Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنڈی بھٹیاں – علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے

    پنڈی بھٹیاں – علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے

    باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں(شاھد کھرل)علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے پچھلے 30 سال سے علی پو روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے جس کی وجہ سے اس علاقے کی ترقی رکی ہے علاقہ مکین اپنے حق کے احتجاجی ریلی سید نگر علی پورچھٹہ سے شروع ہو کر حافظ آباد پہنچنے پر فوارہ چوک میں پہنچ کر دھرنا دے دیا مظاہرین کے مطابق علی پور روڈ کیلئے 9 ارب کے فنڈ منظور ہوئے لیکن روٹ ہی تبدیل کر دیا گیا جو ہمیں منظور نہیں 14 فٹ کی بجائے ڈبل روڈ بنایا جائے جس سے علاقہ مکینوں سمیت دیگر شہروں کو بھی فائدہ پہنچے گا حافظ آباد علی پور روڑ کے علاقہ مکینوں کا فوارہ چوک میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی کر کے احتجاجی مظاہرہ حکومت مخالف مظاہرین نے شدید نعرہ بازی کی اور کہا انتظامیہ نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم احتجاجی دھرنا بھی دینگے ہم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ہمیں بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ھے آنے والے الیکشن میں عوامی نمائندے کس منہ سے ہم سے ووٹ مانگیں گے ہم چاہتے ہیں منتخب نمائندے ہمارا ساتھ دیں اور ہمارا بنیادی حق یہ سڑک تعمیر کی جائے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹنٹ کمشنر حافظ آباد مزاکرات کے لیے آئے جسے مظاہرین یہ کہہ کر بھیج دیا ڈی سی حافظ آباد کو بلایا جائے اور رکشے پر علی پور تک سفر کرنا چاہیے

  • پنڈی بھٹیاں:عدم ادائیگی بل سکول کی بجلی کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو پریشانی کاسامنا

    پنڈی بھٹیاں:عدم ادائیگی بل سکول کی بجلی کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو پریشانی کاسامنا

    باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں:(شاھد کھرل) بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو شدید پریشانی میں مبتلا، سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا سی او ایجوکیشن جاوید اقبال بابر صاحب کو تمام تر صورتحال کے بارے علم ہونےکے باوجود آنکھیں بند کئیے ہوئے ہیں، تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ، بجلی کا بل گزشتہ سات ماہ سے بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے میٹر کٹ گیا، والدین کے مطابق سابقہ ہیڈ مسٹریس میڈیم رضیہ نے مبینہ طور پر فنڈز خوردبرد کئیے فنڈز کا صیح استمال نہ کیا، جسکی وجہ سے بجلی کا میٹر کٹ گیا، سابقہ ریکارڈ کے مطابق سکول ہیڈ میڈیم رضیہ کی تعیناتی 1999 کو گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ میں ہوئی مئی 2017 میں مبینہ 14 لاکھ کرپشن ثابت ہوئی، جوکہ چند ماہ تنخواہ میں سے باقاعدہ طور پر کٹوتی بھی ہوتی رہی، ستمبر 2017 میں سفارشات کی بنیاد پر دوبارا بطور ہیڈ سکول کا چارج سنبھالا، والدین کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے دیا جانا والا NSB فنڈز اور سکول سے اکھٹا کیا جانے والا FTF فنڈز بھی کرپشن کی نظر ہو گیا، گزشتہ سات ماہ سے سکول کا بل ادا نہیں کیا گیا، جسکی وجہ سے واپڈا والے بجلی کا میٹر اتار کر لے گئے، یہاں تک کہ صفائی کرنے والوں خواتین کی تین تین ماہ کی تنخواہیں بھی نہیں دی گئی، متعدد پرائیویٹ ٹیچرز کو تقریباً تین ماہ کی تنخواہیں بھی جاری نہیں کی جا سکتی، والدین کے مطابق ڈپٹی ڈی او زنانہ کی مبینہ ملی بھگت کے ساتھ سرکاری خزانے کو چونا لگایا جاتا رہا، والدین کا چیف سیکرٹری پنجاب اور کمیشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تر معمالات کی اعلی سطح پر انکوائری کروائی جائے، تاکہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے،

  • ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!

    ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!

    ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    مملکت خداداد میں موجودہ دور میں کوئی بھی کام سفارش اور رشوت کے بغیر کرانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، دو نمبر کام کےلیے رشوت کا بازار گرم کرنے میں جتنا ہاتھ سرکاری محکموں میں بیٹھے افسران و ملازمان کا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارا بھی ہے، کیونکہ کسی بھی جائز و ناجائز کام کےلیے رشوت کی آفر سب سے پہلے ہم خود کرتے ہیں اور دیتے ہیں، جس کے باعث یہ ناسور اتنا پھیل چکا ہے کہ اب اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے، مگر سرکاری محکموں میں آج بھی کئی ایک ایماندار افسران بیٹھے ہیں جنہوں نے اس ناسور کیخلاف اعلان بغاوت کر رکھا ہے جن میں سے ایک نام انچارج ڈرائیونگ لائسنس ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن برانچ ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا بھی ہے۔
    گزشتہ روز کراچی ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانا ہوا، جہاں پر کرپشن اور رشوت جیسے ناسور کیخلاف انتہائی بہادری اور جرات مندانہ طریقے سے لڑنے والے انتہائی فرض شناس، ایماندار، خوش اخلاق، خوش لباس، خوش گفتار، خوش شکل ڈی ایس پی منیر احمد اعوان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جن کی ایمانداری اور فرض شناسی کے چرچے گزشتہ کئی ماہ سے سن رکھے تھے، اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنانے کےلیے ڈی ایس پی آفس گیا تو ڈی ایس پی منیر احمد اعوان وہاں پر تشریف فرما اپنے کسی مہمان کو بتا رہے تھے کہ جب میری پوسٹنگ بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ ہوئی مجھے کہا گیا ڈی ایس پی صاحب یہاں لوٹ مار کا بازار اس قدر گرم ہے کہ آپ اس سسٹم کیساتھ نہیں لڑ سکتے، مگر ڈی ایس پی منیر احمد اعوان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا وہ میرا مسئلہ ہے مجھے اچھی طرح معلوم کہ سسٹم کو کیسے رشوت خوری جیسے ناسور سے پاک کرنا ہے اور میری موجودگی میں میرے سٹاف کا کوئی بندہ رشوت لے کر دکھائے میرا کھلا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے پورے سٹاف کو بتایا ہے کہ رشوت کا ایک روپیہ بھی اگر کسی نے لیا یا کسی شہری کیساتھ بدتمیزی کی، مِس بی ہیو کیا تو نہ صرف اس کیخلاف ایف آئی آر درج کروں گا بلکہ اس کو نوکری سے بھی فارغ کراؤں گا چاہیے اس کےلیے مجھے خود کورٹس کے چکر ہی کیوں نہ لگانے پڑیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ یہاں پوسٹنگ کے بعد بہت سارے لوگوں نے مجھے میرے آفس آ کر بھی آفرز کی اور کہا صاحب چھوڑیں جیسے پہلے سسٹم چل رہا تھا ویسے ہی چلنے دیجئے مگر میں نے کہا میری موجودگی میں ایسا کوئی سوچے بھی مت، ان کی گفتگو مکمل ہونے کے بعد میں نے کہا سر میں کچھ بات کر سکتا ہوں جس پر انہوں نے کہا بیٹا ضرور بات کریں لیکن پہلے مجھے یہ بتائیے کہ آپ سے لائسنس کے سرکاری فیس کے علاوہ کسی نے کوئی پیسے تو نہیں مانگے، میں نے کہا نہیں سر بلکل بھی نہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا اب آپ اپنی بات کیجئے، میں نے اپنا مختصر تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا تعلق میڈیا سے ہے ایک ورکنگ جرنلسٹ ہوں اور یہ سن کر ہی یہاں آیا ہوں کہ بلدیہ ٹاؤن برانچ میں ایک ایماندار ڈی ایس پی آیا ہے جوکہ نہ رشوت لیتا ہے اور نہ ہی کسی کو لینے دیتا ہے، اور واقعی آج خود سارے پراسس سے گزر کر یقین ہوگیا کہ جہاں پر ایک ایک لائسنس کے بطورِ رشوت ہزاروں روپے بٹورے جاتے تھے وہاں پر رشوت کا نام تک موجود نہیں، میں نے کہا سر، سندھ جیسے صوبے میں جہاں کی گورنمنٹ سمیت تمام سرکاری محکمے ہی کرپشن اور رشوت خوری کا گڑھ بنے ہوئے ہیں وہاں پر ایسے ناسور کیخلاف دیدہ دلیری سے لڑنے پر آپ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
    جس پر ان کا کہنا تھا کہ بیٹا اس میں میرا کچھ کمال نہیں بس اللّٰہ پاک کیساتھ ایمان کا ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے جو نہ صرف خود حرام کھانے اور اپنے بچوں کو کھلانے سے روکتا ہے بلکہ اپنے ماتحت دوسرے لوگوں کو بھی حرام کھانے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی میری سروس کے دوران کسی کی مجال ہے کہ وہ دو نمبر کاموں کے پیسے لے کر خود بھی حرام کھائے اور اپنے بچوں کو بھی کھلائے، کم از کم میرے ہوتے ہوئے ایسا ناممکن ہے، گفتگو کے اختتام پر پوچھنے پر معلوم ہوا ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا تعلق بھی شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین چکوال سے ہے۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا اگر منیر احمد اعوان جیسے ایماندار اور فرض شناس آفیسرز کو سرکاری محکموں میں بلا روک ٹوک، بغیر کسی دباؤ ایمانداری سے کام کرنے دیا جائے اور پروموٹ کیا جائے تو یقیناً ترقی و خوشحالی ہمارا مقدر ہوگی۔ اللّٰہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    زمین پر5 سمندر بحر ہند، بحر اوقیانوس، بحر الکاہل، آرکٹک اوشین اور سدرن اوشین (بحر منجمد جنوبی) ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے چھٹے سمندر کو دریافت کیا ہے جو زمین کی سطح سے سیکڑوں کلومیٹر نیچے موجود ہے-

    باغی ٹی وی : زمین کی اندرونی ساخت اورحرکیات کو مینٹل ٹرانزیشن زون اور لوئر مینٹل کے درمیان 660 کلومیٹر کی باؤنڈری سے تشکیل دیا گیا ہے تاہم، اس گہرائی سے قدرتی نمونوں کی کمی کی وجہ سے، اس حد کی نوعیت اس کی ساخت اور اس میں اتار چڑھاؤ کے بہاؤ پر بحث ہوتی رہتی ہے-

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    660 کلومیٹر کا وقفہ، کثافت اور زلزلہ کی لہر کی رفتار میں اچانک تبدیلیوں کے ذریعے نشان زد کیا گیا، ہمارے سیارے کے عالمی ڈھانچے میں سے ایک ہے جو سطح اور گہرے اندرونی حصوں کے درمیان حرارت اور بڑے پیمانے پر تبادلے کو کنٹرول کرتا ہے۔

    جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے زمین کی اوپری اور نچلی پرت کے درمیان پانی کے بہت بڑے ذخیرے کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیاپانی کا یہ ذخیرہ زمین کی سطح سے 410 سے 660 کلومیٹر گہرائی میں موجود ہوسکتا ہے۔

    اس بات کا انکشاف افریقی ملک بوٹسوانا میں ملنے والے ایک ہیرے پر تحقیق کے دوران ہوا جس کے کیمیائی مجموعے سے عندیہ ملا کہ یہ زمین کی سطح سے 660 کلومیٹر نیچے پانی کے ماحول میں تشکیل پایا قدرتی ہیرے زمین کی سطح سے 150 سے 250 کلومیٹر کی گہرائی میں تشکیل پاتے ہیں مگر کچھ بہت زیادہ گہرائی میں ہوتے ہیں۔

     

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    تحقیق کے مطابق زمین کے اندر چھپا یہ سمندر سطح تک تو نہیں پہنچتا مگر اس میں ایسے منرلز موجود ہیں جو اس خطے کو بہت زیادہ دلدلی بناتے ہیں اس سے فرانس کے 19 ویں صدی کے معروف ناول نگار Jules Verne کے پیش کردہ خیال کو تقویت ملتی ہے کہ زمین کے اندر بھی ایک سمندر چھپا ہوا ہے۔

    محققین اس سمندر کو دیکھنے یا محسوس کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوئے مگر انہوں نے ایسے شواہد پیش کیے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمین کی گہرائی میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں ہم نےثابت کیا کہ زمین کی گہرائی میں وہ حصہ خشک نہیں بلکہ وہاں بہت زیادہ مقدار میں پانی موجود ہےتو اس جگہ پانی کی کتنی مقدارہوسکتی ہے؟مصدقہ طور پر کچھ کہنا تو ممکن نہیں مگرمحققین کےخیال میں اس حصےمیں زمین کے سمندروں میں موجود پانی سے 6 گنا زیادہ پانی جذب ہوسکتا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی اوپری اور نچلی تہہ کےدرمیان پانی ذخیرہ کرنے کی بہت زیادہ گنجائش ہے مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ واقعی ایسا ہے یا نہیں۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

  • مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آئن سٹائن کی یہ ایکوئیشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک ہی شے کے دو نام ہیں اور مادے میں کتنی توانائی ہوتی یے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ایکویشن کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مادی وجود روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ توانائی میں تبدیل ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہر گز نہیں۔ اول تو کوئی مادی شے روشنی کی رفتار سے سفر کر نہیں سکتی اور دوم یہ کہ یہ کسی شے کی رفتار میں اضافہ تبھی ہوتا ہے جب اُس میں مزید حرکتی توانائی ڈالی جائے۔ روشنی کی رفتار کے قریب دراصل آپکا اصل ماس نہیں بڑھتا بلکہ وہ اضافی توانائی جو آپ نے اسکی حرکت میں ڈالی ہے وہ اس سسٹم میں داخل ہوتی ہے۔

    E=mc^2 دراصل E=γmc^2

    ہے جس میں اضافی ٹرم γ یہ بتاتی ہے کہ کوئی شے اگر کسی رفتار سے حرکت کرے کی تو اُسکی مکمل توانائی میں کیا فرق پڑے گا۔

    γ =1/sqrt(1-(v/c)^2)

    مگر رکیے γ دراصل تناسب ہے کسی مادہ کے حرکت میں توانائی کے /اُسکی بغیر حرکت کی توانائی کے۔

    خیر آپ پیچیدہ ایکویشنز سے مت گھبرائیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ E=mc^2 دراصل اُس مادے پر لاگو ہوتی ہے جو حرکت میں نہ ہو یعنی اسکی رفتار صفر ہو جس سے γ کی ویلیو 1 ہو جائی گی تو ایکویشن وہی ہو گی جو آپ بچپن سے دیکھتے سنتے آئے ہیں۔ مکمل تصویر کچھ پیچیدہ ہے جس میں E= (pc) ^2 +(mc)^2 ہے جو اُن مادی اجسام اور فوٹانز دونوں کے لیے ہے جو روشنی کی رفتار یا اس سے کم پر سفر کرتے ہیں کہ اس میں اشیا کے ماس کے بغیر اشیا جیسے کہ فوٹانز کا مومنٹم شامل ہوتا ہے۔

    مگر فی الحال اسے رہنے دیں۔ اس کنفیوژن سے نکلیں کہ روشنی کی رفتار پر ماس لامحدود ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔

    کاسمک ریز جو کہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے آئنز ہوتے ہیں یا پھر نیوٹرینوز جو بے حد کم ماس کے حامل ہوتے ہیں روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہی سفر کرتے ہیں اور آئے روز خلا سے زمین پر آتے ہیں۔ اگر انکا ماس لامحدود ہوتا تو ایک ہی ہائیڈروجن آئن زمین تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ لہذا اُمید ہے آئندہ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ روشنی کی رفتار سے حرکت پر کوئی شے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے یا یہ کہ روشنی کی رفتار پر سفر سے کسی شے کا ماس لامحدود ہو جاتا۔

  • ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    شارٹ ویڈیوز دیکھنے والے ینگسٹر جانتے ہونگے کہ اکثر شارٹس میں استعمال ہونے والے گانے بہت ہی عمدہ ہوتے ہیں مگر جب ہم اوریجنل مکمل گانا سنتے ہیں تو دل گالیاں دینے کو کرتا ہے۔

    بالکل یہی حساب قومی کرکٹ ٹیم کیساتھ ہوتا ہے۔ کوئی بڑے پیج کا ایڈمن ایک شارٹ میچ دیکھ لیتا ہے جس میں کوئی پلئیر اچھا کھیل رہا ہے اور پھر کمپین شروع ہو جاتی ہے کہ اس کو کھلاؤ۔

    اور یوں اس کھلاڑی کی بکواس گیم دیکھ کر ہم جیسے شائقین کڑھتے رہتے ہیں۔

    خوشدل شاہ برا کھلاڑی نہیں مگر اس کو ڈومیسٹک اور لیگ میچز کھلانے چاہیں۔ اس غریب نے ایک میچ میں اچھی سینچری بنائی تھی اور شائد ایک ٹورنامنٹ اچھا کھیلا تھا کمپین چلی کہ خوشدل شاہ ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہر یوٹیوبر کرکٹر نے زور دیا ٹیم میں آیا تو پرچی بن گیا۔

    شان مسعود، عزم خان، حیدر علی ان کے بارے میں باقاعدہ کمپینز چلی ہیں کہ یہ مہا توپ کھلاڑی ہیں ان کو کھلائیں مگر ہر بار انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کو کیوں نہیں کھلانا چاہیے ہے۔

    آجکل خیر سے شرجیل خان کا چرچا کسی نے چلوا دیا ہے ساتھ ساتھ عماد وسیم اور شعیب ملک کا بھی کارڈ کھیلا جا رہا ہے حالانکہ یہ پہلے ورلڈکپس میں کیا کر چکے ہیں سب کو معلوم ہے۔ اب اگر ایک ایک ٹورنامنٹ انکا اچھا گزر گیا ہے تو پھر سے ان کو ہم پر لوگ عذاب بنوا کر نازل کروانا چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف انڈیا کا سوریا کمار یادو ہے۔ سکائی کو بارہ سال لگے انڈین نیشنل ٹیم میں آنے کے لئے، اس دوران اس نے بہترین فرسٹ کلاس کھیلی، تین سال آئی پی ایل میں پانی پلایا اور پھر موقعہ ملا اور اب جاکر قومی ٹیم کا حصہ بنا ہے اور شروع سے اب تک اس کی پرفارمنس بہترین رہی ہے۔

    یہی حساب حارث رؤف کا ہے حارث نے دو سال باہر بیٹھ کر میچ دیکھے پھر دوبئی لیگ اور پھر لاہور قلندر سے پرفارمنس شروع کی اور اب تک چلتا ہی جا رہا ہے۔ وہیں باقی ایک ایک ٹورنامنٹ والے کھلاڑی جن میں مجارٹی مڈل آرڈر میں ہے وہ ہمیں ہر میچ میں مایوس اور ذلیل کرتے ہیں جس پر ہر میچ میں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مگر ان کے ٹیم میں لانے کے قصوروار وہی ہیں جو آج ان کو پرچی پرچی کہہ رہے ہیں۔

    ابھی ورلڈکپ میں یہی ٹیم ہوگی لیکن میری امید فقط بابر، رضوان، فخر، افتخار، حارث، شاہین اور شاداب سے جڑی ہے باقی پرچیوں کو دیکھنے کا بھی دل نہیں کرے گا نا کرتا ہے۔ وہیں ایک ٹورنامنٹ کے کھلاڑی کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والوں کو اتنا ہی کہونگا کہ

    Don’t make one match sensation a super star.

  • یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔۔۔لیکن کب؟؟؟ "کب” پر ہی سارا مسئلہ کھڑا ہے۔۔کافی عرصے سے نشان دہی کی جا رہی تھی کہ ہمارا مڈل آرڈر کمزور ہے۔۔۔جو سیریز ہم نے حفیظ اور ملک کے بغیر کھیلیں اس میں دشواری آئی۔۔لہذا بار بار ملک اور حفیظ کی شمولیت ہوتی تھی۔۔ یہاں سے غلطی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔جب دونوں کے متبادل دستیاب نہیں تھے تو انکو لگاتار کھیلایا جاتا اور سیریز یا ٹورنمنٹ کے غیر اہم میچز میں ریسٹ دے کر کسی نئے کھلاڑی کو عین اس نمبر اور رول کے لیے تیار کیا جاتا۔۔

    صورتحال یہ ہے کہ ٹیم میں مڈل آرڈر کا ایک بھی جارحانہ اور سمجھدار بلے باز نہیں ہے۔۔۔اچھا بلے باز ہر نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن ہر کھلاڑی ایڈجسٹ کر لے ضروری نہیں ہے۔۔۔مسئلہ اوپننگ جوڑی کو چھیڑ کر بابر کو ون ڈاؤن کرنے سے بھی حل نہیں ہونا کیونکہ پہلی تین پوزیشنز ٹاپ آرڈر کی ہیں۔۔۔ہمارا اصل سر درد مڈل آرڈر ہے۔۔۔اس سردرد میں کچھ حصہ غیر معیاری سلیکشن,کچھ حصہ کھلاڑیوں کی غیر ذمہ داری, اور باقی حصہ بیٹنگ آرڈر مس منیجمنٹ کا ہے۔۔۔

    انگلستان کی طرف سے ہر میچ میں مڈل آرڈر نے پرفارم کیا۔۔بھارت کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئینٹی میں ساؤتھ افریقین مڈل آرڈر نے بتا دیا رنز کا تعاقب کیسے کیا جاتا ہے۔۔سری لنکا کو ایشین چمئین بنانے میں 50 فیصد حصہ مڈل آرڈر کا رہا۔۔۔سوریا کمار کی مثالیں دی جا رہی ہیں تو سوریا کمار بھی نمبر چار پر آ کر بلے بازی کرتے ہیں۔۔بلکہ سوریا, دنیش کارتک اور پانڈیا تینوں مڈل آرڈر میں پرفارمنسز دے رہے ہیں۔۔

    بابر کی کپتانی کبھی بہترین اور کبھی انتہائی بدترین درمیانی راہ نہیں ہے۔۔۔فائنل کا درجہ لیے میچ میں آؤٹ آف فارم خوشدل کو حیدر کی جگہ لانے کی سوچ سمجھ سے باہر تھی۔۔۔حیدر اور خوشدل دونوں ہی مسلسل ناکام جا رہے تھے لیکن فیصلہ کن میچ میں آپ اسی کھلاڑی کے ساتھ جائیں گے جو پہلے سے کھیل تھا اور آخری میچ میں نسبتاً بہتر کھیلا تھا۔۔

    خوشدل کے لیے پرچی کے نعرے لگے جو کہ تکلیف دہ تھے۔۔۔ہوم کراؤڈ اگر کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر خوشیاں منائے تو وہ زناٹے دار طمانچہ ٹیم منیجمنٹ کے منہہ پر ہے۔۔۔۔قصور ٹیم منیجمنٹ کا ہے جس نے آؤٹ آف فارم ڈراپ کھلاڑی کو فیصلہ کن میچ میں کھیلایا اور پھر 200 کے تعاقب میں نمبر چار پر اتار دیا جبکہ محمد نواز دستیاب تھے۔۔۔

    آصف علی کا ٹیلینٹ دو درجن گیندوں تک محدود ہو گیا ہے۔۔۔آخری اوورز میں باری آئے تو کچھ چھکے لگنے کے چانسز ہیں اگر باری 12ویں اوور تک آ گئی تو میچ کی صورتحال سے قطع نظر وہ اننگز نہیں جما پاتے ہیں حالانکہ وہ بطور "مستند بلے باز” کھیلتے ہیں۔۔
    شان مسعود جس فارم کو لے کر ٹیم میں شامل ہوئے تھے وہ کھو چکی ہے۔۔۔افتخار احمد پر شاید ٹیم منیجمنٹ کی ہدایات کا اثر ہے۔۔شاداب اور نواز کا بیٹنگ میں کیا رول ہے اس کا اللہ کے سوا ٹیم منیجمنٹ کو پتہ ہے۔۔۔۔دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم منیجمنٹ ضائع کر رہی ہے۔۔۔۔

    فاسٹ باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ بھی شاہین اور حارث نکال کر تشویشناک ہے۔۔۔شاہین انجری سے واپس آئیں گے ان پر دباؤ ہو گا۔۔نسیم شاہ بھی واپسی کریں گے۔۔۔۔وسیم جونیئر, حسنین اور دھانی وہ اسلحہ ہیں جو ملک اور دشمن کے لیے بیک وقت خطرہ ہے کسی طرف بھی چل سکتے ہیں۔۔

    اگر انہی چراغوں سے روشنی کرنی ہے تو ہر بلے باز کو ایک مستقل نمبر اور رول دیں۔۔۔ٹاپ یا مڈل آرڈر کے مستند بلے باز بہتر کھیلیں تو آخری اوورز میں زیادہ چھکوں کی آس نہیں رہتی ہے۔۔۔ البتہ کسی غیر معمولی صورتحال میں بیٹنگ آرڈر ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔۔

    اس سیریز میں نہ تو کھلاڑی ذمہ داری لینے کے موڈ میں لگے نہ ہی ٹیم منیجمنٹ کا کوئی پلان نظر آیا۔۔۔کسی کھلاڑی نے کوشش نہیں کی کہ مثبت ذہن سے کھیلے اور کسی مسئلے کا حل ثابت ہو۔۔

    نیوزی لینڈ میں شیڈول سیریز کے بعد ورلڈکپ میں جانا ہے۔۔۔اس سیریز میں مسئلے حل نہ ہوئے تو ورلڈکپ میں ہمیں فرشتوں کی مدد درکار ہو گی جو کم از کم ہمیں کیچز ہی پکڑ دیں باقی گزارا ایک دو کھلاڑیوں کے چلنے سے ہو جائے گا۔۔

  • فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بک کی دنیا بھی عجیب و منفرد دنیا ہے۔ فیسبک پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اس دنیا کے تقاضے ہی کچھ عجیب و غریب ہیں۔ یہاں محلاتی سازشیں پریموٹ ہوتی ہیں۔ فیس بک پر تصوارتی دنیا کی حکومتیں بنائی بھی جاتی ہیں اور گرائی بھی جاتی ہیں۔

    ادھر دنیا جہاں کو ورلڈ آرڈر دیا بھی جاتا ہے اور اس کی دھجیاں بکھیری بھی جاتی ہیں۔ یہاں مذاہب کی اشاعت و ترویج بھی ہوتی ہے اور بیخ کنی بھی۔ یہاں سخن سازی بھی ہوتی ہے اور سخن شکنی بھی اتنی ہی شدومد سے ہوتی ہے۔ ادھر قصیدہ گوئی بھی ہوتی ہے اور کردار کشی بھی۔

    فیس بک پر مزاح کے ایسے لطیف نمونے بھی دریافت ہوتے ہیں کہ طبعیت ہشاش بشاش ہو جائے اور مزاح کے نام پر خشت باری بھی ایسی ہوتی ہے کہ روح اندر تک لہولہان ہو جاۓ !

    اس دنیاء فیسبک میں آباد ہوۓ راقم کو بھی "عشرہ دراز” ہو گیا ہے اور اس دنیا کے حسن و قبح سب کا وقتاً فوقتاً نظارہ کیا ہے۔ بہت کچھ سیکھنے اور بہت کچھ سکھانے کا بھی موقع ملا۔ سکھانے کا موقع ایسے ملا کہ کچھ مہربان ایسے بھی تھے جنہوں نے ہماری غلطیوں سے سبق سیکھا۔ ہماری کوتاہ اندیشیوں اور حماقتوں سے سبق حاصل کیا اور یوں ہم بھی سکھانے والوں میں شامل رہے۔ جہاں تک رہی بات سیکھنے کی، تو ارباب دانش سے بھی سامنا ہوا اور عقل و دانش کے موتی سمیٹے۔ اربابِ حل و عقد سے بھی تصادم ہوا کہ زخمی روح اور سلگتے دماغ سے آئندہ کے لیے ایسے اصحاب سے میلوں دوری کا عہد کرتے ہوۓ بلاک کا بٹن دباتے رہے۔

    فیس بک ایک لا منتہائی ہجوم ہے جس میں انسانی سروں کا ایک سمندر تا حد نظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سروں میں کن کن خیالات کے "سر خراب” موجزن ہیں، ان کا اندازہ لگانے میں وقت لگتا ہے۔ کسی پیچ پر سینکڑوں لائک دیکھ کر آپ کو فیس بکی دانشور کی قابلیت و بصیرت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہاں لائک کا بٹن دبانے والے وہ منچلے ہوں جو جنسیات کے دلدادہ ہوں اور دماغوں میں شہوانی خیالات کی طلاطم خیز لہروں میں بہتے ہوئے وہ اس پیج تک آ پہنچے ہوں اور مزاج اور خواہش کے عین مطابق یہاں من پسند خیالات کا سمندر بہہ رہا ہو۔ دانش ور صاحب اپنی سفلانہ دانش سے خود بھی اشنان کر رہے ہوں اور دوسروں کو بھی غسل دانش سے بہرہ مند کر رہے ہوں۔

    کچھ دانشور حضرات وہ بھی ہیں جن کی سیاسی بلوغت ابھی پروان بھی نا چڑھی تھی کہ انہوں نے عالمانہ لیکچر دینا شروع کر دیا اور شومئی قسمت کے ہم خیالوں کا تانتا بھی بندھ گیا۔ اب وہ اپنی سیاسی دانش کی کچی پکی ہانڈی لیے فیس بک کے بازار کے منجھے ہوئے دانش ور اور تجزیہ کار بن چکے ہیں۔ غرض ہر عقل کے دشمن کو یہاں اپنے دل کی گرم مسالے والی بھڑاس نکالنے کے لیے قائد میسر آ گیا۔ یوں وہ قائد میاں پرانے وقتوں کے واٹر کولر کے مشہور برانڈ ہی بن بیٹھے کہ نل کھولو اور اناپ شناپ سے لباب بھرے کولر سے سیراب ہو لو۔ ایسے کچھ اصحاب سینکڑوں مداحین کے جلو میں اپنا چورن بیچتے ہوئے، کانوں کے پردے چیرتی صدائیں لگاتے نظر آتے ہیں۔

    ایک طبقہ ایسا بھی فیس بکی دانشوروں کا ہے جو مذہب بیزار خیالات کا اظہار بنا کسی تردد اور لگی لپٹی کے کرتے ہیں۔ یہ دانشور زیادہ تر اپنی فیک آئی ڈی سے محو تکلم ہوتے ہیں یا آئی ڈی تو اصل ہوتی ہے لیکن موصوف سات دور دیش پار کسی محفوظ، صحت افزا مقام سے زہر بھرے، پھن لہراتے مخاطب ہوتے ہیں اور انکے مجمع میں انکے ہم خیال بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں۔ یا کم از کم وجدانہ کیفیت میں اثبات میں سر ہلا رہے ہوتے ہیں۔ کثیر تعداد میں وہ مرد فساد بھی ہوتے ہیں جو اپنے مذہبی عقائد کی چوکیداری کرتے ہوۓ لٹھ لہرا لہرا کر ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

    وہ دانشور بھی اپنی "مقدس مشنری” کاروائیوں میں خرگرم ہوتے ہیں جن کو مذہبی جنونیت اور سخت گیری سے شدید الرجی ہوتی ہے۔ وہ مذہبی اعتدال پسندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کسی نا کسی مذہبی تحریر میں سوچوں کا رخ موڑنے والے کسی نا کسی نکتہ کو یوں اجاگر کر دیتے ہیں کہ غیر محسوس طریقے سے قاری اسکا ہدف بنتا ہے، اور اپنی فکر کی تبدیلی کو محسوس کیے بغیر اس پیج کو آستانہ بناۓ فیض یابی کا شوق سمائے یہاں حاضری دیتا رہتا ہے اور یوں ایسے دانشور اپنی ادبی اور فکری مہارت سے اپنے پیج پر زایرین کا ہجوم لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خوب لائک اور لو سائن تو حاصل کرتے ہی ہیں ساتھ پوسٹ کے زیریں حصے میں خوب سوالاتی اور تائیدی جملوں کا انبار لگا لیتے ہیں۔

    ایسے بے شمار دانشوڑ "حسرات” بھی سوشل میڈیا کی دنیا کا لازم حصہ ہیں جو اپنی اداسی اور تنہائی کا تریاق اپنے فالوورز کے کمنٹس میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ خود پسندی کے مرض میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ انکی زیادہ تر پوسٹس انکی رنگ برنگی تصاویر پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی کلوز اپ سیلفیاں اور مانگے تانگے کی دانش اپنی وال پر بکھیرتے رہتے ہیں۔

    کئی خواتین و حضرات کو ایسے کاٹ دارجملے لکھنے میں خصوصی ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ ادب و مزاح کے بے تاج بادشاہ بھی انکے متوقع پوٹینشل کو نظر انداز نہی کر سکتے۔ الفاظ کے حسن ترتیب سے بظاہر بے معنی سی بات کو بھاری بھرکم معنی سے لاد دیتے ہیں۔

    سیاستدانوں کے منہ سے بے ساختہ نکلے ہوئے سیاسی بیانات کو کیچ کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ان کو مزاح کا رنگ و روغن کرنے کے بعد ایسا جاذب نظر بناتے ہیں کہ دن بھر کے بحث و تکرار سے تھکے ماندے بزنس مین ، بیویوں کے ستاۓ ہوۓ شوہر اور شوہروں سے خار کھائی بیویاں اور افسرانِ بالا کی جھاڑ پھٹکار کے مارے ہوۓ ملازمین یہاں اپنی اپنی فلاسفی اور علمیت کی یلغار کر کے کسی فاتح کی طرح گردن اکڑاۓ دیگر شرکا سے واہ واہ کی آس لگاۓ گھنٹوں فیس بک کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں۔

    ایسے کئ مذہبی شخصیات کے پیچز بھی ہوتے ہیں جہاں متفقین مریدین کے درجۂ الفت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ وہاں ایک سطحی سی بات پر بھی لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔ اختلافی بات کا مطلب توہین مذہب کے دائرے میں قدم رکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی مذموم حرکت کے مرتکب پر وہ سنگ پاشی ہوتی ہے کہ الاحفیظ الامان۔ یہاں یا تو آداب محفل ملحوظ خاطر رہیں یا پھر یہاں سے میلوں دوری ہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ اسکے علاوہ کسی اور آپشن کی سوچ بھی دماغ میں مت لائیے گا۔

    کچھ لوگ چیتھڑوں سے امارت کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی مہنگے ریسورنٹ پرکھانا کھائیں یا غلطی سے کسی فضائی سفر پر روانہ ہوں تو فیس بک پر اسکی اشاعت کو نہیں بھولتے۔ وہ پہلی فرصت میں اپنے دورے کی پبلک سٹی کرکے یار لوگوں پر "دورے” ڈالتے ہیں۔ چاہے باقی اہم ترین زمہ داریاں بھول جائیں۔

    دانشوروں کی ایک قسم سیاست کی آڑ میں اپنی جھگڑالو اور کینہ پرور مزاج کی تشنگی دور کرنے کے لیے ہر وقت مخالفین کو چڑانے کے لیے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب تصاویر و جملے لکھ کر انہیں لڑائی پراکساتے رہتے ہیں اور جب من پسند نتائج حاصل ہوتے ہیں تو دل کے نہاں خانوں میں چین ہی چین پاتے ہیں۔

    کچھ دانشور محتاط طبع ہونے کے باعث زندگی کو محض بچ بچا کر انجوائے کرنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ وہ شعر وشاعری و رومانوی گیتوں کو شیئر کرتے رہتے ہیں اور زائرین کی قلیل یا کثیر تعداد سے پریشان یا خوش نہی ہوتے بلکہ اطمینان قلب کے ساتھ لگی بندھی عادت کا تسلسل رکھتے ہیں۔

    اور کچھ لوگ ان تمام اوصاف کا کچھ نا کچھ حصہ اپنی طبعیت میں رکھتے ہیں وہ گرگٹ کی طرح روز رنگ بدلتے ہیں ۔ کبھی کچھ کبھی کچھ یعنی فیس بک مختلف النوع دانشوران کا چوپال ہے جہاں ہر مزاج کا حامل اپنی استطاعت کے مطابق ذہنی خوراک حاصل و منتقل کرتا ہے۔

  • "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اور کردار سب سے اچھے ہوں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق اور کردار کا بہترین نمونہ تھے۔ وہ نرم مزاج، ہمدرد اور معاشرے میں کسی بھی حیثیت کے باوجود ہر ایک کے لئے ہمیشہ مہربان تھے۔ حتیٰ کہ ان کے دشمن بھی اس کے کردار کی بہت زیادہ باتیں کرتے تھے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “مضبوط وہ نہیں ہے جو اپنی طاقت سے لوگوں پر غالب آجائے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے تو اس کا بدلہ احسان سے نہ دو بلکہ اس سے بہتر چیز سے اس کی تلافی کرو۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں۔‘‘
    (بخاری ومسلم)

    “جب دو مسلمان ملیں گے، مصافحہ کریں گے اور ایک دوسرے سے مسکرائیں گے تو اللہ ان دونوں کو معاف کر دے گا۔” ( ترمذی)

    “ایمان میں سب سے کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہیں۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری ومسلم)

    “سب سے پیاری چیزیں جن سے میرا رب اپنی تسبیح کرتا ہے وہ رحم اور شفقت ہے۔” (صحیح البخاری)

    “اپنے بھائی کے لیے تمہاری مسکراہٹ صدقہ ہے۔” (ابو داؤد)

    ان احادیث سے ہم یہ سیکھیں گے کہ اچھے اخلاق ہمارے ایمان کا ایک اہم حصہ ہیں، اور یہ کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں بھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور کبھی کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہیے جس نے ہم پر ظلم کیا ہو۔ اس کے بجائے، ہمیں بہت زیادہ مہربان اور معاف کرنے والے بن کر ان کے ساتھ معاملات درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

    جب ہم دوسروں سے ملتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ مسکراہٹ اور مصافحہ کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔ شائستگی کا یہ آسان عمل کسی کو قابل قدر اور تعریف کا احساس دلانے میں بہت آگے جا سکتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں، چاہے ہماری سماجی حیثیت یا معاشی صورتحال کچھ بھی ہو۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کا بہترین کردار تھا۔ وہ اپنی شفقت، ہمدردی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ احترام اور شائستگی کے ساتھ پیش آئے، چاہے ان کی سماجی حیثیت یا مذہب کچھ بھی ہو۔

    حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے فصاحت و بلاغت کے انداز میں بھی مشہور تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا اور اس انداز میں بات کی جو سچائی اور مہربان دونوں تھی۔ ان کی تقریریں ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا ہوتی تھیں، بغیر کسی سخت یا جارحانہ انداز کے۔

    مجموعی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین کردار اور شائستہ انداز نے انہیں اس وقت کے دیگر رہنماؤں سے ممتاز کر دیا۔ اور یہ ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے وہ آج بھی پوری دنیا کے مسلمانوں میں قابل عزت اور قابل احترام ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات:

    ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے کپڑے کے ساتھ گلی میں چلتے ہوئے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور شائستگی سے کہا، “معاف کیجئے، جناب، لگتا ہے آپ کے کپڑے ٹھیک نہیں ہیں، کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان کو ٹھیک کرنے میں آپ کی مدد کروں؟” وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔

    ایک اور موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور ان کے بالکل سامنے حاجت کی۔اعرابی کی بدتمیزی سے سب کو ناگوار گزرا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کچھ کیوں نہیں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسی بات کہنے کے بجائے چھوڑ دوں گا جس سے اللہ ناراض ہو۔

    ایک دفعہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا ضرورت ہے اور اس نے کہا کہ اسے اپنے بچوں کے لیے کھانا چاہیئے. اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اتار کر اسے دے دی اور فرمایا کہ یہ لے لو اور اسے بیچ کر اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدو۔

    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جنازے کے پاس سے گزر رہے تھے اور آپ نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “کیا یہ کافی نہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں؟ ہم سب کو اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔”

    ایک دفعہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مدد کی درخواست کی۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا چاہیے اور اس آدمی نے کہا کہ اسے پیسے کی ضرورت ہے۔ نبیؐ نے اپنی قمیص اتار کر اس شخص کو دے دی اور فرمایا کہ اسے بیچ دو اور اس رقم کو اپنی مدد کے لیے استعمال کرو۔

  • ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ برس بھارت میں کسانوں کی ایک تحریک نے زور پکڑا تو ہمارے میڈیا سمیت ملک پاکستان کے مالکان سب نے ان کے لیے ہمدردی اور حمایتی بول بولے۔ مگر آج پاکستان کا کسان سڑکوں پر ہے۔تو ہمارے اندر اس قدر ہمدردی کیوں نہیں نظر آرہی ہے ۔جو 2021 میں بھارتی کسانوں کے لیے نظر آئی تھی۔اسلام آباد میں ہزاروں کسان کھاد اور بیج کی وافر مقدار میں فراہمی، گندم کی خریداری کی امدادی قیمت میں اضافے اور ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

    پاکستان کا کسان ایک لمبے عرصے سے صرف ظلم ہی سہتا آرہا ہے۔بلند و بانگ دعوے ہر سیاسی جماعت نے کیے۔مگر کسان کے ہاں خوشحالی اتنی ہی آئی ہے۔ جتنی اس ملک میں جمہوریت۔۔۔۔۔نہ زرداری، نہ نواز وشہباز اور نہ عمران نے کسانوں کے لیے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل تیار کیا۔ جس سے وہ خوشحال ہو سکیں۔ کھاد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، لاکھوں روپے میں بجلی کے بل، آسمان کو چھوتی ڈیزل کی قیمتیں، کسانوں کی خود کشی کے مترادف ہیں۔

    ہر آنے والے انتخابات سے پہلے ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب تو اچھے دن آنے والے ہیں۔ ایسے ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ لگتا ہے۔ کہ سبز کھیتوں میں کام کرنے والا کسان اب تو ضرور خوشحال ہوگا۔ اس کی مشکلات کم اور آسانیوں میں اضافہ ہوگا۔ مگر آسانیوں میں اضافے کی بجائے ، مشکلات اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ وہ اب سڑکوں پر نکلنے کو مجبور ہوگیا ہے ۔اپنے کھیتوں کو چھوڑ کر وہ آج سڑکوں پہ ہیں۔ تہذیب انسان کا وارث ، ملک کے شہریوں کا پیٹ بھرنے والا، آج اگر اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر ہے۔ تو یہ پوری قوم کےلیے افسوس کی بات ہے ۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے تو کسان کو حق نہ ملنے پر ، کھیت و کھلیان جلا دینے جیسے الفاظ اپنے اشعار میں لکھے ہیں۔

    جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

    شاید علامہ اقبال جانتے تھے کہ کسان پر ظلم ہوگا۔ پوری دنیا کا پیٹ بھرے گا مگر اپنا پیٹ بھرنے کےلیے اس کو ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔
    کسی دور میں کسان ہی معاشرے کا سب سے خوشحال فرد ہوتا تھا ۔مگر آج کسان کے حالات اس قدر پسماندہ ہوچکے ہیں کہ گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔

    گندم کی بالیاں ہی وہ بیٹی کو دے سکے
    مالک میرے کسان کے کھیتوں کی خیر ہو

    ہم کیسے بھول گئے ہیں کہ یہی کسان ہمارا پیٹ بھرتا ہے۔ ہماری بھوک مٹانے کے لیے دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا ہے۔ زمین کا سینہ چیر ہمارے لیے غذا اگاتا ہے۔ یہ خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ یہ خوشحال ہوگا تو ہمارے پیٹ بھریں گے۔

    یہ ہری کھیتی، ہرے پودے، ہرا رنگ چمن
    تم سے ہیں آباد یہ کہسار یہ کوہ ودمن

    خوں پسینے سے بہت سینچا ہے یہ صحن چمن
    تم اگر آباد ہو، آباد ہیں گنگ و جمن