Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دَسْتَک کے اردو معنی، دروازہ بجانا، دروازہ اور پھاٹک کھٹکھٹانے اور تھپتھپانے کے عمل کو کہتے ہیں.

    دستک یا ڈور بیل ہماری روٹین اور معمول کا لازمی جز ہے۔

    ہمارا رویہ کسی دوست، عزیز یا پڑوسی کے گھر گئے یا بعض دفعہ اپنے گھر کی دستک یا بیل بجانی ہو تو بیل پر انگلی رکھ کر چسکے لینے لگتے ہیں جو کہ نہایت بےہودہ حرکت ہے۔ اگر مطلوبہ دروازے پر بیل کی بجائے دستک دینی پڑ جائے تو اردگرد کے لوگوں کو بھی مشقت میں ڈال دیتے ہیں۔

    عزیز بھائیو ! ذرا سوچیں کہ ممکن ہے اندر گھر میں کوئی مریض ہو یا کسی کو گھنٹوں کی مشقت سے گذر کر نیند کی گھڑی میسر آئی ہو یا پھر ممکن ہے کوئی کسی اہم امر میں مشغول ہو بعض دفع پردے والے گھر میں کسی مرد کے گھر میں نا ہونے کے سبب بھی تاخیر ہو جاتی ہے لہٰذا حوصلہ تحمل اور بردباری ایک ضروری وصف ہے جس کو ہم سب میں ہونا چاہئیے۔

    اسلامی ہدایات

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے
    قبل اجازت لینے کے آداب کیا ہیں؟

    کسی کے گھر جانے سے قبل اجازت لینا ایک اچھے اور مہذب انسان کی پہچان اور اس کی شرافت کى دليل ہے. ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس کی اجازت کے بغیر پہنچ جاتا ہے تو اس کو ایسی حالت میں دیکھے گا جس میں شاید اسے دیکھنا پسند نہ ہو. شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کی بالکل گنجائش نہیں کہ کوئی آدمی کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو. اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا

    “اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو.” سورۃ نور 27

    اسی لئے اسلام نے اجازت کے کچھ آداب بیان کئے تاکہ اس کے ماننے والے اس کى روشنى میں اپنى عملی زندگی گزار سکیں.

    1 گھر کے اندر نہ جھانکا جائے۔

    کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے گھر میں اور اوپر نیچے جھانکنے کی، ایسے لوگ اچھے مزاج کے ہرگز نہیں ہو سکتے. بخاری، مسلم كى روايت ہےحضرت ابو هريره رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کسی شخص نے تمہارے گھر میں بغیر تمہاری اجازت کے جھانکا اور تم نے اسے كنكری پھینک کر ماری اور اس کی آنکھ پھوٹ گئی تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں۔

    2 اجازت لینے والے کو چاہئیے کہ وہ دروازے کے بالکل سامنے نا کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ براہ راست گھر میں نظر نہ پڑسکے۔ ( نہایت اہم بات )

    پھر دروازے پر کھڑے ہوکر "السلام علیکم” کہتے ہوئے كہے: کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ دروازے پر دستک دیتے وقت زور زور سے دروازہ پیٹنا اچھی بات نہیں بلکہ اتنی زور سے دروازہ مارا جائے کہ آواز اندر چلی جائے. دروازے پر تین بار ٹھہر ٹھہر کر دستک دے۔

    3 اجازت لینے والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے۔

    جب آپ کسی کے دروازے پر دستک دیں گے اور وہ آپ کے لئے دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو واضح ہے کہ وہ دروازہ کھولنے سے پہلے آپ کا نام جاننا چاہے گا، اس لئے اپنا نام بتانے میں کسی قسم کے جھجھک کا تجربہ نہیں کرنا چاہئیے۔

    بخاری، مسلم كى روايت هے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض میں مدد مانگنے کے لئے گیا جو ہمارے باپ پر تھا. میں نے دروازہ پر دستک دی تو آپ نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں ہوں. تو آپ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا "میں” "میں” گویا آپ نے اسے ناپسند كيا۔

    4 اجازت نہ ملنے پر لوٹ جائیں۔

    اگر اجازت نہ مل سکے تو گھر والوں کے بارے میں کوئی برا خیال نہ رکھیں اور وہاں سے لوٹ جائیں کہ ظاهر ہے کہ کسی صحیح وجہ کی بنیاد پر ہی آپ کو اجازت نہیں ملی ہے: اللہ کریم نے فرمایا:-

    سورة النور 28

    ترجمہ: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہی تمہارے لئے زیادہ اچھی بات ہے. اللہ اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ سور النور آیت 28..

  • ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    ضمنی الیکشن کے نتائج اور ان کے اثرات — نعمان سلطان

    کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر لکھی تھی کہ انگلش فلموں میں ولن ہمیشہ انتہائی طاقتور اور ہیرو ایک عام آدمی ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے آپ اس وقت ہارتے ہیں جب آپ خود ہار تسلیم کرتے ہیں اس لئے وہ آخری وقت تک پرامید رہتا ہے لگاتار ناکامیوں کے باوجود حوصلہ نہیں ہارتا اور جیتنے کے لئے مناسب موقع کی تلاش میں رہتا ہے جب اسے قسمت سے موقع ملتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو کامیابی میں تبدیل کر لیتا ہے ۔

    یاد رکھیں یاد صرف فلم کا اختتام ہی رہتا ہے اور فلم کے اختتام میں حاصل کی گئی ایک کامیابی کی بنیاد پر لوگ اس کی ساری ناکامیوں کو بھول کر اسے ہیرو کا درجہ دیتے ہیں لیکن یہ ایک کامیابی حاصل کرنے کے پیچھے اس کا جوش، جذبہ اور انتھک محنت ہوتی ہے اس لئے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر شخص میں ایک ہیرو بننے کی صلاحیت ہے صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کسی کام کو ناممکن نہ سمجھیں راستے کی مشکلات سے بددل نہ ہوں ۔

    پاکستان کی سیاست میں ناممکن کو ممکن بنانے والی شخصیت کا نام ہے عمران خان، جنہوں نے سیاست شروع کی تو اپنی الگ سیاسی جماعت بنائی لوگ ان پر ہنسے کہ ایک نوآموز سیاست دان پرانی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں میں کیسے اپنا مقام بنائے گا یہ عنقریب اپنی جمع پونجی لٹا کر سیاست سے تائب ہو جائے گا یا پرانی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ پر بیعت کر لے گا لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ اس نوآموز سیاست دان نے تمام پرانے سیاست دانوں کی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا اور اپنی انتھک سیاسی جدوجہد میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے بلند ترین سیاسی مقام وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز ہوا ۔

    جس وقت پی ڈی ایم کی جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپنا وزیراعظم منتخب کرایا تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب عمران خان پاکستان کی سیاست سے آؤٹ ہو گئے ہیں لیکن وہ رجیم چینج کا بیانیہ لے کر دوبارہ عوام کی عدالت میں گئے اور عوام کو قائل کیا کہ ان کی حکومت کی تبدیلی کی وجہ خراب طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابری کی سطح پر بات چیت کرنا ہے اور ملکی مفاد کے خلاف کسی بھی بات پر انہیں واضح انکار کرنا ہے ۔

    پی ڈی ایم کو قوی امید تھی کہ وہ مہنگائی کو قابو کر کے رائے عامہ کو اپنے حق میں کر لیں گے لیکن ان کی بدقسمتی کہ وہ ایسا نہ کر سکے اسی دوران پنجاب کے ضمنی انتخابات آ گئے جس میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ان کے پاس رہنی تھی اپنا نگران وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود پی ڈی ایم ضمنی انتخابات ہار گئی اور تخت پنجاب ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔

    شکست کا بدلہ لینے کے لئے پی ڈی ایم نے قومی اسمبلی کی ان نشستوں سے پی ٹی آئی اراکین کے استعفیٰ قبول کئے جہاں وہ کم ووٹوں سے انتخابات جیتے تھے تاکہ ان نشستوں کے ضمنی انتخابات میں وہ تمام جماعتوں کا مشترکہ امیدوار کھڑا کر کے تحریک انصاف کا مقابلہ کریں اور انہیں شکست دے کر بتائیں کہ اب تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے اس وجہ سے عوام نے انتخابات میں انہیں مسترد کر دیا ۔

    عمران خان نے کمال چالاکی سے پی ڈی ایم کی سیاسی چال انہی پر الٹ دی اور تمام حلقوں سے ضمنی انتخاب خود لڑنے کا اعلان کر دیا یہ ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ تھا جس میں ناکامی کی صورت میں تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچ سکتا تھا لیکن عمران خان نے رسک لیا اور ضمنی انتخابات میں سات میں سے چھ حلقوں میں فتح حاصل کر کے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کیا جبکہ ساتویں حلقے میں انتخابی بےضابطگیوں کے واضح ثبوت ہونے کی وجہ سے اس حلقے کے انتخابی نتائج کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ۔

    ضمنی انتخابات کے نتائج نے عمران خان کی رجیم چینج کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جبکہ پی ڈی ایم کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچایا ہے جس کا انہیں آنے والے انتخابات میں معلوم ہو گا ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد امید ہے کہ اب عمران خان کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور شاید مقتدر حلقوں نے ابھی تک گلے شکوے دور کرنے کے لئے ان سے رابطے بھی کر لئے ہوں ۔

    اس سارے عمل میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب کا سیاسی کردار بھی ناقابل فراموش ہے آپ نے سیاسی فہم کا ثبوت دیتے ہوئے اس وقت مقتدرہ سے تعلقات قائم رکھے جب آپس میں شدید بداعتمادی کی فضا قائم تھی اور آپ نے تحریک انصاف اور مقتدرہ کے درمیان بداعتمادی کو دور کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان خلیج دور ہوئی اور آپ نے تحریک انصاف کی قیادت کو بھی یہ باور کرایا کہ ملکی مفاد میں فیصلے فرد واحد یا ایک سیاسی جماعت تنہا نہیں کر سکتی بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور آپس کے تعلقات دیرپا ثابت ہوں امید ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں فتح کے ثمرات تحریک انصاف کو عنقریب حاصل ہوں گے ۔

    عمران خان نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ ہیرو بننے کے لئے مضبوط بیک گراؤنڈ نہیں چاہیئے ہوتا اگر آپ میں جذبہ اور لگن ہو، آپ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ہارنے پر بددل ہونے کے بجائے جیتنے کے لئے اگلی مرتبہ زیادہ جذبے سے میدان عمل میں آنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو آپ ٹیم پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں اور پاکستان کے بھی کپتان بن سکتے ہیں ۔

    بقولِ شاعر

    تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

  • بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی سیاست میں تبدیلی کے نقارے بج اٹھے ہیں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کو لے کر کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر اوپیکس ممالک نے امریکی صدر کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور شاہی خاندان کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ خدشہ ہے کہ عالمی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت سمیت اس خطے پر بھی پڑیں گے۔ تاہم عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی خبر رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدان حلال ہے یا حرام ہے کی بحث میں پڑے ہیں،

    حکمران عمران کا مارچ کدھر سے آئے گا کدھر جائے گا کی بحث کر رہے ہیں جبکہ عمران خان خفیہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے اس سے بے خبر ہمارے سیاستدانوں نے وطن عزیز کو کن بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے راہزنوں اورر قزاقوں نے اپنی تجوریاں اپنے ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملک اور عوام کے مسائل سے آنکھیں بندکر لی ہیں۔حیرانگی کی بات ملک بحرانوں کا شکار ہے ہمارے سیاستدان اس بحث میں پڑے ہیں نیا آرمی چیف کون ہوگا کون ہونا چاہئے کیسا ہونا چاہئے ؟ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ان کا کام ہی نہیں ۔

    ملک کا آئین کیا کہتا ہے آئین کے مطابق اور سنیارٹی کے مطابق کون نیا آرمی چیف ہوگا اور پھر یہ معاملہ خالصتاً خود آرمی کا ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد میں مل کر ماضی میں اپنے تئیں غلطیوں کا اعتراف کریں مکمل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں۔ کرپشن، بدعنوانی ،ذاتی مفادات ،اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر قومی خدمت کا تہیہ کریں تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر قائداعظم کے تصور کردہ اصولوں کے مطابق ملکی نظام کو چلائیں ۔ ملک آج بھی بحرانوں کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔ پرانی پنجابی فلموں کی طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست بھی تھک چکی ہے ریاست اب اس طرز سیاست کرنے والوں کی بڑھک بازی کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

  • جنرل قمر جاوید باجوہ بطور آرمی چیف اور سیکیورٹی چیلنجز ، بقلم: شکیل احمد رامے

    ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار

    بقلم: شکیل احمد رامے

    گزشتہ تین دہائیوں سے ملک کو درپیش دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے میں پاک فوج کا کردار مٹی کے ایک ایک ذرے سے عیاں ہے۔ موجودہ امن کا تناظر اس کا گواہ ہے۔ بلاشبہ یہ ہماری آنے والی حکومتوں کی مسلسل اور عوامی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ آپریشن ضرب عضب جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن ان کے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ادارے کی مشترکہ کوششوں سے اسے دیرپا کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جنرل باجوہ، جو آرمی چیف کے طور پر اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں، نے یہ عہدہ 6 سال قبل سنبھالا تھا۔ اپنے دور میں، انہوں نے دہشت گردی، ہائبرڈ جنگ اور سی پیک کو محفوظ بنانے سمیت کئی محاذوں پر لڑنے میں پاکستان کی قیادت کی۔

    اس طرح، سیکورٹی چیلنجوں کے تناظر میں ان کے دور کا تجزیہ کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ملک کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے کا کردار کتنا بہترین تھا اگرچہ، ان کے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن میں چار اہم ترین کارناموں پر بات کریں گے

    سب سے پہلے، ان کی کمان میں پاک فوج نے ردالفساد کے نام سے ایک جامع انسداد دہشت گردی آپریشن شروع کیا۔ یہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن ہے، جو 2017 سے جاری ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عام شہریوں کے ساتھ مل کر اور قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ پروگرام کے اہم عناصر ہیں، طاقت کے استعمال کا حق ریاست کے پاس ہے، ڈبلیو بی ایم آر کے تحت مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانا، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ، پرتشدد انتہا پسندی کا خاتمہ، اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں فلاحی اقدامات۔ یہ سب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں انتہائی عمدہ طریقے سے کام ہوا

    ملٹری اور ایل ای اے نے 3 لاکھ سے زائد آئی بی اوز آپریشن کیے، غیر قانونی ہتھیار اور گولہ بارود ضبط کیا۔ فوج نے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو بھی پکڑا اور دہشت گردوں کی سزا کو یقینی بنایا۔ ایک اندازے کے مطابق دہشت گردوں کو سزا سنائے جانے کی شرح 70 فیصد تھی۔ پاک فوج نے تقریباً 40 ہزار پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت بھی دی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ سیکیورٹی کے بہتر ماحول نے بین الاقوامی برادری خصوصاً سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بڑھانے میں بھی مدد کی۔ اس نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد کی جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔

    دوسرا، فوج نے ففتھ جنریشن وارفیئر (FGW) یا ہائبرڈ وارفیئر (HWF) سے لڑنے کی صلاحیتیں بنانا شروع کر دیں۔ پہلا مرحلہ ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو قائم کرنا تھا۔ دوسرا مرحلہ جنگ میں مؤثر طریقے سے قیادت کرنے کے لیے انسانی وسائل کو تربیت دینا تھا۔ تیسرا مرحلہ وسائل کی تعیناتی اور انسانی وسائل کو زمینی حقائق سے واقف کرانا اور حقیقی وقت کی لڑائی میں مشغول ہونا تھا۔ اس کی فوری طور پر ضرورت تھی، کیونکہ پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بدترین متاثرین میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے دشمنوں نے ہر طرف سائبر ویئر اور پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے آغاز نے پاکستان اور چین کے مخالفین اور دشمنوں کو مزید اشتعال دلایا اس طرح انہوں نے پروپیگنڈا، سائبر وار اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں تیزی لائی۔ خوش قسمتی سے، پاکستان ففتھ جنریشن وارفیئر اورہائبرڈ وارفیئر کے بہتر اور فعال نظام کی وجہ سے پروپیگنڈے اور سائبر جنگ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔

    تیسرا، افغانستان سے امریکی افواج کے اچانک انخلا نے خطے کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی۔ فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کو زیادہ خطرہ لاحق تھا۔ پاکستان کے دشمنوں اور مخالفین نے اسے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کا اچھا موقع سمجھا۔ ان کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ دہشت گردی کی ایک نئی لہر پاکستان کو لپیٹ میں لے لے گی۔ تاہم، بروقت اقدامات اور انسداد دہشت گردی کے بہتر نظام اور ردالفساد جیسے اقدامات نے صورت حال پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کی۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے سے (جو کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 4 سال میں مکمل کیا تھا) نے بھی سرحد پار دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے میں مدد کی۔ اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے کچھ واقعات دیکھے لیکن بڑی حد تک صورتحال قابو میں رہی۔ اب پاکستان نئی ضروریات اور ضرورت کے مطابق انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چوتھا، پاکستان کی مسلح افواج نے بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلح افواج نے تمام کارروائیوں کو نافذ کیا، جو انہیں تفویض کیے گئے تھے۔ فوج نے ڈی ریڈیکلائزیشن کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پیغام پاکستان ایک اور بہترین اقدام ہے، جس نے بنیاد پرستی کو کم کرنے میں مدد کی۔

    پانچواں، سی پیک ایک بہت بڑا پروگرام ہے، جو پاکستان کے معاشی اور سماجی منظر نامے کو بدل سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی، ایک ایسے وقت میں جب پاکستان متعدد مسائل میں گھرا ہوا تھا اور ہمارے دوست، خاص طور پر جنگی دہشت گردی کے اتحادی ہمیں چھوڑ گئے۔ بلکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ اس تناظر میں چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔ یہ پاکستان کے مخالفین کے لیے بُری خبر تھی، اور انہوں نےسی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے متعدد پروگرام/کارروائیاں شروع کیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے سی پیک کی اہمیت اور سیکورٹی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر سیکورٹی کا ایک جامع فریم ورک تیار کیا۔ سیکورٹی فریم ورک کے مالک، مسلح افواج اور LEA نے سی پیک کے پہلے مرحلے کے دوران سی پیک سے متعلق سرمایہ کاری کا کامیابی سے دفاع کیا۔

    اتنی بڑی کامیابی کے باوجود، کچھ ایسے شعبے ہیں، جن کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح نئی قیادت کو ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر، اب سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو سی پیک کے پہلے مرحلے سے بالکل مختلف ہے۔ اس طرح سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ضروریات کے مطابق سیکیورٹی فریم ورک کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ عالمی حالات بھی بہت تیزی سے بدل رہی ہیں اور بہت سے بڑے کھلاڑی سی پیک کے حق میں نہیں ہیں۔ روس اور یوکرائن کا بحران صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا بھی علاقائی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔ اس تناظر میں سی پیک کے لیے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔

  • تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    نئی دہلی: تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں تین سال کا بچہ اپنی ماں کے خلاف شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا۔ بچے نے تھانے کے عملے سے ماں کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے ٹافیاں کھانے نہیں دیتیں اورتھپڑمارتی ہیں اس لیے انہیں گرفتار کیا جائے۔


    تین سال کے صدام کو اس کے والد ضد کرنے پر تھانے لے کر پہنچے تو تھانے کا عملہ اتنے کم عمر شکایت لے کر آنے والے کو دیکھ کر حیران رہ گیا بچے نے خاتون سب انسپکٹر کو اپنی والدہ کے خلاف شکایت درج کرائی اور انہیں گرفتار کرنے کا کہا-

    اس واقعے کی ویڈیو، سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، اس میں صدام کو برہان پور کے دیتلائی میں سب انسپکٹر کو اپنی شکایت بیان کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ سب انسپکٹر پرینکا نائک سے کہتا ہے، "امّی نے میری مٹھائیاں چرائی، اسے جیل میں ڈال دیا۔

    ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    خاتون افسر نے بچے کو پیار کیا اور جھوٹ موٹ اس کی شکایت درج کرکے ایک کاغذ پر باقاعدہ دستخط بھی کروائے بچے کی معصومیت پر اپنی ہنسی پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے، اس سے کچھ سوالات پوچھتی ہیں اور شکایت درج کروانے کا بہانہ کرتے ہوئے اپنے خدشات کو بیان کرتی ہیں۔

    پولیس افسر نے بچے کو یقین دہانی کرائی کے اس کی ماں کوگرفتار کرلیا جائے گا۔ ماں کے خلاف تھانے پہنچنے والے بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگی۔

    صدام کے والد نے پولیس کو بتایا کہ جب اس نے کینڈی مانگی تو اس کی ماں نے اس کے گال پر آہستہ سے پیٹا اس نے صدام کو پریشان کر دیا، اور اس نے مجھ سے اسے پولیس والوں کے پاس لے جانے کو کہا۔

    ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد، ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ایک ویڈیو کال پر بچے سے بات کی اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ دیوالی پر اسے چاکلیٹ اور ایک سائیکل بھیجے گا-

    قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں سعودی عرب کی کوششیں قابل تعریف ہیں،یوکرین

  • عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    کل ہونے والے ضمنی انتخابات میں سابق وزیراعظم اور چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب بھی عوام کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے عوام میں جو بیانیہ بنایا تھا۔ کل کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے اس بیانیے کی جیت کو نہ صرف ثابت کیا۔ بلکہ اس بیانیے کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔

    17 جولائی کے پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں جیت کی بعد تحریک انصاف ، پنجاب میں حکومت واپس لینے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

    جبکہ اس ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کی سیاسی تحریک اور عام انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کے مطالبے کو تقویت ملے گی۔ انتحابات کے نتائج سے یہ لگ رہا ہے کہ عمران خان اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں۔ جبکہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔ مگر ہر الیکشن کا اپنے ڈائینامکس ہوتے ہیں۔ اسی لیے قبل از وقت کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

    کل کے فواد چوہدری کے بیان سے تو یہی لگتا ہے کہ تحریک انصاف اب پہلے سے زیادہ قبل از انتخابات کےلئے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔
    اس جیت سے بظاہر تو تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تاہم عمران خان کا بیانیہ اس جیت کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔

    یہ تو بات تھی اس بیانیے کی جس میں عمران خان کی جیت ہوئی ہے۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے ایک اور بیانیہ بھی عوام میں بیچا۔

    اور وہ بکا بھی۔۔ وہ بیانیہ تھا کہ "الیکشن کمیشن جانبدار ہے”۔ اگر الیکشن کمیشن جانبدار ہوتا تو کیا عمران خان چھ نشستوں پر جیت پاتے؟۔ بالکل بھی نہیں ۔ عمران خان کی جیت نے عمران خان کے اس بیانیے کا ہرا دیا۔الیکشن نتائج سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا غیر جانبدار ہونا بھی ثابت ہوگیا ہے ۔ عام انتخابات میں عمران خان، کم از کم یہ بیانیہ تو نہیں اپنا سکتے کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے۔

    لیکن کیا پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت قبل از وقت انتخابات کروائے گی؟۔ بالکل بھی نہیں۔ ضمنی انتخابات نے عمران خان کو مقبول ترین لیڈر ثابت کر دیا۔ پی ڈی ایم کی حکومت جب تک عمران خان کے بیانیے کو کمزور نہیں کر دے گی۔ تب تک وہ عام انتخابات نہیں ہونے دے گی۔

  • پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد کیوں پیش کی؟ — نعمان سلطان

    ایک مرتبہ میں رات گئے راولپنڈی (فیض آباد) سے گوجرخان آ رہا تھا موسم سرد تھا اور سونے پر سہاگہ بارش بھی ہو رہی تھی میں جس بس میں سوار تھا اس میں دیگر مسافروں کے علاوہ ایک نائیکہ اور اس کے ہمراہی ایک لڑکی بھی سوار تھی جسے وہ اپنے کسی کرم فرما کے پاس چھوڑنے جا رہی تھی دوران سفر وہ عورت مسلسل دو اشخاص سے فون پر رابطے میں رہی اور بے دھڑک اونچی آواز میں ان سےفون پر باتیں کرتی رہی جس کی وجہ سے اس عورت کے پیشے اور سفر کا مقصد معلوم ہوا ۔

    پہلا شخص جس سے وہ رابطے میں تھی اس نے ایئرپورٹ چوک (کرال چوک) میں اسے ملنا تھا عورت فون پر بضد تھی کہ بارش کی وجہ سے وہ ان کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ بے بی کا میک اپ خراب ہو جائے گا اس لئے اگر وہ وقت سے وہاں پہنچ گئے تو ٹھیک ہے نہیں تو وہ گوجرخان دوسرے شخص کے پاس بے بی کو لے کر چلی جائے گی قصہ مختصر وہ شخص وقت پر نہ پہنچ سکا اور عورت گوجرخان چلی گئی بعد میں فون پر شکوے شکایتیں بھی ہوئے لیکن جیت نائیکہ کے موقف کی ہی ہوئی، بس کے مجھ سمیت تمام مسافروں نے اس تمام صورتحال پر کوئی ردعمل نہ دیا بس ان کی ٹیلیفونک گفتگو سن کر قیاس کے گھوڑے دوڑاتے رہے البتہ میں اس بات پر بہت عرصہ حیران رہا کہ وہ عورت کیسے اتنے لوگوں کے بیچ میں بیٹھ کر بے خوف ہو کر دیدہ دلیری سے ایسی باتیں کرتی رہی۔

    پی ڈی ایم نے جب تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کیا تو اس بات پر میں بہت حیران تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے جبکہ اس وقت ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے مشکل معاشی فیصلے کرنے ہیں جن کی وجہ سے حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی آنی ہے تو پی ڈی ایم کیوں تحریک انصاف کی حکومت کو تبدیل کر کے ان کی بلا (مشکلات) اپنے سر لینے لگی ہے تو اس کی تین وجوہات تھیں جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کو مجبوراً جلد بازی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنی پڑی تھی جبکہ دو دیگر ضمنی وجوہات اور تھیں اگر وہ بھی پوری ہو جاتیں تو لوگوں کی توجہ ان کے اصل مقصد سے ہٹ جاتی اور عام انتخابات میں پی ڈی ایم کو اس کا فائدہ ہوتا ۔

    پی ڈی ایم کی حکومت تبدیلی کی پہلی اور اصل وجہ یہ تھی کہ ان کہ خلاف جتنے بھی عدالت میں کیس تھے ان کے فیصلے آنے والے تھے، پی پی پی اور مسلم لیگ کی قیادت کو یقین تھا کہ یہ فیصلے ان کے خلاف آئیں گے اور شاید وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہو جائیں یا انتخابات کے دوران جیل میں قید ہوں، دوسری وجہ الیکشن کمیشن میں ہونے والی اصلاحات اور بائیو میٹرک مشینوں کے بارے میں پی ڈی ایم کا خیال تھا کہ ان کی وجہ سے وہ الیکشن ہار جائیں گے چنانچہ انہوں نے حکومت میں آ کر الیکشن اصلاحات ختم کر دیں اور دوبارہ پرانے طریقے کے مطابق الیکشن کے انعقاد کا حکم دیا جبکہ تیسری وجہ انہوں نے نیب قوانین میں تبدیلی کر کے انہیں اپنے حق میں کیا جس کی وجہ سے انہیں عدالتوں سے ریلیف ملا۔

    اس کے علاوہ پہلی ضمنی وجہ معیشت کی بحالی تھی پی ڈی ایم کی قیادت کی مجبوری تھی کہ حکومت تبدیلی کی اصل وجہ سے توجہ ہٹانے کے لئے وہ کوئی اور مقصد بتائیں تو انہوں نے تحریک عدم اعتماد کی وجہ خراب معاشی صورتحال بتائی اور مشکل معاشی فیصلے کر کے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کو اپنا ہدف قرار دیا، اس وقت ان کے مدنظر یہ تھا کہ پہلے مفتاح اسماعیل سے مشکل معاشی فیصلے کرا کے الیکشن کے نزدیک اسحاق ڈار کو لا کر عوام کو کچھ معاشی ریلیف دے کر رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر کے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جائے تو اسحاق ڈار نے وطن واپس آ کر وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھال لیا ہے شروع میں ڈالر کی قیمت کم بھی ہوئی تھی لیکن اس کمی کا فائدہ ابھی عوام تک نہیں پہنچا اور اشیائے خورد و نوش اسی طرح مہنگی ہیں شاید آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا اثر مہنگائی پر بھی پڑے اور اشیائے خورد و نوش سستی ہو جائیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کی دوسری ضمنی وجہ نومبر میں ہونے والی اہم تعیناتی کو قرار دیا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی مرضی کے بندے کی تعیناتی کرنا چاہتی ہے تاکہ بہترین ورکنگ ریلشن شپ قائم ہو اور اس کا فائدہ عام انتخابات میں بھی ہو لیکن مسلم لیگی قیادت کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں مسئلہ ہمیشہ اپنی مرضی کے بندے سے ہی ہوا ہے اس کے علاوہ بظاہر لگتا نہیں کہ وہ تعیناتی کرنے میں خودمختار ہوں گے بلکہ امید ہے کہ وہ صرف ہدایات پر عمل کریں گے اور سب سے آخری بات کہ ادارے کا سربراہ کبھی بھی شخصیات کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ ملکی مفاد میں ادارے میں مشاورت کر کے پالیسی بناتا اور اس پر عمل درآمد کرتا ہے اس وجہ سے تعیناتی چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت کرے لیکن یہ یقین رکھیں کہ ادارے صرف ملک و قوم کے وفادار ہیں ۔

    اب تحریر کے شروع میں بیان کردہ واقعے اور تحریک عدم اعتماد میں مماثلت بیان کرتا ہوں جیسے گاڑی میں سفر کرتی نائیکہ کو معلوم تھا کہ کام میں شرم کس بات کی اس لئے اس نے شرم کو بالائے طاق رکھ کر ڈھٹائی سے اتنے لوگوں کے درمیان اپنا پیشہ، اپنے ساتھ موجود لڑکی سے اپنا رشتہ اور سفر کا مقصد ٹیلیفونک گفتگو میں بیان کر دیا یعنی عزت پر پیسے کو ترجیح دی ایسے ہی پی ڈی ایم کی قیادت نے بھی عزت کے بجائے پیسہ بچانے کا فیصلہ کیا اور اپنے خلاف چلنے والے کیس ختم کرنے کے لئے عوامی ردعمل کی پرواہ کئے بغیر ہر حد تک گئے اور ثابت کر دیا کہ نائیکہ اور ان کی نظر میں اہم عزت نہیں بلکہ پیسہ ہے، یعنی گندہ ہے پر کیا کریں دھندہ ہے.

  • بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    کہا جاتا ہے کسی بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو بھی میری قبر میں ایک دن لیٹے گا اسی آدھی بادشاہت انعام میں دی جائے گی. ہر ایک کی نگاہیں راہ پہ لگی تھیں کہ اب کون اس اعلان کو قبول کرتا ہے. کہیں سے ایک بزرگ نے سنا کہ بادشاہ آدھی بادشاہی دینے لیے تیار ہے اور امتحان ایک رات کا ہے اور پھر میری کل ملکیت یہ ایک گدھا ہی تو ہے. سو اس نے بھی ڈبل شاہ کی طرح سوچا اور پھر یہاں تو انویسٹمنٹ بھی کچھ نہ تھی.

    دربار شاہی میں پہنچا اور آداب بجا لانے کے بعد عرض کی عالیجاہ بندہ ناچیز حاضر ہے.

    اسے خصوصی امتحان کے لیے لیجایا جائے، بادشاہ کی طرف سے جواب آیا.

    رات کا اندھیرا چھا چکا ہے ہر طرف بلا کی خاموشی ہے. کتوں کا غوغا اور الوؤں کی آوازیں ہیں. تھوڑی سی سرسراہٹ بھی صور فیل کی مانند تھی.

    اچانک سے دیوقامت منکر نکیر(مصنوعی) کمرے میں حاضر ہوجاتے ہیں.

    منکر نکیر: تم نے یہ گدھا کس طرح حاصل کیا؟

    پیسے کہاں سے لائے، کس ذریعے سے کمائے تھے؟

    تم نے فلاں وقت بوجھ زیادہ ڈالا اور چارہ کم کیوں دیا؟

    فلاں رات تم نے گدھے پر ظلم کیوں کیا؟ ساری رات سوال و جواب میں گزری اور کیفیت یہ تھی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن. گویا یہ قیامت کا دن تھا.

    الغرض ڈھیروں سوال اور بے چارہ سادہ بزرگ…

    صبح ہوئی تو وہ میدان سے یوں غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ. سوچا ایک گدھا ہے اور اتنے سوال آدھی بادشاہی ملی تو کیا حال ہونا ہے. الأمان والحفیظ

    اگر ایک نظر ملکی سیاست پر ڈالیں تو حیران و پریشان ہوجائیں گے. سال کی طرح 365 سیاسی جماعتیں ہیں اور ہر ایک ملک کو اوج ثریا پہ پہنچانے کے دعوے رکھتی ہے.؛ ور جو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں وہ صرف باریاں تبدیل کررہے ہیں.

    ملکی معیشت کہاں پہنچی ہے؟

    تعلیم کا معیار کس قدر بلند ہے؟

    انصاف کی فراہمی کتنی بہترین ہے؟

    ملکی وقار و دفاع کتنا مضبوط ہے؟

    لیکن اس بارے میں کسی کو ذرہ برابر پرواہ نہیں ہے. البتہ ہر ایک سیاسی جماعت اقتدار میں ضرور رہنا چاہتی ہے. اور جواب دہی کا خوف اس گدھے والے سے بھی کم ہے. جو اتنی کم ذمے داری کو بھی بہت بڑا سمجھتا ہے اور حکمرانی کو ہلاکت جان سمجھتا ہے.

    اور یہی احساس ذمے داری سے عاری رویہ ہے کہ ہر چیز تباہی کا شکار ہے. اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک ہم سے زیادہ مضبوط معیشت کے مالک ہیں. بدقسمتی سے حکومتوں کی آنیاں جہانیاں لگی ہوئی ہیں اور اس زاویے پہ سوچنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے.

    ہر الیکشن میں بلند بانگ دعوے اور وہ دعوے ہی رہتے ہیں. منصبوں کا افتتاح ہی اپنی سیاسی جدوجہد کا حاصل سمجھا جاتا ہے. ہر ایک حکومت آئی ایم ایف سے مضبوط مذاکرات کی خواہاں رہتی ہے. کبھی عرب ممالک تو کبھی چین اور آئی ایم ایف تو ان کا کامل پیر ہے.

    اپنے اثاثے گروی رکھو، قومی مفادات پہ کمپرو مائز کرو اور ہر بار ڈو مور پر عمل کرتے رہو. اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں تو تمہاری عزت خاک میں ملادیں. نہ بھی کانوں پہ جوں رینگتی ہے اور نہ ہی رگ حمیت بھڑکتی ہے. بس لفظی توپ خانے سے فائر ہوتے ہیں اور ہر طرف خاموشی ہی خاموشی رہتی ہے.

  • ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ملکی سیاسی صورتحال، ایک تجزیہ!!! — بلال شوکت آزاد

    ‘بس نام رہے گا اللہ کا’، قومی اسمبلی کے 6 حلقوں میں کامیابی کے بعد عمران خان کی انسٹا گرام پر پوسٹ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کے 8حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سے 6 میں کامیابی حاصل کرکے 2018 کے عام انتخابات میں 5 نشستیں جیتنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔۔۔ اتوار کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے8 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں سے 7 حلقوں میں عمران خان امیدوار تھے اور انہوں نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ایک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

    اتوار کے روز ہوئے ضمنی انتخابات میں عمران خان نے این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب اور این اے 239 کراچی سے کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ انہیں این اے 237 ملیر پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے بانی و سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بیک وقت 5 حلقوں سے الیکشن لڑ چکے ہیں، انہیں 4 میں فتح اور ایک پر شکست ہوئی تھی۔۔۔

    اس بڑی فتح کے بعد تحریک انصاف کے ووٹر اور سپورٹر کل سے جشن ِفتح کے سرور میں ہیں اور پی ٹی آئی قائدین بشمول عمران خان کی چال ڈھال میں مزید اعتماد اور مستقبل کی فتح کا پختہ یقین جھلک رہا ہے۔۔۔

    جبکہ تیرہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم میں کہیں صفِ ماتم بچھ گئی ہے اور کہیں رویوں میں درشتی کی جھلک نظر آرہی ہے، ایک تذبذب کی کیفیت میں ہیں کہ 6 نشستوں پر ہار کا غم کریں یا 2 نشستوں پر جیت کا جشن منائیں؟

    مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ اور حنا پرویز بٹ کی سنیں تو جیت کے شادیانے اور عمران خان کو دیتے طعنے سنائی دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب تمام جماعتوں کے اتحاد کو ضمنی الیکشن میں شکست پر نواز شریف بہت رنجیدہ ہیں اور ان کا شدید اظہار برہمی نظر آتا ہے۔۔۔ شکست کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی جبکہ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم پارٹی قیادت کی کارکردگی سے شدید نالاں ہیں اور بدترین شکست پر فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔۔

    اوردوسری جانب عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "لانگ مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔۔۔ چاہتا ہوں نواز شریف واپس آئیں اور میرے ساتھ مقابلہ کریں،یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں،نواز شریف اور زرداری 90 کی سیاست کر رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں ملک بدل چکا ہے، نواز شریف اور زردای کا وقت ختم ہو چکا ،جو مرضی کر لیں شکست ان کے حصے میں آئے گی.”

    لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے عمران خان کا مزیدکہنا تھاکہ

    "ملک کے مسائل کا ایک ہی حل ہے ، صاف اور شفاف الیکشن، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معیشت ٹھیک نہیں ہونے لگی، یہ ملک کو نہیں سنبھال سکتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، اب بھی کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے الیکشن کا اعلان کرنے کا، اگرالیکشن کا اعلان نہیں کریں گے تو میں مارچ کا اعلان کروں گا۔۔۔میں وقت دے رہا ہوں، ہم نے جلسے کیے ہیں اور دکھادیا ہے کہ عوام کہاں کھڑی ہے، سری لنکا میں کیا ہوا ؟ سری لنکا ڈھائی کروڑ کا ملک ہے اور یہ 22 کروڑ کا ہے، جب عوام سڑکوں پر آجائے گی تو اس کی گارنٹی نہیں کیا نتیجہ آئے گا۔”

    اس موقع پر ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ لانگ مارچ سے اگر مارشل لگ گیا تو؟ اس پر سابق وزیراعظم نے کہاکہ

    "فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے وقت تومارشل لاء نہیں لگا۔”

    اس پر رہنما مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ

    ” آپ کے ضمنی الیکشن میں جیتنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو غیر آئینی کام کا لائسنس مل گیا ہے، اگر آپ نے غیر آئینی کام کیا اور جتھہ کلچر یا اسلام آباد پر چڑھائی کی تو آپ کو پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دیا جائےگا، اگر آپ یہ راستہ کھولیں گے تو پھر آپ یہ بھول جائیں کہ صرف آپ کو اس راستے پر چلنا آتا ہے، الیکشن حاصل کرنے ہیں تو ٹیبل پر آئیں پارلیمنٹ آئیں۔۔۔ آپ کو نہیں پتا کہ آپ نےکیا کرنا ہے، ہمیں پتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کرنا ہے، ہم جمہوریت اور رول آف لا کا تحفظ کریں گے، آپ ملک میں افرا تفری چاہتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس رویے کو روکیں گی، یہ رویہ قابل مذمت ہے، یہ فتنہ فساد ہے۔۔۔”

    اور کل پاکستان کی عدالتوں میں تین اہم کیسز کی کاروائی بہت دلچسپ رہی، اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ملا ریلیف، ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا دلائل سننے کے بعد مسترد کردی گئی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور بغیر ثبوت کے انہیں اشتہاری قرار دینے پر اینٹی کرپشن پنجاب پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔۔۔اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان عدالت میں پیش ہوئے جہاں عمران خان کے وکلا کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے،جس پر عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی، عدالت نے 31 اکتوبر تک عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی ہے، یاد رہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی کل تک حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

    یہ سب ملک و قوم کو کس جانب لیکر جائے گا اور نتیجہ کیا نکلے گا اس کا فلحال کوئی اندازہ لگانا بہت مشکل اور قبل از وقت ہے لیکن ملک پر جس طرح ڈیفالٹ کے کالے سائے منڈلا رہے ہیں انکے رہتے ہمارے سیاستدانوں اور انکی حامی عوام کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تاکہ ملک کسی درست سمت پر گامزن ہوسکے۔

    دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ، کیا عمران خان اور پی ڈی ایم کی نوک جھوک کوئی نیا رنگ اختیار کرتی ہے ؟ کیا ملک کے ادارے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ملک کو ممکنہ بحران سے بچا سکیں گے؟

  • فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    کیلیفورنیا: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک 2015 متعارف کرائے جانے والے انسٹنٹ آرٹیکلز فیچر کوآئندہ برس ختم کرنے جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی میٹا، کی ذیلی کمپنی فیس بک کا کہنا تھا کہ یہ قدم اٹھائے جانے کی بنیادی وجہ اس کا ناکافی استعمال ہے۔

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    فیس بک کے ایک نمائندے کے مطابق فی الوقت فیس بک پر تین فی صد سے کم پوسٹ نیوز آرٹیکلز کے لنکس سے پوسٹ کی جاتی ہیں۔ اور رواں برس کے شروع میں جس طرح کہا گیا کہ کاروبار کے اعتبار سے ایسی چیزوں میں سرمایہ کاری کرنا معقول نہیں لگا جو صارفین کی ترجیحات نہیں ہوں۔

    فیس بک انسٹنٹ آرٹیکل کے فیچر کو 2023 کے اپریل کے وسط میں ختم کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ایسے تقریباً 37 ہزار پیجز ہیں جو یہ فیچر استعمال کر رہے ہیں۔

    ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے حال ہی میں کہا تھا کہ فیس بک پر گزارے گئے تمام وقت کا 50 فیصد ویڈیو دیکھنےمیں آتا ہے، جبکہ ریلز فیس بک اور انسٹاگرام دونوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا مواد کی شکل ہےزکربرگ نےیہ بھی کہا تھاکہ فیس بک کے صارفین ‘یہ نہیں چاہتے کہ سیاست اور لڑائی ہماری خدمات پر ان کے تجربے پر قبضہ کرے۔

    اس طرح، میٹا مزید تفریحی ویڈیو مواد کو صارف کی فیڈز میں آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے، جو AI پر مبنی سفارشات کی بنیاد پر دکھائے جا رہے ہیں، نہ کہ آپ کس کی پیروی کرتے ہیں اور/یا آپ کس سے منسلک ہیں۔ زکربرگ اسے فیس بک کے مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں، اور یہ تبدیلی پہلے ہی صارف کے تجربے میں جھلک رہی ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    واضح رہے یہ فیچر آئی فون یا اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں استعمال کیے جانے والے ویب براؤزر سے 4.9 گُنا تیزی کے ساتھ آرٹیکلز کو لوڈ کرتے ہیں۔