Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان آغاز سے ہی تہذیب و تمدن کا مسکن رہا ہے۔جہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں وجود میں آئیں، وہیں پہ لوگوں نے بولنا سیکھا۔زبان کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار سیکھا۔ دنیا میں سب سے پہلے زبانوں کے لیے رسم الخط بھی یہیں پہ وجود میں آئے۔ ہندستان لفظ کا اطلاق دراصل جہاں دریائے سندھ کے مشرقی سمت تمام علاقوں پر ہوتا ہے وہیں پہ عربوں نے فارس اور عرب کے مشرقی سمت علاقے کو ہند کا نام دیا۔مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے زیر اثر ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں، مغل مسلمانوں کے پروقار دور میں ہندستان میں موجودہ افغانستان ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے کچھ حصے شامل رہے تو انگریز کے دور میں موجودہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش, ہندستان کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ ہندو قوم کی وجہ سے یہ سرزمین ہندستان نہیں کہلائی بلکہ ہندستان کی مناسبت سے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا گیا اور بعد از ایک مخصوص مذہب کے پیروکار ہندو کہلائے۔

    بہرحال یہ بحث الگ اور مستقل موضوع کی متقاضی ہے۔ عموما تقسیم ہند سے قبل کے ملک کو "ہندستان” جب کہ تقسیم کے بعد والے ملک بھارت کو "ہندوستان” کہا جاتا ہے۔ درحقیقت اس سرزمین کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سندھو پکارا گیا مگر جب کم و بیش 600 سال قبل مسیح کے زمانے میں ایرانی شہنشاہ نے سندھو ندی اور آگے کی زمینوں پہ قبضہ کیا تو اس سرزمین کو ہند یا ہندو کہہ کر پکارا، کیونکہ ان کی زبان میں حرف "س” نہیں تھا۔بعض احادیث میں بھی اس سرزمین کا نام "ہند” کے نام سے ہی آیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس پورے خطے کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سکندر اعظم کے زمانے تک ایک ہی نام سے پکارا گیا پھر بعد میں آنے والے فاتحین نے اسے اپنی زبانوں کے لحاظ سے سند، ہند، انڈ کہہ کر پکارا، موجودہ لفظ انڈیا اسی سے نکلا ہے۔ س، ہ اور الف کا استعمال اپنی زبانوں کے حروف کے اعتبار سے کیا۔اور یہاں کے لوگ بھی اسی اعتبار سے سندھو، انڈو یا انڈوس اور ہندو کہلائے۔مغلوں کے دور میں جب ایرانی دربار سے رشتہ داریاں عام ہوئیں تو اس ہند کو فارسی لفظ ستان کے ساتھ ملا کر ملک کا نام ہندستان کر دیا گیا جو صدیوں تک چلتا رہا۔

    انگریزوں کے دور میں معاملات کچھ اس طرح خلط ملط ہوئے کہ ہندستان کو انجانے اور غلط فہمیوں کے ساتھ ہندوستان لکھا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سرزمین کو تاریخی کتب میں کبھی بھی ہندوستان نہیں لکھا گیا، بلکہ ہر جگہ اس کا نام ہندستان ہی ہے۔ موجودہ دور میں بہت کم لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لفظ کی ہئیت کو برقرار اور قائم و دائم رکھا جائے کیونکہ تقسیم کے بعد پاکستانی ہونے کی حیثیت سے بہت سے معاملات اس لفظ کی درستی کے ساتھ جڑے ہیں۔ دنیا بھر میں جب بھی کسی بھی میدان میں تاریخی اعتبار سے کچھ بھی لکھا یا پڑھا جاتا ہے تو ہندستان لفظ کا اطلاق صرف موجودہ بھارت پر نہیں بلکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر ہوتا ہے۔ جیسے کسی درخت، جانور یا جڑی بوٹیوں کے حوالے سے جب بھی کوئی بات ہندستان کے ساتھ خاص کر کے کہی جاتی تو مراد پورے خطے سے ہوتی ہے نہ کہ صرف موجودہ بھارت سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا ذکر چھیڑا جائے تو موہن جوداڑو اور ہڑپہ کے بنا بات آگے نہیں بڑھ سکتی اور یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب سرزمین ہندستان پر وجود میں آئی، جبکہ یہ دونوں تہذیبیں موجودہ پاکستان میں ہیں۔

    اسی طرح وہ جگہیں جو موجودہ بھارت میں موجود ہیں مگر ان پر لفظ ہندستان بول دیا جائے تو اطلاق پاکستان ، بنگلہ دیش اور موجودہ بھارت پر بھی ہو گا بلکہ بعض معاملات میں تو نیپال اور افغانستان کو بھی شامل کرنے پڑتا ہے کیونکہ بہت سے ادوار میں یہ دونوں ممالک بھی ہندستان میں شامل رہے۔گویا کسی بھی تاریخی معاملے پر حق صرف پاکستان یا بھارت کا نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے الگ رہ کر اور دشمنی نبھانے کے باوجود ہر تاریخی چیز پر مشرکہ حق رکھتے ہیں۔

    زمینی حقائق کو سامنے رکھیں تو تقسیم ہند کے بعد صرف لوگ اور زمینیں ہی تقسیم نہیں ہوئیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب و تمدن اور ثقافت بھی تقسیم ہوئی ۔جہاں کھجور اور اردو مسلمان ٹھہریں وہیں پہ ناریل اور سنسکرت ہندو بن گئیں۔ غرض یہ بٹوارہ کسی ایک چیز کا نہیں تھا ہر ہر چیز بانٹ لی گئی، راتوں رات معیار تبدیل ہوئے اور دونوں ممالک ایک ساتھ الگ الگ راہوں پر نئی دنیا کے سفر میں نکلے۔

    اب دونوں ممالک کو خود طے کرنا تھا کہ وہ دنیا میں اپنا مقام کہاں بناتے ہیں۔مگر افسوس کہ پڑوسی ملک نے اس سفر میں ہمیں کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔بھارت نے اس سفر میں جہاں خود کو آگے پڑھایا وہیں ساتھ ہی ساتھ ہمیں بھی پیچھے دھکیلا۔ کبھی انگریز وائسرائے کے ساتھ مل کر بے ایمانی سے خطے کو اس طرح کاٹا کہ ہماری شہ رگ کشمیر ان کے پنجے میں چلی گئی اور ہم کشمیر کے ساتھ ساتھ اپنے ہی پانی کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ کبھی تقسیم کے محض ایک سال بعد ہی ہماری ایک پوری ریاست حیدرآباد دکن کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ہم سے چھین کر کاٹ ڈالا اور ہم ان سے سامنے ممنا بھی نہ سکے۔ بھارت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ پاکستان کو ہر ممکن دباتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اور تو اور خود بھارت میں علیحدگی پسند تنظیمیں دراصل ہندو کے تشدد کا ہی تو رد عمل ہیں۔

    پاکستان بھر میں بھارت کی طرف سے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیش بھی کسی سے ڈھکی چھپیں نہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا غم آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں کا درد ہے اور سقوط سرینگر ہماری نیم رضا مندی سے وجود پا رہا ہے، ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت ایک الگ المناک باب ہے۔ ایسے تمام حالات میں ہم پر بحیثیت قوم کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ برا ہونا ہماری آنے والی نسلوں کا ہم پر قرض ہے۔

    اپنے تاریخی ورثے سے ہاتھ ہٹا لینا صدیوں تک کا وہ نقصان ہے جس کی بھرپائی کبھی ممکن نہیں۔ نوجوان طالب علم نسل کبھی کسی جگہ یہ پڑھ کر احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں کہ فلاں چیز یا جاندار کا مسکن انڈیا ہے، کوئی یہ نہ سوچے کہ شاید بھارت کے پاس کوئی ایسی خاص چیز ہے جس سے پاکستانی محروم ہیں۔ایمانداری کا تقاضا ہے کہ یہ بات پاک و ہند اور بنگال کے ہر فرد کے ذہن میں راسخ ہو کہ لفظ "ہندستان” یا "انڈیا” سے مراد بھارت نہیں بلکہ 1947 سے قبل والا برصغیر ہے۔

    اقبال کے اشعار "سارے جہاں سے اچھا، ہندستاں ہمارا” اور داغ کے اشعار "ہندستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے” پورے برصغیر کے لیے تھے۔
    اپنی اصل سے محبت اور وفا داری کا تقاضا ہے کہ اپنے درد کو سینے میں زندہ رکھتے ہوئے اپنے حق کو سب سے مقدم رکھا جائے۔

  • 23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    تین دن قبل یہ دن اتنی ہی خاموشی سے گزر گیا جتنی خاموش یہ زبان ہے، خیر اشاراتی زبان سے مراد ، جسم کے مختلف حصوں مثلاً ہاتھوں ، انگلیوں اور کندھوں وغیرہ کی مدد سے گفتگو کرنا ہے۔ گونگے افراد بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ اشاروں کی مدد سے اپنی بات دوسروں کو سمجھاتے ہیں ۔دسمبر 2017 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ،2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی دفعہ 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔یوں تو 17 ویں صدی سے ہی مغربی دنیا میں اشاراتی زبان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔1620 میں ایک ہسپانوی پادری نے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سےتقریر سیکھانے کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ لیکن آج کے اس سائنسی دور میں ہم آج بھی بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔

    ڈبلیو ایف ڈی کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیٹا کے مطابق تقریبا 7.2 کڑور افراد دنیا بھر میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

    سماعت سے محروم 80 فیصد افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ یہ لوگ مجموعی طور پر تقریباً 300 سے زائد زبانوں کی مدد سے اپنی روزمرہ کی زندگی میں گفتگو کرتے ہیں۔

    ڈیٹا کے مطابق” پاکستان میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ جو کہ ملک میں موجود معذور افراد کا7.4 فیصد بنتے ہیں”۔

    انٹرنیشنل ڈے آف سائن لینگویجز یا اشاروں کی زبان کا عالمی دن گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ مگر صرف اظہار یک جہتی سے کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔انڈونیشیا کے شہر یوگیاکارتا میں ایک مدرسہ ہے۔ جہان کبھی بھی تلاوتِ قرآن کی آواز نہیں سنی گئی۔یہ اشاراتی زبان سمجھنے والے بچوں کے لیے بنایا گیا ایک مدرسہ ہے جہاں اشاروں کی مدد سے قرآن کی تلاوت سیکھائی جاتی ہے ۔ لیکن سوچیے پاکستان میں اشاراتی زبان سمجھنے والوں کے لیے اس اندھی قوم نے کیا گیا ہے۔ یہاں صرف انکا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ ان کو اپنے سے کم تر سمجھا جاتا ہے ۔اس اندھی قوم سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس اشاراتی زبان کی خوبصورتی تو دیکھیے۔ خاموشی اور سکوت میں سب کچھ ہی کہہ جاتی ہے۔

    کہاں سے سیکھا ہے تو نے ہنر محبت کا
    کلام کرتی ہے دنیا سے تیری خاموشی

    اشاروں کی زبان سمجھنے والوں کے اشاروں سے یاد آیا کہ فطرت بھی تو انسان سے اشاروں میں گفت و شنید کرتی ہے۔ فطرت کے اشارے چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ اشاراتی زبان فطرت کے بہت قریب تر ہے ۔ جب اس ننھے سیارے پر زندگی کا آغاز ہوا ہوگا تو زبان نام کی تو کوئی شے نہیں ہو گی۔ تب بھی تو حضرت انسان نے اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کےلیے اشاروں کا ہی سہارا لیا ہو گا۔

    ہمیں سماعت سے محروم لوگوں کو معاشرے میں عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اشاروں کی زبان سمجھنے والے لوگ آنکھوں پر پٹی بندھی اس قوم سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں ۔

    پاکستان کو قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کےلیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی  خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کے تاریخی مشن کیلئے زمین سے بھیجا گیا تجرباتی ڈارٹ اسپیس کرافٹ سیارچے ڈیمورفس سے ٹکرا گیا ۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا


    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہےاس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا –


    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

    خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ڈائمورفس سے اسپیس کرافٹ ٹکرانے کے بعد ناسا پُرامید ہے کہ اس سیارچے کا مدار چھوٹا ہوگا، یعنی اس کا ڈائڈِموس کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ 10 منٹ کم ہوا گا جو ابھی 11 گھنٹے اور 55 منٹ ہے۔

    سائنسدان پہلے ہی ایسے بیشتر سیارچوں کو شناخت کرچکے ہیں جو زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی ہمارے سیارے کے لیے خطرہ نہیں مگر سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ ہزاروں چھوٹے سیارچوں میں کوئی ایک کسی دن زمین کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کا ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ کو امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے تیار کیا اور اسے ڈیمورفس کی جانب نومبر 2021 میں روانہ کیا گیا تھا یہ 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • تلہ گنگ: تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی, تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل قائم کیاجائے

    تلہ گنگ: تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی, تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل قائم کیاجائے

    باغی ٹی وی : تلہ گنگ (نامہ نگار) ہر چار منٹ کے بعد ایک فرد تمباکو کے باعث موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، ہر روز 1200 سے 1500 نئے بچے تمباکو کا استعمال شروع کرتے ہیں، جبکہ تمباکو کے استعمال کے باعث 610 ارب روپے سالانہ صحت کے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور تمباکو کے باعث سالانہ 160000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تمباکو سے بچنے اور اپنی آئندہ نسلوں کو اس سے بچانے کےلئے انسداد تمباکو قوانین کا اطلاق بہت ضروری ہے اور تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کےلئے اس کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیئے، ان خیالات کا اظہار تلہ گنگ میں منعقدہ ایک روزہ آگاہی ورکشاپ بعنوان "ٹوبیکو انڈسٹری مانیٹرنگ اور انسداد تمباکو قوانین” سے کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان (سی ٹی سی پاک) کے نیشنل کوآرڈینیٹر ذیشان دانش نے کیا، ورکشاپ کا اہتمام سوشل ویلفیئر سوسائٹی (تلہ گنگ) نے کیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طاہر زمان نیازی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک محمد صفدر، تحصیل ڈرگ انسپکٹر صبیح الرحمان، سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ سے سلیم اقبال، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹی سے فاروقی ملک، اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی، سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر فیاض احمد گھاڑا نے ورکشاپ کے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور تلہ گنگ گرد و نواح کے علاقوں میں انسداد تمباکو قوانین کے اطلاق کے بارے میں بریفنگ دی۔ فیاض احمد نے کہا کہ انسداد تمباکو قوانین کی صحیح معنوں میں اطلاق کی ضرورت ہے۔ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد نہیں ہو رہا۔ کھلے سگریٹ سر عام فروخت ہو رہے ہیں، پبلک مقامات پر سائن بورڈ آویزاں نہیں ہیں۔ دوکاندار حضرات بچوں کو بھی تمباکو سے بنی اشیاء فروخت کرتے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات کا بیچنا، ذخیرہ کرنا، اس کی تشہیر کرنا قانون کے خلاف ہے لیکن ان قوانین کا خیال نہیں کیا جاتا، فیاض احمد کا کہنا تھا کہ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد کروانے کے لئے پولیس اور سول سوسائٹی کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہو گی اس سلسلے میں آگہی کو پھیلانا ہو گا تاکہ قوانین سے واقفیت کی بناء پر عوام اپنا فرض ادا کریں اور انسداد تمباکو قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ سی ٹی سی پاک کے کمیونیکیشن آفیسر اشفاق احمد نے تمباکو کی نئی مصنوعات جیسے ای سگریٹ، ویپ اور ویلو وغیرہ کے بارے میں شرکاء ورکشاپ کو آگاہ کیا کہ کیسے تمباکو انڈسٹری نئے ہتھکنڈوں سے نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر مطالبہ کیا کہ تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی لگنی چاہیئے اور چکوال کو تمباکو سے پاک کرنے کے لئے ضلع اور تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل کا قیام عمل میں لانا چاہیے۔

  • چونیاں ۔ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم  اجلاس

    چونیاں ۔ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس

    باغی ٹی وی : چونیاں ۔(نامہ نگار) باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس شیخ محمود سابق مسٹر پاکستان ، ماسٹر پاکستان امجد علی تبسم کے زیر صدارت منقد ہوا جس میں تحصیل چونیاں۔پتوکی پھول نگر آلہ آباد۔کوٹرادھاکشن سمیت ضلع قصور کے سابقہ مسٹرز نے شرکت ۔ اس میٹنگ میں ضلع قصور کے سینئر باڈی بلڈرز اور ڈسٹرکٹ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ابو ہریرہ نے مہمان خصوصی کے طور شرکت کی میٹنگ میں مہمان خصوصی سابق مسٹر قصور ابو ہریرہ نے دسمبر میں ہونے والے سالانہ باڈی بلڈنگ کے مقابلہ کے حوالے سے تمام جم اونر سے گفتگو کرتے ہوئے کہاں کہ ہم نے سابقہ ڈسٹرکٹ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کی باڈی کو کچھ غلط پالیسیوں کی بدولت تحلیل کر دیا ہے اب نئی کابینہ 25دسمبر کو ہونے والے مقابلے میں مسٹر قصور کے لے ہنڈا125۔جونیر مسٹر کے لے چائنا 70 اور رنراپ کے لے 10000ہزار نقدی انعامات دے گئی جس کے بعد جیتنے والے لڑکوں کو لاہور اور پنجاب کے مقابلاجات میں قصور باڈی بلڈنگ مکمل سپورٹ کرے گئی انہوں نے کہا اس مرتبہ باڈی بلڈنگ کے کو ایک نئے اور پروفیشنل انداز میں متعارف کروایا جائے گا۔اجلاس میں سابقہ مسٹر پاکستان مسٹر ماسٹر پاکستان امجد علی تبسم۔ سابقہ مسٹر قصور استاد پرویز پتوکی ۔سابقہ جونیئر مسٹر قصور شیخ محمود۔پھول نگر ۔سابقہ مسٹر پنجاب رنراپ پنجاب استاد فیاض احمد دھون چونیاں۔مسٹر قصور ذیشان علی۔جونئیر مسٹر قصور راحیل۔سابق مسٹر قصور استاد بولا ودیگر کلب کوچ و چونیاں پتوکی ۔پھول نگر باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر چونیاں پتوکی پھول نگر باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے صدر استادپرویز۔ چیرمین فیاض دھون۔ بانی امجد علی تبسم شیخ محمود۔صابر علی۔سرفراز۔خرم ندیم اور ارشد منیر نے مہمان خصوصی ابو ہریرہ کو قصور باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن حافظ وارث گروپ سے مکمل الحاق کی یقین دہانی کروائی اور آئندہ 15تاریخ کو قصور میں قصور باڈی بلڈنگ ایسوسی کے اہم اجلاس میں بھر پور شرکت کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا

  • ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!
    تحریر: شوکت ملک
    اس نفسا نفسی، مفاد پرستی اور خود غرضی کے دور میں بھی کچھ فرشتہ صفت اللّٰہ پاک کے محبوب بندے ابھی تک دنیا میں موجود ہیں، جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کےلیے بھی جیتے ہیں، ایسی ہی ایک خوش شکل، خوش لباس، با اخلاق، انسانی خدمت کے جذبے سے لبریز، درد دل رکھنے والی عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت ملک فضل الرحمٰن کی بھی ہے، جوکہ لذیذہ مرغ پلاؤ راولپنڈی و اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو اور ق لیگ کی یوتھ ونگ کے سینئر عہدے دار بھی ہیں، ملک صاحب سے غیبی شناسائی ہے اور وقتاً فوقتاً بذریعہ فون کالز، میسجز ان سے بات ہوتی رہتی ہے، یہ میری بدقسمتی ہے کہ تاحال ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی، موجودہ دور میں پیسہ، مال و دولت تو ہر ایرے غیرے کے پاس موجود ہے مگر میں نے اپنی چند سالہ زندگی میں ملک فضل الرحمٰن جیسی غرور و تکبر سے پاک، عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت نہیں دیکھی، جوکہ ہر چھوٹے، بڑے، امیر و غریب سے یکساں برتاؤ رکھتے ہوئے خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔ ملک صاحب چاہے کورونا جیسی موذی وباء ہو، مری میں بدانتظامی کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ہو یا سیلاب جیسی ناگہانی آفت ہمہ وقت دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں، شاید یہی صفت ہی اصل میں ان کی کامیابی کی کنجی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے ان کو دنیا کی تمام نعمتوں اور آسائشوں سے نواز رکھا ہے۔ جب بھی ملک صاحب سے کسی غریب و لاچار کی مدد کی درخواست کی انہوں نے بلاحیل و حجت دل کھول کر تعاون کیا، شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت علامہ اقبال اپنی نظم "ہمدردی” میں کئی سال پہلے فرما گئے تھے کہ:
    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے
    دعا ہے اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ملک صاحب کی جان، مال و اولاد، کاروبار اور زندگی میں مزید برکتیں عطاء فرمائے اور یونہی دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • محسن انسانیت  ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق

    محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق

    محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق
    تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
    اگر آپ اقوام متحدہ کے ”انسانی حقوق کا عالمی علامیہ“ اور جمہوری ممالک خصوصا پاکستان کے آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کا مطالعہ کریں تو آپکو انتہائی خوشگوار حیرت محسوس ہوگی کہ زمانہ جدید میں بنیادی انسانی حقوق طے کرتے وقت نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آپ کی صحبت میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے 10 ہجری میں حج اداکیا۔9 ذوالحجہ کو نبی کریم ﷺ نے وادی عرفات میں خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ نبی کریم ﷺ کا آخری وعظ تھا۔ درحقیقت 14 صدیاں پہلے یہ خطبہ محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی جانب سے بنی نوع انسان کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا اجراء تھا۔ اس عظیم خطبہ میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ہاں! میں نے آج جاہلیت کے تمام دستوروں کو اپنے پاؤں تلے کچل دیا ہے۔ اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کی گمراہیاں دور کردیں۔ نسبی فخر مٹا دیئے۔ مومن متقی اور فاجر شقی ہے۔ آج کے بعد عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کسی قسم کی فضلیت نہیں۔ انسان سب آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدمؑ مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تمام مسلمان ایک ہی برادری ہیں۔ اے لوگو! اپنے غلاموں کا خیال کرو جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ۔ جو خود پہنو وہی انکو پہناؤ۔ جاہلیت کے خون کے دعوے سب کے سب باطل کردئیے گئے۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا خون یعنی ربیعہ بن الحارث کے بیٹے کا خون باطل کرتا ہوں۔ جاہلیت کے تمام سود بھی باطل کرتا ہوں۔ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا خون اور تمہارا مال اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں حرام ہے تاآنکہ تم (بروز قیامت) اپنے پروردگار سے جاملو۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑ رہا ہوں اگر تم نے اسکو مضبوطی سے پکڑا تو تم کبھی گمراہ نہ ہوگے وہ چیز اللہ عزوجل کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ اللہ نے ہر حق دار کو ازروئے قانون وراثت اسکا حق دے دیا۔ اب کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اسکا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا۔ زانی کے لئے پتھر ہے اسکا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے نسب سے ہونے کا دعویٰ کرے اور جو غلام اپنے مولا کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ کی لعنت۔ ہاں عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اسکی اجازت کے بغیر کچھ لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ ادھار واپس دیا جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے اور ہاں! میرے بعد گمراہ نہ ہوجاناکہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ تم کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ ہاں! مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا اور بیٹے کے جرم کا ذمہ دار باپ نہیں۔ اگر کوئی ناک کٹا حبشی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو اللہ کی کتاب کے مطابق لیکر چلے تو اسکی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔ ہاں! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں قیامت تک پھر کبھی اسکی پرستش نہیں کی جائے گی۔لیکن تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اسکی پیروی کروگے اور وہ اس پر خوش ہوگا۔ اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ پانچوں وقت کی نماز پڑھو۔ مہینے(رمضان) کے روزے رکھا کرو اور میرے احکام کی اطاعت کرو، اللہ کی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔مذہب میں غلو اور مبالغے سے بچے رہنا کیونکہ تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئیں۔ خطبہ دینے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر پوچھا: ”ہاں! کیامیں نے اللہ کا پیغام سنا دیا؟“۔ لوگوں نے جواب دیا: ”ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہیو۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”تم سے اللہ کے ہاں میری بابت پوچھا جائے گا تم کیا کہوگے؟“۔مسلمانوں نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے کہ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کیا اسکے بعد آپ ﷺ نے آسمان کی طرف تین دفعہ انگلی اُٹھا کر تین دفعہ کہا کہ ”اے اللہ تو گواہ رہیو“۔ جس روز نبی کریم ﷺ نے عرفات میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا اسی دن اللہ کی طرف سے انہیں وحی کے ذریعے حسب ذیل پیغا م ملا: ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کرلیا (پارہ 6، سورۃ المائدہ آیت نمبر 3)“۔ حج ادائیگی کے بعد مدینہ کی طرف لوٹتے وقت آپ ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے سامنے ایک مختصر سا خطبہ دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ممکن ہے اللہ کا فرشتہ جلد آجائے اور مجھے قبول کرنا پڑے، میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں، ان میں سے ایک تو کتاب اللہ ہے جس کے اندر ہدایت اور روشنی ہے، پس اللہ کی کتاب کومضبوطی سے پکڑو اور اس سے چمٹے رہو۔ دوسری چیزمیرے اہل بیت ہیں۔ اپنے اہل بیت کے بارے میں، میں تم کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔
    نبی کریم ﷺ کی جانب سے عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق روز قیامت تک آنے والی بنی نوع انسانی اور خصوصا مسلمانوں کے لئے ذریعہ نجات ہیں۔ اللہ کریم سب مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر من و عن پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں نبی کریم ﷺ پر آپ کی اہل بیت پر اور آپ کے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر۔آمین ثم آمین (بحوالہ تاریخ اسلام)

  • برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    لندن: برطانیہ میں بچوں کے پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے پر ٹک ٹاک کو 27 ملین پاؤنڈزجرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جو ممکنہ جرمانے کی سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز بھی ہے۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ…

    آئی سی او کی تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے ٹک ٹاک شفاف طریقے سے اپنے صارفین کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    آئی سی او کے مطابق ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ہماری عبوری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک کمپنی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ ٹک ٹاک نے مئی 2018 سے جولائی 2020 کے دوران یوکے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی خلاف ورزی کی۔

    انفارمیشن کمشنر جان ایڈورڈز نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ بچے ڈیجیٹل دنیا کو سیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے کے قابل ہوں، لیکن ڈیٹا پرائیویسی کے مناسب تحفظات کے ساتھ۔

    اگر سوشل میڈیا کمپنی اس حوالے سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی تو اس پر 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم برطانیہ میں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے آئی سی او کے کردار کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے اور اس حوالے سے آئی سی او کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن…

  • روجھان ـ سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول کی طالبات مشکلات کاشکار

    روجھان ـ سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول کی طالبات مشکلات کاشکار

    باغی ٹی وی :روجھان( ضامن حسین بکھر نامہ نگار) روجھان سٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول روجھان میں زیر تعلیم طالبات کے لئے سڑک کراس کرنا سب سے بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے باعث طالبات کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے 30 منٹ تک عام لوکل ٹریفک ماسوائے ایمرجنسی مریضوں کے تمام ٹریفک کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق روجھان میں رودکوہی سیلابی پانی صورتحال کے بعد تعلیمی سرگرمیاں جاری ہو چکی ہیں اور اس وقت سنٹر آف ایکسیلنس گرلز اسکول میں زیر تعلیم سینکڑوں کی تعداد میں دیہات اور شہر سے تعلق رکھنے والی طالبات کو صبح 8:30 اسکول اور 12:10 پر اسکول میں طالبات کو چھٹی ہوتی ہے اس دوران طالبات کو اسکول سے گھر جانا پڑتا ہے اس وقت لوکل ٹریفک سڑک پر رواں دواں ہوتی ہے جس کے باعث طالبات کو حادثے کا خطرہ لاحق اور بچیوں کو آمد و رفت شدید پریشانی میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے سڑک پر سپیڈ بریکر نہ ہونے کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار غیر معمولی واقعہ حادثہ رونما ہونے کا خدشہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس سلسلے میں روجھان کے عوامی تعلیمی دیہی شہری حلقوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان لیاقت علی چٹھہ اور ڈپٹی کمشنر راجن پور عارف رحیم سے اپیل کی ہے کہ طالبات کی اسکول آمد و رفت / اسکول ٹائمنگ کے وقت 30 منٹ تک تھانہ روجھان روڈ پر بیریئر لگا کر سڑک سے لوکل عام ٹریفک کو (ماسوائے ایمرجنسی ایمبولینز ) متبادل راستہ بند روڈ معظم مارکیٹ سے براستہ ولید پیٹرول پمپ سے ویگن اڈا پر ٹریفک کی روانی کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جائے اور متبادل راستے سے ٹریفک کی روانی ممکن بنائی جائے تاکہ زیر تعلیم طالبات اسکول جانے اور اسکول سے گھر جانے میں کسی قسم کی پریشانی یا غیر معمولی حادثے کے خوف سے محفوظ بنانے جانے کی اپیل کی ہے ۔

  • پنڈی  بھٹیاں : محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا

    پنڈی بھٹیاں : محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا

    بپنڈی ھٹیاں محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا،ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے چیئرپرسن ٹیوٹا میاں مامون جعفر تارڑ
    باغی ٹی وی : بپنڈی بھٹیاں(شاھدکھرل) جلالپور بھٹیاں کے گاؤں محمود پور سمیت دیگر دیہات کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند تعمیر کیا جائیگا۔ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے سمری کمشنرکو ارسال کردی۔ڈپٹی کمشنر حافظ آباد توقیر الیاس چیمہ اور چیئرپرسن ٹیوٹا و ایم پی اے مامون جعفر تارڑ نے محمود پور کا دورہ کیا، اوروہاں دریاکے کٹاؤ اور حفاظتی بند کی تعمیر کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر پنڈی بھٹیاں بلاول علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ حافظ مبشر الحسن محکمہ انہار کے افسران اور مقامی معززین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ محمود پور اور قریبی بستیوں کے رہائشی دیہاتوں کے جان و مال اور قیمتی زرعی اراضی و فصلوں کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے ایک میگا پراجیکٹ تیار کیا گیا ہے،اور محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جا ئیگا،اور اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے سمری کمشنر کو ارسال کر دی ہے۔ جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں صوبائی کابینہ اس منصوبے کے لیے فنڈ ز کے اجراء اور تعمیراتی کام کی منظوری دے گی۔انکا کہنا تھا کہ حفاظتی بند کی تعمیر سے لوگوں کا قیمتی جان و مال، زرعی اراضی اور فصلیں محفوظ ہو سکیں گی۔اس موقع پر چیئرپرسن ٹیوٹا و مقامی ایم پی اے مامون جعفر تارڑنے کہا ہے کہ محمود پور کے مقام پر حفاظتی بند کی تعمیر انکی اولین ترجیح ہے، اور انشاء اللہ وہ جلد وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے اس منصوبے کیلئے باقاعدہ فنڈز منظور کر وا کر تعمیراتی کام شروع کروائینگے۔انہو ں نے کہا ہے کہ دریاکے کٹاؤ سے عوام کے قیمتی جان و مال کا جو نقصان ہور ہا ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے اور انشاء اللہ اس حفاظتی بند کی تعمیر سے محمود پور سمیت دیگر دیہات بھی دریا کے کٹاؤ اور سیلابی صورتحا ل سے محفوظ رہ سکیں گے۔