Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر، سب سے بڑی اور پرانی بندرگاہ ، سارے ملک کے تمام شہروں کے اجتماعی ریونیو سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے والے اکیلے شہر کراچی کی “ایڈمنسٹریشن سے شہر کے برساتی نالے صاف نہیں ہوسکے” (جیو نیوز رپورٹ) ۔ شہری اربن فلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔ کراچی والو فیر آیا جے غوری۔

    کراچی کے 41 بڑے اور 514 چھوٹے برساتی اور گندے پانی کی نکاسی کے نالے اس وقت گجر نالے اور اورنگی نالے کی قیادت میں ، شہر پر یلغار کرنے کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات ،صوبائی محکمہ برائے انتظام آفات اور کراچی کی شہری حکومت وارننگ جاری کرکے اپنے تئیں بری الذمہ ہو چکے ہیں۔ تاہم مجاہد کرینیں اور ان کے غازی مزدور نالوں سے کچرہ نکالنے کی نیم مردہ کوششیں ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر لاہور کے لکشمی چوک میں بھی بارشی پانی کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہے۔پنڈی کا نالہ لئی بھی خاموشی سے وار کرنے کے انتظار میں ہے۔

    اس سال کراچی ، لاہور اور پنڈی میں پھر وہی کہانی دہرائے جانے کے لئے تیار ہے ۔ہرسال کی طرح زور کی بارشیں،غضب کا مون سون ،تالاب منظر سڑکیں، گرتے مکانات ، مرنے والے عام شہری اور اربن فلڈنگ میں برباد ہوتی عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی۔

    اقتداریہ کے اجلاس پہ اجلاس، پانی نکالنے کی ہدایات، رپوٹوں کی طلبی، امداد کے اعلانات اور فوٹو سیشن، دو چار افسران کی سرزنش اور پھر آئندہ مون سون تک لمبی تان کر سونا۔ مجال ہے کہ اربن فلڈنگ کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے بر وقت اقدامات کا سوچا جائے اور اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جائے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ہر سال تقریباً 1.80 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوجاتا ہے۔ جبکہ ہم سخت شرائط کے بعد 1ارب ڈالر کا قرض لینے کے لئے آج کل آئی ایم ایف کی منتیں ترلے کر رہے ہیں۔ہم اربن فلڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرکے ہر سال کئی ملین ڈالر کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

    ملائیشیا کے شہر کوالالمپور کا ڈرینیج ماسٹر پلان 1978 میں بن چکا تھا جس وقت بقول شخصے ملائیشیا کا وزیراعظم پاکستان سے گندم ادھار لینے کے لئے خود چل کر پاکستان آتا تھا ۔میں خود سنہ 2000 کی دھائی میں دو تین سال کوالالمپور کے اسٹریجک سٹارم واٹر مینیجمنٹ پلان پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہا تو معلوم ہوا کہ کوالالمپور کی شہری حکومت کی ہدایت ہے کہ ایسا منصوبہ بنا کر دیں کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں آدھے گھنٹے سے کم وقت کی اربن فلڈنگ بھی نہ ہو حالانکہ وہاں روزانہ اتنے بڑے حجم کی بارش (80 ملی میٹر) ہوتی ہے جتنے کی آج محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہونے پیشن گوئی کی ہوئی ہے اور کراچی شہر کی ایڈمنسٹریشن نے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت کوالالمپور میں بارش ہونے اور اربن فلڈنگ کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا ریسپانس ٹائم ملتا تھا۔ اس پر بھی شہری حکومت نے ہمیں یہ وژن دیا کہ آپ بارش کو بھول کر ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں کہ بادلوں کے بننے کے پیٹرن سے اربن فلڈنگ کی پیشن گوئی ہوسکے جس سے ریسپانس ٹائم بڑھ جائے گا۔ ہمارے ہاں تو محکمہ موسمیات پچھلے ایک مہینے سے چیخ رہا ہے لیکن ہم اپنے سب سے بڑے کمرشل ہب کراچی کے برساتی نالے نہ صاف کرسکے۔

    کراچی میں تو بارشی پانی کی نکاسی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہئے جہاں سمندر کی شکل میں اتنا بڑا نکاسی کا ڈرین موجود ہے۔ وفاقی حکومت اربن فلڈنگ کو اپر چیونٹی سمجھتے ہوئے فوری طور پر شہر کے اربن سٹارم واٹر منیجمنٹ پلان پر کام شروع کردے۔ کسی ایک بڑی سڑک کے نیچے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے سگنل فری سٹارم وے واٹر ٹنل بنائی جائے ۔ یہ ایک بڑے قطر کی (40فٹ تک) سرنگ ہو جس کے اندر دوتین منزلیں ہوں۔ سب سے نچلی منزل سارا سال گندے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہو جب کہ اوپر والا پہلا فلُور آنے والی ٹریفک اور دوسرا فلور جانے والی ٹریفک کے لئے استعمال ہو۔جس کا باقاعدہ ٹول ہو۔

    اس ٹنل پر 7/24 موٹروے پولیس پٹرول ، ایمرجنسی فون سروس، سائن بورڈ، بچاو کے راستے اور ایمرجنسی مینار ہوں گے۔ انہی میناروں سے تازہ ہوا کی فراہمی اور ٹریفک چلنے کی صورت میں ہوا کی کوالٹی ٹھیک رکھنے کے لئے وینٹی لیشن اور ایگزاسٹ کا بندوبست ہوگا۔

    اربن فلڈنگ کی وارننگ کی صورت میں ایک دن پہلے ہی ٹنل کے دونوں اوپر والے فلور ٹریفک کے لئے بند کر دئے جائیں اور مون سون کے دنوں میں ٹنل کے تینوں فلور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہوں۔ بارش کے دنوں میں شہری حکومت ٹنل کمپنی سے اسٹارم واٹر وےکرائے پر لے کر نکاسی آب کے لئےاستعمال کرے۔ بارش کا پانی گزر جانے کے بعد ٹنل کمپنی اس کی صفائی کرکے دوبارہ ٹریفک چلا دے۔

    عام دنوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کا انتظام کرنے والی کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اربن سٹارم واٹر وے استعمال کریں۔ شہر میں ٹریفک جام کم ہوں اور صاحب استطاعت شہریوں کا وقت بھی بچے۔

    یہ راستہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ والے بھی استعمال کریں ۔ اقتداریہ بھی یہ راستہ استعمال کرکے عام آدمیوں کو پروٹوکول لگنے کی صورت میں ہونے والی تکلیف سے بچا سکتی ہے۔یہ ٹنل قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا سائیکلون کی صورت میں بطور پناہ گاہ بھی استعمال ہوسکتی ہیں اور خدانخواستہ کسی جنگی صورت حال میں بطور بنکر بھی۔

    لاہور کے پانی کا قدرتی ڈرینیج دریائے راوی ہے جہاں تک بارشی پانی کو شہر کے بقیہ حصوں سے پہنچنے میں اوسطا 10 کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت شہر میں ایک گندے نالے کو چھت ڈال کر سڑک کے لئے استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے جس سے نالہ کچرہ پھینکنے سے بھی بچا ہوا ہے۔ تین چار جگہوں پر انڈر گراونڈ ٹینک بنا کر بھی بارش کا پانی جمع کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    لاہور میں بھی کسی ایک بڑی سڑک جیسے مال روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ کے نیچے دریائے راوی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے سگنل فری اسٹارم واٹر وے ٹنل بنائی جا سکتی ہے۔ ایک اور بہترین راستہ لاہور کینال کے نیچے ٹنل بنانے کا ہے۔ٹنل کی مالک کمپنی سے LDA مون سون کے تین مہینوں کے لئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے ٹنل کرائے پر لے لے اور بقیہ 9 مہینوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اسٹارم وے استعمال کر لیں۔یہی کام نالہ لئی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پراجیکٹ بھی PPP پر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ ٹنل والا تو بہت ہائی ٹیک اور مشکل کام ہے تو پھر کم ازکم لاہور شہر کی مثال سامنے رکھتے ہوئے برساتی گندے نالے کو چھت ڈالیں اور اوپر سڑک بنادیں جو ارد گرد کی سڑکوں سے نیچی ہو اور اس کی سائیڈ پر دیواریں ہوں ( سیمی انڈر پاس )۔ چھت کے نیچے والے پرانے نالے میں عام دنوں میں پانی چلے اور اوپر سیمی انڈر پاس پر ٹریفک چلے۔

    بارش کی صورت میں اوپر والی سیمی انڈر پاس سڑک پر بھی بارشی پانی ڈال دیں جو سگنل فری اسٹارم وے سے جلد ہی سمندر برد ہوجائے گا یا جاکر بوڑھے دریائے راوی کی پیاس بجھائے گا ۔ بارش ختم ہونے کے بعد پھر اس پر ٹریفک چلا دیں۔ہاں اس منصوبے کو کمرشل بنیادوں ہونا چاہئے۔

    سگنل فری سٹارم واٹر وے ٹنل ان اقدامات کے علاوہ ہوگی جو وقتا فوقتا بارشی پانی کی کھپت کے لئے عرض کرتا رہتا ہوں جیسے پارک، میدان اور کھلی جگہوں پر ڈونگی گروانڈ اور تالاب وغیرہ بنا کر پانی چوس کنوؤں (ری چارج ویل) کے ذریعے بارش کے پانی سے زیرزمین پانی تی چارج کرنا یا نشیبی جگہوں پر زیرزمین پانی ذخیرہ کرنے کے اسٹوریج ٹینک بنانا۔ واٹر بینک بنانا( میری گزشتہ کل کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ وغیرہ وغیرہ۔

    تو پھر کیا سوچ رہے ہیں آپ۔ دیر کس بات کی۔ اس دفعہ کراچی لاہور اور پنڈی کے شہری اپنے نمائندوں سے ضرور اس بارے مطالبہ کریں۔

  • جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست حیرت زدہ ہے یہ ملک میں کیا تماشا جاری ہے انتہائی حساس معاملات کو گلیوں‘ چوراہوں‘ جلسے‘ جلوسوں میں زیر بحث لایا جارہا ہے۔ کہانی سلیکٹڈ سے شروع ہو کر امپورٹڈ تک اور اب حساس ترین معاملات کو موضو ع بحث بنا کر کون سی خدمت سرانجام دی جارہی ہے؟ ملکی فضائوں میں سائفر ہی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ عالمی دنیا بھی حیران ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے سیاستدانوں کو کیا ہوگیا سیاسی جنگ لڑتے لڑتے حساس معاملات پر لڑنا شروع کردیا۔ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

    مہنگائی‘ غربت‘ بے روزگاری‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ صحت کے مسائل‘ گندگی کے مسائل و عوامی مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔ پنجاب کی عوام پر تو دوہرا عذاب ہے ان کو ڈاکوئوں‘ چوروں‘ رسہ گیروں‘ قبضہ مافیا‘ لینڈ مافیا کے سپرد کردیا گیا ہے۔ مغلیہ دور میں محلوں میں خوشامدی اور مسخرے ہوا کرتے تھے آج کے دور میں سیاستدانوں کی خوشامد اعلیٰ پولیس افسران اور سول انتظامیہ کرتی ہے۔ منافع بخش پوسٹنگ کے لئے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنا‘ صرف سیاستدانوں کی ہاں سے ہاں ملانا ان کا شیوہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر اور راولپنڈی جو حساس ترین شہر ہے جرائم میں اضافہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر داخلہ پر سوالیہ نشان ہے؟ آئی جی پنجاب بھی بے بس نظر آتے ہیں

    مقتدر حلقے کو اسلام آباد راولپنڈی میں بڑھتے ہوئے جرائم پر فوری نوٹس لینا ہوگا ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عوام کو جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم تو پولیس اور انتظامیہ کا کام ہوتا ہے لیکن جب پولیس بے بس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بن جائے تو پھر مقتدر حلقوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ وطن عزیز کے سیاستدانوں کو سائفر سے فرصت ملے تو خطے کے حالات پر بھی توجہ دیں افغانستان میں دوبارہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اس کے اثرات اس پورے خطے میں پڑ سکتے ہیں۔ پاک فوج کی ساری توجہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور خطے میں بالخصوص افغان بارڈر پر ہے ملک میں سیاسی تماشے سے فرصت ملے تو امن و امان کی صورت حال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  • ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا -سید منظور گیلانی

    ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا -سید منظور گیلانی

    نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار
    باغی ٹی وی ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز ) نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کا اجلاس جنت پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ جنت منزل میں ہوا جس کی صدارت چئیرمین این ڈی اے اقبال ڈار اور چئیرمین پی پی ایم سید منظور گیلانی نے کی ملک کی موجودہ صورت حال بجلی مہنگائی ملک کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید منظور گیلانی نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاست کا وقت نہیں ہے ملک کو مضبوط کرنے کا وقت ہے سیاست ستر سال سے کر رہے ہیں اور آگے بھی کرتے رہے گے لیکن آج ہمیں ایک پاکستانی بن کر ملک کا سوچنا چاہیے یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہمیں اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا اس موقع پر اقبال ڈار نے کہا کہ ملک کی قومی سلامتی سب سے اہم ایشو ہے ہمیں قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے کام کرنا چاہیے آپس کی لڑائی میں ملک کا نقصان ہو رہا ہے اس موقع پر وائس چئیرمین شیراز الطاف نے کہا کہ ہم خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں ہم اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود آج بھی عوام کی خدمت بے لوث کر رہے ہیں اور کرتے رہے گے جنت پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل صدام حسین پڈھیار نے کہا ملک میں بجلی کے بلوں نے نہ صرف گھریلوں بلکہ کسانوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پر نظر ثانی کرے اور غریب عوام کو ریلیف دے اجلاس میں شعیہ پولیٹیکل پارٹی کے سید نو بہار شاہ ,خاکسار تحریک سے ڈاکٹر شجرہ , جمعیت علماء پاکستان ,عوامی فلاحی پارٹی اور استقلال پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور آنے والے دنوں میں ملک بھر کے دوروں کو حتمی شکل دی

  • چترال میں دس روزہ  ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    باغی ٹی وی چترال (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر ہوا جس میں 17 پولو ٹیموں نے حصہ لیا فائنل میچ میں چترال پولو ٹیم نے ایک کے مقابلے میں تین گولوں سے دروش پولو ٹیم کو شکست دیکر ٹرافی اپنے نام کردی۔ بادشاہوں کے اس کھیل کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں تماشائی میدان میں موجود تھے۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • صفدرآباد ۔ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے اور این آر او کے متلاشی تھے- رانا وحید احمد خاں

    صفدرآباد ۔ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے اور این آر او کے متلاشی تھے- رانا وحید احمد خاں

    باغی ٹی وی : صفدر آباد (رانا شہباز نثار) پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر pp143 رانا وحید احمد خاں کہ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے۔ این آر او کے متلاشی تھے جو انہیں مل گیا عوام مہنگائی سے مر رہی ہے جس کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدامنی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے لیکن حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ رانا وحید احمد خاں نے مزید کہا کہ عمران خان نے پہلے بھی کوئی ڈیل نہیں کی اب بھی نہیں کریں گے عمران خان واحد لیڈر ہے جو اپنی قوم کو خود دار اور بااختیار دیکھنا چاہتا ہے۔ عمران خان ہی قوم کی امیدوں کی آخری کرن ہے۔

  • مریدکے میں ریسکیو 1122 کی فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب

    مریدکے میں ریسکیو 1122 کی فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب

    باغی ٹی وی:شیخوپورہ تحصیل مریدکے (محمد طلال سے) ریسکیو 1122 مریدکے میں فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر رانا اعجاز احمد کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔تقریب میں ممبر قومی اسمبلی حلقہ 119 بریگیڈیئر(ر) راحت امان اللہ بھٹی اور ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ 136 خرم اعجاز چٹھہ نے خصوصی شرکت کی اور فائر سروس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ریسکیو 1122 وزیرِاعلیٰ پنجاب کا ایک عظیم عوامی و فلاحی منصوبہ ہے جو لوگوں کو بہترین خدمات فراہم کرتے ہوئے ان کے جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات کام کر رہاہے اور بروقت ریسپانس کر کے لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریدکے میں ریسکیو 1122 کی پہلے سے موجود عمارت موجودہ وسائل کے مطابق نہ کافی تھی جس سے گاڑیوں کی پارکنگ اور دیگر امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئی عمارت تعمیر ہونے سے ان مسائل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائر سروس کی دستیابی یہاں کی عوام کیلئے بہت بڑی نعمت ہے جس کی مدد سے انڈسٹریل اور گھریلو فائر ایمرجنسی پر قابو پا کراورمدد فراہم کرنے سے قیمتی جانوں و مال کو بچایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا ہم وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی اور ڈائریکٹر جنرل/سیکرٹری پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے مریدکے کی عوام کو فائرسروس کی صورت میں تحفہ دیا۔

  • تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک سماجی تنظیم  "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” میں شامل ہوگئے

    تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک سماجی تنظیم "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” میں شامل ہوگئے

    تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک بھی "ہوپ گورز فاؤنڈیشن” کا حصہ بن گئے۔ شوکت ملک کو پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن کا حصہ بننے پر خوش آمدید کہتے ہیں، عامر عقیل، سندس ریاض
    باغی ٹی وی : تلہ گنگ (نامہ نگار) نوجوان صحافی شوکت ملک تلہ گنگ کی مؤثر ترین فلاحی تنظیم "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” کا حصہ بن گئے، اس موقع پر سینئر ممبران عامر عقیل اور سندس ریاض کا بھرپور طریقے سے ویلکم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس طرح کے نامور اور ایکٹیو ممبران ہماری ٹیم کےلیے باعث فخر ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ تلہ گنگ ہوپ گورز فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے دکھی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے۔ تنظیم میں وسعت کےلیے مزید ممبران کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے، دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا ہر فرد ہوپ گورز فاؤنڈیشن کا حصہ بن کر غریب و لاچار اور مستحق لوگوں کےلیے مسیحا کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

  • بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    عورت کسی بھی گھر بلکہ کسی بھی معاشرے میں اہمیت کی حامل اور مانندِ ریڑھ ہوتی ہے۔ اگر عورت صحت مند اور تندرست نہ رہے تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور اگر عورتیں کسی ایسی موزی و خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو گھر تو گھر معاشرے کا نظام اور توازن بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔

    کیونکہ ایک عورت ایک گھر ایک خاندان پر مشتمل یونٹ کی وہ بنیادی اکائی ہوتی ہے جو کسی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجائے تو پورا گھر ایک ایسی افرا تفری اور انتشار سے روبرو ہوتا ہے جو اپنے آپ میں ایک الگ مسئلہ ہے۔

    اس صورتحال میں گھر اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کی صحت کا خیال کرے, اس کو پیش آمدہ صحت کے مسائل سے ناصرف باخبر رہے بلکہ عورت کو ہر دم آگاہی بہم پہنچاتا رہے تاکہ عورت اپنا اور اپنی صحت کا خیال رکھ سکے۔

    بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان بھی ایک ایسی موزی اور خطرناک بیماری ہے جس کا شکار مرد اور عورت دونوں ہوسکتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار عورتیں ہورہی ہیں اور ہوتی ہیں۔

    اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص بروقت ہوجائے تو قیمتی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں, ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے لیکن گزشتہ دس پندرہ سالوں سے پاکستان میں اس حوالے شعور و آگاہی پھیلانے کی مہم چلائی جاتی ہے جس کا سہرا بلخصوص پنک ربن Pink Ribbon نامی این جی او کو جاتا ہے جو فی سبیل اللہ اس موذی مرض کے خلاف نا صرف متحرک ہیں بلکہ اس کے تدراک کے لیے عملی کوششوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon پاکستان بھر میں بریسٹ کینسر اویئرنس سیمینارز, کانفرنس اور لیکچرز منعقد کرواتے ہیں اور معاشرے کے باشعور و پڑھے لکھے طبقے کی مدد سے ناخوانداہ افراد کو آگاہی پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر 24 گھنٹے میں 109 خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہیں۔ سالانہ 90,000 نئے چھاتی کے کینسر کے واقعات کے اضافے کے ساتھ سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات ایک سنگین تشویش کا معاملہ اختیار کرتا جارہا ہے۔ اگرچہ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات کو 90 فیصد تک بڑھا سکتا ہے, لیکن اس کے لیے ہمیں کھل کر بریسٹ کینسر پر بات کرنی ہوگی کیونکہ ماہواری اور دیگر خواتین کے نفسیاتی و جسمانی اور معاشرتی مسائل کی طرح اس بیماری پر بات کرنا بھی ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو ہے مطلب لوگ ناک منہ چڑھاتے اور اس مسئلے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔

    اسی لیے ملک بھر میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے سے لے کر حکومتوں اور نجی تنظیموں کے ساتھ مؤثر اتحاد قائم کرنے سے لے کر سپریم کورٹ کے ذریعے عدالتی وکالت تک؛ پنک ربن نے کامیابی کے ساتھ ‘چھاتی کے کینسر’ کے ممنوع موضوع کو ایک فعال ‘نیشنل ہیلتھ ایجنڈا’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    دوسری طرف، پنک ربن Pink Ribbon پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں جو اب تک 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ہسپتال کا مقصد سالانہ 40,000 چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو او پی ڈی، الٹراساؤنڈ، میموگرام، کیموتھراپی، سرجری، اور ان ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سہولت سمیت عالمی معیار کی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

    پنک ربن ایک خیراتی ادارہ ہے جو خالصتاً زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی شکل میں عوامی فلاحی کاموں پر منحصر ہے, اس لیے عوام کو جس میڈیم سے بھی بریسٹ کینسر اور پنک ربن کی بابت معلومات ملیں وہ حسب توفیق اس کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ضرور جمع کروائیں۔

    یاد رکھیں یہ مرض زیادہ تر عورتوں کو لاحق ہوتا ہے جو آپ کی ماں, بہن, بیوی اور بیٹی کے روپ میں اس معاشرے میں ہر لمحہ موجود رہتی ہیں اس لیے اس خطرناک اور موذی مرض کی آگاہی لازمی لیں اور اپنے گھر کی عورتوں کو اس بارے میں بتاکر ان کا خوف کم کریں کہ اگر بروقت تشخیص ہوجائے تو سروائیول کے چانسز بہت زیادہ ہیں البتہ دیر ہوجائے یا بلکل معلوم ہی نہ ہو تو پھر اس مرض سے موت ہونا طے امر ہے۔

    یہ بیماری خاموشی سے ہمارے معاشرے میں پھیل اور پھل پھول رہی ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف اس بابت ناقص معلومات یا کم علمی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی اس بیماری کے پھیلنے اور اس قدر خطرناک ہونے کی اصل وجہ شرمساری اور خاموشی بھی ہے۔

    گھریلو خواتین جن کی آنکھ ایک پدر سری اور توہم پرستی سے لبریز معاشرے میں کھلی ہے وہ نہ تو خود توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے ایسے مسائل کھل کر ڈسکس کرتی ہیں کہ نام نہاد مشرقیت اور خود ساختہ شریعت کا بھاری بھرکم بوجھ پہلے ہی سینے پر ہوتا ہے کہ اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوگئی تو دنیا کیا سوچے گی, میرے گھر کے مرد کیا سوچیں گے وغیرہ وغیرہ اور بیشک ہمارے سماج کی عورتوں کا یہ ڈر خوف اور شرمساری بے جا بھی نہیں کہ ہمارے معاشرےکا مرد عورت کی زیب و زینت کا تو خوب عاشق اور متمنی رہتا ہے لیکن اس کی اسی زیب و زینت کی طبی صحت اور نفسیاتی عوامل سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

    آپ مرد ہیں تو یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے معاشرے کا ٹیبو Taboo خواہ وہ ماہواری کے مسائل پر آگاہی ہو, سیکسشوئیل معاملات پر آگاہی ہو یا پھر سروائیکل و بریسٹ کینسر کی بابت آگاہی ہو کو آپ ہی توڑ سکتے ہیں اگر آپ خود سے ان معاملات پر آگاہی حاصل کریں اور اپنی بیوی کو بتائیں اور سمجھائیں اور وہ پھر آگےآپکی ماں بہن بیٹی اور تمام رشتہ دار خواتین کو آگاہی دے تو آپ صدقہ جاریہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    عورتیں خواہ مغرب کی ہوں یا مشرق کی۔ ۔ ۔ جب تک ان کو ان کے باپ, شوہر, بھائی اور بیٹے ہمت, حوصلہ اور اعتماد نہ دیں وہ بیچاریاں اپنی ذات سے متعلق مسائل, امراض اور معاملات میں بھی تذبذب, ڈر, خوف اور شرمساری کا شکار رہ کر موت کو تو گلے لگالیتی ہیں لیکن کسی اپنے یا پرائے سے اس قدر ممنوعہ بنا دیئے گئے معاملات ڈسکس نہیں کرپاتی۔

    آج بریسٹ کینسر کی آگاہی کا عالمی دن تھا لیکن ہمارے ہاں سوائے پنک ربن Pink Ribbon کے کوئی اس دن کو یاد نہیں کرتا اور نہ ہی خود سے اپنی گھر کی عورت کو اس بابت کچھ پتہ کرنے یا بتانے کا قصد کرتا ہے۔

    بریسٹ کینسر کو مات دینی ہے تو پہلے معاشرتی اور سماجی شرم و حیا کا میکنزم اور ڈیکورم بدلیں ورنہ بریسٹ کینسر اور اس جیسی دیگر موذی بیماریاں آپ کے معاشرے کی عورت کو نگلتی رہیں گی کہ وہ شرم و حیا کا چولا پہنے مرتی مر جائیں گی لیکن اپنی بیماری یا اپنی تکلیف کو راز ہی رکھیں گی, جس سے عورتوں اور مردوں کا تناسب خراب ہوگا اور معاشرہ عدم توازن کی طرف جائے گاکہ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    بہر کیف آپ کو بریسٹ کینسر سے متعلق جس طرح کی بھی معلومات درکار ہوں آپ بذریعہ انٹرنیٹ پنک ربن کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا روابط سے حاصل کرسکتے۔ اس پیغام کو آج کے دن بلخصوص اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کی خواتین سے ضرور شیئرکیجیئے تاکہ وہ خود اس مرض کی تشخیص کرنا سیکھ سکیں اور بروقت آگاہی سے موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں۔

  • بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے- نیپرا رپورٹ

    بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے- نیپرا رپورٹ

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ( ویب ڈیسک) بجلی بلوں میں ایسے سرچارج بھی ہیں جن کا صارف کی بجلی کھپت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پاور سیکٹر سے متعلق نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2022 میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں کیپیسٹی پیمنٹس میں 107 ارب روپے اضافہ ہوا اور 2021-22 میں 721 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کی گئیں جو 21 میں 614 ارب روپے تھیں۔نیپرا رپورٹ کے مطابق 2021-22میں ایل این جی کی قلت کے باعث مہنگے پاور پلانٹس چلائے گئے، ایل این جی کی قلت سے صارفین پر 19 ارب 33کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا، ملک میں بجلی کی طلب کے باوجود بہترین صلاحیت والے پلانٹس نہیں چلائے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گڈو پاور پلانٹ کے ایک یونٹ سے بجلی پیدا نہ کرنے سے 55 ارب روپے کا نقصان ہوا، چھ شوگر ملیں 2 سال سے بجلی کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا کہہ رہی ہیں، بجلی کمپنیاں اپنے علاقوں میں پلانٹس سے سستی بجلی نہیں خرید رہیں۔نیپرا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بجلی بلوں کے ذریعے بھاری ٹیکس لیے جاتے ہیں، وفاقی حکومت نے بجلی بلوں کے ذریعے ٹیکس اور سرچارج عائد کر رکھے ہیں، بجلی بلوں پر ایسے سرچارج بھی ہیں جن کا صارف کی بجلی کھپت سے تعلق نہیں، سسٹم کی ناقص کارکردگی کا بوجھ بھی سرچارجز کے ذریعے عوام بھگت رہے ہیں۔
    نیپرا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں کے ذریعے ٹیکسز ڈیوٹیز اور سرچارجز سمیت ٹی وی فیس وصولی سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ ادارے خود براہ راست عوام سے ٹیکس وصول کرنے کے قابل نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں بجلی ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن ہر شہری کو بجلی میسر نہیں ہے۔

  • روجھان : گذشتہ 2 سال سے گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نہ اساتذہ تعینات ہوئے اور نہ ہی کلاسز کا اجراء ،طالبات سراپاء احتجاج

    روجھان : گذشتہ 2 سال سے گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نہ اساتذہ تعینات ہوئے اور نہ ہی کلاسز کا اجراء ،طالبات سراپاء احتجاج

    باغی ٹی وی :روجھان (ضامن حسین بکھر) پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب حکومت کے نعرے دھرے کے دھرے روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان حکومت کی عدم توجہ سے طالبات کا تعلیمی مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ روجھان میں سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان کی طالبات نے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں کلاسز کی تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ ہونے اور تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر طالبات سراپاء احتجاج ۔
    تفصیلات کے مطابق

    روجھان میں عرصہ دو سالوں سے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں کلاسز کا اجراء نہ ہونے سٹاف کی عدم تعیناتی اور اسکول میں تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر آج سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان میں پرنسپل اکیڈمی ہذا عبدالرسول مزاری کی قیادت میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں سٹاف ٹیچرس کی عدم تعیناتی کلاسز کی عدم آغاز پر طالبات نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان میں عرصہ دو سال سے صرف کاغزی طور پر اسکول کو چلایا جا رہا ہے یہاں پر بچیوں کو پڑھنے کے لئے کوئی سہولیات میسر نہیں ہے روجھان میں کوئی سرکاری تعلیمی ادارہ نہیں جو طالبات کو تعلیمی سہولت میسر کر سکے طالبات نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان کی طالبات کو گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے اور سٹاف ٹیچرس تک نہیں ہے طالبات کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہو رہا ہے کہ پڑھے لکھے پنجاب کا نعرہ لگانے والوں نے روجھان کی طالبات کو تعلیمی سہولیات سے کیوں محروم رکھا ہوا ہے اور روجھان کی طالبات کا تعلیمی مستقبل روشن ہونے کی بجائے تاریک ہو رہا ہے مگر مجال ہے کہ ایجوکیشن ذمہ داروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی طالبات کا کہنا تھا کہ ہایئر ایجوکیشن کی تعلیم روجھان میں اور امتحانی سنٹر بھی روجھان ہی میں قائم کیا جائے احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا تھا کہ روجھان ہی میں ہائیر ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جائے اور طالبات کا کہنا تھا کہ ہم کبھی عمرکوٹ کبھی مٹھن کوٹ اور کبھی راجن پور جا کر عتاب کا شکار ہوتی ہیں طالبات نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، صوبائی وزیر تعلیم مراد راس سے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں ٹیچرس کی تعیناتی کلاسز کا آغاز تعلیمی سرگرمیوں اور روجھان ہی میں امتحانی سنٹر قائم کیا جائے تاکہ ہم گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کے ہوتے ہوئے تعلیم کے حصول کے دربدر جانا پڑتا ہے نہیں تو پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب کا نعرہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا اس موقع پر پرنسپل اکیڈمی ہذا نے حکومت اور روجھان سیاسی قیادت کی توجہ تعلیمی نظام کے جانب مبذول کرائی طالبات نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر روجھان میں تعلیم کی عدم سہولیات کے بارے میں نعرے درج تھے ۔