Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    پاکستان میں حق اور باطل کون ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    یوں تو پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا سرخیل بننے کی چاہت ہر سیاستدان کو ہی رہتی ہے لیکن ملک کی حالیہ سیاسی نورا کشتی پر نظر دورائیں تو فلحال ایک ہی سیاستدان ایک ہی مقبول چہرہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جبکہ مدمقابل جس مشن کے تحت حکومت کے آخری سال اقتدار میں آئے تھے وہ اس مشن کی تکمیل میں ایک ساتھ مصروف ہیں ۔ ۔۔

    اس ساری صورتحال میں دونوں جانب سے ملک و ریاست کے ذمہ دار ادارے چکی کے دو پاٹوں میں سیاستدانوں کی سیاسی ضرورت کے تحت پس رہے ہیں۔۔۔

    ادارے آیئنی حدود میں رہ کر کام کریں یا ملک کے سیاستدانوں کو آیئنی حدودکا تعین کریں، دونوں صورتوں میں ادارے سیاستدانوں اور انکے چاہنے والوں کے درشت لہجے اور شاکی رویے کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔

    عدالتوں سے جس سیاستدان کے حق میں فیصلے آجائیں وہ حق کی فتح کا جھنڈا تھامےاور دو انگلیاں دکھاتا ہوا باہر آتا ہے اور مخالفیں کو بری طرح تنقید کا نشانہ بناتا ہے جبکہ جس سیاستدان کے خلاف فیصلے آجائیں وہ عدالتوں اور اداروں کو نشانے پر رکھ لیتا ہے اور اسکی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

    عام آدمی کو جب سیاستدانوں کی یہ چالاکیاں سمجھ میں نہیں آتی تو وہ بھی نظام کو کوس کر اپنے سیاسی لیڈر کی جے جے کار کرتے ہوئے انقلاب اور حقیقی آزادی کے نعرے بلند کرتا ٹرک کی بتی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔

    اس ہفتے میں دو خبریں آئیں جن کے بعد ملکی سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آیا، ایک طرف باوجود گرفتاری کی تیاری اور شدید خواہش کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اسلام آباد آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے اور دوسری جانب اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورکے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہوگئے ہیں۔۔۔

    دونوں طرف حق کی جزوی اور مکمل فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور نعرے لگ رہے ہیں، لیکن عوام کا سنجیدہ حلقہ ہونق بنے سراپا سوال ہے کہ اگر سبھی سیاستدان اور سیاسی جماعتیں حق کی علمبردار اور سچی ہیں تو پھر پاکستان کی عوام ہی باطل اور جھوٹی ہے؟؟؟؟

  • ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت، گمشدہ سمت اور غداری؟ — زوہیب علی چوہدری

    ملکی سیاست کا درجہ حرارت ایک بار پھر بلند سطح پر، گزشتہ چند دن سے ملکی سیاست کی صورتِحال بدلی تو تحریکِ انصاف کے قائدین اور رہنماؤں کی بھی ٹون جو کہ دس اپریل 2022 سے ہی بدلی ہوئی تھی، اس میں شدت آگئی۔۔۔

    اعظم سواتی جو کہ ٹوئٹر پر اداروں اور مختلف ریاستی شخصیات کو اپنی شست پر لیے بیٹھے تھے خود قانون کی شست پر آگئے۔۔۔ تفصیلات کے مطابق اعظم سواتی کےخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ سیکشن 20 کے تحت درج کیا گیا ہے ،جس میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 131/500/ 501، 505 اور 109 کی شقیں بھی شامل ہیں، اور ایف آئی آر کے مطابق اعظم سواتی کے خلاف مقدمے کا مدعی ایف آئی اے کا ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان ہے، ان کے خلاف مقدمے کا اندراج انکوائری کی تکمیل پر عمل میں لایا گیا ہے۔۔۔

    اعظم سواتی کوایف آئی اے سائبر کرائمز کی جانب سے رات گئے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ان کے متنازعہ ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کواشتعال دلانےجیسےالزامات ہیں۔۔۔

    ایسے ہی بیانات دینے پر پہلے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل ٹھیک ٹھاک قانونی کاروائی بھگت چکے ہیں اور اسی کیس میں کورٹ کی تاریخیں بھگت رہے ہیں۔۔۔

    اسلام آباد کی عدالت میں پیشی کے موقع عمران خان سے اعظم سواتی کی گرفتاری سے متعلق بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”ملک کو بنانا ری پبلک بنادیا ہے، شرم آنی چاہیے۔”

    ادھر ایک جلسے میں عمران خان صاحب ذومعنی لب و لہجے میں اداروں کی تضحیک اور ان پر تنقید کرتے ہیں اور دوسرے جلسے میں کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ادارے بھی میرے ہیں اور پاکستان بھی میرا۔۔۔۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟

    اور مردان جلسہ میں خان صاحب کا پارہ بھی بلند نظر آیا، خان صاحب نے جلسے میں کہا کہ

    ” جو بھی ان چوروں کو این آر او دے رہا ہے وہ اس ملک کا غدار ہے، اگر مجھ پر مقدمات بنانے اور جیلوں میں ڈالا تو میں زیادہ زور سے مقابلہ کروں گا۔۔۔ میں کرپٹ ہوتا تو آج دم دبا کرنواز شریف کی طرح ملک سے بھاگ ہوا ہوتا۔۔۔۔سوات اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی گڑبڑ کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔۔۔اعظم سواتی کو بھی برہنہ کرکے تشدد کیا گیا، تمام اداروں سے کہتا ہوں کہ غلط فہمی میں نہ رہیں کہ تشدد کرکے عزت کروالیں گے۔۔۔”

    خان صاحب کبھی جیل بھرو تحریک کی بات کرتے ہیں تو کبھی جیلوں میں ڈالنے والوں کو دھمکا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں ہم آئین اور ریاست کا احترام کرتے ہیں اور کبھی آئین اور ریاست کے زمہ داران کو غدار کہہ رہے ہیں۔۔۔ عمران خان کے بیانات اور بیانیے میں اتنا تضاد اور کنفیوژن کیوں ہے؟

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کردی گئی ہے، تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے درخواست دائر کی ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی 62(1) ایف کی تحت نااہلی کی استدعا کی گئی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے، وہ اپنے سرکاری دوروں کے دوران اشتہاری اور سزا یافتہ ملزمان سے ملاقاتیں کر تےرہے ہیں، مزیدکہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو احتساب عدالت نے دس سال قید اور 80 لاکھ جرمانہ کی سز ا سنا رکھی ہے جبکہ بیرون ملک دوروں میں شہباز شریف بطور وزیراعظم حسین نواز ، سلمان شہباز اور اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کرتے رہے، جس سے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کی، لہذا انہیں نااہل کیا جائے۔

    یہ سب ملک اور قوم کو کہاں لیکر جائے گا اور کب یہ سیاسی مقدمہ بازی، غداری کے فتوے لگانا اور الزامی سیاست اختتام پذیر ہوگی؟؟؟

  • انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کئی کروڑ سال پہلے جب انسان تھے ہی نہیں اور زمین پر جراسک ایرا یعنی ڈائنوسارز کا دور تھا تو میکسکو کے قریب ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی بڑا شہابیہ ٹکرایا۔ اس شہابیے کے گرنے سے کئی برس زمین پر تک گرد و غبار، راکھ کے بادل چھائے رہے۔ زمین ایک طویل سرد دور میں چلی گئی۔ زمین پر جانوروں کے لیے خوراک کی قلت ہو گئی اور ایسے جانور جو زیادہ خوراک استعمال کرتے جیسے کہ ڈائناسورز ، اُنکے لیے زندگی مشکل ہو گئی۔ اگلے کچھ عرصے میں نہ صرف ڈایناسورز بلکہ زمین پر موجود انواع کے تین چوتھائی معدوم ہو گئی۔

    اس تباہی کو جاننے اور خلا کی تسخیر اور وسائل کی دستیابی کے بعد انسان کا اگلا قدم یقیناً زمین کو کسی ممکنہ سیارچے کے ٹکراؤ سے بچانا تھا؟ مگر کیسے؟ ہم کس طرح ایک سیارچے کو زمین کی طرف آنے سے روک سکتے ہیں؟

    اس کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سیارچے ہوتے کیا ہیں؟ اور یہ کس طرح کے مدار میں چکر کاٹتے ہیں اور انکا مدار کسیے تبدیل ہوتا ہے؟

    سیارچے دراصل ماضی کے کسی سیارے کی باقیات ، کوئی ایسا سیارہ جو بننے میں ناکام ہو گیا ہو یا نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے بعد کئی چھوٹی بڑی خلائی چٹانیں جو گریویٹی کے باعث ایک جگہ اکٹھی ہو گئی ہوں وغیرہ وغیرہ سے بنتا ہے۔نظامِ شمسی میں کئی سیارچے موجود ہیں۔مگر یہ زیادہ تر مشتری اور مریخ کے درمیان ایک علاقے میں ہیں جسے ایسٹرآیڈ بلٹ کہا جاتا ہے۔
    ان میں سے کئی سیارچے یا چھوٹے شہابیے ہر روز زمین کیطرف آتے ہیں۔ مگر تیزی سے آتے ہوئے جب یہ زمین کی اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ کھانے سے چھوٹے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یوں زمین کسی تباہی سے محفوظ رہتی ہے۔

    مگر کبھی کبھی یہ شہابیے بے حد بڑے ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی سیارچہ جو زمین کیطرف آئے اور بہت بڑا ہو تو زمین کی فضا میں رگڑ کھا کر بھی اسکا بڑا حصہ زمین پر تباہی مچا سکتا ہے اور ایسا ہی کروڑوں سال پہلے ڈائناسورز کے دور میں ہوا۔

    لہذا اب ناسا کے سائنسدانوں نے ایسے ہی کسی ممکنا سیارچے کو زمین پر تباہی سے بچانے کے لیے پچھلے سال نومبر میں ڈارٹ نامی خلائی مشن بھیجا جسکا مقصد مشتری اور مریخ کے بیچ ایک سیارچے دیدموس کے گرد گھومتے اسکے چھوٹے سے چاند کا محور تبدیل کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہو جو کسی سیارچے کو یہ پر گرنے کی بجائے اس سے دور کر دے۔

    اس سلسلے میں 26 ستمبر کو اس سیارچے کیطرف بھیجے گیا سپیس کرافٹ 6.6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سیارچے دیدیموس کے چاند ڈیمورفوس سے ٹکرایا۔

    اس سپیس کرافٹ کے ٹکراؤ کے بعد خلا اور زمین پر موجود ٹیلی سکوپس کی مدد سے دیکھا گیا کہ سیارچے کے گرد گھومتے چاند کے مدار میں کس رفتار سے کمی واقع ہوئی ہے۔پہلے یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور
    55 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتا تھا۔

    ٹکراؤ سے پہلے ناسا کا خیال تھا کہ سیارچے کے مدار کی رفتار میں 73 سیکنڈ کا فرق ائے گا مگر بعد کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ اسکی رفتار میں 32 منٹ کی کمی آئی ہے جو یقیناً ممکنہ نتائج سے بڑھ کر ہے۔ گویا اب یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور 23 منٹ میں ایک چکر لگاتا ہے۔اس پیمائش میں 2 منٹ کی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

    اس مشن سے یہ ثابت ہوا کہ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجی سے سیارچوں سے سپیس کرافٹ ٹکرا کر انکے مدار کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو ممکنا طور پر آنے والے وقتوں میں کسی بڑے سیارچے سے ٹکرا کر اسکا مدار اس حد تک تبدیل کر دے کہ وہ زمین سے ٹکرانے کی بجائے اسکے پاس سے گزر جائے اور زمین محفوظ رہے۔

    یقیناً یہ مشن انسانیت کی اور سائنس کی جیت ہے قدرتی آفات سے لڑنے کی۔اور اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدن اور انجنیئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    نوٹ: مشن سے پہلے یا مشن کے بعد دیدیموس اور ڈیمورفوس دونوں کا دور دور تک زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں تھا یا ہے۔ یہ مشن محض ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔

  • ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی — نعمان سلطان

    ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی — نعمان سلطان

    کالج کے دنوں کی بات ہے ایک دن کالج میں کوئی پروگرام تھا ہم ازلی سست تو تھے ہی سونے پر سہاگہ ہم کوئی اہم شخصیت بھی نہ تھے اس وجہ سے پروگرام کے منتظمین نے ہمارا انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا اور ہمارے بغیر ہی پروگرام شروع کر دیا ۔

    جب ہم کالج پہنچے تو کوئی لڑکا نعت شریف پڑھ رہا تھا اور اس کی آواز ہمیں دور سے سنائی دے رہی تھی اس لڑکے کی آواز اس قدر خوبصورت تھی کہ سیدھی دل میں اتر رہی تھی، بےساختہ دل کیا کہ اس کی صورت بھی دیکھی جائے ۔

    چنانچہ دل کی آواز پر لبیک کہا اور فوراً پروگرام میں پہنچ گئے، نعت پڑھنے والے لڑکے کا رنگ انتہائی سفید تھا جس کی وجہ سے نورانیت کا تاثر پیدا ہو رہا تھا اور مزید تعارف دوستوں نے کرا دیا کہ یہ لڑکا پیرزادہ اور مستقبل کا گدی نشین بھی ہے جس کی وجہ سے عقیدت بھی محسوس ہونے لگ گئی ۔

    تھوڑا عرصہ گزرا تو معلوم ہوا کہ صاحب موصوف چرس کو فقیری نشہ کہتے ہیں اس وجہ سے اکثر اپنے روحانی مدارج کی ترقی کے لئے چرس پیتے ہیں اور روحانی مدارج کا تو معلوم نہیں لیکن کالج کی تعلیم مکمل کرنے تک ہر قسم کے نشے سے ضرور آشنا ہو گئے تھے ۔

    نشے کے استعمال کی وجہ سے وہ دیگر خبائث میں بھی مبتلا ہو گئے اور اگر پیری فقیری کی وراثت ان کا انتظار نہ کر رہی ہوتی تو موصوف یقیناً تعلیم سے فراغت کے بعد ایک سکہ بند بدمعاش ہوتے ۔

    ہر شخص میں شخصی برائیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں اس لئے اس کے طرزِ عمل یا طرزِ زندگی پر ہمارا اعتراض نہیں بنتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر شیطان جنت میں آدم و ہوا علیہ السلام کو بہکانے سے باز نہیں آیا تو کیا یہ موصوف سجادہ نشینی کے بعد سابقہ زندگی سے تائب ہو کر مومن بن گئے ہوں گے اور لوگوں کی عزتیں ان سے محفوظ رہے گی۔

    جو پیر اپنے بیٹے کو گمراہ ہونے سے نہیں بچا سکا وہ کیسے لوگوں کی بگڑی بنا سکتا ہے، ان جعلی پیروں کے پاس ایک ہی ہنر ہے لوگوں کی آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر ان کو نسل در نسل غلام بنا کر اپنی آنے والی نسلوں کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا ۔

    جو لوگ حالات کی تنگدستی سے گھبرا کر رزق کی کشادگی کے لئے ان کے پاس جاتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے جنہوں نے خود چندے کے گلے رکھے ہوئے ہیں اور اپنی جھوٹی شان و شوکت کے لئے ہمارے نذرانوں کے محتاج ہیں وہ کیسے ہمارا رزق کشادہ کر سکتے ہیں ۔

    جو عورتیں ان کو فرشتوں کی طرح معصوم سمجھ عملیات کروانے کے لئے ان کو تنہائی میں ملتی ہیں آخر میں سب کچھ گنوا کر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتے نہیں بلکہ دنیاوی ابلیس ہیں ۔

    دنیا میں کامیابی کا ایک ہی راز ہے جتنا بڑا خواب اتنی زیادہ محنت، ہاں ایک بات ضرور ہے کہ اپنی سو فیصد پرفارمنس دے کر پھر نتیجہ قدرت یا قسمت پر (اپنے عقیدے کے مطابق) چھوڑ دو۔

    ان پیروں کی حقیقت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کرونا کہ دنوں میں کسی مائی کے لعل نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کرونا کے مریضوں کو میرے پاس لاؤ میں ان کا علاج کروں گا یا میں بغیر کسی قسم کے حفاظتی انتظامات کے کرونا کے مریضوں کے ساتھ وقت گزار کر اپنی روحانی طاقت یا مقام ثابت کروں گا کیونکہ ان دنوں لوگوں کے ذہنوں میں یہ راسخ تھا کہ کرونا لاعلاج ہے۔

    ہمارے ساتھ ایک مستقبل کا گدی نشین پڑھتا تھا اس کی حرکتیں دیکھ کر ہماری آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتر گئی اور ہمیں سمجھ آ گئی کہ یہ رانگ نمبر ہیں تو براہ کرم آپ بھی اپنی آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتار دیں اور سمجھ لیں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔

  • بدنصیب — عمریوسف

    بدنصیب — عمریوسف

    آج صبح اٹھتے ہی اسے فکروں نے آ گھیرا ۔ سوچوں کا وہی سلسلہ جو رات سوتے وقت ٹوٹا تھا صبح اٹھتے ہی دوبارہ بحال ہوگیا ۔ فکر معاش کے خیالات کا طوفان اس کے دماغ میں پھر چلنا شروع ہوگیا ۔ بہتر مستقبل کی توقعات اسے پھر ستانے لگیں ۔ دوستوں کی محفل میں بھی اس نے گفتگو کا موضوع بہتر نوکری ہی بنائے رکھا ۔ پھر اسے ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا کام کے دوران بھی وہ یہی سوچتا رہا کہ روٹی کیسے کماوں اور آنے والے وقت کو کیسے بہتر بناوں ؟

    واپسی پر وہ پررونق بازاروں سے گزر رہا تھا لیکن روٹی کی فکر نے اس رونق سے بے خبر کیے رکھا ۔

    چلتے چلتے اسے پارک نظر آئی جہاں اس کا پسندیدہ گوشہ تھا جہاں تنہائی تھی ، سکون تھا ، خاموشی تھی جہاں وہ گھنٹوں بیٹھا اپنے ساتھ وقت گزارتا تھا ۔ لیکن روٹی کے فکر نے اس پارک سے بھی بے خبر کیے رکھا ۔

    اس کے بچپن کا دوست اسے ملا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے گھروں میں پٹاخے پھینک کر چھپ جاتا اور گھر والوں کی ہربراہٹ کو انجوائے کرتا ، لیکن وہ روٹی کی فکر میں اپنے دوست کو بھی نظر انداز کرگیا ۔

    سورج غروب ہوا اور شام کے سائے بڑھ گئے ، اندھیرا چھانے لگا اور وہ گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے جانے لگا ۔ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی اس کے انتظار میں تھی اس نے جلدی سے روٹی تیار کی اور اس کے سامنے لا کر رکھ دی وہ روٹی کمانے کی فکر میں اتنا گھر چکا تھا کہ اس نے روٹی کو یہ کہتے ہوئے سائیڈ پر کردیا کہ میرا کھانے کو دل نہیں کررہا ۔۔۔۔

    چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ انسان کتنا بدنصیب ہوتا ہے جو چند لمحوں کے جینے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا جو روٹی کی فکر میں روٹی ہی چھوڑ دیتا ہے ۔

  • اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    حمزہ عباسی کے اس بیان کے بعد میرے ذہن میں فلم کا جو خاکہ بنا ہے وہ کچھ یوں ہے؛

    صبح صبح نور ویلے ہیرو کے کمرے کا سین دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو فجر کی نماز کی تیاری میں مشغول ہے. ہیرو کی گھنی داڑھی سے وضو کے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں. ہیرو نے چٹا سفید جوڑا پایا ہے. مسجد جانے سے پہلے ہیرو سر پہ عمامہ باندھنا ہرگز نہیں بھولا.

    مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب کا بیان سنا جس میں ملک کے بدترین حالات کا زمہ دار فحاشی کو ٹھہرایا گیا تھا. خاص طور پر ان خواتین کو جہنمی قرار دیا گیا تھا جو جینز پہن کر ملک میں سیلاب لانے کی زمہ دار ہیں.

    بیان سننے کے بعد ہیرو وہیں اذکار اور تلاوت میں مشغول ہوگیا اور پھر اشراق کی نماز ادا کر کے گھر کی طرف روانہ ہوا.

    گھر پہنچ کر والدہ کے ہاتھ کا ناشتہ تناول فرمایا. چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے والدہ نے سارا ناشتہ ٹوپی برقع پہن کر سرو کیا. چونکہ آواز کا بھی پردہ ہوتا ہے اس لیے والدہ نے دعا دینے کے بجائے سر پہ ہاتھ پھیرنے پر اکتفا کیا.

    ناشتہ کرنے کے بعد ہیرو اپنے مدرسے روانہ ہوگیا جہاں وہ بچوں کو انتہائی شفقت اور محبت سے قرآن حفظ کرواتا تھا. عصر کی نماز سے فارغ ہو کر ہیرو گھر پہنچا، جہاں اس کے والد اور بڑے بھائی دو بزرگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے. ہیرو جب سلام کر کے ان کے پاس بیٹھا تو پتا چلا کہ قاری عبدالقدوس کی دختر کا رشتہ ہیرو کے ساتھ کرنے کا ارادہ ہے. دونوں گھرانوں کے بزرگوں نے استخارا ادا کر لیا ہے. ہیرو کے گھر کی خواتین بنت عبدالقدوس کو دیکھ آئی ہیں. لیکن چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے ہیروئین کی جھلک بھی نہیں دکھائی جا سکتی. فلم بین قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کو دیکھ کر امیجن کرلیں کہ ان کی بیٹی اور بہن کیسی لگتی ہوگی ( داڑھی ہٹا کر).

    فلم اسلامی ہی سہی لیکن ہیرو کے تو جذبات ہیں. رات عشاء کی نماز کے بعد بیان سننے میں بھی ہیرو کا دل نہیں لگ رہا تھا. بار بار قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے. ہیرو نے ذہن کو بٹانے کے لیے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی کتب سے ” رفع الیدین حنفی علماء کرام کی نظر میں” پڑھنے کے لیے اٹھا لی. اس کے بعد نیند نہ آنے کی صورت میں ” ٹخنے کھلے رکھنے کی تحدید” بھی پڑھنے کا ارادہ کرلیا کہ نیت کا بھی ثواب ہے.

  • محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    نبی کریم ﷺ کی ملکیت میں کئی تلواریں تھیں۔امام سیوطی کہتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس سات تلواریں تھیں۔ابن حجر ہیثمی نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس آٹھ تلواریں تھیں۔ ہر تلوار کا اپنا نام تھا۔ ابن سعد نے سات تلواروں کے نام نقل کئے ہیں۔

    ماثور، ذولفقار، قلعی، بتار، حتف،مخذم، رسوب

    ان میں سے تین تلواریں ۔قلعی، بتار، حتف۔ آپﷺ کو غزوہ بنی قینقاع کے مال غنیمت میں ملی تھیں۔ابن القیم نے نو تلواروں کا ذکر کیا ہے۔یوسف صالحی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس گیارہ تلواریں تھیں۔آج کل نو تلواروں کی رسول اللہﷺ کی طرف نسبت معروف ہے۔ان میں سے آٹھ تلواریں استنبول کے عجائب گھر توپ کاپی میں محفوظ ہیں۔جبکہ ایک تلوار مصر کی ایک مسجد میں ہے

    1- البتار

    البتار رسول اللہﷺ کی معروف تلوار ہے ۔
    البتّار کا معنیٰ السيف القاطع یعنی کاٹ دینے والی تلوار ہے۔
    اس کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے۔ اسے سیف الانبیاء یعنی نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے، یہ تلوار نبی ﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی۔

    یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔ اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤودعلیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو کہ اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ مزید تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو بتراء شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔
    اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، ہارون علیہ السلام ، یسع علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ، یحیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔
    آج کل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی میں محفوظ ہے۔

    2- الذوالفقار

    یہ تلوار رسول اللہ ﷺ کو غزوہ بدر میں بطور مالِ غنیمت ملی تھی۔ اس کو رسول اللہﷺ ہر وقت پاس رکھتے تھے۔عاص بن وائل کی ملکیت میں تھی۔جو غزوہ بدر میں قتل ہوا۔فتح مکہ کے وقت یہ تلوار رسول اللہﷺ کے پاس تھی۔یہ تلوار بعد میں عباسی خلفاء کے پاس رہی۔
    بعض روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تلوار حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دی تھی۔ غزوہِ اُحد میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اسی تلوار کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترے اور مشرکینِ مکہ کے کئی بڑے بڑے سرداروں کو واصلِ جہنم کیا۔ اکثر حوالے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ تلوار خاندانِ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں باقی رہی۔ اس تلوار کی وجہِ شہرت یا تو دو دھاری ہونے کی وجہ سے ہے یا پھر اس پر بنے ہوئے ہوئے دو نوک نقش و نگار کی وجہ سے ہے۔
    اس تلوار کی کل لمبائی 104 سینٹی میٹر جس میں 15 سینٹی میٹر چوڑا دستہ ہے۔۔۔
    یہ تلوار بھی استنبول کے توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہے.

    3- العضب

    (العضب یعنی تیز دھار والی)
    عضب تلوار رسول اللہﷺ کو حضرت سعد بن عبادہ نے تحفے میں دی تھی۔ روایات کے مطابق یہ تلوار غزوہ بدر سے قبل آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی۔
    اور یہی وہ تلوار ہے جو آپﷺ نے غزوہ اُحد میں حضرت ابودجانہ کو عطا کی۔ یہ تلوار مصر کے دار الحکومت قاہرہ کی ایک مسجد جس کا نام مسجد حسین بن علی ہے، میں محفوظ رکھی گئی ہے۔
    آجکل یہ تلوار مصر کے شہر قاہرہ کی مشہور جامع مسجد الحسین بن علی میں محفوظ ہے۔

    4-الماثور

    یہ تلوار حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والد ماجد کی وراثت کے طور پر ملی تھی۔
    یہ تلوار ایک اور نام ’ماثور الفجر‘ سے بھی مشہور ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی معیت میں جب یثرب کی طرف حجرت فرمائی تو یہی تلوارآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلوار بمعہ دیگر چند دوسرے جنگی سامان کے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دیئے تھے۔
    اس تلوار کا دستہ سونے کا ہے ۔اور اس تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے

    5- الحتف

    یہ تلوار بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔
    اس تلوار کے بارے میں یہ روایت ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤود کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے ، یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس اپنے باپ داداؤں سے بنو اسرائیل کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل چلی آرہی تھی، حتیٰ کہ آخر میں یہ نبی ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت کے طور پر پہنچی۔
    حتف تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔ یہ تلوار بھی ترکی کے توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

    6- المخذم

    اس تلوار کے حوالے سے دو مختلف آراء سامنےآتی ہیں۔
    اول یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرمائی اور بعد میں اولادِ علی میں وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی۔ دوئم یہ تلوار سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اہلِ شام کےساتھ ایک معرکہ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار پر ’زین الدین العابدین‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے۔
    اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    7- القضیب

    یہ کم چوڑائی والی سلاخ نما تلوار ہے۔ جو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دفاع کی خاطر تو ضرور موجود رہی ہوگی مگر غزوات میں آپ ﷺ نے اس کا استعمال نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
    تلوار پر چاندی کے ساتھ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور اس تلوار کی میان کسی جانور کی کھال کی بنی ہوئی ہے۔
    اورآجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    8- القلعی

    رسول اللہ ﷺ کی ایک تلوار کا نام القلعی تھا، اس قلعی تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔
    تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اورتلوار کی خوبصورت میان اسکو دوسری تلواروں میں ایک نمایاں مقام دیتی ہے۔
    یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’’توپ کاپی‘‘استنبول میں محفوظ ہے۔

    9- رسوب

    یہ تلوار نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیتی 9 تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تلوار پر سنہری دائرے بنے ہوئے ہیں جن پر حضرت جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی کنندہ ہے۔
    اس تلوار کی لمبائی 140 سینٹی میٹر ہے ۔
    یہ بھی استنبول میں توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

  • باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک فاسٹ باؤلر اپنا ہاتھ گھما کر ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرا سکتا ہے. کیا ہر شخص اس رفتار سے گیند پھینک سکتا ہے.؟ اسکا جواب نہیں ہے. لیکن ایک جیسے انسانوں میں ایک جیسے ہاتھ ہوتے رفتار کا یہ فرق کیسے آیا.؟ تو اسکا جواب یادداشت ہے.

    ہمارے مسلز کی بھی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے. جب ہم روزانہ کچھ مسلز سے بار بار ایک ہی طرح کام لینا شروع کر دیں تو دماغ اس کی مکینکس سیٹ کرنے لگتا ہے. ہماری تربیت ہماری مستقل مزاجی اور توانائی اس مکینکس کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانا شروع کر دیتی ہے. اور ہمارے muscles عام لوگوں سے منفرد ہوجاتے ہیں.

    مسلز کی ہر یادداشت کو طاقت نیند دیتی ہے. جب ہم سوتے ہیں تو دماغ اپنے بہت سے کاموں میں سے ایک یہ کام بھی کرتا ہے. یعنی ہماری یادداشت بہترین کرتا ہے. اس لئے اچھی نیند فوکس یادداشت اور قوت مدافعت کیلئے بہت اہم ہوتی ہے. خاموشی حکمت یعنی wisdom کی نیند ہے. جب ہم کم بولتے ہیں تو ہمارا دماغ ہمیں فوکس تجزیہ اور سوچے سمجھے انتخاب کا وقت دیتا ہے جسے ہم حکمت کہتے ہیں.

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے. پھر اس کی زبان وہ باولر بن جاتی ہے جس کے پاس رفتار اور سٹیمنا تو بہت ہوتا ہے لیکن نہ اس کی لائن ٹھیک ہوتی ہے نہ لینتھ بس وہ گیندیں پھینک رہا ہوتا ہے اور سننے والے سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں.

  • صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    لاہور اور کراچی دنیا کے بڑے انڈسٹریل شہر ہونے کے بغیر بھی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہر ہیں۔

    وجوہات؟

    نئی ماحول دوست مشینری کی بجائے پرانی فاسل فیول پہ چلنے والی مشینری، اور یہ مشینری بھی موسٹلی ترقی یافتہ ممالک سے سکریپ کے معاہدوں کے بعد یہاں آتی ہے۔

    نئی گاڑیوں کی بجائے پرانے سٹینڈرڈ پہ بنی نئی یا دہائیاں پرانی امپورٹڈ گاڑیاں جو کہ زہریلی گیسز خارج کرنے کا بہت بڑا سبب ہیں اور ان گاڑیوں کی ہیلتھ فٹنس چیک اپ نا ہونا، آپ لاہور کسی بھی جگہ چلے جائیں اگر آپ کو اپنے سامنے کوئی دھوئیں والی گاڑی یا رکشہ نا ملے تو سمجھ جائیں لاہور نہیں ہیں۔

    بے ہنگم آبادی جس میں سبزہ نا ہونے کے برابر ہے۔ سڑک کے گرد لگے پودے اتنے مفید کبھی نہیں ہو سکتے جتنے گھروں میں یا شہر سے باہر جنگل کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔

    ان سب وجوہات کی بنیادی وجہ پچھلی پوسٹ میں لکھی ہے۔ دہراتا چلوں کہ ہماری حکومتیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتنا زیادہ ٹیکس لگا چکی ہیں کہ ہم مجبوراً بیس سے تیس سال پرانی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اپنے ماحول کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔

    اگر لاہور اور کراچی میں سے اوپر والے دونوں فیکٹرز کو ہٹا کر سستی بجلی پر چلنے والے کارخانے ہوں اور ان کیساتھ ساتھ گاڑیوں کی ریگولیشن کرکے 2000 سے پرانی تمام گاڑیاں اور تمام سستے موبل آئلز پہ چلنے والے رکشے بند کر دئیے جائیں تو یہ شہر دو سے تین سالوں میں فضائی آلودگی میں نیچے آ جائیں گے۔

    وہیں ان شہروں میں انڈسٹریل ویسٹ کی مینجمنٹ کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہاں کے کوالٹی کنٹرول آفیسرز کی سی وی میں ایم ایس انوائرمینٹل انجینرنگ کی ڈگری تو ہے مگر ہر مہینے سٹیل ملز اور پلاسٹک مینوفکرچنگ یونٹس سے آئے چیک ان کو آرام سے بیٹھنے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ صبح پانچ سے دن کے بارہ تک رنگ روڈ، جی ٹی روڈ اور موٹروے پر حد سے زیادہ سموگ دیکھیں گے جو کہ ان سڑکوں کے اطرف میں موجود کارخانوں کی چمنیوں کی دین ہے۔

    حالانکہ کسی بھی مہذب ملک میں بلکہ ہمارے ملک کے قانون میں بھی ایسے کارخانے یا تو شہر سے باہر لگانے کا حکم ہے یا ان کی چمنیوں سے دھواں نکلنے سے پہلے اس کو فلٹر کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    اسی لئے

    آپ کبھی اسلام آباد یا ٹیکسیلا آئیں، اتنی ہیوی انڈسٹری میں نے لاہور نہیں دیکھی جتنی وہاں ہے مگر پالیوشن نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ ریگولیشن اچھی ہو رہی ہے۔

    اس وقت ہمارے ملک میں زیر استعمال مشنری کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اپ گریڈ کا مطلب یہ نہیں کہ چائینہ یا جرمنی سے متروک انڈسٹریل مشینری لائی جائے بلکہ جدید ماحولیاتی سٹینڈرڈ پر مشینری یہاں بنائی جائے مگر ایسے کاموں پہ ٹیکس اتنے ہیں کہ لوگ سوچنے سے پہلے توبہ پڑھتے ہیں اور پھر دہائیوں پرانی انڈسٹریل اور آٹوموبل مشنری جو کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلاتی ہے اس کو استعمال کرکے لوگوں کو بیمار کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    یاد رہے کچھ سال اس آلودگی کی شکایت بھارت نے بھی کی تھی کیونکہ ہمارے ائیر کرنٹ یا پھر ہوائی دباؤ کی وجہ سے یہ آلودگی قریبی بھارتی چہروں کو بھی گندہ کر رہی ہے۔

    مگر

    Zero actions are taken and will be taken.

  • "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    چوک پر بیٹھا گدا گر، مجھے دیکھتے ہی لنگڑاتے ہوئے میری جانب بڑھا۔ "اللہ کے نام پر دے دو، ٹانگ سے معذور ہوں۔ اللہ آپکو خوش رکھے”۔ گدا گر نے قدرے جذبات سے کہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔ میں نے کہا ٹانگ کو کیا ہوا ہے۔ ماما پھلا بولا! "ہوا کچھ نہیں ، بس سیاست کررہا ہے”۔ سیاست کیا مطلب؟ میں نے حیرانی سے پوچھا ۔ "فراڈ کر رہا ہے۔ یہ معذور کوئی نہیں ہے، مانگنے کے لیے بس معذور بنا ہوا ہے” ۔ ماما پھلا اسے گھورتے ہوئے بولا۔ خیر میں نے اسے پچاس روپے کا نوٹ تھما دیا ۔ اگلے روز اسی معذور گدا گر کی ٹانگ کی بجائے بازو کی معذوری دیکھ کر مجھے اس کی سیاست سمجھ آنے لگی۔

    سیاست کا مطلب فراڈ ہی ہے، گدا گر کے بعد اس مطلب کو ہمارے سیاستدانوں نے بھی درست ثابت کر کے دیکھایا۔گجنی فلم جس کا ہیرو "شارٹ ٹرم میموری لاس” جیسے مرض میں مبتلا ہوتا ہے، اور اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ شاید وہ بھارتی فلم پاکستانی سیاستدانوں پر بنائی گئی تھی ۔

    کیونکہ ہر سیاستدان بھول جاتا ہے کہ کل اس نے کیا کہا تھا ؟ عوام سے کیے وعدے تو سیاستدانوں کو کبھی یاد نہیں رہتے۔ اپنی ہی باتوں سے مکر جاتے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان تو اپنی باتوں سے اس قدر پھرے کہ مخالفین نے ان کا نام ہی "یو-ٹرن” رکھ دیا۔ عمران خان اپوزیشن میں رہ کر کہا کرتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہے۔ جب اپنی حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈالتے رہے۔

    حکمران جماعت یعنی ن لیگ کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ زرداری، جسے لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھیسٹنا تھا ، اب اسی کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹے جارہے ہیں۔ جب تحریک انصاف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو اسے عوام کی جیبوں پر ڈاکا کہا گیا۔ اور جب اپنی حکومت آئی تو گجنی فلم کے ہیرو کی طرح یہ بات بھول کر ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مشکل معاشی فیصلہ کہا۔

    مولانا فضل الرحمان بھی گجنی بننے سے ہرگز پیچھے نہیں رہے۔ حرام اسمبلی کے نعرے شاید "شارٹ ٹرم میموری لاس” کی وجہ سے بھول چکے ہیں، آج کل اسی لیے اسمبلی میں حکمران جماعت کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔