Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    کل ہونے والے ضمنی انتخابات میں سابق وزیراعظم اور چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب بھی عوام کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے عوام میں جو بیانیہ بنایا تھا۔ کل کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے اس بیانیے کی جیت کو نہ صرف ثابت کیا۔ بلکہ اس بیانیے کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔

    17 جولائی کے پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں جیت کی بعد تحریک انصاف ، پنجاب میں حکومت واپس لینے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

    جبکہ اس ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کی سیاسی تحریک اور عام انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کے مطالبے کو تقویت ملے گی۔ انتحابات کے نتائج سے یہ لگ رہا ہے کہ عمران خان اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں۔ جبکہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔ مگر ہر الیکشن کا اپنے ڈائینامکس ہوتے ہیں۔ اسی لیے قبل از وقت کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

    کل کے فواد چوہدری کے بیان سے تو یہی لگتا ہے کہ تحریک انصاف اب پہلے سے زیادہ قبل از انتخابات کےلئے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔
    اس جیت سے بظاہر تو تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تاہم عمران خان کا بیانیہ اس جیت کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔

    یہ تو بات تھی اس بیانیے کی جس میں عمران خان کی جیت ہوئی ہے۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے ایک اور بیانیہ بھی عوام میں بیچا۔

    اور وہ بکا بھی۔۔ وہ بیانیہ تھا کہ "الیکشن کمیشن جانبدار ہے”۔ اگر الیکشن کمیشن جانبدار ہوتا تو کیا عمران خان چھ نشستوں پر جیت پاتے؟۔ بالکل بھی نہیں ۔ عمران خان کی جیت نے عمران خان کے اس بیانیے کا ہرا دیا۔الیکشن نتائج سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا غیر جانبدار ہونا بھی ثابت ہوگیا ہے ۔ عام انتخابات میں عمران خان، کم از کم یہ بیانیہ تو نہیں اپنا سکتے کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے۔

    لیکن کیا پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت قبل از وقت انتخابات کروائے گی؟۔ بالکل بھی نہیں۔ ضمنی انتخابات نے عمران خان کو مقبول ترین لیڈر ثابت کر دیا۔ پی ڈی ایم کی حکومت جب تک عمران خان کے بیانیے کو کمزور نہیں کر دے گی۔ تب تک وہ عام انتخابات نہیں ہونے دے گی۔

  • پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    ایک مرتبہ میں رات گئے راولپنڈی (فیض آباد) سے گوجرخان آ رہا تھا موسم سرد تھا اور سونے پر سہاگہ بارش بھی ہو رہی تھی میں جس بس میں سوار تھا اس میں دیگر مسافروں کے علاوہ ایک نائیکہ اور اس کے ہمراہی ایک لڑکی بھی سوار تھی جسے وہ اپنے کسی کرم فرما کے پاس چھوڑنے جا رہی تھی دوران سفر وہ عورت مسلسل دو اشخاص سے فون پر رابطے میں رہی اور بے دھڑک اونچی آواز میں ان سےفون پر باتیں کرتی رہی جس کی وجہ سے اس عورت کے پیشے اور سفر کا مقصد معلوم ہوا ۔

    پہلا شخص جس سے وہ رابطے میں تھی اس نے ایئرپورٹ چوک (کرال چوک) میں اسے ملنا تھا عورت فون پر بضد تھی کہ بارش کی وجہ سے وہ ان کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ بے بی کا میک اپ خراب ہو جائے گا اس لئے اگر وہ وقت سے وہاں پہنچ گئے تو ٹھیک ہے نہیں تو وہ گوجرخان دوسرے شخص کے پاس بے بی کو لے کر چلی جائے گی قصہ مختصر وہ شخص وقت پر نہ پہنچ سکا اور عورت گوجرخان چلی گئی بعد میں فون پر شکوے شکایتیں بھی ہوئے لیکن جیت نائیکہ کے موقف کی ہی ہوئی، بس کے مجھ سمیت تمام مسافروں نے اس تمام صورتحال پر کوئی ردعمل نہ دیا بس ان کی ٹیلیفونک گفتگو سن کر قیاس کے گھوڑے دوڑاتے رہے البتہ میں اس بات پر بہت عرصہ حیران رہا کہ وہ عورت کیسے اتنے لوگوں کے بیچ میں بیٹھ کر بے خوف ہو کر دیدہ دلیری سے ایسی باتیں کرتی رہی۔

    پی ڈی ایم نے جب تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کیا تو اس بات پر میں بہت حیران تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے جبکہ اس وقت ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے مشکل معاشی فیصلے کرنے ہیں جن کی وجہ سے حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی آنی ہے تو پی ڈی ایم کیوں تحریک انصاف کی حکومت کو تبدیل کر کے ان کی بلا (مشکلات) اپنے سر لینے لگی ہے تو اس کی تین وجوہات تھیں جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کو مجبوراً جلد بازی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنی پڑی تھی جبکہ دو دیگر ضمنی وجوہات اور تھیں اگر وہ بھی پوری ہو جاتیں تو لوگوں کی توجہ ان کے اصل مقصد سے ہٹ جاتی اور عام انتخابات میں پی ڈی ایم کو اس کا فائدہ ہوتا ۔

    پی ڈی ایم کی حکومت تبدیلی کی پہلی اور اصل وجہ یہ تھی کہ ان کہ خلاف جتنے بھی عدالت میں کیس تھے ان کے فیصلے آنے والے تھے، پی پی پی اور مسلم لیگ کی قیادت کو یقین تھا کہ یہ فیصلے ان کے خلاف آئیں گے اور شاید وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہو جائیں یا انتخابات کے دوران جیل میں قید ہوں، دوسری وجہ الیکشن کمیشن میں ہونے والی اصلاحات اور بائیو میٹرک مشینوں کے بارے میں پی ڈی ایم کا خیال تھا کہ ان کی وجہ سے وہ الیکشن ہار جائیں گے چنانچہ انہوں نے حکومت میں آ کر الیکشن اصلاحات ختم کر دیں اور دوبارہ پرانے طریقے کے مطابق الیکشن کے انعقاد کا حکم دیا جبکہ تیسری وجہ انہوں نے نیب قوانین میں تبدیلی کر کے انہیں اپنے حق میں کیا جس کی وجہ سے انہیں عدالتوں سے ریلیف ملا۔

    اس کے علاوہ پہلی ضمنی وجہ معیشت کی بحالی تھی پی ڈی ایم کی قیادت کی مجبوری تھی کہ حکومت تبدیلی کی اصل وجہ سے توجہ ہٹانے کے لئے وہ کوئی اور مقصد بتائیں تو انہوں نے تحریک عدم اعتماد کی وجہ خراب معاشی صورتحال بتائی اور مشکل معاشی فیصلے کر کے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کو اپنا ہدف قرار دیا، اس وقت ان کے مدنظر یہ تھا کہ پہلے مفتاح اسماعیل سے مشکل معاشی فیصلے کرا کے الیکشن کے نزدیک اسحاق ڈار کو لا کر عوام کو کچھ معاشی ریلیف دے کر رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر کے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جائے تو اسحاق ڈار نے وطن واپس آ کر وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھال لیا ہے شروع میں ڈالر کی قیمت کم بھی ہوئی تھی لیکن اس کمی کا فائدہ ابھی عوام تک نہیں پہنچا اور اشیائے خورد و نوش اسی طرح مہنگی ہیں شاید آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا اثر مہنگائی پر بھی پڑے اور اشیائے خورد و نوش سستی ہو جائیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کی دوسری ضمنی وجہ نومبر میں ہونے والی اہم تعیناتی کو قرار دیا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی مرضی کے بندے کی تعیناتی کرنا چاہتی ہے تاکہ بہترین ورکنگ ریلشن شپ قائم ہو اور اس کا فائدہ عام انتخابات میں بھی ہو لیکن مسلم لیگی قیادت کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں مسئلہ ہمیشہ اپنی مرضی کے بندے سے ہی ہوا ہے اس کے علاوہ بظاہر لگتا نہیں کہ وہ تعیناتی کرنے میں خودمختار ہوں گے بلکہ امید ہے کہ وہ صرف ہدایات پر عمل کریں گے اور سب سے آخری بات کہ ادارے کا سربراہ کبھی بھی شخصیات کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ ملکی مفاد میں ادارے میں مشاورت کر کے پالیسی بناتا اور اس پر عمل درآمد کرتا ہے اس وجہ سے تعیناتی چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت کرے لیکن یہ یقین رکھیں کہ ادارے صرف ملک و قوم کے وفادار ہیں ۔

    اب تحریر کے شروع میں بیان کردہ واقعے اور تحریک عدم اعتماد میں مماثلت بیان کرتا ہوں جیسے گاڑی میں سفر کرتی نائیکہ کو معلوم تھا کہ کام میں شرم کس بات کی اس لئے اس نے شرم کو بالائے طاق رکھ کر ڈھٹائی سے اتنے لوگوں کے درمیان اپنا پیشہ، اپنے ساتھ موجود لڑکی سے اپنا رشتہ اور سفر کا مقصد ٹیلیفونک گفتگو میں بیان کر دیا یعنی عزت پر پیسے کو ترجیح دی ایسے ہی پی ڈی ایم کی قیادت نے بھی عزت کے بجائے پیسہ بچانے کا فیصلہ کیا اور اپنے خلاف چلنے والے کیس ختم کرنے کے لئے عوامی ردعمل کی پرواہ کئے بغیر ہر حد تک گئے اور ثابت کر دیا کہ نائیکہ اور ان کی نظر میں اہم عزت نہیں بلکہ پیسہ ہے، یعنی گندہ ہے پر کیا کریں دھندہ ہے.

  • بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    کہا جاتا ہے کسی بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو بھی میری قبر میں ایک دن لیٹے گا اسی آدھی بادشاہت انعام میں دی جائے گی. ہر ایک کی نگاہیں راہ پہ لگی تھیں کہ اب کون اس اعلان کو قبول کرتا ہے. کہیں سے ایک بزرگ نے سنا کہ بادشاہ آدھی بادشاہی دینے لیے تیار ہے اور امتحان ایک رات کا ہے اور پھر میری کل ملکیت یہ ایک گدھا ہی تو ہے. سو اس نے بھی ڈبل شاہ کی طرح سوچا اور پھر یہاں تو انویسٹمنٹ بھی کچھ نہ تھی.

    دربار شاہی میں پہنچا اور آداب بجا لانے کے بعد عرض کی عالیجاہ بندہ ناچیز حاضر ہے.

    اسے خصوصی امتحان کے لیے لیجایا جائے، بادشاہ کی طرف سے جواب آیا.

    رات کا اندھیرا چھا چکا ہے ہر طرف بلا کی خاموشی ہے. کتوں کا غوغا اور الوؤں کی آوازیں ہیں. تھوڑی سی سرسراہٹ بھی صور فیل کی مانند تھی.

    اچانک سے دیوقامت منکر نکیر(مصنوعی) کمرے میں حاضر ہوجاتے ہیں.

    منکر نکیر: تم نے یہ گدھا کس طرح حاصل کیا؟

    پیسے کہاں سے لائے، کس ذریعے سے کمائے تھے؟

    تم نے فلاں وقت بوجھ زیادہ ڈالا اور چارہ کم کیوں دیا؟

    فلاں رات تم نے گدھے پر ظلم کیوں کیا؟ ساری رات سوال و جواب میں گزری اور کیفیت یہ تھی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن. گویا یہ قیامت کا دن تھا.

    الغرض ڈھیروں سوال اور بے چارہ سادہ بزرگ…

    صبح ہوئی تو وہ میدان سے یوں غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ. سوچا ایک گدھا ہے اور اتنے سوال آدھی بادشاہی ملی تو کیا حال ہونا ہے. الأمان والحفیظ

    اگر ایک نظر ملکی سیاست پر ڈالیں تو حیران و پریشان ہوجائیں گے. سال کی طرح 365 سیاسی جماعتیں ہیں اور ہر ایک ملک کو اوج ثریا پہ پہنچانے کے دعوے رکھتی ہے.؛ ور جو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں وہ صرف باریاں تبدیل کررہے ہیں.

    ملکی معیشت کہاں پہنچی ہے؟

    تعلیم کا معیار کس قدر بلند ہے؟

    انصاف کی فراہمی کتنی بہترین ہے؟

    ملکی وقار و دفاع کتنا مضبوط ہے؟

    لیکن اس بارے میں کسی کو ذرہ برابر پرواہ نہیں ہے. البتہ ہر ایک سیاسی جماعت اقتدار میں ضرور رہنا چاہتی ہے. اور جواب دہی کا خوف اس گدھے والے سے بھی کم ہے. جو اتنی کم ذمے داری کو بھی بہت بڑا سمجھتا ہے اور حکمرانی کو ہلاکت جان سمجھتا ہے.

    اور یہی احساس ذمے داری سے عاری رویہ ہے کہ ہر چیز تباہی کا شکار ہے. اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک ہم سے زیادہ مضبوط معیشت کے مالک ہیں. بدقسمتی سے حکومتوں کی آنیاں جہانیاں لگی ہوئی ہیں اور اس زاویے پہ سوچنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے.

    ہر الیکشن میں بلند بانگ دعوے اور وہ دعوے ہی رہتے ہیں. منصبوں کا افتتاح ہی اپنی سیاسی جدوجہد کا حاصل سمجھا جاتا ہے. ہر ایک حکومت آئی ایم ایف سے مضبوط مذاکرات کی خواہاں رہتی ہے. کبھی عرب ممالک تو کبھی چین اور آئی ایم ایف تو ان کا کامل پیر ہے.

    اپنے اثاثے گروی رکھو، قومی مفادات پہ کمپرو مائز کرو اور ہر بار ڈو مور پر عمل کرتے رہو. اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں تو تمہاری عزت خاک میں ملادیں. نہ بھی کانوں پہ جوں رینگتی ہے اور نہ ہی رگ حمیت بھڑکتی ہے. بس لفظی توپ خانے سے فائر ہوتے ہیں اور ہر طرف خاموشی ہی خاموشی رہتی ہے.

  • ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ‘بس نام رہے گا اللہ کا’، قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں کامیابی کے بعد عمران خان کی انسٹا گرام پر پوسٹ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کے 8حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سے 6 میں کامیابی حاصل کرکے 2018 کے عام انتخابات میں 5 نشستیں جیتنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔۔۔ اتوار کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے8 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں سے 7 حلقوں میں عمران خان امیدوار تھے اور انہوں نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ایک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

    اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات میں عمران خان نے این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب اور این اے 239 کراچی سے کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ انہیں این اے 237 ملیر پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے بانی و سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بیک وقت 5 حلقوں سے الیکشن لڑ چکے ہیں، انہیں 4 میں فتح اور ایک پر شکست ہوئی تھی۔۔۔

    اس بڑی فتح کے بعد تحریک انصاف کے ووٹر اور سپورٹر کل سے جشن ِفتح کے سرور میں ہیں اور پی ٹی آئی قائدین بشمول عمران خان کی چال ڈھال میں مزید اعتماد اور مستقبل کی فتح کا پختہ یقین جھلک رہا ہے۔۔۔

    جبکہ تیرہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم میں کہیں صفِ ماتم بچھ گئی ہے اور کہیں رویوں میں درشتی کی جھلک نظر آرہی ہے، ایک تذبذب کی کیفیت میں ہیں کہ 6 نشستوں پر ہار کا غم کریں یا 2 نشستوں پر جیت کا جشن منائیں؟

    مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ اور حنا پرویز بٹ کی سنیں تو جیت کے شادیانے اور عمران خان کو دیتے طعنے سنائی دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب تمام جماعتوں کے اتحاد کو ضمنی الیکشن میں شکست پر نواز شریف بہت رنجیدہ ہیں اور ان کا شدید اظہار برہمی نظر آتا ہے۔۔۔ شکست کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی جبکہ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم پارٹی قیادت کی کارکردگی سے شدید نالاں ہیں اور بدترین شکست پر فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔۔

    اوردوسری جانب عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "لانگ مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔۔۔ چاہتا ہوں نواز شریف واپس آئیں اور میرے ساتھ مقابلہ کریں،یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں،نواز شریف اور زرداری 90 کی سیاست کر رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ملک بدل چکا ہے، نواز شریف اور زردای کا وقت ختم ہو چکا ،جو مرضی کر لیں شکست ان کے حصے میں آئے گی.”

    لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے عمران خان کا مزیدکہنا تھاکہ

    "ملک کے مسائل کا ایک ہی حل ہے ، صاف اور شفاف الیکشن، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معیشت ٹھیک نہیں ہونے لگی، یہ ملک کو نہیں سنبھال سکتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، اب بھی کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے الیکشن کا اعلان کرنے کا، اگرالیکشن کا اعلان نہیں کریں گے تو میں مارچ کا اعلان کروں گا۔۔۔میں وقت دے رہا ہوں، ہم نے جلسے کیے ہیں اور دکھادیا ہے کہ عوام کہاں کھڑی ہے، سری لنکا میں کیا ہوا ؟ سری لنکا ڈھائی کروڑ کا ملک ہے اور یہ 22 کروڑ کا ہے، جب عوام سڑکوں پر آجائے گی تو اس کی گارنٹی نہیں کیا نتیجہ آئے گا۔”

    اس موقع پر ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ لانگ مارچ سے اگر مارشل لگ گیا تو؟ اس پر سابق وزیراعظم نے کہاکہ

    "فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے وقت تومارشل لاء نہیں لگا۔”

    اس پر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ

    ” آپ کے ضمنی الیکشن میں جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو غیر آئینی کام کا لائسنس مل گیا ہے، اگر آپ نے غیر آئینی کام کیا اور جتھہ کلچر یا اسلام آباد پر چڑھائی کی تو آپ کو پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دیا جائےگا، اگر آپ یہ راستہ کھولیں گے تو پھر آپ یہ بھول جائیں کہ صرف آپ کو اس راستے پر چلنا آتا ہے، الیکشن حاصل کرنے ہیں تو ٹیبل پر آئیں پارلیمنٹ آئیں۔۔۔ آپ کو نہیں پتا کہ آپ نےکیا کرنا ہے، ہمیں پتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کرنا ہے، ہم جمہوریت اور رول آف لا کا تحفظ کریں گے، آپ ملک میں افرا تفری چاہتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس رویے کو روکیں گی، یہ رویہ قابل مذمت ہے، یہ فتنہ فساد ہے۔۔۔”

    اور کل پاکستان کی عدالتوں میں تین اہم کیسز کی کاروائی بہت دلچسپ رہی، اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ملا ریلیف، ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا دلائل سننے کے بعد مسترد کردی گئی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور بغیر ثبوت کے انہیں اشتہاری قرار دینے پر اینٹی کرپشن پنجاب پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔۔۔اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان عدالت میں پیش ہوئے جہاں عمران خان کے وکلا کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے،جس پر عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے 31 اکتوبر تک عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی ہے، یاد رہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی کل تک حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

    یہ سب ملک و قوم کو کس جانب لیکر جائے گا اور نتیجہ کیا نکلے گا اس کا فلحال کوئی اندازہ لگانا بہت مشکل اور قبل از وقت ہے لیکن ملک پر جس طرح ڈیفالٹ کے کالے سائے منڈلا رہے ہیں انکے رہتے ہمارے سیاستدانوں اور انکی حامی عوام کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تاکہ ملک کسی درست سمت پر گامزن ہوسکے۔

    دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ، کیا عمران خان اور پی ڈی ایم کی نوک جھوک کوئی نیا رنگ اختیار کرتی ہے ؟ کیا ملک کے ادارے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ملک کو ممکنہ بحران سے بچا سکیں گے؟

  • فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    کیلیفورنیا: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک 2015 متعارف کرائے جانے والے انسٹنٹ آرٹیکلز فیچر کوآئندہ برس ختم کرنے جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی میٹا، کی ذیلی کمپنی فیس بک کا کہنا تھا کہ یہ قدم اٹھائے جانے کی بنیادی وجہ اس کا ناکافی استعمال ہے۔

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    فیس بک کے ایک نمائندے کے مطابق فی الوقت فیس بک پر تین فی صد سے کم پوسٹ نیوز آرٹیکلز کے لنکس سے پوسٹ کی جاتی ہیں۔ اور رواں برس کے شروع میں جس طرح کہا گیا کہ کاروبار کے اعتبار سے ایسی چیزوں میں سرمایہ کاری کرنا معقول نہیں لگا جو صارفین کی ترجیحات نہیں ہوں۔

    فیس بک انسٹنٹ آرٹیکل کے فیچر کو 2023 کے اپریل کے وسط میں ختم کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ایسے تقریباً 37 ہزار پیجز ہیں جو یہ فیچر استعمال کر رہے ہیں۔

    ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے حال ہی میں کہا تھا کہ فیس بک پر گزارے گئے تمام وقت کا 50 فیصد ویڈیو دیکھنےمیں آتا ہے، جبکہ ریلز فیس بک اور انسٹاگرام دونوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا مواد کی شکل ہےزکربرگ نےیہ بھی کہا تھاکہ فیس بک کے صارفین ‘یہ نہیں چاہتے کہ سیاست اور لڑائی ہماری خدمات پر ان کے تجربے پر قبضہ کرے۔

    اس طرح، میٹا مزید تفریحی ویڈیو مواد کو صارف کی فیڈز میں آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے، جو AI پر مبنی سفارشات کی بنیاد پر دکھائے جا رہے ہیں، نہ کہ آپ کس کی پیروی کرتے ہیں اور/یا آپ کس سے منسلک ہیں۔ زکربرگ اسے فیس بک کے مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں، اور یہ تبدیلی پہلے ہی صارف کے تجربے میں جھلک رہی ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    واضح رہے یہ فیچر آئی فون یا اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں استعمال کیے جانے والے ویب براؤزر سے 4.9 گُنا تیزی کے ساتھ آرٹیکلز کو لوڈ کرتے ہیں۔

  • ہاکی میچ کے دوران شرٹ اتار کرگرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کر دی،ویڈیو

    ہاکی میچ کے دوران شرٹ اتار کرگرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کر دی،ویڈیو

    نیویارک: امریکا میں ایک شخص نے ہاکی میچ کے دوران اپنی گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کی-

    باغی ٹی وی : خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں ایک آدمی نے اپنے پروپوزل کو یادگار بنانے کے لیے ایک ہاکی میچ کے دوران اپنی گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس کا یہ فیصلہ ایسا غلط ثابت ہوا-

    افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ نیشنل ہاکی لیگ میں نیویارک آئی لینڈرز اور فلوریڈا پینتھرز کا میچ دیکھنے گیا جہاں اس نے اپنی گرل فرینڈ کو پرپوز کر دیا۔


    وائرل ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس شخص نے پہلے اپنی شرٹ اتاری کیونکہ اس نے اپنے سینے پر لکھ رکھا تھا کہ ”Plz say yes“۔ اس کے ساتھ ہی آدمی ایک گھٹنے پر جھک گیا اور انگوٹھی آگے بڑھاتے ہوئے لڑکی کو شادی کی پیشکش کر دی۔

    بھارتی پولیس اہلکار کی دکان کے باہر لگے ایل ای ڈی بلب چوری کرنے کی ویڈیو وائرل

    وہاں پر موجود سینکڑوں لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے اور لوگوں نے مذاق میں ’just say No‘ کے نعرے لگانے شروع کردئیے مگر لڑکی نے سچ مچ انکار کر دیا لڑکی آدمی کے ہاتھ تھام کر اسے کچھ کہتی ہے اور اس کی شادی کی پیشکش کو ٹھکرا کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔

    آدمی اس کے جانے کے بعد کچھ دیر تو سکتے کے عالم میں وہیں ایک گھٹنے پر ہی مبہوت رہتا ہے اور پھر اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتا ہے۔

    اس وائرل ویڈیو پر کمنٹس میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی کی پیشکش دو لوگوں کے درمیان ہونی چاہیے۔ اس طرح ہزاروں لوگوں کے بیچ کسی کو شادی کی آفر کرنا ہی غلط ہے۔

    بھارت : بابری مسجد کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے ایک اور مسجد میں بت رکھ دیئے

  • ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او

    ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او

    تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹ
    اتوار 16 اکتوبر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے ملکی سیاسی تاریخ میں ریکارڈ قائم کردیا۔ عمران خان نے صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ سندھ میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں 7 نشستوں میں سے 6 نشستوں پر تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ عمران خان کی اس تاریخی جیت پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ کچھ کے نزدیک عمران خان نے پی ڈی ایم اتحاد کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ کچھ کے نزدیک عمران خان کی اس جیت کا ملکی سیاسی و پارلیمانی صورتحال پر کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ عمران خان نے انہی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جو سیٹیں پہلے بھی تحریک انصاف ہی کے پاس تھیں۔ بہرحال یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ پاکستانی تاریخ میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے سربراہ کا ایک ہی دن بیک وقت 6 سیٹوں پر انتخابات میں فتح حاصل کرنا بہت ہی معنی خیز ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ عمران خان کی جیت کی وجوہات کیا ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے نزدیک عمران خان کی فتح کا راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی ورکرز اور چاہنے والوں کو حد سے زیادہ متحرک کرلیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کے چاہنے والوں نے عمران خان کو ووٹ دیئے کہ اس جیت کے بعد عمران خان نے قومی اسمبلی میں نہیں جانا کیونکہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے، مگر پھر بھی عمران خان کے چاہنے والوں نے جوش و خروش سے عمران خان کو ملک بھر سے 6 نشستوں سے کامیاب کروایا۔ ضمنی انتخابات میں واضح فتح کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں کے ہاتھوں مسند اقتدار سے باہر نکالے جانے والے عمران خان کی جانب سے امریکی سازش کا بیانیہ کا رنگ دینے کو انکے چاہنے والوں نے دل و جان سے قبول کرلیا ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ وہ عمران خان کی ہر بات کو ناصرف من و عن قبول کررہے ہیں بلکہ عمران خان کے ہر اشارے کو لبیک کرتے ہوئے دیکھائی بھی دیتے ہیں۔ دوسری طرف پی ڈی ایم جماعتوں کے لیڈران کی جانب سے ان ضمنی انتخابات میں نہ ہونے کے برابر سیاسی سرگرمیوں نے بھی عمران خان کی فتح میں خاص کردار ادا کیا ہے۔ بندہ ناچیز کی نظر میں عمران خان کی فتح میں سب سے اہم اور پہلا کردار پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ڈالر پر عدم کنٹرول، گیس،بجلی، پٹرولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی ہے۔ کیونکہ مہنگائی نے عوام الناس کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ریاست پاکستان کو ڈیفالٹر ہونے سے بچانے والے اس بیانیئے کا عوام الناس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑ ا۔ کیونکہ ماضی قریب میں عوام کا عمران خان حکومت نے پہلے ہی دیوالیہ نکال دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی قریب میں عمران خان کی مرکز و دیگر صوبوں میں حکومتوں کی موجودگی اور مہنگائی پر عدم کنٹرول کی بناء پر پی ڈی ایم جماعتیں ہر ضمنی انتخاب میں فتح حاصل کررہی تھیں اورپی ٹی آئی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ آج صورتحال بالکل برعکس ہوچکی ہے۔ کیونکہ پی ڈی ایم حکومت نے سوائے مہنگائی کرنے کے عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے ابھی تک کوئی ایک پروگرام جاری نہیں کیا۔ کیا ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے حکومت وقت کو صرف عوام الناس کی چمڑی ہی نظر آتی ہے۔ آئی ایم ایف سے چند ارب ڈالر کے حصول کے لئے عوام الناس کا کچومڑ نکال دیا گیا۔ کیا حکومت وقت یہ بتا سکتی ہے کہ انہوں نے ریاست پاکستان کو ڈیفالٹر ہونے سے بچانے کے لئے حکومتی اخرجات میں کہاں کہاں نمایاں کمی ہے؟ حد تو یہ ہے پی ڈی ایم حکومت نے عمران خان حکومت کی طرح وزراء اور مشیران کی فوج بھرتی کرلی ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم پارٹیوں کو ان ضمنی انتخابات میں بدترین شکست کی دوسری اہم وجہ ان جماعتوں خصوصا مسلم لیگ ن کی جانب سے انتخابات کے عمل میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کرنا بھی شامل تھا۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت خصوصا مریم نواز، حمزہ شہباز کوان انتخابات میں جلسے جلوس اور ورکرز کو متحرک کرنے سے کس نے روکا تھا؟عین ضمنی انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ متحرک لیڈرمریم نواز نے پاسپورٹ ملتے ہی لندن یاترا کے لئے سفر طے کرلیا۔حالانکہ اس وقت پارٹی امیدوران کی انتخابی مہم کے لئے انکی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ یاد رہے جمہوری عمل میں سیاسی پارٹی مخالف پارٹی کو کسی بھی قسم کا خلاء پر کرنے کی ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی، یعنی کوئی سیاسی پارٹی اپنی مخالف سیاسی پارٹی کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑ سکتی۔ مسلم لیگ ن کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ پنجاب میں پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم کی جانب سے چھوڑے ہوئے سیاسی میدان میں کھل کر کھیلا، نا صرف اپنے پارٹی ورکرز کو متحرک رکھا بلکہ یہ ثابت کرنے بھی کامیاب رہی کہ پی ٹی آئی کا سیاسی ورکر کسی بھی صورت اپنے لیڈر کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سب سے اہم بات کہ جمہوری عمل میں انتخابی حلقے کسی کی سیاسی جاگیر نہیں ہوا کرتے، مسلم لیگ ن کو اس خواب غفلت سے نکلنا ہوگا کہ پنجاب مسلم لیگ ن کا قلعہ ہے۔ یاد رہے ماضی قریب تک پنجاب میں مسلم لیگ ن کی کامیابی اور پسندیدگی کی وجہ اس جماعت کی جانب سے عوام الناس کے لئے بے پناہ ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کا قیام اور عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنا تھا۔ بہرحال بندہ ناچیز عمران خان کا بہت بڑا ناقد ہونے کے باوجود ان ضمنی انتخابات میں خان صاحب کو شاندار کامیابی پر دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے۔ ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او۔

  • بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    فرانسیسی فٹ بال میگزین کی طرف سے دیا جانے والا بالن ڈور ایوارڈ 1956 سے فٹ بال کے بہترین کھلاڑیوں کو دیا جارہا ہے۔جس کیلئے دنیا بھر سے 180 صحافی فاتح کیلئے ووٹ کرتے ہیں۔ بالن ڈور ایوارڈ کی سالانہ تقریب کا 66 واں ایڈیشن آج ہوگا جس میں سال کے بہترین فٹ بالر کو ایوارڈ دیا جائے گا۔ فرانسیسی فٹبال حکام نے سال کے بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ کیلئے 30 کھلاڑیوں پر مشتمل نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے۔ جن میں ٹرینٹ الیگزینڈر آرنلڈ، جواؤ کینسلو، کیسمیرو، کیون ڈی بروئن، فیبنہو، ایرلنگ ہالینڈ، سیبسٹین ہالر، ہیری کین، جوشوا کِمِچ، ریاض مہریز، مائیک میگنن، ڈارون نونیز، کرسٹیانو رونالڈو، انتونیو روڈیگر، سون ہیونگ من، ڈسان ولاہووک، کریم بنزیما، ساڈیو مانے، محمد صلح، رابرٹ لیوینڈوسکی، کیلین ایمباپے، ونیسیئس جونیئر، لوکا موڈریک، تھیبوٹ کورٹائس، فل فوڈن، ٹرینٹ الیگزینڈر، آرنلڈ، برنارڈو سلوا، کرسٹوفر نکونکو، لوئس ڈیاز، تھیاگو الکنٹارا، ورجل وین ڈجک، بیٹا ہیونگ من، روڈری، ریاض مہریز اور رافیل لیو شامل ہیں۔

    فرانسیسی فٹ بال حکام نے جن بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے اُس میں لیونل میسی کا نام شامل نہیں ہے۔ میسی نے 7 بار بالن ایوارڈ حاصل کیا ہے، انہوں نے گزشتہ سیزن میں پیرس سینٹ جرمین کی نمائندگی کرتے ہوئے 34 میچز میں صرف 11 گول کیے اور خیال کیا جارہا ہے خراب کارکردگی کی وجہ سے وہ سال کے بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ کی نامزدگیوں میں جگہ نہیں بناسکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مردوں میں 34 سالہ فرانسیسی کھلاڑی کریم بنزیما کو بالن ایوارڈ کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ کہا جارہا ہے، اُن کی پرفارمنس چیمپئنز لیگ میں بہت زیادہ اچھی تھی، جس کی وجہ سے اس سال اُن کے بالن ڈور ایوارڈ جیتنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ کریم بنزیما نے ریال میڈرڈ کو چیمپئنز لیگ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے گزشتہ سیزن میں 44 گولز کیے۔ بنزیما کو اُن کی بہترین کارگردگی کی بنیاد پر عوام کی بڑی تعداد میں حمایت حاصل ہے۔

    بالن ڈور کے فاتح کیلئے کیے گئے ایک آن لائن سروے کے مطابق تقریباََ 63.9 فیصد لوگوں نے ریال میڈرڈ کے کریم بنزیما کو اس ایوارڈ کا اہل قرار دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ مایہ ناز فٹ بالرز نے بھی کریم بنزیما کو اس ایوارڈ کا مستحق کہا ہے جن میں ساڈیو مانے، ایڈن ہیزرڈ اور ونیسیئس جونیئر شامل ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بارسلونا کی الیکسیا پوٹیلس کو خواتین فٹ بالرز میں بالن ڈور ایوارڈ کا حق دار کہا جارہا ہے جنہوں نے بارسلونا کو 30 میچز میں فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے سال بھی الیکسیا پوٹیلس کو بہترین خواتین فٹ بالر کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ بالن ڈور 2022 کی تقریب 17 اکتوبر بروز پیر فرانس میں منعقد ہوگی۔ تقریب پیرس کے تھیٹر ڈو چیٹلیٹ میں شام 7:30 بجے شروع ہوگی۔ جبکہ یہ تقریب ایل ایکوئپ (L’Equipe) یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی جائے گی جبکہ پیراماؤنٹ+ پر بھی یہ تقریب براہ راست نشر ہوگی جو ناظرین آن لائن دیکھ سکتے ہیں.

  • ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40#)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۲- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 ‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کا ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
    ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے۔

  • تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    یار یہ لوگوں کو پاس بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر تھوکنے کی کیا بیماری ہے؟

    چند روز قبل ایک سیفٹی سیشن کیلئے میٹنگ روم گئے.. پتہ چلا کہ ٹرینر ابھی آیا نہیں باہر بیٹھ کر ہی انتظار کرنا پڑے گا.. سب بندے درختوں کے نیچے دو دو تین تین ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ گئے.. مجھے معلوم تھا کہ یہ یہاں بیٹھ کر اور کچھ کریں نہ کریں.. ایک سگریٹ لازمی پئیں گے جس کا دھواں مجھے تنگ کرے گا، دوسرا تمباکو اور چونے کا مکسچر لازمی رگڑیں گے جسے پھونک سے اڑا کر چھانیں گے تو سانس کے ساتھ ناک کو چڑھے گا اور تیسرا تھوک لازمی پھینکیں گے..

    یہ باتیں میری میموری میں پکی پکی فٹ ہیں.. لہٰذا میں بندوں سے زیادہ تر دور ہو کر بیٹھتا ہوں.. وجہ نفرت نہیں.. وجہ یہ ہے کہ میں ان تینوں چیزوں سے الرجک ہوں..

    لہٰذا حسبِ عادت میں ان سے قدرے فاصلے پر درخت کے نیچے بلاک رکھ کر بیٹھ گیا..

    کچھ دیر ہی گزری ہو گی.. ان دور بیٹھے ہوئے بندوں کو نادیدہ طاقت نے اکسایا اور وہ میرے پاس دائیں بائیں آ کر بیٹھ گئے.. ایک نے سگریٹ جلا لیا.. دوسرے نے تمباکو کی ڈبی نکالی، وہ تمباکو بنانے لگا تو دو دوسروں نے بھی مانگ لیا.. تینوں نے تمباکو بنا کر اس کی پھک اڑائی اور تمباکو منہ میں رکھ کر زمین کو تھوکو تھوک کرنا شروع کر دیا.. دل میں گالیاں دیتے ہوئے اٹھا اور پرے جا کر کھڑا ہو گیا..

    اب اس وقت فون کال کرنے کیلئے روم سے باہر بینچ پر بیٹھا ہوں ایک میرا رومیٹ ہی نکلا اور یہاں کھڑے ہو کر برش کرنا شروع کردیا.. تھوک پر تھوک پھینکی جا رہا ہے..

    مجبور ہو کر اسے کہا یار واش بیسن پر چلا جا.. تیری مہربانی کیوں مجھے آوا ذار کر رہا ہے…

    ریفائنری میں جاب کی جگہ پر میٹل سٹرکچر کے بنے ہوئے گیارہ فلور ہیں.. پتہ اس وقت لگتا ہے جب اوپر والے فلور کی گریٹنگز سے تھوک نیچے آ کر گرتا ہے.. کچھ بندے تو یہ حد کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی فلور پر ہیں ریلنگ پر آئیں گے وہاں سے گراؤنڈ پر تھوک پھینکیں گے اپنی طرف سے وہ اچھا کر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے والی گریٹنگ پر کام کرنے والوں پر تھوک نہ گرے لیکن گراؤنڈ فلور والوں کا کوئی خیال نہیں.. اب گیارہویں فلور سے زمین تک تھوک پہنچنے میں جو وقت لگے گا عین ممکن ہے اس دوران کوئی گزرتا ہوا بندہ اسی جگہ پہنچ جائے اس پر گر جائے.. یا پھر ہوا سے اس کے ذرات کہاں تک جائیں کچھ معلوم نہیں..

    پاکستان میں ہم جیسا بندہ موٹر سائیکل کی سواری ہی عام طور پر کرتا ہے کاروں والے کار کا شیشہ کھول کر تھوک کی فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں.. آگے والے موٹر سائیکل سوار پیچھے آنے والوں کا خیال کیے بغیر تھوک پھینک رہے ہوتے ہیں

    کسی بندے کے ساتھ بات کرنے کیلئے کہیں رک جائیں تو وہ پانچ منٹ کی بات کرتے ہوئے دس مرتبہ تھوک پھینکتا ہے..

    خاص طور پر کراچی والوں نے حد ہی کی ہوئی ہے.. کراچی میں کیا اردو سپیکنگ، کیا مہاجر، کیا پنجابی، کیا کشمیری، بلوچی، پٹھان، سندھی یا ہزارہ وال، کیا مرد اور کیا عورتیں .. کوئی بھی گٹکے سے محفوظ نہیں، بس میں بیٹھیں گے تو شیشے والی سائیڈ گٹکا مین کی ہی ہو گی.. اور اس نے وہیں سے باہر والوں کو منور کرتے رہنا ہے.. پھر اچھی اچھی صاف ستھری عمارتوں میں جگہ جگہ دیواروں پر لال رنگ کا گند ہی گند نظر آتا ہے..

    پچھلے سال کراچی میں ایک مارکیٹ میں گیا.. نیا رنگ و روغن بتا رہا تھا کہ مالک نے اچھا خاصا خرچہ کیا ہے.. وہاں سیڑھیوں میں اوپر نیچے تک گٹکے اور پان کے انتخابی نشانات لگے ہوئے تھے..

    پوچھنا یہ ہے کہ یہ بیماریاں عربوں، انڈونیشین، چائنیز، جرمنز، فلپینی، کورینز اور برطانوی باشندوں میں نہیں دیکھی، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے ان میں ایسی کوئی معیوب حرکت یا بیماری نہیں دیکھی ..پاکستانیوں اور انڈینز میں یہ حرکات اور بیماریاں کیوں ہیں؟