Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟

    Convention for Elimination of Discrimination Against Women

    یہ اقوام متحدہ کا، عورتوں کے حقوق سے متعلق چارٹر ہے جس پر پاکستان نے دسمبر، 1996 میں دستخط کر کے انہیں تسلیم کیا تھا۔
    اب یا تو ہمارے مقتدر حلقے اسلام سے بالکل جاہل ہیں، یا بیرونی سازشوں کے دست و پا۔۔۔۔ کیونکہ اسی کنوینشن کو جن بنیادوں پر سعودی عرب نے ڈنکے کی چوٹ پر رد کر دیا تھا، وہ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔

    1۔۔ اس کنونشن میں کہا گیا ہے کہ عورت بھی مرد جیسی ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ مرد عورت جیسا نہیں ہوتا۔

    2۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر سکتا جبکہ اسلام 4 شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے۔

    3۔۔ اس کنونشن کے مطابق بچوں کو انکی ماؤں کے نام سے پکارنا چاہیے (مثلاً نومولود بچے جنکا اپنا نام ابھی نہیں رکھا گیا ہوتا) جبکہ اسلام میں اولاد کو اسکے باپ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    4۔۔ اس کنونشن کے مطابق بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کی کوئی عدت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ جب چاہے نکاح کر لے۔ اسلام بیوہ اور مطلقہ کو عدت کے دوران نکاح سے سختی سے روکتا ہے۔

    5۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد، عورت اور اپنی بالغ بیٹیوں کا سرپرست نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام نے مرد کو قوام اور خاندان کا سربراہ قرار دیا ہے۔

    6۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد اور عورت کی وراثت برابر ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں بہنوں کا حصہ بھائیوں سے آدھا ہے۔

    7۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو عورت سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ شریعت میں اسکا تصور بھی محال ہے۔

    8۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو اسقاط حمل کا حق ہونا چاہیے جو صریحاً غیر اسلامی ہے۔

    9۔۔ اس کنونشن کے مطابق کنواری عورت کے، باہمی رضامندی کے ساتھ منعقدہ جنسی تعلقات(زنا) پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں یہ قابل سزا جرم ہے۔

    10۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت بھی جب چاہے مرد کو طلاق دے سکتی ہے، جب چاہے کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے جو کہ اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔

    11۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت 18 سال سے پہلے شادی نہیں کر سکتی جبکہ اسلام میں بلوغت کے وقت نکاح کی اجازت ہے۔

    اب اس بات پر ذہن دوڑائیں کہ اسلام اور فیمن ازم کس طرح ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

    یہ ناممکن کام کیسے ہو سکتا ہے؟

    چوکور مثلث کیسے بنائی جا سکتی ہے؟

    "اسلامی فیمنسٹ” ۔۔۔۔ یہ اصطلاح محض oxymoron ہی نہیں، بلکہ یہ کہلوانے والے لوگ دنیا کے سب سے بڑے "مورون”( یعنی بیوقوف) ہیں۔۔۔۔!!!

  • ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    صالح اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،والدین کی اولاد پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن میں سب سے اہم ان کی اچھی اور صالح تربیت کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے بہترین فرد بن سکیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے!اے ایمان والوں اپنے آپ کواور اپنے اہل و عیال کو (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں
    (سورۃ التحریم آیت نمبر ۶)

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں ہر کوئی نگراں ہے اور ہرکوئی اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی:۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

    اولاد والدین کے لئے امانت ہے اور قیامت کے دن وہ اپنی اولاد کے متعلق جواب دہ ہونگے۔اگر انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت اسلامی انداز سے کی ہوگی تووہ والدین کے لئے دنیا و آخرت میں باعث راحت ہوگی۔

    صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین عمل باقی رہتے ہیں (۱)صدقہ جاریہ(۲)ایساعلم کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں(۳)

    صالح اولاد جو ان کے لئے دعا کرتی رہے۔‘‘

    یہ اولاد کی تربیت کا ثمرہ ہے جب ان کی صالح تربیت کی جائیگی تو وہ والدین کے لئے ان کی زندگی میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور ان کی وفات کے بعد بھی۔

    والدین اس دنیا میں وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو ہر حال میں اپنی اولاد کا ساتھ دیتی ہیں۔ والدین کا مثبت رویہ اولاد کو بنا بھی سکتا ہے اور منفی رویہ تباہ بھی کر سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں اکثر والدین over possessive ہو جاتے ہیں جو بچے کی شخصيت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ مطلب بچوں کی حد سے ذیادہ فکر کرنا, ہر وقت ساتھ رکھنا, اور بچوں کا ہر فیصلہ خود کرنا اور یہ کہنا کہ "ہم بہتر سمجھتے ہیں بچے کبھی خود صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے”۔ یہ رویہ بچوں میں قوت فیصلہ, اچھائی و برائی کا فرق, اور سب سے بڑھ کر اپنی سوچ کو ختم کر دیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر والدین یہ سب اتنے پیار اور محبت سے کرتے ہیں کہ بچے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انھیں ہمیشہ والدین درست لگتے ہیں۔ اور اگر ذرا بھی یہ بچے بڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو مان اور بھروسہ ان کے قدموں کی زنجیریں ثابت ہوتے ہیں۔ اور اگر اچانک کوئی مصیبت آجائے تو یہ بچے بلکل سنبھل نہیں پاتے اور نا ہی کوئی حکمت عملی طے کر سکتے ہیں۔

    کچھ والدین اپنی اولاد کے ساتھ بہت سخت گیر ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ وقت دینا, ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات ہے وہ ہمیشہ سخت رویہ اپنائے رکھتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ بچوں کو ڈرا کر ہی قابو کیا جا سکتا ہے نہیں تو یہ سر پر چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بچوں کا اعتماد, کچھ کرنے کی لگن, اور شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں۔ بچوں کا ڈر انھیں صرف ” جی ٹھیک ہے” کہنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ مطلب وہ اس احکامات ماننے والے بن جاتے ہیں۔ بوقت مصیبت یہ بچے بھی اکثر حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ کبھی اکثر وہ چھوڑ دیتے جو یہ چاہتے ہیں چاہے وہ کھلونے ہوں, کیریر ہو یا شادی کا فیصلہ یہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑے چاہتے ہیں۔ ان کا ڈر کبھی ان کی چھپی صلاحيتوں کو نکھرنے نہیں دیتا۔ یہ بچے اپنی کامیابی بھی اپنی والدین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

    تیسرے نمبر پر وہ والدین آتے ہیں جو بہت لاپروہ ہوتے ہیں یعنی "Ignorant ” ۔ یہ والدین بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ان کا ہونا نا ہونا برابر ہوتا ہے۔ وہ نا تو کبھی پیار سے پیش آتے ہیں اور نا ہی غصے سے۔ یہ والدین بھی بچوں کو ڈیمج کر دیتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی شخصيت سازی میں والدین کا بہت قلیدی کردار ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔ لاپرواہی اور غیر سنجیدگی ان کی نمایاں صفات بن جاتی ہیں۔ کچھ بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے بچپن میں ہی بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی ضروریات زندگی اور تربیت اپنے سر لے کر وہ اپنی عمر سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ ہوتے بہت کم ہیں۔

    چوتھے نمبر وہ والدین آتے ہیں جو آئیڈیل ہوتے ہیں۔ یہ والدین اپنے بچوں سے پیار بھی کرتے ہیں اور حالات کے مطابق سختی بھی۔ یہ والدین اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں جو ان شخصيت کو نکھار دیتی ہے۔ یہ بچے با اعتماد, با ہمت, اور بہترین فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کیریر اور زندگی کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ یہ اپنی راہیں اور منزلوں کا تعین خود کرتے ہیں۔ یہ معاشرے کی تعمير و ترقی میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ فیصلہ سازی, منصوبہ بندی, لیڈرشپ اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے میں یہ بچے بہتر ہوتے ہیں۔

  • مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    واشنگٹن: ناسا نے جُونو اسپیس کرافٹ سے کھینچی گئی نظامِ شمسی کے پانچویں سیارے مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : یہ تصویر گزشتہ 20 سالوں میں کسی اسپیس کرافٹ کی جانب سے لی گئی یورپا کی سب سے قریبی تصویر ہے۔ اس سےقبل امریکی خلائی ایجنسی کے گیلیلیو نے جنوری 2000 میں یورپا کی سطح سے 351 کلومیٹرکے فاصلے سے تصویر لی تھی۔تصویر میں یورپا کے خط استوا کے قریب کا علاقہ اینون ریجیو دِکھایا گیا ہے۔


    یورپا نظامِ شمسی کا چھٹا بڑا چاند ہے جو دنیا کے چاند کی نسبت تھوڑا چھوٹا ہے جونو کیم نے 29 ستمبر کو یوروپا کی فلائی بائی کے دوران چار تصاویر کھینچیں-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ میلوں موٹے برف کے خول کے نیچے ایک نمکین سمندر موجود ہے جس سے ممکنہ طور پر یورپا کی سطح کے نیچےزندگی کے لیے سازگار موحول کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈیٹا جمع کرنے کے لیے جونو اسپیس کرافٹ کے پاس صرف دو گھنٹے کی مہلت تھی۔ اسپیس کرافٹ چاند کے پاس سے 23.6 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گزرا تھا۔

    سان انتونیو میں ساؤتھ ویسٹ ریسرچ سینٹر کے جونو کے پرنسپل تفتیش کار سکاٹ بولٹن نے کہا کہ 2013 میں ہمارے فلائی بائی آف ارتھ کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، جونو کے سائنسدانوں نے جونو کے ساتھ ملنے والی متعدد تصاویر پر کارروائی کر کےانمول ثابت کیا ہے-

    مشتری اور اب اس کے چاند کی ہر پرواز کے دوران، ان کا کام ایک ایسا تناظر فراہم کرتا ہے جو سائنس اور آرٹ دونوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے وہ ہماری ٹیم کا ایک اہم حصہ ہیں، جو نئی دریافتوں کے لیے ہماری تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے راہنمائی کرتے ہیں۔

  • سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    آسٹریلوی سائنسدانوں نے خلائی مشن سے متعلق معلومات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کی کوشش کریں گے۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں ماہر نباتیات بریٹ ویلیمز نے بتایا کہ چاند پر پودے لگانے کے ایک پرائیویٹ اسرائیلی مشن کے تحت پودوں کے بیجوں کو بیری شیٹ 2 خلائی جہاز کے ذریعے چاند پر لے جایا جائے گا جہاں انہیں ایک سیل بند چیمبر کے اندر پانی دیا جائے گا اور ان کے اگنے اور نشو و نما کی نگرانی کی جائے گی ۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدان دیکھیں گے کہ پودے کس حد تک انتہائی شدید حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور کتنی دیر میں اُگاؤ کا عمل شروع ہوتا ہے، ماہرین چاند پر ریسوریکشن گھاس کا بھی چناؤ کر سکتے ہیں جو بغیر پانی کے بھی زندہ رہ سکتی ہے۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر کیٹلین برٹ نے کہا ہے کہ اگر چاند پر پودے اگانے کا نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے تو پھر زمین پر بھی انتہائی مشکل ماحول میں خوراک اگانے کا سسٹم بنا سکیں گے۔

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ خوراک، ادویات اور آکسیجن پیدا کرنے کے لیے پودوں کو اگانے کی جانب ایک ابتدائی قدم ہے، جو سب ہی چاند پر انسانی زندگی کے قیام کے لیے بہت اہم ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    کینبرا میں آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کیٹلن برٹ نے کہا کہ یہ تحقیق موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے غذائی تحفظ کے خدشات سے بھی منسلک ہے اگر آپ چاند پر پودوں کو اگانے کے لیے ایک نظام تشکیل دے سکتے ہیں، تو آپ زمین پر بھی کچھ مشکل ترین ماحول میں خوراک اگانے کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

    اس پراجیکٹ کو لوریا ون نامی تنظیم چلا رہی ہے، جس میں آسٹریلیا اور اسرائیل کے سائنسدان شامل ہیں۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

  • فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    ماہرین کے مطابق ڈپریشن دماغی صحت کے سب سے عام عوارض کی فہرست میں شامل ہے۔ اگر آپ اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ صرف امریکہ میں ہی 7% سے زیادہ امریکی سالانہ بنیادوں پر ڈپریشن ڈس آرڈر کا شکار رہتے ہیں۔

    اگرچہ اس خرابی کی بہت سی پیچیدہ وجوہات ہیں، لیکن محققین ابھی تک اس پہلو کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک، ہم یہ جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی اور افسردگی کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس خرابی کا تعلق آلودگی سے ہوسکتا ہے۔ آئیے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرتے ہیں۔

    محققین نے بیجنگ میں صحت مند رضاکاروں کے ایک گروپ کی مدد سے ایک مطالعہ کیا۔ اگر آپ نہیں جانتے تو جان لیں کہ یہ چین کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک شہر ہے جو چین کا دارلحکومت بھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس شہر میں آلودگی کی سطح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ چونکہ اس شہر میں آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے، اس لیے محققین نے اس تجربے کے لیے اسی شہر کا انتخاب کیا۔

    ماہرین نے ہوا کا معیار جاننے کے مانیٹر کا استعمال کیا تاکہ رضاکاروں تنفس اور دماغی صحت پر اس ہوا کے اثرات کا اندازہ ہوسکے۔ اس کے بعد، تمام شرکاء کا ڈپریشن کی مختلف علامات کے لیے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، ان کی علمی کارکردگی کا بھی تجربہ کیا گیا۔ ان کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہوا کی خراب کوالٹی میں سانس لینے سے ان کی علمی کارکردگی میں کوئی کمی آئی ہے؟

    انہوں نے پایا کہ ہوا کے خراب معیار کا لوگوں کے مزاج اور علمی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، محققین کو اس طرح ایک ایسے طریقہ کار کے بارے میں بھی معلوم ہوا جو فضائی آلودگی سے متاثرہ لوگوں میں ڈپریشن کی علامات تلاش کرسکتا ہے اور جان سکتا ہے کہ واقعی فضائی آلودگی ڈپریشن میں مبتلا کرسکتی ہے کہ نہیں۔ وہ یہ تجربہ کر کے زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے کہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن آخر کس طرح مربوط ہیں اور اس سے کتنے فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں؟

    اس کے علاوہ، محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جن افراد میں کسی طرح کے جینیاتی رجحانات ہوتے ہیں ان میں طویل مدت تک آلودہ ہوا میں رہنے پر دماغی صحت میں خرابی پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی انسانی دماغ کے نیورل نیٹ ورک پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک بار جب اس عصبی نیٹ ورک سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو فرد کو پریشانی شروع ہو سکتی ہے۔ لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی آپ کی دماغی صحت کے لیے بہت بری ہو سکتی ہے۔ ایک بار جب آپ کی دماغی صحت سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو آپ کو اپنے جسم کے دیگر حصوں میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی ڈپریشن کا سبب بننے والے بنیادی عوامل میں سے ایک اہم وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ انتہائی آلودہ علاقوں میں رہتے ہیں تو ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ شہر کے لوگ طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کے علاوہ نفسیاتی عارضوں اور افرا تفری میں مبتلا رہتے ہیں۔

    اگرچہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے اپنی سطح پر پوری کوشش کریں۔ اس مقصد کے لیے، میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے گھر یا دفتر کے لیے ایک اچھا ایئر پیوریفائر خریدنے پر غور کریں۔ ان سادہ لیکن طاقتور آلات کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ آپ کے گھر اور دفتر میں ارد گرد کی ہوا کو موثر طریقے سے صاف کر سکتے ہیں۔

    لہذا، آپ کو اپنا بجٹ سیٹ کرنا چاہیے اور ایک ایئر پیوریفائر یونٹ خریدنا چاہیے جو آپ کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ آخرکار، آپ فضائی آلودگی پر تو کنٹرول نہیں کرسکتے لیکن کیا آپ اپنی زندگی میں ڈپریشن کا شکار ہونا چاہتے ہیں؟

  • آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جسے عام فہم میں آسمان کہتے ہیں دراصل یہ خلا کا وہ حصہ ہے جو زمین سے ہم دیکھتے ہیں۔ زمین بھی کائنات کے باقی تمام ستاروں, کہکشاؤں وغیرہ کی طرح خلا میں ہے۔

    قدیم تہذیبوں جیسے کہ بابل و نینوا میں سات آسمانوں کا تصور زمین سے دکھنے والے سات اجرامِ فلکی سورج، چاند، عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کی وجہ سے بنا۔ اور ہر ایک سے ایک آسمان منسلک کر دیا گیا۔ بعد میں یہ تصور دیگر تہذیبوں میں آیا ۔ یہ تصور اتنا مستقل ہے کہ آج بھی ہم نے ہفتے کے دنوں کے نام انہی سات اجرام کی مناسبت سے رکھے ہوئے ہیں۔ مگر اسکا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔

    زمین گو کہ خلا میں ہے مگراس کی اپنی فضا ہے جو مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔ ان کا تناسب فضا میں کچھ یوں ہے۔ نائٹروجن 78 فیصد ، آکسیجن 21 فیصد جبکہ دیگر کئی گیسیز اور بخارات کل ملا کر 1 فیصد ۔ دن کے وقت یہ ہمیں فضا نیلی کیوں دکھائی دیتی ہے جبکہ رات میں کالی یا تاریک ۔

    غیر سائنسی الفاظ میں سمجھایا جائے تو سورج کی روشنی میں ہر طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ہم جب قوسِ قزح دیکھتے ہیں تو ہمیں سات رنگ نظر آتے ہیں۔ روشنی دراصل برقناطیسی لہروں کی صورت میں ہے۔ لہر کی ایک ویولینتھ ہوتی ہے۔ کسی مسلسل لہر میں کئی اُتار چڑھاؤ ہوتے ہیں۔ ایک لہر کے دو قریبی اُتار یا قریبی چڑھاؤکے بیچ کے فاصلے کو ویوولینتھ کہتے ہیں۔ روشنی کے مخلتف رنگ دراصل اس لئے ہوتے ہیں کہ ہر رنگ کی ویوولینتھ مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سرخ رنگ کی ویوولینتھ زیادہ ہے بنسبت نیلے رنگ کے۔ یعنی سرخ روشنی کی لہروں کے دو قریبی اُتار میں فاصلہ زیادہ ہو گا بنسبت نیلے رنگ کی روشنی کے دو قریبی اُتار کے۔

    سورج کی سفید روشنی جب ہماری زمین کی فضا سے ٹکراتی ہے تو ہماری فضا میں موجود گیس کے مالیکول مختلف ویویلنتھ کی روشنی کو مختلف طرح سے بکھیرتے ہیں۔

    زیادہ ویویولینتھ کی روشنی کم بکھرے گی جبکہ کم ویویلنتھ کی روشنی زیادہ۔

    یعنی سرخ روشنی کم بکھرے گی اور نیلی روشنی زیادہ بکھرے گی۔ نیلی روشنی کے زیادہ بکھرنے سے فضا دن کے وقت ہمیں نیلی نظر آتی ہے۔

    غروبِ آفتاب کے وقت البتہ آسمان سرخ یا نارنجی دکھائی دیتا ہے جسکی وجہ یہ کہ اُفق سے نیچے سورج کی روشنی کو زیادہ فضا سے گزرنا پڑتا ہے بنسبت دن کے وقت۔
    سو نیلی روشنی جو پہلے ہی زیادہ بکھرتی ہے، اب اور بکھر کر نظر نہیں آتی جبکہ سرخ روشنی کم بکھرتی ہے سو نیلی روشنی کی عدم موجودگی میں زیادہ واضح نظر آتی ہے۔

    روشنی کے اس طرح سے بکھرنے کے عمل کو Rayleigh Scattering کہا جاتا ہے۔جسکے بارے میں 1871 میں برطانوی سائنسدان Lord Rayleigh نے بتایا کہ کیسے روشنی کی ویویلنتھ سے چھوٹے سائز کے ذرات روشنی کو مختلف زاویوں پر بکھیرتے ہیں۔

    تو اب اگر آپکا بچہ آپ سے پوچھے کہ آسمان نیلا کیوں ہے
    تو پہلے اُسکی آسمان کی غلط فہمی دور کیجئے گا اور پھر یہ بتائیے گا کہ فضا دن کو نیلی کیوں دکھتی ہے.

  • ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    قرآن مجید کے 30 پارے کی79 ویں سورت جس میں 46 آیات، الفاظ 179 اور حروف 762 ہیں۔

    دور نزول: مکی

    نام
    پہلے ہی لفظ النٰزعٰت سے ماخوذ ہے۔

    زمانہ نزول
    حضرت عبد اللہ بن عباس کا بیان ہے کہ یہ سورہ نباء (عم یتسآءلون) کے بعد نازل ہوئی ہے۔
    یہ ابتدائی زمانے کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

    اس کا موضوع قیامت اور زندگی بعد موت کا اثبات ہے اور ساتھ ساتھ اس بات پر خبردار بھی کیا گیا ہے کہ خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام کیا ہوگا۔

    آغاز کلام اللہ میں موت کے وقت جان نکالنے والے اور اللہ کے احکام کو بلا تاخیر بجانے والے اور حکم الٰہی کے مطابق ساری کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتوں کی قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور موت کے بعد دوسری زندگی ضرور پیش آ کر رہے گی۔ کیونکہ جن فرشتوں کے ہاتھوں آج جان نکالی جاتی ہے، انہی کے ہاتھوں دوبارہ جان ڈالی بھی جا سکتی ہے اور جو فرشتے آج اللہ کے حکم کی تعمیل بلا تاخیر بجا لاتے اور کائنات کا انتظام چلاتے ہیں، وہی فرشتے کل اسی خدا کے حکم سے کائنات کا یہ نظام درہم برہم بھی کر سکتے ہیں

    اس کے بعد لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ یہ کام، جسے تم بالکل ناممکن سمجھتے ہو، اللہ تعالٰی کیلئے سرے سے کوئی دشوار کام ہی نہیں ہے جس کیلئے کسی بڑی تیاری کی ضرورت ہو۔ بس ایک جھٹکا دنیا کے اس نظام کو درہم برہم کر دے گا اور دوسرا جھٹکا اس کیلئے بالکل کافی ہوگا کہ دوسری دنیا میں یکایک تم اپنے آپ کو زندہ موجود پاؤ۔ اس وقت وہی لوگ جو اس کا انکار کر رہے تھے، خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور سہمی ہوئی نگاہوں سے وہ سب کچھ ہوتے دیکھ رہے ہوں گے جس کو وہ اپنے نزدیک ناممکن سمجھتے تھے۔ پھر حضرت موسٰی اور فرعون کا قصہ مختصراً بیان کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ رسول کو جھٹلانے اور اس کی ہدایت و رہنمائی کو رد کرنے اور چالبازیوں سے اس کو شکست دینے کی کوشش کا کیا انجام فرعون دیکھ چکا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کر کے اس روش سے باز نہ آؤ گے تو وہی انجام تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔

    اس کے بعد آیت 27 سے 33 تک آخرت اور حیات بعد الموت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے منکرین سے پوچھا گیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کر دینا زیادہ سخت کام ہے یا اس عظیم کائنات کو پیدا کرنا جو عالم بالا میں اپنے بے حد و حساب ستاروں اور سیاروں کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے؟ جس خدا کے لیے یہ کام مشکل نہ تھا اس کے لیے تمہاری بارِ گرد تخلیق آخر کیوں مشکل ہوگی؟ صرف ایک فقرے میں امکانِ آخرت کی یہ مسکِت دلیل پیش کرنے کے بعد زمین اور اس سروسامان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین میں انسان اور حیوان کی زیست کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور جس کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ اشارہ کر کے اس سوال کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ سوچ کر رائے قائم کرے کہ آیا اس حکیمانہ نظام میں انسان جیسی مخلوق کو اختیارات اور ذمہ داریاں سونپ کر اس کا محاسبہ کرنا زیادہ مقتضائے حکمت نظر آتا ہے یا یہ کہ وہ زمین ہر طرح کے کام کر کے مر جائے اور خاک میں مل کر ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائے اور کبھی اس سے حساب نہ لیا جائے کہ ان اختیارات کو اس نے کیسے استعمال کیا اور ان ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا؟ اس سوال پر بحث کرنے کی بجائے آیات 34 – 41 میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب آخرت برپا ہوگی تو انسان کے دائمی اور ابدی مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کس نے دنیا میں حدِ بندگی سے تجاوز کر کے اپنے حدا سے سرکشی کی اور دنیا ہی کے فائدوں اور لذتوں کو مقصود بنا لیا اور کس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے سے خود کو بچایا۔ یہ بات خود بخود اوپر کے سوال کا صحیح جواب ہر اس شخص کو بتا دیتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہو کر ایمانداری کے ساتھ اس پر غور کرے گا۔ کیونکہ انسان کو دنیا میں اختیارات اور ذمہ داریاں سونپنے کا بالکل عقلی، منطقی اور اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ اسی بنیاد پر آخر کار اس کا محاسبہ کیا جائے اور اسے جزا یا سزا دی جائے۔

    آخر میں کفار مکہ کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ قیامت آئے گی کب؟ یہ سوال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بار بار کرتے تھے۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ رسول کا کام صرف خبردار کر دینا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور۔ اب جس کا جی چاہے اس کے آنے کا خوف کر کے اپنا رویہ درست کر لے اور جس کا جی چاہے بے خوف ہو کر شترِ بے مہار کی طرح چلتا رہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہی لوگ جو اس دنیا کی زندگی پر مر مٹتے تھے اور اسی کو سب کچھ سمجھتے تھے، یہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں وہ صرف گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ اس چند روزہ زندگی کی خاطر انہوں نے کس طرح ہمیشہ کے لئے اپنا مستقبل برباد کر لیا۔

  • عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    ہر سال 2اکتوبر کو ، اقوام متحدہ کی قرارداد (جس کی 143 رکن ممالک نے حمایت کی تھی) کے مطابق "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم عدم تشدد کو منانے کا مقصد، امن، برداشت اور عدم تشدد کا فروغ ہے ۔ تاکہ معاشرے میں امن و امان ، محبت اور بھائی چارے کا فروغ ہو۔

    جنوری 2004 میں ایرانی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی نے عدم تشدد کا عالمی دن منانے کی تجویز پیش کی۔ جسے بھارت میں اس قدر پزیرائی ملی کہ بھارت نے "عالمی یوم عدم تشدد” منانے کی تجویز اقوام متحدہ کے سامنے پیش کردی۔

    مگر بھارت جیسے جابر اور ظالم ملک کو دیکھ کر یہ بات کس قدر عجیب اور فریب لگتی ہے کہ اس ملک نے عالمی یوم عدم تشدد کی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کی تھی۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی یہ دن اپنے سیاسی رہنما گاندھی کے یوم پیدائش کے طور پر مناتے ہیں اور اسے بھارت میں "گاندھی جیانتی”کے نام سے منایا جاتا ہے۔ گاندھی نے کہا تھاکہ

    "حقیقی خوشی وہی ہے۔ جو آپ بھائی چارے کے لیے سوچتے ، کہتے اور کرتے ہیں”۔

    عدم تشدد کے علمبردار گاندھی کا ملک بھارت تو کبھی بھی تشدد ترک کرنے پر آمادہ نظر نہیں آیا۔ بھارت میں مسلمانوں پر منظم تشدد اور قتل و غارت گری سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ بھارت کی کشمیر میں جاری وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ دیکھ کر بھارت کی عدم تشدد کی قرارداد صرف فریب لگتی ہے۔ اپنے حق کےلیے آواز اٹھانے والے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و تشدد اور سفاکی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ جموں شہر کی قریبی نہر کشمیریوں کے خون سے سرخ نظر آتی ہے۔

    گائے کے ساتھ نظر آنے والے مسلمانوں پر بھارتی مشتعل ہجوم کا تشدد ، کشمیر میں ظلم وبربریت ، مکر و فریب اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گاندھی کی قوم کی اقوام متحدہ میں عدم تشدد کی قرارداد صرف ایک فریب تھا۔ پوری دنیا میں بھارت کے قرارداد پیش کرنے کی وجہ سے "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” تو منایا جاتا ہے ۔ مگر بھارتیوں نے خود آج تک اس پر عمل نہیں کیا۔

    بطور معاشرہ ہم بھی ایک پرتشدد معاشرہ ہیں۔ گھروں میں ملازمین پر تشدد ، باس کے دفتر میں خواتین پر جنسی تشدد، سکولوں اور مدارس میں طلب علموں پر تشدد۔۔۔۔ یہی ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ لکھتے ہوئے باچا خان( خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان پختونوں کے ایک سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ انھوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کا پرچار کیا۔عدم تشدد کے بارے میں انکا ایک قول بہت مشہور ہے۔”ہماری جنگ عدم تشدد کی جنگ ہے اوراس راستے میں آنے والی تمام تکالیف اورمصائب ہمیں صبر سے جھیلنے ہوں گے”) کا ایک قول پردہ فکر سے بار بار ٹکرا رہا ہے.

    ” اگر آپ نے کسی کو ناپنا یا جاننا ہو کہ وہ کتنا ترقی یافتہ اور عدم تشدد کا علمبردار ہے تو دیکھیں کہ ان کا خواتین کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔”
    اگر ہم اسی قول کے ترازو میں خود کو تولیں تو ہمارے معاشرے کا مجموعی وزن مائنس میں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” سے کچھ سیکھتے بھی ہیں یا اگلے سال بھی یہ معاشرہ ایک پرتشدد معاشرہ ہی ہوگا۔

  • زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    ایک بیج ایک تناور سرسبز و آباد پودے کی جڑوں میں اپنی زندگی قربان کرتا ہے تب ہی ایک نئی زندگی کی کامیابی ممکن ہوتی ہے. کامیابی ایک انعام ہے کوئی لاٹری یا اتفاق نہیں ہوتا.

    آپ ایک نوجوان عاشق کو دیکھیں. اسکا گھر ماں باپ بہن بھائی دوست احباب سب کچھ ہوں گے. لیکن ایک عشق سب کچھ فراموش کرا دیتا ہے یہاں تک کے وہ مرنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے. ایک نشئی بھی اپنی دنیا سے کٹ کر نشے کی دنیا میں خود کو گم کر دیتا ہے. اسے بھی پتہ ہوتا ہے اسکا انجام کیا ہے؟

    یہ ایک انسانی مزاج ہے. جب سمٹنے پر آتا ہے تو زندگی کے ایک اکیلے رنگ کو پوری کائنات سمجھ لیتا ہے. اور اس رنگ کے بغیر زندگی موت لگتی ہے. جب پھیلنے پر آتا ہے تو وسیع کائنات بھی اس کو چھوٹی لگتی ہے. یہ جن کو ہم کامیاب سمجھتے ہیں یہ جیتے جی خود کو کسی ایک مقام پر مار چکے ہوتے ہیں.

    ان کی مثال اس بیج کی طرح ہوتی ہے جو پھر سمٹنے سے انکار کر دیتے ہیں. یہ زمین کا سینہ چیرتے نکل آتے ہیں. نہ کوئی طوفان نہ کوئی موسم ان کو پھر روک پاتا ہے. یہ خوف کی زنجیریں بہت پہلے اپنے اندر توڑ چکے ہوتے ہیں. تب یہ دنیا کو نئے رنگ نئی خوشبو دیتے ہیں. دنیا ان کو رشک سے دیکھ رہی ہوتی ہے.

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے. روزانہ کی نیند بھی موت کی طرح ہمیں سب کچھ بھلا کر دوبارہ تعمیر کرتی ہے. نئے دن کا نیا سورج روزانہ ایک نئی اُمید لے کر آتا ہے. ہمیں بس ایک ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے آج سمٹ کر اپنی محدود دنیا میں مرنا ہے یا اس دنیا کا حصہ بننا ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے.

  • ناگ فروش — ستونت کور

    ناگ فروش — ستونت کور

    1911 میں تاجِ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی راجدھانی کو کلکتہ سے دِلی منتقل کردیا ۔ آنے والے وقتوں میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھانے لگا ، بلکہ پھن اٹھانے لگا ۔۔۔ اور وہ تھا دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگ کی بڑھتی ہوئی آبادی ۔

    جو کہ ناصرف ایک زہریلا اور خطرناک خزندہ ہے بلکہ اس کی بڑھتی آبادی بھی لوگوں بھی خوف و ہراس اور بےچینی کا باعث بن رہی تھی ۔
    چنانچہ برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص زندہ یا مردہ ناگ لے کر آئے گا اسے نقد انعام ملے گا۔

    اس طرح لوگوں نے ناگ کا شکار کرنا اور انہیں مقررہ سرکاری دفاتر لیجا کر انعام حاصل کرنا شروع کردیا ۔

    لیکن۔۔۔۔ کچھ عقلمند ہندوستانیوں نے اس موقع سے دگنا فائدہ اٹھانے کا سوچا اور انہوں نے خفیہ طور پر ناگوں کو پالنا شروع کر دیا تاکہ ان کی بریڈنگ کروا کر زیادہ سے زیادہ ناگ حکومت کو پیش کر کے خوب انعامی رقم حاصل کی جائے۔۔۔۔ اور اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔

    اہلِ دلی نے اس "زہریلی گنگا” میں خوب ہاتھ پیر دھوئے بلکہ ڈبکیاں لگائیں ۔

    اور جب برطانوی حکومت کو پتا چلا کہ ہندوستانی گھر گھر ناگ پال کر انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ تو انہوں نے ناگ لانے پر مقرر کی گئی انعامی رقم کو منسوخ کردیا ۔

    لیکن پھر جن سینکڑوں لوگوں نے ہزاروں ناگ پال رکھے تھے اور کوئی چارہ نہ ہونے پر انہوں نے ان ناگوں کو یہاں وہاں جھاڑیوں ، درختوں ، مٹی کے ٹیلوں پر آزاد کردیا۔۔۔ اور جب آزاد کیے سانپوں نے قدرتی ماحول میں اپنی نسل بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگوں کی آبادی میں پھر سے بےپناہ اضافہ ہوگیا ۔

    اس رحجان کو آج تک Cobra effect کے نام سے یاد کیا جاتا ہے !!!