Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    ایک کامیاب زندگی سے ایک مطمئن زندگی ہزار درجہ بہتر ہے. آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ ہمیشہ آپ کو یا تو دوسرے بتائیں گے یا آپ کو دوسروں سے پوچھنا پڑے گا لیکن اطمینان روح سے نکلتا ہے. آپ کو پوچھنا نہیں پڑتا.

    مکمل سچ آپ کے منہ پر اس دنیا میں سنا ہے تین قسم کے لوگ ہی بول سکتے ہیں. ایک جو نشے میں دھت ہو دوسرا جو سخت غصے کی کیفیت میں ہو اور تیسرے بچے جو من کے ہی سچے ہوتے ہیں. آپ ان تینوں سے پوچھ سکتے ہیں آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ دنیا روز اپنے ہیرو بدلتی ہے کل کا ہیرو آج زیرو ہوگا. یہاں روز فیشن بدلتا ہے. لوگوں کی خواہشات اور توقعات روز بدلتی ہیں. آپ تھک جائیں گے ان کی نظر میں کامیاب کہلاتے کہلاتے.

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے "جس کی نیت اور اس کا مقصد اپنی تمام تر کوشش سے طلب آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دل کی بے نیازی یعنی مخلوق کا محتاج نہ ہونا اور دل کا اطمینان نصیب فرما دیتے ہیں۔‘‘

    روح اپنے سفر آخرت پر ہے. یہ راستہ مخلوق خدا کے درمیان سے گزرتا ہے. اپنے لئے اور آس پاس چلتی اللہ کی مخلوق کیلئے یہ سفر آسان بنانے میں روح کو خوشی ملتی ہے. اپنی اور دوسروں کی زندگی اگر ہم پیچیدہ نہ کریں تو یہ آج کا اطمینان اور کل کی کامیابی ہے.

  • سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    جاپانی کچھ باتوں میں بڑی کمال سوچ رکھتے ہیں. جیسے یہ اپنے گھر اور اس میں موجود اپنے روایتی برتنوں فرنیچر کا بڑا دھیان رکھتے ہیں. صاف ستھرے گھر میں جوتوں کے ساتھ نہیں گھومتے یا گھر کے سلیپر الگ رکھتے ہیں. لیکن ایک خوبی بڑی کمال ہے. انکا کوئی قیمتی خاندانی پیالی کیتلی ٹوٹ جائے تو اس کی مرمت سونے یعنی گولڈ سے کر لیتے ہیں.

    ٹوٹ کر دوبارہ جوڑ بنانے کو یہ ایسا قیمتی بنا دیتے ہیں کہ وہ جوڑ خود ایک کمال بن جاتا ہے. ایک پرانی عربی کتاب میں کوئی عربی کہاوت یاد آتی ہے جسکا مفہوم ہے کہ مرنا کوئی نہیں چاہتا ورنہ اسے گہرے پانی میں پھینک دو یہ فوراً ہاتھ پیر چلانا شروع کردے گا. پھر لوگ اپنی زندگی سے ایسے بے زار ہوکر بیٹھ کیوں جاتے ہیں کہ مرنا ان کو مشکل نہیں لگتا.؟

    وہ اصل میں اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں. اندر کی یہ جنگ ان کو تنہا لڑنی پڑ جاتی ہے. جیسے گہرے پانی میں انسان بقا کی جنگ لڑ رہا ہو اور اسے تیرنا بھی نہ آتا ہو تو اپنی ساری طاقت و توانائی خرچ کر کے وہ بے بسی سے یا پھر ڈوبنے کا انتظار کرتا ہے یا کسی ایسے ہاتھ کا جو اسے کھینچ کر نکال لے. اب بھلے زندگی کا ہاتھ پہلے پہنچا یا موت کا.

    ہمارے آس پاس سب ہی تیراک نہیں ہوتے. تنہا اپنی جنگ جیت لینے والے سورما نہیں ہوتے. اس لئے کسی کو تنہا نہ چھوڑیں. جاپانی جیسے اپنے برتن کا جوڑ سونے سے بنالیتے ہیں ایسے ہی کسی ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے میں مدد دینے والے بھی سونے جیسے قیمتی لوگ ہوتے ہیں. اس لئے حقوق العباد کے اعمال سونے جواہرات کے ساتھ تولے جائیں گے.

  • ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    چند دن پہلے سکول سے واپسی پر گاؤں جا رہا تھا تو میرے آگے بائیک ایک لڑکے کے پیچھے کوئی ستر سے اسی سالہ بزرگوں کی جوڑی بیٹھی جا رہی تھی۔ سنگل سڑک تھی اگر انکو کراس کرتا تو ان پر بہت زیادہ دھول مٹی پڑنی تھی کہ آجکل دیہاتی سڑکوں پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور بڑی مشینوں کے چلنے کیوجہ سے بہت دھول بن جاتی ہے۔ فصل کٹنے کے بعد ٹریکٹر ٹرالیوں پر جانے والی مٹی سڑک کر گرتی وہ بھی بہت دھول بناتی ہے۔ میں بائیک کے پیچھے پیچھے آرام سے گاڑی چلا رہا تھا کہ دس کلو میٹر تک جہاں بھی انکو کراس کرتا انہوں نے مٹی میں نہا جانا تھا۔ بائیک ڈرائیور نے ایک دو بار خود ہی مجھے سپیس دی مگر میں نے کراس نہیں کیا۔ آدھے راستے میں جاکر بائیک والے نے بائیک روک لی کہ میں گزر جاؤں۔ میں نے پیچھے ہی گاڑی روکی اور خود اتر کر آگے گیا۔

    اور اس لڑکے سے کہا کہ میں خود ہی آگے نہیں جا رہا آپ چلتے جائیں۔ پریشان نہ ہوں۔ مجھے راستہ نہ دیں میں پیچھے ہی آؤں گا۔ میں پیچھے آنے ہی لگا تھا کہ مجھے بوڑھی ماں نے آواز دی کہ پتر میری بات سنو۔ تم کیوں نہیں آگے جا رہے؟

    میں نے کہا کہ میں اگر آگے گزروں گا تو آپ پر مٹی پڑے گا جو میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں کسی پر بھی مٹی ڈال کر اسے کراس نہیں کرتا چاہے جتنی بھی جلدی میں ہوں۔ اماں نے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا نوشہرہ ورکاں سے آیا ہوں اور بھڑی شاہ رحمان میرا گھر ہے ایسے سپیشل بچوں کے ایک سرکاری سکول کا ٹیچر ہوں جو دیکھ نہیں سکتے یا بول اور سن نہیں سکتے یا چل پھر نہیں سکتے۔ بس میرے یہ بات کہنے کی ڈیر تھی وہ اماں پیچھے سے اتری اور مجھے گلے لگا کر میرا منہ ماتھا چومتے ہوئے ڈھائیں مار کر رونے لگ گئی۔ بابا جی اترے اور وہ بھی گلے لگ کر رونے لگ گئے۔ اتنی دیر میں پیچھے بھی سڑک پر چند گاڑیوں اور رکشوں کی لائن لگ گئی۔ مگر کوئی بھی ہارن نہیں بجا رہا تھا کہ راستہ چھوڑو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے بس کار سائیڈ پر کر لینے دیں ادھر ہی رکیں۔

    گاڑی سائیڈ پر لگائی کہ پیچھے کی چیزیں گزر سکیں۔ اور انکے پاس آیا۔ اماں جی نے بتایا کہ میں نے جو بات کہی ہے یہ بات مجھے الہام ہوئی ہے۔ یہ بات انہی الفاظ میں انکا اکلوتا بیٹا کہا کرتا تھا جو چھ سال قبل 30 سال کی عمر میں شیخوپورہ روڑ پر ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں موقع پر ہی وفات پا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انکی شادی کے 20 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا جب وہ اولاد کی امید ہی چھوڑ چکے تھے۔ جب وہ بائیس سال کا ہوا تو غیر قانونی راستے سے یونان چلا گیا۔ 8 سال وہاں رہا جب کاغذ بنے تو چھٹی آیا اور اسکا رشتہ دیکھ رہے تھے کہ ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں وفات پا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انکا اس دنیا میں واحد سہارا تھا۔ اماں نے کہا کہ وہ یونان جانے سے پہلے جب مجھے اور تمہارے چاچے کو بائیک پر کہیں لے کر جاتا تھا ناں۔ اور لوگ کراس کرتے ہوئے دھول اڑا جاتے تھے تو وہ کہتا تھا اماں جب میرے پاس گاڑی آئے گی ناں تو میں کسی پر بھی دھول نہیں ڈالوں گا۔ چاہے ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹوں میں ہی کیوں نہ طے کروں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو کراسنگ میں دھول کے بادل اڑا کر بائیک والوں اور سائیکل سواروں کے سارے کپڑے گندے کر جاتے ہیں۔

    وہ یونان سے آکر گاڑی خریدنے ہی والا تھا کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ اگلے جہان چلا گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے اور کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نوشہرہ ورکاں دوائی لینے گئے ہوئے تھے اور یہ لڑکا ہمارا ہمسایہ ہے بائیک ہماری اپنی ہے جو ہمارے بیٹے کی تھی اسے ساتھ بطور ڈرائیور لائے ہیں۔ لوکل گاڑیاں بہت دیر لگا دیتی ہیں۔

    میں نے اس لڑکے سے کہا تم بائیک لیکر چلو میں اماں اور چاچا جی کو لیکر تمہارے پیچھے ہی آرہا ہوں۔ مگر رہو گے تم آگے ہی اور سپیڈ سے چلو زرا اب۔

    اماں کو میں نے فرنٹ پر بٹھایا اور چاچا کو پیچھے اور گاڑی انکے گاؤں کی طرف موڑ لی۔ رستے میں اماں جی نے بتایا کہ تمہارا چاچا جوانی میں پالتو جانوروں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑا کرتا تھا۔ بڑی دور سے لوگ آکر لیجایا کرتے تھے اور چھوڑ بھی جاتے تھے۔ تب ہر گھر میں مویشی ہوا کرتے تھے۔ اور گاہے بگاہے کام آتا رہتا تھا چند کنال زمین بھی تھی جس سے گھر کے چاول گندم آجاتے تھے۔ وہ بیٹے کے یونان جانے پر بیچ دی تھی۔ جو جانوروں کی ہڈیاں جوڑنے کا فن جانتا ہوں وہ انسانی ہڈیاں کیوں نہیں جوڑ سکتا۔ مویشی کم ہوئے تو انسانی ہڈی جوڑ کا کام شروع کر دیا اور انکی جوڑی ہوئی ہڈی کبھی خراب نہ ہوتی تھی۔ یہ کام بیٹے کی وفات تک چلتا رہا۔ جب وہ فوت ہوا تو کام چھوڑ دیا اب بس روتے رہتے ہیں۔

    انہی باتوں میں ہم انکے گھر پہنچ گئے۔ کوئی چھ سات مرلے کا ڈبل سٹوری گھر ماشاءاللہ بہت اچھا بنا ہوا تھا۔ جو انکے بیٹے نے یونان سے پیسے بھیجے تو بنایا گیا تھا۔ اماں نے مجھے پوچھا تمہیں کوئی جانے کی جلدی تو نہیں؟ میں نے کہا بلکل بھی نہیں میں تو رات یہاں ہی رکوں گا۔ میری یہ بات سننے کی دیر تھی کہ وہ دونوں میاں بیوی جیسے خوشی سے نہال ہو گئے۔ اماں نے کہا تم بیٹھو میں گوشت لیکر آتی ہوں۔ میں نے کہا آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ مجھے ہانڈی پکانی آتی ہے آپ اجازت دیں تو میں ہانڈی پکا لوں ؟ اماں پھر میرے گلے لگ گئی کہ میرے غلام فرید کو بھی ہانڈی پکانی آتی تھی کہ وہ ہماری بیٹی اور بیٹا دونوں تھا۔

    ہانڈی میں نے پکائی اماں کو آٹا گوندھ کر دیا اور اماں نے روٹیاں پکائیں۔ کھانا کھایا اور پھر سے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ رات کوئی بارہ بجے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ بیٹے کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے پڑے ہیں جو ہمارے لیے کافی ہیں۔ جو اسنے یونان سے کمائے تھے۔ جتنی ضرورت ہو ہم کسی کے ساتھ جاکر بنک سے لے آتے ہیں۔ وہ جاتے ہوئے ہمیں کسی کا محتاج نہیں چھوڑ کر گیا۔ ہم نے کسی سے کبھی ایک پیسے کی بھی مدد نہیں لی بلکہ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ بنک کا مینجر بھی ہماری بڑی عزت کرتا ہے۔ اماں ہی زیادہ بات کرتی تھی۔ چاچا بس کبھی کبھار کوئی بات کرتا اور ہماری باتیں سنتا رہتا۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا پہلے ہم دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں اولاد دے۔ جب دعا چھوڑ دی تو اللہ نے بیٹا دے دیا اور بیٹا بھی ایسا فرمانبردار جیسے فرزند ابراہیمی کی صحبت پائی ہو۔ ہم خوش تھے کہ بڑھاپے کا سہارا ہے اب پوتے پوتیاں ہونگے کہ اللہ کا حکم آگیا اور ہم پھر تنہا ہوگئے۔

    اسکے حکم بڑے ڈاڈھے ہیں۔ ماننے پڑتے ہیں۔ اسکے راز وہ ہی جانتا ہے۔ ہم اسکی رضا میں خوش ہیں۔ سوچتے ہیں وہ اولاد دیتا بھی نہ تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ اسنے اولاد دی اور ایک وقت مقررہ تک اسے زندگی بھی دی۔ ہم بھی اپنی زندگی پوری کریں گے اور وہاں پھر اپنے بیٹے سے مل لیں گے۔ جہاں ہم پھر کبھی بھی جدا نہ ہو سکیں گے۔ کہ غیب کی باتیں اور حکمتیں تو وہی جانتا ہے۔ ہم سب کا یہاں ایک متعین رول ہے جو پلے کرکے ہم چلے جائیں گے۔ یہی باتیں کرتے ہم سو گئے صبح اٹھ کر میں سکول آگیا اس وعدے کے ساتھ کہ مہینے میں ایک بار ضرور ملنے آیا کروں گا۔

    کہیں سے بھی ملنے والے دکھ درد تکلیفیں اور حادثے زندگی کا لازمی حصہ ہیں یارو۔ زندگی وہ ہر گز نہیں ہے جو ہم سوچتے ہیں بلکہ وہ ہے جو ہمارے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر زندہ تو رہنا ہوتا ہے اور یہی زندگی کی حیثیت اور حقیقت ہے۔ آج غم ہیں تو خوشی ضرور آئے گی اور کبھی خوشیوں کو اچانک سے غم بھی آلے گا۔ بس ہمیں چلتے رہنا ہوتا اور اپنا ایک متعین سفر جاری رکھنا ہوتا۔

  • شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    پچھلے پانچ دن سے چھوٹی بہن شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان میں داخل ہیں ڈلیوری کیس تھا پلیٹ لیس کم ہونے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی تھی ان کا علاج چل رہا ہے.

    ہسپتال کے حالات یہ ہیں کہ زچہ بچہ وارڈ میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریض موجود ہیں. رات بچے کی پیدائش ہوئی تو اسے بھی فوراً نومولود بچوں کی وارڈ میں داخل کروانا پڑا.

    وہاں بچوں کو جنگلہ نما ٹوکری میں ڈالا جاتا ہے ایک ٹوکری میں ایک بچے کی گنجائش تھی لیکن وہاں بھی دو دو بچے ایک ٹوکری میں موجود ہیں.

    بچوں کے ورثاء کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں ہے. وہ وارڈ کے دونوں دروازوں پر پہرہ لگا کر پورا دن اور پوری رات کھڑے ہوتے ہیں کہ بچہ اغواء نہ ہو جائے. کیونکہ ایسے واقعات سرکاری ہسپتالوں میں ہو چکے ہیں.

    اس کے علاوہ سنیں.. یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے اور اکلوتا اکلوتا میڈیکل کالج صرف یہی ہے لیکن سرکاری کاغذات میں اس کا سٹیٹس نیم سرکاری ہسپتال کا ہے یہاں پر اِن ڈور میں ایڈمٹ مریضوں کی ادویات بھی جیب سے خرید کر دینا پڑتی ہیں. یعنی کہ بس مریض کا چیک اپ اور رہائش فری ہے علاج کے پیسے لگتے ہیں یہاں پر ضلع رحیمیارخان کے علاوہ ضلع راجن پور اور ضلع گھوٹکی سندھ تک کے مریض آتے ہیں.

    اب دوست کہیں گے کہ یار تم لوگ صحت کارڈ پر پرائیویٹ علاج کیوں نہیں کرواتے؟ تو عرض یہ ہے کہ یہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جدید مشینری ہی موجود نہیں جس کی ضرورت انتہائی نگہداشت کے مریضوں کیلئے پڑتی ہے اسلیے وہ سیریئس مریض کو دیکھ کر پہلے ہی ہاتھ کھڑے دیتے ہیں کہ بھائی اسے رحیمیارخان لے جاؤ..

    ہم بھی پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گئے تھے لیکن وہاں سے ریفر کیا گیا.

    ہمارے مریض کے بارے میں ڈاکٹر کا اندازہ تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد کچھ وقت کیلئے شیشے میں رکھنا پڑے گا اسلیے ہمیں جانا پڑا..

    تعلقات کی بناء پر کہیں سے سفارش کروا کر ماں اور بچے کو اکیلے اکیلے بیڈ دلوا سکتے تھے لیکن وہ بھی نہیں کیا کہ اس بیڈ سے جس مریض کو منتقل کیا جائے گا وہاں مریض زیادہ ہو جائیں گے ان بیچاروں کی زندگی مزید تنگ ہو جائے گی اس لیے اس بھی گریز کیا..

    اس کے علاوہ اس ہسپتال کے فضائل سناؤں تو آپ عش عش کر اٹھیں گے.. یہاں پر ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کروانے کیلئے تین مہینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے البتہ یہ نیم سرکاری ہسپتال ہے تو آپ انہیں کیش پر کرنے کا بولیں تو ایم آر آئی فوراً ہو جائے گا.

    سی ٹی سکین والی مشین یہاں اکثر خراب رہتی ہے کیونکہ سی ٹی سکین والے کھاتے کے انچارج ڈاکٹر صاحب کا اپنا کلینک ہسپتال کے بالکل سامنے ہے وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے وہاں مشینیں لائے تھے اب سب کا سی ٹی سکین سرکاری ہسپتال میں کریں گے تو انہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہو گا.. اس لیے اس نیم سرکاری ہسپتال کی مشینری اکثر خراب رہتی ہے ٹھیک کرنے کیلئے باقاعدہ ٹینڈر نکلتا ہے..

    ان حالات میں مجھ سے کوئی پوچھے کہ نئے آنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو میرا پیغام یہی ہے کہ نئے پیدا ہونے والے نہ آئیں تو ہی بہتر ہے.. یہاں حالات بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں.

  • خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ثمینہ رحمت منال کی کتاب” اور کیا چاہیئے ”
    تعارف اور تبصرہ : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد خوب صورت افسانہ نگار اور شاعرہ ثمینہ رحمت منال کا شائع ہونے والا دوسرا شعری مجموعہ ” اور کیا چاہیئے” میرے ہاتھوں میں ہے۔ جس کے لیے میں ان کا بے حد ممنون و شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنا خوب صورت شعری مجموعہ مجھ ناچیز کے لیے بطور تحفہ ارسال فرمایا ہے۔ یہ کتاب مارچ 2022 میں انحراف پبلیکیشنز لاہور سے شائع ہوئی ہے جو کہ 144صفحات پر مشتمل ہے جس کی ابتداء نعت رسول مقبول ﷺ سے کی گئی ہے جس کے بعد پہلا حصہ غزلوں اور دوسرا حصہ نظموں پر مشتمل ہے ۔ کتاب کے پس ورق پر اردو کے ممتاز ادیب ، شاعر اور ڈرامہ سیریل رائٹر امجد اسلام امجد اور اندرون صفحات میں ممتاز شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اعتبار ساجد ، نامور شاعرہ نیلما ناہید درانی اور قمر صدیقی نیروی کے ثمینہ منال صاحبہ کی شاعری پر بہترین تبصرے شامل ہیں ۔ اس سے قبل ان کا پہلا شعری مجموعہ” گل بلوئی” 2012 میں شائع ہو چکا ہے۔ ان کی پہلی کتاب کی طرح سال رواں میں شائع ہونے والی دوسری کتاب” اور کیا چاہیئے ” بھی بہترین اور دل میں اترنے والی خوب صورت شاعری پر مشتمل ہے۔

    ثمینہ صاحبہ کی ولادت 9 جنوری 1976 کو کمالیہ پاکستان میں محترم رحمت علی کے گھر میں ہوئی ان کی والدہ صاحبہ کا نام خدیجہ بی بی اور بچوں کے نام یشم منال اور راحم بلال ہے ۔ ثمینہ نے میٹرک کمالیہ گرلز ہائی اسکول سے کنیئرڈ کالج لاہور سے اکنامکس میں بی ایس سی اور ایل ایل بی لندن انگلینڈ سے کیا ہے۔ وہ 1998 میں اپنے خاندان سمیت برطانیہ منتقل ہو چکی ہیں ۔

    ثمینہ صاحبہ کی شاعری سے چند منتخب اشعار قارئین کی نذر ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دور ہو تو اس کو پل پل ڈھونڈتی رہتی ہوں میں
    سامنے آ جائے تو کچھ ڈھونڈنے لگتی ہوں میں

    پاس رہ کر تو سبھی لیتے ہیں لذت لمس کی
    دور رہ کر قربتوں کا لطف لے سکتی ہوں میں

    گر بھروسہ ہو کہ ہے اس پار کوئی منتظر
    چاہے کچا ہو گھڑا، دریا سے لڑ سکتی ہوں میں

    میں نے سوچی ہیں جو باتیں وصل کی شب کے لیے
    ڈائری میں ہجر کی وہ روز لکھ لیتی ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بھی تو معجزہ ہے محبت کا دوستو
    اس نے وہ سن لیا ہے جو میں نے کہا نہیں

    تھی میرے آنسوئوں کو بھی میری انا عزیز
    سو اس کے آگے ایک بھی قطرہ بہا نہیں

    ورثہ سمجھ کے جو وطن تقسیم کر چکے
    وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں انہیں کچھ ملا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیس بک ، انسٹا، وٹس ایپ اور ٹویٹ
    اب کہیں بھی وہ ملتے نہیں کیا کریں

    خاک ہو جائوں گی میں خاک وطن کی خاطر
    اپنی ماں پر میں کوئی تہمت لگائوں کیسے

    اک گلی میں ہی ہیں بھائیوں کے مکاں
    پھر بھی آپس میں ملتے نہیں کیا کریں

    ہمارے تیر دکھاوے کو رہ گئے ہیں منال
    ہدف ہے سامنے اور ہاتھ میں کمان نہیں

    جب ماں بچھڑ گئی تو مجھے یوں لگا منال
    میرے لیے دعا کا خزانہ نہیں رہا

    خوب صورت سی کنیزوں پہ ہے راجہ کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے

    اس کے ہاتھوں میں مرے آنچل کا پلو آ گیا
    اور مجھے شرما کے اپنا بھاگنا اچھا لگا

    باہر ہم آ گئے ہیں حدود شباب سے
    شکوے شکایتوں کا زمانہ نہیں رہا
    دو چار پنچھیوں کو ہی لے آئوں زیر دام
    اب میرے پاس اتنا بھی دانہ نہیں رہا

    اب تو آنسوں بھی کرائے پے ملا کرت کرتے ہیں
    لوگ ملتے ہیں جنازوں پے رلانے کے لیے

  • پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا  فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کی بنیادوں میں ایک بڑے مذہبی طبقے کا خون پسینہ موجود ہے تاریخ کے اُس موڑ پر جب بتوں کو پوجنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کے درمیان ایک بَرّی لکیر کھینچی گئی کہ جس کی زد میں آ کر بوڑھوں، بچوں،خواتین اور نوجوانوں نے ملک و قوم کے ایمان کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یہ قربانیاں کہنے کو تو نا قابلِ فراموش ہیں مگر حقیقت ہے کہ انہیں بتدریج فراموش کیا جاتا رہا ہے ملک کو حاصل کرنے کے بنیادی نظریات، دینی اخلاقیات، قومی و ملی جذبات جب اگلی نسل میں منتقل ہوئے تو ان کی حدت ماند پڑ گئی، یہ نسل اسلام اور پاکستان کی اس حد تک اہمیت کو نہ سمجھ سکی کہ جس قدر اس سرزمین کو حاصل کرنے والے جانتے تھے یوں ہی یہ دوسری نسل بھی اب بزرگ یعنی با اثر ہوگئی۔

    کوئی اگر اپنے خاندان کا بزرگ ہے تو اس کی قائم کی گئی روایات اس کے مختصر خاندان پر لاگو ہو جاتی ہیں، کوئی علاقے اور برادری کی بااثر شخصیت ہے تو وہ اپنے رسوم و رواج کا اطلاق اپنے اس حلقے پر کرتا ہے، کسی بھی خاندان، حلقے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے سربراہ کی بات بھی اس کی شخصیت کی طرح با اثر ہوتی ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو! بقول واصف علی واصف “پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر جبکہ بادشاہ کی غلطی غلطیوں کی بادشاہ ہوتی ہے” لہٰذا خاندان کے سربراہ کا تربیت یافتہ ہونا ایک پورے خاندان کے تربیت یافتہ ہوجانے کی نوید سناتا ہے۔۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں دینی رجحانات کے حاملین ناپید ہوتے جا رہے ہیں جبکہ شرعی حدود پھلانکنے اور ہندوانہ رسمیں عام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً شادی بیاہ کے مواقع پر ہندوانہ روایات کا اہتمام، یا پڑھے لکھے حلقے میں تلاوت نعت سے شروع ہونے والی تقاریب میں ناچ گانے، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سرِ عام رشوت وغیرہ ان شرعی جرائم کے چند بنیادی اجزاء میں شامل ہوتے ہیں۔

    اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا اور کوئی راہنما شخصیت یا ادارہ ان با اثر سمجھی جانے والی شخصیات کی تربیت کے لیے نہ متحرک ہوا تو کہیں حقیقی با اثر شخصیات کی سخت گرفت نہ ہو جائے! ایسے افراد اور ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں کہ جو بزنس کلاس، اعلیٰ تعلیم یافتہ کلاس، چھوٹے بڑے سرکاری افسران اور خاندان کے بڑوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں دینی تعلیمات و احکامات سے آگاہ کریں۔ اگرچہ ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ہمیں چند ایک گِنے چُنے دینی ادارے نظر آتے ہیں کہ جو دینی تعلیمات عوام الناس تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایسے حالات میں عام نوجوانوں اور افسران بالا کی دینی تربیت کرنے والے اداروں کی اشد ضرورت ہے،

  • بھلا استاد ایسے  بھی  مہربان  ہوتے  ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بھلا استاد ایسے بھی مہربان ہوتے ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بہتے آنسو راستے بھر میں یاد آتے رہے ، سوچ اور حیرت ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھی – یہی حیرت کہ بھلا استاد ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں اور یہی سوچ کہ ہاں استاد ایسے ہی مہربان ہوتے ہیں –

    برس گزرے تقی الدین وطن سے نکلے تھے ، سفر ایسے جیسے زندگی کا لازمہ ہو چکا ، حصول علم کا شوق سفر کی ہر منزل آسان کیے دیتا تھا ، نہ سفر ختم اور نہ علم کی کوئی حد – اسی شوق نے تقی الدین ہلالی کو مبارک پور آنے پر مجبور کر دیا – کیونکہ مبارک پور میں ان دنوں علم کا چاند نکلا تھا – جی ہاں مولانا عبد الرحمان مبارک پوری کا دیس مبارک پور تھا –

    مہمان پار پردیس سے علم م کی "اور” چلا آیا تو استاد کا بھی اس کی غریب الوطنی پر دل پسیج گیا – بہت محبت اور اصرار کے ساتھ گھر میں رکھا – شیخ تقی الدین ہلالی جتنا عرصہ مبارکپور رہے حضرت الاُستاد کے ہاں ہی رہے خود کہتے ہیں کہ :

    ” نہ مجھے کسی ہوٹل جانا پڑا نہ کبھی کھانا خریدنے کی نوبت آئی "-

    مہمان بہت دن رہا لیکن اک روز جانا تو تھا سو رخصتی کا وقت آ گیا – تقی الدین نے فیصلہ کیا کہ ٹرین سے اعظم گڑھ کو جایا جائے اور پھر آگے کی منزلیں – استاد محترم نے کہا کہ :

    ” ایسے نہیں ، رک جائیے کچھ روز میں ہمارے دو آدمی بیل گاڑی سے سفر پر جانے والے ہیں آپ ان کے ساتھ جائیے گا "-

    جانے والے دونوں افراد آدھی رات میں سفر کو نکلنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے – شاگرد نے عشاء کی نماز پڑھی اور رخصت چاہی کہ رات گئے ملنا کیسے ہو گا ، اس لیے استاد محترم کو ابھی مل لیا جائے – دل میں اک کسک بھی تھی کہ جانے اب ملاقات ہو نا ہو –
    گزرے ایام ، علم کی مجلسیں ، استاد کی رفاقتیں ، شفقتیں سب اداس کیے دے رہی تھیں ، لیکن جانا تو تھا – استاد کہنے لگے
    "ایسے نہیں ، وقت رخصت میں خود آوں گا ” –

    شاگرد نے ہزار کہا "حضرت رہنے دیجئے آدھی رات کا وقت زحمت ہو گی نیند سے اٹھیں گے "- لیکن لاستاد نہ مانے –

    رات بھیگ رہی تھی ، چاندنی پھیل رہی تھی ، ستارے اس کی روشنی میں ماند ماند سے تھے – مسافر کی رخصتی کا وقت ہوا تو سامان اٹھائے مسجد کے حجرے سے باہر نکلا – کچھ ہی قدم آگے بڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے چاندنی ہر طرف محبت کی خوشبو پھیلا رہی ہو – مولانا مبارک پوری منتظر کھڑے تھے –

    مولانا شاگرد کو ساتھ لے کر گاڑی کی طرف چلے ، گاڑی والے دونوں صاحب منتظر تھے – وقت رخصت استاد نے تقی الدین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ، دعائیں تھی کہ ماحول کو معطر کیے جا رہی تھیں :

    "استودع اللہ دینک امانتک و خواتیم عملک ، زودک اللہ التقوی و یسرک الخیر اینما توجہت ”

    پھر ہولے سے شاگرد کے ہاتھ میں کچھ روپے تھما دئیے ، تقی الدین ہچکچا گئے ، اور کچھ شرما گئے کہ علم کا خزانہ تو دے دیا بھلا اس کی کیا حاجت – لیکن استاد محترم کا تقاضا آنسوں کی صورت آنکھوں سے نکل اٹھا ، مولانا مبارک پوری زار و قطار رو دئیے – بہتے آنسوں سے تکرار کہ

    ” رکھ لو ، رکھ لو ” – شیخ تقی الدین ہلالی لکھتے ہیں کہ :

    میں نے روپیہ لے لیا ، ان کا رونا دیکھ کر میں بدن پر کپکی طاری ہو گئی ، میں شرمندہ بھی تھا کہ روپے لوٹانے نے ان پر رقت طاری کر دی ” –

    لیکن شیخ تقی الدین کو نہیں معلوم تھا کہ روپے لوٹانا ان آنسوؤں کا سبب نہ تھا ، ہم ہندوستانی محبت میں ایسے ہی جذباتی ہوتے ہیں ، استاد اداس ہوے جا رہے تھے کہ ایسا لائق شاگرد جانے کب ملے –

    تقی الدین نے ان سے معافی چاہی ، لیکن یہ کوئی ناراضی کے آنسو تو نہ تھے یہ تو محبت کے آنسو تھے کہ جو خود سے چلے آتے ہیں اور اپنا وجود منواتے ہیں ، بہتے ہیں اور بہا لے جاتے ہیں –

    شگرد رخصت ہوا ، چاند بھی ڈوب چلا ، ستارے مدھم مدھم سا گیت گاتے اپنی منزلوں کی طرف نکل گئے – مسافر کا پہلا پڑاؤ آ گیا ، فجر کا وقت تھا ، مسافر نماز کے لیے رکا ، امامت کو کھڑا تھا ، دونوں ساتھی پیچھے تھے –

    لطف کرم کی برسات جو عرصہ برسی اور جس کی انتہا آج آخری رات مسافر نے دیکھی ، اس کو بے چین کیے دے رہی تھی –

    دل پر رقت تھی کہ جیسے باہر ہی نکل آئے گا – قرأت شروع کی اور پھر آنسوؤں کی برسات نے کچھ پڑھنے نہ دیا –

  • کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    علامہ شبلی نعمانی

    3 جون 1857 یوم پیدائش

    18 نومبر 1914 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔ 1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔ ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔
    علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    شبلی نعمانی صاحب کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ
    جادہ راہِ بیاباں رہ گیا

    قتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں
    تیغ کا گردن یہ احساں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوۓ یار سے
    ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    بزم میں ہر سادہ رو تیرے حضور
    صورت آئینہ حیراں رہ گیا

    یاد رکھنا دوستو اس بزم میں
    آ کے شبلیؔ بھی غزل خواں رہ گیا

    ضعف مرنے بھی نہیں دیتا مجھے
    میں اجل سے بھی تو پنہاں رہ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
    حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے

    عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
    کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے

    فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
    بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا

    جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
    بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے

    میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں
    ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

    تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
    تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو

    یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے
    کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا

  • بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی :چیف الیکشن کمشنر

    بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی :چیف الیکشن کمشنر

    مظفرآباد:بلدیاتی انتخابات میں امن وامان کی صورت حال ہرصورت قائم رکھی جائےگی،اطلاعات کےمطابق چیف الیکشن کمشنرآزادجموں وکشمیر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید سلہریا کی زیر صدارت بلدیاتی انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

    مظفرآباد سے ذرائع کےمطابق اجلاس میں سینئر ممبر الیکشن کمیشن راجہ محمد فاروق نیاز،چیف سیکرٹری محمد عثمان چاچڑ نے بذریعہ ویڈیو لنک اور پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر امیر احمد شیخ، سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن راجہ امجد پرویز علی خان،سینئرایڈیشنل سیکرٹری مالیات راشد حنیف، سینئر ایڈیشنل سیکرٹری قانون راجہ زاہد محمود، سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد غضنفر خان، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی شبیر احمد عباسی، سپیشل سیکرٹری داخلہ حمید مغل، ڈی آئی جی پولیس عرفا ن مسعود کشفی اور ڈائریکٹر اطلاعات امجد حسین منہاس ودیگر نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکورٹی انتظامات کے حوالہ سے مختلف تجاویز زیر غور لائی گئیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے کوآرڈینیشن اینڈ پیس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جن میں سرکاری ملازمین، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور معززین علاقہ شامل ہوں گے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری، آئی جی پولیس، سیکرٹری سروسز اور سپیشل سیکرٹری داخلہ کی جانب سے بریفنگ دی اور حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے دوران سیکورٹی فورسز کی فراہمی سمیت دیگر امور پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    حکومت کی جانب سے اس بات کی مکمل یقین دہانی کروائی گئی کہ سیکورٹی فرورسز فراہم ہو جائیگی اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر27 نومبرکو ہوں گے۔اس موقع پر طے پایا کہ آئندہ اجلاس میں پولنگ کے دوران سیکورٹی انتظامات کو سیکورٹی فورسز کی میسر تعداد کو دیکھتے ہوئے حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت کو کہا گیا کہ 21 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں سیکورٹی فورسز و دیگر امور کے حوالہ سے حتمی طور پرآگاہ کیا جائے۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید سلہریا نے ہدایت کی کہ 27 نومبر کو بلدیاتی کا ہر ممکن انعقاد یقینی بنایا جائیگا، حکومت سیکورٹی فورسز کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائے۔

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967  یوم پیدائش

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش

    حوروں کے پستان ناپتے مولوی ۔۔۔۔!

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ادیبہ، مصنفہ، ماہر تعلیم اور نظم گو شاعرہ پروفیسر ڈاکٹر شہناز شورو صاحبہ 17 نومبر. 1967 میں میر پور خاص سندھ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم میر پور خاص میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے انگلش میں ایم اے کیا جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ممالک کا سفر اختیار کیا ۔ انہوں ناٹنگھم یونیورسٹی برطانیہ سے انگریزی پڑھانے کی تعلیم حاصل کی جبکہ نیو یارک یونیورسٹی امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سندھ کے محکمہ تعلیم میں بطور لیکچرار ان کی تعیناتی ہوئی۔ وہ آجکل پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔ سندھ کے معروف ادیب اور بیورو کریٹ اکبر لغاری صاحب سے ان کی شادی ہوئی ہے۔ پروفیسر شہناز شورو تین زبانوں سندھی ،اردو اور انگریزی میں افسانے، مضامین ، مقالے اور آزاد نظم لکھتی ہیں اور ترجمے بھی کرتی ہیں ان کی نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں "نظر نظر کی بات” زوال دکھ” ” درد جو معراج” اور ترجمے شامل ہیں ۔

    آزاد نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عورت کی کوکھ سے نکلے
    حوروں کے پستان ناپتے مولوی
    بد کردار حاکموں کو نیکی کی سند بانٹنے والے مولوی
    ہمارے لباس ہمارے کردار جانچتے مولوی
    درباری مولوی، پیشہ ور مولوی
    بھوک سے بلکتے انسان دیکھ کر
    جن کی سوچ جاگتی نہیں
    زندانوں میں بے گناہ جسم دیکھ کر
    جن کو نظر آتے نہیں
    ننھی بچیوں کے جسموں کو نوچتے بھیڑیے
    جن کی زبان چپ ہے دیکھ کر
    معصوم بچوں کے جسموں کو چیرتے درندے
    مگر ہم بے پردہ عورتیں
    خدا کا عذاب ہیں
    ہم جینز پہن کر کام کرتی مزدور عورتیں
    وبا کا سبب ہیں
    پروردگار اپنے خلیفے کو رسی ڈال