Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ — ضیغم قدیر

    کل والا میچ اتنا بہترین تھا کہ اب تک اس کو تیسری مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔ کل بہت پیاری جیت ہمارے نام ہوئی تھی مگر بارش کے دوران جب خان صاحب کے حادثے کی خبر سنی تو دل اداس ہو گیا تھا اور پھر جیتنے پر رتی برابر بھی خوشی نا ہوئی۔

    لیکن،

    کل والے میچ نے ہماری سیمی فائنل میں جانے کی امیدیں پھر سے تازہ کر دی ہیں۔ اب فیصلہ کن دن اتوار کا ہی ہوگا۔ اس دن فقط ہماری جیت ہی ضروری نہیں بلکہ دو کیسز ہونا اہم ہے۔

    اگر اتوار کو ہونیوالے پہلے میچ میں ساؤتھ افریقہ اگر نیدرلینڈز سے ہار جائے تو پاکستان آٹومیٹیکلی بنگلہ دیش سے جیت کر آگے جا سکتا ہے۔ مگر نیدرلینڈز ساؤتھ افریقہ کو ہرا پائیں گے؟ یہ سوچنا بھی ناممکن سا لگتا ہے لیکن اپ سیٹ ہو بھی سکتے ہیں۔

    اگر خدانخواستہ ساؤتھ افریقہ جیت جاتا ہے تو دوسرا میچ ہمارا ہے جو کہ ہم جیت جاتے ہیں تو پھر امیدیں زمبابوے سے ہیں۔ اگر پھر زمبابوے بھارت کو ہرا دے گا تو ہمارا رن ریٹ جو کہ بھارت سے بہتر ہے اسکی بنا پہ ہم آگے چلے جائیں گے۔

    وہیں اگر ساؤتھ افریقہ کا میچ کینسل ہو جائے تو تب بھی ہم آگے جا سکتے ہیں۔ اب صرف ہماری قسمت کا کھیل ہے۔ اگر ہماری قسمت ہوئی تو سیمی فائنلز میں جانا کنفرم ہے۔

    وہیں پہ خان صاحب کیساتھ قوم کی وابستگی ان کی سیاست نہیں تھی بلکہ یہی کرکٹ تھی جس کی وجہ سے لوگ ان سے جڑے تھے۔ آپ اندازہ لگائیں وہ قوم جو دو میچ ہار کر دو جیتنے والی ٹیم کو ہیرو بنا چکی ہے وہ عمران خان جو کہ کرکٹر ہونے کے بعد شوکت خانم اور سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا تھا اس کے حق میں کیوں نا کھڑی ہو۔

    دعا ہے کہ یہ اتوار ہمارے لئے خوش نصیبی کا اتوار ثابت ہو اور آسٹریلیا میں موجود کرکٹ ٹیم کیساتھ ساتھ وطن میں موجود کرکٹر تک دونوں کامیاب ہو جائیں اور ملک میں حالات نارمل ہو جائیں۔

  • تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    نام: جولیس سیزر 44 قبل مسیح
    سٹیٹس: عوامی مقبولیت اتنی بڑھ گئی تھی کہ تاحیات بادشاہ مقرر ہونے والا تھا ۔
    نتیجہ: اپنی ہی پارلیمنٹ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عمر بن خطابؓ 644ء
    سٹیٹس: تیزی سے دنیا میں ایک منصفانہ نظام کا قیام ۔
    نتیجہ: ایک غلام جو اپنے حق میں فیصلہ چاہتا تھا ، کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عثمان بن عفانؓ 656ء
    سٹیٹس: ریاست میں قوانین کا نفاذ ۔
    نتیجہ: قانون سے بھاگنے والے مصری گروپ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت علی ابن طالبؓ 661ء
    سٹیٹس: جنگ نہروان میں سٹینڈ لیا ۔
    نتیجہ: خارجیوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: ابراہم لنکن 1865ء
    سٹیٹس: سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: نسل پرستوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی 1963ء
    سٹیٹس: امیرکہ میں ایک سیکرٹ گورنمنٹ کی بات کرنے لگ گئے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: مہاتما گاندھی 1948ء
    سٹیٹس: پاکستان کے قیام کو قبول کر لیا تھا ۔
    نتیجہ : RSS کے شدت پسند کے ہاتھوں assassinated

    نام: لیاقت علی خان 1951ء
    سٹیٹس: جانی مانی راولپنڈی سازش کا شکار ۔
    نتیجہ: سعد اکبر کے ہاتھوں assassinated جسے اسی وقت کسی اور نے مار دیا تھا ۔

    نام: جورڈن کے بادشاہ کنگ عبداللہ 1951ء
    سٹیٹس: امن کی کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل 1975ء
    سٹیٹس: سعودی عرب کی ترقی کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: امیرکہ سے آئے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں assassinated

    نام: انور سادات 1981ء
    سٹیٹس: شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: مصر کی ملٹری پریڈ کے دوران assassinated

    نام: بینظیر بھٹو 2007ء
    سٹیٹس: عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر گئی تھیں ۔
    نتیجہ: معلوم اور نامعلوم ناموں کے ہاتھوں assassinated

    ان سب ناموں میں آپ کو کیا pattern کامن نظر آ رہا ہے ؟

    یہ سب لوگ کسی نہ کسی صورت میں اپنے مذہب یا ملک یا اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہے تھے اور انہیں عوام میں مقبولیت ملنا شروع ہو گئی تھی ۔

    اور ان میں سے امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی … جو اچانک امیرکہ میں ایک shadow اور چھُپے ہوئے لوگوں کی حکومت کی بات کرنے لگ گئے تھے ان پر ایک نہیں بلکہ بیس مرتبہ assassination اٹیمپٹس ہوئی تھیں اور بالآخر ان میں سے ایک اٹیمپٹ ، کامیاب ہو گئی ۔

    اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو … لیکن تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ، اور تاریخ کے اسی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے میری deductive logic مجھے بتاتی ہے …

    کہ وہ دوبارہ attempts ضرور کریں گے ۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان اور جو بھی اسلام اور پاکستان کا محسن ہے ، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔

  • قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    یہ تو آپ کو ہی پتہ ہوگا کہ جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں سے دوسری بلند ترین چوٹی K2 کتنی دور ہے. لیکن آپ جہاں سے بھی آئیں گے تو کے ٹو کا راستہ پاکستان سے سب کیلئے ایک ہی ہے. 16 ہزار تین سو فٹ بلندی پر بیس کیمپ ہے. جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ 17400 فٹ کی بلندی پر ان لوگوں کیلئے ہے جو تہیہ کر لیں ہم نے اسے سر کرنا ہی کرنا ہے.

    موسم اور حالات اگر سازگار ہوں تو سفر کیمپ اول کیلئے شروع ہوگا جو انیس ہزار نو سو فٹ بلندی پر ہے. اگلا پڑاو کیمپ ٹو پر ہوگا جو کچھ بائیس ہزار فٹ پر ہے تیسرا پڑاو کیمپ تھری پر 23 ہزار آٹھ سو پر کریں گے چوتھا 25 ہزار تین سو پر اور ہھر آخری کوشش ہوگی جس میں کوئی پڑاو نہیں بلکہ ایک تنگ راستہ ہے جسے بوٹل نیک کہتے ہیں.

    اعتماد کی بھی دو اقسام ہیں. ایک معلوم ہونے کا اعتماد اور دوسرا عمل کا اعتماد. ہماری اکثریت پہلا اعتماد رکھتی ہے. جسے معلوم ہونے کا اعتماد کہتے ہیں. آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کے ٹو کا راستہ معلوم ہے.؟ آپ کو معلوم ہوگا تو بہت اعتماد سے فرفر بتا دیں گے ورنہ گوگل سے چیک کر لیں گے جیسے میں نے اوپر گوگل سے لکھ دیا.

    گھر میں لیٹے لیٹے بھی آپ اپنی معلومات پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ مجھے معلوم ہے تو اسکا مطلب ہے میں قراقرم کے سر کا تاج کے ٹو سر کر سکتا ہوں. لیکن عمل کا اعتماد وہ ہے جو آپ کو اس سفر کیلئے گھر سے نکالنے کی جرات و ہمت دیتا ہو. یہ ہر سال کے ٹو سر کرنے والے لوگ ہوں یا دور دراز کے سفر پر نکل جانے والے ہوں یہ تاریخ میں اپنا نام لکھانے نہیں بلکہ اپنا اعتماد ہی چیک کرنے نکلتے ہیں. کیونکہ اعتماد کا بوٹل نیک یہی امتحان ہے.

    یہ امتحان ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے ہم کتنے پانی میں ہیں اور اس امتحان کے نمبرز ہمارا رزلٹ طے کرتے ہیں. اور یہی رزلٹ ہمارا مقام طے کرتا ہے.

  • علم کی فضیلت — ام عفاف

    علم کی فضیلت — ام عفاف

    اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسے علم سکھایا انسان اور علم کا ابتداء ہی سے گہرا تعلق ہے. انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان فرق صرف علم اور شعور کا ہے. اسی بنا پر للہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا.

    اس دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان میں بھی علم کی بہت اہمیت رہی ہے. علم کے بغیر قومیں ناکام رہی ہیں. اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبی اکرم صلعم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم سے ہی متعلق تھی کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا. 12 ربیع الاول جو کہ اصحاب سیر کے ایک طبقہ کے مطابق یوم ولادت با سعادت نبوی ہے (بعض محققین 9 ربیع الاول کے قائل ہیں) مسلم معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے. کہیں محفل میلاد ہے تو کہیں جلسہ سیرت النبی کہیں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہے تو کہیں جلوس کا اہتمام ہے.

    ظاہر ہے یہ سب کچھ رسول اللہ صلعم کے لیے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی کیا جاتا ہے لیکن احقر کی نظر میں یہ دن رسول اللہ صلعم کے مشن کی یاد اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کے طور پر منایا جائے تو آپ صلعم کے لیے امت مسلمہ کی بہترین خراج عقیدت ہو گی. ذرا غور کریں! یہ وحی اس وقت نازل ہوئی جب دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم اور جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا ‘عالم یہ تھا کہ انسانیت پس چکی تھی’ مظلوم کا پرسان حال کوئی نہیں تھا ‘غریب بے یار و مددگار تھا یتیم بے کس تھا. علم کائنات سے اٹھ چکا تھا’ بے مروتی انتہا پر تھی شیخی وطیرہ بن چکی تھی. جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے. قانون کوئی نہیں تھا البتہ طاقت؛ دستور وہی جو طاقتور کے الفاظ. فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے. بے سلیقہ زندگیاں تھیں. غور وفکر ناپید تھی اسلاف کے سچے اور جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے. ان پر نسلی قبائلی نسبی و علاقائی تفاخر طاقت ہے. انسان اسفل السافلین سے بھی نچلے گھڑے میں اتر چکا تھا. لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا. یہ خلیفہ لم یزل کی شان تو نہ تھی. اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج ودوام بخشنے کے لیے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیب بھی اسلامی تہذیب سے روشنی اور چمک لے کر محبت اور ترقی کا ثمر چکھ سکیں.

    تہذیب اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول صلعم کی ذات مبارکہ ہے آپ صلعم کے اخلاق و کردار افعال واقوال آپ صلعم کی سیرت طیبہ مینارہ نور کی طرح ہدایت ورہنمائ کے لیے محفوظ اور موجود ہے. آپ صلعم کے بارے میں خود رب کائنات نے فرمایا کہ

    انک لعلی خلق عظیم.

    اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں.(یعنی کہ آداب قرآنی سے مزین اور اخلاق الہیہ سے متصف ہیں)
    .
    آپ صلعم نے حصول علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے. بلکہ حصول علم کی فضیلت میں دین اسلام کہتا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے ہیں.

    رسول صلعم نے فرمایا کہ حکمت(علم) مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو. ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حضور اکرم صلعم نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتیٰ کہ آپ صلعم نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو. مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا. علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی موت بھی واقع ہوجائے تو اس کا مرتبہ شہید جیسا ہے.

    یاد رہے! کہ یہاں علم سے مراد علم نافع ہے. جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کرسکے معاملات دنیا کو سلجھانے کی تعلیم حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرت النبی صلعم سے ملتی ہے. علم دین اور قرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درسگاہ نبوت سے براہ راست سیکھتے تھے وہ علم انہیں کہیں جاکر سیکھنے کی حاجت نہ تھی. لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی شرط یہ تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کرسکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاءے اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے جو مسلمانوں کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ ہرگز تعلیمات اسلامی نہیں ہوسکتی تھی. وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے.

    اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصول علم سے کتنی دور ہیں. مسلمانوں کی کتنی جامعات ویونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں. دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی! ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہے. جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے. لیکن ہمارا سماجی رویہ حصول علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نقالی کرہے ہیں ہم جدت سے کتنا دور ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ اس وقت رسول صلعم کے آگے آنے سے ڈرتے تھے آج ہم ان کی نقالی کرہے ہیں. جس مذہب کی اپنی ثقافت تہذیب وتمدن ہو وہ قوم کسی اور کے طور طریقوں کو اختیار کرے ایسی قوم کے لئے شرمندگی کا مقام اور کیا ہو گا.

    ذرا سوچیں! کہ جس قوم کی آج سے کچھ صدیوں پہلے اتنی مضبوط پوزیشن تھی وہ قوم آج زوال پذیر کیوں ہے؟

    وہ صرف اسی لیے کہ ہم نے اطاعت رسول صلعم کو چھوڑ دیا ہے ہمارے پیارے نبی صلعم جن کی مثال کافر بھی دیتے ہیں آج ہم نے ان کی پیروکاری کو چھوڑ دیا ہے. جلسے جلوس محبت کا اظہار، جشن، چراغاں تو یہودونصاری بھی ایک دن کے لیے اپنے نبیوں کے لیے کرلیتے ہیں لیکن اصل بات اطاعت کی ہے. افسوس کہ وہ ہمارے اندر اب مفقود ہے. رسول صلعم کا عاجزانہ رویہ سادگی، سادہ طرز زندگی کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے. ہم نے سیرت طیبہ کے قانون کو لاگو نہیں کیا ہے اسی لیے آج ہم اتنا پیچھے ہیں. دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں،
    شاعر کیا خوب کہتا ہے.

    وہ معزز تھے زمانے میں صاحب قرآں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

  • اسلام آباد؛ ترک فوڈ فیسٹیول کا انعقاد؛ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    اسلام آباد؛ ترک فوڈ فیسٹیول کا انعقاد؛ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    دارالحکومت اسلام آباد میں 4 روزہ ترک فوڈ فیسٹیول، سفرا کی شرکت جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 4 روزہ ترک فوڈ فیسٹیول کا آغاز ہوگیا۔ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر مہمت پاچاجی نے فوڈ فیسٹیول کا افتتاح کیا ہے. فیسٹیول میں استنبول کیمپینسکی محل کے مشہور شیف سردار اونگل ، داوت کتلوگن، یالجن کوکمن اور شیف دی پارٹیے کے مشہور پکوان پیش کیے جائیں گے۔

    فیسٹیول کے دوران کلاسیکل موسیقی بھی تقریب کو چار چاند لگائے گی۔ جبکہ ترک سفیر مہمت پاچاجی کا کہنا تھا کہ اس فیسٹیول میں لوگ ترک کھانوں کے اصل ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے ، یہ کھانے استنبول کے مشہور شیفز کی ریسیپیز کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے فوڈ فیسٹیول دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    ترک سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 75 سالہ دوستی کا مضبوط رشتہ ہے۔ لذیذ پکوان، مثلاً لیمب تندوری، گرِلڈ تاس کباب وغیرہ پاکستانیوں کو ترکیہ کے منفرد ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کنٹینر پر فائرنگ، عمران خان کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں: ترجمان پاک فوج
    اللہ کی رحمت اورقوم کی دعاوں سےخیریت سے ہوں:جھکوں گانہیں ڈٹ کرمقابلہ ہوگا:عمران خان
    کنٹینر پر فائرنگ، نواز شریف اور مریم کی عمران خان پرحملے کی مذمت

    سرینا ہوٹل کے مینجر کا کہنا تھا کہ ہمیں ترکیہ کے سفارت خانے کے ساتھ مل کر یوم جمہوریہ کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کا اہتمام کر کے اور اس میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے فنڈ ریزینگ گالا کا انعقاد کرکے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ افتتاحی گالا ڈنر میں سفارتی برادری، کارپوریٹ سیکٹر اور کاروباری شخصیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ گالا ڈنر میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز اکھٹے کیے گئے۔

  • عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان کے چھ سوالات اور پی ڈی ایم کا ردعمل!!! — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان کی سیاست آجکل اس ہانڈھی کی مثال پیش کر رہی ہے جس میں صرف پانی ہے اور اسکے نیچے تیز آنچ جل رہی ہے جس سے پانی جوشِ ابال سے چھلک چھلک کر باہر آنے کو بیتاب ہے۔۔۔چونکہ ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ لیے دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے اور وفاق میں بیٹھی مخلوط حکومت کو اپنے ڈر اور تحفظات نے گھیرا ہو ہے تو ایسا ہونا بعید از قیاس اور انہونا نہیں۔۔۔

    کل عمران خان کے لانگ مارچ کو چھٹا روز تھا اور حسب معمول خان صاحب کی توپوں کا رخ اداروں کی قیادت اور مخلوط حکومت کی جانب ہی رہا۔۔۔ بہر کیف یہ تو ماننا ہوگا کہ خان صاحب واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جنہیں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست راس آگئی ہے اورعوام کی ایسی پولیٹیکل اور سوشل سپورٹ بھی میسر آگئی ہے جو باقی سیاستدانوں سے تو انکی قابلیت، اہلیت اور کارکردگی کا سوال کرتی ہے لیکن خان صاحب کو استثنیٰ دیکر بجز انکے مخالفین کے متعلق خان صاحب کی پر جوش تقاریر سن کر ہی مطمئن اور خان صاحب کے شانہ بشانہ ہے۔

    خیر کل خان صاحب کا کہنا تھا کہ ” اگر نیوٹرل اور غیرسیاسی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا چیزآپ کوصاف اورشفاف الیکشن کرانے میں روک رہی ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگ سن لیں، نوازشریف جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بن گیا، میں چھبیس سال سے مقابلہ کر کے ادھرپہنچا ہوں، میچ کے دوران ہی کپتان کو پتا چل جاتا ہے وہ میچ جیت گیا ہے، پاکستانیوں ہم اللہ کے فضل سے پاکستان کا میچ جیت چکے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کچھ نہیں، ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں اورپسینے آرہے ہیں۔ مجھے پہلی دفعہ پاکستان میں حقیقی آزادی نظرآرہی ہے۔”

    اسکے بعد خان صاحب نے خطاب کے دوران مقتدر قوتوں سے چھ سوالات بھی کیے اور ساتھ ہی یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول بھی اب 11 نومبر طے کیا گیا ہے جبکہ خان صاحب کے 6 سوالات کے جوابات کے لیے ردعمل میں پھر مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ” آپ روئیں،پیٹیں یا کچھ اور کریں،حکومت شہباز شریف کی ہے اور یہی حقیقت بھی ہے،،شہباز شریف چور تھا تو عدالتوں میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟اگر احتساب کر رہے تھے تو پھر آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کیوں کی ؟رانا ثنا اللہ قاتل تھا تو ہیروئن کا کیس بنا کر انہیں گرفتار کیوں کیا؟شہباز شریف چور تھا تو3سال برطانیہ کی عدالت میں ثبوت کیوں نہیں دئیے؟”

    بطور عوام ہمارے بھی چھ سوالات ہیں کہ "ملک کب تک عدم استحکام کا شکار رہے گا؟، عوام کب تک سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی؟، ملکی معیشت اور دفاع کی بھی کسی اقتدار کے خواہشمند کو سچ میں فکر ہے؟، اداروں کو کمزور کرنے اور ان سے تصادم کی یہ بھونڈی چالیں کب تک جار رہیں گی؟، حقیقی آزادی کے نام پر کب تک قوم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی رہے گی؟ اور تمام سیاستدان کب مل بیٹھ کر حقیقی جمہوری طریقے سے اپنے اور ملک و عوام کے مسائل کے حل بارے سوچیں گے۔۔۔۔۔ آخر کب؟”

    ملک جس سیاسی، ریاستی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے وہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاستدان اور ادارے قوم وملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر مشاورت کرتے اور باہمی اتفاق سے کسی قومی حکومت کی بنیاد رکھ کر عوام کو خوشخبری سناتے لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے کہ روزانہ عوام کو ایک دوسرے کی کمزوریاں اور برائیاں سنا کر نا صرف ایک دوسرے کی بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے،عام آدمی جس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں سراپا سوال ہے کہ میں کب تک سیاست اور حالات کی اس بے رحم چکی میں پستا رہوں گا؟

  • تاج محل — ریاض علی خٹک

    تاج محل — ریاض علی خٹک

    آگرہ میں تاج محل کے سامنے کسی انجنئیر کو کھڑا کر دیں. وہ آپ کو اس عمارت کی فن تعمیر میں وہ زاوئے نکال کر دکھائے گا جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے. وہ بتائے گا دیکھو یہ اسلامی فن تعمیر کا ٹچ ہے یہ ہند کا تو یہ ثمرقند و بخارا کا زاویہ ہے.

    کسی شاعر کو کھڑا کر دیں وہ محبت کی لازوال داستان سنائے گا. کسی تاجر کو کھڑا کر دیں وہ اس کی آج کی قیمت طے کرنے لگے گا. تاریخ دان اس کی تاریخ سنائے گا کسی سیاست کے مارے مذہب پرست کو کھڑا کر دیں وہ بتائے گا یہ ایک مندر کے اوپر کھڑی عمارت ہے اسے گرا دو.

    ہمارے پختون دیہاتی معاشرے میں کسی آرکیٹیکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی. ایک قطار میں لڑکے گن کر کمرے بنا دیتے ہیں سامنے ایک برآمدہ ہوگا برآمدے میں ہوا یا خوبصورتی کیلئے بارانی جالی لگی ہوگی اور آرکیٹیکچر کے نام پر صرف برآمدے کے ستون رے جاتے ہیں. سیدھے رکھیں یا ترچھا کر کے کونا آگے کر دیں؟ زیادہ انجینئرنگ ہو تو بس ایک کی جگہ دو ستون کردو. جسے بھی سامنے کھڑا کردو وہ کہے گا بس رہنے کیلئے ہی عمارت بنی ہے.

    ہماری فیس بُک کی تحریریں گاوں کی یہی سیدھی قطار کی سیدھی آبادی ہوتی ہے. کچھ لوگ پتہ نہیں کیسے خود کو انجینئر یا تحریر کو تاج محل سمجھ کر اس میں سے وہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں جو ہم نے بھی سوچے نہیں ہوتے لیکن کمال تو سیاست کے مارے ذہن دکھاتے ہیں وہ اس کی بنیاد پر ہی سوال کھڑا کر دیتے ہیں.

  • عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران کا لانگ مارچ اور لفظی گولا باری جبکہ وفاقی حکومت کی تیاریاں!!! — زوہیب علی چوہدری

    ملک کا درجہ حرارت بتدریج ٹھنڈ کی جانب گامزن ہے جبکہ ملکی سیاست کے درجہ حرارت میں انتہا کی شدت اور گرمی پیدا ہوتی جارہی ہے۔ عمران خان جی ٹی روڈ پر لفظوں کی گولا باری کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب پیش قدمی کی قیادت کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں مخلوط پارٹی حکومت کے لوگ جوابی لفظوں کی گولا باری میں مصروف ہیں۔

    ساتھ ہی کنٹینرز اور خندقوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایسا منظر بنایا جا رہا ہے جیسے کوئی بیرونی حملہ آور فوج اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے آرہی ہے اور رانا ثناء اللہ کسی ریاست کے آخری وارث ہیں۔

    عمران خان نے آج گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف اور آصف علی زرداری مل کر ہمارے خلاف سازش کر رہے ہیں،،میں نواز شریف نہیں جو باہر بھاگ جاؤں گا،سن لو!میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،ڈاکو نواز شریف کا استقبال کریں گے،سیدھا جیل پہنچائیں گے،الیکشن لڑیں ،ان کے حلقے میں شکست دوں گا۔۔۔”

    دوسری جانب لندن میں پریس کانفرنس سے شعلہ بیانی کرتے ہوئے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ "عوام کے ٹیکس کا پیسہ لانگ مارچ پر خرچ کیا جا رہا ہے، عمران خان کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے،لانگ مارچ میں لوگ شریک نہیں ہوئے،آخری کارڈ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا،4سال معیشت کو تباہ کیا گیا،مہنگائی عروج پر پہنچائی،اور کوئی ایسا شعبہ نہیں جو عمران خان کی تباہی سے محفوظ رہا ہو،عمران خان چاہتا تھا موجودہ حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہ کر سکے۔۔۔”

    جبکہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ” لانگ مارچ میں 5سے 700لوگ شریک ہیں،،،عوام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو مسترد کر دیا، صرف ایک مخصوص طبقہ عمران خان کی باتوں میں آ کر گمراہ ہوا،الیکشن جیتنے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے،،یہ لانگ مارچ نہیں فتنہ مارچ ہے،آئندہ دنوں میں یہ مزید سکڑ جائے گا، اور فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کا شوشہ تھا۔۔۔”

    خیرہم نے سب سیاستدانوں کی گفتگو سنی اور ان کے مزاج کی گرمی دیکھ لی جو کسی صورت جمہوری اقدار کی آئینہ دار نہیں، عوام بھی ایک حد تک ہی اس گرمی اور شدت کا بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بہت جلد ملک میں افواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی بھی متوقع ہے لیکن اس سے پہلے ادارے کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ اور ممکنہ چیف پر شکوک و شبہات کے سائے طاری کرنا کیا سود مند رہے گا ؟

  • اگناڈس – ریاض علی خٹک

    اگناڈس – ریاض علی خٹک

    پیدائش عیسی علیہ السلام سے چار صدی پیچھے ایک دن یونان کی گلیوں میں خواتین اچانک احتجاج کیلئے نکل آئیں. اس دور میں جب معاشرے میں خواتین کا کردار خاندان کی خدمت بچے پالنا اور صرف امور خانہ داری تھا یہ احتجاج ایک انوکھا کام تھا. اس کے پیچھے اگناڈس کا ایک قصہ ہے.

    یونان میں علم طب صرف مرد کا پیشہ تھا. خواتین کیلئے یہ علم ممنوع تھا. اگناڈس نام کی لڑکی لیکن اس دور کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. کیونکہ زچگی میں مرد ڈاکٹروں سے فطری شرم کی وجہ سے اکثریت خواتین یہ تکلیف خود گزار دیتی لیکن ڈاکٹر کی خدمات نہ لیتی. بہت سی خواتین اس لئے زچگی میں زندگی کی اپنی جنگ ہار جاتیں. اگناڈس یہ بدلنا چاہتی تھی.

    اس نے مردانہ کپڑے پہنے بال مردانہ بنا لئے اور اسکندریہ کی علم طب کی درسگاہ میں بطور مرد داخلہ لے لیا. تحصیل علم کے بعد واپس یونان میں آکر مطب کھولا. خواتین میں سینہ بہ سینہ بات پھیلی اور حاملہ خواتین سب اگناڈس کی کلینک جانے لگیں. مرد ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے. انہوں نے الزام لگایا اگناڈس ڈاکٹر خواتین کو ورغلاتا ہے.

    اگناڈس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں اس نے اپنا لباس اتار کر ثبوت دیا کہ میں مرد نہیں عورت ہوں. اب لیکن ایک اور مقدمہ کھڑا ہوگیا. عورت نے علم طب کیسے حاصل کر لیا.؟ اس غداری پر جب کیس چلا تو خواتین سب احتجاج کیلئے نکل آئیں. یہ احتجاج اتنا پھیل گیا کہ یونان کو اپنا قانون بدلنا پڑا اور خواتین کو علم طب کی اجازت مل گئی.

    مجھے نہیں پتہ یہ یونانی قصہ کتنا سچا ہے. لیکن یہ البتہ تاریخی سچ ہے کہ جب بھی خواتین احتجاج کیلئے نکل آئیں تو تاریخ بدل جاتی ہے. آپ کسی مرد کو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس عورت کو خوفزدہ نہیں کر سکتے جو ایک بیمار معاشرے میں نئی زندگی کیلئے نیا گھر بسانے کا حوصلہ رکھتی ہو.

  • ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    غالباً 31 اکتوبر 2018 کا دن تھا اور میرا فیملی ٹور تھا سوات کیلئےہم دو سگے بھائی اور دو کزن گاڑی میں بیٹھے اور انتہائی مشکلات کیساتھ لاہور ٹھوکر نیاز بیگ انٹرچینج پہ پہنچے کیونکہ ہمارے نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی ایک مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے احتجاج شروع ہو چکا تھا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر چکا اور جلاؤ گھیراؤ تک بات پہنچ چکی تھی-

    قصور سے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے تک محض چار پولیس ناکے تھے مگر آج وہ پولیس ناکے تو نا تھے مگر کم و بیش 47 رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا راستہ گلیوں بازاروں کے بیچ سے طے کیا اور محض 50 منٹ کا راستہ 5 گھنٹوں میں طے ہوا خیال یہی تھا کہ موٹر وے محفوظ ترین ٹریک ہے وہ بند نا ہوا ہو گا مگر جب انٹرچینج پہ پہنچے تو صورتحال انتہائی گھمبیر اور پریشان کن تھی جلاؤ گھیراؤ جاری تھا اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں-

    مسافر گاڑیوں میں ڈرے سہمے بیٹھے تھے کیونکہ پیچھے کی جانب جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا کیونکہ شہر لاہور کی قسمت کہ زیادہ تر جلاو گھیراؤ یہی سے شروع ہوتا ہےیعنی ہمارے گلے میں وہ ہڈی پھنس چکی تھی جسے نا تو نگل سکتے تھےنا ہی اگلی رات 8 بجے موٹر وے پہ پہنچے تو موٹر وے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ تحفظ کا احساس ہوا-

    میں اپنی گاڑی سے نکل کر موٹر وے پولیس کی گاڑی کے پاس پہنچا جہاں وائرلیس سیٹ پہ ہوئی گفتگو سے صورتحال کا اندازہ ہو رہا تھا جس سے پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تھی خیر اب تو سوائے صبر کے کچھ نا ہو سکتا تھارات تقریباً ایک بجے کے قریب پولیس وائرلیس سیٹ سے آواز سنی کہ 22 ونگ رینجرز از موونگ ٹورڈ بابو صابو انٹرچینج یعنی رینجر کی 22 ونگ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے موٹر وے پہ پہنچ رہی ہے یہ الفاظ سن کے دل کو قرار آیا کہ چلو اب بات بنے گی-

    خیر صبح فجر سے کچھ دیر پہلے رینجرز نے کنٹرول کرکے موٹر وے پولیس کو منتقل کیا تو موٹر وے پولیس نے سفر کی اجازت دی ہم جب بابو صابو انٹرچینج پہ پہنچے تو کلیجہ منہ کو آ گیا مسافر گاڑیوں،بسوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور گاڑیاں چیخ چیخ کہ بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب زور آزمائی ہوئی ہےموٹر وے پہ ایک جانب مظاہرین کا ساؤنڈ سسٹم بمعہ چنگچی رکشہ اور موٹر سائیکلیں بکھری ہوئی پڑی تھیں اور سڑک کے ایک جانب بہت سارے جوتے بھی جو کہ غالباً رینجرز کے پہنچنے پہ مظاہرین چھوڑ بھاگے تھے-

    ہم نے رک کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو پنجاب پولیس نے بڑی سختی سے آگے بڑھنے کو کہا گجرانوالہ،و چکری انٹر چینج پہ بھی جلتی گاڑیاں بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب غصہ نکلا ہے ہم نے برق رفتاری سے اپنا سفر جاری کیا اور مردان سے انٹرچینج لیا کیونکہ اس وقت سوات تک موٹر وے ابھی زیر تعمیر تھی-

    مردان شہر میں داخل ہوئے تو سارا شہر بند تھا مجبوراً گاڑی تخت بھائی شہر میں لے گئے جہاں تخت بھائی کے مین بازار کو بند کیا گیا تھا مجبوراً واپس مڑے اور تخت بھائی کے کھیتوں کھلیانوں سے سفر کرتے ہوئے مینگورہ ( سوات) شہر پہنچے اور ہلکی پھلکی کشیدگی کی بو پا کر گاڑی کالام کی جانب موڑ لی مگر زیادہ دیر ہونے کے باعث وادی بحرین میں قیام کیا صبح سویرے کالام کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ
    سوات میں برف باری شروع ہو چکی تھی اور کالام کا ٹمپریچر منفی 3 تک گر چکا تھا –

    تقریباً 40 کلومیٹر کی چڑھائی والا سفر طے کرکے ہم کالام پہنچے اور ہوٹل لے کر کالام ہوٹل کے ٹیرس پہ باربی کیو شروع کیا تاکہ تھکاوٹ بھی دور ہو اور گرمائش بھی ملےمیں نے ساتھیوں سے کہ کہا کہ نماز عشاء پڑھ لوں اور پھر آکر کر کھانا کھاؤں گا میں ہوٹل سے نکل کر کالام میں واقع کئی دہائیوں سال پہلے بنی تاریخی لکڑی سے بنی مسجد میں میں نماز پڑھنے چلا گیا جہاں مولانا سمیع الحق کی شہادت کی اطلاع ملی-

    مولانا صاحب کی شہادت کی خبر سن کر آنکھیں نمک ناک ہوئیں اور مجھے 2016 میں اسلام آباد کے ایک جلسے میں ان سے ہاتھ ملانے کا منظر یاد آ گیامیں نے بڑے پیار سے مولانا صاحب کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مولانا صاحب نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا تھا اور بلکل بھی احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک بہت بڑے عالم دین و سیاست دان ہیں-

    پورا صوبہ خیبرپختونخوا خاص کر مینگورہ سوات مکتبہ دیوبند کا گڑھ ہے سو مولانا سمیع الحق کی شہادت پہ یہ گمان ہوا کہ اب یہاں بھی حالات کشیدہ ہونگے مگر بفضل ربی کوئی واقعہ پیش نا آیا-

    مولانا کی شہادت پہ میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ ان کی شہادت سے قبل معروف سیاستدان و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وفات پہ پاکستان کا برا حال کیا گیا تھا اور اب کی بار اگر مولانا سمیع الحق کی جگہ کوئی معروف سیاستدان ہوتا تو یقیناً ان کی وفات پہ بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا کیونکہ ہمارے ہاں یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے لیڈر کی ایک کال پہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے اور اگر کوئی پارٹی کارکن حکم ربی سے طبعی موت بھی مر جائے تو اس پہ سیاست کرتے ہوئے ملک کے امن و امان کو برباد کرکے عوام کا نقصان کیا جاتا ہے –

    ماضی قریب و موجودہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا ہے اور مذہبی منافرت نے کم مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ کی چوتھی برسی پہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین-