Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دوسروں کو خریدوفروخت کا طعنہ دینے والے طارق جمیل، عمران خان بارے چپ کیوں؟

    دوسروں کو خریدوفروخت کا طعنہ دینے والے طارق جمیل، عمران خان بارے چپ کیوں؟

    گزشتہ دنوں ملک میں آڈیوز ٹیپ لیکس کی بھرمار رہی تھی اور آئے روز ہیکرز کی جانب سے نئی نئی آڈیوز لیک کی جارہی تھی انہی میں سے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بھی آڈیو ٹیپ جاری کی گئیں جس میں عمران خان کسی کو خریدنے کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اس بات کی صحیح تصدیق تو فرانزک اور تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلیں گی کہ آیا یہ اصلی ہیں یا نقلی لیکن میں نے مختلف سینئر صحافیوں اور سیاسی پنڈتوں سے اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ یہ جو عمران خان بارے آڈیوز آئی ہیں تقریبا اصلی ہی محسوس ہوتی ہیں۔

    بہرحال اس بحث کو فلحال ہم آنے والے وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ اسی نے کرنا ہے لیکن یہاں پر مجھے خریدوفروخت بارے مولانا طارق جمیل کا وہ انٹرویو یاد آرہا ہے جو بول نیوز کے اینکر امیر عباس کو عیدلاالضحی کے موقع پر دیا گیا تھا جس میں غالبا پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے فرمایا تھا کہ "کس طرح انسانوں کو خریدا گیا اور ایک دھوکے سے حکومت بنائی گئی” صرف اتنا ہی نہیں حتکہ مولانا صاحب نے موجودہ حکمرانوں کو طعنہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ "کیا یہ اللہ اور اس کے نبی ص کے سامنے کھڑے ہوسکتے ہیں؟” اور پھر آپ ﷺ سے منسوب کرتے ہوئے کہا "کم بختو میں نے اولاد ذبح کروا دی مگر تم نے چند ٹکوں کی خاطر بائیس کروڑ عوام کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا۔” معروف مذہبی اسکالر طارق جمیل نے اسی انٹرویو میں مزید یہ بھی کہا تھا کہ "پاکستان کی ماوں نے اچھے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان اور اسکالر پیدا کیئے ہیں لیکن ایسے سیاستدان پیدا نہیں کیئے جو کہیں کہ مجھے اپنے نبی ﷺ کے طریقہ پر یہ نظام چلانا ہے۔” دراصل اس آخری بات کا واضح اشارہ عمران خان کی طرف تھا کیونکہ انہوں نے ہی حکومت میں آنے سے قبل اور بعد میں ریاست مدینہ کا دعوی بلند کیئے رکھا تھا۔

    لیکن سوال اب یہ ہے کہ عمران خان کی ہارس ٹریڈنگ یا اراکین کی خریدوفروخت بارے آڈیوز آنے کے بعد کیا مولانا طارق جمیل انہیں اللہ، رسول ﷺ کے سامنے کھڑا ہونے اور خریدوفروخت جیسا گھناؤنا کام کرنے کا طعنہ دیں گے؟ جیسا کہ انہوں نے عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے نکالنے والی پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت پر خریدوفروخت کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا؟ لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے.

    لیکن جو کچھ وہ عمران خان بارے کررہے یا انہیں مسیحا بنانے کی کوشش کرتے رہتے اس کا اثر مولانا کے ماننے والوں پر ضرور پڑتا ہے اور یہ ایسے کہ میرے ایک بھائی تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک کٹر قسم کے مولوی ہیں جن سے بحث و مباحثہ ہوا. انہوں نے مجھے کہا آپ کو بطور مصنفہ عمران خان کے حق میں لکھنا چاہئے. میں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ آپ اس حکومت کو جائز سمجھتی جو خریدوفروخت کرکے بنائی گئی؟ میں نے انہیں جواب دیا بھائی اول تو میں کسی حکومت کے بننے کے حق یا مخالفت میں نہیں اور دوئم بطور صحافی میرا کام حقیقت پر مبنی خبریا تبصرہ دینا ہے اور سوئم عدم اعتماد بارے ہمارے آئین میں واضح درج ہے لہذا آپ اسے پڑھنے کی زحمت کرلیں۔ لیکن انہوں نے میری بات مکمل سنے بغیر کہا پھر تو آپ حق و سچ کے ساتھ کے ساتھ نہیں (ان کا اشارہ عمران خان کی حمایت کرنے کی طرف تھا) انہیں جواب دیا کہ آپ بجائے مولانا فضل الرحمن یا کسی مذہبی جماعت کی حمایت کے بار بار عمران خان کی طرف داری کیوں کررہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ "مولانا طارق جمیل جو اس دور حاضر کا ولی ہے وہ عمران خان کی کھلے عام حمایت کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ میں عمران خان کو ایماندار شخص سمجھتا ہوں کیونکہ انہیں ایک بہت بڑا عالم دین اس قوم کا مسیحا سمجھتا ہے، ان کے لئے دعائیں کرتا ہے۔ مولانا طارق جمیل کے پیروکار کے بقول "یہ میں نے مولانا صاحب کے منہ سے سنا کہ کوئی ایسا رہنماء نہیں گزرا جس نے ریاست مدینہ کی بات کی ہو ماسوائے عمران خان کے۔”

    قارئین اب آپ خود اندازہ لگائیں جو سادہ لوح عوام ان علماء یا مشہور شخصیات کے ہارڈ کور قسم کے فین ہوتے ہیں ان پر ان کی ہر ایک بات کس قدر اثر انداز ہوتی ہے لہذا مولانا طارق جمیل سے عاجزانہ التماس ہے کہ یا تو مکمل طور پر کھل کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں یا پھر سادہ مزاج لوگوں کے ذہن خراب یا انہیں گمراہ کرنا بند کردیں کیونکہ ان میں اتنی جرات تو ہے نہیں کہ لاپتہ افراد، جبری مذہب کی تبدیلی، مظلوموں کے بے گناہ قتل و غارت اور جنید حفیظ جیسے قیدیوں کے بارے کھل کر بات کریں یا مذمت کردیں لیکن انہیں عمران خان جو واقع ایک لیڈر ہے اور اس کے ماننے والے بھی لاکھوں میں ہیں لیکن جب وہ وزیر اعظم بنے تو ان کے دور کو میڈیا کیلئے آمر دور سے بھی برا کہا گیا صرف اتنا ہی نہیں مہنگائی آسمان کو چھونے لگی تھی اس وقت مولانا طارق جمیل کو تو خیال نہیں آیا کہ عمران خان کے دور میں اغوا ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان، گولی لگنے والے سابق چیرمین پیمرا ابصار عالم اور نو ماہ تک بغیر کسی قانون کی خلاف ورزی کے سنسرشپ کا شکار رہنے والے حامد میر بارے مذمت ہی کردیتے لیکن اچانک تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد طارق جمیل صاحب کو مہنگائی بھی نظر آنے لگی تھی اور ووٹوں کی خریدوفروخت بارے اللہ کا عذاب بھی یاد آگیا۔ لہذا میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ چاہے عمران خان ہو، مولانا طارق جمیل یا پھر کوئی شخصیت ان کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے ہاں اگر ہم کسی کے کارناموں کے مداح ہوتے بھی تو ہم میں ان کے غلط کاموں پر تنقید کرنے اور سہنے کی جرات بھی ہونی چاہئے اور آج تک وطن عزیز کی ترقی میں یہی چیزیں حائل ہیں کہ جو جس کا پیروکار ہے وہ اسی کو ہی نعوذ باللہ ولی اللہ سمجھتا ہے جو کہ بہت بڑا المیہ ہے۔

  • کرونا کے بعد سنبھلتی معیشت پھر بھی مہنگائی بے روزگاری کا خدشہ

    کرونا کے بعد سنبھلتی معیشت پھر بھی مہنگائی بے روزگاری کا خدشہ

    چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس نے نہ صرف دنیا بھر میں انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ معاشی طور پر بھی اتنا کمزور کر دیا کہ معیشت اب بھی سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی

    پاکستان میں تو مہنگائی ہے ہی سہی دنیا کے دیگر ممالک امریکہ برطانیہ فرانس میں بھی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے اور عوام احتجاج کر رہے ہیں۔ کرونا کے دوران لاک ڈاون صنعتوں کی بندش سے بے روزگاری بھی ہوئی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کی وجہ بنا۔

    کرونا وبا آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے لیکن معیشت کو سنبھلنے میں وقت لگے گا ۔ لاک ڈاون کی وجہ سے آن لائن کام میں اضافہ ہوا ۔ آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ ملا تاہم بے تاہم اسکے باوجود بے روزگاری اب بھی موجود ہے۔ اور اسکے ساتھ ساتھ مہنگائی نے بھی غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے

    پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور ابھی تک اس شرح میں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ۔ پٹرول ۔سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بجلی گیس مہنگی، اشیائے خورونوش کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔پاکستان میں اگرچہ مکمل لاک ڈاون نہیں لگایا گیا تھا اسکے باوجود پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ۔

    عالمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح 2018 کے بعد سے آج ریکارڈ سطح پر ہے کرونا کے بعد کاروبار کھلا اور توانائی سمیت دیگر بہت سی چیزوں کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تیل کی قیمت سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی اور تیل ہی اشیا کی ترسیل کے لئے استعمال ہوتا ہے اسلیے اسکا اثر ہر چیز پر پڑا ہے
    پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا بعد ازاں معمولی کمی تو ہوئی لیکن خاطر خواہ کمی نہ ہو سکی

    کرونا کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے کرونا کم ہونے کے باوجود بے روزگاری اسی طرح موجود ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر روزگار کے اضافے کے مواقع بہت کم ہیں اور کام کی شرح بحال ہونے میں مزید ایک سے دو سال لگیں گے ۔رواں برس عالمی سطح پر کم از کم 20 کروڑ افراد کے بے روزگار رہنے کی توقع کی گئی تھی اور صورتحال اسی طرح ہے بے روزگاری کی وجہ سے بھی غربت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    بے روزگاری اور مہنگائی کے حوالہ سے پاکستان کے لیے بھی اچھی خبر نہیں ہے آئی ایم ایف نے پاکستان میں رواں برس مہنگائی اور بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق رواں برس پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے عالمی سطح پر مہنگائی 8.8 فیصد تک پہنچنے جبکہ پاکستان میں 19.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان میں بیروزگاری 6.2 سے بڑھ کر 6.4 فیصد تک جاسکتی ہے

  • شہر قائد میں بلدیاتی انتخابات کا مسلسل التوا

    شہر قائد میں بلدیاتی انتخابات کا مسلسل التوا

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں بلدیاتی حکومت کرونا وبا پھیلنے کے دنوں میں ختم ہوئی تھی تب سے اب تک کراچی میں بلدیاتی انتخاب نہیں ہو سکے، کراچی میں پہلے مرحلے کے الیکشن ہوئے تو دوسرے مرحلے کے الیکشن کو مسلسل ملتوی کیا جا رہا ہے بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہو رہے ہیں، پہلے بارشوں ،سیلاب کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہوئے تو اب سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے سیکورٹی اہلکار متاثرہ علاقوں میں ریلیف و ریسکیو میں مصروف ہیں اسلئے الیکشن ملتوی کئے جائیں، الیکشن کمیشن کا اس پر خصوصی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جاتے ہیں اور 15دن بعد الیکشن کمیشن کا اجلاس دوبارہ ہوگا ،وفاقی حکومت کے خط کے بعد سندھ بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کیا 15 دن کہ بعد ہونے والے اجلاس میں بلدیاتی الیکشن کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا کراچی میں بلدیاتی انتخابات 23 اکتوبر کو شیڈول تھے

    سندھ ہائیکورٹ میں کراچی کی مقامی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ الیکشن بروقت کروائے جائین ،سندھ ہائیکورٹ نے 23 اکتوبر کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کا حکم دیا تھا تا ہم سندھ حکومت کی درخواست پر الیکشن ملتوی ہوئے تو جماعت اسلامی، تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں نے شدید احتجاج کیا، تحریک انصاف کا موقف ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کا ملتوی ہونا سندھ حکومت اورالیکشن کمیشن کی طرف سے آئین کی کھلی توہین ہے، حالیہ ضمنی انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کو شکست نظر آ رہی تھی اسلئے الیکشن ملتوی کروا دیئے

    جماعت اسلامی نے بلدیاتی الیکشن ملتوی ہونے پر چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کا بھی اعلان کیا، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان نے چیف الیکشن کمشنر کو اختیارات دیئے ہیں، چیف الیکشن کمشنرکی پوزیشن یہ نہیں کہ وہ کسی سے پوچھیں کہ الیکشن کرانا ہے یا نہیں،آپ ایک کمزورچیف الیکشن کمشنر ہیں،آپ کومستعفی ہوجانا چاہیے جب بھی بلدیاتی الیکشن ہوگا، بھرپور حصہ لے کر اور جیت کر کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنائیں گے، کراچی میں صوبائی حکومت کی مداخلت سے ملتوی ہونے والے بلدیاتی انتخابات پر سینیٹ کی سب سے توانا آواز مشتاق احمد خان نے تحریک التوا جمع کروا دی۔ جس میں کہا گیا کہ ایوان میں بلدیاتی انتخاب ملتوی ہونے پر بحث کروائی جائے

    سندھ کی صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں الیکشن کے لئے تیار ہے، سیلاب کی وجہ سے ہمیں الیکشن ملتوی کروانے کی درخواست دینا پڑی،سندھ واحد صوبہ ہےجہاں پچھلی دفعہ بلدیاتی حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی جبکہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتوں کو4 سال تک معطل رکھا

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

  • بھارت کی نظر میں پاکستانی جمہوریت — نعمان سلطان

    بھارت کی نظر میں پاکستانی جمہوریت — نعمان سلطان

    ہم نصاب میں پاک بھارت تعلقات میں خرابی کی وجہ مسئلہ کشمیر بتاتے اور پڑھاتے ہیں اور یہ درست بھی ہے کیونکہ فی الحال اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اور کوئی بڑا تنازعہ نہیں ہے۔

    البتہ اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لئے دیگر تنازعات جیسے پانی کی تقسیم کا تنازعہ یا ایک دوسرے کے ملک میں ریاست سے باغی جماعتوں کی حمایت اور درپردہ ان کی امداد کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔

    دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں اگر دونوں ممالک میں مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکل آئے تو یہی دفاعی بجٹ عوام کی فلاح و بہبود اور معیشت کی بہتری پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔

    اس وجہ سے دوست ممالک کی طرف سے دونوں اطراف کے ممالک پر مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے زور دیا جاتا ہے جس کے لئے دوست ممالک سنجیدہ کوششیں بھی کرتے ہیں۔

    اکثر ایسی باتیں بھی سننے میں آتیں ہیں کہ دونوں ممالک بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ گئے ہیں لیکن پھر دونوں اطراف جمود چھا جاتا یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جاتا کہ بہتری کی طرف گامزن تعلقات ایک دم انتہائی کشیدہ ہو جاتے۔

    پاک بھارت مذاکرات نتیجہ خیز کیوں ثابت نہیں ہوتے،
    آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

    ایک ویڈیو دیکھی جس میں نریندر مودی صاحب واضح کہہ رہے ہیں کہ میں دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان سے ملا وہ سب اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز کون ہے ۔

    پاکستان میں اختیارات کس کے پاس ہیں منتخب جمہوری حکومت یا کسی اور کے پاس، تو پہلے پاکستانی آپس میں فیصلہ کر لیں کہ اختیارات کا منبع کون ہے اس کے بعد ہم ان سے نتیجہ خیز مذاکرات کر لیں گے ۔

    نریندر مودی کے یہ الفاظ ہماری جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے اور جب تک ہماری سیاسی جماعتیں ووٹ کی طاقت کے بجائے بیساکھیوں کے سہارے حکومت میں آتیں رہیں گی ہمیں ایسے مزید طمانچے پڑتے رہیں گے۔

    تو ہمیں نریندر مودی کے بیان پر ناراض ہونے کی ضرورت نہیں وہ تو گجرات کا قصائی مشہور ہے ویسے بھی بےعزتی ان کی ہوتی ہے جن کی عزت ہو تو مودی کے بیان کو نظر انداز کریں اور آنے والے انتخابات کے لئے جوڑ توڑ شروع کریں ۔

  • We are traped badly — عمر یوسف

    We are traped badly — عمر یوسف

    انسان کو خوشی ملتی یے تو دماغ سے ڈوپامائن نامی ہارمون ریلیز ہوتا ہے ۔ لذت کا یہ احساس انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے تاکہ مزید لذت محسوس ہو ۔ یا اس جیسا کام بار بار کیا جائے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ لینا چاہیے ۔ پارک میں جانے کے لیے بچے جوشیلے ہوتے ہیں ۔ واپسی پر وہی بچے انتہائی سست دکھائی دیتے ہیں ۔ ڈوپامائن اپنے پیک پر جانے کے بعد جب واپس ہوتا ہے تو انسان جتنا جوشیلا ہوتا ہے پھر اتنا ہی شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے ۔ اس کا نفس تقاضا کرتا یے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے لیکن کام گراں و ثقیل ہونے کی وجہ سے نئی ہوپاتا ۔

    اب جب یہی خصوصیات رکھنے والا انسان موبائل پکڑتا ہے تو رنگا رنگ دنیا دیکھتا ہے ۔ کہیں ایڈوانچر کہیں کامیڈی کہیں ٹریجڈی کہیں ایموشنل ڈرامہ کہیں میسٹری کہیں رومانس کہیں تھرلر کانٹینٹ اور کہیں سیاحت پر مبنی مواد ہوتا ہے ۔

    ایک کے بعد ایک انسان من کی خواہش پورا کرنے کے لیے لگا رہتا ہے ۔ ڈوپامائن ریلیز ہوتا جارہا ہے ۔

    آہستہ آہستہ نفس بڑے سے بڑے عمدہ و تھرلر کی ڈیمانڈ کررہا ہے ۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب سب کچھ بورنگ محسوس ہونے لگتا ہے ۔

    ڈوپامائن پیک پر ہونے کے بعد واپس ہورہا ہے اور انسان کو جوشیلے پن سے دگنی سستی و اکتاہٹ مل رہی ہے ۔

    یہ اکتاہٹ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی انسان کو اپنی ذمہ داریاں زہر محسوس ہونے لگتی ہیں ۔ پڑھنا ، کام کرنا اور ذمہ داری پوری کرنا اسے پہاڑ محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اور پھر وہ کوئی بھی بامعنی کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔

    موبائل میں اگرچہ مفید و با معنی ایکٹیویٹیز بھی ہوتی ہیں لیکن نفس کو اس مفاد سے کوئی غرض نہیں اسے وحشیانہ پن اور لہو و لعب درکار ہے ۔ انسان اپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے اب ان فضول سرگرمیوں سے جان چھڑا کر بامعنی کام کرنا ہے لیکن اگلے دن گدھا وہیں پر کھڑا ہوتا ہے جہاں کل تھا ۔

    سوشل میڈیا و موبائل کا ناسور انسان کے لیے اس قدر مصیبت بن چکا ہے کہ اس سے جان چھڑانا لگ بھگ ناممکن ہوگیا ہے ۔ اس ساری سائیکلنگ کو سمجھنے کے بعد نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آج کا انسان بری طرح پھنس چکا ہے ۔

  • دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    شاہ رُخ جتوئی مقتول شاہ زیب کے لواحقین کے ساتھ راضی نامہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ سے بری ہو گیا ہے افواہیں ہیں کہ لواحقین نے معقول پیسے لے کر راضی نامہ کیا جب کہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مقتول کہ لواحقین کو ڈرا دھمکا کے راضی نامے پر مجبور کیا گیا ۔

    اب دو صورتیں ہیں اگر ڈرا دھمکا کر راضی نامے یا خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا تو یہ ہمارے نظام انصاف کی خامی ہے جس کا میں نے اپنی ایک سابقہ پوسٹ میں ذکر بھی کیا جس میں چیف جسٹس نے حاضرین سے سوال کیا جن کو پاکستان کے نظام انصاف پر یقین ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں تو حاضرین میں سے کسی ایک شخص نے بھی اپنا ہاتھ کھڑا نہیں کیا ۔

    اگر مقتول کے لواحقین نے دیت (خون بہا) لیا تو یہ ان کا شرعی حق ہے اس کے لئے بھی شرط ہے کہ مرحوم کے تمام شرعی وارث اگر دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہوں تب راضی نامہ ہو گا اب اگر آپ یا میں مرحوم کے شرعی وارث ہیں تو ہمارا دیت لینے پر اعتراض کرنا بنتا ہے اگر ہم شرعی وارث نہیں تو ہم اخلاقی یا قانونی طور پر مرحوم کے لواحقین کے دیت (خون بہا) لینے پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کر سکتے ہیں ۔

    البتہ اس قتل کے کیس میں ریاست مدعی بن سکتی تھی اور وہ بنی بھی، شاہ رخ جتوئی پر اس قتل کے کیس میں 7ATA لگی جو کہ دہشت گردی کی دفعہ ہے یہ ناقابل ضمانت ہے اور مقتول کے لواحقین کی طرف سے راضی نامہ ہونے کے باوجود شاہ رخ جتوئی کی رہائی نہ ہونے کی وجہ یہی دہشت گردی کی دفعہ تھی بہرحال شاہ رُخ جتوئی کے وکیلوں نے عدالت میں دلائل دے کر دہشت گردی کی دفعہ اس پرچے سے خارج کرا دی اس کے بعد مقتول کے لواحقین کا راضی نامہ عدالت میں پیش کرنے پر عدالت نے شاہ رخ جتوئی کو رہا کر دیا ۔

    اب اس سارے معاملے کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے منقسم ہو گئی ہے چند دوست احباب مقتول کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں اور شاہ رخ جتوئی کی بریت کی وجہ اس کی بے تحاشہ دولت اور اختیارات کا ناجائز استعمال بتا رہے ہیں جب کہ چند دوست حقائق سے ناواقفیت کی بنیاد پر دیت (خون بہا) لینے کو مقتول کے لواحقین کی لالچ سے تعبیر کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں کہ جب انہوں نے پیسے لے کر راضی نامہ کر لیا تو اب ان سے ہمدردی کس بات کی جب کہ اسی بات کی آڑ لے کر چند احباب اسلامی دیت (خون بہا) لینے کے قانون پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں ۔

    ہم اسلامی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قاتل کے بارے میں قرآن پاک میں کیا حکم دیتے ہیں اور قصاص لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا دیت (خون بہا) لینے کی
    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

    وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً (النساء ۴:۹۳)

    ’’اور وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ‘‘

    مقتول کے لواحقین کی دلجوئی کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں الگ سے آیات نازل کیں اور اس میں ان پر مقتول کا قصاص لینے کا حکم دیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب لوگوں کو علم ہو گا کہ قصاص میں لازمی ہم بھی قتل کئے جائیں گے تو وہ اشتعال میں آنے سے گریز کریں اور فساد فی الارض کے مرتکب نہیں ہوں گے ۔

    ۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۔۔۔۔﴿البقرة: ١٧٨﴾

    ’’اے ایمان والو تم پرمقتولین کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔”

    لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ ہر کوئی قتل منصوبہ بندی کر کے یا فوری اشتعال میں آ کر نہیں کرتا اتفاق سے بھی قتل ہو جاتا ہے جیسے ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت وغیرہ تو اسے شریعت کی اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں اور اس میں مقتول کے لواحقین کو کہا گیا ہے کہ وہ دیت (خون بہا) لے کر یا اللہ واسطے قاتل کو معاف کر دیں ۔

    وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۔۔۔۔﴿النساء: ٩٢﴾

    ’’کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے خطا ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو خطا سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو دیت دے۔‘‘

    یعنی قرآن پاک میں جان بوجھ کر کر قتل کرنے کے لئے قصاص کا حکم ہے اور غیر ارادی قتل کی صورت میں دیت (خون بہا) لینے کا حکم ہے لیکن ہم لوگ ان واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سہولت کے مطابق ان کا استعمال کرتے ہیں اور قتل عمد میں بھی دیت (خون بہا) لے لیتے ہیں یا ایسے ہی راضی نامہ کر لیتے ہیں ۔
    ۔
    ایک سچا واقعہ آپ کو سناتا ہوں تاکہ بات مزید واضح ہو جائے، والدین کے صرف دو ہی بیٹے تھے بڑا بیٹا شادی شدہ جب کہ چھوٹے بیٹے کی منگنی ہوئی تھی لیکن بڑے بھائی کی بیوی چاہتی تھی کہ دیور کی شادی میری بہن سے ہو اور منگنی ٹوٹ جائے اس بات پر دونوں بھائیوں میں اختلافات پیدا ہوئے جو لڑائی جھگڑے تک جا پہنچے اور ایک دن لڑائی کے دوران بڑے بھائی نے مشتعل ہو کر چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا اب والدین مجبور ہو گئے ان کے صرف دو ہی بیٹے تھے ایک قتل ہو گیا اگر دوسرے کو معاف نہ کرتے تو اسے پھانسی ہو جاتی اس لئے مجبوراً انہوں نے بڑے بیٹے کو معاف کر دیا ۔

    اب اس واقعے میں مقتول کے وارث قاتل کے ماں باپ تھے انہوں نے دیت (خون بہا) کے قانون کا غلط استعمال کیا اور جانتے بوجھتے سب نے نظر انداز کر دیا لیکن ہر واقعے میں ایسے نہیں ہوتا مقتول کے شرعی وارثوں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم قاتل کے ناپاک وجود کو اس دھرتی پر مزید برداشت نہیں کر سکتے اس لئے ہمیں ہر صورت میں قصاص چاہیے ۔

    لیکن بعض مرتبہ قاتل کی سماجی حیثیت اتنی مضبوط ہوتی ہے یا وہ اتنا بڑا بدمعاش ہوتا ہے کہ اس سے اپنے باقی اہل خانہ کی جان بچانے کے لئے مقتول کے وارثوں کو مجبوراً راضی نامہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے دیت (خون بہا) کے قانون کا ہی سہارا لیا جاتا ہے اب اگر ریاست مضبوط ہو اور مقتول کے وارثین کو یقین ہو کہ قصاص لینے کی صورت میں ہمیں قاتل یا اس کے خاندان کی طرف سے کسی قسم کی انتقامی کاروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا تو وہ کبھی بھی دیت (خون بہا) نہ لیں ۔

    قتل فساد فی الارض ہے اور اس کو روکنے کا سب سے بہترین طریقہ قصاص ہی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ قصاص کے خوف سے کوئی قتل کا ارتکاب ہی نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو قصاص لینے کی صورت میں زمین سے ایسے شخص کا بوجھ کم ہو جائے گا لیکن دیت ہم پر بوجھ نہیں بلکہ رب کی رحمت ہے کہ اگر نادانستگی میں کسی سے ناحق قتل ہو جائے تو قاتل سے دیت (خون بہا) لے کر اسے ایک موقع دیا جائے۔

    اگر دیت نہ ہوتی تو قصاص پر روشن خیالوں کا ہی اعتراض ہوتا کہ اسلام کی نظر میں قتل عمد اور قتل خطا ایک برابر ہیں جو کہ نا انصافی ہے لیکن دیت کی وجہ سے وہ قصاص پر اعتراض نہیں کر سکتے تو اپنا بغض نکالنے کے لئے اب وہ دیت پر اعتراض کر رہے ہیں اس لئے اسلامی قانون پر اعتراضات کے بجائے اگر ان کو ان کی روح کے مطابق نافذ کرنے پر توجہ دی جائے تو یقیناً اس کے اثرات دیکھ کر معترضین بے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ واقعی اسلام دین فطرت ہے ۔

  • "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    ایک صاحب کسی ہوٹل پر تیتر کا گوشت کھانے گئے۔ کھاتے ہوئے انھے ملاوٹ کا شک ہوا تو ویٹر سے پوچھا کہ یہ خالص تیتر کا گوشت ہے؟۔ ویٹر نے کہا جی سر۔ مگر کھانے والا خود شکاری تھا اور تیتر کے گوشت سے اچھی طرح واقف تھا۔ آخر کار ویٹر نے بتا ہی دیا کہ صاحب! دیکھا دیکھی لوگ کھانے تو تیتر آتے ہیں ہمارے پاس مگر بیشتر لوگوں کو بیٹر کا ذائقہ ہی زیادہ پسند ہے ۔ سو مجبوراً مسکسینگ کرتے ہیں ۔ بات تو ٹھیک ہے ویٹر کی ہمیں مسکسینگ کی تو عادت ہو چکی ہے ۔ خالص کچھ بھی ہمیں اب اچھا نہیں لگتا۔

    ہمارے گھروں میں ڈبوں والے دودھ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اب خالص بھینس کے دودھ سے ہمیں بو جو آتی ہے ۔ خالص گندم کی روٹی ہمارے معدے ہضم نہیں کرتے مگر نان، پیزا تو معدے میں ڈالتے ہی ہضم ہو جاتا ہے ۔

    کوئی لیکوڈ ہمارے گلوں سے تب تک نہیں اترتا جب تک اس کا رنگ نیلا ، سبز ، کالا نہ ہو ، سفید لیکوڈ (دودھ) تو پینے کا ہم اب سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اگر کوئی پیے بھی گا تو مسکسینگ کے ساتھ ، سپرائٹ ، سیون اپ کے تڑکے کے ساتھ ۔ (صرف) دودھ تو شاید اب پینڈو پیتے ہیں۔ ہم تو اب ماڈرن ہو چکے ہیں۔ اتنے ماڈرن کے گھر والے کے ساتھ سلام دعا کا وقت نہیں ، اور سمندر پار لوگوں سے چوبیس گھٹنے رابطوں میں ہیں۔

    اتنے ماڈرن ہوگئے ہیں کہ ہمیں اب ماں بولی پنجابی گالی لگنے لگ گئی ہے۔ ہمارے گھروں میں اب کوئی بچہ پنجابی بول کر تو دیکھائے، صرف اردو اور انگریزی۔۔۔۔۔۔ فارسی ،عربی تو ویسے ہی ہم نے مدرسے والوں کے ذمے کر رکھی ہے۔ ہمارا کیا لینا دینا، وہ پڑھیں اور ان کا کام جانے، ہمیں کیا ۔

    اور اسی انگریزی کے چکر میں ہم کہیں کے نہیں رہے۔ سیکھو بھئی انٹرنیشنل زبان ہے، مگر یہ کہاں کا قاعدہ قانون ہے کہ اپنی بالکل ہی چھوڑ دو ۔ ہم نے تو صرف چھوڑی ہی نہیں دھتکاری ہے اپنی زبان ۔ جب تک ہم انگریزی کے دو چار جملے نہ بول لیں تو ہم پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھتے خود کو۔ کل ہی ایک دوست نے بتایا کہ اس سے اپنے گاؤں کے کسی شخص نے پوچھا کہ کونسی کلاس میں پڑھ رہے ہو۔ اس کے جواب پر فوراً انگریزی کا ایک عدد غلط جملہ اس کے منہ پر دے مارا کہ اس کا ترجمہ بتاؤ ۔ یعنی تعلیم یافتہ ہونے کےلیے ، انگریزی سند ہے تو بھئی! اس آدھی تیتر آدھی بیٹر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

  • گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    اورنگ آباد: ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کے درمیان زمینی تنازعات عام ہیں،مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع کے ایک گاؤں میں بندروں کو 32 ایکڑ اراضی اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونے کا نادر اعزاز دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست عثمان آباد میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں کے بندر زمیندار ہیں، اس گاؤں میں جہاں لوگوں کے پاس اپنے گھر نہیں ہیں وہاں 32 ایکڑ اراضی یہاں کے بندروں کے نام پر ہے۔

    دبئی میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرا نمائش کےلیے پیش کردیا گیا

    گاؤں کے رہائشی بندروں کا خاص احترام کرتے ہیں جب بھی ان کی دہلیز پر بندر آتے ہیں تو وہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور کھلاتے پلاتے ہیں۔

    اپلا گرام پنچایت کے پاس ملے زمینی ریکارڈ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ 32 ایکڑ زمین گاؤں میں رہنے والے تمام بندروں کے نام ہے۔

    گاؤں کے سربراہ کے مطابق ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا لازمی حصّہ ہوا کرتے تھے،جبکہ دستاویزات میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ زمین بندروں کی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ جانوروں کے لیے یہ انتظام کس نے کیا اور کب کیا گیا-

    بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹر تباہ،پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک

    جب بھی گاؤں میں شادیاں ہوتی تھیں، تو سب سے پہلے بندروں کو تحفہ دیا جاتا تھا جس کے بعد ہی تقریب شروع ہوا کرتی تھی تاہم اب ہر کوئی اس رواج کی پیروی نہیں کرتا،ماضی میں، بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا حصہ تھے۔

    انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ زمین کے دستاویزات یہاں کے بندروں کے نام ہے لیکن دستاویزات میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے لیے یہ انتظام کس نے اور کب کیا ہے۔ یہاں ایک مکان ہوا کرتا تھا جسے محکمہ جنگلات نے منہدم کرکے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے۔

    گاؤں میں اب بندروں کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ یہ زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے، اس وقت گاؤں میں تقریباً 100 بندروں کے گھر موجود ہیں۔

    مسٹر پڈوال نے کہا کہ گاؤں اب تقریباً 100 بندروں کا گھر ہے، اور ان کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ جانور زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے۔

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے اور اس پلاٹ پر ایک لاوارث مکان بھی تھا جو اب منہدم ہو چکا ہے جب بھی بندر ان کی دہلیز پر آتے ہیں گاؤں والے بھی انہیں کھلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی انہیں کھانے سے انکار نہیں کرتا-

  • آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ — زوہیب علی چوہدری

    جی ہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ایک بار پھر عمران خان اور تحریک انصاف کے نشانے پرہیں ، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقدہ دو دو ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے والے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ہی ریفرنس دائر کر دیا، ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ جانبدار ہیں، مبینہ جانبداری کے باعث وہ اس عہدے کے اہل نہیں، چیف الیکشن کمشنر کو اس کے عہدے سے ہٹایا جائے۔۔۔ اب فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے۔

    لیکن عمران خان اور تحریک ِ انصاف کے دوست قوم کو یہ بھی تو بتائیں اور سمجھائیں کہ جس چیف الیکشن کمشنر کو آپ نے خود تعینات کیا تھا اپنے دورِ حکومت میں وہ جانبدار کیسے؟ اور وہ کس کا جانبدار ہے؟

    کیا اس عہدے پر تعیناتی کے وقت آپ کو معلوم نہیں تھا کہ "بھئی یہ تو جانبدار بندہ ہے”؟

    یہ تو وہی بات ہوئی کہ” میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔۔۔۔”

    جن نشستوں پر تحریکِ انصاف جیتی وہاں جمہوریت کی جیت اور حق کی فتح جبکہ جن جگہوں پر بہت کم مارجن سے شکست ہوئی وہاں دھاندلی کا الزام اور چیف الیکشن کمشنر جانبدار۔۔۔؟

    ایسے کیسے گلشن کا کاروبار چلے گا کہ آپ میدان میں اکیلے دوڑکے خواہش مند ہیں اور ریفری بھی اپنی مرضی کا چاہتے ہیں۔۔۔

    حقیقی آزادی کی تحریک میں گیم فکسنگ کی اس کوشش کو کیا سمجھا جائے؟

    کیونکہ آج آپ اپنے دور میں تعینات کیے گئے بیشتر عہدیداروں جن میں آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، چیف جسٹس اور اب چیف الیکشن کمشنر تک پر شکوہ کناں ہیں کہ کسی نے آپ کو عدم اعتماد کی تحریک میں ریسکیو نہیں کیا، کسی نے آئین کی مبینہ غلط تشریح کرکے پی ڈی ایم کو فائدہ دیا، کوئی مبینہ مسٹر ایکس وائے زیڈ بن گیا اور اب چیف الیکشن کمشنر بھی آپ کو جانبدار لگ رہا ہے۔۔۔

    آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہو؟ والا یہ رویہ زیب نہیں دیتا لیکن اس کی پرواہ تحریکِ انصاف یا عمران خان کی جانب سے کب کی گئی ہے؟

    اگر اسی چیف الیکشن کمشنر پر آمادگی ظاہر بھی کی تو ساتھ ہی کہہ دیا کہ اور چوائس ہی کہاں ہے؟ مطلب کوا سفید ہی ہے۔۔۔۔

    دوسری طرف خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق جماعت اسلامی کراچی بھی چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کرکے برہم ہے۔۔۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے پر چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن ملتوی کرانا پی ڈی ایم کامشترکہ ایجنڈا ہے، الیکشن کرانے والے بھی زرداری ڈاکٹرائن پرچل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اہلکاروں کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی، الیکشن کمیشن کا یہ کام نہیں کہ الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں سے پوچھے، الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا مقصد صرف وسائل پرقبضہ برقراررکھناہے۔

    حافظ نعیم کا کہنا تھاکہ جواز بیان کیا گیا سندھ میں سیلاب کی وجہ سے نفری کم ہے، ہم نے پوچھا کہ بتایا جائے نفری کہاں کہاں لگی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر آپ کی پوزیشن نہیں کہ آپ پوچھتے رہیں، آپ سندھ حکومت کے سہولت کار بن رہے ہیں، بہتر ہے چیف الیکشن کمشنر استغفی دے دیں۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔

    آئینی اداروں کے پاس کیا اختیارات ہیں اور کس طرح وہ اپنی غیر جانبداری پر عوام اور سیاستدانوں کو مطمئن کرسکتے ہیں اس پر اداروں کو اب مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اداروں پر سیاستدانوں اور عوام کے عدم اعتماد اورغم و غصے کا یہی مومینٹم رہا تو نظام اور ریاست مزید خرابی کے شکار ہو سکتے ہیں۔

  • عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    عوام کی عدالت کسے بری کرے گی!!! — عبدالواسع برکات

    اگر سیاسی اور جماعتی وابستگی سے ھٹ کر ذرا دیکھیں تو ارض پاکستان بہت گھمبیر حالات سے گزر رھا ھے جو آج حالات چل رھے ھیں وہ کچھ ماہ قبل بڑی حد تک کنٹرول کر لیئے گئے تھے.

    میں اس دن ھی بہت خوش تھا جب او ائی سی کا اجلاس پاکستان میں منعقد ھوا تھا امت مسلمہ کے تمام نمائندگان اپنے بڑے بھائی پاکستان میں جمع تھے اور دنیا میں ایک نیا اتحاد طلوع ھونے والا تھا امت کی زبوں حالی اور مظلومیت کا دور چھٹنے والا تھا عالمی سطح پہ پاکستان کا ایک زبردست سوفٹ امیج پروان چڑھ رھا تھا پاکستان کورونا وار سے بچ کر اپنے پاؤں پہ کھڑا ھو رھا تھا.

    امریکہ کے غلامانہ تعلقات کی بجائے روس کے دوستانہ ماحول کو پروان چڑھایا جا رھا تھا انٹرنیشنل لیول پہ مہنگائی کا وار تھا پاکستان اس سے بھی نبرد آزما تھا کہ یک لخت میرے ملک کو کسی کی نظر کھا گئی ایک رات میں ھی کایا پلٹ دی گئی جو تخت پہ تھے ان کو فرش پہ بٹھا دیا گیا اور جو مجرم تھے جو اشتہاری تھے ان کو مسندوں پہ بٹھا دیا گیا جن پہ کرپشن کے بلنڈر تھے ان کو دودھ سے نہلا دیا گیا ان کے ھر جرم سے ھر گناہ سے اعراض کر لیا گیا ملک کی پرواہ کیئے بغیر دنیائے عالم کے تعلقات کی پرواہ کیئے بغیر بس ایک نامعلوم سازش کے تحت میرا ملک کئی دھائیوں پیچھے زبردستی دھکیل دیا گیا ۔

    اس گھپ اندھیری رات میں مسائل اور وسائل سے الجھی عوام میں جو امید کی کرن بن کر نکلا وھی عوام کے دلوں کا بادشاہ بنا ۔ جب گذشتہ جنرل الیکشن میں پی ٹی ائی نے الیکشن جیتا تو ھارنے والوں نے سیدھا اسٹیبلشمنٹ پہ الزام دھر دیا لندن سے ویڈیو خطاب تک کیئے گئے جگہ جگہ یہی الفاظ دھرائے گئے کہ مجھے کیوں نکالا اور یہ بیانیہ بری طرح فلاپ ہو گیا ۔

    اب جب کہ یہی ستم عمران خان کے ساتھ دھرایا گیا تو وہ بجائے رونے دھونے اور مظلوم شہید بننے کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے عوام کو کسی حد تک شعور دلانے میں کامیاب ھوتے نظر آ رھے ھیں عوام میں بیداری کی ایک لہر دوڑ پڑی ھے وہ تیس سالہ تجربہ کار ٹیم کے ھاتھوں دوبارہ لٹنا نہیں چاھتے وہ نہیں چاھتے کہ ھم پہ وہ کبھی دوبارہ مسلط نہ ھوں جنہوں نے ھمارے خون پسینے سے کمائے مال سے اپنی کئی کئی نسلوں کے مستقبل کو سنوار دیا جنہوں نے کرپشن زدہ مال کو بچانے کیلئے کئی کئی کہانیاں گھڑیں مگر ھر کہانی کو عوام ںے بری طرح مسترد کر دیا.

    ان سب باتوں کا ثبوت آپ دیکھ سکتے ھیں دو دن قبل ھونے والے ضمنی الیکشن میں جہاں پہ پی ڈی ایم نامی کثیر الجماعتی اتحاد ایک طرف اور عوام میں شعور اور بیداری پیدا کرنے والا لیڈر ایک طرف اکیلا تھا اور عوام نے بڑے سیاسی اتحاد کو مسترد کر دیا اب تو اسٹیبلشمنٹ کا بھی کوئی رولا نہیں اب تو لاڈلے بھی کوئی اور ھیں اب تو وفاق بھی پی دی ایم کا سندھ بلوچستان بھی پی ڈی ایم کا مگر رزلٹ PDM کیلئے انتہائی افسوناک ھے پی ڈی ایم والے سر پکڑے بیٹھے کہ مرضی کے اور پسندیدہ حلقے تھے مقتدر اور بیرونی طاقتوں کی آشیرباد بھی ھمارے ساتھ پھر ھم ریجکٹ کیسے ھو گئے؟

    تو میں بتلائے دیتا ھوں کہ پہلے عوام میں اندھی تقلید تھی عوام تیس سال اپنا مستقبل تمہارے ھاتھوں تباہ ھوتے دیکھتی رھی مگر شاید اب ایسا نہ ھو جو عوام میں ازادی کے نعرے کے ساتھ اتر جائے پھر عوام کے دکھوں کا مداوا کر لے عوام کے دلوں کا ترجمان بن جائے پھر اس کے خلاف کوئی آڈیو ویڈیو بھی کام نہیں کرتی یہ نوشتہ دیوار ھے ان تیس سالہ تجربہ کاروں کیلئے کہ اب شاید عوام فنکاریاں ہسند نہیں کرے گی نا کہانیاں اور نا دل بہلا دینے والے جھوٹے بیانیے قبول کرے گی.

    اگر عوام کی حمایت لینی ھے تو قربانیاں دینی پڑیں گیں عوام آپ کی قربانی نہیں مانگتی عوام تو وہ مانگتی جو آپ نے عوام کا لوٹ کر کھا چکے عوام تو چاھتی جو لوٹ چکے ھو وہ میرے ملک کو واپس کر دو میرے ملک پہ رحم کر دو عوام تو اپنی اور ملک کی دولت واپس مانگتی ۔۔۔ بے شک عدالتوں نے آپکو ایون فیلڈ کیس سے بری کر دیا پی ڈی ایم کے سرکردہ رہنما اس وقت ھر کیس سے بری کر دیئے گئے مگر عوام کی عدالت میں آپ مجرم ھیں آپ چور ھیں.

    اس وقت تک آپ الیکشن نہیں جیت سکتے جب تک آپ عوام کی عدالت میں بری نہیں ھو جاتے عمران خان کو دنیا کی ھر عدالت مجرم قرار دیدے مگر وہ عوام کی عدالت میں بری ھے عوام کی نظر میں ھیرو ھے عوام کے اذھان و قلوب میں آزادی کا نشان ھے اسی لیئے وہ ھر میدان میں کامیاب ھو رھا ۔۔۔

    میں دعوت دیتا ھوں ان شکست زدہ لوگوں کو کہ خود کو عوام کی عدالت میں پیش کریں عوام میں سرخرو ھو جاؤ گے تو پھر تمہاری جیت مبارک ھو جائے گی۔