Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مقصدیت — عمر یوسف

    مقصدیت — عمر یوسف

    لائبریری میں ادھار کتاب لیتے ہوئے ایک دوست کو دوسرے نے کہا کہ چھوڑو یار ہم یہ کتاب خرید ہی لیتے ہیں ۔

    پہلے دوست نے جواب دیا کہ اگرچہ میں خریدنے کی قوت رکھتا ہوں لیکن پھر بھی نہیں خریدوں گا ۔

    لائبریری سے ادھار لی ہوئی کتاب میرے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ کتاب میری ملکیت نہیں اور یہ میرے پاس محدود وقت کے لیے ہے ۔ یہ احساس مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں کتاب سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھا لوں ۔ جبکہ کتاب کی ملکیت کا احساس اس سے فائدہ اٹھانے کو ملتوی کرتا رہتا ہے یہ سوچ کر کہ چیز تو اپنی ہے بعد میں پڑھ لیں گے اور یوں انسان فائدہ اٹھانے سے محروم رہتا یے ۔

    یہی صورت حال وسیع تناظر میں انسان کی زندگانی پر منطبق ہوتی ہے ۔

    جب انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ زندگی میری نہیں ہے اور میرے پاس وقت بھی محدود ہے تو وہ اس سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھاتا یے ۔

    لیکن لاشعوری طور پر لوگوں کی اکثریت اس احساس میں مبتلاء ہوتی ہے کہ زندگی میری ملکیت ہے بعد میں عمل کرلیں گے ۔

    لیکن وہ اسی غفلت میں مبتلاء ہوتا ہے کہ اچانک موت کا پنجہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کے پاس خسارے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔

    عقیدہ آخرت نہ صرف انسان کو مقصدیت عطا کرتا ہے بلکہ وہ اس کی آخرت کے ساتھ ساتھ اس کی دنیا کو بھی بہتر اور خوشحال کردیتا ہے ۔

  • پی سی بی نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا

    پی سی بی نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔

    مہمان اسکواڈ ایک چار روزہ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلنے کے لیے یکم سے 19 نومبر تک پاکستان کا دورہ کرے گی۔ یہ تمام چھ میچز 4 سے 18 نومبر تک اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے جائیں گے، محدود طرز کے میچز 45 اوورز پر مشتمل ہوں گے۔ بنگلہ دیش انڈر 19 نے آخری مرتبہ نومبر 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا واحد چار روزہ میچ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جو ڈرا پر ختم ہوا تھا۔ ٹور میں شامل پانچ میں سے تین ون ڈے میچز بنگلہ دیش نے جیتے تھے۔


    آئی سی سی کے قواعد کے مطابق آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2024 میں شرکت کے لیے کھلاڑی کا 31 اگست 2004 کو یا اس کے بعد پیدا ہونا لازمی ہے۔ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان کا کہنا ہے کہ سال 2022 پاکستان میں بین الاقوامی ٹیموں کی میزبانی کا سال ہے، لہٰذا، وہ نومبر میں بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کا خیر مقدم کرنے کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 15 سالوں میں پاکستان میں پہلی جونیئر بین الاقوامی سیریز ہوگی، ایک چار روزہ اور پانچ محدود طرز کی کرکٹ کے میچز پر مشتمل یہ سیریز دونوں اطراف کے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرے گی۔ سیریز کے لیے قومی انڈر 19 اسکواڈ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کی آمد یکم نومبر کو ہوگی جبکہ 4 تا 7 نومبر چار روزہ میچ کھیلا جائے گا۔ اسکے بعد پہلا ون ڈے 10 نومبر کو، دوسرا ون ڈے 12 نومبر، تیسرا ون ڈے 14 نومبر، چوتھا ون ڈے 16 نومبر اور پانچواں ون ڈے 18 نومبر کو کھیلا جائے گا۔

  • طلبا نے مچھلیوں کے فضلے سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا

    طلبا نے مچھلیوں کے فضلے سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا

    این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبا نے مچھلیوں کے فضلے اور اندرونی اجزا سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا ہے۔

    مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل سے فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ سمندری آلودگی کم کرنے اور ریفائنری میں بننے والے ڈیزل پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ صحافی کاشف حسین کے مطابق؛ این ای ڈی یونیورسٹی کے مکینکل انجینئرنگ کے فائنل ایئر کے طلبا کے گروپ نے اپنے سپروائزر اور انوائرمنٹل انجینئرنگ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمود علی کی نگرانی میں 2 ماہ کی تحقیق کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے مچھلی کے کچرے اور پھینک دیے جانے والے اندرونی اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کرلیا ہے ریسرچ کرنے والے طلبا میں محمد ابصار احمد ، ذکی احمد ،طلحہ احمد اور حذیفہ افتخار شامل ہیں۔

    ریسرچ ٹیم میں شامل طالب علم محمد ابصار احمد نے بتایا کہ اس سے قبل مختلف نباتاتی اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کیا جاتا رہا تاہم ان کے گروپ نے مچھلیوں کے فضلے کا انتخاب کیا جو وافر مقدار میں دستیاب اور اس کی دستیابی میں مزید اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان میں سالانہ ایک ملین ٹن مچھلی اور سمندری خوراک حاصل کی جاتی ہے جس سے سالانہ ساڑھے 3 لاکھ ٹن فضلہ نکلتا ہے جو زیادہ تر سمندر برد کردیا جاتا ہے جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور آبی حیات متاثر ہورہی ہے۔

    تحقیق کرنے والے طلبا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں دستیاب ساڑھے تین لاکھ ٹن مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل تیار کیا جائے تو ڈیڑھ لاکھ ٹن تیل یا پھر ایک لاکھ ٹن بائیو ڈیزل تیار کیا جاسکتا ہے جس کی ریفائنری میں بننے ڈیزل میں 20فیصد تک آمیزش سے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ ڈیزل اور خام تیل کی درآمد پر اٹھنے والے زرمبادلہ کی بھی بچت کی جاسکے گی۔ مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری سے سالانہ 1.73ارب ڈالرکی بچت ہوگی

    مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی عام ڈیزل میں20 فیصد تک آمیزش سے ڈیزل کی درآمد پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ میں سالانہ 1.73ارب ڈالر کی بچت کی جاسکتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں0.77 ملین ٹن ڈیزل امپورٹ کیا گیا جس پر 17.3ارب ڈالر خرچ کیے گئے، پاکستان میں دستیاب ساڑھے 3 لاکھ ٹن مچھلی کے فضلے کو پراسیس کرکے ایک لاکھ ٹن بائیو ڈیزل تیار کیا جائے تو ڈیزل کی درآمد میں ایک لاکھ ٹن کی کمی ہوگی جس سے 1.73ارب ڈالر کی بچت ہوگی، مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری کے دوران بننے والی گلیسرین صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔

    مچھلی کے فضلے اور اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کرنے والے پراجیکٹ کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر محمود علی کے مطابق مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری تجارتی بنیاد پر ایک نفع بخش منصوبہ ثابت ہوسکتا ہے نجی شعبہ سرمایہ کاری کرے تو این ای ڈی یونیورسٹی پلانٹ کے ڈیزائن سمیت تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں انھوں نے بتایا کہ اس 10 لیٹر کی محدود گنجائش کا حامل پلانٹ بجلی سے چلانے پر کیمیکل سمیت تمام لاگت ملاکر 180سے 190روپے میں ایک لیٹر تیل کو بائیو ڈیزل میں تبدیل کرتا ہے نجی شعبہ زیادہ گنجائش کا پلانٹ نصب کرے تو یہ لاگت کافی حد تک کمی کی جاسکتی ہے اور بائیو ڈیزل کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔

    مچھلیوں کے کچرے اور اندرونی اجزا کے فضلے سے بائیو ڈیزل بنانے کا تجربہ این ای ڈی کے انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں تیار کیے جانے والے بیچ بیچ اسکیل بائیو ڈیزل پروڈکشن یونٹ کی مدد سے کیا گیا۔ یہ پلانٹ انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں ہی ڈیزائن اور فیبری کیٹ کیا گیا ہے جو 3 گھنٹے میں 10 لیٹر تیل کو پراسیس کرکے اس سے بائیو ڈیزل میں تبدیل کرسکتاہے یہ پلانٹ تیل کو کیمیکل اور حرارت سے پراسس کرکے اس میں سے بائیوڈیزل اور گلیسرین الگ کرتا ہے، یہ مشین 2 ماہ میں ایک لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی ہے۔ ڈاکٹر محمود علی نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ یہ مشین این ای ڈی کے انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں ہی تیار کی گئی ہے جو 10لیٹر تیل کو پراسیس کرکے بائیو ڈیزل میں تبدیل کرتی ہے اس عمل کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے جس سے پراسیس کی لاگت میں کمی آئے گی اور بائیو ڈیزل بنانے کے پراسیس کو بھی ماحول دوست بنایا جاسکے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    ڈاکٹر محمود علی کے مطابق؛ مچھلی کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی ریفائنری میں تیار ڈیزل کے مقابلے میں لاگت 12سے 13فیصد تک کم ہے تاہم یہ تجربہ 10لیٹر کے بیچ پراسیس پر کیا گیا اگر اسے پائلٹ بنیاد پر 100لیٹر تک کی گنجائش والے شمسی توانائی سے چلنے والے یونٹ پر پراسیس کیا جائے تو عام ڈیزل کے مقابلے میں فش ویسٹ بائیو ڈیزل کی لاگت 20سے 25فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی کلوریفک ویلیو عام ڈیزل کے برابر ہے اور اس سے خارج ہونے والے کاربن اجزا ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر کلو کاربن سائیکل کے ذریعے دوبارہ ماحول میں شامل ہوجاتے ہیں۔

  • بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں  یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کیلئے دلچسپ تحریریں لکھنے والے معروف مصنف اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی شہادت کو آج 24 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ حکیم محمد سعید کی ملک و قوم اور بچوں کیلئے تحریری و سماجی خدمات بھلائی نہیں جاسکتیں۔ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے حکمت کے ساتھ ساتھ علومِ دینی، حفظِ قرآن اور بچوں کے ادب پر زبردست کام کیا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات اور گورنرسندھ کے طور پر قومی خدمات تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔

    معروف مصنف و محقق حکیم محمد سعید شہید کی تصانیف بڑی تعداد میں عوام الناس کیلئے وسیلۂ روزگار اور تحصیلِ علم کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ آپ ایک عالمی شہرت یافتہ معالج، مایہ ناز ادیب اور طبی محقق تھے جن کی کامیابیوں کی داستان طویل ہے۔ سابق گورنر حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920ء کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوئے، ابھی عمر 2 برس ہی تھی کہ والد کی وفات نے آپ کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کردیا، پھر بھی آپ نے 9 برس کی عمر میں قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    پاکستان آزاد ہوا تو آپ نوجوان تھے، جس کے بعد آپ نے سب کچھ بھارت میں چھوڑ کر پاکستان کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور اہلِ خانہ کے ہمراہ 9 جنوری 1948ء کو شہرِ قائد آ پہنچے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں انہیں دیکھا۔ حکیم محمد سعید نے 11 ستمبر 1948ء کو قائدِ اعظم کی وفات سے لے کر یومِ وفات تک ملک کی سیاسی و قومی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ کو 17 اکتوبر 1998ء کے روز دہشت گردوں نے روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

  • اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا.

    معروف مائیکرو بلاگنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نیا ’don’t @ me‘یعنی ‘ڈوناٹ مینشن می’ فیچر متعارف کروانے جا رہا ہے جس کے بعد صارفین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ کون ان کو پوسٹس میں ٹیگ کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکے. ’@‘ ایٹ کا نشان کسی بھی پوسٹ میں کسی صارف کو ٹیگ (جس کو مینشن بھی کہا جاتا ہے) کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نشان ٹیگ کیے جانے والے شخص کے اکاؤنٹ کا ایک لنک بناتا ہے اور ان کو پوسٹ اور پوسٹ پر بعد میں آنے والی جوابات کے متعلق مطلع کرتا ہے۔

    ایپ محقق جین مینچُن وونگ کی جانب سے لیک کیے جانے والے ایک اسکرین شاٹ کے مطابق یہ فیچر صارفین کو یہ اختیار دے گا کہ آیا دیگر اکاؤنٹس ان کو کسی ٹویٹ میں مینشن کر سکتے ہیں یا نہیں۔ نئے فیچر کا استعمال کرتے ہوئے صارفین پلیٹ فارم پر ہونے والی ہراسانی سے بچ سکیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    صارفین کے پاس یہ آپشن موجود ہوگا کہ وہ ان افراد کی فہرست کو محدود کرسکیں جو انہیں اپنی پوسٹ میں مینشن کر سکیں یا مکمل طور پر مینشن کا فیچر بند کر دیں۔ ٹوئٹر میں ایسے متعدد فیچرز موجود ہیں جو صارفین کو پلیٹ فارم پر جاری ایک گفتگو، جن میں وہ شامل ہوتے ہیں، پر پورا اختیار دیتے ہیں۔ فی الوقت صارفین اپنی ٹویٹ کا جواب دینے والوں میں کو ان لوگوں تک محدود رکھ سکتے ہیں جو اس میں مینشن ہوں یا جو ان کو فالو کرتے ہوں یا اس آپشن کو مکمل طور پر بند کرسکتے ہیں۔

  • آئینہ ان کو دکھایا

    آئینہ ان کو دکھایا

    آئینہ ان کو دکھایا
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    کئی دنوں سے پاکستان کے سینئر صحافیوں اور خاص طور پر سینئرصحافی اور اینکرپرسن مبشر لقمان کے خلاف پی ٹی آئی کے گماشتوں نے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے ،جس طرح کی وہ زبان استعمال کررہے ہیں وہ ان کی اور ان کے لیڈر اوران کے حسب نسب کی گواہی دی رہی ہے کہ ان لوگوں کاتعلق کس قبیل سے ہے ،سب سے زیادہ یہ لوگ اس بات پر زور دیکر ٹویٹرپرٹرینڈز لانچ کررہے ہیں اور بے ہودہ زبان استعمال کررہے ہیں کہ "مبشرلقمان نے ایک اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویودیا اورمبشرلقمان یہودی ایجنٹ ہے "اس کا جواب تو مبشر لقمان خود اپنے یوٹیوب ویلاگ میں دے چکے ہیں ۔آئیے تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھتے ہیں کہ یہودی ایجنٹ کون ہے ۔؟
    سب سے پہلے حکیم محمدسعیدکاذکر کرلیتے ہیں اگرکسی اورکانام لیتے تو آپ اے سیاسی عداوت کانام بھی دے سکتے ہیں،مگر سابق گورنر سندھ، ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید شہید کی عمران خان سے کونسی سیاسی دشمنی تھی.؟حکیم محمد سعیدشہیدنے اپنی شہادت سے دو سال قبل 1996 میں اپنی کتاب "جاپان کی کہانی "شائع کی اور اس کتاب میں سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے عمران خان کی یہودیت نوازی کا پردہ مکمل طور پر چاک کردیا تھا۔ حکیم محمد سعید اس یہودی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 13، 14 ، 15 پر لکھتے ہیں۔ بیرونی قوتوں نے ایک سابق کرکٹر عمران خان کا انتخاب کیا ہے، یہودی میڈیا نے عمران خان کی پبلسٹی شروع کردی ہے، سی این این اور بی بی سی عمران خان کی تعریف میں زمین و آسماں کے قلابے ملا رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کو کروڑوں روپے دیئے جا چکے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان بنائے، برطانیہ جس نے فلسطین کو اسرائیلی ہاتھ میں دے کریہودی ریاست بنانے میں مکمل تعاون کیا وہ ایک طرف عمران خان کو آگے بڑھا رہے ہیں اور دوسری طرف آغا خان کو ہوائیں دے رہا ہے۔حکیم محمد سعید شہید آگے سوال اٹھاتے ہیں، میرے نوجوانو!کیا پاکستان کی اگلی حکومت یہودی الاصل ہوگی ؟؟یہ وہ دور تھا؛ جب عمران خان سیاست کا ” س ی ا س ت ” یاد کررہا تھا،
    مگر اس حکیم الوقت نے اس مرض کو بروقت بھانپ لیا تھا جو پاکستانی قوم کی رگوں میں سرایت کر رہا تھا اور شائد یہی وہ حق و سچ کی جرات کا نتیجہ تھا کہ حکیم محمد سعید کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ حکیم محمد سعیدشہید کے علاوہ پروفیسر اسرار احمد نے تیس سال پہلے کہا تھا اور نام لے کر کہا تھا جس کی ویڈیوز موجود ہیں کہ عمران خان کو یہودی لابی لے کر آئے گی اور وہ پاکستان کو تباہ کرنے آئے گا۔
    یہ مولانا فضل الرحمن کا بیان نہیں ہے بلکہ کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ تکبیر کے 1997 کی رپورٹ ہے جوآج سے 25سال قبل شائع ہوئی پڑھ لیں،ہفت روزہ تکبیر نے لکھا ہے کہ عمران خان جیسے تھرڈ کلاس شخص کے ساتھ سر جیمر گولڈ اسمتھ جیسے کٹر یہودی ارب پتی شخص کے اکلوتی لاڈلی بیٹی کی شادی محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں کے اس نظریے اور فلسفے کا تسلسل ہے کہ کسی بھی شخص کو خوبصورت دوشیزائوں کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے،عمران خان کے پاس لندن کے 4 مہنگے ترین نائٹ کلبوں کی تاحیات ممبر شپ تھی جہاں پر عام شخص جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، انہی کلبوں میں سیتا وائٹ جیسی یہودی امیرزادیوں کے ساتھ عمران خان تعلقات بناتا تھا
    عمران خان کو جس عالمی یہودی کلب کی تعاون حاصل ہے اس کے کل دس ارب پتی ممبران ہیں جبکہ گولڈ اسمتھ اس کلب کا مضبوط رکن ہے، یہ کلب اتنا موثر ہے کہ اس نے یورپین بلاک بننے کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی جس کے لئے انہوں نے دو ارب برطانوی پانڈز بھی جمع کیا تھا،عمران خان ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پاکستانی جذباتی قوم کے سامنے ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے تھے اسی وجہ سے اس بدنام زمانہ یہودی کلب کے نظریں عمران خان پرٹھہرگئیں، جب عمران خان نے 1996 میں اپنی جماعت بنا کر الیکشن میں اترے تو ان کواکمپین چلانے کے لئے خصوصی ہیلی کاپٹر دیا گیا جس کا سارا خرچہ اسی کلب نے ادا کیا۔
    اب ذرا 15جولائی 2017ء کا روزنامہ خبریں دیکھ لیجئے روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق لکشمی میتل کے داماد امیت بھاٹیا، پیٹر وِردی،نربھے لال وانی، ذلفی بخاری اور یہودی عطیہ دہندہ جیمی ریوبن کا پاکستان تحریک انصاف کو فنڈنگ کرنے کا انکشاف ہوا ہے لیکن ذرائع کے مطابق اِسکا ریکارڈ پاکستان میں موجود نہیں،عمران خان نے 150,000 پائونڈ موصولی کی باقاعدہ تصدیق تو کی تھی مگر اِن انڈین اور اسرائیلی ذرائع کے نام راز میں ہی رکھے ،خفیہ رکھی گئی اِس عشائیہ تقریب میں انڈین اور اسرائیلی سفارتخانے کے سفارتکاروں نے شرکت کی تھی ،مگرجانچ پڑتال اور بے نقاب ہونے سے بچنے کیلئے بیانات کو الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے،تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا کی نمایاں شخصیات اور یہودی کاروباری شخصیات ،جنہوں نے عمران خان کو پارٹی کیلئے عطیہ دیا،انڈین اور اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ سے مضبوط تعلقات رکھتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے اندر بھی انڈین ذرائع، یو کے اور یو ایس اے سے لئے گئے عطیات کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
    لندن کے اولڈ پارک لائن میں واقع نوبو ریسٹورنٹ کے پی ٹی آئی، یوکے کے لیڈر ذلفی بخاری کے زیراہتمام اپریل کو فنڈریزنگ کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جبکہ عمران خان کی جانب سے اپریل کو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ پر اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا گیا کہ یہ فنڈز نمل کالج کیلئے تھے۔لیکن ذرائع جنہوں نے خفیہ عشائیہ میں شرکت کی تھی ،نے تصدیق کی ہے کہ فنڈریزنگ پی ٹی آئی کیلئے تھی اور تین انڈین نے تقریب سے خطاب بھی کہاتھا کہ پاکستان میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے جس کا ذکر عمران خان کرتے ہیں۔بعدازاں عمران خان نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ میں ذلفی بخاری اور انکے دوستوں کانمل کالج کیلئے 150,000پائونڈ کے تعاون پر شکرگزارہوں لیکن یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دوست کون تھے جنہوں نے یہ پیسہ دیا۔پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق 150,000 پائونڈ صرف امیت بھاٹیا، جیمی ریوبن، پیٹر وردی اور لال وانی سے موصول ہوئے جبکہ100,000 پائونڈ اسکے علاوہ ہیں جو ا س رات جمع کئے گئے جس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔جس رقم کو ذلفی بخاری نے سنٹرل لندن میں عمران خان کیلئے پراپرٹی کے بزنس میں انوسٹ کردیا۔انہیں ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 2014کے دھرنے میں ذلفی بخاری نے350,000 پائونڈ عطیہ کئے تھے جب عمران خان نے فنڈز کے لئے اپیل کی تھی۔یہی انڈین شخصیات اور ریوبن فیملی تھی جن کا گولڈ سمت سے تعلق ہے نے دھرنے کیلئے رقم کا بندوبست کیا۔ایک عطیہ دہندہ کا کہنا ہے کہ عشائیہ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں تین انڈین سفارتکار شامل تھے جب کہ دو سنیئر سفارتکار اسرائیلی سفارتخانہ یو کے سے تھے ،جو سفارتکاروں کی کار میں ہی پہنچے تھے۔ پی ٹی آئی کو رقم مہیا کرنے والوں کی سیاسی معاملات میں دلچسپی ہے اور یہ اپنے رابطوں اور تعلقات کو آئندہ اپنے کاروبار میں اثرانداز ہونے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں
    امیت بھاٹیا اور لکشمی میتل کو انڈین پرائم منسٹر کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔انہیں افراد نے نریندر مودی کے استقبالیے کا اہتمام کیا تھا جب مودی نے یوکے میں چند عرصہ قبل دورہ کیا۔انہیں آر ایس ایس اور بی جے پی کا اہم سپانسر بتایا جاتا ہے ،جب کہ انہیں مودی کی ریلیوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ذلفی بخاری اور ذاک گولڈ سمیتھ کے یہی قریبی دوست ذاک گولڈ سمیتھ کے ہمراہ دو ہفتے قبل اسرائیل کا مودی کی موجودگی میں دورہ بھی کر چکے ہیں جہاں انہوں نے کاروباری معاہدوں میں دستخط بھی کئے۔ اِن افراد کو اِس دورے میں یہودی کاروباری ٹائی کون جیمی ریوبن کا ساتھ رہا ،جس کے بھائی نوبو کے عشائیے میں بھی موجود تھے۔ اور وہاں ذلفی بخاری کے ذریعے عمران خان کو عطیہ بھی دیا تھا۔
    اندرونی ذرائع کے مطابق لکشمی میٹل کے داماد امیت بھاٹیا اور ذلفی بخاری نے تحریک انصاف کے ممبران یا لیڈرز کو عشائیہ تقریب میں شریک نہ ہونے دیا اور بڑی احتیاط برتتے ہوئے محدود چنی ہوئی مخصوص شخصیات کو ہی مدعو کیا،تقریب میں آڈیو ویڈیو کی ریکارڈنگ ممنوع تھی،یوکے میں انیل مسرت بھی پی ٹی آئی اور انکے سیاستدانوں کو سپانسرز کرنے کے حوالے سے بہت مقبول ہیں ، جبکہ انیل مسرت انڈین کاروباری شخصیات، بالی وڈ کی نمایاں ہستیاں سمیت بی جے پی لیڈرز کے اعزاز میں تقاریب کو سپانسرز کرتے ہیں۔ان تقاریب کے انتظام و اہتمام میں انہیں اپنے بھائی نائیب مسرت کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انیل مسرت کے سگی بہن نے برطانوی نژاد انڈین کاروباری شخصیت سے شادی رچا رکھی ہے جو بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
    عمران خان کو فنڈزیورپ اور امریکہ کی یہودی اور بھارتی لابی مہیا کرتی ہے- اسکے لندن کی گولڈ سمتھ جرمن یہودی خاندان سے روابط ہیں یہی وجہ ہے کہ اس نے لندن کے میئر کے انتخابات میں پاکستانی نزاد صادق خان کے مقابلے میں اپنے سابق سالے کنزرویٹیو پارٹی کے امید وار زیک گولڈ سمتھ جو کہ ایک کنزرویٹو ہے اور پرو اسرائیل ہے کی انتخابی مہم چلائی تھی ۔
    10 جون ، 2016 لندن کے نو منتخب میئر صادق خان نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں اپنے حریف زیک گولڈ سمتھ کی حمایت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ انھوں نے اس حقیقت کے باوجود کہ زیک گولڈ سمتھ نے انتخابات کے دوران میرے خلاف نسل پرستی اوراسلامو فوبیا سمیت ہر حربہ اختیار کیا اور ووٹروں سے جا جا کر کہا کہ صادق خان مسلمان اور پاکستانی ہے اس لئے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا میرے مقابلے میں زیک گولڈ سمتھ کی حمایت کیوں کی؟۔جس کا آج تک خان صاحب نے جواب نہیں دیا ۔
    سابق وزیراعظم عمران خان کے دورحکومت میں اکتوبر2018 ء تاریخ میں پہلی بار ایک اسرائیلی طیارے نے اسلام آباد میں لینڈ کیا جس کی خبرایک اسرائیلی اخبار ‘ہارٹیز’ کے مدیر ایوی شراف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دی ،اس ٹویٹ کے بعدیہ پتہ چلا کہ ایک طیارہ پاکستان آیا اور دس گھنٹے کے بعد ریڈار پر دوبارہ نمودار ہوا۔پروازوں کی آمدورفت یا لائیو ایئر ٹریفک پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر اس پرواز کے اسلام آباد آمد اور دس گھنٹے بعد پرواز کے ثبوت موجود ہیں۔ اسرائیلی صحافی کے بقول اس طیارے کے پائلٹ نے دوران پرواز ایک چالاکی دکھائی۔ان کے مطابق یہ طیارہ تل ابیب سے اڑ کر پانچ منٹ کے لیے اردن کے دارالحکومت عمان کے کوئین عالیہ ہوائی اڈے پر اترا اور اترنے کے بعد اسی رن وے سے واپس پرواز کے لیے تیار ہوا۔اس طرح یہ پرواز جو تل ابیب سے اسلام آباد کے روٹ پر جانے کے بجائے اس ‘چھوٹی سی چالاکی’ کی مدد سے تل ابیب سے عمان کی پرواز بنی اور پانچ منٹ کے اترنے اور واپس پرواز کرنے سے یہ پرواز عمان سے اسلام آباد کی فلائٹ بن گئی۔اس آمد اور روانگی پر کئی قیاس آرائیاں ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے سوالات بھی کئے کیونکہ ایک ‘اسرائیلی طیارے’ کی پاکستان آمد نے یقینا بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ادھر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے ذریعے کہلوایاگیاکہ کسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی افواہ میں قطعی کوئی صداقت نہیں ہے۔
    پی ٹی آئی نے امریکہ میں لابنگ کرنے کیلئے فرم ہائرکی ہوئی ہے ،جوبائیڈن ایک فنڈریزنگ تقریب سے خطاب کررہا تھا۔ سوال جواب کے سیشن میں اسی امریکی فرم کے نمائندے کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر سوال اٹھایا گیا، جس کو پی ٹی آئی نے لابنگ کے لئے ہائر کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فرم پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کیخلاف زبردست مہم جوئی میں شریک کار رہی ہے-یہ ہیں وہ حقائق جو پاکستان کی عوام سے اوجھل ہیں،اب پاکستان کی سمجھ دارغیورعوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے یہودیوں کاایجنٹ کون ہے۔۔۔؟

  • عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار اور پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ بیٹر یونس خان کو پی سی بی ہال آف فیم شامل کرلیا گیا ہے۔ عبدالحفیظ کاردار اور یونس خان ووٹنگ کےعمل کے بعد پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بنے ہیں۔ فضل محمود، عبدالقادر، حنیف محمد، ظہیرعباس، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور وقاریونس بھی پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوچکے ہیں۔ قادر خواجہ کے مطابق؛ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا کا کہنا ہے کہ ہال آف فیم کا مقصد اپنے رول ماڈلز کی کامیابیوں کو سراہنا ہے۔ رمیز راجا نے کہا کہ عبدالحفیظ کاردار نے پاکستان کو کرکٹ کا خواب دکھایا تھا اور یونس خان نے ہمیشہ سخت محنت کو اپنا شعار بنایا، یونس خان نے تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کے لیے لاجواب کامیابیاں سمیٹیں۔
    مزیہ یہ بھی پڑھیں؛ ملک کے 11 حلقوں میں ضمنی انتخاب کا دنگل آج سجے گا:کانٹے دارمقابلوں کی توقع
    رانا ثناءاللہ کو عابد شیر علی کی انتخابی مہم چلانے پر آج ہی طلب کرلیا گیا
    برطانوی وزیراعظم لزٹرس کو مشکلات کا سامنا، وزیر خزانہ کا سخت معاشی فیصلوں کا عندیہ
    اس حوالے سے عبدالحفیظ کاردار کے صاحبزادے شاہد کاردار نے کہا کہ ان کے والد نے اپنی شاندار قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی الگ شناخت بنائی، کاردار فیملی کو عبدالحفیظ کاردارکی پی سی بی ہال آف فیم میں شمولیت پر فخر ہے۔ یونس خان نے کہا کہ انہیں پی سی بی کی جانب سے ہال آف فیم میں شمولیت پر فخر ہے، عظیم کھلاڑیوں کی اس فہرست میں آنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ سابق کپتان نے کہا کہ کامیابی کبھی بھی کسی ایک فرد کی بدولت نہیں ملتی، اس اعزاز پر اہل خانہ، ساتھی کھلاڑیوں، کپتانوں اور اسپورٹ اسٹاف کا مشکور ہوں۔

  • برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین شیخ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں انتقال کرگئے ۔

    برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین شیخ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں انتقال کرگئے ۔

    مکہ مکرمہ:برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین اور محقق علامہ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔برصغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں شیخ محمد عزیر شمس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف اور محقق تھے۔ اردو اور عربی زبان میں اب تک آپ کی متعدد تحقیقات اور مقالات و مضامین منظر عام پر آچکے ہیں۔شیخ عزیز شمس کی پیدایش دسمبر 1956ء میں مغربی بنگال (بندوستان) کے ضلع "مرشد آباد” کے علاقے "صالح ڈانگہ میں ہوئی جہاں آپ کے والد اور اپنے عہد کے جلیل القدر عالم مولانا شمس الحق سلفی مرحوم ایک دینی ادارے میں یہ سلسلہ تدریس مقیم تھے۔ آپ نے حصول علم کا آغاز مدرسہ فیض عام مئو سے کیا اور بعد ازاں ہندوستان کے نامور اداروں: دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار، جامعہ رحمانیہ بنارس، جامعہ سلفیہ بنارس میں طلب علم میں مشغول رہے اور 1976ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئے اور چار سال تک عربی زبان و ادب میں تخصص کا کورس کیا۔ 1985ء میں جامعہ ام القری مکہ مکرمہ سے ایم فل کیا اور حالی کی تنقید اور شاعری پر عربی اثرات“کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ بعد ازیں اسی جامعہ سے پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا تہیہ کیا اور مطالعہ“ کے موضوع پر اپنا تھیسس مکمل کیا۔شیخ عزیر شمس ان تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد واپس ہندوستان چلے گئے، لیکن کچھ عرصہ بعد الله تعالی نے دوبارہ ارض حرمین میں قیام کا راستہ پیدا کر دیا، اور فروری 1999ء میں مکہ مکرمہ واپس آگئے جہاں آپ نے کئی علمی اداروں سے منسلک ہو کر کام کیا جن میں جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ، مجمع الملک فہد مدینہ منورہ اور اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ شامل ہیں۔ آپ 1999ء ہی سے مستقل طور پر مکہ مکرمہ کے مشہور علمی و تحقیقی ادارے "دار عالم الفوائد سے بھی وابستہ رہے جس میں آپ نے امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم اور علامہ معلمی کی بہت سی کتابوں کی تحقیق و تدوین کے فرائض سر انجام دیے ۔شیخ محمد عزیر شمس نے تحریر و نگارش کا آغاز اردو مضمون نگاری سے کیا اور اپنا پہلا مضمون "مولانا شمس الحق عظیم آبادی کے عنوان سے علامہ عظیم آبادی کی سیرت و خدمات سے متعلق لکھا۔ شیخ عزیز شمس نے امام ابن تیمیہ سمیت کئی محدثین پر کام کیا اور کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں ، بلاشبہ اس ’شمس’ کی وفات سے علم و تحقیق کا ایک ’آفتاب’ غروب ہوگیا.شیخ محمد عزیر شمس کی نماز جنازہ حرم مکی میں فجر کی نماز کے بعد سوموار کے دن ادا کی جائے گی، اور تدفین معلیٰ قبرستان میں ہوگی۔

  • غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک کی مخدوش معیشت کو سنبھالا دے کر ترقی کرتی ہوئی معیشت میں بدلنے کا بیڑہ اسحاق ڈار کے ذمے لگانا نہ صرف میاں محمد نواز شریف بلکہ ذمہ داران ریاست کا بہترین فیصلہ ہے۔ سینیٹر اسحا ق ڈار وزیر خزانہ نے بگڑی معاشی صورت کو درست سمت گامزن کرنے کی حامی بھر کے ملک اورعوام پر احسان کیا ہے جس کو سنجیدہ کاروباری اور عوامی حلقے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کا رحجان اور سٹاک ایکسچینج میں بلندی کی روش کسی معجزے سے کم نہیں پاکستان کو سری لنکا کی معیشت سے تشبیہہ دینے والے نابلد و ن اکام سیاسی اور معاشی پنڈتوں کو منہ کی کھانی پڑی اسحاق ڈار نے وطن عزیز کو معاشی گرداب سے نکالنے کی اٰمید کو زندہ کردیا۔

    ان کے سامنے آئی ایم ایف سمیت تمام بین الاقوامی مالیاتی فورمز کے ساتھ پاکستان کا کیس لڑنا ہے جبکہ ملکی سطح پر مائکرو اکنامکس کو نئے سرے سے منظم کرنے سے لے کر میگا اکنامکس، سمال انڈسٹری سے لے کر بڑی صنعتوں کی ترقی پٹرولیم کی قیمتوں میںکمی جیسے چیلنجز ہیں۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ جو ملک کی ماضی قریب کی ابھرتی معیشت سے کھلواڑ کھیل گئے ان کو ہوش کے ناخن لے کر معاشی ترقی کے لئے ساز گارسیاسی وسماجی ماحول فراہم کرنے میں مدد دینی چاہئیے اور وسیع تر قومی مفاد میں معاشی استحکام کی مخلصانہ کوششوں کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہیئے ایک ساز گار سیاسی وسماجی ماحول ہی معاشی ترقی کو پنپنے دے گا۔

    دفاعی اور کاروباری ترقی کے شعبوں ملک ایک بار پھر اقوام عالم میں دوبارہ ابھرتی ہوئی معاشی قوت کا مقام حاصل کرے گا۔ معاشی ترقی کا سنبھالا بلاشبہ دفاع پاکستان کا ضامن ہوگا ۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران جوغیر سنجیدہ وغیر دانشمندانہ تجربات کئے گئے اٰن کو دہرانے سے گریز کیا جائے ۔ادھر حکمران جماعت کے وزراء اور مشیران کو بھی چاہیے کہ وہ نہ صرف بے بنیاد پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دیں بلکہ ا پنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں عوام رابطہ مہم کے ذریعے عوامی مسائل کو حل کریں اور اپنے آپ کو اسلام آباد کےایوانوں کی زینت ہی نہ بنائے رکھیں ۔ غرور اور تکبر کی حدوں کو کراس کرنے سے گریز کریں۔

  • غیرملکی مداح کی شاداب کو شادی کی پیشکش جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید

    غیرملکی مداح کی شاداب کو شادی کی پیشکش جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید

    نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی مداح نے پاکستانی کرکٹر شاداب خان کو شادی کی پیشکش کردی ہے۔ جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو آٹوگراف نہ دینے پر تنقید صارفین کی تنقید

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی مداحوں کو ان سے ملتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک مداح نے شاداب خان کو شادی کی پیش کش بھی کردی ہے.
    https://twitter.com/mianjunaid631/status/1581197870791004160
    شاداب خان نے کیوی مداح کو شادی کی پیشکش کا تو کوئی جواب نہیں دیا تاہم اپنا ٹراؤزر ضرور گفٹ کردیا ہے۔ شاداب کی مداح لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ شرمیلے ہیں مگر میں نہیں اسی لیے شادی کی پیشکش کی ہے۔ شاداب اچھے کھلاڑی ہیں اور میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں۔ نیوزی لینڈ کی مداح خاتون کا انٹرویو میں بتانا ہے کہ شاداب خان اُنہیں بے حد پسند ہے کیوں کہ وہ ایک بہت اچھا پلیئر ہے اور شاداب خان نے مجھے اپنا ٹراؤزر دیا ہے.

    شاداب خان کی گوری مداح کا مزید کہنا تھا کہ میں نے شاداب خان کو بتایا ہے کہ میں اُن سے پیار کرتی ہوں اور اُن سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ گوری مداح کا شاداب خان کے لیے ویڈیو میں کہنا ہے کہ وہ بہت شرمیلے ہیں مگر میں شرمیلی نہیں ہوں۔ وائرل ویڈیو میں شاداب خان کو خاتون مداح کو اپنا ٹراؤزر دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جبکہ شاداب خان کی شرٹ اُن کے ہاتھ میں ہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
    حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
    اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا
    دوسری جانب اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شاداب خان کو انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے پاکستانی لڑکیوں کے لیے آٹوگراف بھی نہیں اور گوریوں کو شاداب خان اپنا ٹراؤزر دے رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے شاداب خان کے اس رویے کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ شاداب خان کو غیر ملکی مداحوں کے ساتھ ایسا رویہ زیب نہیں دیتا۔