Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 
مظفرآباد میں مبینہ بھارتی نیٹ ورک بے نقاب، 5 افراد گرفتار

    
مظفرآباد میں مبینہ بھارتی نیٹ ورک بے نقاب، 5 افراد گرفتار

    ‎آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے مبینہ طور پر منسلک پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں ایک ممکنہ تخریبی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاع پر مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں ایک ہدفی آپریشن کیا گیا، جہاں سے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تلاشی کے دوران ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات برآمد کیے گئے، جن کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
    ‎تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ایک مشتبہ شخص کی نشاندہی پر اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ سامان میں سات خودکار ہتھیار، متعدد دستی بم اور دیگر جنگی نوعیت کا سازوسامان شامل بتایا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ملزمان کے قبضے سے حساس مقامات اور اہم تنصیبات سے متعلق نقشے، دستاویزات اور مبینہ منصوبہ بندی کا ریکارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان شواہد کو تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎تفتیشی ٹیمیں اس نیٹ ورک کے ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور دیگر ممکنہ رابطوں کی نشاندہی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق جدید فرانزک اور ڈیجیٹل تجزیے کی مدد سے نیٹ ورک کے مزید روابط سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث حساس تنصیبات اور عوامی سلامتی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنایا گیا۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

  • الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت کی اصل روح شکست کو تسلیم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ہے، نہ کہ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے میں

    جو سیاست عوام کی خدمت کے بجائے الزام تراشی کے گرد گھومنے لگے، وہاں مسائل بڑھتے ہیں اور حل دور ہوتے چلے جاتے ہیں

    قومی ترقی تب ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں، کارکردگی کو معیار بنائیں اور جوابدہی کو شعار بنائیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ یہاں اقتدار میں آنے والی جماعت اپنے پیش روؤں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، جبکہ اقتدار سے محروم ہونے والی جماعت نئی حکومت پر ناکامیوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ایک سیاسی طرزِ عمل بن چکی ہے جس نے عوامی مسائل کے حقیقی حل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انتخابات کے بعد شکست تسلیم کرنے کا سیاسی ظرف بھی ہمارے ہاں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے بجائے دھاندلی، مداخلت اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا بیانیہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر کسی مخصوص انتخاب میں مداخلت کے واضح شواہد موجود نہ ہوں، تب بھی الزامات کی گرد اڑائی جاتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور سیاسی سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی پہلی ذمہ داری عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان برسوں سے بجلی کے بحران، گیس کی قلت، مہنگائی، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ مسائل کسی ایک حکومت یا ایک ادارے کی پیداوار نہیں بلکہ طویل عرصے کی پالیسی ناکامیوں اور اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح خوراک میں ملاوٹ، ادویات میں جعل سازی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے جرائم بھی قومی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ان جرائم کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوامی خدمت کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں ایسے عناصر کی سرپرستی کے بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف اسٹیبلشمنٹ یا کسی ایک ادارے کو قرار دینا نہ تو حقیقت پسندانہ رویہ ہے اور نہ ہی قومی مفاد کے مطابق۔ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی ادارے اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن بلا ثبوت الزامات، مسلسل کردار کشی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈال دینا مسائل کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت اپنے گریبان میں جھانکے، اپنی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور عوام کے سامنے جوابدہی کا رویہ اختیار کرے۔ قومیں الزام تراشی، نفرت اور سیاسی ضد سے نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، مؤثر حکمرانی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست کا ایک حصہ اب سنجیدہ قومی مباحث کے بجائے سوشل میڈیا کی شوریدہ فضا اور وقتی مقبولیت کے گرد گھومنے لگا ہے۔ ایسے ماحول میں اصل سوالات پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ نعروں کے بجائے کارکردگی کو معیار بنائیں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کریں کہ انہوں نے عوامی فلاح، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کو آج الزاموں کی سیاست نہیں بلکہ جوابدہی، خدمت اور قومی یکجہتی کی سیاست کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کریں گی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈالتی رہیں گی، تب تک عوامی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے اور ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

  • عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    عالمی یومِ غذائی تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں محفوظ خوراک کے حوالے سے شعور بیدار کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے اجاگر کرنا اور خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ موجودہ دور میں غذائی تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے کیونکہ غیر معیاری اور آلودہ خوراک نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ قومی معیشت اور صحت کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ منانے کی ابتدا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ہوئی۔ دسمبر 2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ کے طور پر منانے کا اعلان کیا جبکہ اس دن کو عملی طور پر پہلی بار 2019 میں منایا گیا۔ اس مہم کی قیادت عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ اس دن کے قیام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ناقص غذائی نظام اور آلودہ خوراک کے خطرات کے بارے میں عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا تھا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ اور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ مختلف ممالک میں آلودہ خوراک سے ہونے والی اموات اور وباؤں نے عالمی اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو انسانی صحت، معیشت اور پائیدار ترقی سے جوڑا گیا۔

    عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر سال کروڑوں افراد آلودہ خوراک کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص گھی، غیر معیاری مصالحہ جات، مضر صحت مشروبات اور کیمیکل ملے پھل و سبزیاں عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والے کئی مراکز پر صفائی کے ناقص انتظامات بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

    غذائی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ خوراک ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، فوڈ پوائزننگ اور معدے کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں کیونکہ کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی اور شہروں میں فاسٹ فوڈ کے بڑھتے رجحان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
    پاکستان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی، سندھ فوڈ اتھارٹی اور دیگر ادارے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، مگر صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ گھروں میں صفائی، تازہ خوراک کا استعمال، صاف پانی، پھلوں اور سبزیوں کی اچھی طرح دھلائی، اور کھانے کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
    یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے روایتی طریقے اکثر غیر سائنسی ہوتے ہیں۔ دودھ میں ملاوٹ، مضر صحت رنگوں کا استعمال اور ناقص تیل میں تیار شدہ اشیاء انسانی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس صورتحال کا جائزہ لیا تو جاتا ہے مگر بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کیوں اور کیسے ہورہا ہے سب اچھا ہے سرکاری اعداد وشمار میں وجہ کوئی بھی ہوسکتی ہے آپ سب جانتے ہیں ۔

    عالمی یومِ غذائی تحفظ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد محفوظ خوراک ہے۔ اگر ہم آج اپنی خوراک کے معیار پر توجہ نہیں دیں گے تو آنے والی نسلیں بیماریوں اور کمزور صحت کا شکار رہیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے، فوڈ انسپیکشن کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے۔جو عام آدمی تک پہچنے میں مددگار ثابت ہو ۔
    محفوظ خوراک صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ صحت مند پاکستان کے لیے ہمیں ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور صفائی کی ناقص صورتحال کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔جو ہم سب کی ذمہداری ہے امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک

  • محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

    کبھی گھر محض اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، تحفظ اور وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زندگی کی تلخیاں بانٹی جاتی تھیں اور خوشیاں کئی گنا بڑھ جاتی تھیں۔ مگر آج اسی گھر کی دیواریں تو قائم ہیں، لیکن ان کے اندر بسنے والے رشتے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نازک اور غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں دائر ہونے والے ہزاروں طلاق، خلع اور نان نفقہ کے مقدمات محض قانونی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایسے رشتوں کی خاموش داستانیں ہیں جو کبھی محبت، اعتماد اور مشترکہ خوابوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں 45 ہزار سے زائد فیملی مقدمات کا عدالتوں تک پہنچ جانا ایک ایسا اشارہ ہے جسے صرف اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ہر فائل کے پیچھے ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ کہیں ایک عورت برسوں کی خاموش اذیت کے بعد انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، کہیں ایک مرد ناکام ازدواجی زندگی کے بوجھ تلے دب کر کسی حل کی امید لیے کھڑا ہوتا ہے، اور کہیں معصوم بچے ایسے فیصلوں کے اثرات سمیٹ رہے ہوتے ہیں جن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عدالت کے ریکارڈ میں یہ صرف ایک مقدمہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی زندگیوں کی کہانی ہوتی ہے۔

    یہ سوچنا آسان ہے کہ طلاقوں میں اضافہ صرف معاشی مشکلات یا سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ معاشی دباؤ یقیناً ایک اہم وجہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ برداشت کی کمی، بڑھتی ہوئی انا، غیر حقیقی توقعات، ذہنی دباؤ، جذباتی فاصلے اور مؤثر مکالمے کا فقدان بھی رشتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے زیادہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے۔ ان کے درمیان دراڑیں بہت پہلے پڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایک نہ سنی جانے والی بات، ایک ادھورا احساس، ایک ٹوٹا ہوا وعدہ اور ایک غیر محسوس بے اعتنائی وقت کے ساتھ اتنی بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ دو لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کی دنیا ہوا کرتے تھے، اجنبی بن جاتے ہیں۔ عدالت میں جمع ہونے والی درخواست دراصل اس طویل سفر کا آخری مرحلہ ہوتی ہے۔

    ان مقدمات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اکثر بچے ہوتے ہیں۔ وہ بچے جو والدین کے اختلافات کو سمجھنے کی عمر نہیں رکھتے، مگر ان کے اثرات زندگی بھر اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ٹوٹتے ہوئے خاندان صرف دو افراد کو الگ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ایک پوری نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مستقبل کو متاثر کر دیتے ہیں۔

    اسلام آباد کی عدالتوں میں جمع ہونے والی یہ فائلیں دراصل ہمارے معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سہولیات اور معاشی اشاریوں کا نام نہیں۔ ایک معاشرے کی اصل طاقت اس کے مضبوط خاندان، صحت مند تعلقات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
    اگر ہم اس بڑھتے ہوئے رجحان کو صرف عدالتی اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو شاید ہم اصل مسئلے کو کبھی سمجھ ہی نہ سکیں۔ کیونکہ یہ صرف طلاقوں میں اضافے کی کہانی نہیں، بلکہ ان انسانی رشتوں کی داستان ہے جو کہیں راستے میں کمزور پڑ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ عدالتوں میں کتنے مقدمات دائر ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے گھروں کے اندر ایسا کیا بدل رہا ہے جو محبت کو فاصلے میں، گفتگو کو خاموشی میں اور ساتھ کو علیحدگی میں تبدیل کر رہا ہے۔

    شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اعداد و شمار گننے کے بجائے ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ان اعداد و شمار کو جنم دے رہی ہیں۔ کیونکہ جب خاندان کمزور ہوتے ہیں تو اس کی قیمت صرف میاں بیوی نہیں، پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

  • کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کل سے خطے میں جو بےچینی، اضطراب اور بےسکونی کی فضا قائم ہے اس نے دل دہلا دیے ہیں۔ ایک گھٹن زدہ کیفیت نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آزاد کشمیر میں نیٹ سروسز بند ہیں، اور یہ بندش صرف انٹرنیٹ کی نہیں بلکہ دلوں کی بھی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ماں باپ اپنے بچوں کی خیریت جاننے سے قاصر ہیں۔ بہنیں اپنے بھائیوں کے لیے دعائیں مانگ رہی ہیں، بیویاں شوہروں کی سلامتی کی منتظر ہیں اور بچے اپنے پیاروں کی ایک آواز سننے کے لیے بےتاب ہیں۔ فون کی خاموشی اب دلوں میں خوف اور اندیشوں کی گونج بن چکی ہے۔خون، چاہے کشمیری کا ہو، پاکستانی کا، فوجی کا، پولیس والے کا، یا کسی عام شہری کا یا کسی غیر مسلم کا خون بہرحال خون ہوتا ہے۔ اس کا درد ایک جیسا ہوتا ہے۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی اجڑی ہوئی دنیا ہوتی ہے، ایک باپ کی ٹوٹی ہوئی امید ہوتی ہے، ایک بیوی کا بکھرا ہوا سہارا اور معصوم بچوں کا لٹتا ہوا مستقبل ہوتا ہے۔ والدین کے لیے اولاد کا جنازہ اٹھانا زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ یہ ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرا ہو جاتا ہے۔ ماں عمر بھر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے جیسے اس کا بیٹا ابھی لوٹ آئے گا۔ باپ اپنے آنسو چھپاتا ہے مگر اندر ہی اندر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ بیوی زندگی بھر اس آواز کو ڈھونڈتی رہتی ہے جو کبھی اس کی زندگی کا سکون تھی۔ بچے ہجوم میں بھی اپنے باپ کا چہرہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔افسوس کہ ایسے نازک وقت میں بھی سوشل میڈیا پر نفرت، تلخی اور بدزبانی کا بازار گرم ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑک رہے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے اور انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔خدارا! اب رک جائیے۔کتنا خون اور بہے گا؟ کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں کے انتظار میں دروازوں پر بیٹھی رہیں گی؟ کتنی بہنوں کی دعائیں ادھوری رہ جائیں گی؟ کتنے بچے یتیمی کی اذیت سہنے پر مجبور ہوں گے؟

    خون جب زمین پر گرتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا ایک خاندان بکھر جاتا ہے، کئی خواب دفن ہو جاتے ہیں اور بے شمار خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔اس وقت دل صرف غمزدہ نہیں، مضطرب بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا خطہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہو۔ ہر طرف خوف ہے، بے یقینی ہے اور دعاؤں کا ایک خاموش سلسلہ جاری ہے۔ایسے وقت میں ضرورت نفرت کے نعرے بلند کرنے کی نہیں بلکہ انسانیت کی آواز بلند کرنے کی ہے۔ ضرورت ایک دوسرے کو گرانے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ہے۔
    آئیے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں جس کا نام محبت ہو، جس کا مقصد امن ہو اور جس کا پیغام انسانیت ہو۔ ایک ایسی تحریک جو ہمیں یاد دلائے کہ خون کا کوئی مذہب، کوئی زبان اور کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ خون صرف خون ہوتا ہے، اور اس کا درد ہر دل یکساں محسوس کرتا ہے۔

    آئیے ایسی زبان بولیں جو زخموں پر مرہم رکھے، ایسے الفاظ لکھیں جو دلوں کو جوڑیں اور ایسی دعائیں کریں جو نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔کیونکہ قومیں نفرت سے نہیں، محبت سے بنتی ہیں۔ معاشرے انتقام سے نہیں، برداشت سے پروان چڑھتے ہیں۔ اور انسانیت کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالف کو ہرا دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بچا لیں۔خدایا! اس دھرتی پر امن نازل فرما۔ ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچا، بچوں کے سروں سے سایہ نہ اٹھا، بہنوں کی دعاؤں کو قبول فرما اور ہمیں اتنی انسانیت عطا فرما کہ ہم خون کے رنگ میں سیاست نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت دیکھ سکیں۔آمین
    خدارا اب بس کر دیں بس

  • 
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    ‎آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ باقی تین مطالبات آئینی ترمیم یا نئی قانون سازی سے مشروط ہونے کے باعث فوری طور پر منظور نہیں کیے جا سکے۔
    ‎حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور کئی مطالبات پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جا چکے تھے۔ تاہم بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
    ‎منظور کیے گئے مطالبات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مالی امداد، شہداء کے خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور خصوصی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ اسی طرح شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
    ‎تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، میرٹ پر داخلوں اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی، ہر ضلع میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔
    ‎انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سڑکوں، سرنگوں اور پلوں کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز، صاف پانی کی فراہمی، دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
    ‎حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے، پن بجلی منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی میں اصلاحات، احتسابی اداروں کی تنظیم نو اور شفاف احتسابی نظام کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
    ‎مزید برآں کاروباری طبقے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، مقامی حکومتوں کی بحالی، منگلا ڈیم سے متاثرہ اراضی کے مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام جیسے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔

  • 
بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس

    
بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی، آئینی اور انتظامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
    ‎اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مہاجر نشستوں کے معاملے میں حکومتی مؤقف کو درست قرار دیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق 12 مہاجر نشستیں آئینی تحفظ کی حامل ہیں اور انہیں کسی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎قیادت نے بتایا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ضروری ہوگی۔ بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج کے بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
    ‎اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے باقی ماندہ آئینی امور کو منتخب اسمبلی کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ آئینی ترامیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہیں۔
    ‎بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22(4) کے تحت بروقت انتخابات کا انعقاد ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور کسی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، دباؤ کی سیاست اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنا آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
    ‎یہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا تیسرا اہم اجلاس تھا، جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی امور، سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

  • بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    صبح کا وقت تھا اور موسم بڑا خوشگوار تھا لیکن کمرے میں سگنلز کی عدم موجودگی نے خوشگواری کا تسلسل توڑنا چاہا سگنلز ضروری تھے کیونکہ آج میری پسندیدہ انفلوئنسر نے لائیو آنا تھا میں چائے کا کپ اٹھائے بالکونی میں جا کھڑا ہوا کیونکہ وہاں نیٹ بہتر چلتا تھا ۔۔۔میرے فون پہ نوٹیفیکیشن آیا ۔۔۔۔۔” دی سوپر اسٹار اسمارا اپلوڈڈ آ سٹوری ” میں نے جلدی سے کھولی تو اس میں درج تھا کہ ابھی کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے وہ لائیو نہیں آسکتیں شاہد شام میں آئیں بحرحال آپکو آگاہ کردیا جائیگا مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ میں نے موبائل سائڈ پہ رکھتے ہوئے چائے کی ایک اور چسکی لی تو میری نظر برابر والے گھر سے نکلتی ہوئی اسما پر پڑی جو نہایت عام سی شکل وصورت ،قمیص شلوار میں ملبوس سفید چادر اوڑھتی ہوئی موٹر سائیکل پر سوار ہوئی ،وہ بہت اکڑو تھی کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔اور پھر مجھ سے مزاج کا انسان تو اس سے بلکل بات کرنا بھی پسند نہ کرے ۔مجھے تو اسمارا جیسی لڑکیاں بھاتیں۔۔۔میں کچھ دیر وہاں ٹہلتا رہا پھر دفتر جانے کی تیاری میں مشغول ہو گیا ۔شام کے قریباً چار بج رہے تھے میں دفتر سے واپس آرہا تھا کہ مجھے رستے میں اسما نظر آئی اسکی موٹر سائیکل غالباً چوری ہوچکی تھی اور اب ٹیکسی کے انتظار میں تھی ،جتنی وہ عجیب اور نخرے باز تھی میرا دل تو نہیں تھا مدد کا مگر میرے اندر موجود انسانیت کی دکان اسے قرض دیے بغیر رہ نہ سکی میں نے بریک لگائی اور کہا : اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ سکتا ہوں میرا گھر آپکے گھر کے برابر میں ہی ہے ۔پہلی دفعہ تو اس نے بات سنی ان سنی کر دی میں نے دو تین مرتبہ اصرار کیا پھر جا کر وہ پچھلی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئی،اور بیٹھتے اپنے موبائل میں لگ گئی۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو میرے فون پہ نوٹیفکیشن آیا۔دی اسمارا اپلوڈڈ سٹوری میں نے دیکھا تو اس میں درج تھا فکس آدھے گھنٹے کے بعد وہ لائیو آئیں گی میں نے غصے سے اسما کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اگر وہ میرا وقت ضائع نہ کراتی تو میں اب تک گھر ہوتا۔جیسے تیسے میں نے بیس منٹ میں اسما کو گھر چھوڑا اپنی گاڑی پارک کی اور سیدھا بالکنی کی طرف روانہ ہوا موبائل وہاں سیٹ کیا چائے منگوا لی ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ لائیو آگئی ۔۔ سو سوری گائز میں نے صبح لائیو آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ مسائل کی وجوہات پر میں نہ سکی تو کیسے ہیں آپ سب ؟

    سیاہ بال جو کبھی لمبے ہو جاتے تو کبھی چھوٹے کبھی سیدھے اور کبھی گھنگریالے ہر روز فیشن کے نام پر نیا تجربہ اور ہر بار تجربہ ثمر پار ثابت ہوتا وہ ہر طرح کے حلیے میں حسین ترین لگتی تھی۔کبھی کبھار ہی لائیو آتی لوگ اس سے سوال پوچھتے ہیں جواب دیتی اس سے جواب پا لینا بھی کسی کی خوش قسمتی ہی ہوتی تھی میں نے بھی کئی دفعہ پیغام چھوڑا لیکن مجھ پہ قسمت کبھی اتنی مہربان نہیں ہوئی۔اچھا تو اگلا سوال ہے اسماء کا انہوں نے کہا ہے کہ آپ بہت پیاری ہیں تھینک یو سو مچ اسما آپ بھی بہت پیاری ہیں ہم سب ہی پیارے ہوتے ہیں۔یہ بات اس نے کہہ تو دی تھی لیکن شاید اس نے اسماء کو حقیقت میں نہیں دیکھا تھا اگر وہ دیکھتی تو کبھی یہ نہ کہتی کہ سب حسین ہوتے ہیں

    اچھا گائز پھر کبھی لائیو آؤں گی اور ڈھیر ساری باتیں کریں گے اللہ حافظ۔ابھی وہ گئی تھی کہ امی آ گئی تم ہر وقت اس موبائل میں گھسے رہتے ہو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔کیا بات کرنی ہے اماں ؟دیکھو لمبی چوڑی باتیں کرنا مجھے پسند نہیں سیدھا کہتی ہوں۔۔۔۔دروازے کی گھنٹی بجے میں دروازہ کھولنے گیا تو دروازے پہ موجود موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکیاں تھی جو غالباً پولیو کے قطرے پلانے آئیں تھیں موٹر سائیکل کچھ دیکھا دیکھا لگ رہا تھا اور ان میں سے ایک لڑکی کی آواز بھی جانی پہچانی تھی لیکن میں نے غور نہیں کیا اور انہیں یہ بتا کر دروازہ بند کر دیا کہ یہاں میں سب سے چھوٹا بچہ ہوں۔

    واپس آیا ہاں تو اماں اپ کچھ کہہ رہی تھی۔۔اب میں نے کیا کہنا ہے ساری بات کا تسلسل خراب کر دیا صبح بات کریں گے۔۔
    صبح ناشتے کی میز پر ہی میں نے اماں سے پوچھا۔
    اماں آپ نے کچھ کہنا تھا شام میں، کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے نا, بات تو میں بتاتی ہوں پر پہلے تو مجھ سے وعدہ کر کہ تو میری بات مانے گا۔۔ اماں شادی کے علاوہ جو بات منوانی ہے منوا لو۔۔
    نہیں نہیں اس دفعہ بس تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔بس دس منٹ کے لیے ،وعدہ شادی کی بات نہیں کروں گی ۔۔لیکن اماں جانا کہاں ہے؟ زیادہ سوال نہیں کرو میرے ساتھ چلو۔

    اچھا اماں آپ چلیں میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں اماں کے بتائے ہوئے رستے پر ان کے ہمراہ چل پڑا کچھ دیر کے بعد ہم ایک آستانے پر پہنچے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ گھنگریالے بال، بڑی بڑی آنکھوں میں بہت زیادہ سرمہ پیلے دانت ،سیاہ رنگ کا کرتا گلے میں رنگ برنگی تسبیحات ڈالے ایک عورت نما کوئی جاندار چیز بیٹھی دم درود پڑھ رہی تھی۔ خوف اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ میں نے اماں کی طرف دیکھا۔۔تو اماں نے اسکے جواب مجھے ڈانٹنے والی نظروں سے دیکھا۔۔اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہمارا نمبر آیا اماں نے اسے بتایا کہ میں شادی نہ کرنے پر بضد تو اس نے اماں کو کوئی کاغذ پکڑایا جس پر نہ جانے کیا لکھا تھا اور ان کے کان میں کوئی بات کی جو بہر حال مجھے سنائی نہیں دے سکی۔۔۔اماں نے ان سے اجازت چاہی ۔۔ویسے میرا دل تو معذرت چاہنے کا تھا۔۔۔۔وہاں سے ہم گھر کے لیے روانہ ہوئے اور اسمارہ نے دوبارہ لائیو آنا تھا گھر پہنچے موسم کچھ خراب ہو گیا ، ایک دم آندھی آگئی جو کپڑے چھت پر پھیلائے تھے وہ پڑوسیوں کے گھر جاگرے تو میں نے اماں کو بتایا کیونکہ اسما کے گھر جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا گھر میں بس وہ ماں بیٹی ہی رہتی ہیں تو یوں مناسب نہیں لگتا اماں نے مجھے مجبور کیا کہ جاگ کر میں کپڑے لے آؤں تجھے کیا کہنا ہے ان لوگوں نے اتنی دیر میں نوٹیفیکیشن آیا پندرہ منٹ بعد لائیو آؤں گی ۔ ۔۔میں نے جلدی جلدی پڑوسیوں کا دروازہ بچایا تو اس کی اماں نے دروازہ کھولا میں نے بتایا کہ ہوا کی وجہ سے کپڑے گر گئے تھے وہ پکڑا دیں انہوں نے مجھے اندر بلا لیا بیٹھنے کو کہا میں نے منع کیا اور کہا کہ مجھے کپڑے دے دے اب کیونکہ میں ان کے گھر پہلی دفعہ گیا تھا تو وہ کپڑے لینے کے بجائے کچن میں چلی گئی مجھے جلدی تھی اور ان کے منصوبے لمبے نظر آرہے تھے لیکن میں مجبور تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ کپڑے گندی جگہ پر گر گئے تھے تو اسمإ نے دوبارہ دھو کر چھت پر پھیلا دیے ہیں اب بیٹا میری ٹانگوں میں تو اتنی جان نہیں کہ میں چھت پر جاؤں اور اسما کسی کام میں مصروف ہے اپنا ہی گھر ہے چھت سے میرا بیٹا جا کر کپڑے لے آؤ۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان کو کیا کہوں ؟ مجھے دیر ہو رہی تھی اور وہ میری امی کی طرح بات نہیں سمجھ رہی تھیں میں بھاگتا بھاگتا چھت پر جا رہا تھا برآمدے میں کمرے کے آگے سے گزرا اس کا دروازہ آد کھلا تھا سامنے دیوار پہ مجھے ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی جو آدھی دکھ رہی تھی اور تصویر لگ بھی دیکھی دیکھی رہی تھی تو میں نے لاشعوری طور پر کمرے کا دروازہ کھول دیا اس وقت مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں جاؤں ،پیروں تلے زمین نکلنا اس سے پہلے تک میرے لیے صرف ایک محاورہ تھا۔۔اس دن میرے لیے ایک عجیب قسم کا تجربہ تھا وہ تصویر وہی تصویر تھی جو اسمارا کے سٹوڈیو میں لگی نظر آتی تھی جب بھی وہ لائیو آتی تھی،اور وہاں شیشے کے سامنے ایک لڑکی جو میرا خواب تھی کائنات کی حسین ترین لڑکی اپنے حسن کو مزید سنوار رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی موٹر سائیکل کی چابی، سفید چادر ،پولیو کے قطرے پلانے والا نیلے رنگ کا ڈبہ سیاہ رنگ کا کرتا ایک طرف لٹکا تھا اور اسی کے ساتھ رنگ برنگی تسبیحات پڑی تھیں ،ایک جانب لینز کی ڈبی پڑی تھی جو اکثر اسمارہ لگایا کرتی تھی اور دوسری جانب ایک ڈبیا میں پیلے دانت یہ سارا منظر کچھ لمحوں کا بھی نہیں تھا میں کیسے وہاں سے گھر پہنچا نہیں معلوم کپڑے لائے نہیں لائے لیکن سوال بہت سارے لے آیا تھا۔
    مجھے نہیں معلوم تھا کہ قسمت نے مجھ پر اس طرح مہربان ہونا تھا۔

  • صحافت، ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    صحافت، ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا تیزی سے ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence (AI) صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معیشت، تعلیم، صحت، کاروبار اور صحافت سمیت ہر شعبے کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ وہ ممالک جو اے آئی کو جلد اپنائیں گے، مستقبل کی عالمی معیشت اور علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کریں گے، جبکہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے والی قومیں ترقی کے سفر میں مشکلات کا شکار ہوں گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اے آئی اب کوئی فیشن یا اضافی سہولت نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔

    اسی تناظر میں ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اپنا کماؤ کے اشتراک سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے منعقد کی جانے والی خصوصی تربیتی ورکشاپ “Journalism in the Age of AI” ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ثابت ہوئی۔ اس پروگرام نے واضح کر دیا کہ مستقبل کی صحافت اب صرف قلم اور کیمرے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی سے جڑی مہارتیں ہی کامیابی کی ضمانت بنیں گی۔اس ورکشاپ کے انعقاد میں سر ملک وقاص اور ان کی ٹیم کی کاوشیں خصوصی طور پر قابلِ تحسین رہیں، جنہوں نے صحافیوں اور نوجوان میڈیا پروفیشنلز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم مہیا کیا۔ بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں ایسے افراد اور ادارے ہی دراصل معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار بنتے ہیں جو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئی نسل کو جدید علوم اور مہارتوں سے روشناس کرائیں۔

    لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ہونے والی اس عملی ورکشاپ میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد کو جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کی تربیت دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے تحقیق کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے، فیک نیوز کی فوری تصدیق کی جا سکتی ہے، اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اپنی مضبوط شناخت یعنی Personal Brand قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ تربیت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں خبر کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ روایتی طریقے کئی مواقع پر ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا پلیٹ فارم بھی اس حوالے سے ایک مثبت اور جدید سوچ کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ سیاسی اور سماجی پلیٹ فارمز اگر نوجوانوں کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کریں تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے دوری بھی ہے۔ ایسے میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ ،اپنا کماؤ جیسے پلیٹ فارمز کا AI اور ڈیجیٹل جرنلزم جیسے موضوعات پر عملی سرگرمیوں کا انعقاد مستقبل کے لیے ایک امید افزا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد سب سے بڑا چیلنج جھوٹی خبروں اور من گھڑت پروپیگنڈے کا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور معاشرے میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں AI پر مبنی Fact-checking ٹیکنالوجی صحافت کے لیے ایک مضبوط ہتھیار بن سکتی ہے۔ جدید AI سسٹمز تصاویر، ویڈیوز اور بیانات کی صداقت جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو صحافت کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    ورکشاپ میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے معاشرتی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ ان کا یہ جملہ کہ “معاشرہ ایک فرد سے نہیں چلتا” دراصل اجتماعی شعور اور قومی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں AI انسان کی زندگی کو آسان بنا رہا ہے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے کیا جائے۔

    حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں AI انقلاب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ، چین، جاپان اور یورپی ممالک اربوں ڈالر اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ تعلیم، زراعت، دفاع، بینکنگ، میڈیکل سائنس اور میڈیا ہر شعبہ AI سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان نے اس میدان میں سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو ہم آنے والے برسوں میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب بھی AI کے حوالے سے شعور محدود ہے اور بیشتر نوجوان صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ دنیا AI کے ذریعے نئی معیشت تعمیر کر رہی ہے۔
    پاکستان میں AI کے فروغ کے لیے سب سے پہلے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں Artificial Intelligence، Data Science اور Digital Journalism جیسے مضامین کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ عملی مہارتیں دینا ہوں گی تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام بنا سکیں۔

    صحافت کے میدان میں AI صحافیوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک طاقتور معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ جو صحافی AI کو سیکھ لیں گے وہ تیزی سے تحقیق، ڈیٹا اینالیسس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور ڈیجیٹل پبلشنگ جیسے شعبوں میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جو لوگ نئی ٹیکنالوجی سے دور رہیں گے وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور پریس کلب میں ہونے والی یہ ورکشاپ محض ایک تربیتی سیشن نہیں بلکہ مستقبل کی صحافت کی سمت متعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    پاکستان ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے اور یہی نوجوان ہماری اصل طاقت ہیں۔ اگر انہیں AI اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا جائے تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں ایک اہم ڈیجیٹل معیشت بن سکتا ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، AI ریسرچ اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔وقت آ چکا ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو صرف ایک مشین یا سوفٹ ویئر نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی ترقی کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھیں۔ AI سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سیکھنا، سمجھنا اور مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے جو علم، ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں سے خود کو ہم آہنگ کرے گا۔اگر پاکستان نے آج AI کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تو یہی ٹیکنالوجی ہمارے نوجوانوں کے خواب، معیشت کی ترقی اور مستقبل کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔

  • تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جب کبھی کسی چائے خانے پر بیٹھتا ہوں، گلیوں سے گزرتا ہوں، یا کسی بازار میں قدم رکھتا ہوں،تو ایک منظر جو سب سے پہلے آنکھوں سے ٹکراتا ہے، وہ ہے سگریٹ کا دھواں۔ نوجوان لڑکے، ادھیڑ عمر مرد، حتی کہ کئی مقامات پر خواتین کے ہاتھوں میں جلتا ہوا سگریٹ نظر آتا ہے۔ ہم سب کےلیے یہ تمام عام مناظر ہوتے ہیں۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کتنی زندگیاں، کتنے خاندان، کتنے خواب اس دھوئیں میں گم ہو رہے ہیں؟
    اعداد و شمار کے مطابق اس دھوئیں میں گھرے پاکستان کی تصویر انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کی معلومات اور PMC میں شائع شدہ مختلف تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں تمباکو نوشی کی اوسط قومی شرح 21.6 فیصد ہے۔جس میں مردوں کی شرح 36 فیصد اور خواتین کی قریبا 9 فیصد ہے۔ یہ تحقیق 9441 افراد پر شہری و دیہی دونوں علاقوں میں کی گئی۔

    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد ابھی بھی تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے، جو کسی بھی ذی شعور شخص کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو چونکا دینے کےلیے یہ شرح بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی محض سگریٹ تک محدود نہیں۔ یہاں تمباکو کی مختلف اشکال و اقسام موجود ہیں، جیسا کہ سگریٹ، حقہ، شیشہ، نسوار، گٹکا، بیڑی اور ویپ وعیرہ۔شیشہ کا رواج تو خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس کی شرح 33 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، کیونکہ شیشہ کو عام طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔

    لوگ تمباکو نوشی کیوں شروع کرتے ہیں؟اس کا جواب آسانی سے اور درست دینا تو مشکل ہے، تاہم پاکستان میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق ‘Causes of Smoking in Pakistan: An Analysis of Social Factors’ کے مطابق تمباکو نوشی کے آغاز میں کئی سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں۔
    ہم جماعتوں کا دباؤ ، Peer Pressure:

    ایک اور تحقیق کے مطابق 50 فیصد نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سگریٹ شیئر کرنے کے بعد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    گھریلو ماحول اور خاندانی اثر:
    پاکستان میں گھر کا ماحول بھی تمباکو نوشی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں باپ، چچا یا بڑا بھائی تمباکو نوشی کرتا ہو، تو بچہ اسے ایک معمول کا عمل سمجھنے لگتا ہے۔ جرنل آف اسموکنگ سیسیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کم تعلیم یافتہ اور غریب طبقوں میں تمباکو نوشی کی شرح زیادہ ہے۔

    تناؤ، غربت اور مایوسی:
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم کی کمی،معاشی بحران، بے روزگاری اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے۔ وہاں بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے تمباکو نوشی کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجنے لگتےہیں۔ اور کئی لوگوں جب کسی مسئلے کا شکار ہوں، یا گھریلو لرائی جھگڑے میں سگریٹ پی کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ عادت لت بن جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات:
    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں قابل گریز اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    ۔The Friday Times میں جون 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو ہر سال 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد انسانی جانوں کا قتل کرتا ہے۔یعنی روزانہ 526 سے زیادہ اموات، ہر گھنٹے میں 22 قتل۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ہم میں سے کسی کا بھائی، باپ، شوہر اور بیٹے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی نہیں کر رہے تو یہ مت سمجھتے رہیے گا کہ ہم محفوظ ہیں کیونکہ تمباکو نوشی کا خمیازہ صرف وہ نہیں بھگتتے جو خود پیتے ہیں۔ بلکہ ان کے اردگرد بیٹھے بے قصور لوگ بھی اس دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز رپورٹ (2019) کے مطابق پاکستان میں ہر سال 31000 اموات صرف پسیو اسموکنگ (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کی وجہ سے ہوتی ہیں۔دنیا بھر میں پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کرنا جرم ہے۔ لیکن پاکستان میں صرف کاغذوں کے حد تک، گاڑیوں، ہوٹلوں، دفاتر حتی کہ صحت کے مراکز میں بھی آپ بطور پسیو سموکر متاثر ہوتے ہیں، مگر پوچھنے والا کیوئی نہیں۔

    پاکستان میں مردوں کی کینسر سے ہونے والی اموات میں سے 23 فیصد منہ کے کینسر اور پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان دونوں کا براہ راست تعلق تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو مجموعی طور پر پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) سے ہونے والی 17.53 فیصد اموات کا ذمہ دار ہے۔ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے جن کی عمر قریبا 15 سال سے 17 کے درمیان ہوتی ہے جو تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے نیکوٹین کی لت کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی صحت برباد کرتے ہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی، ذہنی نشوونما اور مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں۔

    معاشی تباہی اور تمباکو نوشی:
    یون کہنے کو تو تمباکو کی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لیکن یہ دلیل اس وقت بالکل کھوکھلی ثابت ہو جاتی ہے جب ہم اس کا معاشی حساب کریں۔
    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) 2021 کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کا کل سالانہ معاشی بوجھ 615.07 ارب روپے (یعنی 3.85 ارب امریکی ڈالر) ہے۔ جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ یہ تمباکو صنعت کی حکومتی آمدنی سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
    ۔PubMed میں شائع 2022 ایک آرٹیکل کے مطابق کیسنر، دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف جیسی تین بڑی بیماریوں کا علاج معالجہ اکیلے 437.8 ارب روپے (2.7 ارب ڈالر) سالانہ کھا جاتا ہے۔ اگر یہ پیسہ صحت، تعلیم یا دیگر ملکی بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تو کتنے ہسپتال بن سکتے ہیں، کتنے اسکول کھل سکتے ہیں، کتنے غریب گھرانوں کی زندگی بدل سکتی ہئے۔ تمباکو نوشی صرف انسانی صحت کا دشمن نہیں، بلکہ معاشی قاتل بھی ہے۔

    پاکستان نے 2004 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) پر دستخط کیے۔ اس کے بعد سے ملک میں تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں کے قریب فروخت پر پابندی، تشہیر پر پابندی وغیرہ ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ تمباکو پروڈکٹس پر ٹیکس کے حوالے سے بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ جبکہ بھاری ٹیکس لگانا، تمباکو نوشی میں کمی کا بہت موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔
    ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ GATS 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن یہ کمی ناکافی ہے اور اس رفتار کو بہت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ نسل تباہ ہوجائے گی۔ تمباکو کا دھواں صرف سگریٹ کی نوک سے نہیں اٹھاتا بلکہ یہ معاشی وسائل اور قومی مستقبل کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

    (نوٹ: یہ آرٹیکل مختلف سائنسی و تحقیقاتی رپورٹس سے ماخوذ ہے)