Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ابھی تو اور امتحاں باقی ہیں،سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم کاحصول ناممکن ہوگیا

    ابھی تو اور امتحاں باقی ہیں،سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم کاحصول ناممکن ہوگیا

    باغی ٹی وی : قصبہ سمینہ(جواداکبرنامہ نگار )سیلاب متاثرین کے لیے امتحان کے بعدایک اور امتحان سیلاب جیسی قدرتی آفت میں اپنا جانی ومالی نقصان کے بعد بے حال ہی تھے گورنمنٹ کی طرف سے بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی 25000 روپے کی رقم کے وصول کے لیے متاثرین جن میں شامل بزرگ بیمار اور خواتین جو کہ صبح نماز کے بعد اپنی لائن میں شامل ہو کر شدید گرمی اور حبس برداشت کرتے ہوئے انتظار کرنے لگتے ہیں اور شام گئے تک دھکے کھانے پے مجبور اوپر سے عملہ کا میرٹ کا قتل سب سےپہلے اپنے من پسند سفارشی ٹولہ کو رقم کی ادائیگی اور اس کے ساتھ ساتھ ہر بندے سےایک ہزار سے دو ہزار حرام رشوت بٹورنے لگےاور اس کام کے لیے کچھ اپنے مخصوص ایجنٹ چھوڑ رکھے ہوئے ہیں ،سیلاب متاثرین اور بے نظیر انکم سپورٹ کی اہل خواتین نے انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اس مافیاء کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے.

  • کوٹ چھٹہ: پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے  ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا

    کوٹ چھٹہ: پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا

    باغی ٹی وی :کوٹ چھٹہ(شعیب خان لنگاہ سے)پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اور عوام کو تحفے میں لاشیں دی جارہی ہیں پیپلزپارٹی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات فہد بھٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی حکومت ، ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں بدل دیا کوئی محلہ گلی ایسی نہیں جہاں سیوریج کا پانی نہ کھڑا ہو سیوریج کے پانی سے کئی کئی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے اس کے علاوہ ڈیرہ غازیخان کے مین روڈز، محلے کی گلیوں میں مین ہول کے ڈھکن نہ ہونے سے کل ماڈل ٹاون کے رہائشی فیاض کے دو جواں سالہ بچے سکول سے واپسی پہ وقار کنٹین کے ساتھ کھلے مین ہول میں جاگرے جس سے امیر حمزہ شہید ہو گیا اور محمد طیب شدید زخمی ہو گیا جسے نشتر ریفر کیا گیا حکومتی بے حسی، اور انتظامیہ کی نااہلی نے پورے شہر کی فضا کو سوگوار کر دیا پاکستان پیپلز پارٹی امیرحمزہ کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے پیپلزپارٹی امیرحمزہ کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی ہم آر پی او، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کرتے ہیں امیرحمزہ کے قتل کی ایف آئی آر، نا اہل ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن پر درج کی جائےان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کےضلعی سیکرٹری اطلاعات فہد بھٹی نے پیپلزپارٹی کے ضلعی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی مزید ان کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں جہاں جہاں بھی سیوریج کا مسئلہ ہے اور پورے شہر میں مین ہول کے ڈھکن نہیں ہیں وہ فوری طور پر لگائے جائیں اگر فلفور سیوریج اور ڈھکنوں کا مسلہ حل نہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی عوام کی بھلائی کے لیے احتجاج کرے گی اس موقع پر ضلعی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شعیب لنگاہ بھی ہمراہ تھے

  • ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام

    ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام

    باغی ٹی وی :ڈیرہ غازیخان(شہزادخان سے) گورنمنٹ ایسو سی ایٹ کالج (بوائز ) ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تربیتی نشست کی صدارت پرنسپل کالج ہذا پروفیسر محمد بخش بلوچ نے کی، مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف کی ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ تھیں ،مہمان اعزاز ڈاکٹر کاشف فرمان چیئرمین،اور علی رضا خان پروازِ شاہین پروگرام تھے۔تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسن اختر ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ کی کالج کے لیے پیش کی جانے والی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا،ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ نے طلبہ سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ محنت کی عظمت کو اجا گر کیا جا ئے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرز کے پروگرام کو جاری رکھا جا ئے۔انہوں نے کالج کے اساتذہ اور طلبہ کو پروگرام میں بھرپور دلچسپی لینے پر دادِ تحسین پیش کی ۔ چونکہ یہ نشست طلبہ کی تربیت کے لیے رکھی گئی تھی لہٰذا دلچسپ اور معلومات سے بھرپور لیکچر دیا اور موضوعاتی گفتگو سے طلبہ کے علم میں اضافہ کیا یہ لیکچر خصوصی طور پر طلبہ کی دلچسپی کا مرکز رہا اور طلبہ نے اس سے بھرپور استفادہ کیا

  • سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!

    سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!

    سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!
    تحریر : شوکت ملک
    سوشل میڈیا نے گزشتہ ایک عرصے سے جہاں مختلف امور میں اپنا لوہا منوایا ہے، نوجوان نسل کو ایک دوسرے کے قریب لاکھڑا کیا، علاقائی و ملکی مسائل پر سوشل میڈیا کی آواز نے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اس کے علاوہ دیگر مثبت پہلوؤں کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے کئی ایک ایک منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے ایک سوشل میڈیا فرینڈز، فالورز اور فینز کا سراب ہے، ہم اپنے ہزاروں لاکھوں میں سوشل میڈیا فرینڈز، فالورز، فینز کو گویا اپنی فیملی سمجھ کر ان سے ڈھیر ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فالورز اور فینر ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں، جب کبھی آپ پہ مشکل وقت آیا آپ کی فیملی اور چند قریبی مخلص ساتھیوں اور دوستوں کے علاوہ یہ فرینڈز، فالورز اور فینز دور دور تک نظر نہیں آتے، بلکہ آپ کا حال احوال تک پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتے، گزشتہ دونوں ڈینگی فیور کے دوران اس تجربے سے گزرنے کے بعد اس بات کا قوی یقین ہوگیا ہے کہ یہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فالورز فینز ایک سراب اور دھوکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ سوشل میڈیا پر ایکٹو رہیں تو آپ کی بلے بلے واہ واہ اور چند دن غائب ہو جائیں تو کوئی حال احوال پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتا، لہٰذا ان فرینڈز، فالورز اور فینز کو عارضی اور ٹائم پاس ہی کنسڈر کریں اور ان کو اہمیت دینے اور بلاوجہ اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے حقیقی رشتوں، مخلص دوستوں اور اپنی فیملی کو ٹائم دیں ان کی قدر کریں تاکہ مشکل وقت میں آپ کے کام آ سکیں۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اپنے حقیقی رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • زومبیز — ریاض علی خٹک

    زومبیز — ریاض علی خٹک

    سترہویں صدی میں جب جنوبی افریقہ کے غلاموں کو براعظم امریکہ لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحری جہاز پہلے جزائر ہیٹی آتے تھے. اس جزیرے کے لوگ جب جہازوں سے ان زندہ لاشوں کو اترتے دیکھتے طویل بحری سفر اور غیر انسانی سلوک کے بعد بے ترتیب قدموں سے ایک قطار میں چلتے ان غلاموں کو وہ زومبی کہتے تھے.

    فلم انڈسٹری نے بعد میں زومبی کو ایک مخلوق منوا کر اسے شہرت دی. ایسی لو بجٹ فلمیں بھی صرف زومبی دکھا کر کامیاب ہوئیں جن میں نہ کہانی تھی نہ سکرپٹ اچھا نہ ہدایتکاری کا کوئی کمال لیکن زومبی کا کردار ہی ایسا تھا کے لوگوں نے جوش و خروش سے ان کو دیکھا.

    ان ڈبہ فلموں کا ہی کمال ہے کہ زومبی کو ایک عقل سے عاری قابل نفرت بے وقوف سا کردار بنا کر ایسا پیش کیا گیا کہ یہ زومبی صرف انسانی گوشت و خون کے پیاسے ہیں. یہ نہ اناج کھاتے ہیں نہ مال مویشیوں کو کچھ کہتے ہیں ان کی کوئی انسانی ضرورت ہے. بس یہ سب آدم خور ہیں.

    اس پوری کہانی میں وہ کردار چھپ گئے جنہوں نے ان کو زومبی بنایا. جو ان کو ان کی آباد بستیوں سے کھینچ کر بحری جہازوں پر لائے اور زنجیروں سے باندھ دیا. ذہنی غلامی آج ظالم کو تہذیب یافتہ اور مظلوم کو زومبی کہتی ہے. زومبی جن کو مارنا پھر ثواب بنا دیا جاتا ہے. لیکن لازم نہیں ہر دفعہ سامراج کی فلم ہی ہٹ ہو کوئی دن زومبیز کا بھی آئے گا اور تصویر کا دوسرا رخ پھر دنیا دیکھے گی.

  • "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ربیع الاوّل ایک ایسا عظیم الشان مہینہ ہے ۔ جس میں تاریکی، روشنی میں بدلی۔اور جہالت ، تہذیب میں تبدیل ہوئی۔ ربیع الاول کی اس قدر فضیلت کی وجہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ ہے۔ اسی ماہ یعنی ربیع الاول کی 12 تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، پیغمبروں کے سردار، جنت کے سردار کے نانا، آقا کائنات، وجہ تخلیق کائنات محمد مصطفیٰ ،احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کائنات فانی میں بھیج کر نہ صرف مسلمانوں یا انسانوں، بلکہ کائنات کی ہر اک مخلوق پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں پر بے شمار احسانات کیے ۔ ہمارے لیے ماں باپ بنائے۔ رشتے بنائے ۔

    پھر ان رشتوں میں ہمارے لیے پیار و احساس جیسے جذبات پیدا کیے۔ موسم ، رنگ برنگے پھول اور دل کو چھو لینے والی قدرتی حسن سے مالا مال جگہیں بنائیں۔پھر کھانے کے لیے کیا کیا نہ بنایا ۔یہ سب بڑے احسانات ہیں۔ مگر ان سب احسانوں سے اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہمارے درمیان اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجنا ہے۔اس احسان کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

    لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍo (سورۃ آل عمران 3 : 164)

    ترجمہ: "بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے”۔

    بلاشبہ عرب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے گمراہی اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چاروں جانب گناہوں اور جہالت کا اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ اچھائی کا ہونا ناممکن سا ہوگیا تھا۔ باپ ، بیٹے کا دشمن تھا۔ اور بیٹیوں کو باپ زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ رشتوں کی تمیز ختم اور خون سفید ہوچکے تھے ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے آکر ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کے قابل بنایا۔ جہالت کو تہذیب اور اندھیرے کو روشنی میں ایسے بدلا کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ایک دوسرے کے بھائی بن گئے ۔ بیوی کو باندھی سمجھنے والے ، اسے نصف ایمان کا درجہ دینے لگے ۔

    بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی بجائے انھیں رحمت سمجھا جانے لگا۔یہ سب کیوں نہ ہوتا ۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار اور اسوہ اس قدر کامل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن بھی آپ کی صداقت اور ایمانتداری کو سلام کرتے تھے ۔

    سلام اے آمنہ کے لال ‘ اے محبوب سبحانی
    سلام اے فخر موجودات ‘ فخر نوعِ انسانی

    سلام! اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
    سلام! اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

    سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
    سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

    ربیع الاول کی آمد سے قبل ہی مسلمان اس کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ربیع الاول کے آغاز سے ہی گھروں، دفاتر اور مساجد میں چراغ کیا جاتا ہے ۔گھر ،گھر ،گلی ،گلی روشن نظر آتی ہے ۔ مگر ربیع الاول میں جس ہستی کی آمد پر ہم خوشیاں مناتے ہیں ۔ کیا اس ہستی کا پیغام ہمیں یاد ہے ؟۔ گھر تو روشن کر لیتے ہیں ۔ مگر دلوں میں نفرتیں، کدورتیں اور بغص ہی رکھتے ہیں ۔ ماہ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جہالت کے اندھیروں میں پھر سے ڈوبتے جارہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ماہ ربیع الاول کے پیغام کو فراموش کر کے ، اس ماہِ مبارک میں صرف گھر روشن اور جھنڈیاں لگانے شروع کر دی ہیں۔

    بیشتر لوگ اب بیٹیوں کو رحمت کی بجائے زحمت سمجھنے لگے ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایسے کیسز سامنے آتے ہیں کہ بیٹی کی پیدائش پر شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی ۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ یہ سارے واقعات رونما نہ ہوتے ۔اگر ہم نے ربیع الاول اور اس ماہِ مبارک میں پیدا ہونے والی ہستی کے پیغام کو روشن کیا ہوتا۔ اگر ہم نے اپنے گھروں کو روشن کرنے کی بجائے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو روشن کیا ہوتا تو آج کا یہ معاشرہ بہت بہتر ہوتا۔

  • مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

    یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

    بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

    جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

    مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

  • ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

    سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا کمپنی نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ کیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیچر کے متعارف کرائے جانے کے بعد پوسٹ کس طرح دِکھائی دے گی ٹوئٹ میں ’لاسٹ ایڈٹڈ‘ یعنی آخری بار ایڈٹ کیے جانے کا وقت اور تاریخ پوسٹ کے نیچے موجود تھا صارفین اس لنک کو کلک کرتے ہوئے ٹوئٹ کے ایڈٹ کیے جانے کا پورا ماضی دیکھ سکتے ہیں-

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1575590534529556480?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوگی۔ یہ کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔

    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    https://twitter.com/Twitter/status/1565318587736285184?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ

    کمپنی کے مطابق اس فیچر کی مدد سے کوئی ٹوئٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اس ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا جاسکے گا اور ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پر وقت لکھا ہوگا اور یہ درج ہوگا کہ اصلی پوسٹ میں تبدیلی کی گئی ہے اور وہ اس میں صرف "چند بار” تبدیلیاں کر سکیں گے۔ تمام صارفین ٹویٹ کے ماضی کے ورژنز کو دیکھ سکیں گے، اس لیے یہ فیچر ٹائپ کی غلطیوں کے لیے زیادہ ہے نہ کہ ایسی چیزوں کو چھپانے کے لیے جو آپ کو پہلے پوسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ یہ لیبل اس لیے ضروری ہے کیوں کہ پوسٹ کی تاریخ گفتگو کی دیانتداری کے تحفظ میں مدد دے گا اور لوگوں کو اس ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوگی جس سے معلوم ہو سکے گا کہ ٹوئٹ میں کیا کہا گیا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

  • چونیاں – پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعرے ہی رہ گئے

    چونیاں – پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعرے ہی رہ گئے

    باغی ٹی وی :چونیاں ( عدیل اشرف ،نامہ نگار) پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعروں تک محدود۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بنیادی سہولیات کا ہونا ضروری ہے اور سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اہم ذمہ داری ہوتی لیکن 1980 سے منظور شدہ چونیاں کے نواح مرکز الہ آباد کے گاؤں کوٹ صدردین کا گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول اہم بنیادی سہولیات سے محروم ہے، چاردیواری کے علاوہ عمارت کا سرے سے نام و نشان ہی نہیں 42 سال سے غریب بچے گرمی و سردی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں سہولیات کی عدم دستیابی پر اکثر بچے سکول چھوڑ رہے ہیں۔بنا عمارت سکول حکومتی توجہ کا منتظر۔چار دہائیوں سے سکول کی عمارت نہ بننا سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟؟ اہل علاقہ کے لوگوں کا موجودہ حکومت سے جلد نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق آج کے جدید دور میں جہاں پنجاب کے گاؤں دیہات لیول کے عام نجی سکولوں کی بھی شاندار عمارتیں موجود ہیں بچے اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اسی صوبے پنجاب کے سرکاری سکولوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ بچوں کو گرمیوں میں دھوپ اور شدید سردی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہےچونیاں کے نواح الہ آباد مرکز میں موجود گورنمنٹ پرائمری سکول کوٹ صدردین عمارت جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔محکمہ تعلیم کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اسکول کے کمرے ہی موجود نہیں صرف چاردیواری ہی ہوئی اور کئی سالوں سے ننھے منھے طالب علم گرمیوں میں شدید دھوپ و گرمی اور سردیوں میں شدید سردی میں کھلے آسمان تلے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں بچوں کا کہنا ہے کہ ہمیں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے ہمیں اچھا تعلیم ماحول فراہم کیا جاہے ہمارے لیے کمرے بنائے جائیں اس اسکول میں تقریباً ایک سو کے قریب غریب طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کے پاس پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں ادا کرنے کی ہمت تک نہیں جبکہ ان مشکلوں کے باوجود اساتذہ بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ کئی بار محکمے کو آگاہ بھی کر چکے ہیں اور وہ خود بھی یہ سب جانتے ہیں مگراس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہمیں بھی بنیادی سہولیت ملنی چاہیے۔اہل علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ بڑی مشکل سےپالتے ہیں ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں ادا کر کے بچوں کو بنیادی تعلیم دلوا سکیں ہمارے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے 42سال سے اسکول کی عمارت نہ بنانے کا ذمہ دار کون؟ سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟گاؤں کے رہائشی چوہدری فیصل ،مہر عبدالقیوم،منشاء،عبدالعزیز،فاروق بابر،بابا اسحاق و دیگر نے وزیر اعظم پاکستان، وزیراعلی پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر اس اسکول کی عمارت تعمیر کروائی جائے تاکہ بچے موسم کی شدت سے محفوظ رہ کر اچھے ماحول میں اپنی تعلیم حاصل کر سکیں۔

  • لسبیلہ ـ پی ٹی آئی ضلع لسبیلہ کی سینئر قیادت کا میرغلام حسین لاشاری کی ساس کی وفات پر اظہار تعزیت

    لسبیلہ ـ پی ٹی آئی ضلع لسبیلہ کی سینئر قیادت کا میرغلام حسین لاشاری کی ساس کی وفات پر اظہار تعزیت

    باغی ٹی وی : لسبیلہ .پاکستان تحریک انصاف ضلع لسبیلہ کے سینئر رہنما میر رضا خان نتھوانی زہری سینئر رہنما شاہنواز محمد حسنی نے پاکستان تحریک انصاف ضلع لسبیلہ کے سینئر رہنما میر غلام حسین لاشاری کے ساس کی وفات پر ان کے رہائشگاہ لاشاری ہاؤس حیدرآباد میں تعزیت فاتحہ خوانی کی ہے اس موقے پر لاشاری برادری کی معزز شخصیت وڈیرہ میھوں خان لاشاری ، عنایت اللّه لاشاری، صدام حسین لاشاری، بشام الدین لاشاری پاکستان تحریک انصاف حیدرآباد لطیف آباد نمبر یوسی 137 کے نامزد امیدوار برائے یو سی چیئرمین سیف الرحمن خان یوسی 138 پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار برائے یو سی چیئرمین سلمان خان بھی تعزیت فاتحہ خوانی میں موجود تھے اور مرحومہ کے لئے دعا کی ہے کہ اللّه پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے آمین