Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈاکٹر ریاض مجید (ستارہ امتیاز) کی صدارت میں یادگار نعتیہ مشاعرہ کی ایک شام ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ڈاکٹر ریاض مجید (ستارہ امتیاز) کی صدارت میں یادگار نعتیہ مشاعرہ کی ایک شام ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    فیصل آباد صرف صنعت، تجارت، محنت اور کاروبار کا شہر نہیں، یہ شعر و ادب، تہذیب، ثقافت اور روحانی اقدار کی ایک خوبصورت بستی بھی ہے۔ اس شہر کی مٹی نے جہاں بڑے صنعت کار، تاجر، دانشور، صحافی اور فنکار پیدا کیے، وہیں اس نے نعت گو شعرائے کرام اور اہلِ قلم کو بھی ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں محبتِ رسول ﷺ کے چراغ نسل در نسل روشن ہوتے رہے ہیں۔ فیصل آباد کی ادبی تاریخ میں نعتیہ مشاعروں کی روایت بھی اسی تہذیبی تسلسل کا ایک روشن باب ہے۔

    اسی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ادبی ادارہ ترتیب اور لائلپور پکچر گیلری کے اشتراک سے منعقد ہونے والی 33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ کی صورت میں سامنے آئی۔ لائلپور پکچر گیلری میں منعقد ہونے والی یہ بابرکت ادبی نشست محض ایک مشاعرہ نہیں تھی بلکہ محبتِ رسول ﷺ، ادب، عقیدت اور فیصل آباد کی تہذیبی شناخت کا ایک ایسا اجتماع تھی جس میں شہر بھر سے چالیس کے قریب نعت گو شعرائے کرام نے شرکت کرکے اس محفل کو یادگار بنا دیا۔

    اس نعتیہ مشاعرے کی صدارت معروف ادیب، نقاد اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید نے کی۔ ان کی شخصیت خود اردو ادب کے حوالے سے ایک معتبر حوالہ ہے۔ حال ہی میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا نہ صرف ان کے لیے بلکہ فیصل آباد کی پوری ادبی برادری کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ یہی وجہ تھی کہ محفل میں شریک تقریباً تمام شعرائے کرام نے اپنے نعتیہ کلام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ریاض مجید کو ستارۂ امتیاز ملنے پر بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور منظوم و منثور نذرانۂ عقیدت پیش کیے۔
    اس موقع پر مہمانانِ خصوصی میں محمد اسلم بھلی، صدر سپریم انجمن تاجران فیصل آباد، کوثر علی، پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد قادری، پروفیسر ڈاکٹر حامد رضا اور مقبول احمد لودھی شامل تھے۔ میزبانی کی ذمہ داریاں ڈاکٹر جانباز احمد مخفی، میاں بشیر احمد اعجاز اور حمید شاکر نے انجام دیں۔ تلاوتِ قرآن پاک کی سعادت حافظ ضمیر حسین اطہر قادری نے حاصل کی جبکہ پروفیسر رضا حسین گیلانی نے مترنم انداز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے محفل کے روحانی حسن میں اضافہ کیا۔
    جب قرآن پاک کی تلاوت سے محفل کا آغاز ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے لائلپور پکچر گیلری کی فضا میں الفاظ سے پہلے نور اتر آیا ہو۔ اس کے بعد جب نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کی آواز بلند ہوئی تو ادب اور عقیدت ایک دوسرے میں گھلتے چلے گئے۔ نعتیہ محفل کی اصل خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ یہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ عقیدت کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ شاعر اپنے تخلیقی ہنر کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے حضور پیش کرتا ہے اور سامعین اسے محض شاعری کے طور پر نہیں بلکہ نذرانۂ عقیدت کے طور پر سنتے ہیں۔

    اس بابرکت محفل میں سعدیہ نصیر، نرگس رحمت، سلیم شاہد، امین عزمی، ناصر حسین راضی، سرور کلیم، سرور خان سرور، شہزاد بیگ، رضا گیلانی، راشد اقبال، ریاض احمد قادری، پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید، کوثر علی، قمر عباس قمر، ساغر شہزاد، حاتم بھٹی، طارق محمود کائناتی، شاہد نسیم شاہد، عباس علی حیدر، ضمیر قادری، اختر بٹ، اقبال ناز، اشفاق ہمزالی، حامد رضا زیدی، محمود رضا زیدی، حماد حیدر نقوی، سرور قمر قادری، میاں منیر احمد منیر، منیر احمد خاور، کامران رشید، اصغر علی تبسم، اسد نقوی، ذیشان حسینی، آنس بیگ، انور انیق، آصف گوہیر اور ڈاکٹر جانباز مخفی سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنے اپنے نعتیہ کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
    یہ فہرست دراصل فیصل آباد کی نعتیہ شاعری کے ایک خوبصورت منظرنامے کی عکاس ہے۔ راقم الحروف شاہد نسیم نے بھی اپنی نعت مبارک پیش کی۔۔۔ جو کچھ یوں تھی۔

    دل کے گلشن کو سجانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
    راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    بے سہاروں کو سہارا دینے دنیا میں حضور
    غم کے ماروں کو ہنسانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    ظلمتوں میں نورِ حق کا راستہ دکھلانے کو
    شمعِ ایماں پھر جلانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    بت کدوں میں پرچم توحید لہراتے ہوئے
    کفر کا باطل مٹانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

    سوئے دل کو عشقِ خالق سے سجانے کے لیے
    راہِ حق ہم کو دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

    جو بھٹکتے تھے اندھیروں میں جہاں بھر میں کبھی
    ان کو منزل تک پہنچانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    نفرتوں کی آگ کو الفت بنانے کے لیے
    ٹوٹتے دل کو ملانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    عدل کا میزان دنیا کو دکھانے کے لیے
    حق کا پرچم اٹھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    آدمیت کو عطا کرنے کو قدر و منزلت
    سوئے انساں کو جگانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    جن کے دامن سے ملے ہر درد ہی کو اطمینان
    زخمِ دل سارے مٹانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    درد کا درمان ہے اب صرف عشقِ مصطفیٰؐ،
    شاہدؔ امت کو بچانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

    مختلف اسالیب، مختلف لہجے، مختلف شعری تجربات اور مختلف عمر کے شعراء جب ایک ہی موضوع، یعنی عشقِ رسول ﷺ کے گرد جمع ہوں تو ایک ایسی ادبی فضا تشکیل پاتی ہے جس میں اختلافِ اسلوب اپنی جگہ رہتے ہوئے مقصد کی یکسانیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ہر شاعر کا قلم اپنی شناخت رکھتا ہے، مگر جب بات حضور نبی کریم ﷺ کی مدحت کی آتی ہے تو سب کے دل ایک ہی مرکز کی طرف جھک جاتے ہیں۔

    اس محفل کا ایک اہم اور قابلِ تحسین پہلو یہ بھی تھا کہ شعرائے کرام نے صرف نعتیہ کلام پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید کو ستارۂ امتیاز ملنے پر انہیں دل کھول کر خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ادبی برادری اپنے اہلِ علم و ادب کی کامیابیوں کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ کسی شاعر، ادیب یا دانشور کو قومی سطح کا اعزاز ملے اور اس کے شہر کے اہلِ قلم اس خوشی کو اجتماعی خوشی بنادیں تو یہ ادب کی صحت مند روایت کی علامت ہے۔
    مگر اس پوری محفل میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس کا خصوصی ذکر ناگزیر ہے، اور وہ ہیں میاں بشیر احمد اعجاز، کسٹوڈین لائلپور پکچر گیلری۔
    آج کے دور میں جب بہت سے ثقافتی مقامات اپنی اصل روح سے دور ہوتے جارہے ہیں، میاں بشیر احمد اعجاز نے لائلپور پکچر گیلری کو صرف تصاویر اور فنونِ لطیفہ کی نمائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ادبی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کے لیے بھی ایک فعال مقام بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ کسی عمارت کو صرف عمارت رکھنا آسان ہے، لیکن اسے ایک زندہ تہذیبی مرکز بنانا مسلسل محنت، خلوص اور وژن کا تقاضا کرتا ہے۔
    لائلپور پکچر گیلری میں 33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ کا انعقاد اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔ جب ایک آرٹ گیلری میں شعراء جمع ہوں، جب وہاں قرآن پاک کی تلاوت ہو، جب نعتِ رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوں، جب ادب کے استاد، شاعر، تاجر، دانشور اور اہلِ ذوق ایک جگہ بیٹھیں تو دراصل ایک شہر اپنی تہذیبی زندگی کا اعلان کرتا ہے۔
    میاں بشیر احمد اعجاز کو اس حوالے سے خراجِ تحسین پیش کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ادبی تقریبات کی کامیابی صرف شاعر کے شعر کہنے سے نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے منتظمین کی محنت، وقت، وسائل، روابط، مہمان نوازی اور سب سے بڑھ کر نیک نیتی شامل ہوتی ہے۔ ایک کامیاب ادبی محفل کے پیچھے کئی گھنٹوں کی خاموش محنت ہوتی ہے جسے سامعین اکثر دیکھ نہیں پاتے۔
    میاں بشیر احمد اعجاز نے اپنے رفقا کے ساتھ مل کر اسی خاموش محنت کو ایک خوبصورت ادبی منظر میں تبدیل کیا۔ طارق محمود کائناتی اور میاں بشیر احمد اعجاز کی جانب سے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ ناصر حسین راضی نے دعا کروائی۔ اختتام پر مصطفائی لنگر سے تمام شرکائے محفل کی تواضع کی گئی۔ یوں محفل نے ادب، عقیدت، محبت اور خدمت کے تمام رنگ اپنے اندر سمیٹ لیے۔
    یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ نعتیہ محفل کا حسن صرف بلند آواز میں نعت پڑھنے یا بڑے بڑے ناموں کی شرکت سے نہیں بڑھتا، بلکہ اس وقت بڑھتا ہے جب منتظمین شعراء اور سامعین دونوں کے لیے احترام، محبت اور اپنائیت کا ماحول پیدا کریں۔ اس حوالے سے لائلپور پکچر گیلری کی یہ محفل ایک خوشگوار مثال نظر آتی ہے۔

    فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں ادبی سرگرمیوں کے لیے مستقل اور باوقار مقامات کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔ اگر ثقافتی ادارے اپنے دروازے اہلِ قلم کے لیے کھول دیں تو شہر کی ادبی زندگی میں نئی توانائی پیدا ہوسکتی ہے۔ لائلپور پکچر گیلری میں اس طرح کی سرگرمیاں اسی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہیں۔
    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنے کے لیے صرف کتابیں کافی نہیں، بلکہ انہیں ایسے زندہ ادبی اجتماعات بھی دکھانا ہوں گے جہاں وہ شعراء کو سامنے دیکھیں، کلام سنیں، اہلِ علم سے ملیں اور یہ محسوس کریں کہ ادب کوئی ماضی کی چیز نہیں بلکہ آج بھی ہمارے معاشرے کی فکری اور روحانی ضرورت ہے۔
    نعتیہ ادب تو خصوصاً ہماری تہذیبی اور دینی روایت کا نہایت محترم حصہ ہے۔ اس لیے نعتیہ محافل کا انعقاد صرف ایک ادبی سرگرمی نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔ تاہم اس میدان میں سب سے اہم چیز ادب، احترام اور شرعی و شعری نزاکتوں کی پاسداری ہے۔ جب اہلِ علم و ادب اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے نعت کہتے اور سنتے ہیں تو ایسی محافل دلوں پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔
    33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فیصل آباد کا ادبی مزاج زندہ ہے۔ یہاں شعراء بھی ہیں، سامعین بھی ہیں، ادبی ادارے بھی ہیں اور ایسے مخلص منتظمین بھی جو اپنی مصروفیات کے باوجود ادب کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
    میاں بشیر احمد اعجاز کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے لائلپور پکچر گیلری کو محض ایک ثقافتی عمارت نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ادب، فن اور تہذیب کے حسین امتزاج کا ایک فعال مرکز بنانے کی کوشش کی۔ ایسی شخصیات کسی بھی شہر کا خاموش سرمایہ ہوتی ہیں۔ انہیں نہ صرف تقریبات کے موقع پر بلکہ ان کی مسلسل خدمات کے اعتراف میں بھی سراہنا چاہیے۔
    اور شاید یہی کسی ادبی معاشرے کی اصل خوبصورتی ہے کہ یہاں شاعر صرف شعر نہیں کہتا، منتظم صرف پروگرام نہیں کراتا اور سامع صرف تالیاں نہیں بجاتا؛ بلکہ سب مل کر ایک تہذیبی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔
    لائلپور پکچر گیلری میں ہونے والی یہ نعتیہ محفل بھی اسی خوبصورت روایت کا تسلسل تھی۔ قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہونے والی محفل نعت کی خوشبو میں ڈھلی، شعراء کے کلام سے سجتی رہی، ڈاکٹر ریاض مجید کے قومی اعزاز پر مبارک باد اور خراجِ تحسین کے پھول پیش کیے گئے، منتظمین نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، دعا ہوئی اور آخر میں مصطفائی لنگر نے اس محبت بھری نشست کو اپنے ذائقے میں سمیٹ لیا۔

    یہ صرف ایک محفل کا اختتام نہیں تھا بلکہ ایک عہد کی تجدید تھی کہ فیصل آباد میں ادب زندہ ہے، نعتیہ روایت زندہ ہے اور محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ قلم آج بھی اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔
    میاں بشیر احمد اعجاز اور ان کے رفقائے کار اس خوبصورت ادبی و نعتیہ روایت کو آگے بڑھانے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ لائلپور پکچر گیلری آئندہ بھی شعر و ادب، فن و ثقافت اور فکر و دانش کے چراغ روشن کرتی رہے اور یہاں سے نکلنے والی ادبی آوازیں فیصل آباد کی حدود سے آگے پورے ملک تک پہنچتی رہیں۔
    یہی شہر کی تہذیبی زندگی ہے، یہی ادب کی خدمت ہے اور یہی وہ چراغ ہے جسے ایک نسل دوسری نسل کے ہاتھ میں منتقل کرتی ہے۔

  • پاکستان میں جین زی،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    پاکستان میں جین زی،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس نوجوان آبادی میں خاص طبقہ ایسا ہے جو باقی نسلوں سے بنیادی طور پر مختلف ہےاور وہ جین زی ہے یعنی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی ہاتھ میں اسمارٹ فون اور سامنے انٹرنیٹ کا اسکرین دیکھا۔ پاکستان کی جین زی بدلتی ہوئی فکر، اجتماعی سماجی شعور اور غیر روایتی انقلاب کا نام ہے۔

    پاکستان میں جین زی کی پرورش منفرد اور پہلو دار ماحول میں ہوئی ہے۔ ایک طرف تو ان کا واسطہ پاکستان کے روایتی، مذہبی اور سماجی اقدار سے ہے تو دوسری طرف ٹک ٹاک، انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب جیسے عالمی پلیٹ فارمز نے انہیں پوری دنیا کی معلومات اور رجحانات سے جوڑ دیا ہے۔ اس نسل نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی باقیات دیکھی ہیں، جس نے انہیں وقت سے پہلے سمجھدار اور حقیقت پسند بنا دیا ہے۔

    بزرگوں اور سابقہ نسلوں کے برعکس، پاکستان کی جین زی کسی ایک بیانیے پر اندھا دھند یقین نہیں رکھتی۔ یہ سوال پوچھنے والی نسل ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی کام ایک خاص طریقے سے ہوتا آیا ہے تو کیوں ہوتا آیا ہے؟ وہ روایتی نوکریوں، فرسودہ تعلیمی نظام اور غیر منطقی پابندیوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔
    پاکستانی جین زی نے سیاست کا ایک نیا چہرہ دیکھا ہے۔ وہ پارلیمانی تقریروں کی بجائے میمز، مختصر ویڈیوز اور ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز کے ذریعے اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔ یہ نسل روایتی سیاست دانوں کے نعروں سے متاثر ہونے کی بجائے شفافیت، انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور معاشی انصاف کی بات کرتی ہے۔
    حالیہ سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ملک میں آزادیِ اظہار یا انٹرنیٹ سروسز پر پابندیاں لگائی گئیں، اسی جین زی نے وی پی این اور ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال کر کے اپنی آواز کو دنیا تک پہنچایا۔ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وفاداری نبھانے کے بجائے بنیادی حقوق اور اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے زیادہ فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔
    پاکستان کی جین زی کو معاشی طور پر انتہائی سخت دور کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی صورتحال نے انہیں روایتی نو سے پانچ نوکریوں کے آسرا چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مگر اس کے نتیجے میں مثبت تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کا چوتھا بڑا فری لانسنگ حب بن چکا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی جین زی ہے۔

    پاکستان کے نوجوان گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مواد نگاری اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے غیر ملکی زرِ مبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ ٹک ٹاک اور یوٹیوب نے گاؤں دیہات کے نوجوانوں کو بھی اپنے اندر کا ہنر دکھانے اور معاشی طور پر خود مختار ہونے کا موقع دیا ہے۔ یہ نسل صرف ملازمت کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ کام فراہم کرنے والی بننا چاہتی ہے۔ ٹیکنالوجی، ای کامرس اور سروسز کے شعبے میں نئے خیالات لانے میں جین زی سب سے آگے ہے۔
    ایک دور تھا جب پاکستان میں ذہنی صحت یا افسردگی پر بات کرنا گناہ يا مذاق سمجھا جاتا تھا۔ جین زی نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ کھل کر تھراپی، ذہنی دباؤ اور جذباتی صحت پر بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وہ ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں اور ایسے موضوعات کو عام کر رہے ہیں جن پر بات کرنا پہلے ممنوع سمجھا جاتا تھا۔
    اس کے ساتھ ساتھ، یہ نسل صنفی مساوات، اقلیتوں کے حقوق اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے عالمی موضوعات پر بھی انتہائی حساس ہے۔ کلائمیٹ چینج کے خلاف پاکستان کے نوجوانوں نے جس طرح آواز اٹھائی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مستقبل اور زمین کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔

    اگرچہ پاکستان کی جین زی بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہے، لیکن اسے چند سنگین چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ شہروں کے باوسائل نوجوانوں اور دیہات یا پس ماندہ علاقوں کے نوجوانوں میں ایک بڑا خلیج ہے۔ ہر ایک کے پاس تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔ ملکی معاشی ابتری اور مواقع کی کمی کے باعث اس نسل کا ایک بڑا حصہ ملک چھوڑ کر باہر جانے کے لیے بے تاب ہے۔ بہترین دماغوں کا ملک سے جانا پاکستان کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں ہر وقت جڑے رہنے کی وجہ سے اس نسل میں بے چینی، موازنہ کرنے کی عادت اور تنہائی کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔
    ہمارا کاغذی اور کاہل بیرو کریٹک نظام، پرانا تعلیمی نصاب اور روایتی سوچ رکھنے والے ادارے اس جدید ڈیجیٹل نسل کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر پا رہے، جس سے نوجوانوں میں فرسٹریشن جنم لے رہی ہے۔

    پاکستان کی جین زی کو سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے والی نسل سمجھنا بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ یہ وہ نسل ہے جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ اس نسل کو صحیح سمت دے، جدید تعلیم اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرے اور انہیں فیصلوں میں شامل کرے، تو یہ نسل پاکستان کو جدید، ترقی یافتہ اور خوددار ملک بنا سکتی ہے۔
    حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ پر پابندیاں لگانے کی بجائے تیز رفتار اور سستا انٹرنیٹ فراہم کریں، تعلیمی نصاب کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور جدید علوم کے مطابق ڈھالیں اور فری لانسرز کے لیے ادائیگیوں کے نظام کو آسان بنائیں۔

    پاکستان کی جین زی روشن، نڈر اور بے باک نسل ہے۔ وہ روایت کی زنجیروں میں جکڑے رہنے کی بجائے اپنے لیے نیا راستہ خود تراش رہی ہے۔ ان کے پاس علم کی طاقت ہے، تکنیک کی مہارت ہے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس نسل کو سنیں، سمجھیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر نئے اور روشن پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

  • کنٹینروں سے محصور جوڑواں شہر،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    کنٹینروں سے محصور جوڑواں شہر،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    صبح آنکھ کھلتی ہے تو پرندوں کے چہچہانے سے پہلے موبائل کی سکرین پر نگاہ پڑتی ہے، اور دل کی دھڑکنیں معمول سے تیز ہو جاتی ہیں۔ پہلا خیال یہ نہیں آتا کہ آج کام کیا کرنا ہے یا ناشتے میں کیا کھانا ہے، بلکہ یہ خوف ذہن کو جکڑ لیتا ہے کہ کیا سگنل بحال ہیں؟ کیا راستے کھلے ہیں؟ کیا میں دفتر پہنچ پاؤں گا؟ اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسیوں کے لیے اب زندگی کا پیمانہ موسم یا گھڑی کی سوئیاں نہیں، بلکہ سڑکوں پر کھڑے زنگ آلود لوہے کے بھاری بھرکم کنٹینر بن چکے ہیں۔ جو جڑواں شہر دنیا بھر میں اپنے پرسکون ماحول، سرسبز پہاڑیوں اور صاف ستھری چوڑی سڑکوں کے باعث پہچانے جاتے تھے، وہ اب آئے روز ایک ایسی کھلی جیل کا منظر پیش کرتے ہیں جس کی سلاخیں لوہے کے دیوہیکل ڈبوں سے تراشی گئی ہیں۔

    ہم عام شہری اقتدار کے ایوانوں اور سیاسی میدانوں کے درمیان ایسی چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں جس کا آٹا صرف ہماری بے بسی سے بنتا ہے۔ اسلام آباد میں اقتدار کی بارگاہ ہے اور راولپنڈی اس کا جغرافیائی دل، مگر جب بھی دونوں کے درمیان سیاسی تناؤ ابھرتا ہے تو دارالحکومت کے داخلی راستوں پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں۔ فیض آباد کا پُل ہو، آئی جے پی روڈ، مری روڈ یا ترامڑی چوک، ہر بڑا اور چھوٹا راستہ ان بے حس کنٹینروں کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ریاست اور مظاہرین کے درمیان جنگ کا سب سے آسان ہدف وہ عام شہری ہے جو صبح سویرے حلال رزق کمانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔

    لوگوں کو لگتا ہے کہ محض سڑکیں بند ہوتی ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہمارے شہروں میں سانسوں کی روانی بند ہو جاتی ہے۔ راولپنڈی کے گلی کوچوں سے نکل کر اسلام آباد کے دفاتر، کارخانوں اور بینکوں میں جانے والے لاکھوں ملازمین ہر بار ایک ناقابل بیان ذہنی اذیت سے گزرتے ہیں۔ روزگار بچانے کی فکر انسان کو جان جوکھوں میں ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ موٹر سائیکل سوار فٹ پاتھوں، کچی پگڈنڈیوں اور نالوں کے کناروں سے راستہ تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ذرا سی لغزش انسان کو اسپتال یا قبرستان پہنچا سکتی ہے۔ گاڑی والے میلوں طویل قطاروں میں پھنسے پٹرول کے ساتھ ساتھ اپنا خون بھی جلاتے ہیں۔ جب گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی راستہ نہیں ملتا اور الٹے پاؤں لوٹنا پڑتا ہے، تو گھر پہنچ کر خالی ہاتھ بچوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہتی۔ دیہاڑی دار مزدور کا چولہا اس دن ٹھنڈا رہ جاتا ہے، کیونکہ اگر چوک ہی بند ہو تو کام کی تلاش میں کہاں جایا جائے؟

    سب سے دلخراش منظر ایمبولینسوں کا ہوتا ہے۔ جب کسی سائرن بجاتی ایمبولینس کو کنٹینر کے سامنے بے بس کھڑے دیکھا جائے تو انسان کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس گاڑی کے اندر کوئی بزرگ دل کے دورے سے لڑ رہا ہوتا ہے، کوئی حاملہ خاتون زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتی ہے یا کوئی حادثے کا شکار خون میں لت پت آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے۔ لوہے کے اس بے رحم پہاڑ کو نہ کسی کی بیماری کا احساس ہے اور نہ کسی کی آخری سانسوں کی پروا۔ پمز یا شفا انٹرنیشنل اسپتال تک پہنچنے کے لیے جو راستہ عام دنوں میں پندرہ منٹ کا ہوتا ہے، وہ ان بندشوں میں تین تین گھنٹوں کی اذیت بن جاتا ہے، اور اکثر اوقات مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔ ہم سڑک کنارے کھڑے صرف آنسو بہا سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس لوہے کو پگھلانے کی طاقت نہیں ہے۔

    تعلیم کا شعبہ تو جیسے ترجیحات کی فہرست سے ہی خارج ہو چکا ہے۔ اسکول جانے والے ننھے معصوم بچے کتابوں کے بھاری بستے اٹھائے گاڑیوں میں گھنٹوں سہمے بیٹھے رہتے ہیں۔ جامعات کے امتحانات ملتوی ہو جاتے ہیں اور طلبہ کے تعلیمی سال کا ضیاع ایک عام سی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ اوپر سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں جہاں روزگار کا دارومدار انٹرنیٹ پر ہے، وہاں آن لائن کام کرنے والے ہزاروں نوجوان بین الاقوامی سطح پر اپنا کام اور ساکھ گنوا بیٹھتے ہیں۔ کسی سے رابطہ ممکن نہیں رہتا، بوڑھے والدین گھر بیٹھے بچوں کی خیریت کے لیے تڑپتے ہیں اور دفتر میں بیٹھا شخص گھر والوں کے لیے پریشان رہتا ہے۔
    ہم خود سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر ہمارا گناہ کیا ہے؟ کیا ایک پرامن شہری ہونا اور صرف قانون کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنا ہی ہمارا سب سے بڑا جرم ہے؟ جب بھی سیاسی جماعتوں کو اپنی طاقت دکھانی ہوتی ہے یا انتظامیہ کو اپنی رٹ قائم کرنی ہوتی ہے، قربانی کا بکرا ہم بنتے ہیں۔ لوہے کے کنٹینر سڑکوں کو تو
    وقتی طور پر روک لیتے ہیں، مگر عوام کے دلوں میں جو غصہ، مایوسی اور بے بسی کی آگ بھڑکاتے ہیں، اسے کوئی کنٹینر قید نہیں کر سکتا۔ کاش اقتدار کے ایوانوں میں براجمان اربابِ اختیار یہ سمجھ سکیں کہ شہر سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں، ان میں بسنے والے انسانوں سے زندہ رہتے ہیں، اور جب ان انسانوں کو بار بار لوہے کی دیواروں میں قید کر دیا جائے تو شہروں کی روح دم توڑنے لگتی ہے۔

  • اردو فلمی شاعری کا عروضی تجزیہ ،تبصرہ نگار :عرفان خانی

    اردو فلمی شاعری کا عروضی تجزیہ ،تبصرہ نگار :عرفان خانی

    فلمی شاعری کا انحصار زیادہ تر دھن اور ماتروں پر ہوتا ہے
    جس میں علم عروض کی کچھ بحور تو شامل ہوتی ہیں مگر زیادہ تر دھن کی وجہ سے علم عروض سے خارج ہوتی ہیں
    گیت اگر کسی شاعر نے لکھے ہوں گے تو یقینا وہ علم عروض کے پیمانوں پر پورے اترتے ہوں گے مگر فلمی شاعری میں دھن کا اصیل علم ہے جس میں علم عروض کے مطابق لکھے گۓ گیت کو بھی دھن میں ڈھالنے کے لۓ ماتروں کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے گیت علم عروض سے خارج ملتے ہیں آفتاب خان کا شمار برصغیر کے نمائندہ شعراء میں شامل خاص ہے عالمی سطح پر ادبی حوالہ سے تجرباتی جہت پر انکی خاصی گرفت ہے یہی وجہ ہے افتاب خان نے ادب کو نئی راہ پر لایا جو کہ اردو فلمی شاعری کے عروضی تجزیہ پر مشتمل ہے۔ اردو فلمی شاعری کاعروضی تجزیہ کی کتاب میں اظہر جاوید خان اپنی راۓ میں لکھتے ہیں کہ
    گیت
    چوہدویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
    جو بھی ہو تم خدا کی قسم لا جواب ہو
    اس شعر میں لفظ تم نکال دیا گیا
    پہلے مصرع کے شروع میں "تم ” کو نکال دیا گیا کیوں کہ
    تم چوہدیویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
    لفظ ” تم "ْ موسیقی اور گائیکی میں شامل نہیں ہو رہا تھا اسلۓ نکال دیا گیا ۔اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے گیت نگاری میں اہمیت دھن کی ہے علم عروض کی نہیں ہے اس کے باوجود آفتاب خان نے اردو فلمی شاعری کا عروضی مطالعہ پیش کر کے ایک الگ سے ادبی تجربہ کی بنیاد رکھی جو کہ تاریخ کا اہم حصہ ہو گی ۔ یہ کتاب نہ صرف علم عروض کے حوالہ سے گیت نگاری کی پرکھ ہے بلکہ اس میں شامل گیت , , موسیقار, اور فلموں کے نام شامل ہونے سے تحقیق کی بھی عمدہ کتاب ہے

    یہاں چند گیتوں کو اپ کے زوق کی خاطر پیش کر رہا ہوں جو اردو فلمی گیتوں کے عروضی تجزیہ کی کتاب میں موجود ہیں جن کو آفتاب خان نے انتہائی محنت لگن اور شوق کے ساتھ اپنی کتاب میں پیش کیا ہے
    بحر ہزج مثمن سالم
    مفاعیلن , مفاعیلن , مفاعیلن ,مفاعیلن
    گیت۔
    1۔ یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے
    محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    2۔ ترے کوچے میں ارمانوں کی دنیا لے کے آیا ہوں
    تجھی پر جان دینے کی تمنا لے کے آیا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحر ہزج مسدس سالم مخذوف
    مفاعیلن , مفاعیلن , فعولن
    گیت
    کبھی دل دل سے ٹکراتا تو ہوگا
    انہیں میرا خیال آتا تو ہو گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    2۔ جگر چھلنی ہے دل گھبرا رہا ہے
    محبت کا جنازہ جا رہا ہے
    بحر ہزج مثمن اخرب سالم
    مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
    گیت
    ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنائیں گے
    ہر دل میں محبت کی اک آگ لگائیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحر رمل مثمن مخبون محذوف مسکن
    فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
    گیت
    ہاتھ سینے پہ جو رکھ دو تو قرار آ جاۓ
    دل کے اجڑے ہوۓ گلشن میں بہار آ جاۓ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحر مضارع مثمن مکفوف محذوف
    مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
    گیت
    دل میں چھپا کے پیار کا طوفان لے چلے
    ہم آج اپنی موت کا سامان لے چلے
    ۔۔۔۔۔
    علم عروض ہر شاعر کے لئے لازم ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعر اگر مسلسل ترنم کی تحریک کرتا رہے تو اسے علم عروض کی ضرورت نہیں رہتی اس تحریک سے بحور تو درست ہو سکتی ہیں لیکن شعری لوازمات۔ میں کمی رہ جاتی جس میں گرائمر ، زمانہ کی حالت ، وغیرہ متاثر ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے علم عروض کا مکمل علم حاصل کریں تاکہ کلام میں بنیادی اغلاط نہ ہوں کلام ہر سقم سے پاک ہو اسی لیے کہا جاتا ہے کہ علم عروض اور شعر لازم و ملزوم ہیں دونوں کا ہونا اچھے خیال اور اچھے شعر سے منسلک ہے تبھی لکھادی اچھا شعر کہہ سکے گا
    موسیقی بھی علم عروض کی ساتھ ہے کیونکہ ماترے ، دھن ، اسی طرف لے جاتے ہیں کلام کو جس طرف علم عروض کی اہمیت کا ہونا لازم ہوتا ہے
    اگر بات کئی جائے زبانوں کی تو اردو پنجابی زبان میں علم عروض مختلف اشکال پر مبنی ہوتا ہے آج کل زیادہ تر اردو بحور کو پنجابی میں بھی استعمال کیا جارہا ہے لیکن پنجابی گیت ، دو ہڑے ،ماہے ، غزل وغیرہ جیسی اصناف کا الگ سے عروضی مزاج ہے سو اردو زبان کی موسیقی پر یا شاعری پر آج تک ایسا کام سامنے نہیں آیا جو مکمل اردو فلمی شاعری پر سیر حاصل مضامین پر مشتمل ہو
    اردو فلمی شاعری کے حوالہ سے عروضی تجزیہ کی یہ پہلی کتاب کے طور ادب میں نمایاں ہے اس سے قبل
    موسیقی اور دھن کی کتب میں یا فن موسیقی کی کتب میں کہیں کہیں کسی گیت کا زکر تو ملتا ہے مگر باقاعدہ طور پر اردو فلمی شاعری کے حوالے سے افتاب خان نے یہ پہلی کتاب ترتیب دی ہے جو کہ اردو ادب کے لۓ اور فن موسیقی کے لۓ ایک اہم کتاب کے طور ادب میں نمایاں حثیت پر فائز رہے گی میں آفتاب خان کو تجرباتی کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اردو فلمی شاعری کے حوالہ سے مزید کتب تخلیق کریں تاکہ گیت نگاری میں شوق رکھنے والے شعراء کو فن موسیقی کے حوالہ سے آسانیاں میسر ہوں

  • ضمیر کی موت ،تحریر: عائشہ گُل

    ضمیر کی موت ،تحریر: عائشہ گُل

    انا للہ وانا الیہ راجعون

    موبائل کو سائیڈ پر رکھیں۔ اپنے چہرے پر ایک زوردار چپت رسید کیجئے۔ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔ بیٹھے ہیں تو سانس روک کر پڑھیے۔ کیونکہ اگلی چند سطریں آپ کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ سب سے پہلا سوال: آپ کا ضمیر زندہ ہے یا مر چکا ہے؟ جواب آئینے میں دیکھ کر دیجئے گا۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ڈیڑھ سالہ ننھی کلی مٹی تلے سو گئی۔ ٹھہریے! لفظ بدلیے۔ "سلا دی گئی”۔ 17 سالہ لڑکے کے ہاتھوں۔ جو ابھی بلوغت کی دہلیز پر بھی نہیں پہنچا تھا۔ رشتے میں ماموں لگتا تھا۔ چیز کا لالچ دے کر گھر سے لے گیا۔ اور جب لوٹی تو کلی مرجھائی ہوئی تھی۔ زار و قطار رو رہی تھی۔ وہ بول نہیں سکتی تھی۔ صرف اٹھکیاں لیتی تھی۔ والدین ہسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے کہا: "بہت دیر ہو چکی”۔ اور یوں وہ معصوم، کسی شکایت کے بغیر، کسی فریاد کے بغیر، آنسوؤں کی گواہی کے ساتھ مٹی کی آغوش میں اتار دی گئی۔ قرآن پاک ہمیں یہ سوال یاد دلاتا ہے: "اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی”۔ [سورۃ التکویر: 8-9] قیامت کے دن جب اس ننھی کلی سے یہ سوال ہوگا تو ہم سب کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ میرے قلم کی سیاہی بھی آج آنسو بن گئی ہے۔ سوچتا ہوں اس ماں پر کیا گزری ہوگی جس کے آنگن کا چراغ سفید کفن میں لپیٹ کر قبر میں رکھ دیا گیا۔ یہ منظر قیامت سے کم نہیں۔

    ہم کس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ یہ خبر پڑھ کر اگلی خبر پر سکرول کر دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ "روز کا معمول” بن چکا ہے۔ جنسی ہوس ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کو درندہ بنا دیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ سامنے فرشتہ ہے، نابالغ ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ "اللہ دیکھ رہا ہے”۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر وہ اپنی ہی نسل کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔ توبہ! اللہ کی پناہ۔ جن کے ضمیر مر چکے، انہیں زندہ لاش کہنا بھی زندہ لاشوں کی توہین ہے۔ تو اب علاج کیا ہے؟ سزا کیا ہے؟ ہمارے رب نے 1400 سال پہلے ہی ہمیں راستہ دکھا دیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ نور میں ارشاد فرماتا ہے: "زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس نہ کھاؤ۔ اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہو”۔ [سورۃ النور: 2] غور کیجئے! اللہ نے سزا کے ساتھ "گواہوں کا مجمع” کیوں رکھا؟ تاکہ ایک کو سزا ملے اور ہزاروں کو عبرت۔ تاکہ ہر مجرم کو پتہ ہو کہ گناہ کے بعد چھوٹ نہیں، سزا ہے۔ اسی لیے آج ضرورت ہے کہ ہم ایسے وحشی درندوں کو سرِعام کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔ انہیں ایسی سزا دیں جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے۔ تاکہ جب کوئی گندی نظر اٹھے تو اس کے ہاتھ کانپ جائیں۔ تاکہ ہماری ننھی کلیاں، ہمارے آنگن کے چراغ محفوظ رہ سکیں۔

    اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں یا آنے والی نسلوں کے لیے دیوار بنیں؟ سب سے پہلے گھر سے شروع کریں: اپنے بیٹوں کو "مرد” نہیں "انسان” بنائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ طاقت عزت لوٹنے کے لیے نہیں، عزت بچانے کے لیے ہے۔ انہیں بتائیں کہ ہر حال میں عورت کا محافظ بننا ہے۔ غیر محرم ہو تب بھی عورت کو میری نظر سے نہیں دیکھنا۔ قرآن میں تمہیں بھی حکم دیا گیا ہے "نظریں نیچی رکھو”۔ اس حکم پر عمل کرنا ہے تب ہی معاشرہ سنورے گا۔ دوسرا نظام سے مطالبہ کریں: فوری، شفاف اور عبرتناک انصاف۔ تاکہ عدالتوں کے چکر نہ لگیں، صرف سزا کی گونج سنائی دے۔ تیسرا خاموشی توڑیں: ظلم دیکھ کر چپ رہنا بھی ظلم میں شراکت ہے۔ ایک آواز کئی کلیوں کو بچا سکتی ہے۔ میں ان تمام جنسی درندوں کے لیے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتی ہوں۔ کیونکہ وہ مر چکے ہیں۔ اور اب وہ دوسروں کو بھی مار رہے ہیں۔ یاد رکھیے: جب قوم کا ضمیر مر جائے تو قبریں ہی اس کا مقدر بنتی ہیں۔ اور جب قوم کا قانون جاگ جائے تو قبریں بند ہو جاتی ہیں۔ نوٹ: یہ کالم کسی خاص فرد، گروہ یا عمر کے خلاف نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ میرا مقصد دل آزاری نہیں اصلاح ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی اور دوسروں کی عزتوں کا محافظ بنائے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
    آمین یا رب العالمین

  • سکوت کا شور،تحریر:ایس اے شازم

    سکوت کا شور،تحریر:ایس اے شازم

    میں ہمیشہ کی طرح اپنی نائٹ ڈیوٹی پر تھی اور رات اپنی سیاہ چادر آہستہ آہستہ شہر پر تان رہی تھی۔ کھڑکی کے پار ذرد بتیوں میں نہایا ہوا شہر بظاہر زندہ دکھائی دیتا تھا مگر میرے اندر ایک عجب ویرانی بسی ہوئی تھی۔ ہال میں مکمل سکوت تھا لیکن اس سکوت کے اندر ایک ایسا شور چھپا تھا جو لمحہ لمحہ میرے وجود سے ٹکراتا رہتا تھا۔ ایسا شور جسے نہ کوئی سن سکتا تھا اور نہ میں بیان کر سکتی تھی۔
    میری کولیگ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں میں لا تعداد سوال تھے۔ آخر کار وہ خود ہی گویا ہوئی۔
    "بینا تم بدل گئی ہو۔۔۔۔!”
    اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ اس کے لہجے میں شکوے کے ساتھ ساتھ فکر بھی نمایاں تھی۔
    میں نے مسکرانے کی کوشش کی مگر بعض مسکراہٹیں صرف لبوں تک محدود رہتی ہیں، دل تک نہیں پہنچ پاتیں۔
    "وقت سب کو بدل دیتا ہے۔”
    میں نے مختصر جواب دیا.
    "نہیں؛ وقت صرف چہرے بدلتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کو حالات بدلتے ہیں اور تمہیں بھی کسی گہرے دکھ نے خاموش کر دیا ہے۔”
    میں چند لمحے خاموش رہی اور سوچنے لگی کہ شاید وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ انسان کے اندر اچانک سے سکوت نہیں چھا جاتا بلکہ اس کے اندر بہت کچھ مرتا ہے تب کہیں جا کر لفظ دم توڑنے لگتے ہیں۔
    میں کھڑکی کے قریب کھڑی ہو کر باہر کی سرد ہوا کو محسوس کرنے لگی۔ جو درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ عجیب بات ہے ناں! درخت بھی خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی خاموشی میں زندگی ہوتی ہے۔ جب کہ انسان کی خاموشی اکثر اندر سے ٹوٹ جانے کی علامت بن جاتی ہے۔
    "کیا تم جانتی ہو؟” میں نے آہستگی سے کہا؛
    "خاموشی ہمیشہ سکون نہیں دیتی بلکہ بعض خاموشیاں انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہیں۔”
    وہ غور سے میری طرف دیکھنے لگی۔
    میں نے بات جاری رکھتے ہوئے پھر سے کہنا شروع کیا۔
    "میرے اندر ایک شور بستا ہے۔ ایک ایسا شور جو کسی بازار، کسی جنگ، کسی ہجوم سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ شور ان لفظوں کا ہے جو کبھی کہے نہ جا سکے۔ ان خوابوں کا ہے جو حقیقت بننے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ ان رشتوں کا ہے جو وقت کی دھول میں کہیں گم ہو گئے۔”
    ہال میں ایک بوجھل سی خاموشی اتر آئی۔
    "تم نے کبھی کسی سے اپنے دل کی بات نہیں کی؟”
    اس نے سوال کیا۔
    میں میرے چہرے پر ہلکی سی ہنسی آئی، ایسی ہنسی جس میں خوشی کم اور تھکن زیادہ تھی۔
    "دل کی بات؟ لوگ دل کہاں سنتے ہیں؟ لوگ صرف الفاظ سنتے ہیں، احساس نہیں۔”
    وہ خاموش ہو گئی۔
    میں کرسی پر بیٹھ گئی اور نظریں فرش پر ٹکا دیں۔
    "ایک وقت تھا جب میں بھی بہت بولتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی تھی۔ لوگوں پر اعتبار کرتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ خلوص اب بھی زندہ ہے، محبت اب بھی سچی ہے اور خواب اب بھی پورے ہو سکتے ہیں۔ لیکن پھر زندگی نے حقیقت کا آئینہ دکھایا اور ایک ایک کر کے سارے بھرم توڑ دیے۔”
    "سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔”
    اس نے دھیرے سے کہا۔
    "ہاں! مگر ہر انسان ٹوٹنے کا ہنر نہیں جانتا۔ کچھ لوگ بکھر کر سنور جاتے ہیں اور کچھ خاموش ہو جاتے ہیں۔ میں شاید انہی لوگوں میں سے ہوں۔”
    باہر کہیں دور اذان کی آواز ابھری۔ اس آواز میں ایک عجب سکون تھا مگر میرے اندر کا شور پھر بھی قائم تھا۔
    میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
    "کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر ایک ویران شہر آباد ہے۔ وہاں اداسی کے سنسان راستے ہیں، یادوں کے شکستہ مکان ہیں، اور امید کے بجھے ہوئے چراغ ہیں۔ میں ہر روز ان گلیوں سے گزرتی ہوں مگر کہیں روشنی نہیں ملتی۔”
    وہ پہلی بار بےبس دکھائی دی۔
    "پھر تم زندہ کیسے ہو؟”
    میں نے ایک طویل سانس لی۔
    "انسان جینا نہیں سیکھتا، بس وقت کے ساتھ درد برداشت کرنا سیکھ جاتا ہے۔”
    خاموشی دوبارہ ہمارے درمیان آ بیٹھی۔ مگر یہ خاموشی اب پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس میں میرے دل کی بےشمار چیخیں شامل تھیں۔
    "اور یہ شور؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا؛
    "کیا کبھی ختم نہیں ہوگا؟”
    میں نے کھڑکی سے باہر پھیلے اندھیرے کو دیکھا۔ رات مزید گہری ہو چکی تھی۔
    "کچھ شور کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ انسان کے اندر دفن ہو جاتے ہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً یادوں کی صورت جاگتے ہیں۔ آنکھوں میں نمی بن کر اترتے ہیں اور دل میں ایک کسک چھوڑ جاتے ہیں۔”
    میری آواز بھرا گئی۔
    "لوگ سمجھتے ہیں خاموش انسان پُرسکون ہوتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سب سے زیادہ شور انہی لوگوں کے اندر ہوتا ہے جو کم بولتے ہیں۔”
    وہ کچھ نہ کہہ سکی۔ شاید بعض خاموشیوں کا جواب الفاظ میں نہیں ہوتا۔۔۔۔!

  • بدلتا موسم اور قوت مدافعت کی بحالی ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    بدلتا موسم اور قوت مدافعت کی بحالی ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    جب حبس زدہ گرمی کے لمبے دن رخصت ہونے لگتے ہیں اور شام کے سائے میں ایک ہلکی سی خنکی گھلنے لگتی ہے، تو بظاہر فضا بڑی دلکش اور روح پرور محسوس ہوتی ہے۔ ستمبر کا اختتام اور اکتوبر کی ابتدا برصغیر میں وہ عبوری مرحلہ ہے جب سورج کی تپش کمزور پڑنے لگتی ہے اور پنکھے کی ہوا صبح کے وقت بوجھل لگتی ہے۔ فطرت کے کینوس پر یہ تبدیلی جتنی خاموشی سے رونما ہوتی ہے، انسانی جسم کے اندر اتنا ہی بڑا تلاطم برپا کرتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگ اس رومانوی خنکی کے سحر میں کھو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ موسم کا یہ تغیر دراصل ہمارے مدافعتی نظام کے لیے ایک کڑا امتحان لے کر آتا ہے۔

    طبی نقطہ نظر سے انسانی جسم ایک انتہائی منظم خودکار کارخانہ ہے، جو اندرونی درجۂ حرارت کو ایک خاص توازن پر رکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ جب باہر کی ہوا میں نمی کم اور راتوں میں سردی بڑھنے لگتی ہے تو جسم کو بیرونی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوتی ہے۔ اگر ہمارا دفاعی نظام یا قوتِ مدافعت مضبوط نہ ہو تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے اور ہوا میں معلق نادیدہ جراثیم، وائرس اور الرجی کے عوامل فوری طور پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ ایام ہوتے ہیں جب گلے میں ہلکی سی چبھن، صبح اٹھتے ہی چھینکوں کا طوفان، سر میں بھاری پن اور جوڑوں میں ہلکا سا کھنچاؤ عام ہو جاتا ہے۔ ہم اسے محض نزلہ زکام کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ درحقیقت یہ ہمارے جسم کی طرف سے بجائی جانے والی وہ الارم کی گھنٹی ہوتی ہے جو خبردار کرتی ہے کہ بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج نڈھال ہو رہی ہے۔

    قوتِ مدافعت کی بحالی کے لیے سب سے پہلا قدم ہماری روزمرہ کی عادات میں فطری ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارا رہن سہن اب فطرت کے دائرے سے باہر نکل چکا ہے۔ ہم موسم بدل جانے کے بعد بھی فریج کے برفیلے پانی کو نہیں چھوڑتے، رات گئے تک تیز پنکھے یا اے سی کی سرد ہوا میں سوتے ہیں اور پھر علی الصبح بغیر کسی حفاظتی چادر کے باہر نکل آتے ہیں۔ پسینے میں شرابور جسم کو اچانک ٹھنڈی ہوا کا لگنا مساموں کو بند کر دیتا ہے اور حرارت اندر ہی دب کر بخار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس موسم میں نیم گرم پانی کو اپنا معمول بنا لینا گویا جسم کی اندرونی صفائی کا سب سے آسان نسخہ ہے۔ پانی جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے اور سانس کی نالیوں کی جھلیوں کو تر رکھ کر وائرس کے حملے کو بے اثر بناتا ہے۔

    غذا کے انتخاب میں توازن اور مقامی پیداوار پر بھروسہ قوتِ مدافعت کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ قدرت نے ہر موسم کے لیے جو پھل اور سبزیاں پیدا کی ہیں، ان میں اس موسم کے امراض کا قدرتی تریاق موجود ہے۔ مالٹا، مسمی اور امرود وٹامن سی کے وہ قدرتی خزانے ہیں جو خون کے سفید خلیات کو توانائی بخشتے ہیں۔ کچن کے مسالوں میں چھپی شفا کو اکثر ہم جدید ادویات کی چکا چوند میں فراموش کر دیتے ہیں۔ ادرک، دار چینی، ہلدی، لہسن اور لونگ محض کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے اجزاء نہیں بلکہ یہ سوزش کو مٹانے اور مدافعتی قوت کو بڑھانے والے نایاب اینٹی آکسیڈنٹس ہیں۔ رات کو نیم گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی ملا کر پینا یا دن کے وقت ادرک اور شہد کا ہلکا سا قہوہ استعمال کرنا پھیپھڑوں اور گلے کے لیے ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتا ہے۔ دیسی مرغ کی یخنی یا مٹن کا سوپ جسم کو وہ فوری پروٹین اور حرارت فراہم کرتا ہے جس کی کمی موسمِ سرما کی ابتدا میں سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ دوسری طرف، پروسیسڈ غذائیں، زیادہ چینی اور چکنائی والی تلی ہوئی اشیاء دفاعی نظام کی جنگی صلاحیت کو سست کر دیتی ہیں، اس لیے ان سے کنارہ کشی ہی عافیت ہے۔

    غذا کے بعد نیند اور ذہنی سکون کا عمل دخل اس بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جدید تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ گہری اور پرسکون نیند کے دوران جسم ایسے پروٹین تیار کرتا ہے جو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب ہم راتوں کو جاگ کر اسکرینوں کی نیلی روشنی میں اپنی نیند کی قربانی دیتے ہیں تو مدافعتی نظام خود بخود زنگ آلود ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے کاموں کے دوران کھلی اور صاف ہوا میں تیس منٹ کی ہلکی چہل قدمی دورانِ خون کو تیز کرتی ہے اور پھیپھڑوں میں تازہ آکسیجن بھر کر سستی کا خاتمہ کرتی ہے۔ صبح کی نرم اور ہلکی دھوپ میں چند منٹ بیٹھنا وٹامن ڈی کے حصول کا وہ قدرتی ذریعہ ہے جو ہڈیوں کے ساتھ ساتھ مدافعتی توازن کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

    اکتوبر کے بعد کی خنکی اور خشک ہوا اپنے ساتھ فضا میں دھول، مٹی اور سموگ کے خطرناک ذرات بھی لے کر آتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر اپنی قوتِ مدافعت کو خوراک، نیند اور طرزِ زندگی کے ذریعے مضبوط نہ کیا جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی موسمی تکالیف سنگین امراض کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ قدرت نے ہر انسان کے اندر خود شفا یابی کی ایک حیرت انگیز صلاحیت رکھی ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مصنوعی سہولتوں اور بے اعتدالی کو ترک کر کے اس قدرتی نظام کو کام کرنے کا موقع دیں۔ بدلتے موسم کے تیور پہچاننا اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنے معمولات کو ڈھال لینا ہی وہ دانش مندی ہے جو ہمیں دواؤں کی محتاجی سے بچا کر ایک توانا اور پُرسکون زندگی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔

  • رکی ہوئی گھڑی کے نام خط،تحریر: ماہ جبین اظہر

    رکی ہوئی گھڑی کے نام خط،تحریر: ماہ جبین اظہر

    میری پیاری رکی ہوئی گھڑی!
    سلامِ عقیدت!
    آج تمہیں اپنی کلائی پر باندھتے ہوئے دل ایک بار پھر بائیس برس پیچھے چلا گیا ہے۔ وقت گزر گیا، موسم بدل گئے، زندگی نے کئی کروٹیں لیں، مگر تم آج بھی وہیں ہو، جہاں میری زندگی کی ایک خوبصورت یاد ٹھہر گئی تھی۔ تم میرے لیے محض ایک گھڑی نہیں، میرے ابو کی محبت، ان کی شفقت، ان کی یاد اور میری زندگی کے سب سے قیمتی لمحوں کی ایک ایسی نشانی ہو، جسے وقت بھی مجھ سے جدا نہیں کر سکا۔
    مجھے آج بھی بائیس سال پہلے کا وہ دن یاد ہے، جب میں نے آٹھویں جماعت کے بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہ دن میری زندگی کے خوبصورت دنوں میں سے ایک تھا۔ کامیابی کی خوشی اپنی جگہ تھی، مگر اس خوشی کو میرے ابو کے ہاتھوں ملنے والے تمہارے تحفے نے اور بھی یادگار بنا دیا تھا۔
    میرے ابو نے مجھے ایک خوبصورت، سرخ، چمکتی ہوئی گھڑی تحفے میں دی تھی۔ مجھے تم اس قدر پسند آئیں کہ میں نے تمہیں فوراً اپنی کلائی میں پہن لیا۔ شاید مجھے بورڈ میں پوزیشن لینے کی اتنی خوشی نہیں تھی، جتنی تمہیں اپنی کلائی میں دیکھ کر ہوئی تھی، کیونکہ تم ابو کا تحفہ تھیں۔ میرے لیے تمہاری قیمت تمہاری خوبصورتی میں نہیں، بلکہ اس محبت میں تھی جو تمہارے ساتھ میرے ابو نے میرے ہاتھ میں تھمائی تھی۔
    اگلے دن جب میں اسکول گئی تو دوستوں کے سامنے تمہیں اس طرح دکھا رہی تھی، جیسے میرے پاس کوئی قیمتی خزانہ آگیا ہو۔ میں بڑے فخر سے سب سے کہہ رہی تھی، ’’یہ میری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔‘‘ اس وقت شاید مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہی گھڑی میری زندگی کی سب سے قیمتی یاد بن جائے گی، اور اس کی رکی ہوئی سوئیاں میرے لیے وقت کی سب سے بڑی گواہی بن جائیں گی۔
    اس کے بعد زندگی میں بہت سے تحفے ملے، بہت سی خوشیاں آئیں، مگر تم جیسا قیمتی کوئی نہ تھا۔
    پڑھائی کے کئی مرحلے گزرے، زندگی آگے بڑھتی رہی، شادی ہوئی، گھر بدلا، ذمہ داریاں بڑھیں، زندگی نے کئی رنگ بدلے، مگر تم کبھی میری کلائی سے جدا نہ ہوئیں۔ ایک ہاتھ کی چوڑیاں بدلتی رہیں، موسموں کے ساتھ لباس بدلتے رہے، زندگی کے انداز بدلتے رہے، مگر دوسری کلائی پر تم ہمیشہ اسی محبت سے موجود رہیں۔
    تم میری زندگی کے کئی برسوں کی خاموش ساتھی رہیں۔ میری خوشیوں کو دیکھا، میری پریشانیوں کی گواہ بنیں، میری دعاؤں کے لمحے دیکھے اور میری زندگی کے کئی خوبصورت اور مشکل دنوں کو اپنی خاموش سوئیوں میں محفوظ کرتی رہیں۔
    پھر وہ بائیس رمضان المبارک کا دن آیا، جس نے میری زندگی کا وقت ہی بدل دیا۔
    تم صبح سے کبھی رک جاتیں اور کبھی خود ہی چل پڑتیں۔ میں بار بار تمہیں دیکھتی اور پریشان ہوتی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ تم کسی آنے والے لمحے کی خبر دے رہی ہو۔ عبادات کے دوران بھی ذہن تمہاری طرف ہی جاتا رہا۔ افطاری کے وقت بھی میں تمہیں دیکھتی رہی۔ دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، مگر اس بے چینی کا سبب سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
    پھر اسی پریشانی کے ساتھ سو گئی۔
    رات کو اچانک میری آنکھ فون کی تیز آواز سے کھلی۔ دل عجیب بے چینی میں مبتلا تھا۔ میں نے گھڑی دیکھی تو وہ رک چکی تھی۔ شاید اس لمحے بھی میں یہ سمجھ نہیں پائی کہ تمہاری سوئیاں میری زندگی کے سب سے بڑے صدمے کو اپنے اندر محفوظ کر چکی ہیں۔
    میں نے فون اٹھایا تو بھائی کی روتی ہوئی آواز سنائی دی:
    ’’ابو نہیں رہے، تم فوراً آجاؤ۔‘‘
    یہ چند الفاظ تھے، مگر ان الفاظ نے میری پوری دنیا بدل دی۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا۔ ابو ٹھیک تین بج کر پچاس منٹ پر دنیا سے رخصت ہوئے تھے، اور تم بھی اسی وقت رک گئی تھیں۔
    اس لمحے سے میرے لیے وقت کی تعریف ہی بدل گئی۔ دنیا کے لیے گھڑی کی سوئیاں رک گئی تھیں، مگر میرے لیے ایک پورا زمانہ وہیں ٹھہر گیا تھا۔ ابو چلے گئے، مگر ان کی محبت، ان کی آواز، ان کی شفقت اور ان کی یادیں میرے اندر ہمیشہ کے لیے زندہ رہ گئیں۔ اور تم… تم اس آخری لمحے کی گواہ بن کر میری کلائی پر موجود رہیں۔
    میں نے تمہیں اتار کر ایک سال تک سنبھال کر رکھا۔ شاید تمہیں دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، شاید ہر بار تمہاری رکی ہوئی سوئیاں مجھے اس حقیقت کی طرف لے جاتی تھیں جسے قبول کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ مگر پھر ایک دن میں نے تمہیں دوبارہ اپنی کلائی میں باندھ لیا۔
    اب جب کوئی پوچھتا ہے کہ تمہیں ٹھیک کیوں نہیں کرواتیں تو میں خاموش سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہوں:
    ’’یہ گھڑی میرے ابو کے جانے کے وقت رکی ہے، اسے ٹھیک کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ یہ سب قدرت کی طرف سے ہے۔‘‘
    لوگوں کے لیے شاید ایک گھڑی کا رک جانا معمولی بات ہو، مگر میرے لیے یہ ایک یاد کا ٹھہر جانا ہے۔ میں تمہاری سوئیوں کو دوبارہ چلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی، کیونکہ ان کا رک جانا میرے ابو کی آخری یاد سے جڑا ہوا ہے۔
    اے میری پیاری رکی ہوئی گھڑی!
    تم میرے لیے گزرے ہوئے وقت کی نشانی نہیں، بلکہ میرے ابو کی محبت کا آخری لمس ہو۔ تمہاری خاموشی میں مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے، تمہاری رکی ہوئی سوئیوں میں ان کی یاد دھڑکتی محسوس ہوتی ہے اور تمہیں اپنی کلائی پر باندھ کر یوں لگتا ہے جیسے میرے ابو کی محبت آج بھی میرے ساتھ سفر کر رہی ہے۔
    تم اسی طرح رکی ہوئی میری زندگی کے سفر کی ساتھی رہو گی۔ تمہاری سوئیاں شاید وقت کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکیں، مگر تم سے جڑی یادیں میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
    وقت گزر جائے گا، سال بدل جائیں گے، میری زندگی کے سفر میں نہ جانے کتنے اور موسم آئیں گے، مگر تمہارے لیے میرے دل میں موجود محبت کبھی کم نہیں ہوگی۔ کیونکہ تم صرف ایک گھڑی نہیں، میرے ابو کی محبت کی وہ نشانی ہو جسے میں اپنی آخری سانس تک اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں۔
    جب تک میری سانس جسم کا ساتھ نہ چھوڑ دے، تم اسی طرح رکی ہوئی میری زندگی کے سفر کی ساتھی رہو گی۔
    تمہاری برسوں کی ساتھی

  • کیا مصنوعی ذہانت انسانیت پر غالب  آجائے گی؟ تحریر:شمسہ رانی

    کیا مصنوعی ذہانت انسانیت پر غالب آجائے گی؟ تحریر:شمسہ رانی

    کبھی کبھی مستقبل کسی خوفناک دستک کی طرح دروازے پر ا کھڑا ہوتا ہے. ہم دروازہ کھولتے ہیں. تو سامنے کوئی اجنبی نہیں ہماری اپنی بنائی ہوئی دنیا کھڑی ہوتی ہے . آج مصنوعی ذہانت بھی کچھ ایسے سوالوں کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے. سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی حیرت انگیز ہے .سوال یہ ہے کہ ہم اسے کہاں تک اختیار دیں گے اور کس مقام پر انسانیت اختیار کی حد قائم رکھیں گے؟

    ذرا تصور کیجئے ایک صبح آپ کی آنکھ کھلے اور دنیا بظاہر وہی ہو .مگر اس کے فیصلے بدل چکے ہوں. آپ کسی سے رابطہ کرنا چاہیں تو جواب انسان کے بجائے ذہین نظام دے۔ بینک میں اپ کی مالی معاملات کا فیصلہ الگو ر تھم کرے ،ہسپتال میں علاج کے ا مکانات مشین طے کر ے،عدالتوں میں فیصلوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے ، کارخانے، بجلی کے نظام، ہوائی اڈے اور دفاعی تنصیبات خودکار نظاموں کے تابع ہوں ۔بظاہر سب کچھ اسان، تیز اور منظم ہو ،مگر سوال یہ ہو کہ فیصلہ ا خر انسان کر رہا ہے یا وہ نظام جسے انسان نے فیصلہ کرنے کی طاقت دے دی ہے؟
    یہ کوئی فلمی منظر نہیں دنیا واقعی اس سمت بڑھ رہی ہے۔

    چند برس پہلے مصنوعی ذہانت صرف ہمارے سوالوں کے جواب دینے تک محدود محسوس ہوتی تھی۔ پھر اس نے تصویریں بنانا سیکھا، ویڈیو تخلیق کرنے لگی، پروگرام لکھنےلگی ،تحقیق میں مدد دینے لگی اور پیچیدہ کاموں کی منصوبہ بندی کرنے لگی ،اب ایسے اے ائی ایجنٹس بھی تیار ہو رہے ہیں ۔جو مختلف کمپیوٹر ٹولز استعمال کر کے نسبتاً خود مختار انداز میں کئی مراحل پر مشتمل کام انجام دے سکتے ہیں۔ یہ ترقی بلا شبہ انسانی ذہانت کی ایک شاندار توسیع ہے ،مگر ہر بڑی طاقت اپنے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔
    اصل تشویش یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
    اگر کسی انتہائی طاقتور نظام کو ایک مقصد دیا جائے وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسے راستے اختیار کر ے جن کا انسان نے تصور بھی نہ کیا ہو تو کیا ہوگا؟

    اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے فرض کیجیے کسی مشین کو حکم دیا جائے کہ ایک کمرہ ہر حال میں صاف رہنا چاہیے ایک عام مشین جھاڑو دے گی۔ لیکن اگر انتہائی خودکار نظام صرف کمرہ صاف رکھنے کے مقصد کو سمجھتا ہو اور انسانی مصلحت کو نہ سمجھتا ہو، تو وہ شاید یہ نتیجہ نکالے کہ کمرے میں گندگی پیدا ہی نہ ہونے دی جائے اور لوگوں کی آمد و رفت روک دی جائے، دروازہ بند کر دیا جائے، یا ایسے اقدامات کیے جائیں جو صفائی کے مقصد کو تو پورا کر یں مگر انسان کی آزادی اور ضرورت کو نظر انداز کر دیں۔
    یہ صرف ایک مثال ہے، مگر مصنوعی ذہانت اس بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔مشین کو مقصد دینا آسان ہے، مگر انسانی نیت سمجھانا مشکل۔
    بینکینگ کے نظام میں اگر مصنوعی ذہانت کو صرف مالی نقصان روکنے کا ہدف دے دیا جائے تو کیا ہوگا ؟ کیا وہ ہر مشکوک سرگرمی کو خطرہ سمجھ کر عام صارف کے لیے مشکلات پیدا نہیں کر سکتی؟
    ہسپتال میں اگر کسی نظام کو صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر کامیابی کے امکانات دیکھنے کی تربیت دی جائے تو کیا ا نسانی ہمدردی، مریض کی خواہش، و زندگی کی قدر بھی اسی پیمانے پر ناپی جا سکے گی؟
    اور اگر یہی خودکار فیصلہ سازی دفاعی نظاموں تک پہنچ جائے تو ایک غلط تجزیہ محض ایک غلط جواب نہیں رہے گا، اس کے اثرات انسانی جانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اے ائی سیفٹی پر تحقیق ہو رہی ہے ۔بعض کنٹرولڈ تجربات میں جدید ماڈلز نے ایسے رویوں کے امکانات دکھائے ہیں۔ جن میں وہ اپنے دیے گئے مقصد کو برقرار رکھنے یا رکا وٹوں سے بچنے کے لیے غیر متوقع راستے اختیار کرتے ہیں ۔تاہم ان تجربات کو حقیقی دنیا میں اے ائی کے انسانوں پر قبضے کا ثبوت سمجھنا درست نہیں۔موجودہ اے ائی نظاموں کے بارے میں یہ دعوی کرنا بھی سائنسی طور پر درست نہیں کہ وہ شعوری طور پر انسانیت کو ختم کرنے یا دنیا پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اصل خطرہ شاید اس سے کہیں زیادہ خاموش ہے۔
    انسان کا اپنی عقل ،اختیار، اور ذمہ داری اہستہ اہستہ مشین کے حوالے کر دینا۔
    ہم ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہو کر اسے روک نہیں سکتے۔ لیکن اسے بے لگام چھوڑنا بھی دانشمندی نہیں۔ ہمیں ایسی مصنوعی ذہانت درکار ہے جو انسان کی معاون ہو، اس کی حاکم نہیں۔ جو فیصلے میں مدد دے، مگر اخری اخلاقی ذمہ داری انسان کے ہاتھ میں رہے۔جو رفتار دے، مگر ضمیر کا مقام نہ لے۔
    کیونکہ مشین کے پاس معلومات بہت ہو سکتی ہیں ۔مگر معلومات اور حکمت ایک چیز نہیں ۔وہ ہزاروں امکانات کا حساب لگا سکتی ہے۔ مگر انسانی انکھ میں ٹھہرا ہوا ایک انسو کسی الگو رتھم سے کہیں زیادہ معنی رکھتا ہے۔
    شاید مستقبل میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں سے زیادہ ذہین ہو گئی یا نہیں۔
    اصل سوال یہ ہوگا کہ انسان نے اپنی ذہانت کا کتنا حصہ خود محفوظ رکھا؟
    اگر ہم نے مصنوعی ذہانت کو اخلاق، قانون ،انسانی نگرانی اور واضح حدود کے ساتھ استعمال کیا تو یہی ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج ،سائنسی تحقیق، تعلیم اور انسانی ترقی میں ایک عظیم معاون بن سکتی ہے۔
    لیکن اگر ہم نے سہولت کی خاطر فیصلہ سازی کی اپنی ذمہ داری بھی مشین کے حوالے کر دی تو خطرہ کسی ایک دن اچانک ہمارے دروازے پر نہیں ائے گا۔ وہ شاید بہت خاموشی سے ہماری روزمرہ زندگی میں داخل ہو چکا ہوگا۔
    اور پھر ہمیں یہ سوچنے کا موقع بھی شاید نہ ملے کہ ہم نے مشین کو انسان کی مدد کے لیے بنایا تھا یا اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے
    مصنوعی ذہانت کا مستقبل ابھی لکھا نہیں گیا قلم ابھی انسان کے ہاتھ میں ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس قلم سے مستقبل کیسا لکھتے ہیں۔

  • نیکٹا کادہشت گردی کے خلاف ایک نیا عزم،تحریر: جان ایم رمضان

    نیکٹا کادہشت گردی کے خلاف ایک نیا عزم،تحریر: جان ایم رمضان

    پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کی مضبوط قیادت، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت فیصلے غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔

    جنرل فیصل نصیر کے نیکٹا کی کمان سنبھالنے کے بعد قومی سلامتی کے حلقوں میں یہ تاثر نمایاں ہوا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ریاستی حکمتِ عملی میں مزید فعالیت پیدا ہوئی ہے۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ ان کی آمد کے بعد فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر پر دباؤ بڑھا ہے اور ان کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی محسوس ہوئی ہے۔تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف کسی ایک شخصیت یا ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس نظام، انتظامیہ اور عوام کے مشترکہ عزم کا تقاضا کرتی ہے۔ کامیابی اسی وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اس کے سہولت کاروں، مالی معاونت، انتہاپسندانہ بیانیے اور منظم نیٹ ورکس کا بھی مؤثر سدباب کیا جائے۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہماری افواج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ اس لیے قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا وقت کی ضرورت ہے۔جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا میں ذمہ داری کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اگر قومی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور قانون کے مطابق کارروائی مضبوط ہوتی ہے تو دہشت گرد تنظیموں کے لیے پاکستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا یقیناً مشکل ہو سکتا ہے۔آج پاکستان کو ایسے ہی قومی عزم کی ضرورت ہے جس میں ریاست واضح پیغام دے کہ ملک کی سلامتی، عوام کی جان و مال اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    فتنہ کوئی بھی ہو، اس کا مقابلہ ریاستی طاقت کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔پاکستان امن چاہتا ہے، مگر امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان زندہ باد۔