Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیر بظاہر ایک قلع بند وادی ہے، جس کے چاروں اطراف فلک بوس کوہسار ہیں۔ یہ دیو قامت کوہسار کشمیر کے فطری اعتبار سے حفاظتی حصار ہیں۔

    لیکن اس سب کے باوصف وادئ کشمیر ایک بوتل بند سرزمین نہیں ہے۔ جہاں قدرت نے اس کے اردگرد فلک بوس دیوار کھڑا کی ہے وہاں اس جنت نشین خطہ کو بہت سے فطری راستے بھی عطا کئے ہیں جن سے وادی کا رابطہ دنیا جہاں سے تھا۔ مثال کے طور پر شاہراہ ابریشم کی راہداری، جو کشمیر کو وسطی ایشیا، مشرقی وُسطی اور چین سے ملاتی تھی۔ اسی طرح مُغل شاہراہ، جو وادی کو ۱۹۴۷ سے قبل ہندوستان اور افغانستان سے ملاتی تھی۔ اوڑی والا راستہ جو پنجاب اور افغانستان سے ملاتا تھی۔ اور اگر کلاروس کے غاروں کے پس منظر کو صحیح تسلیم کیا جائے تو یہ فطری ٹنل کشمیر کو رُوس سے اور یورپ ملاتا تھا۔ اس کے علاوہ جموں سرینگر راستہ جو ڈوگرہ مہاراجوں نے تعمیر کیا تھا۔

    مگر اس کا کیا کیا جائے کہ 1947 کے غیر فطری تقسیم نے پوری وادیِ کشمیر کو بوتل بند کرکے رکھ دیا۔ صرف ایک راستہ بچا جو سرینگر جموں راستہ کہلاتا ہے۔ مگر اس کے متعلق ہمارے مرحوم صاحبِ انکل جی اے مانتو کہتے تھے کہ یہ "جغرافیائی راستہ نہیں ہے بلکہ سیاسی راستہ ہے”۔ مرحوم بخشی غلام محمد کے دورِ وزارت اعظمی میں مغل شاہراہ کو تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی لیکن اُس وقت کی مرکزی سرکار کو کیا محرکات نظر آئیں کہ اُس نے مغل روڈ کو تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ خیر تقسیم ہند کی نصف صدی کے بعد مفتی محمد سعید جب وزیر اعلی بنے تو انہوں نے کشاں کشاں مغل شاہراہ کو تعمیر کیا۔

    کشمیر کے فطری راستے بند ہونے سے کشمیری معیشت کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے؛ بلکہ کشمیر کے مسدود راستوں کی وجہ سے کشمیر کی اقتصادیات کو آج بھی بقا کے لالے پڑے ہیں۔ یہاں کی ساری آزاد تجارت بوتل بند اور محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

    راستوں کی اس نایابی کے سب انتہائی بڑے نقصانات یہاں کی میوہ صنعت اٹھانا پڑے اور تادم تحریر یہ مشکل ترین سلسلہ جاری ہے۔ بہرحال اب مغل شاہراہ اور جموں سرینگر شاہراہ وہ واحد راستے ہیں جن کے ذریعے میوہ جات وادی سے باہر جاسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ جموں سرینگر شاہراہ کی کشادگی اور چہار راہ(Four way) پر تعمیر جاری ہے جس سے میوہ جات کشمیر سے باہر جانے میں انتہائی پیچیدہ مسائل پیدا ہوئے۔ شروع میں مال ٹرکوں کی آمد رفت کے لئے صرف 4 گھنٹے مختص کئے گئے جو انتہائی ناکافی تھے۔ اس حوالے سے ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے پورے ایک مہینے میں انہیں صرف دو بار وادی سے باہر جانے کا موقع ملتا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں میوہ ٹرک درماندہ ہو رہے تھے جس کے کارن میوہ راستے میں ہی سڑ جاتا ہے اور بعد میں باہر کی منڈیوں میں کوڑیوں کے مول بک جاتا ہے۔ اس صورتحال سے فروٹ گروورز سخت نالاں ہوئے اور سرکار سے فریادی ہوئے۔ سرکار بھی نیند سے جاگی اور بعد از خرابی بسیار حکم جاری کیا کہ میوہ ٹرکوں کو "بلا روک ٹوک” جانے دیا جائے۔

    لیکن ایک تو راستے کی رکاوٹیں اور دوسرے بمپر کراپ کی وجہ سے کشمیر کا شاندار اور لذیذ سیب اپنی افادیت کھو بیٹھا اور کوڑیوں کے مول ہر جگہ بکنے لگا۔ راجستھان میں پچاس روپے میں تین کلو، ممبئی میں تین سو روپے فی پیٹی اور دہلی میں تین سو سے چھ سو اور یہاں دو سو سے پانچ سو کی گراوٹ تک پہنچ گیا۔

    ایک گروور نے مجھے ۴ سال پہلے پنجورہ نامی "میوہ گاؤں” میں بتایا تھا کہ میوہ اگانے والے کو خود ایک پیٹی سیب 400 روپے میں بغیر پیٹی کے حاصل ہوتی ہے۔ یعنی درختوں پر ہی۔ اب 500 روپے تک اس کی درختوں پر ہی لاگت آتی ہے۔ اور آج اس کو یہاں دو یا چار سو ملتے ہیں۔ یہ تو اس انڈسٹری کا زوال ہے۔ امسال یہ صنعت انتہائی زوال کا شکار ہے۔ بلکہ اگر کہا جائے تو اپنی موت کے قریب ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پلوامہ ضلع میں کئی باغ مالکان کو اپنے باغات میں سیب کے درخت کاٹنے کے ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر ہو رہے ہیں!

    سوال یہ ہے کہ اگر مختلف ریاستوں سے بمپر پیداوار ہوتی ہے تو مرکزی حکومت دوسرے ملکوں سے کیوں سیب بڑی تعداد میں برآمد کرتی ہے؟۔ موجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت یہاں سے ہی سیب کو ایکسپورٹ کرے۔ باہر سے سیب کی برآمد پر فوری طور مکمل پابندی لگائے۔

    حال ہی میں ترکی سے خبر ملی ہے کہ تُرکیہ حکومت نے 24 بلین ڈالر کے میوے مشرقی وسطی اور خلیج کے ملکوں کو ایکسپورٹ کئے۔ یہ 2 ٹرلین اور 95 ارب ہندوستانی روپے بنتے ہیں۔ لیکن کشمیر کے گروورز بوتل بند ہیں۔ ان کی باقی دنیا کے ساتھ رسائی ایک حسرت، تمنا ہی نہیں بلکہ ایک ڈراؤنا خواب ہے!

  • وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    تحریک آزادی ہند میں کلیدی اور قائدانہ کردار دینی قیادت کا تھا جو بدقسمتی سے پاکستان میں ایک خاص متعصب گروہ کے سبب پس منظر میں چلا گیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دراندازوں نے ہندستان پر قبضہ کیا تو مزاحمت کار افراد کی قیادت دینی پس منظر کے حاملین نے کی ، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان مزاحمت کاروں میں ہر مذہب و طبقہ فکر کے لوگ شامل تھے ، یعنی مسلمان اور غیر مسلم ۔

    اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے جلد بعد عسکری مزاحمت اپنے اختتام کو پہنچی اور ہندستان پر انگریزوں کا قبضہ مستحکم ہوتا چلا گیا ، حتیٰ کہ ہندستان میں انگریز کسی حد تک پرسکون طور پر حکومت کرنے لگے ۔

    لیکن آزادی کی تڑپ قلب و اذہان میں زندہ تھی ، سو یہ عسکری جدوجہد سیاسی تگ و تاز میں بدل گئی جس کا پہلا مرحلہ یہ تھا کہ انگریزی حکومت میں رہتے ہوئے ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کیے جائیں ۔ ابتداء میں کانگرس کے مقاصد بھی محض نئے حاکموں کا اعتماد حاصل کرنا اور ان کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنا تھا ، جو بعد میں آئینی طور پر شہری حقوق کے حصول میں بدل گئے اور جب انگریز پہلی جنگ عظیم میں الجھ کر کچھ کمزور ہوئے تو اہداف آزادی کی تحریک میں بدل گئے ۔۔

    حتیٰ کہ دوسری جنگ عظیم میں باوجود فتح کے انگریزوں کی معاشی حالت کی خرابی اور عسکری کمزوری نے مکمل آزادی کی لگن مقامی سیاسی جماعتوں میں پیدا کر دی ۔۔۔یعنی یہ ان کو اب ممکن نظر آنے لگا ۔

    مسلم لیگ کا قیام ابتدائی طور پر صرف اسی نظام میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا تحفظ تھا اور ابتدا میں کانگرس سے الگ کوئی سیاسی اہداف بھی نہ تھے اور اس کو چیلنج بھی نہیں کر رہے تھے لیکن جلد ہی وہ متحارب جماعت بن گئی ۔۔۔۔بدقسمتی سے تحریک پاکستان سے پہلے محض تحریک آزادی کو فوکس کیا جائے تو مسلم لیگ کا کوئی نمایاں کردار دکھائی نہیں دیتا ، یہی وجہ تھی کہ آزادی کی لگن اور تڑپ کے حاملین مذہبی رہنما لیگ سے دور ہی دور تھے ۔۔۔۔۔اور یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی ہمارے پاکستان میں تحریک آزادی جیسا کوئی بھولا ہوا باب ہو جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

    یہ چند لائنیں ہرگز اس تاریخ کا احاطہ نہیں کر سکتیں لیکن اختصار مطلوب ہے ۔۔۔۔

    مسلم لیگ کی سیاست تو۔ انیس سو چھے میں شروع ہو گئی تھی ، لیکن اس کا فوکس بہت محدود تھا جس میں صرف مسلم حقوق کی بات تھی ہندوستان کی آزادی سے زیادہ اس کی سیاست کانگرس کا مقابلہ بن کر رہ گئی تھی ، جو بعد میں مطالبہ پاکستان کے بعد مزید ہی یک نکاتی ہو گئی ۔۔۔۔اب مسلم لیگ کا اول و آخر مقصد ہندوستان سے دو علاقوں کو الگ کر کے پاکستان بنانا تھا جبکہ اس کے مقابل کانگرس پورے ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی ۔۔۔

    یہاں درست نادرست کی بحث نہیں کر رہا صرف دونوں جماعتوں کی سوچ و فکر اور اہداف کا احاطہ کرنا مقصود ہے ۔

    حقوق کی جنگ جب الگ وطن کے حصول میں بدل گئی تو بھی مذہبی افراد کی اکثریت متحدہ ہندوستان کی حامی تھی ، لیکن حالات جوں جوں کشیدہ ہو رہے تھے ، مسلم لیگ کی مقبولیت اور تعداد بڑھ رہی تھی ۔اور یہ تقسیم ، توڑ پھوڑ و آمد سارے مسالک میں تھی ۔

    اب اہم ترین بات یاد رکھیئے کہ دونوں طرف کے لوگ اسلام ، ملک اور قوم کے ساتھ مخلص تھے اور انتہائی دیانتداری سے اپنے نظریات پر ڈٹے ہوئے تھے ، دوسرے لفظوں میں یہ ایک اجتہادی اختلاف تھا جس میں دونوں فریق اخلاص پر قائم تھے ۔

    اس لیے کسی جماعت کے ساتھ رشتہ ہرگز باعثِ فخر نہیں ہے ۔ہاں جب کبھی ہندستان کی پچھلی نصف صدی سے جاری توڑ پھوڑ کا عمل ختم ہو جائے گا اور ٹوٹی کشتی پار لگے گی تو تاریخ کا طالب علم دو ٹوک فیصلہ کر سکے گا کہ کون سا فریق حق پر تھا اور کامیاب رہا ؟
    ابھی تو سفر جاری ہے ، اور بحث کے نکات و دلائل موجود ۔۔۔۔ہاں میری نظر میں متحدہ قومیت والوں کے دلائل کا پلڑا بھاری ہے ۔

    کل سے ہمارے اہل حدیث احباب میں بعض شخصیات کے حوالے سے بھی ایک بحث جاری ہے کہ کون کون سا بزرگ کس جماعت کا حامی تھا اور کون مخالف ۔

    لمبا موضوع ہے ، لیکن مختصراً بتاتا چلوں کہ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی تو مسلم لیگ کے اتنے شدید حامی تھے کہ مولانا ابوالقاسم فاروقی لکھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو جیسے مسلمان سمجھنے میں بھی مشکل کا شکار ہوتے تھے کہ مسلم لیگ میں شامل نہ ہوں ۔۔۔۔یہاں مبالغہ ان کے مزاج کی شدت کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے ۔

    جبکہ مولانا اسماعیل سلفی تو آخر دم تک کانگرسی سوچ یعنی متحدہ ہندوستان کے حامی تھے ۔

    مولانا داؤد غزنوی البتہ پاکستان بننے سے قریب سال بھر پہلے مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ یہ حالات کا جبر تھا جس کی تفصیل کا محل نہیں ہے ۔

    مولانا ثناء اللہ امرتسری پہلے کانگریس کے حامی تھے اور ساتھ ہی ساتھ جمیتہ علمائے ہند کے نائب صدر تھے ، اور جمیعت علمائے ہند کا سیاسی موقف واضح ہے جس میں کوئی ابہام نہیں نہ قابلِ بحث ۔۔۔۔۔البتہ امرتسر میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے آل انڈیا اجلاس کی میزبانی اور صدارت بھی آپ نے کی تھی جو تقسیمِ وطن ہندوستان سے صرف سال بھر پہلے ہوا ، جبکہ انیس سو پینتالیس میں تو مولانا جمیت علمائے ہند کے نائب صدر تھے ۔۔۔۔یعنی یہ اکھاڑ پچھاڑ سب آخری سو برسوں میں ہوئی کہ جب تقسیم ہند ہونا صاف دکھائی دینے لگا اور سلامتی کا راستہ کچھ اور نظر نہ آ رہا تھا ۔

    چلتے چلتے یاد آیا کہ مولانا کا ایک ہی اکلوتا بیٹا تھا جو فسادات میں شہید ہوئے ، مولانا کا پریس لٹ گیا ، قیمتی لائبریری کو آگ لگا دی گئی ۔۔۔لٹے پٹے پاکستان آئے ، آ کر مسجد چینیاں والی میں قیام کیا ، مولانا میر سیالکوٹی ، مولانا داؤد غزنوی اور غالباً مولانا عطاء اللہ سب آپ کے گرد بیٹھے ان کے دکھ میں غم زدہ تھے۔ ۔۔۔۔۔محفل پر غم کے بادل تھے مولانا کی حالت کے سبب کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔مولانا ہی بولے "ابراہیم یہ تھا تمہارا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔”

    یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ اہل حدیث جماعت کے اس دور میں اور بھی بڑے بزرگ تھے جو اس وقت اساطین علم و فضل تھے اور ان کی اکثریت کو مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں تھا.

    اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر مسلک کی یہی کہانی ہے ۔۔۔۔۔اور جبر یہ ہے کہ ہندستان میں ہر گروہ کے حاملین اپنے اکابرین کو متحدہ ہندوستان کا حامی اور پاکستان میں تحریک پاکستان کا مرکزی کردار ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ ۔۔

    برادران ، یہ وہی حالات کا جبر ہے کہ جس کا سامنا ہمارے بزرگ ستر برس پہلے کر رہے تھے اور ہم آج بھی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    البتہ برادرم فیصل افضل شیخ صاحب کے حوالے سے جو بحث جاری ہے اس میں ان سے تسامح ہوا ، اس مسلم لیگ کو موجودہ مسلم لیگ سے جوڑنا ہرگز درست نہیں ہے ۔بطور مثال اگر آج تحریک انصاف اپنا نام مسلم لیگ رکھ لے تو کیا اسے بھی جناح کی مسلم لیگ کا تسلسل سمجھا جائے گا ؟

    یا مسلم لیگ کے اور بھی گروپ ہیں ، ان کو تو یہ حق دینا چاہیئے …

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہی وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

  • ہم دیکھیں گےلازم ہےکہ ہم بھی دیکھیں گے:فیض احمد فیض کی نظم اورجنرل ضیاء الحق

    ہم دیکھیں گےلازم ہےکہ ہم بھی دیکھیں گے:فیض احمد فیض کی نظم اورجنرل ضیاء الحق

    ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

    فیض نے اپنی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ 1979 میں لکھی تھی۔ اس وقت انھوں نے یہ نظم پاکستان کے آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔

    20 نومبر 1984 فیض اس دنیا کو الوداع کہہ گئے اور 1985 میں لاہور کے الحمرہ آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں گلوکارہ اقبال بانو (2009-1935) نے اس نظم کو گا کر اسے امر کر دیا۔ اقبال بانو دلی میں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے اپنا بچپن روہتک میں گذارا۔ 17 سال کی عمر میں وہ پاکستان منتقل ہو گئیں

    یہ 1985 کی بات ہے جنرل ضیاء الحق نے غیر اعلانیہ طور پہ ٹی وی اور ریڈیو پر فیض احمد فیض اور ان کے کام پر پابندی لگا رکھی تھی . جنرل ضیاء الحق کے پاکستان میں نہ صرف فیض احمد فیض بلکہ ساڑھی پہننے پر بھی پابندی تھی- ایسے میں الحمرا ہال لاہور میں 13 فروری 1985 کو فیض احمد فیض کی سالگرہ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اقبال بانو نے انتظامیہ کی ہدایت کے برخلاف سلک کی ساڑھی پہن رکھی تھی یہ گیت گایا تھا
    ” ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے”

    ہجوم تھا کہ ہال کے باہر تک جمع تھا . مجبوراً دروازے کھلے رکھنے پڑے . ہجوم کے اصرار پر لاؤوڈ سپیکر باہر بھی رکھنے پڑے جیسے ہی اقبال بانو نے گیت شروع کیا لوگوں نے اس کے ساتھ گانا شروع کر دیا لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر پولیس نے ہال کی بتیاں بجھا دی لیکن پورے لاہور نے یہ گیت گایا –

    اس گیت کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے۔ آڈیو میں آپ کو لوگوں کا جوش اور ولولہ صاف سنائی دے گا -اس پروگرام کی ریکارڈنگ پاکستان سے سمگل کی گئی اور پھر دنیا تک یہ نظم پہنچی۔گیت کی آڈیو کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے

    ہم دیکھیں گے
    لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
    وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
    جو لوح ازل میں لکھا ہے
    جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
    روئی کی طرح اڑ جائیں گے
    ہم محکوموں کے پاؤں تلے
    جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
    اور اہل حکم کے سر اوپر
    جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
    جب ارض خدا کے کعبے سے
    سب بت اٹھوائے جائیں گے
    ہم اہل صفا مردود حرم
    مسند پہ بٹھائے جائیں گے
    سب تاج اچھالے جائیں گے
    سب تخت گرائے جائیں گے
    بس نام رہے گا اللہ کا
    جو غائب بھی ہے حاضر بھی
    جو منظر بھی ہے ناظر بھی
    اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
    جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
    اور راج کرے گی خلق خدا
    جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

  • نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ، تجزیہ ،شہزاد قریشی

    نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ، تجزیہ ،شہزاد قریشی

    پاکستان کی بطور ریاست اور عام آدمی کی جو حالت آج ہے جو عام آدمی پر بیت رہی ہے اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان اعلیٰ عہدوں پرفائز تعینات افسران، امارات اور خوشحالی کی انتہا پر ہیں۔ عوام کو فیک آڈیور اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ سیاسی معیار بدل گئے۔ سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ موجود ہے پارلیمنٹ کی بالادستی غائب ہو چکی ہے۔ قانون موجود ہے قانون کی حکمرانی نہیں۔ آئین موجود ہے آئین پر عمل نہیں۔ سیاست نظریہ ضرورت کی تابع ہو چکی ہے۔

    سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے اور اقتدار کے تابع ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے لینڈ مافیا کا سیاسی جماعتوں پر قبضہ ہو چکا ہے۔ لینڈ مافیا ٹی وی چینلز کے مالکان بن چکے ہیں۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے اسلامی مملکت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک میں نفسا نفسی کا عالم ہے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر نامہ نظر آ رہا ہے۔ فوج نے اگر سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا تمام سیاستدانوں کو خیر مقدم کرنا چاہئے نئے چیف کی تعیناتی پر سیاستدانوں کا ہنگامہ کیسا؟ آئین کے مطابق تعیناتی میں حرج ہی کیا ہے وہ تو ملکی سلامتی کا محافظ ہوتا ہے۔ اس تعیناتی کو لے کر سیاستدان ، سوشل میڈیا، وی لاگرز کا تبصرہ حیران کن ہے۔ ملکی بقا ، ملکی سلامتی ملکی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرےکا احترام کرنا چاہئے۔ ملکی سیاسی رہنمائوں جو ایک طرف جمہوریت، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کا نعرہ ملکی فضائوں میں بلند کرتی ہیں دوسری طرف اس تعیناتی پر ان کی پینترے بازیاں سمجھ سے بالاتر ہے۔ سیاستدانوں کو پرامن، مستحکم، مضبوط پاکستان اور خوشحال عوام کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ سیاستدانوں ، مذہبی رہنمائوں اوردیگر مذہبی حلقوں کو اخلاقی بحران کا پھیلائو ملک کے طول و عرض میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کا مظاہرہ کھلے عام سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے یہ قومی زوال کا سبب بن رہا ہے جس کا سدباب ہونا لازمی امر ہے۔

  • 19 نومبر تسنیمؔ فاروقی بھوپالی کا جنم دن

    19 نومبر تسنیمؔ فاروقی بھوپالی کا جنم دن

    19 ؍نومبر 1915ء کو ابراہیم پورہ، بھوپال میں منشی عنایت حسین فاروقی کے ہاں پیدا ہونے والے تسنیم فاروقی بھوپالی کا اصل نام سلطان احمد ہے ان کا پہلا تخلص ” تنہائی ” تھا بعد میں تسنیم کر لیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی۔ مدرسہ عبیدیہ دینیہ میں عربی و فارسی کی تکمیل ہوئی۔ بھوپال ریاست کے مشہور قاری محمد بختیار صاحب سے علم تجوید حاصل کی۔ علوم مشرقیہ الہ آبادی یونیورسٹی سے عالم کا امتحان پاس کیا۔ 1931ء میں جامعہ احمدیہ سے حدیث، فلسفہ، تفسیر، منطق، حمد اور علم کلام کے مضامین امتیازی نمبرات حاصل کرکے فاضل درس نظامی کی تکمیل ہوئی۔ بھوپال میں آصفیہ طبیہ کالج کے طالب علم بھی رہے۔

    تسنیمؔ صاحب کے دادا محمد ابو علی قصبہ گوپا مئو، ضلع ہردوئی یوپی سے 1857ء میں ترک سکونت کرکے ریاست بھوپال آئے تھے۔ ابتدائی عمر میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد تسنیمؔ صاحب نے سرکاری ملازمت اختیار کی۔ کسٹم، پولس اور اکاؤنٹس کے مختلف محکمات میں ملازم رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں استاد محترم خلیل ﷲ صاحب صدیقی نے شعر گوئی کی طرف توجہ دلائی۔

    تسنیمؔ کو دو گولڈ میڈل ایوارڈ ملے تھے۔ پہلا 1953ء میں گورکھپوری میں، اور دوسرا گولڈ میڈل فروری 1973ء کو ایوان صدر منزل بھوپال میں بسلسلہ یومِ جمہوریہ سلور جبلی تقریب میں عزیز قریشی صاحب کے ہاتھوں عطا کیا گیا۔
    تسنیمؔ فاروقی 29؍نومبر 1982ء کو نور محل مسجد بھوپال میں انتقال کر گئے۔
    بحوالہ موج تسنیم

    تسنیمؔ فاروقی بھوپالی کی شاعری سے انتخاب

    صدیوں لہو سے دل کی حکایت لکھی گئی
    میری وفا گئی نہ تری بے رخی گئی

    دل دے کے اس کو چھوٹ گئے اپنے آپ سے
    اس سے چھٹے تو ہاتھ سے دنیا چلی گئی

    یاد آئی اپنی خانہ خرابی بہت مجھے
    دیوار جب بھی شہر میں کوئی چنی گئی

    اس کو بھی چھیڑ چھاڑ کا انداز آ گیا
    دیکھا مجھے تو جان کے انگڑائی لی گئی

    ناخن کے چاند زلف کے بادل لبوں کے پھول
    کس اہتمام سے تجھے تشکیل دی گئی

    لمحے کو زندگی کے لیے کم نہ جانیے
    لمحہ گزر گیا تو سمجھیے صدی گئی

    تم کیا پیو گے چوم کے رکھ دو لبوں سے جام
    تسنیمؔ یہ شراب ہے کتنوں کو پی گئی

    عکس زنجیر پہ جاں دینے کے پہلو دوں گا
    کچھ سزا تجھ کو بھی اے شاہد گیسو دوں گا

    اپنے گھر سے تجھے جانے نہیں دوں گا خالی
    مجھ کو ہیرے نہیں حاصل ہیں تو جگنو دوں گا

    زندگی تجھ سے یہ سمجھوتہ کیا ہے میں نے
    بیڑیاں تو مجھے دے میں تجھے گھنگھرو دوں گا

    مجھ کو دنیا کی تجارت میں یہی ہاتھ آیا
    میں نے آنسو ہی کمائے تجھے آنسو دوں گا

    میں ہوں دریا مجھے خدمت میں لگے رہنا ہے
    میں اگر سوکھ بھی جاؤں گا تو بالو دوں گا

    میں تو اک پیڑ ہوں چندن کا مجھے جسم نہ جان
    تو مجھے قتل بھی کر دے گا تو خوشبو دوں گا

    پہلے کچھ بانٹ اصولوں کے بنا لو تسنیمؔ
    جس میں کردار تلیں میں وہ ترازو دوں گا

    دل وہ جس کے آئینے میں عکس آئندہ رہا
    تیرہ دامن منزلوں میں بھی درخشندہ رہا

    آہ آوارہ کی صورت روح گل پیاسی رہی
    پھول خوشبو بن کے شبنم کے لئے زندہ رہا

    ہائے وہ اک مفلس و بے خانما جو عمر بھر
    سایۂ دیوار اہل زر کا باشندہ رہا

    کون ہم سے چھین سکتا ہے محبت کا مزاج
    پتھروں میں رہ کے بھی یہ نقش تابندہ رہا

    زندگی سے یوں تو سمجھوتہ کیا سب نے مگر
    جس نے جینے کی قسم کھائی وہی زندہ رہا

    کائنات نور و ظلمت ہے مرا اپنا وجود
    روشنی میں بھی مرا سایہ نمائندہ رہا

    جانے کیا کیا کہہ گیا اس سے مرا حسن سکوت
    دیر تک وہ میرے چپ رہنے پہ شرمندہ رہا

    حادثے تو اور بھی تسنیمؔ سے الجھے مگر
    اک ترا غم تھا جو ہر عالم میں پایندہ رہا

  • غرور کا سر نیچا — ریاض علی خٹک

    غرور کا سر نیچا — ریاض علی خٹک

    قرآن شریف میں کچھ آیات بندے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں. جیسے سورۃ القمر آیت نمبر 48 میں قرآن کہتا ہے.

    يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِى النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ۞
    ترجمہ: جس دن ان کو منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (اس دن انہیں ہوش آئے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو دوزخ کے چھونے کا مزہ۔

    کچھ باتیں ہمیں اپنی عادات کی وجہ سے سمجھ نہیں آتیں. جیسے اپنے قدموں پر کھڑے زمین کی کشش ثقل آپ کو کہاں محسوس ہوگی؟ لیکن آپ الٹے سر کے بل کھڑے ہوجائیں آپ کو کچھ ہی دیر میں ثقل یعنی gravity اپنی پوری تفصیل اور ترتیب سے سمجھ آجاتی ہے. بدن کا خون جب سر کی طرف آتا محسوس ہوتا ہے تب آپ حیرت سے سوچتے ہیں قدموں کی طرف بہتا تو یہ کبھی محسوس نہیں ہوا.؟

    پھر ہم سیدھے ہو جاتے ہیں اور اپنے قدموں پر واپس جب کھڑے ہوتے ہی جسم ایک سکون کی کیفیت میں جا کر بتاتا ہے اب تم انسان بن گئے ہو. اللہ رب العزت نے اس دنیا کو ہمارا امتحان بنایا ہے. اپنی روزمرہ زندگی میں مگن ہماری کچھ عادتیں ہمیں دھوکے میں رکھتی ہیں. جیسے غرور و تکبر ہو. یہ بندے کو سجتا ہی نہیں کیونکہ بندگی انکساری میں ہے یعنی زمین سے نظریں اور قدم جوڑ کر رکھنے میں ہے. جبکہ تکبر آپ کو سر کے بل کھڑا کرا دیتا ہے.

    اس لئے بڑے بزرگ کہتے ہیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے. کامیاب پھر وہی ہے جو جانے سے پہلے جیتے جی بندگی کا راز جان لے. بندگی ان سجدوں میں ہے جو زمین پر چلنے کا سلیقہ اور انکساری دے کر جائے. سر کے بل کھڑے لوگ پھر منہ کے بل گھسیٹے جاتے ہیں.

  • انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹاگرام اب دنیا بھر کے بےکاروں کے لئے نیا نہیں ہے۔ ہر روز لوگ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لئے لاکھوں لال گلابی چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ایک انقلابی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ثابت ہوا جب کہ فیس بک لوگوں کو اس پر گاگا بنا رہا تھا۔

    جس چیز نے انسٹاگرام کو دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے "رومانوی” بنایا وہ اس کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کی انوکھی خصوصیت ہے ۔ یہ ایک براہ راست فارورڈ میڈیا شیئرنگ کی جگہ ہے جہاں صارفین کو پیغام رسانی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    مزاحیہ چیزیں :
    یہ سیکشن نہ صرف آپ کو انسٹاگرام پوسٹس کے حوالے سے حالیہ ٹرینڈز کے بارے میں بتانے جا رہا ہے بلکہ انسٹاگرام پر بھی پوسٹ کرنے کے لیے کچھ مضحکہ خیز چیزوں کے بارے میں بتانے جا رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ نیچے دی گئی چیزوں کو پسند کریں گے اور یہ آپ کے اکاؤنٹ پر انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں پر لائکس بڑھانے میں مدد کرے گا۔

    فننی اقتباسات:
    اگر آپ انسٹاگرام پر نیا اکاؤنٹ یا نیا صفحہ ترتیب دے رہے ہیں تو میرے خیال میں آپ کو انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں سے شروع کرنا چاہیے اور وہ بھی مضحکہ خیز حوالوں سے۔ آپ انہیں پورے انٹرنیٹ پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اتنا مشکل ہے اور آپ ایسی تصویروں کے ذریعے کچھ کمال کریں گے۔
    یہ مضحکہ خیز اقتباسات کسی کے بارے میں یا صرف عام معنوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کچھ ٹیکسٹ ایڈیٹنگ اور پھر امیج کی فارمیٹنگ کی مدد سے اپنے مضحکہ خیز اقتباسات بھی بنا سکتے ہیں۔

    ٹراول:
    سوشل میڈیا کے دیوانے لوگوں میں ٹرول ایک نیا مضحکہ خیز فن ہے۔ یہ صرف انسٹاگرام کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ دوسرے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوتا ہے جیسے ٹویٹر، فیس بک، اور سنیپ چیٹ وغیرہ۔ آپ دیکھیں گے کہ آج کی دنیا میں، اگر آپ لائم لائٹ میں رہنا چاہتے ہیں، تو بس حالیہ ایونٹ کو ٹرول کریں۔

    میں کسی اچھی چیز کے لیے کسی مخصوص شخص کو ٹرول کرنے کی کھلے عام حمایت نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن اگر یہ کرنا قابل ہے تو کیوں نہیں؟ یہ کسی کے لباس، ظاہری شکل، فلموں، سیاست یا کسی اور چیز کے بارے میں ہوسکتا ہے۔

    طنزیہ تصاویر:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے اس قسم کی Funny چیزیں صرف مخصوص وقت کے لیے ہیں۔ جب بھی آپ کو لگتا ہے کہ کوئی واقعہ تمام تر قیاس کے قابل ہے تو آپ اس کے لیے کچھ طنزیہ تصاویر پوسٹ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے نہ صرف آپ کی سوشل میڈیا پر موجودگی بڑھے گی بلکہ آپ بڑے پیمانے پر سامعین پر ڈورے ڈال سکتے ہیں۔

    شارٹ کامکس امیجز:
    یہ آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوری مزاحیہ پوسٹ کرنا ناممکن کی طرح ہے جب تک کہ آپ اس کے لئے "مادر پدر” آزاد نہ ہوں یا آپ کے پاس بہترین ڈیٹا کنکشن ہو۔ ٹھیک ہے، اب ظاہر ہے کہ آپ کے مداحوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ایک درمیانی راستہ درکار ہے اور یہ ایسی مثالوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    گفز:
    گرافکس انٹرفیس فارمیٹ یا GIFs شہر میں نئی ​​ٹرینڈنگ چیز ہیں۔ آپ انہیں "صاف” تصاویر یا مختصر ویڈیوز بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر "محو رقص” ہیں اور یہ موشن پکچرز آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کرنا واقعی حیرت انگیز ہیں۔

    مزاحیہ ویڈیوز:
    انسٹاگرام نے ویڈیو کی "قد وقامت” کی حد کو بھی 60 سیکنڈ تک بڑھا دیا ہے۔ لہذا، یہ آپ کے لیے کچھ حیرت انگیز طور پر مضحکہ خیز اور مزاحیہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کا بہترین موقع بناتا ہے جیسا کہ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ویڈیوز کی طرح کچھ بھی مضحکہ خیز ہوسکتا ہے۔

    ظاہر ہے، تصاویر بھی مضحکہ خیز ہیں لیکن سامعین اور پیروکاروں تک جو چیز زیادہ پہنچتی ہے وہ یقینی طور پر ویڈیوز ہیں۔

    قصہ کوتاہ:
    ایک سے زیادہ تصاویر میں مختصر کہانی کافی عرصے سے انسٹاگرام نے صارفین کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد تصاویر شیئر کرنے کی سہولت حاصل کی۔ اب، آپ اپنی گیلری سے 10 تک ایک سے زیادہ تصاویر اڑا سکتے ہیں اور اسے اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کر سکتے ہیں یہاں تک کہ فلٹر لگانے کے ساتھ بھی۔

    حرف "تاخیر”:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے واقعی مزاحیہ فننی چیزوں کا انتخاب کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ نہ صرف آپ کے پیروکاروں میں اضافہ کرے گا بلکہ آپ کو مختلف لوگوں سے "جُڑنے” میں بھی مدد ملے گی۔ تفریح ​​​​ایک ایسی تفریق ہے جو کبھی بھی رجحانات سے باہر نہیں جاتی ہے۔ اور یہ وقت لوگوں کو اچھی طرح سے پلیجر دینے کا ہے۔

  • کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    آپ احباب نے بہت سے ناقدین کی زبان اور تحریر میں یہ اعتراض ضرور سنا یا پڑھا ہو گا ۔۔۔لیکن اس اعتراض میں وہی بودا پن پایا جاتا ہے کہ جو ان "کرم فرماؤں ” کے باقی اعتراضات میں موجود ہے ۔۔۔

    پہلی بات یہ ہے کہ احادیث میں جنسی مسائل کو ایک خاص حد سے زیادہ کھلے انداز میں بیان ہی نہیں کیا گیا ۔۔یہ جو شور کیا جاتا ہے کہ عریانیت ہے ، محض مبالغہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔۔۔

    دوسرا سوال ان احباب سے یہ ہے کہ جب جنسی مسائل ، سیکس کی حدود و قیود اور غسل جنابت کے فرض ہونے کی صورتیں بیان کرنا ہوں گی تو کون سی زبان لکھی جائے گی ؟

    اصل میں ہم سب کی نفسیات میں مقامی سوچ اتنی غالب ہے کہ شرم حقائق کو بھی چھپا لیتی ہے ۔۔جبکہ سیکس ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو کھانے کی بھوک کی طرح ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہے ۔۔لیکن جھوٹی شرم و حیا ہمیں مسلہ پوچھنے سے روک دیتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام عمر غسل جنابت کا درست طریقہ بھی جان نہیں پاتے ۔۔۔سیکس کے بہت سے حرام و حلال سے نا آشنا رہتے ہیں ، بہت سے امور جو جائز ہیں ان سے مقامی بے کار شرم و حیا کے سبب لطف اندوز نہیں ہو پاتے ۔۔۔۔اور بہت سے حرام کام کرتے ہیں اور جانتے ہی نہیں کہ یہ درست نہیں ۔۔۔

    ایک اور عجیب بات ہے کہ یہ معترضین حضرات قران کی ان آیت پر خاموش رہتے ہیں کہ جن اسی اسلوب میں انسانی تخلیق اور بعض مسائل کا ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔قران میں ہے :

    سورہ واقعہ میں ہے :

    فَرَاَيْتُـمْ مَّا تُمْنُـوْنَ (58)
    بھلا دیکھو (تو) (منی) جو تم ٹپکاتے ہو

    اَاَنْتُـمْ تَخْلُقُوْنَهٝٓ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ (59)
    کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں۔

    سورہ الطارق میں ہے :

    فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (5)
    پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔

    خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ (6)
    ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

    يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ (7)
    جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔

    اِنَّهٝ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ (8)

    سورہ التحریم میں ہے :

    وَمَرْيَـمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِىٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُـتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِيْنَ (12)
    اور مریم عمران کی بیٹی (کی مثال بیان کرتا ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی
    سورہ القیامہ میں ہے

    اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْـرَكَ سُدًى (36)
    کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔

    اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى (37)
    کیا وہ ٹپکتی منی کی ایک بوند نہ تھا۔

    دیکھئے کس بے تکلفانہ انداز میں تخلیق انسانی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور انسان کو غور فکر کی دعوت دی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔اور جب ان مراحل کے نتیجے میں ضروریات طہارت کا ذکر آتا ہے تو احباب کو برہنگی کا دکھ ستانے لگتا ہے ۔۔۔سوال شروع ہو جاتے ہیں کہ

    ” جی مولوی صاحب اپنی چھوٹی بیٹی کو یہ احادیث سنا سکتے ہیں ”

    بھائی بچہ تو پھر یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ ” مَّآءٍ دَافِقٍ ” کیا ہے ؟

    یہ پانی کیوں کر اچھلتا ہے اور کہاں کے چشمے سے نکلتا ہے ؟

    اور ہاں قران میں عورتوں کو کھیتی بھی تو کہا گیا ہے ۔۔۔اب بچوں کے سامنے ذرا اس آیت کی شرح کر دیجئے ۔ ۔

    نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّـٰى شِئْتُـمْ (223)
    تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ۔۔۔۔

    کوئی صاحب اس آیت کی شرح نہیں صرف ترجمہ کریں اور پھر احادیث پر اعتراض کو انصاف کے میزان میں رکھ کر غور کریں تو یقینا درست فیصلے پر پہنچ جائیں گے ۔۔۔

    احباب ! وہ درست راہ یہی ہے کہ بے مقصد اور بے جا قسم کی حساسیت غیر متوازن رویہ ہے ۔۔۔

    عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت کہیں زیادہ ان معاملات میں حقیقت پسند اور صاف گو ہے ۔۔۔۔اور انکی زبان کی فصاحت بھی انکو ایسے معاملات کو بیان کرنے کے لیے بہت آسانی مہیا کرتی ہے ۔۔

    آب آپ صحیح مسلم کی اس حدیث کو دیکھ لیجئے کہ جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وجوب غسل کی صورت پوچھی گئی ۔ کیسے خوبصورت کنائے اور اشارے میں جماع کی صورت بیان کی گئی اور مسلہ بھی بتا دیا گیا ۔۔حدیث کے الفاظ ہیں :

    اذا جلس بین شعبھا الاربع و مس الختان الختان فقد وجب الغسل
    یعنی جب مرد عورت کی چاروں شاخوں میں بیٹھ جائے ۔۔اور ختنے سے ختنہ مل جائے ۔ ۔ . تب غسل واجب ہو جائے گا ۔۔۔

    کیا اس سے زیادہ اور حیا دار الفاظ سے اس منظر کا بیان ممکن تھا ؟

    اسی طرح ایک جگہ زنا کے جرم کی تفتیش مقصود تھی تو حدیث میں انسانی آلات تناسل کا ذکر کرنے کی بجائے سرمہ دانی کو بطور مثال بیان کیا گیا ۔۔۔کہ جسے اس کا دخول ہوتا ہے کیا ویسے ہوا تو سزا دی جائے ۔۔۔

    اس کے بعد کون سی عریانیت کا شور کیا جاتا ہے ؟

    ایک اور اہم معامله یہ بھی ہے کہ ایسی احادیث بغرض تعلیم کتب میں بیان کی گئی ہیں نہ بطور افسانہ ۔۔۔۔

    کبھی آپ میڈیکل کالج جائیں ۔۔یا بایو لوجی کے طلبا کی کتب اٹھائیں جن میں انسانی آلات تناسل کی باقاعدہ تصاویر بنی ہوتی ہیں ۔۔۔۔اور استاد دوران لیکچر بورڈ پر بھی کبھی ایسی تصاویر بنا چھوڑتا ہے ۔۔۔وہاں بچے اور بچیاں سب باہم مل بیٹھ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔اس پر کیا کہیں گے ؟

    چلتے ہوئے ایک سچا واقعہ سن لیجئے ۔۔حرم شریف کے صحن میں ایک حاملہ عرب عورت اپنے چھے سات برس کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔میری اہلیہ اس کے بچے کی طرف متوجہ ہوئی اور معصوم سے بچے سے پیار بھرے سوال جواب شروع کر دیے ساتھ اسکی ماں بھی شریک گفتگو رہی ۔۔. . بچے سے پوچھا گیا کہ کتنے بہن بھائی ہو ۔۔۔تو اس نے تعداد بتائی اور ماں کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ایک آنے والا ہے اور یہاں ہے ۔۔۔۔سمجھانا یہ مقصود ہے کہ عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت ان معاملات میں زیادہ حقیقت پسند اور فطری رجحانات کا حامل ہے ۔۔۔

    اور کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں آخری شریعت کے نزول کے مقاصد میں ایک یہ پہلو بھی رہا ہو گا کہ وہ ہر ہر پہلو پر سوال کرتے اور پھر جواب ہمارے لیے تعلیم کا سبب ہو گئے ۔۔۔۔ہمارے ہاں اسلام نازل ہوتا تو اس "شرما شرمی” میں کسی کو غسل کا طریقہ بھی شائد معلوم نہ ہوتا ۔۔۔۔

  • رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کمرے کے وسط میں رکھی میز پر ایک مشین رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ایک گورا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کل ہی دبئی کے راستے لاہور پہنچا تھا ۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا ٹیکنیکل منیجر تھا اور آج اپنی کمپنی کے لئے اسے کچھ نئے انجنئیرز کا ٹیسٹ لینا تھا۔

    کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ لمبی سی میز پر کئی اقسام کے ٹول پڑے ہوئے تھے جو مشینوں کو کھولنے یا اسمبل کرنے میں استعمال ہوتے تھے۔کمرے میں داخل ہونے والے ہر انجنئیر سے گورے کا ایک ہی سوال ہوتا کہ مجھے یہ مشین کھول کر دکھاؤ ۔

    ڈیل یہ تھی کہ جس انجُئیر نے اس مشین کو کھول لیا گورا اسے کمپنی کے لوکل آفس میں بہت اچھے پیکیج پر بھرتی کر لے گا اور اگر کسی نے مشین کو کھول کر اسے دوبارہ اسمبل بھی کر لیا تو اسے سیدھا انٹرنیشنل سٹاف کا حصہ بنا لے گا۔

    یہ 1998 کا سال تھا اور انجنئیرز کا سخت بے روزگاری کا دور چل رہا تھا۔ حکومت ڈاؤن سائزنگ اور گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے ملازموں سے جان چھڑوا رہی تھی۔ یونیورسٹی سے تازہ تازہ فارغ ہونے والے انجنئیر کو کسی جگہ عام سی جاب کے لئے بھی بہت تگ ودو کرنا پڑ رہی تھی اور یہاں تو معاملہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کا تھا۔

    جو بھی انجنئیر کمرے میں داخل ہوتا وہ جاکر کوئی نہ کوئی پیچ کس نما ٹول اٹھاتا اور ملٹی نیشنل کمپنی میں اپنا انتخاب یقینی بنانے کے لئےمشین کے ساتھ کشتی لڑنے میں مصروف ہوجاتا لیکن کسی کی دال نہ گلتی۔ مشین نے نہ کھلنا تھا نہ کھل سکی۔ ایک دو ہٹے کٹے نوجوانوں نے تو زور زبردستی لگا کر مشین کا ایک آدھا پیچ وغیرہ کھول بھی لیا جس کی وجہ سے مشین کے پیچوں کی جھریاں بھی خراب ہو گئیں لیکن پھر تنگ آکر انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردئے۔

    احسن بھی امیدواروں کی قطار میں بیٹھا کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔ اس نے چند ماہ پہلے ہی یوای ٹی سے مکینیکل انجنئیرنگ کی تھی لیکن باوجود کوشش کے ابھی تک اسے کوئی کام نہیں مل سکا تھا۔وہ ساری رات اس انٹرویو کی تیاری کرتا رہا تھااور اب اس عجیب و غریب مشین کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے بارے میں کورس کی کتابیں خاموش تھیں۔

    اپنی باری پر احسن کمرے کے اندر گیا تو گورے نے اسے بھی مشین کھولنے اور اسے دوبارہ اسمبل کرنے کا ٹاسک دیا اور خود آرام سے ایک طرف منہ کرکے کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ تاہم کبھی کبھار وہ عینک کے شیشے کے پیچھے سے اس کی طرف بھی دیکھ لیتا۔

    احسن نے سب سے پہلے تو مشین کے چاروں طرف گھوم پھر کر اس کا جائزہ کیا۔ اس کے پیچ اور سیلیں وغیرہ دیکھتا رہا اور پھر ٹولز والی میز کے قریب جاکر مشین کے پیچوں کی مطابقت رکھنے والا ٹول ڈھونڈنے لگا تاکہ اسے استعمال کرکے مشین کھولی جا سکے ۔ تاہم باوجود تلاش کے اس طرح کے منہ والا ٹول اسے میز پر نظر نہ آیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس ٹول کے بغیر اور کون سے ٹول سے مشین کھولی جا سکتی ہے لیکن اسے کوئی ملتا جلتا ٹول بھی وہاں نہیں دکھ رہا تھا۔ اوپر سے ٹائم بھی ختم ہورہا تھا۔اس نے آکر مشین کو دوبارہ چیک کیا اور پھر ٹولز کو دوبارہ دیکھا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔

    جب اسے میز کے پاس کھڑے کافی دیر ہوگئی تو گورے نے گلہ کنگھار کر اسے کہا کہ مسٹر احسن میرے پاس زیادہ وقت نہیں آپ جلدی سے مشین کو کھولنا شروع کریں۔ تب احسن نے اسے سچ بتانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ سر مشین کو صحیح طریقے سے کھولنے والا متعلقہ ٹول میز پر موجود ہی نہیں اور دوسرے ٹولز کے استعمال سے مشین کے پیچ خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔

    گورے نے کتاب بند کی، عینک اتاری اور کرسی سے کھڑا ہوتے ہو ئے کہا “ کانگریجولیشنز ۔ یو آر ہائیرڈ” وہ دوست اب اس ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اعلی عہدے پر ہیں اور ماشااللّہ بہت خوش حال ہیں۔

    آج کل ڈیجیٹل سکلز سیکھنے ، سکھانے اور اس سے لمحوں میں دولت مند ہونے کا بہت رجحان ہے۔ یقینی بنائیے کہ آپ اپنا وقت اور پیسہ ایسے ٹول سیکھنے پر لگا رہے ہیں کہ جس سے آپ اپنے بہترمستقبل کی مشین کو آسانی سے کھول سکیں۔ بھیڑ چال میں الٹے سیدھے ٹولز کے استعمال سے سے اپنی ترقی کی مشین کو داغدار نہ کریں۔

  • دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سلیمان علیہ السلام نے ھدھد کے ذریعے ملکۂ سبا کو خط بھیجا جو پیغام رسانی کے طریقوں سے بالکل ہٹ کر تھا۔

    اس کی آمد سے پہلے اسکا عظیم الشان تخت منگوا لیا۔۔۔

    اسے اپنے عظیم الشان محل کی سیر کروائی جہاں وہ شیشے کے فرش کو پانی کا حوض سمجھ بیٹھی۔۔۔

    مقصد کیا تھا؟

    یہ بتانا کہ اگر تو ملکہ ہے اور تیرے پاس دنیاوی عیش و عشرت کا سامان ہے تو ہمیں اللہ نے اس سے کئی گنا زیادہ دے رکھا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ زندگی کا اصل مقصد نہیں اور اصل مقصد کے آگے ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ اصل تو توحید ہے۔ لہذٰا بہتر یہی ہے کہ جس نے یہ سب عطا کیا ہے، اسے پہچان لو اور اکیلے اس ایک ہی کی عبادت کرو۔۔۔۔

    یہ دعوت کا ایک اسلوب تھا کہ ظاہری جاہ و جلال کے متوالوں کو دکھایا جائے کہ یہ چیزیں ہمارے پاس تم سے زیادہ ہیں، لیکن ہمارے نزدیک انکی کوئی اہمیت نہیں۔ اور پھر اصل اہمیت کی حامل دولت، یعنی توحید کی طرف دعوت دی جائے۔

    ظاہر ہے کہ یہ ایک اسلوب ہے، پر واحد اسلوب نہیں۔ داعی اپنے دور کے تقاضوں اور اپنی استعداد کے مطابق حکمت کے ساتھ کوئی بھی اسلوب اختیار کر سکتا ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ یہ پیغام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سامعین تک پہنچا دے گا۔

    اصحاب الاخدود والے واقعے میں اس لڑکے نے ظالم اور مشرک بادشاہ پر واضح کر دیا کہ وہ اسے نہیں مار سکتا۔ ہاں اگر اللہ کا نام لے کر تیر چلائے تو کامیاب ہو جائے گا۔ اور یوں اس نے حق کا پیغام ایسے پہنچایا کہ پوری قوم مسلمان ہو گئی۔۔۔۔ اور ایسا ایمان لائی کہ آگ کی خندقوں میں چھلانگ لگا دی پر ایمان سے دستبردار ہونا گوارا نہ کیا۔

    اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضاء کے معجزات خاص طور پر فرعون کو مرعوب کرنے کیلئے عطا فرمائے۔ موسی علیہ السلام نے پوری قوم کے سامنے اپنے معجزے کے اظہار کا مطالبہ کیا تاکہ (اللہ کی عطا کردہ) اپنی اس طاقت سے پوری قوم کو متاثر کریں۔ جادو گروں پر ثابت کیا کہ میرے پاس تم سے بڑی طاقت ہے، پر یہ اصل چیز نہیں۔۔۔۔ اصل تو وہ ذات ہے جس نے یہ عطا کی اور اسکا پیغام ہے جو میں لایا ہوں۔۔۔ اور ہم نے دیکھا کہ جادوگر ایسے متاثر ہوئے کہ مصلوب ہونا قبول کر لیا پر ایمان کو چھوڑنا گوارا نہ کیا۔۔۔

    ہمارے سطحی سوچ والے اس دور میں ہوتے تو کہتے کہ سلیمان علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور وہ مومن و موحد لڑکا محض شو مار رہے ہیں۔۔۔۔ (نعوذباللہ)….

    اگر کوئی یہ بتا رہا ہے کہ میرے پاس تم سے بہتر بائیک ہے اور تم سے بہتر سٹائل ہے، لیکن یہ اصل نہیں۔ اصل وہ ہے جو میں تمہیں بتانے آیا ہوں۔۔۔۔

    لیکن:

    اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں
    غیروں نے آ کے پھر بھی اسے تھام لیا ہے ۔۔۔!!!

    یہ وہ لوگ ہیں جو دعوت کے مزاج کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ آجکل کے نوجوان کے مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان دن بدن مولوی سے متنفر ہوتا جا رہا ہے۔

    میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ہر کوئی، ہر جگہ اور ہر وقت ایسا ہی طریقہ اختیار کرے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آپ جس طریقے کو مؤثر سمجھتے ہیں اور جس میں مہارت سے ابلاغ کر سکتے ہیں، اسے اختیار کریں۔۔۔۔ لیکن خدارا، پورے سیناریو کو سمجھے بغیر بلاوجہ کی تنقید سے باز آ جائیں۔ اس سے آپ جدید ذہن کو مزید اپنے سے دور ہی کریں گے اور یہ دین کی کوئی خدمت نہیں۔۔۔!!!