Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان صہیونی طاقتوں کا اگلا ہدف،تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان صہیونی طاقتوں کا اگلا ہدف،تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    توجہ برائے اراکین

    پاکستان اپنی تاریخ کے نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں شدید مالی، سیاسی اور تزویراتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ میری محتاط رائے میں آئندہ دو سے تین سال ہمارے وطن کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
    اس اہم موقع پر ہمیں فوری قومی مفاہمت کی ضرورت ہے — سیاسی، مذہبی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر۔ ہمارے اختلافات ہمیں مزید کمزور کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ایک اصول پر متحد ہونا ہوگا: سب سے پہلے پاکستان۔
    Iran میں کسی بھی قسم کی عدم استحکام — خواہ نظام کی تبدیلی ہو یا خانہ جنگی — پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ United States اور Israel کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و تزویراتی حکمتِ عملی ہمارے گرد غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہی ہے۔
    اس بابرکت ماہِ رمضان میں تمام اراکین سے عاجزانہ گزارش ہے کہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو اندرونی انتشار اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں بصیرت، قوت اور اتفاق عطا فرمائے۔
    خلوص کے ساتھ،

  • اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر!
    پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت
    یہ وقت جذباتی نعرےنہیں، بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے،داخلی محاذ مضبوط رکھنا ہوگا
    خامنہ ای کی شہادت ہرمسلمان دکھی،جذباتی بیانات اورانتشار سے گریزکرنا ہوگا

    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، خطے میں کشیدگی، سفارتی دباؤ اور طاقت کے توازن کی نئی کوششوں کے درمیان پاکستان نے جس احتیاط، تدبر اور توازن کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے،پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے،اس وقت بھی وزارتِ خارجہ، مسلح افواج اور دیگر قومی ادارے ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں فیصلے کر رہے ہیں، ایسے حالات میں جذباتی بیانات، اندرونی انتشار یا غیر ذمہ دارانہ تنقید نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے،علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر مسلم دنیا میں غم اور افسوس کی فضا ءہے، کسی بھی بڑے رہنما کی شہادت خطے میں جذبات کو بھڑکا سکتی ہے، لیکن ایسے وقت میں دانشمندی اور بردباری ہی قوموں کو بحران سے نکالتی ہے، دکھ اور غم اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور داخلی استحکام ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے،پاکستان اس وقت جس حکمت اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ دراصل اپنی سرزمین، اپنی عوام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی جیسے معاملات میں ذمہ داری، احتیاط اور اتحاد ناگزیر ہوتے ہیں،یہ وقت انتشار کا نہیں، اتحاد کا ہے، یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے، اگر ہم اپنے داخلی محاذ کو مضبوط رکھیں گے تو بیرونی دباؤ خود بخود کمزور ہو جائے گا، پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

  • امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ ہے، اور دوسری طرف جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ یوکرین ہو، فلسطین اور اسرائیل کی کشیدگی ہو یا سوڈان کی خانہ جنگی—ہر جگہ جدید اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور اس کے دھماکوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں فضا، مٹی اور پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

    جنگ اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ اس کے اثرات بیماریوں، ماحولیاتی تباہی اور نفسیاتی صدمات کی صورت میں نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ باریک زہریلے ذرات ہواؤں کے ذریعے سرحدوں سے پار جا سکتے ہیں، اس لیے نقصان کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کو متاثر کرتا ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے موجود ہیں، مگر طاقتور ممالک کے مفادات اکثر امن کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی پائیدار حل نہیں دیتی۔ یہ لاشیں، بیمار معاشرے اور آلودہ فضا چھوڑتی ہے۔ اللہ پاک نے یہ زمین انسانوں کے رہنے کے لیے بنائی، اسے پاک صاف فضا عطا کی، تاکہ انسان سکون اور امن سے زندگی گزار سکے۔ خدا کے لیے اسی خدا کی زمین پر انسانوں کی زندگیاں اس طرح ختم نہ کی جائیں۔ بے گناہوں کا خون بہانا اور زمین کو بارود سے بھر دینا اللہ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہتھیاروں کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ امن کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی بقا اور اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔

  • پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ روز سے ہونے والی پاک افغان کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرے کے باوجود میرے سمیت سارا پاکستان بہت سکون اور اطمینان میں ہے۔ سحری افطاری، فرینڈز گیدرنگ، کاروبار اور کھیل کے میدان سب ویسے ہی آباد ہیں۔
    ابھی سحری کی تیاری ہے اور رات کی افطاری کے لیے دوستوں کو انوائٹ کر چکے ہیں۔ کسی کو بھی جنگ کی فکر نہیں سب روٹین کے کاموں میں مشغول ہیں کیونکہ سارے پاکستان کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ہماری بہادر افواج افغان دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
    مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے 10 گنا بڑی بھارتی فوج کو جس طرح سے شکست دی پوری دنیا اس کی معترف ہے۔ جنگی بخار میں مبتلا بھارت کے سات سے زائد رافیل طیارے اور ان کا ناقابل تسخیر ایس 400 ڈیفنس سسٹم تباہ کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔
    افواج پاکستان پر قوم کا اعتماد اور یقین یہی وہ طاقت ہے جو افواج کے جوانوں کو ہر طرح کے خطرے سے ٹکرا جانے کا جذبہ دیتی ہے۔

    سارا پاکستان روٹین لائف انجوائے کر رہا ہے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ جب بھی وطن کو ضرورت ہوگی تو پاک آرمی کے جوان و افسران خود ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے لیکن عوام پاکستان کو خراش بھی نہیں آنے دیں گے۔ پاکستانی عوام تاریخ سے اگاہ ہے کہ وطن عزیز کیلئے راشد منہاس بن کر موت کو ترجیح دیں گے لیکن اس کی ایک انچ پر بھی دشمن کے ناپاک قدم نہیں پڑنے دیں گے۔
    افواج پاکستان کا سالانہ بجٹ صرف ساڑھے سات ارب ڈالر ہے۔

    مسلح افواج کیلئے سالانہ بجٹ کے لحاظ سے امریکہ، چائنہ اور روس کے بعد بھارت چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر ہے۔ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والا پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی موسٹ پاورفل افواج میں ٹاپ تھری میں ہے۔ بلوچستان ٹرین ہائی جیکنگ کو جس طرح ناکام بنا کر تمام مسافروں کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ایسا کامیاب آپریشن دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں دیکھا گیا، اس لیے پاکستان آرمی کے اس کامیاب آپریشن کو درجنوں ممالک کی "وارسٹڈی” کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بیسوں ممالک کی آرمی کے سنئیر افسران جنہوں نے ملکی کمانڈ کرنی ہوتی ہے وہ "وارکورس” کیلئے نیشنل ڈفینس یونیورسٹی اسلام آباد آتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر افواج کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔

    میں خود بھی روٹین معاملات میں مگن ہوں اور آپ سے بھی یہی کہوں گا کہ آپ اپنی روزمرہ لائف کو انجوائے کریں لیکن اس خود اعتمادی، سکون اور تحفظ کا باعث بننے والی افواج پاکستان کیلئے دل سے شکریہ افواج پاکستان ضرور کہیں، فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ میں دشمن ممالک بھارت اور افغانستان کو مینشن کرکے بتائیں کہ ہم بے فکر ہیں، یہ دیکھو کھیل کی میدانوں میں، ریسٹورنٹ اور تفریح گاہوں میں میں انجوائے کررہے ہیں کیونکہ ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور افواج پاکستان ہماری محافظ ہے۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہر مشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

    maliksalman2008@gmail.com

  • افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے کھڑی ہے۔ اگر علاقائی کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ آگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون زیادہ ذمہ دار ہے اور کون آگے بڑھ کر قیادت کا کردار ادا کرتا ہے۔

    2021 کے بعد قائم ہونے والی افغان عبوری حکومت کو عالمی سطح پر مکمل تسلیم تو نہیں کیا گیا، مگر عملی سطح پر مختلف ممالک اس کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور سیاسی رابطے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہی اثر و رسوخ خطے میں امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا؟ اگر معاشی تعاون جاری رہ سکتا ہے تو سیکیورٹی ضمانتوں اور انسدادِ دہشت گردی کے واضح اقدامات کو اس سے مشروط کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

    علاقائی سطح پر سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکی ایسے بااثر ممالک ہیں جو نہ صرف معاشی طاقت رکھتے ہیں بلکہ سفارتی محاذ پر ثالثی کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ دوحہ سے لے کر دیگر علاقائی تنازعات تک، یہ ممالک بارہا مذاکرات کی میز سجانے میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ریاستیں محض تماشائی یا سرمایہ کار نہ رہیں بلکہ ضامنِ امن بن کر سامنے آئیں، مشترکہ علاقائی کانفرنس بلائیں، سرحدی سلامتی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف مربوط حکمت عملی طے کریں اور واضح پیغام دیں کہ خطے کو کسی نئی جنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑتا آیا ہے۔ بے شمار جانوں کی قربانی اور بھاری معاشی نقصانات کے باوجود اس نے اپنی دفاعی صلاحیت اور ریاستی عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، مگر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اصل ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کشیدگی کو سفارت کاری، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کم کیا جائے۔

    بین الاقوامی تناظر میں اگر افغانستان میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ وسط ایشیا کی ریاستیں، خلیجی ممالک، حتیٰ کہ یورپی خطہ بھی مہاجرین کے نئے بحران، انتہا پسند عناصر کی نقل و حرکت اور تجارتی و توانائی راہداریوں پر دباؤ کی صورت میں اس کے اثرات محسوس کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ کسی ایک سرحد یا دو طرفہ کشیدگی کا نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت کا سوال بن چکا ہے۔
    آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ علاقائی قیادت فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اپنائے، اقتصادی تعاون کو سیکیورٹی اقدامات سے جوڑے، اور عالمی طاقتوں کو بھی فعال سفارتی کردار ادا کرنے پر آمادہ کرے۔ اگر خلا پیدا ہوا تو شدت پسند قوتیں اسے پُر کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں بروقت فیصلہ نہیں کرتیں تو حالات ان کے لیے فیصلے کر دیتے ہیں۔

    جنگ کی گونج سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، مگر دانشمندانہ قیادت تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ آج خطے کو اسلحے کی نمائش نہیں، بصیرت، تدبر اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ فیصلہ طاقت کا نہیں، قیادت کا ہے،اور یہی قیادت آنے والی نسلوں کے امن کی ضامن بن سکتی ہے۔

  • قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    معاشرے میں صحافت کو ہمیشہ سچ کی آواز اور مظلوم کی ڈھال سمجھا گیا ہے۔ اخبار کے صفحات کو وہ مقدس جگہ مانا جاتا ہے جہاں حقائق بولتے ہیں اور انصاف کی امید جاگتی ہے۔ مگر جب یہی صفحات کچھ لوگوں کے لیے ذاتی مفادات اور ناجائز تقاضوں کا ذریعہ بن جائیں تو نہ صرف صحافت کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
    آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں خبریں شائع کروانے کے خواہشمند افراد خصوصاً خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات یا ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔ خبر شائع کروانا ایک حق ہے کوئی سودا نہیں۔ مگر جب اس حق کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا دیا جائے تو متاثرہ شخص کی عزت خودداری اور اعتماد سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

    سوچیے، ایک بیوہ ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اخبار کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، ایک طالبہ ہراسانی کے خلاف ثبوت لے کر آتی ہے یا ایک غریب مزدور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنانا چاہتا ہے۔ایک قلم کار اپنے قلم سے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہتی ہے اسکو اپنی حوس مٹانے پر مجبور کرنے کی آبیتی بیان کرنا چاہتی ہے یہ لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں مگر اگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا سودا کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔

    یہ مسئلہ صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی جرم ہے۔ ایسے رویے متاثرہ افراد کو خاموشی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انصاف مانگنے کی قیمت عزت ہو تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یوں ظلم بڑھتا جاتا ہے اور سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

    صحافت کا اصل مقصد طاقتور کو جوابدہ بنانا اور کمزور کو آواز دینا ہے۔ ایک سچا صحافی اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔ جو لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شعبے کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ان کے سبب وہ بے شمار دیانتدار صحافی بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے لگتے ہیں جو واقعی حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنے اندر سخت احتسابی نظام قائم کریں۔ شکایات کے لیے محفوظ اور خفیہ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو بچائیں سچ کی آواز کو مضبوط کریں اور ان مجبور خاموشیوں کو زبان دیں جو خوف اور بلیک میلنگ کے سبب دب جاتی ہیں۔ کیونکہ جب خبر چھپتی نہیں بلکہ بیچی جانے لگے تو صرف صحافت نہیں مرتی، معاشرہ بھی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
    آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے:
    کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف کی قیمت عزت ہو؟
    جہاں عورت کو حوس بجھانے کا نا سمجھا جائے ؟
    یا ایسا جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو اور خبر شائع کروانا کسی کی خودداری کا سودا نہ بنے؟
    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

  • راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سن 1982 کا راولپنڈی یاد آتا ہے تو ایک مختلف منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اُس وقت نہ سوشل میڈیا تھا، نہ ہر ہاتھ میں موبائل فون۔ اطلاعات کے ذرائع محدود تھے — پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی)، ریڈیو پاکستان اور چند قومی اخبارات۔ مگر اس کے باوجود ریاستی رِٹ واضح دکھائی دیتی تھی۔ قانون کا خوف تھا، نظم و ضبط کا احساس تھا، اور عوام کو یہ یقین تھا کہ ادارے موجود ہیں اور متحرک ہیں۔

    آج 2026 کا راولپنڈی دیکھیے — بظاہر ترقی یافتہ، مصروف اور پھیلتا ہوا شہر — مگر اندرونی طور پر بے چینی، عدم تحفظ اور بداعتمادی کا شکار۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل ہیں؛ سوال یہ ہے کہ مسائل پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیوں نظر نہیں آتی؟

    راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے۔ یہ صرف ایک ضلع نہیں بلکہ ملک کے سیاسی و عسکری تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قانون کی کمزوری صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ قومی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

    قبضہ مافیا اور منشیات کا پھیلاؤ
    شہر میں قبضہ مافیا کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کمزور اور متوسط طبقہ اپنی جائیداد کے تحفظ کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ منشیات فروشی ایک ناسور کی طرح نوجوان نسل کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ گلی محلوں میں مشکوک سرگرمیاں عام ہیں، مگر کارروائیاں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا غیر مؤثر۔

    یہ تاثر عام ہے کہ کچھ عناصر کو "پشت پناہی” حاصل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کارروائیوں کا تسلسل کیوں نہیں؟ مستقل مزاجی کیوں نہیں؟
    غیر قانونی مقیم افراد اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان
    غیر قانونی مقیم افراد کا مسئلہ بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کا اندراج اور کارروائی ہونی چاہیے۔ مگر جب قانون کا اطلاق منتخب انداز میں ہو، تو سوالات جنم لیتے ہیں۔
    چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ عوام کو یہ احساس نہیں کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، اس پر عمل ہوگا اور انہیں انصاف ملے گا۔

    کیا پولیس عوام کی خدمتگار ہے یا حاکم؟
    یہ تاثر کہ راولپنڈی میں ہر افسر اپنی "سلطنت” کا مالک ہے اور عوام رعایا — ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ادارے ان کے نہیں رہے، تو ریاستی اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

    تھانہ کلچر کی شکایات نئی نہیں، مگر اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود عام شہری کو فوری ریلیف کیوں نہیں ملتا؟ ایک ایس ایچ او کا رویہ پورے نظام کی تصویر بن جاتا ہے۔ اگر دروازے پر انصاف نہ ملے تو پھر شہری کہاں جائے؟

    ذمہ داران سے سوال
    یہ سوال براہِ راست متعلقہ حکام سے ہے:
    پنجاب پولیس کی قیادت کیا راولپنڈی کی صورتِ حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے؟
    (وزیراعلیٰ پنجاب) اور حکومت پنجاب کی ترجیحات میں راولپنڈی کہاں کھڑا ہے؟
    کیا مؤثر احتسابی نظام موجود ہے جو اختیارات کے غلط استعمال کو روکے؟
    راولپنڈی کو الگ سلطنت بنانے کا تاثر ختم کرنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی صرف بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔

    حل کیا ہے؟
    پولیسنگ کا شفاف نظام — تھانوں کی کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے۔
    قبضہ مافیا اور منشیات کے خلاف مستقل آپریشن — نمائشی نہیں، نتیجہ خیز۔
    شکایات کے فوری ازالے کا نظام — شہریوں کو آن لائن اور آف لائن مؤثر پلیٹ فارم۔
    افسران کا احتساب — اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی لازم۔
    ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ اگر ماں اپنے بچوں میں فرق کرے یا ان کی فریاد نہ سنے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ راولپنڈی پاکستان کا اہم شہر ہے، اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
    اب سوال یہ نہیں کہ مسائل کب تک چلیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز کب ہوگا؟
    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے — اور جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

  • عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک سوگوار قوم بھی ہے — اور ایک ایسی قوم بھی جو سخت سوالات پوچھ رہی ہے۔
    خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے ریگزاروں تک، سبز ہلالی پرچم بار بار ان تازہ قبروں پر سرنگوں ہو رہا ہے جن میں وہ سپاہی آسودۂ خاک ہیں جو ایک ایسے غیر مرئی دشمن سے لڑتے رہے — ایسا دشمن جو پراکسیز، محفوظ پناہ گاہوں اور ہائبرڈ جنگ کے ذریعے وار کرتا ہے۔
    گلیوں میں غصہ حقیقی ہے۔
    شہداء کے گھروں میں غم حقیقی ہے۔
    اور پورے ملک میں گونجنے والا مطالبہ اب واضح ہوتا جا رہا ہے:
    پاکستان آخر کب تک صرف وار سہتا رہے گا؟
    وہ نقشہ جو عوام دیکھ رہے ہیں
    بلوچستان میں مربوط حملے، سکیورٹی تنصیبات کے خلاف کواڈ کاپٹرز کا استعمال، وفاقی دارالحکومت میں دھماکہ، فوجیوں کا اغوا، حتیٰ کہ ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا — یہ الگ الگ واقعات نہیں۔
    عوام کے ذہن میں یہ سب ایک ہی تصویر بناتے ہیں:
    پاکستان کو ایک مسلسل پراکسی جنگ کے ذریعے لہولہان کیا جا رہا ہے۔
    اور جب تابوت مسلسل آتے رہیں تو اسٹریٹیجک تحمل عام شہری کی نظر میں اسٹریٹیجک غیر فعالیت محسوس ہونے لگتا ہے۔

    جوابِ آں غزل” کا ابھرتا ہوا بیانیہ
    سوشل میڈیا، ڈرائنگ رومز، جامعات اور سابق فوجیوں کے حلقوں میں ایک جملہ قومی گفتگو پر حاوی ہے:
    بازداریت کا اثر محسوس ہونا چاہیے، صرف بیان نہیں ہونا چاہیے
    عوام اب صرف دفاعی کامیابی پر مطمئن نہیں۔
    یہ مطالبہ بڑھ رہا ہے کہ:
    جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کرتے ہیں، انہیں اس کی قیمت چکانی چاہیے۔
    پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی محفوظ پناہ گاہیں مزید مفت نہیں رہنی چاہئیں۔
    ہائبرڈ جنگ کا جواب اسی میدان میں دیا جانا چاہیے جس میں یہ لڑی جا رہی ہے۔
    یہ کسی مہم جوئی کی پکار نہیں — بلکہ ایک زخمی قوم کا ردعمل ہے جو اپنے سپاہیوں کو جرات سے لڑتے دیکھتی ہے جبکہ اسٹریٹیجک ماحول تبدیل نہیں ہوتا۔
    بازداریت ایک نفسیاتی مساوات ہے
    جدید تنازعات میں بازداریت صرف صلاحیت سے حاصل نہیں ہوتی۔
    یہ تب حاصل ہوتی ہے جب دشمن کو یقین ہو جائے کہ:
    پاکستان کو نقصان پہنچانے کی قیمت کسی بھی ممکنہ فائدے سے زیادہ ہوگی۔
    اس وقت عوامی تاثر یہ ہے کہ قیمت صرف پاکستان ادا کر رہا ہے۔
    یہ تاثر — چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو — تزویراتی طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ داخلی اعتماد کو کمزور اور مخالف بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔

    کشمیر: بنیادی سیاسی و اخلاقی محاذ
    علاقائی سلامتی کی کوئی بحث کشمیر کے بغیر مکمل نہیں — تقسیم کا نامکمل ایجنڈا اور دنیا کا سب سے زیادہ فوجی محاصرہ زدہ خطہ۔
    کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کوئی وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ تاریخی اور قانونی مؤقف ہے۔

    آج عوام چاہتے ہیں کہ یہ حمایت
    مزید نمایاں ہو
    مزید تسلسل کے ساتھ ہو
    عالمی سطح پر مزید فعال ہو
    بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے بغیر — مگر اس انداز میں کہ مسئلہ دوبارہ متحرک ہو اور اس جمود کو توڑا جا سکے جسے دشمن منجمد رکھنا چاہتا ہے۔
    ردعمل سے پہل کی جانب
    عوام کا ابھرتا ہوا مطالبہ صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ پہل ہے۔
    ہائبرڈ جنگ کے ماحول میں جامع جواب میں شامل ہیں:
    انٹیلی جنس کی بنیاد پر درست اور بروقت صلاحیت
    خطرات کو جنم لینے سے پہلے ختم کرنے کی صلاحیت۔
    علاقائی انسدادِ دہشت گردی سفارت کاری
    پاکستان کے خلاف سرگرم نیٹ ورکس کو عالمی توجہ کا مرکز بنانا۔
    اطلاعاتی جنگ میں برتری
    بین الاقوامی اور داخلی سطح پر بیانیے کی جنگ جیتنا۔
    داخلی استحکام
    بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کا سب سے مضبوط جواب سیاسی و معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہے۔
    نمایاں بازدارانہ اشارے
    کشیدگی نہیں — بلکہ یہ واضح پیغام کہ پاکستان کی سرخ لکیریں حقیقی اور قابلِ نفاذ ہیں۔
    بے عملی کی قیمت
    ہر شہید کی نمازِ جنازہ صرف غم کا لمحہ نہیں — یہ ایک اسٹریٹیجک پیغام بھی ہے جسے دوست اور دشمن دونوں دیکھتے ہیں۔
    اگر قوم قیمت عائد کرنے سے قاصر دکھائی دے تو پراکسی جنگ کا ماڈل مخالف قوتوں کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔
    اگر قوم عزم دکھائے تو مساوات بدل جاتی ہے۔
    قومی مزاج بدل چکا ہے
    پالیسی سازوں کے لیے سب سے اہم حقیقت یہ ہے:
    پاکستانی عوام اب صبر کے مرحلے میں نہیں — مطالبے کے مرحلے میں ہیں۔
    مطالبہ برائے:
    سلامتی
    جواب میں برابری
    نمایاں بازداریت
    اسٹریٹیجک وضاحت
    ریاست فیصلے جذبات پر نہیں کرتی — مگر قومی مزاج سے کٹ کر بھی نہیں رہ سکتی۔

    خلاصہ
    بازداریت کی نئی ترتیب کا وقت
    پاکستان تنازع نہیں چاہتا۔
    مگر پاکستان ایسی صورتِ حال بھی قبول نہیں کر سکتا جس میں:
    ہمارے سپاہی روز شہید ہوں،
    ہمارے شہر نشانہ بنتے رہیں،
    اور ہمارے مخالف محفوظ رہیں۔
    آگے کا راستہ غیر ذمہ دارانہ کشیدگی نہیں۔
    آگے کا راستہ بازداریت کی نئی ترتیب ہے — ذہین، متوازن، کثیر جہتی اور غیر مبہم۔
    کیونکہ ہائبرڈ جنگ میں بقا سب سے زیادہ صبر کرنے والی ریاست کو نہیں ملتی —
    بلکہ اس ریاست کو ملتی ہے جو اپنے دشمن کو یقین دلا دے:
    پاکستان کو لہولہان کرنے کی قیمت ناقابلِ برداشت ہوگی۔

  • سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویم کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کا یومِ تاسیس بھی ایسا ہی دن ہے جو تقریباً تین صدیوں پر محیط ریاستی تسلسل، قیادت، جدوجہد اور عوامی خدمت کی علامت ہے۔ 22 فروری 1727ء کو درعیہ میں امام محمد بن سعودؒ نے پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی اور یوں ایک ایسے سیاسی و سماجی سفر کا آغاز ہوا جس کے آج 299 سال مکمل ہو چکے ہیں۔

    امام محمد بن سعودؒ کی سیاسی بصیرت اس تاریخی عمل کا مرکزی نقطہ تھی۔ انہوں نے ایک منتشر قبائلی معاشرے کو منظم ریاستی ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ ان کی قیادت محض اقتدار کے حصول تک محدود نہ تھی بلکہ نظم و نسق، استحکام اور اجتماعی مفاد کے قیام پر مبنی تھی۔ درعیہ کو مرکز بنا کر انہوں نے ریاستی اداروں کی بنیاد رکھی اور علاقائی وحدت کو مضبوط کیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے سعودی ریاست کو وقتی اتحاد کے بجائے مستقل سیاسی وجود عطا کیا۔

    اسی دور میں امام محمد بن عبدالوهابؒ کی فکری اور اصلاحی تحریک نے معاشرتی اور دینی سطح پر نئی بیداری پیدا کی۔ اصلاحِ عقیدہ اور سماجی تطہیر کی اس تحریک نے ریاست کو فکری اساس فراہم کی۔ امام محمد بن سعودؒ اور امام محمد بن عبدالوهابؒ کے درمیان اشتراک نے سیاسی قیادت اور فکری رہنمائی کو یکجا کیا، جس کے نتیجے میں پہلی سعودی ریاست کو نظریاتی اور اخلاقی استحکام حاصل ہوا۔ یہی امتزاج سعودی تاریخ کی ایک منفرد خصوصیت بن گیا۔

    سعودی تاریخ تین ادوار سے گزری: پہلی سعودی ریاست (1727–1818ء)، دوسری سعودی ریاست (1824–1891ء) اور تیسری سعودی ریاست، جس نے بالآخر 1932ء میں مملکتِ سعودی عرب کی شکل اختیار کی۔ ان ادوار میں آزمائشیں، جنگیں اور جلاوطنی کے مراحل آئے، مگر آلِ سعود کی قیادت نے ریاستی تصور کو برقرار رکھا۔ یہی استقامت بعد ازاں جدید سعودی عرب کی تشکیل کا سبب بنی۔

    جدید مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعودؒ نے مختلف علاقوں کو متحد کر کے 23 ستمبر 1932ء کو مملکت کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اسی وژن کو آگے بڑھایا۔ شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبداللہ اور موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ادوار میں ریاستی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔

    تیل کی دریافت نے سعودی معیشت کو نئی سمت دی، مگر قیادت نے اس دولت کو محض معاشی استحکام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قومی ترقی، جدید ادارہ سازی اور عالمی کردار کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ آج وژن 2030 کے تحت سعودی عرب معیشت کی تنوع، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سماجی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہے، جو قیادت کی دور اندیشی کا مظہر ہے۔

    سعودی ریاست کی شناخت کا ایک اہم ستون حرمین شریفین کی خدمت ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توسیع، جدید سہولیات اور لاکھوں حجاج و معتمرین کی خدمت آلِ سعود کی اولین ترجیح رہی ہے۔ یہ خدمت نہ صرف مذہبی ذمہ داری بلکہ ریاستی وقار اور عالمی اسلامی قیادت کی علامت بھی ہے۔

    یومِ تاسیس دراصل اسی تاریخی تسلسل کا جشن ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سعودی عرب محض جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ قیادت، نظریہ اور عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔ امام محمد بن سعودؒ سے لے کر آج تک آلِ سعود کی حکومت نے جدوجہد، حکمت اور عوامی خدمت کے ذریعے اس ریاست کو جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    299 سالہ یہ سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مضبوط قیادت اور قومی یکجہتی قوموں کو تاریخ کے نشیب و فراز سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یومِ تاسیس سعودی عرب کے شاندار ماضی کو خراجِ تحسین اور روشن مستقبل کے عزم کا اظہار ہے۔

  • ہماری ترجیحات  صرف پروٹوکول  یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہماری ترجیحات صرف پروٹوکول یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    وقت نے ثابت کر دیا کہ ہماری ترجیحات عوامی نہیں کیونکہ پچھلے 78 سالوں سے ہم بطور پاکستان ایک لیبارٹری کا کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کبھی ہم الف انار سے آگے نہیں بڑھ سکے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے برسر اقتدار لوگوں کو اپنے پروٹوکول سے عرض ہے اور اگر ہم الف انار سے آگے نکل گئے تو الف سے اللہ پڑھ لیا تو لوگوں کے ذہنوں میں اللہ کی محبت جاگنے لگے گی جو کہ پروٹوکول والوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اس لیے الف انار ہی کافی ہے ۔

    پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈی سی، اے سی اور پرائس کنٹرول والے ادارے بے بس نظر آتے دکھائی دیتے ہیں شائد سسٹم میں خرابیاں ہیں جو ہم دور نہیں کرنا چاہتے پکڑ دھکڑ ایف آئی آر حوالات میں بند کرنا جو حل نہیں مسلئہ کی روح کو سمجھنا ضروری ہے جو ہم کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

    بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار سکڑ رہے ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ لیکن اگر ہمارے ریاستی اور انتظامی رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل معیشت، روزگار اور عوامی فلاح نہیں بلکہ پروٹوکول، نمائشی دورے اور عہدوں کی شان و شوکت بن چکے ہیں۔

    آج بھی کسی سرکاری شخصیت کی آمد کی اطلاع ملے تو سڑکیں بند، ٹریفک معطل اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ معمول کی بات ہے۔ مریض ایمبولینس میں انتظار کرتے رہتے ہیں، طلبہ امتحان کے لیے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وقار کا تقاضا عوام کو تکلیف دینا ہے؟ یا اصل وقار عوام کی سہولت اور خدمت میں ہے؟

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول ایک انتظامی ضرورت سے بڑھ کر اختیار اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ لمبے لمبے قافلے، درجنوں گاڑیاں، غیر ضروری سکیورٹی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ایک ایسا کلچر بن چکا ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔دوسری طرف ملک کی معیشت کمزور ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔لاکھوں کی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں جن میں ڈاکٹر انجینئر اور پڑھا لکھا طبقہ دیدارِ غیر کی پرواز کرچکا ہے اور باقی انتظار میں ۔چھوٹے کاروبار مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ صنعتوں کی رفتار سست ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی اولین ترجیح معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور عوامی ریلیف ہونی چاہیے، لیکن عملی طور پر زیادہ توجہ نمائشی سرگرمیوں اور رسمی تقریبات پر دی جا رہی ہیں۔

    یہ پروٹوکول کلچر صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے میں بھی سرائیت کر چکا ہے۔ عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خود کو عام شہری سے مختلف اور برتر سمجھنے لگے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم اور احساسِ محرومی کو بڑھا دیا ہے۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ قانون اور سہولیات سب کے لیے برابر نہیں تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اعلیٰ حکام سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے آتے جاتے ہیں، اور ریاستی وسائل کا ہر ممکن بچاؤ کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کارکردگی کو اہمیت دی جاتی ہے، نمود و نمائش کو نہیں۔جب کہ اسلام بھی اس منع کرتا ہے ۔

    پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے جب کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ غیر ضروری پروٹوکول اور نمائشی اخراجات کو کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا عہدہ اختیار نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری ہے۔مگر یہ اب تک ممکن نہیں ہوسکا بہرحال امید قوی ہے اتنا انتظار مزید کرنے سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے خاص طور پر ضلعی اور مقامی سطح پر بھی اس سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوامی مسائل—ٹوٹے ہوئے روڈ، سیوریج کے مسائل، پینے کے پانی کی کمی، سرکاری اداروں کی کارکردگی—ان پر توجہ دینے کے بجائے اگر سارا زور استقبال، پروٹوکول اور رسمی سرگرمیوں پر ہو تو عوام کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ دونوں مل کر ایک نئی سوچ کو اپنائیں۔ سادگی، خدمت اور کارکردگی کو عزت دی جائے ووٹ والی بات الگ ہے جبکہ نمود و نمائش اور غیر ضروری پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کی جائے۔مگر کون کرے گا جو پروٹوکول کے دلدادہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی طاقت لمبے قافلوں یا بند سڑکوں میں نہیں، بلکہ خوشحال عوام، مضبوط معیشت اور برابر کے نظام میں ہوتی ہے۔جب حکمرانی کا مرکز عوام بن جائیں گے تو ترقی خود راستہ بنا لے گی۔ پہلے قوم بننا ضروری ہے ، آخر کب تک امید کا دامن تھامے رکھو گے ؟