Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارت کو ’’چوکرز‘‘ کا خطاب کیوں ملا؟

    ٹی20 ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں بھارتی ٹیم کو 10 وکٹوں سے بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور ٹیم انڈیا ناک آؤٹ مرحلے سے باہر ہوگئی تھی۔ سماجی رابطوں کی سائٹ پر انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد بھارتی ٹیم کو ’چوکرز‘ کا خطاب ملا، لفظ چوکرز کرکٹ کی اصطلاح میں ان ٹیموں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو آئی سی سی ایونٹس میں ناک آؤٹ مرحلوں سے باہر ہوجاتی ہیں۔

    ویسے کرکٹ کی تاریخ میں لفظ چوکرز جنوبی افریقی ٹیم کیلئے استعمال ہوتا ہے تاہم بھارت بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا ہے، اگر بھارتی ٹیم کی 10 سالہ کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اعداد و شمار کچھ یوں نشاندہی کرتے ہیں۔ سال 2013 میں بھارت نے آخری بار چیمپئن ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوا تھا، جس کے بعد سے آئی سی سی کے بینر تلے ٹیم انڈیا فیورٹ ہونے کے باوجود کوئی ایونٹ نہیں جیت سکی ہے۔ سال 2014 کے ٹی20 ورلڈکپ کے فائنل میں شکست اور پھر سال 2015 ون ڈے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست جبکہ سال 2016 کے ٹی20 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست علاوہ ازیں سال 2017 کی چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں پاکستان سے شکست ہوئی تھی اس کے ساتھ سال 2019 کے ون ڈے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں شکست ہوئی.

    اور پھر سال 2021 آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست اسکے بعد سال 2021 کے ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان سے 10 وکٹوں کی ہار جبکہ ایونٹ کے پہلے مرحلے میں ہی شکست جبکہ سال 2022 کے ٹی20 ورلڈکپ میں بھی سیمی فائنل تک رسائی کے بعد 10 وکٹوں سے انگلینڈ کے ہاتھوں شکست
    قبل ازیں آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو جبکہ انگلینڈ نے بھارت کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست سے دوچار کیا تھا۔

  • سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار

    سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار

    سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار
    تحریر:محمد ریاض ایڈووکیٹ
    وزیر آباد کی حدود میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ایک قیمتی جان کا نقصان ہوا اور عمران خان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس ہولناک واقعہ پر پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے افراد نے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا۔ ایک طرف افسوناک واقعہ پرعوام الناس میں غم وغصہ دیکھنے کو ملا وہیں پر اتنے بڑے سانحہ کی ایف آئی آر کے اندراج میں حد درجہ تاخیر دیکھنے کو ملی۔ پاکستانی معاشرے میں ایف آئی آر کے اندراج کا نہ ہونا یا اندراج میں تاخیر ہونا، اندراج کروانے یا اندراج رکوانے کے لئے دباؤ جیسے واقعات کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ پاکستانی معاشرے میں یہ عام سی بات ہے۔ مگر حیرانی اس بات کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان جیسی قد آور شخصیت پر ہونے والے قاتلانہ اور دہشتگردی جیسے واقعہ پر ایف آئی آر کے اندراج کے لئے بالآخر عدالت عظمیٰ کو آرڈر جاری کرنا پڑا۔ بہرحال آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف یعنی جرم کے خلاف انصاف حاصل کرنے کا طریقہ کار۔ جرائم جیسا کہ چوری، ڈکیتی، زنا، قتل، لڑائی جھگڑا، اقدام قتل، منشیات وغیرہ کے خلاف حصول انصاف کے لئے پاکستانی کریمینل (فوجداری) جسٹس سسٹم میں واضع ہدایات موجود ہیں۔فوجداری قوانین جیسا کہ تعزیرات پاکستان اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت درج ذیل طریقہ کار موجود ہیں۔جیسا کہ تھانہ میں ایف آئی آر (ٖFirst Information Report) کا اندراج، پولیس تفتیش، عدالتی کارروائی،بریت یا سزا، سزا کے خلاف اپیل، بریت وغیرہ وغیرہ۔
    پولیس کو اطلاع:
    چوری ڈکیتی، حادثات،قاتلانہ حملہ، جنسی زیادتی وغیرہ کی صورت میں پولیس کو بروقت اطلاع انتہائی ضروری ہے۔پولیس کو بروقت اطلاع دینے کے لئے 15 پر کال کرنی چاہئے۔اسکے ساتھ ساتھ 1122 کو بھی کال کرنی چاہئے تاکہ متاثرہ شخص کو فی الفور طبی امدار مہیا کی جاسکے۔
    طبی معائنہ:
    جسمانی ضربات کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے سب سے پہلے میڈیکل لیگل رپورٹ یا سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہو تی ہے۔ فوجداری نظام انصاف میں میڈیکل لیگل رپورٹ بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔یہ رپورٹ صرف حکومت کی جانب سے کسی سرکاری ہسپتال میں تعینات میڈیکل آفیسر ہی جاری کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ زخموں کی نوعیت ہی جرم کی شدت کا تعین کرتی ہے۔اور اسی بناء پر ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان میں درج جرائم کی دفعات کا اندراج کیا جاتا ہے اور مجرم کو سزاء بھی انہی دفعات کی بناء پر ملتی ہے۔ زخمی کو سرکاری ہسپتال پہنچانے سے پہلے تھانہ میں پہنچ کر پولیس ڈاکٹ حاصل کرنا ہوتی ہے۔ (جان جانے کا خطرہ لاحق ہو یا بہت ہی زیادہ ہنگامی صورتحال میں متاثرہ شخص کو تھانہ لیجانے کی بجائے فوراسرکاری ہسپتال میں داخل کرواناچاہئے کیونکہ سرکاری ہسپتال میں قائم پولیس چوکی سے پولیس ڈاکٹ حاصل کی جاسکتی ہے)۔ پولیس ڈاکٹ کے حصول کے بعد سرکاری ہسپتال میں میڈیکل آفیسر متاثرہ شخص کا طبی معائنہ اور علاج کرتا ہے۔ اور میڈیکل لیگل رپورٹ تیار کرتا ہے۔
    ایف آئی آر کا اندراج:
    ٖضابطہ فوجداری کی شق 154 کے تحت کوئی بھی شخص کسی قابلِ سماعت اور قابل دست اندازی جرم کی اطلاع دے کر ایف آئی آر درج کرواسکتا ہے۔ اس کا متاثرہ شخص سے کسی قسم کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔یعنی متاثرہ شخص یا کوئی اور بھی ایف آئی آر کا اندراج کرواسکتا ہے۔قانونی طور پر پولیس کی مدعیت میں بھی ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔
    پولیس کا عدم تعاون:
    تھانہ میں FIR کا اندراج نہ ہونا، پولیس کا عدم تعاون یا ناقص تفتیش کی صورت میں سائل مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت جسٹس آف پیس اور علاقہ مجسٹریٹ کے پاس براہ راست رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ مندرجہ ذیل طریقوں سے عدالت سے دادرسی یا انصاف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے جسٹس آف پیس عمومی طور پر سیشن جج صاحبان ہوتے ہیں۔
    نمبر 1: ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے اور بی کے تحت متاثرہ فریق جسٹس آف پیس کی عدالت میں جا کر بتا سکتا ہے کہ پولیس اس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار ی ہے جس پر عدالت پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اگر پھر بھی پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کرے تو متاثرہ فریق ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر سکتا ہے۔
    نمبر 2: اگر پولیس ایف آئی درج نہیں کررہی یا ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تعاون نہ کر رہی ہو یا ناقص تفتیش کررہی ہے تو مدعی براہ راست مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ(شکایت) دائر کرسکتا ہے۔ضابطہ فوجداری کی شق 190 کے تحت علاقہ مجسٹریٹ کو استغاثہ (Complaint) کااندراج کروایا جاسکتا ہے۔ استغاثہ میں باقاعدہ ٹرائل ہوتا ہے اور ملزمان کو طلب کرنے کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی شق 200 کے تحت مجسٹریٹ شکایت کی جانچ پڑتال کے بعد معاملہ مزید عدالتی کاروائی کے لئے متعلقہ عدالت میں بھیج دیتا ہے۔
    سانحہ وزیر آباد کی ایف آئی آر کی تاخیر کے منفی اثرات:
    عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد عمران خان کو وزیرآباد، گجرات، گوجرانوالہ یا لاہور کے کسی سرکاری ہسپتال میں لیجانے کی بجائے شوکت خاتم ہسپتال لیکر جایا گیا۔ نہ تو پولیس ڈاکٹ حاصل کی گئی اور نہ ہی سرکاری ہسپتال میں داخل کروا کرطبی معائنہ اور علاج کروایا گیا۔جس بناء پر سرکاری میڈیکل آفیسر سے میڈیکل لیگل رپورٹ بھی حاصل نہ کی گئی۔ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت کے زیراہتمام کسی بھی سرکاری ہسپتال میں عمران خان کو داخل نہ کروا کر سنگین قانونی غلطی کی گئی ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ عمران خان کو اس سنگین قانونی غلطی پر اپنی پارٹی کی اعلی سطح کمیٹی تشکیل دینی چاہئے کہ وہ کون افراد تھے جنہوں نے عمران خان کو سرکاری ہسپتال میں داخل کروانے کی بجائے شوکت خانم ہسپتال پہنچایا اور سانحہ وزیر آباد کے مقدمہ کو نہایت کمزور کروادیا۔ اور اس بات کی حیرانی ہے کہ نہ جانے پی ٹی آئی قیادت پولیس کے عدم تعاون پر درج بالا دستیاب قانونی ذرائع کو بروئے کار کیوں نہ لائی؟

  • اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    اپنی قدروقیمت پہچانیں! — نعمان سلطان

    انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں، اسی لئے ارشاد ہوا، مفہوم

    "جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ”

    آپ بےشک خود کو ناکارہ اور دھرتی کا بوجھ سمجھیں لیکن کچھ لوگوں کے جینے کی وجہ صرف آپ ہیں اور ان کی زندگی میں رنگینی آپ کے دم سے ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ جیسے ہیرے کی قدروقیمت اور پہچان جوہری کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ایسے ہی آپ کی قدروقیمت صرف آپ کے گھر والے جانتے ہیں اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ جب بھی آپ کوئی فیصلہ کریں تو یہ ضرور سوچیں کہ کہیں اس کے اثرات سے میرے گھر والے متاثر نہ ہوں ۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاست میں رواداری ختم ہو کر تشدد کا عنصر شامل ہو گیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں آپ کو بروقت انصاف نہ ملے یا آپ کو واضح محسوس ہو کہ انصاف کرنے والا اپنے بجائے کسی اور کے احکامات پر فیصلے کر رہا ہے تو پھر فیصلے بھی سڑکوں پر ہی ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے بجائے طاقت سے روکا جاتا ہے جس کے ردعمل میں بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پرامن مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

    مرحوم قاضی حسین احمد کی پہچان ” دھرنا ” اور ان کا مشہور نعرہ "ظالموں قاضی آ رہا ہے ” تھا موجودہ وقت میں سیاست دان چین سے متاثر ہیں اس وجہ سے اپنی سوچ کو وہ انقلاب سمجھتے ہیں اور انقلاب لانے کے لئے وہ ” ماؤزے تنگ ” کی طرح لانگ مارچ کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس لانگ مارچ کا اختتام دھرنے پر ہی ہوتا ہے، ابھی بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے لانگ مارچ شروع کیا ہوا ہے جس کے دوران ان پر حملہ بھی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس شدید حملے میں ان کی جان محفوظ رہی اور وہ زخمی ہوئے امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے ۔

    اس لانگ مارچ کے دوران عمران خان کو بچانے کی کوشش میں ایک کارکن کی شہادت ہوئی ہے اس کے علاوہ لانگ مارچ میں شامل گاڑی کی ٹکر سے اور گاڑی پر سے گر کر بھی کارکن اور میڈیا ورکر فوت اور زخمی ہوئے ہیں حال ہی میں راولپنڈی میں احتجاج کے دوران ایک کارکن بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور کرنٹ لگنے سے وہ کھمبے پر سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔

    پاکستان میں یہ نہ پہلا لانگ مارچ ہے اور نہ ہی آخری اور اگر لانگ مارچ یا دھرنا کامیاب ہو بھی جائے تو اقتدار یا اختیار لیڈروں اور ان کے منظور نظروں کو ہی ملتا ہے جب کہ سیاسی ورکر اپنی حامی جماعت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد چھوٹے موٹے کاموں (بجلی گیس کے میٹر وغیرہ) کے لئے درخواستیں لے کر ان کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی اس کا کام ہو بھی جائے تو اس کی وجہ سیاسی کارکن کی جماعتی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ صاحب کے اچھے موڈ یا ان کے کسی منظور نظر کی سفارش کی وجہ سے اس کا کام ہوتا ہے ۔

    ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے دوران عام عوام کے ساتھ شرپسند لوگ بھی مجمع میں شامل ہوتے ہیں جن کا مقصد ایسے موقع پر فساد کر کے ملک میں افراتفری اور ابتری پیدا کرنا ہوتی ہے اور موقع ملتے ہی وہ اپنا کام سرانجام دے دیتے ہیں ایسے موقعوں پر کیوں کہ سیاسی لیڈروں کی سیکیورٹی سخت ہوتی ہے تو عموماً ٹارگٹ عام عوام بنتے ہیں اور زیادہ نقصان بھی عام عوام کا ہی ہوتا ہے ۔

    سیاست دان ان واقعات پر اپنے غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں سیاسی کارکنوں کے لواحقین کے لئے امداد کا اعلان کرتے ہیں کچھ امداد انہیں دے دیتے ہیں اور باقی امداد کے وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈروں کو تو ایسے واقعات سے عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اقتدار کا سنگھاسن حاصل کر لیتے ہیں مگر عام عوام کو کیا ملتا ہے صرف حکمران ان کی جماعت کے آ جاتے ہیں لیکن عوامی مسائل اسی طرح اپنی جگہ رہتے ہیں اور یہ سیاسی کارکن بھی اپنے مسائل کے حل کے لئے مختلف دفاتر میں دھکے کھا کر نظام کو برا کہتے رہتے ہیں ۔

    عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ بے شک آپ اپنی ایک سیاسی سوچ رکھیں اور جس سیاسی جماعت کے نظریات آپ کو پسند ہیں اس کی حمایت کریں لیکن جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں جا کر اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں بلکہ ووٹ کی طاقت سے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے اقتدار میں لائیں آپ کے پاس سب سے قیمتی چیز آپ کی جان ہے لیکن آپ بھی کئی لوگوں کی کل متاع ہیں جن کی زندگی آپ سے شروع اور آپ پر ختم ہوتی ہے اس لئے براہ کرم ان سیاسی جماعتوں کی خاطر اپنی جان خطرے میں اور اپنے پیاروں کو آزمائش میں نہ ڈالیں ۔

  • میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی کل آبادی میں نوجوانوں کی تعداد تقریباً 70 فی صد ہے۔ اور یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ مگر اس مستقبل کا ساتھ ریاست کا رویہ، افسوسناک ہے۔ پاکستان کے اس 70 فی صد سے جذباتی بنیادوں پر ووٹ لے لیے جاتے ہیں۔ مگر پھر حکومتیں انکو بھول جاتی ہیں۔ اسمبلیوں میں صرف ایک دوسرے کو چور، ڈاکو ہی کہا جاتا ہے۔ اپنی سیاست چمکانے کے لیے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ مگر نوجوان کی کوئی بات نہیں کرتا۔ نوجوان اگر سمجھ جائے تو یہی وقت کا بادشاہ ہے۔ مگر نوجوان کنفوز ہے۔ اس لیے کہ اس کے سامنے کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔ جسکی وہ پیروی کر کے آگے بڑھے۔کیونکہ موجودہ دور میں مذہبی یا سیاسی کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں ہے، جو نوجوان نسل کو متاثر کر سکے۔لیکن اگر یہی نوجوان نسل، اقبال کے فلسفہ اور فکر سے رہنمائی لے۔تو یقیناً وقت کے بادشاہ بن سکتے ہیں۔علامہ اقبال نے نوجوان نسل کےلیے ہی فرمایا تھا کہ

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    اقبال نے نوجوان نسل کو شاہین سے تعبیر کیا ۔ شاہین خود دار اور بے خوف پرندہ ہے۔ نڈر ہو کر پروں کو کھول کر فضا میں اڑتا ہے۔اقبال کی شاعری میں موجود فکر اور فلسفہ انھیں باقی شعراء سے منفرد بناتا ہے ۔ وہ اپنے وقت کے مظلوموں کی طاقتور ترین آواز تھے۔ آج بھی انکی فکر سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ ان کے فلسفے میں آفاقیت پائی جاتی ہے۔

    کبھی نوجوان قوت خوابیدہ کو بیدار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

    پیغام خودی دے کر اقبال اس قوم کے نوجوانوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے۔ جس کی جھلک ان کے اشعار میں بھی ملتی ہے۔

    جوانوں کو میری آہ سحر دے

    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

    خدایا آرزو میری یہی ہے

    میرا نور بصیرت عام کر دے

    خدا کرے کہ ہم نوجوانوں کو فکر اقبال سمجھ آجائے۔ اور ہم اپنے مقام و مرتبے کو پہچان پائیں۔

  • نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالم گلوچ‘ ہلڑ بازی‘ بلوہ بندوق کیا کم تھے کہ نازیبا اور فیک ویڈیو کے وار کرکے ملک کے نہ صرف معاشرتی و سماجی اقدار کو پامال کیا جارہاہے بلکہ سیاست اور سیاستدانوں کے زندہ جنازے نکالے جارہے ہیں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں سیاست کے لئے نفرت بھری جارہی ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی معاشرے میں سیاسی آزادیوں کے فروغ اور سیاسی پارٹیوں کا استحکام ہی درپیش چیلنجز سے قوموں کو نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ مضبوط سیاسی اقدار مضبوط سیاسی افکار ہی کسی قوم کو مضبوط مستحکم معاشرہ اور مضبوط معیشت دیتے ہیں۔ مضبوط معیشت ہی ناقابل تسخیر دفاع کی ضامن ہے

    صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کو کھیل تماشا ناچ گانا گالم گلوچ احتجاج کے نام پر سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگانے سکول کالج بند کرانے تو بنا ہی دیا گیا تھا لیکن سیاستدانوں کی ویڈیو جنگ نے تو ہر باشعور اور سنجیدہ حلقے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں اعظم سواتی کی ازدواجی زندگی پر فیک ویڈیو کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسی عمر کے بزرگ سیاستدان پرویز رشید کی ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی جس نے سنجیدہ سیاسی حلقوں میں سکتہ طاری کردیا ہے۔ پرویز رشید سیاست میں رواداری اور سنجیدگی کا آئی کان ہے اور ان کی سیاسی جدوجہد کو تمام سیاسی پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ایسی شخصیات کے لباس پر غلاظت کے چھینٹوں سے کون سے مذموم عزائم کو پورا کرنے کی مشق کی جارہی ہے اور ان حرکات کو قوم کو سماجی انحطاط معاشرتی بے راوہ روی اور سیاسی بانجھ پن کی صورت میں قوم کو مستقبل قریب میں ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مقتدر حلقوں سیاسی جماعتوں اور معاشرتی قوتوں کو یکجا ہو کر ایسی سازشوں کو روکنا ہوگا.

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کاش ہمارے سکولوں میں کوئی ڈھنگ سے سائنس سکھاتا تو آج ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اُٹھا کر یہ نہ کہتا پھرتا کہ دیکھیں جی: "سینس” کی تھیوری اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ تھیوری جب "پاروو” ہو جاتی ہے تو "سینس” کا فیکٹ یا لا بن جاتی ہے ورنہ صرف تھیوری جسکی کوئی اہمیت نہیں۔

    نجانے کس نے یہ بات اس قوم کے ذہن میں ڈال دی یے جو نکلتے نہیں نکلتی۔

    لیجیئے پھر سے پڑھ لیجئے کہ سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے۔ سمجھ نہ آئے تو کسی بچے کو پڑھائیں، وہ سمجھ جائے گا پھر وہ آپکو بھی سمجھا دے گا۔

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔

    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔

    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔

    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    معیشت بہتر کرنے کیلئے بڑے بڑے مشورے اور منصوبے کسی فرد کو نہیں بدل سکتے. بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور کچھ عادتیں ہوتی ہیں جو ہماری سوچ بن جائے تو ہماری معیشت بدل جاتی ہے. مثلاً آپ اپنی خریداری کی مثال لیں. ہر شخص کی بنیادی ضروریات اسے بازار بھی لے کر جائیں گی اور خرچ بھی کرائیں گی.

    آپ نے جوتے لینے ہیں. ایک جوڑا دو ہزار کا ہوگا تو ایک پانچ ہزار کا وہیں ہزار گیارہ سو کا بھی ہوگا. مختلف رنگ ہوں گے فیشن ہوں گے. آپ نے یہاں معیار ڈھونڈنا ہے. ایک جوتا سستا ہے خوبصورت ہے لیکن آپ اسے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ معیار ایسا ہے جو ایک بارش یا کچی زمین پر چلنا زیادہ برداشت نہیں کر سکتا. دوسرا جوڑا اتنا خوبصورت اور شوخ نہیں اور مہنگا بھی زیادہ ہے. آپ چیک کرتے ہیں تو اسکا معیار بہت اعلیٰ ہے. یہ سالوں چلنے والا جوتا ہے.

    اب کچھ لوگ وقتی خوشی اور دوسروں کو متاثر کرنے کیلئے وہ سستا خوبصورت جوڑا اٹھا لیں گے تو کچھ زیادہ طویل استعمال کیلئے وہ مہنگا جوتا اٹھا لیں گے. سستے جوتے والا کچھ مہینے بعد موچی کے پاس کھڑا ہوگا تو اگلے مہینے دوبارہ جوتا خریدنے کیلئے. معیار پر مہنگا لینے والا جبکہ کئی سال کیلئے بے فکر ہوگیا.

    ہماری یہ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریاں ہوتی ہیں جو ہم معیار دیکھ کر مارکیٹ سے زیادہ ریٹ پر اٹھا لیتے ہیں لیکن یہ آنے والے وقت میں ہماری بچت بن جاتی ہے. ہماری یہی بچت ہمیں نئی سرمایہ کاری کا موقع دیتی ہے اور ہماری معیار کی تلاش اور اس معیار کیلئے زیادہ ادائیگی کا حوصلہ جمع ہوکر ہمیں سرمایہ کار بناتا ہے.

    جو لوگ اپنی چھوٹی خریداری میں سرمایہ کاری نہیں سیکھ پاتے وہی لوگ بڑے بڑے منصوبے بناتے دل کی وقتی خوشی کا ساماں کرتے رہتے ہیں.

  • ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی دلچسپیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ویسے بھی عمر کے ہر مرحلے میں انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ نوجوانی انسانی عمر کا جوشیلا عرصہ ہے ۔ ذرا ذرا سی بات پر بڑھک جانا ، بھر جانا ، مار دینا ، مرجانا اس عمر کی خصوصیات کے طور پر اکثریت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

    نوجوان گرم خون میں اسلحے کی نمائش کرتے ہیں ، اسلحہ بڑے شوق سے خریدتے ہیں پھر اس اسلحے کے استعمال کا کیڑا بھی ستاتا رہتا ہے اور وہ ہوائی فائر کرکے من کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خاندان میں نوجوانوں کا گروہ متحرک ہوتا ہے اور ہر وقت لڑائی پر آمادہ رہتا ہے اس غرض سے انہوں نے سپیشل ڈنڈے ، سوٹے ، سنگل ، نیزے ، چھرے اور طرح طرح کے خونی و باردونی ہتھیار جمع کیے ہوتے ہیں ۔

    لڑائی و مخاصمے کی فطرت ان میں اتنی شدید ہوتی ہے کہ ملکی قوانین نہ صرف بے اثر ہوجاتے ہیں بلکہ بے بس بھی ہوجاتے ہیں ۔

    انسانیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فطرت کو دبانے کی بجائے فطرت کے اظہار کے جائز اسباب مہیا ہونے چاہئیں ۔ مثلا شہوانی جذبات ہیں تو زنا کا راستہ بند کرنے کے ساتھ شادی کو آسان بناو ۔

    دنیا سے الگ تھلگ ہونے کے جذبات ہیں تو راہبانہ زندگی پر انسداد کی مہر لگانے کے ساتھ زہد و تقوی کا راستہ دکھایا جائے ۔ اسی طرح مخاصمہ و لڑائی کے جذبات جوانی میں سکون سے نہ بیٹھنے دیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو سمت دکھاو ۔ ان کو بتاو کہ آپس میں جن بھائیوں پر تم اپنی بدمعاشی جھاڑ رہے ہو یہ اصل مقام نہیں ہے ۔

    بلکہ اصل مقام یہ ہے کہ ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنی جھگڑالو فطرت کی تسکین کرو ۔ اعلائے کلمہ اللہ کے راستوں کی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اپنا بڑھک پن دکھاو ۔ دین کی سر بلندی کے لیے اس اسلحہ و ہتھیار کی نمائش کرو ۔

    یہی دین اسلام نے راستہ بتایا ہے ۔ اور دین اسلام کی یہی تو خاصیت ہے کہ فطرت والا دین ہونے کے باعث یہ فطرت کو دباتا نہیں بلکہ فطرت کے اظہار کی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

  • اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    سیلاب کے لگائے گئے زخم ابھی تک نہیں بھرے ۔ لیکن وطن عزیز کے درمند مرہم خوب لگا رہے ہیں ۔ کچھ احباب کی جانب سے یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ کافی گھروں کی تقسیم مکمل ہوچکی ہے لیکن کام ابھی بھی جاری ہے ۔ خاکسار کے چند سوال ہیں جو صرف درمندوں کو ہی چبھے گے اور فکر پیدا کریں گے ۔

    یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے یہی اثرات اگر اگلے سالوں میں سیلاب کی صورت رونما ہوتے ہیں تو کیا یہ گھر محفوظ رہیں گے ؟

    اگر نہیں تو یہ تخریب و تعمیر کا سلسلہ آخر کب تلک ہے ؟

    ماہرین کی جانب سے ریڈ زون میں تعمیر کیے گئے گھروں کی قانونی و شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟

    اگر ماہرین کسی علاقے کو خطرناک کہہ کر تعمیری کام سے روک رہے ہیں تو کیا وہاں پر تعمیر کرنا سمجھداری ہے ؟

    لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ مجھ سے بھی counter سوال پوچھے جاسکتے ہیں کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟

    میں کہوں گا کہ حکومت وقت ڈیم بنائے اور تخریبی پانی کو تعمیری پانی میں بدلے ۔۔۔۔

    آپ مجھ پر ہنسے گے کہ حکومت ؟؟؟؟۔

    یقینا اس نکتے پر میں بھی لاجواب ہوجاوں گا کہ وطن عزیز کو آج تلک جو بھی حکومت میسر آئی وہ تو بانجھ ہی رہی اور ہے ۔۔۔۔ کتنے ہی ماہرین ہیں جو ایسی تجاویز دے رہے ہیں جن سے ان آفات کی تباہیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو ۔

    بیرون ممالک سے آئی ہوئی امداد کا کچھ پتہ نہیں ۔ حاکم وقت ان کو ظاہر کرکے معاملات واضح کیوں نہیں کرتا ۔؟

    کیا مخمصہ ہے ۔۔۔ کیا بے بسی ہے ۔۔۔ وطن عزیز کو خدا اپنی رحمت کے حصار میں لے ۔۔۔ کیونکہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا اللہ ہوتا ہے ۔