Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    اس کائنات میں اربوں کہکشاؤں کے درمیان جینے کی سہولت فقط ہمارا ہی سیارہ (یعنی زمین) فراہم کرتا ہے۔ زمین پر زندگی گزارنے والے انسانوں کا اس سیارے اور اسکے ماحول کا محافظ اور نگہبان ہونا چاہیے تھا ۔مگر یہی انسان زمین کے ماحول کا دشمن بن گیا۔صنعتی انقلاب نے جتنا انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ماحول کو تباہ کیا ہے۔ماحول اس قدر تباہ ہوچکا ہےکہ اب اس کے واضح اثرات کرہ ارض پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔صنعتی انقلاب کے آغاز میں سبھی ممالک نے زمینی وسائل کا بےردیغ استعمال کرکے زمین کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1972 میں جب اقوام متحدہ کے زیر انتظام، پہلی بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس منعقد ہوئی ۔تب تک انسان ماحول کا قتل کر چکا تھا ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ستر لاکھ اموات ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پلاسٹک کے استعمال کی وجہ سے سرطان کی شرح میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی نا صرف زمین کو تباہ کر رہی ہے۔ بلکہ انسانی جسم کے گارڈ یعنی دفاعی نظام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی کئی اقسام ہیں ۔ مگر زیادہ اثرات دو کے ہی ہیں۔

    • آبی آلودگی:

    آب یعنی پانی؛ مختلف آبی ذخائر مثلاً سمندر، دریا، اور جھیلوں وغیرہ کو آلودہ کرنے میں انسان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ ہم پانی میں جب تک نا پھینکیں ہمارا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا شاید۔ کوڑا کرکٹ بھی ہم پانی کے سپرد ہی کرتے ہیں۔انسان نے اپنی سہولت کے لیے بڑے بڑے بحری جہاز بنائے۔ جو چلتے ہوئے زہریلے مادے خارج کرتے ہیں۔ ان جہازوں کا تیل اور زہریلے مادے آبی آلودگی کی وجوہات میں سب سے نمایاں ہیں۔

    • فضائی آلودگی:

    فضائی آلودگی، آلودگی کی سب سے زیادہ خطرناک قسم ہے۔ بے ہنگم ٹریفک کا دھواں ، صنعتوں میں استعمال کیے جانے والے فوسل فیولز ، تمباکو نوشی ، سپرے ، بھٹوں اور چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ماحول کو آلودہ کرنے میں سب سے آگے ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق روازنہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ متاثرہ افراد دمہ ،سینے کے انفیکشن، ہارٹ اٹیک جیسی مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ماحول انسان کا لازمی جزو ہے ۔ اور انسانی غیر قدرتی سرگرمیاں ہی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنانے کے ساتھ ساتھ کرہ ارض پر خلیفہ بنا کر بھیجا۔ دنیا کی تمام تر نعمتیں حتی کہ زمین اور اسکا ماحول بھی انسان ہی کے لیے تخلیق کیا گیا۔ قرآن کریم میں تقریباً دو سو کے قریب آیات ماحول کے متعلق ہیں۔

    "اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے ۔جس نے ہر چیز کو مضبوطی کے ساتھ بنایا ہے”۔ (النحل)

    "پھر انسان کو تسخیر کی قوت بھی عطا کی گئی ہے۔کائنات کے خزانوں کے استعمال اور ان کو جاننے کی جستجو اس کی طبیعت میں ودیعت کی گئی ہیں۔علم جیسی قیمتی دولت سے نواز کر اس کو کل مخلوقات میں ممتاز و منفرد بنایا ہے”۔(البقرہ)

    قرآن مجید کے علاؤہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے بھی ہمیں ماحول کو آلودگی سے بچانے کی ترغیب ملتی ہے۔

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

    "جب کوئی مسلمان شجر کاری یا کاشتکاری کرتا ہے پھر اس میں سے کوئی پرندہ ، انسان یا حیوان کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے”۔(بخاری: 2320)

    ماحولیاتی آلودگی اور اسکے اثرات ویسے تو ایک بین الاقوامی مسئلہ اور عمل ہیں۔ لیکن کیا پاکستان کے حکمرانوں نے اس ملک اور عوام کو ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے بچانے کےلئے کوئی عملی اقدام اٹھایا ہے؟۔ تو یقیناً جواب ہوگا، ‘بالکل بھی نہیں’۔ عالمی ماحولیاتی اداروں نے کئی برس قبل یہ بتا دیا تھا کہ اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرف توجہ نہ دی تو 2020 سے 2025 کے درمیان پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں سے ایک ہوگا۔ جو شدید موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کے شکار ہونگے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس بھیانک الارم کی طرف بھی کوئی توجہ نہ دی۔ عوام حکمرانوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کو سنجیدہ لینے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ کوڑا کرکٹ سر راہ ہم پھینک دیتے ہیں۔ یا کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ہم درخت لگانے کی بجائے دھڑا دھڑ کاٹے جا رہے ہیں۔

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ماحولیاتی ادارے موجود ہیں۔ مگر انکا کردار بہت افسوس ناک ہے۔ دھڑا دھڑ درخت کاٹے جارہے ہیں، غیر قانونی فیکٹریاں ماحول کو آلودگی کرنے میں معروف ہیں۔ مگر پاکستان کے ماحولیاتی ادارے صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اعلیٰ حکام کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے۔ مگر وہ ہوش کے ناخن کہاں لیں گے۔ وہ تو صرف ووٹ ہی لیں گے۔ بطور ذمہ شہری ہم سب کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔ کیونکہ جب تک پوری قوم اجتماعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کی روم تھام میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گی ۔تب تک اسے ختم کرنا ناممکن ہے ۔ اگر ہم سب انفرادی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں تو نہ صرف ہم خود اس کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں ۔

  • تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    ایک شخص اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر اپنے بیمار بلے(بلی کا مذکر) کی تصویر لگاتا ہے اور اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ابھی چھوٹا سا تھا تب سے میرے پاس ہے اور میں خود اس کی حفاظت کرتا ہوں ۔ اب یہ بیمار ہے اور اس کی بیماری نے مجھے غمزدہ کردیا ہے ۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس بھی لے گیا چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے انجیکشن اور دوائیاں دیں ۔ جس کے بعد اس کی طبیعت کچھ بہتر ہے ۔ سب دوست دعا کریں کہ یہ ٹھیک ہوجائے ۔۔۔

    اس منظر کے بعد اگلا منظر کچھ یوں ہے کہ لوگ اپنی سوچ وفکر کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔

    کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ جانوروں کا اتنا خیال رکھتا ہے تو انسانوں کا کتنا رکھتا ہوگا ۔ اور اس جذبہ شفقت پر تعریف کرتے ہیں لیکن کچھ بلکل اس کے برعکس جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جتنا خیال کتے کا رکھتے ہو کبھی اپنے ماں باپ کا کبھی رکھا ہے ؟

    انسان کو اس دنیا میں رنگ برنگے لوگ ملیں گے جن کے نظریات و افکار بلکل جدا ہونگے ۔ اور کوئی اپنی خاص فکر کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے ۔

    اس دنیا میں رہنے کا راز یہ ہے کہ انسان اس اختلاف کو ختم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ رہنا شروع کردے ۔

    انسان کو اگر کسی کا نکتہ نظر اچھا نہیں لگتا تو وہ اسے اپنے مطابق کرنے کی بجائے اس سے رواداری کرنا شروع کردے ۔

    اگر کوئی اس کے نکتہ نظر کو پسند نہیں کرتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مخالف سے نفرت بھی نہ کرے اور مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے طے کردہ اصولوں پر کاربند رہے ۔

    اس کے علاوہ تیسری راہ سراسر فساد کی راہ ہے جس پر سوائے ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

    یہی اصول و ضوابط مذہبی ، سیاسی سماجی فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اکسیر ہیں ۔

  • اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کیا کہتے ہیں. زیدان

    فٹ بال لیجنڈ زین الدین زیدان نے کہا ہے کہ قطر سے متعلق تمام تر تحفظات کے باوجود اب وقت آگیا ہے کہ تنازعات کو بھول جائیں اور فٹ بال ورلڈ کپ پر توجہ دیں۔ فٹ بال کی عالمی جنگ رواں برس 20 نومبر سے خلیجی ملک قطر میں شروع ہورہی ہے۔ 2022 کے فٹبال ورلد کپ کی میزبانی کے لئے فرانس اور قطر آمنے سامنے تھے، فیفا نے فرانس کے بجائے قطر کو میزبانی دی، اس فیصلے کو ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن اس کے باوجود اب تک قطر پر تنقید کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔

    یورپی دنیا میں بنیادی حقوق تصور کئے جانے والے بعض معاملات پر قطر میں موجود قوانین اور وہاں غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ مبینہ غیر انسانی سلوک پر قطر میں ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے اعلان سامنے آرہے ہیں۔ ان تمام تنازعات پر فرانس کے لیجنڈ فٹبالر زین الدین زیدان (Zinedine Zidane) نے اظہار خیال کیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں زین الدین زیدان (Zinedine Zidane) نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فرانس کا ٹورنامنٹ بہت اچھا ہوگا لیکن مجھے ابھی تک نہیں معلوم کہ میں قطر جاؤں گا یا نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ بدھ سے کراچی کو حب کینال سےدو دن پانی کی فراہمی معطل رہے گی
    امریکا کا صحافی ارشد شریف کی موت پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
    شادی سے انکار پر لڑکے نے 22 سالہ کزن کو زندہ جلا دیا،پسند کی شادی نہ ہونے پرلڑکے نے کزن کو قتل کر کے خودکشی کرلی
    زیدان نے کہا کہ تمام تر تنازعات کے باوجود پر فٹبال کے شائقین کی توجہ اب صرف اور صرف کھیل پر ہونی چاہیے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے ہیں، سچ یا صحیح بات کہنا کبھی بھجی کافی نہیں ہوتا۔

  • وقت کم، مقابلہ سخت۔۔۔!!!

    وقت کم، مقابلہ سخت۔۔۔!!!

    وقت کم، مقابلہ سخت۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    الحمدللّٰہ اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ کی بھرپور آواز اور حافظ عمار یاسر کی انتھک محنت اور کوششوں سے تلہ گنگ ضلع بن گیا، اس تاریخی کامیابی پر اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ نے بھرپور طریقے سے جشن منایا ہے اور مبارکباد کا سلسلہ تاحال جاری ہے، مگر دوسری جانب ضلع تلہ گنگ کے قیام کے بعد اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے، تلہ گنگ ضلع کو مکمل طور پر فنکشنل کرنا اور ایک خود مختار ضلع بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے، اس کےلیے ہم سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگر تلہ گنگ ضلع کے بننے کے باوجود بھی ضلعی افسران کی بروقت تعیناتیاں نہ کی گئیں اور ہمیں چکوال کے افسران کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا گیا تو حالات مزید بگاڑ کی طرف جاسکتے ہیں، اسی طرح شنید ہے کہ نئے اضلاع کے قیام کے بعد انتخابی حلقہ بندیوں میں بھی ضلع تلہ گنگ کو ایک قومی اسمبلی اور ایک ہی صوبائی اسمبلی کی نشست تک محدود کیا جا رہا ہے، جوکہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہوگی، اس طرح مسائل کے حل کی بجائے مزید مسائل جنم لیں گے، تحصیل لاوہ جوکہ پہلے ہی صرف نام کی تحصیل ہے کو یونہی اگنور کیا جاتا رہے گا اس لیے ضروری ہے کہ لاوہ کےلیے بھی صوبائی اسمبلی کی علیحدہ سے نشست ہونی چاہیے تاکہ تحصیل لاوہ کو بھی اس کا پورا حق مل سکے اور محرومیوں کا ازالہ ہوسکے، آنے والے وقت میں پیدا کردہ مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے صاحب اقتدار کو بروقت اقدامات کرنا ہوں گے، دوسری جانب اگر ملکی حالات کا جائزہ لیا جائے تو حالات انتہائی نازک رخ اختیار کیے ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کے بعد تو گویا کسی وقت بھی ملک میں بھونچال برپا ہوسکتا ہے، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بھی رواں ہفتے جمعہ کے روز لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے بعد پنجاب حکومت کا ٹکنا بھی قدرے مشکل نظر آرہا ہے، ایسے میں وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کو ہنگامی بنیادوں پر نومولود ضلع تلہ گنگ کےلیے اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ خدانخواستہ پنجاب حکومت کی تبدیلی یا قبل از وقت نئے الیکشن کی صورت میں ہم ایک نوٹیفکیشن تک محدود ہوکر نہ رہ جائیں، کیونکہ یہاں اقتدار کے مسند پہ بیٹھنے والا ہر شخص اپنی مرضی سے پالیساں بناتا اور سسٹم کو ہانکتا ہے، ایسے میں ہمیں آنے والی حکومت کے رحم و کرم پہ چھوڑ دینا بھی بہت بڑی زیادتی ہوگی، تلہ گنگ کو ایک خود مختار ضلع بنانے کےلیے ہمیں بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کا زور بازو بننا ہوگا، اور حافظ صاحب کو بھی مزید انرجیٹک ہوکر برق رفتاری سے ہنگامی بنیادوں پر ضلع تلہ گنگ کے انتظامی امور کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ کیونکہ وقت انتہائی کم ہے اور مقابلہ سخت، اس قلیل وقت میں مسائل کیساتھ بھرپور طریقے سے پنجہ آزمائی کرنا پڑے گی تب ہی ہم سرخرو ہوں گے۔

  • وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    پاکستان میں سرکاری جامعات کے طلبہ کے لیے وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم ایک بار شروع کی جا رہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پہلے فیز میں فروری 2023 سے اسکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔

    چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے کراچی آمد کے موقع پر ایچ ای سی کے ریجنل دفتر میں نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پرائم منسٹر کی جانب سے اس سلسلے میں administrative approval مل گئی ہے 28 اکتوبر کو اس سلسلے میں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہے اور پالیسی کے نکات کی منظوری کے ساتھ ہی اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ایم فل/پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ جامعات کے انڈر گریجویٹ اور اوپن/ورچوئل یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی لیپ ٹاپ دیے جائیں گے تاہم انڈر گریجویٹ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد محدود ہوگی۔ ’’ایکسپریس‘‘ کے اس سوال پر کہ کیا اس بار بھی لیپ ٹاپ اسکیم وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ جاری ہوگی، انھوں نے نفی میں جواب نہیں دیا، انھوں نے بتایا کہ اسکیم کے لیے 10 بلین روپے کا فنڈ مختص کیا جا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک سوال پر چیئرمین ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کے دورے کے موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کریں گے اور ان سے گزارش کریں گے کہ جامعات کو بہتر نظم و نسق کے ساتھ چلانے کے لیے وہاں ایڈہاک ازم ختم کرکے وائس چانسلرز کا فوری تقرر کروائیں جبکہ سندھ کی جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کے مسائل حل کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے گزارش ہوگی کہ وہ ڈی ایف کا رپورٹنگ چینل وائس چانسلرز کو ہی رہنے دیں بصورت دیگر وائس چانسلرز بے اختیار ہوجائیں گے اور جامعات کا انتظام عملی طور پر ڈائریکٹر فنانس کے پاس چلا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع، ڈھائی کروڑ بچوں کو قطرے پلائے جائیں
    عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی
    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے
    پاکستانی ائیرلائنز کی یورپ میں بحالی؛ یورپی کمیشن نے پی سی اے اے حکام کو تکنیکی میٹنگ کے لیے مدعو کرلیا
    جامعات میں مالی بحران کے حوالے سے ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ تنخواہوں کے ساتھ ساتھ دیے جانے والے الاؤنسز اور ایڈیشنل فنڈز کا استعمال روکیں، اخراجات پر قابو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انڈر گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پالیسی میں ترامیم لارہے ہیں اور اس کے نقائص دور کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مختار احمد نے پیر کو جامعہ کراچی میں چائینیز لینگویج سینٹر کا دورہ بھی کیا اور وہاں خود کش حملے کے سانحے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والوں کے سوگ میں کچھ دیر کی خاموشی اختیار کی۔

  • تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    تحریک انصاف کا احتجاج اور معاشی نتائج — زوہیب علی چوہدری

    سال دوہزار چودہ وہ سال ہے جب پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچ اور لاک ڈاؤنز کی سیاست کا باقاعدہ آغاز ہوا اور تب سےآج کے دن تک ہم اس منحوس طرز سیاست سے نبردآزما ہیں۔ ذرا ذرا سی باتوں کو پکڑ کر جلا دوں گا, مار دوں گا, بھگادوں گا وغیرہ وغیرہ کا شورو غل بلند کرکے حکومتوں اور ریاستوں کے کیے کی سزا عوام کو دینا کہاں کی سیاست اور جمہوریت ہے؟

    خان صاحب کے اچھے اورکرزمیٹک فیصلوں اور کاموں کی سراہنا کرنا اچھی بات ہےلیکن یاد رہے خان صاحب بھی ایک عوامی لیڈر ہیں جنہیں اپنے برے فیصلوں اور کاموں کا جواب دینے کے لیے عوام کی عدا لت میں آنا ہی پڑے گا۔

    سال دوہزار چودہ کا دھرنا ہمیں 547 ارب میں پڑا تھا اور ملا کیا۔۔۔ گھنٹا؟

    ایک بڑا قومی سانحہ دیکھا اور تب اس دھرنے کا اختتام ہوا لیکن دھرنا اور لانگ مارچ سیاست نے جو پنجے تب سے اس ملک پر گاڑے ہیں اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ تب سےآج تک ناصرف تحریک انصاف بلکہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے دھرنا اور لانگ مارچ سیاست کو ایک طلسماتی منتر سمجھ لیا ہے کہ جب جب حکومت اور ریاست کو انڈر پریشر لانا ہے تو عوام کا جینا دوبھرکردو اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردو۔

    اب کل توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے موجودہ مدت کےلیے نااہل قرار دے دیا تو آدھے گھنٹے کے اندر اندر پورے ملک کی عام شاہراؤں اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر تحریک انصاف کے عام سپورٹرز نےاحتجاج کے نام پر جو ہلڑ باز اور طوفان بدتمیزی برپاکیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

    اور اگر تحریک انصاف نے یہی سلسلہ آگے بھی جاری رکھا تو یقینا اس بار ملک 547 ارب کو بھول جائے گا کیونکہ اس دفعہ بات ملک کے ڈیفالٹ پر ہی ختم ہوگی کیونکہ ہماری حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ ہم اب ہلکا سا بھی جھٹکا برداشت نہیں کرسکتے۔

    دھرنا اور لانگ مارچ کی سیاست سے آج تک کیا فائدہ حاصل ہوا ہے؟

    سوائے توڑ پھوڑ, گالم گلوچ, تصادم اور ملکی معشیت کو نقصان پہنچانے کے اس لغو انداز سیاست نےکیا دیا ہے؟

    اور کل ہی ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک اکثریتی سیاسی پارٹی کے کارکنان نے ریڈلائن لائن کراس کی اور فوج کے چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بھی بیہودہ نعرےبازی کی اور ملک کا تماشہ بنانے کا بھارتی میڈیا کو ایک اور سنہری موقع دیا۔

    بھارت جو کہ ہمارا ازلی دشمن ہے اس کے پاکستان اور اسکی عوام کے خلاف تین بنیادی مشن یا ایجنڈے تھے جو کہ اب تقریباً پورے ہوچکے بیشک ملک ایف اےٹی ایف کی گرےلسٹ سےنکل چکا ہے۔

    1-پاکستانی معشیت کا بیڑا غرق کرنا۔
    2-افواج پاکستان اور عوام کی محبت ختم کرنا۔
    3-دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنا۔

    کیا بھارت کے یہ تین مشن مکمل نہیں ہوگئے؟

    اس کا سہرا بالترتیب آصف ذرداری, نواز شریف, مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے سربندھنا چاہیے کہ ان چار نفوس نے عرصہ بیس بائیس سال میں پاکستان اور اس کی عوام کو بھارت اور اقوام عالم کے سامنےپلیٹ میں رکھ کر پیش کردیا کہ لو بھئی جو کرنا ہے کرلو۔

    خیر ملک اس طرح کی سیاست کا متحمل نہیں لیکن ہماری مقتدرہ و سیاسی اشرافیہ کو یہ بات اب بھی سمجھ نہیں آرہی۔ اللہ ہی پاکستان کی حفاظت کرے ورنہ ہم نےتو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    ایک ایسے وقت میں جب ملکی معیشت تنزلی کی جانب گامزن ہے، سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں قیامت خیز تباہی ہوئی، لوگ پینے کے پانی کو ترس گئے، پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کی قدر اتنی بڑھا دی کہ غریب کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا محال ہو چکا ایسے میں تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ ، احتجاج کی کال ملکی معیشت کو مزید زمین بوس کرے گی، یہ وقت احتجاج کا نہیں بلکہ میثاق معیشت کا ہے،پاکستان کوبچانے کا ہے، پاکستان کی سیاسی صورتحال مستحکم ہو گی تو معیشت بھی مستحکم ہو گی لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان کا ایجنڈہ ہی یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر عدم استحکام سے دو چار کیا جائے

  • سیاستدانوں کی سیاست پر اب تو جمہوریت بھی شرما گئی۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدانوں کی سیاست پر اب تو جمہوریت بھی شرما گئی۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدانوں کا اپنے سیاسی مقاصد کے لئے دست و گریبان ہونا کوئی نئی بات نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ سیاستدانوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے کیا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے سیاستدان ایک دوسرے کیخلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے میں اپنا وقت ضائع کرتے ، ہوس اقتدار کی خاطر ان کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ ہم کدھر جا رہے ہیں اس شور شرابے میں نقصان جمہور کا ہوتا ہے۔ اس شور شرابے میں عمران خان کو ایک سیاسی قوت بنا دیا گیا یا بنایا جا رہا ہے۔ پی پی اور نوازشریف کی جماعت کے لوگوں کو عوام میں اور بین الاقوامی سطح پر چور ڈاکو بنا دیا گیا اور یہ کام گزشتہ کئی سالوں سے جاری تھا ۔ پھر عمران خان نے ان دو جماعتوں کیخلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کیا کہ یہ دو خاندان چور اور ڈاکو ہیں۔ ان حالات میں جمہوریت مستحکم ہو تو کیسے ہو؟ پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیسے ہوگی؟ عوام کس پر اعتماد کرے اور کس پر نہ کرے؟ اب تو بات غداری اور نااہلی سے بھی آگے چلی گئی ہے عمران خان کو دہشت گرد ی کے مقدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطنی اور جیلوں میں بند کر دیا گیا سزا سے لے کر نااہل کرد یا گیا کئی وزیراعظم نااہل ہو چکے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ آخر کب یہ کھیل جاری رہے گا؟ آخر ملک کے سیاستدان کب ٹھیک ہوں گے کون ان کو سمجھائے گا؟

    عمران خان کو اب الیکشن کمیشن نے نااہل کر دیا ۔کیا عمران کی سیاست ختم ہو گئی ؟عمران اور ان کی جماعت ایک حقیقت ہے اس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ وہ سیاست کے گلیاروں سے باہر نہیں ہو سکتا۔ عمران خان کی مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔کیا بھٹو کو پھانسی دے کر بھٹو کی جماعت کو ختم کر دیا گیا؟ نوازشریف کو پابند سلاسل اور نااہل کر کے نوازشریف کی جماعت کو ختم کر دیا گیا؟ نوازشریف بیرون ملک ہیں ۔تادم تحریر ان کی جماعت یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ وہ کب واپس آئیں گے اور آئیں گے بھی یا نہیں اور اگر آئیں گے تو جیل جائیں گے ۔ان کیخلاف مقدمے جو بنائے گئے وہ کس طرح ختم ہوں گے ان کے لئے کون سا قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اپنے انجام سے باخبر ہونے کے باوجود بے خبر سیاستدانوں کو کب ہوش آئے گا قوم کب تک یہ تماشے دیکھے گی سیاستدانوں کی سیاست پر اب تو جمہوریت بھی شرما رہی ہے۔ اگر اسی طرح قومی لیڈروں کو داغدار کر دیا گیا جس طرح ماضی میں کیا گیا تو وطن عزیز میں جمہوریت پر عوام کا اعتماد نہیں رہے گا۔ آخر اس طرح کے کھیل تماشے کب تک ہوتے رہیں گے؟

  • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،پاک بھارت ٹاکرا،شائقین کرکٹ پرجوش

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،پاک بھارت ٹاکرا،شائقین کرکٹ پرجوش

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،پاک بھارت ٹاکرا،شائقین کرکٹ پرجوش

    پاک بھارت ٹاکرا
    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،شائقین کرکٹ پرجوش
    دوسرے مرحلے میں پاک بھارت میچ کل اتوار کو دن ایک بجے ہو گا ، دونوں ٹیموں نے بھر پور تیاری کر رکھی ہے اور فتح کے لئے پرامید ہیں

    پاک بھارت ٹاکرا
    شائقین کرکٹ کو مل سکتی ہے بری خبر بھی
    میلبرن کے موسم کے حوالہ سے کہا جاتا ہے کہ اتوار کو بارش ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے پاک بھارت کا میچ متاثر ہو سکتا ہے

    پاک بھارت ٹاکرا
    رواں برس چوتھی بار ہو گا پاک بھارت ٹیم کا آمنا سامنا
    پاک بھارت کے مابین رواں برس تین میچ ہو چکے جس میں سے دو پاکستان اور ایک بھارت جیت چکا ہے کل فتح کس کا مقدر بنے گی؟ سب منتظر ہیں

    آسٹریلیا میں جاری ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد اب پاکستان کا بھارت کے ساتھ ٹاکرا کل اتوار 23 اکتوبر کو ہو گا

    پاکستانی ٹیم بھرپور متحرک ہے، بھارت کے ساتھ ٹاکرے کے لئے پاکستان کی قومی ٹیم نے میلبرن میں جم ٹریننگ کی کھلاڑیوں نے بیٹنگ اور بولنگ کی پریکٹس کی ٹریننگ سیشن کے دوران کپتان بابر اعظم نے مینٹور میتھیو ہیڈن سے مشاورت بھی کی ،ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے مابین میچ میلبرن میں کھیلا جائے گا، میچ کا آغاز دن دو بجے ہو گا، دونوں ٹیموں نے تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں اور جیت کے لئے پرجوش ہیں تا ہم فیصلہ تو میدان میں ہی ہو گا .شائقین کرکٹ کے لئے بری خبر یہ بھی ہے کہ پاک بھارت میچ بارش سے متاثر ہوسکتا ہے

    قومی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی سربراہی میں میدان میں اترے گی جبکہ بھارتی ٹیم کی سربراہی روہت شرما کریں گے قومی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں آصف علی، کپتان بابر اعظم، فخر زمان، حیدر علی، خوشدل شاہ، شان مسعود، افتخار احمد، محمد نواز، شاداب خان، محمد حارث، محمد رضوان، حارث رؤف، محمد حسنین، محمد وسیم، نسیم شاہ، شاہین آفریدی، شاہنواز دھانی اور عثمان قادر شامل ہیں ،بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں کپتان رویت شرما، کے ایل راہول، سوریا کمار یادیو، ویرات کوہلی، دیپک ہودا، ہارڈک پانڈیا، روی چندرن اشون، دنیش کارتک، رشبھ پنت، ارشدیپ سنگھ، بھونیشور کمار، محمد شامی، محمد سراج، روی بشنو، یوزیندرا چاہل، شاردل ٹھاکر، اکسر پٹیل، ہرشل پٹیل شامل ہیں

    رواں برس چوتھی بار پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی، اس سے قبل رواں برس دو میچ پاکستان اور ایک بھارت جیت چکا ہے اب کل کون جیتے گا اس پر شائقین کرکٹ کو انتظار ہے، دونوں ممالک میں پاک بھارت ٹاکرا موضوع بحث بنا ہوا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنانے کی اہلیت رکھتی ہیں

    پاک بھارت ٹاکرے پر بات کرنے سے قبل آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کو دیکھا جائے تو اس میچ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،بلے بازوں کی فہرست میں ٹاپ تین بیٹرز میں سے دو کا تعلق پاکستان اورایک کا بھارت سے ہے پاکستانی وکٹ کیپر محمد رضوان اگر پہلے اور کپتان بابر اعظم تیسری پوزیشن پر ہیں توان دونوں کے درمیان بھارتی بلے باز سوریا کمار یادیو موجود ہیں دونوں ٹیموں کے بیٹنگ آرڈر کو دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین اوپنرز ہیں اور بھارت کے پاس مستند مڈل آرڈر، بھارت کی ٹاپ آرڈر کی ناکامی اور پاکستان کے مڈل آرڈر کے مسائل مشترکہ ہیں

    پاک بھارت ٹاکرے سے قبل قومی کرکٹر شاداب خان کا کہنا ہے کہ امید ہے بھارت کے خلاف جیسا حالیہ دنوں میں کھیلتے آ رہے ویسا ہی کھیلیں گے،نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شاداب خان کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ کا پہلا میچ ٹورنامنٹ میں ٹون سیٹ کرتا ہےبھارت کے خلاف میچ میں ہمیشہ پریشر میچ ہوتا ہے جب کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ہم بھارت کے خلاف میچز جیتنے لگے ہیں لہٰذا امید ہے بھارت کے خلاف جیسا حالیہ دنوں میں کھیلتے آرہے ویسا ہی کھیلیں گے بڑا میچ جیت کر ٹیم کو اعتماد ملتا ہے بھارت کے خلاف پہلے میچ کے لیے ہر کوئی پرجوش ہے بطور آل راؤنڈر کھیل کے تینوں شعبوں کو انجوائے کرتے ہیں، جہاں ٹیم کو ضرورت ہوتی ہے وہاں کھیلتے ہیں اچھی ٹیم کو چیمپئن بننے کے لیے پریشر صورتحال میں غلطیوں پر قابو پانا ہوگا

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    سابق ٹیسٹ کرکٹر معین خان نے پاکستان ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کے حوالہ سے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی ٹاپ ٹیم میں سے ہے اگر پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ جیتنا ہے تو بھارت کے ٹاپ بیٹرز کو آؤٹ کرناہوگا اگر بارش کے باعث میچ چھوٹا ہوگیا تو پاکستان ٹیم اس کنڈیشن کا فائدہ زیادہ اٹھائے گی اور ٹیم بھارت کے خلاف زیادہ خطرناک ثابت ہوگی بولرز کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ موسم کی صورتحال سے ضرور فائدہ اٹھائیں جب تک کوئی بھی بولر گیند آگے نہیں پھینکے گا ٹیم کو فائدہ نہیں ہوگا

    پاک بھارت ٹاکرے سے قبل بھارتی کپتان بھی پاکستان سے میچ جیتنے کے خواہاں ہیں، بھارتی کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی باؤلنگ ہمیں چیلنج کرے گی باولنگ چلے گی یا بیٹنگ یہ تو کل پتا چلے گا پر ہمیں فیلڈنگ پر بھی توجہ دینی ہے پاکستان کی باولنگ کے ساتھ ان کے بیٹرز کو آوٹ کرنا ہے ہم لوگ اچھی تیاری کے ساتھ آئے ہیں میلبرن کے موسم کا کچھ کہہ نہیں سکتے، چالیس اوورز ہو یا بیس یا پھردس بھارت ٹیم تیار ہے، کوشش ہے کہ بطور کپتان ٹیم کو فتح دلواوں پاکستان ٹیم اچھی کرکٹ کھیل رہی ہے،پاکستان بھارت میچ پریشر نہیں چیلنج ہوتا ہے

  • اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    اعتزاز احسن کیخلاف پیپلز پارٹی میں ہی مخالفت
    بینظیر دور حکومت میں اہم عہدوں پر رہنے والے اعتزاز احسن کیخلاف پارٹی میں موجودہ سیاسی تناظر میں مخالفت شروع ہوئی پارٹی سے نکالنے کی قرارداد اجلاس میں منظور کی گئی

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    تحریک انصاف کی سینئر رہنما اعتزاز کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت
    سوشل میڈیا پر تنقید کے دوران فرح حبیب نے نامورسیاستدان کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ ہماری پارٹی میں آنے کے لیے راستے کھلے ہیں

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    افواہوں، پراپیگنڈے کے دوران خود میدان میں آ گئے
    اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیراعظم بنانے کی آفر کی گئی تب نہیں چھوڑی تو اب کیوں چھوڑوں گا

    اعتزاز احسن وہ سینئر سیاستدان اور نامور وکیل ہیں جو بغیر کسی لگی لپٹی کے سب کچھ کہہ دیتے ہیں،وہ پیپلز پارٹی میں بے نظیر بھٹو کے بھی انتہائی قریب رہے، وہ بینظیر دور حکومت میں وزارت داخلہ اوروزارت قانون کے اہم ترین عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں اب موجودہ سیاسی حالات میں اعتزاز احسن نے بیان دیا جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں، اعتزاز احسن کیخلاف پیپلز پارٹی میں ہی ایک دھڑا کھڑا ہو گیا تھا، پنجاب میں انہوں نے اعتزاز احسن کے خلاف نہ صرف قرار داد اجلاس میں منظور کی بلکہ پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ اعتزاز احسن کو پارٹی سے نکالا جائے،

    اعتزاز احسن پاکستان کے سینئر سیاستدان اور انکا سیاست پر تبصرہ ہمیشہ زیرک ہوتا ہے، وہ دوسروں پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنوں پر بھی تنقید کر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر کچھ لوگ انکی مخالفت کرتے نظر آئے، اسی صورتحال کو دیکھ کر تحریک انصاف کو بھی موقع مل گیا اورفرح حبیب نے اعتزاز احسن کو پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت کی دعوت دے ڈالی، فرح حبیب کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن ورکرز کے رول ماڈل ہیں وہ اپنی پارٹی میں کھل کر اختلاف کرتے ہیں جب کہ (ن) لیگ اورپیپلزپارٹی میں بادشاہی ہے کسی کی جرات نہیں اختلاف کرےاعتزازاحسن پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو آجائیں، ہماری پارٹی میں آنےکے لیے ہر اچھے بندے کے لیے راستے کھلے ہیں

    سوشل میڈیا پر بھی اعتزاز احسن کے بیان کو لے کر اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ رہے ہیں ، اعتزاز احسن دو روز تک خاموش رہے اور سارا معاملہ دیکھتے رہے تا ہم بعد ازاں انہوں نے خاموشی توڑی اور واضح کر دیا کہ جمہوریت میں اختلافات تو ہوتے ہیں لیکن ان اختلافات کو لے کر پارٹیاں نہیں چھوڑی جاتیں، اعتزاز احسن نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس امکان کو رد کر دیا کہ وہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں گے

    اعتزاز احسن نے میڈیا سے تفصیلی بات کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی ان کا خاندان ہے اور عمران خان ان کا دوست، سیاسی اختلاف پر کسی کو برا بھلا کہنے یا رانا ثنا جیسی زبان استعمال کرنے پر یقین نہیں رکھتے پٹیاں ابھی بھی چل رہی ہیں کہ اعتزاز احسن بنی گالہ میں بیٹھے ہیں عمران خا ن سرگودھا اور میں یہاں لاہور میں ہوںمیرا پیپلز پارٹی چھوڑنے کا کوئی امکان نہیں یہ واویلا مچایا جا رہا ہے کہ مجھے پارٹی سے نکالنا چاہئے پی ٹی آئی سے مجھے نگران وزیر اعظم بنانے کی بات ہو رہی ہے، کہاجاتارہا کہ پارٹی دشمن رویے کے خلاف مال روڈ پر مظاہرہ ہورہا ہے یسے انداز گفتگو میں یقین نہیں رکھتا کہ سیاسی اختلاف ہو تو جو برا کہنا چاہیں کہہ دیں ،کیا اگر سیاسی اختلاف ہو تو رانا ثنا اللہ کی زبان استعمال کرنا شروع کر دیں، جب وکلا کی تحریک چلا رہا تھا تب بھی کہا جاتا تھا کہ یا پیپلز پارٹی چھوڑ دیں، میرا جواب تھا کہ پیپلز پارٹی چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی وکلا تحریک، میرے تعلقات پارٹی کے ساتھ اس وقت بھی شائستہ تھے اور رہنے چاہئے،مجھے دو مئی 2007 کو پیپلز پارٹی چھوڑنے کا پیغام پرویز مشرف سے ملا،پرویز مشرف نے کہا آپ وزیر اعظم بنیں، میں تب بھی تیار نہیں تھا

    اعتزاز احسن نے اپنا موقف واضح کر دیا ، پی ٹی آئی کے یوتھیوں کو انتظار تھا کہ وہ اب عمران خان سے جا ملیں گے لیکن انکی امیدوں پر پانی پھر گیا، ممکنہ طور پر اعتزاز احسن پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے ٹویٹر پر گالیاں کھانے کے لئے تیار رہیں…

  • مظلومِ سیاست عمران خان اور آڈیو لیکس سکینڈل — زوہیب علی چوہدری

    مظلومِ سیاست عمران خان اور آڈیو لیکس سکینڈل — زوہیب علی چوہدری

    پاکستان میں ہر بندہ مظلوم ہے اور سب سے زیادہ ہمارے سیاستدان مظلوم ہیں اور ان میں بھی سب سے زیادہ مظلوم ہیں ہمارے خان صاحب ۔۔۔ کیونکہ انہوں نے سیاست میں مظلومیت کے لگ بھگ 26 سال گزار دیے ہیں جن میں سے چار سال وہ پاکستان کے مظلوم وزیراعظم بھی رہے۔۔۔ وہ مظلوم کیوں ہیں اور وہ کن کے ظلم کا شکار رہے؟۔۔۔ یہ سوال جواب طلب ہے۔۔۔

    لیکن پھر بھی اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بس جب جب انہوں نے کسی پر بھروسہ کرکے کوئی عہدہ دیا، کسی کو عوام سے عزت دلائی اور کسی کو اپنا ہمراز و ہمنوا بنایا اور ان سب کی جانب سے جب خان صاحب کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا تب خان صاحب نے جو غم و غصے اور دکھ کا اظہار عوامی سطح پر کیا وہ بیانات ہی سن پڑھ لیں تو تشفی ہوجاتی ہے کہ جی بلکل خان صاحب ایک زیرک اور ذہیں مگر مظلوم سیاستدان ہیں۔۔۔

    جیسے کہ چار سال ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور آج جب خان صاحب حکومت میں نہیں اور انکی آڈیو لیکس باہر آرہی ہیں جن میں ملکی سیاست، سفارت اور بلخصوص دفاعی معاملات سے متعلق انتہائی سیکرٹ باتیں ہیں تو خان صاحب نے روایت برقرار رکھتے ہوئے بڑی خوبصورتی سے مظلومیت کارڈ نکال لیا ہے۔۔۔

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ” آڈیو لیکس کے ذریعے پاکستان کی قومی سلامتی کی رازداری کو عالمی سطح پربےنقاب کیا گیا ہے”۔۔۔آڈیو لیکس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ” بحیثیت وزیراعظم میرے فون کی محفوظ لائن بگ کی گئی، آڈیو لیکس قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہیں”۔۔۔

    اس کے علاوہ خان صاحب نے آڈیو لیکس کی صداقت جانچنے کے حوالے سے عدالت جانے کا جو عندیہ دیا تھا آج اس پر عمل کردیا ہے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کے ساتھ آج عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے تاکہ مظلومیت کے رنگ پھیکے نہ پڑ جائیں۔۔۔ عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کو غیر قانونی قرار دیا جائے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔۔۔ لیکن یہاں ہمارے پیارے خان صاحب نے مظلومیت کی انتہا کردی کہ نام نہیں لیا کہ کون ذمہ دار۔۔۔

    جب یہ ملک کے وزیر اعظم تھے تب ان کو خبر تھی نا کہ جی آفس کی نگرانی اور ڈیٹا ریکارڈنگ وغیرہ وغیرہ ہوتی ہے اور وہ کون کرتے ہیں؟ تب ہی کیوں نا اس پر سخت یا ضروری اقدامات کیے کہ آج آڈیو لیکس کی خفت مٹانے کی ایسی کوششیں کرنی پڑ رہی ہیں؟
    خان صاحب سے پہلے بھی وزرائے اعظم اور صدور رہے ہیں جن کے ادوار میں آفس کی نگرانی اور ڈیٹا ریکارڈنگ وغیرہ وغیرہ ان کی موجودگی اور رخصتی کے بعد معمول کی ہی کاروائی رہی ہے، کوئی لیکس یا سیکیوریٹی بریچ جیسا واقع اس طرح رونما نہیں ہوا جیسے خان صاحب کی دفعہ ہوا یا ہو رہا ہے حالانکہ پورے دور حکومت میں خان صاحب اور انکی پارٹی کی جانب سے ایک صفحے والی کہانیاں بھی سنائی جاتی رہیں۔۔۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ خان صاحب

    خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
    صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

    کہ مصداق اسی طرح مظلومیت، الزام تراشی اور اداروں سے نادیدہ تصادم کی سیاست کرتے کرتے دوبارہ اقتدار کا راستہ سیدھا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوں؟

    ایک طرف ملک میں سیاسی اور معاشی بحران کے کالے سائے لہرا رہے ہیں، دوسری جانب ملک کی مکسچر اور کمزور ترین حکومت مردہ گھوڑے میں روح پھونکنے کی سبیلیں کر رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر نئی بساط بچھ رہی ہے اور تمام قوتیں اپنے مہرے سیٹ کر رہی ہیں اور پاکستان جیسا اہم ملک اس منظر نامے میں اپنی جگہ طے کرنے سے جزوی طور پر قاصر ہے۔۔۔ ملکی اور عالمی سطح پر حالات کیا رخ اختیار کریں گے