Baaghi TV

Category: بلاگ

  • من کی مجلس— عمر یوسف

    من کی مجلس— عمر یوسف

    کچھ خدشات کتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ جیسے ہی دل و دماغ میں آتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح نکل جائے گی ۔ انسان پر کتنا بھاری بوجھ ہوتے ہیں یہ خدشات ۔۔۔۔ اندر ہی اندر جیسے طوفان سا اٹھ جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی تمام عمارتوں کو مسمار کردیتا ہے ۔

    جیسے چیخنے کو دل کرے ۔ جیسے جلدی سے آزاد ہونے کو دل کرے ۔ لیکن ہر طرف تو پنجرہ ہے جیسے انسان قید سا ہوگیا یے ۔ بے بسی بغاوت پر آمادہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ کاش وہ آنسو ہی نکل آئیں جو انسان کو ہلکا کردیتے ہیں لیکن آنسو بھی تو بے وفا نکلے ۔

    مردانگی کے مان کے آگے ہار گئے اور غم ہلکا کرنے سے فرار ہوگئے ۔ کون ہے جو فرسان حال بنے ۔ جو کندھا دے اور مان بنے ۔ دل کو سمجھائے اور غمخوار بنے ۔ چاروں طرف چھائے اندھیرے ، وحشت ، دہشت ، خوف ، ڈر ، فکر ، غم کے سانپوں سے نجات دلوائے ۔ زندگی گلزار ہوجائے ۔

    جب میں تھک گیا ، ڈھے گیا ، ہار گیا ، شکست کھاگیا ، اکتا گیا امید ہار گیا تو من کی دنیا سے ہلکی سی آواز سنی جو ہولے ہولے تیز ہوتی گئی جیسے ہلکی سی روشنی کی پو پھوٹی ہو اور روشنی پھیلتی ہی جائے ۔ فطرت کی آوازیں یہ صدائیں لگا رہیں تھیں نحن اقرب الیہ من حبل الورید وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی نزدیک ہے جس نے موسی کو سمندر ، ابراہیم کو آگ ، عیسی کو یہود ، اور محمد کریم ص کو دشمنوں سے بچا کر قدرت کاملہ اظہار کردیا ۔

    جس نے لامحدود کائنات کو اس انداز سے مستحکم کیا کہ کمی کا شائبہ تک نہیں ۔ دیو ہیکل پہاڑ ، ٹھاٹیں مارتا سمندر ، ان گنت ذرات کے صحرا ، کڑکتی بجلیاں ، دھاڑتے ہوئے شیر ، چنگارتے ہوئے ہاتھی ، سنسناتی ہوئی ہوائیں ، چمکتا چاند ، دہکتا سورج ، ٹمٹماتے تارے سب اسی کے کنٹرول میں ہیں تو تیرے غم کیا اس کی قدرت سے باہر ہیں ؟ تو چلتے ہوئے یا رب جی کہہ وہ دوڑتے ہوئے یا عبدی کہے گا ۔

  • خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    باغی ٹی وی ،خانقاہ ڈوگراں (علی رضا رانجھا) انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے ، گلشن شیخ الحدیث خانقاہ ڈوگراں میں بزم چشتیہ رضویہ کے زیر اہتمام ہر ماہ ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کا دو بار انعقاد کیا جاتا ہے ،گلشن شیخ الحدیث کے مہتمم حضرت مولانا محمد نور المجتبے چشتی نے بتایا کہ ہر ماہ مستحق اور نادار مریضوں کے علاج کے لئے ملک کے ماہر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم آ کر سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دی جاتی ہیں ، جس سے انسانیت کی خدمت کر کے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ، آج موہروں اور پٹھوں کے ڈاکٹر حامد ناصر کمبوہ نے سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دیں اور انشاء اللہ یہ سلسلہ ہر ماہ جاری رہے گا،ڈاکٹر حامد ناصر نے ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کے بارے میں اپنے بیان میں کہا کہ یہاں پر مریضوں کو چیک کرنے سے جو تسکین ملی ہے وہ تسکین مجھے اپنے کلینک میں نہیں ملی میرے لئے گلشن شیخ الحدیث میں خدمت کرنا بہت بڑا اعزاز اور ثواب کا عمل ہے ، اللّٰہ پاک اس ادارے کے وسیلے سے اپنی شفا کا فیض جاری رکھے

  • ڈی آئی خان : طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج

    ڈی آئی خان : طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار) ایف اے، ایف ایس سی رزلٹ‘ طلباء کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفراللہ خان کی پالیسیوں پران کے خلاف ہو گئے،طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج،اس موقع پرایف اے / ایف ایس سی رزلٹ کے خلاف طلباء نے حق نواز پارک میں احتجاج کیا، طلباء نے احتجاجی نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفر اللہ خان مروت کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ایف اے،ایف ایس سی کے طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولرظفراللہ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی سلسلہ شروع کررکھاہے۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طلباء کاکہناتھا کہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان نااہل ہیں جس کی پالیسیوں کی وجہ سے طلباء کامستقبل داؤپر لگ گیاہے۔انہوں نے کہاکہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کافوری تبادلہ کیاجائے۔ اگر ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کاتبادلہ نہ کیاگیاتو تمام سکولوں اوریونیورسٹیز کو بندکردیاجائے گا۔ اگرحکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہ کیے تو احتجاج کا سلسلہ صوبے کے دوسرے شہروں تک وسیع کردیاجائے گا اورتمام سکولوں،کالجوں اور یونیوسٹیزکوبندکردیاجائے گا۔مظاہرے میں شریک طلباء نے کہاکہ کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفر اللہ تعلیمی بورڈ طلباء کے خلاف سازش کر رہے ہیں اوران کی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان:ٹکٹ کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم

    ڈیرہ اسماعیل خان:ٹکٹ کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام دودھڑں میں تقسیم، ایک دھڑاسمیع اللہ علیزئی کوٹکٹ دینے کے حق میں تودوسرے دھڑے نے سمیع اللہ علیزئی کو ٹکٹ دینے پر جمعیت کے بائیکاٹ کااعلان کردیا،مبینہ ذرائع کے مطابق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں امیدوارصوبائی اسمبلی سمیع اللہ علیزئی جمعیت علماء اسلام کی جانب سے حلقہ سٹی ٹو میں ٹکٹ کے امیدوارہیں جس کی وجہ سے جمعیت دودھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک دھڑاکھل کر سمیع اللہ علیزئی کی حمایت کررہاہے جبکہ دوسرادھڑااس کی کھلم کر مخالفت کررہاہے اورقائد جمعیت مولانافضل الرحمان کو اس حوالے سے آگاہ بھی کردیاگیا ہے۔جمعیت کی جانب سے واضح اشارہ اور حمایت نہ ملنے کی وجہ سے سمیع اللہ علیزئی ان دنوں سخت پریشانی سے دوچارہے اس لیے اس نے حلقہ سٹی ٹو میں ٹکٹ کے حصول کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئررہنماوسابق وزیرخارجہ محمودشاہ قریشی سے رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے مگرپی ٹی آئی قائد عمران خان سمیع اللہ علیزئی کی دوغلی سیاست سے بخوبی باخبر ہے اوراسے ٹکٹ دینے پر تحفظات کااظہارکیاہے۔حلقہ سٹی ٹومیں اپنے دورمیں سمیع اللہ علیزئی نے علاقے کی تعمیر وترقی اورعوام کی خوشحالی کیلئے کوئی کام نہ کیے اورکروڑوں روپے کے فنڈزبندربانٹ کیے جس کی وجہ سے حلقہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔سمیع اللہ علیزئی کی دوغلے پن اورمفاد پرستی کی سیاست کی وجہ سے اسے ڈیرہ کی سیاست میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتاہے اورکوئی بھی پارٹی اسے ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہے۔حلقہ سٹی ٹو کی عوام اورجمعیت علماء اسلام کے مقامی رہنماؤں نے قائدجمعیت مولانافضل الرحمان سے سمیع اللہ علیزئی کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر نظرثانی کرنے کامشورہ دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حلقہ سٹی ٹومیں قائد جمعیت کسی مخلص قیادت کوپارٹی ٹکٹ دیں تاکہ اس کی کامیابی میں اپناکرداراداکریں۔

  • ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار) ڈیزل سستا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے کوچ مالکان وہی پرانا کرایہ وصول کرنے میں مصروف۔محکمہ انڈسٹریل کے افسران واہلکاروں کی غفلت اورنااہلی کی وجہ سے کوچ مالکان کی لوٹ مارجاری،کرایوں میں اضافے کی وجہ سے مسافر پریشانی سے دوچار، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے کرایوں میں کمی اورکوچ مالکان کی ہٹ دھرمی کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیزل اورپیٹرول کے ریٹ انتہائی کم کیے گئے ہیں مگرکوچ مالکا ن نے کرایوں کے وہی ریٹ رکھے ہوئے ہیں اوران میں کوئی کمی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے مسافرزائد کرایوں پر سفرکرنے پر مجبورہیں۔محکمہ انڈسٹریل افسران واہلکاروں کی مبینہ بھتہ خوری کی وجہ سے کوچ مالکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیاجارہاہے اورانہیں مسافروں سے لوٹ مار کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ کوچ مالکان نے اپنی روش نہیں بدلی ہے اورہٹ دھرمی پر قائم ہیں اورعوام سے زائد کرایے وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ مسافروں سے کرایوں میں کمی نہ کرنے کی وجہ سے کوچ مالکان کھلے عام لوٹ مار کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے حکومت کی جانب سے پیٹرول وڈیزل کے ریٹ کم ہونے کی وجہ سے کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کرانے کامطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کاپابندکیاجائے تاکہ مسافرلوٹ مار سے محفوظ رہیں۔

  • حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں، فلاں ابن فلاں، فلاں کے بھائی، فلاں کے والد اور فلاں کے قریبی رشتے دار کا رضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا ہے نماز جنازہ بوقت… بجے صبح /دوپہر /شام فلاں جنازہ گاہ میں ادا کی جائے گی، نماز جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ ۔

    یہ وہ اعلان ہے جو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر سنتے ہیں اور سن کر اگر وہ شخص کوئی واقف ہو تو اس کی آخری رسومات میں شرکت کرتے ہیں ورنہ اس اعلان کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

    مشہور ہے کہ کسی نے ملک الموت سے پوچھا کہ آپ کسی بھی شخص کی روح قبض کرنے سے پہلے اسے تھوڑی سی مہلت تو دیا کریں تاکہ وہ توبہ کر سکے تو ملک الموت نے کہا کہ کہ کیا آپ روز اپنے اردگرد ہونے والی اموات نہیں دیکھتے یہ اس بات کا اعلان ہی تو ہے کہ جو روح دنیا میں آئی اس کا کسی بھی وقت واپسی کا بلاوا آ سکتا ہے تو ہر وقت موت کو خوش آمدید کہنے کی تیاری رکھو۔

    دنیا میں ہر نظریہ کو ماننے والے لوگ ہیں ملحد حضرات بھی ہیں، ہو سکتا ہے آخری وقت میں ان کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ ہم ساری عمر خدا کے وجود کا انکار کرتے رہے، کیا ہم درست تھے؟ البتہ ایسے ملحد حضرات بھی موجود ہوں گے جنہوں نے زندگی کے ہر لمحے سے خوشی کشید کی ہو اور وہ خندہ پیشانی سے اپنے انجام کو قبول کریں ۔

    مختلف مذاہب کو ماننے والے لوگ بھی ہوں گے جن کے بارے میں گمان غالب ہے کہ وہ اپنے آخری وقت میں اپنے عقیدے کی صداقت کے بجائے اس بات پر متفکر ہوں گے کیا ان کے اعمال اس قابل ہیں جن کی بنیاد پر وہ بے خوف و خطر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں سکیں البتہ ان میں بھی ایسے لوگ کم تعداد میں ہی سہی لیکن موجود ہوں گے جن کو یقین ہو گا کہ ہم نے تمام زندگی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی اس لئے ہمارے ساتھ رب خیر والا معاملہ کریں گے ۔

    پاکستان میں 40 سال کی عمر کے بعد زندگی کو بونس سمجھا جاتا ہے یعنی کسی وقت بھی رب کا بلاوا آ سکتا ہے سابقہ زندگی جو غفلت میں گزر گئی اور نامہ اعمال پر جو سیاہی چڑھ گئی اس کا مداوا تو صرف رب کی بارگاہ میں سچے دل سے کی گئی توبہ اور اشک ندامت ہی ہیں لیکن جو زندگی بچ گئی اسے غفلت میں گزارنا سراسر نادانی ہے۔

    برسبیلِ تذکرہ بتاتا چلوں کہ میرے خیال میں تمام لوگوں کو اپنے نظریات اور عقیدوں کے ساتھ جینے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے البتہ دوسروں کو اپنے نظریات کی تبلیغ کرنے کے بجائے ہمیں خود کو ایسا بنانا چاہئے کہ لوگ ہمارے جیسا بننے کی آرزو کریں ۔

    ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
    ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے

    اس تحریر کی وجہ یہ ہے کہ 40 سال کی عمر میں جب ہماری زندگی کی عصر ہو گئی ہے اور کسی وقت بھی زندگی کی مغرب (زندگی کا سورج غروب) ہو سکتی ہے ہم ایسے کیا اعمال کریں کہ جن کی وجہ سے ہم رب سے ملاقات (بعد از موت) سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ شدت سے اس ملاقات کے متمنی ہوں ۔

    ہر مذہب میں رب کو راضی کرنے کے لئے مختلف احکامات ہیں اس تحریر میں ہم اسلامی نکتہ نظر سے رب کو راضی کرنے کے لئے لازمی احکامات یا فرائض بیان کر رہے ہیں، تحریر پڑھتے ہوئے یہ بات مدنظر رہے کہ یہ تحریر کسی عالم دین کی نہیں بلکہ ایک عام دنیا دار بندے کی ہے اس لئے آپ بندے کی تحریر سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔

    دنیا کی زندگی ہمارا امتحان ہے کہ ہم رب کے فرماں بردار ہیں یا نا فرمان، ایسا امتحان جس میں تھیوری بلوغت سے پہلے پڑھائی جاتی ہے جبکہ بلوغت کے بعد صرف پریکٹیکل (عمل) پر زور دیا جاتا ہے ۔

    بقول علامہ اقبال

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    دین ہے کیا؟

    اللہ کے بتائے گئے اعمال یا احکامات کا مجموعہ ہے ۔

    1۔کلمہ طیبہ
    2۔نماز
    3۔روزہ
    4۔حج
    5۔زکوٰۃ

    کلمہ طیبہ پڑھ کر ہم دین میں داخل ہوتے ہیں، روزے سال میں ایک مہینے کے لئے فرض ہیں اس میں بھی بیمار لوگوں کو رعایت ہے ، حج زندگی میں ایک مرتبہ لازمی (صاحب استطاعت لوگوں پر) اور زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ صاحب نصاب لوگوں پر فرض ہے ۔

    روزانہ کرنے والا عمل صرف نماز بالغ مسلمان پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے اس میں بھی رعایت ہے کہ اگر مسجد میں باجماعت ادا نہیں کر سکتے تو گھر میں یا جہاں پاک جگہ میسر ہو ادا کریں، اگر بیمار ہیں تو بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے ادا کریں اور اگر کسی وجہ سے نماز وقت پر ادا نہیں کر سکے تو بعد میں قضاء نماز ادا کریں ۔

    اس کے علاوہ ایک آخری بات کہ حقوق العباد کا خیال کریں کسی دوسرے کی حق تلفی نہ کریں جس بات پر آپ کا ضمیر آپ کو لعن طعن کرے وہ عمل نہ کریں ۔

    دین مشکل نہیں مشکل ہم نے خود بنایا ہوا ہے اس لئے فرائض کی ادائیگی کا اہتمام کیجئے اگر اس کے بعد گنجائش ہو تو مزید اعمال بھی کیجئے تاکہ آخری وقت میں آپ سورۃ فجر کی ان آیات کی عملی تفسیر ہوں ۔

    يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ (27)
    (ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔

    اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28)
    اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔

    فَادْخُلِىْ فِىْ عِبَادِيْ (29)
    پس میرے بندوں میں شامل ہو۔

    وَادْخُلِىْ جَنَّتِيْ (30)
    اور میری جنت میں داخل ہو۔

  • ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” 5 اکتوبر 1947ء بھارتی حکومت نےپاکستان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جوناگڑھ برصغیر کی پانچ سو باسٹھ ریاستوں میں سے ایک تھی جو انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ سے برطانوی سامراج کے زیرِ تسلط آگئیں- یہ شاہی ریاستیں اپنے اندرونی معاملات کے نظم و نسق کے حوالے سے آزاد تھیں لیکن دفاع اور خارجی معاملات برطانوی حکومت کی ذمہ داری تھی- برٹش انڈیا کی 562 ریاستوں میں جو نا گڑھ آمدنی کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست تھی جبکہ مسلمان ریاستوں میں دوسرے نمبر پہ تھی – 1947 کے تقسیمِ ہند کے قانون کے مطابق تمام ریاستوں کو تین آپشن دیئے گئے کہ پاکستان سے الحاق کرلیں یا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیں یا پھر چاہیں تو آزاد حیثیت میں رہیں- اس وقت جوناگڑھ کے نواب سر مہابت خانجی نے گورنر جنرل آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ الحاقی دستاویز Instrument of Accession پر دستخط کئے اور 15 ستمبر 1947 کو جوناگڑھ باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بن گیا اور سٹیٹ ہاؤس آف جوناگڑھ پہ پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا – نواب آف جوناگڑھ جناب نواب مہابت خانجی نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ریاست کی کونسل،

    (جس میں مسلمان اورہندو سب شامل تھے،)

    کی رضامندی سے کیاتھا-

    جیسا کہ بھارت نے برطانوی حکومت کی ملی بھگت سے ہر جگہ سیاسی طاقت کو اپناتے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیریں اور جارحانہ اقدامات کئے اِسی طرح جوناگڑھ پہ بھی عالمی قوانین کے خلاف جارحانہ اقدام کیا اور 9 نومبر 1947ء کو بھارت نے مختلف افواہیں پھیلاتے ہوئے جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی کے ذریعے قبضہ کر لیا- جونا گڑھ پر غیر قانونی فوج کشی اور مظالم کے سبب بہت سے مسلمان ہجرت کر کے کراچی آ گئے- تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے میجر کے- ایم- اظہر کو جونا گڑھ بھیجا مگر ان کا سامنا پہلے سے موجود قابض بھارتی افواج سے ہوا- محدود وسائل کے سبب پاکستان وہاں زیادہ فوج نہیں بھیج سکتا تھا کیونکہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے باعث پہلے ہی پاک بھارت جنگ چل رہی تھی-

    یہ ایک تاریخی امر ہے کہ بھارت کا ان ریاستوں پر قبضہ پہلے سے طے شدہ تھااور اس عمل میں انگریز وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور اُن کی اہلیہ کا کردار بھی اہم تھا جبکہ رہی سہی کسر بھارت نے پاکستان کے محدود وسائل اور انگریز جرنیل کے ماتحت فوج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستوں پر قبضہ کر کے نکال دی- ریاست جوناگڑھ پر بھارتی قبضہ بھارتی توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم (اکھنڈ بھارت) کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ابتدا ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا بھی ثبوت ہے یہ حقیقت حیدر آباد دکن اور جموں و کشمیر پر بھی غیر قانونی قبضے سے واضح ہوتی ہے-مزید برآں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کردار پر بھارتی وزیر اعظم کے اعترافی بیان سے بھارت کی اینٹی پاکستان پالیسی کا تسلسل واضح ہوتا ہے-

    بد قسمتی سے ابتدا میں پاکستان نے جوناگڑھ کا مقدمہ لڑا لیکن جوں جوں وقت گزرا، یہ مسئلہ محض کتابوں تک محدود ہوتا گیا اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب کتابوں میں بھی اس مسئلہ کا ذکر ناپید ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل اس مسئلہ سے آگاہ نہیں ہو رہی- عالمی نظام میں سر اٹھا کر جینے کے لئے قوموں کی خودداری بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس لئے ہمیں ہر قیمت پر اپنے قانونی حصے جونا گڑھ اور شہ رگ جموں و کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے اور انہیں بھارتی غیر قانونی و غیر اخلاقی تسلط سے نکالنا ہے-

    قائد اعظم خود ایک قانون دان تھے اور قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے- نواب آف جوناگڑھ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ اور الحاق کی وجہ قائداعظم کا ریاستوں کے حکمرانوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کے حق دینا بھی تھا- جبکہ دوسری طرف بھارت ریاستوں کے حکمرانوں کو دھمکا کراپنے ساتھ الحاق پر مجبورکر رہاتھا- لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کئی ریاستوں کو مختلف طریقوں سے مجبور کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں- ماؤنٹ بیٹن نے آن دی ریکارڈ یہ بات کی کہ ’’اگر میں 15 اگست کو ریاستوں کی ایک ٹوکری لے آؤں تو کانگریس ہر وہ قیمت دینے کو تیارہو گی جو میں لینا چاہوں گا ‘‘۔ اسی لیے کانگرس نے ماؤنٹ بیٹن کو گورنر جنرل آف انڈیا تسلیم کر لیا تھا –

    کشمیر اور جونا گڑھ کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ کشمیر کے بھارت سے نام نہاد الحاق کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ اپنی ریاست کا دارلحکومت چھوڑ کر بھاگ چکا تھا اور عملاً ریاست پر کنٹرول کھو چکا تھا اور عوام اس کے خلاف تھی مزید یہ کہ آج تک بھارت نے کشمیر کی الحاقی دستاویز کو بھی ظاہر نہیں کیا جبکہ جونا گڑھ کے نواب نے ریاستی کونسل کی رضا مندی کے ساتھ پاکستان کےساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اورباقاعدہ دستخط شدہ الحاقی دستاویز پاکستانی حکومت کے حوالے کی جس پہ دو خود مختار ریاستوں (پاکستان و جوناگڑھ) کے قانونی سربراہان (گورنر جنرل آف پاکستان و نواب آف جوناگڑھ) کے دستخط ہیں –

    الحاقی دستاویز ایک قانونی معاہدہ ہےجو دو ریاستوں کے مابین طے پاتا ہے اور کسی بھی علاقہ پہ کنٹرول کے لیے قانونی حیثیت رکھتا ہے-
    یہ الحاقی دستاویز بین الاقوامی قانون کے تحت ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے- اگرجونا گڑھ کی قانونی حیثیت کا بین الاقوامی قوانین کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے- ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز کے مطابق’ معاہدہ‘ سے مراد دو یا دو سے زائد ریاستوں کے مابین طے پایا جانے والا ایسا معاہدہ ہے جو تحریری شکل میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو ۔ پھر ویانا کنونشن آن لأ آف ٹریٹیز یہ بھی کہتا ہے کہ وہ معاہدہ جو مذکورہ فریقین کے مابین ہوگا اس کی حیثیت’’عالمی‘‘ ہوگی اگرچہ وہ ایک دستاویز پہ مشتمل ہو یا متعدد ضمنی و متعلقہ دستاویزات پہ مشتمل ہو –

    جونا گڑھ کی الحاقی دستاویز:

    (۱) ایک عالمی معاہدہ ہے-

    (۲) دو ریاستوں کے مابین طے پایا گیا ہے-

    (۳) تحریری صورت میں موجود ہے-

    (۴) بین الاقوامی قانون کے مطابق طے پایا-

    ایک مستند و تاحال قابلِ عمل دستاویز کی صورت میں ہے-

    لہٰذا جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز ایک بین الاقوامی معاہدہ کی تمام شرائط پہ پورا اترتا ہے-مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے- ایک عالمی معاہدے کی قانونی حرمت ہوتی ہے جس کا احترام ہر قوم پہ واجب ہے جیسا کہ ویانا کنونشن آن لاء آف ٹریٹیز 1969 میں اس بات کا اعادہ کیا گیا- آرٹیکل 26 ‘پیکٹا سنٹ سروانڈہ کے مطابق دو فریقین کے مابین معاہدہ طے پا جانے کے بعد دونوں فریقین پہ لازم ہے کے وہ اس معاہدہ پر نیک نیتی سے عمل درآمد کریں-

    بین الاقوامی قانون میں عالیجاہ نواب آف جونا گڑھ کی ایک منفرد حیثیت ہے- داخلی اور بین الاقوامی قوانین میں نواب آف جو نا گڑھ ’’جلاوطن مگر خود مختار ” کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے اپنے حقوق ہیں یعنی ایک ایسا شخص جو اپنی ریاست کا اقتدار کھو چکا ہو لیکن اس کے پاس اس مقصد کیلئے قانونی دستاویزات موجود ہوں اِسے عوامی اور آسان زبان میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک اراضی کی لیگل رجسٹری تو آپ کے نام پہ ہو مگر عملاً اس پہ قبضہ کسی قابض قوت کا ہو، لہٰذا قانونی مالک اس جگہ کے آپ ہوں گے قبضہ بھلے کسی کے پاس ہوگا – اس لحاظ سے دیکھا جائےتو عالمی قوانین کے تحت نواب آف جوناگڑھ آج بھی جونا گڑھ کے قانونی حکمران ہیں -لیکن ان کی قانونی حیثیت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں- جو ان کے ساتھ کئے گئے قانونی معاہدہ کے تحت ہے- یہی وجہ ہے کہ جونا گڑھ کا علاقہ پھر سے پاکستان کے نقشہ میں متنازعہ علاقہ کے طور پر موجود ہے-

    جونا گڑھ کا الحاقی دستاویز پاکستان کے لیے ایک بائنڈنگ کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کا کیس قانونی طور پر بہت مضبوط ہے- یہ باعث افسوس ہے کہ جب جونا گڑھ پر قبضہ ہوا، ہم نے احتجاج بھی کیا اور اقوامِ متحدہ میں بھی گئے مگر بعد میں اس معاملے کو آگے نہیں بڑھا سکے- اسی طرح بنگلہ دیش کی صورت میں بھارت نے سازشوں سے ہمارے ملک کے حصے پر قبضہ کر کے الگ ملک بنایا-ہم توجہ ہی نہیں کرتے کہ بھارت ابتداء ہی سے ہماری سرزمین کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے- بدقسمتی سے ہم جونا گڑھ کو بھول چکے ہیں حتیٰ کہ اسلام آباد میں جونا گڑھ ہاؤس کے لیے جگہ مختص کی گئی لیکن اس پر بھی سیاسی قابضین مسلط ہوگئے- جونا گڑھ کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے ہمیں جونا گڑھ پر تفصیلی کتب شائع کرنی چاہیں- نوجوان نسل کو اس مسئلہ سے لازمی طور پر آگاہ رکھنا چاہئے جو اسی صورت ممکن ہے کہ اس مسئلہ کی تاریخ ہمارے نصاب میں شامل ہو- اسی طرح جونا گڑھ کو پاکستان کے ہر نقشے میں ظاہر کرنا چاہئے- پاکستان کو اس مسئلہ کوعالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیئے تاکہ عالمی برادری بھی اس مسئلہ سے آگاہ ہو-

    جونا گڑھ ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن بد قسمتی سے ہم اس تاریخ کو بھلاتے جارہے ہیں – ہمارے بچے اور نوجوان جونا گڑھ کے بارے میں نہیں جانتے باوجود اس کے کہ جوناگڑھ پہ پاکستان کا قانونی حق ہے- چین ، ہانگ کانگ حاصل کرنے کے لیے100 سال تک جدو جہد کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ اس مسئلہ سے متعلق آگاہی پیدا کر کے ہم تاریخ میں موجود غلطی کو درست کر سکتے ہیں بھارت نے فوجی مداخلت سے جونا گڑھ پر قبضہ کیا تھا اور اس فوجی مداخلت میں نہ صرف گاڑیاں بلکہ ٹینک بھی استعمال کئے گئے۔

  • صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے

    صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے

    ٹوئٹر کی جانب سے ایک نئے فیچر کو متعارف کرایا گیا ہے جس سے صارفین تصاویر، ویڈیوز اور جی آئی ایف فائل ایک ٹوئٹ میں پوسٹ کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر تصاویر، ویڈیو اور جی آئی ایف فائلز کو ایک ساتھ پوسٹ کیا جاسکتا ہے اس کے لیے ٹوئٹ کمپوزر پر فوٹو، میڈیا یا جی آئی ایف آئیکونز پر کلک کرکے اپنی پسند کی فائلز کو اپ لوڈ کردیں۔

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1577729271002533921?s=20&t=kBR0N87KbM27hd3vhtX8tw
    کمپنی کے مطابق ایک ٹوئٹ پر صارفین 4 تصاویر، ویڈیوز یا جی آئی ایف فائلز پوسٹ کرسکیں گے علاوہ ازیں اس فیچر میں صارفین تصاویر اور ویڈیوز دونوں کو بیک وقت ٹیگ بھی کرسکیں گے۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1577730112853680128?s=20&t=kBR0N87KbM27hd3vhtX8tw
    اس سے پہلے صارفین ایک ٹوئٹ پر صرف تصاویر پوسٹ کرسکتے تھے یا ویڈیو ، دونوں کو ایک ساتھ پوسٹ کرنا ممکن نہیں تھا۔

    انسٹاگرام میں اس طرح کا فیچر کافی عرصے سے موجود ہے جس سے صارفین تصاویر اور ویڈیوز ایک ساتھ پوسٹ کرسکتے ہیں۔

    ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

    قبل ازیں کمپنی کی پیڈ سروس ٹوئٹر بلیو کے سبسکرائبرزکو اس تک رسائی دی گئی ہے،کمپنی کےمطابق ٹوئٹر بلیو کے کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے صارفین اب اس فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں، البتہ ابھی اسے امریکا میں متعارف نہیں کرایا گیا۔

    کمپنی نے یہ نہیں بتایا گیا کہ عام صارفین کے لیے یہ فیچر بھی مستقبل قریب میں اس فیچر کو متعارف کرایا جاسکتا ہے یا نہیں-

    کمپنی کے مطابق ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اسے ایڈٹ کیا جاسکے گا ،ایڈٹ کیے جانے والے ٹوئٹس ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ نظر آئیں گے جس سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اوریجنل ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

  • دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    یروشلم: اسرائیلی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک دیوار میں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ سکے گولان پہاڑیوں میں بینیاس کے مقام پر بہنے والے چشمے پر ایک پتھر کی دیوار کی بنیاد میں کی جانے والی کھدائی کے دوران ملے اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ 7ویں صدی کے 44 خالص سونے کے سکے ایک نیچر ریزرو میں دیوار سے چھپے ہوئے ملے ہیں۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 170 گرام وزنی، ہرمون سٹریم (بنیاس) کے مقام پر ملنے والا ذخیرہ 635 میں مسلمانوں کی فتح کے دوران چھپایا گیا تھا سکے علاقے میں بازنطینی حکومت کے خاتمے پر روشنی ڈالتے ہیں بازنطینی سلطنت رومی سلطنت کا مشرقی نصف تھا، جو 1,000 سال سے زائد عرصے تک زندہ رہا۔

    کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیر نے کہا، "ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مالک جنگ کے خطرے میں اپنی خوش قسمتی کو چھپا رہا ہے، اس امید میں کہ وہ ایک دن اپنی جائیداد واپس لینے کے لیے واپس آئے گا ماضی میں، ہم جانتے ہیں کہ وہ کم خوش قسمت تھا۔

    اسرائیل اینٹیکوئیٹیز اتھارٹیز کے ڈائریکٹر ایلی ایسکیوسیڈو کا کہنا تھا کہ سکوں کا یہ ذخیرہ آثارِ قدیمہ کی ایک انتہائی اہم دریافت ہے کیوں کہ اس کا تعلق بینیاس شہر اور اس پورے خطے کے عبوری دور سے ہے۔

    ادارے کے مطابق ماہرین نے یہ سکے پینیاس (جو بعد میں بینیاس کے نام سے جانا گیا) کے قدیم شہر سے دریافت کئے۔ یہ شہر ماضی میں ذرخیزی کے خدا ’پین‘ (Pan) کے حوالے سے مذہبی رسومات کے لیے خدمات انجام دیتا تھا۔ اسی نام سے پر بعد میں شہر کا یونانی نام رکھا گیا۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    ڈاکٹر گیبریلا بِجووسکی کا کہنا تھا کہ سکّوں میں سب سے پُرانا سکہ بازنطینی بادشاہ فوکس کے دور کا ہے جس نے 602 عیسوی سے 610 عیسوی تک حکومت کی۔جبکہ سب سے نئے سکے کا تعلق اسی صدی کے اگلے حصے میں جب مسلمانوں نے یہ خطہ فتح کیا اس وقت سے ہے۔

    ادارے میں کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیرر کا کہنا تھا کہ یہ سکے ممکنہ طور پر جنگ کے خوف سے بھاگنے والے شخص نے اس امید پر دبائے ہوں گے کہ واپس آکر یہاں سے اپنی ملکیت نکال لے گا۔

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ سونے کے سکوں کے علاوہ، کھدائی کے دوران قدیم شہر کے ایک رہائشی کوارٹر میں – عمارتوں کے باقیات، پانی کے نالے اور پائپ، کانسی کے سکے اور بہت کچھ بھی دریافت ہوا۔

    بنیاس کو عیسائی روایت میں ایک خاص مقام حاصل ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یسوع نے پطرس رسول سے کہا تھا، کہ اس چٹان پر، میں اپنا چرچ بناؤں گا-

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

  • ٹھٹھہ: گھارو میں  بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی

    ٹھٹھہ: گھارو میں بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی

    باغی ٹی وی : ٹھٹھہ ( راجہ قریشی نامہ نگار) گھارو میں بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی
    تفصیلات کے مطابق ٹھٹہ ضلع کے شہر گھارو میں پانچ اکتوبر 2022ء کو دنیا بھر کی طرح اساتذہ کا عالمی دن کے طور پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے آرگنائزر سندھ کے تعلیمی رضا کار محمد علی خٹک سندھی تھے جبکہ ان کی رضا کار ٹیم کے ساتھی، محمد حنیف ہولانی ملاح، حماد اشرف راجپوت، سید ذوالفقار علی شاہ سمیع اللہ بابڑو، رشید جانوری ؤ دیگر نے بھی پروگرام کی آرگنآئزنگ میں اپنا کردار ادا کیا اس موقعہ پر مہمان خصوصی جناب خدا بخش بہرانی ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر چائلڈ پروٹیکشن انچارج گورنمنٹ دیگر مہمانانِ میں سندھ پیس ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے بانی جناب عبدالغفور ھیجب جاکھرو ساحل ویلفیئر ٹرسٹ کے اسد اللہ آرائیں، اسکول پرنسپل سر ہارون لوہار، نوجوان سماجی کارکنان  یاسر جاکھرو، آصف جوکھیو، بلاول بابڑو، اسکول کے اساتذہ ایاز میرانی، سر حسنین شاہ ظمیر حسین کھوسہ، بابر علی مغل اور طالب علم عبد العزیز شیخ، و دیگر نے خطاب کیا، اور اساتذہ کرام کی عظمت پر گفتگو کرتے ہوئے موجود شرکاء اور طلباء کو استاد کی قدر اور عزت کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ان آئے ہوئے تمام مہمانوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمیں اپنی جانب سے محترم اساتذہ کو تحفے تحائف بھی پیش کئے گئے اور اپنے دیگر ساتھیوں سمیت پروگرام میں شرکت بھی کی اور ہر سال کی طرح اس سال بھی پوری دنیا کی طرح اساتذہ کا دن منایا گیا جس کی تقریب مختلف تعلیمی اداروں میں جاکر اپنے معززین و محسن قابل احترام اساتذہ کرام کو عقیدت و احترام اور محبتوں کے پھول پیش کئے گئے اس بار ادبی و سماجی دوستوں کے ہمراہ  مرکزی تقریب گورنمنٹ بوائز ہائی سیکنڈری اسکول گھارو میں  منعقد کی گئی جس میں سول سوسائٹی، صحافیوں، اور دیگر معززین شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.