Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرا تعارف،اعجاز الحق عثمانی

    میرا تعارف،اعجاز الحق عثمانی

    اس گلابی پہاڑوں کے پکھیرو کی آنکھ آبائی گاؤں خوشحال گڑھ میں کھلی۔ پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد آبائی گاؤں سے مزید تعلیم کے لیے رخصتی ہوئی، تو جھیل کنارے آباد کلرکہار کی رنگین فضاؤں میں،مختلف علمی کنوؤں سے پیاس بجھاتے بجھاتے آخر سائنس کالج کی حویلی مسکن بنی۔عارضی پنچھی نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کی راہ لی۔اور یہاں بالآخر طبیعت بے قرار کو چار سال قرار رہا۔اور پھر شہر ادب لاہور کی گنجان آباد بے ہنگم آبادی میں حصول علم کےلیے رہا۔دال دلیہ کمانے کے ساتھ ساتھ جب کبھی طبیعت بوجھل ہو تو قلم سے آڑی ترچھی لکیریں بھی کھینچ لیتا ہوں۔ لکھنے کا سفر کالج کے زمانے سے شروع ہوا، پہلے شاعری پھر نثر میں طالب عالمانہ کوششیں کیں۔ 17 سال کی عمر میں پہلی بار تحریریں کالج کے میگزین "طاؤس” میں شائع ہوئیں ۔ 18 برس کی عمر میں پہلی کتاب” انسائیکلوپیڈیا آف کلرکہار” شائع ہوئی تو یکے بعد دیگرے باغی ٹی وی، ہم سب اور روزنامہ اساس راولپنڈی کے صفحات مطبوعہ بھی افکار و مضامین کی پذیرائی اور اشاعت کا وسیلہ بنتے چلے گئے۔ریڈیو ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر معروف سوشل میڈیا چینل اردو پوائنٹ کو بطور اینکر جوائن کیا۔ اور گزشتہ برس دوسری کتاب "عثمانی نامہ” بھی پریس مشینوں کی مشقت کاٹ کر سامنے آگئی ہے۔

    تاحال سفر اور چلہ کشی جاری ہے۔ سیم تھور زدہ اور کلف نما معاشرہ قبول کرتا ہے، یا ساغر صدیقی کی طرح فٹ پاتھوں پر بیٹھنا پڑتا ہے، نہیں معلوم۔ مگر اندر کا خوابیدہ عثمانی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تو لکھنے پڑھنے لگتا ہوں۔
    میں کیوں لکھتا ہوں؟بے حس معاشرے خودرو جھاڑیوں کو بھلا کب اہمیت دیتا ہے؟ پرواہ نہیں۔ یاران تیز گام کے ساتھ کچھوے کی چال چلنا چاہتا ہوں۔تیز رفتاری سے حرکت قلب بند ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ میری علمی اور ادبی سفری روداد غم جاناں، غم دوراں ہے۔لکھنے پڑھنے سے اندرونی کیفیت پر قابو پاتا ہوں۔عمر عزیز کے آوائل میں دو کتابوں کا خالق ہوں، مگر عاشق مخلوق خدا کا ہوں۔پہاڑوں کا مرید ہوں اور وادیاں میری محبوبائیں۔ لفظوں سے تصویریں بنا بنا کر سکون حاصل کرنے کا متمنی ہوں۔ خیر اور محبت بانٹنا چاہتا ہوں۔والدین نے بولنا اور لفظوں کا استعمال سکھایا۔ اساتذہ نے لفظوں کی صحیح ادائیگی کا شعور دیا۔ بوڑھے تاش کے پتوں تک رسائی نہیں۔زندگی کے میلے میں اکیلا ہی ہوں۔فقیروں اور پنچھیوں کے مستقل گھر نہیں ہوتے۔ جامد نہیں سیارہ ہوں۔زندگی پرانا لحاف سہی۔پیوند کاری کا عمل تو جانتا ہوں،مگر پوندکاری کا نہیں۔

    طفل مکتب ہوں۔ زمانے سے جینے کا ڈھنگ سیکھ رہا ہوں۔ دریافت کا عمل درپیش ہے۔۔۔۔رام کہانی ترتیب دینی ہے۔لفظی کہانیاں بہت لکھ چکا ہوں۔کوچہ ادب کے دلداروں کا دلدادہ ہوں۔ اپنے خیالات میں غرقاب اور نیلاب کی کہانی لکھی۔ گرداب میں رہا تو شاداب خوشاب کی کہانی لکھی۔ یہ میں ہوں جی ہاں! مامے پھلے سے باتیں کرنے والا اعجاز الحق عثمانی

  • میرا تعارف،نادر فہمی

    میرا تعارف،نادر فہمی

    ادب اور فن کے میدان میں مجھ خاکسار کو نادر فہمی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میرا تعلق ضلع قصور کی سرزمین سے ہے جہاں لفظوں کی خوشبو اور کرداروں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

    میں نے اپنی زندگی کے 3 شعبوں کو اپنا مشن بنایا ہے

    1۔ شاعری
    میرا کلام انسان کے جذبات، سماجی مسائل اور خاص طور پر ہریانوی ثقافت کی ترجمانی کرتا ہے۔ میری کوشش ہے کہ میری شاعری صرف تفریح نہ ہو بلکہ شعور اور اصلاح کا ذریعہ بھی بنے۔

    2۔ رائٹنگ
    میں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا۔ میری تحریروں کا مقصد نئی نسل کو اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنی جڑوں سے جوڑنا ہے

    3۔ ایکٹنگ
    اسٹیج اور سکرین پر میں نے ہریانوی کرداروں کو زندہ کرنے کی کوشش کی تاکہ ہریانوی ثقافت کو ایک نئی پہچان ملے۔

    الحمدللہ مجھے درج ذیل اعزازات سے نوازا گیا:
    🏆:شان پاکستان ایوارڈ 2025
    🏆:شان پاکستان ایوارڈ 2026
    🏆:بہترین ہریانوی شاعر نوشاد قاصر ایوارڈ 2025
    🏆:بہترین ہریانوی ایکٹر ایوارڈ 2024
    🏆:الوکیل ادبی ستارے ایوارڈ 2025

    میرا ماننا ہے کہ ادب، فن اور ثقافت ہی کسی قوم کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔ میں اپنے قلم، اپنی آواز اور اپنے فن سے اسی مقصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھ سے ادب، زبان اور وطن کی خدمت لیتا رہے۔ آمین

  • وقت بدل گیا، ہم کیوں نہیں بدلے؟تحریر: سید ساجد علی شاہ

    وقت بدل گیا، ہم کیوں نہیں بدلے؟تحریر: سید ساجد علی شاہ

    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، زمانہ کروٹیں لے رہا ہے، ٹیکنالوجی نے زندگی کے انداز بدل دیے ہیں، معلومات چند لمحوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن ایک سوال مسلسل ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ آخر ہم کب بدلیں گے؟ ہم نے ترقی کے بے شمار دعوے کیے، منصوبے بنائے، تقریریں کیں، وعدے کیے، مگر عام آدمی آج بھی بنیادی مسائل کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، تعلیم، صحت، انصاف اور امن جیسے مسائل آج بھی ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں پہنچ گئی، سوال یہ ہے کہ ہم ابھی تک وہیں کیوں کھڑے ہیں؟ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار قرار دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے، اپوزیشن حکومت کو، ادارے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور عوام ہر نئے دن کے ساتھ یہ سوچتے ہیں کہ شاید اب حالات بہتر ہوجائیں گے، لیکن انتظار کی یہ گھڑی برسوں سے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ عام شہری کے لیے زندگی کا مطلب روزگار کی تلاش، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی فیس، گھر کا راشن، علاج معالجہ اور بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنا بن چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ کم وسائل میں بھی زیادہ مطمئن نظر آتے تھے۔ گھروں میں آسائشیں کم تھیں مگر رشتوں میں گرمی تھی، جیبیں خالی ہوتی تھیں مگر دل کشادہ تھے، پڑوسی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، بزرگ گھر کی عزت سمجھے جاتے تھے اور بچوں کی تربیت صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے خاندان کا فرض تصور کی جاتی تھی۔ آج ہمارے پاس سہولتیں زیادہ ہیں لیکن سکون کم، رابطے زیادہ ہیں مگر تعلقات کم، معلومات زیادہ ہیں مگر حکمت کم اور گفتگو بہت ہے مگر برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ ہم نے ترقی کا مطلب بھی شاید غلط سمجھ لیا ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں، مہنگی گاڑیاں، جدید موبائل فون اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی خوشحالی ترقی کی مکمل تصویر نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب ایک غریب باپ اپنے بچے کی تعلیم کے بارے میں پریشان نہ ہو، ایک بیمار شخص علاج کے اخراجات سے خوف زدہ نہ ہو، ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر روزگار کے لیے در بدر نہ پھرے اور ایک مزدور اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی باعزت طریقے سے کما سکے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف ایسے بچے ہیں جو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے بچے بھی موجود ہیں جن کے لیے کتاب، یونیفارم اور فیس بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر ہم واقعی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو محض نعرہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ اسکولوں میں صرف نصابی کتابیں پڑھانے کے بجائے بچوں کو کردار، اخلاق، برداشت، تحقیق اور ذمہ داری بھی سکھانا ہوگی۔ اسی طرح صحت کا شعبہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں غریب آدمی لمبی قطاروں میں کھڑا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر، ادویات اور سہولیات کی کمی کئی خاندانوں کو قرض لینے یا اپنی جمع پونجی ختم کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ایک فلاحی ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور شہری کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑتی۔ ریاست اگر اپنے شہریوں کو بنیادی صحت، تعلیم اور انصاف فراہم کردے تو معاشرے میں بے چینی کی بہت سی وجوہات خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہر مسئلے کا حل قانون بنانے سے نہیں نکلتا، کچھ مسائل ہمارے اپنے کردار سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، صفائی کا خیال نہیں رکھتے، قطار میں کھڑے ہونے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور پھر پورے معاشرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ اوپر سے نہیں آتی، کبھی کبھی ایک فرد اپنے رویے کو بدل کر بھی معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ آج ہمیں نفرت نہیں، مکالمے کی ضرورت ہے؛ الزام نہیں، اصلاح کی ضرورت ہے؛ مایوسی نہیں، امید کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن قومی مسائل کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک طبقے کے مسائل نہیں ہوتے۔ مہنگائی جب بڑھتی ہے تو اس کا اثر ہر گھر تک پہنچتا ہے، بے روزگاری جب بڑھتی ہے تو نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے اور تعلیم کمزور ہوتی ہے تو پورا معاشرہ اس کا نقصان اٹھاتا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ ایسا پاکستان جہاں سفارش کے بغیر کام نہ ہو، جہاں میرٹ کمزور ہو، جہاں غریب اپنے حق کے لیے دفاتر کے چکر لگاتا رہے، یا ایسا پاکستان جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، محنت کی قدر ہو، نوجوانوں کو مواقع ملیں اور عام شہری عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے؟ قومیں صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں، قومیں اپنے کردار، نظم و ضبط، دیانت اور مسلسل محنت سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ اپنے گھروں سے تربیت، اپنے اداروں سے دیانت، اپنی سیاست سے برداشت، اپنی گفتگو سے شائستگی اور اپنی عملی زندگی سے ذمہ داری کا آغاز کرنا ہوگا۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ جو قومیں وقت کی آواز سن لیتی ہیں وہ آگے بڑھ جاتی ہیں اور جو قومیں اپنے مسائل سے نظریں چراتی رہیں، تاریخ انہیں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ آج بھی وقت ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم دروازہ کھول کر نئے دور کا استقبال کرتے ہیں یا پرانی سوچ، پرانے رویوں اور پرانے مسائل کے ساتھ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شکایت کرنے والی قوم کے بجائے کردار ادا کرنے والی قوم بنیں، کیونکہ تبدیلی کسی ایک حکمران، ایک ادارے یا ایک تقریر سے نہیں آئے گی۔ تبدیلی اس دن آئے گی جب ہر شہری یہ سوچے گا کہ ملک نے میرے لیے کیا کیا؟ سے پہلے مجھے یہ سوچنا ہے کہ میں نے اپنے ملک، اپنے معاشرے اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کیا؟ یہی سوچ ہماری اصل طاقت بن سکتی ہے، یہی احساس ہماری سمت درست کرسکتا ہے اور یہی کردار پاکستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

  • میرا تعارف، نیہا علی

    میرا تعارف، نیہا علی

    قلمی نام: الـــلـــہ کی لاڈلـــی

    میرا نام نیہا علی ہے اور میرا تعلق پنجاب کے ایک نسبتاً چھوٹے مگر تہذیبی و ثقافتی رنگ سے معمور شہر ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ اردو ادب سے میری وابستگی کو تقریباً چار برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔ میرے لیے ادب محض الفاظ کی ترتیب، جذبات کی ترجمانی یا وقت گزاری کا وسیلہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری و روحانی سفر ہے جس میں انسان اپنے باطن کی آواز سنتا، اپنے گردوپیش کو نئے زاویوں سے دیکھتا اور معاشرے کے دکھ،خوشی، محرومی، امید اور خواب کو لفظوں کا جامہ پہناتا ہے۔

    مجھے بچپن ہی سے لکھنے اور مطالعے سے خاص شغف رہا۔ الفاظ ہمیشہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کرتے رہے اور دل میں اٹھنے والے احساسات کو قرطاس پر منتقل کرنے کی خواہش وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔ تاہم باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز 2022ء میں میرے پہلے افسانے "کرن کی روشنی” سے ہوا۔ یہ میرے لیے محض ایک تحریر نہیں بلکہ میرے ادبی سفر کی پہلی باقاعدہ دستک تھی۔ اس تحریر کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر موجود احساسات اور مشاہدات کو ایک سمت دی جا سکتی ہے اور قلم کو محض اظہار نہیں بلکہ مقصد بھی بنایا جا سکتا ہے۔

    ابتدائی دور میں مجھے ایسا موزوں ادبی پلیٹ فارم میسر نہ آ سکا جہاں میں تسلسل کے ساتھ اپنی تحریریں پیش کر سکتی۔ راستے میں کئی دشواریاں آئیں، مواقع محدود رہے اور بعض اوقات حوصلہ شکن حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر میں نے قلم کا دامن نہیں چھوڑا۔ میرا یقین تھا کہ اگر نیت میں اخلاص، جستجو میں تسلسل اور مقصد میں پختگی ہو تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔

    2022ء ہی میں میں نے تقریباً پندرہ افسانے تحریر کیے۔ یہ مرحلہ میرے لیے تجربات، سیکھنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا زمانہ تھا۔ ہر افسانے کے ساتھ میری سوچ میں وسعت، مشاہدے میں گہرائی اور اظہار میں پختگی پیدا ہوتی گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ افسانہ صرف ایک قصہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ان پہلوؤں کا آئینہ ہے جنہیں عام نگاہ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔

    مسلسل محنت، جستجو اور ادبی سرگرمیوں میں شمولیت کے بعد مجھے محترمہ ناتشہ سیٹھی کے ادبی پلیٹ فارم "فخرِ وکالت” سے وابستہ ہونے کا موقع ملا۔ یہ میرے ادبی سفر کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ اس پلیٹ فارم پر مجھے نہ صرف اپنی تحریریں پیش کرنے کا موقع ملا بلکہ تقریباً ایک برس تک بطور ایڈمن اپنی خدمات انجام دینے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اس تجربے نے میری شخصیت میں انتظامی بصیرت پیدا کی اور مجھے ادبی سرگرمیوں کے نظم و نسق، قلم کاروں سے رابطے اور تخلیقی ماحول کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

    اس کے بعد میرے ادبی سفر کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر لکھنے کے مواقع ملے اور میری تحریریں متعدد ادبی مجموعوں، کتب اور انتخاب کا حصہ بنتی رہیں۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میری بعض تحریریں بھارت سے شائع ہونے والی کتابوں میں بھی شامل ہوئیں۔ ایک نسبتاً چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والی لکھاری کے لیے یہ تجربہ یقیناً حوصلہ افزا بھی تھا اور یادگار بھی، اس نے میرے اس یقین کو مزید مستحکم کیا کہ قلم کے لیے جغرافیائی حدود کوئی معنی نہیں رکھتیں- اگر لفظ میں تاثیر ہو تو وہ سرحدوں سے آگے بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔

    میری ادبی دلچسپی کا محور صرف افسانہ نگاری تک محدود نہیں رہا۔ میں نے مختلف اصناف ادب میں اظہار خیال کی کوشش کی اور نظم، غزل، نثری نظم، کالم، افسانچہ اور دیگر تخلیقی اصناف کے ذریعے اپنے احساسات اور مشاہدات کو لفظوں میں ڈھالنے کی سعی کی میرا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ میری تحریر محض خوب صورت الفاظ کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس میں کوئی فکر، کوئی احساس، کوئی سبق یا زندگی کی کوئی سچی جھلک ضرور موجود ہو۔

    2025ء میں میں نے اپنی کتاب "خوابوں کی حقیقت” پر باقاعدہ کام شروع کیا۔ یہ منصوبہ میرے لیے محض ایک کتاب کی تیاری نہیں بلکہ میرے ادبی خوابوں کو ایک مستقل صورت دینے کی کوشش ہے۔ اس کتاب کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی منصوبوں، مجموعوں اور کتابوں میں لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ہر نئے منصوبے نے مجھے اپنے قلم کو مزید سنوارنے، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور اظہار کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع دیا۔

    میری تحریروں میں انسانی جذبات، رشتوں کی نزاکت، عورت کے احساسات، معاشرتی رویے، والدین کی محبت، زندگی کی تلخ حقیقتیں، امید، صبر، خود شناسی اور روحانی وابستگی جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ قاری میری تحریر پڑھ کر صرف الفاظ سے نہ گزرے بلکہ کچھ دیر ٹھہرے، سوچے اور اپنے اندر کسی احساس کو جاگتا ہوا محسوس کرے۔

    میرے نزدیک ایک اچھا قلم کار وہ نہیں جو صرف مشکل الفاظ لکھنے پر قادر ہو، بلکہ وہ ہے جو سادہ بات کو بھی اس انداز میں بیان کر سکے کہ وہ دل میں اتر جائے۔ ادب میرے نزدیک معاشرے کی اصلاح، احساس کی بیداری اور انسان کو انسان سے جوڑنے کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ میں حسنِ بیان کے ساتھ ساتھ مقصدیت، شائستگی اور فکری پختگی بھی موجود ہو۔میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا ہے کہ ادبی دنیا میں مقام حاصل کرنا کسی مختصر راستے کا نام نہیں۔ یہاں مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، محنت، تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ اور اپنے اسلوب کو بہتر بنانے کی جستجو درکار ہوتی ہے۔ میں آج بھی خود کو ایک طالبِ علم سمجھتی ہوں اور ہر نئی تحریر کے ساتھ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔میرا قلم میرے لیے صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کا ترجمان ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ ان لوگوں کی آواز بنیں جن کے احساسات اکثر خاموش رہ جاتے ہیں، ان دلوں کو حوصلہ دیں جو حالات سے شکستہ ہو چکے ہیں اور ان آنکھوں میں امید جگائیں جو زندگی کی گرد میں اپنے خواب بھول بیٹھی ہیں۔محدود وسائل، نسبتاً چھوٹے شہر اور ناموافق حالات کے باوجود میں نے اپنے خوابوں کو کبھی محدود نہیں ہونے دیا۔ میرا یقین ہے کہ بلند منزلوں کے لیے وسیع راستوں سے زیادہ بلند حوصلے درکار ہوتے ہیں۔ میں نے جو کچھ حاصل کیا، اسے اپنی منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک مرحلہ سمجھتی ہوں۔آج بھی میری خواہش ہے کہ میرا قلم اردو ادب میں ایک منفرد اور معتبر شناخت قائم کرے۔ میں چاہتی ہوں کہ میری تحریریں وقت کے ساتھ محض محفوظ نہ رہیں بلکہ پڑھی جائیں، محسوس کی جائیں اور یاد رکھی جائیں۔میری منزل ابھی باقی ہے، میرے خواب ابھی زندہ ہیں اور میرا قلم ابھی بہت کچھ لکھنا چاہتا ہے۔

    میں نیہا علی ہوں-
    قلمی نام "اللہ کی لاڈلی” کے ساتھ،اور میری سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ میں لفظوں سے محبت کرتی ہوں،
    اور لفظوں کے ذریعے دلوں تک پہنچنے کا خواب دیکھتی ہوں۔

  • میرا تعارف،طاہر محمود

    میرا تعارف،طاہر محمود

    میرا نام طاہر محمود ہے اور مجھے اس نسبت پر فخر ہے کہ میرا تعلق سنگ تراشوں کے دیس، تاریخی و تہذیبی شہر ٹیکسلا سے ہے؛ وہ شہر جس کی مٹی میں صدیوں کی تاریخ، علم، تہذیب، فن اور دانائی کی خوشبو رچی بسی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم بھی اسی شہر میں ہوئی اور شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب، علم اور قلم سے میرا رشتہ محض شوق نہیں بلکہ میری شخصیت کا ایک مستقل حوالہ بن گیا۔

    بچپن ہی سے مطالعہ میری زندگی کا حصہ رہا۔ چوتھی جماعت کا طالب علم تھا جب اردو کے قومی اخبارات پڑھنے لگا۔ کتابوں سے محبت کا عالم یہ تھا کہ کئی کتابیں اپنے بستر کے قریب رکھتا اور مطالعہ کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلا جاتا۔ میرے لیے کتاب کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی؛ یہ فکر کی کھڑکی، شعور کا چراغ اور زندگی کو سمجھنے کا ایک وسیلہ رہی ہے۔ شاید یہی وہ ابتدائی سفر تھا جس نے میرے اندر سوال کرنے، سوچنے اور پھر اپنی سوچ کو لفظوں میں ڈھالنے کی خواہش پیدا کی۔

    میری فکری تشکیل میں مرزا غالب، میر تقی میر، الطاف حسین حالی، علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض، مجید امجد، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز اور جون ایلیا کی شاعری نے گہرے نقوش چھوڑے، جبکہ ڈاکٹر اشفاق احمد، بانو قدسیہ، سعادت حسن منٹو اور ابنِ انشا کی نثر نے میرے فکری ذوق کو جلا بخشی۔ عالمی ادب میں ولیم شیکسپیئر، لیو ٹالسٹائی، وکٹر ہیوگو اور خلیل جبران سے استفادہ کیا۔ مختلف علمی و فکری شخصیات سے سیکھنے کے مواقع نے بھی میری سوچ کے دائرے کو وسعت دی۔

    یہی چراغِ علم ہے جو دل سے دل تک جاتا ہے
    قلم وہ حرف ہے جو وقت سے آگے رہ جاتا ہے

    وقت کے ساتھ کتاب سے پیدا ہونے والا یہ تعلق قلم تک پہنچا اور قلم نے مجھے صحافت کی دنیا میں لے آیا۔ صحافت میرے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بن گئی۔ میں نے قومی، سماجی، ادبی، ثقافتی اور بین الاقوامی موضوعات کو اپنے قلم کا موضوع بنایا اور ہمیشہ کوشش کی کہ تحریر محض خبر یا رائے بن کر نہ رہ جائے بلکہ قاری کو سوچنے، سوال اٹھانے اور اپنے معاشرے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دے۔

    ’’نوکِ نایاب‘‘ کے عنوان سے میرے کالم پاکستان کے معروف و مؤقر اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ صحافتی سفر نے مجھے مختلف ذرائع ابلاغ کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا اور مختلف ذمہ داریوں نے میرے تجربے اور مشاہدے کو مزید وسعت دی۔ اس وقت میں بیورو چیف، سرعام نیوز و سٹی انفارمیشن ڈیٹ، ڈائریکٹر نیوز، قومی سفیر، اے بی سی سرٹیفائیڈ میڈیا گروپ آف پاکستان، ڈائریکٹر، میڈیا اسٹار گروپ آف ٹیکسلا اور ایگزیکٹو ایڈیٹر، نوائے عدل اسلام آباد کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہوں۔ پیشہ ورانہ صحافت کے لیے ڈاکٹر اے کیو خان یونیورسٹی ملتان سے صحافت میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ پاکستان پروفیشنل جرنلسٹس ایسوسی ایشن، راولپنڈی ڈویژن کی صدارت بھی انجام دی اور اس وقت آل پاکستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن، راولپنڈی ڈویژن کے ڈویژن پریذیڈنٹ کی حیثیت سے صحافتی و تنظیمی کردار ادا کر رہا ہوں۔

    صحافت کے اس سفر میں قلم کی پذیرائی بھی ہوئی اور خدمات کا اعتراف بھی۔ میری صحافتی و سماجی خدمات کے اعتراف میں روٹری کلب شکاگو، امریکہ کی جانب سے بہترین صحافتی و سماجی خدمات کا اعزاز میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ میرے کالم عالمی سطح پر قارئین تک پہنچتے ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کے تراجم و مطالعے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تقریباً 150 ممالک تک پھیلے اس عالمی رابطے میں میرے الفاظ کا قارئین تک پہنچنا میرے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔

    امریکہ کے 250 سالہ جشنِ آزادی کے موقع پر ٹیکسلا پریس کلب میں مجھے اعزازی بیج اور شیلڈ سے نوازا گیا۔ پاکستان کے معروف و مؤقر اے بی سی سرٹیفائیڈ اخبارات کی جانب سے بھی میری صحافتی اور قلمی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز اور تعریفی اسناد ملیں۔ میں ان اعزازات کو اپنی ذات سے زیادہ قلم، مطالعے اور صحافت کی پذیرائی سمجھتا ہوں، کیونکہ اصل اعزاز اس وقت ملتا ہے جب لفظ کسی دل تک پہنچے، کوئی فکر کسی ذہن میں سوال پیدا کرے اور کوئی تحریر کسی مثبت تبدیلی کا سبب بنے۔

    اسی فکری سفر کا اگلا پڑاؤ میری زیرِ تکمیل کتاب ’’خود سے خود تک‘‘ ہے، جو انسانی عظمت، انسانی وقار، انسانی شناخت اور قرآنِ کریم کے تصور ’’احسنِ تقویم‘‘ کے گرد گھومتی ہے۔ اس کتاب کے ذریعے میری کوشش ہے کہ انسان دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو پہچانے، اپنے وجود، کردار اور مقصدِ زندگی پر غور کرے، کیونکہ خود شناسی ہی شعور اور کردار کی تعمیر کی پہلی منزل ہے۔

    کتاب نے مجھے سوچنا سکھایا، مطالعے نے فکر دی، فکر نے لفظ عطا کیے، لفظوں نے قلم کا راستہ دکھایا اور قلم نے زندگی کو ایک مقصد بخشا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی میرے لیے لکھنا محض اظہار نہیں بلکہ اپنے عہد سے مکالمہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لفظ کی اصل طاقت اس کی گہرائی، سچائی اور اثر میں ہوتی ہے، نہ کہ اس کی طوالت میں۔

    سنگ تراشوں کے دیس ٹیکسلا سے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ راستے بدلتے رہے، موضوعات بدلتے رہے، مگر کتاب، قلم اور شعور کا رشتہ قائم رہا۔ میری منزل صرف لکھنا نہیں؛ لکھ کر سوچ پیدا کرنا، سوچ سے شعور جگانا اور شعور سے انسانیت کو مضبوط کرنا ہے۔

    کتاب سے قلم تک، قلم سے شعور تک،
    اور شعور سے انسانیت تک—
    یہی میرے سفرِ زندگی کا حاصل ہے۔

  • میراتعارف،سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    میراتعارف،سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    میرا نام سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی ہے۔ حق لکھنا میری وارثت اور تحقیق میرا شغف ہے۔
    میرا تعلق مانچسٹر آف پاکستان فیصل کے ایک نامور علمی و ادبی سادات گھرانے سے ہے۔ علم و ادب سے لگاؤ مجھے وارثت میں ملا ہے۔ میں درس و تدریس اور تحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔ اور اسکالر، ماہرِ تعلیم، شاعرہ، ادیبہ، سینئر کالم نگار، معاشی تجزیہ کار، ماہرِ معاشیات، محقق، موٹیویشنل اسپیکر اور سماجی کارکن ہوں۔ میں اردو، پنجابی اور انگریزی زبان میں تخلیقی و تحقیقی تحریر کرتی ہوں۔ "باغی ٹی وی رائٹرز” کے ساتھ میں قریبا دو سال سے لکھ رہی ہوں۔

    میرے ادبی، معاشی اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق مضامین، کالمز اور تحقیقی مقالات قومی و بین الاقوامی موقر اخبارات و رسائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔ میں تعمیرِ نو ادبی فورم پاکستان کی سینئر نائب صدر اور متعدد علمی و ادبی تنظمیوں سے وابستہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ انگلش اخبار ڈیلی سون ٹائمز (کراچی، سرگودھا، اسلام آباد) کی مستقل و سینئر کالم نگار اور مختلف اخبارات و جرائد کے ادبی اور بازئچۂ اطفال صفحات کی بطور معاون مدیرہ فرائض انجام دے رہی ہوں۔

    اردو زبان میں معاشیات و بزنس (Economics) کے اہم موضوعات پر گوگل سرچ انجن کے لیے مواد فراہم کرنے میں بھی میرا کردار نمایاں رہا ہے۔ میری شاعری، تحقیقی مضامین اور کالمز آن لائن ادبی و تحقیقی پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہیں۔ میرے متعدد تحقیقی مقالہ جات کو بیرونِ ملک ریسرچ اسکالرز میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی، جب کہ بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر، سندھ کی جانب سے بھی میرے تحقیقی مقالے شائع کیئے جا چکے ہیں۔

    تحقیق و تحریر کے ساتھ ساتھ میں نئے لکھاریوں کی رہنمائی، فکری تربیت اور ادبی آبیاری کے لیے بھی سرگرمِ عمل ہوں۔ الحمدللہ میں نے مختلف تعلیمی و رہنمائی پروگرامز کا آغاز کیا، جو کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔

    علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں مجھے متعدد قومی ایوارڈز اور اعزازی اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ الحمدللہ میرا قلم ہی میری پہچان ہے۔

    سب کے لئیے دعا گو؛
    سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

  • غلط فہمی،تحریر: ایس اے شازِم

    غلط فہمی،تحریر: ایس اے شازِم

    غلط فہمی ایک ایسا خاموش زہر ہے جو شور نہیں مچاتا، مگر رشتوں کی بنیادوں کو اندر سے دیمک کی طرح کھا کر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ رشتوں کی رگوں میں اتر کر محبت کو بے یقینی میں، اعتماد کو شک میں اور اپنائیت کو اجنبیت میں بدل دیتی ہے۔ یہ دل کی وہ کمزوری ہے جو حقیقت جانے بغیر فیصلے صادر کر دیتی ہے اور سچ کی روشنی کے پہنچنے سے پہلے ہی وہم کے اندھیرے چاروں طرف پھیلا دیتی ہے۔

    زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے رویوں کی اپنی مرضی سے تعبیر کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کسی کی خاموشی ہمیں بے رخی محسوس ہوتی ہے حالانکہ وہ شخص شاید کسی اندرونی طوفان سے نبرد آزما ہو۔ کبھی کسی کی مصروفیت ہمیں نظر انداز کیے جانے کا گمان دیتی ہے حالانکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا ہو۔ کبھی کسی کے ایک معمولی سے جملے میں بھی ہمیں اپنے خلاف سازش کا عنصر دکھائی دینے لگتا ہے۔ ہم سوال کرنے کے بجائے فوراً نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں، وضاحت سننے کے بجائے الزام کا پتھر پھینک دیتے ہیں اور یوں لفظوں کا ایک چھوٹا سا زخم، برسوں کی دوری کا ناسور بن کر رہ جاتا ہے۔

    غلط فہمی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ حقیقت سے زیادہ ہمارے اپنے خوف پر یقین کرتی ہے۔ ہم دوسروں کے دل کا حال جانے بغیر ان کے بارے میں کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔ ایک شخص اپنی پریشانی میں خاموش ہو تو ہم اسے مغرور کا درجہ دیتے ہیں۔ کوئی جواب دینے میں دیر کر دے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ بدل گیا ہے۔ کسی کی توجہ بٹ جائے تو ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہماری اہمیت ختم ہو چکی ہے۔ یوں ہم ان فیصلوں کے مصنف بن جاتے ہیں جن کا متن ہم نے کبھی پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ رشتے صرف محبت کے دم سے زندہ نہیں رہتے، یہ اعتماد کی آکسیجن سے سانس لیتے ہیں۔ جس گھر میں ہر بات کی تفتیش ہو، ہر خاموشی کا مطلب نکالا جائے اور ہر وضاحت کو بہانہ قرار دے دیا جائے، وہاں محبت بھی تھک کر مردہ ہونے لگتی ہے۔ غلط فہمی دوسرے کو آپ سے دور کرنے سے پہلے آپ کو اپنے ہی سکون سے محروم کر دیتی ہے۔ راتوں کی نیند، دن کا چین، سب ایک وہم کی نذر ہو جاتا ہے۔

    رشتوں میں محبت جتنی ضروری ہے، اتنا ہی ضروری ایک دوسرے کو سمجھنے کا حوصلہ بھی ہے۔ ہر بات کا جواب غصے سے نہیں دیا جاتا، ہر خاموشی کا مطلب الزام سے نہیں نکالا جاتا اور ہر اختلاف کا انجام جدائی سے نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی کسی کے دل کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے بس اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ؛
    "میں شاید کسی غلط فہمی کا شکار ہو گیا تھا بہرحال تم خود بتاؤ، حقیقت کیا ہے؟”
    یہ ایک جملہ انا کی دیوار گرا دیتا ہے، شک کے بادل دور کر دیتا ہے اور ٹوٹتے ہوئے رشتے کو پھر سے جوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ رشتے قیمتی ہوتے ہیں اور انہیں وہم کی آگ میں جلانے سے بہتر ہے کہ انہیں گفتگو کے پانی سے بجھا کر بچا لیا جائے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر خیال کو حقیقت کا درجہ نہ دیں۔ اگر کسی کے رویے میں تبدیلی محسوس ہو تو پہلا قدم الزام نہیں بلکہ سوال ہونا چاہیے۔ پہلا ردِ عمل خفگی نہیں بلکہ گفتگو ہونی چاہیے۔ فیصلہ سنانے سے پہلے دوسرے کا مؤقف سننا چاہیے۔ ممکن ہے جس بات نے ہمارے دل میں کانٹا چبھویا ہو، اس کے پیچھے کوئی ایسی مجبوری، کوئی ایسا درد چھپا ہو جس سے ہم بالکل بے خبر ہوں۔

    حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایک شخص مکمل طور پر قصوروار نہیں ہوتا۔ ایک نے بات ادھوری کہی، دوسرے نے مطلب اپنی سوچ کے مطابق نکالا، تیسرے نے اپنی تشریح کا رنگ چڑھا دیا۔ یوں ایک معمولی واقعہ، دلوں میں شکایت کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ پھر جب وضاحتیں دی بھی جائیں تو وہ بے اثر لگتی ہیں کیونکہ دل پہلے ہی اپنی عدالت لگا کر فیصلہ سنا چکا ہوتا ہے۔
    رشتوں کو غلط فہمی نہیں، حسنِ ظن، صبر اور سچی گفتگو مضبوط بناتی ہے۔ ہم اکثر جن لوگوں کو اپنے شک کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، وہ دراصل ہمارے خوف کے نہیں، ہماری اپنی غلط فہمیوں کے شکار ہوتے ہیں اور نقصان دونوں طرف کا ہوتا ہے۔ ایک رشتہ ٹوٹتا ہے، اور دوسرا انسان ٹوٹ جاتا ہے۔
    یاد رکھیے! ہر خاموشی بے رخی نہیں ہوتی، ہر فاصلے کے پیچھے بے وفائی نہیں ہوتی اور ہر بدلتا ہوا رویہ محبت کے خاتمے کی دلیل نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی حقیقت تک پہنچنے کے لیے صرف ایک نرم سوال ہی کافی ہوتا ہے بشرطیکہ سوال کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی اس شاعر کی طرح ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

    بدگمانیوں کا نشہ اس قدر تیز تھا شازِم
    میں سب کچھ ہار چکا تھا ہوش آنے تک

  • بدلتے موسم میں غذا کی اہمیت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    بدلتے موسم میں غذا کی اہمیت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    جب ستمبر کے آخری ایام میں سورج کی تپش مدہم پڑنے لگتی ہے اور شام کے دامن میں خنک ہوا کے ہلکے جھونکے انگڑائی لیتے ہیں، تو بظاہر فضا بڑی دل آویز محسوس ہوتی ہے۔ فطرت کا یہ عبوری دور گرمی کے حبس سے نجات کا پیامبر بن کر آتا ہے، مگر انسان کے اندرونی نظام کے لیے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک خاموش کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ برصغیر کے اس خطے میں جب پنکھے کی ہوا صبح کے وقت بوجھل لگنے لگے اور رات کے پچھلے پہر چادر اوڑھنے کی ضرورت پیش آئے، تو انسانی جسم اپنے اندرونی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اس ظاہری خوشگواری میں کھو کر اپنے روزمرہ کے معمولات کو گرمیوں کی طرز پر ہی چلائے رکھتے ہیں، اور اس بے دھیانی کا سب سے پہلا اور شدید شکار ہمارا نظامِ انہضام بنتا ہے۔

    طبی نقطۂ نظر سے جب موسم بدلتا ہے تو فضا کے درجہ حرارت اور نمی میں آنے والی تبدیلی براہِ راست ہمارے ہاضمے اور میٹابولزم کی رفتار کو دھیما کر دیتی ہے۔ گرمیوں میں جسم کو پانی کی وافر طلب رہتی ہے اور معدہ رقیق اشیاء کو تیزی سے نبٹاتا ہے، مگر جیسے ہی خنکی کا آغاز ہوتا ہے، پیاس کم ہو جاتی ہے اور ہاضمے کے خامرے اپنی چستی کھو دیتے ہیں۔ انہی دنوں میں پیٹ کا پھولنا، غذا کا گھنٹوں معدے میں اٹکا رہنا، کھٹی ڈکاریں، متلی اور آنتوں کی سستی جیسی شکایات گھر گھر پھیل جاتی ہیں۔ معدے کی یہ خرابی محض پیٹ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کا براہِ راست اثر ہمارے اعصابی نظام پر پڑتا ہے۔ انسانی جسم میں معدہ اور دماغ آپس میں اعصاب کی ایک انتہائی حساس ڈوری سے جڑے ہوئے ہیں جسے جدید سائنس گٹ برین ایکسس کہتی ہے۔ جب آنتوں میں خمیر اور گیس بنتی ہے تو اعصاب میں کھنچاؤ، سر میں بوجھل پن، نیند میں بے چینی اور پٹھوں کا درد جنم لیتا ہے، جس سے مریض ایک ناقابلِ بیان جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔

    اس نازک موڑ پر مہنگی ادویات اور مسکن گولیوں کے بجائے صرف اور صرف درست غذا ہی وہ حقیقی ڈھال ہے جو معدے کو بحال اور اعصاب کو توانائی فراہم کر سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ موسم بدلنے کے باوجود فریج کا ٹھنڈا پانی، مصالحے دار تلی ہوئی غذائیں اور بازاری فاسٹ فوڈ جاری رکھتے ہیں۔ یہ ٹھنڈا اور چکنائی سے لدا کھانا کمزور ہاضمے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ اس موسم میں کچن کی فطری غذائیت ہی سب سے بڑی رہنمائی کرتی ہے۔ ابلی ہوئی اور شوربے دار غذائیں، تازہ موسمی سبزیاں جیسے کدو، توری، گاجر اور شلجم معدے پر بوجھ ڈالے بغیر آنتوں کی صفائی کرتی ہیں۔ ادرک، دار چینی، سفید زیرہ اور پودینہ محض کھانوں کی خوشبو کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ گیس کو تحلیل کرنے اور اعصابی تناؤ کو کم کرنے کا قدرتی تریاق ہیں۔ جب معدے کو ہلکی، زود ہضم اور حرارت بخش غذا ملتی ہے تو اعصابی نظام سے بوجھ اتر جاتا ہے اور جسمانی کمزوری خود بخود دور ہونے لگتی ہے۔

    اس موسم کی سب سے بڑی ضرورت ہائیڈریشن کا درست انتظام ہے۔ چونکہ پیاس کا احساس کم ہو جاتا ہے، اس لیے ہم نادانستہ طور پر اپنے خلیات کو پانی سے محروم کر دیتے ہیں جس سے خون گاڑھا ہوتا ہے اور قبض کی شکایت سر اٹھاتی ہے۔ دن میں وقفے وقفے سے نیم گرم پانی پینا، ادرک اور شہد کا ہلکا قہوہ استعمال کرنا، اور شام کے وقت دیسی مرغ یا ہڈیوں کی یخنی لینا جسم میں وہ نمکیات اور پروٹین بحال کرتا ہے جو تھکن کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔ خشک میوہ جات جیسے بادام اور اخروٹ، اور بیجوں میں السی اور سفید تل اعصاب کو ضروری چکنائی فراہم کرتے ہیں تاکہ موسم کی خشک ہوا ہڈیوں اور جوڑوں کے گودے کو متاثر نہ کر سکے۔

    معدے، اعصاب اور جسمانی توانائی کی تمام ضروریات کو متوازن رکھنے کے لیے روزمرہ کا ایک جامع اور متوازن شیڈول اپنانا بے حد کارآمد رہتا ہے۔ صبح بیدار ہوتے ہی ایک گلاس نیم گرم پانی میں چند قطرے لیموں اور ایک چمچ خالص شہد گھول کر پینے سے رات بھر کے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں اور معدہ نرم پڑتا ہے۔ ناشتے کے لیے ایک ابلا ہوا دیسی انڈا، چکی کے آٹے کی پتلی روٹی یا جو کا گرم دلیہ، اور ساتھ میں ادرک و دار چینی کا ایک کپ قہوہ دن کے آغاز پر اعصاب کو حرارت اور توانائی بخشتا ہے۔ دوپہر کے وقت ایک تازہ موسمی امرود یا مسمی کا استعمال وٹامن سی کی کمی پوری کر کے قوتِ مدافعت کو جلا بخشتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں توری، لوکی یا مونگ کی پتلی دال شوربے دار صورت میں گندم کی ایک روٹی کے ساتھ کھانا معدے کے نظام کو پرسکون رکھتا ہے اور ہاضمے کو مشقت سے بچاتا ہے۔ عصر کے وقت چند دانے بادام، دو اخروٹ اور مٹھی بھر بھنے چنے اعصابی کمزوری اور پٹھوں کے اکڑاؤ کا سدباب کرتے ہیں۔ رات کا کھانا غروبِ آفتاب کے فوراً بعد دیسی مرغ کی یخنی، مٹن کا پتلا شوربہ اور آدھی روٹی کی صورت میں لینا چاہیے تاکہ سونے سے قبل کھانا مکمل ہضم ہو سکے۔ رات بستر پر جانے سے پہلے ایک کپ نیم گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی یا گڑ کی چھوٹی سی ڈلی شامل کر کے پینا گلے کی خراش، معدے کی سوزش اور دن بھر کی اعصابی تھکن کو مٹا کر ایک پرسکون اور گہری نیند کی ضمانت بن جاتا ہے۔ جب ہم خوراک کو موسم کی پکار کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں تو بیماری راستہ بدل لیتی ہے اور صحت ہمارا دائمی مقدر بن جاتی ہے۔

  • جم خانہ کی وہ شام، بڑے نام اور ایک چھوٹا سا لکھاری،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    جم خانہ کی وہ شام، بڑے نام اور ایک چھوٹا سا لکھاری،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    میڈیا کی فیلڈ کو خیرباد کہے مجھے تقریباً چار سے پانچ برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میڈیا کے دنوں میں بحیثیت رپورٹر کچھ پریس کانفرنسز کور کرنے کا موقع ملا۔ ایک دفعہ CPNE کی کانفرنس میں بھی شمولیت ہوئی، جہاں ملک کے کئی نامور صحافیوں کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ اس وقت شاید اندازہ نہیں تھا کہ صحافت سے یہ مختصر سا تعلق ایک دن یوں دوبارہ میرے سامنے آ کھڑا ہوگا۔

    وقت گزرتا گیا اور میں میڈیا کی دنیا سے تقریباً دور ہوگیا۔ لکھنے پڑھنے کا سلسلہ بھی کہیں پیچھے رہ گیا۔ پھر کچھ عرصہ قبل باغی ٹی وی سے منسلک ہونے کا موقع ملا، جس کی سرپرستی سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کر رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی بدولت مجھے ایک بار پھر لکھنے کا موقع ملا اور یوں محسوس ہوا جیسے صحافت سے میرا وہ پرانا تعلق، جسے میں تقریباً بھول چکا تھا، دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔

    آج باغی رائٹرز فورم کے لاہور سے تعلق رکھنے والے اراکین اور لکھاریوں کی مبشر لقمان صاحب کے ساتھ لاہور جم خانہ کلب میں ایک تعارفی نشست تھی۔ میرے لیے یہ محض ایک تعارفی نشست نہیں تھی۔ شاید کئی برس بعد یہ میرے لیے ایسا دن تھا جب میں خود کو ایک بار پھر صحافت سے جڑا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ میرے اندر ایک عجیب سی خوشی، جوش اور بے چینی تھی۔ میں شام ساڑھے چھ بجے جم خانہ کلب پہنچا۔

    ہال میں داخل ہوا تو میرے احساسات یکسر بدل گئے۔ وہاں بیٹھا ہر شخص اپنی ایک دنیا تھا۔ ہر ایک کا اپنا تعارف، اپنا تجربہ، اپنی جدوجہد اور اپنی خدمات تھیں۔ کوئی برسوں سے صحافت سے وابستہ تھا، کوئی کالم نگاری کے میدان میں اپنا مقام بنا چکا تھا اور کوئی ادب و فکر کے حوالے سے اپنی شناخت رکھتا تھا۔ میں ان سب کے درمیان بیٹھا خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا تھا، لیکن اسی لمحے یہ احساس بھی ہو رہا تھا کہ شاید انسان سیکھتا ہی تب ہے جب وہ اپنے سے بڑے لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے۔

    کہتے ہیں انسان کی سوچ اس کے ماحول سے بنتی ہے۔ آپ جیسے لوگوں میں بیٹھتے ہیں، ویسا ہی سوچنے لگتے ہیں۔

    پھر تعارفی سیشن شروع ہوا۔ ایک ایک کرکے سب اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ میں خاموشی سے سب کو سن رہا تھا اور اندر ہی اندر سوچ رہا تھا کہ جب میری باری آئے گی تو میں کیا بتاؤں گا؟ میرے پاس شاید اتنا کچھ نہیں تھا جتنا اس محفل میں بیٹھے دوسرے لوگوں کے پاس تھا پھر میری باری آگئی۔

    مبشر لقمان صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا:

    *”جی، آپ بتائیں۔”*

    بظاہر یہ ایک عام سا جملہ تھا، لیکن میرے لیے اس لمحے اس کی اہمیت شاید کچھ اور تھی۔ میں نے اپنا مختصر سا تعارف کروانا شروع کیا۔ میں بول رہا تھا اور مبشر لقمان صاحب میری بات سن رہے تھے۔ ان کی طرف سے ملنے والی وہ توجہ میرے لیے غیر معمولی تھی۔

    مجھے اچانک انضمام الحق یاد آگیا۔ وہ انضمام الحق جس کی خراب پرفارمنس کے باوجود عمران خان اس کے اندر ایک ونر دیکھ رہا تھا۔

    آج شاید مجھے بھی اسی طرح کا ایک لمحہ محسوس ہوا۔ میں کوئی بڑا نام نہیں تھا، میرے پاس سنانے کو کوئی بہت بڑی داستان نہیں تھی، لیکن مبشر لقمان صاحب کا میری طرف دیکھنا، میری بات کو توجہ سے سننا اور مجھے اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دینا میرے لیے حوصلے کی بات تھی۔ شاید کبھی کبھی انسان کو آگے بڑھنے کے لیے صرف ایک بڑے آدمی کی طرف سے یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ تمہاری بات بھی اہم ہے۔

    لیکن آج کی نشست میں میرے لیے اصل حاصل یہ نہیں تھا۔ اصل حاصل وہ ایک جملہ تھا جو مبشر لقمان صاحب نے گفتگو کے دوران کہا اور جو میرے اندر کہیں بہت گہرائی میں اتر گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت علمی باتیں لکھتے ہیں، لیکن ایک عام آدمی کا مسئلہ، اس کی پریشانی اور اس کی غربت لکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کیا ہو رہا ہے، دنیا میں کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ہمارا عام آدمی، خاص طور پر ہماری نوجوان نسل، ان مواقع سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتی ہے، اس بارے میں بھی لکھا جائے۔

    یہ بات میرے لیے صرف ایک مشورہ نہیں تھی۔ یہ میرے لکھنے کے پورے انداز کے لیے ایک سوال تھا۔ ہم اکثر لکھتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کتنا جانتے ہیں۔ ہم بڑے بڑے موضوعات چنتے ہیں، مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں، فلسفے اور نظریات پر گفتگو کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہماری تحریر میں لکھنے والے کی ذات اتنی نمایاں ہوجاتی ہے کہ وہ شخص غائب ہوجاتا ہے جس کے لیے وہ تحریر لکھی جانی چاہیے۔

    شاید ایک صحافی اور لکھاری کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ اپنے الفاظ کا رعب ڈال سکے یا یہ ثابت کرے کہ وہ کتنا پڑھا لکھا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اس شخص کی آواز بن سکے جو خود اپنی بات ایوانوں تک نہیں پہنچا سکتا۔ وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار تلاش کر رہا ہے، وہ مڈل کلاس باپ جو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان ہے، وہ ماں جو اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھ رہی ہے، وہ مزدور جو مہنگائی کے سامنے اپنی زندگی کا حساب لگا رہا ہے، اور وہ طالب علم جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کے لیے کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں

    صحافت شاید انہی سوالوں کو زبان دینے کا نام ہے۔ آج کی نشست کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ شاید مجھے اپنے لکھنے کا انداز بدلنا ہوگا۔ مجھے وہ نہیں لکھنا جو میری سوچ ہے بلکہ مجھے وہ لکھنا ہے جو عام آدمی کی آواز ہے۔ ایسی تحریر جسے پڑھ کر ایک مڈل کلاس نوجوان یہ کہہ سکے:
    "یہ تو میری بات ہے، یہ تو وہی مسئلہ ہے جس سے میں گزر رہا ہوں۔” ایسی تحریر جو کسی پریشان باپ کی آواز بنے، کسی بے روزگار نوجوان کو دنیا میں موجود کسی نئے موقع کی خبر دے، کسی طالب علم کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھائے اور کبھی کسی صاحبِ اختیار کو یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ اگر ہم نے آج اپنی نوجوان نسل کے سوالات کا جواب نہ دیا تو کل شاید بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

    شاید آج کی اس نشست کا میرے لیے سب سے بڑا حاصل یہی تھا کہ میں کئی برس بعد صرف صحافت کے قریب نہیں آیا بلکہ صحافت کے مقصد کے قریب آیا ہوں اور شاید یہی باغی رائٹرز فورم کی آج کی نشست کی اصل خوبصورتی تھی۔ یہ صرف لکھنے والوں کا تعارف نہیں تھا۔ یہ مختلف سوچوں، تجربات اور آوازوں سے متعارف ہونے کی ایک خوبصورت کوشش تھی۔

    میرے لیے تو آج ایک نشست ہوئی، ایک جملہ سنا اور شاید میرے لکھنے کا راستہ بدل گیا۔ اب کوشش یہی ہوگی کہ میری تحریر میں صرف "میں” نہ ہو، بلکہ وہ "ہم” ہو جس میں اس ملک کا عام آدمی اپنی آواز سن سکے۔

  • میرا تعارف،انعم عباسی

    میرا تعارف،انعم عباسی

    میرا نام انعم عباسی ہے۔ میں ایک لکھاری اور شاعرہ ہوں اور گزشتہ کئی برسوں سے اردو ادب سے وابستہ ہوں۔ میرا تعلق اُس دورِ قلم سے ہے جب لفظوں کے سفر کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہیں، بلکہ کاغذ، قلم اور کتابیں ہوا کرتی تھیں۔ میں نے اُس زمانے سے لکھنا شروع کیا جب تحریر کا رشتہ دل سے، اور لفظ کا تعلق کاغذ سے ہوا کرتا تھا۔

    میری پہلی شعری کتاب „دل جہاں پہ ٹھہرا ہے“ 2014ء میں علم و عرفان پبلیکیشنز کے پلیٹ فارم سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد میری دوسری کتاب „روح کا سفر“ منظرِ عام پر آئی، جس میں روح کے موضوع کو اسلامی اور سائنسی زاویۂ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔الحمدللہ، میری تیسری کتاب بھی ان شاء اللہ جلد ہی قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی، جس کا موضوع „جنات ، ایک آتشی مخلوق“ ہے۔

    میں نے اردو ادب کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہے اور تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہوں۔ میرے لیے ادب محض الفاظ کو خوبصورت انداز میں ترتیب دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ احساس، فکر، مشاہدے اور زندگی کو سمجھنے کا ایک وسیلہ ہے۔

    میری ہمیشہ سے ایک ہی کوشش رہی ہے کہ ادب سے وابستہ لوگوں کو پڑھوں، سنوں، ان کے خیالات سے سیکھوں اور اپنے ادبی سفر کو مزید وسیع کروں۔ شاید یہی جستجو مجھے آج اس خوبصورت ادبی حلقے تک لے آئی ہے۔
    امید ہے آپ سب کی محبت، رہنمائی اور ادبی رفاقت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
    آپ سب کی ادبی محفل میں شامل ہو کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔