Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ علی المرتضی ،تحریر:ماریہ خان

    شانِ علی المرتضی ،تحریر:ماریہ خان

    خاموش ہے تو دین کی پہچان علی ہے
    گر بولے تو لگتا ہے قرآن علی ہے
    شان علی المرتضی علیہ السلام کی عظمت و شان قطعی الثبوت ہے – حضرت علی ابن ابی طالب (ض) پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا زاد بھائی، داماد اور چوتھے خلیفہ راشد تھے – آپ کعبہ میں پیدا ہوے، اور اپنی بے مثال شجاعت اور علم کے باعث اسلامی تاریخ میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں –
    * شجرہ نسب ۔
    حضرت علی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو ہاشم سے تھا، والد ابو طالب ( اصل نام عبد مناف) بنو ہاشم کے سردار اور کعبہ کے متولی تھے – اور والدہ فاطمہ بنت اسد،
    * نسب نامہ ۔ علی ابن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی
    * ابتدائی زندگی اور اسلام ۔
    روایات کے مطابق آپ 13 رجب کو تقریباً (599ء یا 600ء) مکہ مکرمہ میں میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوے،
    * تربیت۔
    چونکہ آپکے والد مالی مشکلات کا شکار تھے، اس لیے آپکی پرورش خود نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر ہوئی
    * قبول اسلام ۔
    آپ نے کم عمری میں ہی اسلام قبول کیا، اور سب پہلے اسلام قبول کرنے والے بچوں میں آپکا شمار ہوتا ہے ۔

    فارسی زبان میں ایک شعر ہے ؎

    علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
    ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی !
    اس کا اُردو میں مطلب ہے:
    ” علی پاک میرے امام ہیں ، اور میں علی پاک کا غلام ہوں ۔
    میری ایک نہیں ، ہزار قیمتی جانیں بھی نامِ علی پر فِدا ۔ "علی پاک کا امام ہونا ، اور میرا غلام ہونا ، کسی شرف سے کم نہیں ؛ یہ میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔
    یہاں اس کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں ۔
    پہلا یہ کہ:
    مولاعلی کی غلامی اتنی عظیم تھی کہ جب مجھے میسر آئی تو میری جان گرامی ( قیمتی اور بیش بہا ) ہوگئی ۔
    اب میرا جی چاہتا ہے کہ ایسی قیمتی ایک جان نہیں ، ہزاروں جانیں بھی ہوں تو اس سرکار کے نام پر قربان کردوں ۔
    دوسرا یہ کہ:
    علی پاک کےنام پر ایک جان سے نہیں ، ہزار قیمتی جانوں سے قربان ۔۔۔۔ مجھے آپ کی غلامی کی صورت میں رب تعالیٰ نے کتنی بڑی دولت عطا فرمائی !!
    علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
    ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی
    حضرت علی المرتضی علیہ السلام وہ خوبصورت ہستی ہیں ۔کہہ انکی شان میں جتنا بھی لکھا جائے بہت کم ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ انمول ہیرا جسکو شیر خدا کا لقب ملا ۔انکی جرآت بہادری شجاعت دلیری کی داستانیں کسی بھی مسلمان سے چھپی نہیں ہیں ۔رسول اللہ اور انکے گھرانے سے محبت و عشق رکھنے والے اس اہمیت بخوبی آگاہ ہیں ۔
    یہ وہ شیر وہ جرآت مند ہستی ہے غدیر میں اللہ کے رسول (ص) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بلند کر کے ارشاد فرمایا ۔
    «مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ» ایک صحیح حدیث ہے جو پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی بن ابی طالب کے بارے میں فرمائی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ "جس کا میں دوست، مددگار اور سردار ہوں، علی بھی اس کے دوست، مددگار اور سردار ہیں۔”
    18 ذی الحج جس دن حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین کے ھجوم میں سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم کا ھاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا ۔:۔
    مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
    ’’جس کا میں مولا ھوں اُس کا علی مولا ھیں‘‘
    یہ اعلانِ ولایتِ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تھا جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اھلِ ایمان پر ھوتا ھے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ھوتا ھے کہ جو ولایتِ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا منکر ھے وہ ولایتِ محمدیﷺ کا منکر ھے
    اس مسئلہ پر بعض لوگ بوجہِ جہالت متردّد رھتے ھیں اور بعض لوگ بوجہِ عناد و تعصّب
    یہ تردّد اور انکار اُمّت میں تفرقہ و انتشار میں اضافہ کا باعث بن رھا ھے ۔
    ایک اور روائیت میں یہاں بیان کرنا چاہوں گی ۔
    ایک دفعہ رسول اللہ (ص) مجلس میں بیٹھے تھے ۔اور دوسری طرف غلام علی ایک جنگل میں مصیبت میں پھنس گئے… ایک آدمی انکا سر قلم کرنے لگتا ہے تو انکی زبان بے اختیار اللہ اس کے رسول کی مدد کے لیے التجا ء جاری ہو جاتی… وہ ظالم جیسے ہی تلوار اٹھا کر گردن پر رکھتا ہے… اور تلوار چلا نے سے پہلے ہی کوئی نقاب پوش آتا ہے اور اس ظالم کا سر دھڑ سے الگ کر دیتا ہے… غلام علی یہ ماجرا دیکھ رہے اور حیران ہو رہے ہیں کہہ گھوڑے پر یہ نقاب پوش اس گھنے ویران جنگل میں اچانک کیسے میری مدد کو پہنچ گئے ۔۔۔
    خیر وہ آدمی رسول اللہ (ص) کے پاس تشریف لے جاتا ہے اور سارا ماجرا بیان کرتا ہے ۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہہ اے اللہ کے بندے وہ شیر خدا حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔تو نے خود ہی تو مدد کے لیے اپنے رب کے آگے فریاد کی تھی ۔۔

    اور آج بھی ہم اپنی ہر مشکل پریشانی محمد و آل محمد کے وسیلے سے ۔علی اولاد علی کے وسیلے سے اپنے رب سے تمام تر پریشانیوں اور مشکلات کا حل مانگتے ہیں ۔ یہ وہ اللہ کے پیارے ہیں ۔جن کے دور حکومت میں انسانیت، بھائی چارہ، بچوں پر شفقت، بزرگوں کا احترام تھا ۔کسی یتیم کا مال کھایا نہیں جاتا تھا ۔ حضرت علی اور حضرت عمر کے دور خلافت میں بیت المال سے غریبوں کی مدد ہوتی تھی… ایک وقت ایسا بھی آیا… مدد کرنے والے ہزاروں تھے ۔بیت المال کا خزانہ بھرا تھا مگر مدد لینے والا کوئی مستحق نہیں تھا ۔
    رب تعالیٰ سے دعا ہے کہہ وہ ہم تمام امت مسلمہ کو اپنے رسول (ص) محمد و آل محمد اور علی المرتضی و الاد علی اور ان کے گھرانوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے ۔اور روز قیامت انکا سایہ شفقت ہمیں نصیب ہو ۔ تاکہ ہم دیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں ۔

  • ہم اور سسٹین ایبلٹی،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہم اور سسٹین ایبلٹی،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دنیا کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ انسان اپنی ترقی پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اس ترقی کے نتائج سے خوفزدہ بھی ہے۔ ایک طرف فلک بوس عمارتیں، جدید صنعتیں، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار ترقی کا سفر جاری ہے، تو دوسری طرف درخت کم ہو رہے ہیں، دریا سکڑ رہے ہیں، زیرِ زمین پانی نیچے جا رہا ہے، موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں اور بارشیں رحمت کے بجائے بعض اوقات زحمت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے دنیا کو ایک نئے تصور کی طرف متوجہ کیا ہے، جسے "سسٹین ایبلٹی” یا "پائیداری” کہا جاتا ہے۔
    سسٹین ایبلٹی دراصل ایک سوچ، ایک ذمہ داری اور ایک طرزِ زندگی کا نام ہے۔ اس کا مطلب صرف ماحول کو صاف رکھنا نہیں بلکہ قدرتی وسائل کو اس انداز سے استعمال کرنا ہے کہ ہماری ضروریات بھی پوری ہوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔ افسوس کہ ہم نے ترقی کو صرف سڑکوں، عمارتوں اور کارخانوں تک محدود کر دیا، جبکہ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں انسان اور قدرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔
    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کبھی شدید گرمی، کبھی بے وقت بارشیں، کبھی خشک سالی اور کبھی تباہ کن سیلاب ہماری معیشت، زراعت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ حالات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم نے قدرت کے ساتھ انصاف کیا ہے؟
    حالیہ مون سون بارشوں نے ایک بار پھر ہماری تیاریوں کا امتحان لیا۔ چند گھنٹوں کی بارش نے کئی شہروں کو پانی میں ڈبو دیا، سڑکیں تالاب بن گئیں، نکاسی آب کے نظام کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا بارش قصوروار ہے؟ ہرگز نہیں۔ بارش تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر ناقص منصوبہ بندی، بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قبضے اس رحمت کو زحمت میں بدل دیتے ہیں۔
    اگر ہم سسٹین ایبلٹی کے اصول اپنالیں تو بارش کا یہی پانی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کے لیے ری چارج ویل بنائے جا سکتے ہیں، شہروں میں ایسے فرش اور کھلے مقامات بنائے جا سکتے ہیں جہاں پانی آسانی سے زمین میں جذب ہو، اور نکاسی آب کا ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو ہر بارش کے بعد شہریوں کو پریشانی سے بچائے۔
    دیہی پاکستان میں سسٹین ایبلٹی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ کسان پانی کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی اور موسمی بے یقینی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر ہم بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، جدید آبپاشی کے نظام، شجرکاری اور پانی کے دانشمندانہ استعمال کو فروغ دیں تو زرعی شعبہ نہ صرف مضبوط ہوگا بلکہ غذائی تحفظ بھی بہتر ہوگا۔ پانی کا ہر قطرہ مستقبل کی معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم روزانہ سینکڑوں لیٹر پانی ضائع کرتے ہیں، بجلی کا غیر ضروری استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال جاری رکھتے ہیں اور درخت کاٹنے کو ترقی سمجھتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ قدرت کبھی بھی انسان کی بے احتیاطی کو ہمیشہ برداشت نہیں کرتی۔ آج اگر ہم ماحول کا خیال نہیں رکھیں گے تو کل ماحول ہماری زندگیوں کو مشکل بنا دے گا۔
    اسلام نے بھی ہمیں پائیدار زندگی کا درس دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اسراف سے روکا گیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے پانی کے استعمال میں بھی اعتدال کی تعلیم دی، خواہ پانی بہتے دریا سے ہی کیوں نہ لیا جا رہا ہو۔ یہ تعلیمات آج کے جدید تصورِ سسٹین ایبلٹی سے مکمل ہم آہنگ ہیں اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ماحول کی حفاظت دراصل ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    میڈیا، تعلیمی ادارے، صنعتیں، مقامی حکومتیں اور ہر شہری اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر شخص سال میں ایک درخت لگائے، بارش کے پانی کو محفوظ کرے، بجلی اور پانی کی بچت کرے، کوڑا مناسب جگہ پر پھینکے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائے تو یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑے قومی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
    ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ سسٹین ایبلٹی صرف ماحولیات کا موضوع نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، زراعت، صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ جو قومیں آج قدرتی وسائل کی حفاظت کر رہی ہیں، وہی کل ترقی یافتہ اور خوشحال ہوں گی۔ جو قومیں قدرت کو نظر انداز کریں گی، انہیں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحرانوں کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں قدرت کو اپنا ساتھی بنائیں، اس کا مخالف نہیں۔ بارش کو نعمت سمجھ کر محفوظ کریں، درختوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، پانی کے ہر قطرے کی قدر کریں اور اپنے شہروں و دیہات کو پائیدار ترقی کی مثال بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، سرسبز، خوشحال اور محفوظ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔
    آئیے! آج یہ عہد کریں کہ ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی جئیں گے، کیونکہ سسٹین ایبلٹی صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ہماری بقا، ہماری ذمہ داری اور ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے

  • کھوسہ ہاؤس اقتدار سے بالاتر ایک سیاسی و قبائلی طاقت،تحریر: جواد اکبر بھٹی

    کھوسہ ہاؤس اقتدار سے بالاتر ایک سیاسی و قبائلی طاقت،تحریر: جواد اکبر بھٹی

    پاکستانی سیاست میں کچھ شخصیات اور خاندان ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا پیمانہ صرف اقتدار نہیں ہوتا بلکہ ان کا اثر و رسوخ، عوامی روابط، سیاسی بصیرت اور قبائلی وقار انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ کھوسہ خاندان بھی انہی چند خانوادوں میں شامل ہے جنہوں نے دہائیوں تک جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ قومی سیاست میں اپنی ایک الگ شناخت برقرار رکھی۔

    سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کا شمار ملک کے سینئر ترین سیاسی و قبائلی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں وفاداری، ثابت قدمی اور اصول پسندی کی ایسی مثال قائم کی جسے آج بھی احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مشکل ترین دور میں جب بہت سے سیاسی چہرے راستے بدل رہے تھے، سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے رہے اور سیاسی استقامت کی ایک روشن مثال بنے۔

    گزشتہ چند برسوں سے کھوسہ خاندان براہِ راست حکومتی ایوانوں میں نمایاں کردار ادا نہیں کر رہا تھا، جس کے باعث بعض سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ شاید کھوسہ خاندان کا سیاسی سورج غروب ہو چکا ہے۔ تاہم سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال کے بعد کھوسہ ہاؤس میں ملک بھر کی سیاسی، قبائلی اور مذہبی قیادت کی غیر معمولی آمد نے اس تاثر کو یکسر غلط ثابت کر دیا۔ اور بلکہ چار ماہ گزرنے کے بعد تک یہ سلسلہ نہ تھم سکا۔

    سابق وزیراعظم و چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، سردار عبد الرحمن کھیتران، ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ، سجادہ نشین دربار فرید خوجہ معین الدین محبوب کوریجہ، خواجہ عامر کوریجہ، چیئرمین رویت ہال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد، مخدوم احمد محمود خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری اور مختلف صوبوں کے گورنرز، وفاقی و صوبائی وزراء، قبائلی عمائدین اور سیاسی شخصیات کی مسلسل آمد نے واضح کر دیا کہ کھوسہ خاندان آج بھی قومی سطح پر ایک بااثر اور قابلِ احترام سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان سے خیبر پختونخوا، سندھ سے کشمیر تک مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کھوسہ ہاؤس کا رخ کرنا دراصل سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی شخصیت اور خدمات کا اعتراف تھا۔

    سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کا اصل اثاثہ ان کے وسیع سیاسی تعلقات، عوامی خدمت اور رواداری پر مبنی سیاست تھی، جو آج بھی ان کے خاندان کی سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ ان کے فرزندان اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کھوسہ ہاؤس آج بھی جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

    خصوصاً سردار دوست محمد خان کھوسہ اپنی منفرد شخصیت، وسیع حلقۂ احباب اور سیاسی بردباری کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس مسلسل مختلف لیڈران کے آنے میں سردار دوست محمد خان کھوسہ کا بھی اہم کردار رہا۔ ان کی سیاست ذاتی مفادات کے بجائے انسانی تعلقات، رواداری اور خدمت کے اصولوں پر استوار نظر آتی ہے۔ وہ ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بناتے بلکہ سیاسی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے صرف ان کی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی مکاتبِ فکر میں بھی موجود ہیں۔

    کھوسہ خاندان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اصل سیاسی قوت صرف وزارتوں اور عہدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ بعض شخصیات اور خاندان اپنے کردار، عوامی اعتماد اور تاریخی خدمات کی وجہ سے ایک ادارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس بھی ایسے ہی سیاسی مراکز میں شامل ہے جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

    سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور عوامی خدمت کی روایت آج بھی زندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

    "شخصیات رخصت ہو جاتی ہیں، مگر کردار اور خدمات تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔”

  • کسی کام میں تسلسل قائم رکھنا ہی اصل کامیابی  ـتحریر نور فاطمہ

    کسی کام میں تسلسل قائم رکھنا ہی اصل کامیابی ـتحریر نور فاطمہ

    کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں اور بڑے جوش کے ساتھ آغاز بھی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ہی دنوں یا ہفتوں بعد وہ جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور کام ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ چھوٹے قدم روز اٹھاتے ہیں، رکاوٹوں کے باوجود نہیں رکتے، وہی آخر میں منزل تک پہنچتے ہیں۔ اسی کا نام تسلسل ہے۔

    تسلسل کا مطلب ہے کسی ایک کام کو وقفے وقفے سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے رہنا۔ یہ کوئی بہت بڑا قدم نہیں مانگتا۔ یہ روزانہ کا تھوڑا سا عمل مانگتا ہے۔ ایک مصنف روز ایک صفحہ لکھے تو ایک سال میں 365 صفحے کی کتاب بن جاتی ہے۔ ایک طالبعلم روز 30 منٹ پڑھے تو سال کے آخر میں وہ سب سے آگے ہوتا ہے۔ ایک کاروباری شخص روز ایک نیا گاہک سے بات کرے تو سال بھر میں اس کا نیٹ ورک بہت بڑا بن جاتا ہے۔ بڑی کامیابیاں دراصل چھوٹے تسلسلوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی وہ ذہین ترین نہیں تھے، بلکہ سب سے زیادہ مستقل مزاج تھے۔ تھامس ایڈیسن نے بلب بنانے کے لیے ہزاروں بار ناکامی کے بعد بھی تجربہ کرنا نہیں چھوڑا۔ وہ کہتے تھے "میں ناکام نہیں ہوا، میں نے صرف 10 ہزار طریقے دریافت کیے ہیں جو کام نہیں کرتے۔” یہ تسلسل ہی تھا جس نے انہیں کامیاب بنایا۔ اسی طرح کوئی کھلاڑی ایک دن میں چیمپئن نہیں بنتا۔ وہ روز گر کر اٹھتا ہے، روز پریکٹس کرتا ہے، تب جا کر اس کے ہاتھ میں میڈل آتا ہے۔

    تسلسل کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ عادت بن جاتا ہے۔ جب آپ کوئی کام روز کرتے ہیں تو دماغ اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔ پھر اس کے لیے اضافی محنت یا حوصلے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جیسے دانت صاف کرنا، نماز پڑھنا۔ شروع میں مشکل لگتا ہے، پھر یہ خودکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ 21 سے 66 دن تک کسی کام کو مسلسل کریں تو وہ آپ کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

    لیکن تسلسل قائم رکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "کامل بننے کا انتظار” ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ جب وقت ملے گا، جب موڈ ہوگا، جب سب بہتر ہوگا تب شروع کریں گے۔ اور یہ "تب” کبھی نہیں آتا۔ کامیاب لوگ کامل حالات کا انتظار نہیں کرتے۔ وہ کم وسائل، کم وقت اور کم موڈ کے ساتھ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 50 فیصد محنت روزانہ، 100 فیصد محنت کبھی کبھار سے بہتر ہے۔

    یاد رکھیں، دریا بھی ایک ایک قطرے سے بنتا ہے۔ پہاڑ بھی ایک ایک پتھر سے اونچا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو بڑی چھلانگ لگانے کے بجائے روز کا ایک چھوٹا قدم منتخب کریں اور اسے کبھی مت چھوڑیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹیلنٹ، موقع اور قسمت سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن ان سب پر بھاری تسلسل ہے۔ کیونکہ تسلسل رکھنے والا شخص ہار ماننا سیکھتا ہی نہیں۔ اور جو ہار ماننا نہیں جانتا، ایک دن دنیا اسے کامیاب مان لیتی ہے۔

  • تبصرہ کتب،سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

    تبصرہ کتب،سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

    خلیفہ اول کے شرف وفضل ، خلافت اور تاریخی کارناموں کا دلنشین اور مستند تذکرہ

    تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ میں سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ کے تابندہ نقوش کو نہایت مدلل، رواں اور دل نشیں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اسلوب اور تحقیقی اعتبار سے سیرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پر لکھی جانے والی کتب میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز العمری کی یہ کتاب ایک نیا اضافہ ہے ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز العمری کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ وہ 1958ء سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پیدا ہوئے تاہم ڈاکٹر صاحب کا اصل اور قابل فخر تعارف یہ ہے کہ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مبارک نسل میں سے ہیں اس لیے وہ اپنے نام کے ساتھ ’’ العمری ‘‘ لکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز عصرِ حاضر کے معروف محقق، سیرت نگار اور اسلامی علوم کے ممتاز اہلِ علم ہیں۔ انہوں نے قرآن، حدیث، تاریخِ اسلام اور سیرتِ نبویﷺ کے میدان میں قابلِ قدر علمی خدمات انجام دی ہیں، جس کی بدولت ان کی تصانیف علمی حلقوں اور عام قارئین میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی قابل قدر تالیف ’’ سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘‘ دارالسلام انٹرنیشنل نے خوبصورت اور جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے جبکہ دارالسلام انٹر نیشنل کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ صداقت اکرام نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ کتاب کا ترجمہ رواں اور شستہ ہے ۔ صرف صحیح اور مستند روایات کو ہی بنیاد بنایا ہے ۔ کتاب کا آغاز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نسب، اخلاق و کردار اور نمایاں اوصاف سے ہوتا ہے، پھر اسلام قبول کرنے کی سعادت، رسول اکرم ﷺ سے بے مثال محبت، دعوت و تبلیغ، ہجرت، غارِ ثور، غزوات میں شرکت، خلافت، فتنۂ ارتداد کے خلاف استقامت، قرآنِ کریم کی جمع و تدوین، عدل و انصاف، حسنِ انتظام اور دیگر تاریخی و ایمانی موضوعات کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ فہرستِ مضامین ہی اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ کتاب نے سیرتِ صدیقی کے تقریباً ہر اہم گوشے کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔
    اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ کردار سازی کا ایک مؤثر نصاب بھی ہے۔ صداقت، وفاداری، شجاعت، حلم، سخاوت، عبادت، زہد، علم، قیادت، عدل اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل جیسے اوصاف کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عملی زندگی کے آئینے میں پیش کیا گیا ہے۔ یوں قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی شخصیت سنوارنے اور اپنی عملی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ عبارت میں غیر ضروری پیچیدگی نہیں، اسلوب میں روانی اور اندازِ بیان میں علمی وقار کے ساتھ ادبی لطافت بھی نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب مدارس کے طلبہ، جامعات کے محققین، خطباء ، ائمہ، اساتذہ اور عام قارئین سبھی کے لیے یکساں مفید ہے۔ ہر باب قاری کو اگلے باب کی طرف متوجہ کرتا ہے اور مطالعہ کسی بوجھ کے بجائے ایک خوشگوار علمی سفر بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ مسلم معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور قیادت کے بحران سے دوچار ہے، ایسی کتابیں محض تاریخی سرمایہ نہیں بلکہ اصلاحِ احوال اور تعمیرِ کردار کا مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو خلافتِ راشدہ کے پہلے خلیفہ کی عظیم شخصیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا چاہتا ہے اور اپنی زندگی میں صداقت، اخلاص، ایثار اور وفاداری جیسی صدیقی صفات کو اپنانے کا خواہاں ہے۔ موجودہ دور میں جب معاشرہ اخلاقی انحطاط، سیاسی انتشار، قیادت کے بحران، بدعنوانی، وعدہ خلافی، مفاد پرستی اور عدل و دیانت کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، اس تناظر میں "سیرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ کتاب صرف عوام ہی نہیں بلکہ حکمرانوں، اربابِ اقتدار، منتظمین، علماء ، اساتذہ اور نوجوان نسل کے لیے بھی ایک عملی رہنما ہے جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ریاست کی حقیقی مضبوطی طاقت، دولت یا اقتدار سے نہیں بلکہ صداقت، عدل، امانت، دیانت، مشاورت، جواب دہی اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے قائم ہوتی ہے۔256صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 1400روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شور روم ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر 042-37324034پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • "پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار”.تحریر:قرۃالعین خالد

    "پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار”.تحریر:قرۃالعین خالد

    پائیدار ترقی کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم ایک ایسا مستقبل بنائیں جو معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط اور دیر پا ہو۔ معاشرے میں خواتین کل آبادی کا پچاس فیصد حصہ ہیں اگر ہم اپنی آدھی آبادی کے ہنر، ان سوچ اور ان کی کاروباری صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم کبھی بھی اپنی پوری معاشی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتے۔ جب خواتین کو کاروبار کرنے، تعلیم اور فیصلہ سازی میں برابری کے مواقع ملتے ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا فائدہ خاندان، معاشرے اور ملکی معیشت کو ہی جاتا ہے۔ جب کوئی خاتون تاجر ہو یا ملازمت پیشہ ہو تو وہ معاشی طور پر خود کفیل ہوتی ہے۔ اس کی یہ ترقی صرف اپنے گھر تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ لہذا پائیدار ترقی کے لیے خواتین کا کردار صرف اہم نہیں بلکہ بے حد ضروری ہے۔

    خواتین پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔خواتین گھر کی مینجر ہوتی ہیں۔ گھر کا بجڈ بنانا، کچن کے انتظامات کو دیکھنا، روزمرہ کے مسائل کے انتظامات کی بھاگ دوڑ زیادہ تر انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس لیے وہ روز مرہ زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں بھی لا سکتی ہیں اگر ہم گھریلو سطح پر دیکھیں تو محدود وسائل میں بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور یہ سب کام خواتین ہی کر سکتی ہیں۔ ہم اکثر خواتین کو فور گرانٹڈ لیتے ہیں جبکہ خواتین اگر کسی کام کا ارادہ کر لیں تو اسے پورا کر کے رہتی ہیں۔ گھر کی مینجر ہونے کی حیثیت سے وہ پانی کی بچت کرنے میں اپنا کردار ادا سکتی ہیں جیسے کچن میں برتن دھوتے وقت، کپڑے دھوتے وقت، صفائی کے دوران پانی کو ضائع ہونے سے بچا سکتی ہیں۔ جیسے سبزی دھوتے وقت وہی پانی بعد میں پودوں میں ڈال کر پانی کے ضیاء کو روکا جا سکتا ہے۔ ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی خواتین کچرے کا بہترین استعمال کر سکتی ہیں۔ جیسے کہ ویسٹج مٹیریل جو گیلا کچرا ہوتا ہے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں کی صورت میں ان کو الگ ٹوکری میں رکھیں اور جو سوکھا کچرا ہے جیسے پلاسٹک باٹلز، کاغذ وغیرہ اس کو الگ ٹوکری میں رکھیں۔ پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے پودوں کے لیے بہترین اور قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ خواتین پلاسٹک کا بائیکاٹ کرتے ہوئے خریداری کے لیے پلاسٹک کی تھیلیوں کی جگہ کپڑوں کے تھیلے استعمال کرنا شروع کر دیں تو ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔ وہ بجلی کی بچت پر توجہ دے سکتی ہیں۔ دن کے وقت مصنوعی روشنی کی بجائے قدرتی روشنی یعنی سورج کی روشنی پر کام چلایا جا سکتا ہے۔ ضرورت نہ ہونے پر پنکھے، بلب اور استری کو فورا بند کر دیا جائے۔ ایک بہت اہم نقطہ خواتین کے کردار کے حوالے سے کہ جو نئی نسل کی تربیت اور سماجی شعور ایک ماں اپنی اولاد میں پیدا کر سکتی ہے یہ کام کوئی اور اتنے احسن طریقے سے نہیں کر سکتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے تو مائیں اپنے بچوں میں بچپن سے ہی یہ شعور ڈال سکتی ہیں کہ وہ بجلی اور پانی کو ضائع نہ کریں۔ کوڑا باہر نہ پھینکیں، درختوں سے محبت کرنا پودوں سے محبت کرنا سکھا سکتی ہیں۔ پھر ایک خاتون کا کردار اپنے گھر تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول اور اپنی کمیونٹی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خواتین اپنے محلے سہیلیوں اور فیملی سرکل میں ماحول دوست عادتوں پر بات چیت کر سکتی ہیں۔ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلا سکتی ہیں۔ جیسے ہم محتلف محفلوں میں بیٹھتے ہیں ہم بس ادھر اُدھر کی باتوں میں وقت کو ضائع کرتے ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ ہم کسی ایسے موضوع پہ بات کریں جو کہ نفع مند ہو پھر پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار اس حوالے سے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پائیدار فیشن اور دستکاریوں کے لحاظ سے کپڑوں کی پائیداری کا استعمال کر سکتی ہیں اور فیشن انڈسٹری جو کہ آلودگی پھیلانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ خواتین کپڑوں کو ضائع کرنے کی بجائے اسے ری سائیکل کر سکتی ہیں۔ پرانے کپڑوں سے نئی اشیاء تخلیق کر سکتی ہیں۔ جسے کشن کور، بیڈ شیٹس یا تھیلے وغیرہ بنا کر ان کو جدت دی جا سکتی کے۔ اگر کوئی خاتون اپنا چھوٹا کاروبار یا ہینڈ میڈ کام کرتی ہیں تو وہ کیمیکلز اور پلاسٹک کی بجائے ماحول دوست اور آرگینک مواد استعمال کر کے آلودگی کو کم کر سکتی ہے۔ پائیدار ترقی کے حوالے سے خواتین ایک اور جگہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں گھروں میں کچن گارڈن اور شجرکاری کو فروغ دے سکتی ہیں۔ خواتین اپنے گھر کے صحن، بالکنی یا چھت پر چھوٹے پیمانے پر پودے اور سبزیاں اگا سکتی ہیں۔ چھوٹے گملوں میں ٹماٹر، مرچیں، دھنیا وغیرہ، جنہیں ہم کچن گارڈن کہتے ہیں یہ نہ صرف گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ ہوا کو صاف رکھنے اور درجہ حرارت کو کم کرنے میں بھی بہت زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

    خواتین ہمارے معاشرے کا ایسا حصہ ہیں جو صرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا طبقہ نہیں بلکہ وہ اس مسئلے کا سب سے بڑا حال بھی ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو ماحولیاتی مسائل کی درست تربیت اور شعور دیں گے تو وہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کو ماحول دوست بنا دیتی بنا دے گی۔ ان شاءاللہ! ایک خاتون جب اپنے گھر کی اشیاء کو زیرو ویسٹ یعنی کم سے کم کچڑا اور ذیادہ بچت کی طرف لے جاتی ہے تو وہ براہ راست پائیدار ترقی کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں گھریلو خاتون کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی خواتین کو آگہی نہیں دی تو کل بہترین معاشرہ کیسے بنے گا؟ ایک عورت کے علم و شعور سے صرف ایک گھرانہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ مستفیض ہوتا ہے۔ پڑھی لکھی باشعور ماں ایک بہترین معاشرہ تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن بخثیت معاشرہ ہم عورت کی صلاحیتوں کو صرف چند لوگوں تک محدود کر دیتے ہیں۔ جبکہ رب العزت نے جب انسان کی صلاحیتوں تخلیق کی تھیں تو اس نے مرد اور عورت کو الگ الگ نہیں رکھا تھا۔ صنفی فرق سے الگ ہو کر سوچیں کہ جس کے پاس جو صلاحیت ہے اس کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے معاشرے کے لیے نفع مند بننا ہے تو ہم اپنی آبادی کے پچاس فیصد حصے کو نہ فراموش کر سکتے ہیں نہ پس پشت ڈال سکتے ہیں۔ لہذا اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور جیو اور جینے دو کے فارمولے کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔

  • "سوزشِ زمین اور ہمارا مستقبل”،تحریر:قرۃالعین خالد

    "سوزشِ زمین اور ہمارا مستقبل”،تحریر:قرۃالعین خالد

    دور حاضر میں پاکستان جن بڑے بڑے چیلنجز کی زد میں ہے، ان میں سے سب سے خاموش لیکن سب سے زیادہ تباہ کن چیلنج موسمیاتی تبدیلی ہے۔ کبھی بن موسم کے شدید بارشیں اور بادل پھٹنے کے واقعات، کبھی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں، گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا اور موسمِ سرما میں شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی بدترین سموگ۔ یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ ہمارا ماحول اب معمول کے مطابق نہیں رہا۔ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
    اکثر و بیشتر ہمارے ملک میں شدید سیلاب یا قحط کو صرف ایک آسمانی آفت کہہ کر ساری ذمہ داری قدرت پر ڈال دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ حقیقتاً قدرتی عوامل سے انکار ممکن نہیں، لیکن سائنسی اور حقیقی نقطہ نظر سے اس تباہی میں بڑا قصور خود ہمارا ہے۔ دن بدن جنگل کٹتے جا رہے ہیں۔ عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ درختوں کا قتل عام جاری ہے اور درختوں کے قبرستانوں پر انسان اپنے خوابوں کے محل تعمیر کر رہے ہیں۔درخت! جو ہماری زمین کے پھیپھڑے ہیں اور سیلابی بہاؤ کو روکنے کی سب سے پہلی ڈھال ہیں۔ ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور لکڑی کی ہوس میں جنگلات کا بے دردی سے صفایا کر دیا۔ ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر تعمیرات اور نکاسیِ آب کے ناقص نظام نے معمولی بارش کو بھی تباہ کن سیلاب میں بدل دیا ہے۔ شہروں میں نالوں کو ڈھکا نہیں گیا اور ذرا سی بارش سے وہ نالے اپنے فضلے کے ساتھ سڑک پر ابل پڑتے ہیں۔ پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، گاڑیوں اور فیکٹریوں کا زہریلا دھواں، اور پانی کے ضیاء نے ماحول کے توازن کو بری طرح بگاڑ دیا ہے۔ یہ تمام عوامل بتاتے ہیں کہ آفت اگر آسمان سے نازک صورت میں آتی ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے اسے ایک ہولناک تباہی کا روپ دے دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہم کیا کریں؟ کیا کوئی خدائی فوج ہماری مدد کو آئے گی؟ یا ہم کسی معجزے کے انتظار میں ہیں؟ یاد رکھیے اس دنیا میں ہم اکیلے ہی آئے تھے اور اکیلے ہی جائیں گے تو یہاں جو کرنا ہے بغیر کسی مدد کے اکیلے ہی کرنا ہے۔ بحثیت ذمہ دار شہری ہمارا فرض ہے کہ ہم حکومت یا امدادی اداروں کا انتظار کیے بغیر اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔ ہر شخص سالانہ کم از کم دو درخت لگائے اور ان کی پرورش کرے۔ اپنے گھروں اور گلیوں میں سبزے کو فروغ دیں۔ پانی کے بے جا ضیاع کو روکیں۔ نلکے کھلے نہ چھوڑیں اور بجلی کی بچت کے لیے توانائی بچانے والے آلات استعمال کریں۔ پلاسٹک جو کہ ایک خاموش قاتل کی طرح ہماری زندگیوں میں موجود ہے اس سے بچیں اور کپڑے یا جوٹ کے تھیلے استعمال کریں۔ کچرا گلیوں یا ندی نالوں میں پھینکنے کے بجائے متعین جگہوں پر ڈالیں اور فضلہ جلانے سے پرہیز کریں تاکہ سموگ میں اضافہ نہ ہو۔ حکومتی طور پر دیکھا جائے تو وہ رعایا کی جان و مال کی محافظ ہوتی ہے لہذاموسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ہنگامی اور جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

    تمام حساس علاقوں میں جدید ترین سنسرز اور الرٹ سسٹم نصب کیے جائیں تاکہ سیلاب یا گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پہلے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگانی چاہیے اور مؤثر قوانین نافذ کیے جانے چاہیے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینی چاہیے۔ قومی سطح پر جنگلات کی بحالی کی مہمات کو صرف کاغذوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عمل میں لایا جائے۔ کوئلے اور تیل پر انحصار کم کر کے شمسی، ہوائی اور پن بجلی جیسے ماحول دوست ذرائع پر منتقل ہوا جائے۔ اس کے علاؤہ غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے اور شہروں میں پانی کی نکاسی کے نظام کو جديد خطوط پر استوار کیا جائے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی جائے تاکہ آلودگی پھیلانے والے بڑے صنعتی ممالک سے کلائمیٹ فنڈ اور نقصان و تلافی فنڈ حاصل کیے جا سکیں۔

    یاد رکھیے ۔۔۔۔۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب آنے والے وقتوں کے لیے نا صرف خطرہ ہے بلکہ آج کا تلخ سچ بھی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی روایتی غفلت کا مظاہرہ کیا تو ہماری آنے والی نسلوں کو ایک بنجر اور غیر محفوظ زمین ملے گی۔ یہ وقت الزامات تراشی کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اور ٹھوس حکومتی اقدامات کرنے کا ہے۔ زمین ہمارا واحد گھر ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اب اس طرز عمل سے نکلنے کا وقت ہے کہ کوئی کیا کر رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے جو دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں تقسیم کرتے ہیں رب العزت ان کی زندگی کو آسان کر دیتے ہیں۔ درخت لگائیے اپنے جینے کے لیے اور اپنوں کی زندگی کے لیے۔

  • پسند کا نکاح میرا حق ہے،تحریر:قرۃالعین خالد

    پسند کا نکاح میرا حق ہے،تحریر:قرۃالعین خالد

    "یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَحِلُّ لَكُمُ النِّسَاءَ كَرْهًا”
    "اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔”(سورۃ النساء: 19) اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر اس پر کسی قسم کا جبری فیصلہ مسلط کرنا اسلام میں بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ اسی طرح حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق کنواری، بیوہ یا مطلقہ سے ان کی مرضی پوچھے بغیر نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بیوہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس کی رضا مندی کے بغیر نہ کیا جائے۔ صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کنواری لڑکی کیسے اجازت دے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کا خاموش رہ جانا ہی اس کی اجازت ہے۔”(صحیح بخاری: 5136، صحیح مسلم: 1419)

    دور نبوی میں اگر والدین یا ولی لڑکی کی مرضی کے خلاف زبردستی نکاح کروا دیتے تو اسلام عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس نکاح کو ختم (منسوخ) کروا دے۔ خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی، تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو رد (منسوخ) فرما دیا۔ (صحیح بخاری: 5138) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دوشیزہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی ناگواری کے باوجود کر دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو اس نکاح کو برقرار رکھے یا ختم کر دے۔(سنن ابوداؤد: 2096، سنن ابن ماجہ: 1875) جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ اس نے آپ ﷺ کے پاس جا کر یہ قدم کیوں اٹھایا؟ تو اس نے تاریخی جواب دیا: "میں اپنے والد کے فیصلے کو نافذ رکھنا چاہتی تھی، لیکن میں عورتوں کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ نکاح کے معاملے میں ان کے باپ دادا کو (زبردستی کا) کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 1874)

    دین اسلام کے مطابق ایک عاقل اور بالغ لڑکی کو اپنی مرضی سے جیون ساتھی چننے اور نکاح کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کوئی معاشرتی یا خاندانی رسم و رواج عورت کو اس کے شرعی حق اور پسند سے محروم کرتا ہے، تو وہ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔ شریعت کے مطابق والدین، سرپرست یا ولی کو نصیحت اور مشورے کا حق تو حاصل ہے لیکن اپنی مرضی ٹھونسنے یا زبردستی نکاح کروانے کا بالکل بھی حق حاصل نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں عورت کی رضامندی اور مرضی کو نکاح کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے اور زبردستی کی شادی کو باطل اور قابل منسوخ ٹھہرایا گیا ہے۔ اپنی پسند کا نکاح کرنے کا اختیار ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے تو پھر آج معاشرے کو کیا مسلہ ہے کہ لڑکی سے یہ حق چھیننے میں سب اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ شادی ایک ذمہ داری ہے ایک ایسا بندھن جو نا صرف ایک خاندان بلکہ ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جن دو افراد کا ساتھ زندگی بھر کا ہوتا ہے ان کے علاؤہ باقی سارا خاندان ایک دوسرے کو ملتا ہے اور دعوتیں بھی اڑاتا ہے بس پردہ ہوتا تو ان دونوں فریقوں کے درمیان۔ سب خاندان والے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں ماسوائے ان دو افراد کے کہ جنہوں نے ساری زندگی اکھٹے گزارنی ہوتی ہے۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں سوائے دلھا دلھن کے بس وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے شادی ٹوٹنے سے بہتر منگنی اور رشتے کا ٹوٹ جانا ہے۔ خدارا اب تو زمانہ جاہلیت سے باہر آ جائیں اور جو حق عورت کو رب نے دیا ہے وہ اسے چیخ چیخ کر اس معاشرے سے کیوں مانگنا پڑ رہا ہے۔ جو حق رب العزت نے دیا ہے اس حق کو عورت کو استعمال کرنے دیں۔ وہ گرے گی، سنبھلے گی، ہمت کرے گی اور پھر اٹھے گی۔ اسے خود تجربے کی بھٹی میں جلنے دیں۔ اسے اپنی مرضی سے جینے دیں۔ وہ بھی انسان ہے اسے بھی انسان سمجھیں۔
    جیو اور جینے دو اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔

  • آبادی، پاکستان کا بڑا چیلنج،تحریر:صدف ابرار

    آبادی، پاکستان کا بڑا چیلنج،تحریر:صدف ابرار

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے ایک اہم قوت بھی بن سکتی ہے اور ایک سنگین بحران بھی۔ اگر اس آبادی کو معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہی نوجوان نسل پاکستان کی ترقی کا انجن ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر منصوبہ بندی نہ کی جائے تو یہی آبادی معیشت، قدرتی وسائل اور سماجی ڈھانچے پر ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق 2026 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 93 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کی یہی رفتار اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ پاکستان آنے والے برسوں میں آبادی کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوگا۔

    سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 69 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ 19 ہزار سے زائد بچے اس دنیا میں آتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر گھنٹے تقریباً 790 اور ہر منٹ 13 سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کا مطلب صرف آبادی میں اضافہ نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر روز ہزاروں نئے شہریوں کے لیے خوراک، صاف پانی، رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار کا بندوبست کرنا ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت اس رفتار سے ترقی نہیں کر رہی جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کمزور صنعتی ترقی، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور محدود مالی وسائل پہلے ہی ملکی معیشت کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں جب ہر سال لاکھوں نئے افراد روزگار کی منڈی میں شامل ہوتے ہیں تو معیشت کے لیے اتنی بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ملک میں بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری جانب تعلیمی اور طبی سہولیات بھی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا غیر معمولی دباؤ صحت کے نظام کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔

    اگرچہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو اکثر ایک "ڈیموگرافک ڈویڈنڈ” قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب حکومت تعلیم، ہنر مندی، صحت اور روزگار میں مؤثر سرمایہ کاری کرے۔ بصورتِ دیگر یہی نوجوان آبادی بے روزگاری، غربت اور سماجی بے چینی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

    پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی محض ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ملک کی معیشت، ماحول، وسائل اور مستقبل سے جڑا ہوا ایک قومی چیلنج ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں خوراک، پانی، توانائی، رہائش اور روزگار کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آبادی میں توازن پیدا کرنا، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنا اور پائیدار ترقی کو قومی ترجیح بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  • طلاق یافتہ عورت کے مسائل ،تحریر:  آمنہ خواجہ

    طلاق یافتہ عورت کے مسائل ،تحریر: آمنہ خواجہ

    طلاق یافتہ عورت صرف ایک رشتہ ختم ہونے کا نام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اکثر ایک ایسی آزمائش کا آغاز بن جاتی ہے جہاں اسے ہر قدم پر سوالوں، طعنوں، بے اعتنائی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ طلاق یافتہ عورت کی زندگی کو صرف ایک واقعے کی بنیاد پر پرکھتے ہیں لیکن اس کے حالات مجبوریوں ذہنی اذیت اور معاشرتی دباؤ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

    ہمارے معاشرے میں جب کسی عورت کی طلاق ہوتی ہے تو اکثر انگلیاں سب سے پہلے اسی کی طرف اٹھتی ہیں۔ لوگ بغیر حقیقت جانے فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ یقیناً غلطی عورت ہی کی ہوگی حالانکہ ہر ازدواجی تنازعے کی اپنی الگ وجوہات ہوتی ہیں اور کسی بھی رشتے کی ناکامی کا ذمہ دار صرف ایک فریق نہیں ہوتا۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقیقت کو جانا جائے نہ کہ افواہوں اور قیاس آرائیوں پر فیصلے صادر کیے جائیں۔

    طلاق یافتہ عورت اگر ملازمت علاج تعلیم یا کسی ضروری کام کے لیے اکیلی گھر سے نکلے تو اس کی عزت اور کردار پر سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہی لوگ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ اگر اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں، تو وہ اپنی ضروریات کیسے پوری کرے؟ ایک خوددار عورت اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہے مگر اسے سہارا دینے کے بجائے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    بدقسمتی سے بعض خاندانوں میں طلاق یافتہ بیٹی یا بہن کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ بھی اسی گھر کی اولاد ہوتی ہے جس گھر میں کبھی اس کی ہنسی گونجتی تھی۔ والدین کے بعد بعض اوقات اسے احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں پر بوجھ بن چکی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت محبت اور اپنائیت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
    دوسری شادی کے معاملے میں بھی معاشرے کا رویہ متضاد نظر آتا ہے۔ اگر ایک مرد دوسری شادی کرے تو اسے معمول کی بات سمجھا جاتا ہے لیکن اگر ایک طلاق یافتہ عورت دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اسے تنقید، طعنوں اور بے جا سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے بیوہ اور طلاق یافتہ عورت دونوں کو دوبارہ نکاح کا مکمل حق دیا ہے۔ اس حق کو معیوب سمجھنا نہ صرف سماجی ناانصافی ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

    کئی طلاق یافتہ خواتین کو یہ سننے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مفت کی روٹیاں توڑ رہی ہیں یا گھر پر بوجھ ہیں یہ الفاظ کسی بھی خوددار انسان کی عزتِ نفس کو شدید مجروح کرتے ہیں۔ اگر ایک عورت معاشی طور پر کمزور ہے تو اسے سہارا دینا، روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے، نہ کہ اسے ذلیل کرنا۔گھر کے کاموں میں بھی اکثر اس کی ہر کوشش میں نقص نکالا جاتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو مغرور کہلاتی ہے، اگر بولے تو بدتمیز قرار دی جاتی ہے۔ اگر بیمار ہو جائے تو بیماری کے بھی طعنے دیے جاتے ہیں مگر اس کے علاج دواؤں یا دیکھ بھال کی ذمہ داری لینے کے لیے بہت کم لوگ آگے آتے ہیں۔ یہ رویہ صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔

    معاشرتی اور نفسیاتی ماہرین بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طلاق کے بعد خواتین کو شدید ذہنی دباؤ اضطراب مالی مشکلات اور سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں خاندان، رشتہ داروں اور معاشرے کی اخلاقی حمایت ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ تحقیقی مطالعات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ سماجی تعاون انسان کو ذہنی دباؤ سے نکلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات بھی یہی سبق دیتی ہیں کہ کسی انسان کو اس کے حالات کی وجہ سے ذلیل نہ کیا جائے۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں حسنِ سلوک عدل رحم دلی اور ضرورت مندوں کی مدد پر زور دیا گیا ہے۔ طلاق ایک جائز مگر ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے، لیکن طلاق یافتہ عورت کی تذلیل یا اس کے حقوق سلب کرنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم طلاق یافتہ عورت کو ترس کی نہیں بلکہ عزت، انصاف اور برابری کی نگاہ سے دیکھیں۔ اسے بوجھ نہیں بلکہ ایک باوقار انسان سمجھیں اس کے کردار پر بلاوجہ فیصلے نہ سنائیں، اس کے لیے روزگار، تعلیم اور نئی زندگی کے مواقع پیدا کریں، اور اگر وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اس کے اس حق کا احترام کریں۔

    کسی عورت کی پہچان اس کی ازدواجی حیثیت نہیں بلکہ اس کا کردار، محنت، انسانیت اور عزتِ نفس ہونی چاہیے۔ معاشرہ اس وقت حقیقی معنوں میں مہذب کہلائے گا جب طلاق یافتہ عورت کو طعنوں کے بجائے سہارا، نفرت کے بجائے احترام، اور تنہائی کے بجائے اپنائیت ملے گی۔ کیونکہ ایک معاشرے کی اصل عظمت اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور آزمائش میں مبتلا افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔