Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    سیلاب کے لگائے گئے زخم ابھی تک نہیں بھرے ۔ لیکن وطن عزیز کے درمند مرہم خوب لگا رہے ہیں ۔ کچھ احباب کی جانب سے یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ کافی گھروں کی تقسیم مکمل ہوچکی ہے لیکن کام ابھی بھی جاری ہے ۔ خاکسار کے چند سوال ہیں جو صرف درمندوں کو ہی چبھے گے اور فکر پیدا کریں گے ۔

    یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے یہی اثرات اگر اگلے سالوں میں سیلاب کی صورت رونما ہوتے ہیں تو کیا یہ گھر محفوظ رہیں گے ؟

    اگر نہیں تو یہ تخریب و تعمیر کا سلسلہ آخر کب تلک ہے ؟

    ماہرین کی جانب سے ریڈ زون میں تعمیر کیے گئے گھروں کی قانونی و شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟

    اگر ماہرین کسی علاقے کو خطرناک کہہ کر تعمیری کام سے روک رہے ہیں تو کیا وہاں پر تعمیر کرنا سمجھداری ہے ؟

    لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ مجھ سے بھی counter سوال پوچھے جاسکتے ہیں کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟

    میں کہوں گا کہ حکومت وقت ڈیم بنائے اور تخریبی پانی کو تعمیری پانی میں بدلے ۔۔۔۔

    آپ مجھ پر ہنسے گے کہ حکومت ؟؟؟؟۔

    یقینا اس نکتے پر میں بھی لاجواب ہوجاوں گا کہ وطن عزیز کو آج تلک جو بھی حکومت میسر آئی وہ تو بانجھ ہی رہی اور ہے ۔۔۔۔ کتنے ہی ماہرین ہیں جو ایسی تجاویز دے رہے ہیں جن سے ان آفات کی تباہیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو ۔

    بیرون ممالک سے آئی ہوئی امداد کا کچھ پتہ نہیں ۔ حاکم وقت ان کو ظاہر کرکے معاملات واضح کیوں نہیں کرتا ۔؟

    کیا مخمصہ ہے ۔۔۔ کیا بے بسی ہے ۔۔۔ وطن عزیز کو خدا اپنی رحمت کے حصار میں لے ۔۔۔ کیونکہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا اللہ ہوتا ہے ۔

  • احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    احیاۓ نشاط ثانیہ کی ضرورت و اہمیت — حاجی فضل محمود انجم

    چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان بغداد پہ حملہ آور ہوتا ہے اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے تاخت و تاراج اور تہس نہس کر دیتا ہے۔ہر طرف تباہی و بربادی دکھائی دیتی ہے۔

    شہر کو تباہ و برباد کرنے کے بعد وہ اپنا دربار منعقد کرتا ہے۔اس کا رعب و دبدبہ عروج پر ہے۔کیوں نہ ہو ؟ اسلئے کہ وہ فاتح ہے۔وقت کا حاکم ہے اور حاکم بھی وہ جو سفاکیت اور بربریت کی ایک زندہ تصویر ہے۔ایسے میں اس کے سامنے مسلمانوں کے خلیفہ "معتصم” کو لایا جاتا ہے جو سر تا پا زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔محکوم خلیفہ اپنے حاکم کے سامنے حسرت و یاس کی تصویر بن کر موجود ہے۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ہلاکو کے سامنے سادہ کھانا رکھا جاتا ہے اور معتصم کے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے بھرے ہوۓ طشت رکھ دئیے جاتے ہیں۔ہلاکو زنجیروں میں جکڑے معزول خلیفہ کو کھانا شروع کرنے کیلئے کہتا ہے۔معتصم حیران ہو کر ہلاکو کی طرف دیکھتا ہے۔ہلاکو کڑک دار آواز میں اسے کہتا ہے:-

    ” کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ "بغداد کا خلیفہ اور مسلمانوں کا تاجدار بے بسی و بےچارگی کی تصویر بنا کھڑا ہے اور کہتا ہے ” میں یہ کیسے کھاؤں یہ کوئی کھانے کی چیز ہے” ہلاکو فورا” کہتا ہے کہ اگر یہ کھانے کی چیز نہیں ہے تو تو نے یہ سونا اور چاندی ہیرے اور جواہرات جمع کیوں کئے۔افسوس اس بات پر کہ وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے گھوڑے پالنے اور جہاد کی تیاری کا حکم دیتا ہے ان کا خلیفہ اس کی بات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ہلاکو کے سوال ایک تازیانہ بن کر اس پہ برس رہے تھے لیکن معتصم بس ایک ہی جواب دے سکا اور وہ یہ کہ ” اللہ کی یہی مرضی تھی” ہلاکو اسے کہتا ہے کہ "اب تمہارے ساتھ جو گا یہ بھی اسی اللہ ہی کی مرضی ہو گی۔
    ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندنے کا حکم دیا اور چشم فلک نے دیکھا کہ ظلم و بربریت کے دلدادہ اس شخص نے بغداد کو مسلمانوں کیلئے قبرستان بنا دیا ۔ہلاکو نے کہا ” آج میں نے بغداد کو ‏صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور آج کے بعد دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکے گی اور ایسا ہی ہوا۔سقوط بغداد سے لیکر آج تک اس شہر کو وہ پہلے جیسی حیثیت دوبارا نہ مل سکی لیکن مسلمان قوم نے اس پر بھی کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ ان اندوہناک گھڑیوں میں بھی اس وقت کے مسلمان علماء اور وارثان محراب و منبر پورے کروفر اور جبہ و دستار کے ساتھ بغداد کی مسجدوں اور گلیوں میں اس بات پر مناظرے کر رہے تھے کہ "کوا حلال ہے یا حرام ہے”

    ہم اہنے برصغیر کی بات کریں تو ذرا تصور کریں کہ جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں کا ایک بادشاہ شاہجہاں اپنی دولت و ثروت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں دنیا کا عجوبہ تاج محل تعمیر کروا رہا تھا لیکن دوسری طرف اس کے مقابلے میں برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے ڈلیوری کی حالت میں وفات پا جانے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل اسکول کی بنیادیں رکھ رہا تھا اس دور میں ہمارے یہاں بادشاہوں کے درباروں میں گوئیے اور بھانڈ قبضہ کئے ہوۓ تھے۔ خوبصورت اور نازک اندام رقاصاؤں سے دل بہلاۓ جا رہے تھے اور مسخرے بادشاہ سلامت کی دلجوئی و تفنن طبع کیلئے ہمہ وقت موجود تھے تو اس وقت یورپ میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور درسگاہیں بنائی جارہی تھیں۔ادھر ہمارے ارباب بست و کشاد شراب و کباب و شراب سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ادھر یورپ میں بحری بیڑے تیار کئے جا رہے تھے۔

    ادھر رقص و سرود کی محفلیں برپا تھیں جہاں تان سین اور دوسرے گلوکار اپنی تانیں بکھیر رہے تھے تو ادھر یورپ میں علوم و فنون کے سوتے پھوٹ رہے تھے اور نت نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔ادھر عیاشی و فحاشی کا دور دورہ تھا تو ادھر صلیب کے رکھوالے پوری دنیا کو زیر دام لانے کے لئے منصوبے بنا رہے تھے۔سلطنت برطانیہ میں سورج کا غروب نہ ہونا اس کی واضح مثال ہے۔مسلمان بادشاہوں کی عیاشیوں کے ضمن میں صرف ایک مثال محمد شاہ رنگیلا کی دینا چاہوں گا۔ محمد شاہ رنگیلا کے شب و روز کا معمول یہ تھا کہ صبح کے وقت وہ درشن کیلئے جھروکے میں جا کر بیٹھ جاتا ۔ کوئی سوالی آ جاتا تو اس کی داد و فریاد سن لیتا نہ آتا تو بٹیروں اور ہاتھیوں کی لڑائیوں سے دل بہلاتا رہتا ۔ سہ پہر کے وقت بازی گروں نقالوں اور بھانڈوں کے فن سے لطف اندوز ہوتا جبکہ اس کی شامیں رقص و موسیقی کی محفلوں میں گزرتیں اور راتیں حسین و جمیل دوشیزاؤں اور حرم میں موجود لونڈیوں سے داد عیش دیتے ہوۓ بیت جاتیں۔بادشاہ کو ایک اور شوق بھی تھا۔ وہ اکثر زنانہ لباس پہننا پسند کرتے تھے اور ریشمی پشواز زیبِ تن فرما کر دربار میں تشریف لاتے تھے، اس وقت ان کے پاؤں میں موتیوں جڑے جوتے ہوا کرتے تھے۔”محمد شاہ رنگیلا کتنا رنگیلا” نامی کتاب اس کی ان داستانوں سے بھری پڑی ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس نے غصے میں آکر اپنی پسندیدہ گائیکہ کو اپنا پہنا ہوا جوتا دے مارا اور وہ جوتا اس سے واپس نہیں لیا۔یہ جوتا اپنی قیمت کے اعتبار سے اس عورت کی سات نسلوں کیلئے کافی تھا۔

    قارئین دوسری طرف یہ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔اسے اس بات سے کچھ غرض نہیں ہوتی کہ بادشاہ کے پاس دولت تھی یا نہیں تھی۔اس کے دربار میں خوشامدی مراثی طبلہ نواز بھانڈ اور جی حضورئیے موجود تھے یا نہیں تھے بلکہ تاریخ صرف اور صرف اس کی حاصل کی گئی کامیابیاں دیکھتی ہے وہ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں دیکھتی اور نہ ہی کوئی اور عذر قبول کرتی ہے۔ لیکن ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم وہی پریکٹس اب بھی جاری رکھے ہوۓ ہیں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اصل میں علم و ہنر سے دوری ہی ہمارے زوال کا اہم سبب ہے۔ آج ہم علم و ہنر سے محرومی ہی کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں ۔ کل جب قدرت نے عروج اور ترقی کا تاج ہمارے سروں پر رکھا تھا تو ہم اسے مضبوطی سے تھام نہ سکے ۔ ہم علم و ہنر کے فروغ سے روگردانی کے مرتکب ہوئے تھے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں رکھ سکے تھے، جس کے بل بوتے پر ہم اپنے لیے دوبارہ ترقی کی عمارت تعمیر کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ہم آخری مرتبہ گرے ہیں تو اب تک نہیں سنبھل سکے۔اقبال نے کیاخوب کہا تھا :-

    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا

    حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قوم جب اخلاقی برائیوں میں گھر جاتی ہے اور حرام کاری، زنا کاری، اور برے کاموں کی حدوں کو پار کرلیتی ہے تو اللہ رب العالمین اس پہ اسی جیسے حکمران مقرر کر دیتا ہے اور  دوسری اقوام کو ان پر مسلط کردیتا ہے، اگر وہ ایک سلجھی ہوئی اور سمجھدار قوم ہے تو ڈوبنے کے بعد دوبارہ ابھرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اگر اس کے اندر اپنا محاسبہ کرنے خود کو سدھارنے اور حالات سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی تو پھر وہ تاریخ کے صفحات میں گم ہوجاتی ہے اور ایک قصہ پارینہ بن کے رہ جاتی ہے۔ہمیں اب اس بات پہ غور کرنا ہے کہ اگرہم بطور مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ خیر امت ہی رہیں تو انہیں اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ دین کا خوگر بنانا ہوگا، انہیں صحیح غلط کا فرق سمجھانا ہوگا،انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھانا ہوگی۔ انہیں حلال و حرام کی تمیز سکھانی ہو گی، انہیں اخلاق کی اعلی قدروں پہ فائز کرنا ہوگا، تبھی جا کے حقیقی کامیابی نصیب ہو پائے گی، ورنہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پہ گھیرا تنگ ہوتا جائے گا اور اخیر میں سر پٹک پٹک کے دعائیں مانگنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہم یونہی دنیا میں ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔کبھی بے ایمانی کی بنیاد ہر۔کبھی بد عنوانی کی بنیاد پر اور کبھی اخلاقی بنیاد پر اور پھر سانحہ بغداد جیسا کوئی ہمارے تعاقب میں ہوگا۔

  • زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    چار انجن کا دیو ہیکل جہاز جب پر پھیلائے رن وے پر کھڑا ہو تو بہت خوبصورت لگتا ہے. رن وے پر جب دوڑنے لگتا ہے تو اس کے حسن میں رعب و دبدبے کی گرج بھی شامل ہو جاتی ہے اور جب یہ زمین چھوڑ کر فضا کیلئے پرواز بھرتا ہے تو دیکھنے والوں کو وہ طمانیت ملتی ہے جو ان کو ایک تسلی دیتی ہے کہ یہ دیوہیکل آہنی پنجرہ اگر بلندی پرواز کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں.؟

    اسی جہاز کے کاک پیٹ میں بیٹھا پائلٹ لیکن یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا ہوتا. اُس کی نظریں اپنی مشین کی گھڑیوں پر ہوتی ہے کہاں اسے وہ رفتار ملے گی جب وہ v1 بول کر پرواز کیلئے انجن روٹیٹ کرے گا. جہاز جیسے ہی زمین چھوڑتا ہے پائلٹ کنٹرول ٹاور کو بتاتا ہے گئیر اپ. یعنی میں نے اپنے پہئے اٹھا لئے ہیں اب آگے ایک منزل ہے.

    لیکن یہ جہاز جب زمین پر اترتا ہے تب کنٹرول ٹاور اسے بتارہا ہوتا ہے تم کتنا نیچے آگئے ہو. پانچ سو فٹ چار سو فٹ یہاں تک کے سو فٹ کے بعد دس دس فٹ کے فرق سے بتا رہا ہوتا اور پھر ٹچ ڈاون ہو جاتا ہے. آپ کی زندگی کی فلائٹ بھی ایسی ہوتی ہے. عروج دیکھنے والوں کو بڑا مسحور کرتا ہے. آپ کو ضرورت ہی نہیں ہوتی باہر کون کیا کہہ رہا ہے کیا دیکھ رہا ہے.

    لیکن زندگی اونچ نیچ کا نام ہے. کسی ایک منزل سے عروج تو دوسری پر اترنا بھی ہوتا ہے. تب باہر کی آوازیں سننا لازم ٹھرتا ہے. ہم کس مقام پر کتنا نیچے آگئے ہیں یہ دوسرے ہمیں بتا سکتے ہیں. پھر جو لوگ بلندی و مقام کے تکبر میں آنکھیں اور کان بند کر دیتے ہیں وہ دھڑام سے نیچے گرتے ہیں. یہ اپنے پیروں پر کھڑے ہی نہیں ہوپاتے.

    زمین زادوں کو زمین سے رابطہ رکھنا ہی ہوتا ہے. جن کے یہ رابطے ٹوٹ جاتے ہیں وہ یا تو شکستہ ڈھانچہ اہل زمین کا تماشا بن جاتے ہیں یا فضائے بسیط میں گم ہو جاتے ہیں.

  • علم اور عمل میں فرق —  ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق — ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق ہوتا ہے. جیسے آپ کا سامنا کسی چیتے سے ہوجائے تو ایک ہی عمل آپ کا دماغ آپ کو بتائے گا. دوڑ لگا کر جان بچاو. لیکن علم بتاتا ہے یہ ریس آپ کبھی جیت نہیں سکتے. کیونکہ انسان زمین پر پورا پاوں رکھتا ہے اور چلنے کیلئے پورا پاوں اٹھاتا ہے. جبکہ چیتا پیر کی انگلیاں کے بل دوڑتا ہے. آپ چیتے سے تیز دوڑ نہیں سکتے تو بہتر ہے بلکل خاموش کھڑے ہو جائیں. چیتا آپ کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ممکن ہےچھوڑ دے.

    دوسری طرف آپ کھانا پکانے کی سیکڑوں کتابیں پڑھ کر دنیا کے مشہور شیف نہیں بن سکتے. آپ انجینئرنگ کی کتاب پڑھ کر اینٹوں سے سیدھی دیوار کھڑی نہیں کر سکتے. آپ بزنس ایڈمنسٹریشن کی کتابیں پڑھ کر کوئی کاروبار کھڑا نہیں کر سکتے. آپ کو عملی میدان میں عمل کو سیکھنا ہوتا ہے. شیف بننے کیلئے آپ کو باورچی خانہ میں وقت دینا ہوگا تو کاروبار کرنے کیلئے مارکیٹ میں نکلنا ہوگا.

    علم بنیادی طور پر اس مشین یعنی ہمارے جسم کی پروگرامنگ ہے جس کی ملکیت ہمیں اس دنیا میں دی گئی ہے. یہ پروگرام ہمارے شعور کو وقت اور حالات کے حساب سے اپ گریڈ رکھتا ہے. جتنا آپ کا شعور اپ گریڈ ہوگا اتنا ہی بہتر اس مشین کو استعمال کر سکیں گے. ایک کامیاب زندگی کیلئے آپ کو دونوں محاذوں پر پیش قدمی کرنی ہوتی ہے. اپنے عمل کے میدان کا جتنا زیادہ علم آپ کے پاس ہوگا اتنا ہی آپ کامیاب ہوں گے. کیونکہ آپ کو چیتے کی رفتار مل جائے گی.

  • سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بگ بینگ کوئی دھماکہ نہیں تھا کہ کسی نے پریشرککر میں بارود ڈال کر اُڑا دیا ہو بلکہ آج ہم سائنس میں جسے بگ بینگ کہتے ہیں یہ دراصل آج سے 13.8 ارب سال پہلے کا وہ واقعہ ہے جب کائنات وجود میں آئی اور تیزی سے ایک نقطے سے پھیلنے لگی۔ وقت اور خلا جسے سائنس میں سپیس ٹائم کہا جاتا ہے یہ بھی تب ہی وجود میں آئے۔ چونکہ وقت کی ابتدا بگ بینگ سے ہوتی ہے لہذاٰ یہ سوال کچھ عجیب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وقت سے پہلے کیا تھا؟ ہمارا ذہن یہ سوال سمجھ نہیں پاتا۔

    اس بارے میں کئی سائنسی مفروضے ہیں(یاد رکھیں سائنس میں مفروضے اور تھیوری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مفروضے ثابت نہیں ہوئے ہوتے جبکے تھیوری کئی تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہوتی ہے)۔مثال کے طور پر ایک مفروضہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں بنی ہونگی جنہیں ہم ملٹی ورس کہتے ہیں۔ اور ممکن ہے وہاں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے مختلف ہوں۔۔یا یہ کہ بگ بینگ کسی پچھلی کائنات میں بلیک ہول ہو جو ہماری کائنات کا بیچ ہو یا شاید ہم کسی بلیک ہول میں رہنتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ فی الحال سائنسی مفروضے ہیں انکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کائنات میں شاید کسی پچھلی کائنات کی کوئی نشانیاں موجود ہوں جنہیں ہم مستقبل میں ڈھونڈ سکیں مگر فی الوقت سائنس اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جو بات سائنس حتمی طور پر کہہ سکتی ہے وہ یہ کہ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی اور آج بھی کائنات پھیل رہی ہے۔ پھیلنے کو یوں سمجھیں کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یعنی انکے بیچ میں موجود خلا مزید پھیل رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیکیسکوپ بگ بینگ کے 10 کروڑ سال بعد کی کائنات دیکھ سکتی یے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں ہبل ٹیلی سکوپ بگ بینگ کے 40 کروڑ سال بعد کی کہکشائیں دکھا سکتی تھی۔

    مستقبل میں شاید ہم جیمز ویب سے کوئی ایسا کائناتی مشاہدہ کر سکیں جس سے ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ڈارک میٹر/انرجی چونکہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ عام مادے سے کوئی تال میل رکھتے ہے اسی لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم انکا محض گریوٹیشنل اثر جانتے ہیں جو کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کی غیر معمولی گردش کو بیان کرتا ہے۔

    مگر 1971 میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ خیال پیش کیا کہ ممکن ہے بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں بہت سا مادہ بلیک ہولز میں تبدیل ہو گیا ہو اور کائنات میں کئی بلیک ہولز چھپے ہوئے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ نہیں سکے۔ یہ ایک متنازع خیال ہے کیونکہ آج کے مشاہدوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بلیک ہول دراصل سورج سے کئی گنا ماس میں بڑے ستاروں کے انجام پر بنتے ہیں۔

    اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے ہم کئی اور نئے مشاہدے کر سکیں گے۔ ممکن ہے ہم دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے کئی سیاروں کی فضاؤں سے آنے والی مدہم سی روشنی کو اسکے حساس آلات سے پڑھ سکیں اور اس روشنی میں اُن گیسوں کے آثار ڈھونڈ سکیں جو کوئی ذہین مخلوق ہی بنا سکتی ہو مثال کہ طور پر صنعتی گیسز جو قدرت میں نہیں پائی جاتیں اور صرف انسان بنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ جان پائیں کی کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔ زندگی ہم سے اربوں سال دور کسی اور زمین نما سیاروں پر موجود ہو۔

    یاد رکھیں کائنات انہی کو جواب دیتی ہے جو سوال کرتے ہیں۔ وہ جو یہ سوچ کے بیٹھے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے، اندھیرے میں ہیں۔

  • پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ نے اکثر یہ محاورا سنا ہو گا کہ "کامیابی نے اُسکی زندگی میں چار چاند لگا دئے” جسکا مطلب کسی شخص یا شے کی عزت بڑھنا، خوبصورتی میں اضافہ ہونا وغیرہ وغیرہ ہے۔

    تو یہ محاورا حقیقتا نظامِ شمسی کے بونے سیارے پلوٹو پر صادق آتا ہے۔ 1930 میں دریافت ہونے والا سیارہ پلوٹو 2006 تک نظامِ شمسی کا نواں سیارہ کہلااتا تھا ۔ مگر پھر سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ "سیارے” کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا لہذا اب اسے محض "بونا سیارہ” کہا جاتا ہے۔

    گو پلوٹو اب نواں سیارہ نہیں ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پلوٹو بے حد خوبصورت سیارہ ہے۔ سورج سے تقریبا 3.7 ارب کلومیٹر دور یہ ننھا سا سیارہ ایک سرد مگر پراسرار دنیا ہے۔

    پلوٹو کی خوبصورتی کو چار چاند لگے ہوئے ہیں بلکہ پانچ چاند!!

    جی ہاں اب تک پلوٹو کے پانچ چاند دریافت ہو چکے ہیں جو تابعدار بچوں کی طرح پلوٹو کاکہا مانتے ہیں اور اسکے گرد گھومتے ہیں۔

    پلوٹو کا سب سے بڑا چاند ہے Charon ہے یہ پلوٹو سے سائز میں آدھا ہے اور اسے 1978 میں دریافت کیا گیا۔

    اسی طرح 2005 میں ہبل ٹیلی سکوپ نے پلوٹو کے دو ننھے چاند دریافت کیے جنکو سائنس دانوں نے نام دیے Nix اور Hydra.

    پھر 2011 میں ایک اور چھوٹا چاند Kerberos دریافت ہو جو Hydra اور Nix کے درمیان کہیں موجود تھا۔

    پلوٹو کا پانچواں چاند Styx دریافت ہوا 2015 میں جب ناسا کے سائنسدانوں یہ ڈھونڈ رہے تھے کہ پلوٹو کی طرف رواںNew Horizon نامی سپیس کرافٹ جب اسکے قریب سے گزرے گا تو کہیں کسی بڑی شے سے ٹکرا تو نہیں جائےگی۔ یہ پتہ کرتے اُنہیں حادثاتی طور پر پلوٹو کا پانچواں چاند دکھائی دیا۔

    یوں اب تک پلوٹو کے دریافت ہونے والے چاند کل پانچ ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ پلوٹو کے یہ چاند بھی دراصل ماضی بعید میں پلوٹو سے کسی سیارے یا سیارچے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں بنے بالکل ویسے ہی جیسے آج سے 4.5 ارب سال پہلے نئی بنی زمین سے مریخ جتنا بڑا کوئی سیارہ ٹکرایا جس سے ہمارا چاند وجود میں آیا۔

  • سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ۔۔۔!!!

    سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ۔۔۔!!!

    سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    گذشتہ دنوں سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبر گردش کرتے ہی راقم نےسوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی "سردار فیض ٹمن اِن، ملک یاسر اعوان دندہ آؤٹ” جس پر پاکستان تحریک انصاف کے کچھ دوستوں نے جذباتی کمنٹس کیے، حالانکہ یہ میرا ذاتی تجزیہ تھا، کسی کو سیاست کے میدان میں اِن آؤٹ کرنا میرے اختیار میں تو ہر گز نہیں ہے، مگر حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحافت کا ایک ادنیٰ سا طالبعلم ہونے کی حیثیت سے تجزیہ پیش کرنا میرا حق ہے۔
    اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک یاسر اعوان دندہ ایک انتہائی محنتی، مخلص، بہادر اور صاف گو نوجوان سیاسی لیڈر ہیں، نوجوان نسل میں ان کو خاصی پذیرائی حاصل ہے، وہ گزشتہ کئی ماہ سے تلہ گنگ و لاوہ کی سیاست میں بہت ایکٹو رہے، گویا کہ تلہ گنگ و لاوہ میں پی ٹی آئی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے والے عمران خان کے یہی سپاہی تھے، جنہوں نے پاکستان تحریک کے ورکر کا ہاتھ تھاما اور انہیں متحرک کیا، بطورِ ضلعی جنرل سیکرٹری ضلع چکوال تلہ گنگ و لاوہ کی تنظیم سازی میں بھی انہوں نے ایک نمایاں کردار ادا کیا، جس کے بعد وہ اہلیہ کی طبیعت خراب ہونے کے باعث بیرون ملک چلے گئے، جبکہ اس دوران ان کے باقی ساتھیوں نے حالات و واقعات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
    مگر گزشتہ دنوں سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت نے گویا کہ ساری کایا ہی پلٹ دی، ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبر سن کر تحریک انصاف کے ورکر اور کارکنان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، سردار فیض ٹمن ایک انتہائی منجھے ہوئے عوام دوست سیاست دان ہیں وہ سابق ایم این اے بھی رہ چکے ہیں اس کے علاوہ ان کا تلہ گنگ و لاوہ میں ایک وسیع حلقہ احباب، اثر و رسوخ، جان پہچان اور یونین سطح تک تگڑے گروپ موجود ہیں، سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت نے حریف سیاسی جماعتوں کےلیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
    سردار فیض ٹمن کو حلقہ این اے 59 میں قومی اسمبلی کا ٹکٹ ملنے کی صورت میں وہ ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئیں گے اور اگر یہی حالات رہے، تحریک انصاف کی ملک بھر مقبولیت یونہی قائم رہی تو آنے والے الیکشن میں ملک بھر کی طرح حلقہ این اے 59 کی سیٹ بھی سردار فیض ٹمن باآسانی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، وہ الگ بات ہے کہ کیا سردار فیض ٹمن ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے، یا پھر اس بار بھی ق لیگ کیساتھ کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی، اور یوں حلقہ این اے 59 میں تحریک انصاف ایک بار پھر بیک فٹ پہ چلی جائے، مگر اس بار ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیوں تلہ گنگ و لاوہ کی مقامی قیادت پہلے ہی ق لیگ کے رویے سے نالاں ہے اور اعلیٰ قیادت کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے۔
    دوسری جانب سردار فیض ٹمن کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر پی ٹی آئی تلہ گنگ و لاوہ کی قیادت بھی انتہائی مطمئن اور خوشگوار موڈ میں نظر آئی جس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ سردار فیض ٹمن تمام فریقین کو قابلِ قبول ہیں اور وہ تمام دھڑوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے ٹکٹ لینے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور یوں پی ٹی آئی تلہ گنگ و لاوہ میں بھی ایک منظم انداز میں آگے بڑھ پائے گی، اور آنے والے الیکشن میں این اے 59 میں مسلم لیگ ن کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ ایسے میں پھر یہ کہنے میں کوئی دقت نہیں کہ تلہ گنگ و لاوہ کی سیاست میں سردار فیض ٹمن کی انٹری کے بعد ملک یاسر اعوان دندہ تقریباً آؤٹ ہوچکے ہیں۔

  • سورۃ الفاتحہ کی فضیلت

    سورۃ الفاتحہ کی فضیلت

    سورۃ الفاتحہ کی فضیلت
    تحریر:محمد ریاض ایڈووکیٹ
    قرآن مجید کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے اور اختتام سورۃ الناس پر ہوتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی پہلی سورۃ ہے، جسکی احادیث میں بہت فضلیت آئی ہے۔فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتداء کے ہیں۔اسلئے اسے الفاتحۃُیعنی فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے۔ اسکے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہیں۔ مثلاًام القرآن، اسبع المثانی، القرآن العظیم، اشفاء، الُرقیۃُ(دم)۔ اسکا ایک نام الصلٰوٰۃ بھی ہے۔جیسا ایک حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”میں نے صلاۃ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے۔مراد سورۃ الفاتحہ ہے جسکا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنااور اسکی رحمت اور ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے۔اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے، جو بندہ اپنے اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔اس حدیث میں سورۃ الفاتحہ کو ”نماز“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اسکا پڑھنا بہت ضروری ہے۔چنانچہ نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں اسکی خوب وضاحت کردی گئی ہے۔ جیسا کہ ”اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی۔اک حدیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ نماز کی حالت میں جب بندہ”الحمداللہ رب العالمین“پڑھتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف کی ہے۔جب بندہ ”الرحمن الرحیم“کہتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے، جب بندہ”ملک یوم الدین“ کہتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔سورۃ الفاتحہ مکی سورت ہے یعنی اسکا نزول مکہ مکرمہ میں ہجرت مدینہ سے پہلے ہوا۔سورۃ الفاتحہ کی پہلی چار آیات میں اللہ کریم کی حاکمیت و بادشاہت کا تذکرہ ہے۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (آیت نمبر 1)یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یا اسکے لئے خاص ہیں کیونکہ تعریف کا اصل مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے اندر اگر کوئی خوبی، حسن یا کمال ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیداکردہ ہے۔الحمداللہ یہ کلمہ شکر ہے جسکی فضیلت احادیث میں بہت آئی ہے۔رب، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، جسکے معنی ہیں ہر چیز کو پیدا کرکے اسکی ضروریات مہیا کرنے اور اسکی تکمیل تک پہنچانے والا۔بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا (آیت نمبر 2)۔ یعنی اللہ بہت رحم کرنے والا ہے اور اسکی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔دنیا میں اسکی رحمت عام ہے جس سے بلاتخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہورہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہوگا، یعنی اسکی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے (آیت نمبر3)۔ روز قیامت اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اسکے اچھے یا بُرے اعمال کے مطابق مکمل جزاء اور سزادیگا۔آخرت میں تمام اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ روز قیامت فرمائے گا کہ آج کس کی بادشاہت ہے، پھر خود ہی جواب دے گا کہ صرف ایک اللہ غالب کے لئے۔ اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے کوئی اختیار نہیں رکھے گی، سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔یہ ہوگا جزاء کا دن۔(سورۃ الانفطار)۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں (آیت نمبر4)۔ یعنی جس ذات کے ساتھ محبت بھی ہو، اسکی مافوق الاسباب طاقت کے سامنے عاجزی و بے بسی کا اظہار بھی ہواور اسباب و مافوق الاسباب ذرائع سے اسکی گرفت کا خوف بھی ہو۔نہ عبادت اللہ کے سوا کسی کی جائز ہے اور نہ استعانت (مدد)کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کردیا گیاہے۔ لیکن جن کے دل میں شرک کا روگ راہ پاگیا ہے وہ مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب استعانت میں فرق نظر انداز کرکے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہوتے ہیں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ بیوی، ڈرائیور و دیگر افراد سے مدد مانگتے ہیں۔اسی طرح وہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ انسانوں سے بھی مدد مانگنا جائز ہے۔حالانکہ اسباب کے ماتحت ایک دوسرے سے مدد مانگنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے، یہ تو اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے جس میں سارے کام ظاہری اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کرسکتا ہو، جیسا کہ کسی فوت شدہ شخص یا بُت کو مدد کے لئے پکارنا، اسکو مشکل کشااور حاجت روا سمجھنا، اسی کا نام مافوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا ہے اور اسی کا نام شرک ہے۔ ہمیں سیدھی (اور سچی) راہ دیکھا (آیت نمبر5)۔یعنی ہماری صراط مستقیم کی جانب رہنمائی فرما۔یہ صراط مستقیم وہی ”الاسلام“ ہے جسے نبی کریم ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔ان لوگوں کی راہ جن پر تم نے انعام کیا، انکی نہیں جن پر غضب کیاگیا(یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق کو پہنچانامگر اس پر عمل پیرا نہ ہوئے)اور نہ گمراہوں کی (یعنی وہ لوگ جو جہالت کے سبب راہ حق سے بھٹک گئے)(آیت نمبر6 اور 7)۔ان آیات میں صراط مستقیم کی وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ سیدھا رستہ وہ ہے۔جس پر وہ لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا (جن کی تفصیل سورۃ النسا ء میں درج ہے یعنی انبیاء، شہدا، صدیقین، صالحین)۔بعض روایات سے ثابت ہے کہ (جن پر تیرا غضب نازل ہوا) سے مرادیہودی اور (گمراہوں) سے مرادنصاریٰ یعنی عیسائی ہیں۔سورۃ الفاتحہ کے آخر میں آمین کہنے کی نبی کریم ﷺ نے بڑی تاکید اور فضیلت بیان فرمائی ہے۔اس لئے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنا چاہئے۔آمین کے معنی مختلف بیان کئے گئے ہیں۔جیسا کہ اسی طرح ہو، ہمیں نامراد نہ کرنا، اے اللہ ہماری دعا قبول فرمالے۔خاتم النبیین نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ میری جانب سے لوگوں تک پہنچاؤ چاہے ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔اللہ کریم ہم سبکو قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر دین و دنیا میں سرخرو ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

  • آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ؟تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ؟تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    عمران خان پر قاتلانہ حملہ منصوبہ تھا؟ سازش تیار کہاں ہوئی اس حملے میں کون لوگ شامل تھے؟ اب ایک نئی بحث کا آعاز ہو گا۔ جے آئی ٹی بنے گی ۔ کمیشن بنے گا، تحقیقات ہوگی ۔ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ چند روز میڈیا ٹویٹر پر بیان جاری ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ قیام پاکستان سے لے کر تاد م تحریر ایسے کئی دلخراش واقعات رونما ہوئے کہاں گئی اُن کی تحقیقاتی رپورٹیں ؟ ملکی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح زندگی اور موت کی جنگ لڑرہے تھے تب کیا ہوا تھا؟ کراچی پہنچنے تک جہاز میں کم آکسیجن والے سلنڈر کی تحقیقات کا کیا ہوا؟ محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی اُن کی لازوال خدمات اور حب الوطنی کے اعتراف میں غدار وطن کا تمغہ ملنا ۔1951 میں راولپنڈی میں لیاقت علی خان کا قتل اور پھر قتل کرنے والے کا موقع پر ہی قتل۔ پھر بھٹو کو پھانسی ۔ جنرل ضیاء الحق کے جہاز کا فنی خرابی کے باعث کریش ہونا ۔ گورنر سندھ حکیم سعید شہادت کا واقعہ ۔ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا دہشت گردی کا سکار ہونا ۔ نواب اکبر بگٹی پر غداری کا الزام پر شہادت ۔ پھر بے نظیر بھٹو کا بطور وزیراعظم کراچی میں مرتضیٰ بھٹو کا سڑک پر لاش دیکھ کر رونا چیخنا۔ کراچی میں صلاح الدین ممتاز صحافی کا قتل عام ، کراچی سے خیبر تک لاتعداد صحافیوں کا قتل عام ، سابق صدر مشرف دور حکومت میں دہشت گردوں کے ذریعے پاک فوج ، پولیس اور عوام کا قتل عام ۔ یہ سارے واقعات ایک طرف زندگی کی بے ثباتی کی داستان بیان کرتے ہیں تو دوسری طرف زندہ انسانوں کی خود غرضی پر سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔

    ز ندہ لوگوں کو نظر انداز کرنے سے لے کر مرنے کے بعد اکیس توپوں کی سلامتی دینے تک مجبور اور بے بس عوام کی لاشوں کی بے حرمتی تک کی داستانیں طویل ہیں۔ وطن عزیز مین عشروں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ کچھ دنوں مہینوں تک میڈیا ،سوشل میڈیا پر بحث جاری رہتی ہے اور پھر بس ۔ ہمارا المیہ یہہ ے کہ ہم سانحات کا پس منظر جاننے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کردیتے ہیں۔ عمران خان پر قاتلانہ حملے کا پس منظر کیا پس پردہ کیا ہے آخر کیوں ہماری سڑکیں مقتل گاہ بن چکی ہیں ان سڑکوں پر ملک کے نامور شخصیات کو قتل کردیا جاتا ہے اب سابق وزیراعظم کو نشانہ بنایا گیا۔ کیا کبھی کوئی آزاد تحقیقاتی کمیشن پورا سچ اس ملک کے عوام کے سامنے لاپائے گا؟

  • سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس محض علم نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔ یہ سوچنے کا وہ انداز ہے جو آپ کو چیزوں کی حقیقت کی طرف لیکر جاتا ہے۔ کائنات کیسی ہے؟ کائنات کے اُصول کیا ہیں ؟ زندگی کیا ہے؟ زندگی کے اُصول کیا ہیں؟ یہ سب ہمیں سائنسی طرزِ فکر سے سمجھ میں آتے ہیں۔
    سائنس کی بنیاد حقائق اور منطق پر استوار ہے۔ سائنس میں محض تجربات اور مشاہدات سے سب نتائج اخذ نہیں ہوتے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ریاضی کے اُصول اور ماڈلز بھی استعمال ہوتے ہیں؟ کیا ہم ستاروں پر تھرمامیٹر لے جا کر یا فیتے لے جا کر اُنکا درجہ حرارت یا فاصلہ ماپ سکتے ہیں؟ نہیں۔

    تو پھر ہم کیسے اِنکا فاصلہ یا درجہ حرارت جان پاتے ہیں؟

    کیونکہ ہم جانتے ہیں زمین پر کسی گرم شے سے نکلنے والی روشنی کے رنگ اُسکے درجہ حرارت سے منسلک ہیں۔ لوہا سخت گرم ہو تو دہکتے ہوئے انگارے کا رنگ دیتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی گرم شے سے ایک خاص رنگ کی روشنی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب وہ ایک خاص درجہ حرارت تک پہنچ جائے۔ تو کیا دور ستاروں سے آنے والی روشنی کے رنگوں کو جان کر ہم نہیں بتا سکتے کہ وہاں درجہ حرارت کیا ہو گا؟

    ایسے ہی جب ہم اپنی دائیں آنکھ بند کر بائیں آنکھ سے سامنے پڑی کسی شے کو دیکھتے ہیں اور پھر یہی عمل بائیں آنکھ بند کر کے دائیں آنکھ سے دہراتے ہیں تو دونوں دفعہ سامنے رکھی شے کی پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب اس پوزیشن کے فرق سے ٹریگنومیٹری کے سادہ اُصولوں سے سامنے پڑی شے کا فاصلہ اسے بنا چھوئے ہی بتا سکتے ہیں۔ اسے Parallax کہتے ہیں۔ تو کیا عقل استعمال کرتے ہوئے اسی طریقے سے ہم سے ہزاروں نوری سال دور کے ستاروں کا فاصلہ معلوم نہیں کیا جا سکتا یا ہمیں خود چل کر وہاں جانا ہو گا؟
    دراصل یہ وہ سائنسی طریقے ہیں جو سائنسی سوچ سے آتے ہیں کہ کیسے کسی مسئلے کا حل نکالنا ہے جو بالکل صحیح ہو۔

    ایسے ہی ماضی میں زمین پر یا نظامِ شمسی میں یا کائنات میں کیا ہوا تھا۔ یہ جب سائنس بتاتی ہے تو جنکو سائنس کی سمجھ نہیں وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ "کیا آپ وہاں خود کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے؟” کیونکہ اّنکو دراصل علم نہیں یا اُنکا محدود علم اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتا کہ ماضی سے ملے فوسلز، پتھروں، شواہد اور طبیعیات، حیاتیات اور کیمیا کی تھیوریز پر بنے کمپیوٹر ماڈلز ہمیں ڈیٹا کی مدد سے ماضی میں لے جا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا۔ کیا کسی کُھدائی کے دوران دریافت ہونے والے شہر کے آثار سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں شہر آباد تھا؟ کیا ہمیں خود ٹائم مشین لے جا کر وہاں جانا ہو گا اور تصاویر کھینچنی ہونگی کہ جی وہاں شہر تھا۔ نہیں!! یہاں بھی وہی اُصول استعمال ہونگے۔ کامن سینس اور منطق۔۔

    لہذا یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی سائنسی دریافت یا ایجاد کو رد کرنے یا اس پر سوال کرنے سے پہلے آپ یہ اچھی طرح دیکھ لیں کہ آیا آپکو سائنسی طریقہ کار کا علم ہے یا نہیں۔

    اگر نہیں تو آپ سوال کر کے پوچھ سکتے ہیں مگر یہ کہہ کر رد کر دینا کہ آپکا محدود علم اسکا احاطہ نہیں کر پا رہا ، علمی بددیانتی اور آپکے علم سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔

    لہذا سائنس سیکھیں اور ساتھ ساتھ سائنسی طرزِ فکر بھی کیونکہ ایک کے بغیر دوسری نا مکمل ہے۔