Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سائنسدان جہاں حضرت انسان کو ملٹی پلانیٹری بنانے پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ دو ہزار پچاس میں 2 ارب چالیس کروڑ روپے میں ایک کپل سیارہ مارس پر اپنی رہائش کا بندوبست کر پائے گا۔ دو ہزار ساٹھ تک تین لاکھ لوگ مارس پر رہائش پذیر ہو چکے ہونگے۔ مکانات کے بعد سبزیاں اگا کر یونیورسٹی اور ہسپتال بننا شروع ہوچکے ہونگے۔ اور ایمازون مارس پر زمین سے ڈاک و دیگر پراڈکٹس ڈیلیور کرنے کی خدمت راکٹس کے ذریعے سر انجام دے گا۔

    وہیں انسانوں کو بیماریوں سے بچانے اور بڑی سی بڑی بیماری کو چند لمحوں یا گھنٹوں میں ٹھیک کرنے پر بھی دنیا بھر کے سائنسدان کام کررہے ہیں۔ تقریباً سو بیماریوں کے علاج کو سٹیم سیل تھراپی سے جوڑا جا رہا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے اس طریقہ علاج سے ہڈیوں کے کینسر bone marrow کا علاج سنہ 1957 میں اس طریقہ علاج کے موجد ای ڈونل تھامس E.Donnall Thomas نے کیا۔ جنہیں 1970 میں فلسفہ اور طب کی فیلڈ میں خدمات پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

    سٹیم سیل کیا ہے؟ پہلے یہ دیکھتے ہیں۔

    قدرتی یا مصنوعی (ivf) طریقے سے انسانی نطفے (سپرم) اور بیضے (ایگ) کے ملاپ سے جو زائیگوٹ وجود میں آتا ہے۔ وہ انسانی وجود کی ایک بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ زائیگوٹ بھی ایک سٹیم سیل ہے جو مزید سٹیم سیلز بنا دیتا ہے) زائیگوٹ کے سٹیم سیل کے کردار کو آپ ایسے سمجھ سکتے کہ جب زایئگوٹ تقسیم ہونے کے دوران الگ ہو جائے تو دونوں زائیگوٹ الگ مکمل جاندار بنا دیتے ہیں۔ جنہیں جڑواں کہا جاتا ہے۔ جو ہوبہو ایک دوسرے کی کاپی ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ساخت میں ایک سٹیم سیل ہوتا ہے جس میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 23 باپ کی طرف سے اور 23 ماں کی طرف سے۔ اس ذائیگوٹ کو مشکل سے ہی انسانی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے۔

    یہ ذائیگوٹ بڑی تیزی سے ایک سے دو ، دو سے چار اور چار سے آٹھ سیلز میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے بغیر تقسیم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس تقسیم کے عمل کو مٹوسس mitosis کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم ہوتے ذائیگوٹ سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک سیل نکال کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جسے سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سٹیم سیل کی پہلی اور سب سے زیادہ اہم قسم ہے۔

    یہ والا سٹیم سیل ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ وہ گوشت یا پٹھے ہوں دل ہو ہڈیاں ہوں مسلز یعنی پٹھے ہوں بال ہوں خون ہو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہوجانے یا کٹ جانے پر دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پانچ دن کے بعد یہ زائیگوٹ فلاپیئن ٹیوب سے ماں کے رحم میں سرکنا شروع کرتا ہے۔ اور بلاسٹو سسٹ Blastocyst کی شکل اختیار کرتا ہے۔ بلاسٹو سسٹ دو ہفتوں کے بعد ایمبریو میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس ایمبریو سے بھی سٹیم سیل نکالا جاتا ہے۔ جسے ایمبریونک سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سیل بھی بہت زیادہ سیل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ ذائیگوٹک سٹیم سیل کی طرح جسم کا ہر حصہ دوبارہ بنانے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ سٹیم سیل کی دوسری قسم ہے۔

    اس ایمبریو کے گرد پیاز کے چھلکے جیسی اسکن کی ایک باریک تہہ بننا شروع ہوتی ہے۔ اور یہ ایمبریو پلاسینٹا (خوراک و آکسیجن کی نالی) سے جڑ جاتا ہے۔ باریک تہہ کے اندر ایک لیس دار پانی جسے لائیکر یا Amniotic fluid کہتے ہیں بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ پانی کوئی عام پانی نہیں ہوتا. اس میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں. جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔
    یہ سٹیم سیل کی تیسری قسم ہے۔

    اسکے بعد جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ تو بچے کے ساتھ ہی پلاسینٹا ماں کے رحم سے باہر آتا ہے۔ اس نالی میں بھی خون کی کچھ مقدار ہوتی ہے۔ جسے بلڈ کارڈ یا کارڈ بلڈ کہتے ہیں۔ اس کارڈ بلڈ میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں جنہیں پہچان کر اس خون سے نکال لیا جاتا ہے۔ یہ سٹیم سیل کی چوتھی قسم ہے۔

    اسکے علاوہ کسی بھی عمر کے انسانی جسم کے کسی بھی حصے، گوشت اور عموماً کولہے کی ہڈیوں میں سے اس فرد اپنے سٹیم سیلز بھی تلاش کرکے نکالے جاتے ہیں۔ سٹیم سیلز عام سیلز سے رنگ و ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ سٹیم سیلز کی اب تک کی دریافت شدہ پانچویں اور آخری قسم ہے۔

    ذائیگوٹک، ایمبریونک، ایمنیوٹک فلیوڈ سے نکالے گئے سٹیم سیل پر مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔ کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اسلامی، عیسائی، یہودی اور بھی کئی مذہبی حلقے شروع سے پہلی دو اقسام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ کہ جس ذائیگوٹ یا ایمبریو سے یہ لیے جائیں گے اسے بھی کوئی خطرہ پہنچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اور یہ قانون فطرت میں چھیڑ چھاڑ تصور ہوتی ہے۔ جو جائز نہیں۔ خیر یہ ایک اور لامتناہی بحث ہے۔ سائنسدان اب ماں کے پیٹ سے باہر مصنوعی طریقے سے بنائے گئے ذائیگوٹ جس میں نطفہ اور بیضہ انسانی ہی ہوتا ہے۔ پہلے دونوں سٹیم سیل نکال رہے ہیں۔ وہ اب حاملہ ماں کے رحم سے کوئی سیل نہیں نکالتے۔

    کارڈ بلڈ اور انسان کے اپنے سٹیم سیلز پر کسی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں انہی دونوں اقسام کا استعمال مسلمان حلقوں عام ہوا ہے۔ جو پاکستان میں بھی پانچ سال قبل شروع ہو چکا ہے۔

    سٹیم سیل اپنے اندر مزید سیلز بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور بیماری کی تشخیص نوعیت لیول کا تعین ہونے کے بعد ڈاکٹر دیکھتا ہے۔ کہ سٹیم سیل کی کونسی قسم اسکا بہتر علاج ہو سکتی ہے۔ پھر سٹیم سیل کو خون میں جدید مشینری کے ذریعے شامل کرکے متاثرہ جگہ پر انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ دل کے امراض، نابینا پن کا علاج، مرگی، آٹزم، جگر کے مردہ سیلز کو زندہ کرنا، ہڈیوں کا کینسر، کمر کے مسلز کا کچلا جانا جسکی وجہ سے نچلا دھڑ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ منیبہ مزاری اس نچلے دھڑ کے ناکارہ ہونے کی ایک مشہور مثال ہے۔

    اور بھی کئی بیماریوں اور معذوریوں کو سٹیم سیل سے ٹھیک کرنے کے دنیا بھر میں ہزاروں کامیاب تجربے ہوچکے ہیں۔ ہزاروں لوگ جزوی و مکمل بینائی حاصل کر چکے ہیں۔ اور کئی لوگ حادثوں کی وجہ سے ویل چیئر پر چلے جانے کے بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ بلکہ اب تو سٹیم سیل سے نئی ہڈیاں اور اسکن سیلز بنانے کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ بری طرح ٹوٹی ہوئی جڑنے کے ناقابل اور ناکارہ ہڈیوں کو جسم سے باہر بنائی گئی بلکل قدرتی ہڈی سے بدلہ جاسکے گا۔ آنکھ کے قارنیہ تو ہزاروں لوگوں کے ری پلیس کیے جا چکے ہیں۔ جس سے انکی بینائی لوٹ آئی ہے۔ جسم کے جلنے والے حصے کو اسی انسان کے سٹیم سیلز لیکر نئی جلد اگا کر جسم کے ساتھ جوڑی جا سکے گی۔ پلاسٹک سرجری کی جگہ حقیقی جلد لینے کے بلکل قریب ہے۔

    میرا موضوع آٹزم ہے تو اس مرض کے علاج میں اب تک کا سب سے موثر ترین علاج سٹیم سیل تھراپی ہی ہے۔ جسکے دنیا بھر میں نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ جسم کے وہ سیلز جو خراب ہوتے ہیں۔ جنکی وجہ سے آٹزم کا شکار بچوں میں مختلف مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان سیلز کو سٹیم سیلز سے بدل دیا جاتا ہے۔ خراب سیلز کے ساتھ سٹیم سیلز جڑ کر نئے اور تندرست سیلز بغیر کسی بھی فالٹ کے بنانا شروع کرتے ہیں۔ اور نئے تندرست سیلز کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد پرانے خراب، ڈیمج سیلز پر غالب ہو کر بیماری کے اثر کو کم کرنا شروع کر دیتے ییں۔

    سٹیم سیلز تھراپی کراچی اور اسلام آباد میں کامیابی سے کی جارہی ہے۔ علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ پیسے جتنے بھی لگیں جب بچہ ٹھیک ہونے لگے تو پیسے بھول جائیں گے۔ کچھ دھوکے باز ڈاکٹرز مختلف شہروں میں پی آر پی PRP کو ہی سٹیم سیل تھراپی بتا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیم سیل تھراپی میں استعمال ہونے والی مشینیں بہت مہنگی ہیں جو ہر کوئی نہیں خرید سکتا۔ (پی آر پی کیا ہے یہ کسی اور دن سہی۔ یا ابھی خود سرچ کر لیں)

    آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق اس وقت تین لاکھ پچاس ہزار 350٫000 بچے آٹزم کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے لیے یہ ایک گیم چینجر طریقہ علاج ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی یونیورسٹیاں سٹیم سیل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ طریقہ علاج ہر بیماری کے لیے استعمال ہوگا۔

    (مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس)

  • 90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    90 کی دہائی کی سیاست کا تسلسل یا قانونی و آئینی جنگ!!! — بلال شوکت آزاد

    پاکستان کی سیاسی تاریخ بہت سے حوادث کی گواہ ہے جس میں اگر ہم صرف 1990 کی دھائی ہی دیکھ لیں تو پاکستان میں دو سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آئیں ،ایک مرکز میں حکمران تھی تو دوسری ایک صوبہ میں ، اگر صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ اسلام آباد کی جانب جاتا تو گرفتار ہو جاتا اور اگر مرکز ی حکومت کا کوئی نمائندہ صوبائی حکومت کی حدود میں نظر بھی آ جاتا تو اسکو گرفتار کر لیا جاتا۔ یہ بات ہو رہی ہے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی اور انکی 1990 کی دھائی کی سیاست کی ۔۔۔

    اب یہ ایسا کیوں تھا کیا اقتدار کی لالچ تھی یا پاور شئیرنگ کا مسلہ، اس سوال کا جواب آج تک راہ تک رہا ہے کیونکہ سیاسی پارٹیاں تو آج کے دن تک پاکستان میں درجنوں موجود ہیں لیکن سیاست بلخصوص 1990 کی دھائی کی سیاست کی چھاپ آج تک جوں کی توں موجود ہے۔۔۔

    انتقام، انتقام اور بس انتقام۔۔۔ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کا بس یہی مطلب سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے خواہ 1990 کی دھائی کی سیاست کو دیکھ لیں یا 2022 کی موجودہ سیاست کو، ہمیں بس سیاسی مقدمہ بازی ہی نظر آتی ہے، شاید اسی لیے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے کہا تھا کہ

    "جمہوریت بہترین انتقام ہے”۔۔۔

    آج کی تاریخ میں اگر 1990کی دھائی کی سیاست کی مثال سمجھنی ہو تو اپریل 2022 سے آج کے دن تک وفاق اور صوبوں کی سطح پر مختلف واقعات پر نظر دوڑا لیں۔ تازہ مثال ملک کےوزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ایک صوبہ، پنجاب جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے آجکل انتظامی طور پر بہت متحرک نظر آرہا ہے لیکن یہاں سوال نہیں بلکہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا یہ بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کا ہی تسلسل تو نہیں؟

    کیا پاکستان کی عوام اسی طرح سیاسی پارٹیوں کا دنگل اور نورا کشتی دیکھتی رہے گی؟

    کب تک ھم 1990 کی دھائی کی سیاست کے چکر ویو میں پھنسے رہیں گے؟

    لگتا تھا کہ خان صاحب اپنے بلند بانگ دعووں کو تکمیل تک پہنچائیں گے اور پاکستان میں رائج 1990 کی دھائی کی سیاست و جمہوریت کا بدنما داغ دھوئیں گے لیکن ہوا اسکے متضاد مطلب خان صاحب بھی 1990 کی دھائی کی سیاست کے رنگ میں رنگے گئے جس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ خان صاحب جن کو اپنا اور ملک و قوم کا دشمن سمجھتے اور کہتے تھے انہی کے نقشِ قدم پر چل کر انہیں استاد مان چکے ہیں؟

    خیر ہم تو عوام ہیں جو اونٹ پر نظریں گڑائے بیٹھے ہیں کہ یہ موا کس کروٹ بیٹھے گا؟

  • عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اندھوں میں کانے راجا ضرور ہیں۔مگر دودھ کے دھلے ہرگز نہیں۔ حقیقی آزادی کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کا یہ درست وقت ہے بھی کہ نہیں؟۔ معیشت پہلے کہاں کھڑی ہے؟۔یہ سوچیے زرا۔کیا خان صاحب کو نہیں پتہ کہ اس وقت سیلاب متاثرین اور مہنگائی اس ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے ؟۔ یقیناَ جانتے ہونگے۔ ان کے علم میں یہ بھی ہوگا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں شدت پسندی پھر سے زور پکڑ رہی ہے۔مگر پوری تحریک انصاف ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتی لیول پر لانگ مارچ کی تیاریوں میں جُتی ہوئی ہے۔اور مسائل کے لیے اندھا حافظ جی بنی ہوئی ہے۔

    خان صاحب صوبہ آپکا مالی طور پر ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا ہے۔ تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ۔ مان لیا کہ انقلاب کے لیے ایسی قربانی دینا پڑتی ہیں۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ مگر کیا آپ کو شدت پسند عناصر کا دوبارہ منظم اور متحرک ہونا نظر نہیں آرہا؟ ۔ معیشت کی قربانی تو انقلاب کے نام پر قبول ہے۔ مگر انقلاب کے نام پر شدت پسندی میں شدت سے جانوں کی قربانی کیسے قبول کر لیں ۔آپ کو تو چاہیے تھا کہ اس وقت شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرتے۔ مگر آپ انقلاب کے چکر میں اسلام آباد بند کرنے کے چکروں میں ہیں۔

    "ان تازہ خُداؤں میں بڑا سب سے، وطن ہے”

    یہ قوم آپ سے توقع کیے بیٹھی ہے کہ آپ ہی مسیحا ہیں۔پلیز! اس قوم اور اس وطن کا سوچیے خان صاحب۔اس وطن کا کہ جو

    ہر مومن کا رکھوالا ہمارا وطن
    امت کا ہے سہارا پیارا وطن

    نہ تھا امت کا ہمدرد کوئی
    دے کے قوت رب نے ابھارا وطن

    دریا دیئے، بحروبر دئیے، دئیے حسین گلشن
    خدا نے نعمتوں سے ہے سنوارا وطن

    ان کے آنگن میں بھی سدا بہار رہے
    جان دے کے جنہوں نے نکھارا وطن

    ہو گا اسلام کا غلبہ جہاں میں عامر
    وسیلہ بن کے آئے گا تمھارا وطن

    احتجاج ہر پاکستانی اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ۔ تو پھر وفاقی حکومت کیوں اس احتجاج کو روکنے کے لیے حربے ،حلیے استعمال کر رہی ہے۔ن لیگی حکومت یہ احتجاج روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے تو کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو ہر قیمت پر روکیں گے۔

    خان صاحب!احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے۔ مگر پہلے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی عوام کو تو اسکا حق دیں، جس کے عوض آپ نے ووٹ لے رکھے ہیں۔

  • بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    پرانی بات ہے لاہور میں شدید برسات کے دوران ہمارے ایک کولیگ نے پکوڑے بنوائے اور بڑی چاو سے سب دوستو کو آفس میں دعوت دی. دعوت دینے والے سے میں نے کہا تم لوگ بسم اللہ کرو میں بعد میں تمہیں جوائن کرتا ہوں. لیکن اُس نے کہا نہیں فیصلہ ہوا ہے کہ جب سب جمع ہوں گے تب ہی دعوت سٹارٹ ہوگی.

    میں نے پوچھا پکوڑے بنائے کس نے ہیں.؟ اس نے جس کولیگ کا نام لیا اسکا نام سنتے ہی میں نے کہا پھر تم لوگ کھاو. میں نہیں آرہا. بہت اصرار ہوا لیکن میں نے کہا ” نہیں” دعوت تو ہمارے بغیر ہوگئی لیکن بعد از دعوت پتہ چلا یہ بھنگ والے پکوڑے تھے کیونکہ پھر کوئی روئے جا رہا تھا کوئی قہقہے لگا رہا تھا.

    سوشل میڈیا میں بھی ہم خبر سے پہلے خبر دینے والے کا نام دیکھتے ہیں. وہ نام ہی بتا دیتا ہے خبر میں سچائی کتنی اور پراپیگنڈا کتنا ہے. اس میں جو جتنا زیادہ غیر جانبداری کا دعویدار ہوتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ یکطرفہ پراپیگنڈا کرنے والا ہوتا ہے. سالوں سے اس فورم پر ایک دوسرے کو جاننے والے اس کے باوجود ایک دوسرے کے پکوڑے کھانا معاف نہیں کرتے.

  • رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    کافی عرصہ ہوا کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ :

    اگر انسان کو ماں سے محبت ہو تو۔۔۔ عبادت۔

    باپ سے محبت ہو تو۔۔۔ فرض۔

    بھائی سے محبت ہو تو۔۔۔ اخوت ۔

    بہن سے محبت ہو تو ۔۔۔ شفقت۔

    کام، کاروبار سے محبت ہو تو۔۔۔ احساسِ ذمہ داری ۔

    ملک سے محبت ہو تو ۔۔۔ حب الوطنی ۔

    اور اگر ۔۔۔۔ بیوی سے محبت ہو تو لوگ کہتے ہیں "رن مرید ہے ” یا ” بیوی کے نیچے لگ گیا ہے ۔”.

    اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں ‘محبوبہ/گرل فرینڈ’ کے لیے شعر لکھنا اور ‘بیوی’ پر عجیب و غریب لطیفے بنانا، پوسٹ کرنا باضابطہ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

    کسی شخص کو رن مرید کا طعنہ دینے والے عام طور پر دو لوگ ہوتے ہیں ۔

    1- دوست ۔
    2- اہلِ خانہ ۔

    کسی شخص کو بیوی سے محبت و الفت پر رن مرید کا طعنہ دینے والے اکثر اس کے دوست ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ :

    یا تو خود "سرٹیفائیڈ سنگل” ہوتے ہیں کوئی انہیں اپنی بیٹی تو دور کی بات اپنی بائیک بھی مستعار دینے پر راضی نہیں ہوتا۔

    یا پھر اس قسم کے شادی شدہ کے جن کی شادی منگل سوتر باندھنے کے بجائے "نرڑ” باندھنے کے مترادف ہوتی ہے ۔۔۔۔ (نرڑ : کسی سرکش بکروٹے، وچھے یا کٹے کو قابو میں رکھنے کے لیے اس کی ٹانگ رسی کے زریعے کسی گائے، بھینس یا بیل کے ساتھ باندھ دینا ).

    جن کی بیوی اگر انہیں رات موبائل میں مگن دیکھ کر ” سوجائیے ، کافی رات ہوگئی ہے ۔۔۔” کے بجائے ” مرن جوگیا، تینو موت کیوں نئیں پیندی پئی؟” جیسے الفاظ سے نوازتی ہیں۔

    یعنی جن کی عمر بھر اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بنتی انہوں نے ظاہر ہے جیلس ہونا ہی ہے کسی دوسرے کو بیوی کے ساتھ ہنستا بستا دیکھ کر ۔

    تو احباب !! اگر کوئی دوست یا کولیگ کہے کہ آپ رن مرید ہو تو کہنا ” میری ایک ہی اکلوتی لاڈلی بیوی ہے۔۔۔ اب اس سے پیار نہ کروں تو کیا تمہاری بیوی سے عشق لڑاؤں؟ کمال کرتے ہو پانڈے جی!”

    اور پھر آجاتے ہیں گھر والے ،

    ایکچولی سب سے زیادہ تکلیف تو ماؤں کو ہوتی ہے ۔۔۔ یعنی جو مائیں "چاند سی بہو” کو ” بڑی چاہ سے ” لائی ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک ماہ بعد انہیں لگتا ہے کہ ” یہ ڈائن ہے جس نے میرے بیٹے پر تعویز کرکے اسے اپنے بس میں کرلیا ہے .”

    ارے آنٹی جی۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا بیٹا پوری عمر بچہ ہی بنا رہے ؟ آپکی گودی میں بیٹھا رہے اور آپ پوری عمر اسے لوری سناتی رہیں ؟

    بھئی۔۔۔ اگر آپ کا بیٹا کسی غیر لڑکی کے ساتھ وقت گزارتا تو تشویش کی بات تب تھی۔۔۔ اپنی ‘سگی’ بیوی کے ساتھ کچھ وقت بِتا لے ، اس کے ساتھ گھومنے پھرنے چلا جائے یا اسے کوئی گفٹ خرید کر دے تو ان ذیابیطس زدہ بڈھی کھوسٹ کُٹنیوں کو لگتا ہے کہ ” بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔”

    تو احبابِ گرامی ، اگر آپ کو کوئی ” رن مرید” کہے تو مسکرا کر جواب دیں کہ کسی شُف شُف پیر یا ” سائیں رکشہ ساڑ” کا مرید بننے سے اچھا ہے کہ بنا رن مرید ہی بنا رہے۔

    بشکریہ : آل برصغیر انجمنِ بیگمات ۔

  • جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    اٹھائیس سالہ ایم فِل سوشیالوجی کی طالبہ نازیہ نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا والدہ سے ڈسکس کر لے گی۔ چند ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا۔ ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کر ہی لیا۔ ماں نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو دکھا لیتے ہیں ڈاکٹر کو، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو یہ آپ ہی “گُھل” جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔

    چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نازیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نازیہ کو عجیب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک تگڑا سا پین کِلر انجیکشن ٹھوکا اور گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع!

    اب نازیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ موئی درد جان کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ اس نے اپنی ڈاکٹر دوست کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نازیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔

    نازیہ نے مجھے سلام کر کے ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں درد کی شکایت ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا “آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے”، جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ وظیفے اور مالش سے بہتر ہو گیا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔

    نازیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔

    شاید ہمارے ارد گرد بہت سی نازیہ موجود ہوں۔ کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے میں تاخیر نہ کریں۔ پہلی اسٹیجز میں اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور تصویر میں دکھائی گئی کوئی علامات آپ میں ہیں تو فوراً کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔

  • بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آج سے بیس سال پہلے تک بریسٹ (چھاتی) کا کینسر پچاس سالہ یا اس سے اوپر کی خواتین میں زیادہ دیکھتے تھے۔ اس وقت ہمارے (کینسر کے ڈاکٹروں کے) پاس آنے والی بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین میں سے لگ بھگ آدھی چالیس سال سے کم ہیں۔ بہت سی تو بیس کے پیٹے میں ہیں یعنی بالکل جوان بچیاں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ جو بوڑھوں کی بیماری سمجھی جاتی تھی وہ اب جوانی میں حملہ آور ہونے لگی ہے؟ پاکستان کی ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہو گی، موجودہ اعداد و شمار ایسا کہتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے یہ نمبر نو سے کم ہو کر سات ہو جائے گا۔

    وجوہات پر اسٹدیز کم ہیں اور جو ہیں ان کے نتائج بھی متنازعہ سے ہیں۔ جینیات، آلودگی، ورزش نہ ہونا، ناقص غذا (ماڈرن جَنک فُوڈ)، یہاں تک کہ بہت سے سوچتے ہیں کہ موبائل ریڈی ایشن بھی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں کیسز بڑھنے کی۔ اس پر پاکستان میں ماہرین کو سر جوڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی شرح سے کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ہمارا سسٹم اس سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

    پہلی اسٹیجز میں یہ مرض بالکل قابل علاج ہے۔ لیکن ہمارے پاس خواتین کیس خراب ہو چکنے کے بعد آتی ہیں۔ جو بروقت آ بھی جائیں ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہوتے۔ کارڈ شارڈ اس وقت جتنے موجود ہیں وہ زیادہ کومپنی کی مشہوری ہی ہیں ان سے کینسر کے مریضوں کو عملی فوائد کم ہی ہو رہے ہیں (مریضوں کی شرح اموات اس کا ثبوت ہے، اگر کوئی نمبر گیم میں جانا چاہے تو خوشی سے جائے)۔

    اپنے ارد گرد خواتین کو کانفیڈینس دلائیے کہ اگر چھاتی میں کوئی منفی تبدیلی محسوس کریں تو چیک اپ سے نہ جھجکیں۔ حکومت و ریاست سے نا امید رہیے اور اپنی سی کوشش کر کے کسی بھی آزمائش کے لیے رقم اور ہمت جوڑ کر رکھیے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ دعا کرتے رہیے کیونکہ یہ چیز بھی زلزلے یا قدرتی آفت ہی کی طرح بغیر وارننگ کے آ پکڑتی ہے۔

  • جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    گزشتہ ہفتے، میں نے کچھ ایسا کیا جو بہت سے لوگ ہر روز کرتے ہیں: میں نے ایک مذاق ٹویٹ کیا. اس معاملے میں مذاق ایک جعلی کالج انگریزی کلاس مضمون کی ایک تصویر تھی جو میں نے ٹام اور جیری کے بارے میں ٹائپ کیا تھا، پھر اسے ٹویٹ کرنے سے پہلے مایوس سرخ قلم کے نوٹ اور ڈی گریڈ کے ساتھ نشان زد کیا گیا تھا جیسے میں اس کی عقل کے اختتام پر پروفیسر تھا. واضح ہونے کے لئے، میں کالج پروفیسر نہیں ہوں – میں اصل میں جے ایم( جھک مارنا) میں کام کرتا ہوں اور ایک مزاحیہ کردار ہوں جو وادی میں کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، ممکنہ طور پر دوسرے لوگوں کے لئے جو جے ایم میں کام کرتے ہیں. لیکن اس نے ہزاروں لوگوں کو نہیں روکا.

    گزشتہ پیر کے بعد سے ، ٹویٹ کو مٹھی بھر بڑے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے ، جو ٹویٹر پر ایل او ایل جی او پی اور بز فیڈ کے ذریعہ شیئر کیا گیا ہے ، جو بڑے عالمی نیوز سائٹوں کا احاطہ کرتا ہے ، اور اس وقت اس پر تقریبا ایک ملین لائیکس ہیں ، جس کے جواب "میں نے طویل عرصے سے اتنی سختی سے نہیں ہنسا ہے” سے لے کر "آپ کو گرفتار کیا جانا چاہئے” تک۔ تو یہ سب کیسے ہوا ، اور ایک گونگا مذاق دیکھنا کیسا ہے جسے آپ نے کنٹرول سے باہر وائرل ٹویٹر لمحے میں سرپل بنا دیا ہے؟ اس سب کی وضاحت کرنے میں مدد کرنے کے لئے، میں نے پورے کو دستاویزی کیا.

    کچھ مضحکہ خیز لائن میں ترمیم کے ساتھ گڑبڑ کرنے کے بعد ، میں اپنے "کاغذ” کی دوسری کاپی پرنٹ کرتا ہوں جس کے ساتھ میں چاہتا ہوں کہ میرا حتمی ورژن کیا ہو۔ تاہم، مجھے احساس ہے کہ ایک طالب علم کے لئے ٹام اور جیری کے بارے میں صرف ایک کاغذ میں ہاتھ ڈالنا بہت عجیب ہے. یہ تفویض کیا تھی؟ لہذا میں مشہور ٹامس کے بارے میں سوچتا ہوں اور اوپر ایک لائن شامل کرتا ہوں ، یہ دعوی کرتے ہوئے کہ تفویض عظیم گیٹسبی سے ٹام بوکانن کے بارے میں ہونا چاہئے تھا۔

    میرے دوپہر کے کھانے کے وقت میں جانے کے لئے تین منٹ کے ساتھ، میں نے کیپشن کے ساتھ ٹویٹ پوسٹ کیا "اس سمسٹر میں میرا پہلا انگریزی کورس سکھانا فائدہ مند رہا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ اس طالب علم کے ساتھ کیا کرنا ہے،” اس بات کو یقینی بنانا کہ ٹویٹر کے لئے اسے صحیح طریقے سے "ہینڈل” کریں، اپنے دوستوں سے کچھ پسند کرنے کی امید ہے.

    اسے کچھ ریٹویٹس اور تقریبا سو لائکس ملتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو ایک جے ایم شو میں کام کرتا ہے مجھے مصنفین کے کمرے سلیک کا اسکرین شاٹ بھیجتا ہے ، اور وہ ان تمام مضحکہ خیز تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو میں نے اس میں ڈال دی ہیں۔

    کیا میری زندگی بدل گئی ہے؟ واقعی نہیں. میرے پاس اپنی شرارت کے بارے میں کچھ مضامین ہیں اور ٹویٹر پر کچھ ہزار مزید پیروکار ہیں۔

    لیکن میں جے ایم آفس میں اپنے دوپہر کے کھانے کے وقفے پر اپنی میز پر واپس آ گیا ہوں. میں لاکھوں لوگوں کے لئے اپنے ایک ہٹ گانے کو انجام دینے کی طرح وائرل ہونے کی وضاحت کروں گا: اگرچہ یہ ایک بہت ہی خوفناک چار منٹ ہے ، جب آپ کام کرلیں تو باہر نکلنے کے لئے ان سب فائلوں کو دیکھنے کے لئے تیار رہیں۔ لہذا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر کشتیاں جلا کر ٹویٹر کے کوزے میں ہاتھ پاؤں مارتا ہوں۔

  • ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کا تاریخی مشن کامیاب ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : تجرباتی اسپیس شپ کی ٹکر نے سیارچے کا راستہ کامیابی کے ساتھ بدل دیا۔ ناسا کا ڈارٹ کرافٹ 26ستمبر کو سیارچے سے ٹکرایا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سربراہ ناسا بل نیلسن نے کہا ہے کہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ناسا زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہے۔ ڈارٹ مشن کی کامیابی انسانیت کیلئے اہم سنگ میل ہے پہلی بار انسانیت نے کسی آسمانی چیز کی حرکت کو تبدیل کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس تجرے کے تحت خلائی جہاز یا مصنوعی سیارہ ، زمین کی طرف آنے والے کسی سیارچے سے ٹکرا کر اس کا مدار تبدیل کر دے گا یہ تجربہ مستقبل میں کسی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ٹالنے کے لیے کیا گیا ہے-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا تھا ، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا اس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا تھا جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

  • دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    کیمبرج: محققین نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : برڈ لائف تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سال کی رپورٹ، جس نے محققین کی جانب سے اکٹھے کیےگئے ڈیٹا کاخلاصہ کیا ہے، نے قدرت کے حوالے سے انتہائی خطرناک منظر کشی کی ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    برڈ لائف انٹرنیشنل کی طرف سے ہر چار سال بعد جاری ہونے والی اسٹیٹ آف دی ورلڈ برڈز رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ زراعت کی توسیع اور شدت 73 فیصد اقسام پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ لاگنگ، حملہ آور انواع، قدرتی وسائل کا استحصال اور آب و ہوا کی خرابی دیگر اہم خطرات ہیں۔

    دنیا میں موجود پرندوں کی 49 فیصد اقسام کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے جبکہ 2018 میں آنے والی آخری رپورٹ کے بعد صرف 6 فیصد اقسام کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

    8 میں سے ایک قسم یا کل 1409 اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 1970 سے اب تک شمالی امریکا میں تقریباً 3 ارب پرندے معدوم ہو چکے ہیں دنیا بھر کے پرندوں کی حالت تباہ حال ہے۔ پرندوں کی اقسام پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے معدومیت کی جانب گامزن ہیں-

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    پرندے اب بڑے زمینی عوام پر معدوم ہو رہے ہیں، خاص طور پر اشنکٹبندیی علاقوں میں۔ مثال کے طور پر، ایتھوپیا میں، گھاس کے میدان کو کھیتی باڑی میں تبدیل کرنے سے 2007 کے بعد سے مقامی لیبین لارک میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر پرندوں کی صرف 6 فیصد نسلیں بڑھ رہی ہیں۔

    برڈ لائف تنظیم کی سائنس آفسر اور اسٹیٹ آف دی ورلڈز برڈز رپورٹ کی سربراہ مصنفہ لوسی ہیسکل کا کہنا تھا کہ ہم پچھلے 500 سالوں میں پہلے ہی پرندوں کی 160اقسام کھو چکے ہیں اور معدومیت کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں معدومیت کے زیادہ تروقوعات جزائر پر سامنے آئے لیکن فکر انگیز بات یہ ہے کہ مرکزی خطوں میں معدومیت کی لہر میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ ان پرندوں کے ماحول کا تباہ ہونا ہے زیادہ تر پرندوں کی آبادی کو انسانوں سے خطرات کا سامنا ہے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں