سماٹ سندھیوں کی 500 سالہ تاریخ
تحریر : بلاول سموں
سندھ پر 712 ســے لیکـر 1024 تک کے 312 سال عــربوں کا قبــضہ رھا لیـــکن سماٹ قوم 312 سـال کی غلامی اور طویل جدوجہد کے بعد بلآخــر 1024 میــں سنــدھ پر عربوں کی حکمرانی ختم کرنے میں کامیاب ھوگئی تھی۔ اس لیـے 1024 سے لیکر 1335 کے 311 سال تک سمــاٹ قـــوم کا ســومرا خاندان سندھ کا حکمــران رھــا اور 1335 سـے لیکر 1520 کے 185 سال تک سماٹ قوم کے سمہ خاندان کی سندھ پر حکمران رھی۔ لیکـن 1520 میں ترک نژاد ارغونوں نے سندھ پر قبــضہ کـــرلیا۔ اس لیــے 1520 ســــے لیکر 1554 تک 34 ســـال ترک نژاد ارغـــونوں کی سندھ حکمرانــی رھـی۔ جبکہ 1554 سے لیکر 1591 تک 37 ســـال ترک نژاد ترکــھانوں کی سندھ حکمرانی رھی۔ جس کــے بعد مغلوں نے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ اس لیے 1591 سے لیکر 1701 تک 110 سال مغلوں کی حکمرانی رھی۔ گــوکہ 1591 ســے لیکر 1701 تک سنــدھ پر مغلوں کـــی حکمرانی رھی۔ لیکن پنجاب میں پنجابیوں کی مزاحمت کے بڑھنے کی وجہ سے مغلوں کــی پنجاب میـں حکمرانی کمزور ھونا شروع ھوگئی۔ جس کــی وجہ سے دھلی میں بیٹھ کر مغلوں کــو براہ راســت سنــدھ پر اقتـــدار کو برقرار رکھنا مشــکل ھوگیــا تھا۔ اس لیے دھلی دربار ســے تعلقات کــی وجہ سے 1701 سے عباسی کلھوڑا کـــو سنـدھ پر حکمرانی کرنے کا موقع مل گیا اور 1701 سـے لیکر 1783 تک کے 82 سال عــربی نژاد عباســی کلھوڑا کی سندھ پر حکمرانی رھی۔عباسی کلھــوڑا چــونکہ عــربی نژاد تھــے اور انکـی سندھ میں اکثریت نہیں تھی۔ جس کی وجہ ســے سـماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے کـــے لیـــے عباســـی کلـــھوڑا کـــو پنجاب سے کـــردستانـــی نژاد تالپــور بلوچ لانے پڑے تاکہ بلوچ قبائل کـــی مدد ســـے عباسی کلھوڑا کو سندھ میں سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے میں مدد مل سکے۔ لیکن نادر شاہ افشار کــے ایران کا حکـمراں بن جانـے اور دھلی پر 1739 میں نادر شاہ افشار کــے حملــے کـے بعد مغل حکمرانوں کے کمزور ھوجانـے۔ جبکہ 1747 میں نادر شاہ افشار کے دســتِ راست احـمد شاہ ابدالی کے افغانستان کــی سلطنت قائم کرکے افغانستان میں درانی حکـومت قائم کرلینے کی وجہ سے تالپور بلوچ نے عباســـی کلـــھوڑا کـــے ساتھ مل کر سماٹ سندھیـــوں پر حکـمرانی کرتے رھنے کے بجائے مغل سلطنت کــی آشیرباد اور ایران کے قاجار خاندان کـــی معاونت سـے 1783 میں ھالانی کـــے مقام پر عباســی کلھوڑا کـــے ساتھ جنگ کرنـے کے بعد عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکـــے سنـــدھ پر خــود حکمرانی کرنا شروع کردی۔ لہٰذا 1783 ســے لیـکر 1843 تک کے 60 سال کردستانـــی نژاد تالپــور بلوچ کــــی سندھ پر حکمرانـــی رھـــی۔ لیکن 1843 میں سندھ پر قبضہ کـــرکــــے انگریزوں نــے تالپور بلوچ کی حکمرانـــی کــو ختم کردیا اور خود سندھ کے حکـــمراں بن گئـــے۔ اس لیــے 1843 سے لیکر 1947 تک کـــے 104 سال سندھ پر انگریزوں کی حکمرانی رھی۔
پاکستان کے 1947 میں قیام کے بعد پاکستان
کا وزیرِ اعظـــم یوپی کـــے اردو بولنـــے والــے ھندوستانــی لیاقت علی خان کے بن جانے سے اور کــراچی کـــے پاکستان کا دارالحکومت بن جانــے کے بعد ستمبر 1948 میں پاکستان کی گورنمنٹ ســـروس میـــں امیـــگرنٹس کے لیے %15 اور کراچـــی کــے لیـے %2 کوٹہ رکھ کر لیاقت علــی خان نـے یوپی ‘ سی پی سے اردو بولنے والے ھندوستانی لا کر کراچی اور سندھ کــے دوسرے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کر دیـــے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنا شروع کردیا۔ اس عمل کــے دوران سندھ کے مسلمان سماٹ سندھیــوں نے تو مزاھمت کی لیکن عربی نژاد اور بلــوچ نژاد اشــرافیہ نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کـے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس لیے ھی لیاقت علی خان نے سندھ کے سماٹ وزیر اعلی ایوب کھـــوڑو کـو ھٹا کر عربی نژاد پیر الٰہی بخش کــو سندھ کا وزیر اعلی بنا دیا۔ عربـی نژاد پیر الٰہی بخش نے ھندوستان سےلا کـــر کراچــی میـــں آباد کیـــے جانــے والــے مھاجروں کے لیے 1948 میں پہلی کالونی پی آئــی بــی کـــالونی (پیـر الٰہی بخش کالونی) بنائـــی۔ جس کـــے بعد ھنــــدوستان سے لا کر کراچــی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیــے سنــدھ حکــومت کــی ســـرپرستـی میں کالــونیاں بنانــے اور ھنـــدو سـماٹ سندھیوں کــو سندھ سـے نکالنے کا سلسلہ منصوبہ بندی کے ساتھ اور تیزی سے شروع کردیا گیا۔سندھ کـے اصل باشندے ‘ سماٹ سندھی پہلے ھی اکثریت میں ھونــے کـے باوجود ‘ صدیوں سے عربی نژاد اور بلوچ نژاد کی بالادستی کی وجہ سـے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا تھــے۔ لیکــن ھندو سماٹ سندھیوں کـــو سندھ ســـے نکال دینــے ســے سندھ میں سماٹ سنــدھیوں کـی آبادی بھی کم ھو گئی۔ جس کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں پر یوپـــی ‘ ســـی پـــی کــــی اردو بولنــــے والی ھندوستانــی اشرافیہ کی اور سندھ کے دیہی علاقــوں پر عــربی نژاد اور بلوچ نژاد اشرافیہ کـــی مکمل سماجـــی ‘ سیاســـی اور مــعاشی بالادستــی قائم ھــو گئــی اور سـماٹ سندھی مستــقل طور پر سماجی ‘ سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا ھو گۓ.

Category: بلاگ
-

سماٹ سندھیوں کی 500 سالہ تاریخ
-

نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی
کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔
گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔
حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔
ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔
طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔
10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار
بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار
ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا
فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں
ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔
وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔
حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔
بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل
بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی
کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد
شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی
ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔
تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔
-

معاشی بدحالی
معاشی بدحالی
تحریر : نزرانہ اعوان
سردیوں کی یخ بستہ شام منہ لپیٹےایک مجبور ماں اپنے معصوم بچے کوایدھی سنٹر کےجھولے میں چھوڑ جاتی ہے۔۔۔۔اس سے سوال کیا گیا ؟؟ کہ کیا تجھے تمہاری ممتا ستائے گی نہیں ؟کیا اس بچے کی سسکیاں تجھ کو رولائیں گی نہیں؟ اسکے خشک و زرد ہونٹوں سے آواز آئی۔۔میں اپنا بھوکا پیٹ تو برداشت کر سکتی ہوں لیکن اپنے بچے کو بھوکا روتے نہیں دیکھ سکتی ۔اس پر یہ کہنا لازم ہےکہ.خاک میں ماں کی محبت کو ملا دیتی ہے
بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہےدور حاضر میں ہر فرد اس بات پر لڑ رہا ہے کہ ہم اخلاقی بدحالی کا شکار ہیں ۔لیکن میرا یہ دعوٰی ہے کہ ۔۔۔ ہم اخلاقی بدحالی سے زیادہ معاشی بدحالی کا شکار ہیں کیونکہ تاریخی اوراق گواہ ہیں کہ جب جب اخلاقيات تباہی کے دہانے پر پہنچے تو اس کی اصل وجہ معیشت ٹھہری،اور آج کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے ہمیں چاہیے کہ اس کا جلد از جلد کوئی حل نکالیں،بجائے اس کے کہ ہم چند ووٹوں کے عوض سٹیج پر کھڑے ہو کر بڑی بڑی باتیں کرتے رہیں کیونکہ اخلاقیات ہر لحاظ سے معیشت کی محتاج ہے .
روٹی کے چند ٹکڑوں اور قابل گزارہ دودھ کی قلت، ان دم توڑتے بچوں کا مسئلہ اخلاقیات نہیں معیشت ہےجب ایک مجبور ماں اپنے بچوں سمیت ریل گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے تو اس کامسئلہ اخلاقیات نہیں معیشت ہے۔ دو کلو آٹے کےلیے جب ایک بوڑھا ملتان میں نشتر ہسپتال کےباہر اپنا خون بیچتا ہے تو اسکی وجہ اخلاقیات نہیں معیشت ہے ۔جب کراچی کے علاقے لیاری میں رہائش پزیر سلطان نامی عمر رسید آدمی بیروزگای سے تنگ آکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اسکا مسئلہ اخلاقیات نہیں معیشت ہے۔ جب ننکانہ صاحب میں 35سالہ فیاض اپنی بچوں سمیت دریا میں کود جائے تو اسکا مسئلہ ہماری معیشت ہے۔جب اک نوجوان مہنگائی کے ہاتھوں اپنے خاندان کی ضررویات زندگی پوری نہیں کر پائے گا تو پھر بے شک وہ چور اور ڈاکو ہی بنے گا۔ ایسے کئی سلطان اورفیاض اب بھی ہمارے معاشرے کاحصہ ہیں لیکن خوش قسمتی یہ ہے کہ ابھی تک انکی ہمت نے دم نہیں توڑا.
یہ زرد چہرے ،پتھريلی آنکھیں، عصمت لوٹاتی بیٹیاں، بھوک سے سسکتے بچے، فٹ پاتھ پر ٹھٹھرتی آدمیت ہماری معاشی بدحالی کامنہ بولتا ثبوت ہیں ۔۔
چہرا بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے
اور لوگ کہہ رہے تھے کہ کچھ کھا کے مر گیا
تنگ دستی بھوک اور بدتر معاشی حالات اعلیٰ اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔کوئی بھی انسان اخلاقیات کی بات تو تب کرے گا جب اس کی زندگانی فاقہ کشی اور غم بے روزگاری سے عاری ہوگی. پچھلے کئی برسوں سے پاک وہند کے درمیان مسئلہ کشمیر پر جنگ جاری ہے. ہم اقوام متحدہ میں بار بار اپیل کر رہے ہیں مگر آج تک کوئی امید کی کرن نظر نہ آئی،اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کی وجہ ہماری اخلاقی بد حالی ہے ؟
ہرگز نہیں ہے، اس کی وجہ تو ہماری معاشی بدحالی ہے،ہمیں اب یہ بات تسليم کرنا ہوگی بھارت معیشت میں ہم سے بہتر ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ بے دھڑک کشمیر پر آج بھی قبضہ کر کے بیٹھا ہے ۔ اور میری گزاش ہے ہمارے معزز حکمرانوں سے کہ آپس کے بحث و مباحثہ اور کرسی کے مفاد کے بجائے ملکی معیشت پر دھیان دیں۔اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ دور حاضر میں ہر ملک اپنی اپنی معیشت کا رونا رو رہا ہے کیونکہ کروناوائرس نے تمام ممالک کی معیشت کو تباہ کردیاہے۔اور یہاں تک کہ امریکی معیشت جو کہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشت ہے وہ بھی اس موذی وبا کی لپیٹ میں آگئی۔۔۔اور اب ہماری اولین ترجیح بھی معیشت کی بحالی ہونی چاہنے۔ کیونکہ یہ دورسائنس وٹیکنالوجی اورمعیشت میں ترقی کا دور ہے ۔ہمارے ملک کا المیہ تو یہ ہے کہ ہر کوئی فقط کرسی کے حصول تک محدود رہ گیا ہے ۔کوئی بھی اپنی کمزوری کو تسليم نہیں کررہا۔کوئی موجودہ حکومت کو معیشت کی ابتری کاذمہ دار ٹھہراتا ہے،کوئی تمام مسائل کی ہار سابقہ حکومت کے گلے میں ڈال دیتاہے۔اور یہی نہیں کوئی عقل سے عاری تو افواج پاکستان کو ہی نشانہ بنالیتا ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس کے جھگڑوں سے بالاتر ہو کراپنی معیشت پردھیان دیں.
لیکن اگر اب بھی آپکا دماغ میرے دعویٰ کو ماننے سے انکاری ہے تو میں آپ سے سوال کرتی ہوں۔
کہ جس کا اک ہی بچہ ہو بھوکا آٹھ پہروں سے
بتاؤ اہل دانش تم کہ گندم لے؟ یا تختی لے؟؟ -

زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق
بوسٹن: امریکا کی کلائمیٹ ٹاسک فورس کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کی سطح سے نیچے گہرائی میں موجود گرم چٹانوں کا استعمال توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی موجودہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔
باغی ٹی وی : غیر منافع بخش ادارے کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’سُپر ہاٹ راک انرجی‘ 2030 کی دہائی کے ابتداء میں کمرشل استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی ہیں،ماہرین
زمین کا مرکز بہت گرم ہے کہیں مرکز میں 7,952 ڈگری اور 10,800 ڈگری فارن ہائیٹ کے درمیان۔ اگر ہم سطح سے نیچے کی کھدائی کر سکتے ہیں جسے سپر ہاٹ چٹان کہا جاتا ہے، تو ہم زمین کی حرارت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسے صفر کاربن کے ایک بڑے ذریعہ میں تبدیل کر سکتے ہیں
کلین ایئر ٹاسک فورس، جو کہ ایک غیر منافع بخش آب و ہوا کی تنظیم ہے، کی جمعہ کو سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ کلین، بیس لوڈ سپر ہاٹ راک انرجی کے اس زمرے میں دیگر زیرو کاربن ٹیکنالوجیز کے ساتھ لاگت سے مسابقتی ہونے کی صلاحیت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی کی جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے جیو تھرمل توانائی کی فنڈنگ اور پبلک پرائیوٹ شراکت داری عالمی توانائی کے نظاموں کے لیے کم لاگت والی صفر کاربن ٹیکنالوجی ثابت ہوسکتی ہے۔ جبکہ اس کے استعمال کے لیے دیگر وسائل کی نسبت کم زمین درکار ہوگی۔
زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے
اس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی گہرائیوں میں اتنا پانی بھرا جائے گا کہ وہ ان چٹانوں تک پہنچے جن کا درجہ حرارت تقریباً 400 ڈگری سیلسیئس تک ہے۔ ان گرم چٹانوں پر پانی پہنچنے کے بعد جو بھانپ واپس آئے گی وہ جنریٹر چلائی گی۔

جیوتھرمل توانائی کی جو قسم زیر استعمال ہے اس کا انحصار ایسی سطح کے قریب ہے جہاں درجہ حرارت اتنا گرم ہو تاکہ بھانپ بنائی جاسکے۔ اتنی گرم چٹانیں ڈھونڈنے کے لیے زمین میں 19.31 کلومیٹر تک کھدائی کرنی ہوگی۔کلین ایئر ٹاسک فورس نے ایک غیر منافع بخش جیوتھرمل تنظیم، ہاٹ راک انرجی ریسرچ آرگنائزیشن، اور ایک بین الاقوامی کلین انرجی کنسلٹنسی، LucidCatalyst، کو تجارتی پیمانے پر سپر ہاٹ راک بجلی کی سطحی لاگت کا تخمینہ لگانے کے لیے کمیشن بنایا۔
انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت
انہوں نے طے کیا کہ آخر کار اس کی لاگت 20 ڈالر سے 35 ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ کےدرمیان ہوسکتی ہےجو آج قدرتی گیس کے پلانٹس سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلے میں ہے۔
یہ ابھی تک حقیقت نہیں ہے کلین ایئر ٹاسک فورس کے چیف جیو سائنس دان اور رپورٹ کے مصنف، بروس ہل نے سی این بی سی کو بتایا کہ فی الحال، کوئی سپر ہاٹ راک جیوتھرمل انرجی سسٹم کام اور توانائی فراہم کرنے والا نہیں ہے۔ لیکن پیسہ تحقیقی منصوبوں اور کمپنیوں میں بہہ رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں-
عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام…
-

اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
ملک کے انتہائی اہم اداروں کے وقار کو روندنے کا خبط ہوس اقتدار اور اقتدار سے چمٹنے کا نشہ کہیں کسی ردالفساد کا منتظر تو نہیں ؟ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالا دستی ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں مہنگائی کا زخم پہلے سے بدن دریدہ عوام پر نہ لگایا جاتا ہو، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ صاف پانی ، گیس ، بجلی اور دوسری بنیادی سہولیات کی محرومی دن بدن شدت پکڑتی جا رہی ہے ۔ لینڈ مافیا سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹی بنا کر قانون اور قانون بنانے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے ۔ سوسائٹیز سے منسلک ادارے کروڑوں روپے کی رشوت لے کر پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اپنے دفاتروں پر آویزاں کردیا ہے ۔ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر عمران خان کس مقصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں اگر یہ مارچ نئے انتخابات کے لئے ہیں تو اس سے قبل عمران خان حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟ حیرت اس بات پر کہ اس سرکس نما مارچ میں اعلیٰ عسکری اداروں پر زبان درازیاں اور الزامات کی بوچھاڑ نام نہاد راہنمائوں کی اپنی ہی شخصیت کے پول کھول رہی ہے دوسری جانب لانگ مارچ میں جس شرمناک طریقے سے ملک کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل ندیم انجم ایک اعلیٰ پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل حقیقی سولجر ہیں اوران کا تعلق شہیدوں ،غازیوں اور نشان حیدر والوں کی سرزمین گوجر خان سے ہے ، گوجر خان تحصیل کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں پر پاکستان کے جھنڈے موجود ہیں اور گوجر خان کو افواج پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس خطے نے پاکستان آرمی کو آرمی چیف بھی دئیے ہیں ۔ جن میں جنرل سوار خان ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جیسے سپہ سالار شامل ہیں۔ جنرل ندیم انجم افواج پاکستان کا فخر ہیں اور گوجر خان کی غیور عوام کو بھی ان پر فخر ہے ۔ ملک کے محب وطن عوام سیاسی سرکس میں ہونے والی بدست تقریروں اور نعرہ بازیوں پر شدید رنجیدہ ہیں اور سنجیدہ حلقے سوچ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملکی سلامتی اور بقا سے زیادہ اقتدار عزیز ہے ؟
-

خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک
بنجامن فرینکلن کا ایک سیاسی حریف اسے شدید ناپسند کرتا تھا. جبکہ دوسری طرف فرینکلن چاہتا تھا وہ اسکا دوست بن جائے. فرینکلن کو پتہ چلا اس کے پاس ایک نایاب کتاب ہے. فرینکلن نے اسے پیغام بیجھا کیا آپ کچھ دن کیلئے عاریتاً یہ کتاب مجھے پڑھنے کیلئے دے سکتے ہیں.؟ کتاب اسے دے دی گئی. کچھ دن بعد کتاب پڑھ کر فرینکلن نے اسے ایک شکریہ اور تشکر کے تحریری نوٹ کے ساتھ واپس کردی. اور ان کی دوستی کی ابتداء ہوگئی.
بنجامن فرینکلن ایک ہی وقت میں بہت کچھ تھا. وہ سائنس دان بھی تھا اور سیاستدان بھی لکھاری بھی تھا پبلشر بھی سفیر بھی تھا اور فلسفی بھی لیکن اوپر اس کے تحریر اس تجربے کو بن فرینکلن ایفیکٹ کہتے ہیں. ہمارا دماغ دو انتہاؤں کے درمیان اکثر کنفیوز ہوتا ہے ہم اپنی تسلی اور اطمینان کیلئے پھر چیز کو یا تو سفید یا سیاہ کہتے ہیں. دن یا رات اچھا یا برا فرشتہ یا شیطان. دماغ درمیان میں کچھ رکھنا نہیں چاہتا تو دستیاب معلومات پر فوراً ایک انتہا پر چلا جاتا ہے.
بنجامن فرینکلن نے اپنے اس حریف کو مجبور کیا وہ بنجامن پر احسان کرے. حریف کے دماغ کو اس احسان کیلئے اپنی انتہا سے کچھ نیچے اترنا پڑا. اور واپسی کے نوٹ نے کہا یار بندہ اتنا بھی برا نہیں اور ایک تعلق کی ابتداء ہوگئی. بقول امام راغب اصفہانی احسان ایسا عمل ہے جو ہر طرف سے خوبصورت ہو متوازن ہو.
ایک حدیث میں ہے احسان دین کی تیسری ضرورت ہے. اور یہ درجہ بندے کو تب حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں. یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ہم کسی انتہا پر نہ ہوں. نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کیلئے. اگر آپ سمجھتے ہیں دوسرے آپ کیلئے انتہا پر ہیں تو فرینکلن ایفیکٹ کی سائنس سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو موقع دیں وہ آپ پر کوئی احسان کریں.
لیکن اگر ہمارا نفس دوسرے کا احسان لینے پر بھی آمادہ نہ ہو تو پھر انتہا پر ہم خود کھڑے ہوتے ہیں. ایسے میں خود پر احسان کریں. انتہا سے نیچے اتریں. بندگی کا سارا حسن دو انتہاؤں کے درمیان ہوتا ہے.
-

آر یو او کے؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو
وہ ایک مسافر کو ڈراپ کرکے واپس گھر جارہا تھا کہ شہر کے پوش ہوٹل کے باہرایک قطار میں لگے درجن بھر فلیگ پوسٹس پر اسے سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آیا ۔اس کا دل دھک سے باہر آگیا کیونکہ یہ ناروے کا ایک دور دراز قصبہ تھا جس میں وہ واحد پاکستانی تھا- اسے یہاں رہتے ہوئے کئی برس بیت گئے تھے لیکن کسی اور پاکستانی سےاس شہر میں اس کا سامنا نہیں ہوا تھا اور وہ بھی اب اس ماحول میں رچ بس گیا تھا-غیر ارادی طور پر اس نے اپنی ٹیکسی کا رخ ہوٹل کے صدر دروازے کی طرف موڑ دیا اور ٹیکسی پارکنگ میں لگا کر وہ ہوٹل کے میں گیٹ سے استقبالیہ کی طرف بڑھا –وہ حیران ہورہا تھا کہ اندر سے یہ ہوٹل کتنا بڑا اور شاندار تھا- وہ تو بس اس کے باہر سے ہی ہر دفعہ گزر جاتا تھا اور کبھی اس کے اندر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی تھی-
استقبالیہ پر بیٹھی سنہری رنگت کے بالوں والی نارویجئین لڑکی نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا ” میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہوں؟”-اس نے باہر لگے پاکستانی پرچم کا پوچھا کہ اس کو آج ہوٹل کے باہر لہرانے کی کیاخاص وجہ ہے؟ ۔ لڑکی نے بتایا ” ہمارے ہاں آج ایک پاکستانی مہمان بھی ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے یہ جھنڈا لگا دیا ہے۔”
اس کا دل اس مہمان سے ملنے کے لئے مچل اٹھا جس کی وجہ سے آج اس دور دراز جگہ پر بھی سبز ہلالی پرچم لہراتا دیکھنے کا موقع ملا تھا۔اس نے اپنی خواہش کا اظہار لڑکی سے کیا جو کہ تھوڑی بہت منت ترلے کے بعد اس کا رابطہ اس پاکستانی مہمان سے کروانے پر راضی ہوگئی تھی اور اب ملِک میرے کمرے میں بیٹھا مجھے احترماًاس طرح دیکھ رہا تھا جیسے میں ابھی ابھی حج کرکے مکہ سے لوٹا ہوں۔وہ مجھے اپنے گھر آنے کی د دعوت دے رہا تھا تاہم میرا اگلے پورے ہفتے کا شیڈول ہائیڈروپاور پراجیکٹس کے لئے بک تھا اور ویک اینڈ پر ہی ملاقات ہو سکتی تھی۔
میں خود اس طرح اتنی چھوٹی سے جگہ پر ایک ہم وطن کے ملنے پر خوش تھا اور اس سے ناروے میں ملنے والے کھانوں کے بارے میں شکوہ کر رہاتھا۔ پچھلے دوتین دن سے مسلسل ابلی ہوئی لوبیا، ابلے چاول اور آلو کھا کھا کر ٹیسٹ بڈ جواب دے چکے تھے ۔نمک مرچ کے شدید کمی کے شکار اس ملک میں اگلے چند ہفتے گزارانا مشکل نظر آرہا تھا۔ملک مجھے ناروے میں اپنی سیٹنگ بنانے کے قصے سنا رہا تھا کہ کس طرح وہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے خالی ہاتھ کسی نہ کسی طریقے سے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔پہلے ایک گوری سے شادی کی،پیپر ببنائے اور پھر جب کاغذ برابر ہوگئے تو پاکستان سے شادی کرکے بیگم کو لے آیا اور اب ماشااللہ اس کا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ اور تین ٹیکسیاں چل رہی تھی۔ دو بچے تھے جو کہ وہیں کی جم پو تھےاور اردو بمشکل ہی سمجھ سکتے تھے۔
میں نے کہا” یہ بتاو ملک کہ ادھر تو پاکستانی نہیں ہیں تو تمھارا ریسٹورینٹ کیسے چلتا ہے”۔ کہنے لگا ” آپ بھی بڑے سادہ ہو۔ بھئی ہم گوروں کی خوراک اور مشروبات بیچتے ہیں ۔مجبوری ہے”۔ میں نے اسے کہا کہ اس کا مطلب ہے اب تم سیٹ ہوگئے ہو اور خوب مزے ہورہے ہیں۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا تاہم وہ سنبھلتے ہوئے رونی صورت بنا کر بولا ” کہاں بھائی؟ مزے تو پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ ادھر تو پد مارنے کے لئے بھی حکومت کی اجازت لینی پڑتی ہے۔میں اپنے گھر میں ایک نیا باتھ روم بنانا چاہ رہا تھا۔ سب سے پہلے میونسپیلٹی کو درخواست دی۔ ان کے لوگوں نے فزیبیلٹی چیک کی کہ اس سے گھر بندوں کے لئے رہنے کی کم سے کم گنجائش تو متاثر نہیں ہوگی۔پھر ان کے لائسنس یافتہ نقشہ ساز سے گھر میں باتھ روم کا ترمیمی نقشی بنوایا۔ پھر ان کے منظور کردہ پلمبر سے پلمبنگ کا کام کروایا، بجلی والے سے بجلی اور پھر سینٹرل ہیٹنگ والے سے اس کا کام کیونکہ ہمیں یہاں باتھ روم ہر وقت خشک رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہوتے تو جس طرح مرضی بنا لیتے”۔
پھر مزیذ فرمانے لگا کہ” میں یہاں ٹیکسی چلاتا ہوں لیکن ادھر کے قانون کی پابندی نے میری ڈرائیوننگ ایسی خراب کر دی ہے کہ قسم سے میں اب پاکستان میں جا کر خود گاڑی ڈرائیو نہیں کر سکتا۔ ہمیشہ ٹھوک دیتا ہوں- اسی لئے اب پاکستان جاتے ہی میں سب سے پہلے رینٹ پر ڈرائیور سمیت کار لیتا ہوں جو میرے پورے قیام کے دوران میرے ساتھ رہتی ہے”۔میں نے کہا "یہ تو واقعی ظلم ہے "۔
وہ ضد کرکے زبردستی مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں سٹی سنٹر کا چکر لگوانے لے گیا۔پھر اس نے مجھے ریل اسٹیشن بھی دکھایا ہم نے ایک جگہ سے کافی پی ۔ اب رات ہورہی تھی اور نائٹ لائف انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی تھی ۔ کلب اور بار آباد ہونے لگے تھے اور سڑک کنارے سجائی گئی کرسیوں پر نوجوان جوڑے بیٹھے پینے پلانے میں مشغول تھے-ہم نے دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد واپسی کی راہ لی۔ سٹی سنٹر سے نکلتے ہی ایک اشارہ سرخ تھا لیکن ملک صاحب نےبائیں طرف کے بار کی طرف جاتے ہوئے ایک جوڑے کو مسلسل دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی آگے بڑھا لی جو مخالف سمت سے آنیوالی کار کے ساتھ ٹھک گئی۔ گاڑیوں کی ٹکر کی آواز سن کر سڑک کنارے بائیں طرف کے بار میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ داخل ہوتی لڑکی تیزی سے بھاگ کر ملک صاحب کی طرف دوڑی اور انہیں تھپتھپا کر بولی ۔۔۔”آر یو اوکے ڈیڈ”
-

وقت عمران خان سے اور بھی سچ اُگلوائے گا
وقت عمران خان سے اور بھی سچ اُگلوائے گا
تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹ
اتوار 30 اکتوبر جی ٹی روڈ مریدکے میں لانگ مارچ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کرپٹ ہے، زرداری چور ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ نے مجھے بتایا۔ عمران خان نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی نے نواز شریف اور زرداری پر مقدمات بنوائے تھے اور اسٹیبلشمنٹ ہی نواز شریف اور زرداری کو کرپٹ اور چور کہا کرتی تھی اور اب انہی چوروں اور ڈاکوؤں کا ساتھ دے رہی ہے۔ مسند اقتدار سے آئینی طریقہ کار سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان کی جانب سے پاکستانی عسکری قیادت پر حملوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مسند اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ہر گزرتے لمحے عمران خان کے رویے اور لہجے میں تلخی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لاہور میں یوٹیوبرز سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف سے عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ادارے نے سوچا ہوگا عمران خان کو سپورٹ کرتے ہیں شاید پاکستان کی حالت بہتر ہو جائے لیکن جس ادارے نے عمران نیازی کو پالا اس نے اسی کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا، ڈائن بھی تین گھر چھوڑ کر حملہ کرتی ہے لیکن عمران نیازی نے افواج پاکستان پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ دھکا اسٹارٹ گاڑی بھی چل پڑتی ہے مگر عمران خان نہیں چل پائے، عمران خان نے پاک فوج کے جوانوں اور شہدا کو بھی نہیں چھوڑا، لوگوں کے گھر والوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشا، میں سمجھتا ہوں کہ جو وطن کا نہیں وہ کسی کا نہیں۔ عمران خان کے بیان کے ردعمل میں ن لیگ کے سینئر رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران صاحب نے آج ایک اور اعترافِ گناہ بھی کر لیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اعتراف کیا کہ نواز شریف اور جمہوری قیادتوں پر اُن کی بہتان تراشی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ آمریتوں کی جانب سے دی گئی ڈکٹیشن تھی۔ ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ جسے عمران خان اپنی 26 سالہ جدوجہد کہتے ہیں آج اسی کو غیروں سے سُنا سُنایا جھوٹ تسلیم کر رہے ہیں۔ پرویز رشید نے یہ بھی کہا کہ ابھی وقت عمران خان سے اور بھی سچ اُگلوائے گا۔ عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ پر تابڑ توڑ حملوں کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے الزامات کو میڈیا کے سامنے کھل کرباطل قرار دے دیا ہے اور ساتھ ہی عمران خان کے دو رخی اور دو رنگی رویوں کو منظر عام پر لائے ہیں کہ جن مقتدر شخصیات کو آپ دن کی روشنی میں میر جعفر، میر صادق اور غدار قرار دیتے ہیں انہی سے رات کے اندھیروں میں خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں کسی بھی سیاسی رہنما کی جانب سے پاکستانی عسکری اداروں کے خلاف جتنے بیانات عمران خان نے دیے ہیں انکی مثال نہیں ملتی۔عمران خان کے یوٹیوب پر بیانات اس بات کی گواہی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اقتدار ملنے سے پہلے اور اقتدار کھو جانے کے بعد عمران خان کے عسکری اداروں کے خلاف بیانات میں مماثلت اتفاقیہ نہیں ہے۔ حیرانی تو اس بات پر ہورہی ہے کہ عمران خان کو مسند اقتدار پر پہنچانے کے لئے اپنا کندھا دینے والوں کو آخر عمران خان کے اندر ایسی کونسی خوبی نظر آئی تھی؟ شہباز شریف کی اس بات میں بہت وزن نظر آتا ہے کہ جس ادارے نے عمران نیازی کو پالا اس نے اسی کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا، ڈائن بھی تین گھر چھوڑ کر حملہ کرتی ہے۔کیونکہ عمران خان اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ انکو مسند اقتدار میں پہنچانے میں کس نے کیا کردار ادا کیا۔ اگر عمران خان اس بات کا گمان کرتے ہیں کہ انکی 22 سالہ سیاسی محنت نے انکو ایوان وزیراعظم تک پہنچایا تو یہ مبالغہ آرائی ہوگی۔ کیونکہ عمران خان کی سیاست شوکت خانم ہسپتال اور 1992 کے ورلڈ کپ کی کامیابی کے گرد ہی گھومتی ہے جس کا اظہار آج تک عمران خان اور انکی پارٹی کرتی آئی ہے۔ یاد رہے اگر ان دونوں کارناموں کی بناء پر عمران خان نے وزیراعظم بننا ہوتا تو عمران خان 1996 ہی میں مسند اقتدارپر براجمان ہوچکے ہوتے، آخر اس وقت کی نوجوان نسل اور پوری پاکستانی قوم جس نے عمران خان کے ان دونوں کارناموں کو اپنی آنکھوں کے سامنے شرمندہ تعبیر ہوتے ہوئے دیکھا تھا، عمران خان کو اک قومی ہیرو کے طور پر تو قبول کیا لیکن انتخابات میں وزیراعظم پاکستان کے عہدے کے لئے ناقابل قبول شخصیت قرار دے کر انتخابات میں مسترد کیوں کیا؟ مریدکے میں عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیان خود انکے کردار کی نفی کرتا دیکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ مشرف کے سب سے بڑے حامی کے طور پر عمران خان منظر عام پر آئے تھے۔ یاد رہے نواز شریف کے خلاف مشہور زمانہ پانامہ کیس خود عمران خان نے نواز شریف کے دور اقتدار ہی میں سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔ عمران خان کے دور اقتدار میں ن لیگ اور پی پی پی قیادت کے خلاف مقدمات اور گرفتاریاں ہوئیں۔ اور مریدکے میں عمران خان کے اعترافی بیان کہ نواز شریف،مریم نواز سمیت ن لیگی اور پی پی پی قیادت کے خلاف پانامہ کیس اور اپنے دور اقتدار میں دیگر مقدمات عمران خان نے اسٹیبشلمنٹ کے کہنے پر دائر کروائے تھے؟۔درحقیقت عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ پر غصہ ”غیر سیاسی“ ہونے پرہے۔ ویسے عمران خان کتنے بھلکر ہیں جو اپنے بیانات، اعلانات بھول جاتے ہیں یا پھر میرے کپتان بہت ہی بھولے بھالے ہیں جن کو یہ پتا ہی نہ چلا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی بن کر پونے چار سال اقتدار کے مزے اُڑاتے رہے(کیونکہ عمران خان کے بیانات آن ریکارڈ ہیں کہ وہ بے اختیار تھے)۔ ایک بات طے شدہ ہے کہ پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان کی سیاسی زندگی قول و فعل کے تضادات سے بھرپور ہے۔

-

اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی
اب ٹویٹر پر بلیو ٹک والے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہو گی ورنہ ٹک اڑا دیا جائے گا.
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے بعد اس میں تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس میں صارفین کے اکاؤنٹس کی ویریفکیشن کے لیے ہر ماہ 20 ڈالر لینے کا پلان بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ پروجیکٹ آگے بڑھتا ہے تو صارفین کو 5 ڈالر ماہانہ پر ٹویٹر بلیو کو سبسکرائب کرنا پڑے گا یا اپنے “تصدیق شدہ” بیجز سے محروم ہونا پڑے گا، پہلے مرحلے میں ٹوئٹر اپنے صارفین سے بلیو ٹک سبسکرپشن کے لئے 20 ڈالر لینے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ٹوئٹر پر پہلے سے تصدیق شدہ صارفین کے پاس سبسکرپشن حاصل کرنے کیلئے 3 ماہ کا وقت ہوگا، سبسکرپشن نہ لینے پر ان کا بلیو ٹک ختم کردیا جائے گا۔ ٹیسلا کے سی ای او کی جانب سے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور اس منصوبے کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن پلیٹ فارمر کے مطابق امکان ہے کہ تصدیق، ٹویٹر بلیو کا حصہ بن جائے گی۔
ٹویٹر بلیو کو پچھلے سال جون میں پلیٹ فارم کی پہلی سبسکرپشن سروس کے طور پر شروع کیا گیا تھا جو ماہانہ سبسکرپشن کی بنیاد پر “پریمیم خصوصیات تک خصوصی رسائی” پیش کرتا ہے جس میں ٹویٹس میں ترمیم کرنے کی خصوصیت بھی شامل ہے۔ واضح رہے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، ٹیسلا کے بانی نے 44 ارب ڈالر کی ڈیل پوری ہونے کے بعد ٹوئٹر کے مالک بن چکے ہیں۔ جس کے فوری بعد انہوں نے ٹوئٹر کے سی ای او پاراگ اگروال کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
اس وقت ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد تقریباً 22 کروڑ 90 لاکھ ہے اور کمپنی کی جانب سے مئی کے آغاز میں تخمینہ لگایا گیا تھا کے اس کے 5 فیصد سے کم اکاؤنٹس جعلی یا اسپام ہیں۔ ایلون مسک نے کچھ عرصے قبل کہا تھا کہ ٹوئٹر سے اسپام بوٹس کو ہٹانا ان کی ترجیح میں شامل ہے اور اب انہوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے کہ واقعی ٹوئٹر میں جعلی اور اسپام اکاؤنٹس کی تعداد مجموعی تعداد سے 5 فیصد کم ہے۔
-

جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک
ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں. میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.
وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.
استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.
کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں. بار بار شرمندہ کرتے ہیں.