

    کچھ باتیں کلئیر کر دوں کچھ دوست باتوں کی گہرائی کو سمجھے بناء کمینٹ کرتے ہیں اور پھر جواب لیے بناء بلاک کرکے نکل جاتے ہیں جس کی ہمیں قطعاً پرواہ نہیں ہے لیکن باقی دوستوں کیلئے سرِ دست عرض یہ ہے کہ مجھے کسی بھی مسلم ملک کے سسٹم سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ جیسا بھی سسٹم اپنائیں ان کا حق ہے..

    سعودیہ تاریخی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، ترکی عرصہ سو سال سے لبرل ہے، ایران کٹر مسلکی مذہبی ریاست ہے، افغانستان ایک الگ سکول آف تھاٹ کے سسٹم گزر رہا ہے.

    ہر سسٹم کی کچھ مثبت چیزیں ہوتی ہے اور کچھ منفی.. سو فیصد درست کہیں بھی کچھ بھی نہیں ہوتا البتہ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں قطعاً عار نہیں ہے کہ مذکورہ بالا تمام ممالک کا سسٹم ہمارے ملک سے کہیں بہتر ہے وہاں سسٹم خرابیوں کے باوجود اپنی عوام کو کچھ نہ کچھ دے رہا ہے لیکن ہمارے ہاں کا سسٹم عوام کو دینا تو کُجا.. دن بدن عوام سے چھین ہی رہا ہے..

    عوام کی بات کی جائے تو مذکورہ بالا تمام ممالک کے عوام مجموعی طور دینی اقدار میں ہم سے کہیں آگے ہیں انفرادی اعمال میں کہیں بہت زیادہ آگے ہیں اجتماعی معاملات بھی ہم سے کہیں بہتر ہیں.

    حکومتوں کی بات کی جائے تو ان کے ہاں ایک پالیسی ہے جسے ہر حال میں اپلائی کرتے ہیں اور پورے ملک کے سب ادارے اسی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں یعنی کہ ڈسپلن سب پر لاگو ہے..

    2000 سے پہلے قطر کی طرف کوئی دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا لیکن پھر انڈسٹریل انقلاب نے قطر کا رخ کیا اور دنوں میں قطر اس خطے کی معاشی طاقت بن گیا..

    صرف یہ کہ نیک نیتی اور درست پالیسی.. انہوں نے بڑی بڑی کمپنیوں سے معاہدے کیے جنہوں نے انڈسٹری لگائی اور ابتدائی چند سال کی انکم ان کمپنیوں نے لی.. اس کے بعد وہ انڈسٹری ریاست قطر کی ملکیت میں چلی گئی..

    ان لوگوں کی کام سے لگن کا اندازہ اس بات سے لگائیں میں 2016 میں قطر گیا تب وہاں فیس بک پر 2022 کے ورلڈ کپ کے ایڈ دیکھنے کو ملا کرتے تھے.

    پچھلے سال میں قطر ایئرویز کی فلائٹ سے 28 نومبر کو اسلام آباد سے نجف براستہ قطر گیا تو فلیٹ میں دیے گئے کھانے کی پیکنگ پر فیفا ورلڈ کپ 2022 کا اشتہار تھا یہاں تک چاکلیٹ پر بھی چاکلیٹ کے ذریعے ہی لوگو بنایا ہوا تھا جس کی تصویر لگائی ہے.. مطلب کہ جس کمیٹی کے سپرد یہ فیفا کپ 2022 کی ایڈوائزنگ کا کام تھا انہوں نے کوئی راستہ خالی نہیں چھوڑا پوری تندہی سے کام کیا..

    دوسری طرف پاکستان کو 2 لاکھ ملازمین کی خدمات اس موقع پر فراہم کرنے کا کہا گیا تھا جس میں پاکستان اس بیروزگاری کے دور میں صرف 43 ہزار افراد بھیج سکا.. وہ بھی ایسے لوگ جو خود تگ و دو کرکے ایجنٹوں کو پیسے دے کر چلے گئے حکومت نے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں لی…

    یہاں تک ہو گئی ایک بات.. دوسری بات یہ کہ مجھے قطر میں آنے والے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے یا ان کے اسلام قبول کرنے سے یا شراب کے متعلق اقدامات لینے سے کوئی جلن نہیں ہے لیکن اس معاملے کو انتہائی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جس کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں..

    پہلی بات تو یہ کہ قطر اور دیگر عرب ممالک کا رویہ پاکستان کے بارے میں انتہائی دوہری پالیسی پر مبنی ہے.. چیدہ چیدہ بتاؤں تو

    پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو ترجیح دینا، پاکستان کے کرپٹ عناصر سے تعلقات رکھنا انہیں سہولت کاری فراہم کرنا اور لوٹ مار کے بعد نکلنے میں مدد کرنا انہیں اپنے ملکوں میں پناہ دینا.

    پاکستان سے لُوٹا گیا مال سب سے پہلے عرب ممالک میں جاتا ہے جہاں رائل فیملیز کے لوگ ان کرپٹ عناصر کی مدد کرکے بلیک منی کو وائیٹ منی میں تبدیل کرواتے ہیں اور ان کے ساتھ کاروباری شراکت داری کرتے ہیں اس دوران یہ ممالک یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ یہ پیسے پاکستان سے نکلنے کے بعد پاکستان کے مسلمانوں یا دیگر عوام پر کون سی قیامتیں برپا ہوتی ہیں ان کی زندگی کس عذاب میں دھنستی چلی جاتی ہے .

    مطلب کہ جب آپ ریاستی سطح پر غیرمسلم کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ تو آپ کس کیریکٹر اور کس اخلاقی قدر کے ساتھ اسے یہ بات کہہ رہے ہیں؟

    میری دعا ہے کہ جنہوں نے اس موقع پر اسلام قبول کیا ہے اللہ کریم انہیں استقامت عطاء فرمائے اور مزید اہلِ خیر کو مشرف بہ اسلام ہونے کی توفیق عطاء فرمائے .

    لیکن مجموعی طور پر ہم مسلمانوں اور ہماری ریاستوں کا کیریکٹر ایسا ہے سہی کہ ہم انہیں یہ کہہ سکیں کہ ہمارے جیسے ہو جاؤ؟ اگر ہمارے کردار درست ہو جائیں تو ہمارا دنیاوی عمل ہی تبلیغ بن جائے اس کیلئے ہمیں الگ سے کسی کو کچھ کہنا ہی نہ پڑے کیونکہ یہ ایک ایسا وقت جا رہا ہے کہ دیگر ادیان کے لوگوں کی اکثریت اپنے ادیان سے مطمئن نہیں ہے یہاں تک کہ ایتھیسٹس کی اکثریت بھی ذہنی تذبذب کا شکار ہے ان کی اکثریت کو الہامی دین کی تلاش ہے اگرچہ اظہار نہ بھی کرتے ہوں .

    اس وقت ہماری ریاستوں کا مجموعی کردار اور ہمارے عمومی اقدار بہتر ہوں گے تو لوگ ہمارے دین کو قبول کریں گے ورنہ یقین کریں کہ یہ ہمارے مسلمان ممالک کی حکومتوں کی بددیانتی پر مبنی پالیسیاں اور ہم مسلمانوں کے اعمال اور بدعنوانیاں ہی اسلام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مثال دیتا ہوں جس طرح کی حرام توپیاں محترمہ انجلینا جولی ہمارے ملک میں آکر دو مرتبہ دیکھ کر گئی ہیں وہ ہمارے اعمال دیکھ کر یا پھر شریف خاندان کی الثانی خاندان کے ساتھ مشترکہ کرپشن دیکھنے کے وہ ان دو حکومتوں کی دعوت پر اسلام قبول کر لیں گی؟

    اس لیے دوستو ت بزرگو.. ٹھنڈے رہا کرو.. ہر معاملے کو مفت کی ہائیپ نہ دیا کرو.. اگر کچھ لوگ مسلمان ہوئے ہیں تو انہیں مسلمان رہ لینے دو ایسا نہ ہو کہ ہمارے کرتوت انہیں پتہ چل جائیں .

    مزید یہ کہ ان کے مسلمان ہونے پر صرف اتنا شور مچاؤ کہ اگلی مرتبہ بھی کپ کی میزبانی کسی مسلمان ملک کو مل سکے.. بات سمجھ رہے ہو؟

    بیشک سب کو اپنی جانب کر لو لیکن پیچھے آنے والوں کے راستے بند مت کرو..

    رہی بات شراب پر پابندی والی.. تو بندۂ ناچیز نے 2016 میں قطر کے دوحا ایئرپورٹ کے مالز پر زندگی میں پہلی مرتبہ شراب کی بوتلیں دیکھیں اور عام مارکیٹ کے شاپنگ پلازوں میں شراب بِکتی دیکھی تھی قطر ایئر ویز میں دوران پرواز اگر کوئی شراب پینا چاہے تو اسے فراہم کی جاتی ہے..

    قطر نے صرف دورانِ میچ اسٹیڈیم میں شراب نوشی پر پابندی عائد کی ہے.. اس کے علاوہ چلے گی اور علاطول چلے گی..