Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟
    میرپورماتھیلو سے مشتاق علی لغاری کی ڈائری
    ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے نواحی گاؤں خدا بخش لغاری تک پہنچنا کسی آزمائش سے کم نہیں۔ کچی سڑکیں ہر طرف گرد اور دھول اڑا رہی ہیں، جیسے وقت خود یہاں ٹھہر گیا ہو۔ دیواروں پر آج بھی ’’جیئے بھٹو‘‘ کے نعرے درج ہیں، مگر انہی نعروں کے بیچ میں بسنے والی زندگیاں خاموش احتجاج بن چکی ہیں۔

    تقریباً پانچ ہزار ووٹروں پر مشتمل یہ گاؤں کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ نہ فلٹر پلانٹ ہے، نہ بورنگ، نہ ٹینکی۔ عورتیں اور بچے کلومیٹر دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں راستے کیچڑ میں ڈوب جاتے ہیں، مگر پیاس برقرار رہتی ہے۔

    صحت کی سہولتیں بھی ناپید ہیں۔ نہ کوئی ڈاکٹر، نہ ڈسپنسری، نہ دوائی۔ زچگی یا معمولی بیماری کی صورت میں مریضوں کو میرپورماتھیلو یا گھوٹکی لے جانا پڑتا ہے اور اکثر راستے میں جان چلی جاتی ہے۔ بزرگوں کے چہرے پر خوف نہیں، مایوسی لکھی ہے۔

    پرائمری سکول کی عمارت بوسیدہ ہے۔ ٹوٹے دروازے، غائب کھڑکیاں اور خالی کمروں میں صرف خاک اڑتی ہے۔ استاد کبھی کبھار آتے ہیں۔ بچے کھیتوں میں مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور لڑکیاں تعلیم کے خواب دیکھنے سے پہلے ہی ہار مان لیتی ہیں۔ ایک مکین کا کہنا ہےکہ “ہمارا مستقبل اندھیرے میں ہے، ہم صرف ووٹ دینے کے دن یاد کیے جاتے ہیں۔”

    نکاسی آب کا کوئی نظام نہیں،گلیوں میں گندے پانی کے جوہڑ، بدبو، مچھر اور بیماریوں کا راج ہے۔ ڈینگی اور ملیریا کے مریض بڑھ رہے ہیں، مگر کوئی سپرے ٹیم کبھی نہیں آئی۔ گاؤں کی گندگی سیاست کے وعدوں کا مذاق اڑاتی دکھائی دیتی ہے۔

    گاؤں خدابخش لغاری کے ایک بزرگ ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں کہ “کیا ہم صرف ووٹ دینے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ بھٹو زندہ ہے، مگر ہمارا گاؤں مر چکا ہے۔” ان کے الفاظ درد سے بھرے ہیں اور آنکھوں میں امید کے بجائے خالی پن ہے۔

    گاؤں کے اردگرد کھیت اجڑے ہوئے ہیں۔ کبھی لہلہاتی فصلیں تھیں، اب پانی کی کمی نے زمین چٹخا دی ہے۔ نہری نظام ناکام، ٹیوب ویل بند اور مزدوری کے لیے شہروں کا رخ کرنے والے ہاتھ خالی لوٹتے ہیں۔ سیاستدان صرف انتخابات کے موسم میں ان راستوں کو پہچانتے ہیں۔

    میرپورماتھیلو اور گھوٹکی کے درمیان زندگی جیسے رکی ہوئی ہے۔ ترقی کے وعدے ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں اور بھٹو کے نعرے اس دھرتی کی خاموش چیخوں میں دب گئے ہیں۔ اگر واقعی بھٹو زندہ ہے تو دیہی سندھ اتنا لاوارث کیوں ہے؟ یہ سوال ہر دروازے سے اٹھتا ہے، ہر صحن سے گونجتا ہے۔

    گاؤں کے مکین روزانہ بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ صاف پانی ہر خاندان کے لیے خواب بن چکا ہے۔ عورتیں اور بچے بالٹیاں اٹھائے میلوں چلتے ہیں، ان کی صحت برباد ہو رہی ہے۔ کچی سڑکوں پر روز حادثات ہوتے ہیں۔ بارش میں راستے بند اور گاؤں دنیا سے کٹ جاتا ہے۔

    نہ صحت کا کوئی مرکز ہے، نہ سکول فعال ہیں۔ بچے کھلے آسمان تلے پڑھتے ہیں، اگر استاد آ جائے تو۔ لڑکیوں کی تعلیم کو اب بھی غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ صفائی کا حال یہ ہے کہ ہر گلی کیچڑ اور بدبو سے بھری ہے، ہر گھر بیماریوں سے گھرا ہوا ہے۔

    غربت، بیماری اور بے بسی نے گاؤں والوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔ لوگ قرض میں ڈوبے ہیں، مزدور کم اجرت پر محنت کر رہے ہیں اور زندگی صرف گزاری جا رہی ہے۔ ہر گھر میں سوال ہے کہ کیا ہمارا کام صرف ووٹ دینا ہے؟ کیا وعدے ہمیشہ کاغذوں میں دفن رہیں گے؟

    گذشتہ کئی سالوں میں کسی منتخب نمائندے یا افسر نے اس گاؤں کا حال نہیں پوچھا۔ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ عوام کا صبر اب ختم ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وعدوں پر نہیں، عمل پر یقین چاہیے۔

    گاؤں کے باسی صاف پانی، صحت، تعلیم اور سڑکوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ واٹرفلٹر یشن پلانٹ، بورنگ سسٹم، ڈسپنسری اور سکولوں کی مرمت فوری کی جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور صفائی کے نظام کو ترجیح دی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ وعدے اب تحریروں سے نکل کر حقیقت بنیں۔

    ان کا پیغام واضح ہے کہ خاموشی ختم ہو چکی ہے۔ اگر اب بھی حکومت، سیاستدان اور افسران نے توجہ نہ دی تو عوام جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں گے۔ گاؤں خدا بخش لغاری اب مزید وعدوں پر نہیں جئے گا، وہ حق مانگے گا ، اپنے انسانی وقار، بنیادی سہولیات اور انصاف کے حق کے لیے۔

    یہ گاؤں اب انتظار نہیں کرے گا۔ یہ گاؤں اٹھ چکا ہے، تاکہ بھٹو کے زندہ ہونے کا مفہوم صرف نعرہ نہ رہے، بلکہ انسانوں کی زندہ حالت میں نظر بھی آئے۔

  • آئینی ترمیم ،پارلیمانی اختلافات، پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سب کی نظریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترمیم ،پارلیمانی اختلافات، پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سب کی نظریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں میں دن بدن دھند میں اضافہ ہو رہا ہے عوام حیران و پریشان ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور سینٹ میں بیٹھے اپنے نمائندوں کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں اپنی حکومتوں، اپنے اقتدار کی تو فکر ہے ملک اور عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کو فکر نظر نہیں آرہی۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں بیٹھے ارکان اسمبلی ملک اور قوم کے دعویداروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام ان سے مایوس ہو رہی ہے۔ آئین بنانے والوں نے تو بڑا خوبصورت آئین بنا کر دیا تھا آئین کی کتاب میں سب کچھ درج ہے مگر ہمارے ارکان پارلیمنٹ کا حساب کتاب آئین کو دیکھ کر کمزور نظر آتا ہے۔ آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے مگر پھر بھی ان سے حل نہیں ہو رہا اگر یہ حل نہیں ہو رہا تو عوام سمجھنے پر مجبور ہے کہ ہم انہیں کیوں ووٹ دیتے رہے۔ آج کل نئی آئینی ترمیم کا بڑا شور ہے کہ نئی آئینی ترمیم کی جا رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نواسے بلاول بھٹو نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے نئی آئینی ترمیم میں شامل شقوں کے حوالے سے قوم کو بتا دیا ہے۔ اب پیپلز پارٹی اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے گی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اس موجودہ آئینی ترمیم میں جو کی جا رہی ہے اس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن کے کچھ مرکزی لیڈروں کو خبروں کے مطابق اعتراض بھی ہے۔ اس نئی آئینی ترمیم میں مجسٹریٹی نظام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    پاکستان میں 2001 تک مجسٹریٹی نظام ایک ضلع انتظامیہ پر مبنی عدالتی و انتظامی ڈھانچہ تھا۔ ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ایگزیکٹو مجسٹریٹ، جوڈیشل مجسٹریٹ ہوا کرتے تھے۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹ امن و امان، عوامی شکایات، جرائم کی ابتدائی سماعت اور چھوٹے تنازعات حل کرتے تھے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ فوجداری مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ 2001 میں پرویز مشرف مرحوم کے دور میں لوکل گورنمنٹ آرڈر کے ذریعے ایگزیکٹو اور جوڈیشل اختیارات الگ کر دیے گئے یعنی انتظامیہ اور عدلیہ تقسیم کر دی گئی۔ ایگزیکٹو اور عدلیہ کے اختیارات ایک ہی ہاتھ میں ہونے سے قانونی ماہرین کے مطابق درست نہیں ڈپٹی کمشنر یا مجسٹریٹ اکثر حکومتِ وقت کے دباؤ میں فیصلے کرتے تھے ماضی میں بہت سے کیسز میں مجسٹریٹ نظام عوامی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بنے۔ آج بھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کے مترادف ہے۔ آزاد کشمیر میں مجسٹریٹی نظام جزوی طور پر اب بھی موجود ہے جبکہ اسلام اباد میں بھی مجسٹریٹی نظام موجود ہے۔

    آزاد کشمیر میں پچھلے دنوں امن و امان کے مسائل اور احتجاجی واقعات دیکھے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مجسٹریٹی نظام ہونا کافی نہیں۔ یہ نظام عمل درامد، شفافیت اور قانون کی غیر جانبداری کے بغیر موثر نہیں ہو سکتا۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے وطن عزیز میں جہاں پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی کمزور ہے ایک متوازن ہائبرڈ ماڈل زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ مثلا چھوٹے جرائم یا امن و امان کے معاملات میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے محدود اختیارات جبکہ عدالتی فیصلے مکمل طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس ہوں۔ اصل مسئلہ نظام کی بحالی نہیں بلکہ اس کی دیانت دارانہ عملداری ہے۔

  • مریم نواز شریف کا وژن ، پنجاب میں تعلیمی انقلاب کی نئی راہیں

    مریم نواز شریف کا وژن ، پنجاب میں تعلیمی انقلاب کی نئی راہیں

    مریم نواز شریف کا وژن ، پنجاب میں تعلیمی انقلاب کی نئی راہیں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    دنیا تیزی سے ڈیجیٹل عہد میں داخل ہو چکی ہے، جہاں تعلیم، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے امتزاج نے علم کے حصول کا تصور ہی بدل دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گوگل فار ایجوکیشن اور ٹیک ویلی کے اعلیٰ سطحی وفد کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ملاقات نہ صرف ایک خوش آئند قدم ہے بلکہ تعلیمی مستقبل کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔ ملاقات میں گوگل کی جانب سے پنجاب میں گوگل کروم بک فیکٹری لگانے کی پیشکش وہ پیش رفت ہے جو پاکستان میں ڈیجیٹل انڈسٹری کی بنیادوں کو مضبوط کر سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے نہ صرف اس تجویز کا خیر مقدم کیا بلکہ فیکٹری کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، جو ان کے ویژن اور عملی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ ملاقات محض ایک رسمی تبادلہ خیال نہیں بلکہ ایک پالیسی سطح کا سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ گوگل فار ایجوکیشن کے وفد نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے تعلیمی وژن، خصوصاً بچیوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کی پالیسی کو متاثرکن قرار دیا۔ یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کو سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ آج کی دنیا میں آئی ٹی تعلیم خواتین کو نہ صرف خود مختار بناتی ہے بلکہ ملک کی معاشی ترقی میں براہِ راست کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

    بتایا گیا کہ گوگل کروم بک میں بڑے اور اہم سافٹ ویئر بھی انسٹال کیے جائیں گے، جدید سافٹ ویئرز جیسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول کٹ، جیمنی اے آئی، ریڈ آلانگ اور کینوا ایسے ٹولز ہیں جو طلبا کے لیے تعلیم کا طریقہ کار بدل دیں گے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول کٹ طلبا کو ڈیجیٹل تجزیے، پروگرامنگ اور جدید سائنسی سوچ سے روشناس کرائے گا۔ جیمنی اے آئی ایک ایسا ذاتی ڈیجیٹل اسسٹنٹ ثابت ہوگا جو طلبا کو مضمون نویسی، ریسرچ اور ریاضی جیسے مضامین میں رہنمائی فراہم کرے گا۔ ریڈ آلانگ سافٹ ویئر بچوں کو انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے میں مدد دے گا جبکہ کینوا جیسا تخلیقی پلیٹ فارم طلبا میں ڈیزائن، پریزنٹیشن اور پروفیشنل اظہار کی مہارت پیدا کرے گا۔ ان تمام ٹولز کا مقصد طلبا میں خود اعتمادی، تخلیقی سوچ اور عالمی معیار کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

    گوگل فار ایجوکیشن کے وفد نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں پہلے ہی دو ہزار سے زائد اساتذہ کو آئی ٹی ٹریننگ دی جا چکی ہے، جب کہ باقی اساتذہ کو بھی جدید ڈیجیٹل تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ عمل بتاتا ہے کہ صوبائی حکومت صرف نعروں پر نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ملاقات میں کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانا ان کی ترجیح ہے اور پنجاب کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس حب بنانے کا ہدف اب ایک خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت کے قریب ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ اگر تعلیم کو ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑا جائے تو قوموں کی ترقی میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ مریم نواز کا یہ ویژن پنجاب کے لاکھوں طلبا کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گا۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے طلبا جو جدید سہولیات سے محروم ہیں، اب گوگل کروم بک کے ذریعے عالمی سطح کی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ یہ اقدام نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرے گا بلکہ نوجوان نسل میں ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔

    یہ بات قابلِ تعریف ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ٹیکنالوجی کے فروغ کو صرف ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو جدید دنیا کے ہم قدم بنانے کا عزم رکھتی ہیں۔ گوگل جیسے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت سے پنجاب میں نئی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور عالمی سطح کی مہارتوں کا فروغ یقینی ہو گا۔

    اگر یہ منصوبے اپنی مکمل شکل میں پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تو آئندہ چند سالوں میں پنجاب نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل لرننگ کا مرکز بن سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے بروقت فیصلے، وژن اور عملی اقدامات سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ تعلیمی انقلاب کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔ ویل ڈن سی ایم صاحبہ ! آپ نے نوجوان نسل کے مستقبل کو روشنی کی سمت موڑنے کا جو بیڑا اٹھایا ہے، وہ پاکستان کے روشن کل کی ضمانت ہے۔

  • ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔
    علی پور سے محبوب بلوچ کی ڈائری
    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور جو کہ ضلعی مقام سے لگ بھگ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، پنجاب کے پانچ دریاؤں کے حسین ملن کی غمازی کرتا یہ خطہ ایک سو چھبیس مواضعات پر مشتمل ہے، جس کا مجموعی طور پر کل رقبہ تین لاکھ چوالیس ہزار چار سو تیرہ ایکڑ ہے، جبکہ سال 2025 میں آبادی دس لاکھ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے۔ 17ویں صدی میں علی نواب لودھی، جس کو یہ خطہ مغلیہ سلطنت کی طرف سے جاگیر کی صورت میں ملا تھا، اس نے چار دروازوں پر مشتمل یہ قلعہ بند شہر تعمیر کرایا تھا اور اسی کے نام کی نسبت سے یہ شہر علی پور کے نام سے منسوب ہے۔ علی پور قدیم دور میں ریاست سیت پور کا حصہ رہا، جو کہ علی پور شہر سے دریائے چناب کے جنوب مغربی حصے پر قریباً بیس کلومیٹر کی مسافت پر آباد ہے، جس کا شمار انسانی تاریخ کی قدیم ترین آبادیوں میں ہوتا ہے۔

    قلعہ لاہور کے میوزیم میں نصب شدہ مغلیہ سلطنت کی حاکمیت میں موجود شہروں کے ناموں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوبی پنجاب کے تین شہر نمایاں نظر آتے ہیں: ملتان، اوچ شریف اور سیت پور۔ محمد بن قاسم نے جب سندھ فتح کیا تو ملتان سے قبل اس کی فوجوں نے سیت پور میں پڑاؤ ڈالا اور اس کو فتح کیا، جس کا تذکرہ قاسم فرشتہ کی معروف تاریخی کتاب ’’تاریخِ فرشتہ‘‘ میں بھی ملتا ہے۔ تاہم دریائے سندھ اور چناب میں آنے والی سیلابی لہروں نے جب سیت پور کو بار بار شدید نقصان پہنچایا تو علی پور کی جانب مقامی آبادی منتقل ہونے لگی، جس کے بعد 1837ء میں علی پور کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس شہر کا پہلا چیئرمین ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ انگریز دورِ حکومت میں 1862ء میں تحصیل صدر مقام سیت پور سے علی پور منتقل کر کے علی پور کو تحصیل ہیڈکوارٹر بنا دیا گیا۔

    علی پور شہر کے مشرق میں نو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی پنجاب کا آخری ہیڈ ورکس پنجند بیراج واقع ہے، جو کہ معروف تفریحی مقام اور جنوبی پنجاب کی زرعی معیشت میں اہم کردار کا حامل ہے، جبکہ علی پور شہر کے مغرب میں بیس کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا عظیم دریا سندھ واقع ہے۔ تین اطراف سے دریاؤں میں گھری ہوئی یہ تحصیل انتہائی زرخیز زرعی رقبے پر مشتمل ہے، تاہم حکومتی عدم توجہی کے باعث اس خطے سے ملکی معیشت کو جو فائدہ پہنچنا چاہیے تھا وہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت علی پور شہرجو کہ میونسپل کمیٹی کے چوبیس وارڈز پر مشتمل ہے کی آبادی کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شہر کے قرب و جوار میں قائم ہونے والے جدید رہائشی منصوبوں نے اس شہر کا نقشہ بدل دیا ہے۔ کئی اقامتی نجی تعلیمی اداروں میں ملک بھر سے بچے اس شہر کا رخ کر کے اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے طالب علموں کی تعداد زیادہ ہے۔

    یہ زرخیز خطہ اپنے سفید انار کی پیداوار کے حوالے سے بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ میٹھے رس دار سفید انار شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں کاشت ہوتے ہوں، تاہم عدم توجہی کی وجہ سے سفید انار کے باغات کو کچھ عرصہ قبل لگنے والی بیماریوں نے مالکان کو مجبور کر دیا کہ وہ ان باغات کو ختم کر دیں۔ کئی ہزار ایکڑ پر مشتمل باغات اجڑ گئے، مگر اس شاندار نعمت کو بچانے کے لیے ابھی تک کسی سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا۔ تحصیل علی پور میں پیدا ہونے والی کپاس کی فصل بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ایک وقت تھا جب نیویارک کی کاٹن مارکیٹ میں علی پور کی کاٹن اپنے معیاری ہونے کے حوالے سے اپنا الگ مقام رکھتی تھی اور پاکستانی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔ تاہم تحصیل علی پور میں زراعت بیسڈ صنعتوں کے قیام، جن میں ٹیکسٹائل ملز، مختلف جوسز کی فیکٹریاں اور پھلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا کاشتکار دیگر فصلوں کی جانب راغب ہونے پر مجبور کر دیا گیا، جس میں گنے کی کاشت بھی شامل ہے۔

    اگر ہم 2025ء کے علی پور شہر کی بات کریں تو یہ وہ بدقسمت خطہ ہے جو ترقی کی شاہراہ پر اپنے کئی ہم عصر شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے، آئے روز شہریوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نت نئے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اس کے نتائج تحصیل علی پور کے حوالے سے ابھی تک ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کے مترادف ہیں۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک پر عائد نہیں ہوتی۔ گزشتہ سال صوبہ پنجاب کے سالانہ بجٹ 2024/25 میں علی پور۔ مظفرگڑھ۔ ہیڈ پنجند۔ ترنڈہ محمد پناہ سابقہ شاہراہ مغربی پاکستان روڈ کے لیے اسمبلی فلور پر صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے نوید سنائی تھی کہ چونتیس ارب روپے سے یہ سڑک بحالی کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، مگر مالی سال تمام کا تمام گزر چکا، اس روڈ پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ اس روڈ پر قومی اسمبلی کے کم و بیش چھ اور صوبائی اسمبلی کے بارہ سے تیرہ حلقے آتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ اراکینِ اسمبلی میں سے کسی ایک نے بھی اسمبلی یا دیگر کسی فورم پر اس حوالے سے آواز بلند کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس سڑک کو ’’قاتل روڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس سڑک سے مقامی لوگ اپنے کسی پیارے کی لاش یا زخمی حالت میں نہ اٹھاتے ہوں۔ یہ سڑک تین صوبوں کی ٹریفک کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ تحصیل علی پور کے لیے یہ سڑک دوسرے علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔

    اس تحصیل میں ریلوے یا فضائی سروس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ خطے کو یہ اعزاز بھی اس جدید دور میں حاصل ہے کہ صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ دریائی پتن اسی تحصیل میں واقع ہیں۔ یہاں پر دریائے سندھ پر پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے دریائی پتنوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور کے ساٹھ سے زیادہ مواضعات دریائے سندھ کے پار ضلع راجن پور کی سرحد کے ساتھ ساتھ کبیر گوپانگ سے بیٹ عیسیٰ تک کم و بیش سو کلومیٹر شمال سے جنوب تک جاتی پٹی کی صورت میں موجود ہیں۔ ہزاروں لوگ دریائے سندھ پر موجود پتنوں، جن میں موچی والہ، گبر ارائیں، کندائی، سرکی اور دریائے چناب پر شہر سلطان، کندرالہ، مڈوالہ، بیٹ نوروالہ شامل ہیں، سے روزانہ آتے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دریائے سندھ پر پختہ پل تعمیر کیا جائے، جس کے لیے گبر ارائیں یا کندائی تحصیل علی پور کے مقامات اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف تحصیل علی پور کی معیشت میں انقلاب برپا ہوگا بلکہ بہاول، ملتان سے ضلع راجن پور اور بلوچستان جانے والے مسافروں کو بھی وقت کی بچت اور سفری اخراجات میں کمی کا فائدہ پہنچے گا۔ امید ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس جانب ضرور اپنی توجہ مبذول کریں گی۔

    تحصیل علی پور کے عوامی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ضلعی صدر مقام سے ایک سو کلومیٹر کا فاصلہ بھی ہے۔ علی پور تحصیل کا جنوب میں واقع آخری موضع بیٹ عیسیٰ ہے۔ آپ حیران ہوں گے وہ ضلعی صدر مقام سے پونے دو سو کلومیٹر دور بنتا ہے۔ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اس علاقے کے رہائشیوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور سے 1993ء میں جتوئی کو الگ کر کے تحصیل بنا دیا گیا۔ گزشتہ سال مظفرگڑھ شہر سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود کوٹ ادو کو بھی ضلع بنا دیا گیا ہے لیکن پونے دو سو سال قدیم تحصیل جو کہ اپنے وسائل اور آبادی کے لحاظ سے مکمل طور پر ایک الگ ضلع بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ علی پور کو ضلع ، اس کے ساتھ جتوئی کو منسلک کر کے بنایا جانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یہی اس خطے کے ہر ایک باسی کی تمنا ہے۔ یہ ضلع قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی کی چار سے زائد نشستوں پر مشتمل ہوگا۔ ضلعی دفاتر کے لیے بھی علی پور شہر میں سرکاری عمارات موجود ہیں۔ ماہِ جون میں نیو جوڈیشل کمپلیکس علی پور میں عدالتیں منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ پرانا جوڈیشل کمپلیکس بھی صرف پندرہ سال پرانا ہے، جو کہ ضلعی دفاتر کی ضروریات کے لیے آئندہ سو سال کے لیے بھی کافی ہے۔

  • حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    آج کے دورِ انتشار میں، جب حق بولنا جرم اور سچ لکھنا گناہ سمجھا جانے لگا ہے، ایسے میں کچھ لوگ ہیں جو ہر مخالفت، ہر طعن و تشنیع کے باوجود قلم کو خاموش نہیں ہونے دیتے۔ انہی سچائی کے علمبرداروں میں ایک نمایاں نام ہے حنا سرور کا ، جو نہ صرف ایک معروف لکھاری بلکہ ایک جری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی ہیں۔حنا سرور نے ہمیشہ اپنی تحریروں اور خیالات کے ذریعے حق و سچ کا ساتھ دیا۔ وہ موضوعات جن پر اکثر لوگ لب کشائی سے ڈرتے ہیں، حنا سرور نے نہ صرف ان پر بات کی بلکہ دلائل کے ساتھ اپنے مؤقف کو اجاگر کیا۔ یہی ان کی سچائی اور بےباکی ہے جو بعض حلقوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔

    تنقید، الزامات اور کردار کشی ، یہ سب وہ حربے ہیں جو ہمیشہ ان لوگوں کے خلاف استعمال کیے گئے جو سچ بولنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب مخالفین کے پاس دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو وہ الزام تراشی پر اتر آتے ہیں۔ حنا سرور پر کی جانے والی تنقید دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی آواز اثر رکھتی ہے، ان کا قلم سچ لکھتا ہے، اور ان کے الفاظ لوگوں کے دلوں تک پہنچتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جو لوگ محض گالم گلوچ کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے اندر کی تربیت اور کمزور دلائل کا ثبوت دیتے ہیں۔ حنا سرور کے خلاف استعمال ہونے والی ایسی زبان اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کے ناقدین کے پاس نہ دلیل ہے، نہ اخلاق،حنا سرور کا قلم صرف ایک شخصی آواز نہیں، بلکہ پاکستان کے مفاد، استحکام اور خودمختاری کا ترجمان ہے،انہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات کو مقدم رکھا، چاہے بات قومی سلامتی کی ہو یا معاشرتی اصلاح کی، ان کی تحریروں میں ایک درد بھی ہے اور ایک عزم بھی، درد اس وطن کے حالات کا، اور عزم اس کے بہتر مستقبل کا ،حنا سرور کا نظریہ ہمیشہ سے استحکامِ پاکستان کے گرد گھومتا ہے،وہ کسی سیاسی جماعت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے لیے لکھتی ہیں،ان کے مضامین میں حب الوطنی کی خوشبو، فکری گہرائی، اور سماجی آگاہی کی جھلک نمایاں ہے۔انہوں نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ اختلافِ رائے ضرور کرو، مگر ملکی مفاد پر سمجھوتہ مت کرو،حنا سرور کی تحریریں نوجوان نسل کو شعور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا صرف شور مچانے کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ فکر پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے،وہ لوگوں کو بتاتی ہیں کہ محبِ وطن ہونا صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور کردار سے ثابت کرنا ہوتا ہے

    آج جب دشمن عناصر اپنے ایجنڈے کے تحت پاکستان کے نظریاتی اور سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں، ایسے میں حنا سرور جیسے لوگ امید کی کرن ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قلم اگر سچ لکھے، تو وہ سب سے بڑی مزاحمت بن جاتا ہے۔ ان کے قلم سے نکلا ہر لفظ پاکستان کی سلامتی، وقار اور فکری آزادی کے لیے ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جو ان کے مخالفین کو برداشت نہیں۔

  • چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    پاکستان کی تاریخ میں دو بار تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانےکی کوشش کی گئی ، یکم نومبر 1989 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد 12 ووٹوں سے ناکام ہوئی، اگست 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام رہی، نواز شریف کے بعد عمران خان دوسرے وزیر اعظم تھے جنہوں نے رضا کارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تھا،تیسری بار آخر کار عمران خان کے خلاف 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرار داد میں ووٹ دے کر 9 اپریل 2022 کی رات فارغ کر دیا، یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانےوالے پہلے وزیر اعظم بن گئے

    تحریک عدم اعتماد کا اصول یہ ہوتا ہے کہ آئین کے مطابق اگر صدر مملکت کو لگے کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکا ہے تو وہ اجلاس طلب کر کے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتا ہے، ہم اس بات یہ ناواقف ہوتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد سے جمہوریت کو سیاسی عدم استحکام ، حکومتی کاموں میں رکاوٹ اور آئینی بحران جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس بات سے آج پاکستانی قوم خوب واقف ہو چکی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد ایک ایسا آئینی بحران پیدا ہوا جس سے نکلنے کیلئے آج کی مقتدرہ اور سیاسی مشینری کو امریکہ اور دوسرے ممالک جیسی طاقتوں کی ضرورت پڑ رہی ہے ، اب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کیلئے متحرک ایک نئے تجربے کی اُڑان میں مصروف ہے، یعنی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاسی انتشار جاری ہے، پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقرر کردہ وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد پیش کی جائے گی، جس پر وفاق میں اتحادی حکومت ن لیگ کو ئی اعتراض نہیں، یہاں سوال یہ ہے کہ تجربہ کار نواز لیگ کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ کشمیر میں جمہوریت کا نعرہ ذاتی مفادات تک محدود ہو چکا ہے،سال 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی ،اس کے بعد آج 2 نومبر 2025 تک تین وزیر اعظم آ چکے ہیں جبکہ چوتھے وزیر اعظم کو لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں،پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور کشمیر کی ذاتی جماعت کشمیر کی تباہی کی ذمہ دار ہیں لیکن کوئی بھی یہ بات ماننے سے انکاری ہے، 1975 سے لیکر اب تک تمام سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت کر چکی ہیں

    آج صدر زرداری صاحب نے گلگت بلتستان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے، پہلے پیپلز پارٹی چار بار آزاد کشمیر میں حکومت کر چکی،وزیراعظم راجہ ممتاز حسین راؤ 1990، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1996، سردار محمد یعقوب خان2009، چوہدری عبدالمجید 2011 سے 2016 تک اقتدار میں رہے، یہ سب پیپلز پارٹی کے تھے، آج کشمیر میں الیکشن میں صرف 8 ماہ ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ اگر چار بار اقتدار میں رِہ کر پیپلز پارٹی کشمیر کی آزادی میں ناکام رہی تو ان 8 ماہ میں تحریک عدم اعتماد سے کشمیر کو آزادی دلا سکتے ہیں؟ سب کا جواب ہو گا نہیں، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آٹھ ماہ کا اقتدار میں بھی ہماری سیاسی جماعتیں چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں ، در اصل ہماری جماعتیں جمہوریت، عوام اور آئین کیلئے نہیں بلکہ اقتدار، وسائل اور مفاد کیلئے ذاتی سودے کرتی ہیں جس کا عوام چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ڈائرکٹلی اور اِن ڈائریکٹلی عوام اداروں اور جمہوریت کو ہوتا ہے
    قطع تعلق اس کہ کشمیری عوام ہی ان کے خاتمے کیلئے کچھ کرے مگر نہیں ، جب کسی غیر سیاسی طاقت کی سپورٹ حاصل ہو کشمیر میں تاریخی احتجاج ضرور ہوتے ہیں ، اور پھر جب سیاسی طاقتیں آئین کی بالا دستی کیلئے قانون نافذ کرتی ہیں تو ان کو نان سٹیٹ ایکٹرز کا نام دے کر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، 2006 کے بعد بننے والی اسمبلی میں بھی 5 سال کے دوران 4 وزیراعظم آئے تھے اس لیے میں کہتا ہوں کہ سازشوں کے الزام لگانے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ محلاتی سازشوں میں آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا کوئی ثانی نہیں ، یہ ایسی سر زمین ہے جہاں 1975 سے لیکر آج تک ہر وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے خفیہ میٹنگز ہمیشہ جاری رہتی ہیں ، لہذا آج بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے

    آزاد کشمیر میں چار سال کے دوران چوتھا وزیراعظم ، سوال پھر وہی کہ ضرورت کیا ہے، اگر یہ دلیل ہے کہ اگلا وزیر اعظم سب بدل دے گا تو یہ سب پہلے کیوں نہیں ہوا؟ یہ عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے، 2021 میں مینڈیٹ تو تحریک انصاف کو ملا تھا لیکن 11 اپریل 2023 کو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے نااہل کردیا تھا، جبکہ اس سے پہلے 4 اپریل 2022 کو سردار قیوم نیازی کو اپنی پارٹی پی ٹی آئی ہی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا تھا، چوہدری انورالحق نے 21 اپریل 2023 کو آزاد جموں اور کشمیر کے پندرھویں وزیراعظم کا حلف اٹھا یا تھا، اب اگر پیپلز پارٹی ضمیر کے سودے کرنے میں کامیاب ہو گئی اور کشمیریوں نے اس کام کیلئے خوش آمدید کہا تو چار سال میں چوتھا وزیر اعظم آئے گا، آخر کار آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو قُل کائنات کا مالک حشر میں ضرور پوچھے گا کہ ضمیروں کے سودے کر کے انسانی حقوق کے دعوؤں کے باوجود حلف کی خلاف ورزی کیوں کی؟

    رہنما صدر پیپلز پارٹی آزادکشمیر آج کے دن تک چوہدری یاسین ہیں،موصوف کا حلقہ آزاد کشمیر کا سب سے پسماندہ حلقہ ہے ایک بھی سڑک درست حالت میں نہیں جنگلات پر قبضے اور خود مافیا کا سرغنہ ہے، پیپلز پارٹی آزا د کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کا حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 تھا،الیکشن 2021 میں ایل اے 10 کوٹلی 3 میں دو بڑی سیاسی شخصیات سابق وزیر سردارفاروق سکندر خان مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر اور پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر چودھری محمد یاسین ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔ یاد رہے سردار فاروق سکندر الیکشن 2016 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر 26 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور وزیر بنے تھے، کوٹلی ضلع کشمیر کا ایک اہم ضلع ہے لیکن یہاں سہولیات عوام کو نہیں دی جاتی ہیں اور سیاحت کو بھی محدود کر دیا گیا ہے، سردار فاروق سکندر سابق وزیر اعظم اور سابق صدر سردار سکندر حیات کے بیٹے ہیں

    آزاد کشمیر میں 23 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور مسلم کانفرنس میں جھگڑے کے بعد احتجاج ہوا تھا جس میں فورسز کا نقصان بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ جس کا ایک نقطہ یہ تھا کہ کابینہ کا حجم 20 وزراء اور مشیران تک محدود ہو گا جبکہ سیکرٹریز کی تعداد بھی بیس سے زائد نہیں ہو گی مگر آج طاقتوروں نے سوچ لیا ہے کہ بیس وزراء اور مشیر تو کیا ہم تختہ ہی الٹ دیتے ہیں لہذا وہ سب کچھ انہوں نے کر دکھایا، اب سوال یہ کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ وہی ہو گا جو آج وفاق اور صوبوں میں ہو رہا ہے، یعنی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، آئین کی خلاف ورزی اور طاقت کا زور۔افتخار نسیم کی ایک غزل کا شعر ہے کہ۔۔
    ہر طرف عام ہے بدنام سیاست کا چلن
    صبر سے کام لو جذبات پہ قابو رکھو
    اور میں کشمیری قوم سے کہوں گا کہ ۔۔
    زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
    آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت

    غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت

    غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پنجاب حکومت نے امن و امان کی بحالی کے لیے ایک جامع اور سخت پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کا آغاز وزیراعلی مریم نواز کے مسلسل ساتویں غیر معمولی اجلاس سے ہوا۔ اس اجلاس میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کا سخت ترین نفاذ یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیاصرف پانچ وقت کی اذان اور جمعہ کے خطبے کی اجازت، باقی تمام استعمال ممنوع۔ سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون پولیسنگ اور ایڈوانس ٹیکنالوجی سے نگرانی ہوگی تاکہ نفرت انگیزی، اشتعال اور صوتی آلودگی فوری روکی جائے۔ پنجاب میں کسی کاروبار، کسی جماعت یا کسی فرد کو کسی بھی کام کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی،اسی اجلاس میں 65 ہزار سے زائد ائمہ کرام کے وظائف، مساجد کی تزئین و بحالی، اطراف کے راستوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کا بھی فیصلہ ہوا۔ فتنہ پرستوں اور انتہا پسندوں کے سوا کسی مذہبی جماعت پر پابندی نہیں ہوگی، لیکن مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کے لیے قانون کی رسی تنگ کر دی جائے گی۔ یہ اقدامات صوتی آلودگی کم کریں گے، سماجی ہم آہنگی بڑھائیں گے اور انتہا پسندی کی جڑیں کمزور کریں گی۔اور اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی سہولت کاری یا معاونت پر کڑی سزا کا اعلان کیا ہے

    لیکن یہ تمام تر خوبصورت اعلانات ایک بڑے، گہرے اور سنگین مسئلے کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں اور وہ ہے غیر قانونی افغانیوں کی پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی موجودگی۔ یہ کوئی مقامی یا صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کا بحران ہے جو پنجاب سے لے کر اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، کراچی اور خاص طور پر ڈیرہ غازیخان تک پھیل چکا ہے۔ ڈیرہ غازیخان جو چاروں صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کا سنگم اور پاکستان کا جغرافیائی مرکز ہے، اس وقت افغانیوں کا سب سے بڑا، منظم اور محفوظ اڈہ بن چکا ہے۔ یہاں پشتونوں کی آڑ میں ہزاروں افغانی چھپے ہوئے ہیں، جن کی سرپرستی گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیاں، مخصوص پشتون ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ ایجنٹس اور مقامی سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کر رہے ہیں۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ ماضی میں یہی گروہ افغانوں کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کے غیر قانونی دھندے میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ آج بھی لنڈا بازاروں، چائے خانوں، بس اڈوں، ٹرک اڈوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں افغانیوں کی اکثریت ہے۔ وہ خود کو موسی خیل،لورالائی، کوئٹہ، وزیرستان یا پشاور کا بتاتے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی تصدیق شدہ دستاویز نہیں ،نہ NADRA کارڈ، نہ ویزا، نہ رہائشی اجازت، نہ UNHCR کارڈ۔ وہ پاکستانی لباس پہنتے ہیں، پشتو بولتے ہیں لیکن پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ، اسلحہ کی تجارت اور جعلی دستاویزات کی صنعت سے منسلک ہیں۔

    حکومت اعلان تو کرتی ہے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی سہولت کاری پر کڑی سزا ہوگی، لیکن عملی میدان مکمل طور پر خالی ہے۔ ہیلپ لائن 15 کا نام لیا جاتا ہے لیکن کوئی ٹول فری نمبر، انونیمس رپورٹنگ ایپ، ویب پورٹل یا محفوظ وسل بلوئر سسٹم اب تک متعارف نہیں کیا گیا۔دوسری طرف عوام کیوں رپورٹ کریں؟ جب وہ جانتے ہیں کہ تھانے کے SHO ماہانہ بنیاد پر افغانیوں کے "سرکردہ افراد” سے بھاری "منتھلی” وصول کرتے ہیں؟ جب پولیس خود ان کی سرپرستی کر رہی ہو، تو کون معلومات دے گا؟ اور ان کی کون سنے گا؟ڈیرہ غازیخان میں یہ کرپشن سب سے زیادہ ہے یہاں سرحدی راستوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور ہوٹل انڈسٹری کی وجہ سے افغانیوں کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔پشتون ہوٹل مالکان (نہیں معلوم کہ وہ پاکستانی ہیں یاافغانی)افغانیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں حتی کہ پولیس سے ڈیل کرا کر انہیں مکانات بھی دلوائے ہوئے ہیں ۔

    2 نومبر 2025 تک اقوامِ متحدہ کے اداروں IOM اور UNHCR کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے افغان مہاجرین کی کل تعداد 1,611,635 ہےلیکن ابھی بھی لاکھوں افغانی بغیر کسی قانونی دستاویز کے موجود ہیں ہیں،جنہیں کرپٹ عناصر نے تحفظ دیا ہوا ہے۔ یہ افغانی نہ صرف معاشی وسائل پر بوجھ ہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بھی ہیں۔ ڈیرہ غازیخان میں تو صورتحال یہ ہے کہ گلیوں اور محلوں میں متعددگھر افغانیوں کے قبضے میں ہیں اور اس کے علاوہ مین بازاروں میں افغانیوں کے کاروبار ہیں بلکہ ذرائع کے مطابق کوہ سلیمان کے ارد گرد تونسہ شریف میں وہوا کے علاقوں اور شادن لنڈ کے قریب کے علاقوں میں افغانوں کی بستیاں قائم ہیں جنہیں مقامی سرداروں کی آشیرباد حاصل ہے اور مقامی پولیس بھی جانتی ہےلیکن کارروائی کیلئے انہیں دکھائی نہیں دیتے ۔

    ڈیرہ غازیخان کو وفاقی اور صوبائی حکومت کا فوکل پوائنٹ بننا چاہیے۔ یہ شہر صرف ایک ضلع نہیں بلکہ پاکستان کا دل ہے۔ یہاں سے گزرنے والی قومی شاہراہ، ریلوے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پورے ملک کو جوڑتے ہیں۔ اگر یہاں افغانیوں کوکنٹرول نہ کیا گیا تو پھر پورا پاکستان غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہاں ایک جامع، شفاف، سخت اور مثال بننے والا آپریشن چلایا جائے جو نہ صرف افغانیوں بلکہ ان کے ہمدردوں، جعلی کارڈ بنانے والوں، ٹرانسپورٹ مالکان، ہوٹل مالکان اوررشوت لیکرقومی پالیسی سے انحراف کرنے والے پولیس افسران کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں .

    افغانیوں کے خلاف موثر آپریشن کے لیے فوری انونیمس رپورٹنگ ایپ متعارف کی جائے، NADRA اورFacial Recognition کو مربوط کیا جائے، پولیس کرپشن پر سخت اندرونی آڈٹ ہو اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انعام، تحفظ اور شفافیت یقینی بنائی جائے،ڈیرہ غازیخان جیسے حساس مقامات پر عملی آپریشن قومی سلامتی کی ضرورت ہے ،اعلانات سے افغانی نہیں نکلتے، زمینی کارروائی سے نکلتے ہیں۔ یہاں کامیابی ہوئی تو اسلام آباد سے کراچی تک دہرائی جا سکتی ہے، ناکامی ہوئی تو پورا ملک غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہ اعلانات کا نہیں، عمل کا وقت ہے۔ ڈیرہ غازیخان اس جنگ کا فرنٹ لائن ہے ،یہاں جیت پورے پاکستان کی جیت ہے۔ حکومت کو اب مثال بننے والا آپریشن کرنا چاہیے جو قومی سلامتی اور عوامی اعتماد کو بحال کرے۔

  • امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ اور بھارت کا دفاعی معاہدہ اس معاہدے کا مقصد بھارت کو چین کے خلاف ایک علاقائی توازن قوت کے طو رپر مستحکم کرنا ہے۔ واشنگٹن کے لئے بھارت ایک ڈیمو کریٹک پارٹنر اور ایشیا میں ایک انسدار چین محور کا حصہ ہے ۔ چونکہ پاکستان چین اسٹریٹیجک اتحادی ہے(سی پی ای سی ) اور دفاعی تعاون کی بنیاد پر لہذا پر لہذا یہ معاہدہ پاکستان کو بالواسطہ طور پر ہدف بناتا ہے۔ پاکستان کو چین کے ساتھ دفاعی اور تیکنیکی شراکت کو تیز کرنا ہوگا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانا مشکل ہوگا امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے اور چین سے قربت برقرار رکھنا ایک نازک توازن بن جائے گا ۔ ایسے دفاعی معاہدے اکثر اندرونی سیاست میں ایک جذباتی قوم پرستانہ ردعمل پیدا کرتے ہیں اپوزیشن اور میڈیا اسے خطرے کی گھنٹی کے طور پر پیش کریں گے کہ بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی حکومت کو تازہ ترین حالات کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں اور مذہبی جماعتیں امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کو لے کر ناکام خارجہ پالیسی کے طور پر استعمال کریں گی ۔ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے کے لئے سفارتی مہم شروع کرنی پڑ سکتی ہے ۔ پاکستان کو اب احساس خطرہ کی بجائے احساس توازن سے کام لینا ہوگا۔ یہ وقت ردعمل دینے کا نہیں بلکہ ایک واضح دیر پا دفاعی اور سفارتی پالیسی اپنانے کا ہے ۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور پاکستان کو اپنے فیصلے جذبات سے نہیں حکمت اور حقیقت کی بنیاد پر کرنے ہوں گے ۔ یہ معاہدہ صرف اس لئے نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کا ہے ۔ سی پیک اور امریکی تعلقات کا توازن یہی پاکستان کا اصل امتحان ہے ۔ بین الاقوامی اتحاد نئی شکلیں لے رہے ہیں یہ معاہدہ ہمارے لئے خطرہ نہیں دانشمندی سے سفارتی راستہ اپنانا ہوگا۔ سوال یہ نہیں امریکہ بھارت کا معاہدہ کیا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ پاکستان اب اس نئے عالمی منظرنامے میں اپنا مقام کہاں بناتا ہے ؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتیں اقتدار کی جنگ سے باہرنکل کر وطن عزیز کے مسائل پر توجہ دیں ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔

  • سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    جدید دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا جہان بن چکا ہے جہاں چند لمحوں میں ہزاروں میلوں کا فاصلہ مٹ جاتا ہے۔ ایک کلک سے دوستی، گفتگو، تصویریں، احساسات اور خواب ، سب کچھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسی آسانی میں ایک خطرہ بھی چھپا ہے، وہ خطرہ جو ہمارے معاشرے کی معصوم، کم عمر لڑکیوں کو شکار بنا رہا ہے، اور ان کی عزت و وقار کو نگل جاتا ہے۔آج کی پاکستانی لڑکی، چاہے وہ کسی اسکول کی طالبہ ہو یا کسی چھوٹے شہر کی رہائشی، اپنے موبائل فون کے ذریعے دنیا سے جڑنے کی خواہش رکھتی ہے۔ مگر اکثر یہ جڑاؤ “اعتماد کے جال” میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نام نہاد دوست، جعلی پروفائلز، اور دل فریب گفتگو کے پیچھے چھپی بھیڑیائی فطرت، یہی وہ اندھیرا ہے جو روشنی کے پردے میں چھپ کر عزتیں نوچتا ہے۔

    ابتدا اکثر بے ضرر باتوں سے ہوتی ہے “تم بہت خوبصورت لگتی ہو”، “میں تمہیں عزت دیتا ہوں”، “تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو” ، اور یہی بھروسہ ایک دن تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ کئی لڑکیاں نہ صرف جذباتی بلکہ جسمانی استحصال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کچھ کیسز منظر عام پر آتے ہیں، مگر بیشتر کہانیاں خوف، شرمندگی اور سماجی دباؤ کے باعث ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ قصوروار کون ہے؟کیا وہ لڑکیاں جو اعتماد کر بیٹھتی ہیں؟ یا وہ درندے جو محبت کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں؟ دراصل قصور پورے نظام کا ہے ، وہ نظام جو لڑکیوں کو سکھاتا تو ہے کہ “چپ رہنا بہتر ہے”، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ “خود کا تحفظ کیسے کیا جائے”۔

    ہمیں اپنی بچیوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی دنیا “اصلی دنیا” نہیں ہوتی۔کسی نامعلوم شخص سے دوستی ہمیشہ خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔اپنی ذاتی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات کبھی کسی پر بھروسہ کر کے شیئر نہ کریں۔اگر کوئی شخص دباؤ ڈالے یا بلیک میل کرے تو فوراً والدین، استاد یا قانون سے مدد لیں، خاموشی ظالم کو طاقت دیتی ہے۔خواتین کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ان کی آگاہی ہے۔یہ تحریر کسی کو ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے ہے۔ عورت کی عزت صرف اس کے وجود میں نہیں، بلکہ اس کے شعور میں ہے۔ اگر ہم نے اپنی بچیوں کو تعلیم اور ڈیجیٹل شعور دے دیا، تو سوشل میڈیا بھی ان کا دشمن نہیں، بلکہ ایک مضبوط ساتھی بن سکتا ہے۔یاد رکھیں، عزت کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری میں نہیں، بلکہ دل و دماغ کے اندر ہونی چاہیے۔سوشل میڈیا پر ہر “دوست” دوست نہیں ہوتا، اور ہر “لائک” محبت نہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اعتماد، آگاہی اور تحفظ کے ہتھیار سے لیس کریں ،تاکہ وہ دوستی کے فریب میں نہیں، شعور کے نور میں زندگی گزار سکیں۔

  • کم عمری کی شادی کے نقصانات

    کم عمری کی شادی کے نقصانات

    پاکستان میں شادی بیاہ کے سماجی و قانونی ڈھانچے میں، دوسری شادی (تعددِ ازواج) اور کم عمری کی شادی ایسے اہم معاملات ہیں جو نہ صرف خاندانوں کی ساخت بلکہ خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی زندگی کے امکانات کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رجحانات روایت، مذہب اور قانون کی ایک پیچیدہ آمیزش میں جکڑے ہوئے ہیں، اور حقوقِ نسواں کے تناظر میں شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

    کم عمری کی شادی، جسے بعض علاقوں میں ’بچپن کی شادی‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے کئی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ایک تشویشناک حقیقت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں لڑکیوں کی شادی 18 سال کی قانونی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ سندھ جیسے صوبوں نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے، اور وفاقی سطح پر بھی اس کے خلاف سخت قوانین اور سزائیں موجود ہیں، مگر یہ رواج اپنی جڑیں گہری رکھتا ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کا سب سے پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔ کم عمری میں رشتہ ازدواج میں بندھنے والی بچیاں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتیں، جس سے ان کی صلاحیتوں کا غیر ارتقائی اختتام ہو جاتا ہے۔ نوعمری میں حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیاں لڑکیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں ایک بڑا حصہ کم عمر ماؤں کا ہوتا ہے۔ نابالغ لڑکی، جو جذباتی اور ذہنی طور پر ازدواجی ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہوتی، اکثر گھریلو تشدد، زبردستی اور جذباتی استحصال کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ شادی اس کا بچپن، بے فکری اور خود مختاری چھین لیتی ہے۔ چونکہ یہ شادیاں اکثر والدین یا خاندان کے فیصلے پر ہوتی ہیں، لڑکی سے اس کے زندگی کے سب سے اہم فیصلے یعنی شریک حیات کے انتخاب کا حق سلب کر لیا جاتا ہے۔

    اسلام میں تعددِ ازواج کی مشروط اجازت ہے، لیکن پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے تحریری اجازت اور یونین کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے صوابدیدی اختیار پر قدغن لگانا تھا۔ اگرچہ قانون میں پہلی بیوی کی اجازت لازمی ہے، لیکن کئی واقعات میں مرد حضرات یونین کونسل سے رجوع کیے بغیر یا پہلی بیوی پر دباؤ ڈال کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے حقوقِ کفالت، مساوات اور جذباتی استحکام شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ دوسری بیوی کو لانے سے اکثر پہلی بیوی اور بچوں کو مالی اور جذباتی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تعددِ ازواج میں تمام بیویوں کے ساتھ مکمل اور برابر کا سلوک، جو کہ مذہبی حکم بھی ہے، عملی طور پر ایک نازک توازن بن جاتا ہے جسے برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔قانون موجود ہونے کے باوجود، دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس کی کمزور عملداری اور کم آگاہی کی وجہ سے خواتین اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوتیں اور انہیں استعمال کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔

    یہ دونوں سماجی و قانونی چیلنجز خواتین کی حیثیت اور ان کے وقار کے خلاف ہیں۔ حقوقِ نسواں کی حقیقی پاسداری کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ، کم عمری کی شادی اور غیر قانونی تعددِ ازواج کے خلاف قوانین کو پورے ملک میں بلا امتیاز مذہب و علاقے سختی سے نافذ کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ وہ شعور اور معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں اور اپنے شادی کے فیصلے خود کر سکیں۔ مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور میڈیا کے ذریعے ان سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائی جائے اور اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوقِ مساوات و عدل کی صحیح تفہیم کو فروغ دیا جائے۔تمام صوبوں میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال پر لانا اور اس کی خلاف ورزی پر سزاؤں کو سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پاکستان میں خواتین کی مکمل خودمختاری کا سفر تب تک ادھورا رہے گا جب تک کم عمری کی شادی اور تعددِ ازواج جیسے مسائل پر تحقیقاتی، تنقیدی اور اصلاحی نظر نہیں ڈالی جاتی۔ خواتین کو صرف خاندان کی زینت نہیں، بلکہ ایک آزاد، باشعور اور بااختیار شہری تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں بلکہ ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اپنا پورا کردار ادا کر سکیں۔