Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    شاہ رُخ جتوئی مقتول شاہ زیب کے لواحقین کے ساتھ راضی نامہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ سے بری ہو گیا ہے افواہیں ہیں کہ لواحقین نے معقول پیسے لے کر راضی نامہ کیا جب کہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مقتول کہ لواحقین کو ڈرا دھمکا کے راضی نامے پر مجبور کیا گیا ۔

    اب دو صورتیں ہیں اگر ڈرا دھمکا کر راضی نامے یا خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا تو یہ ہمارے نظام انصاف کی خامی ہے جس کا میں نے اپنی ایک سابقہ پوسٹ میں ذکر بھی کیا جس میں چیف جسٹس نے حاضرین سے سوال کیا جن کو پاکستان کے نظام انصاف پر یقین ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں تو حاضرین میں سے کسی ایک شخص نے بھی اپنا ہاتھ کھڑا نہیں کیا ۔

    اگر مقتول کے لواحقین نے دیت (خون بہا) لیا تو یہ ان کا شرعی حق ہے اس کے لئے بھی شرط ہے کہ مرحوم کے تمام شرعی وارث اگر دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہوں تب راضی نامہ ہو گا اب اگر آپ یا میں مرحوم کے شرعی وارث ہیں تو ہمارا دیت لینے پر اعتراض کرنا بنتا ہے اگر ہم شرعی وارث نہیں تو ہم اخلاقی یا قانونی طور پر مرحوم کے لواحقین کے دیت (خون بہا) لینے پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کر سکتے ہیں ۔

    البتہ اس قتل کے کیس میں ریاست مدعی بن سکتی تھی اور وہ بنی بھی، شاہ رخ جتوئی پر اس قتل کے کیس میں 7ATA لگی جو کہ دہشت گردی کی دفعہ ہے یہ ناقابل ضمانت ہے اور مقتول کے لواحقین کی طرف سے راضی نامہ ہونے کے باوجود شاہ رخ جتوئی کی رہائی نہ ہونے کی وجہ یہی دہشت گردی کی دفعہ تھی بہرحال شاہ رُخ جتوئی کے وکیلوں نے عدالت میں دلائل دے کر دہشت گردی کی دفعہ اس پرچے سے خارج کرا دی اس کے بعد مقتول کے لواحقین کا راضی نامہ عدالت میں پیش کرنے پر عدالت نے شاہ رخ جتوئی کو رہا کر دیا ۔

    اب اس سارے معاملے کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے منقسم ہو گئی ہے چند دوست احباب مقتول کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں اور شاہ رخ جتوئی کی بریت کی وجہ اس کی بے تحاشہ دولت اور اختیارات کا ناجائز استعمال بتا رہے ہیں جب کہ چند دوست حقائق سے ناواقفیت کی بنیاد پر دیت (خون بہا) لینے کو مقتول کے لواحقین کی لالچ سے تعبیر کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں کہ جب انہوں نے پیسے لے کر راضی نامہ کر لیا تو اب ان سے ہمدردی کس بات کی جب کہ اسی بات کی آڑ لے کر چند احباب اسلامی دیت (خون بہا) لینے کے قانون پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں ۔

    ہم اسلامی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قاتل کے بارے میں قرآن پاک میں کیا حکم دیتے ہیں اور قصاص لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا دیت (خون بہا) لینے کی
    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

    وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً (النساء ۴:۹۳)

    ’’اور وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ‘‘

    مقتول کے لواحقین کی دلجوئی کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں الگ سے آیات نازل کیں اور اس میں ان پر مقتول کا قصاص لینے کا حکم دیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب لوگوں کو علم ہو گا کہ قصاص میں لازمی ہم بھی قتل کئے جائیں گے تو وہ اشتعال میں آنے سے گریز کریں اور فساد فی الارض کے مرتکب نہیں ہوں گے ۔

    ۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۔۔۔۔﴿البقرة: ١٧٨﴾

    ’’اے ایمان والو تم پرمقتولین کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔”

    لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ ہر کوئی قتل منصوبہ بندی کر کے یا فوری اشتعال میں آ کر نہیں کرتا اتفاق سے بھی قتل ہو جاتا ہے جیسے ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت وغیرہ تو اسے شریعت کی اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں اور اس میں مقتول کے لواحقین کو کہا گیا ہے کہ وہ دیت (خون بہا) لے کر یا اللہ واسطے قاتل کو معاف کر دیں ۔

    وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۔۔۔۔﴿النساء: ٩٢﴾

    ’’کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے خطا ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو خطا سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو دیت دے۔‘‘

    یعنی قرآن پاک میں جان بوجھ کر کر قتل کرنے کے لئے قصاص کا حکم ہے اور غیر ارادی قتل کی صورت میں دیت (خون بہا) لینے کا حکم ہے لیکن ہم لوگ ان واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سہولت کے مطابق ان کا استعمال کرتے ہیں اور قتل عمد میں بھی دیت (خون بہا) لے لیتے ہیں یا ایسے ہی راضی نامہ کر لیتے ہیں ۔
    ۔
    ایک سچا واقعہ آپ کو سناتا ہوں تاکہ بات مزید واضح ہو جائے، والدین کے صرف دو ہی بیٹے تھے بڑا بیٹا شادی شدہ جب کہ چھوٹے بیٹے کی منگنی ہوئی تھی لیکن بڑے بھائی کی بیوی چاہتی تھی کہ دیور کی شادی میری بہن سے ہو اور منگنی ٹوٹ جائے اس بات پر دونوں بھائیوں میں اختلافات پیدا ہوئے جو لڑائی جھگڑے تک جا پہنچے اور ایک دن لڑائی کے دوران بڑے بھائی نے مشتعل ہو کر چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا اب والدین مجبور ہو گئے ان کے صرف دو ہی بیٹے تھے ایک قتل ہو گیا اگر دوسرے کو معاف نہ کرتے تو اسے پھانسی ہو جاتی اس لئے مجبوراً انہوں نے بڑے بیٹے کو معاف کر دیا ۔

    اب اس واقعے میں مقتول کے وارث قاتل کے ماں باپ تھے انہوں نے دیت (خون بہا) کے قانون کا غلط استعمال کیا اور جانتے بوجھتے سب نے نظر انداز کر دیا لیکن ہر واقعے میں ایسے نہیں ہوتا مقتول کے شرعی وارثوں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم قاتل کے ناپاک وجود کو اس دھرتی پر مزید برداشت نہیں کر سکتے اس لئے ہمیں ہر صورت میں قصاص چاہیے ۔

    لیکن بعض مرتبہ قاتل کی سماجی حیثیت اتنی مضبوط ہوتی ہے یا وہ اتنا بڑا بدمعاش ہوتا ہے کہ اس سے اپنے باقی اہل خانہ کی جان بچانے کے لئے مقتول کے وارثوں کو مجبوراً راضی نامہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے دیت (خون بہا) کے قانون کا ہی سہارا لیا جاتا ہے اب اگر ریاست مضبوط ہو اور مقتول کے وارثین کو یقین ہو کہ قصاص لینے کی صورت میں ہمیں قاتل یا اس کے خاندان کی طرف سے کسی قسم کی انتقامی کاروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا تو وہ کبھی بھی دیت (خون بہا) نہ لیں ۔

    قتل فساد فی الارض ہے اور اس کو روکنے کا سب سے بہترین طریقہ قصاص ہی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ قصاص کے خوف سے کوئی قتل کا ارتکاب ہی نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو قصاص لینے کی صورت میں زمین سے ایسے شخص کا بوجھ کم ہو جائے گا لیکن دیت ہم پر بوجھ نہیں بلکہ رب کی رحمت ہے کہ اگر نادانستگی میں کسی سے ناحق قتل ہو جائے تو قاتل سے دیت (خون بہا) لے کر اسے ایک موقع دیا جائے۔

    اگر دیت نہ ہوتی تو قصاص پر روشن خیالوں کا ہی اعتراض ہوتا کہ اسلام کی نظر میں قتل عمد اور قتل خطا ایک برابر ہیں جو کہ نا انصافی ہے لیکن دیت کی وجہ سے وہ قصاص پر اعتراض نہیں کر سکتے تو اپنا بغض نکالنے کے لئے اب وہ دیت پر اعتراض کر رہے ہیں اس لئے اسلامی قانون پر اعتراضات کے بجائے اگر ان کو ان کی روح کے مطابق نافذ کرنے پر توجہ دی جائے تو یقیناً اس کے اثرات دیکھ کر معترضین بے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ واقعی اسلام دین فطرت ہے ۔

  • "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    ایک صاحب کسی ہوٹل پر تیتر کا گوشت کھانے گئے۔ کھاتے ہوئے انھے ملاوٹ کا شک ہوا تو ویٹر سے پوچھا کہ یہ خالص تیتر کا گوشت ہے؟۔ ویٹر نے کہا جی سر۔ مگر کھانے والا خود شکاری تھا اور تیتر کے گوشت سے اچھی طرح واقف تھا۔ آخر کار ویٹر نے بتا ہی دیا کہ صاحب! دیکھا دیکھی لوگ کھانے تو تیتر آتے ہیں ہمارے پاس مگر بیشتر لوگوں کو بیٹر کا ذائقہ ہی زیادہ پسند ہے ۔ سو مجبوراً مسکسینگ کرتے ہیں ۔ بات تو ٹھیک ہے ویٹر کی ہمیں مسکسینگ کی تو عادت ہو چکی ہے ۔ خالص کچھ بھی ہمیں اب اچھا نہیں لگتا۔

    ہمارے گھروں میں ڈبوں والے دودھ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اب خالص بھینس کے دودھ سے ہمیں بو جو آتی ہے ۔ خالص گندم کی روٹی ہمارے معدے ہضم نہیں کرتے مگر نان، پیزا تو معدے میں ڈالتے ہی ہضم ہو جاتا ہے ۔

    کوئی لیکوڈ ہمارے گلوں سے تب تک نہیں اترتا جب تک اس کا رنگ نیلا ، سبز ، کالا نہ ہو ، سفید لیکوڈ (دودھ) تو پینے کا ہم اب سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اگر کوئی پیے بھی گا تو مسکسینگ کے ساتھ ، سپرائٹ ، سیون اپ کے تڑکے کے ساتھ ۔ (صرف) دودھ تو شاید اب پینڈو پیتے ہیں۔ ہم تو اب ماڈرن ہو چکے ہیں۔ اتنے ماڈرن کے گھر والے کے ساتھ سلام دعا کا وقت نہیں ، اور سمندر پار لوگوں سے چوبیس گھٹنے رابطوں میں ہیں۔

    اتنے ماڈرن ہوگئے ہیں کہ ہمیں اب ماں بولی پنجابی گالی لگنے لگ گئی ہے۔ ہمارے گھروں میں اب کوئی بچہ پنجابی بول کر تو دیکھائے، صرف اردو اور انگریزی۔۔۔۔۔۔ فارسی ،عربی تو ویسے ہی ہم نے مدرسے والوں کے ذمے کر رکھی ہے۔ ہمارا کیا لینا دینا، وہ پڑھیں اور ان کا کام جانے، ہمیں کیا ۔

    اور اسی انگریزی کے چکر میں ہم کہیں کے نہیں رہے۔ سیکھو بھئی انٹرنیشنل زبان ہے، مگر یہ کہاں کا قاعدہ قانون ہے کہ اپنی بالکل ہی چھوڑ دو ۔ ہم نے تو صرف چھوڑی ہی نہیں دھتکاری ہے اپنی زبان ۔ جب تک ہم انگریزی کے دو چار جملے نہ بول لیں تو ہم پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھتے خود کو۔ کل ہی ایک دوست نے بتایا کہ اس سے اپنے گاؤں کے کسی شخص نے پوچھا کہ کونسی کلاس میں پڑھ رہے ہو۔ اس کے جواب پر فوراً انگریزی کا ایک عدد غلط جملہ اس کے منہ پر دے مارا کہ اس کا ترجمہ بتاؤ ۔ یعنی تعلیم یافتہ ہونے کےلیے ، انگریزی سند ہے تو بھئی! اس آدھی تیتر آدھی بیٹر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

  • گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    اورنگ آباد: ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کے درمیان زمینی تنازعات عام ہیں،مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع کے ایک گاؤں میں بندروں کو 32 ایکڑ اراضی اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونے کا نادر اعزاز دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست عثمان آباد میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں کے بندر زمیندار ہیں، اس گاؤں میں جہاں لوگوں کے پاس اپنے گھر نہیں ہیں وہاں 32 ایکڑ اراضی یہاں کے بندروں کے نام پر ہے۔

    دبئی میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرا نمائش کےلیے پیش کردیا گیا

    گاؤں کے رہائشی بندروں کا خاص احترام کرتے ہیں جب بھی ان کی دہلیز پر بندر آتے ہیں تو وہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور کھلاتے پلاتے ہیں۔

    اپلا گرام پنچایت کے پاس ملے زمینی ریکارڈ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ 32 ایکڑ زمین گاؤں میں رہنے والے تمام بندروں کے نام ہے۔

    گاؤں کے سربراہ کے مطابق ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا لازمی حصّہ ہوا کرتے تھے،جبکہ دستاویزات میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ زمین بندروں کی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ جانوروں کے لیے یہ انتظام کس نے کیا اور کب کیا گیا-

    بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹر تباہ،پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک

    جب بھی گاؤں میں شادیاں ہوتی تھیں، تو سب سے پہلے بندروں کو تحفہ دیا جاتا تھا جس کے بعد ہی تقریب شروع ہوا کرتی تھی تاہم اب ہر کوئی اس رواج کی پیروی نہیں کرتا،ماضی میں، بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا حصہ تھے۔

    انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ زمین کے دستاویزات یہاں کے بندروں کے نام ہے لیکن دستاویزات میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے لیے یہ انتظام کس نے اور کب کیا ہے۔ یہاں ایک مکان ہوا کرتا تھا جسے محکمہ جنگلات نے منہدم کرکے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے۔

    گاؤں میں اب بندروں کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ یہ زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے، اس وقت گاؤں میں تقریباً 100 بندروں کے گھر موجود ہیں۔

    مسٹر پڈوال نے کہا کہ گاؤں اب تقریباً 100 بندروں کا گھر ہے، اور ان کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ جانور زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے۔

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے اور اس پلاٹ پر ایک لاوارث مکان بھی تھا جو اب منہدم ہو چکا ہے جب بھی بندر ان کی دہلیز پر آتے ہیں گاؤں والے بھی انہیں کھلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی انہیں کھانے سے انکار نہیں کرتا-

  • آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    جی ہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ایک بار پھر عمران خان اور تحریک انصاف کے نشانے پرہیں ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقدہ دو دو ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے والے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ہی ریفرنس دائر کر دیا، ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ جانبدار ہیں، مبینہ جانبداری کے باعث وہ اس عہدے کے اہل نہیں، چیف الیکشن کمشنر کو اس کے عہدے سے ہٹایا جائے۔۔۔ اب فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے۔

    لیکن عمران خان اور تحریک ِ انصاف کے دوست قوم کو یہ بھی تو بتائیں اور سمجھائیں کہ جس چیف الیکشن کمشنر کو آپ نے خود تعینات کیا تھا اپنے دورِ حکومت میں وہ جانبدار کیسے؟ اور وہ کس کا جانبدار ہے؟

    کیا اس عہدے پر تعیناتی کے وقت آپ کو معلوم نہیں تھا کہ "بھئی یہ تو جانبدار بندہ ہے”؟

    یہ تو وہی بات ہوئی کہ” میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔۔۔۔”

    جن نشستوں پر تحریکِ انصاف جیتی وہاں جمہوریت کی جیت اور حق کی فتح جبکہ جن جگہوں پر بہت کم مارجن سے شکست ہوئی وہاں دھاندلی کا الزام اور چیف الیکشن کمشنر جانبدار۔۔۔؟

    ایسے کیسے گلشن کا کاروبار چلے گا کہ آپ میدان میں اکیلے دوڑکے خواہش مند ہیں اور ریفری بھی اپنی مرضی کا چاہتے ہیں۔۔۔

    حقیقی آزادی کی تحریک میں گیم فکسنگ کی اس کوشش کو کیا سمجھا جائے؟

    کیونکہ آج آپ اپنے دور میں تعینات کیے گئے بیشتر عہدیداروں جن میں آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، چیف جسٹس اور اب چیف الیکشن کمشنر تک پر شکوہ کناں ہیں کہ کسی نے آپ کو عدم اعتماد کی تحریک میں ریسکیو نہیں کیا، کسی نے آئین کی مبینہ غلط تشریح کرکے پی ڈی ایم کو فائدہ دیا، کوئی مبینہ مسٹر ایکس وائے زیڈ بن گیا اور اب چیف الیکشن کمشنر بھی آپ کو جانبدار لگ رہا ہے۔۔۔

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ والا یہ رویہ زیب نہیں دیتا لیکن اس کی پرواہ تحریکِ انصاف یا عمران خان کی جانب سے کب کی گئی ہے؟

    اگر اسی چیف الیکشن کمشنر پر آمادگی ظاہر بھی کی تو ساتھ ہی کہہ دیا کہ اور چوائس ہی کہاں ہے؟ مطلب کوا سفید ہی ہے۔۔۔۔

    دوسری طرف خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق جماعت اسلامی کراچی بھی چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کرکے برہم ہے۔۔۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن ملتوی کرانا پی ڈی ایم کامشترکہ ایجنڈا ہے، الیکشن کرانے والے بھی زرداری ڈاکٹرائن پرچل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اہلکاروں کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی، الیکشن کمیشن کا یہ کام نہیں کہ الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں سے پوچھے، الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا مقصد صرف وسائل پرقبضہ برقراررکھناہے۔

    حافظ نعیم کا کہنا تھاکہ جواز بیان کیا گیا سندھ میں سیلاب کی وجہ سے نفری کم ہے، ہم نے پوچھا کہ بتایا جائے نفری کہاں کہاں لگی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر آپ کی پوزیشن نہیں کہ آپ پوچھتے رہیں، آپ سندھ حکومت کے سہولت کار بن رہے ہیں، بہتر ہے چیف الیکشن کمشنر استغفی دے دیں۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔

    آئینی اداروں کے پاس کیا اختیارات ہیں اور کس طرح وہ اپنی غیر جانبداری پر عوام اور سیاستدانوں کو مطمئن کرسکتے ہیں اس پر اداروں کو اب مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اداروں پر سیاستدانوں اور عوام کے عدم اعتماد اورغم و غصے کا یہی مومینٹم رہا تو نظام اور ریاست مزید خرابی کے شکار ہو سکتے ہیں۔

  • عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    اگر سیاسی اور جماعتی وابستگی سے ھٹ کر ذرا دیکھیں تو ارض پاکستان بہت گھمبیر حالات سے گزر رھا ھے جو آج حالات چل رھے ھیں وہ کچھ ماہ قبل بڑی حد تک کنٹرول کر لیئے گئے تھے.

    میں اس دن ھی بہت خوش تھا جب او ائی سی کا اجلاس پاکستان میں منعقد ھوا تھا امت مسلمہ کے تمام نمائندگان اپنے بڑے بھائی پاکستان میں جمع تھے اور دنیا میں ایک نیا اتحاد طلوع ھونے والا تھا امت کی زبوں حالی اور مظلومیت کا دور چھٹنے والا تھا عالمی سطح پہ پاکستان کا ایک زبردست سوفٹ امیج پروان چڑھ رھا تھا پاکستان کورونا وار سے بچ کر اپنے پاؤں پہ کھڑا ھو رھا تھا.

    امریکہ کے غلامانہ تعلقات کی بجائے روس کے دوستانہ ماحول کو پروان چڑھایا جا رھا تھا انٹرنیشنل لیول پہ مہنگائی کا وار تھا پاکستان اس سے بھی نبرد آزما تھا کہ یک لخت میرے ملک کو کسی کی نظر کھا گئی ایک رات میں ھی کایا پلٹ دی گئی جو تخت پہ تھے ان کو فرش پہ بٹھا دیا گیا اور جو مجرم تھے جو اشتہاری تھے ان کو مسندوں پہ بٹھا دیا گیا جن پہ کرپشن کے بلنڈر تھے ان کو دودھ سے نہلا دیا گیا ان کے ھر جرم سے ھر گناہ سے اعراض کر لیا گیا ملک کی پرواہ کیئے بغیر دنیائے عالم کے تعلقات کی پرواہ کیئے بغیر بس ایک نامعلوم سازش کے تحت میرا ملک کئی دھائیوں پیچھے زبردستی دھکیل دیا گیا ۔

    اس گھپ اندھیری رات میں مسائل اور وسائل سے الجھی عوام میں جو امید کی کرن بن کر نکلا وھی عوام کے دلوں کا بادشاہ بنا ۔ جب گذشتہ جنرل الیکشن میں پی ٹی ائی نے الیکشن جیتا تو ھارنے والوں نے سیدھا اسٹیبلشمنٹ پہ الزام دھر دیا لندن سے ویڈیو خطاب تک کیئے گئے جگہ جگہ یہی الفاظ دھرائے گئے کہ مجھے کیوں نکالا اور یہ بیانیہ بری طرح فلاپ ہو گیا ۔

    اب جب کہ یہی ستم عمران خان کے ساتھ دھرایا گیا تو وہ بجائے رونے دھونے اور مظلوم شہید بننے کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے عوام کو کسی حد تک شعور دلانے میں کامیاب ھوتے نظر آ رھے ھیں عوام میں بیداری کی ایک لہر دوڑ پڑی ھے وہ تیس سالہ تجربہ کار ٹیم کے ھاتھوں دوبارہ لٹنا نہیں چاھتے وہ نہیں چاھتے کہ ھم پہ وہ کبھی دوبارہ مسلط نہ ھوں جنہوں نے ھمارے خون پسینے سے کمائے مال سے اپنی کئی کئی نسلوں کے مستقبل کو سنوار دیا جنہوں نے کرپشن زدہ مال کو بچانے کیلئے کئی کئی کہانیاں گھڑیں مگر ھر کہانی کو عوام ںے بری طرح مسترد کر دیا.

    ان سب باتوں کا ثبوت آپ دیکھ سکتے ھیں دو دن قبل ھونے والے ضمنی الیکشن میں جہاں پہ پی ڈی ایم نامی کثیر الجماعتی اتحاد ایک طرف اور عوام میں شعور اور بیداری پیدا کرنے والا لیڈر ایک طرف اکیلا تھا اور عوام نے بڑے سیاسی اتحاد کو مسترد کر دیا اب تو اسٹیبلشمنٹ کا بھی کوئی رولا نہیں اب تو لاڈلے بھی کوئی اور ھیں اب تو وفاق بھی پی دی ایم کا سندھ بلوچستان بھی پی ڈی ایم کا مگر رزلٹ PDM کیلئے انتہائی افسوناک ھے پی ڈی ایم والے سر پکڑے بیٹھے کہ مرضی کے اور پسندیدہ حلقے تھے مقتدر اور بیرونی طاقتوں کی آشیرباد بھی ھمارے ساتھ پھر ھم ریجکٹ کیسے ھو گئے؟

    تو میں بتلائے دیتا ھوں کہ پہلے عوام میں اندھی تقلید تھی عوام تیس سال اپنا مستقبل تمہارے ھاتھوں تباہ ھوتے دیکھتی رھی مگر شاید اب ایسا نہ ھو جو عوام میں ازادی کے نعرے کے ساتھ اتر جائے پھر عوام کے دکھوں کا مداوا کر لے عوام کے دلوں کا ترجمان بن جائے پھر اس کے خلاف کوئی آڈیو ویڈیو بھی کام نہیں کرتی یہ نوشتہ دیوار ھے ان تیس سالہ تجربہ کاروں کیلئے کہ اب شاید عوام فنکاریاں ہسند نہیں کرے گی نا کہانیاں اور نا دل بہلا دینے والے جھوٹے بیانیے قبول کرے گی.

    اگر عوام کی حمایت لینی ھے تو قربانیاں دینی پڑیں گیں عوام آپ کی قربانی نہیں مانگتی عوام تو وہ مانگتی جو آپ نے عوام کا لوٹ کر کھا چکے عوام تو چاھتی جو لوٹ چکے ھو وہ میرے ملک کو واپس کر دو میرے ملک پہ رحم کر دو عوام تو اپنی اور ملک کی دولت واپس مانگتی ۔۔۔ بے شک عدالتوں نے آپکو ایون فیلڈ کیس سے بری کر دیا پی ڈی ایم کے سرکردہ رہنما اس وقت ھر کیس سے بری کر دیئے گئے مگر عوام کی عدالت میں آپ مجرم ھیں آپ چور ھیں.

    اس وقت تک آپ الیکشن نہیں جیت سکتے جب تک آپ عوام کی عدالت میں بری نہیں ھو جاتے عمران خان کو دنیا کی ھر عدالت مجرم قرار دیدے مگر وہ عوام کی عدالت میں بری ھے عوام کی نظر میں ھیرو ھے عوام کے اذھان و قلوب میں آزادی کا نشان ھے اسی لیئے وہ ھر میدان میں کامیاب ھو رھا ۔۔۔

    میں دعوت دیتا ھوں ان شکست زدہ لوگوں کو کہ خود کو عوام کی عدالت میں پیش کریں عوام میں سرخرو ھو جاؤ گے تو پھر تمہاری جیت مبارک ھو جائے گی۔

  • ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دَسْتَک کے اردو معنی، دروازہ بجانا، دروازہ اور پھاٹک کھٹکھٹانے اور تھپتھپانے کے عمل کو کہتے ہیں.

    دستک یا ڈور بیل ہماری روٹین اور معمول کا لازمی جز ہے۔

    ہمارا رویہ کسی دوست، عزیز یا پڑوسی کے گھر گئے یا بعض دفعہ اپنے گھر کی دستک یا بیل بجانی ہو تو بیل پر انگلی رکھ کر چسکے لینے لگتے ہیں جو کہ نہایت بےہودہ حرکت ہے۔ اگر مطلوبہ دروازے پر بیل کی بجائے دستک دینی پڑ جائے تو اردگرد کے لوگوں کو بھی مشقت میں ڈال دیتے ہیں۔

    عزیز بھائیو ! ذرا سوچیں کہ ممکن ہے اندر گھر میں کوئی مریض ہو یا کسی کو گھنٹوں کی مشقت سے گذر کر نیند کی گھڑی میسر آئی ہو یا پھر ممکن ہے کوئی کسی اہم امر میں مشغول ہو بعض دفع پردے والے گھر میں کسی مرد کے گھر میں نا ہونے کے سبب بھی تاخیر ہو جاتی ہے لہٰذا حوصلہ تحمل اور بردباری ایک ضروری وصف ہے جس کو ہم سب میں ہونا چاہئیے۔

    اسلامی ہدایات

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے
    قبل اجازت لینے کے آداب کیا ہیں؟

    کسی کے گھر جانے سے قبل اجازت لینا ایک اچھے اور مہذب انسان کی پہچان اور اس کی شرافت کى دليل ہے. ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس کی اجازت کے بغیر پہنچ جاتا ہے تو اس کو ایسی حالت میں دیکھے گا جس میں شاید اسے دیکھنا پسند نہ ہو. شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کی بالکل گنجائش نہیں کہ کوئی آدمی کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو. اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا

    “اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو.” سورۃ نور 27

    اسی لئے اسلام نے اجازت کے کچھ آداب بیان کئے تاکہ اس کے ماننے والے اس کى روشنى میں اپنى عملی زندگی گزار سکیں.

    1 گھر کے اندر نہ جھانکا جائے۔

    کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے گھر میں اور اوپر نیچے جھانکنے کی، ایسے لوگ اچھے مزاج کے ہرگز نہیں ہو سکتے. بخاری، مسلم كى روايت ہےحضرت ابو هريره رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کسی شخص نے تمہارے گھر میں بغیر تمہاری اجازت کے جھانکا اور تم نے اسے كنكری پھینک کر ماری اور اس کی آنکھ پھوٹ گئی تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں۔

    2 اجازت لینے والے کو چاہئیے کہ وہ دروازے کے بالکل سامنے نا کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ براہ راست گھر میں نظر نہ پڑسکے۔ ( نہایت اہم بات )

    پھر دروازے پر کھڑے ہوکر "السلام علیکم” کہتے ہوئے كہے: کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ دروازے پر دستک دیتے وقت زور زور سے دروازہ پیٹنا اچھی بات نہیں بلکہ اتنی زور سے دروازہ مارا جائے کہ آواز اندر چلی جائے. دروازے پر تین بار ٹھہر ٹھہر کر دستک دے۔

    3 اجازت لینے والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے۔

    جب آپ کسی کے دروازے پر دستک دیں گے اور وہ آپ کے لئے دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو واضح ہے کہ وہ دروازہ کھولنے سے پہلے آپ کا نام جاننا چاہے گا، اس لئے اپنا نام بتانے میں کسی قسم کے جھجھک کا تجربہ نہیں کرنا چاہئیے۔

    بخاری، مسلم كى روايت هے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض میں مدد مانگنے کے لئے گیا جو ہمارے باپ پر تھا. میں نے دروازہ پر دستک دی تو آپ نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں ہوں. تو آپ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا "میں” "میں” گویا آپ نے اسے ناپسند كيا۔

    4 اجازت نہ ملنے پر لوٹ جائیں۔

    اگر اجازت نہ مل سکے تو گھر والوں کے بارے میں کوئی برا خیال نہ رکھیں اور وہاں سے لوٹ جائیں کہ ظاهر ہے کہ کسی صحیح وجہ کی بنیاد پر ہی آپ کو اجازت نہیں ملی ہے: اللہ کریم نے فرمایا:-

    سورة النور 28

    ترجمہ: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہی تمہارے لئے زیادہ اچھی بات ہے. اللہ اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ سور النور آیت 28..

  • ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر لکھی تھی کہ انگلش فلموں میں ولن ہمیشہ انتہائی طاقتور اور ہیرو ایک عام آدمی ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے آپ اس وقت ہارتے ہیں جب آپ خود ہار تسلیم کرتے ہیں اس لئے وہ آخری وقت تک پرامید رہتا ہے لگاتار ناکامیوں کے باوجود حوصلہ نہیں ہارتا اور جیتنے کے لئے مناسب موقع کی تلاش میں رہتا ہے جب اسے قسمت سے موقع ملتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو کامیابی میں تبدیل کر لیتا ہے ۔

    یاد رکھیں یاد صرف فلم کا اختتام ہی رہتا ہے اور فلم کے اختتام میں حاصل کی گئی ایک کامیابی کی بنیاد پر لوگ اس کی ساری ناکامیوں کو بھول کر اسے ہیرو کا درجہ دیتے ہیں لیکن یہ ایک کامیابی حاصل کرنے کے پیچھے اس کا جوش، جذبہ اور انتھک محنت ہوتی ہے اس لئے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر شخص میں ایک ہیرو بننے کی صلاحیت ہے صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کسی کام کو ناممکن نہ سمجھیں راستے کی مشکلات سے بددل نہ ہوں ۔

    پاکستان کی سیاست میں ناممکن کو ممکن بنانے والی شخصیت کا نام ہے عمران خان، جنہوں نے سیاست شروع کی تو اپنی الگ سیاسی جماعت بنائی لوگ ان پر ہنسے کہ ایک نوآموز سیاست دان پرانی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں میں کیسے اپنا مقام بنائے گا یہ عنقریب اپنی جمع پونجی لٹا کر سیاست سے تائب ہو جائے گا یا پرانی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ پر بیعت کر لے گا لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ اس نوآموز سیاست دان نے تمام پرانے سیاست دانوں کی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا اور اپنی انتھک سیاسی جدوجہد میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے بلند ترین سیاسی مقام وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز ہوا ۔

    جس وقت پی ڈی ایم کی جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپنا وزیراعظم منتخب کرایا تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب عمران خان پاکستان کی سیاست سے آؤٹ ہو گئے ہیں لیکن وہ رجیم چینج کا بیانیہ لے کر دوبارہ عوام کی عدالت میں گئے اور عوام کو قائل کیا کہ ان کی حکومت کی تبدیلی کی وجہ خراب طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابری کی سطح پر بات چیت کرنا ہے اور ملکی مفاد کے خلاف کسی بھی بات پر انہیں واضح انکار کرنا ہے ۔

    پی ڈی ایم کو قوی امید تھی کہ وہ مہنگائی کو قابو کر کے رائے عامہ کو اپنے حق میں کر لیں گے لیکن ان کی بدقسمتی کہ وہ ایسا نہ کر سکے اسی دوران پنجاب کے ضمنی انتخابات آ گئے جس میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ان کے پاس رہنی تھی اپنا نگران وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود پی ڈی ایم ضمنی انتخابات ہار گئی اور تخت پنجاب ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔

    شکست کا بدلہ لینے کے لئے پی ڈی ایم نے قومی اسمبلی کی ان نشستوں سے پی ٹی آئی اراکین کے استعفیٰ قبول کئے جہاں وہ کم ووٹوں سے انتخابات جیتے تھے تاکہ ان نشستوں کے ضمنی انتخابات میں وہ تمام جماعتوں کا مشترکہ امیدوار کھڑا کر کے تحریک انصاف کا مقابلہ کریں اور انہیں شکست دے کر بتائیں کہ اب تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے اس وجہ سے عوام نے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیا ۔

    عمران خان نے کمال چالاکی سے پی ڈی ایم کی سیاسی چال انہی پر الٹ دی اور تمام حلقوں سے ضمنی انتخاب خود لڑنے کا اعلان کر دیا یہ ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ تھا جس میں ناکامی کی صورت میں تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچ سکتا تھا لیکن عمران خان نے رسک لیا اور ضمنی انتخابات میں سات میں سے چھ حلقوں میں فتح حاصل کر کے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کیا جبکہ ساتویں حلقے میں انتخابی بےضابطگیوں کے واضح ثبوت ہونے کی وجہ سے اس حلقے کے انتخابی نتائج کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ۔

    ضمنی انتخابات کے نتائج نے عمران خان کی رجیم چینج کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جبکہ پی ڈی ایم کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچایا ہے جس کا انہیں آنے والے انتخابات میں معلوم ہو گا ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد امید ہے کہ اب عمران خان کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور شاید مقتدر حلقوں نے ابھی تک گلے شکوے دور کرنے کے لئے ان سے رابطے بھی کر لئے ہوں ۔

    اس سارے عمل میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب کا سیاسی کردار بھی ناقابل فراموش ہے آپ نے سیاسی فہم کا ثبوت دیتے ہوئے اس وقت مقتدرہ سے تعلقات قائم رکھے جب آپس میں شدید بداعتمادی کی فضا قائم تھی اور آپ نے تحریک انصاف اور مقتدرہ کے درمیان بداعتمادی کو دور کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان خلیج دور ہوئی اور آپ نے تحریک انصاف کی قیادت کو بھی یہ باور کرایا کہ ملکی مفاد میں فیصلے فرد واحد یا ایک سیاسی جماعت تنہا نہیں کر سکتی بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور آپس کے تعلقات دیرپا ثابت ہوں امید ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں فتح کے ثمرات تحریک انصاف کو عنقریب حاصل ہوں گے ۔

    عمران خان نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ ہیرو بننے کے لئے مضبوط بیک گراؤنڈ نہیں چاہیئے ہوتا اگر آپ میں جذبہ اور لگن ہو، آپ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ہارنے پر بددل ہونے کے بجائے جیتنے کے لئے اگلی مرتبہ زیادہ جذبے سے میدان عمل میں آنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو آپ ٹیم پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں اور پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں ۔

    بقولِ شاعر

    تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

  • بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی سیاست میں تبدیلی کے نقارے بج اٹھے ہیں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کو لے کر کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر اوپیکس ممالک نے امریکی صدر کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور شاہی خاندان کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ خدشہ ہے کہ عالمی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت سمیت اس خطے پر بھی پڑیں گے۔ تاہم عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی خبر رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدان حلال ہے یا حرام ہے کی بحث میں پڑے ہیں،

    حکمران عمران کا مارچ کدھر سے آئے گا کدھر جائے گا کی بحث کر رہے ہیں جبکہ عمران خان خفیہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے اس سے بے خبر ہمارے سیاستدانوں نے وطن عزیز کو کن بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے راہزنوں اورر قزاقوں نے اپنی تجوریاں اپنے ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملک اور عوام کے مسائل سے آنکھیں بندکر لی ہیں۔حیرانگی کی بات ملک بحرانوں کا شکار ہے ہمارے سیاستدان اس بحث میں پڑے ہیں نیا آرمی چیف کون ہوگا کون ہونا چاہئے کیسا ہونا چاہئے ؟ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ان کا کام ہی نہیں ۔

    ملک کا آئین کیا کہتا ہے آئین کے مطابق اور سنیارٹی کے مطابق کون نیا آرمی چیف ہوگا اور پھر یہ معاملہ خالصتاً خود آرمی کا ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد میں مل کر ماضی میں اپنے تئیں غلطیوں کا اعتراف کریں مکمل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں۔ کرپشن، بدعنوانی ،ذاتی مفادات ،اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر قومی خدمت کا تہیہ کریں تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر قائداعظم کے تصور کردہ اصولوں کے مطابق ملکی نظام کو چلائیں ۔ ملک آج بھی بحرانوں کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔ پرانی پنجابی فلموں کی طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست بھی تھک چکی ہے ریاست اب اس طرز سیاست کرنے والوں کی بڑھک بازی کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

  • جنرل قمر جاوید باجوہ بطور آرمی چیف اور سیکیورٹی چیلنجز ، بقلم: شکیل احمد رامے

    ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار

    بقلم: شکیل احمد رامے

    گزشتہ تین دہائیوں سے ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار مٹی کے ایک ایک ذرے سے عیاں ہے۔ موجودہ امن کا تناظر اس کا گواہ ہے۔ بلاشبہ یہ ہماری آنے والی حکومتوں کی مسلسل اور عوامی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ آپریشن ضرب عضب جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن ان کے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ادارے کی مشترکہ کوششوں سے اسے دیرپا کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جنرل باجوہ، جو آرمی چیف کے طور پر اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں، نے یہ عہدہ 6 سال قبل سنبھالا تھا۔ اپنے دور میں، انہوں نے دہشت گردی، ہائبرڈ جنگ اور سی پیک کو محفوظ بنانے سمیت کئی محاذوں پر لڑنے میں پاکستان کی قیادت کی۔

    اس طرح، سیکورٹی چیلنجوں کے تناظر میں ان کے دور کا تجزیہ کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ملک کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے کا کردار کتنا بہترین تھا اگرچہ، ان کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن میں چار اہم ترین کارناموں پر بات کریں گے

    سب سے پہلے، ان کی کمان میں پاک فوج نے ردالفساد کے نام سے ایک جامع انسداد دہشت گردی آپریشن شروع کیا۔ یہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن ہے، جو 2017 سے جاری ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عام شہریوں کے ساتھ مل کر اور قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ پروگرام کے اہم عناصر ہیں، طاقت کے استعمال کا حق ریاست کے پاس ہے، ڈبلیو بی ایم آر کے تحت مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانا، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ، پرتشدد انتہا پسندی کا خاتمہ، اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں فلاحی اقدامات۔ یہ سب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں انتہائی عمدہ طریقے سے کام ہوا

    ملٹری اور ایل ای اے نے 3 لاکھ سے زائد آئی بی اوز آپریشن کیے، غیر قانونی ہتھیار اور گولہ بارود ضبط کیا۔ فوج نے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو بھی پکڑا اور دہشت گردوں کی سزا کو یقینی بنایا۔ ایک اندازے کے مطابق دہشت گردوں کو سزا سنائے جانے کی شرح 70 فیصد تھی۔ پاک فوج نے تقریباً 40 ہزار پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت بھی دی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ سیکیورٹی کے بہتر ماحول نے بین الاقوامی برادری خصوصاً سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بڑھانے میں بھی مدد کی۔ اس نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد کی جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔

    دوسرا، فوج نے ففتھ جنریشن وارفیئر (FGW) یا ہائبرڈ وارفیئر (HWF) سے لڑنے کی صلاحیتیں بنانا شروع کر دیں۔ پہلا مرحلہ ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو قائم کرنا تھا۔ دوسرا مرحلہ جنگ میں مؤثر طریقے سے قیادت کرنے کے لیے انسانی وسائل کو تربیت دینا تھا۔ تیسرا مرحلہ وسائل کی تعیناتی اور انسانی وسائل کو زمینی حقائق سے واقف کرانا اور حقیقی وقت کی لڑائی میں مشغول ہونا تھا۔ اس کی فوری طور پر ضرورت تھی، کیونکہ پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بدترین متاثرین میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے دشمنوں نے ہر طرف سائبر ویئر اور پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے آغاز نے پاکستان اور چین کے مخالفین اور دشمنوں کو مزید اشتعال دلایا اس طرح انہوں نے پروپیگنڈا، سائبر وار اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں تیزی لائی۔ خوش قسمتی سے، پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بہتر اور فعال نظام کی وجہ سے پروپیگنڈے اور سائبر جنگ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔

    تیسرا، افغانستان سے امریکی افواج کے اچانک انخلا نے خطے کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی۔ فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کو زیادہ خطرہ لاحق تھا۔ پاکستان کے دشمنوں اور مخالفین نے اسے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کا اچھا موقع سمجھا۔ ان کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر پاکستان کو لپیٹ میں لے لے گی۔ تاہم، بروقت اقدامات اور انسداد دہشت گردی کے بہتر نظام اور ردالفساد جیسے اقدامات نے صورت حال پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے سے (جو کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 4 سال میں مکمل کیا تھا) نے بھی سرحد پار دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے میں مدد کی۔ اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے کچھ واقعات دیکھے لیکن بڑی حد تک صورتحال قابو میں رہی۔ اب پاکستان نئی ضروریات اور ضرورت کے مطابق انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چوتھا، پاکستان کی مسلح افواج نے بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلح افواج نے تمام کارروائیوں کو نافذ کیا، جو انہیں تفویض کیے گئے تھے۔ فوج نے ڈی ریڈیکلائزیشن کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پیغام پاکستان ایک اور بہترین اقدام ہے، جس نے بنیاد پرستی کو کم کرنے میں مدد کی۔

    پانچواں، سی پیک ایک بہت بڑا پروگرام ہے، جو پاکستان کے معاشی اور سماجی منظر نامے کو بدل سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی، ایک ایسے وقت میں جب پاکستان متعدد مسائل میں گھرا ہوا تھا اور ہمارے دوست، خاص طور پر جنگی دہشت گردی کے اتحادی ہمیں چھوڑ گئے۔ بلکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ اس تناظر میں چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔ یہ پاکستان کے مخالفین کے لیے بُری خبر تھی، اور انہوں نےسی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے متعدد پروگرام/کارروائیاں شروع کیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے سی پیک کی اہمیت اور سیکورٹی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر سیکورٹی کا ایک جامع فریم ورک تیار کیا۔ سیکورٹی فریم ورک کے مالک، مسلح افواج اور LEA نے سی پیک کے پہلے مرحلے کے دوران سی پیک سے متعلق سرمایہ کاری کا کامیابی سے دفاع کیا۔

    اتنی بڑی کامیابی کے باوجود، کچھ ایسے شعبے ہیں، جن کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح نئی قیادت کو ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر، اب سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو سی پیک کے پہلے مرحلے سے بالکل مختلف ہے۔ اس طرح سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ضروریات کے مطابق سیکیورٹی فریم ورک کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ عالمی حالات بھی بہت تیزی سے بدل رہی ہیں اور بہت سے بڑے کھلاڑی سی پیک کے حق میں نہیں ہیں۔ روس اور یوکرائن کا بحران صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا بھی علاقائی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔ اس تناظر میں سی پیک کے لیے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔

  • تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    نئی دہلی: تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں تین سال کا بچہ اپنی ماں کے خلاف شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا۔ بچے نے تھانے کے عملے سے ماں کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے ٹافیاں کھانے نہیں دیتیں اورتھپڑمارتی ہیں اس لیے انہیں گرفتار کیا جائے۔


    تین سال کے صدام کو اس کے والد ضد کرنے پر تھانے لے کر پہنچے تو تھانے کا عملہ اتنے کم عمر شکایت لے کر آنے والے کو دیکھ کر حیران رہ گیا بچے نے خاتون سب انسپکٹر کو اپنی والدہ کے خلاف شکایت درج کرائی اور انہیں گرفتار کرنے کا کہا-

    اس واقعے کی ویڈیو، سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، اس میں صدام کو برہان پور کے دیتلائی میں سب انسپکٹر کو اپنی شکایت بیان کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ سب انسپکٹر پرینکا نائک سے کہتا ہے، "امّی نے میری مٹھائیاں چرائی، اسے جیل میں ڈال دیا۔

    ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    خاتون افسر نے بچے کو پیار کیا اور جھوٹ موٹ اس کی شکایت درج کرکے ایک کاغذ پر باقاعدہ دستخط بھی کروائے بچے کی معصومیت پر اپنی ہنسی پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے، اس سے کچھ سوالات پوچھتی ہیں اور شکایت درج کروانے کا بہانہ کرتے ہوئے اپنے خدشات کو بیان کرتی ہیں۔

    پولیس افسر نے بچے کو یقین دہانی کرائی کے اس کی ماں کوگرفتار کرلیا جائے گا۔ ماں کے خلاف تھانے پہنچنے والے بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگی۔

    صدام کے والد نے پولیس کو بتایا کہ جب اس نے کینڈی مانگی تو اس کی ماں نے اس کے گال پر آہستہ سے پیٹا اس نے صدام کو پریشان کر دیا، اور اس نے مجھ سے اسے پولیس والوں کے پاس لے جانے کو کہا۔

    ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد، ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ایک ویڈیو کال پر بچے سے بات کی اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ دیوالی پر اسے چاکلیٹ اور ایک سائیکل بھیجے گا-

    قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں سعودی عرب کی کوششیں قابل تعریف ہیں،یوکرین