Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلوچستان پاکستان کی جان،دشمن ہو گا ناکام،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان پاکستان کی جان،دشمن ہو گا ناکام،تحریر:جان محمد رمضان

    کچھ سرزمینیں صرف مٹی نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی غیرت، تاریخ، قربانیوں اور مستقبل کی علامت ہوتی ہیں۔ بلوچستان بھی ایسی ہی مقدس دھرتی ہے جس کے پہاڑ شہادتوں کے امین ہیں، جس کی وادیاں وفاداری کی خوشبو سے مہکتی ہیں، اور جس کے باسی ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ چند دنوں میں بلوچستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ معصوم شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی سازش کی گئی۔ لیکن دشمن شاید یہ بھول گیا کہ یہ وہ قوم ہے جو شہادتوں سے کمزور نہیں، بلکہ مزید مضبوط ہوتی ہے۔جن جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، وہ اس وطن کی سلامتی کے امین تھے۔ ان کے لہو کی ہر بوند اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کی سرحدیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، حوصلے اور قربانی سے محفوظ ہیں۔دہشت گرد چاہے کسی بھی نام، کسی بھی نظریے یا کسی بھی سرپرستی کے ساتھ آئیں، ان کا انجام ہمیشہ شکست اور رسوائی ہی ہوگا۔ معصوم جانوں کا خون بہانے والے کبھی کسی قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ جو عناصر نفرت، خوف اور انتشار کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں، تاریخ انہیں کبھی عزت نہیں دیتی۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا مقصد صرف ایک ہے، اس ملک کی ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا۔ مگر دشمن شاید اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ یہ وطن کلمۂ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایمان، قربانی اور مشترکہ قومی عزم ہے۔ ایسے نظریے کو نہ بارود جھکا سکتا ہے، نہ پروپیگنڈا مٹا سکتا ہے۔بلوچستان پاکستان تھا، پاکستان ہے، اور ہمیشہ پاکستان رہے گا۔ اس دھرتی کو نفرت کی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بلوچستان کے پہاڑوں میں پاکستان کی محبت گونجتی ہے، اس کے صحراؤں میں سبز ہلالی پرچم کی شان لہراتی ہے، اور اس کے نوجوانوں کے دل وطن کی محبت سے دھڑکتے ہیں۔

    اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کی مکاریوں،افغانستان کی عیاریوں، بیرونی سازشوں، دہشت گردی یا خونریزی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے ہر آزمائش کا سامنا صبر، اتحاد اور قربانی سے کیا ہے۔ ہر شہید کا خون اس وطن کی جڑوں کو مزید مضبوط کرتا ہے، کمزور نہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے شہداء کو سلام پیش کریں، بلوچستان کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، اور ہر اس آواز کو مسترد کریں جو پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہم اپنے وطن، اپنی سرزمین اور اپنی آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے متحد رہیں گے۔

    پاکستان زندہ باد۔
    بلوچستان پائندہ باد۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز کو ہر داخلی و خارجی سازش سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔

  • لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟
    بعض پولیس افسر سازش پر اترآئے، اپنے ہی ادارے کی بدنامی کا سبب بننے لگے
    ملک کو بدنام کرنے ،اداروں کو متنازع بنانے اور بغیر ثبوت الزام تراشی بند کی جائے
    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی امن کیلئے جو کردار اداکیا ،وہ کسی ڈھکا چھپا نہیں
    وزیراعلیٰ پنجاب نے ہمیشہ میرٹ کو ترجیح دی ،اس کیس میں بھی میرٹ نظر آیا ،پھر تنقید کیوں؟
    لاہور کے افسوسناک واقعے پر بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسی قسم کی مداخلت کی نہ نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نہ ہی کسی اور حکومتی شخصیت نے تحقیقات پر کوئی دباؤ ڈالا ، پولیس نے مقدمہ درج کیا، تحقیقات کا آغاز کیا، گرفتاریاں کیں اور قانونی کارروائی اپنے راستے پر چل رہی ہے،ایسے میں ضروری ہے کہ حقائق کو سامنے رکھا جائے اور بے بنیاد الزامات یا سیاسی مقاصد کے تحت چلائی جانے والی مہمات سے گریز کیا جائے، اگر قانون حرکت میں آ چکا ہے تو پھر سوشل میڈیا پر مسلسل شور شرابا، کردار کشی اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟اطلاعات ہیں کہ پولیس کے اندر بعض عناصر اپنی پسند کی پوسٹنگ یا ترقی کے حصول کے لئے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بعض افراد کو استعمال کر کے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف ادارے کے وقار کے خلاف ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہے،ان افسران سے گزارش ہے کہ ذاتی مفادات، گروہی سیاست یا بہتر پوسٹنگ کی خواہش کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دیں،پاکستان پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ملک کو بدنام کرنے، اداروں کو متنازع بنانے اور منتخب قیادت پر بغیر ثبوت الزامات لگانے کے بجائے قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اورنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کسی بھی عوامی عہدے دار پر الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے، خصوصاً اسحاق ڈار نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ حکومتِ پنجاب کی ذمہ داری بھی قانون کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانا ہے، اس لئے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لئے ملک، اداروں اور منتخب نمائندوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا کسی طور قومی خدمت نہیں،آئیے اختلاف ضرور کریں، تنقید بھی کریں، لیکن حقائق، قانون اور قومی ذمہ داری کے دائرے میں رہ کر

  • مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں، جبکہ شخصیات عارضی اور ادارے دائمی حیثیت رکھتے ہیں

    پاکستان کی خارجہ اور دفاعی کامیابیاں قومی اداروں، پاک فوج اور مؤثر سفارت کاری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں

    ملکی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد اور ریاستی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر حالات کا جائزہ لیں۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے اداروں کو مضبوط بناتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کیا، ان سے نمٹنے میں ہمارے قومی اداروں، پاک فوج اور سفارتی محاذ پر کام کرنے والوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک آج اپنے مفادات کے تحت نئے فیصلے کر رہے ہیں اور کسی ایک ملک کی بالادستی کو بلا چون و چرا تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی قوت اس کی قومی یکجہتی، مضبوط ادارے اور مؤثر خارجہ پالیسی ہے۔

    ملک کے اندر بھی سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ وفاق اور صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ایسے وقت میں نفرت، انتشار اور بے یقینی پھیلانے کے بجائے قومی استحکام، معاشی بہتری اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
    تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ شخصیات آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر ادارے باقی رہتے ہیں۔ مضبوط ادارے ہی ریاست کی بنیاد، استحکام اور بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔ تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن تنقید اگر اصلاح کے بجائے انتشار کا ذریعہ بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔

    پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت، ذمہ داری اور قومی شعور کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط، اپنی سیاست کو باوقار اور اپنی قومی ترجیحات کو واضح رکھا تو کوئی طاقت پاکستان کی ترقی اور استحکام کے سفر کو روک نہیں سکے گی۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا راستہ ہے۔

  • مخالف مزاج مشغلوں کی تھکن سے باہر نکلیں!تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مخالف مزاج مشغلوں کی تھکن سے باہر نکلیں!تحریر: ظفر اقبال ظفر

    تھکن کی ایک بڑی وجہ بوریت ہوتی ہے۔مصدقہ حقیقت ہے کہ جذباتی مشقت کی بجائے تھکن پیدا کرنے میں عام طور پر جذباتی رویے کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔جب آپ اپنے من پسند کام میں مشغول نہ ہوں تو بوریت تھکن پیدا کرتی ہے۔جب ہم کوئی دلچسپ اور سنسنی خیز کام کررہے ہوتے ہیں تو تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔جیسے میں قدرتی خوبصورتی سے لبریز علاقے میں سرسبز پہاڑوں کے اوپر پڑی برف سے کھیلتا درختوں سے پھل توڑتا ٹوکریاں اور پیٹ بھرتا چشموں کا پانی جسم کے اوپر اور اندر اُتارتا گاس کے بیچ میں پھولوں سے باتیں کرتا ان کی خوشبو کے جواب سنتا ہواؤں کی لہروں میں گھلی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا لیکن میں آٹھ دس گھنٹوں کی اس مسلسل جدوجہد سے تھکتا کیوں نہیں؟اس لیے کہ میرے جذبات میں ہلچل مچی ہوتی ہے اور میری رُوح شگفتگی کے احساس سے مخمور ہوتی ہے مجھے زندگی جینے کی ایک اعلیٰ کامیابی کا احساس ہوتا ہے۔
    آپ جس فن میں ماہر ہوں اگر ا س میں مداخلت و خلل پیدا کر دیئے جائیں تو بنا کام نپٹائے آپ تھکاوٹ سے چور ہو کر بستر آرام پہ پہنچ جاتے ہیں اور اگلے روزسازگار ماحول میں آپ گذشتہ دن کی نسبت زیادہ کام کرکے بھی کھلی کلی کی طرح تازہ اور شگفتہ تھے۔اس دو طرح کے عمل سے گزرنے کے بعد ہم اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں کہ اکثر اوقات کام کی زیادتی نہیں بلکہ پریشانی تلخی اور انتشار ہمیں تھکا دیتے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو وہی کام کرتے ہیں جو ان کی طبیعت کے موافق ہوتا ہے کیونکہ انہیں زیادہ قوت و خوشی میسر ہوتی ہے اور کم پریشانی اور کم تھکاوٹ۔جہاں آپ کی دلچسپی ہو وہیں آپ کی قوت بھی بیدار رہتی ہے۔ایک جھگڑالو بیوی کے ساتھ دس قدم چلنا دل نواز محبوبہ کے ساتھ دس میل چلنے کی نسبت زیادہ تھکا دیتا ہے۔

    تبدیل شدہ زہنی رویے کی قوت کا یہ معاملہ میرے لیے ایک بے حد اہم دریافت ہے اس نے معجزے دیکھائے ہیں وہ کام جس میں آپ کو دلچسپی ہے اس کا م کو بھی دلچسپ بنا دے گا یہ آپ کی تھکاوٹ،آپ کی جذباتی کشمکشوں اور آپ کی پریشانیوں کو بھی دُور کر دے گا۔میں نے ایک فیصلہ کیا جس نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی جب میں نے ایک غیر دلچسپ کام کو دلچسپ بنانے کا تہیہ کیااور اس عمل میں اپنی ذات، اپنی سوچ، اپنے حالات پر پڑنے والے اثرات کو نوٹ کرتا چلا گیا اور جب یہ عمل مکمل کر چکا تو اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اسباق کو مشاہدوں کے صفات پر حقائق کے قلم سے قلمبند کرکے آپ کے سامنے اس تحریر کی صورت میں پیش کرنے آ گیا۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس ناخوشگوار حالات سے گزر کر اس کو خود پر آزما لیں یا میری کارگزاری پہ یقین کرتے ہوئے اپنی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لیے مواقف و دلچسپ راستوں کا انتخاب کر لیں۔اسی تناظر میں ایک مشورہ مطالعے کے دسترخوان پر رکھے دیتا ہوں ہو سکتا ہے آپ کا زہن چکھے تو دل کے معدے میں اتار لے اورآپ صحت مند جینے سے لطف اندوز ہو جائیں۔
    جو لوگ بھی دنیا میں ترقی و کامیابی حاصل کرنے کے آرزومند ہیں وہ ہر روز اپنے بل بوتے پر کا م کرنے کی کوشش کریں۔اپنے آپ کو نیم خوابی سے بیدار کریں اس سے باہر نکلنے کے لیے جسمنانی ورزش سے شروع کرتے ہوئے زہنی ورزش تک آنا پھر یہاں سے رُو حانی ورزش تک پہنچنا ہے تاکہ درست سوچنے سمجھنے کے لیے صحت مند دماغی و رُوحانی جسمانی قوت کے استعمال سے کامیابی تک پہنچاجائے۔جب کسی انسان پر ناکامی قبضہ کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل ماری جاتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے میں ہر طرف اندھیرے پھیلے ہوتے ہیں اور یو ں وہ مایوسی و ناکامی میں جکڑ کر رہ جاتا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی عقل سے سارے روشن راستے بھی نکلتے ہیں۔جیسے قدرت کسی کو نوازنا چاہتی ہے تو اس کی عقل کے در کھول دیتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے اور کرنے کے عمل میں سارے فوائد چھپے ہوتے ہیں جسے وہ پا لیتا ہے اور جیسے قدرت ڈبونا چاہتی ہے اس کی عقل مار دیتی ہے وہ مفید سوچوں اور عملوں سے دُور ہو جاتا ہے۔اس نقص کو رُوحانی ورزش سے دُور کیا جاتا ہے۔ہر روز اپنے آپ سے مستعدی اور استقلال کی مفید گفتگو کیا کریں انسان اپنے آپ کا مخلص دوست بھی ہونا چاہیے۔کیا ہر روز اپنے آپ سے استقلال کی گفتگو کرنا کوئی سطحی،احمقانہ اور بچگانہ حرکت ہے؟اس کے برعکس یہ تو نفسیات کا درست نچوڑ ہے۔ہمارے خیالات ہی ہماری زندگی کی ترتیب و منازل کا تعین کرتے ہیں۔روزانہ مخصوص اوقات کار میں اپنے آپ سے گفتگو کرکے جرات،مسرت،قوت،امن و خوشحالی کے خیالات سوچنے سے تنہائی کا خالی پن ہی دُور نہیں ہوتا بلکہ مصروفیات کی عملی تیاری بھی ملتی ہے اپنے آپ کا حوصلہ بن کر رہیں ناکامی و مایوسی کے خیالوں کا راستہ روکنے کے لیے بلند فضاؤں میں پرواز کرتے اور چہچہاتے خیالوں کی موجودگی یقینی بنائے رکھیں۔

    مفید قسم کے خیالات سوچنے سے آپ اپنے کام کی ناگواری اور بے لطفی کو کم کر سکتے ہیں۔اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ آپ زندگی سے جو لطف و خوشی حاصل کرتے ہیں آپ میں دلچسپی اس کی مقدار کو دوگنا کر سکتی ہے کیونکہ آپ اپنی بیداری کے نصف اوقات کار اپنے کام میں صرف کرتے ہیں۔یاد رکھیے اگر آپ کو یہاں سے خوشی نہیں مل رہی تو پھر کہیں نہیں مل سکتی۔اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ اپنے دلچسپ کام میں مصروف رہنے سے آپ کے دماغ سے پریشانیاں ہوا ہو جائیں گئیں بالآخر آپ کی ترقی آپ کی دولت میں اضافے کا موجب بنے گی اگر ایسا نہ بھی ہو تو آپ کی تھکاوٹ گھٹ کر کم رہ جائے گئی اور لمحات لطف اندوز بنیں گئے۔جذباتی رویوں کی تھکن سے بچنے کے لیے موافق مشغلوں میں مصروف عمل رہیں

  • بدلتا موسم سلگتا پاکستان،تحریر:قرۃالعین خالد

    بدلتا موسم سلگتا پاکستان،تحریر:قرۃالعین خالد

    پانچ دریاؤں کے جھرمٹ میں چار موسموں کے سنگ سجا میرا پیارا پاکستان، دنیا کے نقشے میں چار چاند لگائے ہوئے موجود ہے۔ جیسے سہیلیوں، سکھوں کے جھڑمٹ میں سجی نئی نویلی کوئی دلہن ہو جو اپنے سولہ سنگھاروں کے ساتھ سامنے والے کی نظروں کو حیران کر دے، ایسا ہے میرا پاکستان۔ دنیا کے نقشے میں خوش قسمت ترین ملک جہاں پانچ دریاؤں کے سنگم میں چاروں موسموں کا سکون بستا ہے۔ وطن عزیز عطائے قدرت ہے، جس کی ہم نے قدر نہ کی۔ یہ ہمارے لیے ڈرنے کا مقام ہے کہ جب قدرت کی دی گئی نعمتوں کی قدر نہ کی جائے تو قدرت نعمتوں کو چھین لینے پر بھی قادر ہوتی ہے۔ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہم قدرت کے اس انعام کی قدر کھو چکے ہیں۔ چاروں موسم ہم سے روٹھ چکے ہیں سردیاں تو بس چند دنوں، چند ہفتوں کی مہمان بن کر آتی ہیں اور پلک جھپکتے ہی ہمیں اداس کر کے چلی جاتی ہیں۔ موسم بہار تو جیسے ہم سے روٹھ ہی گیا ہو۔ موسموں کا روٹھ جانا بھی کہیں قدرت کی ناراضی تو نہیں؟ یہ درخت، یہ پیڑ پودے، یہ سب دھرتی کا حسن ہی تو ہیں۔ ہم نے ان کو جب سے کاٹنا شروع کیا ہے تب سے ہم نے آفات کو اپنے گھر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اب تو سال کے بارہ مہینوں میں سے زیادہ تر حصہ تپتی ہوئی دھوپ، شدید ہیٹ ویوز اور جھلسا دینے والی گرمی کی نظر ہو جاتا ہے۔ موسموں کا بدلتا ہوا یہ گرم مزاج کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ آگ برساتا آسمان، یہ تپتی ہوئی زمین، یہ لو کے تھپیڑے کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ قدرت کی طرف سے وہ خاموش دستک ہے جو ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ جسے ہم نے اگر نہ سمجھا تو آنے والا وقت ہمارے لیے بڑے تباہ کن ماحولیاتی بحران کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، غیر متوقع بارشیں، شہروں میں سیلابی صورتحال اور ہڈیوں کو پگھلا دینے والی شدید گرمی کی لہریں یہ سب کوئی کتابی باتیں نہیں بلکہ وطن عزیز کی موجودہ موسمی صورتحال کا نقشہ ہے جو کہ بہت تلخ مگر حقیقت ہے۔ عالمی سطح پر کاربن گیسوں کے اخراج میں وطن عزیز ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا سامنا کرنے والے ممالک میں وطن عزیز صف اول میں کھڑا ہے۔ ماحولیات کا یہ بحران اب صرف کتابی موضوع نہیں رہا بلکہ ہمارے موجودہ حالات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر براہ راست حملہ آور ہو چکا ہے۔ ہم تو اپنی زندگی گزار چکے ہیں مگر آنے والی نسلوں کے لیے ہم نے ڈھیروں مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ یہ واقعی تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز ایک ایسے ماحولیاتی بحران کا شکار ہے جہاں موسموں کا کوئی قابل بھروسہ شیڈیول نہیں ہے۔ شمالی علاقہ جات کے گلیشیئرز جو ہمارے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہیں وہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کبھی تو ندی نالوں میں اتنا پانی آ جاتا ہے کہ سیلابی ریلوں کو روکنا ناممکن نظر آتا ہے اور یہ بے رحم سیلابی ریلے دیہاتوں کے دیہات اپنے ساتھ بہا کر لے جاتے ہیں۔ پانی بی بھلا کبھی کسی پر رحم کھاتا ہے۔ یہ نا صرف گھروں کو بہا کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے بلکہ وہاں موجود مکینوں کی امنگوں، خوشیوں، خوابوں اور زندگی کے رنگوں کو بھی ملیامیٹ کر دیتا ہے۔ موسموں کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہماری زراعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ وطن عزیز جو دنیا کے نقشے پر ایک ذرعی ملک کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ مستقبل قریب میں شاید موسموں کی بے رحمی کا شکار ہو جائے۔ ابھی تو ہم نے اپنے ہم وطنو کو رہائشی اور چند سہولیات زندگی کے بحران کا شکار ہوتے دیکھا ہے لیکن اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو موسموں کا تغیر مستقبل میں ہمارے لیے خوراک کا ایک نیا بحران کھڑا کر سکتا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ اس تباہی کا قصوروار کون ہے؟ کیا یہ قدرتی آفات ہیں؟ یا یہ سب ہماری اپنی لاپرواہیوں کا نتیجہ ہے۔
    سوچیے۔۔۔۔۔ لمحہ بھر کو سوچیے ۔۔۔۔۔ کہ موسمی بحران کی ذمہ داری صرف عالمی حالات ہیں یا قدرت کا بدلتا مزاج؟ اگر ہم ایمانداری سے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس ماحولیاتی تباہی میں بڑا ہاتھ ہماری اپنی غفلت کا ہی ہے۔ ہم نے ماڈرن طرز زندگی، مادی ترقی اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر قدرتی شاہکاروں کا، ہرے بھرے درختوں کا، زرخیز زمینوں کا بے دریغ قتل عام کر دیا ہے۔
    جہاں کبھی درختوں کی چھاؤں میں ہمارے اپنے سکون لیتے تھے۔
    جہاں گھنے درختوں کی ٹہنیوں پر جھولے سجتے تھے۔
    جہاں گھنے درخت گرمی کی شدت کو کم کرتے تھے۔
    جہاں درختوں کے سائے کے نیچے سنگی ساتھی آپس میں مل بیٹھتے تھے۔
    جہاں پودوں پر لگے پھولوں سے فضائیں معطر ہو جاتی تھیں۔
    جہاں پھولوں پر سے تتلیاں رس چوستی تھیں۔
    جہاں شہد کی طرح رشتے خالص اور میٹھے ہوا کرتے تھے۔
    جہاں سب کے دکھ سب کے سکھ سانجھے ہوا کرتے تھے۔
    جہاں گھنے درختوں کے سائے تلے محبتیں پروان چڑھتی تھیں۔
    وہاں اب پتھروں اور کنکریٹ کے مکان تعمیر ہو چکے ہیں۔ پتھروں کے نہ جذبات ہوتے ہیں اور نہ احساسات ہوتے ہیں۔
    شاعر نے کیا خوب کہا ہے اس بارے میں

    کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کر گرا ہے۔
    چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے۔
    اور باقی رہی سہی کسر پلاسٹک کے بے تحاشہ استعمال نے پوری کر دی ہے۔ پلاسٹک کے شاپرز کے بے دریغ استعمال نے ندی نالوں کے پانی کو روک رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے معمولی بارش بھی سیلاب کا روپ دھاڑ لیتی ہے۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نعمتوں کی ناقدری کرنے والے لوگ ہیں۔ روزانہ پینے کا پانی ہم بڑی بے دردی سے ضائع کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جانتے بوجھتے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔ اس بات سے باہر نکل آئیں کہ موسمی تبدیلیوں اور سیلاب کے ریلوں کا قصوروار کون ہے بلکہ اس بات پر توجہ دیں کہ ہم اس بحران سے باہر کیسے آ سکتے ہیں؟ ہم نے ایک ہی کام پکڑ لیا ہے کہ اپنی ہر کمزوری کے لیے ہم قصور وار حکومت کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ اگر حکومتی سطح پر کام کیے جائیں تو نتائج زیادہ اچھے مرتب ہوتے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔ ہمیں تو اپنے حصے کی شمع جلانی ہے۔ آگے بڑھیے۔۔۔۔ آج ہم اکیلے کھڑے ہوں گے تو کل ہمارے ساتھ معاون کھڑے ہوں گے۔ رب العزت کسی کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتے اب وہ وقت آ گیا ہے کہ دوسروں کی غلطیاں گنوانے کی بجائے خود میدان عمل میں اترا جائے اور حکومتی پالیسیوں اور سیمینارز پر انحصار کرنے کی بجائے اب ہمیں بطور زندہ قوم، بطور فرد خود قدم اٹھانا ہے کیونکہ ہم نے کسی کے اعمال کا حساب نہیں دینا صرف اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ درختوں کا قتل عام کرنے کی بجائے ان کو زندگی دینی ہے۔ درخت لگانے ہیں۔ اگر ہم میں سے ہر انسان اپنے اپ سے ایک وعدہ کرے کہ ہر سال میں ایک درخت لگانا ہے۔ اس کا خیال رکھنا ہے۔ اس کی دیکھ بھال ایک ننھے بچے کی طرح کرنی ہے۔ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنا ہے۔ پانی کی ہر بوند کو نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرنی ہے۔ اس کو سنبھال کر رکھنا ہے۔ یاد رکھیے! زمین رب کی عطا کردہ نعمت ہے۔ جب نعمتوں اور ان سے وابستہ اشیاء کا خیال نہ رکھا جائے تو نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ اگر ہم قدرت کی طرف سے آئے اشاروں کو نہ سمجھیں گے اور اپنے رویوں کو نہ بدلیں گے تو آنے والی نسلوں کے مجرم ہوں گے اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ نعمتوں کی قدر کیجیے نعمتوں کا حساب ہونا ہے۔

  • مالدیپ و پاکستان کی سرزمین کا روشن چراغ الشیخ اسماعیل محمد المالدیپی،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    مالدیپ و پاکستان کی سرزمین کا روشن چراغ الشیخ اسماعیل محمد المالدیپی،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    علم و حکمت کے افق پر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی کا ہر ورق تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ مالدیپ کی دینی، تعلیمی اور عدالتی تاریخ میں الشیخ اسماعیل محمد مالدیپی ( المعروف بہ تھویبہ ) ایک ایسے ہی عہد ساز اور جلیل القدر عالمِ دین تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی دعوت، تدریس اور ادارہ سازی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ حال ہی میں 21 جون 2026 محرم الحرام 1448 ہجری کو تقریبا نو دہائیوں پر محیط یہ بابِ علم ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، جس سے نہ صرف مالدیپ بلکہ پاکستان کے علمی حلقے بھی ایک مخلص اور دور اندیش مصلح سے محروم ہو گئے۔
    1930 کی دہائی کے وسط تقریبا 1935 میں مالدیپ کے دور افتادہ جزیرے ‘دھاالو اتول میڈھو’ میں آنکھ کھولنے والے اسماعیل محمد نے ایک ایسے دور میں ہوش سنبھالا جب وہاں تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں میں حصول تعلیم کا کوئی خاص شوق تھا ۔ اسماعیل محمد اس اعتبار سے ایک منفرد بچے تھے کہ ماحول اور حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود وہ حصول علم کے شوق وجذبہ سے بہرہ مند تھے ۔ذہین بھی تھے اور حصول علم کا جذبہ بھی تھا ۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے مقامی اساتذہ سے حاصل کی ۔تاہم ان کی منزل اس سے بھی کہیں آگے تھی ۔ 1970 میں وہ مدینہ منورہ پہنچے اور مدینہ کی اس یونیورسٹی سے شرعی علوم کی ڈگری حاصل کی جسے مستقبل میں عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی بننے کا اعزاز حاصل ہونے والا تھا ۔یوں اسماعیل محمدمالدیپی مدینہ یونیورسٹی سے علم حاصل کرنے والے پہلے مالدیپی طالب علم بنے۔
    وطن واپسی پر انہوں نے اپنی علمی بصیرت اور علمی وجاہت کا لوہا منوایا اور ایک طویل عرصے تک بحیثیت سینئر جج خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے ملک کی عدالتوں میں اسلامی قوانین، خصوصا عائلی و خاندانی معاملات اور وراثت کے پیچیدہ مسائل پر سینکڑوں ایسے فیصلے دیے جو آج بھی اور آنے والے وقت میں بھی عدالتی نظام کے لیے مشعلِ راہ ہیں ۔
    جب انسان حق، سچ اور عدل وانصاف کے راستے پر چلتا ہے تو اسے آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ الشیخ اسماعیل بھی کئی قسم کی آزمائشوں سے گزرے ۔ مامون عبدالقیوم 1978 سے 2008 تک مالدیپ کے صدر رہے ۔ ان کے دور میں اگرچہ مالدیپ نے بہت ترقی کی لیکن ان کا طرز حکومت آمرانہ تھا ۔ وہ اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے تھے ۔ پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کیلئے مالدیپ کی زمین تنگ ہوجاتی ۔ الشیخ اسماعیل محمد بھی نظر بند کردیے گئے ۔ رہائی کے بعد انھوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا ۔ اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ان کے دوست ، ساتھی اور شاگرد موجود تھے وہ کسی بھی ملک میں جاسکتے تھے لیکن انھوں نے پاکستان کو ترجیح دی ۔ اور پاکستان تشریف لے آئے۔کیونکہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ یہاں انہوں نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد کو اپنا مسکن بنایا اور بحیثیت مفتی و استاد طویل عرصے تک درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ قریبی شہری علاقوں میں دعوتی دروس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
    جامعہ سلفیہ میں دوران تدریس ان کا سب سے بڑا کارنامہ مالدیپ کے سینکڑوں طلبہ کو یہاں کے مقتدر تعلیمی اداروں اور مدارس میں اعلی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے ان طلبہ کی نہ صرف رہنمائی
    کی بلکہ ان کی کفالت بھی کی ۔ آج یہی طلبہ مالدیپ کی وزارتوں، عدالتوں اور جامعات میں کلیدی عہدوں پر فائز ہو کر ملک کا نظام چلا رہے ہیں۔
    شیخ اسماعیل محمد نے تدریس وتبلیغ کے ساتھ علم کو عوامی فہم کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کے علمی کارنامے بیان کرنے کیلئے ہزاروں صفحات درکار ہیں تاہم مختصرا یہ ہے کہ انھوں نے مالدیپ کی مقامی زبان ‘دیویہی’ (Dhivehi) میں قرآن مجید کا سلیس ترجمہ کیا۔ عربی زبان میں 40 سے زائد کتب اور علمی رسائل تحریر کیے۔ عام لوگوں کی رہنمائی کیلئے روزمرہ کے احکام ، نماز، روزہ، زکو ، حج اور خاندانی قوانین پر دیویہی زبان میں آسان رسائل کی ترتیب وتصنیف اور اشاعت کا کام کیا ۔
    الشیخ اسماعیل محمد کی خدمات تدریس وتصنیف تک ہی محدود نہیں انھوں نے عوامی فلاح اور جدید و دینی تعلیم کے حسین امتزاج کے لیے دارالحکومت مالے میں تھویبہ اسکول کی بھی بنیاد رکھی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی وہ متحرک رہے اور مارچ 2025 میں ہلہومالے میں اپنے ذاتی فنڈز سے ایک عظیم الشان اسلامی مرکز اور مسجد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی تعمیر شروع کروائی جس کا سنگِ بنیاد موجودہ صدر ڈاکٹر محمد معزو نے رکھا تھا ۔ اس مسجد کے ساتھ ایک جدید ریسرچ سینٹر اور لائبریری بھی قائم کی جا رہی ہے۔
    الشیخ اسماعیل محمد کی نصف صدی پر محیط بے لوث خدمات کی وجہ سے جہاں مالدیپ کے مذہبی ، سماجی اور علمی حلقوں میں ان کیلئے بے پناہ محبت پائی جاتی ہے وہاں حکومتی سطح پر بھی انکی خدمات کا اعتراف کیا جاتا
    ہے ۔انہی خدمات کے اعتراف میں مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزو نے انہیں 20 اپریل 2025 اسلامک یونیورسٹی آف مالدیپ (IUM) کی تاریخ کی پہلی "اعزازی ڈاکٹریٹ” کی ڈگری دی ۔ جبکہ اگست 2025 میں انھیں ملک کا اعلی ترین سول اعزاز "نیشنل ایوارڈ آف آنر” دیا گیا ۔
    حقیقت یہ ہے کہ الشیخ اسماعیل محمد کبھی مالدیپ کے صدر رہے اور نہ کوئی حکومتی عہدہ ان کے پاس رہا اس کے باوجود وہ مالدیپ کی معروف اور مقبول ترین شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ان کی وفات کی خبر عام ہوئی پورا مالدیپ سوگوار ہوگیا ۔ان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح مالدیپ سمیت دنیا بھر میں پھیل گئی ۔ ا لشیخ اسماعیل محمد کی وفات صرف ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ مالدیپ کی دینی، علمی اور تعلیمی تاریخ کے ایک روشن باب کے اختتام کا نام ہے۔ آج مالدیپ کی فضائیں گویا اشکبار ہیں۔ ہر آنکھ نم ہے، ہر دل غم سے بوجھل ہے اور ہر زبان پر یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنے اس نیک بندے کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی جدائی قوموں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہوتی ہے۔ مالدیپ کے سرکاری ذرائع کے مطابق الشیخ اسماعیل محمد کی نمازِ جنازہ ان کی تعمیر کردہ مسجد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہلہومالے میں ادا کی گئی اور وہیں وہ خاکِ لحد کے سپرد ہوئے۔

    شیخ اسماعیل محمد دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اپنے پیچھے شاگردوں اور فکری پیروکاروں کی ایک ایسی پوری نسل چھوڑ گئے جو مالدیپ کی مذہبی، عدالتی اور تعلیمی قیادت کر رہی ہے۔ راقم الحروف ڈاکٹر حافظ مسعود عبد الرشید اظہر کو بھی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں الشیخ اسماعیل کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ۔الشیخ اسماعیل محمد کیساتھ فیملی تعلقات تھے۔ والد محترم ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ تعالی کیساتھ قلبی لگا بھی تھا اور عقیدت کا رشتہ بھی، راقم الحروف کا بچپن بھی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں الشیخ اسماعیل محمد کی ہمسائیگی میں گزرا۔ بعد ازاں راقم الحروف کو جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ کروانے والے الشیخ اسماعیل محمد ہی تھے وہ مجھے اسلام آباد سے اپنے ساتھ فیصل آباد لیکر آئے اور جامعہ سلفیہ میں راقم کا ایڈمیشن کروایا اور پورے تعلیمی دورانیہ میں سرپرستی اور رہنمائی بھی فرماتے رہے ۔اللہ تعالی شیخ محترم کی تمام عدالتی، تدریسی اور تصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انکے صاحبزادے محمد آمین اور دیگر پسماندگان اور سوگوار تلامذہ کو صبرِ جمیل دے اور ان کے قائم کردہ اداروں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین ثم آمین !

  • ڈی آئی جی  آپریشن لاہور پر تنقید کیوں ؟تحریر:ملک سلمان

    ڈی آئی جی آپریشن لاہور پر تنقید کیوں ؟تحریر:ملک سلمان

    بزدار حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت میں پولیس نے رشوت بازاری اور اختیارات کا جس بے دردی سے استعمال کیا پنجاب پولیس گالی بن چکی تھی خاص طور پر لاہور میں کرائم بلند ترین سطح پر تھا۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سابق وزراء اعلیٰ کے روائتی انداز ”وردی بدل دو“ کو اپنانے کی بجائے پولیس کی کارگردگی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے باقاعدگی سے بیسوں اجلاس کی صدارت کی اور ہر دفعہ پولیس میں اصلاحات، کارگردگی میں بہتری، عوامی تحفظ اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے احتساب پر زور دیا۔ کیپٹیل سٹی لاہور کو کرائم اینڈ کریمنل فری کرنے کیلئے انتہائی اچھی شہرت کے حامل فیصل کامران کا انتخاب کیا گیا۔ 22اپریل 2024 کو ڈی آئی جی اپریشن لاہور کا چارج سنبھالنے والے فیصل کامران نے دن رات انتھک محنت سے محض ایک سال میں 29اپریل 2025 کو لاہور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں لاکھڑا کیا۔ لاہور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں تمام ہمسایہ ممالک سمیت نیویارک، لندن، واشنگٹن، میکسیکو اور پیرس جیسے بڑے شہروں سے سبقت مل گئی۔

    27ماہ کی تعیناتی میں سینکڑوں اہم ایونٹس اور وی وی آئی پی شخصیات کی سکیورٹی سے لیکر عوام کی جان و ملک کے تحفظ تک تمام امور باخوبی سرانجام دینے والے ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران کی دن رات انتھک محنت کی بدولت 24/7 آپ کبھی بھی کہیں بھی بلاخوف و خطر سفر کرسکتے ہیں۔ لاہور کا امن و امان اور پولیس پر عوامی اعتماد بحال کرنے والے ڈی آئی جی اپریشن فیصل کامران نے ٹاؤٹ اور سفارشی کلچر کو ختم کرتے ہوئے ڈی آئی جی آفس تک عوامی رسائی کو اوپن کردیا۔ کسی بھی شہری کو ڈی آئی جی اپریشن سے ملنے کیلئے کسی سیاسی اور صحافتی سفارش کی ضرورت نہیں رہی۔

    سابقہ ادوار میں کرپٹ افسران نے اپنی کمزویوں سے صحافیوں کو اس قدر مضبوط کردیا تھا کہ صحافی کرپٹ سرکاری ملازمین کے سامنے ”باس“ بن کر رہنے لگے۔ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کی ٹرانسفر پوسٹنگ بھی صحافی اور منشیات فروش کرنے لگے تھے۔ ماضی کی پریکٹس رہی ہے کہ کرائم رپورٹر اور نام نہاد سنئیر صحافی اپنا "کماؤ پتر” پیش کرتے تھے کہ اسے ایس ایچ او لگا دیں۔ جس افسر سے زیادہ بے تکلفی ہوتی تھی اسے کہتے تھے کہ ایک موقع اسے دیں ہم دونوں کو خوش کردے گا۔ فیصل کامران نے سیاسی اور صحافتی سفارش پر ٹرانسفر پوسٹنگ کے خاتمے کا مشن امپاسبل پاسیبل کر دکھایا۔پولیس کے نام پر قائم ہونے والی صحافتی دکانیں اور کمائی کے اڈے بند ہونے کے قریب ہوچکے ہیں جبکہ منشیات فروشوں سے لیکر بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا کیلئے بھی لاہور میں کوئی جگہ نہیں رہی ایسے میں ہر وہ فرد جس کی کمائی غیرقانونی طریقے سے منسلک تھی ان کیلئے فیصل کامران کھٹکنے لگا ہے اس لیے تمام شرپسند عناصر کسی نہ کسی کو "فیس” بنا کر آئے دن ڈرامہ رچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

    گزشتہ روز بھی بجائے اس کے کہ آپ انتہائی اہم واقعہ کے حقائق جاننے کیلئے سوال کرتے "سنگل پوائنٹ” ایجنڈے کے تحت ڈی آئی جی اپریشن پر بلاجواز تنقید اور ذاتی اٹیک کرتے رہے۔ اس ساری صورتحال میں اہلیان لاہور نے سوشل میڈیا پر فیصل کامران کی عوام دوست اور کرائم فری پولیسنگ کو بھرپور سپورٹ کیا اور صحافت گردی کی شدید مذمت کی۔ڈی آئی جی آپریشن 2کروڑ شہریوں کی حفاظت کی بجائے تم سے گپ شپ لگائے اور کھانوں پر بلائے یہ کیسی فضول خواہشات اور شکوے ہیں؟

    فیصل کامران27ماہ کی طویل تعیناتی میں کسی سے نہ تو ایک کپ چائے کا رودار ہے اور نہ ہی اتنے لمبے عرصے میں 2کروڑ کی آبادی کے شہر میں کوئی ایک شہری بھی ان پر ایک روپے کی کرپشن یا خلاف میرٹ فیصلہ claim کرسکا۔ فیصل کامران کی 793دن کی تعیناتی میں آپ کے پاس اگر تنقید کرنے کیلئے صرف یہی باقی ہے کہ وہ آپ کی بجائے عوام کی ڈائریکٹ کیوں سنتا ہے تو پھر تم عوامی عدالت میں اپنا کیس ہار چکے ہو۔ سیاسی اور صحافتی سفارش کے بغیر 24/7عوام کی ڈسپوزل پر رہنے والا فیصل کامران اہلیان لاہور کا ہیرو اور مسیحا بن چکا ہے۔ لاہور کو کرپشن فری کرنے کیلئے تمام سفارشوں کو رد کرکے میرٹ پر ایس ایچ اوز کی تعیناتی سے لیکر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا تفریق کاروائیوں کی بدولت لاہور کے کرائم ریٹ میں واضح کمی ہوئی ہے۔

    گذشتہ روز ڈی آئی جی اپریشن کی اہم ترین پریس کانفرنس کو سبوتاز کرکے ان پر ذاتی حملے، بے بنیاد تنقید، الزامات اور بدتمیزی کی ویڈیوز بنانا اور انکو وائرل کرنا بلا شک و شبہ سائبر کرائم ہے اس پر اگر پولیس سائبر کرائم کی کاروائی کرتی ہے تو صحافت خطرے میں آجائے گی؟لاہور اور پنجاب کو کرائم فری اور محفوظ بنانے کیلئے نیک نام افسران کو فری ہینڈ، حکومتی سپورٹ اور اعتماد دینا ناگزیر ہے۔ پولیس کو سرکاری، سیاسی اور صحافتی پریشر جبکہ اشرافیہ اور مافیا کے روائتی جارہانہ دباؤ سے آزاد کرکے ہی عوام کو فوری انصاف فراہم کیا سکتا ہے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • فیفا 2026 ورلڈ کپ میرا آخری عالمی ٹورنامنٹ ہوگا، کرسٹیانو رونالڈو کا اعلان

    فیفا 2026 ورلڈ کپ میرا آخری عالمی ٹورنامنٹ ہوگا، کرسٹیانو رونالڈو کا اعلان

    پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے اعلان کیا ہے کہ 2026 کا فیفا ورلڈ کپ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری عالمی ٹورنامنٹ ہوگا۔

    اتوار کو اسپین کے خلاف ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پانچ مرتبہ بیلن ڈی اور ایوارڈ جیتنے والے41 سالہ پرتگالی کپتان نے کہا کہ وہ اپنی قومی ٹیم کے ساتھ سفر کے آخری مرحلے سے بھرپور لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں،’میں اس سفر سے جتنا ممکن ہو لطف اٹھانا چاہتا ہوں،یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہوگا، لیکن مجھے امید ہے کہ کل میرا آخری میچ نہیں ہوگا۔‘

    رونالڈو نے کہا کہ ان کے شاندار کیریئر کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ آیا وہ ورلڈ کپ جیت پاتے ہیں یا نہیں، انہوں نے 2 دہائیوں سے زائد عرصے میں فٹبال کو اپنا 100 فیصد نہیں بلکہ ’ایک ہزار فیصد‘ دیا ہے ایک دن بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ ضرور آئے گی، لیکن جو بھی ہو، میں مطمئن ضمیر کے ساتھ میدان چھوڑوں گا کیونکہ میں نے فٹبال کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

    اپنی عمر پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے رونالڈو نے کہا کہ وہ اب بھی اعلیٰ سطح پر بہترین کھیل پیش کر رہے ہیں میں فٹبال کسی مجبوری یا ضرورت کے تحت نہیں کھیلتا بلکہ اپنے شوق کی وجہ سے کھیلتا ہوں ہر دن سے لطف اٹھانا چاہیے، اور میں اس ورلڈ کپ میں 3 گول کر چکا ہوں، اس لیے میرا خیا ل ہے کہ میں ابھی بھی اچھی کارکردگی دکھا رہا ہوں،شائقین کی بے مثال محبت نے اس ورلڈ کپ کو ان کی زندگی کا یادگار ترین ٹورنامنٹ بنا دیا ہے۔

    انہوں نے میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہونے والی تنقید نے انہیں مزید مضبوط انسان بنایا۔

    رونالڈو اس ورلڈ کپ میں کئی ریکارڈ بھی اپنے نام کر چکے ہیں، ازبکستان کے خلاف 2 گول کرکے وہ ورلڈ کپ کے 6 مختلف ایڈیشنز میں گول کرنے والے تاریخ کے پہلے فٹبالر بن گئے،اس سے قبل وہ 2006، 2010، 2014، 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں بھی گول کر چکے تھے بعد ازاں کروشیا کے خلاف ناک آؤٹ مرحلے میں پینالٹی گول کرکے انہوں نے ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں اپنے کیریئر کا پہلا گول بھی اسکور کیا، موجودہ کلب کیریئر میں رونالڈو سعودی پرو لیگ کے کلب النصر کی نمائندگی کر رہے ہیں، جہاں وہ 2023 سے کھیل رہے ہیں۔

  • سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سادہ زبان ، دلکش اسلوب اور ایمان افروز واقعات کا حسین امتزاج ۔بچوں ، بڑوں اور خواتین کے لیے تعلیم ، تربیت اور اصلاح کا ایک مکمل نصاب

    انسانی تاریخ کے سب سے روشن، سب سے پاکیزہ اور سب سے مقدس صفحات وہ ہیں جن پر انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں رقم ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے دل نورِ وحی سے روشن، جن کی زبانیں حق کی گواہ ا ور جن کے قدم انسانیت کو اندھیروں سے اجالوں کی طرف لے جانے والے چراغ تھے۔ دارالسلام انٹرنیشنل نے ’’ سلسلہ قصص الانبیاء ‘‘ کے انہی چراغوں کی روشنی کو تیس کتابوں میں سمیٹ کر ایک ایسا روحانی خزانہ پیش کیا ہے جو دل کو بیدار اور روح کو پاکیزہ کرتا ہے۔ یہ سلسلہ صرف کہانیوں پر مشتمل نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری اخلاقی، معاشرتی اور روحانی تربیت کا ایک جامع نصاب ہے۔ ہر کتاب اپنے اندر ایک پیغام، ایک نکتہ، ایک نصیحت اور ایک ایمان افروز حقیقت رکھتی ہے۔

    ’’ سلسلہ قصص الانبیاء علیھم السلام ‘‘ کا آغاز قصہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے، جہاں انسان کی تخلیق، شیطان کا غرور، سجدہ آدم کا عظیم واقعہ اور آزمائش کا پہلا امتحان نہایت مؤثر اسلوب میں سامنے آتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ انسان کا اصل مقام اطاعت میں ہے غرور میں نہیں۔ پھر سیدنا ادریس علیہ السلام کا قصہ ہے جو قاری کو علم، حکمت اور تہذیب کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہولناک طوفان اور قصہ سیدنا نوح علیہ السلام انسان کے سامنے وہ عذاب کھول کر رکھتا ہے جس نے پوری دنیا کو پانی کے طوفان میں لپیٹ لیا۔موت کی ہوا اور سیدنا ہود علیہ السلام کا قصہ یہ بتاتا ہے کہ قومِ عاد کا غرور جب آسمان کو چھونے لگا تو ایک ہوا نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا ۔ا سی طرح ثمود کی تباہی اور سیدنا صالح علیہ السلام کی کتاب اس بات پر گواہ ہے کہ اللہ کی نشانی کو نقصان پہنچانا کیسے پوری قوم کی بربادی کا سبب بنا۔پھر آتی ہے ہولناک آگ ۔ یہ قصہ سیدنا ا براہیم علیہ السلام کا ایمان، نمرود کا غرور اور اللہ کی قدرت کا ایسا معجزہ ہے کہ جس سے آگ گلِ گلزار بن گئی۔ اس کے بعد عظیم قربانی میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا وہ لمحہ آتا ہے کہ جب باپ بیٹے کی رضا کے ساتھ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے۔ یہ داستان انسان کے ایمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ انوکھے مہمان اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری اللہ کی رحمت اور قدرت کے نئے پہلو سامنے لاتی ہے، جبکہ پتھروں کی بارش میں قومِ لوط علیہ السلام کی گمراہی اور اس کا ہولناک انجام تاریخ کا ایسا ورق ہے جو آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی "عجیب بشارت” امید، صبر اور یقین کا درس دیتی ہے، جبکہ ظالم بھائی، بادشاہ کا خواب اور ستاروں کا سجدہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی کا ایسا ہمہ گیر بیان پیش کرتے ہیں جو کردار، بصیرت، معافی اور حسنِ اخلاق کا ایک آئینہ بن جاتا ہے۔سیدنا شعیب علیہ السلام کا قصہ "ہولناک عذاب” کے عنوان سے یہ سکھاتا ہے کہ ناپ تول میں کمی جیسا بظاہر معمولی گناہ بھی قوموں کو برباد کر دیتا ہے۔ اس کے بعد پرانی لاش، جادوگروں سے مقابلہ، عبرت کا نشان، سونے کا بچھڑا ، تین سوال اور زمین کی پکڑیہ چھ کتابیں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عظیم جدوجہد، فرعون کی سرکشی، جادوگروں کی توبہ، بنی اسرائیل کی نافرمانی اور اللہ کے عذاب کے بے شمار عبرت ناک مناظر دکھاتی ہیں ۔ پھر سیدنا الیاس علیہ السلام کی داستان ایک مردِ مجاہد کی طرح سامنے آتی ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے بے خوف کھڑے ہو کر توحید کا پرچم بلند کرتے ہیں۔صندوق کی واپسی اورا ڑنے والا تخت یہ دونوں کتابیں بادشاہوں کے بادشاہ سیدنا دائود اور سیدنا سلمان کی ایسی شان دکھاتی ہیں جو انسانوں، جانوروں، پرندوں، جنّات اور ہواؤں پر حکم چلانے کے باوجود اللہ کے ایک سچے بندے کی عاجزی، عدل اور حکمت کو نمایاں کرتی ہیں۔ صبر کا بدلہ میں سیدنا ایوب کا ایمان انسان کی روح کو پاک کر دیتا ہے۔ ان کا صبر، بیماری کے شدید ترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ ہر غم زدہ دل کے لیے ایک نعمت ہے۔خوش قسمت قوم سیدنا یونس کی قوم کی توبہ اور اللہ کی رحمت کا ظہور، اللہ کی قبولیت اور محبت کی خوبصورت دلیل ہے۔ اسی طرح انوکھی خوشخبری میں سیدنا زکریا کی دعا اور ان کے بڑھاپے میں عطا ہونے والے فرزند کی بشارت انسان کے دل میں امید کی شمع روشن کر دیتی ہے۔ ظالم ملکہ سیدنا یحیٰ علیہ السلام کی شہادت کا دردناک منظر پیش کرتی ہے، جبکہ پتھر کی گواہی میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات انسانیت کو اللہ کی قدرت کے حیرت انگیز جلوے دکھاتے ہیں۔ ا ور سب سے آخر میں ہے ۔۔۔۔’’ سب سے پیارے: محمد رسول اللہ ﷺ ‘‘ یہ کتاب صرف ایک قصہ نہیں بلکہ تمام قصص کی روشنی کا مرکز ہے۔ یہ کتاب اس محبوب ہستی کی زندگی کا نچوڑ ہے جن کے اخلاق قرآن ہیں ، جن کی زبان حق ہے ، جن کا دل رحمت ہے ، جن کی نگاہیں ہدایت ہیں اور جن کا وجود اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے ۔ دارالسلام نے اس عظیم سلسلے کو نہایت سادہ، دلکش، فصیح اور جامع انداز میں ترتیب دے کر ہر عمر کے مسلمانوں کے لیے نورِ ہدایت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ سلسلہ بچوں کے لیے سبق، بڑوں کے لیے عبرت، والدین کے لیے تربیت، خطباء کے لیے مواد اور ہر مسلمان کے لیے ایمان کی غذا ہے۔4کلر باتصویر اور آفسٹ پیپر پر طبع شدہ تیس حصوں پر مشتمل اس سیٹ کی قیمت 6600روپے ہے ۔ انبیاء علیھم السلام کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل یہ حسین گلدستہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے یا براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کریں ۔

  • فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر  : جان محمد رمضان

    فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر : جان محمد رمضان

    تاریخ کے صفحات جب بھی انسانیت کو بڑی تباہی سے بچانے والے مدبرین کا تذکرہ کریں گے، تو اس میں پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز اور سپہ سالار، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ حالیہ مہینوں میں دنیا جس تیزی سے ایک ہولناک جوہری تصادم اور تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، اسے روکنے میں پاکستان کی عسکری قیادت نے جو خاموش لیکن انتہائی اثر انگیز سفارتی اور سٹریٹجک کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ صدی کا سب سے بڑا امن معجزہ ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سنگین کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور بحری ناکہ بندیوں نے عالمی معیشت اور امنِ عالم کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ ایسے نازک موڑ پر، جب عالمی طاقتیں مکالمے کے تمام دروازے بند کر چکی تھیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی غیر معمولی بصیرت، فہم و فراست اور "شراکتِ امن” (Peace Diplomacy) کے فلسفے کے تحت دنیا کو ایک ناگزیر تباہی سے بچا لیا۔

    پچھلے کچھ عرصے سے دنیا بلاکس کی سیاست میں تقسیم ہو کر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے محاذ پر امریکہ اور ایران کا براہِ راست تصادم سر پر تھا، تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور تجارتی راستے مسدود ہو رہے تھے۔ عسکری ماہرین کا متفقہ خیال تھا کہ اگر ان دونوں طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی، تو یہ محض علاقائی جنگ نہیں رہے گی، بلکہ اس میں جوہری طاقتیں شامل ہو جائیں گی، جو تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔

    اس بھیانک منظرنامے میں دنیا کو ایک ایسے معتبر اور غیر جانبدار ثالث کی ضرورت تھی جس کی بات تہران میں بھی سنی جائے اور واشنگٹن میں بھی وزن رکھتی ہو۔ یہ تاریخی اور کٹھن ذمہ داری پاکستان کے نڈر سپہ سالار نے اپنے کندھوں پر اٹھائی۔

    تہران سے واشنگٹن: فیلڈ مارشل کی بیک چینل ڈپلومیسی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت اور مخلصانہ سوچ انہیں دنیا بھر کے ملٹری لیڈرز سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے رواں سال کے دوران ایک انتہائی مربوط اور پیچیدہ سفارتی مشن کا آغاز کیا:
    ایران کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ: فیلڈ مارشل نے تہران کا اہم دورہ کیا اور ایرانی صدر سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے تناؤ میں کمی (De-escalation) کے متبادل طریقوں پر آمادگی ظاہر کی۔
    واشنگٹن اور عالمی طاقتوں سے رابطہ: دوسری طرف، امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے مضبوط عسکری و سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے واشنگٹن کو باور کروایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
    پاکستان بطور قابلِ قبول ثالث: فیلڈ مارشل کی کامیاب حکمتِ عملی نے پاکستان کو دونوں فریقین کے لیے ایک معتبر اور قابلِ قبول پل بنا دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک پسِ پردہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئے۔

    عسکری ہیبت اور امن پسندی کا امتزاج
    ایک حافظِ قرآن اور مدبر عسکری رہنما ہونے کے ناطے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت میں جہاں عزم و استقامت کی فولادی جھلک ہے، وہاں انسانیت کی بقا کا درد بھی شامل ہے۔ ان کی یہ سفارتی کامیابی محض لفاظی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کا وہ ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈیٹرنس تھا جو انہوں نے مئی 2025ء کے پاک بھارت فضائی و میزائل تصادم کے دوران دنیا کو دکھایا تھا، جس شاندار عسکری کامیابی پر انہیں ملک کا اعلیٰ ترین عسکری رینک "فیلڈ مارشل ” عطا کیا گیا ۔دنیا جانتی ہے کہ جو قیادت اپنے وطن کا دفاع کرنا اور دشمن کو دندان شکن جواب دینا جانتی ہے، جب وہ امن کی بات کرتی ہے تو اس کی آواز میں وزن ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ وہ خطے اور دنیا میں "استحکام کا برآمد کنندہ” (Exporter of Stability) ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروا کر دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جس نے بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کے وقار کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سٹریٹجک سوچ، تحمل اور مذاکراتی مہارت نے ثابت کر دیا کہ حقیقی لیڈرشپ وہ نہیں جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو انسانیت کے تحفظ اور امن کے لیے استعمال کرے۔
    آج اگر دنیا ایک ہولناک تباہی اور معاشی بربادی سے محفوظ ہے، تو اس کا ایک بڑا کریڈٹ پاکستان کی اس مخلصانہ اور مدبرانہ عسکری سفارت کاری کو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اور کالم نگار اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کو صدی کی سب سے بڑی جنگ سے بچانے والی یہ عظیم شخصیت بلاشبہ امن کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی اعزازات کی مستحق ہے۔ سپہ سالار کی اس بصیرت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔