Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن — ضیغم قدیر

    پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن — ضیغم قدیر

    یہ پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن ہیں پچھلے چھ سات سال سے میرے فیورٹ کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں ان سے بہتر میرے خیال سے آج کی تاریخ میں کوئی سائیکالوجسٹ زندہ نہیں ہے۔

    انکی زندگی کے متعلق اپروچ حد سے زیادہ مثبت اور حوصلہ افزاء ہے۔ خاص کر انکے پرسنالٹی پر دئیے گئے یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے لیکچر کسی بھی سائنس کے طالب علم کو ضروری سننے چاہیں۔ وہیں انکے یہ لیکچر ان لوگوں کے لئے سننا بھی اہم ہیں جو زندگی میں کسی قسم کی ڈپریشن یا پر پریشانی سے گزر رہے ہیں اور ایک استاد کی شکل میں ایگزٹ چاہتے ہیں۔

    انکی زندگی کو لے کر چلنے والی اپروچ بہت ہی عمدہ ہے۔ پروفیسر پیٹرسن کا کہنا ہے کہ اپنا خیال ویسے ہی رکھیں جیسا آپ کسی اپنے پیارے کا رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انکی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ ڈپریشن میں ہیں تو سب سے پہلے اپنا بستر درست کرنا شروع کریں۔ یہ سادہ سی بات ہمیں بہت سی پریشانیوں سے بچا سکتی ہے۔

    مختلف شارٹ ویڈیوز میں پیٹرسن کی وجہ شہرت فیمنزم اور پوسٹ ماڈرنزم کے لتے لینے سے ہوئی ہے لیکن ہم جو انہیں ایک دہائی سے سن رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پروفیسر سائیکالوجی میں ایک بہت قابل نام ہیں اور انہوں نے خود آگاہی پہ جو کام کیا ہے وہ قابل دید ہے۔

    یوٹیوب پہ ایک مشہور سلیبرٹی ہونیکے ساتھ ساتھ یہ ایک جید سائنسدان ہیں جس کی سائٹیشنز کی تعداد بیس ہزار اور ایچ انڈیکس 57 ہے مطلب وہ ایک قابل سائنسدان بھی ہیں۔

    انسانی پرسنالٹی کے بارے میں انکی تمام باتیں سائنسی حقائق پہ مبنی ہیں اور اگر آپ کسی قسم کی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں تو آپ کو انہیں سننا چاہیے یہ آپ کو منجدھار سے نکال باہر لائیں گے۔

    جہاں البرٹ ایلس جیسے سائیکالوجسٹس نے ہمیں فرائیڈ کے نظریات سے نکال کر جدید سائیکالوجی سے متعارف کروایا اور CBT جیسی تکنیک متعارف کروائی وہیں پیٹرسن نے البرٹ ایلس سے آگے جاکر سائیکالوجی میں ارتقائی علم کے استعمال کیساتھ ساتھ سینٹ فوکالٹ کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کنٹرول کرکے پوسٹ ماڈرن نظریات سے نوجوان نسل کے ذہن پراگندہ کرنے کے ایجنڈے کو ناکام بنایا ہے۔ جس کا مقصد نئی نسل کے ذہن سے اقدار کو ختم کرنا ہے مگر پیٹرسن جیسی مزاحمتی آواز نے اس ایجنڈے کو پورا ہونے سے روک رکھا ہے اور یہ انکی انسانیت کے لئے کی گئی سب سے بڑی نیکی ہے۔

  • زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔

    ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔

    ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔

    زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج، شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟

    کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔

    بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

    بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ یہ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان میں کچھ قابل تعریف ہے ہی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں تو تعریف کا اسٹینڈرڈ ہی کافی گھٹیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی پیارا لگ رہا ہو تو بجائے اس کی تعریف میں دو بول بولنے کے وہ اس پر کوئی تھرڈ کلاس جگت لگا دیتا ہے۔ جس پر اگلا بندہ شرمندہ شرمندہ سا ہوجاتا ہے۔

    بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ مگر یہ کلیئر کٹ ہے کہ کوئی بھی آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔ اگر آپ کسی کو یاد کر رہے ہیں تو آپ کو اگلے کو بتانا ہوگا۔ اگر کسی کو پیار کرتے ہیں تو اظہار کرنا ہوگا۔ سنا تھا کہ خدا بھی اظہار کے بغیر خود سے کی گئی محبت قبول نا کرے اور یہ بات بجا ہے۔

    اسی طرح کسی کی قبر کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی غیر موجودگی کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ اسکے سامنے ہوتے ہوئے اس کی دل آزاری کرتے ہیں تو آپ اسکی غیر موجودگی میں چاہے اس شخص کو حاتم طائی ثابت کردیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    ہاں

    ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ پاس ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تب آپ کا کچھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ انفرادی طور پہ اس عادت کو ضرور اپنائیں۔ کبھی کبھار کی تعریف کرنا سیکھیں۔

    خاص کر اپنے بچوں کی تعریف کرنا شروع کریں۔ اس نے گنتی لکھنا شروع کی تو ایک چاکلیٹ لا دیں۔ چاہے پانچ والی لا کر دیں دیکھ لیجیے گا اگلی بار وہ نیا ٹاسک جلدی سیکھے گا ۔ بچوں میں ٹاسک پہ خوش ہونا بہت کامن ہوتا ہے اگر آپ ان میں موجود ریوارڈ سسٹم کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گفٹ دینا سیکھیں۔

    اپنے ملازم کی تعریف کریں۔ تعریف میں چار پیسے زیادہ دیں۔ اگلی بار دیکھیے گا کہ کیسے وہ ڈیڑھ بندوں کا کام اکیلا انجام دیتا ہے۔ کیونکہ تعریف ایک مثبت پرفارمنس بوسٹر ہے۔

    اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کریں۔ اگلی بار دیکھیئے گا کہ کیسے وہ آپ سے اپنا پیار دو سے تین گنا کرتا ہے۔ یہ ایک واہمہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف کریں گے تو وہ بگڑ جائے گا یا آپ کی قدر کرنا چھوڑ دے گا بلکہ اگر وہ قدر دان ہوا تو وہ آپ کی پہلے سے زیادہ قدر کرنے لگ جائے گا سو اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کرنا شروع کریں یہ عادت آپکے رشتے کو مضبوط بنا دے گی۔

    بس ایک بار ٹرائی کرکے دیکھیئے گا۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی اس احساس محرومی میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کو کوئی اپنا کبھی نہیں سراہتا جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے۔

  • پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    ویسے تو تمام آسمانی مذاہب میں زومبیز جیسا کوئی کردار نہیں ہے، یہ صرف ہالی ووڈ موویز میں ڈیفائن کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہالی ووڈ موویز میں زومبیز ایسے مردہ انسان ہوتے ہیں جو کسی کو کاٹ کھائیں تو وہ بھی زومبی بن جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک نئی طرح کے زومبی نیس کا شکار ہوگیا ہے۔ایسے کردار جو غلط یا غیر موجود کیرئیر کونسلنگ کی وجہ سے معاشرے کے کسی خاص شعبے میں ، اپنی مرضی کے بغیر ، شامل ہوجاتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ معاشرے کے دوسرے افراد میں بھی اپنی طرح بیزاری اور مایوسی بھرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

    کیا کسی ایسے سٹوڈنٹ کو کوئی ایسا مضمون زبردستی پڑھایا جاسکتا ہے جس میں اس کی دل چسپی ہی نہ ہو؟؟

    مثلا اسلامی مدرسوں میں بچوں ان کی عدم دل چسپی کے باوجودان کو مار پیٹ کراگر ہم ان کو عالم دین یا حافظ قرآن بنا بھی دیں اور اس کے مقابلے میں کچھ ایسے سٹوڈنٹس ہوں جو صرف اپنی ذاتی دل چسپی اور شوق کی وجہ سے حافظ قرآن یا عالم دین بنیں تو کورس مکمل ہونے کی بعد کی زندگی میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے کو زیادہ بہتر اور دل جمعی کے ساتھ خدمات مہیا کرنے میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے میں بہتری، تازگی اور برداشت پہلے والے سٹوڈنٹس کی وجہ سے آئے گی یا دوسرے والے؟

    یہی کہانی باقی تمام دنیاوی مضامین میں اپلائی ہوتی ہے۔ جس بچے کو بائیو سمجھ ہی نہیں آتی، اس کو آپ ایک اچھا ڈاکٹر کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہر بچے کی دل چسپیاں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم ٹیچرز کے پاس ہر کلاس میں تقریبا 90%سٹوڈنٹس ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی مرضی کی بجائے کسی اور مثلا ماں باپ، ماموں، چاچو یا دوستوں کے کہنے کی وجہ یہ مضمون منتخب کرتے ہیں اور پھر اگر کسی طریقے سے رٹا لگا کے، ذہنی اذیت برداشت کرکے یہ مضمون پاس کربھی جائیں تو اول نمبر اتنے اچھے نہیں آتے، یا نمبر اچھے آجائیں تو اس مضمون میں اپنی عدم دل چسپی کی بنا پر معاشرے کو اپنا سو فیصد کنٹری بیوشن نہیں دے سکتے۔

    ایک اور مثال اپنے مضمون سے دینا چاہتا ہوں کہ ایم سی ایس یا بی ایس کمپیوٹر سائنسز کرنے والے اکثر سٹوڈنٹس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کو پروگرامنگ کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہوتا اور وہ اپنی طرف سے ایک لائن بھی کوڈ نہیں کرسکتے۔ اب ایک ماسٹرز ڈگری والا پروگرامنگ کی ایک لائن بھی نہیں لکھ سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کو کمپیوٹر سائنس پروگرام میں جو ایڈمشن دیا تھا وہ ایڈمشن غلط تھا۔اور ایسے سٹوڈنٹس جب ڈگری مکمل کرنے کے بعد حقیقی دنیا میں واپس آئیں گے۔ تو اچھی آمدن نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بیزاری، عدم برداشت اور تعلیم سے دوری جیسے عناصر کو فروغ دیں گے۔

    حقیقتا ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ویسے تو ایسے سٹوڈنٹس کا ڈگری میں کامیاب ہونا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہماری یونیورسٹیز میں سے اکثریت علم کی دریافت اور ایجاد کی بجائے چھاپہ خانے کی سروسز مہیا کررہی ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اچھی آمدن کیلئے ڈگری ضروری نہیں ہوتی ۔ یہ علیحدہ قابل مباحثہ موضوعات ہیں۔

    ہمیں میٹرک کے بعد سے ہی اس مسئلے پر توجہ دینی پڑی گی۔ کیرئیر کونسلنگ کے شعبے کی کالج لیول پر اشد ضرورت ہے۔ ہر بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون کے بارے میں پوچھا جائے، جو اس کو سمجھنے میں آسان لگتا ہے۔ یا بالفرض اس کو کسی ایسے پروگرام میں ایڈمشن مل بھی جاتا ہے جو وہ فالو نہیں کرسکتا تو ایک یا دو ماہ کے اندر اپنا پروگرام تبدیل کرلے اور کسی ایسے پروگرام میں داخلہ لے لے، جس میں اس کو دل چسپی ہے۔

    ہمیں مزید پروگرامز متعارف کروانے ہوں گے، جس میں ٹیکنیکل پروگرامز کی کثیر تعداد شامل ہو۔ کیوں کہ سٹوڈنٹس کی اکثریت روایتی تعلیمی پروگرامز میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ ہمیں میرٹ بیسڈ ایڈمشنز کو فروغ دینا ہوگا۔ کمپیوٹر سائنس پروگرام میں اس کو ایڈمشن دیں، جس کی ریاضی اچھی ہو۔ جو کوڈنگ کرسکتا ہےورنہ اس کے کمپیوٹر سائنس پڑھنے سے نہ اس کو کوئی فائدہ اور نہ ہی ملک کو کوئی فائدہ۔ بلکہ اس کے پروگرام کو جوائن کرنے سے الٹا ریسورسز کا ضیاع ہی ہوگا۔

    کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی قسم کے تعلیمی پروگرام میں دل چسپی نہیں لیتے ۔ ان کیلئے سپورٹس پروگرام اور انٹرن شپ بیسڈ پروگرامز متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔ جس میں مارکیٹ میں ہونے والے بہت سارے کاروبار میں ان کی مہارت ڈیویلپ کی جاسکتی ہے۔

  • دبئی میں دو سیٹوں والی الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ

    دبئی میں دو سیٹوں والی الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ

    دبئی: ایک چینی فرم نے پیر کے روز دبئی میں ایک الیکٹرک فلائنگ کار کا تجربہ کیا، جس میں مستقبل کی ٹیکنالوجی کی ایک جھلک پیش کی گئی-

    باغی ٹی وی :واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دبئی میں دو سیٹوں کی اُڑنے والی گاڑی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے،دو سیٹوں والی الیکڑک کارکواسکائی ڈائیو میں عمودی ٹیک آف اورلینڈنگ کرائی گئی ہے فلائنگ کار کی رفتار130 کلومیٹر (80 میل) فی گھنٹہ ہے اور یہ مصنوعی ذہانت کنٹرول سسٹم سے لیس ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    فلائنگ کار چینی انجینئرز کی کاوش ہے جو مصنوعی ذہانت کنٹرول سسٹم سے لیس ہے، اس کے علاوہ کار خود مختار اُڑان بھی بھر سکتی ہے۔

    فلائنگ کار بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے فلائنگ کار کو پہلے مرحلے میں بعض ریگولیٹڈ علاقوں میں ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ آپریشنل اخراجات اور خطرات کو کم کیا جا سکے۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    کا ر کو Guangzhou میں قائم XPeng Inc کے ہوا بازی سے وابستہ ادارے نے تیا کیا ہے،دنیا بھر میں اڑن کاروں کے درجنوں منصوبوں میں سے ایک ہے پیر کو مظاہرہ ایک خالی کاک پٹ کے ساتھ کیا گیا تھا، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے جولائی 2021 میں انسان بردار فلائٹ ٹیسٹ کیا تھا گاڑی دو مسافروں کو لے جا سکتی ہے اور آٹھ پروپیلرز کے سیٹ سے چلتی ہے۔

    کار کے حوالے سے کمپنی کا کہناہےکہ دو سے تین سالوں میں فلائنگ کاردبئی میں اُڑتی نظرآئےگی۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

  • ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    ٹوئٹر نے صارفین کی جانب سے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس کی روک تھام کے لئے کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ٹوئٹر کی آئی او ایس ایپ میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کی جارہی ہے جس میں کسی ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ لینے پر ایک پوپ اپ میسج سامنے آتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسکرین شاٹ لینے کی بجائے ٹوئٹ کو شیئر کریں کچھ افراد کے سامنے تو کاپی لینے کا آپشن بھی آرہا ہے۔

    صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے


    ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ کروڑوں ٹوئٹس کو روزانہ ٹوئٹر سے دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ٹوئٹس تک ہر فرد کو رسائی حاصل ہو چاہے وہ پلیٹ فارم سے باہر ہی کیوں نہ ہو۔

    ترجمان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ہم ایک نئے پروموٹ کو آئی او ایس میں ٹیسٹ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے دوستوں کے ساتھ ٹوئٹس شیئر کرنے کے ذرائع کا علم ہوسکےیہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جب حقیقی ٹوئٹ کی بجائے اس کے اسکرین شاٹ کو شیئر کیا جاتا ہے تو دیگر افراد کو اس پلیٹ فارم سے انگیجمنٹ کا موقع نہیں ملتا۔

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ٹوئٹر کے لیے ایسے افراد کو اشتہارات دکھانے کا موقع نہیں ملتا یا انہیں اس سروس کا حصہ بننے کی پیشکش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

    ٹویٹر صارفین کو اسکرین شاٹنگ کے برعکس ٹویٹس کا اشتراک کیوں کرنا چاہتا ہے۔ ایک تو، آپ ایپ پر زیادہ دیر تک رہیں گے یا ایک لنک بھیجیں تاکہ کوئی دوسرا ٹوئٹر پر وقت گزار سکےجتنا زیادہ وقت کوئی ٹویٹر پر گزارتا ہے، اتنا ہی زیادہ فروغ شدہ ٹویٹس اور اشتہارات وہ دیکھتے ہیں۔

    اگر آپ کسی ٹویٹ کا اسکرین شاٹ کر کے اسے کسی اور سوشل میڈیا ایپ پر پوسٹ کرتے ہیں تو ٹویٹر کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

  • مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    اس وقت مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز بہت ٹرینڈنگ ہیں جس میں ان بچوں کو جو اپنی بائیولوجیکل جنس سے ہم آہنگ نہیں ہیں انہیں سرجری سے گزارا جاتا ہے یا ہارمون بلاکر لگائے جاتے ہیں۔

    مطلب؟

    مطلب یہ کہ نو عمر بچے جو شروع سے ٹی وی پہ بار بار lgbtq+ چیزیں دیکھ رہے ہیں مطلب انہیں بچپن سے سکھایا جا رہا ہے کہ مرد کا مرد ہونا اسکے لئے جرم ہے عورت کا عورت ہونا، تو وہ اس بات کو سیریس لے کر اپنی بلوغت سے پہلے اپنے جسمانی جنسی اعضا کی نمو روکنے کے لئے ہارمون بلاکر لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پہلے بچوں کو برین واش کیا جاتا ہے اور پھر پراڈکٹ بیچی جا رہی ہے۔ اور اس پر میڈیکل ایتھکس بھی اپلائی نہیں کی جا رہیں اور جو اس پر بات کرتا ہے اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ ہارمون بلاکر کیا کرتے ہیں؟

    یہ ہارمون بلاکر بچیوں میں انکی چھاتیوں کو بڑھنے سے روکتے ہیں، بچوں میں ان کے مردانہ خصائص کے اظہار کو روکتے ہیں۔

    اور اس بارے میں حد سے زیادہ تنگ نظری پائی جا رہی ہے اگر آپ اس عمل کو غلط مانتے ہیں تو آپ ٹرانس فوبک کہلوائے جاتے ہیں، آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے گا، باہر کے ملک سے آئے ہیں تو امیگریشن کینسل کرکے ملک سے بیدخل کر دیا جائے گا۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہیں، سائنسدان ہیں یا صحافی، بلاتفریق اس پر زبان بندی کروا دی جاتی ہے۔

    اور واقعی میں ایسا ہو رہا ہے۔

    حالانکہ میڈیکل سائنس میں کسی قسم کے بھی جسمانی آرگن کو ٹرانسپلانٹ تک کرنے کے سخت سے سخت قانون ہیں مگر آپ ہارمون بلاکرز اور بریسٹ ریموول سرجری کے لئے ایک اپائنٹمنٹ لیکر سب کچھ کروا سکتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ زور اس بات پہ دیا جاتا ہے کہ کم عمری میں ہی لڑکے اپنی ویسکٹومی کروا لیں مطلب خود کو ناکارہ کروائیں۔

    ہمارے ملک میں ٹرانسجینڈر بل امریکہ اور مغربی ممالک کا لال منہ دیکھ کر اپنا منہ لال کرنے کی طرف ایک قدم تو ہے ہی وہیں اسکے کلچرلی بہت بھیانک نتائج ہونگے۔

    کیوں؟

    کیونکہ ہمارے ہاں پہلے ہی مخلوط تعلیم اور رہن سہن پر پابندی ہے ایسے میں جب کم عمر ذہنوں کو بار بار بتایا جائے گا کہ ایک ہی جنس میں کشش محسوس کرنا اور اپنی جنس کو مخالف سمجھنا نارمل ہے تو یہ تباہی مغرب سے زیادہ بھیانک ہوگی۔

    ٹرانسجینڈر ایکٹ جس دن پاس ہوا تھا اس دن اس پہلو پہ بات کرتے ہوئے ہمارے کان لال ہو گئے تھے مگر کچھ سال بعد ان لوگوں کے لال ہونگے جو ابھی خاموش ہیں مگر انکا بیٹا جب صائم سے صائمہ بنے گا اور اپنی اصل بائیولوجیکل جنس قبول کرنے سے انکاری ہو جائے گا۔

    ہمارے ہاں ٹرانسجینڈ ایکٹ کے اثرات مغرب سے برے ہونگے اور آپ یہ بات نوٹ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے یہ پوسٹ ٹرانس فوبک ہرگز نہیں بلکہ کلچرل اور میڈیکل پہلوؤں کو بتا رہی ہے۔

  • چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    یہ وقت ہمیں کہاں لے آیا کہ بارود پھٹے تو تکبیر کا نعرہ لگے۔ مساجد و امام بارگاہوں کی صفیں لہو رنگ ہوں تو ہمارا عشق نکھرتا ۔ مندر اور کلیسا میں آگ جلے تو ہمارے ایمان کو جلا ملتی۔ اقلیتوں کی جان خطرے میں ڈالتے تو ہمارا اسلام خطرے سے نکلتا۔ ہم بھٹے میں جلتی لاشوں کی راکھ بنتی ہڈیوں پہ تقدیس رسالت کا قصر تعمیر کرتے۔ غیرمسلم بچی کے ننگے سر پہ چادر ڈالنے کی بجائے جبری نکاح کرنے میں ہمارا من تسکین پاتا۔ جلتے لاشے کے ساتھ تصاویر ہمارے عشق رسول کی سند ہوتیں۔

    رسول اللہ ﷺ ! ہم شرمندہ ہیں۔

    اہل کلیسا نے آپ کے نہیں, ہمارے کردار کے خاکے بنائے۔

    ہمارے خطیبوں کی شعلہ نوائیوں اور جعلی محدثین کی فسانہ طرازیوں کے کارٹون بنے۔ ان میں عکس تمہاری بےداغ سیرت کا نہیں, ہمارے اعمال بد کا ہے۔ تمہیں تو دشمن نے صادق و امیں کہا, ہمِیں ننگ نکلے کہ کوئی اعتبار کو تیار نہیں۔

    ہم تو بھول گئے کہ تو رحمة اللعالمین ہے۔ تو منبع جود و سخا ہے۔ تو مصدر عطا ہے۔ ہم نے مرنے مارنے اور گلے اتارنے سے کم پہ بات نہیں کی۔ سہیل بن عمرو تیرے نام سے رسول اللہ مٹاتا ہے۔ دریدہ دہنی کرتا ہے۔ جب وہ گرفتار ہوتا ہے تو عمر بن خطاب اس کے دانت توڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے مگر یہ کیا ! ارشاد ہوتا ہے کہ میرے رب نے چہرے بگاڑنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ وہ نبی تو نہیں جس سے ہمیں اپاہج خطیبوں نے روشناس کروایا۔

    اہل مکہ خون کے پیاسے ہیں۔ غلہ کی کمی ہے۔ مگر ثمامہ بن اثال کو حکم ملتا ہے کہ کسی صورت غلہ نہ روکو۔ ہم تو بھوکے ننگے ہو کر بھی بائکاٹ سے کم پہ راضی نہیں۔ اب یہ کیا ! ابو سفیان آیا ہے۔ مکہ میں قحط ہے۔ مدینہ کیوں آیا بھلا, نبی سے دعا کروانے ۔ کہتا ہے, اے محمد! تیری قوم ہلاک ہو رہی ہے ۔ نبی دعا بھی کرتا ہے۔ تحفے اور اجناس سے بھی نوازتا ہے ۔
    ہائے کیا کیا سبق بھلا بیٹھے ہم ۔

    عیسائی آئے ہیں ۔ عبادت کا وقت ہے۔ وہ جگہ ڈھونڈنے لگتے تو مسجد نبوی کا صحن حاضر ملتا ہے۔ ہمارے زعماء نے مسجد کو مسلک بنا دیا۔ ارے وہ بدو کدھر ہے! جسے کل مارنے دوڑے تھے صحابہ ۔ کہ گستاخ ہے۔ آ گیا۔ اس کو اونٹ بھی عطا کرو۔ مال مویشی بھی دو۔

    وارفتگی میں تیری شان بلند کرتا ہے اور تو اس بات پہ خوش, کہ جہنم سے بچ گیا۔ مگر تیرے فقیہ تو توبہ کا موقع دینے کے سزاوار بھی نہیں۔

    کچرا پھینکنے والی بڑھیا کی روایت ہمارے خطباء کے نزدیک ضعیف سہی, مگر طائف کے پتھروں والی تو قوی روایت ہو گی۔ اے اللہ کے نبی, انہیں تباہ کر دیا جائے۔ نہیں ۔ یہ تو جانتے نہیں میں کون ہوں۔ احد میں پتھر لگتے۔ چہرہ لہولہان۔ زبان پہ دعا, اے اللہ یہ لوگ مجھے جانتے ہی نہیں۔ ہدایت دے انہیں۔

    خامہ بشکستیم و لب بستیم از تعریف دوست

    کیا کیا سناؤں, کیا کیا لکھوں۔ تیرے حلم پہ, تیرے کرم پہ, تیری عطا پہ, تیرے عفو پہ, تیری رحمت پہ, تیری شان کریمی پہ ۔ تیری محبت پہ, تیری بندہ نوازی پہ, تیرے تبسم کی عادت پہ, تیرے معاف کر دینے کی خصلت پہ, تیرے نور بصیرت پہ ۔

    یا رسول اللہ! طائف والوں بھی تجھے نہ پہچانا۔ پتھر مارنے والے بھی تجھے نہ پہچانتے تھے۔ خاکے بنانے والے بھی تجھ سے ناواقف ہیں۔ مگر اے اللہ کے رسول, پہچانتے تو ہم بھی نہیں تجھے ۔ ہم بھی تیری شان رحیمی سے ناواقف ہیں۔ ہم تیرے نام پہ بےگناہوں کی جانیں لے سکتے ہیں ۔ تیرے دیے عفو و حلم کا سبق بھول چکے۔

    مسلماں آں فقیرے کج کلاہے
    رمید از سینہء او سوز و آہے
    دلش نالد, چرا نالد, نداند
    نگاہے یارسول اللہ, نگاہے

  • آر یا پار—عمر یوسف

    آر یا پار—عمر یوسف

    سیاست میں استحکام نہ آنے کا دکھ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے قیام کو ستر سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن سیاسی استحکام میں ترقی کی بجائے تنزلی کا رجحان تیز سے تیز ہوتا جارہا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز دیگر بہت سے ممالک کی نسبت وسائل کی بہتات کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں کرپایا جس کا یہ مستحق تھا جبکہ دیگر کم وسائل کے حامل ممالک آج کسی نہ کسی مقام پر کھڑے ہیں ۔

    یہاں بہت سے دانشور متعدد وجویات کی تفصیلی گفتگو کرسکتے ہیں لیکن یہ گفتگو ظاہری نوعیت کی ہوگی ۔ جبکہ ان ظواہر کے پیچھے بھی اسباب کار فرما ہیں جو ان ظواہر کے وقوع کا سبب بنے ہیں ۔

    ان خفیہ اور پوشیدہ اسباب کو ایک منطقی اور فلسفی سوچ و فکر کا حامل شخص مابعد الطبیعیات کی بنیاد پر ہی پہچان سکتا ہے ۔ کہ وہ اسباب خدائی اصولوں پر مبنی ہیں ۔

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے بزرگ و برتر نے اس چیز کا فیصلہ فرما دیا کہ دو گروہ ہونگے جن میں سے ایک کو خدائی اور دوسرے کو غیر خدائی گروہ سے منقسم کیا جاسکتا ہے ۔ ان دونوں کے بارے اصول و ضوابط طے کردیے گئے ہیں کہ کامیابی و کامرانی یا حصول سہولت و آسائش کا معیار کیا ہوگا ۔

    خدا نے غیر خدائی گروہ کو دنیوی زیب و زیبائش اور آسانیوں سے نواز کر یہ فیصلہ کیا کہ یہ اپنی سرکشی میں بڑھتے رہیں اور مہلت کا وقت گزارتے رہیں لیکن اگر اسی حالت میں روح قفس عنصری کے سپرد کرتے ہیں تو ان کا انجام بھیانک و خوفناک ہوگا ۔

    اس کے برعکس خدائی گروہ کو خدا کی فوج میں مجبور کرکے شامل نہیں کیا جاتا ۔ جو شامل ہوتا ہے اپنی مرضی سے ہوتا ہے لیکن اس گروہ میں شامل ہونے کے بعد اس اصول و ضوابط کا کاربند ہونا پڑے گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتیجہ ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نئی نکلتا اور وائے ناکامی کی صدائیں لگاتا انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔

    یہاں ایک ہی صورت کامیابی ہے اور وہ خدا کی مرضی کے مطابق چلنے میں ہے ۔

    اس حقیقت کو تاریخ کے حادثات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔

    وطن عزیز کو بھی اس معیار پر حاصل کیا گیا کہ یہ ایک خدائی مملکت ہوگی جس میں نظام حیات خدائی اصولوں پر مبنی ہوگا اور نظام سیاست شرعی اصولوں کے کاربند ہوگا ۔

    خدائی گروہ میں شمولیت کے دعوی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خدائی اصول اپنائے جائیں لیکن اس کے برعکس نظام حیات و سیاست کی بنیاد غیر اسلامی قوانین پر استوار ہوئی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔

    انسان بحیثیت مجموعی و انفرادی یہ کرسکتا ہے کہ یا تو وہ کامیابیوں کے حصول کے لیے خدائی اصولوں کا کاربند ہوکر آر ہوجائے یا پھر ان سے پہلو تہی کرتے ہوئے پار ہوجائے اور آخرت کو برباد کرلے ۔

  • ضلع تلہ گنگ اور پی ٹی آئی کا کردار۔۔۔!!!

    ضلع تلہ گنگ اور پی ٹی آئی کا کردار۔۔۔!!!

    ضلع تلہ گنگ اور پی ٹی آئی کا کردار۔۔۔!!!
    تحریر: شوکت ملک
    (پہلی قسط)
    اطلاعات کے مطابق ضلع تلہ گنگ کا اب اعلان ہونا باقی ہے۔ سیاسی اختلاف کی گنجائش ہمیشہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی شخصیات میں موجود رہتی ہے اور ضلع تلہ گنگ کے حوالے سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے ہمیشہ آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ضلع تلہ گنگ کے قیام کے بعد حافظ عمار یاسر کو سیاسی طور پر اخلاقی برتری ضرور حاصل رہے گی۔ مگر اس اخلاقی برتری کے حوالے سے تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ کی دیگر سیاسی جماعتیں اور سیاسی شخصیات بھی کسی طور پر کم تر نہیں ہیں۔ کیونکہ جب بھی ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے کوئی ریلی کوئی سیمینار منعقد ہوا تو علاقہ کی تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات نے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ضلع تلہ گنگ کے قیام کے لئے آواز بلند کی۔ اب بات کریں پی ٹی آئی ضلع تلہ گنگ کی تو اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں مقامی سیاسی تاریخ میں جس طرح پاکستان تحریکِ انصاف تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ کی مقامی قیادت نے پروفیشنل سیاسی شخصیات کے بغیر نامساعد ترین حالات میں ایک بھر پور سیاسی قوت ہونے کا واضع ثبوت دیا۔ جبکہ مفاد پرست سیاسی شخصیات جو پارلیمان سے باہر تھیں اور آ جکل مختلف چور دروازوں سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی بے یارو مددگار پی ٹی آئی کارکنان کا ہاتھ تھامنے کی کوشش نہیں کی۔ 2018ء کے جنرل الیکشن کے بعد سے ابتک ڈسٹرکٹ جنرل سیکرٹری ملک یاسر اعوان دندہ، حکیم نثار احمد، ملک عابد ڈھرنال، کرنل ریٹائرڈ سلطان سرخرو اعوان، ملک آفتاب اعوان پچنند، ملک عظمت حیات ٹمن، نوابزادہ ملک زاہد مبارز، ملک اقبال ڈھرنال، سید وقار حیدر شاہ، ملک گلاب خان دھولر، ملک شاہد کھریال، سید وقار حسین شاہ ڈھوک مصاحب، میاں محمد بالی، سابق صوبائی امیدوار ملک عدنان لطیف اور سب سے بڑھ کر ملک اشفاق احمد بڈھیال سمیت مختلف عہدیداران ورکرز نے منظم طریقے سے پی ٹی آئی کو تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ میں متحرک رکھا یہ ایک منفرد سیاسی تحریک ہے اور اس میں ایم این اے محترمہ فوزیہ بہرام، ملک فدا حسین چکوال، محترمہ شائستہ اکرم اور ضلعی صدر پیر وقار حسین کرولی کی محنت اور محبت کا ذکر نہ کیا جائے تو زیادتی ہو گی۔ ایم این اے محترمہ فوزیہ بہرام نے ڈسٹرکٹ جنرل سیکرٹری ملک یاسر اعوان دندہ کی خصوصی درخواست پر پاکستان تحریکِ انصاف تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ کے پی ٹی آئی کارکنان پر دست شفقت رکھا اور بہت سے ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی معاملات میں خصوصی شفقت فرمائی جس سے تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ میں پی ٹی آئی کے ووٹ بنک میں مسلسل اضافہ ہوا اور سچ تو یہ ہے کہ مقامی قائدین اور کارکنان کی انتھک محنتوں سے یہاں پی ٹی آئی ایک مظبوط سیاسی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ اب ضلع تلہ گنگ بننے کے بعد بھی اگر ق لیگ کو چیلنج کرنے والی کوئی مؤثر سیاسی قوت ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہے۔ اور اس چیلنج کی بڑی واضع وجوہات بھی ہیں، کہ پاکستان تحریکِ انصاف بطورِ جماعت خود ضلع تلہ گنگ بننے کے کریڈٹ میں بڑی حصہ دار ہے کیونکہ پنجاب گورنمنٹ میں سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف ہے جس کے تعاون اور مرضی کے بغیر ضلع تلہ گنگ کا حصول ممکن نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ مقامی حکمران جماعت ق لیگ سے نالاں مقامی سیاسی افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بغیر ق لیگ کا سیاسی وجود بہت کمزور ہے اور حلقے کے محروم طبقے کا سیاسی رجحان اور ترجیح پاکستان تحریکِ انصاف ہی ہے۔ جبکہ ق لیگ کی اتحادی جماعت پی ٹی آئی سے مقامی طور پر رابطے کے فقدان نے پی ٹی آئی کے وجود کو مزید مظبوط بنا دیا ہے۔ جاری ہے۔

  • کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟

    Convention for Elimination of Discrimination Against Women

    یہ اقوام متحدہ کا، عورتوں کے حقوق سے متعلق چارٹر ہے جس پر پاکستان نے دسمبر، 1996 میں دستخط کر کے انہیں تسلیم کیا تھا۔
    اب یا تو ہمارے مقتدر حلقے اسلام سے بالکل جاہل ہیں، یا بیرونی سازشوں کے دست و پا۔۔۔۔ کیونکہ اسی کنوینشن کو جن بنیادوں پر سعودی عرب نے ڈنکے کی چوٹ پر رد کر دیا تھا، وہ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔

    1۔۔ اس کنونشن میں کہا گیا ہے کہ عورت بھی مرد جیسی ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ مرد عورت جیسا نہیں ہوتا۔

    2۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر سکتا جبکہ اسلام 4 شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے۔

    3۔۔ اس کنونشن کے مطابق بچوں کو انکی ماؤں کے نام سے پکارنا چاہیے (مثلاً نومولود بچے جنکا اپنا نام ابھی نہیں رکھا گیا ہوتا) جبکہ اسلام میں اولاد کو اسکے باپ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    4۔۔ اس کنونشن کے مطابق بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کی کوئی عدت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ جب چاہے نکاح کر لے۔ اسلام بیوہ اور مطلقہ کو عدت کے دوران نکاح سے سختی سے روکتا ہے۔

    5۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد، عورت اور اپنی بالغ بیٹیوں کا سرپرست نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام نے مرد کو قوام اور خاندان کا سربراہ قرار دیا ہے۔

    6۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد اور عورت کی وراثت برابر ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں بہنوں کا حصہ بھائیوں سے آدھا ہے۔

    7۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو عورت سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ شریعت میں اسکا تصور بھی محال ہے۔

    8۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو اسقاط حمل کا حق ہونا چاہیے جو صریحاً غیر اسلامی ہے۔

    9۔۔ اس کنونشن کے مطابق کنواری عورت کے، باہمی رضامندی کے ساتھ منعقدہ جنسی تعلقات(زنا) پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں یہ قابل سزا جرم ہے۔

    10۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت بھی جب چاہے مرد کو طلاق دے سکتی ہے، جب چاہے کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے جو کہ اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔

    11۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت 18 سال سے پہلے شادی نہیں کر سکتی جبکہ اسلام میں بلوغت کے وقت نکاح کی اجازت ہے۔

    اب اس بات پر ذہن دوڑائیں کہ اسلام اور فیمن ازم کس طرح ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

    یہ ناممکن کام کیسے ہو سکتا ہے؟

    چوکور مثلث کیسے بنائی جا سکتی ہے؟

    "اسلامی فیمنسٹ” ۔۔۔۔ یہ اصطلاح محض oxymoron ہی نہیں، بلکہ یہ کہلوانے والے لوگ دنیا کے سب سے بڑے "مورون”( یعنی بیوقوف) ہیں۔۔۔۔!!!