Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہاکی میچ کے دوران شرٹ اتار کرگرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کر دی،ویڈیو

    ہاکی میچ کے دوران شرٹ اتار کرگرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کر دی،ویڈیو

    نیویارک: امریکا میں ایک شخص نے ہاکی میچ کے دوران اپنی گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کی-

    باغی ٹی وی : خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں ایک آدمی نے اپنے پروپوزل کو یادگار بنانے کے لیے ایک ہاکی میچ کے دوران اپنی گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس کا یہ فیصلہ ایسا غلط ثابت ہوا-

    افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ نیشنل ہاکی لیگ میں نیویارک آئی لینڈرز اور فلوریڈا پینتھرز کا میچ دیکھنے گیا جہاں اس نے اپنی گرل فرینڈ کو پرپوز کر دیا۔


    وائرل ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس شخص نے پہلے اپنی شرٹ اتاری کیونکہ اس نے اپنے سینے پر لکھ رکھا تھا کہ ”Plz say yes“۔ اس کے ساتھ ہی آدمی ایک گھٹنے پر جھک گیا اور انگوٹھی آگے بڑھاتے ہوئے لڑکی کو شادی کی پیشکش کر دی۔

    بھارتی پولیس اہلکار کی دکان کے باہر لگے ایل ای ڈی بلب چوری کرنے کی ویڈیو وائرل

    وہاں پر موجود سینکڑوں لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے اور لوگوں نے مذاق میں ’just say No‘ کے نعرے لگانے شروع کردئیے مگر لڑکی نے سچ مچ انکار کر دیا لڑکی آدمی کے ہاتھ تھام کر اسے کچھ کہتی ہے اور اس کی شادی کی پیشکش کو ٹھکرا کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔

    آدمی اس کے جانے کے بعد کچھ دیر تو سکتے کے عالم میں وہیں ایک گھٹنے پر ہی مبہوت رہتا ہے اور پھر اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتا ہے۔

    اس وائرل ویڈیو پر کمنٹس میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی کی پیشکش دو لوگوں کے درمیان ہونی چاہیے۔ اس طرح ہزاروں لوگوں کے بیچ کسی کو شادی کی آفر کرنا ہی غلط ہے۔

    بھارت : بابری مسجد کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے ایک اور مسجد میں بت رکھ دیئے

  • ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او

    ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او

    تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹ
    اتوار 16 اکتوبر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے ملکی سیاسی تاریخ میں ریکارڈ قائم کردیا۔ عمران خان نے صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ سندھ میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں 7 نشستوں میں سے 6 نشستوں پر تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ عمران خان کی اس تاریخی جیت پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ کچھ کے نزدیک عمران خان نے پی ڈی ایم اتحاد کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ کچھ کے نزدیک عمران خان کی اس جیت کا ملکی سیاسی و پارلیمانی صورتحال پر کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ عمران خان نے انہی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جو سیٹیں پہلے بھی تحریک انصاف ہی کے پاس تھیں۔ بہرحال یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ پاکستانی تاریخ میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے سربراہ کا ایک ہی دن بیک وقت 6 سیٹوں پر انتخابات میں فتح حاصل کرنا بہت ہی معنی خیز ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ عمران خان کی جیت کی وجوہات کیا ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے نزدیک عمران خان کی فتح کا راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی ورکرز اور چاہنے والوں کو حد سے زیادہ متحرک کرلیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کے چاہنے والوں نے عمران خان کو ووٹ دیئے کہ اس جیت کے بعد عمران خان نے قومی اسمبلی میں نہیں جانا کیونکہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے، مگر پھر بھی عمران خان کے چاہنے والوں نے جوش و خروش سے عمران خان کو ملک بھر سے 6 نشستوں سے کامیاب کروایا۔ ضمنی انتخابات میں واضح فتح کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں کے ہاتھوں مسند اقتدار سے باہر نکالے جانے والے عمران خان کی جانب سے امریکی سازش کا بیانیہ کا رنگ دینے کو انکے چاہنے والوں نے دل و جان سے قبول کرلیا ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ وہ عمران خان کی ہر بات کو ناصرف من و عن قبول کررہے ہیں بلکہ عمران خان کے ہر اشارے کو لبیک کرتے ہوئے دیکھائی بھی دیتے ہیں۔ دوسری طرف پی ڈی ایم جماعتوں کے لیڈران کی جانب سے ان ضمنی انتخابات میں نہ ہونے کے برابر سیاسی سرگرمیوں نے بھی عمران خان کی فتح میں خاص کردار ادا کیا ہے۔ بندہ ناچیز کی نظر میں عمران خان کی فتح میں سب سے اہم اور پہلا کردار پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ڈالر پر عدم کنٹرول، گیس،بجلی، پٹرولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی ہے۔ کیونکہ مہنگائی نے عوام الناس کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ریاست پاکستان کو ڈیفالٹر ہونے سے بچانے والے اس بیانیئے کا عوام الناس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑ ا۔ کیونکہ ماضی قریب میں عوام کا عمران خان حکومت نے پہلے ہی دیوالیہ نکال دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی قریب میں عمران خان کی مرکز و دیگر صوبوں میں حکومتوں کی موجودگی اور مہنگائی پر عدم کنٹرول کی بناء پر پی ڈی ایم جماعتیں ہر ضمنی انتخاب میں فتح حاصل کررہی تھیں اورپی ٹی آئی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ آج صورتحال بالکل برعکس ہوچکی ہے۔ کیونکہ پی ڈی ایم حکومت نے سوائے مہنگائی کرنے کے عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے ابھی تک کوئی ایک پروگرام جاری نہیں کیا۔ کیا ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے حکومت وقت کو صرف عوام الناس کی چمڑی ہی نظر آتی ہے۔ آئی ایم ایف سے چند ارب ڈالر کے حصول کے لئے عوام الناس کا کچومڑ نکال دیا گیا۔ کیا حکومت وقت یہ بتا سکتی ہے کہ انہوں نے ریاست پاکستان کو ڈیفالٹر ہونے سے بچانے کے لئے حکومتی اخرجات میں کہاں کہاں نمایاں کمی ہے؟ حد تو یہ ہے پی ڈی ایم حکومت نے عمران خان حکومت کی طرح وزراء اور مشیران کی فوج بھرتی کرلی ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم پارٹیوں کو ان ضمنی انتخابات میں بدترین شکست کی دوسری اہم وجہ ان جماعتوں خصوصا مسلم لیگ ن کی جانب سے انتخابات کے عمل میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کرنا بھی شامل تھا۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت خصوصا مریم نواز، حمزہ شہباز کوان انتخابات میں جلسے جلوس اور ورکرز کو متحرک کرنے سے کس نے روکا تھا؟عین ضمنی انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ متحرک لیڈرمریم نواز نے پاسپورٹ ملتے ہی لندن یاترا کے لئے سفر طے کرلیا۔حالانکہ اس وقت پارٹی امیدوران کی انتخابی مہم کے لئے انکی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ یاد رہے جمہوری عمل میں سیاسی پارٹی مخالف پارٹی کو کسی بھی قسم کا خلاء پر کرنے کی ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی، یعنی کوئی سیاسی پارٹی اپنی مخالف سیاسی پارٹی کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑ سکتی۔ مسلم لیگ ن کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ پنجاب میں پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم کی جانب سے چھوڑے ہوئے سیاسی میدان میں کھل کر کھیلا، نا صرف اپنے پارٹی ورکرز کو متحرک رکھا بلکہ یہ ثابت کرنے بھی کامیاب رہی کہ پی ٹی آئی کا سیاسی ورکر کسی بھی صورت اپنے لیڈر کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سب سے اہم بات کہ جمہوری عمل میں انتخابی حلقے کسی کی سیاسی جاگیر نہیں ہوا کرتے، مسلم لیگ ن کو اس خواب غفلت سے نکلنا ہوگا کہ پنجاب مسلم لیگ ن کا قلعہ ہے۔ یاد رہے ماضی قریب تک پنجاب میں مسلم لیگ ن کی کامیابی اور پسندیدگی کی وجہ اس جماعت کی جانب سے عوام الناس کے لئے بے پناہ ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کا قیام اور عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنا تھا۔ بہرحال بندہ ناچیز عمران خان کا بہت بڑا ناقد ہونے کے باوجود ان ضمنی انتخابات میں خان صاحب کو شاندار کامیابی پر دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے۔ ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او۔

  • بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    بالن ڈور 2022 کی تقریب آج شام فرانس میں منعقد ہوگی

    فرانسیسی فٹ بال میگزین کی طرف سے دیا جانے والا بالن ڈور ایوارڈ 1956 سے فٹ بال کے بہترین کھلاڑیوں کو دیا جارہا ہے۔جس کیلئے دنیا بھر سے 180 صحافی فاتح کیلئے ووٹ کرتے ہیں۔ بالن ڈور ایوارڈ کی سالانہ تقریب کا 66 واں ایڈیشن آج ہوگا جس میں سال کے بہترین فٹ بالر کو ایوارڈ دیا جائے گا۔ فرانسیسی فٹبال حکام نے سال کے بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ کیلئے 30 کھلاڑیوں پر مشتمل نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے۔ جن میں ٹرینٹ الیگزینڈر آرنلڈ، جواؤ کینسلو، کیسمیرو، کیون ڈی بروئن، فیبنہو، ایرلنگ ہالینڈ، سیبسٹین ہالر، ہیری کین، جوشوا کِمِچ، ریاض مہریز، مائیک میگنن، ڈارون نونیز، کرسٹیانو رونالڈو، انتونیو روڈیگر، سون ہیونگ من، ڈسان ولاہووک، کریم بنزیما، ساڈیو مانے، محمد صلح، رابرٹ لیوینڈوسکی، کیلین ایمباپے، ونیسیئس جونیئر، لوکا موڈریک، تھیبوٹ کورٹائس، فل فوڈن، ٹرینٹ الیگزینڈر، آرنلڈ، برنارڈو سلوا، کرسٹوفر نکونکو، لوئس ڈیاز، تھیاگو الکنٹارا، ورجل وین ڈجک، بیٹا ہیونگ من، روڈری، ریاض مہریز اور رافیل لیو شامل ہیں۔

    فرانسیسی فٹ بال حکام نے جن بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے اُس میں لیونل میسی کا نام شامل نہیں ہے۔ میسی نے 7 بار بالن ایوارڈ حاصل کیا ہے، انہوں نے گزشتہ سیزن میں پیرس سینٹ جرمین کی نمائندگی کرتے ہوئے 34 میچز میں صرف 11 گول کیے اور خیال کیا جارہا ہے خراب کارکردگی کی وجہ سے وہ سال کے بہترین کھلاڑی کے ایوارڈ کی نامزدگیوں میں جگہ نہیں بناسکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مردوں میں 34 سالہ فرانسیسی کھلاڑی کریم بنزیما کو بالن ایوارڈ کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ کہا جارہا ہے، اُن کی پرفارمنس چیمپئنز لیگ میں بہت زیادہ اچھی تھی، جس کی وجہ سے اس سال اُن کے بالن ڈور ایوارڈ جیتنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ کریم بنزیما نے ریال میڈرڈ کو چیمپئنز لیگ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے گزشتہ سیزن میں 44 گولز کیے۔ بنزیما کو اُن کی بہترین کارگردگی کی بنیاد پر عوام کی بڑی تعداد میں حمایت حاصل ہے۔

    بالن ڈور کے فاتح کیلئے کیے گئے ایک آن لائن سروے کے مطابق تقریباََ 63.9 فیصد لوگوں نے ریال میڈرڈ کے کریم بنزیما کو اس ایوارڈ کا اہل قرار دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ مایہ ناز فٹ بالرز نے بھی کریم بنزیما کو اس ایوارڈ کا مستحق کہا ہے جن میں ساڈیو مانے، ایڈن ہیزرڈ اور ونیسیئس جونیئر شامل ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بارسلونا کی الیکسیا پوٹیلس کو خواتین فٹ بالرز میں بالن ڈور ایوارڈ کا حق دار کہا جارہا ہے جنہوں نے بارسلونا کو 30 میچز میں فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے سال بھی الیکسیا پوٹیلس کو بہترین خواتین فٹ بالر کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ بالن ڈور 2022 کی تقریب 17 اکتوبر بروز پیر فرانس میں منعقد ہوگی۔ تقریب پیرس کے تھیٹر ڈو چیٹلیٹ میں شام 7:30 بجے شروع ہوگی۔ جبکہ یہ تقریب ایل ایکوئپ (L’Equipe) یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی جائے گی جبکہ پیراماؤنٹ+ پر بھی یہ تقریب براہ راست نشر ہوگی جو ناظرین آن لائن دیکھ سکتے ہیں.

  • ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40#)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۲- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 ‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کا ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
    ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے۔

  • تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    یار یہ لوگوں کو پاس بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر تھوکنے کی کیا بیماری ہے؟

    چند روز قبل ایک سیفٹی سیشن کیلئے میٹنگ روم گئے.. پتہ چلا کہ ٹرینر ابھی آیا نہیں باہر بیٹھ کر ہی انتظار کرنا پڑے گا.. سب بندے درختوں کے نیچے دو دو تین تین ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ گئے.. مجھے معلوم تھا کہ یہ یہاں بیٹھ کر اور کچھ کریں نہ کریں.. ایک سگریٹ لازمی پئیں گے جس کا دھواں مجھے تنگ کرے گا، دوسرا تمباکو اور چونے کا مکسچر لازمی رگڑیں گے جسے پھونک سے اڑا کر چھانیں گے تو سانس کے ساتھ ناک کو چڑھے گا اور تیسرا تھوک لازمی پھینکیں گے..

    یہ باتیں میری میموری میں پکی پکی فٹ ہیں.. لہٰذا میں بندوں سے زیادہ تر دور ہو کر بیٹھتا ہوں.. وجہ نفرت نہیں.. وجہ یہ ہے کہ میں ان تینوں چیزوں سے الرجک ہوں..

    لہٰذا حسبِ عادت میں ان سے قدرے فاصلے پر درخت کے نیچے بلاک رکھ کر بیٹھ گیا..

    کچھ دیر ہی گزری ہو گی.. ان دور بیٹھے ہوئے بندوں کو نادیدہ طاقت نے اکسایا اور وہ میرے پاس دائیں بائیں آ کر بیٹھ گئے.. ایک نے سگریٹ جلا لیا.. دوسرے نے تمباکو کی ڈبی نکالی، وہ تمباکو بنانے لگا تو دو دوسروں نے بھی مانگ لیا.. تینوں نے تمباکو بنا کر اس کی پھک اڑائی اور تمباکو منہ میں رکھ کر زمین کو تھوکو تھوک کرنا شروع کر دیا.. دل میں گالیاں دیتے ہوئے اٹھا اور پرے جا کر کھڑا ہو گیا..

    اب اس وقت فون کال کرنے کیلئے روم سے باہر بینچ پر بیٹھا ہوں ایک میرا رومیٹ ہی نکلا اور یہاں کھڑے ہو کر برش کرنا شروع کردیا.. تھوک پر تھوک پھینکی جا رہا ہے..

    مجبور ہو کر اسے کہا یار واش بیسن پر چلا جا.. تیری مہربانی کیوں مجھے آوا ذار کر رہا ہے…

    ریفائنری میں جاب کی جگہ پر میٹل سٹرکچر کے بنے ہوئے گیارہ فلور ہیں.. پتہ اس وقت لگتا ہے جب اوپر والے فلور کی گریٹنگز سے تھوک نیچے آ کر گرتا ہے.. کچھ بندے تو یہ حد کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی فلور پر ہیں ریلنگ پر آئیں گے وہاں سے گراؤنڈ پر تھوک پھینکیں گے اپنی طرف سے وہ اچھا کر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے والی گریٹنگ پر کام کرنے والوں پر تھوک نہ گرے لیکن گراؤنڈ فلور والوں کا کوئی خیال نہیں.. اب گیارہویں فلور سے زمین تک تھوک پہنچنے میں جو وقت لگے گا عین ممکن ہے اس دوران کوئی گزرتا ہوا بندہ اسی جگہ پہنچ جائے اس پر گر جائے.. یا پھر ہوا سے اس کے ذرات کہاں تک جائیں کچھ معلوم نہیں..

    پاکستان میں ہم جیسا بندہ موٹر سائیکل کی سواری ہی عام طور پر کرتا ہے کاروں والے کار کا شیشہ کھول کر تھوک کی فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں.. آگے والے موٹر سائیکل سوار پیچھے آنے والوں کا خیال کیے بغیر تھوک پھینک رہے ہوتے ہیں

    کسی بندے کے ساتھ بات کرنے کیلئے کہیں رک جائیں تو وہ پانچ منٹ کی بات کرتے ہوئے دس مرتبہ تھوک پھینکتا ہے..

    خاص طور پر کراچی والوں نے حد ہی کی ہوئی ہے.. کراچی میں کیا اردو سپیکنگ، کیا مہاجر، کیا پنجابی، کیا کشمیری، بلوچی، پٹھان، سندھی یا ہزارہ وال، کیا مرد اور کیا عورتیں .. کوئی بھی گٹکے سے محفوظ نہیں، بس میں بیٹھیں گے تو شیشے والی سائیڈ گٹکا مین کی ہی ہو گی.. اور اس نے وہیں سے باہر والوں کو منور کرتے رہنا ہے.. پھر اچھی اچھی صاف ستھری عمارتوں میں جگہ جگہ دیواروں پر لال رنگ کا گند ہی گند نظر آتا ہے..

    پچھلے سال کراچی میں ایک مارکیٹ میں گیا.. نیا رنگ و روغن بتا رہا تھا کہ مالک نے اچھا خاصا خرچہ کیا ہے.. وہاں سیڑھیوں میں اوپر نیچے تک گٹکے اور پان کے انتخابی نشانات لگے ہوئے تھے..

    پوچھنا یہ ہے کہ یہ بیماریاں عربوں، انڈونیشین، چائنیز، جرمنز، فلپینی، کورینز اور برطانوی باشندوں میں نہیں دیکھی، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے ان میں ایسی کوئی معیوب حرکت یا بیماری نہیں دیکھی ..پاکستانیوں اور انڈینز میں یہ حرکات اور بیماریاں کیوں ہیں؟

  • مقصدیت — عمر یوسف

    مقصدیت — عمر یوسف

    لائبریری میں ادھار کتاب لیتے ہوئے ایک دوست کو دوسرے نے کہا کہ چھوڑو یار ہم یہ کتاب خرید ہی لیتے ہیں ۔

    پہلے دوست نے جواب دیا کہ اگرچہ میں خریدنے کی قوت رکھتا ہوں لیکن پھر بھی نہیں خریدوں گا ۔

    لائبریری سے ادھار لی ہوئی کتاب میرے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ کتاب میری ملکیت نہیں اور یہ میرے پاس محدود وقت کے لیے ہے ۔ یہ احساس مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں کتاب سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھا لوں ۔ جبکہ کتاب کی ملکیت کا احساس اس سے فائدہ اٹھانے کو ملتوی کرتا رہتا ہے یہ سوچ کر کہ چیز تو اپنی ہے بعد میں پڑھ لیں گے اور یوں انسان فائدہ اٹھانے سے محروم رہتا یے ۔

    یہی صورت حال وسیع تناظر میں انسان کی زندگانی پر منطبق ہوتی ہے ۔

    جب انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ زندگی میری نہیں ہے اور میرے پاس وقت بھی محدود ہے تو وہ اس سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھاتا یے ۔

    لیکن لاشعوری طور پر لوگوں کی اکثریت اس احساس میں مبتلاء ہوتی ہے کہ زندگی میری ملکیت ہے بعد میں عمل کرلیں گے ۔

    لیکن وہ اسی غفلت میں مبتلاء ہوتا ہے کہ اچانک موت کا پنجہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کے پاس خسارے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔

    عقیدہ آخرت نہ صرف انسان کو مقصدیت عطا کرتا ہے بلکہ وہ اس کی آخرت کے ساتھ ساتھ اس کی دنیا کو بھی بہتر اور خوشحال کردیتا ہے ۔

  • پی سی بی نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا

    پی سی بی نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔

    مہمان اسکواڈ ایک چار روزہ اور پانچ ون ڈے میچز کھیلنے کے لیے یکم سے 19 نومبر تک پاکستان کا دورہ کرے گی۔ یہ تمام چھ میچز 4 سے 18 نومبر تک اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے جائیں گے، محدود طرز کے میچز 45 اوورز پر مشتمل ہوں گے۔ بنگلہ دیش انڈر 19 نے آخری مرتبہ نومبر 2007 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا واحد چار روزہ میچ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جو ڈرا پر ختم ہوا تھا۔ ٹور میں شامل پانچ میں سے تین ون ڈے میچز بنگلہ دیش نے جیتے تھے۔


    آئی سی سی کے قواعد کے مطابق آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2024 میں شرکت کے لیے کھلاڑی کا 31 اگست 2004 کو یا اس کے بعد پیدا ہونا لازمی ہے۔ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان کا کہنا ہے کہ سال 2022 پاکستان میں بین الاقوامی ٹیموں کی میزبانی کا سال ہے، لہٰذا، وہ نومبر میں بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کا خیر مقدم کرنے کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 15 سالوں میں پاکستان میں پہلی جونیئر بین الاقوامی سیریز ہوگی، ایک چار روزہ اور پانچ محدود طرز کی کرکٹ کے میچز پر مشتمل یہ سیریز دونوں اطراف کے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرے گی۔ سیریز کے لیے قومی انڈر 19 اسکواڈ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    بنگلہ دیش انڈر 19 ٹیم کی آمد یکم نومبر کو ہوگی جبکہ 4 تا 7 نومبر چار روزہ میچ کھیلا جائے گا۔ اسکے بعد پہلا ون ڈے 10 نومبر کو، دوسرا ون ڈے 12 نومبر، تیسرا ون ڈے 14 نومبر، چوتھا ون ڈے 16 نومبر اور پانچواں ون ڈے 18 نومبر کو کھیلا جائے گا۔

  • طلبا نے مچھلیوں کے فضلے سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا

    طلبا نے مچھلیوں کے فضلے سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا

    این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبا نے مچھلیوں کے فضلے اور اندرونی اجزا سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا ہے۔

    مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل سے فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ سمندری آلودگی کم کرنے اور ریفائنری میں بننے والے ڈیزل پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ صحافی کاشف حسین کے مطابق؛ این ای ڈی یونیورسٹی کے مکینکل انجینئرنگ کے فائنل ایئر کے طلبا کے گروپ نے اپنے سپروائزر اور انوائرمنٹل انجینئرنگ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمود علی کی نگرانی میں 2 ماہ کی تحقیق کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے مچھلی کے کچرے اور پھینک دیے جانے والے اندرونی اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کرلیا ہے ریسرچ کرنے والے طلبا میں محمد ابصار احمد ، ذکی احمد ،طلحہ احمد اور حذیفہ افتخار شامل ہیں۔

    ریسرچ ٹیم میں شامل طالب علم محمد ابصار احمد نے بتایا کہ اس سے قبل مختلف نباتاتی اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کیا جاتا رہا تاہم ان کے گروپ نے مچھلیوں کے فضلے کا انتخاب کیا جو وافر مقدار میں دستیاب اور اس کی دستیابی میں مزید اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان میں سالانہ ایک ملین ٹن مچھلی اور سمندری خوراک حاصل کی جاتی ہے جس سے سالانہ ساڑھے 3 لاکھ ٹن فضلہ نکلتا ہے جو زیادہ تر سمندر برد کردیا جاتا ہے جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور آبی حیات متاثر ہورہی ہے۔

    تحقیق کرنے والے طلبا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں دستیاب ساڑھے تین لاکھ ٹن مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل تیار کیا جائے تو ڈیڑھ لاکھ ٹن تیل یا پھر ایک لاکھ ٹن بائیو ڈیزل تیار کیا جاسکتا ہے جس کی ریفائنری میں بننے ڈیزل میں 20فیصد تک آمیزش سے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ ڈیزل اور خام تیل کی درآمد پر اٹھنے والے زرمبادلہ کی بھی بچت کی جاسکے گی۔ مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری سے سالانہ 1.73ارب ڈالرکی بچت ہوگی

    مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی عام ڈیزل میں20 فیصد تک آمیزش سے ڈیزل کی درآمد پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ میں سالانہ 1.73ارب ڈالر کی بچت کی جاسکتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں0.77 ملین ٹن ڈیزل امپورٹ کیا گیا جس پر 17.3ارب ڈالر خرچ کیے گئے، پاکستان میں دستیاب ساڑھے 3 لاکھ ٹن مچھلی کے فضلے کو پراسیس کرکے ایک لاکھ ٹن بائیو ڈیزل تیار کیا جائے تو ڈیزل کی درآمد میں ایک لاکھ ٹن کی کمی ہوگی جس سے 1.73ارب ڈالر کی بچت ہوگی، مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری کے دوران بننے والی گلیسرین صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔

    مچھلی کے فضلے اور اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کرنے والے پراجیکٹ کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر محمود علی کے مطابق مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری تجارتی بنیاد پر ایک نفع بخش منصوبہ ثابت ہوسکتا ہے نجی شعبہ سرمایہ کاری کرے تو این ای ڈی یونیورسٹی پلانٹ کے ڈیزائن سمیت تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں انھوں نے بتایا کہ اس 10 لیٹر کی محدود گنجائش کا حامل پلانٹ بجلی سے چلانے پر کیمیکل سمیت تمام لاگت ملاکر 180سے 190روپے میں ایک لیٹر تیل کو بائیو ڈیزل میں تبدیل کرتا ہے نجی شعبہ زیادہ گنجائش کا پلانٹ نصب کرے تو یہ لاگت کافی حد تک کمی کی جاسکتی ہے اور بائیو ڈیزل کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔

    مچھلیوں کے کچرے اور اندرونی اجزا کے فضلے سے بائیو ڈیزل بنانے کا تجربہ این ای ڈی کے انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں تیار کیے جانے والے بیچ بیچ اسکیل بائیو ڈیزل پروڈکشن یونٹ کی مدد سے کیا گیا۔ یہ پلانٹ انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں ہی ڈیزائن اور فیبری کیٹ کیا گیا ہے جو 3 گھنٹے میں 10 لیٹر تیل کو پراسیس کرکے اس سے بائیو ڈیزل میں تبدیل کرسکتاہے یہ پلانٹ تیل کو کیمیکل اور حرارت سے پراسس کرکے اس میں سے بائیوڈیزل اور گلیسرین الگ کرتا ہے، یہ مشین 2 ماہ میں ایک لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی ہے۔ ڈاکٹر محمود علی نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ یہ مشین این ای ڈی کے انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں ہی تیار کی گئی ہے جو 10لیٹر تیل کو پراسیس کرکے بائیو ڈیزل میں تبدیل کرتی ہے اس عمل کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے جس سے پراسیس کی لاگت میں کمی آئے گی اور بائیو ڈیزل بنانے کے پراسیس کو بھی ماحول دوست بنایا جاسکے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    ڈاکٹر محمود علی کے مطابق؛ مچھلی کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی ریفائنری میں تیار ڈیزل کے مقابلے میں لاگت 12سے 13فیصد تک کم ہے تاہم یہ تجربہ 10لیٹر کے بیچ پراسیس پر کیا گیا اگر اسے پائلٹ بنیاد پر 100لیٹر تک کی گنجائش والے شمسی توانائی سے چلنے والے یونٹ پر پراسیس کیا جائے تو عام ڈیزل کے مقابلے میں فش ویسٹ بائیو ڈیزل کی لاگت 20سے 25فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی کلوریفک ویلیو عام ڈیزل کے برابر ہے اور اس سے خارج ہونے والے کاربن اجزا ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر کلو کاربن سائیکل کے ذریعے دوبارہ ماحول میں شامل ہوجاتے ہیں۔

  • بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں  یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کیلئے دلچسپ تحریریں لکھنے والے معروف مصنف اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی شہادت کو آج 24 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ حکیم محمد سعید کی ملک و قوم اور بچوں کیلئے تحریری و سماجی خدمات بھلائی نہیں جاسکتیں۔ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے حکمت کے ساتھ ساتھ علومِ دینی، حفظِ قرآن اور بچوں کے ادب پر زبردست کام کیا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات اور گورنرسندھ کے طور پر قومی خدمات تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔

    معروف مصنف و محقق حکیم محمد سعید شہید کی تصانیف بڑی تعداد میں عوام الناس کیلئے وسیلۂ روزگار اور تحصیلِ علم کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ آپ ایک عالمی شہرت یافتہ معالج، مایہ ناز ادیب اور طبی محقق تھے جن کی کامیابیوں کی داستان طویل ہے۔ سابق گورنر حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920ء کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوئے، ابھی عمر 2 برس ہی تھی کہ والد کی وفات نے آپ کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کردیا، پھر بھی آپ نے 9 برس کی عمر میں قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    پاکستان آزاد ہوا تو آپ نوجوان تھے، جس کے بعد آپ نے سب کچھ بھارت میں چھوڑ کر پاکستان کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور اہلِ خانہ کے ہمراہ 9 جنوری 1948ء کو شہرِ قائد آ پہنچے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں انہیں دیکھا۔ حکیم محمد سعید نے 11 ستمبر 1948ء کو قائدِ اعظم کی وفات سے لے کر یومِ وفات تک ملک کی سیاسی و قومی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ کو 17 اکتوبر 1998ء کے روز دہشت گردوں نے روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

  • اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا.

    معروف مائیکرو بلاگنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نیا ’don’t @ me‘یعنی ‘ڈوناٹ مینشن می’ فیچر متعارف کروانے جا رہا ہے جس کے بعد صارفین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ کون ان کو پوسٹس میں ٹیگ کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکے. ’@‘ ایٹ کا نشان کسی بھی پوسٹ میں کسی صارف کو ٹیگ (جس کو مینشن بھی کہا جاتا ہے) کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نشان ٹیگ کیے جانے والے شخص کے اکاؤنٹ کا ایک لنک بناتا ہے اور ان کو پوسٹ اور پوسٹ پر بعد میں آنے والی جوابات کے متعلق مطلع کرتا ہے۔

    ایپ محقق جین مینچُن وونگ کی جانب سے لیک کیے جانے والے ایک اسکرین شاٹ کے مطابق یہ فیچر صارفین کو یہ اختیار دے گا کہ آیا دیگر اکاؤنٹس ان کو کسی ٹویٹ میں مینشن کر سکتے ہیں یا نہیں۔ نئے فیچر کا استعمال کرتے ہوئے صارفین پلیٹ فارم پر ہونے والی ہراسانی سے بچ سکیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    صارفین کے پاس یہ آپشن موجود ہوگا کہ وہ ان افراد کی فہرست کو محدود کرسکیں جو انہیں اپنی پوسٹ میں مینشن کر سکیں یا مکمل طور پر مینشن کا فیچر بند کر دیں۔ ٹوئٹر میں ایسے متعدد فیچرز موجود ہیں جو صارفین کو پلیٹ فارم پر جاری ایک گفتگو، جن میں وہ شامل ہوتے ہیں، پر پورا اختیار دیتے ہیں۔ فی الوقت صارفین اپنی ٹویٹ کا جواب دینے والوں میں کو ان لوگوں تک محدود رکھ سکتے ہیں جو اس میں مینشن ہوں یا جو ان کو فالو کرتے ہوں یا اس آپشن کو مکمل طور پر بند کرسکتے ہیں۔